Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • عظیم ریاست پاکستان کا قیام اور مسائل تحریر: تحریر رانا احسان اللہ

    عظیم ریاست پاکستان کا قیام اور مسائل تحریر: تحریر رانا احسان اللہ

    آخر فروری 1947 لارڈ ویول کی جگہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو وائسرائے مقرر کیا گیا تاکہ برصغیر میں الجھے ہوئے آئینی مسائل کو ترامیم کر کے نئے انداز میں سلجھایا جائے، نئے وائسرائے کے کانگریسی لیڈروں سے دیرینہ تعلقات اور اس کے جزبہ خود پرستی سے ہندوؤں نے بہت فوائد حاصل کیے

    اسی لیے شروع ہی سے ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے مسلم دشمنی کا اظہار ہونے لگا تاہم مسلمانوں کے آہنی عظم کے پیش نظر اسے یقین ہو گیا کہ ملک کی تقسیم کے بغیر چارہ نہیں، 3 جون کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنے منصوبے کا اعلان کیا جس کی رو سے برصغیر کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک حد بندی کمیشن مقرر کیا گیا جس نے پنجاب و بنگال کے صوبوں کو ہندو اور مسلم اکثریت کی بنیاد پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

    آخر کار قائد اعظم محمد علی جناح کی انتھک کوششوں کی وجہ سے 13 اور 14 اگست 1947 درمیانی رات وہ مبارک گھڑی آن پہنچی جب مسلمان قوم کی صبر آزما سیاسی جد وجہد کامیابی سے ہم کنار ہوئی اور دنیا کے نقشے پر عظیم مسلم مملکت (پاکستان) نمودار ہوئی، مغربی پاکستان میں مغربی پنجاب، سندھ،سرحد اور بلوچستان کے صوبے شامل تھے اور مشرق بنگال اور سلہٹ کے علاقے شامل کیے گئے قائد اعظم محمد علی جناح اس مملکت کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے۔

    جب پاکستان وجود میں آیا تو اسے بےشمار مسائل کا سامنا تھا، دفاتر کا نظام درہم برہم ہو چکا تھا، ہلکی سی معیشت کی حالت تباہ ہو چکی تھی، ریل گاڑیوں کی آمد و رفت بند تھی تاہم قوم کے پختہ عزم نے ان تمام مشکلات پر قابو پا لیا اس دور کے اور بھی بہت سے بڑے بڑے مسائل سامنے آئے۔

    تقسیم برصغیر کے ساتھ ہی مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا، مسلمان مہاجرین کے لٹے ہوئے قافلے بڑی بے سروسامانی کے عالم میں پاکستان میں داخل ہوئے، تین ماہ کے اندر 55 لاکھ کے قریب مہاجرین مغربی پنجاب میں داخل ہوئے ان لوگوں کی آبادکاری اور ان کے لیے ابتدائی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ تھا، تاہم مقامی مسلمانوں کے ایثار و تعاون سے یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا ہندوؤں کی متروکہ جائیدادیں مہاجرین کو دے دی گئیں اور زراعت پیشہ لوگوں کو زرخیز نہری زمینوں پر آباد کیا گیا۔

    کشمیر میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت تھی برصغیر کی تقسیم جس اصول پر ہوئی تھی اس کی رو سے کشمیر کا حصہ تھا۔ لیکن لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور ہندو لیڈروں نے اک سازش کے تحت حد بندی کمیشن کے ذریعے گورداسپور کا علاقہ بھارت میں شامل کرا دیا، حالانکہ یہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی مقصد یہ تھا کہ اس علاقے کے ذریعے بھارت کی سرحد کشمیر سے ملا دی جائے۔

    انڈیا نے اس صورتحال سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اکتوبر 1947 میں اپنی افواج کشمیر میں اتار دیں، انڈیا کی اس جارحیت کے سامنے پاکستان خاموشی تماشائی نہیں بن سکتا تھا چنانچہ رہاست پاکستان نے بھی اپنی افواج کا کچھ حصہ آزاد کشمیر داخل کر دیا بھارت نے معاملہ سلامتی کونسل میں پیش کر دیا چنانچہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی ہو گئی اور طے پایا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ آزادانہ استصواب کے ذریعے کریں گے بھارت نے اس وقت تو یہ فیصلہ تسلیم کر لیا مگر وہ آج تک استصواب کو ٹالتا رہا ہے اور یہ مسئلہ پاک بھارت تعلقات کی کشیدگی کا سب سے بڑا سبب ہے۔

