Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
ایران مذاکرات بحال کرنے پر تیار، نیا دور اسلام آباد، جنیوا یا دوحہ میں متوقع

    
ایران مذاکرات بحال کرنے پر تیار، نیا دور اسلام آباد، جنیوا یا دوحہ میں متوقع

    ‎عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا ہے کہ وہ مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور آئندہ مرحلے کے مذاکرات اسلام آباد، جنیوا یا دوحہ میں منعقد کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ اس نے مذاکراتی عمل کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا بلکہ موجودہ حالات کے باعث صرف عارضی طور پر معطل کیا تھا۔
    ‎ذرائع کے مطابق ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت پاکستان کو پیغام دیا ہے کہ وہ سفارتی بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔ ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ نئے مذاکرات کا آغاز اسی مرحلے سے کیا جائے گا جہاں گزشتہ دور میں بات چیت رکی تھی۔
    ‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی نئے روٹ یا متبادل انتظام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ سب سے پہلے آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر تفصیلی بات چیت ہونی چاہیے، جس کے بعد منجمد ایرانی اثاثوں اور جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات پر پیش رفت کی جا سکتی ہے۔
    ‎ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اعتماد سازی ناگزیر ہے، اسی لیے تمام فریقوں کو پہلے سے طے شدہ نکات پر ہی مذاکرات آگے بڑھانے چاہییں تاکہ کسی نئے تنازع یا اختلاف سے بچا جا سکے۔
    ‎دوسری جانب ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حملوں کے بعد پیدا ہونے والے وقفے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور توقعات کے مقابلے میں شکوک و شبہات زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایران خطے میں تمام حملے رکوانے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب امریکا بھی کسی نئی فوجی کارروائی سے گریز کرے۔
    ‎ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اگر امریکا حملے نہیں کرتا تو ایران بھی کوئی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کا بہترین ذریعہ ہے اور تمام فریقوں کو مذاکرات کے ذریعے اختلافات ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
    ‎واضح رہے کہ اس پیش رفت کے حوالے سے تاحال ایران، پاکستان یا دیگر متعلقہ فریقوں کی جانب سے باضابطہ مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، جبکہ مختلف سفارتی ذرائع اس معاملے پر مسلسل رابطے میں ہونے کی اطلاعات دے رہے ہیں۔

  • بلوچستان سے دو افراد اغوا، رہائی کے بدلے ڈھائی کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ

    بلوچستان سے دو افراد اغوا، رہائی کے بدلے ڈھائی کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ

    ‎24 جولائی 2026 کو بلوچستان کے علاقے کھڈ کچا سے سامان رسانی کی ایک نجی کمپنی سے وابستہ دو افراد کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اغوا کے بعد دونوں افراد کو کلی انجیری کے علاقے کی جانب لے جایا گیا، جبکہ ان کے زیر استعمال کمپنی کی شہ زور گاڑی بھی اغوا کار اپنے ساتھ لے گئے۔
    ‎اغوا ہونے والے افراد کی شناخت جان محمد اور ساجد علی کے نام سے ہوئی ہے۔ جان محمد کا تعلق ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ جبکہ ساجد علی مومن آباد کوئٹہ کے رہائشی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں افراد کا مستقل پتہ بھارہ کہو، اسلام آباد بتایا جاتا ہے اور وہ ایک سامان رسانی کی کمپنی میں ملازمت کر رہے تھے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق اغوا کے دو روز بعد، 26 جولائی کو کوریئر کمپنی کے مالک محمد عمران کو ایک فون کال موصول ہوئی، جس میں اغوا کاروں نے دونوں افراد کی رہائی کے بدلے ڈھائی کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔ کال کرنے والے افراد نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ رقم ادا نہ کی گئی تو مغویوں کو جان سے مار دیا جائے گا۔
    ‎اس واقعے کے بعد مغویوں کے اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری کارروائی کی اپیل کی ہے تاکہ دونوں افراد کو بحفاظت بازیاب کرایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مغویوں کی بازیابی کے لیے مختلف پہلوؤں پر کام جاری ہے۔
    ‎تاحال حکام کی جانب سے اغوا کی ذمہ داری کسی مخصوص تنظیم پر باضابطہ طور پر عائد نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تصدیق سامنے آئی ہے۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مغویوں کی محفوظ بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

  • 
نیتن یاہو کا مغربی کنارے میں کارروائیاں مزید وسیع کرنے کا عندیہ

    
نیتن یاہو کا مغربی کنارے میں کارروائیاں مزید وسیع کرنے کا عندیہ

    ‎اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علاقے میں اسرائیلی فوج کے چھاپوں اور آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
    ‎صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو دی گئی ہدایات کے تحت مختلف دیہات میں داخل ہو کر تلاشی لینے، اسلحہ قبضے میں لینے اور مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ان علاقوں میں، جنہیں اس نے "دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانے” قرار دیا، مزید وسیع پیمانے پر کارروائیاں کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
    ‎دوسری جانب مغربی کنارے میں انسانی حقوق کے کارکن اور یوتھ اگینسٹ سیٹلمنٹس کے بانی عیسیٰ عمرو نے اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی شہری روزانہ تشدد اور خوف کا سامنا کر رہے ہیں۔
    ‎عیسیٰ عمرو کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں کے حملے اور فوجی کارروائیاں گزشتہ کئی ماہ سے شدت اختیار کر چکی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فلسطینی آبادی کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے اسرائیلی فوج ان واقعات کو روکنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر رہی۔
    ‎مقبوضہ مغربی کنارے میں حالیہ مہینوں کے دوران فوجی چھاپوں، گرفتاریوں اور آبادکاروں کے حملوں میں اضافے کے باعث کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے شہریوں کے تحفظ اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے پر زور دے رہے ہیں۔

  • 
رام اللہ میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے، دو مساجد نذر آتش، عرب ممالک کی شدید مذمت

    
رام اللہ میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے، دو مساجد نذر آتش، عرب ممالک کی شدید مذمت

    ‎مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں رام اللہ کے مختلف علاقوں میں دو مساجد، متعدد گاڑیاں اور زرعی اراضی کو آگ لگا دی گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق آبادکاروں نے رات کی تاریکی میں مختلف دیہات پر دھاوا بولتے ہوئے املاک کو نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہریوں میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں نے اشتعال انگیز کارروائیاں کرتے ہوئے عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی، متعدد گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور زرعی زمینوں میں بھی آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچا۔ فلسطینی شہریوں نے ان حملوں کو منظم کارروائی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎اس سے دو روز قبل بھی مغربی کنارے کے گاؤں تال میں اسرائیلی آبادکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید ہوگئے تھے، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے اور درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔ مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں آبادکاروں کے حملوں اور گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی قابض افواج نے قلقیلیہ میں ایک فلسطینی نوجوان کو پیشانی پر گولی مار کر شہید کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوجوان کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ فلسطینی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎ادھر آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزراء اور انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز اقدامات اور بے حرمتی کی شدید مذمت کی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج کی سکیورٹی میں انتہا پسند عناصر کا مسجد اقصیٰ میں داخل ہونا، اسرائیلی پرچم لہرانا اور آبادکاروں کی یلغار بین الاقوامی قوانین اور تاریخی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
    ‎وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ مقبوضہ مشرقی القدس کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزراء اور انتہا پسند گروہوں کی سرگرمیاں خطے میں نفرت اور کشیدگی کو ہوا دے رہی ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کر رہی ہیں۔
    ‎اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل فوری طور پر بیت المقدس کے قدیم شہر تک مسلمانوں کی رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور مسجد اقصیٰ کے تمام احاطے میں عبادت کا خصوصی حق صرف مسلمانوں کا تسلیم کیا جائے۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مقبوضہ بیت المقدس اور وہاں موجود اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر اسرائیل کو کوئی قانونی خودمختاری حاصل نہیں، جبکہ اردن کی ہاشمی سرپرستی اور محکمہ اوقاف کے انتظامی کردار کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے اسرائیل کو مقدس مقامات کی بے حرمتی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے روکے۔

  • 
شام اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر کام کر رہا ہے، صدر احمد الشرع

    
شام اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر کام کر رہا ہے، صدر احمد الشرع

    ‎شام کے صدر احمد الشرع نے انکشاف کیا ہے کہ دمشق اسرائیل کے ساتھ ایک سکیورٹی معاہدے پر سرگرمی سے کام کر رہا ہے، جس میں کئی دیگر ممالک بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ مستقبل میں خطے میں ایک جامع اور پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
    ‎الجزیرہ کے پروگرام المقابلہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں صدر احمد الشرع نے کہا کہ شام اسرائیل کے ساتھ ایسے سکیورٹی انتظامات پر بات چیت کر رہا ہے جن کا مقصد سرحدی کشیدگی میں کمی اور خطے میں استحکام پیدا کرنا ہے۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا مطلب شام کے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اپنے قانونی حق سے دستبردار ہونا نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق شام اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    ‎صدر الشرع نے کہا کہ ان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اگر سکیورٹی انتظامات طے پا جاتے ہیں تو یہ وسیع تر سیاسی حل اور دیرپا امن کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل جنوبی شام میں متعدد فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کر چکا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
    ‎لبنان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے احمد الشرع نے کہا کہ شام کا ہمسایہ ملک میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے ان افواہوں کی تردید کی کہ دمشق لبنان میں عسکری کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
    ‎ان کے مطابق شام اس وقت لبنانی حکام کے ساتھ ایسے طریقوں پر تبادلہ خیال کر رہا ہے جن سے لبنان کو موجودہ بحران سے نکالنے اور استحکام کی طرف لے جانے میں مدد مل سکے۔
    ‎صدر الشرع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان میں جنگ اور امن کے فیصلوں کا اختیار صرف لبنانی ریاست کے پاس ہونا چاہیے اور ملک میں اسلحے کا کنٹرول بھی ریاست کے ہاتھ میں ہونا ضروری ہے۔

  • 
امریکا نے حملے روکے تو ایران نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں، ایرانی فوج

    
امریکا نے حملے روکے تو ایران نے بھی جوابی کارروائیاں معطل کر دیں، ایرانی فوج

    ‎ایرانی فوج کے ترجمان محمد امر اکرمینیا نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے گزشتہ دو راتوں سے حملے نہ کیے جانے کے بعد ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
    ‎ترجمان کے مطابق ایران کی عسکری حکمت عملی مکمل طور پر دفاعی اور جوابی کارروائیوں پر مبنی ہے، اسی لیے جب امریکی حملے رک گئے تو ایران نے بھی اپنے جوابی اقدامات روک دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ میں پہل کرنے کے بجائے صرف حملوں کا جواب دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
    ‎محمد امر اکرمینیا نے دعویٰ کیا کہ امریکی قیادت اس وقت داخلی سطح پر اختلافات کا شکار دکھائی دیتی ہے اور واشنگٹن کے پاس ایران کے حوالے سے کوئی واضح اور مربوط حکمت عملی موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا اندازہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مختلف بیانات اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی سرگرمیوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔
    ‎ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ امریکی حکام کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران سے متعلق پالیسی پر مکمل ہم آہنگی موجود نہیں۔ ان کے مطابق یہی غیر یقینی صورتحال خطے میں کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ حالیہ تنازع پہلے ہی باب المندب کی آبنائے تک اثرات مرتب کر چکا ہے۔ اگر امریکا نے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کیں تو جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا خدشہ ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی بحری تجارت پر پڑ سکتے ہیں۔
    ‎ایرانی فوج کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کشیدگی میں کمی ضروری ہے، تاہم اگر ایران پر دوبارہ حملے کیے گئے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

  • 
آبنائے ہرمز کے انتظام پر ایران اور عمان میں پیش رفت، کنٹرول کا معاملہ بدستور متنازع

    
آبنائے ہرمز کے انتظام پر ایران اور عمان میں پیش رفت، کنٹرول کا معاملہ بدستور متنازع

    ‎ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس اہم آبی گزرگاہ کے کنٹرول کے معاملے پر اب بھی کئی اہم سوالات برقرار ہیں۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ جمعہ اور ہفتے کے روز ایرانی اور عمانی وفود کے درمیان متعدد دور کے مذاکرات ہوئے۔ ان کے مطابق بات چیت کے دوران بحری ٹریفک کو منظم کرنے، دونوں ممالک کے خودمختار حقوق کا احترام یقینی بنانے اور مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار سے متعلق مختلف تجاویز کا تبادلہ کیا گیا۔
    ‎اگرچہ ایرانی حکام نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مجوزہ انتظام صرف ایران اور عمان کے درمیان ہوگا یا اس میں خلیجی خطے کے دیگر ساحلی ممالک بھی شامل ہوں گے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کسی نئے انتظامی نظام میں صرف ایران اور عمان شریک ہوتے ہیں تو خلیجی ریاستیں اور امریکا اس پر اعتراض اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔
    ‎اصل تنازع اس بات پر مرکوز ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام اور نگرانی کا اختیار کس کے پاس ہوگا۔ امریکا اور متعدد علاقائی ممالک کا مؤقف ہے کہ وہ ایران کو اس آبی گزرگاہ پر یکطرفہ کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اسے اپنی خودمختاری اور جغرافیائی حیثیت کے تحت اس علاقے میں قانونی حقوق حاصل ہیں۔
    ‎آبنائے ہرمز سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس کے انتظام یا کنٹرول سے متعلق کسی بھی پیش رفت کے عالمی توانائی کی منڈیوں اور خطے کی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • 
پنجاب میں میٹرو اور الیکٹرک بسوں کا سفر مکمل کیش لیس، ای ٹرانزٹ ایپ اور ٹی کیش کارڈ متعارف

    
پنجاب میں میٹرو اور الیکٹرک بسوں کا سفر مکمل کیش لیس، ای ٹرانزٹ ایپ اور ٹی کیش کارڈ متعارف

    ‎پنجاب حکومت نے صوبے میں جدید اور ڈیجیٹل پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے eTransit Punjab App اور T-Cash Card متعارف کرا دیا ہے، جس کے ذریعے میٹرو بسوں اور الیکٹرک بسوں میں سفر اب مکمل طور پر کیش لیس ہو جائے گا۔
    ‎اس نئے نظام کا مقصد شہریوں کو تیز، محفوظ اور سہل سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ مسافر اب نقد رقم یا فزیکل ٹوکن کے بغیر اپنے موبائل فون یا ٹی کیش کارڈ کے ذریعے کرایہ ادا کر سکیں گے، جس سے لمبی قطاروں اور انتظار کے وقت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
    ‎حکام کے مطابق اس ڈیجیٹل کرایہ نظام کو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB)، محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب اور پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے باہمی اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ اس اقدام کو صوبے میں اسمارٹ ٹرانسپورٹ نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎نئے نظام کے تحت مسافر ای ٹرانزٹ پنجاب ایپ کے ذریعے اپنے سفر کا انتظام، کرایے کی ادائیگی اور دیگر سفری سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ ٹی کیش کارڈ مختلف میٹرو اور الیکٹرک بس سروسز میں استعمال کیا جا سکے گا۔
    ‎حکومت کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام سے نہ صرف عوام کو بہتر سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ کرایوں کی وصولی میں شفافیت، آپریشنل کارکردگی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی فروغ ملے گا۔ مستقبل میں اس نظام کو مزید پبلک ٹرانسپورٹ منصوبوں تک توسیع دینے کا بھی امکان ہے۔

  • ‎خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم سفری و حفاظتی ہدایات جاری

    ‎خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم سفری و حفاظتی ہدایات جاری

    ‎خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اسلام آباد نے خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی ورکرز کے لیے اہم حفاظتی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
    ‎جاری کردہ معلوماتی پیغام میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات کے باعث تمام پاکستانی شہری، بالخصوص ملازمین، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور جہاں تک ممکن ہو محفوظ مقامات پر رہائش اختیار کریں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا موجودہ صورتحال میں انتہائی ضروری ہے۔
    ‎بیورو کے مطابق پاکستانی شہری فوجی تنصیبات، ہوائی اڈوں، سرکاری عمارتوں اور دیگر حساس مقامات کے قریب جانے سے مکمل اجتناب کریں، کیونکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں یہ مقامات ممکنہ طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔
    ‎ہدایات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ مقامی پولیس، سول ڈیفنس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری ہونے والی تمام ہدایات اور احکامات پر مکمل عمل کیا جائے۔ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی نہ صرف قانونی مشکلات پیدا کر سکتی ہے بلکہ ذاتی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
    ‎بیورو آف امیگریشن نے خبردار کیا ہے کہ فوجی نقل و حرکت، میزائل حملوں، دفاعی سرگرمیوں یا حساس تنصیبات کی تصاویر اور ویڈیوز بنانا، انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنا یا دوسروں کو بھیجنا کئی خلیجی ممالک کے سخت قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے، جس پر قانونی کارروائی، گرفتاری یا دیگر سزائیں ہو سکتی ہیں۔
    ‎اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک کے سائبر کرائم قوانین انتہائی سخت ہیں۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری ملک بدری، جرمانے اور مستقبل میں کسی بھی خلیجی ملک میں داخلے پر مستقل پابندی جیسے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
    ‎بیورو نے پاکستانی شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے احتجاج، جلسے، ریلی یا عوامی مظاہرے میں شرکت سے گریز کریں، کیونکہ بیشتر خلیجی ممالک میں ایسی سرگرمیاں قانوناً ممنوع ہیں اور ان میں ملوث افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
    ‎حکام نے خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں پر زور دیا ہے کہ وہ پرسکون رہیں، صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی حکام اور پاکستانی سفارت خانے سے رابطے میں رہیں۔

  • 
سابق سی سی ڈی ایس ایچ او پر ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کا الزام

    
سابق سی سی ڈی ایس ایچ او پر ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کا الزام

    ‎راولپنڈی میں سابق سی سی ڈی تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر محسن شاہ پر ایک کاروباری شخصیت کے مبینہ ٹارگٹ کلنگ کیس میں سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
    ‎درخواست کے مطابق مقتول محمد ارشاد خان کی بیوہ نے سی پی او راولپنڈی کو تحریری درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے شوہر کو مبینہ طور پر کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کرایا گیا۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سابق ایس ایچ او انسپکٹر محسن شاہ نے اس قتل کی منصوبہ بندی میں کردار ادا کیا۔
    ‎درخواست گزار کے مطابق آزاد کشمیر کے ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے مبینہ طور پر اس واردات کے لیے رابطہ کیا، جبکہ قتل کی کارروائی میں مردان اور سخاکوٹ سے تعلق رکھنے والے مبینہ سہولت کاروں اور شوٹرز کو استعمال کیا گیا۔
    ‎درخواست میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعد میں ایک جرگے کے دوران مبینہ سہولت کاروں نے قتل سے متعلق اہم انکشافات کیے۔ ان کے مطابق انہیں مبینہ طور پر محمد ارشاد خان کو نشانہ بنانے کے لیے کہا گیا تھا اور بعد ازاں طے شدہ رقم کی ادائیگی پر بھی تنازع پیدا ہوا۔
    ‎درخواست گزار نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ مقتول کے اہل خانہ نے مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کے بعد بعض مواصلاتی ریکارڈ بھی اکٹھے کیے، جنہیں وہ اپنی درخواست کے ساتھ متعلقہ حکام کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔
    ‎دوسری جانب ذرائع کے مطابق انسپکٹر محسن شاہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جن افراد کے نام سامنے آ رہے ہیں وہ ان کے مخبر تھے اور ان کا اس قتل کی منصوبہ بندی یا عمل درآمد سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق اگر متعلقہ افراد آپس میں کسی معاملے پر ملے تھے تو وہ ان کی موجودگی کے بغیر ہوا۔
    ‎واضح رہے کہ اس ٹارگٹ کلنگ کیس میں ملوث قرار دیے جانے والے چار مبینہ شوٹرز اس سے قبل ایک علیحدہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم مقتول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات چاہتے ہیں۔