Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اور زندگی کا تمام بجٹ ہم نے موت پر لگا دیا

    اور زندگی کا تمام بجٹ ہم نے موت پر لگا دیا

    آج 14 اگست ہے اور آج ہی کے دن اٹیمی طاقت رکھنے والا ہمارا ملک پاکستان آزاد ہوا تھا۔ زندگیوں کو بچانے کےلیے حاصل کیے گئے ملک میں بدقسمتی سے سارا بجٹ موت پر لگ رہا ہے۔ ہمارے پاس کیا کیا نہیں ہے، گولی، بندوق، بارود اور اٹیم بم، موت کا سب سامان ہے، بس ہے نہیں تو زندگی بچانے کے لیے کچھ نہیں۔ اور یہی حال ہمارے پڑوسی ملک بھارت کا بھی ہے۔ اس حال کے یہ شاید دونوں ہی زمہ دار ہیں۔
    جب کورونا نے زندگی کا امتحان لیا تو ان دونوں ایٹمی پڑوسی ملکوں کے پاس نہ آکسیجن سیلینڈرز تھے اور نہ وینٹی لیٹرز، مگر دونوں ممالک کی نصابی کتب ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی داستانوں سے بھری پڑی ہیں۔
    ہمارے ہسپتالوں کی حالت ایسی ہے کہ انکو خود ابھی علاج کی ضرورت ہے۔صحت ہے تو جہاں ہے،مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اس شعبے کی حالت زار پر رونا آتا ہے۔ پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقہ جات میں جہاں دیگر سہولیات کی قلت تو ہے ہی مگر وہاں پر طبی سہولیات کی یہ حالت ہے کہ دوران زچگی خواتین اور نومولود بچوں کی اموات ہوجاتی ہیں۔ مگر اس کے باوجود ہم کبھی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ ہم اپنی زندگیوں کا بجٹ صرف موت بنانے کے لیے صرف کر رہے ہیں۔

    جان لیوا ان حادثات کے بعد بھی سانحہ تو یہ ہے کہ ہم موت کے تابڑ توڑ حملوں کے باوجود ایک دوسرے پر الزام لگانے میں مصروف ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں کافر قرار دینے کے سرٹیفیکیٹس بانٹنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ دنیا میں کورونا جیسی مہلک وبا آنے کے بعد جب تمام ممالک اسکے علاج کا سوچ رہے تھے تو تب ہم اس لڑائی میں الجھے پڑے تھے کہ کورونا اہل تشیعوں نے پھیلایا ہے۔جب کہ دوسرا گروہ یہ الزام تبلیغی جماعت پر دھر رہا تھا۔ اور پھر ہم نے اسی ضد میں خوب چلے لگائے خوب جلوس نکالے۔

    اس مارا ماری اور زورا زوری کا نتیجہ کورونا کی تیسری اور زیادہ خطرناک لہر کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ مسجد کے سپیکرز ، میڈیا کی خبریں اور سوشل میڈیا کی ٹائم لائنز ہر وقت موت کا اعلان کرتی نظر آتی ہیں۔ مگر اس سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ اب بھی ہم میں سے بیشتر کورونا کے انکاری ہیں۔

    اعجاز الحق عثمانی
    @EjazulhaqUsmani

  • پاکستان سے اِک مُلاقات                            تحریر : صائم علی

    پاکستان سے اِک مُلاقات تحریر : صائم علی

    آج مجھے اس سے ملنے کو اتفاق ہوا۔ وہ معمول سے زیادہ خوش و پر جوش تھا اور اسکا چہرا نورانی کرنوں سے یوں منور و جگمگا رہا تھا کہ جیسے عید کا سماں ہو۔ مگر جہاں اک طرف اس کے چہرے سے مسرت بھرے تاثرات نمایاں تھے تو دوسری جانب اس کا جسم پہلے سے کہیں ناتواں اور کمزور دکھائی دیتا تھا اور اس کے چہرے کی جھریوں سے صاف ظاہر تھاکہ وہ بہت لمبے سفر کی مسافت طے کر چکا ہے ۔ میں اس پر جوشی اور ناتوانی کے امتزاج کو سمجھ نہ سکا اور اسی تشویش میں ، میں اس سے ہمکلام ہو کر اس کے اس غیر معمولی امتزاج کا سوال کر بیٹھا ۔ اس نے اک محبت بھری نگاه میری طرف ڈالی اور مجھ سے یوں گفتگو کر نے لگ گیا کہ مجھے یوں لگا کہ جیسے کوئی مالی اپنے باغیچے کے اک گُل کو اپنی محبت بھری نگاہ ڈالتے ہوئے پانی سے سینچنے میں مصروف ہوگیا ہو۔ خوشی اور چہرے کے نور کی وجہ اس نے بتائی کہ آج کے دن میرے اپنوں نے اپنی جدوجہد ، جان ، مال کی قربانی اور نظریے کی بدولت مجھے آزادی دلوائی تھی ۔ اور آج کے دن میرا نام پاکستان پوری دنیا کے نقشے پر رقم کر دیا گیا تھا۔ میں نے مزید سوال کرتے ہوئے عرض کی کہ آزادی سے آپ کا کیا مطلب ہے ؟ اس نے مسکراتے ہوئے پُر نور چہرے سے کہا آزادی سے مراد سوچ کی آزادی ، آزادی سے مراد خوف سے آزادی، آزادی سے مراد قید سے آزادی ، آزادی سے مراد غلامی سے آزادی مختصراً آزادی سے مراد آزادی سے زندگی بسر کر نے کی آزادی ۔ اس کے بعد اس نے اپنے چہرے پر نمایاں نور کی وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ یہ نور نشانی ہے اس فخر کی جو مجھے ان لوگوں پر ہے جنھوں نے میرے لیے اپنی جانوں کی بھی پرواہ نہ کی ۔ یہ نور ان کے دم سے ہے جو میری ترقی کو اپنی ترقی میری عزت کو اپنی عزت، میری مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھ کر مجھ سے لے پناہ محبت کر تے ہیں ۔ یہ سب باتیں سن کر میں اس کی ناتوانی کی وجہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی جب میں نے یہ پوچھا تو جیسے اس کی آنکھوں میں نمی سی آگئی ۔ ۔ اور مجھ سے آنکھیں چراتے ہوئے بولا یہ ناتوانی ان کی بدولت ہے جنوں نے مجھ سے نفرت کی آڑ میں مجھے بہت نقصان پہنچایا، یہ ناتوانی ان لوگوں کی نشانی ہے جو صرف باتوں تک ہی مجھے اپنا خیال کرتے ہیں اور خود کی حالت زار کا ہمیشہ مجھے ہی قصوروار ٹھہراتے ہیں ان کے ان جملوں سے میری ناتوانی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے پھر اچانک اسکی آنکھوں کی نمی چمک میں بدل گئی اور وہ ولولہ انگیز لہجے میں بولا مگر یہ ناتوانی میرے چہرے کے اس نو راور پر جوشی جو مجھے محبت کر نے والوں سے ملتی ہے کے سامنے کچھ بھی نہیں اگر یہ محبت مجھے اسی طرح ملتی رہی تو مجھے یقین ہے کہ میں اس ناتوانی کو بھی شکست دے دوں گا اور مجھے اس بات کا یقین ہے کہ مجھ سے حقیقی محبت کر نے والے مجھے کبھی فنا نہیں ہونے دیں گے۔
    @Chaxhmixh ٹوئٹر

