امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے کے لیے ترکی، مصر اور پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران ان تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، جن میں تنازع کے خاتمے اور ممکنہ حل پر بات چیت کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق یہ سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں اور ان میں پیش رفت بھی ہو رہی ہے، جبکہ توجہ جنگ کے خاتمے اور اہم معاملات کے حل پر مرکوز ہے۔
یہ رابطے براہ راست مذاکرات کے بجائے ثالثی کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث براہ راست بات چیت محدود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثالثی کامیاب ہوتی ہے تو خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم اختلافات کے باعث مذاکراتی عمل اب بھی پیچیدہ ہے۔
Author: Aqsa Younas Rana

ترکی، مصر اور پاکستان کی ثالثی، امریکا اور ایران کے درمیان رابطے جاری

سونے کی قیمت میں تاریخی کمی، فی تولہ 43 ہزار سے زائد سستا
عالمی اور مقامی سطح پر سونے کی قیمت میں بڑی اور تاریخی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں میں بھی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں فی تولہ سونا 43 ہزار 600 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 47 ہزار 762 روپے پر آ گیا ہے۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 47 ہزار 380 روپے کی ریکارڈ کمی ہوئی ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 3 لاکھ 83 ہزار 883 روپے ہو گئی ہے۔ رواں ماہ کے دوران فی تولہ سونا مجموعی طور پر 1 لاکھ 16 ہزار 100 روپے تک سستا ہو چکا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں فی اونس سونا 436 ڈالر کی کمی کے بعد 4 ہزار 250 ڈالر پر آ گیا۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
ٹرمپ پر شدید تنقید، امریکی رکن کانگریس نے پالیسیوں کو خطرناک قرار دے دیا
امریکا میں ایران سے متعلق پالیسیوں پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا ہے، جہاں ڈیموکریٹ رکن کانگریس یاسمین انصاری نے ان کے اقدامات کو سخت الفاظ میں نشانہ بنایا ہے۔
یاسمین انصاری نے اپنے بیان میں کہا کہ وائٹ ہاؤس ایک ایسے رہنما کے زیر قیادت ہے جو دنیا کے لیے خطرہ بن رہا ہے، اور حالیہ بیانات و اقدامات عالمی سطح پر تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں اور دھمکیوں کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف خطے بلکہ خود امریکا کو بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رکن کانگریس نے کہا کہ اس قسم کے فیصلے امریکی فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور عالمی امن کو مزید عدم استحکام کا شکار بنا سکتے ہیں۔
بحیرہ عرب میں برطانوی جوہری آبدوز کی تعیناتی کا دعویٰ
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک برطانوی جوہری آبدوز نے بحیرہ عرب میں پوزیشن سنبھال لی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے تناظر میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ آبدوز ٹوماہاک کروز میزائلوں سے لیس ہے، جو طویل فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی تعیناتی خطے میں جاری صورتحال کے پیش نظر اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے اور اس سے سیکیورٹی ماحول مزید حساس ہو سکتا ہے۔
حکام کی جانب سے اس خبر کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم اس پیش رفت کو عالمی سطح پر قریب سے دیکھا جا رہا ہے۔
ایران جنگ کے بعد امن مذاکرات پر غور، ٹرمپ انتظامیہ متحرک
تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات پر غور شروع کر دیا ہے، جسے سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کے اندر اس معاملے پر ابتدائی سطح پر بات چیت جاری ہے اور جنگ کے اگلے مرحلے کے ساتھ ساتھ ممکنہ مذاکراتی راستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ سفارت کاری میں جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ مصر، قطر اور برطانیہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
ممکنہ معاہدے کے نکات میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا حل، اور جوہری و میزائل پروگرام پر طویل مدتی معاہدہ شامل ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا یورینیم افزودگی کے خاتمے اور میزائل پروگرام پر پابندی کا خواہاں ہے، جبکہ ایران جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، تاہم اختلافات کے باعث یہ عمل پیچیدہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی کے بعد تہران کے قریب دھماکے، بجلی گھروں کے علاقے متاثر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد تہران کے گرد و نواح میں زور دار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پردیس اور دماوند کے علاقوں میں متعدد دھماکے سنے گئے، جہاں اہم تنصیبات موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دماوند کے علاقے میں ایران کے بڑے بجلی گھروں میں سے ایک واقع ہے، جس کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، تاہم فوری طور پر نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
حکام کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ واقعے کی نوعیت اور اس کے اثرات کے حوالے سے مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ ایران کے میزائل روکنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتا، فوجی ماہر
ایک فوجی تجزیہ کار نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران برطانیہ کی جانب بیلسٹک میزائل فائر کرے تو برطانیہ کے پاس اسے روکنے کی مکمل صلاحیت موجود نہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق دفاعی ماہر شان بیل نے کہا کہ برطانیہ کا موجودہ دفاعی نظام طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے خلاف محدود صلاحیت رکھتا ہے، جس کے باعث ایسے خطرات سے نمٹنا مشکل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ اپنی دفاعی حکمت عملی میں بڑی حد تک اتحادیوں، خصوصاً امریکا، پر انحصار کرتا ہے اور مشترکہ دفاعی نظام کے ذریعے ہی ایسے خطرات کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔
ماہر کے مطابق حالیہ واقعہ، جس میں ایران نے بحرِ ہند میں واقع مشترکہ امریکی و برطانوی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، ایک اہم اور تشویشناک پیش رفت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کشیدگی ایک وسیع تر تنازع کی طرف بڑھ رہی ہے، اور اگر ایران کی میزائل صلاحیت مزید ترقی کرتی ہے تو یورپی ممالک کے لیے بھی خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان دہشت گردی کے عالمی انڈیکس میں پہلے نمبر پر، اموات میں اضافہ
گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان پہلی بار دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جہاں 2025 میں عسکریت پسندی کے باعث اموات میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 163 ممالک کا جائزہ لیا گیا، جس میں دہشت گردی کے واقعات، ہلاکتوں، زخمیوں اور یرغمالیوں کی بنیاد پر درجہ بندی کی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 2025 کے دوران دہشت گردی کے 1,045 واقعات میں 1,139 افراد ہلاک ہوئے، جو 2013 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز میں افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور کالعدم تنظیموں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی بڑھتی سرگرمیاں شامل ہیں۔
مزید کہا گیا کہ ٹی ٹی پی پاکستان میں سب سے مہلک گروہ کے طور پر سامنے آیا ہے اور عالمی سطح پر تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ 2009 کے بعد ہونے والے حملوں میں اس کا حصہ 67 فیصد سے زائد ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹی ٹی پی دنیا کے چار مہلک ترین گروہوں میں شامل ہے، جن میں داعش، جماعت نصرت الاسلام والمسلمین اور الشباب بھی شامل ہیں۔
ہائی آکٹین پر لیوی میں بڑا اضافہ، لیوی 300 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی
حکومت نے ہائی آکٹین فیول پر لیوی میں 200 روپے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد اس کی مجموعی لیوی 300 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ویڈیولنک اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا، جس کے مطابق اس اقدام سے حکومت کو ماہانہ تقریباً 9 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔
اعلامیے کے مطابق اس فیصلے کا مقصد معیشت پر بوجھ کم کرنا ہے اور اس کا اثر زیادہ تر امیر طبقے پر پڑے گا، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور فضائی کرایوں میں اضافے کی تردید کی گئی ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ وزارت کو ہدایت کی ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے فوری لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ اس کے فوائد جلد حاصل کیے جا سکیں۔
ایران جنگ کے اثرات، عالمی ایئرلائنز کی مالیت میں 53 ارب ڈالر کمی
ایران جنگ کے اثرات تیزی سے عالمی فضائی صنعت پر ظاہر ہونے لگے ہیں، جہاں دنیا کی بڑی ایئرلائنز کی مالیت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک دنیا کی 20 بڑی ایئرلائنز کی مجموعی مالیت میں تقریباً 53 ارب ڈالر کی کمی واقع ہو چکی ہے، جسے کوویڈ کے بعد فضائی شعبے کے لیے سب سے بڑا بحران قرار دیا جا رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث خلیج کے اہم ہوائی اڈے متاثر ہوئے ہیں اور ہزاروں پروازیں معطل کر دی گئی ہیں، جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جیٹ فیول، جو ایئرلائنز کے اخراجات کا بڑا حصہ ہوتا ہے، اس کی قیمت دگنی ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں مستقبل میں فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
ایئرلائنز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو ایندھن کی ممکنہ قلت اور آپریشنل مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، جس سے عالمی فضائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے۔








