Baaghi TV

Author: Aqsa Younas Rana

  • 
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی ارکانِ کانگریس کی ملاقات

    
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے امریکی ارکانِ کانگریس کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے امریکی کانگریس کے ایک وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور اقتصادی روابط کے فروغ سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق امریکی وفد میں ریاست مونٹانا سے کانگریس کے رکن رائن کیتھ زنکے اور ریاست واشنگٹن سے رکن مائیکل جیمز شامل تھے۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی، جس میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، دفاعی تعاون اور اقتصادی خوشحالی کے فروغ کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر دوطرفہ اقتصادی روابط، نجی شعبے کے اشتراک اور تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے مواقع بھی زیر بحث آئے۔
    ‎فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گفتگو کے دوران پاکستان کی وسیع اقتصادی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار مضبوط معیشت، تجارت کے فروغ اور علاقائی روابط پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور اقتصادی اصلاحات پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔
    ‎انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، کاروبار دوست پالیسیوں اور اقتصادی ترقی کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ یہ اصلاحات پاکستان کو علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کا اہم مرکز بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
    ‎آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وفد نے علاقائی امن و استحکام، انسداد دہشت گردی کی کوششوں اور اقتصادی ترقی میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ وفد نے پاکستان کی عسکری قیادت کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
    ‎ملاقات کو پاکستان اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی اور دفاعی روابط کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔

  • 
جنوبی افریقا میں فائرنگ، 4 پاکستانی شہری جاں بحق

    
جنوبی افریقا میں فائرنگ، 4 پاکستانی شہری جاں بحق

    ‎جنوبی افریقا کے علاقے سیبینزا (Sebenza) میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے چار پاکستانی شہری جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق افسوسناک واقعہ ہفتے کی شام زور فونٹین روڈ پر اس وقت پیش آیا جب چاروں افراد اپنی گاڑی میں سوار ہو کر گھر واپس جا رہے تھے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے تمام پاکستانی شہری ٹیمبیسا کے علاقے میں چھوٹی دکانوں کے مالک تھے اور روزگار کے سلسلے میں جنوبی افریقا میں مقیم تھے۔ واقعے نے پاکستانی برادری میں شدید خوف و ہراس اور غم کی لہر دوڑا دی ہے۔
    ‎ابتدائی تحقیقات کے مطابق متاثرین کی گاڑی جب ایک ٹریفک سگنل پر رکی تو اسی دوران ایک سفید رنگ کی سیڈان گاڑی ان کے قریب آ کر رکی۔ گاڑی سے مسلح افراد باہر نکلے اور انہوں نے متاثرین کی گاڑی کے دونوں اطراف سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اچانک ہونے والے حملے میں چاروں پاکستانی شہری موقع پر ہی شدید زخمی ہو گئے۔
    ‎اطلاع ملنے پر امدادی اہلکار اور پولیس فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے، جہاں طبی عملے نے چاروں افراد کی موت کی تصدیق کر دی۔ پولیس نے جائے وقوع سے 9 ایم ایم پستول کے متعدد خول قبضے میں لے لیے ہیں، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
    ‎جنوبی افریقی پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد کی روشنی میں یہ واقعہ بظاہر ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا ہے، تاہم حملے کے محرکات اور اصل مقصد کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ تاحال کسی مشتبہ شخص کو گرفتار نہیں کیا جا سکا، جبکہ حملہ آور واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    ‎پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔ دوسری جانب جنوبی افریقا میں مقیم پاکستانی برادری نے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار عناصر کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

  • 
پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری متاثرین کا احتجاج، اربوں روپے کے مبینہ فراڈ کی تحقیقات کا مطالبہ

    
پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری متاثرین کا احتجاج، اربوں روپے کے مبینہ فراڈ کی تحقیقات کا مطالبہ

    ‎پنجاب یونیورسٹی ٹاؤن تھری متاثرین ایسوسی ایشن نے اپنے مطالبات کے حق میں یونیورسٹی کے نیو کیمپس میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت پنجاب سے اس منصوبے میں مبینہ اربوں روپے کی بے ضابطگیوں اور فراڈ کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔
    ‎احتجاج کی قیادت ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر خرم شہزاد، سیکرٹری ڈاکٹر شبیر سرور اور دیگر عہدیداروں نے کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹاؤن تھری منصوبے سے وابستہ اساتذہ اور ملازمین گزشتہ دس برس سے اپنے پلاٹوں کے حصول کے منتظر ہیں، لیکن اب تک انہیں ان کا حق نہیں مل سکا۔
    ‎مظاہرین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ منصوبے میں مبینہ اربوں روپے کے فراڈ کا نوٹس لیں اور ایک ہزار سے زائد متاثرین کو انصاف فراہم کرتے ہوئے انہیں ان کے پلاٹ دلانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
    ‎ڈاکٹر خرم شہزاد نے دعویٰ کیا کہ ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے ڈاکٹر اظہر نعیم کو مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے ایک کیس میں ذمہ دار قرار دیا تھا۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ڈاکٹر اظہر نعیم کے قریبی رشتہ دار ٹاؤن تھری کی ڈویلپر کمپنی میں شریک تھے اور منصوبے کے دوران مبینہ طور پر اربوں روپے کی ادائیگیاں اور تجارتی اراضی کی غیر معمولی الاٹمنٹ کی گئی۔
    ‎مظاہرین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ منصوبے سے وابستہ بعض افراد کے اثاثوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہییں۔ ان کے مطابق ٹاؤن تھری کے اراکین کو دی جانے والی فائلوں کی مارکیٹ میں کوئی قدر نہیں رہی، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں صرف جمع کرائی گئی رقم واپس لینے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔
    ‎متاثرین کا کہنا تھا کہ منصوبے پر ابتدائی پانچ برسوں میں کوئی قانونی رکاوٹ موجود نہیں تھی، اس کے باوجود ترقیاتی کام شروع نہیں کیے گئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ممبران کی جمع کرائی گئی رقوم کو ترقیاتی کاموں کے بجائے دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے ہزاروں افراد مالی اور ذہنی مشکلات کا شکار ہوئے۔
    ‎احتجاج کے دوران متاثرین نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں پنجاب یونیورسٹی کلب میں پریس کانفرنس کرنے سے روکا گیا، جس پر انہوں نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رویے کی مذمت کی۔
    ‎واضح رہے کہ مذکورہ الزامات احتجاج کرنے والے متاثرین کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات پر جن افراد یا اداروں کے نام لیے گئے ہیں، ان کا باضابطہ مؤقف اس خبر کے سامنے آنے تک موصول نہیں ہوا۔

  • 
سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے دو آٹو ڈسیبل سرنجیں غیر معیاری قرار دے دیں

    
سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے دو آٹو ڈسیبل سرنجیں غیر معیاری قرار دے دیں

    ‎سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری (SDTL) نے آٹو ڈسیبل سرنجوں کے دو نمونوں کو غیر معیاری قرار دیتے ہوئے ان کے حفاظتی نظام پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق 3 ملی لیٹر اور 5 ملی لیٹر آٹو ڈسیبل سرنجوں کے نمونے مقررہ معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیسٹنگ کے دوران دونوں سرنجوں کا آٹو ڈسیبل فیچر مطلوبہ معیار کے مطابق کام نہیں کر سکا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان سرنجوں کا خودکار حفاظتی نظام اور دوبارہ استعمال روکنے والا ری یوز فیچر بھی ٹیسٹ میں ناکام رہا، جس کے باعث انہیں میڈیکل ڈیوائس رولز 2017 کے تحت غیر معیاری قرار دیا گیا ہے۔
    ‎ڈی جی سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری عدنان رضوی کے مطابق غیر معیاری قرار دی گئی سرنجیں خیبرپختونخوا میں قائم ایک فارما کمپنی کی تیار کردہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لیبارٹری کے تکنیکی معائنے میں سرنجوں کا آٹو ڈسیبل اور ری یوز پروٹیکشن سسٹم مؤثر ثابت نہیں ہوا، جو مریضوں کی حفاظت کے لیے اہم خصوصیات سمجھی جاتی ہیں۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ ٹیسٹ رپورٹس انسپکٹر ڈرگز کراچی ایسٹ اور سیکریٹری کوالٹی کنٹرول بورڈ کو ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ متعلقہ قوانین کے تحت مزید کارروائی کی جا سکے۔ حکام ان رپورٹس کی روشنی میں مصنوعات کے معیار اور ان کی دستیابی سے متعلق آئندہ اقدامات کا فیصلہ کریں گے۔
    ‎طبی ماہرین کے مطابق آٹو ڈسیبل سرنجیں اس لیے استعمال کی جاتی ہیں تاکہ انہیں ایک بار استعمال کے بعد دوبارہ استعمال نہ کیا جا سکے، جس سے مختلف متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات کم ہوتے ہیں۔ اگر ان کا حفاظتی نظام مؤثر طریقے سے کام نہ کرے تو یہ مریضوں اور طبی عملے دونوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
    ‎سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ کے بعد متعلقہ اداروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ غیر معیاری قرار دی گئی سرنجوں کی فراہمی، فروخت اور استعمال کے حوالے سے ضروری قانونی اور انتظامی اقدامات کریں گے تاکہ صحت عامہ کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • 
بیٹر فیوچر پاکستان نے ناروے کپ 2026 کا فاتحانہ آغاز کر دیا

    
بیٹر فیوچر پاکستان نے ناروے کپ 2026 کا فاتحانہ آغاز کر دیا

    ‎ناروے کپ 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی بیٹر فیوچر پاکستان فٹبال ٹیم نے اپنے پہلے میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان ملک کے کلب Sauda کو ایک صفر سے شکست دے کر ایونٹ کا فاتحانہ آغاز کیا ہے۔
    ‎اوسلو میں جاری دنیا کے سب سے بڑے یوتھ فٹبال ٹورنامنٹس میں سے ایک ناروے کپ میں قومی ٹیم نے منظم کھیل پیش کیا اور دفاع کے ساتھ ساتھ حملوں میں بھی عمدہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، تاہم پاکستان کی جانب سے کیا گیا ایک گول فیصلہ کن ثابت ہوا۔
    ‎پاکستان کی جانب سے میچ کا واحد اور فاتحانہ گول یاسین نے اسکور کیا، جس کی بدولت ٹیم نے اہم کامیابی اپنے نام کی۔ یاسین کی شاندار کارکردگی کو میچ کا نمایاں لمحہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستانی کھلاڑیوں نے دفاعی لائن میں بھی بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے حریف ٹیم کو گول کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔
    ‎بیٹر فیوچر پاکستان فٹبال ٹیم آج اپنے دوسرے میچ میں ناروے کے ہی کلب Trio کے مدمقابل ہوگی۔ ٹیم کی کوشش ہوگی کہ مسلسل دوسری کامیابی حاصل کرکے اگلے مرحلے کے لیے اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنائے۔
    ‎واضح رہے کہ بیٹر فیوچر پاکستان فٹبال ٹیم گزشتہ سال ناروے کپ کی چیمپئن رہی تھی اور اس مرتبہ بھی ٹائٹل کا دفاع کرنے کے لیے میدان میں اتری ہے۔ ٹیم کی پہلی کامیابی نے شائقین میں نئی امید پیدا کر دی ہے کہ پاکستانی نوجوان کھلاڑی ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کریں گے۔
    ‎ناروے کپ 2026 کا انعقاد 25 جولائی سے یکم اگست تک ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں کیا جا رہا ہے، جس میں دنیا بھر سے مختلف ممالک کی نوجوان فٹبال ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

  • 
ہنگو کے جنگلات سے پولیس کانسٹیبل کی لاش برآمد، تحقیقات شروع

    
ہنگو کے جنگلات سے پولیس کانسٹیبل کی لاش برآمد، تحقیقات شروع

    ‎خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی کے جنگلات سے ایک پولیس اہلکار کی لاش برآمد ہوئی ہے، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
    ‎خیبرپختونخوا پولیس کے ترجمان کے مطابق جنگلاتی علاقے سے ملنے والی لاش کی شناخت پولیس کانسٹیبل مشرف علی کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او سٹی فیاض خان کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔
    ‎پولیس حکام نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور ابتدائی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے منتقل کر دیا۔ فرانزک شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں تاکہ واقعے کی وجوہات اور حقائق کا تعین کیا جا سکے۔
    ‎ترجمان کے مطابق فی الحال پولیس اہلکار کی موت کی وجہ کے بارے میں کوئی حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا گیا۔ تفتیشی ٹیم مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے اور واقعے کے تمام ممکنہ محرکات کی تحقیقات جاری ہیں۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک تجزیے اور دیگر شواہد کی روشنی میں مزید پیش رفت کی جائے گی۔ حکام نے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر سے متعلق تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔

  • 
راولپنڈی: پانچ ماہ پرانا اندھا قتل حل، مقتول کی اہلیہ اور ساتھی گرفتار

    
راولپنڈی: پانچ ماہ پرانا اندھا قتل حل، مقتول کی اہلیہ اور ساتھی گرفتار

    ‎راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی پولیس نے مؤثر تفتیش کے بعد پانچ ماہ قبل پیش آنے والے ایک اندھے قتل کا معمہ حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے مقتول کی اہلیہ اور اس کے مبینہ ساتھی کو گرفتار کر لیا ہے۔
    ‎پولیس ترجمان کے مطابق چند ماہ قبل فیصل نامی شہری کی لاش ایک ویران علاقے سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد صدر بیرونی پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کیا۔ پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کیے جبکہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹس کی مدد سے تفتیش کو آگے بڑھایا۔
    ‎تحقیقات کے دوران پولیس نے مقتول کی اہلیہ کو بھی شامل تفتیش کیا۔ حکام کے مطابق مسلسل پوچھ گچھ، فرانزک شواہد اور دیگر معلومات کی روشنی میں خاتون نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اس نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر شوہر کو پہلے زہر دیا، پھر گلا دبا کر قتل کیا اور بعد ازاں لاش کو ویرانے میں پھینک دیا تاکہ واردات کو چھپایا جا سکے۔
    ‎پولیس کے مطابق ملزمان کی نشاندہی پر واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کر لی گئی ہے، جبکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ مقدمے کو مضبوط بنایا جا سکے۔
    ‎ایس پی صدر انعم شیر نے کہا کہ مقدمے کی تفتیش مکمل شفافیت کے ساتھ کی گئی ہے اور گرفتار ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ انہیں قانون کے مطابق سزا دلائی جا سکے۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور اگر دورانِ تحقیقات مزید افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ عدالت میں جرم ثابت ہونے یا نہ ہونے کا حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔

  • فٹبال میچ میں جھگڑا، بیچ بچاؤ کرانے والی خاتون ریفری زخمی

    فٹبال میچ میں جھگڑا، بیچ بچاؤ کرانے والی خاتون ریفری زخمی

    ‎فرانسیسی کلب میٹز اور نیدرلینڈز کے کلب فارچیونا اسٹارڈ کے درمیان کھیلے گئے دوستانہ فٹبال میچ کے دوران کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے میں مداخلت کرنے والی خاتون ریفری زخمی ہو گئیں۔
    ‎میڈیا رپورٹس کے مطابق میچ کے 40ویں منٹ میں ایک کھلاڑی کی جانب سے مخالف کھلاڑی کی جرسی کھینچنے پر دونوں ٹیموں کے کھلاڑی آمنے سامنے آ گئے۔ ابتدا میں تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے دھکم پیل اور جھگڑے میں تبدیل ہو گئی، جبکہ دونوں ٹیموں کے دیگر کھلاڑی بھی تنازع میں شامل ہو گئے۔
    ‎صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے 26 سالہ خاتون ریفری میتھلڈ ڈیمونکے فوری طور پر کھلاڑیوں کے درمیان پہنچیں اور جھگڑا ختم کرانے کی کوشش کی۔ تاہم ہجوم اور دھکم پیل کے دوران وہ توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور زمین پر گر گئیں، جس کے باعث انہیں چوٹ آئی۔
    ‎واقعے کے بعد میچ میں کچھ دیر کے لیے کھیل روک دیا گیا، جبکہ ریفری کی خیریت دریافت کی گئی۔ ابتدائی طبی امداد فراہم کیے جانے کے بعد وہ دوبارہ کھڑی ہو گئیں اور میچ کے انتظامات سنبھالے۔ رپورٹس کے مطابق ان کی چوٹ زیادہ سنگین نہیں تھی۔
    ‎اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہوئیں، جہاں فٹبال شائقین نے خاتون ریفری کے پیشہ ورانہ انداز اور ہمت کو سراہا۔ کھیلوں کے مبصرین کا کہنا ہے کہ میدان میں نظم و ضبط برقرار رکھنا ریفری کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے، تاہم ایسے تنازعات میں ان کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
    ‎یہ دوستانہ میچ اگرچہ مقابلے کی تیاری کے لیے کھیلا جا رہا تھا، لیکن کھلاڑیوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے کھیل کے ماحول کو متاثر کیا۔ منتظمین کی جانب سے واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ ایسے حالات سے بچنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔

  • 
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی اپنی ہی فوج کی فائرنگ سے ہلاک

    
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی اپنی ہی فوج کی فائرنگ سے ہلاک

    ‎مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی فوجی اپنی ہی فوج کی فائرنگ کا نشانہ بن کر ہلاک ہو گیا۔ اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کانکے مطابق یہ واقعہ جمعے کے روز پیش آیا، جس میں اسرائیلی فوجی یووال عذرا فرینڈلی فائر کے واقعے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی فوج مغربی کنارے میں کارروائیاں کر رہی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آپریشن کے دوران غلطی سے اپنی ہی فوج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ میں یووال عذرا ہلاک ہو گیا۔ تاہم واقعے کی مکمل وجوہات اور حالات کے بارے میں اسرائیلی حکام نے تفصیلات جاری نہیں کیں۔
    ‎اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فرینڈلی فائر کا واقعہ کن حالات میں پیش آیا اور آیا اس میں آپریشنل غلطی یا رابطے میں کسی قسم کی کوتاہی شامل تھی۔
    ‎رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فوجی کی ہلاکت کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ اسرائیلی فورسز نے مختلف علاقوں میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں، جبکہ علاقے میں پہلے سے جاری تناؤ کے باعث حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
    ‎مغربی کنارے میں گزشتہ کئی ماہ سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں، فلسطینی مزاحمت اور آبادکاروں کے حملوں کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔ حالیہ واقعے نے ایک بار پھر علاقے کی نازک سکیورٹی صورتحال کو نمایاں کر دیا ہے، جہاں معمولی واقعات بھی بڑے تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔
    ‎تاحال اسرائیلی فوج کی جانب سے واقعے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری نہیں کی گئی، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد مزید معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں گی

  • 
عراق سے سعودی عرب پر ڈرون حملہ ناکام، فضائی دفاع نے متعدد ڈرون تباہ کر دیے

    
عراق سے سعودی عرب پر ڈرون حملہ ناکام، فضائی دفاع نے متعدد ڈرون تباہ کر دیے

    ‎سعودی عرب کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران عراق کی جانب سے آنے والے متعدد ڈرونز کو تباہ کر دیا۔ حکام کے مطابق ان ڈرونز کا ہدف سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع تیل کی تنصیبات تھیں، تاہم تمام ڈرونز کو بروقت نشانہ بنا کر حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
    ‎وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور ان میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے ان کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی اور قومی تنصیبات کے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
    ‎ترجمان کے مطابق مملکت اپنی دفاعی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور مناسب وقت، مقام اور حالات کے مطابق جواب دینے کا حق بھی محفوظ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ایسے حملوں کو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ سمجھتا ہے۔
    ‎دوسری جانب یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب میں آرامکو کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی دونوں فریقوں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں کی گئی، تاہم سعودی وزارت دفاع کا مؤقف ہے کہ حملے عراق کی سرزمین سے کیے گئے۔
    ‎تاحال عراقی حکومت کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ایران نے بھی سعودی الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اس دوران خطے میں سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