    ‎@Rana241_7

  • ‏سرخ جوڑے میں لپٹی لاشیں  تحریر: صالح ساحل

    ‏سرخ جوڑے میں لپٹی لاشیں تحریر: صالح ساحل

    اللہ تعالیٰ نے بہت سے رشتے انسان کے ساتھ خود بنا کر بھیجے ہیں مگر ایک رشتہ ہے جس کا اختیار انسان کو دیا ہے کے وہ خود بنائیں یہ خوب صورت رشتہ میاں اور بیوی کا رشتہ ہے اور اس کا مکمل اختیار لڑکے اور لڑکی کو دیا ہے کے تمہاری اجازت کے بغیر کوئ زبردستی نہیں ہو گی نہ صرف اسلام بلکہ کے دنیا بھی جبری شادی کو ایک اخلاقی برائ سمجھتی ہے اور اس کے خلاف قانون سازی کر رہی ہے لیکن آج میں جس نقطے کی طرف توجہ مرکوز کروانا چاہتا ہوں وہ ہے ہمارا روایہ اس معاملے میں یوں تو ہم بہت اسلام کے علم بردار بنتے ہیں مگر کیاہم نے کبھی غور کیا کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں ہمارے معاشرے میں آج بھی بیٹی کو یہ کہہ دیا جاتا ہے کے تمہارا رشتہ کر دیا گیا ہے اور ایک مطلق حکم کی طرح صادر کر کے اس کی تکمیل کی تیاری شروع کر دی جاتی ہے ہم کو اس کی پسند نا پسند سے کوئ غرض نہیں ہوتا اس کے خوابوں کو ایک پل میں آسمان سے گرا کر زمین کی سات تہوں میں دفن کر دیا جاتا ہے لڑکے کا کردار کیا ہے وہ کیا کرتا ہے اس کی نیچر کیا ہے ہمارے لیے معنی نہیں رکھتا ہم صرف اپنی جھوٹی آنا کی جیت کے شامیانے بجا رہے ہوتے ہیں ہم اس اخلاقی گراوٹ کو اپنی عزت کی جیت قرار دے کر فخر کر رہے ہوتے ہیں اور وہ گھر کے ایک پہلو میں بیٹھی بیٹی جس کو اتنا حق بھی نہیں کے وہ اس بندھن کے لیے تیار بھی ہے کے نہیں صرف اپنی بدقسمتی پر ماتم کر رہی ہوتی انہیں فضولیات کی دلدل میں اگر کوئ ہمت کر کے اپنی پسند کا اظہار کر دے تو آوارہ اور بد کردار بن جاتی ہے اور کہیں تو یہ گرواٹ اس قدر رو باعمل ہے کے بچپن ہی سے بتا دیا جاتا ہے کے فلاح شخص تمہارا ہمسفر ہو گا اور خبردار اگر اس پنجرے سے باہر تم نے خواب دیکھے تو تمہارا اس دنیا میں آنا ہی تمہارے لیے بہت ہے باقی تمہاری خوشیوں اور تمہاری زندگی کے فیصلے ہم کریں گے اس لیے زیادہ تر اپنی پسند اپنے والدین اپنے خاندان کی عزت کے ڈر سے قربان کر دیتی ہیں کیا کبھی ہم نے سوچا کے اسلام سے قبل تو بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا مگر ہم کیا کر رہے ہیں ہم ان کی خوشیاں ان کے خواب ان کی پسند کو دفن کر کے اس پر اپنی جھوٹی عزت کے محل تعمیر کر رہے ہیں ارے ایسی عزت کا کیا فایدہ جس کے لیے اپنی بیٹیوں کی قربانی دے دی جائے گھر کے آنگن سے وہ بیٹی جس کو بڑے ناز سے پالا ہوتا ہے سرخ جوڑے میں لپیٹ کر ایک لاش کر طرح رخصت کر دی جاتی ہیں ہم سمجھتے ہیں ہم جیت گے مگر ہم ہار چکے ہوتے ہیں ہم نے ایک معصوم کی خوشیوں کے قاتل ہوتے ہیں اور کائنات کا رب سب کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے وہ رب جس نے زبردستی کا حق تو اپنے آپ کو منوانے کے لیے نہیں دیا وہ کیسے تمہارے اس جرم کو معاف کرے گا جہاں اس نے اختیار دیا ہے لڑکی کو ہم نہ صرف رب کے دییے گے اس اختیار کو سلب کرتے ہیں بلکہ کے اپنی عزت کی اس عمارت کے چکر میں معصوم زندگیاں برباد کر دیتے ہیں آج جس معاشرے کے ڈر سے ہم نے یہ سب کچھ کیا ہوتا ہے کل رشتوں کی ناکامی پر یہی معاشرہ ایک پل میں آپ کی بیٹی کو قصوروار اور بدکردار تک کا سرٹیفیکیٹ دے چکا ہوتا یہ خاندان یہ معاشرہ اسی طرح اپنی زندگی میں معروف عمل ہو جاتا ہے اور زندگی تباہ ایک لڑکی کی ہو جاتی ہے ہر روز اسی معاشرے کے ڈر سے اور اپنی جھوٹی عزت و آنا کی خاطر ہم سرخ جوڑے میں لپٹی لاشیں رخصت کر رہے ہوتے ہیں میں اپنی مخاطبین سے ایک سوال رکھ کر اجازت چاہوں گا کہ اگر زبردستی کی شادی نا جائز ہیں تو عزت اور رشتوں کے نام پر بلیک میل کر کے گی شادی جائز ہے کیا اور زبردستی کی شادی رب کے ہاں جرم ہے تو بلیک میلنگ سے کی گی شادی جرم نہیں ہو گی کیا ؟؟
    ‎@painandsmile334

  • بھولنا ۔ بھول جائیے   تحریر  : راجہ ارشد

    بھولنا ۔ بھول جائیے تحریر : راجہ ارشد

    بھولنے کی عادت ان دنوں بہت سے لوگوں کا مسلہ ہے۔لوگ اپنی اس عادت سے اکثر پریشان دیکھائی دیتے ہیں۔ بعض لوگوں کی یادداشت عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ کم ہونے لگتی ہے اور وہ باتیں بھولنے لگتے ہیں۔جو کہ کوئی خطرے کی بات نہیں بلکہ ماہرین تو اسے اعصابی صحت کے لیے مفید مانتے ہیں۔

    سائنسدانوں کے مطابق آپ ایک کام کو بھول کر دوسرے کی جانب رجوع کرتے ہیں تو یہ آپ میں نئے کام کو سیکھنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ کہ بھول جانا نئے کام سیکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ بھول جانے کی عادت آج کی تیز رفتار دنیا میں نئی مہارت اور علم سیکھنے میں بے حد کار آمد ثابت ہو سکتی ہے اور اسے ایک نارمل عمل سمجھنا چاہیے البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر یہ مسئلہ مستقل رہے یا انسان بہت ساری باتیں بھول جائے تو یہ خطرے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    اعصابی ماہرین اور معالج کے مطابق بھولنے کی مندرجہ ذیل سات اقسام یاداشت کے مسائل نارمل تصور کیے جاتے ہیں۔1۔کچھ وقت کے بعد واقعات اور حقائق بھول جانا عموما جو باتیں کافی عرصے تک نہیں دہرائی جاتیں انہیں انسان بھولنے لگتا ہے ذہن کی یہ سرگرمی استعمال نہ ہونے والی یاد کو بھلانے میں مدد کرتی ہے۔جس سے ذہن کونئی یادیں اسٹور کرنے میں مدد ملتی ہے۔
    2۔کوئی بات غور سے نہ سنی جائے تو وہ بھی کچھ دیر بعد ذہن سے نکل جاتی ہے مثال کے طور پر آپ اپنا قلم رکھ کر بھول جاتے ہیں کیونکہ جس وقت آپ اپنا قلم رکھ رہے تھے آپ کا دھیان کہیں اور تھا۔

    3۔ کبھی کبھی کوئی آپ سے سوال کرتا ہے جس کا جواب آپ کو پتا ہوتا ہے۔لیکن اس وقت اچانک ذہن سے نکل جاتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ آپ نے اس بات پر توجہ نہیں دی تھی بلکہ کوئی اور چیز آپ کو وہ بات یاد کرنے میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔

    4۔ اگر کوئی آپ سے کسی شخص کے بارئے پوچھے کہ وہ کون ہے۔اور آپ صحیح بتا دیں مگر یہ غلط بتائیں کہ اس بارئے میں آپ نے کہاں سنا تھا بات یاد رہنا اور ذرائع بھول جانا بھی ایک عام طرز کی کی یادداشت کی کمزوری ہے۔

    5۔بعض اوقات انسان اپنے ذہن میں ایک فرضی خاکہ تیار کر لیتا ہے۔اور اسے سچ ماننے لگتا ہے۔جیسے کہ اگر کوئی ہمیں ہمارے بچپن کے بارئے میں کچھ نتائے تو ہمارا دماغ اس بات کو سچ مانتے ہوئے ایسے ہی فرضی واقعے کی یاد ذہن میں بنا لیتا ہے۔