  • بدلے گی سوچ تو بدلے گا پاکستان تحریر :شمسہ بتول

    بدلے گی سوچ تو بدلے گا پاکستان تحریر :شمسہ بتول

    ہماری سوچ ہمارے اردگرد کے لوگوں پر اور معاشرے پر اثرات مرتب کرتی ہے۔ ہمارے اعمال ہماری سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ سوچ دو طرح کی ہوتی ہے ایک مثبت سوچ اور ایک منفی سوچ۔ منفی سوچ ہمارا کلچر بن چکی ہے۔ ایک منفی سوچ معاشرے پر منفی اثرات چھوڑتی ہے جب کہ مثبت سوچ صحت مند اور مہذب معاشرے کی ضمانت ہے۔ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجاۓ ایک دوسرے کی حوصلہ افزاٸی کریں تا کہ معاشرے کے تمام افراد میں خود اعتمادی کی فضاء قاٸم ہو۔
    ہمارے ہاں سکول ،کالجز اور یونیورسیٹیز میں بچوں کو کتابیں تو رٹاٸی جاتی ہیں مگر انہیں زندگی کے اصول اور انکا معاشرے کی ترقی میں کردار سے بلکل بھی آگاہ نہیں کیا جاتا۔ بچوں کو تعلیمی اداروں میں یہ تو بتایا جاتا کہ اگر پڑھو گے نہیں تو پچھلی کلاس میں واپس بھیج دیں گے لیکن اس بچے کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ آپ کو علم حاصل کرنا ہے کیونکہ علم آپ کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتا ہے تا کہ آپ اس قوم کی ترقی میں اپنا کردار اداکر سکو۔ ہمارے ہاں تربیت کا نظام بہت ناقص ہے۔ جیسا کہ ہم پاکستان کی سڑکوں پر کوڑا پھنکنا اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ جو چاہے کرو جہاں چاہے کچرا پھینکو خاکروب کا کام ہے کہ وہ صفاٸی کرے کیونکہ انہیں تنخواہ دی جاتی ہے اور اگر اس فضول قسم کی سوچ کو دوسروں تک پھیلانے کی بجاۓ مثبت پیغام دیا جاۓ کہ پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم سب کو اسکی صاف صفاٸی کا خیال رکھنا ہے کوڑا کرکٹ کوڑے دان میں ڈالنا ہے نہ کہ سڑکوں پہ پھینک کر اپنی جہالت کا ثبوت دینا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ پڑھے لکھے لوگ کوڑا کرکٹ پھیلا رہے ہوتے اور ان پڑھ لوگ صاف کر رہے ہوتے اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم ڈگری یافتہ تو ہیں مگر تعلیم یافتہ نہیں ۔ہمارا معاشرہ اس طرح کے سینکڑوں واقعات سے بھرا پڑا ہے مثال کے طورپر ایک بچہ جو کہ اپنی والدہ کا ہاتھ پکڑے سکول سے نکلتا ہے اور اس کی والدہ اسے ایک خاکروب کی طرف اشارہ کرتے ہوے بتاتی ہے کےبیٹا دیکھو تم تعلیم حاصل کرو ورنہ اسکی طرح تم بھی خاکروب بن جاٶ گے اور بچہ اس طرح یہ تاثر لیتا ہے کہ یہ بہت ہی حقیر اور کم تر ہے جبکہ یہ لوگ بھی اس معاشرے میں وہی مقام رکھتے ہیں جو کہ ہمارا ہے بلکہ یہ تو زیادہ قابل احترام ہیں جو کہ ہمارا پھیلایا ہوا کوڑا کرکٹ صاف کرتے ہیں اور اس طرح وہ اس سے ناروا سلوک کرے گا جو کہ ایک مہذب معاشرے کے فرد کو زیب نہیں دیتا لیکن اگر وہی ماں بچے سے یہ کہے کہ بیٹا تم دل لگا کر پڑھو تا کہ تم معاشرے کے ان افراد کی بہتری کے لیے کام کر سکو اس طرح اس بچے کے اندر معاشرے کے ان افراد کے لیے محبت اور ہمدردی کا جزبہ پیدا ہو گا اور دوسرے کا
    احساس جو کہ ماحول کو خشگوار بناتا ہے۔ کوٸی بھی معاشرہ وہاں کے رہنے والے لوگوں سے مل کر بنتا ہے چاہے وہ کوٸی خاکروب ہو یا کلرک ہو یا کسی ادارے میں آفیسر ہو ہمیں ہر ایک کو عزت دینا ہو گی کیوں ہر فرد ہی ملت کے مقدر کا ستارہ ہے چاہے وہ کوٸی ریڑھی بان ہی کیوں نہ ہو۔ مگر ہمارے ہاں منفی سوچ اس قدر پروان چڑھ چکی ہے کہ ہم صحیح باتوں کا بھی غلط مطلب نکالنے لگتے اور دوسروں کو عزت دینا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اور پھر ایک دوسرے سے ناروا سلوک کرنا اور اخلاق و تہذیب کی حدوں کو پار کر دینا ہمارے معاشرے میں بے سکونی کی فضاء پیدا کر رہا ہے۔ہمیں اس منفی سوچ سے باہر نکلنا ہو گا کیونکہ منفی سوچ ایک خطرناک زہر ہے جو معاشرے کے افراد کی تباہی کا سبب بنتی ہے ۔ جب ہماری سوچ منفی ہو گی تو ہمارا عمل بھی منفی ہو گا جس سے ہمارے ارد گرد کے لوگ متاثر ہونگے۔ ہمیں اپنے ذہنوں کو بدلنا ہو گا ایک دوسرے کو حقیر پن کی نگاہ سے دیکھنے کی بجاۓ اپنے اندر مثبت خیالات کو جگہ دینی ہو گی۔ بچے اس قوم کا روشن مستقبل ہیں اس لیے ایسے الفاظ کا چناٶ کریں جو انہیں معاشرے کے لیے اور اس کے افراد کے لیے سود مند بنا سکیں۔ مثبت سوچ کسی بھی کتاب میں نہیں پڑھاٸی جاتی بلکہ یہ تو ہمارے رویوں اور اخلاقیات سے پیدا ہوتی اور ان الفاظ سے ظاہر ہوتی جن کا ہم انتخاب کرتے۔ ہمارے ہاں تو والدین بچوں کو یہ سکھاتے کہ پڑھو گے نہیں تو فیل ہو جاٶگے لوگ مذاق بناٸیں گے اچھی جاب نہیں ملے گی وغیرہ وغیرہ اور اس جیسی اور بہت سی دوسری دھمکیاں اوراس طرح بچہ پڑھائی کا مثبت تاثرلینے کی بجاۓ اسے کوٸی بہت بڑا پہاڑ سمجھنے لگتا اور پھر آہستہ آہستہ پڑھائی کے متعلق اس کی سوچ منفی رو اختیارکر جاتی تو ان سب الفاظ کی بجاۓ اگر مثبت الفاظ کا چناٶ کیا جاۓ جیسے کہ بیٹا آپ اس قوم کا مستقبل ہو اگر آپ تعلیم حاصل کرتے ہو تو آنے والے دور میں آپ ملک کی فلاح و بہبود میں بہتر طور پر اپنا کردار ادا کر سکو گے اور معاشرے کےایک اچھے فرد ثابت ہو گے ۔ اس لیے مہربانی فرما کر اس قوم کےمستقبل کو اپنی منفی سوچ کی نظرنہ کریں اچھا سوچیں اور اچھا عمل کریں اور معاشرے کے تمام فرد کو عزت کی نگاہ سےدیکھیں کیونکہ کے ہر فرد اس معاشرے کی ترقی میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہا ہےچاہے ۔ منفی سوچ پر قابو رکھنا اور مثبت سوچ کو اپنانا ہمارے اپنے اختیار میں مگر افسوس کے ہم اس کے لیے کوشش نہیں کرتے ۔اگر ہمیں ایک ترقی یافتہ اورمہذب معاشرہ تشکیل دینا ہے تو ہمیں حقیقی معنوں میں اس کے لیے کوشش کرنا ہو گی اپنی منفی سوچوں کو ختم کرنا ہو گا کیونکہ اگرسوچ مثبت ہو گی تو ہمارا رویہ بھی مثبت ہو گا اور مثبت رویہ معاشرے پر اور اس کے افرادپر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے😌

    @b786_s

  • گھر کے بزرگ رحمت سے کم نہیں ہیں  تحریر: زاہد کبدانی

    گھر کے بزرگ رحمت سے کم نہیں ہیں تحریر: زاہد کبدانی

    دادا دادی خدا کی نعمتیں ہیں جو ناقابل تلافی ہیں۔ وہ بھیس میں فرشتے ہیں جو ہمیشہ اپنے بچوں اور نواسوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت بدل رہا ہے ، لوگ اپنی روایت سے رابطہ کھو رہے ہیں۔ اسی طرح ، لوگ دادا دادی کی اہمیت کا ادراک نہیں کر رہے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کس طرح ان کے ساتھ بدسلوکی کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ کچھ معاملات میں ہوتا ہے ، زیادہ تر معاملات میں لوگ اپنے دادا دادی سے محبت کرتے ہیں۔
    آپ کسی بچے سے پوچھتے ہیں کہ کون ان کو سب سے زیادہ پیام کرتا ہے ، ان میں سے بیشتر اپنے دادا دادی کے جواب میں جواب دیں گے۔ اسی طرح ، دادا دادی کے لئے ، وہ اپنے پوتے پوتیوں سے پیار کرتے ہیں۔ وہ ہم سے غیر مشروط محبت کرتے ہیں اور ہمیں لامتناہی لاڈ دیتے ہیں۔ تاہم ، وہ ہماری غلطیوں کو بھی درست کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ہمیں ڈانٹتے ہیں۔ اس طرح ، ہم دیکھتے ہیں کہ دادا دادی کتنی بڑی نعمتیں ہیں ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا۔

    دادا دادی حقیقی نعمتیں ہیں۔
    دادا دادی واقعی ہماری زندگی میں ایک نعمت ہیں۔ وہ وہی ہیں جنہوں نے ہمارے والدین کو ان جیسا بنایا ہے۔ یہ ان کی پرورش کی وجہ سے ہے کہ ہمارے والدین ہم سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اسی طرح ہماری دیکھ بھال کرتے ہیں جس طرح ہمارے دادا دادی جب وہ بچے تھے۔ مزید یہ کہ دادا دادی آپ کا سپورٹ سسٹم ہیں۔ وہ بعض اوقات صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو آپ کا ساتھ دیتے ہیں چاہے ہمارے والدین ایسا نہ کریں۔
    ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ دادا دادی ہماری صلاحیتوں اور صلاحیتوں کے سچے ماننے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیں اپنے خوابوں کے تعاقب پر مجبور کرتے ہیں جب دنیا ہمیں نیچے رکھتی ہے۔ اگرچہ ہمارے کچھ خواب ان کے لیے معنی نہیں رکھتے ، پھر بھی ، وہ اب بھی ہم پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ ہمارے اعتماد کو بڑھاتے ہیں اور ہمیں بہتر کارکردگی دکھانے کی اجازت دیتے ہیں۔

    مزید برآں ، دادا دادی ایک اہم وجوہات میں سے ایک ہیں کیوں کہ ہم محفوظ اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں یہاں تک کہ اگر ہم اپنے دادا دادی کے ساتھ نہیں رہتے ، وہ ہمیشہ ہمارے لیے دعا کرتے رہتے ہیں۔ وہ ہماری تلاش کر رہے ہیں۔ تقریبا ہر ایک کی محفوظ جگہ ان کے دادا دادی کا گھر ہے۔ ہمارے پاس پرسکون اور سکون کا احساس ہے یہ جانتے ہوئے کہ ضرورت پڑنے پر ہم ہمیشہ اپنے دادا دادی کے گھر جا سکتے ہیں۔

    اس طرح ، ہم دیکھتے ہیں کہ دادا دادی بھیس میں برکت ہیں۔ وہ بہت سارے طریقوں سے ہماری مدد کرتے ہیں ، جن میں سے کچھ کا ہمیں احساس تک نہیں۔ جو خوش قسمت ہیں وہ دادا دادی ہیں یقینا ان کی قدر جانتے ہیں۔
    میرے دادا دادی
    میں خوش قسمت تھا کہ اپنے دادا کے گھر میں بڑا ہوا۔ ہمارا خاندان میرے دادا دادی کے ساتھ رہتا تھا جب سے میں چھوٹا تھا۔ جیسا کہ میرے دادا کا انتقال ہوا جب میں بہت چھوٹا تھا ، مجھے صرف ان کی چند یادیں یاد ہیں۔ ایک بات جو مجھے یقینی طور پر یاد ہے وہ یہ ہے کہ وہ روزانہ دو بار اپنے دانت صاف کرتا تھا۔ میں نے یہ عادت اپنائی اور جب سے میں یہی کر رہا ہوں۔

    میرے دادا دادی میرے حقیقی نظام سپورٹ رہے ہیں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میں ایسے متاثر کن لوگوں کے گرد بڑا ہوا ہوں۔ میرے دادا ایک کالج کے پرنسپل تھے ، اس لیے انہوں نے ہمیشہ تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ اس نے ہمارے ہوم ورک میں ہماری مدد کی جب میرے والدین دستیاب نہیں تھے۔ میں نے اپنی چھٹیاں ان کی جگہ پر گزاریں کیونکہ میں نے ان کے ساتھ رہنا پسند کیا۔

    اسی طرح میرے دادا دادی نے ہمیشہ کھلے بازوؤں سے مجھے گلے لگایا۔ وہ ہماری آمد کے لیے ہر چھٹی کا انتظار کرتے تھے۔ میری دادی نے مزیدار اچار اور کھانا بنایا جس سے ہم بہت خوش ہوئے۔ اس نے مجھے کچھ ترکیبیں بھی سکھائیں اور تجاویز اور چالیں جو آج بھی بہت کارآمد ہیں۔ میں صرف اپنے دادا دادی کو اپنے اور اپنے والدین میں اچھی اقدار پیدا کرنے اور ہمیں بڑھنے کے لیے محفوظ جگہ دینے کے لیے پسند کرتا ہوں۔

    @Z_Kubdani

  • پاکستان کا مطلب کیا… تحریر… ڈاکٹر ذکاءاللہ

    پاکستان کا مطلب کیا… تحریر… ڈاکٹر ذکاءاللہ

    ‏1947ء سعادت حسن منٹو جب اپنی فیملی کے ساتھ بمبئی سے کراچی پہنچا۔
    تو لاہور کیلیے ریلوے ٹکٹ بُکنگ رش کی وجہ سے کئی کئی دنوں بعد کی ہو رہی تھی! منٹو نے کلرک کو رشوت دینا چاہی! تو اُس نے منٹو سے کہا
    "بھائی صاحب! پاکستان بَن گیا ہے اَب یہاں یہ کام نہیں چلے گا”
    آئیں آج ہم اَپنی تاریخ‏ میں 74 سال پیچھے جائیں اور اَپنی آزادی کے سفر کا آغاز کراچی کے اُس ریلوے بُکنگ کلرک سے کریں

    ہمیں سکول میں اکثر باور کرایا جاتا تھا کہ پاکستان کلمے کے نام پر معرض وجود میں آیا ھے
    پاکستان بنانے کیلیے بہت سی تحریکیں بناییں گییں ان تحریکوں کو بہت سخت مسایل کا سامنا بھی کرنا پڑا
    شروعات میں مسلمانوں کیلیے ایک علیحدہ ریاست برصغیر میں بنانے کی تحریک شروع ھویی جس میں اکثر مسلمان اس تحریک میں بڑھ چڑھ شریک ھوے تمام مکتب فکر کے مسلمانوں نے ایک علیحدہ ریاست بنانے کیلیے اپنے اپنے لحاظ سے جتنا ممکن ھو سکا اس تحریک میں حصہ لیا جو مسلمان جو کچھ مالی کے طور پر دے سکتے تھے انہوں نے ہر ممکن کوشش کی اور اس تحریک کو کامیاب کرایا
    اس تحریک نے چند ھی سالوں میں پوری دنیا میں اور بالخصوص انگریز حکومت جو اس وقت برصغیر پر برسراقتدار تھی کو اپنی کامیابی سے ان کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی
    قایداعظم محمد علی جناح باباے قوم جس نے اپنے تمام موجود لیڈروں کو جو اس وقت ایک علیحدہ اسلامی ملک کیلیے اس تحریک میں شامل تھے ان سے صلاح مشورے کے بعد اپنی سیاسی جماعت جو تمام مسلمانوں کیلیے برصغیر میں وجود میں آیی اس سیاسی پارٹی کا نام مسلم لیگ رکھا گیا
    مسلمانوں کی تمام قیادت جو اس وقت انگریزوں کی گرفت میں تھی جن کے اوپر انگریز کا قانون چلتا تھا اب ایک نیی ریاست کیلیے اٹھ کھڑے ھوے ھماری مسلمان خواتین بھی اپنے مردوں سے پیچھے نہیں تھیں مادر ملت فاطمہ جناح کی سربراھی میں تمام سرکردہ خواتین نے اپنی طرف سے اس ریاست کی تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا ان خواتین قیادت نے گھر گھر جاکر نیی اسلامی ریاست کیلیے تمام مسلمان خواتین کو دعوت دی اور اس تحریک کا حصہ بنوایا
    ھمارے نوجوانوں نے سکول کالجز اور یونیورسٹیز میں بھی اس تحریک کیلیے سیمینار شروع کردییے جس سے عام مسلمان نوجونوں میں بھی اس تحریک کیلیے شعور بیدار ھوا
    دور دراز کے مسلمانوں تک پہنچنے کیلیے اور اس ریاست میں شامل ھونے کیلیے گروپ بناے گیے جو مسلم لیگ کی قیادت کا پیغام ان مسلمانوں تک پہنچاتے تھے
    تقریبا دس سال کے کم ترین عرصے میں مسلم لیگ برصغیر میں ایک بہت بڑی سیاسی پارٹی بن گیی جس کی واحد خواہش مسلمانوں کیلیے ایک علیحدہ ریاست تھی
    ہر سال بعد اس تحریک میں تعداد بڑھتی گیی اور مسلمان جوق در جوق مسلم لیگ کے ہر کنونشن اور جلسوں میں شامل ھونے لگے
    جس سے مسلم لیگ کی پوزیشن دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ھوتی گیی
    اس پارٹی کا واحد مقصد ایک علیحدہ ریاست تھی الیکشن میں کامیابی کے باوجود اس تحریک نے ایک اسلامی ریاست کی تگ ودو شروع رکھی
    اس اسلامی ریاست کیلیے جب اجلاس ھوا تو اس پیارے ملک کا نام پاکستان تجویز کیا گیا
    اس ملک کیلیے لاکھوں مسلمانوں نے اپنے خون سے بنیاد رکھی لاکھوں عورتوں کی بےحرمتی کی گیی لاکھوں سے زیادتی کی گییں ہزاروں عورتوں نے اپنی عزت بچانے کی خاطر گہرے کنووں میں کود کر اپنی جان گنوا دی لاکھوں بچے قتل ھوے
    مسلمان جو باڈر کے اس پار یعنی موجودہ بھارت میں رہتے تھے اپنے تمام اثآثے جاییدادیں اس ملک کیلیے وھاں چھوڑ دیں
    اور
    خوشی خوشی اس ملک کیلیے سفر شروع کیا تو ان پر رستے میں ظلم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے
    ان کو چلتی ٹرین پر قتل کیا گیا ان کو لوٹا گیا
    لیکن
    آفرین ان غیرت مند مسلمانوں پر جنہوں نے پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا
    آج
    ھم جس پاکستان میں سکون سے زندگی بسر کررھے ہیں وہ صرف اور صرف ان مسلمانوں کی لازوال قربانیوں کی وجہ سے ممکن ھوا ھے
    آج حالت یہ ھے کہ ھمارے ملک کا انصاف کا نظام تقریبا ختم ھوچکا ھے دنیا میں انصاف کے لحاظ سے پاکستان125ویں نمبر پر ھے
    ایک اسلامی ملک جو کلمے طیب کے نام پر معرض وجود میں آیا جس کی بنیاد کیلیے لاکھوں مسلمانوں نے اپنے خون سےرکھی اب وھاں انصاف نام کی کویی چیز نہیں ھے
    رشوت کے بغیر آپ کسی ادارے میں اپنا جایز کام بھی حل نہیں کرا سکتے
    کیا اس لیے یہ ریاست معرض وجود میں آیی.
    …نہیں..
    اس ریاست میں وھی قانون لاگو تھے جو ریاست مدینہ میں بھی لاگو تھے
    اقلیت اور اکثریت سب کیلیے ایک قانون تھا
    اللہ پاک اپنے محبوب مُحَمَّد ﷺ کے صدقے ان مسلمان مرد و عورت کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرماے جنہوں نے اس ملک کیلیے اپنے جان ومال کا نقصان اٹھایا.. آمین

    لیکن پھر غدار وطن اور کرپٹ ٹولوں نے اس پاک دھرتی کو نوچ ڈالا اللہ پاک انہیں برباد کرے جنہوں نے اس ملک کو نقصان پہنچایا اور لوٹا ھے..
    اللہ پاک اس پیارے ملک کو ہمیشہ قایم و دایم رکھے آمین
    اور
    اس ملک کے دشمن نیست و نابود ھو جاییں

  • یومِ آزادی اور ہم تحریر عبید الله

    یومِ آزادی اور ہم تحریر عبید الله

    آج آنکھ کھلی تو گلی میں عجب شور شرابہ اور قہقہوں کی آواز سنائی دی پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آج یومِ آزادی منایا جا رہا ہے یہ سن کر میں سکتے میں آگیا کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس قدر مصروف ہوگئے کہ ہمیں اپنا آزادی کا دن یاد نہیں جو کہ ہمیں پتہ نہیں کتنی قربانیوں سے نصیب ہوا۔ ابھی میں انہیں سوچوں میں گُم تھا کہ وقت نے میرا ہاتھ پکڑا اور 14 اگست 1947 کے دن لا کھڑا کیا تو یہاں ایک الگ دنیا دیکھنے کو ملی ایک طرف دیکھا تو عورتیں شکرانے کے نوافل ادا کرنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف بزرگوں کو فکر مند دیکھا کہ جیسے وہ کسی طوفان کی آمد اور نقصان سے پیشگی با خبر ہیں۔ ابھی میں انہیں فکر مند دیکھ رہا تھا کہ اچانک رات کی تاریکی کو ایک پر سوز نسوانی آواز نے چیرا اور اس کے ساتھ ہی کچھ نوجوان ہاتھوں میں ڈنڈے تو کچھ نہتے گلی کو بھاگے، کچھ دیر بعد ایک نوجوان نے بری خبر سنائی کہ چاچے نورے کی بیٹی کو کافروں نے عصمت دری کے بعد قتل کر دیا ہے۔ یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور بزرگوں کی خاموشی موت کی خاموشی میں بدل گئی۔ گو کہ یہ مظالم مسلمانوں کے لیے نئے نہ تھے اور دنگے فساد بھی کافی دن سے شروع تھے لیکن آج آزادی کے اعلان کے بعد ان میں شدت آگئی تھی۔ کافر بھوکے کتوں کی طرح مسلمانوں کو ڈھونڈ کر چیتھڑے کرنے میں مصروف تھے اور ابھی تک یہ واحد مسلم اکثریتی علاقہ محفوظ تھا کیونکہ یہ شہر سے بہت دور ویرانے میں آباد تھا لیکن بد قسمتی سے اس کی بھنک بھی کافروں کو لگ چکی تھی۔ اب کیا تھا کہ نوجوان گلیوں میں پہرہ دینے میں مصروف تھے جدھر سے کوئی آہٹ سنائی دیتی اسی سمت بھاگ پڑتے۔ اس سانحہ کے بعد بزرگوں کی خاموشی سرگوشیوں میں تبدیل ہو گئی، بچوں کی شرارتیں معصومیت میں تبدیل ہو گئیں اور وہ ماؤں کی گودیوں میں سہم کر بیٹھ گئے۔
    دوسری طرف پورا گاؤں ایک دوسرے کو یوں دیکھ رہا تھا کہ جیسے کہ صبح کی روشنی میں ایک دوسرے کو دیکھنا نصیب نہیں ہوگا۔ مائیں اپنی بیٹیوں کو سینے سے لگائے رورہی ہیں تو باپ بیٹوں کا ماتھا چوم کر بہنوں کی عصمتوں کی حفاظت کی قسم لے رہے تھے کہ کچھ کمزور اور با عزت افراد نے صرف اس وجہ سے اپنی بیٹیوں کو ذبح کر دیا یا اندھے کنوئیں میں دھکا دے دیا کہ ان کی بیٹیاں درندگی کا شکار ہو کر بغیر کفن کے دفن نہ ہوں اور کچھ بہادر بیٹیوں نے آگے بڑھ کر موت کو خود گلے لگا لیا صرف اس وجہ سے کہ وہ پاکستان کی جانب ہجرت کے دوران کسی رکاوٹ کا باعث نہ بنیں اور درندگی کا نشانہ بننے کی بجائے عزت کی موت کو ترجیح دی۔ اسی دوران گاؤں کے ایک تاجر کی چیخ سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا کیونکہ اس کی اکلوتی بیٹی نے کنویں میں چھلانگ لگا کر جان دے دی۔اسکے بعد رات کی تاریکی میں پورے گاؤں نے اپنے گھر، مال اور پیاروں کی نعشوں کو بھیگی آنکھوں سے خیر آباد کہا اور اپنے سفر کا آغاز کیا۔ رات کی تاریکی میں ان بے گھر مسافروں پر کہیں سے کوئی مشتعل افراد کی ٹولی حملہ آور ہوتی اور کئی کو زخمی اور شہید کر کے چلے جاتے۔ قافلے میں شامل عورتوں اور لڑکیوں کو عصمت دری کے بعد قتل کر دیتے، دودھ پیتے بچوں کو برچھیوں پر تسبیح کے دانوں کی طرح پرو دیتے۔ ان سب سے بچنے کے لیے وہ لوگ دبے پاؤں چلتے اور بچوں کو سلائے رکھنے کی کوشش میں مصروف رہے تاکہ وہ کافر وں سے اپنی جان محفوظ رکھ پائیں۔ صبح کے سورج نے کیا دیکھا کہ وہ سینکڑوں افراد کا قافلہ صرف چند نفوس کا بچ گیا اورادھر ان کے گاؤں میں ان کے عزیزوں کی نعشیں بغیر کفن کے سورج کی کرنوں کو لپیٹے ہوئے کافروں کومنہ چڑھا رہی تھیں اور بتا رہی تھیں کہ ان کے ناپاک عزائم مسلمانوں کی آزادی کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ ساری رات کا بھوکا پیاسا، تھکا ماندہ چند افراد پر مشتمل یہ قافلہ آخر کار ایک بڑے قافلے کا حصہ بننے میں کامیاب ہو گیا جوکہ کافی علاقوں کے افراد پر مشتمل نوجوانوں کے حصار میں تھا لیکن ان کے حالات بھی مختلف نہ تھے بلکہ یہ بھی لٹاپٹا قافلہ اپنے بہت سارے پیاروں کی نعشوں کو سورج کی بے رحم قرنوں کے حوالے کر آئے تھے۔بلآخرکئ دن کی مشکلات اورمسافت کے بعد جب یہ قافلہ اپنی منزل پر پہنچا تو امدادی کیمپوں میں مقیم افراد نے اپنا غم بھول کر ان کو گلے لگایا تو ایسا منظر آسمان نے دیکھا کہ سورج نے مارے شرم کے منہ چھپا لیا اور بادلوں نے اس بات پر آنسو بہائے کہ کیونکر انسان اپنا غم بھلائے دوسروں کو سہارا دے رہاہے۔ اپنا بیٹا کھوکر دوسرے کے بیٹے کو گلے لگا رہا ہے، اپنا خاندان اپنی آنکھوں کے سامنے ذبح ہوتا دیکھ کر بھی دوسرے خاندان کی خدمت میں لگا ہے شاید اس دن آسمان کو بھی سمجھ آیا ہو گا کہ انسان کو اشرف المخلوقات کیوں بولا گیا۔
    میں ان سب حالات کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک مجھے میرے بھائی نے آں جھنجھوڑا اور واپس آج کے دن میں لے آیا۔ اس نے آزادی کے دن کی مبارکباد دی اور رونے کی وجہ پوچھی، نہ جانے کب سے میری آنکھوں سے غیر محسوس طور پر آنسو نکل رہے تھےاور میں بےخبر اپنی سوچوں میں گم تھا، میں نے اپنے بھائی کے سوال پر آنسو صاف کرتے ہوئے محض مسکرا کر سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ آخر اسے جواب دیتا بھی تو کیا کہ ہمارے آباؤ اجداد نے کس قدر قربانیوں سے آزادی حاصل کی اور ہمارے لیے یہ محض ایک چھٹی کا دن بن کر رہ گیا ہے۔جس دن بچے گھر وں کو جھنڈیوں سے سجاتے ہیں اور نوجوان اپنی بائیک کا سلنسر نکال کر گلیوں میں گھماتے اور تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اگلے دن جھنڈیوں کی گلیوں میں بے حرمتی ہوتی ہےاور نوجوان یا تو اپنی تیز رفتار ی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا پھر کسی سرکاری ہسپتال کے بستر پر ہاتھ پاؤں تُڑواکر زندگی اور موت کے درمیان جھول رہے ہوتے ہیں اور ہمارا ملک آج بھی ترقی کی راہ پر کھڑا ہمارا منتظر ہے۔ ملک ترقی کی راہ پر گامزن تب ہی ہوسکتا ہے جس وقت کہ ہم اس ملک اور آزادی کی اہمیت سمجھ کر اسکےلیے دل و جاں سے محنت کریں گے اور شاید شہداء کی قربانیوں کا تھوڑا سا قرض ادا کر سکیں۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں آزادی جیسی نعمت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
    ا

    @ObaidVirk_717

  • خونی لبرلز بے لگام  تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    خونی لبرلز بے لگام تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    مبشر لقمان اور عمران ریاض خان نے نہ جانے ایسی کونسی خطا کر دی کہ خونی لبرلز کی دُم پر پاؤں آگیا کہ وہ ان دونوں پر چڑھ دوڑے اور ان پر طرح طرح کے زاتی حملے شروع کر دئیے۔
    مگر پاکستان میں پاکستانیت اور اسلامی روایات کے علمبرداروں نے ان خونی لبرلز کی بینڈ بجا دی
    خونی لبرلز بے لگام والا ٹویٹرٹرینڈ مسلسل کئی گھنٹے بیک وقت تین ملکوں پاکستان،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ٹاپ ٹرینڈ رہا۔
    یہ خونی لبرلز وہی ہیں،جنہیں میکڈونلڈ اور کے ایف سی جیسے دیگر کئی ادارے تو نظر نہیں آتے جو روزانہ بے تحاشہ جانور اور مرغیاں مارتے ہیں،مگر عید قرباں پر جب مسلمان سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوۓ جانوروں کی قربانی کرنے لگتے ہیں تو انہیں جانوروں کے حقوق یاد آجاتے ہیں۔
    یہ خونی لبرلز وہی ہیں،جنہیں آوارہ کتوں سے ہونے والی معصوم انسانی ہلاکتیں تو نظرنہیں آتیں،مگر جب ان کتوں کو تلف کرنے کی بات آتی ہے تو،انہیں کتوں کے حقوق ضروریاد آجاتے ہیں۔
    بے شرمی کی انتہا ہے کہ اسلام اور مشرقی روایات کو ہر وقت نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آزادئ راۓ کا اس سے زیادہ ناجائز استعمال ہو ہی نہیں سکتا۔
    یہی لوگ ہیں جو بیرونی فنڈنگ سے ریاستی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔
    حکومت جب انہیں لگام ڈالنے کی بات کرتی ہے تو یہ چیخ اٹھتے ہیں۔
    مبشر لقمان اور عمران ریاض نے جس انداز سے نور مقدم کیس اُٹھایا،
    اسکی مثال نہیں ملتی۔اس پر وہ دونوں لائق داد ہیں۔
    مبشر لقمان نے نور مقدم کے قاتل درندے کو جس طرح بے نقاب کیا،
    اس سے اس درندے اور اسکے حواریوں کی چیخیں آسمان تک سنی گئیں۔
    حتی کہ انہوں نے مبشر لقمان کو قانونی نوٹس تک بھجوا دیا،جس کی نہ صرف اندرون ملک،بلکہ آسٹریلیا،امریکہ اور برطانیہ سمیت بیرون مُلک میں بھی وسیع پیمانے پرشدید مذمت کی گئی۔
    جہاں تک مبشر لقمان کو میں جانتا ہوں،وہ اپنے ماضی کے بے باک ریکارڈ کی بدولت ایک قاتل درندے کو معصوم پرندہ کہنے سے تو رہا۔
    مبشر لقمان اور عمران ریاض نور مقدم کیس میں ایک پیج پر تھے۔
    دونوں نے قاتل کی نہ صرف دل کھول کے شدید اور سخت ترین الفاظ میں مذمت کی بلکہ اسے سرعام پھانسی جیسی سخت سزا بھی تجویز کی
    تاہم ان دونوں نے اس کیس میں نور مقدم کے اس
    Contactکی بات ضرور کی کہ نور مقدم کے ٹیلی فون ریکارڈ کے مطابق اس نے پچھلے کچھ مہینوں میں قاتل ظاہر جعفر سے تو سینکڑوں بار رابطہ کیا،جبکہ اسکا اپنے والدین سے صرف چند بار ہی رابطہ ہوا۔
    یہ نور مقدم کے رہن سہن پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا کہ وہ بغیر شادی کے ایک غیر محرم کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھی۔
    اور یہی غلطی بالاخر اسکی جان بھی لے گئی۔
    مبشر لقمان اور عمران ریاض نے صرف اتنی تلقین کی کہ والدین کو بھی اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں؟
    کہیں یہ سرگرمیاں ان کے لئے جان لیوا تو ثابت نہیں ہوں گی؟
    کہیں اس میں کچھ ایسا تو نہیں ہو رہا جو ہماری معاشرتی اقدار کے خلاف ہے؟
    عمران ریاض نے اپنے ایک وی لاگ میں مبشر لقمان کے اس معاملہ پرسٹینڈ کو نہ صرف سراہا بلکہ اسکی تائید بھی کی۔
    عمران ریاض نے کہا کہ مبشر لقمان نے قطعا” ایسی کوئ بات نہیں کی،جس سے
    Victim blaming
    کا کوئ حلقہ ساشائبہ بھی ملتا ہو۔
    ان باتوں کی سچائ سے کون انکار کر سکتا ہے،
    سواۓ ان مٹھی بھر موم بتی مافیاز کے،جن کی ڈوریں کہیں اور سے ہلتی ہیں۔
    ظاہر ہے وہ تو انہیں کے لئے بھونکیں گے،جن سے انہیں ہڈی ملتی ہے۔
    پاکستان میں رہنے والے 99فیصد لوگ ان درخشاں روایات کی پاسداری چاہتے ہیں،جو ہمارا اثاثہ ہیں۔جن میں دین اسلام کی تعلیمات اور مشرقی روایات کی خوبصورت آمیزش ہے۔
    مگر لنڈے کے لبرلز،یہ کالے انگریز کچھ اور ہی ایجنڈا رکھتے ہیں
    مگر فساد پر مبنی یہ ایجنڈا،اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ یہاں چلنے نہیں دیں گے۔
    کوئ دوسرا ایجنڈا چاہنے والوں کو اس ملک کے بیٹے اور بیٹیاں ہر میدان میں اسی طرح شکست دیتے رہیں گے۔
    جس طرح انہوں نے مبشر لقمان اور عمران ریاض کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دی۔
    یہ مُلک اسلام کے نام پر بنا تھا اور رہتی دنیا تک اسلام کے طریقوں کے مطابق ہی چلے گا۔
    ان شاءاللہ#

    @lalbukhari

  • سپر پاور امریکہ کی افغانستان میں ناکامی۔  تحریر: طیبہ ناز

    سپر پاور امریکہ کی افغانستان میں ناکامی۔ تحریر: طیبہ ناز

    امریکہ جس کو سپر پاور ہونے کا گھمنڈ ہے اس کو افغانستان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جدید اسلحے سے لیس گاڑیاں اور کھربوں ڈالر خرچ کیے اس کے باوجود کامیابی نہ ملی۔ پاکستان نے افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوج کے انخلا کیلئے امریکہ کی مدد کی اور ان کو آسان راستہ دکھایا۔ افغان طالبان اور امریکہ کو ایک مزاکرات کی ٹیبل پہ لایا آخرکار فورسز کو بیس سال بعد واپس بولا لیا گیا۔دو دہائیوں سے امریکہ طالبان کے خلاف جنگ نہیں جیت سکا ہے اور پسپاہ ہو کہ وہاں سے نکلنا پڑا۔
    اس لیے یہ کہا جاسکتاہےکہ افغانستان جیسے مسلے کا فوجی حل ناممکن ہے۔ اگر کوئی حل ہے تو وہ صرف اور صرف مزاکرات ہی ہیں۔ لیکن اشرف غنی کے ہوتے ہوئے طالبان کبھی بھی مزاکرات کیلئے تیار نہیں ہونگے۔۔
    وزیراعظم عمران خان نے بھی اکثر اسی بات پہ ہی زور دیا ہے کہ امن کیلئے مزاکرات ہی کییے جانے چاہیں۔ پاکستان ہر طرح کی مدد کرنے کو تیار ہے۔ افغانستان میں امن کی انتہائی ضرورت ہے۔ پاکستان نے افغانیوں کو اپنے ملک میں پناہ دی۔ الزام تراشیوں کے باوجود ساتھ دیا اور دیتا رہے گا۔
    اشرف غنی اور افغان طالبان آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ نیٹو فورسز کےافغانستان سے نکلتے ہی افغان طالبانوں نے تقریبا 20صوبائی دارلحکو متوں پہ قبضہ جما لیا ہے مذید یہ خدشہ ہے کہ کابل پہ بھی جلد ہی قبضہ ہو جائے گا۔ جو بھی اسلحہ تھا اور جدید اسلحے سے لیس گاڑیاں سب اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔
    امریکہ اور انڈیا نے مفادات کی خاطر بہت سے ایسے تجربات کیے کہ شاید ان کو کامیابی مل جائے لیکن ان کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہو اہے۔اس ناکامی پہ انڈیا نے پاکستان کے خلاف ذہر اگلنا شروع کر رہا ہے۔ہر پراپیگینڈہ جو انہوں نے پاکستان کے خلاف کیالیکن وہی یہ بری طرح ایکسپوز ہوا ہے۔ آخرکار کار انڈیا کو اپنا سفارتخانہ بھی بند کرنا پڑا۔
    بعد آزاں جب عمران خان نے اڈے دینے سے انکار کیا تو امریکہ نالاں ہی نظر آتا ہے۔ کیوں کہ پاکستان نے پہلے ہی غیروں کی جنگ میں ستر ہزار جانیں گنوائیں ہے۔ امریکہ جو اس وقت بھارت کی گود میں بیٹھا ہو اہےمذیدیہ کہ اسٹریٹجک پارٹر بنا ہوا ہے اور چائینہ کے خلاف ساذشوں میں مصروف ہیں۔
    کیونکہ ان کے معاشی مفادات جڑے ہوئے ہیں اسلئیے امریکہ اور انڈیا کو افغانستان کے امن سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ان کے کچھ ذاتی مفاد سے مزید بیگاڑ پیدا ہوا ہے اور پہلے سے زیادہ امن تباہ ہوا ہےلوگ بے گھر ہوئے اور کامیابی ومالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اب تو پاکستان بھی مذید افغانیوں کو پناہ دینے کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔

    Twitter ID : @JeeTaiba

  • امریکہ افغانستان میں اپنی شکست کا الزام پاکستان پر کیوں لگا رہا ہے   تحریر:

    امریکہ افغانستان میں اپنی شکست کا الزام پاکستان پر کیوں لگا رہا ہے تحریر:

    کچھ دن پہلے امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا ’’کہ افغانستان افغانیوں کا ملک ہے اور اس کا دفاع کرنا افغانیوں کی ذمہ داری ہے‘‘۔ آخر کار بیس کے بعد امریکہ کو خیال آیا کہ افغانستان کو ڈیفینڈ کرنا افغان حکومت اورافغان عوام کی ذمہ داری ہے اور دوسری بات جو کہ بالکل گھٹیا تھی وہ یہ ’’کہ پاک افغان سرحد پر ایسے ٹھکانے اور پناہ گاہیں ہیں جہاں سے افغانستان کا امن خراب ہو رہا ہے اور پاکستان کو اس کا خیال رکھنا چاہیے اور اسے کنٹرول کرنا چاہیے‘‘۔ یہ بات بہت مضحکہ خیز اور بے معنی ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب یورپی یونین کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے ’’کہ اندازے کے مطابق طالبان نے افغانستان میں 65 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا ہے‘‘  اور اب تک طالبان بارہ صوبے لے چکے ہیں اور بہت جلد ہی انیس صوبوں پر قابض ہو جائیں گے۔ اب سے تقریبا تین ماہ پہلے سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) نے امریکی اخبارات کو ایک خبر لیک کی تھی ’’کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک کابل کھڑا رہ سکتا ہے‘‘۔ ان تمام صورتحال میں امریکی وزیر دفاع کا تبصرہ انتہائی بے معنی اور مضحکہ خیز ہے۔
     آج کل طالبان نے ایک عجیب حکمت عملی اختیار کی ہے وہ چار یا پانچ جنگجوؤں ذریعے ایک شہر یا قصبے یا دارالحکومت کو پیغام بھیجتے ہیں اور وہاں کے لوگوں اور لیڈرشپ کو مطلع کر دیتے ہیں کہ ہم یہاں پہ آ چکے ہیں ، آپ ہماری پناہ میں آجائے اور ہتھیار ڈال دیں۔ اور یہ فارمولا کافی حد تک کامیاب ثابت ہو رہا ہے۔ اور اگر انہوں نے ابھی تک بڑے شہروں یا بڑے صوبوں پر قبضہ نہیں کیا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں ، کہ زیادہ خون نہ بہایا جائے اور سرحدوں کو پہلے کنٹرول کیا جائے اور اب تک ایران ، وسطی ایشیائی ممالک اور پاکستان کے ساتھ منسلک سرحدیں ، اس کے روٹس ، اور اس کی شاہراہیں طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

    اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر *’’ سینکشن پاکستان ‘‘* کے نام سے ایک کمپین چلائی جا رہی ہے۔ اس کمپین کا آغاز 30 جون کو کیا گیا تھا۔ ایک پاکستانی سوشل میڈیا تجزیہ کار ، عمر،  جو "ویو لائٹکس” کے نام سے ایک ویب سائٹ چلاتا ہے ، نے اس کمپین کا مکمل تجزیہ کیا ہے کہ یہ مہم کیسے شروع کی گئی اور کیسے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے آگے بڑھایا گیا۔ اس کمپین میں 9 اگست تک تقریبا دو لاکھ ٹویٹس اور ریٹویٹس کیے گئے تھے ، جن میں سے بیشتر جعلی اکاؤنٹس تھے ، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس پوری کپمین کا تعلق افغان حکومت اور ہمارے پڑوسی ملک بھارت سے ہے۔ اس کمپین کے ذریعے ایک پورا ماحول بنایا جا رہا ہے اور پاکستان کو افغانستان میں نیٹو اور امریکہ کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں اس کمپین کو کاونٹر کرنا اور دلائل کا سہارہ لے کر بھرپور جواب دینا چائیے۔

    *اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ڈرامہ اچانک کیوں رچایا جا رہا ہے؟* اس کا ایک پس منظر یہ ہے کہ نیٹو ممالک کے آپس میں ڈیبیٹس ہوئی ہیں ، کہ بیس سال پہلے ہم امریکہ کے ساتھ افغانستان گئے اور وہاں سے طالبان کی حکومت کو ہٹا دیا۔ اب بیس سال بعد امریکہ نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کر کے افغانستان کو دوبارہ طالبان کے حوالے کر دیا ہے اور یہ نہ صرف امریکہ کی بلکہ نیٹو ممالک اور ان کی افواج کی بھی ناکامی ہے۔ اور اب ان کی قیادت سمجھتی ہے کہ یہ نیٹو کی بطور اتحاد بڑی ناکامی ہے۔  جس سے یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ نیٹو کی فعالیت اور افادیت کیا رہ جاتی تھی۔ اور اب سب ایک دوسرے پر ملبہ پھینک رہے ہیں۔ اور یہاں تک کہ ڈیلی میل کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے برطانوی وزیر دفاع نے امریکہ پر الزام عائد کیا ’’کہ امریکہ کا فیصلہ بالکل غلط ہے اور امریکہ کو ایسی واپسی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے نیٹو کے باقی ممالک کو ہمارے ساتھ شامل ہونے پر آمادہ کرنے کی پوری کوشش کی کہ برٹش افغانستان میں بیٹھنے کے لیے تیار ہے لیکن نیٹو کے دیگر ممالک میں سے کوئی بھی اس کے لیے تیار نہیں ہے‘‘۔ لیکن حقیقت کچھ مختلف ہے کیونکہ برطانوی معیشت کے حالات بالکل ایسے نہیں ہیں کہ امریکہ کے بغیر برٹش افغانستان میں بیٹھ کر وہاں ذمہ داری لے سکیں۔ اس انٹرویو میں برطانیہ کے سیکریٹری دفاع نے یہ بھی کہا ’’کہ ہمارے وسائل اس وقت اتنے اچھے نہیں ہیں لیکن ہم دس یا پندرہ سال بعد واپس آ سکتے ہیں۔ اگر یہاں حالات خراب ہوئے تو ہم ایک بار پھر افغانستان کا دفاع کریں گے‘‘۔ لیکن اگر برطانیہ کی اپنی سیاسی صورت حال پر غور کیا جائے، تو یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ، برطانیہ کے اندر انگش ، سکاٹش ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز کے درمیان برطانوی معیشت ، سیاسی مسائل ، انگریزی قانون اور برطانوی آئین پر تنازعہ پیدا ہوا ہے جس سے برٹش کے اپنے وجود کو کافی خطرہ ہے۔

    اگر ایک طرف یہ رونا پھیٹنا ہے ہے تو دوسری طرف چین اور روس خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ اس لیے مغرب میں پچھتاوے کا ایک احساس ہے اور اس احساس ندامت میں مغرب کو قربانی کا ایک بکرا چاہیے ، اس لیے وہ پاکستان کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں کہ پاکستان کی وجہ سے ہم افغانستان میں ناکام ہوگئے۔ بیس سال تک دنیا کا سب سے بڑا فوجی اتحاد افغانستان میں بیٹھا رہا اور کوئی حل تلاش کرنے میں ناکام رہا۔ اس تمام صورتحال کے باوجود صدر بائیڈن اس بات پر قائم ہیں کہ 31 اگست تک تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔ امریکہ نے کچھ فضائی حملے بھی کیے ہیں۔ لیکن سوچنے کے بات کہ حملے کیسے کی گئیں؟ بحرحال یہ ایک کاسمٹک نیچر کے حملے ہیں اور اگر بیس برس میں اس قسم کی بمباری سے اور اس قسم کی حکمت عملی سے بہت فرق نہیں پڑا تو اب کونسا فرق پڑ جانا ہے۔ *یہ حقیقت ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں کوئی میدان نہیں ہارا لیکن 20 سالہ جنگ ہار گئی۔* اس کی وجہ کیا ہے؟  
     
    دوسری طرف طالبان کے پاس امریکی اور نیٹو افواج کی بھاری مشینری کو چیلنج کرنے کے لیے طاقتور فوج اور بھاری فوجی مشینری نہیں تھی۔ مختصر یہ کہ طالبان کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ وہ مستقل مزاج تھے اور انہوں نے کسی بھی صورت میں ہتھیارنہیں ڈالنا تھا اور امریکی غلامی اور امریکہ کے لائے ہوئے نظام کو قبول نہیں کرنا تھا۔ دوسری طرف اپنی کامیابی کے لیے امریکہ کو ایک سیاسی نظام قائم کرنا تھا جس میں طالبان کو جگہ دی جا سکے۔ اور اس نظام کو لانے کے لیے امریکہ کے پاس 2002 کے بعد درجنوں مواقع تھے جب امریکہ نے طالبان کو شکست دے کر افغانستان پر قبضہ کر لیا ، لیکن امریکہ نے ان مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ پاکستانی حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور دفتر خارجہ نے بارہا امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے کہا کہ آپ طالبان کے ساتھ مضبوط پوزیشن کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں تا کہ افغانستان میں ایک مستحکم حکومت بن سکے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے *’’کہ وزیراعظم عمران خان نے ستمبر 2020 میں واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں عمران خان نے لکھا تھا کہ افغانستان میں استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن امریکہ کو جلد بازی میں انخلا نہیں کرنا چاہیے‘‘۔*
     
    لیکن امریکہ کی شاید ایک مختلف حکمت عملی تھی تاکہ وہاں کوئی مستحکم حکومت قائم نہ ہو سکے اور وہ چاہتے تھے کہ افغانستان میں امن خراب ہو تاکہ وہ اسے ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھ سکیں۔ حقیقت میں امریکہ نے افغانستان میں سیاسی حل تلاش کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور اس کے برعکس پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ طالبان کے ساتھ ہمارے مذاکرات کروائیں۔ اور وہ مذاکرات دوحہ میں کئی مہینوں تک جاری رہی اور اس کے نتیجے میں امریکہ نے اشرف غنی حکومت اور طالبان کے درمیان معاہدہ کرنے کے بجائے دو الگ الگ معاہدے کیے ، ایک طالبان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بارے میں اور دوسرا اشرف غنی کے ساتھ اس کی حمایت جاری رکھنے کے لیے۔
     
    اس کے علاوہ ایک بڑا *سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں کیوں تھا؟* ظاہر ہے کہ امریکہ کا عوامی بیانیہ یہ رہا ہے کہ ہم یہاں نیشن بلڈنگ کے لیے آئے ہیں اور یہاں سے ہم پر حملہ کیا گیا تھا۔ لہذا ہمیں اسے نیوٹرلائز کرنا ہے تاکہ یہاں سے امریکہ پر مزید دہشت گردانہ حملے نہ ہو۔ ماہرین کے مطابق امریکہ کے اندر فیصلہ سازی کے کئی مراکز ہیں جن میں پینٹاگون ، وائٹ ہاؤس ، این ایس اے ، اسٹیٹ ڈیمپارٹمنٹ اور سی آئی اے شامل ہیں۔ بہرحال سی آئی اے اور پینٹاگون افغانستان میں رہنا چاہتے تھے اورپوری خطے کو یہاں کنٹرول کرنا چاہتے تھے تاکہ چین کی وسطی ایشیا اور روس تک ممکنہ اقتصادی اور اسٹریٹجک توسیع کو روکا جاسکے ، اور پاکستان اور ایران پر بھی نظر رکھی جائے۔ لیکن اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اس پر واضح رائے تھی کہ ہمیں افغانستان سے نکل جانا چاہیے۔ اب یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اربوں ڈالر ضائع ہو رہے ہیں اور اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ جو سابق امریکی صدرٹرمپ نے بھی قبول کیا تھا اور بعد میں صدر بائیڈن نے بھی اینڈورس کیا۔
     
    اس ساری صورتحال میں پاکستان کے لیے بظاہر کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا۔ دوسری طرف طالبان امریکہ ، پاکستان ، چین ، روس اور دیگر پڑوسی ممالک سمیت دنیا کے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور طالبان نے یہ بھی باور کروایا ہے کہ پاکستان بشمول تمام ہمسائیہ ممالک کے لیے ہمارے طرف کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ ایسے میں طالبان کمانڈر نے حال ہی میں 15 منٹ کا ایک آڈیو ریکارڈ جاری کیا ہے۔ جس میں طالبان جنگجوؤں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرکاری املاک اور سرکاری دفاتر کو نقصان نہ پہنچائیں اور ایسی شکایات عوام کی طرف سے نہیں آجانا چاہئیے۔ اور معلومات سے یہ بھی  پتہ چلتا ہے کہ افغانستان سے آنے والے سوشل میڈیا پر وائرل تشدد کی زیادہ تر ویڈیوز ، خبریں اور افواہیں جعلی یا پرانی ہیں۔
     
    طالبان اب بھی امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ امریکہ کے خصوصی نمائندہ زلمے خلیل زاد ایک وفد کے ساتھ قطر پہنچے ہیں جہاں وہ طالبان سے ملاقات کررہے ہیں اور وہ طالبان پر ایک بار پھر زور دے رہے ہیں کہ وہ کابل حکومت کے ساتھ سیاسی سیٹلمینٹ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ وہ طالبان کو سیاسی حل کے لیے مجبور کرے۔ اس صورتحال میں بھارت طالبان کے ساتھ تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے اور انہوں نے بھرپور کوشش بھی کی لیکن ابھی تک کوئی بامعنی مذاکرات نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ بھارت دونوں طرف سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف وہ طالبان سے بات چیت کرنا چاہتا ہے ، تو دوسری طرف وہ کابل حکومت کو مدد کی یقین دہانی کروا رہا ہے۔

    Written by: Zubair Hussain 
    PhD scholar, School of Medicine,
    Seoul National University 
    South Korea 
    Email: 2021-25986@snu.ac.kr
    Twitter: @zamushwani

  • قوموں کے عروج و زوال کا قانون!  تحریر: محمد اسعد لعل

    قوموں کے عروج و زوال کا قانون! تحریر: محمد اسعد لعل

    دنیا کی ترقی یا دنیا کے عروج و زوال کے لیے اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں اور قرآن مجید کی روشنی میں اُس کو دیکھیں تو ایک قانون ہے۔ موجودہ زمانے میں انسان نے مادہ پر تجربات کیے اور مادہ جن قوانیں پر کام کرتا ہے وہ قوانیں دریافت کر لیے ہیں۔ جب یہ قوانین سائنسی طور پر دریافت ہو گئے ہیں تو آپ نے دیکھا کہ ایجادات کا انبار لگ گیا۔ یعنی انسان نے اپنے سننے، اپنے دیکھنے کی صلاحیت کو حیرت انگیز حد تک بڑھا لیا ہے۔ یہ صرف اس لیے ممکن ہوا ہے کہ ہم ان قوانیں کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔
    اسی طرح قوموں کے عروج و زوال کے بھی قوانین ہیں۔ ان کو اگر بالکل خلاصہ کے طور پر بیان کریں تو وہ تین ہی چیزیں ہیں بنیادی طور پر جو قوموں کو عروج پر قائم رکھتی ہیں۔قومیں دنیا کی سٹیج کے لیے منتخب کیسے ہوتی ہیں وہ ایک الگ بات ہے جبکہ عروج پر قائم کیسے رہتی ہیں اس کے لیے تین ہی بنیادی چیزیں ہیں۔
    پہلی بنیادی چیز یہ ہے کہ کوئی قوم علم اور اخلاق کے لحاظ سےکس مرتبے پر ہے۔ یہاں علم سے مراد دنیاوی علم ہے، وہ علم جس سے آپ مادہ کے قوانیں دریافت کرتے ہیں، وہ علم جس کے مطابق آپ انسان کا مطالعہ کرتے ہیں اور معیشت اور معاشرت کے قائدے بناتے ہیں۔ اور اخلاق، یعنی وہ اخلاق جو اجتماعی زندگی کی ضرورت ہوتا ہے۔ جس میں انسانوں کے باہمی روابط کو ترتیب دیا جاتا ہے۔ علم و اخلاق کے لحاظ سے اگر کوئی قوم پستی میں ہے تو پھر وہ عروج کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتی۔
    وہ کسی سطح پر بلند ہو کر آ گئی ہےتو اب اس کے لیےگویا توقع پیدا ہوتی ہے۔اور وہ دنیا کے مقابلے میں برتری پر چلی جائے تو سب سے زیادہ جو چیز نمایاں ہو گی وہ یہ ہے کہ اس قوم نے یا اس جماعت نے علم اور اخلاق میں برتری حاصل کر لی ہے۔
    جو لوگ بھی عروج کا خواب دیکھتےہیں یا یہ چاہتے ہیں کہ ان کی قومیں عروج کی طرف بڑھیں، ان کے لیے پہلا قدم جو ہو سکتا ہے وہ علم اور اخلاق کا ہے۔
    دوسری چیز یہ ہے کہ اگر ان کا کوئی نظریہ ہے تو اس کے ساتھ اس کی یکسوئی کا معاملہ کیا ہے۔ یعنی کیا نظریاتی انتشار میں مبتلا ہے پوری کی پوری قوم یا اس کے ہاں جو بنیادی حقائق ہیں اس کے متعلق نظریہ یکسوئی کے ساتھ اختیار کر لیا گیا ہے؟
    آپ نے قرآن مجید میں پڑھا ہو گا کہ جب اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم کی تعریف کرتے ہیں یا تعارف کرواتے ہیں تو کہتے ہیں کہ وہ مسلمِ حنیف تھے۔ یعنی یہ نہیں کہ وہ صرف مسلمان تھے بلکہ یکسو مسلمان تھے۔
    اور تیسری چیز یہ ہوتی ہے کہ جو قوم اپنی برتری کا یا اپنی بہتری کا خواب دیکھتی ہے اس کی سیاسی وحدت کا کیا حال ہے۔ اگر آپ اس دور سے پہلے رومن امپائر کو دیکھیں تو تب سیاست میں مذہب بنیادی فیصلے کر رہا تھا۔اس کے بعد جو نئی دنیا پیدا ہوئی اس میں ہم نے دیکھا کہ خیالات میں تبدیلی آئی اور جو نئی دنیا بن کر ہمارے سامنے آئی ہے اس میں سیاسی وحدت کا فقدان ہوا اِس سے پہلی اور دوسری جنگ عظیم برپا ہو گئی۔ یعنی خود مغربی قومیں اپنے اندرون سے ایک عسکری چیلنج سے دو چار ہو گئیں۔ دونوں جنگوں سے نکل کر ایک نظام بنایا گیا۔ وہ نظام یہ تھا کہ اقوام متحدہ کا ادارہ بنایا گیا جس نےاس برتری کو یکسوئی میں بدل دیا ۔
    اور اس یکسوئی میں سیاسی وحدت کو قائم رکھنے کے لیے چار چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
    قوموں کا حقِ خود ارادی، قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق۔ یہ وہ چیزیں ہیں جس پر مغربی دنیا ٹھہری ہے۔
    یہ تینوں چیزیں قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہیں۔ چنانچہ اگر دنیا میں کسی بھی قوم کو بالا تر ہونا ہے تو اس کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ تسبیح پر سبحان اللہ کا ورد کر لے۔ جب یہ تین چیزیں کوئی قوم حاصل کر لیتی ہے تو اگر خدا نہ چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ آپ پوری تاریخ کا مطالعہ کر لیں ہمیشہ اسی اصول پر یہ معاملہ ہوا ہے۔
    ہمارے دین میں یا قرآن میں دیکھیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہےکہ”میں ایک کے بعد دوسری قوم کو دنیا کی سٹیج پر آنے کا موقع دیتا ہوں،اور یہ موقع تو میں اپنے انتخاب سے دیتا ہوں۔بالکل ایسا ہے جیسے میں کسی کو امراء کے گھر میں پیدا کر دیتا ہوں تو کسی کو غرباء کے گھر میں، لیکن جب میں ایک بار کسی قوم کو یہ موقع دے دیتا ہوں تو پھر وہ اپنے عروج کو قائم رکھنے کے لیےاصول و قوانین کی پابند ہوتی ہے۔”
    یہی وہ اصول و قوانین ہیں جو میں نے اوپر بیان کر دیے ہیں۔یعنی جب تک کوئی قوم ان پر قائم رہے گی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ "میں اپنا معاملہ اُن سے تبدیل نہیں کرتا وہ دنیا میں اپنی برتری کو قائم رکھتی ہے” اور جب وہ قوم ان تینوں چیزوں سے محروم ہونا شروع ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ "میں بھی اپنا معاملہ ان سے تبدیل کر لیتا ہوں۔”اور اس کا پھر نتیجہ بیان کرتے ہیں” دنیا کی تاریخ میں ہر قوم کو اسی طرح موقع دیا ہے، ایک ترتیب کے ساتھ موقع دیا ہے۔ اور جب میں موقع دیتا ہوں تو نتیجے دو ہی نکلتے ہیں۔ قیامت کے دن تک میں اسی طرح ایک کے بعد دوسری قوم کو دنیا کی سٹیج پر لاتا رہوں گا، ان میں سے کچھ وہ ہوں گے جو طبعی موت مر جائیں گے، اور کچھ وہ ہوں گےجن کو میں پیغمبر بھیج کر تنبہ کرکےعذاب دوں گا۔ اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔”
    میں جب قرآن مجید کی روشنی میں دنیا کی تاریخ کو دیکھتا ہوں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ نوح ؑ کی اولاد میں سے پہلے حام کو اقتدار ملا پھر سامی قوموں کو اقتدار ملا اور اب یافث کی اولاد کے پاس اقتدار ہے۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی سٹیج پر آخری قومیں ہیں لیکن اقتدار اور عروج کی بنیاد وہی تین چیزیں ہیں۔ جب تک یہ تین چیزیں حاصل ہیں یہ عروج پر رہیں گی۔ اگر آپ بھی عروج چاہتے ہیں تو آپ کو ان تین چیزوں پر عمل کرنا ہو گا۔
    twitter.com/iamAsadLal
    @iamAsadLal