Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سفر نامہ   تحریر: اسامہ اسلام

    سفر نامہ تحریر: اسامہ اسلام

    یہ تقریباً سن 2015 کی بات ہے. رمضان کا مہینہ ختم ہونے والا تھا .سب لوگ عید کی تیاریوں میں مگن تھے. ہم نے تو اپنی تیاری مکمل کر لی تھی لیکن جو مشکل کام تھا وہ رہتا تھا اور وہ کام تھا یہ فیصلہ کرنا کہ عید میں گھومنے کہاں جائینگے.
    میں اور میرے دوست فرمان جنہیں ہم پیار سے "مانے” بلاتے ہیں اور عابد جس کا لقب "گل” ہے ,ہر وقت بیٹھے مشورے کرتے.
    عید گزری لیکن ہم فیصلہ نہ کرپائے کہ کہا جانا ہے, آخرکار میں معمول کے مطابق گھر سے نکلا, اپنی موٹرسائیکل نکالی اور اپنے دوستوں کو لینے ان کے گھر پہنچا.
    گیٹ کے سامنے ہارن بجائی تو صاحبان خوابِ غفلت سے بیدار ہوئے نشیلی آنکھوں کے ساتھ باہر آئے.
    خیر جو بھی ہوا, یم نے اپنے سفر کا آغاز کیا لیکن ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم کہاں جارہے ہیں. ہم نے نوشہرہ کی طرف رُخ کیا , جب نوشہرہ پہنچے تو لوگوں سے پوچھا کہ یہاں پر کوئی سیر کرنے کی جگہ بتائے. ایک بندے نے "بہادر بابا” کے مزار کا نام لیا. یہ نوشہرہ سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے. ہمارا کیا تھا, جوان تھے, خون میں مستی تھی اور کھلے پرندوں کی طرح ہوا جس طرف لے جاتی, ہم چلے جاتے. ایک موٹرسائیکل پر تین بندوں نے "بہادر بابا” کے مزار کی طرف اپنے سفر کا آغاز کیا.
    گرمی کی جھلسا دینے والی لہریں جب ہمارے گالوں سے ٹکراتی تو دل سے پتہ بتانے والے کے لیے بد دعائیں نکلتی اور ان بد دعاؤں میں اضافہ تب ہوتا جب ان پہاڑی رستوں سے گزرتے گزرتے موٹرسائیکل کسی کھڈے میں گر جاتا. ہم نے راستے میں اپنا خوب مزاق اڑایا لیکن ساتھ ساتھ ہمارے منہ سے کچھ ایسے نازیبہ الفاظ بھی نکلے تھے جس کا تذکرہ میں کرنے والا ہوں.
    کوئی کہتا کہ "بہادر بابا کو اتنی دور آنے کی کیا ضرورت تھی” تو کوئی کہتا کہ "وہ بیل پر سوار ہو کر آئے تھے” (استغفراللہ) اللہ معاف کرے .
    جب ہم وہاں پہنچے تو ١۲ بج چکے تھے.میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ میں موٹرسائیکل ایک جگہ پر کھڑی کر کے آتا ہوں. میں ٣ منٹ کے لیے گیا اور جب واپس آیا تو میرے دوست غائب تھے. میں نے یہاں وہاں ہر جگہ دیکھا لیکن ان کا کوئی نام و نشان نہ تھا. ہم نیچھے تھے اور مزار پہاڑی کے اوپر تھا. میں نے اس شدید گرمی میں تقریباً ۷ سے ۸ چکر کاٹے , اوپر گیا مزار پر , پھر نیچھے آیا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا کیونکہ ہجوم اتنا تھا کہ اسے ڈھونڈنا محال تھا.
    جس طرح میں ان کو ڈھونڈ رہا تھا , اسی طرح وہ بھی میں تلاش میں جگہ جگہ بٹک رہے تھے.
    چونکہ ہم کم عمر تھے اور ایک دوسرے کو ایسی جگہ کھونا جو کہ ہمارے گھر سے کافی دور تھا , کافی پریشان کن تھا. جی کر رہا تھا کہ یہاں چیخ چیخ کر رو لوں.
    آخر کار جب ٣ بج گئے تو میں نیچھے ایک پہاڑی کے سائے میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا . میرے سامنے ہماری وہ ساری باتیں آنے لگی جو ہم نے راستے میں "بہادر بابا” کے بارے میں کی تھی.
    میں نے اسی وقت جلدی سے توبہ کیا کہ ہو سکتا ہے ہمیں ان باتوں کی سزا مل رہی ہو جو ہم نے "بہادر بابا” کے بارے میں کی تھی, یہ تو اللہ کے ولی ہے, اللہ کے خاص بندے .
    میں انہی سوچو میں گم تھا کہ میری کانوں میں فرمان کی آواز پڑی جو کہی دور سے مجھے پکار رہا تھا.
    اس آواز نے مجھے انتہائی گہرے سوچ سے بیدار کیا, جب میں نے "مانے” اور "گل” کو دیکھا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی, میں اپنے جزبات پر قابو پائے بغیر ان کی طرف بھاگا اور جٹ سے دونوں کو گلے لگا کر خوب رویا.
    اس کے بعد دوستوں کے ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنے ساتھ یہ عہد کیا کہ آج کے بعد کبھی بھی کسی اللہ کے ولی کے بارے میں کچھ غلط نہیں کہیں گے.
    پھر موٹرسائیکل پر سوار ہو کر واپس پہنچے تو رات کے ۸ بج چکے تھے. رات کا کھانا ساتھ میں کھایا, اس کے بعد اپنا خوب مزاق اڑایا اور اپنے اپنے گھر کو چلے گئے.

  • یوم استحصال کشمیر وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال  تحریر:  عمر ہمدانی

    یوم استحصال کشمیر وادی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال تحریر: عمر ہمدانی

    آج وادی کشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے 732 دن یعنی دو سال مکمل ہونے جارہے ہیں،آج پاکستان میں یوم استحصال کشمیر منایا جا رہا ہے مکار مودی گورنمنٹ نے کشمیریوں کو ایک زندہ لاش کی مانند سمجھ رکھا ہے، مودی سرکار نے آرٹیکل 370 ختم کر کے مظلوم کشمیریوں کے حق خودرادیت پر حملہ کیاآخر کیوں؟کس بنیاد پر مظلوم کشمیریوں کے حق خودرادیت پر حملہ کیا کیا کسی قوم سے اس کے حق چھین لینا ان کو قیدو بند کر دینا اتنا آسان کام ہے؟ہم کب تک خاموش ہاتھ پہ ہاتھ دھرے آنکھوں پر پٹیاں باندھے یہ تماشہ دیکھتے رہیں گے غیرت مند اور بہادر کشمیری قوم نے اپنے حق خودرادیت کیلئے کیا کچھ نہیں کیا؟ لاکھوں ماؤں نے اپنے لال اس آزادی کی تحریک پر قربان کر دیئے،بچوں نے اپنی آنکھوں کی بینائی تک کھو دی،کئی بیویوں نے اپنے سرتاج اس تحریک پر قربان کر دیئے اور آج بھی غیور کشمیری قوم بھارت کے ظلم و بربریت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں کشمیر میں بھارت سرکار کی جانب سے کھیلی گئی خون کی ہولی پر انسانیت کانپ اٹھی لیکن سلام کشمیر کے ان نوجوانوں پر جنہوں نے پیلٹ گنز اور بکتر بند گاڑیوں کا مقابلہ پتھروں سے کیا تاجروں نے اپنی تجارت اس تحریک آزادی پر قربان کر دی،طالب علموں نے اپنی ڈگریاں اس تحریک آزادی پر قربان کر دی اور سلام کشمیر کی ان ماؤں بہنوں پر جنہوں نے حجاب میں رہ کر بھارت کے ظلم و بربریت کا مقابلہ پتھروں سے کیامسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے ان پر آج تک عمل درآمد نہیں ہو سکا پاکستان بھی تسلسل سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا آرہا ہے سال 2019 میں بھی وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر پر دو ٹوک موقف اپنایا تھامودی سرکار نے 5 اگست 2019 کو کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر کے ان کی خصوصی حیثیت کو ختم کیابھارت نے لاکھوں غیر کشمیریوں کو وادی کشمیر میں بسانے کے منصوبے پر عمل شروع کر دیا جس پر پوری دنیا سے کشمیریوں کے حق خودرادیت کیلئے آوازیں اٹھ رہی ہیں،بھارت کے ان ناپاک عزائم سے یوم یکجہتی کشمیر کی اہمیت میں اضافہ ہواہے میری گزارش ہے گورنمنٹ آف پاکستان سے کہ یوم استحصال کشمیر کی مناسبت سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جائیں اور اس دن کو قومی سطح پر یوم استحصال کشمیر کے طوپر منایا جائے، سرکاری و نجی سطح پر تقریبات کا انعقاد کیا جائے عوام گھروں سے باہر نکلیں اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے اپنا کردار ادا کریں نوجوانان پاکستان اس تحریک کا حصہ بنیں سوشل میڈیا صارفین بھی بھارت کے وادی کشمیر میں ظلم و بربریت کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • سوشل میڈیا ایک رنگین فتنہ تحریر: حیأ انبساط