    6۔ اکثر اوقات ہم وہ ہی دیکھتے ہیں جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں اور اسے اسی طرح یاد بھی کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ ہمارے ذاتی تعصبات ہوتے ہیں جو ہماری سوچ پر ھاوی ہو جاتے ہیں۔

    7۔ کبھی ہم کوئی واقع یا حقیقت شدت سے بھولنا چاہیے لیکن بھول نہیں پاتے۔ یادداشت کا یہ مسلہ بھی عام نوعیت کا ہے جو کم و بیش سب کے ساتھ ہی پیش آتا ہے۔

    @RajaArshad56

  • وزیر اعظم پاکستان کا خواب اور ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ پارٹ 2  تحریر چوہدری عطا محمد

    وزیر اعظم پاکستان کا خواب اور ریاست مدینہ اور ہمارا رویہ پارٹ 2 تحریر چوہدری عطا محمد

    ‎ اسلامی جہموریہ پاکستان کے 21 وزرا اعظم تقریباً گزشتہ سات دہائیوں سے گزرے لیکن آج تک کسی بھی وزیر اعظم نے ریاست مدینہ جیسے طرز کی ریاست بنانے کی بات نہیں کی اور نہ اپنی تقاریر اور انٹرویو میں کبھی اس بات کی خواہش ظاہر کی پاکستان میں گزشتہ کہی دہائیوں سے دو پارٹی سسٹم رائج تھااس سسٹم کو توڑا ایک تیسری جماعت پاکستان تحریک انصاف نے جس کے چئیر میں جناب عمران احمد نیازی ہیں جو ملک کے 22وزیر اعظم بنے اسلامی جہموریہ پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم نے ایک خواب خود دیکھا اور پھر اپنی قوم کو وہ خواب دکھایا کہ ارض پاک پاکستان کو ہم مدینہ جیسی ریاست بنائیں گے
    یہاں تک تو یہ ایک خواب تھا جو ملک کے وزیر اعظم نے اپنی قوم کو دیکھایا اب ہم بات کرتے ہیں اپنی قوم کی تو جناب پاکستانی قوم پورے اقوام عالم میں اپنی ایک الگ سوچ اور پہچان کے مالک ہیں ہمارے تاریخ میں آنے والوں کے حکمرانوں کے بارے میں اقوام عالم اور اس میں موجود تجزیہ کاروں اور میڈیا کے دماغ میں ایک مختلف سوچ پائی جاتی ہے بدقسمتی سے وہ سوچ ہمارے بارے میں اتنی اچھی نہیں ہے ہمارے ہی بارے میں ایک بیان ایک مغربی ملک کی ایک شخصیت نے دیا کہ پاکستانی پیسے کی خاطر اپنی ماں تک کو بیچ ڈالتے ہیں کسی نے ہمیں کرپٹ کسی نے غدار اور کسی نے ہمیں دہشت گرد کہا اور کہا کہ یہ لوگ پیسے یا زاتی مفادات کی خاطر بڑے سے بڑا جرم کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں ملک کے حکمران نے دنیا کی اس سوچ کو غلط ثابت کرنے کی ٹھان لی اور ہمیں ریاست مدینہ کا خواب دیکھایا جس سے عوام الناس میں ایک نئی سوچ نے جنم لیا لیکن ساتھ ساتھ ہم نے کردار کشی اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی جاری رکھا جیسے ماضی میں ایک حکمران جماعت نے ہماری سابقہ وزیر اعظم بینظیر کی فیک اور جھوٹی فحش تصاویر ہیلی کاپٹر سے مختلف شہروں میں گرائی اور آج وہی پارٹی اور چند اور مفاد پرست چھوٹی پارٹیوں نے مزئیب کا استعمال کرتے ہوۓ ریاست مدینہ کے خواب دیکھانے والے وزیر اعظم کو یہودی ایجنٹ اور اسرائیل کا ایجنٹ کے جھوٹے الزامات سے نواز نا شروع کر دیا یاد رکھیں اس طرح کی سینکڑوں مثالیں آج بھی موجود ہیں حصول اقتدار کے لئے ہم کیا کچھ نہی کر جاتے زرا سوچیئے بدقسمتی سے ہم ایک قوم کم اور ہجوم زیادہ ہیں جس ملک میں ایک چپڑاسی سے لے کر ملک کے حکمرانوں تک سب کو رشوت کی لت لگی ہو پولیس۔ ڈاکٹر انصاف فراہم کرنے والے ہمارے ججز حضرات سب اپنی اپنی حثیت سے اس گنگا بھی ہاتھ دھو رہے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہہ کوئی دو سو پر راضی ہو جاتا تو کوئی دو ہزار اور کوئی دو لاکھ اور کوئی دو کروڈ ہر بندے کا رشوت کا اپنا ایک معیار ہے ہمارے سرکاری ملازمین کبھی وقت پر دفتر نہیں جاتے ہمارے اساتذہ جو اس قوم کے معمار ہیں انہوں نے کبھی اپنی زمہ داری پوری نہیں کی ہوگی ہمارے مسیحا ڈاکٹر بھی اس فرض سے بری زمہ ہیں ہمارے والدین نے بچوں کی کبھی ریاست مدینہ طرز کی پرورش نہیں کی ہمارے بچے سگریٹ نوشی شراب اور زنا قتل جیسے جرائم کو فخر سے سر انجام دیتے ہوۓ نظر آتے ہیں
    پیارے غیور پاکستانیوں پہلے ہجوم سے ایک قوم بننے کی راہ پر گامزن ہوں ہمارے حکمران نے آج وہ راستہ ہمیں دیکھا دیا ہے ریاست مدینہ کے راستے پر چلیں پھر دنیا کی کوئی طاقت آپ کا مقابلہ نہیں کر پاۓ گی جب آپ نے ریاست مدینہ کے راستے پر چلنا ہے تو وقتی مشکلات تو ضرور آئیں گی اسی لئے ہمارے وزیر اعظم بار ہا کہتے ہیں مشکلات سے گبھرانا نہیں آپ نے یقین مانیں ارض پاکستان کے واسیوں آپ ایک عظیم اور بہادر قوم ہیں اپنے آباؤ اجداد کی طرف ہی دیکھ لیں آپ کی رگہوں میں جن کا خون ہے انہوں نے کتنی مشکلوں اور قربانیوں سے یہ ارض پاکستان آپ کے لئے حاصل کیا پیارے دیس کے واسیوں ہمیں بس اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا جب ہم اپنی سوچ کو ریاست مدینہ کے ماڈل کی طرز پر بدل لیں گے تو پھر آپ کو ترقی کرنے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکے گا
    آخر میں اللہ سبحانہ تعالی سے دعا ہے کہہ ہمیں صیح معنوں میں ریاست مدینہ والی طرز اور سوچ پر عمل کی توفیق عطا فرماۓ آمین
    اللہ سبحانہ تعالی ہم سب کا حامی وناصر ہو آمین ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • امیری اور غریبی تحریر:محمد علی شیخ

    امیری اور غریبی تحریر:محمد علی شیخ

    امیر یا غریب ہونا نا تو عزت کا باعث ہے نا ہی ذلت کا ۔۔
    غربت کی سب سے بڑی وجہ روزگاری ہے اسلام آباد: مالی سال 21-2020 کے دوران ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 66 لاکھ 50 ہزار تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ مالی سال 20-2019 کے دوران اس کی تعداد 58 لاکھ تھی۔ اس کی زمے داری نا تو آنے والی حکومت قبول کرتی ہے نا ہی جانے والی ۔۔ ہمارے ملک پاکستان میں امیر اور امیر ہوتا جا رہا ہے اور غریب اور غربت میں ڈوبتا جا رہا ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں ہے نا جانے کیسے کیسے کر کے ماں باپ بچوں کی تعلیم مکمل کرواتے ہیں ان کے بہتر مستقبل کے لیے۔۔ اس پر تعلیم کا حال ایسا ہے نا تو ٹیچرز اس قابل ہیں جو بہتر تعلیم دے سکیں غریب انسان گورنمنٹ اسکول میں ہی اپنے بچوں کو تعلیم دلوا سکتا ہے وہ بھی مشکل سے۔۔
    اس پر ستم یہ ہے 90 فیصد گورنمنٹ اسکول میں سیاسی بھرتی ہوتی ہے کچھ گھر بیٹھ کر تنخواہ لیتے ہیں تو کچھ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہوتے ہیں ۔۔
    باقی جو بچتے ہیں وہ کیسے تمام مضامین پڑھا سکتے ہیں۔۔ صاحب حیثیت حضرت پرائیویٹ اسکول افورٹ کر لیتے ہیں اور کچھ تو بیرونے ملک تعلیم کے لیے بھیج دیتےہیں۔۔ کیا غریب کا کوئی مستقبل نہیں ہے کیا اس کو اچھی تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ہے۔۔
    جب اس کو بنیادی حقوق نہیں مل سکتے تو پھر کیوں ان سے ووٹ کی بھیک مانگ کر یہ لوگ اسمبلیوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔۔ غریب انسان ہر بار دھوکا کھاتا ہے یہ سوچ کر اب کچھ اچھا ہوگا اب اس کے بچوں کا بہتر مستقبل ہوگا مگر کچھ مہینوں میں پتہ چلتا ہے ملک کی حالت خطرے میں ہے۔۔ پھر وہ بیچارہ اپنے ملک کے لیے دعا کرنے لگ جاتا ہے۔۔ آخر یہ سب کب تک چلے گا کیوں ہر بار اس کو امید کی دلدل میں دھکیل دیا جاتا ہے۔۔ اس سے بہتر ہے ایک بار ہی سچ بول کر قصہ ختم کر دیا جائے تا کے وہ اپنی زندگی میں ایسی خواہش تو نا کرئے جو وہ پوری نا ہو سکے۔۔ڈگریاں ملنے پر بھی درد درد کی ڈھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔ ڈگریاں وہ ہی بچے حاصل کرتے ہیں جو اپنے اور ماں باپ کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔۔ ڈگریاں لے کر بھی ٹھیلا یا رکشہ یا بیکری یا فورٹ پانڈا یا شاپنگ مال پر ہی کام کرنا ہے تو پھر ماں باپ کو اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کو تعلیم دیلوانے کا کیا فائدہ۔۔اور اگر کیسی کے بیٹا نا ہو وہ تو بیچارہ ساری زندگی یہ ہی سوچ سوچ کے موت کے منہ میں چلا جائے گا اگر کل کو اس کو کچھ ہو گیا تو اس کی بیٹیوں کا کیا ہوگا۔۔ میرا یہ کہنے کا بھی ہرگز مطلب نہیں ہے کے نعوذباللہ اللہ ان کو چھوڑ دے گا۔ مگر میں ایک باپ ہونے کی حیثیت سے بول رہا ہوں۔۔ واللہ میں خود اللہ سے اپنے لیے اتنی زندگی کی گزارش کرتا ہوں یا رب مجھے اتنی زندگی دینا میں تیرے فضل وکرم کے ساتھ اپنی سب بیٹوں کو عزت سے رخصت کر سکوں۔۔

    غریب شہر تو فاقے سے مر گیا صاحب۔
    امیر شہر نے ہیرے سے خودکشی کر لی۔

    غریب ہونا گناہ نہیں ہے پر اب لگتا ہے غربت ہی گناہ ہوتی جا رہی ہے۔۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہے۔۔
    @MSA_47

  • استاد ہمیشہ استاد ہی رہتا ہے تحریر صابر حسین

    استاد ہمیشہ استاد ہی رہتا ہے تحریر صابر حسین


    آج کل کے شاگرد اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہی نہیں بلکہ استاد کی ہمیشہ تذلیل کرتے ہیں ایسے بہت سے واقعات ہماری آنکھوں کے سامنے گزرے ہیں جہاں شاگرد اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں
    استاد روحانی ماں باپ کا درجہ رکھتا ہے جہاں ماں باپ بچے کی تربیت کرتے ہیں وہی استاد اسے تعلیم سے آراستہ کرکے ایک مضبوط انسان بتاتا ہے استاد ہمیشہ استاد ہی ہوتا ہے چاہے وہ زندگی کے کسی شعبے سے منسلک ہو آج ہم آپ کو ایک ایسے ہی استاد کا واقع بتاتے ہیں جس نے ایک شاگرد کو ہنر سکھایا اور وہی شاگرد استاد کے مقابلے میں ہو گیا
    ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺸﺘﯽ ﻟﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﻓﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺳﺎﭨﮫ ﺩﺍﺅ ﭘﯿﭻ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﺅ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺸﺘﯽ ﻟﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺍﻧﺴﭩﮫ ﺩﺍﺅ ﺳﮑﮭﺎ ﺩیئے ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﺅ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﻧﮧ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ۔

    ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﻣﯿﮟ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺷﮩﺮﺕ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﻠﮏ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺃﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﺯﻋﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦِ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺟﻮ ﻓﻮﻗﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺰﺭﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺮﺑﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﻖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﻣَﯿﮟ ﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻓﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦِ ﻭﻗﺖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﮑﺒﺮ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﺸﺘﯽ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔

    ﻣﻘﺮﺭﮦ ﺩﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺩَﻧﮕﻞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﮨﺎﻧﮧ ﺍﻧﺘﻈﺎﻣﺎﺕ ﮐﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ، ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﻋُﮩﺪﮮ ﺩﺍﺭ، ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮏ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﺖ ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩَﻧﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﮩﺎﮌ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﮭﺎﮌ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺍُﺳﺘﺎﺩ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﻗﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ ﺗﺎ ﮨﻢ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﺱ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﺍﺅ ﮐﺎ ﺗﻮﮌ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻭﮨﯽ ﺩﺍﺅ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﭘﭩﺦ ﺩﯾﺎ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﻭﺍﮦ ﻭﺍﮦ ﮐﺎ ﺷﻮﺭ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﮑﺒﺮ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣِﻞ ﮔﯿﺎ

    ﺍﺱ ﺣﮑﺎﯾﺖ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻭ ﻧﺼﯿﺤﺘﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ
    ﭘﮩﻠﯽ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﻭﻟﺖ، ﺷﮩﺮﺕ، ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻡ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﻭﻗﺘﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮑﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ بنتا ﮨﮯ۔ ﺍﺱ لئے ﺍﺱ ﺗﮑﺒﺮ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ۔
    ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﺎ ﺑﮭﯽﺑﮍﮪ ﺟﺎﺋﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮٰﯼ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﮮ ہرگز نہ کرے نہیں ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍﺩﺏ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺷُﻌﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻣُﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﻧﮧ ﮐﮧ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ
    کچھ دن قبل ہمارے علاقے کے نامور پہلوان کلیم اللہ بچار جو ملکی و غیر ملکی کشتیوں میں اپنا مقام رکھتے تھے جنہوں بڑے بڑے نامور پہلوانوں کو دھول چٹا دی بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے کلیم اللہ بچار ضلع مظفرگڑھ کے نامور پہلوان تھے حکومت کی سرپرستی نا ہونے کی وجہ سے سوائے کرکٹ کے باقی کوئی کھیل نہیں بچا !
    کلیم اللہ بچار خوش مزاج ، ماں باپ اور اساتذہ کی عزت کرنے والے انسان تھے میری دعا ہے کہ :
    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ کی عزت و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    ‎@SabirHussain43

  • انصاف اور وطن عزیز پاکستان  تحریر :عدنان یوسفزئی

    انصاف اور وطن عزیز پاکستان تحریر :عدنان یوسفزئی

    یہ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کا زمانہ ہے۔ ایک عورت ایک بچے کو اپنے گود میں لئے آتی ہے۔ وە عورت خلیفہ دوم سے یہ شکایت لگاتی ہے کہ یہ بچہ آپ کے بیٹے کی امانت ہے۔ فورا فرمان جاری ہوتا ہے کہ میرے بیٹے کو حاضر کیا جائے ۔

    اب دنیا یہ تماشا دیکھتی ہے کہ بائیس لاکھ مربع میل پر حکمرانی کرنے والے خلیفہ عمر فاروق رضی الله عنہ اپنے  بیٹے پر حد قائم کررہاہے۔

    اب خلیفہ کے سامنے اسکے اپنے بیٹے پر کوڑے برس رہے ہیں۔جس وقت  جب کوڑے پورے ہونے لگتے ہیں، اس دوران خلیفہ کا بیٹا نزع کی حالت میں چلا جاتا ہے ۔اس وقت خلیفہ دوڑ کر اپنے بیٹے کو گود میں لیتا ہے۔

    وہ اپنے بیٹے سے کہتا ہے کہ اے میرے بیٹے، جب تو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےسامنے پہنچ جاؤ تو حضور صلی الله علیہ وسلم سے یہ کہنا کہ اے اللہ کے رسول! عمر رضہ الله عنہ نے انصاف قائم کرنے میں اپنے بیٹے کو بھی معاف نہیں کیا۔
    جس معاشرے میں انصاف قائم ہوجاتا ہے  ،وہاں پر حقدار کو ان کا حق ملتا ہے۔

    جس معاشرے میں انصاف قائم ہوجاتا ہے، وہاں پر کوئی کسی پر ظلم نہیں کرسکتا ۔ظالم کو اپنے ظلم کے انجام کا پتہ ہوتا ہے -انصاف ہی تو ہے جس کے نفاذ سے ہم مثالی امن دیکھ سکتے ہے۔

    انصاف اگر ہوگا تو وہاں پر مظلوم اپنے آپ کو بے آسرا  نہیں تصور کرے گا۔

    اسلام میں انصاف کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔حضور صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہےکہ میری امت اسی وقت تک سر سبز رہے گی جت تک یہ تین خصلتیں اس میں باقی رہیں گی۔ایک یہ کہ جب وہ بات کرے تو سچ بولیں

    دوسرے یہ کہ جب وہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کریں تو انصاف کو
    ہاتھ سے نہ جانے دیں۔تیسرے یہ کہ جب ان سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ کمزوروں پر رحم کریں۔اسلامی معاشرے میں جب اسلام کے انصاف پر مبنی  قوانین نافذ ہوتےہیں، وہاں پر قاضی کے سامنے ایک خلیفہ اور ایک مشرک دونوں ایک  جیسے انداز میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

    وہاں پر قاضی اس مشرک کے حق میں فیصلہ سناتا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک مشہور قول ہے کہ ایک سلطنت کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔

    وطن عزیز پاکستان کو جو مسائل درپیش ہے، انکا اصل وجہ انصاف کی فقدان ہے۔پاکستان میں آمیر اور غریب کے لیے انصاف کے الگ الگ پیمانے ہیں۔ایک آمیر کو پاکستان کے لوگوں کی اربوں روپوں کے چرانے اور باہر ملک بھیجوانے پر زیادہ سے زیادہ یہ سزا دی جاتی ہے کہ اسکو ایک عہدے سے فارغ کرکے دوسرے عہدے پر لگایا جاتا ہے۔جبکہ ایک غریب کو غلطی سے بتی تھوڑنے پر بھی  بھاری جرمانہ کیا جاتا ہے۔
    اب ہمارے ہاں ایسے جرائم منظرعام پر آرہے ہیں جن کی بابت چند عشرے قبل تک سوچنا بھی محال تھا۔ اس سے زیادہ پستی اور گھناؤنی حرکت کیا ہوگی کہ باپ اپنے ساتھیوں کو معصوم بیٹی پر ظلم کرنے کی دعوت دیتا پایا گیا۔ تعجب خیز امر یہ کہ گھناؤنے جرائم میں ملوث مجرم ضمیر پر کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتے اور بے حس دکھائی دیتے ہیں۔

    کمزور قانونی نظام نے ان سے غلط اور درست، خیر اور شر کے مابین تمیز کرنے کی صلاحیت ہی چھین لی۔ آج بنیادی سوال یہ ہے کہ عام پاکستانی کو فوری انصاف کیونکر مہیا کیا جائے؟ انصاف نہ ملنے سے پاکستانی معاشرے میں انتشار اور بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ لہٰذا قانونی نظام مضبوط و مستحکم بنانا اشد ضروری ہے تاکہ عام آدمی کو فوری انصاف مل سکے۔ فی الوقت تو پاکستان میں دوہرا قانونی نظام مروج ہے۔

    طاقتور، دولت مند اور بااثر پاکستانی جرم کرکے بھی رہا ہوجاتا ہے جبکہ غریب پاکستانی جرم نہ کرنے پر بھی جیل کی ہوا کھانے پر مجبور ہے۔ یہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔

    آخر میں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب تک پاکستان میں انصاف کی واقعی عملداری نہیں ہوتی، تب تک ملک بدامنی اور شر وفساد کا شکار ہوتا رہے گا -اسلئے ارباب اقتدار کو چاہیے کہ انصاف کی عملداری کو قائم کیا جائے ۔حقدار کو انکا حق ملے اور مظلوم کو ظالم کے ظلم سے نجات دی جائے۔
    Twitter | @AdnaniYousafzai

  • عالمی تعلیم کی اہمیت:عاقب علی

    عالمی تعلیم کی اہمیت:عاقب علی

    عالمی تعلیم تعلیمی تجربات کی سہولت فراہم کرنے کے بارے میں ہے جو طلباء کو متنوع نقطہ نظر کی تعریف کرنے ، بالترتیب وسیع دنیا سے ان کے رابطوں کو سمجھنے اور مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے اور ثقافتوں اور ممالک میں تعاون کرنے کی اجازت دیتا ہے ، اور انضباطی اور بین الضابطہ علم کا استعمال کرتے ہیں تاکہ ان مسائل کی تحقیقات اور کارروائی کی جاسکے۔ ان کے لیے اور وسیع دنیا کے لیے۔ عالمی تعلیم ایک "اضافی” یا "اچھا ہونا” کورس نہیں ہونا چاہیے جسے صرف مٹھی بھر طلباء ہی لے سکتے ہیں ، اور نہ ہی اسے اسکول کے آخری چند ہفتوں میں کسی تفریحی منصوبے سے منسلک کیا جانا چاہیے۔ کیوں؟ عالمی مسائل اور نقطہ نظر کو کسی بھی اور تمام مواد کے شعبوں کو سکھانے کے لیے بطور لینس آسانی سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں ، عالمی تعلیم مندرجہ ذیل جامع طالب علموں کے نتائج کا باعث بن سکتی ہے جو تعلیمی کامیابی اور مجموعی طور پر فلاح کا باعث بنتے ہیں۔
    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب طلبہ مستند کاموں اور حقیقی دنیا کے تجربات کے ذریعے مواد سیکھتے ہیں تو ان کے مشغول ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے ، جس کے نتیجے میں زیادہ حاضری اور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ عالمی تعلیم طلباء کو حقیقی دنیا کے مسائل اور سرگرمیوں سے براہ راست مشغول کرتی ہے۔ طالب علموں کو میکسیکو میں ساتھیوں کے ساتھ اسکائپ کرنے کے مقابلے میں ہسپانوی زبان پر آمادہ کرنے کا کیا بہتر طریقہ ہے ، یا انہیں عالمی موجودہ واقعات پر براہ راست سرخیوں سے کھینچ کر مباحثہ پر مبنی مضمون لکھنے کی مہارت سکھائیں۔
    ایک رپورٹ کے مطابق ، 40 ملین سے زیادہ امریکی ملازمتیں بین الاقوامی تجارت سے منسلک ہیں۔ آج کل آجر اعلی ثقافتی مہارتوں کے حامل اعلی گریجویٹس کے لیے بے چین ہیں جو انہیں متنوع ٹیموں اور پوری دنیا کے گاہکوں کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ طلباء کو وسیع دنیا اور اس میں لوگوں ، ثقافتوں اور نقطہء نظر کے تنوع کو سمجھنے کے مواقع فراہم کرتے ہوئے ، اسکول طلباء کو بازار میں مسابقتیہ برتری بھی دے رہے ہیں۔
    دنیا سے اور اس کے ساتھ سیکھنا نہ صرف طلباء کی تعلیمی ترقی کو فائدہ پہنچاتا ہے بلکہ ان کی سماجی جذباتی نشوونما میں بھی معاون ہوتا ہے۔ عالمی تعلیم کسی کی اپنی شناخت ، ثقافت ، عقائد اور وسیع تر دنیا کے ساتھ کس طرح جڑتی ہے ، سماجی ہمدردی بشمول ہمدردی ، نقطہ نظر لینے ، تنوع کی تعریف کرنے ، اور دوسروں کا احترام کرنے ، اور مختلف افراد اور گروہوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی مہارت کے بارے میں خود آگاہی پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مؤثر مواصلات اور تعاون کے ذریعے
    گلوبل لرننگ طلباء کو قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور اپنے ارد گرد کی دنیا کو مثبت طور پر متاثر کرنے کے لیے بامقصد کارروائی کریں۔ جب طلبہ کو ان مسائل کی چھان بین کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں جنہیں وہ اہم سمجھتے ہیں (چاہے وہ بندوق کا تشدد ہو ، صاف پانی تک رسائی ہو ، یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو) ، ان مسائل کو کیوں کھولیں ، اور ان کو بہتر بنانے کے لیے حل نکالیں ، وہ بااختیار بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ متعدد اساتذہ اور اسکول کے منتظمین عالمی تعلیمی اقدامات کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں ، میں نے تصدیق کے ساتھ کام کیا ہے ، ایک بار جب آپ طلباء کے لیے ایکشن لینے کے دروازے کھولیں گے تو آپ فنڈ ریزرز ، مہمات ، پراجیکٹس ، پروگراموں اور احتجاج پر حیران رہ جائیں گے۔ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنائیں۔
    @aliaqib7301

  • سوشل میڈیا،محبت اور پڑھائ  تحریر:خدیجہ نقوی

    سوشل میڈیا،محبت اور پڑھائ تحریر:خدیجہ نقوی

    چند دنوں پہلے کی بات ہے سوشل میڈیا کی زینت بنی ایک ویڈیو ہر عام و خاص کی زباں پہ محو گفتگو تھی۔ جی ہاں میں لاھور میں ایک نجی یونیورسٹی میں پرپوزل کی وائرل ویڈیو کی ہی بات کر رہی ہوں۔
    اس ویڈیو نے اپنے ہر طبقہ فکر کو اپنے اندر سمو لیا تھا کچھ لوگ لڑکی لڑکے کہ محبت کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے تو وہیں ایک طبقہ ایسا تو جو اسلامی نقطئہ نظر سے تنقید کا نشانہ بنا رہا تھا۔۔۔۔ جب بات عورت کی آۓ اور اس طرح آۓ تو میرا جسم میری مرضی والی سوچ سے ہم آہنگی رکھنے والے کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اسلام میں سے صرف اپنے مطلب کو justify کرتا حصہ اٹھایا اور اس عمل کی حمایت میں اس جواز کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوۓ کہ اسلام میں لڑکی کو اسکی مرضی کا پورا اختیار دیا ھے۔
    بات رسد و طلب کے خط کی طرح اپنی اونچائی کو چھو کہ آہستہ آہستہ گرنے لگی اور لوگ اس واقعے کو بھولنے لگے۔اس کے کچھ عرصے بعد سننے میں آیا کہ دونوں کی شادی ہو گئ ھے۔اور چ
    پھر یہ خبر آئ کہ شادی نہیں ہوئ بات پکی ہو گئ ھے تعلیم مکمل ہونے کے بعد شادی ہو جاۓ گی جس سے ایک تسلی ہوئ کہ چلو آخر کو جو ہوا س ہوا مگر یہ ایک اچھا انجام ہو گا۔ایک دن ہونہی فیس بک سکرولنگ کے دوران ایک ویب چینل پہ لاہور یونیورسٹی کی طالبہ کا انٹرویو نظروں سے گزرا کہ جسے دیکھ کہ میں سر پکڑ کہ رہ گئ کہ ایک لڑکی جو اپنی اپنے ماں باپ کی عزت کو پس پشت رکھ کہ سرعام شہریار کو پرپوز کرتی ھے اور وہ اس لئے کہ لوگوں کو پتہ چل جاۓ کہ یہ دونوں جلد شادی کرنے والے ہیں اور جس کا جواب شہریار بھی مثبت انداز میں دیتا دیکھائی دیتا ہے لیکن کچھ عرصے میں وہ لڑکا اپنے وعدوں کو وفا نہ کرتے ہوۓ فیملی پریشر میں رشتہ ختم کئے اگلی زندگی کی جانب رواں دواں ہوتا ھے۔
    یہاں سوال میرا ان لنڈے کے لبرلز سے ھے کہ کل تک جو محبت کے قصیدے پڑھتے تھکتے ہیں اب اس بے وفائی پہ کچھ تو شرم کر لیں۔
    سوشل میڈیا کی آزادی ڈراموں اور فلموں میں کالج یونیورسٹی کی عشق محبت کی لازوال داستانیں آپ کے بچوں کو یونیورسٹی میں آئنسٹائن یا نیوٹن نہیں بلکہ ہیر رانجھا۔۔۔ لیلیٰ مجنوں کا پیروکار بنا رہی ھے۔
    حد تو اس وقت ہوتی ھے جب یونیورسٹی کے انتظامیہ اس پہ کوئ سخت ایکشن نہیں لیتی جب تک ان پہ معاشرتی دباؤ نہ آۓ۔۔۔ شہریار اور حدیقہ کے کیس میں بھی یہی ہوا ان سے پہلے اس یونیورسٹی میں دو طلبہ کہ طرف سے دو بار یہ ڈرامہ ہو چکا ھے مگر وہ ایکسپیل ہونے سے بس اس لے بچے کہ انکی ویڈیوز وائرل نہیں ہوئ۔ اور یونیورسٹی پہ کوئی معاشرتی اور اخلاقی دباؤ نہ تھا۔
    یہاں ایک سوال ان تعلیمی اداروں سے بھی ھے کہ مدرسے تو صرف درس و تدریس کا مسکن تھے تو کیوں آج انڈین گانوں پہ کالج یونیورسٹی کی فنکشنوں میں نوجوان اساتذہ کے سامنے تھرکتے پھرتے ہیں۔
    کیوں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیمی ادراے مغربی ثکافت کی پرچھائ بن گۓ ہیں۔۔۔
    یہاں سوال اس باپ سے ھے کہ جس نے اچھا کمانے کے لیے دن رات ایک کردیا اولاد کو خود سے دور اور زندگی کے نازک ترین دور میں اکیلا چھوڑ دیا کہ جہاں باپ کی نظر میں یہ تک نہ آیا کہ میرا بیٹا یا بیٹی کس سے بات کرتا ھے کس طرح کی بات کرتا ھے۔
    یہاں سوال ھے ایک ماں سے آج کی۔ماں جس کی زندگی میں گھر کے کام اور سوشل میڈیا رچ بس گیا ھے اپنا فارغ وقت اپنے پہ لگانے کی غرض سے یو ٹیوب فیس بک پہ وقت گزارنے والی خواتین اپنی بچیوں کی پرسنل زندگی میں اب کیوں دخل اندازی نہیں کرتی۔ بچوں کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں انکے حال پہ چھوڑ دیا جاۓ بلکہ آزادی تو یہ ھے کہ لڑکیاں جب کیپٹن مریم بن کے شہید ہوتی ھیں بے نظیر بن کے سیاست میں قدم رکھتی ہیں تو والدین کے ساتھ قوموں کا فخر بن جاتی ھیں۔

    Twitter ID ‎@KhadijaNaqvi01

  • جدید موبائل فونز کے فوائد (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    جدید موبائل فونز کے فوائد (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    آئے روز اس دنیا میں نئی سے نئی ایجادات اور جدید سے جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائے جانے کی اس دوڑ میں جہاں اِس اشرف المخلوقات نے اپنی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بہت ساری کامیاب ایجادات کی ہیں۔ اُنہی ایجادات میں سے ایک بہت بڑی اور حیران کُن ایجاد آج کے دور میں تقریباً ہر ایک انسان کے استعمال میں رہنے والے سمارٹ سسٹم موبائل فونز بھی ہیں۔

    جیساکہ اِس سے پہلے بھی اِن جدید سسٹم موبائل فونز کے ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے منفی اور بُرے اثرات پر میرے تین کالمز شائع ہو چکے ہیں تو آج میں اپنی اِس تحریر کے زریعے اِن موبائل فونز کے ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے اچھے اور مثبت اثرات بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ اگر ہم اِن جدید سسٹم موبائل فونز کے فوائد کو دیکھیں تو یہ اَن گنت ہیں جن کا شمار کیا جانا بھی بہت مشکل ہے، لیکن میں اپنے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ کسی حد تک زیادہ سے زیادہ فوائد کا تفصیلاً ذکر کر سکوں۔

    ~ تیز ترین پیغام رسانی، ڈیجیٹل کتابت کا بہترین زریعہ اور قرآن و حدیث تک کا موبائل کے زریعے مطالعہ بھی ایک بڑی سہولیات میں سے ایک ہے۔

    اس موجودہ اکیسویں صدی میں اس جدید سے جدید ٹیکنالوجی کے زریعے اب ہر کام آسان و سہل ہونے کے ساتھ ساتھ تیز ترین بھی ہوتا جا رہا ہے۔ پرانے وقتوں میں ہمیں جہاں اپنے کسی جاننے والے کو اپنا ایک پیغام پہنچانے کیلئے کئی کئی ہفتوں اور مہینوں تک انتظار کرنا پڑتا تھا، اب اِن جدید سسٹم موبائل فونز نے ہمارا یہ کام اتنا آسان کر دیا ہے کہ اب اگر ہمیں پوری دنیا میں کہیں بھی کسی کو اپنا کوئی پیغام بھجوانا ہو یا پھر اُن سے بات کرنی ہو تو اِن موبائل فونز کے زریعے پلک جھپکتے ہی ہمارا پیغام اپنی منزلِ مقصود پہ پہنچ جاتا ہے۔

    پوری دنیا میں کہیں بھی اب آپ کا کسی سے بات کرنے کے لیے بس اُس کا رابطہ نمبر ہونا ضروری ہے جس کے زریعے سے آپ اُن سے کسی بھی وقت خواہ آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، آپ اپنا پیغام لکھ کر، اپنی آواز ریکارڈ کر کے یا پھر آپ براہ راست آپس میں بات کر کے بھی پہنچا سکتے ہیں۔

    اور پھر آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا کے نام سے پکاری جانے والی لا تعداد ایپلیکیشنز بھی ایجاد ہو چکی ہیں، جنہیں ہم اپنے اِن جدید سسٹم موبائل فونز میں انسٹال کرنے کے بعد اُن کے زریعے سے بھی ہم آپس میں بات کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو دیکھ بھی سکتے ہیں اور براہ راست ویڈیو کال کے زریعے ہم آپس میں باتیں بھی کر سکتے ہیں۔ جو کہ ایک انتہاء درجے کی ترقی، سہولت اور فوائد میں سے ایک ہے۔

    اسی طرح پہلے ادوار میں اگر ہمیں اپنی کوئی من پسند کتاب پڑھنے کا جی چاہتا تھا تو اُسے ڈھونڈنے کے لیے کئی کئی دن صَرف کرنے پڑتے تھے، بعض اوقات تو ہفتے اور مہینے بھی لگ جایا کرتے تھے۔ لیکن جب سے یہ جدید سسٹم موبائل فونز عام ہوئے ہیں تب سے آپ کو صرف انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے جس کے زریعے سے آپ کسی بھی مصنف کی کوئی بھی کتاب چند منٹوں میں انٹرنیٹ کے زریعے ڈھونڈ کر ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے پاس محفوظ بھی رکھ سکتے ہیں اور اسے اپنے موبائل پہ ہی پڑھ بھی سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ پھر آپ اخبارات، رسائل، تدریسی و ادبی اور تاریخی کتب، شعر و شاعری، اقبالیات، فنونِ لطیفہ اور ہر وہ اقسام کی کتابیں جو آپ کو پسند ہوں اور آپ پڑھنا چاہتے ہوں، چند منٹوں میں انہیں بھی انٹرنیٹ کے زریعے سے ڈھونڈ کر پڑھ سکتے ہیں۔ جو کہ اب اِن جدید سسٹم موبائل فونز کی وجہ سے ہی ہمارے بہت سارے وقت کی بچت بھی ممکن ہوئی ہے اور یہ ایک بہت ہی بہترین اور آسان سہولتوں میں سے بھی ایک ہے۔

    اس کے بعد اگر ہم اسلامی لحاظ سے بھی دیکھیں تو پہلے جہاں ہمیں قرآن مجید کے علاوہ باقی جتنی بھی کتب تھیں (کیونکہ قرآن مجید تو الحمد للہ ہر گھر میں بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں) جن میں قرآن مجید کا مختلف علماء کا کیا ہو ترجمہ، قرآن مجید کی تفسیر، احادیث کی کتب اور اِن کے علاوہ جتنی بھی اسلامی کتب تھیں، اُن کو پڑھنے کی غرض سے حاصل کرنے کے لیے ہمیں دور دراز شہروں میں موجود لائبریریوں اور کتابوں کی دوکانوں پہ جانا پڑتا تھا اور بعض اوقات تو ہمیں اپنی مطلوبہ کتب عدم دستیابی کی وجہ سے وہاں سے بھی نہیں مل سکتی تھیں، جس کا پھر کافی دنوں یا ہفتوں اور بعض دفعہ تو مہینوں تک کا انتظار کرنے کے بعد، وہ بھی سپیشل آرڈر کی صورت میں منگوانے پر بامشکل ملا کرتی تھیں۔

    تو اب اِن جدید سسٹم موبائل فونز کے عام ہو جانے کے بعد ہمیں قرآن مجید کی بھی بہت ساری ایسی ایپلیکشنز مل جاتی ہیں، جن کو ہم انٹرنیٹ کے زریعے سے اپنے اِن موبائل فونز میں ڈاؤن لوڈ بھی کر سکتے ہیں اور پھر جب چاہیں اسے انٹرنیٹ کے بغیر ہی تلاوت بھی کر سکتے ہیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ آپ قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر، احادیث قدسیہ، فقہاہ اور تقریباً ہر طبقہ فِکر سے تعلق رکھنے والے علماء کی لکھی گئی کتابیں، پھر ان کی تقاریر اور دینوی و دنیاوی مسائل پہ اُنکی کی گئی جراح کو بھی اپنے اِن جدید سسٹم موبائل فونز پہ ہی پڑھ، سُن اور دیکھ بھی سکتے ہیں۔ جِس سے ہمارے وقت کی بھی بہت ساری بچت ہو جاتی ہے اور ہم ایک ہی موضوع پہ مختلف علماء کی لکھی ہوئی کتابوں سے حوالے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ ایک انتہائی اعلٰی درجے کی سہولت اور بڑے فوائد میں سے ایک بھی ہے۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ ہم پہ بطور مسلمان اور ایک اچھے محبِ وطن پاکستانی ہونے کے ناطے سے بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اس جدید سے جدید ٹیکنالوجی اور اِن جدید سسٹم موبائل فونز کو ایک غنیمت اور نعمت جانتے ہوئے جہاں تک ہو سکے نیکی اور اچھائی پھیلانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور اِن موبائل فونز کے زریعے سے ہی پھیلائی جانے والی لا تعداد برائیوں، ان کے بُرے اسباب، استعمال اور اثرات سے بھی دوسروں کو بچانے کی جتنی ممکن ہو سکے، کوشش بھی کرتے رہنا چاہیے۔ تاکہ ہم اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل کر سکیں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    – Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK