Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • افغان امن عمل ، طالبان، اور افغانستان کی بگڑتی صورتحال    تحریر:زاہد چوہدھری

    افغان امن عمل ، طالبان، اور افغانستان کی بگڑتی صورتحال تحریر:زاہد چوہدھری

    افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کرنے کی پہلی کوشش اوباما کے دور میں میں منظر عام
    پر ٓئیں۔ پھر 2011 ء اور 2013ء کے اوائل میں کو ششیں کی گئیں لیکن بد قسمتی سے وہ بھی ناکام رہیں؛ جون 2013ء میں قطر میں ہونے والے مذاکرات کو صدر حامد کرزئی نے صرف اس لے منسوخ کر دیا تھا کیونکہ طالبان نےُُُ امارت اسلامی افغانستان کا پرچم اس دفتر پر لگادیا تھا جہامذاکرات منعقد ہونا تھے۔اس کے صرف ایک ماہ بعد طالبان نے اپنا دفتر بند کر دیا اوافغان امن عمل مذاکرات طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہے۔ پھر تین سال بعد ایک ا جلاس امریکہ، چین اور پاکستان کے درمیان2016ء میں ہوا، جس کی سربراہی پاکستان نے کی، اورجس کا مقصد طالبان کابل امن کو یقینی بنانا تھا، لیکن اس کا بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہو سکا۔

    ٹرمپ، جنہوں نے اگلے سال امریکہ میں عہدہ سنبھالا، نے افغانستان امن مذاکرات کو ایجنڈے میں شامل کیا اور طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوششیں کیں۔دوسری طرف اشرف غنی حکومت نے نہ صرف امریکہ کے اس ا قدام کی ؎حمایت کی بلکہ کہا کہ وہ طالبان کے ساتھ بغیر کسی شرط کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ طالبان کے ساتھ مختلف وعدے بھی کیے گئے جن میں افغان جیلوں میں قید طالبان کی رہائی، اور طالبان کو ایک سیاسی جماعت تسلیم کرنا، اور دونوں جانب سے حملوں کا روکنا شامل تھا۔ لیکن جب کابل حکومت نے طالبان سے کیے گئے وعدوں پر عمل نہ کیا تو طالبان نے کابل حکومت سے یہ کہتے ہوے منہ موڑ لیا کہ وہ خود کو صرف امریکہ سے مخاطب کریں گے نہ کہ غنی سے۔ اس کے بعد 2018ء سے طالبان نے سخت گیر اور غیر سمجھوتے والا رویہ محدود طریقے سے کم کیا،امریکہ اور طالبان کے نمائندوں نے فروری 2019ء میں امن مذاکرت کے لیے دوحا میں ملاقاتیں کیں جو چھ ماہ تک جاری رہیں اور یہ اعلان کیا گیا کہ امریکہ اور طالبان معاہدے کے قریب ہیں۔

    تاہم، اگست 2019ء میں یہ مثبت مزاج جلد ہی غائب ہو گیااور اگلے مہینے امریکی نمائندہ خصوصی برا ئے افغان امور زلمے خلیل زاد نے اعلان کیا کہ فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے اور یہ کہ ٹرمپ کی منظوری طلب کی گئی ہے۔ لیکن ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے کابل میں دہشت گردانہ حملے میں ایک فوجی کی ہلاکت کے بعد اس معاہدے کو روک دیا تھا۔

    پھر دسمبر2019ء میں امریکہ اور طالبا ن کے درمیا ن دوبارہ مذاکرات شروع ہو ئے،یہ خیال کہ خلیل زاداور طالبان حکام کے درمیان امن مذاکرات ٓہستہ ٓہستہ ختم ہوگئے تھے،اور پہلی بار دیکھا گیا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات بہت ٹھوس ہوے ہیں۔ تشدد میں کمی، افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کا انخلاء،بین الافغان مذاکرات، اور طالبان کے امن معاہدے کے مذاکرات کے فریم ورک کے اندر انسداددہشت گردی کی ضمانت جیسے فیصلوں کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا اور یہ کہ امریکہ ستمبر 2021ء تک اپنی افواج کو افغانستان سے نکال لے گا۔امریکہ نے یہ معاہدہ اس شرط پر کیا کہ طالبان افغانستان کے اندر القائدہ جیسے عسکریت پسند گروہوں کا خاتمہ کریں گے۔

    ان مذاکرات کی رو سے افغانستان سے تقریبا 20 سال کے بعد امریکی فوج نے صدر بائیڈن کی ہدایت پر ملک سے فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ کیا جس سے امریکہ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ پنٹاگو ن کے مطابق 95 فیصدامریکی فوجی انخلا کر چکے ہیں، جسکے ساتھ ہی طالبان نے اپنی موجودگی کو ملک کے بڑے حصوں تک بڑھا دیا ہے، اور طالبان نے دعوہ کیا کہ انہوں نے ملک کے بیشتر داخلی اور خارجی راستوں پر قبضہ جما لیا ہے، جن میں پاکستان کے ساتھ منسلک اسٹریٹجک بارڈر سپین بولدک، ایران اور ازبکستان کے بارڈرز شامل ہیں۔

    لانگ وار (Long War Journal) کے مطابق طالبان صوبہ ہرات کے 16 میں سے13 اضلا ع پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں، اسکے علاوہ طالبان421 اضلا ع میں سے 223 اضلا ع کا کنٹرول رکھتے ہیں جن میں سے 116اضلا ع میں حکومت اور طالبان کے درمیان لڑائی جاری ہے، اور 68 پر کابل حکومت کا قبضہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی 34 میں سے 17 صوبائی دارلحکومتوں کو طالبان کی طرف سے براہ راست خطرہ ہے۔ حکومت اور طالبان کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے، طالبان نے ہرات،ہلمند،اور قندھارکے گرد گھیرہ تنگ کر دیا ہے جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    غیر ملکی افواج کے انخلاء اور طالبان کی پیش قدمی کے نتیجے میں افغانستان کی سیکیورٹی کی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے، لاکھوں لوگ گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے، اور شہری ہلاکتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں، لیکن نہ طالبان اور نہ ہی حکومت کسی ایسے نقطے پر رضا مند ہو پا رہے ہیں جس سے افغانستان میں دیرپا امن ممکن ہو، جو کہ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب کابل اور طالبان مزاکرات کی میز پر بیٹھیں، وگرنہ ممکنہ مفادات کاٹکراؤ مزید تشدد میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ افغان امن عمل ان افغانیوں پر منحصر ہے جوکہ ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔

    Zahid Chaudhary – from King Edward Medical University is a freelance writer, author, and columnist. He works with multimedia channels, and his articles have been featured multiple times. He currently writes for Baaghitv.
    Twitter ID: @zahidch01

  • ن ش م اور لیگی ووٹر تحریر : فیصل خالد

    ن ش م اور لیگی ووٹر تحریر : فیصل خالد

    پینتیس برس تک اقتدار کی باریاں سمیٹنے والی ن لیگی قیادت شریف خاندان کو ملک کی ترقی کیلئے ابھی بھی بلا شرکت غیرے اقتدار ملنے کے خواب آتے ہیں۔ تین بار کے وزیراعظم نواز شریف اور پانچ بار کے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف حصول اقتدار کی اس کشمکش میں بظاہر بوکھلائے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ برسوں اقتدار میں رہنے والے برادران اپنی اولاد کی خواہشوں کے آگے بھی مجبور نظر آرہے ہیں۔ اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ن لیگ میں شریکے کی کھچڑی پک رہی ہے۔برادران اپنے تئیں اقتدار اپنے سیاسی جانشینوں کو سونپنا چاہتے ہیں۔ اور اسوقت دونوں بھائیوں کی اولاد میں ایک کی بیٹی اور دوسرے کا بیٹا عملی سیاست میں ہے۔ عمومی رائے ہے کہ نواز شریف کو اپنی بیٹی میں ملک کی دوسری خاتون وزیراعظم دکھائی دیتی ہے جبکہ شہباز شریف کا بیٹا خود نواز شریف بننا چاہتا ہے۔ پارٹی کے اندر چل رہے اس کھیل کے بعد برادران کے
    مفاہمت اور مزاحمت کے سیاسی بیانیے ہیں۔ غیر سنجیدہ لوگوں کے نزدیک یہ معاملہ ن لیگ کے بٹوارے پر منتج ہوگا جبکہ سنجیدہ حلقے اسے بھی سیاسی چالبازیوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ بات کرتے ہیں برادر اکبر
    میاں نواز شریف کی تو اقتدار سے باہر آنے کے بعد وطن عزیز میں جتنا عرصہ خاموش رہے۔ خاموش رہ کر بیماریوں کا گھر دکھائی دینے لگے۔ ان کے چاہنے والوں کی پریشانی روز بروز بڑھنے لگی کہ ان کے مسیحا کو آخر کیا غم لاحق ہوگیا ہے۔ خدانخواستہ یہ سایہ ان کے سروں سے اٹھ گیا تو ملک کو ، اس قوم کو کون سنبھالا دے گا۔
    ٹی وی سکرینوں پر دکھائے جانے والے میاں جی کی حالت قابل رحم نظر آنے لگی ان کے پلیٹلیٹس کو لیکر میڈیا نے دن رات میاں نواز شریف کی پتلی حالت پر حکومت وقت کو لتاڑنا شروع کردیا۔ ڈاکٹر نے میاں صاحب کی سانسیں گنوانا شروع کردیں۔نوبت یہاں تک آگئی کہ بالآخر وطن واپسی کا 50روپے والا بیان حلفی اسٹامپ پیپر دیکر میاں صاحب اپنی لندن والی آرامگاہ کو سدھار گئے۔ ملکی سیاست میں میاں نواز شریف کی بیٹی مریم بی بی کی دبنگ انٹری ہوئی۔ بیماری کی وجہ سے جو الفاظ ادا کرنے کیلئے والد کی زبان لڑکھڑانے لگی تھی وہ بیٹی مریم زوجہ صفدر کی زبان سے ادا ہونے لگے سیاسی جلسے جلوسوں میں ملکی اداروں اور من پسند شخصیات کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی گئی۔ ادھر پر فضا مقام لندن کی آب و ہوا کے اثر سے میاں نواز شریف دھیرے درمے سخنے صحت یاب ہوتے گئے تو ان کے غصے کا پارہ بھی بتدریج بلند ہونا شروع ہوگیا۔ پاکستان میں لاغر سا نظر آنے والا شیر ٹویٹر کے علاوہ ویڈیو پیغامات کے ذریعے گرجنا برسنا شروع ہوگیا۔ نونہالان وطن اپنے چاہنے والوں کو اداروں سے نفرت ،حقارت، مر مٹنے اور ڈٹ جانے کی تبلیغ کی جانے لگی۔ بیرون ملک اپنی اولاد کیساتھ بیٹھا ہوا شیر مزاحمت کے بیانیے سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو للکارتا اور اسی سے اپنے حامیوں کو جوش دلواتا ہے جبکہ ن لیگ کا مرد آہن جونیئر شریف مفاہمت کے بیانیے سے ڈنگ ٹپاؤ کام نکلواؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہو گیا۔اعلی قیادت کے اس سارے کھیل میں آزاد کشمیر کے انتخابات بھی ہوگئے۔ برسر اقتدار جماعت واضح سیٹیں حاصل کر کے کامیاب ٹھہری۔ مگر مفاہمت اور مزاحمت کا تماشہ بدستور لگا ہوا ہے۔
    برادران کے اس سارے سیاسی کھیل تماشہ میں ان کے دیرینہ رفیق اور حامی کچھ ڈانواں ڈول دکھائی دے رہے ہیں جنہیں ہر نئے دن نئی نئی وضاحتیں دینا پڑتی ہیں۔ جوشیلے حامیوں کا حال تو پتلا ہوا جاتا ہے کہ وہ کس چکر میں بلکہ گھن چکر میں پھنس گئے ہیں بیشتر کو تو حلقہ احباب میں منہ چھپانے کیلئے بھی ماسک کی ضرورت درپیش آرہی ہے۔ ن لیگ کے حامی مزاحمت والا بیانیہ لیکر چلتے ہیں تو خود کو شیر گردانتے ہیں دوسری جانب جب مفاہمت کے بیانیے کی باری آتی ہے تو شیر بیمار ہوکر آئیں بائیں شائیں کرنے لگ جاتا ہے۔ مریم بی بی کی مزاحمتی راگنیاں بھی چچا کی مفاہمتی بانسریا میں دبتی جارہی ہیں۔ ن کے ووٹر اور سپورٹر ایسے حالات میں خود پریشان ہیں کہ وہ اپنا سا منہ لے کے آخر کہاں جائیں؟؟؟ نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ ان کے حامی بھی ن میں سے کبھی ش تو کبھی میم بلکہ میم میخ نکالنے کا عمل کرنے لگتے ہیں۔اور ان ووٹروں کی حالت زار دیکھ کر اب یہی اندازہ ہوتا ہے۔
    خدا ہی ملا نہ وصال صنم
    ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے۔
    ‎Twitter handle
    @_FaysalKhalid

  • کشمیر ظلم کی تصویر تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    کشمیر ظلم کی تصویر تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    کشمیر کی بیش بہا خوبصورتی کو دیکھ کر بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ارض زمین میں جنت کا ٹکڑا اُتر آیا ہو ۔ اللہﷻ کی بیش بہا خوبصورتیوں کا مرکز کہلانے والی سرسبز و شاداب وادیِ کشمیر جس کی خوبصورتی کا نظارہ کرنے اور جنت میں پہچنے کا احساس محسوس کرنے کی آرزو شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جو دل میں نہ رکھتا ہو۔ مگر قدرت کی بیش بہا خوبصورت وادی کشمیر بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو نازی عقوبت خانہ بنے ہوئے دو سال ہوچکے ہیں۔

    8 لاکھ کشمیری باشندے ایک بہت بڑی جیل میں قید ہیں جس میں نہ کشمیری بچے اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی مریض اور بزرگ اپنی طبی معائنے کے لیے ہسپتال کا رخ کرسکتے ہیں، نہ ہی کشمیریوں کو ایک دوسرے سے ملنے دیا جا رہا ہے اور نہ ہی کشمیریوں کو اپنے اوپر ڈھائے جانے والے بھارت کےمظالم کی
    داستان سنانے کے لیے انٹرنیٹ میسر ہے۔ کورونا واٸرس کو جواز بناتے ہوئے بچی کھچی رعایتوں کو بھی سلب کیا جا رہا ہے۔۔اور کشمیر بھارتی فوجوں کے شکنجہ میں گھراہوا ہے۔

    وہ کون سا ظلم وستم ہے جو اہل کشمیر پر نہیں کیا جاتا ستر برس سے زاٸد کا عرصہ گزر چکا ہے اس بات کو سنتے سنتے کہ اہل کشمیر کا مسئلہ ابھی اقوام متحدہ میں حل طلب ہے مگر آئے روز یہ خبریں سننے کو اور دیکھنے کو ملتی ہیں کہ بھارتی کی فوج نے وادی کشمیر کو جنگ کا میدان بنایا ہوا ہے وادی کشمیر میں ہہیمانہ تشدد اور بے قصور کشميریوں کا خون سر عام بہانا ، بچوں کو بوڑھوں کو پلیٹ گنز کے ساتھ اذیت دینے کے بعد شہید کردیا جاتا اور یہ ہی نہیں بلکہ کشمیری عورتوں کی عزت و آبرو کو پامال کرنا بھی بھارتی فوج کے ظلم و ستم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    وادی کشمیر میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ آج تک کشمیر کی بے گناہ عوام برداشت کر رہے ہیں ہر دن کئی کئی گھرانے اُجاڑ دینا اور یہ ہی نہیں بلکہ ایسی روح کانپ جانے والی سزاوں سے کشمیریوں بہن بھاٸیوں کے دن کا شروعات ہوتی ہے کہ رات تک کئی کشمیری بچے یتیم ،کئی کشمیری عورتیں بیوہ اور کئی گھرانے بے آسرا ہوجاتے ہیں اور پھر اس طرح ظلم و ستم کی حالت میں غم سے نڈھال ،چور چور یہ کشمیری جلد ہی موت کو گلے لگا لینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں ۔

    حریت رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیری بہن اور بھاٸیوں کو جیلوں قید کیا گیا ہے جہاں انہیں جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، انہیں بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے

    قارٸین! پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھاتی رہی ہے۔ ۔اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارد ادیں اہل کشمیر سے اِس بات کا عہد کرتی ہیں کہ اہل کشمیر کے مسئلے کا حل کشمیریوں کی خواہش کے مطابق ریفرنڈم کے ذریعے ہوگا۔

    موت کے سائے میں زندگی گزارنے والے کشمیری آج بھی پر امید ہیں کہ ایک دن وہ ضرور آئے گا جب کشمیری بھارتی تسلط سے آزاد ہو کر آزاد فضاؤں میں سانس لیں گے اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں گے ان شاء اللہ۔

    میری اقوام متحدہ سے گزارش ہے کہ آپ نے اہل کشمیر سے حق خود ارادیت کا جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کیا جاٸیگا اور جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا پاکستان کا کوئی شخص چین سے نہیں بیٹھے گا

    اللہ پاک اہل کشمیر کو آزادی نصیب فرما اور ظالموں کو تباہ برباد کر دے، آمین.

    ‎@JahantabSiddiqi

  • ملک میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ۔! تحریر: رضیہ سلطانہ

    ملک میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ۔! تحریر: رضیہ سلطانہ

    گزرتے وقت کے ساتھ ماد روطن میں ہر قسم کے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خواہ وہ چوری ڈکیتی ہو، اغوا برائے تاوان، بھتہ وصولی یا پھر لڑکیوں کو اغوا کر کے انہیں فروخت کرنے کا مکروہ دھندہ۔ جنسی زیادتی کے علاوہ منشیات فروشی سے نوجوان نسل کو اس منحوس لت میں مبتلا کروا کر ان کی وڈیوزکے ذریعے قابل اعتراض بنا کر انہیں بلیک میل بھی کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جو نہ صرف گھناؤنہ اقدام ہے بلکہ خوفناک بھی ہے۔ اس لحاظ سے تمام صوبے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ حکومت کا اپنا کردار ہے جو عوام کو سہولیات پہنچانے کی بجائے اپنی پوری توجہ اپوزیشن پر الزام تراشی پر ہی رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ دوسری طرف تمام اپوزیشن جماعتوں کا بھی یہی حال ہے۔ وہ سب کے سب اپنا ہی نہیں بلکہ ملک و قوم کاقیمتی وقت برباد کر کے عوام کو در بدر کرا رہی ہیں۔ ملک نہ ہوا بلکہ جنجال پورہ بن چکا ہے۔ آخر حکومت اور حکمراں کب سنجیدہ ہوں گے اوراپنی مظلوم عوام کو تحفظ فراہم کرائیں گے۔ تین برسوں سے یہی تماشاجاری ہے۔ شہری اس صورت حال سے بہت پریشان اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پالیسی میکر بھی اس اہم باریکیوں کی جانب توجہ دیں جن پر بار بار ایک پیج پر ہونے کا واویلہ کیا جاتا ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے اس کے اقتدار کے تین برس کم نہیں ہوتے۔ کرنے والوں کے لیے پندرہ دن بھی بہت ہوتے ہیں مگر اس کے لیے قوت ارادی کا فعال ہونا ضروری ہے۔ تحریک انصاف اب اپنے انصاف کے تقاضے پورے کرے۔ قوم کی قوت برداشت جواب دے گئی ہے۔ عوام کو مایوس نہ کیا جائے۔!! ٭

  • 5 اگست یوم استحصال کشمیر   تحریر : سیف اللہ عمران

    5 اگست یوم استحصال کشمیر تحریر : سیف اللہ عمران

    5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت کو تبدیل کیا اور کشمیریوں پر ظلم کا ایک نیا دور شروع کیا۔ آئین ہند میں کشمیر پر دو بنیادی آرٹیکل شامل تھے۔ آرٹیکل 370 جو مقبوضہ ریاست کو خصوصی حیثیت دیتا تھا
    اور آرٹیکل 35 اے کے تحت یہ واضح کیا گیا تھا کہ کون مقبوضہ کشمیر کا مستقل شہری ہے اور کون زمین خرید سکتا ہے۔
    اسکے ختم ہونے کے بعد سے تب سے وہاں بدترین مظالم شروع ہو گئے۔ کشمیری عوام بیرونی دنیا سے کٹ گئے اور وادی کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم گزشتہ ایک صدی سے جاری ہے ، لیکن آرٹیکل 370 اور 35 اے کے منسوخ ہونے کے بعد سے صورتحال خراب ہو گئی ہے۔
    کشمیری عوام کے لیے صدیوں سے ہر لمحہ بھاری ہے۔
    ہزاروں فوجی اہلکار ہر وقت سڑکوں پر گشت کرتے ہیں اور علاقے میں کسی احتجاج یا اجتماع کی صورت میں فوری کارروائی کرتے ہیں۔

    یہ عمل کیا ہے؟ نہتے کشمیریوں کو خون میں نہلایا جاتا ہے ، حوا زادیوں کی معصومیت کو پاؤں تلے روند دیا جاتا ہے ، کشمیروں کو قید کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان پر آتش فشاں کی بارش کی جاتی ہے۔ وہاں قائم کیے گئے عقوبت خانے ہٹلر اور چنگیز خان کے مظالم کو شرما رہے ہیں جانداروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، ان کے ہتھوڑے ہتھوڑوں سے توڑے جاتے ہیں ، ناخن نکالے جاتے ہیں ، اور ان کے سر اور داڑھی کے بال نوچ لیے جاتے ہیں۔

    آج کشمیر ایک خونی سوالیہ نشان ہے جو قلم کی نوک سے ٹپک رہا ہے۔ بلاشبہ یہ کرہ ارض پر ہمارے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

    جہاں بھارتی سامراج کے ظلم نے آگ بھڑکا رکھی وہیں کشمیری عوام کا جذبہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ وہ ہمت اور بہادری کے نشان ، آج کشمیر کا ہر گھر محاز جنگ کی کیفیت میں، ہر گلی میدان جنگ ہے ۔ کشمیر کا ہر گھر شہیدوں کے خون سے روشن ہو رہا ہے۔ کشمیری عوام بغیر کسی بیرونی مدد کے اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کے ارادے عظیم ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔ وہ اپنے ہی خون میں ڈوب رہے ہیں اور کشمیر کی آزادی کا جھنڈا لہرا رہے ہیں۔ اگرچہ بھارتی قاتل طاقتیں کشمیر پر اپنے خونی پنجے بچھا رہی ہیں ، لیکن آزادی کشمیر کے ہر سانس سے "کشمیر بنے گا پاکستان” کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ کشمیریوں کا کیا قصور ہے؟
    ایک پرندہ بھی پنجرے سے آزادی چاہتا ہے تو پھر ایک کروڑ سے زیادہ کشمیریوں کو آزادی کیوں نہیں؟
    تقسیم ہند کے دوران بھارتی حکومت نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا اور آج تک وہاں کے لوگوں کو حق خود ارادیت نہیں دیا گیا۔

    1948 کی جنگ آزادی میں جب ہندو سامراج نے کشمیر کو ہاتھ سے نکلتا دیکھا تو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ کا رخ کیا۔ 1948 اور پھر 1949 کی قراردادوں میں سلامتی کونسل نے واضح کیا کہ کشمیری عوام سے آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے طلب کی جائے گی کہ وہ کس ملک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ بھارت کتنا بھی تندہی سے کام کرے ، وہ اس تاریخی حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ پنڈت نہرو نے خود اپنی پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ "اگر کشمیری آزادانہ حق رائے دہی کے معاملے میں ہمارے خلاف فیصلہ کریں گے تو ہم اسے قبول کریں گے۔” لیکن وہ دن اور آج ہندوستان ہے بے شرمی سے کشمیریوں پر مظالم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    پاکستانی ریاست اور یہاں کا ہر شہری کشمیری عوام کے درد کو سمجھتا ہے۔ آج مسئلہ کشمیر کو ہر محاذ اور ہر سطح پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔ دو سال قبل اپنے دورہ امریکہ کے دوران ، وزیر اعظم نے کشمیری عوام کا موقف صدر ٹرمپ کو بغیر کسی غیر یقینی شرائط کے پہنچایا۔ ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں اقوام متحدہ نے کشمیر میں مظالم کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ ہمارے وزیر خارجہ اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات بھی کر رہے ہیں ، جو مختلف معاملات میں مثبت نتائج دکھا رہے ہیں۔ پچاس سال بعد ، اگست 2019 میں ، پاکستان کی درخواست پر ، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں زیر بحث لایا گیا۔ اسی طرح ہمارے پارلیمنٹیرینز کے ایک وفد نے کشمیر کا مسئلہ برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھایا۔ نومبر 2019 میں جب جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے بھارت کا دورہ کیا تو انہوں نے کھل کر کہا کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کی حالت زار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
    یہ خوشی کی بات ہے کہ مسلم ممالک بشمول یورپ اور امریکہ نے کم از کم مودی حکومت کی فاشسٹ پالیسیوں کے خلاف بھارت کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہر پلیٹ فارم پر اپنی آواز بلند کریں۔

    ہمیں ہر محاذ پر موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر مسلم دنیا کو اس سلسلے میں پوری طرح متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کی مدد دہشت گردی نہیں بلکہ بین الاقوامی بھائی چارہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو جنگ کو مسئلہ کشمیر کا واحد حل سمجھتے ہیں ، وہ دھوکے کی حالت میں رہ رہے ہیں۔ جدید ریاستیں ایسے تجربات کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کا مطلب پورے خطے کو آگ اور گولہ بارود کا ذریعہ بنانا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان جنگ سے گریز کر رہا ہے ، بلکہ یہ کہ پاکستان کسی غیر ذمہ دار ریاست کی طرح غصے میں جنگ شروع نہیں کرنا چاہتا۔

    آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے بھارت نے ہر حربہ آزمایا لیکن کشمیری عوام کی حریت کا جذبہ ٹھنڈا نہیں ہوا۔ آج اگر اس جنت کی وادی کو بھارتی سامراج نے روند ڈالا۔ یہاں کے لالہ زار اپنی سرخیاں کھو رہے ہیں اور شہداء کے خون سے لال ہو رہے ہیں۔ ان گنت مظلوم لوگوں کی آہیں اور جو ظلم کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ عرش الٰہی کا طواف کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ سارا منظر دل دہلا دینے والا ہے ، لیکن اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ آزادی کے طلوع ہونے کا پہلا پیش خیمہ ہے۔
    Twitter Handle
    ‎@Patriot_Mani

  • پاکستان میں عدل کا دہرا معیار  تحریر: احسان الحق

    پاکستان میں عدل کا دہرا معیار تحریر: احسان الحق

    کسی بھی معاشرے کی ترقی اور امن وامان کے لئے سزاء و جزا کا ہونا انتہائی لازمی ہے. کوئی بھی معاشرہ کسی بھی طریقے سے چل سکتا ہے مگر عدل کے بغیر نہیں چل سکتا. جب عدل ہی نہیں ہوگا تو سزا اور جزا کا تصور ہی ختم ہو جائے گا. جب کسی معاشرے سے سزا اور جزا کا تصور ختم ہو جائے تو وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے. پاکستان میں سزا اور جزا ہی نہیں بلکہ کمزور مظلوم کو مجرم ثابت کیا جاتا ہے اور طاقتور ظالم کو مظلوم ثابت کیا جاتا ہے.

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا. تم سے پہلی قومیں اس لئے برباد ہوئیں کہ جب ان میں سے کوئی امیر اور طاقتور جرم کرتا تو اس کو چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی غریب جرم کرتا تو اس کو سزاء دی جاتی. تم لوگ عدل سے کام لینا. عدل جو کہ اسلام کا اہم ترین اور بنیادی ترین اصول ہے اس کے مطابق عمل کر کے یورپ اور دوسرے غیر اسلامی معاشرے ترقی کر گئے ہیں اور ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو کر بھی اس اصول کو نہ اپنا سکے.

    بدقسمتی سے ہمارا اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کے اس بنیادی اور اہم ترین اصول سے بالکل خالی ہے. ہمارے ہاں بھی قدیم قوموں والا نظام عدل رائج ہے. بہت ساری مثالیں بلکہ حقائق موجود ہیں کہ طاقتور آزاد گھوم رہے ہیں. بااثر اور سیاسی یا حکومتی اثرورسوخ والے مجرم اعتراف جرم کرنے کے باوجود معصوموں کی طرح آزاد اور بے خوف و خطر گھوم رہے ہیں. 258 لوگوں کو زندہ جلانے والے نے اعتراف جرم کیا مگر اس کو سزا نہیں دی گئی. تقریباً 120 سے زیادہ لوگوں کے قتل کا اعتراف کرنے والا بھی ابھی تک انجام کو نہیں پہنچا.

    پاکستان میں طاقتور کے لئے اور کمزور کے لئے علیحدہ علیحدہ قانون ہیں. پچھلے دنوں مظفرگڑھ کے ڈپٹی کمشنر امجد شعیب نے اپنی گاڑی سے ایک غریب اور کمزور موٹر سائیکل سوار کو کچل دیا. کچلنے کے بعد اس کو مرنے کے لئے ٹرپتے ہوئے چھوڑ کر فرار ہو گئے. عینی شاہدین کے مطابق گاڑی خود ڈپٹی کمشنر صاحب چلا رہے تھے اور سراسر غلطی بھی ڈپٹی کمشنر صاحب کی تھی. پولیس نے فوراً ڈپٹی صاحب کو دوسری گاڑی میں بٹھا کر موقع سے فرار کروا دیا. مرنے والا کمزور اور غریب تھا، کمزوری اور غربت کی موت مر گیا اور ڈپٹی کمشنر صاحب معمول کے مطابق مزے میں ہیں.

    عدل و انصاف اور سزاء و جزا کے لئے پولیس اور عدلیہ دو اہم ترین ادارے ہیں. ان دونوں اداروں میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے. اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حکمرانوں، سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کے لئے کوئی قانون نہیں، ان کی مرضی جب چاہیں اور جیسا چاہیں کر گزریں. مالدار اور جاگیر دار اپنے پیسے کے بل بوتے پر قانون اور پولیس کو خرید لیتے ہیں. قانون کی بالادستی کے لئے باقی عام غریب اور کمزور پاکستانی رہ جاتا ہے. جس کی آدھی عمر یا بعض دفعہ ساری زندگی عدالتوں اور تھانوں کے چکر لگانے میں گزر جاتی ہے. آخر کب کمزور اور طاقتور دونوں ایک ہی قانون کے تحت سزا جزا کے مستحق ٹھہریں گے. آخر کب غریب اور جاگیر دار کے لئے ایک قانون ہوگا؟

    @mian_ihsaan

  • ہم ہیں پاکستان تحریر؛ آمنہ خان

    ہم ہیں پاکستان تحریر؛ آمنہ خان

    پاکستان ایک عظیم نظریاتی ملک ہے۔ جو ہمارے عظیم رہنماؤں کی انتھک کوششوں اور قربانیوں کی مرہونِ منت ہے۔
    ہمارے آباؤ اجداد نے قیامِ پاکستان میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اپنے مال ودولت، زمین، کاروبار کی فکر چھوڑی آنے والی نسلوں کا سوچا اور ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔
    برصغیر میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی نہ تھی۔ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں تھیں جن کا ساتھ رہنا ممکن نہ تھا اور یہی نظریہ قیام پاکستان کا موجب بنا۔
    چناچہ ١٤ اگست ١٩٤٧ کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ بحیثیت مسلمان ہم پاکستانی جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ ہماری اپنی منفرد تہذیب و ثقافت ہے۔
    پھر کیوں ہم دوسروں کی شخصیت سے متاثر ہو جاتے ہیں؟؟ کیوں یورپ کی ثقافت ہمیں اپنی طرف مائل کرتی ہے؟؟ کیوں ہمسایہ ملک کی رسم و رواج کو ہم نے خود میں بسایا ہوا ہے؟؟
    یہ سب دین سے دوری کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم غور کریں تو زندگی گزارنے کے سنہری اصول آج سے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیے گئے ہیں۔
    قرآن و حدیث کا اگر مطالعہ کریں تو حقوق اللہ اور حقوق العباد مفصل انداز میں بتا دیے گئے ہیں۔

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
    اور ہم خار ہوئے تارک قرآں ہو کر

    اب یہ ہم پہ ہے کہ قولی کے ساتھ ساتھ کتنا فعلی مسلمان بھی بنا جائے۔ کیونکہ یہی تو دو قومی نظریہ تھا۔ یہی تو قیامِ پاکستان کا موجب تھا۔
    ہمارے قومی دن جیسے یومِ قرار داد پاکستان، یومِ آزادی، یومِ دفاع اس لئے تو نہیں آتے کہ جھنڈیاں لگا لی جائیں، باجے بجا لیے جائیں یا پھر منچلوں کی ایک ریلی نکال لی جائے۔
    یہ تو نئی نسل کو متحرک کرنے کا دن ہے۔ تاریخ دہرانے کا دن ہے کہ ہم کتنی دلیر اور جرات مند قوم ہیں۔
    مگر افسوس کچھ لوگ ان دنوں کی اہمیت سے نا آشنا ہیں۔
    پاکستان ہمارے لیے سب سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ دینی مصروفیات کے بعد، دنیاوی فکرات میں پاکستان ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ ہمیں لسانیت کو ترک کرکے قومیت کو فروغ دینا ہوگا۔

    یہ وطن تمھارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے

    دنیا میں ہم جہاں بھی ہوں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے ہوں۔ ہمارے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ ہم صرف قولی نہیں بلکہ عملی پاکستانی ہوں۔ ہمارے رہن سہن، چال چلن اور ہمارے اطوار پاکستانی ثقافت کی عکاسی کرتی ہو۔
    ہم ایک عظیم تاریخ رکھتے ہیں۔ ہمیں بھلا کسی کو فالو کرنے کی کیا ضرورت۔ جسے آج ہم فیشن یا آزادی کا نام دیتے ہیں وہ بے حیائی اور اسلام سے دوری کے علاوہ کچھ نہیں۔
    ہر چیز اعتدال میں اچھی لگتی ہے اگر اس سے تجاوز کرو تو وہ اپنی اصل کھو دیتی ہے۔ اسی لیے اگر کسی غیر ملکی سے ہم متاثر ہوکر ہم وہی اطوار اپنانے کی کوشش کرتے ہیں تو اعتدال سے کریں کیونکہ اگر اس سے تجاوز کر گئے تو ہم اپنی اصل کھو دیں گے۔
    پیچھے ہماری کیا شناخت بچے گی؟؟
    خود کو پاکستان کا سفیر سمجھیں، پاکستان کا محافظ سمجھیں جسے پاکستان کی نظریاتی حدود کی رکھوالی کرنے ہے، جسے پاکستانیت کو فروغ دینا ہے۔
    فضول کے رسم و رواج میں پڑنے سے بہتر ہے کہ دین سمجھیں اس سے ہم قربِ الہی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔
    اردو اور انگریزی زبان میں فرق ختم ہونا چاہیے۔ دونوں زبانوں میں کوئی مقابلہ نہیں۔ اردو ہماری قومی زبان ہے جس کی اپنی اہمیت ہے اور اس کی جگہ کوئی بھی زبان نہیں لے سکتی اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہمارا اردو زبان سیکھنا بولنا اور استعمال کرنا لازم ہے۔

    آئیں اس ١٤ اگست عہد کرتے ہیں کہ پاکستان کا وقار بلند کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے کیونکہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔

    خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
    وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
    یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
    (آمین)

    @AmnaKhanPK

  • رٹہ نہیں ہنر سکھاؤ . تحریر : نعمان سرور

    رٹہ نہیں ہنر سکھاؤ . تحریر : نعمان سرور

    پاکستان وہ ملک ہے جس کی آبادی کا بہت بڑا حصہ نوجوان آبادی پر مشتمل ہے، پاکستان کی تقریبا 63 فیصد آبادی نوجوان ہے یہ ہمارے ملک کا بہت بڑا اثاثہ ہے جسے برباد ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے اور ماں باپ ،بچے اور اہل علم سمیت سب ہی بس اس راستے پر چلتے جا رہے ہیں یہ نہیں سوچ رہے کیا ہماری سمت درست ہے ؟؟

    پاکستان میں ہر سال لاکھوں بچے کالج سے فارغ ہو کر یونیورسٹی کی تعلیم کے لئے میدان میں آتے میرٹ کے مختلف مراہل سے گزر کر اگر اچھی یونیورسٹی میں داخلہ نہ بھی ملے تو کسی پرائیوٹ میں تو مل ہی جاتا ہے پھر نوجوان اپنے زندگی کے چار سال اس یونیورسٹی میں گزارتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ایک طالب علم کا اوسطا خرچ چار سالوں میں 20-25 لاکھ سے زیادہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ زندگی کے چار سال بھی اس میں جھونک دئیے جاتے ہیں۔

    دنیا اب تیز اور آگے کی طرف بڑھ گئی ہے کچھ فیلڈ ایسی ہیں جن میں واقعی طالب علم کو یونیورسٹی جانے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن ہر فیلڈ کے لئے ایسا ہر گز نہیں ہے، یونیورسٹی سے لاکھوں خرچ کر کے بھی جب طالب علم ڈگری لے کر باہر نکلتا ہے تو اس کو اصل کام فیلڈ میں سیکھنا پڑتا ہے ہماری کتابوں میں موجود چیز یں اسے وہ نہیں سکھا پاتی جو فیلڈ میں وہ چند سالوں میں سیکھ جاتا ہے، اور اکثر نوجوان یونیورسٹی کی ڈگری لے کر بھی بے روزگار پھر رہے ہوتے ہیں کیا ہی اچھا ہو کے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے بعد نوجوانوں کو انہیں یونیورسٹیوں کی فیسز کم کر کے ان کو وہ ہنر سکھایا جائے وہ تعلیم دی جائے جو آجکل کے وقت میں ان کے کام آئے اور وہ روزگار خود حاصل کر سکیں ہمارا سلیبس آج بھی فلاپی ڈسک پڑھا رہا، بچہ جب عملی میدان میں جاتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کے وہ تو 30 سال پیچھے کی تعلیم حاصل کر کے آیا ہے پھر وہ فیلڈ میں مار کھا کر سیکھنے کی کوشش کرتا ہے آن لائن سیکھتا ہے اور زندگی کے دو تین سال اس میں لگا دیتا ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے کے اسے یونیورسٹی میں جو عرصہ گزارا اس میں وہ کسی فیلڈ کا ماسٹر بن کر نکلے اور تمام یونیورسٹیوں کے پاس یہ بھی ڈیٹا ہونا چاہیے کے ملک میں کس فیلڈ میں کتنے لوگ درکار ہیں اتنے ہی لوگ اس فیلڈ میں لائے جائیں پھر یہ دیکھا جائے بیرون ممالک میں کونسے ہنر کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے ؟؟ آنے والے وقت میں بچے کیسے روزگار حاصل کر سکتے ہیں یونیورسٹی کا دورانیہ چار سال کے بجائے 1.5 سال کر دینا چاہیے جس میں بچے کو بیرون ملک میں بیٹھے لوگوں سے بات کرنے کا طریقہ سکھایا جائے، کاروبار کرنا سکھایا جائے، بچے کو یہ بتایا جائے کے زندگی کا مقصد رٹہ لگانا نہیں ہے اگر تمہاری یاداشت اچھی نہیں ہے تو کوئی بات نہیں تم پھر بھی ایک کامیاب انسان بن سکتے ہو۔۔۔تمہیں انگلش فر فر نہیں آتی تو کوئی بات نہیں اتنی سیکھ لو کے اگلے کو اپنی بات سمجھا سکو اور اس کی سمجھ سکو بچے میں اعتماد پیدا کیا جائے اس بنیادی معاشرتی زندگی کے اداب سکھائے جائیں اور اس سے یہ بآور کروایا جائے کے انگلش بولنا کسی کے لائق یا قابل ہونےکی نشاندہی نہیں بلکے یہ صرف ایک زبان ہے، یونیورسٹی کے بچوں کو فیکٹریوں کے بورڈ سے ملوایا جائے اور ان سے پوچھا جائے کے وہ اپنے کاروبار میں کیسی آسانی دیکھنا چاہتے ہیں پھر بچوں سے کہا جائے کے سوچیں کیا آپ یہ کر سکتے ہیں اگر وہ اس قابل ہوں تو ان کے اخراجات فیکٹری مالکان کے زمے لگائے جائیں زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی آپ یہ کر کے دیکھیں اس ملک کے نوجوان بہت قابل ہیں وہ آپ کو ہر مسئلے کا حل دیں گے۔ آپ ان نوجوان کو ہفتے ایک دن صرف اس بات پر ٹریننگ دیں کے لوگوں کے سامنے بات کیسے کرنی ہے حال میں سب کو جمع کر کے تقاریر کروائیں ان سے تاکہ ان کا اعتماد بحال ہو ان کے اندر کے چھپے ٹیلنٹ کو باہر نکالیں کیا پتہ جسے آپ زبردستی ڈاکٹر بنا رہے ہو وہ اچھا شاعر یا سنگر ہو ؟؟؟ پھر بچوں سے پینل بیٹھا کر ان سے انٹرویوز لیں تاکہ انہیں عملی زندگی میں گھبراہٹ نہ ہو یہاں جو لوگ نوکری کرنے آتے ہیں انٹرویو دینے سے ان کے ماتھے پر پسینہ آیا ہوتا ہے وہ اپنی بات منوانا نہیں جانتے اپنے آپ کو سستے میں بیچ آتے ان کو لوگوں سے بھاؤ کرنا سکھائیں ان کو یہ بتائیں کے نوکری آپ کی زندگی نہیں ہے وہ آپ کی زندگی کا چھوٹا سا حصہ ہو سکتی ہے پھر ان کو یہ سکھائیں کے اگر زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو اس کا معیار پیسہ ہرگز نہیں۔
    یہ ایسی چیزیں ہیں اگر ان پر ہمارے تعلیمی نظام میں عمل ہو جائے تو یقین کریں پاکستان بدل جائے گا میں لکھنا چاہوں تو ایسی ہزار چیزیں اور گنوا سکتا ہوں۔
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو : آمین

    @Nomysahir

  • آ گیا جشنِ آزادی؟ . تحریر : سید منعم فاروق

    آ گیا جشنِ آزادی؟ . تحریر : سید منعم فاروق

    ایک سال کے طویل انتظار کے بعد ایک بار پھر اگست کا مہینہ شروع ہو رہا ہے اور جشنِ آزادی منانے کی تیاری مکمل جوش و خروش سے جاری ہیں، باجے اور پٹاخے بنانے والے کارخانے دِن رات اوور ٹائم پہ چل رہے ہیں، موٹر سائیکل مکینک سائلنسر سے نئی سے نئی آوازیں نکالنے کے آلے تیار کر رہے ہیں، کپڑوں کے برینڈ سفید اور سبز رنگ کے ملبوسات پہ سیل سیل کا واویلا کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، ہوٹل اور ریسٹورنٹ پہ جشنِ آزادی کی سیل لگانے کی تیاریاں جوش و خروش سے جاری ہیں اوراس بات کی قوی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستانی قوم اس سال بھی جشنِ آزادی روایتی جوش و جزبے سے منائے گی، لیکن ایک منٹ۔

    راقم یہ سطور لکھتے ہوئے سوچ رہا ہے کہ اس سب سے کیا حاصل ہو گا؟ ساتھ ہی ماضی کی کہانیوں، تصاویر اور تحریکِ پاکستان کی قربانیوں کی ایک جھلک نظر سے گزری تو میں لرز کر رہ گیا کہ ہمارے بزرگوں نے بیش بہا قربانیوں کے بعد جو ملک اس لیئے حاصل کیا تھا کہ اس ملک کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلا کر پوری دنیا کے لیئے ایک مثال بنایا جائے اور اِسی ملک کی آزادی کے دِن یہاں کیا کچھ ہو رہا ہے، اس ملک کو بنانے والے تو ایمان، اتحاد، تنظیم کا درس دے کر گئے تھے جبکہ چوہتر(74) سال بعد ہماری قوم ان تمام چیزوں کو بھول کر رشوت، کرپشن اور بے حیائی کو اپنا مِشن بنا چکی ہے، اس کالم میں ہم تحریکِ آزادیِ پاکستان پر مختصر روشنی ڈالنے کے بعد اس قوم کے کردار اور ذمہ داریوں پر بات کریں گے۔

    1857 کی جنگِ آزادی کے بعد سے ہی سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی تعمیر و ترقی پہ خصوصی توجہ دینا شروع کر دی تھی، انہوں نے مسلم کالج اور سائنٹیفک مدرسوں کے ذریعے مسلمانوں کو دُنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہونے کا راستہ دکھایا جسکے بعد مسلمانوں نے سیاست کے ذریعے اپنے حقوق کے حصول کے لیئے آواز اٹھانا شروع کی، مسلم لیگ کا قیام بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی، ابتداء میں مسلمانوں کے قابض انگریز حکومت سے حقوق کی شکایت اور ان کو حاصل کرنے کے لیئے کوششیں رہی لیکن بعد میں ہندو سامراج کے دوغلے رویہ کو دیکھ کر قائد اعظم جیسے ہندو مسلم اتحاد کے داعی نے بھی مسلمانوں کی سیاست کو ہندوؤں سے مکمل الگ کر لیا، بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیئے ایک الگ ریاست کی بات کر کے اس تحریک کو ایک نئی منزل دکھائی جسکے بعد سترہ سال کی قلیل مدت میں مسلم لیگ نے قائد اعظم اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں انگریز کو برصغیر سے نکالنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لیئے الگ وطن کے قیام کا مشن بھی پورا کر لیا، اس عظیم مشن کی تکمیل کے دوران ہزاروں لوگوں نے اپنے جان، مال اور اسباب کی قربانیاں دی، ایسے ہی قیامِ پاکستان کے وقت مسلمانوں کی بڑی تعداد نے پاکستانی علاقوں کا رخ کیا جو ہجرتِ پاکستان کہلائی، اس ہجرت کے دوران بھی قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم ہوئی ہزاروں لوگوں نے اپنے پیارے کھوئے، ہزاروں ماؤں کے بیٹے، ہزاروں بیٹیوں کے سہاگ اجڑے لیکن لوگوں کی آنکھوں میں صرف ایک خواب تھا ”پاکستان” اور مقصد یہ تھا کہ ایک ایسا دیس بسایا جائے جہاں ترقی ہو، خوشحالی ہو، امن و امان ہو اور وہ ملک حقیقت میں اسلامی فلاحی ریاست ہو۔

    آج جب پاکستان کو بنے قریبا چوہتر 74 سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن افسوس ہم نے پاکستان زندہ باد کہنا تو سیکھ لیا لیکن پاکستان زندہ آباد کیسے ہو گا یہ نہیں سمجھ سکے، ہم نے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ کا نعرہ تو بہت لگایا لیکن اس پر عمل اور اسکے فرائض سمجھنے سے محروم رہے، ہم نے ہر سال پاکستان کے قومی دنوں کے موقع پہ بڑے بڑے وعدے اور قسمیں توضرور کھائی لیکن عملی طور پہ ہم بدقسمتی سے بالکل صفر رہے، ہم نے عہد تو پاکستان کا نام روشن کرنے کا کیا لیکن حقیقت میں ہم ابھی تک شائددل و دماغ سے پاکستانی ہو ہی نہیں سکے، آج بھی ہر سال پاکستان کی آزادی کا دن ہمیں اس امید سے دیکھتا ہے کہ شائد پاکستان کے آزادی کا جشن منانے والا کوئی ”پاکستانی” مِل جائے، شائد پاکستان زندہ آباد کانعرہ لگانے والا حقیقت میں بھی اس ملک و قوم کا معمار بن جائے۔

    تعارف: سید منعم فاروق کا تعلق اسلام آباد سے ہے، گزشتہ کچھ سالوں سے مختلف اداروں کے ساتھ فری لانسر کے طور پر کام کر رہے ہیں، ڈیجیٹل میڈیا، کرنٹ افیئرز اور کھیلوں کے موضوعات پر ذیادہ لکھتے ہیں۔ ان سے رابطہ کے لیئے انکا ٹویٹر اکاونٹ: https://twitter.com/Syedmunimpk

    Introduction: Syed Munim Farooq is Islamabad based freelance Journalist and columnist; He has been writing for different forums since 2012. His major areas of interest are Current Affairs, Digital Marketing, Web media and Journalistic affairs. He can be reached at Twitter: https://twitter.com/Syedmunimpk

  • مزاحیہ فنکار؟  یا غنڈہ ؟ . تحریر : وحید گل

    مزاحیہ فنکار؟ یا غنڈہ ؟ . تحریر : وحید گل

    80ء کی دہائی میں جب سوویت یونین افغانستان میں میں اپنے پیر جمانے کے لئے داخل ہوئی تو اس وقت افغانستان میں موجود ایک مخصوص طبقے نے ان روسیوں کا بھرپورساتھ دیا۔ روس نے بھی ان ضمیر فروشوں کو اپنے عزائم کے لیے خوب استعمال کیا۔ یہ طبقہ بنیادی طور پر کیمونیسٹ تھا جنہیں آجکل سرخے کا نام سے جانا جاتا ہے۔

    بنیادی طور پر سرخہ جس کا مقصد ہی غلامی ہے انکی ذہنیت مادرپدر آزادی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ یہ لبرلزم کے نام پر مذہبی اور ثقافتی ورثے کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ پہلے یہ روسیوں کے ساتھ تھے اور اب بھارت کے مہرے بنے ہوئے ہیں۔ انکی حیثیت کسی استعمال شدہ ٹشویپرز کے جیسی ہے۔ یہ پہلے استعمال ہوتے ہیں جیتے جی اور پھر انکی لاشیں بھی اسی دشمن کے ایجنڈے کو سرو کرتیں ہیں جسکے انہیں معاوضے تک نہیں ملتے۔۔۔ حالیہ دنوں میں اسکی ایک مثال بھی ملی۔ شوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جسکے ساتھ یہ تحریر درج کی جا رہی تھی

    ٹویٹ کا لنک: https://twitter.com/ManzoorPashteen/status/1420063152620941323

    ٹویٹ کے ساتھ پوسٹ ہونے والی یہ تصویر غالباً چھے سال پرانی ہے اور یہ ٹویٹ کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان میں پشتون قوم کو تحفظ کے نام پر چونا لگانے والا منظور پشتیں ہے جس نے نقیب اللہ محسود مومنٹ کو ہائی جیک کر کے اپنے ناپاک ملک دشمن عزائم کو پورا کیا اور خوب پیسے کمائے۔

    یاد رہے کہ جسے بار بار پاک افغان سرخہ گروپ "مزاح نگار” کہہ رہا ہے وہ درحقیقت ہتھیاروں کا شوقین ایک بچہ باز شخص تھا۔ اپنی پچاس سالہ زندگی میں کمال محنت سے جرائم کی دنیا میں بھی اس نے خوب نام کمایا تھا۔ بچوں سے جنسی تعلق استوار کرنے کا شوقین یہ شخص دکھنے میں ہی پرانی بالی ووڈ فلموں کا شکتی کپور لگتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر اس شخص کی جدید اسلحے کے ساتھ لی گئی تصاویر گردش کر رہی ہیں جو اسکے کردار کا بخوبی اندازہ لگانے کیلئے کافی ہیں۔۔ یہ اور بات ہے کہ بھارتی چینلز اور این۔ڈی۔ایس کے کابلی بھیڑ اسے مزاح نگار ثابت کرنے پر تُلّے ہوئے ہیں۔۔۔

    یہ شخص جسے آج سے پہلے شاہد ہی آپ نے کبھی دیکھا ہو کو راء اور این۔ڈی۔ایس سوشل میڈیا پر "مشہورِ زمانہ” بتاتے پھر رہے ہیں۔ یہ اتنا ہی مشہورِ زمانہ ہے کہ اسے مشہور کہنے والوں کے قریبی رشتےدار تک اسکے نام سے ناواقف ہیں۔ ویسے قارئین کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ موصوف نذر محمد الیاس خاشا زوان کے نام سے پکارے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کی پارلیمان میں براجمان انہی سرخوں کے ساتھی احباب بھی اسی لائن کو ٹریس کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔۔ محسن داوڑ نامی رکن قومی اسمبلی کے الفاظ میں:

    ٹویٹ کا لنک: https://twitter.com/mjdawar/status/1420080452984000514

    گویا کہ یہ بھی وہی سکرپٹ کاپی پیسٹ کر رہے ہیں جو کابل سے انہیں وٹس ایپ کیا گیا تھا۔۔۔ آج سے پہلے ہم نے کبھی محسن داوڑ کے منہ سے اس شخص کے بارے میں کچھ نہ سنا تھا لیکن اچانک محسن داوڑ کی جانب سے اس نام نہاد مزاح نگار کی شان میں قصیدے اور افغان طالبان کے امن مذاکرات سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔۔

    اگر آپ اس کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ وہ برائی ہے جو قندھار میں طالبان کے ہاتھوں مار دی گئی ہے اور ہمارے کچھ جاہل لوگ ، جن میں مغربی ممالک بھی شامل ہیں ، اس پر آنسو بہا رہے ہیں۔

    پہلے ، یہ ایک ازبکی تھا ، پھر وہ اس پوسٹ کی کمانڈ کررہا تھا ، عملی طور پر مسلمانوں کے خلاف لڑ رہا تھا۔ یہ ہمارے عظیم آقا کی توہین کرتا صاف نظر آ رہا تھا۔۔ یہی وجہ ہے کہ آدھی سے زیادہ افغان قوم اس مسخرے کو ناپسند کرتی تھی۔ ایک وڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا تھا کہ یہ ٹی۔ٹی۔پی کے دہشتگرد کمانڈروں جیسی شخصیت کا مالک شخص تھا۔

    میرا موقف نہایت صاف اور واضح ہے۔ سوال اس شخص کی معصومیت یا بے گناہی کا نہیں بلکہ اس پروپیگنڈے کا ہے جو اسکو اچھا بنانے کے لیے مسلسل کیا جا رہا ہے۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ ایسا کرنے کے پیچھے ہمارے رکن قومی اسمبلی جناب محسن داوڑ اور دیگر سرخوں کے پاس کیا وجوہات ہیں؟

    @MrWaheedgul