    سوشل میڈیا ایک رنگین فتنہ تحریر: حیأ انبساط

    ‏کل سوشل میڈیا پہ ایک تصویر نظر سے گزری جس میں لگ بھگ ۱۲ سال کی بچی اپنے ہی ہم عمر بچے کے ساتھ اس کا بازو تھامے اس انداز سے کھڑی تھی جیسے نیأ شادی شدہ جوڑا اپنی شادی کی پہلی دعوت پہ تیار ہوکے واٹس ایپ سٹیٹس اپڈیٹ کرنے کیلئے تصاویر بنواتا ہے

    ‏اس تصویر کو دیکھ کے تعجب ہوا اور شرم بھی آئی کہ اس عمر میں ہمارا کسی شادی کی تقریب میں اگر کبھی جانے کا اتفاق ہو جاتا تو امّی کے ساتھ والی کرسی سے اُٹھنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی اور اگر کبھی کوئی خالہ پھوپھو وغیرہ تعریف کر دیتیں کہ بھئی تم تو بہت پیاری ہوگئی ہو تو شرم کے بجائے شرمندگی سے امی کے پیچھے منہ چھپانے کی کوشش کی جاتی تھی

    ‏آجکل کی نئی نسل کو یہ خوداعتمادی ( یا بےحیائی میں طے نہیں کر پا رہی ہوں ) اسمارٹ فون کے کھلے اور بے دریغ استعمال سے آئی ہے جس پہ چار چاند لاک ڈاؤن کے بعد سے ہونے والے آن لائن تدریسی انتظام نے لگائے ہیں۔ معصوم مائیں تین وقت کے کھانے کی تیاری میں مصروف رہتی ہیں اور فارغ ہونے پر تین ہی مشہور چینلز کے واہیات ڈراموں کی فکروں میں گھلتی دیکھائی دیتی ہیں اس بات سے بےخبر کے انکی اولادیں اپنی ہی فلموں کی تکمیل میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔

    ‏لیکچرز کی فراہمی کیلئے اسکول کے بنائے گئے واٹس ایپ گروپس میں سے ہی ساتھی طلبات کے نمبر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی معلومات بھی تبدیل کی جاتی ہیں دوستی کے نام پہ جو آجکل کے بچے کرتے دیکھائی دے رہے ہیں اس سے ان کے گھروالوں کے علاوہ باقی ساری دنیا واقف نظر آتی ہے ۔ تصاویر کے تبادلے سے لے کر رات گئے تک فون پہ گفتگو والے کچھ ہفتوں کے عشق کے بعد ان بچوں کا بریک اپ بھی ہوتا ہے اور دکھ بھرے اسٹیٹس بھی لگائے جاتے ہیں اور دو چار دنوں بعد ہی ایک نئی سہیلی انکی فوٹو لائک کرتی دیکھائی دیتی ہیں ۔

    ‏جبکہ تعلیم کا حال ان تمام سرگرمیوں کے برعکس ہے ۰ میں چونکہ درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہوں اسلیئے قریبی مشاہدہ تحریر کر رہی ہوں حال ہی میں ہونے والے سالانہ امتحانات میں ذہین سے ذہین طلبہ کی کارکردگی قابل افسوس تھی اور اوسط درجے کے طلبأ کا حال قابلِ رحم تھا ، ایک دو کو تو اپنے اسکول کے نام کی ہجّے تک بھول گئی تھی

    ‏اس تمام واقعات و حالات کا تذکرہ کرنے کا مقصد قوم کے معماروں کی اصلاح کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ ہمیں نہیں معلوم کے یہ آنلائن تعلیمی نظام کب تک جاری رکھا جائے گا لیکن بحیثیت والدین ہماری اولین ترجیح اپنی اولاد کی اصلاح اور انکی عادات و سکنات سے باخبر رہنا ہے ۔ میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف نہیں لیکن اسکے غلط استعمال کے ضرور خلاف ہوں اپنے بچوں کو اسمارٹ فون کے بجائے ڈیسک ٹاپ کمپیوٹز دلوائیں ، کمپیوٹر گھر میں ایسی جگہ رکھا جائے کہ آتے جاتے گھروالوں کی نظر اسکرین پہ جا سکے اسطرح بچوں کو بھی خوف ہوگا کہ ہماری سرگرمیوں سے گھر کے افراد واقف ہیں اور وہ کسی غلط سمت میں نہیں سوچیں گے ۔اس کے علاوہ ہفتہ کے اختتام پہ چھٹی والے دن والد صاحب صرف ایک گھنٹہ نکال کر پورے ہفتے کیا پڑھایا گیا اور انکے بچے نے کیا سیکھا ، اگر اس بارے میں اپنے بچوں سے بازپرس کر لیا کریں تو یقین کریں وہ پیسے جو آپ اپنے بچوں کی فیس بھرنے میں صرف کر رہے ہیں وہ وصول ہو جائیں گے ۔

    ‏ چیک اینڈ بیلینس کا ہونا ہر معاملے میں بےحد ضروری ہے کیونکہ آجکل جس تیزی سے یہ رنگین فتنہ جسکا نام سوشل میڈیا ہے ہماری نئی نسل کو بےراہروی کا راستہ دیکھا رہا ہے تو ایسے ماحول میں اپنے بچوں کی بہتر تربیت کرنا انکو صحیح غلط کی واضح تعلیم دینا ماں باپ کی ہی ذمہ دای ہے۔ یاد رکھیئے آپ سے دنیا کے بعد آخرت میں بھی اولاد کی تربیت سے متعلق سوال کیا جائے گا تو کیا خیال ہے اس معاشرے کے ساتھ اللّٰہ کو بھی جواب دینے کی تیاری کیوں نا آج سے ہی شروع کردیں ؟

    @HaayaSays

  • مقصدِ حَیات تحریر:افشین

    ہر انسان کی زندگی کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے جسکو پورا کرنے کے لیے وہ دن رات کوشاں رہتا ہے اس دنیا میں کوئی بھی انسان بغیر مقصد کے نہیں بھیجا گیا. بس ضروری یہ ہے کہ ہمیں اپنے مقصدِ حیات کو جاننے کی ضرورت ہوتی ہے جیسے چھوٹے بچے کو پڑھائی کا شوق اور کچھ بننے کی اُمَنگ مثلاً ڈاکٹر،انجینیئر اور بہت سے شعبے ہیں جو وہ چاہے بن جائے پر اپنے مقصدِ حیات کو پانے کے لیے بہت محنت کرنی پڑتی ہےکچھ لوگ اپنے مقصدِ حیات سے لا علم رہتے ہیں اور بے مقصد زندگی گزار کے چلے جاتے ہیں کچھ لوگوں کا مقصد دوسروں کو خُوشیاں دینا اور دوسروں کے لیے جینا ہوتا ہے ایسے لوگ ہی حقیقی زندگی کے ہیرو ہوتے ہیں ایسی بہت سے مثالیں پاکستان کی تاریخ اور دورِحاضر میں موجود ہیں جنہوں نے اپنی زندگی اور مال ومتاع دوسروں کی امداد میں وقف کردی ایسی شخصیات کا نام ہمیشہ سب کے لیے قابل احترام رہتا ہے اور کتابوں کے اوراق میں نمایاں مثال کے طور پہ لکھا جاتا ہے اور ہماری آنے والی نسلیں اس سے متاثر ہو کے ان جیسا بننے کی خواہش کرتی ہیں.
    جس شعبے میں ہماری دلچسپی ہو اس شعبے میں جانے کے لیے ہم کوشاں رہتے ہیں پر اچھا انسان بننے میں اگر اتنی محنت کریں تو دین و دنیا میں سرخرو رہیں.
    اپنے مقصدِ حیات کو سب سے پہلے جاننے پھر پانے کی کوشش کریں بغیر مقصد کے جینا کوئی جینا نہیں جیسے ارطغرل غازی نے اپنے جینے کا ایک مقصد بنایا اور اس کے لیے کتنی قربانیاں دیں ایسے بہت سے نیک اور بہادر لوگ ہمیشہ کی حیات پا گئے کیونکہ انہوں نے خود سے زیادہ دوسروں کا سوچا خودغرضی کی زندگی آپکو سوائے شرمندگی کے کچھ نہیں دیتی سر اٹھا کے جئیں جیسے قابل محترم ایدھی صاحب نے اپنی ساری زندگی دوسروں کی خدمت میں وقف کی اور جاتے بھی انکے چہرے پہ مُسکراہٹ تھی اور اپنی انکھوں سے کسی کی اندھیری زندگی میں روشنیاں بکھیر گئے ایسی مثال قابل رشک ہے ایسی قابل محترم شخصیات قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں ایسی شخصیات سے ہی تو قومیں آباد ہے اگر دوسروں کا سوچنے والے ناں رہیں تو خود غرض لوگ تو ایک دوسرے کو نوچ کھائیں. آپ سب کی زندگی کا بھی ایک مقصد ہے اور جب تک سانس رواں رہے مقصد کی تکمیل کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے تاکہ زندگی میں اتنا اطمینان رہے کہ ہم کچھ تو کیا ہے. ایک لڑکی کی جب شادی ہو جاتی ہے وہ سمجھتی ہے بس مقصد ختم ہوگیا مگر شادی کے بعد گھر کو جنت بنانا اور بچوں کی اچھی تربیت کر کے قوم کو اچھے بیٹے دینا ان کو یہ سیکھانا کہ دوسروں کے لیے جینا اور سب کو خوشیاں دینے والے بننا یہ بھی ایک مقصد ہی ہوتا ہے کسی کو بھی اللّه پاک بے مقصد نہیں بھیجا !ایک لاچار انسان یا معذور انسان جب اس دنیا میں رونقیں دیکھتا ہے سب کو کچھ نا کچھ کرتے دیکھتا ہے اس کے دل میں بھی ایک خواہش اُبھرتی ہے کہ میں بھی ایسے کام کروں اکثر خود کو بے مقصد سمجھ لیتے ہیں جیسے کہ میں خود اسکی مثال ہوں مجھے بھی لگا میں اس دنیا میں ویسے آگئ کوئی مقصد نہیں کچھ کر نہیں سکتی پر اللہ پاک بھیجا ہے ضرور مرنے سے پہلے ایسا کچھ کر جاوں گی کہ دنیا کی نظر میں نا سہی اللّه کے آگے سرخرو ہوجاوں گی انشااللّه
    کہنا یہ چاہتی ہوں اپنی زندگی کا مقصد بنائیں خوشیاں بکھیریں !! ناں کہ خوشیاں چھیننے والے بنیں اور ہمت نہ ہاریں اللّه پاک آپکو سب دیا طاقت دی مکمل انسان بنایا آپ دوسروں کا سہارا بنیں انکی آدھوری سے زندگی میں دیے کی مانند اُجالا کریں ۔ تاکہ آپ سب بھی عظیم شخصیات کی طرح مقصد حیات پا لیں !!

    "شمع کی مانند بنیں چاروں اطراف روشنی بکھیر کے خود پگھل جاتی ہے ”

  • کپتان کا پاکستان تحریر:  فرزانہ شریف

    کپتان کا پاکستان تحریر: فرزانہ شریف

    عمران خان کے راستے کے سارے کانٹے دور هورهے هیں لیکن ٹف ٹائم پهر بهی ملے گا
    مرا هاتهی بهی سوا لاکھ کا هوتا هے پی پی پی تقریبا مر چکی نون لیگ آخری دم پر ہے میاں صاحب دوسرے الطاف حسین بن چکے ہیں لندن سے دہائیاں دے رہے ہیں "مجھے کیوں نکالا "اور بیٹی کشمیر الیکشن کی ہار کے بعد قومے میں جاچکی ہے میدان بالکل خالی ہے اب خان صاحب کے پاس سنہری موقع ہے اس قوم کی تقدیر بدلنے کا اور اللہ کے حکم سے اب وہ وقت دور نہیں جب ہم اوورسیز پاکستانی اپنے سبز پاسپورٹ پر فخر کیا کریں گے لوگوں کو فخر سے بتایا کریں گے کہ ہم عمران خان کے پاکستان کے شہری ہیں
    اللہ عمران خان کے ارادوں میں مزید پختگی عطا کرے ، اور ملک کی باگ ڈور اسی طرح اگلے پندرہ سالوں تک سنبھالے رکھنے کی اہلیت پیدا کیے رکھے اس ملک کو اب سچ میں کسی دیانتدار حکمران کی ضرورت تھی ، نوجوان نسل کے نمائندے کو موقع دینے میں کوئی حرج نہیں ،،لیکن سینئیر لوگوں کو ذیادہ موقع دینا چاہئیے ملک کی خدمت کا اس لیے کہ ان کا تجربہ ذیادہ وسیع ہے پیپلز پارٹی نون لیگ کی طرح نہیں کہ جن کے پارٹی ورکرز کو سیاست میں 40۔40 سال ہوچکے اور کل کے بچوں کے پیچھے ہاتھ باندھ کے کھڑے ہیں ۔ایک بات تو اب طے ہے کہ
    خان صاحب نے اس قوم کا جگا دیا ہے کہ تمہارے خون پسنے کی کمائی پر کیسے ڈاکہ ڈالا ہے ان چور کرپٹ سیاستدانوں نے اور الحمدللہ
    قوم.میں اب اتنا شعور آگیا ہے کہ اب کوئی بھی کرپٹ سیاست دان عزت کی زندگی نہیں جی سکے گا
    اس ملک کو تنزلی سے ترقی کی طرف لےجانا "شائد عمران خان ” کے ہاتھوں ہی لکھا ہو ا تھا ،سو اللہ نے خان صاحب کو چن لیا تھا قوم کی خدمت کے لیے خان صاحب کی اپنی قوم سے وفاداری پر کوئی بھی محب وطن کبھی شک کر بھی نہیں سکتاجس طرح ایک باپ کی کوشش ہوتی ہے کہ میرا بیٹا بڑا آدمی بن جائے، ٹھیک اس طرح عمران خان کی بھی یہی کوشش ہے کہ پاکستانی قوم ایک عظیم قوم بن جائے صرف ایک اور دور حکومت خان صاحب کو مل گیا تو دنیا میں پاکستانی قوم کا ایک نام ہوگا،اورعمران خان پاکستانی قوم کو پوری دنیا کے قوموں کے مقابلے میں کھڑا کردے گا، ” امید پر دنیا قائم ہے ” سو
    ” پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ ”
    اللہ کا ساتھ رہا تو خان صاحب اگلے تین سالوں میں ملک کو ترقی یافتہ ممالک میں شامل کروا کر چھوڑیں گے لوگ سچ میں باہر سے نوکریاں کرنے پاکستان آیا کریں گے ان شاءاللہ
    یہ میرا دعوی ہے۔ ♥️♥️♥️✌️✌️✌️

