Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • ‎بلاول بھٹو کا ن لیگ پر دھاندلی کا الزام، آزاد کشمیر میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    ‎بلاول بھٹو کا ن لیگ پر دھاندلی کا الزام، آزاد کشمیر میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    ‎پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) پر انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 2 اگست کو ہونے والے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کا ساتھ دیں۔
    ‎کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی گزشتہ تین نسلوں سے کشمیری عوام کے حقوق کی آواز بلند کرتی آ رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی نے ہمیشہ عوامی حمایت کی بنیاد پر کامیابیاں حاصل کیں، تاہم ہر دور میں انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔
    ‎بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابی عمل کے دوران پیش آنے والے واقعات پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی نے پولنگ اسٹیشنوں پر مبینہ قبضوں، انتخابی بے ضابطگیوں اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر حملوں سے متعلق شکایات متعلقہ اداروں کے سامنے پیش کی ہیں، جن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
    ‎انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ تمام شکایات کی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عوام کا انتخابی عمل پر اعتماد بحال ہو سکے۔ بلاول نے کہا کہ اگر عوام منصفانہ اور شفاف انتخاب میں کسی دوسری جماعت کو کامیاب کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی اس فیصلے کو قبول کرے گی، لیکن مبینہ طور پر چھینے گئے مینڈیٹ کو ہرگز تسلیم نہیں کرے گی۔
    ‎پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے آزاد کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی کے حل کے لیے "ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن” یعنی سچائی اور مفاہمتی کمیشن کے قیام کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کمیشن تمام الزامات اور واقعات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر حقائق سامنے لا سکتا ہے، جس سے سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی میں مدد ملے گی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جمہوری اصولوں، عوامی حقِ رائے دہی اور آئینی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور انتخابی عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اپنی سیاسی اور قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔

  • 
سعودی عرب نے پاکستان میں نیا سفیر مقرر کر دیا

    
سعودی عرب نے پاکستان میں نیا سفیر مقرر کر دیا

    ‎سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ سفارتی، دفاعی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ڈاکٹر راجح بن تمی البقمی کو پاکستان میں اپنا نیا سفیر مقرر کر دیا ہے۔ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے نئے سفیر کے تقرر کی منظوری دیتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور پاکستان میں مملکت کی مؤثر نمائندگی کی ہدایت کی۔
    ‎ریاض میں منعقدہ تقریب کے دوران نئے سفیر ڈاکٹر راجح بن تمی البقمی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ اس موقع پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بھی موجود تھے۔ تقریب میں سعودی قیادت نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
    ‎سفارتی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر راجح بن تمی البقمی جلد اسلام آباد پہنچ کر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ انہیں ایک تجربہ کار سفارت کار تصور کیا جاتا ہے، جنہیں بین الاقوامی امور، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کے شعبوں میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے سفیر اس سے قبل بھی مختلف ممالک میں اہم سفارتی اور دفاعی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں، جہاں انہوں نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔
    ‎پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مذہبی، اقتصادی، دفاعی اور سفارتی شعبوں میں انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک باقاعدگی سے اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں، سرمایہ کاری، تجارت، توانائی، دفاع اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیتے رہے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے سعودی سفیر کی تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک اقتصادی شراکت داری، سرمایہ کاری اور علاقائی استحکام کے حوالے سے تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی تعیناتی سے اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دوطرفہ روابط مزید مضبوط ہوں گے۔

  • 
کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کر گئی، متاثرہ افراد کی تعداد 3,200 سے تجاوز

    
کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کر گئی، متاثرہ افراد کی تعداد 3,200 سے تجاوز

    ‎جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی تازہ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، جہاں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 3,200 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ اب تک 1,405 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ 10 دنوں میں تقریباً 1,000 نئے کیسزرپورٹ ہوئے ہیں، جس سے صحت حکام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
    ‎یہ کانگو میں ایبولا کی 17ویں وبا ہے، جس کا باضابطہ اعلان 15 مئی کو کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق اس مرتبہ وائرس کی بونڈی بوجیو (Bundibugyo) قسم پھیل رہی ہے، جس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں ہے۔ اسی وجہ سے وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق تقریباً 90 فیصد مریض شمال مشرقی صوبے اٹوری (Ituri) میں سامنے آئے ہیں، جو جنوبی سوڈان اور یوگنڈا کی سرحد سے متصل ہے۔ ادارے نے بتایا ہے کہ وائرس اب ملک کے پانچ صوبوں تک پھیل چکا ہے، جن میں دو ایسے صوبے بھی شامل ہیں جہاں حال ہی میں نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
    ‎اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین ایئر سروس (UNHAS) کے حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر مریضوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن سب سے بڑا مسئلہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک رسائی ہے۔ اس مقصد کے لیے فضائی سروس کے ذریعے ڈاکٹروں، طبی ٹیموں اور امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔
    ‎یو این ایچ اے ایس کے مطابق فضائی سروس صرف طبی عملے کی نقل و حمل تک محدود نہیں بلکہ لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے نمونوں کی محفوظ ترسیل بھی یقینی بنا رہی ہے، تاکہ وائرس کی مؤثر نگرانی اور متاثرہ افراد کا بروقت سراغ لگایا جا سکے۔
    ‎ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ایبولا مزید علاقوں میں پھیل سکتا ہے، جس سے انسانی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔

  • 
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

    ‎حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرتے ہوئے 29 جولائی 2026 کے لیے نئے نرخ جاری کر دیے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر آج کے لیے ہوگا۔
    ‎نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 63 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 335 روپے 81 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
    ‎اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 55 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 388 روپے 38 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
    ‎پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ قیمتیں یومیہ بنیاد پر نافذ العمل ہوں گی اور 29 جولائی 2026 کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت اور دیگر معاشی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں میں ردوبدل کیا جا رہا ہے۔
    ‎حالیہ دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلیوں کے باعث ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور مختلف شعبوں کی لاگت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی مہنگائی کی مجموعی شرح پر اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ عوام کو روزمرہ سفری اخراجات میں بھی اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
    ‎پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے اعلان کے بعد عوام اور کاروباری حلقے آئندہ قیمتوں کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

  • 
فرانس اور اسپین میں شدید گرمی برقرار، جنگلاتی آگ مزید بے قابو ہونے کا خدشہ

    
فرانس اور اسپین میں شدید گرمی برقرار، جنگلاتی آگ مزید بے قابو ہونے کا خدشہ

    ‎یورپ کے دو بڑے ممالک فرانس اور اسپین شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں درجہ حرارت میں مزید اضافے اور بارش نہ ہونے کی پیشگوئی نے جنگلاتی آگ کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم موسم کی سخت صورتحال امدادی کارروائیوں کے لیے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
    ‎فرانس کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں جاری شدید ہیٹ ویو کل اپنے عروج پر پہنچے گی۔ مختلف علاقوں میں گرمی کی لہر کے حوالے سے وارننگز جاری کر دی گئی ہیں، جبکہ بارش کا کوئی امکان نہ ہونے کے باعث جنگلاتی آگ مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎جنوب مغربی فرانس کے گیروند ریجن میں آگ کی صورتحال رات بھر نسبتاً مستحکم رہی، جہاں فائر فائٹرز کے ساتھ فوجی انجینئرز بھی آگ بجھانے کی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ دوسری جانب دھوئیں اور فضائی آلودگی سے متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو احتیاطی تدابیر کے طور پر فیس ماسک فراہم کیے جا رہے ہیں۔
    ‎ادھر اسپین میں دارالحکومت میڈرڈ کے مغرب میں لگی جنگلاتی آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں بتدریج پیش رفت ہو رہی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق صورتحال آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی ہے، تاہم احتیاط کے پیش نظر 63 ہزار سے زائد افراد کو اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
    ‎مشرقی اسپین میں امدادی کارروائیوں کو ایک اور خطرے کا سامنا ہے، جہاں تقریباً ایک صدی قبل ہونے والی ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران استعمال ہونے والا غیر پھٹا ہوا بارودی مواد اب بھی مختلف علاقوں میں موجود ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کے باعث ان دھماکا خیز مواد کے پھٹنے کا خطرہ بھی موجود ہے، جس سے امدادی کارروائیاں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔
    ‎ماہرین موسمیات کے مطابق شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہوائیں آئندہ چند روز تک برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث جنگلاتی آگ پر مکمل قابو پانے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

  • 
آبنائے ہرمز اور خطے کی کشیدگی پر ایران اور جاپان کے وزرائے خارجہ کا رابطہ

    
آبنائے ہرمز اور خطے کی کشیدگی پر ایران اور جاپان کے وزرائے خارجہ کا رابطہ

    ‎ایران اور جاپان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال، ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے خاتمے کی کوششوں اور آبنائے ہرمز میں امن و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے جاپانی ہم منصب توشیمیتسو موتیگی کو خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے موجودہ علاقائی صورتحال اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی بریفنگ دی۔
    ‎ایرانی بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی کو یقینی بنانے اور کسی بھی قسم کی بدامنی کے خاتمے کے لیے باہمی رابطے اور مشترکہ تعاون کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
    ‎گفتگو کے دوران اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن و استحکام عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔
    ‎آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار کی ترسیل ہوتی ہے۔ جاپان اپنی خام تیل کی ضروریات کا 90 فیصد سے زائد حصہ اسی بحری راستے کے ذریعے درآمد کرتا ہے، جس کے باعث اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی کشیدگی جاپان سمیت کئی ممالک کے لیے معاشی اہمیت رکھتی ہے۔
    ‎حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایران اور جاپان کے درمیان ہونے والا یہ رابطہ سفارتی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور عالمی توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانا ہے۔

  • 
واشنگٹن میں ٹرمپ کی نیتن یاہو اور زیلنسکی سے اہم ملاقاتیں

    
واشنگٹن میں ٹرمپ کی نیتن یاہو اور زیلنسکی سے اہم ملاقاتیں

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کی۔ ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی بالمشافہ ملاقات تھی، جسے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
    امریکی انتظامیہ کے مطابق بند کمرے میں ہونے والی یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے جاری رہی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ملاقات کو "مثبت اور نتیجہ خیز” قرار دیا، تاہم دونوں رہنماؤں کے دفاتر کی جانب سے فوری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
    سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں رہنما اپنے اپنے ممالک میں سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیل میں نیتن یاہو آئندہ انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں حالیہ مہینوں کے دوران کچھ کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
    یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں یوکرین کے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے اور روس کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    یوکرینی ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران روسی میزائل حملوں کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کی دفاعی صلاحیت بڑھانے پر خاص توجہ دی گئی۔ ملاقات کے بعد صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی یوکرین میں مقامی سطح پر تیاری کے لیے لائسنس اور دیگر دفاعی تجاویز پر بات چیت کی۔
    زیلنسکی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایسے اقدامات پر بھی غور کیا جو یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنا سکتے ہیں اور روسی حملوں سے شہریوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گے۔

  • 
ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو مزید اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، ٹرمپ کی دھمکی

    
ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو مزید اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، ٹرمپ کی دھمکی

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے پک ایکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain) سمیت دیگر مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
    ‎فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ "اچھی بات چیت” جاری ہے، تاہم امریکا اس وقت مضبوط پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "پک ایکس ماؤنٹین ہمارے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں، ایران کے حوالے سے ہماری پوزیشن بہت مضبوط ہے۔”
    ‎صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول، "میں ایسا نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر معاہدہ نہ ہوا تو دیگر اہداف بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔”
    ‎ٹرمپ کے اس بیان کو ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر بھی عالمی توجہ مرکوز ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں مختلف ممالک کی ثالثی سے جاری ہیں۔
    ‎ادھر ایران کی جانب سے ٹرمپ کے تازہ بیان پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تہران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک جانب سفارتی حل کی بات کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب فوجی آپشن کو بھی کھلا رکھے ہوئے ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات برقرار ہیں۔

  • ایران پر حملوں کے لیے امریکی طیاروں نے اسرائیلی اڈے استعمال کیے

    ایران پر حملوں کے لیے امریکی طیاروں نے اسرائیلی اڈے استعمال کیے

    ‎اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایران پر کیے گئے امریکی فضائی حملوں کے لیے امریکی جنگی طیاروں نے اسرائیلی فضائی اڈوں سے پروازیں کیں۔
    ‎اسرائیلی ٹی وی چینل 14 سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کاٹز نے کہا کہ "ایرانی جانتے ہیں کہ امریکی طیارے یہاں سے اڑان بھرتے ہیں اور ایندھن بھرنے والے طیارے بھی یہیں سے روانہ ہوتے ہیں تاکہ ایران پر حملے کیے جا سکیں۔”
    ‎انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ "ایران نے تقریباً ہر جگہ حملے کیے، سوائے اسرائیل کے۔”
    ‎اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ جمعے سے امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے میں وقفے کے بعد خطے میں نسبتاً سکون پایا جا رہا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق جولائی کے وسط میں کشیدگی بڑھنے کے بعد ایران نے اپنے حملوں کا رخ اردن، بحرین اور کویت کی جانب موڑ دیا تھا۔
    ‎اسرائیلی وزیر دفاع کے اس دعوے پر ایران یا امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے بھی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر مزید اثرات مرتب کر سکتا ہے، جبکہ اس سے امریکا اور اسرائیل کے دفاعی تعاون کے بارے میں بھی نئی بحث چھڑ سکتی ہے۔

  • پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے خلاف 211 رنز کا ہدف

    پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے خلاف 211 رنز کا ہدف

    ‎ٹروبا میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو دوسری اننگز میں 181 رنز پر آل آؤٹ کر دیا، جس کے بعد قومی ٹیم کو میچ جیتنے کے لیے 211 رنز کا ہدف ملا ہے۔
    ‎ویسٹ انڈیز نے دوسری اننگز کا آغاز کیا تو پاکستانی بولرز نے میزبان بیٹنگ لائن کو دباؤ میں رکھا اور وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرتے رہے۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے شمار جوزف نے سب سے زیادہ 38 رنز بنائے، جبکہ ٹیگنارائن چندرپال نے 35، جسٹن گریوز نے 20 اور کیمار روچ نے 18 رنز کی اننگز کھیلی۔
    ‎پاکستان کی جانب سے فاسٹ بولر محمد عباس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تباہ کن بولنگ کی اور 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ عباس نے اپنی تجربہ کاری کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ویسٹ انڈین بیٹنگ لائن کو مشکلات میں ڈال دیا۔
    ‎اس کے علاوہ خرم شہزاد اور محمد علی نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ عامر جمال نے ایک کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔
    ‎اب پاکستان کو میچ میں کامیابی کے لیے 211 رنز درکار ہیں۔ قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن کے لیے یہ ہدف اہم امتحان ہوگا کیونکہ ٹیسٹ میچ کی پچ پر چوتھی اننگز میں رنز بنانا ہمیشہ ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔
    ‎پاکستانی ٹیم کی نظریں اب مضبوط بیٹنگ کارکردگی پر ہیں تاکہ پہلے ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کر کے سیریز کا آغاز فاتحانہ انداز میں کیا جا سکے۔