    @Farzana99587398

  • خاندانی نظام کا بگاڑ اور بچاؤ۔ تحریر: نصرت پروین

    خاندانی نظام کا بگاڑ اور بچاؤ۔ تحریر: نصرت پروین

    گزشتہ دنوں مشہور اداکارہ (صدف کنول) نے اے آروائی کے ایک پروگرام میں ازواجی زندگی کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ کہ شوہر کو شوہر سمجھیں اور ایک درجہ اوپر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں میاں کلچر ہے۔ میں نے شادی کی ہے میں اپنے شوہر کے جوتے بھی اٹھاؤں گی ان کے کپڑے بھی استری کروں گی اور ان کے کھانے پینے کا خیال بھی رکھوں گی۔انہوں نے کہا کہ وہ عورت کو مظلوم نہیں مضبوط سمجھتی ہیں۔ اس کے بعد سے فیمنزم لبرل مافیا کی طرف سے انہیں کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کی کردار کشی کی گئی کیونکہ انہوں نے فیمنسٹس کی طرح "میرا جسم میری مرضی” کا نعرہ لگا کر اپنا جسم غیر محرموں کو دکھانے کے گھناؤنے فعل سے انکاری ہو کر اچھی بیوی بننے کی کوشش کی۔ اب ان لبرل انٹیوں کی بات کرتے ہیں۔ یہ مذہب بیزار طبقہ نام نہاد مغرب نواز کلچر کا پیروکار ہے جو ایک عرصے سے معاشرے میں خاندانی نظام کو تباہ کرنے پہ تلا ہے۔ اور بعض روایتی گھرانوں کی لڑکیاں بھی اس پروپیگینڈہ کا شکار ہوتی نظر آرہی ہیں۔ یہ فحش اور عریاں قسم کی بےجا آزادی کے نعرے خاندانی نظام کے بگاڑ کا باعث ہیں۔ یہ بےلگام آزادی، فحش پوسٹرز اور آوارہ گردی معاشرتی انتشار کا باعث ہیں۔ یہ دوسروں کو اپنا جسم اپنی مرضی کے مطابق جینے کا درس دینے والی لبرل انٹیوں کے کھوکھلے نعرے ہیں۔ جن کی سڑکوں پر نمائش کی جاتی ہے۔ ماڈرن ازم (بے حیائی) کی طرف رغبت دلانے اور فیشن کے طور پر آزادی کے فحش نعرے لگانے والوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ اوراس فحش طرزِ معاشرت کی معراج یہ ہی سب کچھ ہے جس کے نعرے یہ لبرل انٹیاں لگاتی ہیں۔ یہ انہی جعلی دانشوروں کا بدبو دار لبرل طرزِ زندگی ہے جہاں ان کے انہی نعروں کی بدولت آئے روز ناجائز تعلقات اور تماشے بنے رہتے ہیں۔ ان لبرل مافیا کا اصل مقصد ہی خاندان کا بگاڑ اور مادر پدر آزادی ہے۔
    بات یہ ہے کہ معاشرے کی ترقی میں عورت کی خدمات سے انکاری کوئی نہیں۔ لیکن عورت کے حقیقی کردار کا تعین دینی اور معاشرتی اقدار کے دائرے میں رہ کر ہی ممکن ہے۔ مغربی حقوق کا تصور اسلام میں نہیں۔ کیونکہ اسلام عورت کو مغرب کی بے جا فحش آزادی کے سنگین نتائج سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اسلام نے نکاح کا نظام دیا ہے۔ مہذب اقوام مہذب معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اور مہذب معاشرے کی بنیاد نکاح پر ہے۔ امام ابن القيم رحمه الله شادی کی ترغیب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ۱. اگر شادی کی اہمیت و فضیلت میں صرف نبی صلی الله علیه وسلم کا روز قیامت اپنی امت کو دیکھ کر خوش ہونا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۲. موت کے بعد نیک عمل کا (بصورت صالح اولاد) جاری رہنا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۳. ایسی نسل جو الله کی وحدانیت اور نبی کی رسالت کی گواہی دیتی ہو، کا پیدا ہونا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۴. محرمات سے آنکھوں کا جھک جانا اور شرمگاہ کا محفوظ ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۵. کسی خاتون کی عصمت کا محفوظ ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔ میاں اور بیوی اپنی حاجت پوری کرتے ہیں، لذت اٹھاتے ہیں اور ان کی نیکیوں کے دفتر بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
    ۶. مرد کا بیوی کے پہننے اوڑھنے، رہنے سہنے اور کھانے پینے پر خرچ کرنے کا ثواب ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۷. اسلام اور اس کے ماننے والوں کا بڑھنا اور اسلام دشمنوں کا اس پر پیچ و تاب کھانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۸. بہت سی عبادات، جو تارکِ دنیا درویش نہیں بجا لا سکتا، کا بجا لانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۹. دل کا شہوانی قوت پر قابو پا کر دین و دنیا کیلیے نفع مند کاموں میں مشغول ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔ کیونکہ دل کا شہوانی خیالات میں گِھر جانا، اور انسان کا اس سے چھٹکارے کی جد و جہد کرتے رہنا بہت سے مفید کام نہیں ہونے دیتا۔
    ۱۰. بیٹیوں کا، جن کی اس نے اچھی پرورش کی اور ان کی جدائی کا غم سہا، جہنم سے ڈھال بن جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔
    ۱۱. دو بچوں کا کم عمری میں فوت ہونا جو اس کے جنت میں داخلے کا سبب بن جاتے، ہی ہوتا تو بہت کافی تھا۔
    ۱۲. الله کی خصوصی مدد کا حاصل ہو جانا ہی ہوتا تو بہت کافی تھا۔ کیونکہ جن تین لوگوں کی اعانت الله کے ذمے ہے، اس میں ایک پاکیزگی کی خاطر نکاح کرنے والا بھی ہے۔”
    (بدائع الفوائد : 159/3)

    اسلام میں مرد اور عورت میں بحیثیت انسان کوئی فرق نہیں۔ اسلام میں دونوں کا درجہ مساوی ہے۔ دینی معاملات میں بھی دونوں الله کے سامنے جوابدہ ہیں۔ تاہم دونوں کو صلاحیتوں، فطرت اور جسم کے لحاظ سے الگ الگ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ الله رب العزت نے مرد کو معاشی ذمہ داری سونپ کر قوام کا درجہ دیا ہے۔ مرد اور عورت دونوں کے مشترکہ حقوق ہیں۔ کچھ حقوق شوہر کے ہیں اور کچھ بیوی کے ہیں۔ بیوی کے حقوق شوہر کے فرض ہیں۔ اور شوہر کے حقوق بیوی کے فرض ہیں۔ شوہر بیوی کے درمیان محبت بھرا تعلق الله تعالی کی رحمت ہے۔ الله نے شوہر بیوی کے رشتے کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا۔
    وہ تمہارے لئے لباس ہیں تم ان کے لئے لباس ہو۔
    (سورہ بقرہ:187)
    اور اس طرح دونوں ایک دوسرے کے رازدار اور امین ہیں۔ رازداری میں خیانت نہیں ہونی چاہئیے۔ خوشگوار زندگی کے لئے سیدھی سچی کھری بات، بہت ضروری ہے۔ خیر خواہی سے باہمی اعتماد کی فضا ہوتی ہے۔
    رسول نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو، اور تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اخلاق میں اپنی عورتوں کے حق میں سب سے بہتر ہو۔
    (ترمذی:1162)
    رسول الله گھر کے کام کاج میں بیویوں کے ساتھ تعاون کرتے تھے یہ مشترکہ حق ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جائے ہمارے معاشرے میں اس معاملے میں حقوق کی خلاف ورزی ہے مثال کے طور پر:
    الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم اپنے کپڑے خود دھو لیتے تھے۔ آج کے مرد کیا یہ کام کرتے ہیں؟
    آپ صلی الله علیہ وسلم پیوند خود لگا لیتے تھے آج کے مرد یہ کام نہیں کرتے۔
    نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جھاڑو لگا لیتے تھے آج کا مرد اس سے عار محسوس کرتاہے۔
    نبی کریم صلی الله علیہ وسلم بکریوں کا دودھ خود نکالتے تھے۔ آج کا مرد یہ سارے کام نہیں کرتا۔

    تعلقات میں نرمی اختیار کرنی چائیے۔
    (صحیح مسلم:6602)
    ایسا نہیں ہے کہ ہمارے ہاں عورت پر ظلم نہیں ہوتا۔ بلکل عورت کے ساتھ ظلم ہوتا ہے لیکن یہ تاثر دینا کہ یہ معاشرے کی ہر عورت کی کہانی ہے لہذا معاشرے کی ہر عورت سڑکوں پہ نکل آئے۔ اپنے باپ، بھائی، شوہر بیٹے پر چلائے اور مغرب کی طرح بے جا آزادی، اور خودمختاری ہو۔ جو جی چاہے کرے، جہاں جس کے ساتھ چاہے جائے۔ پھر اس کے نتائج بھی ویسے ہی آتے ہیں۔ اب معاشرے میں آئے روز جنسی زیادتی کے جو واقعات اتنی شدت سے بڑھ رہے ہیں ان کا زیادہ ذمہ دار یہ لبرل طبقہ ہی ہے۔ اسلام نے جو حدود مرد اور عورت کے لئے متعین کی ہیں ان کو پھلانگ کر یہ خاندانی نظام کو تہس نہس کرنے کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔
    باہمی ادب، اعتماد، خلوص، احترام، حدود و قیود، یہ خاندانی نظام میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گھر کا خوشگوار ماحول ، چہروں کا کھلا پن، شگفتگی، کام کی تھکن اتار دیتا ہے۔ یہ خاندانی نظام کی اہم ضرورت ہے جس کا دونوں کو خیال رکھنا چاہئیے شگفتگی صرف عورت کی طرف سے نہیں مرد کی طرف سے بھی ہونی چاہئیے یہ عجیب بات ہے کہ مرد گھر سے باہر جائے جب واپس آئے تو گھر والوں کے لئے بیزاری اور تھکن ہی ہو بیزاری، غصہ اور ڈانٹ ڈپٹ گھر والوں کے حصے میں آئے یا گھر والوں اور بچوں کے معاملات سے لا پرواہی یہ طرز عمل درست نہیں ہے۔ گھر والوں کا پہلا حق ہے کہ ان کے ساتھ شگفتگی کا معاملہ کیا جائے۔ بہترین خاندانی نظام کے لئے آپس کی بھلائی کو فراموش نہیں کرنا چاہئیے۔
    یاد رکھیں کہ دنیا کی بہترین متاع عورت ہے۔ ایک اچھی بیوی شوہر کو مدِ مقابل نہیں بلکہ اپنا ساتھی سمجھتی ہے۔ صرف توجہ نہ چاہیں بلکہ توجہ شوہر کو بھی توجہ دیں۔شفقت کرنے والی، خیال کرنے والی بنیں۔
    الله کی نظر میں صالح عورت وہ ہے جو شوہر کی فرمانبردار ہو۔ اور اسکی غیر موجودگی میں اپنی عزت اور گھر کی حفاظت کرے۔ صالح عورت شکر گزار، اور مضبوط ہوتی ہے وہ کبھی بکھرتی نہیں اور نہ ہی اپنے خاندان کو بکھرنے دیتی ہے۔ دوسری جانب اسلام نے معاشی ذمہ داریاں مرد کو دے کر اسے سربراہ کی حیثیت دی ہے لہذا اسے اپنی تمام معاشی اور معاشرتی ذمہ داریوں کو احسن طریقے پورا کرنا چاہیے۔ اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہئیے ۔ مردوں میں بہترین وہی ہے جو اپنی عورتوں کے ساتھ اخلاق میں بہتر ہو۔ اس طرح ایک اچھے خاندان کی تشکیل میں دونوں اپنا کردار ادا کریں۔
    جزاکم الله خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • فیفتھ جنریشن وارفیئر میں سوشل میڈیا اور ہمارا کردار  تحریر: سیرت فاطمہ

    فیفتھ جنریشن وارفیئر میں سوشل میڈیا اور ہمارا کردار تحریر: سیرت فاطمہ

    فیفتھ جنریشن وار فئیر بنیادی طور پر وہ غیر اعلانیہ جنگ ہے جس میں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر اِس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ لوگ اپنے ہی مُلک اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف ہو جائیں۔
    بیانیے کی اِس جنگ میں غلط معلومات کا پھیلاؤ ، سائبر حملے اور سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگینڈہ کا فروغ وغیرہ یہ تمام فیفتھ جنریشن وارفئیر کے ٹولز ہیں۔ یعنی اِن کے ذریعے یہ وار لڑی جاتی ہے۔ بد قسمتی سے ہم اِسی وارفیئر کا شکار ہیں
    جس کی واضع مثال ہے کہ اِسی سال جنوری میں اینڈیں کرونیکلز کے نام سے یورپی یونین ڈیس انفو لیب رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ کس طرح ایک نیٹورک گزشتہ 15 سال سے 116 ممالک میں پانچ سو فیک میڈیا آؤٹلیٹس اور درجنوں فیک این جی اوز کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کرنے اور پاکستان کے متعلق غلط خبریں پھیلانے کے محاز پر سرگرم تھا۔
    اِس نیٹورک کا مقصد یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان مخالف بیانیہ کا پھیلاؤ اور بھارت نواز بیانیہ کا فروغ تھا۔
    چند دوسری مثالوں میں فیک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے بلوچستان، وزیرستان اور گلگت بلتستان کے متعلق فیک پروپیگنڈہ پھیلانا، CPEC کے بارے میں مختلف غلط فہمیاں پھیلانا اور پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کے خلاف فیک احتجاج کی ویڈیوز اور مختلف خبروں کی فیک ایڈیٹڈ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونا شامل ہیں۔
    خوش قسمتی سے پاکستان کے محافظ اور ہر دم وطنِ عزیز کی خدمت میں سرگرمِ عمل رہنے والی سیکیورٹی ایجنسیز کی قربانیوں اور بروقت حکمتِ عملی کے باعث اینڈین کرونیکلز نامی پروپیگنڈہ مشینری پاکستان کو کوئی بڑا نقصان نا پہنچا سکی۔ مگر اِس کے باوجود یہ اور اِس طرح کی دوسری پروپیگنڈہ مشینریز متحرک ہیں اور ہر حد تک پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
    اِس پروپگنڈہ مشینری کا مقصد لوگوں کے نظریات کو یکسر بدل کر اُن میں وطن و اداروں مخالف جذبات پیدا کر کے اُنھیں اُن کے ہی مُلک کے خلاف کر دینا، پاکستان میں ہونے والے ہر اچھے کام میں کیڑے نکال کر پیش کرنا، CPEC جیسے اہم ترین منصوبے کے خلاف لوگوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا اور لوگوں کی محرومیوں کا فائدہ اٹھا کر قوم پرستی کے جذبات کو منفی ہوا دے کر وطنِ عزیز سے ناراضگی یا نفرت پیدا کرنا شامل ہیں۔
    یعنی اِن تمام مثالوں سے یہ تو واضع ہو گیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا دراصل فیفتھ جنریشن وارفیئر کا میدان جنگ ہے۔ اور یہ باقی تمام میدانوں سے خطرناک ہے کیونکہ باقاعدہ جنگ میں آپ کو دشمن کے ہتھیاروں، تربیت اور طاقت کا اندازہ ہوتا ہے مگر فیفتھ جنریشن وارفیئر سے جڑے سوشل میڈیا کے جنگی میدان پر آپ کو دوست دشمن کا علم نہیں ہوتا۔ جانے انجانے میں لوگ پروپیگینڈہ کا شکار یا حصہ بن کر ایک غلط نظریہ اپنا لیتے ہیں جانے انجانے میں دشمن کی باتوں کو سچ ماننے لگتے ہیں۔ تاہم اب ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پاکستان کی مثبت تصویر دیکھانے، فیک نیوز کی روک تھام کرنے، دشمن کی چالوں کو پلٹنے اور وطنِ عزیز کے حق میں بہترین تجاویز پیش کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمیں اِس سے فائدہ اٹھا کر مثبت کام لینے کی ضرورت ہے۔
    اکثر دیکھا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر آنے والی ہر نیوز، پوسٹ اور معلومات بغیر کسی تحقیق کے آگے شیئر کر دی جاتی ہے جِس کی وجہ سے جھوٹ اور غلط فہمیاں پھیلتی ہیں۔ کچھ نادان لوگ دانستہ و غیر دانستہ طور پر اِن غلط فہمیوں کا شکار ہو کر اداروں اور مُلک پر بے جا تنقید کرنے لگتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی غلط فہمی کو اور طول ملتا ہے۔ اور نتیجتاً ایک من گھڑت غلط افواہ ایک خبر کا روپ دھار لیتی ہے۔
    بلکل اِسی طرح وہ لوگ یا بچے جو سوشل میڈیا نیا نیا استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو جو کچھ بھی اُن کی نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے اُس کو سچ مان لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بھی نا چاہتے ہوئے دشمن کے پروپیگنڈہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
    افسوس سے ہمارے ہاں سوشل میڈیا سے متعلق سخت قوانین کا فقدان ہے مگر یہ وطنِ عزیز ہم سب کا ہے ہم سب اِس کا حصہ ہیں۔ اِس کی حفاظت کی زمہ داری ہم سب پر ہے لہذا قوم، صوبے، فرقے اور سیاسی پسندیدگی سے بالا تر ہو کر ہمیں صرف پاکستان کا مفاد سوچتے ہوئے کسی متنازع خبر، معلومات یا تحریر کو آگے شیئر کرنے سے پہلے تصدیق لازمی کرنی چاہیے۔
    ہم سب کا فرض ہے کہ دشمن کے وطن مخالفت پروپیگنڈہ کے آگے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہو جائیں نا صرف خود کو پاکستان مخالف پروپیگنڈہ مشینری کا حصّہ بننے سے روکیں بلکہ اپنے بچوں، آس پاس کے لوگوں اور جاننے والوں کو بھی اِس سے آگاہ کریں۔ پاکستان کے محافظ اور ہمارے لیے جان کی بازی لگا دینے والے ہمارے سیکیورٹی اداروں کی سپورٹ کریں اور پاکستانیت کے فروغ کے ذریعے پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کو دیکھائیں۔
    اللّٰہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

    @FatimaSPak

  • پاکستان اور اووسیز پاکستانی  تحریر:سکندر ذوالقرنین

    پاکستان اور اووسیز پاکستانی تحریر:سکندر ذوالقرنین

    پاکستان اور سمندر پار پاکستانی کا تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں چند مہینوں سے پاکستان سے ہماری محبت کچھ لوگوں نے اپنے پیمانوں سے ناپنا شروع کر دی
    تھی ہماری محبت لازوال ہے

    جس کا ثبوت

    پچھلے چند مہینوں سے دے رہے ہیں ہیں ہماری صبح بھی پاکستان کے لیے دعا سے شروع ہوتی ہے پچھلے دس مہینوں سے دو ارب ڈالر بھیج رہے ہیں یہ پاکستان سے محبت نہیں تو اور کیا ہے کیونکہ اووسیز پاکستانیوں کو عمران خان پر اعتماد ہے اور اللہّ کرے عمران خان ہماری توقعات پر پورا اتریں

    یہاں ہر کوئی کروڑ پتی نہیں ہے زیادہ لوگ یہاں مزدوری کرتے ہیں اور اپنی فیملی سے دور ہیں ان کی صبح شام بھی پاکستان ہی ہیں

    یورپ آنا اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا سمجھنا چاہتا ہے یورپ والے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر آتے ہیں ان کا یہ سفر پاکستان سے شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد ایران

    اور ترکی کا یہ سفر انتہائی خطرناک ہوتا ہے یہاں دوران سفر کوئی کسی کا نہیں ہوتا سوائے اللہ کے کسی کو بھوک پیاس کی فکر نہیں ہوتی ہے بس منزل پرپہنچنے کا جنون ہوتا ہے

    دوران سفر کئی روز تک بھوکا پیاسا رہنا پڑتا ہے اور سر پر چھت آسمان اور بستر زمین ہوتی ہیں میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے یہ بھی کوئی نہیں پتہ کہ کسی وقت کہیں سے بھی گولیاں سکتی ہے ترکی آنے پر بھی بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے

    ترکی آنے پر کہیں دنوں کا انتظار کیا جاتا ہے ہے کہ کوئی بڑا شپ آئے گا اور یہاں سے آگے لے جائے گا

    یونان پہنچنے کی امید ہوتی ہے اگر وہ خیر سے کوئی پہنچ جائے تو وہاں کی پولیس سیاسی پناہ گاہوں میں ڈال دیتے ہیں اور روٹی کے لئے لمبی لائنیں اور بہت ہی گندا سسٹم پایا جاتا ہے اگر کوئی کام مل جائیں تو اس کے مقدر اچھے

    اٹلی فرانس اور جرمنی میں آتے آتے بہت وقت لگ جاتا ہے اور کبھی کبھی تو کہیں یہاں پہنچ نہیں سکتے ۔ مطلب کے راستے میں ہی فوت ہو جاتے ہیں اور اپنے پچھلے خاندان کو ساری عمر کا رونا بھی دے جاتے ہیں
    دو ہزار پندرہ میں بہت آسانی ہوئی تھی کہتے ہیں ایک ماہ سے کم وقت میں بھی لوگ یہاں پہنچے ہیں

    اٹلی فرانس جرمنی پہنچ جانے پر بھی اوورسیز پاکستانیوں کی مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لیتی

    یہاں آ کر ایک نیا امتحان شروع ہوتا ہے ہے اور وہ ہی اپنے آپ کو لیگل کرنا

    اپنے آپ کو لیگل کروانے کے لیے کسی کے تو دو تین سال لگتے ہیں اور کئ کو تو دس سال تک کا عرصہ لگتاہے

    پچھلے چند مہینوں سے ہم پاکستانی سیاست میں بہت بحث رہے ہیں کہ ایک صاحب نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ ہمیں پاکستانی سیاست کا کیا پتا حالانکہ موجودہ دور میں ان کے اپنے لیڈر بھی اوورسیز کی حیثیت سے لندن میں موجود ہیں پتہ نہیں انکو کیا خوف ہے

    ہمارے چند مطالبات ہیں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ضرور ملنا چاہیے ہمارے ایک موبائل فون پر ٹیکس کے بغیر لانے کی اجازت ہونی چاہیے کرونا سے پروازوں کا مسئلہ بہت چل رہا ہے اس کو فوری حل کرنا چاہیے
    وہاں پاکستان میں موجود اووسیز پاکستانیوں کے لیے ویکسین کا مسئلہ بہت زیادہ دیکھا جا رہا ہے اس کا بھی حل فوری طور پر کرنا چاہیے

    روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی سہولت بہت فائدہ مند ہے لیکن اکثر وہاں پیسے لیتے ہوئے بہت مسئلہ رہتا ہے جیسا کہ ایک دوست سعودی عرب میں رہتا ہے اس کی فیملی رقم لینے گئی تو کبھی ایک بینک والے دوسرے بینک اور دوسرے
    والے اسے واپس اسی بینک میں چکر لگواتے رہے
    ‏@sikander037
    #sikander

  • طاقت کا غرور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے تحریر: شمسہ بتول

    کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ جہاں طاقت کا جاٸز استعمال معاشرے میں امن و سکوں اور عدل و انصاف کی فضا قاٸم کرتا وہیں طاقت کا ناجاٸز استعمال معاشرے کی بنیادوں کو کھوکلا کر دیتا اور معاشے کو تباہی ی طرف دھکیل دیتا اور بہت سی سماجی اور معاشرتی براٸیوں کا باعث بنتا۔ اگر طاقت کا نشہ سر چڑھ جاۓ تو انسان حیوان بن جاتا بے جا ظلم اور زیادتی حد سے بڑھنے لگتی اور یوں ظلم اور نا انصافی کا آغاز ہوتا اور اس طرح آمریت جنم لیتی جس میں تمام تر فیصلے ایک ہی شخص کرتا کسی دوسرے کو آزادی راۓ کا حق حاصل نہیں ہوتا
    اور باقی تمام لوگ اس کے تابع ہوتے اس کے ظلم اور طاقت سے ڈر کر کسی کو بھی اس سے سوال کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں جب کسی کو اقتدار ملتا ہے تو اقتدار پر قابض ہوتے ہی وہ خود کو خدا تصور کرنے لگتا وہ یہ بھول جاتا کہ اس نے عوام سے کیا کیا وعدے کیے تھے وہ صرف اپنی طاقت کے نشے میں دھت ہو جاتا نہ صرف اپنے فراٸض اور ذمہداریاں بھول جاتا بلکہ اخلاقیات کو بھی بالاۓ تک رکھ دیتا
    : طاقت کے غرور میں ڈوبا ہوا شخص کرپشن اوربدعنوانی اور دیگر جراٸم بڑے فخر سے سرانجام دیتا جیسے یہ اس کا حق ہو
    : اگر کوٸی وڈیرا ہے تو اپنے ملازموں پہ اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرتا ہے ۔ غرض جس کے پاس بھی کوٸی منصب یا مقام آ جاۓ تو وہ دوسروں کو حقیر سمجھنا شروع کر دیتا ہے ۔ یہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں طاقتور کو سراہا جاتا چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو اس کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا جرم کہلاتا ہے اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونے سے ڈرایا جاتا دھمکایا جاتا ہے
    طاقت کی بنیاد پر انصاف بیچ دیا جاتا اور مظلوم خاموشی سے برداشت کرتا۔ اسے اپنے حق کی خاطر آواز اٹھانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی اور مظلوم کی دادرسی کرنا طاقتور کی توہین سمجھی جاتی۔طاقت کے اس معیار نے ہمارے معاشرے کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور ابھ بھی پہنچایا جا را رہا ہے۔
    تکبر کا حق صرف اللہ تعالی کا ہے ہم جیسے خاک کے پتلوں کو نہیں ہمارے پاس جو بھی ہے یہ سب اللہ کی عطا اور کرم ہے ہمارا کمال نہیں اس لیے اس عارضی طاقت کے نشے سے باہر نکلیں کیونکہ جو دینے پر قادر ہے وہ لینے پر بھی قادر ہے ۔ ایک دوسرے کو انسان سمجھ کر ایک دوسرے کے ساتھ احسن سلوک کریں
    اللہ کو عاجزی پسند ہے نہ کہ تکبر اور اکڑ۔ ہم مٹی کے بندے ہیں اور ایک دن مٹی ہی ہو جاٸیں گے اس لیے عاجزی اختیار کریں کسی کو حقیر یا کمتر نہ سمجھنا محض اس لیے کہ آپ کے پاس منصب یا دولت کی طاقت ہے۔
    ہم انسان جو کہ خاک کے پتلے ہیں اور ایک دن خاک ہو جاٸیں گے۔ لیکن پھر پتہ نہیں انسان میں اکڑ اور غرور کس چیز کا ہے۔ نہ تو انسان اپنی مرضی سے اس دنیا میں آیا نہ ہی ہمیشہ یہاں رہے گا مختصر یہ کہ نہ زندگی کا اعتبار اور نہ موت کا خبر اور اس دنیا میں آنے پہ بھی دوسرے غسل دیتے اور جانے پہ بھی دوسروں نے غسل دینا مگر پھر بھی طاقت کا یہ خطرناک نشہ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا کیونکہ ہم نے خود طاقتور کو اسکی طاقت کے ناجاٸز استعمال کی شے دی اس کے ظلم پر خاموش رہ کر اور مظلوم کے ساتھ نہ کھڑے ہو کر۔ ہمارے اس دنیا میں آنے اور یہاں سے جانے میں صرف ایک ازان اور نماز کا فاصلہ ہے۔
    پھر پتہ نہیں انسان کس طاقت پہ تکبر کر کے انسانی اور اخلاقی اقدار سے خود کو گرا دیتا ہے?

    @b786_s

  • وار جنریشنز کیا ہے؟  تحریر: محمد اسعد لعل

    وار جنریشنز کیا ہے؟ تحریر: محمد اسعد لعل

    شروع سے ہی انسان کی جبلت میں لڑنا قبضہ کرنا شامل ہے۔اپنے لوگوں کے لیے اپنے مذہب کے لیےاپنے جذبات کے لیےاپنے اندر پیدا ہونے والی نفرت کے لیے وہ دوسرے انسان پر حملہ کرتا ہے۔گروہوں میں لڑنے لگا تو جنگیں شروع ہو گئیں۔ اب تک بڑی بڑی عظیم جنگیں ہو چکی ہیں۔اب جو جدید دور آیااُس میں پانچ جنریشنز بنائی گئیں جو جنگ کی اقسام ہیں۔دو جنگیں جب بھی ہوئی ان کے درمیانی وقفے کو امن کہتے ہیں، اور یہ وقت انسانوں کو بہت کم نصیب ہوا۔کیوں کہ جب سے دنیا بنی ہے جنگیں ہوتی چلی آ رہی ہیں۔اربوں انسان اب تک اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، بے شمار انسانیت کا قتل ہو چکا ہے۔انسانوں نے ہی انسانوں کو قتل کیا ہے۔اس کیے کہتے ہیں کہ انسان ہی انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔
    فرسٹ جنریشن وار 1648 میں شروع ہوتی ہے۔اس وقت یورپ کے عیسائی آپس میں لڑ رہے تھے۔ اس دور میں مذہبی رہنماؤں کےکنٹرول میں فوجیں ہوا کرتی تھیں۔ چرچ فیصلہ کرتا تھا کہ کدھر حملہ کرنا ہے اور کیسے جنگ لڑنی ہے۔ آج کل پاکستان میں ترقی ڈرامہ ارطغرل بہت شوق سے دیکھا جا رہا ہے اس میں بھی کافی حد تک چرچ سے فوج کو کنٹرول کیا گیا ہے۔تب بادشاہ کٹپتلی کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔1648 میں پہلی بار ایسا ہوا کہ مذہب کو انہوں نے جنگ سے الگ کر دیا۔فوجیں پھر ریاست اور ان کے حکمرانوں کے پاس چکی گئیں۔فوجیوں کو پہلی مرتبہ باقائدہ یونیفورم دیاگیا۔فوجی اور عام آدمی میں واضح فرق نظر آتا تھا۔ اس وقت پیدل فوج اور بنیادی ہتھیاروں کے ساتھ جنگ لڑی جاتی تھی، یہ بنیادی ہتھیار تلوار، تیر اور نیزےیا ایسے ہی دیگر ہتھیار تھے۔فرسٹ جنریشن وار کے آخر میں بندوق کا استعمال بھی کیا گیا۔یہ بندوقیں آج کی جدید بندوقوں سے مختلف ہوا کرتی تھیں۔ اسے بہت مشکل سے استعمال کیا جاتا تھا۔تب جنگیں خالی میدانوں میں جا کر لڑی جاتی تھیں۔ اس دور میں فوجی جرنیل اپنی فوج کے ساتھ ہی میدانِ جنگ میں موجود ہوتے تھے ۔
    سیکنڈ جنریشن وارکا آغاز انیسویں صدی میں ہوا۔ اس جنریشن میں فرسٹ جنریشن وار کو موڈیفائی کیا گیا۔پہلے اگر بندوق کی رینج 10،20یا 50 میٹر تک تھی تو اب اس کی رینج 100،200یہاں تک کہ 500 میٹر تک ہو گئی تھی۔ فوجیں دور سے ہی اپنے دشمنوں پر حملہ کرتی تھی۔اب ان بندوقوں کو استعمال کرنا آسان ہو گیا تھا۔ان ہتھیاروں نے جنگ کا طریقہ کار ہی بدل دیا ۔اس دور میں ہی پہلی مرتبہ کیموفلج کپڑوں کا استعمال کیا گیا جسے فوجی پہن کر گردونواح کے مطابق خود کو ڈھال کر چھپ جاتے تھے۔فوج کو چھوٹے چھوٹے یونٹس میں بانٹ دیا گیا ۔جو جلدی حملہ کر کے چھپ جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ تھرڈ جنریشن وار میں بھی یہ طریقے استعمال کیے گے اور اب بھی یہ طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔
    گولہ باری ،ایٹم بم اور راکٹ بھی اسی دور کے آخر میں استعمال کیے گئے۔ جبکہ اس دور میں جرنیل فوجیوں کے ساتھ نہیں ہوتے تھے ،بلکہ محفوظ جگہ سے ریڈیو پر احکامات دیے جاتے تھے۔ اسی دور میں ہی پہلی بارکوڈ وارڈ استعمال کیے گئے تاکہ دشمن کو حکمتِ عملی کا پتہ نہ چل سکے۔
    امریکی سول وار ، سپینش سول وار اس کے علاوہ ایرن اور عراق کی جنگ 1980 سے 1988 تک سیکنڈ جنریشن وارکی مثالیں ہیں۔
    اب چلتے ہیں تھرڈ جنریشن وار کی طرف۔ تھرڈ جنریشن وار میں مزید جدت آ گئی۔اب صنعتی انقلاب بھی آ گیا تھا۔دنیا اور ٹیکنالوجی بہت آگے بڑھ چکی تھی۔جنگ لڑنے والے ممالک نے یہ محسوس کیا کہ رفتار کی بڑی اہمیت ہے۔جتنی تیزی سے آپ جاتے ہیں اور جتنا آپ سرپرائز دیتے ہیں اُتنا زیادہ آپ اچھا لڑ سکتے ہیں۔اس جنریشن نے تیزی سے حملہ کرنے کے لیے ٹینکس بنائے۔ ہیلی کاپٹراورجہاز بنائے جواوپر سے بم پھینکتے تھے ۔ خطرناک میزائل استعمال کیے گئے۔ تھرڈ جنریشن وار زیادہ خطرناک تھی ۔اس میں ایک آدمی سیکڑوں لوگوں کو مار سکتا تھا۔جس فوج کے پاس ٹیکنالوجی کم ہوتی تھی اس کا فائدہ دوسری افواج اُٹھا لیتی تھیں۔رفتارحد سے بڑھ چکی تھی،دنوں کے فاصلے گھنٹوں اور منٹوں میں طے ہونا شروع ہو گئے تھے۔
    پاکستان اور انڈیا کی جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں وہ سیکنڈ اور تھرڈ جنریشن وار فیئر کی جنگیں ہیں۔ کوریاکی جنگ،سوویت یونین ،امریکہ کی سرد جنگ ، اسرائیل اور عربوں کی جنگ اور افغانستان میں امریکہ کی جنگ تھرڈ جنریشن وار فیئر کی مثالیں ہیں ۔
    آج بھی اگر کوئی ایک ملک کسی دوسرے ملک سے بَراہِ راست لڑے گا تو تھرڈ جنریشن وار کو ہی استعمال کرے گا۔ اس وقت ترقی اور یونان کے درمیان جنگ کا خطرہ ہے اگر جنگ ہوئی تو یہ تھرڈ جنریشن وار ہی ہو گی۔
    اب دیکھتے ہیں کہ فورتھ جنریشن وار کیا ہے۔اس میں فوج اور عام عوام کے درمیان فرق ختم کر دیا جاتا ہے۔اس میں سیاست اور جنگ مکس ہو جاتی ہے۔ فورتھ جنریشن وار میں یہ کیا جاتا ہے کہ پروپیگنڈہ کے ذریعےسے،فنڈنگ کے ذریعے سے،لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر ،لوگوں کی غربت ، محرومیوں اور ناانصافیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے،نوجوانوں کو گمراہ کر کے ایسا لٹریچر دیا جاتا ہےجس پر اُن کے جذبات بھڑکتے ہیں اور پھر وہ ایک ایسے گروہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو اپنی ہی ریاست کے خلاف جنگ کر دیتے ہیں یا پھر ایسا گروپ بن جاتا ہے جو کسی خاص مقصد کے تحت خاص قسم کے لوگوں کو مارنا شروع کر دیتے ہیں۔اس کو کہتے ہیں فورتھ جنریشن وارفیئر۔اس کا آغاز 1989 میں امریکہ نے اپنی شاطر ذہنیت کے ساتھ کیا تھا۔
    ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) فورتھ جنریشن وار کی مثال ہے جس نے پاکستان پر حملے کیے۔ایک وقت ایسا تھا کہ چالیس حملے ہوے پاکستان میں۔کبھی جی ایچ کیو پر حملہ کیا تو کبھی مساجد پر ،کبھی امام بارگاہ پر حملہ کیا تو کبھی بازاوں میں بم دھماکے۔یہ حملے فورتھ جنریشن وارفیئر کے حصہ تھے۔ٹی ٹی پی اور دوسرے گروہوں کو باقائدہ انڈیا ،اسرائیل اور سی آئی ای کی جانب سے فنڈنگ کی گئی۔
    فورتھ جنریشن وار فیئر میں آج تک صرف ایک ملک ہے جس نے یہ جنگ جیتی ہے باقی ساری ریاستیں ہاری ہیں ۔ جہاں جہاں یہ جنگ چھڑی کوئی اس کو نہیں جیت سکا سوائے ایک ملک کے اور وہ ملک ہے پاکستان۔اس میں پاکستان کا بہت نقصان بھی ہوا اور فورتھ جنریشن وار ہے ہی مسلمانون کے خلاف کیونکہ اسے امریکہ نے شروع کیا تھا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کے اور مسلمانوں کے خلاف شروع کیا۔لیکن پاکستان اس سےکامیابی کے ساتھ لڑا اور اپنی جیت ثابت کی۔
    یہ تو تھیں پہلی چار جنریشنز وار پانچوی بہت اہم ہے اس پر الگ سے تفصیل سے لکھوں گا اور انشاءاللہ بہت جلد آپ باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر پڑھ سکیں گے۔ تب تک کے لیے اَللہ نِگَہبان۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal