Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • بے حیا ہمارا معاشرہ اور زمانہ جاہلیت  تحریر : فیصل اسلم

    بے حیا ہمارا معاشرہ اور زمانہ جاہلیت تحریر : فیصل اسلم

    اگر ہم تاریخ کا مطالع کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کے زمانہ جاہلیت یعنی نبی پاک ﷺ کی ولادت مبارکہ سے پہلے کے زمانے میں عربوں میں بے حیائی اور بے شرمی عام تھی مرد و عورت کے ناچ گانے سے محظوظ ہونا یہ سب اس وقت بھی عام تھا ۔
    عرب کے بڑے بڑے شعرا عورتوں کے نازیبا حرکتوں اور اداوں کا ذکر اپنی شاعری میں فخریہ کرتے تھے اور اسی طرح بعض لوگ باپ کے مرنے پر معاذاللّه باپ کی بیوی یعنی اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیتے ۔ان کے علاوہ بھی بے شرمی و بے حیائی کی رسمیں ان میں عام تھیں الغرض جاہلیت کے معاشرے کا شرم و حیا سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا ۔
    لیکن جب ہمارے پیارے رسول ﷺ دنیا کو اپنی نورانی تعلیمات سے منور کرنے تشریف لائے تو آپ نے اپنی نگاہ حیا دار سے ایسا ماحول بنایا کے ہر طرف شرم و حیا کی روشنی پھیلنے لگی جناب عثمان رضی اللّه عنہ جیسے لوگ پیدا ہونے لگے جن کے بارے میں خود نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کے عثمان سے تو آسماں کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں
    اور اسی باحیاپرور ماحول کا نتیجہ تھا کے جب حضرت ام خلاد نامی صحابیہ کا بیٹا جنگ میں شہید ہوگیا تو یہ اپنے بیٹے کے بارے میں معلومات لینے باہر نکلیں تو اس وقت بھی اپنے چہرے پر نقاب ڈالنا نہیں بھولیں
    چہرے پر نقاب ڈال کے جب بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئیں تو اس پر کسی نے حیرت سے کہا اس وقت بھی با پردہ تو بی بی ام خلاد کہنے لگیں کے میں نے اپنا بیٹا ضرور کھویا ہے لیکن اپنی حیا نہیں کھوئی وہ اب بھی باقی ہے
    معلوم ہوا کے نبی پاکﷺ نے اپنے ماننے والوں پر شرم و حیا پر مبنی زبردست ماحول بنایا اور آج ہم دیکھتے ہیں کے شرم و حیا کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ لوگ جو شرمیلے ہوں فطرتی طور پر ان میں شرمیلا پن زیادہ ہو اور وہ اسکا اظہار کریں تو انکو طرح طرح کے طعنے دیے جاتے ہیں ایسوں کو یاد رکھنا چاہیے کے شرم و حیا ایک ایسی صفت ہے جو جتنی زیادہ ہو اتنا ہی خیر میں اضافہ ہوتا ہے اسلئے رسول پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کےحیا صرف خیر ہی لاتی ہے

    اور ہمارے معاشرے میں گردش آیام یا شامت اعمال نے جس طرح آج مسلمانوں کو جس خطرناک موڑ پر لاکر کھڑا کردیا ہے وہ کون سی آنکھ ہوگی جو ہماری زبوں حالی اور ذلّت و رسوائی پر آنسو نہ بہاتی ہو مسلمانوں کی ذلّت و رسوائی ، خوارگی ، بدنامی ، بے عزتی و محرومی دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کیا کل بھی مسلمانوں کے احوال و کوائف یہی تھے جو آج ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں
    انگریزی تہذیب ایک فتنا بار گھٹا بن کر افق عالم پر چھائی ہوئی ہے اور اکثر ممالک میں یورپی تہذیب ایک فتنہ اجتماعی و معاشرتی مفاسد و شرور کی آگ لگی ہوئی ہے ایسا لگتا ہے کے یہ شرور وفتن کی لو پوری دنیا کو اپنے لپٹ میں لے لے گی اس میں شک نہیں کے ہمارا معاشرہ بری طرح بے حیائی کی لپٹ میں آچکا ہے فحاشی و عریانی کی تندو تیز ہوائیں شرم و حیا کی چادر کو تار تار کر رہی ہیں دور جدید کی خرافات نے غیرت کا جنازہ نکال دیا ہے اس نام نہاد ترقی نے بے حیائی کو فیشن کا نام دے کر میڈیا کے ذریعے گھر گھر لا دیا ہے مغرب سے بے حیائی کی آنے والی آندھی تہذیب شرم و حیا کو ختم کرنے کے درپے ہے یہی وجہ ہے کے مسلم معاشرے میں بے حیائی و فحاشی کا چلن عام ہو رہا ہے
    اسکی بنیادی وجہ علم دین سے دوری ہے
    آج تفریح گاہوں میں بے حیائی کے مناظر عام ہو رہے ہیں اور مزید بڑھ رہے ہیں آج خواتین کی ایک تعداد ہے جو شرم و حیا کی چادر کو گھر میں رکھ کر بازاروں میں بے حیائی و بے شرمی کو فروغ دیتے ہوئے نظر آتیں ہیں اور پھر وہ مرد حضرات جنکی آنکھوں سے شرم و حیا کا سرمہ اڑچکا ہے وہ ایسیوں کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے نظر آتے ہیں پہلے تو فلم و ڈراموں کے حیا سوز منظر ٹی وی اور سینماؤں کی سکرینوں پر ہوتی تھی لیکن آج موبائل کی سہولت نے ان تک ہر کسی کی رسائی ممکن بنا دی ہے آج اجنبیہ اجنبی کے ساتھ اکیلی ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی حلانکے یہ حرام ہے
    آج اجنبی اور اجنبیہ باہم ملاقات کرتے ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے اور مسکراتے نظر آتے ہیں آج شرعی پردے کو پورانے دور کی رواج میں شمار کیا جاتا ہے آج مسلمان عورت بینا پردے و حجاب کے بن سنور کے باہر باہر گھومنے میں فخر محسوس کرتی ہیں
    مرد و عورت دونوں نے اسلامی تعلیمات و شرم و حیا کو بھولا دیا ہے ہمارے اسلاف کیسے ہوتے تھے اسکی ایک مثال یہ ہے کے ایک زمانے کے مشہور اللّه کے ولی حضرت یونس بن یوسف جوان تھے اکثر مسجد میں وقت گزارا کرتے تھے ایک بار جب آپ مسجد سے گھر جا رہے تھے تو راستے میں آپکی نظر اچانک ایک عورت پر پڑی اور دل اس کی طرف مائل ہونے لگا پھر آپ نے شرمندہ ہو کر نظریں نیچی کرلیں اور پھر رب کی بارگاہ میں یہ دعا کی یا رب بے شک یہ آنکھیں جو تو نے دی بہت بڑی نعمت ہیں لیکن اب ان سے مجھے خطرہ محسوس ہو رہا ہے کے کہیں میں انکی وجہ سے ہلاکت میں نہ پڑ جاؤں اور عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤں اے اللّه میری ان آنکھوں کی بینائی سلب کرلے پھر انکی دعا قبول ہوئی اور وہ بھری جوانی نابینا ہوگئے
    بے شک یہ ان بڑی ہستیوں کا کمال ہی ہے لیکن ہم بطور مسلمان اپنی نظروں کو ان کاموں سے روکیں جن سے بے شرمی و بے حیائی کا خطرہ محسوس ہو
    اس میں کوئی شک نہیں کے شرم و حیا ایک ایسا مضبوط حصار ہے جو ذلّت و رسوائی کے تمام کاموں سے بچاتا ہے اور جب کوئی شخص اس شرم و حیا کے دائرے کو توڑنے کی صرف کوشش بھی کرتا ہے تو مسلسل بے شرمی و بے حیائی و فحاشی کے کاموں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے یوں تو انسان میں بہت سی عادتیں اور اوصاف پاۓ جاتے ہیں لیکن شرم و حیا ایک ایسا وصف ہے کے اگر لب و لہجے و عادات و حرکات و اطوار سے یہ پاکیزہ وصف ختم ہوجاے تو تو بہت سی اچھی عادتوں اور بہت سے عمدہ اوصاف پر پانی پھر جاتا ہے دیگر نیک اوصاف شرم و حیا کا وصف ختم ہونے کی وجہ سے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں اور ایسے خواتین و مرد دوسروں کے نظروں سے گر جاتے ہیں
    یاد رکھیں دکھ سکھ۔ خوشی غمی ۔ غصے اور شفقت سمیت بہت سے اور اوصاف جانوروں میں بھی پاۓ جاتے ہیں جبکے شرم و حیا ایک ایسی صفت ہے جو صرف انسانوں میں پائی جاتی ہے یہ جانوروں میں نہیں ہوتی تو انسان و جانور میں فرق شرم و حیا کے ذریعے ہی ہوتا ہے لہٰذا اگر کسی انسان میں سے شرم و حیا جاتی رہے تو اب اس میں اور جانور میں کچھ خاص فرق نہیں رہ جاتا اسلئے ہمارے دین نے شرم و حیا اپنانے کی بہت ترغیب دلائی ہے
    نبی و آخری رسول ﷺ کے کچھ ارشادات حیا ممتعلق درج ذیل ہے
    1)آپ ﷺ نے فرمایا
    بیشک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں تو جب ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بگی اٹھا لیا جاتا ہے
    2) آپﷺ نے فرمایا
    بیشک ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے
    3)آپﷺ نے ارشاد فرمایا
    بے حیائی جس چیز میں ہو اسکو عیب دار کردیتی ہے اور ہی جس چیز میں ہو اسکو زینت بخشتی ہے
    اللّه پاک ہمارے معاشرے سے بے حیائی و بےشرمی و فحاشی کی نحوست کو ختم فرما دے امین

    گناہوں سے بھرپور نامہ ہے میرا
    مجھے بخش دے کر کرم یا الہی

    @FsAslm7

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 01) تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 01) تحریر: محمداحمد

    ہمارے معاشرے میں لوگ صرف حکمرانوں کو بُرا بھلا کہتے ہیں اپنے اندر کے شیطان کو نہیں دیکھتے اپنے اقدامات اور اعمال کو نہیں دیکھتے ہر وقت ہیرا پھیری انسان کا وطیرہ بن گیا ہے ٹھگی کرنا دھوکہ دے کر پیسہ کمانا ہم اچھا عمل سمجھتے ہیں یاد رکھیں جیسے ہم اور ہمارے اعمال ہوتے ہیں ویسے ہی ہم پر ہمارے حکمران ہوتے ہیں جیسے کہ

    دودھ میں پانی ملانا:
    لوگ دودھ میں پانی ملا دیتے ہیں کتنی ملاوٹ کرتے ہیں آپ سب جانتے ہیں کتنی مارکیٹیں بند ہوئی ہیں کتنے دفاتر آۓ روز بند ہوتے ہیں لیکن ملاوٹ کا سلسلہ نہیں رُک رہا اس ملاوٹ پہ کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی جہاں دودھ میں ملاوٹ پکڑی گئی ہے وہاں سے دودھ تلف کر دیتے ہیں اور انہیں جرمانہ کر دیتے ہیں یہ دَھندہ پھر شروع ہو جاتا ہے بعض جگہوں پر دودھ میں کیمکل کا استعمال بہت کیا جارہا یے جس میں ڈیٹرجنٹ ، صابن، یوریا، سوڈا وغیرہ استعمال ہو رہا ہے جس کی وجہ سے دل کے مرض اور کینسر جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں دودھ کو جانچنے کیلئے بہت سے طریقے ہیں جس کے بارے میں ہم سب کو پتہ ہونا ضروری ہے کہ جو دودھ ہم استعمال کر رہے ہیں کیا وہ بیماریوں سے پاک ہے کہ نہیں
    دودھ میں اگر کیمکل کا استعمال کیا ہوا ہے تو اس کو جانچنا بہت آسان ہے دودھ کو سونگھ کر بھی دودھ کی بُو سے پتہ لگ جاتا ہے اس کے علاوہ دودھ میں انگلیاں ڈبو کر چکناہٹ سے بھی پتہ لگ جاتا ہے اس میں کیمکل کا استعمال کیا گیا ہے یا نہیں خالص دودھ کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے اگر خالص دودھ کو فریج میں رکھ دیں تو اگر ذائقہ بدل جاۓ اس کا مطلب اس میں ضرور ملاوٹ کی گئی ہے اس کے علاوہ دودھ کو چیک کرنے کیلئے ایک چمچ کھانے کا نمک اگر پانچ ملی لیٹر دودھ میں ملائیں اگر دودھ نہیں نیلا رنگ کر دیا تو اس کا مطلب ان میں ملاوٹ ہے دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا کام ہر گاوں میں کیا جاتا ہے پھر بھی لوگ دھوکے بازی سے باز نہیں آتے اور ہمیشہ حکمرانوں کو کوستے نظر آتے ہیں اسی طرح شہد میں شیرے کا استعمال ہے

    شہد میں شیرے کا استعمال:
    شہد کے بہت سارے فوائد ہیں جس کے بارے میں قرآن مجید میں بھی ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "اس میں شفا ہے انسانوں کیلئے”
    آج کل بازاروں میں بہت سے لوگ گھومتے نظر آتے ہیں کہ شہد لے لیں ایسے چال بازوں سے ہوشیار رہیں وہ ملاوٹ والا شہد بیچ رہے ہوتے ہیں ایک دفعہ میرے ساتھ بھی ایک واقع ہوا ایک بوتل شہد لی وہ بھی ملاوٹ والی ۔ اس کے بعد مجھے شہد جانچنے کا شوق ہوا کہ کیسے چیک کر سکتے ہیں شہد اصل ہے یا ملاوٹ والا پتہ لگ جاتا ہے
    اگر کبھی بھی کو چھوٹ لگ جاۓ یا زخم ہوجاۓ تو شہد لگا کر دیکھیں اگر خون رک گیا تو شہد اصلی ہے ملاوٹ والا شہد ایک جگہ رُکے گا ہی نہیں (گاؤں میں اس طریقے کو عام استعمال کرتے ہیں)
    شہد کی اپنی خاص خوشبو ہوتی ہے جس کو سونگھ کہ بھی پتا لگا سکتا ہے اگر آپ شہد میں ایک ڈیلی نمک رگڑیں تو اصل شہد کی پہچان یہی ہے کہ اس شہد میں سے نمک کا ذائقہ نہیں آۓ گا شہد کا اپنا خاص ذائقہ ہوتا ہے قبض کی حالت میں بھی ہم لوگ رات کو ایک کپ نیم گرم دودھ میں 2 چمچ اگر خالص شہد کے حل کر کے پی لیں تو پیٹ ٹھیک ہو جائے گا

    اب سوچیں اور بتائیں ملک میں اصل گڑ بڑ تو ہم کر رہے ہیں پھر ہم کہتے ہیں کہ ہمارے حکمران ایسا کر رہے ہیں ویسا کر رہے ہیں لیکن انسان کو یاد رکھنا چاہیے جیسی عوام ویسے حکمران ۔ ہم سب اپنے کردار کو نہیں دیکھتے اپنے مفادات کی خاطر لوگوں کا گلا کاٹنے تک چلے جاتے ہیں
    اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح گھی کو کیمیکل سے لوگ تیار کر رہے ہیں اور اُس کے ساتھ مرغیوں کی انتڑیوں سے کیسے تیل تیار کر رہے ہیں جس کی وجہ سے انسانی زندگی متاثر ہو رہی ہے اسی وجہ سے اصل ملک میں اصل گڑ بڑ تو ہم کر رہے ہیں

    @JingoAlpha

  • بغض عمران کی سزا۔عوام کو کیوں ؟ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    بغض عمران کی سزا۔عوام کو کیوں ؟ تحریر-سید لعل حسین بُخاری

    یہ چیز سمجھ سے بالاتر ہے کہ بلاول سرکار عمران خان سے عداوت کی سزا سندھ کے عوام کو کیوں دے رہی ہے؟
    جب پوری دنیا نے عمران خان کی سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کو نہ صرف سراہا بلکہ پاکستان نے کرونا کی پہلی تینوں لہروں پر اسی کامیاب حکمت عملی سے قابو بھی پایا تو پھر بلاول میاں کیوں ضد پر اڑے ہیں۔
    انہیں کیوں عوام کی مشکلات نظر نہیں آتیں؟
    وہ مکمل لاک ڈاؤن سے کیوں غریب آدمی کا چولہا بند کرنا چاہتے ہیں؟
    وہ کیوں تاجروں سے روزگار چھین لینا چاہتے ہیں ؟
    وہ کیوں اُبھرتی ہوئ ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کرنا چاہتے ہیں ؟
    سندھ حکومت کی نااہلیوں کی تو ویسے لمبی داستان ہے، مگر کرونا کے حوالے سے ہی بات کی جاۓ تو اب تک کرونا ویکسین کی چوری کے سب سے زیادہ واقعات بھی سندھ ہی میں ہوۓ۔
    محکمہ صحت کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے لوگوں سے پیسے لیکر اُن کے گھروں میں جا کر ویکسین لگائ گئی۔
    اس سرکاری ویکسین کا اندراج کسی اور کے نام کا کیا گیا،جبکہ ویکسین لگائ کسی اور کو گئی۔
    اسی وجہ سے بہت سے لوگ جب ویکسین لگوانے ویکسی نیشن سنٹرز میں گئے تو یہ سُن کر ان کے پاوں تلے سے زمین نکل گئی کہ ریکارڈ کے مطابق انہیں تو ویکسین لگ چکی ہے۔
    اسی طرح پچھلے دنوں ٹیسٹنگ کے دوران 40ایسے افراد سامنے آۓ ،جنہیں کرونا کا بھارتی ویرئینٹ اپنا شکار بنا چُکا تھا۔
    یہ لوگ کرونا پازیٹو آنے کے بعد پر اسرار طور پر غائب ہو گئے۔
    جو سرا سر سندھ حکومت کی نااہلی تھی۔اس مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں ان 40کرونا پازیٹو افراد کی وجہ سے تیزی سے پھیلنے والا بھارتی وائرس کتنا اور پھیلا ہو گا،اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔کیونکہ اس کے پھیلنے کی شرح بعض رپورٹس کے مطابق پرانے وائرس سے چار گنا زیادہ ہے-
    سندھ حکومت نے شروع ہی سے SOPs فالو کروانے میں لیت و لعل سے کام لیا،جس کے باعث کرونا کی شرح سندھ میں سب صوبوں سے بڑھ گئی۔
    ان سب باتوں کو چھوڑیے،
    مراد علی شاہ کی ہونہار ٹیم ویکسین لگوانے کے انتظامات تک بہتر انداز سے نہیں کر سکی۔
    کراچی اور پاکستان کے سب سے بڑے ویکسی نیشن سنٹرایکسپوسنٹر سمیت تقریبا” تمام ہی سنٹرز اس وقت تک ہُلڑ بازی اور طوفان بد تمیزی کا شکار ہیں۔
    نہ لائنیں ہیں ، نہ ماسک ہیں اور نہ ہی مناسب فاصلہ ہے۔
    جس سے خدشہ ہے کہ یہاں سے کرونا کم کرنے کی بجاۓ پھیلانے میں مدد کی جارہی ہے۔
    ان سنٹرز میں لڑائ جھگڑے اور لاٹھی چارج کی بھی خبریں ہیں۔
    دوسرے صوبوں کے بر عکس سندھ نے ٹیڈی پیسے کی ویکسین نہیں خریدی،حالانکہ بلاول کی پسندیدہ 18ویں ترمیم کے بعد صحت صوبائ معاملہ ہے۔
    ان بدحالیوں اور ناہلیوں کے بعد بلاول کے وہ دعوے کدہر گئے، جن میں وہ کہتا تھا کہ سندھ کا مقابلہ باقی صوبوں سے نہیں،دنیا کے دیگر ممالک سے ہے۔
    دنیا کا کونسا ایسا ملک ہو گا؟
    جہاں سندھ جیسی ابتری اور خراب ترین صورتحال ہو گی۔
    بلاول کے دعوے اپنی جگہ
    سندھ کےبہت سے ہسپتالوں اور سکولوں میں اب بھی گدھے بندھے نظر آتے ہیں۔
    آوارہ کتوں کے کاٹنے پر لگائ جانے والی ویکسین دستیاب نہ ہونے کی بدولت کتنے معصوم بچے اور بڑے اپنی زندگی کی بازی ہار چُکے ہیں۔
    ان لوگوں کا خون کس کے سر ہے؟
    ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ بلاول کی بہن آصفہ آوارہ کتوں کو مارنے کی مخالفت کرتی ہے۔اُس کے نزدیک یہ جانوروں کے حقوق کی پامالی ہے۔
    اس خاندان کے لئے باعث شرم ہے کہ جو انسانوں کے مرنے کی تو پرواہ نہیں کرتا مگر جانوروں کے حقوق کا محافظ ہے۔
    ان کے نزدیک انسان تو کتوں کے کاٹنے سے مرتے رہیں،مگر کتوں کو نہ مارا جاۓ،کیونکہ یہ حقوق کی پامالی ہے۔
    ہر شعبے میں ناکامی کی زمہ داری وفاق اور عمران خان پر ڈالنامعمول بن چکا۔
    مراد علی شاہ کے وزرا اور مشیروں کو جب بھی دیکھیں۔ٹی وی سکرین پر وفاق کے خلاف چارج شیٹ لے کے بیٹھے ہوتے ہیں،
    مقصد صرف اپنی نا اہلیاں چھپانا اور اپنی نوکریاں پکا کرنا ہوتا ہے۔
    نہ کوئ منصوبہ بندی نہ کوئ حکمت عملی۔
    سندھ حکومت کب خواب غفلت سے جاگے گی؟
    کب بغض عمران سے نکل کر سندھ کے عوام اور پاکستان کا سوچے گی؟

    تحریر-سید لعل حسین بُخاری
    @lalbukhari

  • تھیلسیمیا نسل در نسل چلنے والا مرض   تحریر: سحر ملک

    تھیلسیمیا نسل در نسل چلنے والا مرض تحریر: سحر ملک

    میرا ریسرچ ورک حمزہ فاؤنڈیشن پشاور میں تھا میں جب بھی ڈیٹا کولیکٹ کرنے جاتی تو وہاں بچوں کے ساتھ وقت گزارتی اسطرح ان سے دوستی ہو جاتی۔ ہر ہفتے یا تین دن بعد ان سے دوبارہ ملاقات ہو پاتی تھی، ان میں ایک لڑکی طیبہ بھی شامل تھی جو لگ بھگ میری ہم عمر تھی لیکن دکھنے میں کافی کمزور دبلی پتلی سی تھی خون کے موذی مرض (تھیلیسیمیا) نے اس کی جسمانی ساخت پر اثر کر رکھا تھا۔
    وہ جب بھی مجھے دیکھ لیتی تھی میرے پاس دوڑ کے آ جاتی تھی۔ اسکا تعلق چارسدہ سے تھا مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب اس سے بات ہوتی اسکی آنکھوں میں آنسو تیر رہے ہوتے تھے۔

    ایک دن مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے پوچھ ہی ڈالا کہ تم رو کیوں رہی ہو اس نے کہا کہ یہ بھی کیسی زندگی ہے ہر ہفتے مجھے اپنے گھر والوں کو تکلیف دینی پڑتی ہے کہ مجھے پشاور لایا جائے اسکے والد ٹریفک پولیس تھے وہ اسے پشاور لانے کے لئے چھٹی نہیں لے سکتے تھے تو اسے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اسکی خواہش تھی کہ وہ بھی ہماری طرح زندگی جئے۔

    طیبہ نے مجھے بتایا کہ اسکے ساتھ زیادہ تر چھوٹے بچے ہیں اور اسکا ایک ہی واحد دوست تھا جو اسکا ہم عمر تھا اسکا بھی چند دن پہلے انتقال ہو گیا ہے اسکے انتقال کے بعد طیبہ نے بھی جینے کی امید چھوڑ دی۔

    یہ کہانی صرف طیبہ کی ہی نہیں ہے بلکہ ہر اس بچے کی ہے جو تھیلسیمیا جیسی خونی بیماری سے لڑ رہا ہے۔

    آئیے سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ تھیلیسیمیا ہے کیا چیز؟ اور کس کو متاثر کرتی ہے؟

    8 مئی یومِ تھیلسیمیا کے طور پہ منایا جاتا ہے۔
    جس میں لوگوں کو تھیلسیمیا کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہے کہ کیسے اسے روکا جا سکتا ہے۔

    تھیلسیمیا مرض میں مریض کے جسم میں ہیموگلوبن (خون کے سرخ ذرات) کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔

    تھیلسیمیا میں خون کی کمی، تلی کا بڑھ جانا اور ہڈیوں میں گودے کی کمی واقع ہوتی ہے جس کی وجہ سےتھیلسیمیا سے متاثر بچہ ساری زندگی انتقال خون کے لئے ہسپتالوں کے چکر لگاتا رہتا ہے، یا پھر بون میرو ٹرانسپلانٹ ( Bone Marrow Transplants ) کے لئے ڈونر ڈھونڈنا پڑتا ہے۔

    پاکستان میں ہر سال 8 سے 12 ہزار بچے اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کی بڑی وجہ خاندان میں شادی کرنا ہے۔

    تھیلیسیمیا کی تین اقسام ہیں تھیلیسیمیا مائنر، تھیلسیمیا انٹر میڈیا اور تھیلیسیمیا میجر۔

    تھیلسیمیا مائنر:
    جو لوگ والدین میں سے ایک سے نارمل اور ایک سے ابنارمل جین حاصل کرتے ہیں، ان کو تھیلیسیمیا مائنر کہتے ہیں۔ 

    تھیلسیمیا انٹر میڈیا:
    یہ تھیلسیمیا کی درمیانی قسم ہے، جس میں ہیموگلوبن 7 سے G9 تک رہتی ہے اور تھیلیسیمیا میجر کے مقابلے میں اس میں مریض کو خون لگوانے کی ضرورت کم پڑتی ہے۔

    تھیلسیمیا میجر:
    یہ خون کی خطرناک بیماری ہے۔ اس مرض میں مبتلا مریض کو بروقت خون نہ دیا جائے تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ تھیلسیمیا ایک موروثی بیماری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ والدین سے جینز کے ذریعے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ بیماری مریض سے انتقالِ خون، ہوا، پانی، جسمانی یا جنسی تعلق سے منتقل نہیں ہوسکتی اور نہ خوراک کی کمی یا طبی بیماری سے۔
    اگر ماں باپ میں سے کسی ایک کو تھیلسیمیا مائنر ہو، تو بچے کو بھی تھیلسیمیا مائنر ہی ہوگا۔ اگر خدا نخواستہ ماں باپ دونوں کو تھیلسیمیا مائنر ہو تو ان کے ملاپ سے جنم لینے والا بچہ تھیلسیمیا میجر ہوگا۔ اس لئے ضروری بات یہ ہے کہ اگر خاندان کے اندر شادی ہونے جا رہی ہو، تو لڑکا لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کروائے جائیں اس میں کوئی قباحت نہیں، اگر مائنر بیماری دونوں میں پائی جائے، تو شادی روک دی جائے۔ اس طرح باآسانی تھیلسیمیا کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔

    آئیں تھیلسیمیا کے مریضوں کی مدد کریں۔
    آپ کے خون کا عطیہ کئی زندگیاں بچا سکتا ہے۔

  • جیو اور جینے دو تحریر: سیدہ بخاری

    جیو اور جینے دو تحریر: سیدہ بخاری

    وہ جب پیدا ہوا تو سارے خاندان میں خوشیاں منائی گئیں ،آخر کو دو بیٹیوں کے بعد دنیا میں آیا تھا خوشی تو بنتی ہی تھی۔
    لاڈلا بیٹا ماں کی آنکھوں کا تارا اور بہنوں کا راج دلارا،
    ابھی ساتویں دن سر کے بال بھی نہیں مونڈے گئے تھے کہ ماں نے لاڈلے کے سر پر سہرا سجانے کے خواب بننا شروع کر دئیے۔
    ماں کا ایک ہی ارمان تھا کہ کب میرا لاڈلا اس قابل ہوگا کہ میں خوبصورت سی بہو لیکر آؤں گی،،،،
    وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور وہ وقت قریب آ ہی گیا جس کا لاڈلے کی ماں اور بہنوں کو انتظار تھا،
    جی ہاں! آپ ٹھیک سمجھے
    سر پر سہرا سجانےکی گھڑی بالآخر آن پہنچی تھی۔
    ماں اور بہنوں کو نازک سی گورے رنگت والی بہو خوب بھائی تھی کہ چٹ منگنی پٹ بیاہ والا معاملہ ہوا۔
    وہ بھی آنکھوں میں ڈھیروں خواب سجائے اپنے پیا دیس سدھار گئی اور دل میں خود یہ یہ عہد کئے کہ اپنی سیرت اور اخلاق سے سب کو جلد ہی اپنا گرویدا کر لے گی لیکن ہائے،،،،
    ہائے یہ قسمت بھی عجیب کھیل کھیلتی ہے،
    سسرال ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر بعض اوقات اچھی شکل ،اچھا اخلاق، نیک سرت اور باکردار ہونا بھی آپکا بسنے میں ساتھ نہیں دیتا اور آپکی ہر ریاضت بے کار چلی جاتی ہے۔
    اسکی چھوٹی چھوٹی بے ضرر سی نادانیاں اسکا عیب اور گناہ بنا دی گئی تھیں۔
    اسکا ہنسنا، بولنا اور سب سے گھل مل جانے والی عادات اسکا گناہ بن گئی تھیں۔
    لاڈلا تو اپنا بیٹا تھا نا اب اسکی نادانی کی سزا بھی بہو رانی بھگت رہی تھی کیونکہ دل اتنے تنگ تھے کہ یہ قبول ہی نہ کر پائے کہ لاڈلا پہلے بیٹا اور بھائی تھا تو اب ایک شوہر بھی بن چکا ہے۔
    لاڈلا بیوی کے ساتھ بیٹھے تو بیوی بے حیا،،،
    لاڈلا کبھی مسکرا کر بیوی کی طرف دیکھ لے تو "بہو کے لچھن ٹھیک نہیں بازاری کہیں کی مردوں کو رجھانا خوب جانتی یے”
    لاڈلا بیوی کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھانا کھائے تو ” گھر میں جوان بہنیں ہیں ان کے دل پر کیا گزرے گی یہ دیکھ کر”
    لاڈلا بیوی کو موٹر سائیکل پر ساتھ بٹھا لے تو "کیسے چپک کر میاں کے ساتھ بیٹھی ہے کیا اپنے باپ کیساتھ بھی ایسے بیٹھتی تھی”
    ارے یہ تو جھلکیاں ہیں مکمل داستان آپ کیلئے سننا دشوار ہو جائے گی۔
    بہو رانی ماں سے ایک چپ سو سکھ کا سبق سیکھ کر آئی تھی سو ایک لمبا عرصہ خاموشی سے یہ سب دیکھتی رہی اور یہ سوچتی رہی کہ محبت تو فاتح عالم ہے ،دلوں کو مسخر لیتی ہے اور ایک دن وہ بھی سب کے دلوں کو جیت لے گی لیکن وہ یہاں بھی غلط تھی،،،،بدکرداری، چوری، ماں باپ کی گندی تربیت کے الزاموں سے لیکر شوہر کا اولاد نہ دینا تک سہ لیا اور اسکا ساتھ دیتی رہی لیکن،،،،
    لیکن دل نہیں جیت پائی اور پھر ایک دن تھک ہار کر لاڈلے کو اسکی ماں کی آغوش کو
    میں سونپ کر پھر سے اپنے کچے پکے آشیانے میں واپس آگئی ،،،،
    یہ جو ٹوٹے پھوٹے بے ترتیب الفاظ میں کہانی لکھی گئی ہے یہ کسی بہت اپنے کی حرف حرف حقیقت داستان ہے،،،،یہ کسی کی آٹھ سالہ ذندگی کے وہ بہترین سال تھے جو چھوٹے دلوں کی کم ظرفی کی نظر ہو گئے،،،یہ اس آٹھ سالہ کہانی کا صرف دس فیصد حصہ ہے ۔
    یہ ہمارے پاکستانی معاشرے کے ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے جہاں بڑے ارمانوں سے کسی کی بیٹی کو لایا جاتا ہے اور پھر اسکو تھوڑ دلی، کم ظرفی اور شک و شبے کی ایسی آگ میں دھکیل دیا جاتا ہے جسکا اس نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔
    خدارا 🙏
    جب کسی کی بیٹی کو اپنے گھر کی عزت بنا کر لائیں تو اسکو عزت سمجھیں اور عزت دیں ، کوئی بھی انسان خامیوں سے پاک نہیں ہوتا اور اس رشتے کی یہی خوبصورتی ہے کہ فریقین اسکو ایکدوسرے کی خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کریں۔
    جیسے اپنی بیٹی کو اسکی چھوٹی چھوٹی باتوں کیلئے معاف کردیتے ہیں ویسے ہی بہو کیلئے بھی دل بڑا کرنا سیکھیں۔
    یہ ایک پہلو ہے جو میں نے سنا اور اسکو اپنے الفاظ میں لکھ دیا ،اور بہت سے واقعات اس سے الٹ بھی ہیں جہاں نئی نویلی دلہنیں گھروں کو توڑنے کا اور فتنہ و فساد کا سبب بن جاتی ہیں تو دونوں طرف ہی اصلاح کی شدید ضرورت ہے،،،
    جو لڑکیاں بیاہ کر اگلے گھر جائیں وہ بھی شوہر کو اپنی ملکیت نہ بنائیں اور جو لوگ دوسروں کی بیٹیاں بیاہ کے لائیں وہ انکو اور کچھ نہ سہی تو انسان ضرور سمجھیں🙏
    چونکہ ہمارے یہاں  پاکستان میں ذیادہ تر مڈل کلاس اور اس سے بھی نیچے کا طبقہ آباد ہے اور ایسے میں جوائینٹ فیملی سسٹم کا ہی رواج ہے تو دونوں طرف سے دل بڑا کر کے ایک دوسرے کو قبول کرنے کی ضرورت ہے، اعلی ظرفی سے گھر میں نئے اضافے کی صورت آئے فرد کو کھلے دل سے قبول کرنے کی ضرورت ہے،
    سسرال والے نئی نویلی دلہن کو گھر میں جگہ بنانے کا موقع دیں اور بہو سب کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھے۔
    اپنے خاندانی نظام کو پرسکون طریقے سے چلانے کیلئے جیو اور جینے دو کے فلسفے کو اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک دوسرے کی خواہشات کا احترام کر کے ہی ایک خوشحال گھرانہ تشکیل پا سکتا ہے کیونکہ ایک دوسرے کی عزت کے ساتھ جذبات کا احترام اور احساسات کا خیال کر کے ہی بہتر زندگی گزاری جاسکتی ہے۔

  • خواہش تحریر : اے ار کے

    خواہش تحریر : اے ار کے

    خواہش سے مراد کسی مادّی شے یا
    مرتبہ و مقام جسے پانےکیلیے بندہ ( مومن) ہر قانونی، غیر قانونی آئینی و غیر آئینی اور شرعی و غیر شرعی ( یعنی قانون ، آئین و دین کے متعین کردہ حدود) کو پھلانگتا ہے۔
    خواہشات کی تکمیل انسان کو خوشی اور تسکین دیتی ہے۔
    عقل و منطق کے برعکس ، اپنی خواہشات سے والہانہ محبت کے نتیجے میں انسان معاشرے میں بھی خوار و ذلیل (ریاستی مجرم)ہوجاتا ہے۔ اور ایمان ( شرعی لحاظ سے )بھی خطرے میں پڑھ جاتا ہے۔
    انسانی خواہشات انسانی ضروریات کی پیداوار ہیں۔
    انسان فطرتاً خواہشات کے اگے ڈھیر ہوتا ہے۔
    دراصل نفس ہی انسان میں خواہشات پیدا کرتا ہے اور اسی نفس ہی کے ذریعےانسان خواہشات کا غلام بنتا ہے ۔
    دنیا کی رنگینیوں میں ایسی کشش و جاذبیت موجود ہے جو بنی نوع انسان کو زیر کرنے اور اسے اپنی طرف راغب کرنے کیلیے کافی ہے۔
    اور فطرت انسانی میں بھی ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جو دنیا کی کشش سے میل کھاتے ہیں۔
    "” اسلام اور خواہشات "”
    خواہش اور ضرورت دو الگ چیزیں ہیں۔
    بھوک اگر ضرورت ہے تو ذائقہ خواہش۔
    محبت اگر ضرورت ہے تو قربت تمنا۔
    خواہشوں کا سفر دراصل خود شناسی سے
    شروع ہوتا ہے۔اگر احتیاط سے کام نا لیا جائے اوراسلام کے وضع کردہ حدود و قیود سے تجاوز ہوتی ہے تویہ خود پرستی کی اس انتہا تک پہنچ جاتاہے جہاں انسان کی جھولی میں سوائے نقصان کے کچھ نہیں رہتا۔
    پس۔۔۔! جس نے خود کو جانا اس نے ربّ کو جانا۔
    اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے- اسلام کے معنی تابع ہونا ہے یعنی خود کو خدا کا تابعدار و فرمانبردار بنانا ہے۔ الله کے احکامات سے دور ہو کر انسان گمراہ اور باغی بن جاتا ہے ۔ 
    ہر مومن ، ہر وقت خدا کو حاضر سمجھتا ہے۔ لہٰذا ﷲ کے احکام کی پیروی کرنے والا مسلمان ہے اور نفس کی پیروی کرنے والا شیطان کے راستہ پر نکل پڑتا ہے۔
    نفس کا تابع قیامت کی مطلق پروا نہیں کرتا۔
    نبی پاک ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا مومن کیلیے قید خانہ ہے
     کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش ِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ 
    کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمّہ لے سکتے ہو؟
    کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سُنتے اور سمجھتے ہیں؟
    یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ  اُن سے بھی گئے گُزرے۔ 
    (القُرآن ، سورت الفرقان ایت نمبر 43 )
    انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل و شعور کے ذریعے اشرف المخلوقات بنا کر ،فرشتوں اور تمام مخلوقات پرفوقیت دے کرافضل بنایا ِاِنسان کو
    "”لَقَد خلقنا الا نسان فی احسن تقویم””
    کہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا کسی بھی دوسری مخلوق کے لئے اللہ تعالیٰ نے یوں نہیں فرمایا۔
    اب چونکہ نفس ہی دراصل انسانوں میں خواہشات پیدا کرتا ہے اور اِسی نفس ہی کے ذریعے ہم خواہشات کے غلام بنتے ہیں اور ہماری نفسی خواہشات ہی ہمیں تباہی کی طرف لے جاتی ہیں ۔ انسان کی سب سے بڑی دشمن اُس کی خواہشات ہوتی ہیں ۔ حضور اقدسﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ جو کچھ سابق اُمتوں نے کیا ہو گا میری اُمت میں بھی وہ برائیاں ضرور ظاہر ہو نگی ۔
    اللہ تبارک تعالیٰ قران میں فرماتے ہیں
    بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کن باتیں کرتے ہیں، ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے ۔
     [قرآن ، سورت الانعام ، آیت نمبر 119​]
    ہم مسلمان ہیں اور کلمہ پڑھنے کے بعد ہماری تمام خواہشات ایک خاص حدود میں آکر قید ہو جاتی ہیں۔نفس کی ہر خواہش کا اُلٹا کرنا ہی دراصل تقویٰ ہے۔
    آج پوری دنیا میں سب سے زیاہ خواہشات کے شکار ہم مسلمان ہو رہے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے لیے تو یہ دنیا قید خانہ ( جیل ) کی طرح ہے اور ہم نے زندگی رسول اللہؐ کی شریعت رسول اللہ ﷺکے مطابق گُزارنی ہے ۔
    تقویٰ کے معنی ایک مومن مسلمان نے اپنی روح کو پاک رکھنے کے لیے تمام برائیوں اور خواہشات سے اپنے آپ کو بچانا ہے اُن سے پرہیز کرنا ہوتا ہے۔ نفس بڑا ہی ظالم ہوتا ہے ۔غصہ ، جھوٹ ، غیبت ،حسد یہ سب دراصل نفس کی اصل بیماریاں ہیں اور تمام خواہشات انہی کے کوکھ سے جنم لیتی ہیں ۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کوعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین

    ٹویٹر ہینڈل : @chalakiyan

  • 4 اگست بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس، طلباء کی امیدیں اور مطالبات : تحریر عبدالعظیم

    4 اگست بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس، طلباء کی امیدیں اور مطالبات : تحریر عبدالعظیم

    کورونا کے سنگین حالات کے پیش نظر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے وفاقی وزیر تعلیم کو بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس بلا کے تعلیمی اداروں کے بارے حتمی فیصلے کرنے کے احکامات جاری کیے۔
    ایسے میں پاکستان بھر کے نوی اور گیارویں کے بیس لاکھ سے زائد طلباء میں اُمید کی ایک کرن جاگی ہے، یقیناً یہ اجلاس طلباء پاکستان کی آخری اُمید ہے، اس سے پہلے بھی 28 جولائی کو شفقت محمود نے اپنی سربراہی میں بین الصوبائی وزراء تعلیم کانفرینس بلانے کا اعلان تو کیا مگر وہ اس اعلان پر پورا نہیں اُتر سکے اور کانفرینس سے پہلے لندن تشریف لے گئے یوں ایک بار پھر طلباء کو مایوس کیا گیا۔
    پاکستان بھر میں جس طرح کورونا کے حالات اب چل رہے ہیں یقیناً یہ حالات مئی 2020 سے بہت زیادہ سنگین ہیں، کورونا کی چوتھی لہر (ڈیلٹا ویرینٹ) کی سنگینی کے بارے میں عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بہت مرتبہ خبردار کیا ہے، اس کی سنگینی کا ثبوت یہ ہے کہ نئی تحقیق کے مطابق یہ وائرس اُن لوگوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے جو ویکسین لگوا چکے ہیں اور اس وائرس میں مبتلا ایک شخص پانچ لوگوں کو شدید بیمار کر سکتا ہے۔ مئی 2020 کا حوالہ دینے کا مقصد صرف اتنا ہے جب مئی میں پاکستان میں کورونا پھیل رہا تھا تب حکومت پاکستان نے ملک بھر کے نوی سے باروی تک کے تمام تر پرچے منسوخ کیے تھے اور جو تھوڑے بہت پیپرز ہوئے تھے ملک بھر میں اُن کو بھی منسوخ تصوّر کر کے طلباء کو اگلی کلاس میں ترقی دی تھی ساتھ ہی انٹر بورڈ کمیٹی چیئرمین (IBCC) کے تیارکردہ فارمولہ کے تحت اُن تمام بچوں کے رزلٹ بنائے گئے تھے۔ یقیناً کورونا کے پیش نظر یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا جس سے بچوں کو لاحق جانی خطرات ٹل گئے، اُن کا تعلیمی سال بھی ضائع نہیں ہوا اور اُن کا رزلٹ بھی متاثر ہونے سے بچا۔ مگر اس بار حکومت کی طلباء کے ساتھ سلوک قابل افسوس اور نا قابلِ برداشت ہے وہ اس لئے کہ اس بار پورے سال میں کورونا کے پیش نظر تعلیمی اداروں کو صرف تین سے چار مہینوں کے لئے کھولا گیا اور اُن مہینوں میں متبادل کلاسز کا انعقاد کیا گیا جو کہ پورے سال میں صرف پچاس سے پچپن دِن بچوں کو کلاسز میں پڑھایا گیا، جس سے بچوں کا تعلیمی سال شدید متاثر ہوا اور وہ مقررہ وقت میں اپنا کورس مکمل کرنے سے قاصر رہے اس بات کا اقرار شفقت محمود بہت بار کر چکے ہیں کہ طلباء کا یہ مطالبہ درست ہے کہ اُن کو کورس مکمل نہیں کروایا جا سکا، اس کے باوجود حکومت نے طلباء کو کیا ریلیف دیا؟ کچھ بھی نہیں، یہ سب اپنی جگہ، دوسری طرف اس وقت پورا مُلک کورونا کی لپیٹ میں ہے، سندھ میں مکمل لوک ڈاؤن اور دوسرے صوبوں میں اسمارٹ لوک ڈاؤن نافذ ہے، ہر قسم کی ممکنہ پابندیاں لگائی جا چکی ہیں ایسے میں نوی اور گیارویں کے بیس لاکھ سے زائد طلباء کو امتحان دینے پر مجبور کرنا طلباء کی جانی اور تعلیمی بربادی سے کم نہیں، وہ کیسے؟ جیسے 2 جون 2021 کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے دو ٹوک اعلان کیا اس بار کسی بچے کو امتحان کے بغیر کوئی گریڈ نہیں دیا جائے گا، اور بیسوں مرتبہ یہ بات شفقت محمود کی طرف سے دہرائی گئی ہے بچوں کی صحت اولین ترجیح ہے، اب نوی اور گیارویں کے بچے اُن سے کسی گریڈ کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ وہ تمام بچے اس بات پر اسرار کر رہے ہیں کہ اگر حکومت ہماری صحت کو لیکے سنجیدہ ہے تو ہمیں بغیر کسی گریڈ کے اگلی کلاس میں ترقی دی جائے اور اگلی کلاس میں جب ہم امتحان دیں گے اُس کے نتائج کی بنیاد پر ہمارے اس سال کے مارکس لگائے جائیں جو کہ پچھلے سال بھی نوی اور گیارویں والوں کے ساتھ حکومت نے ایسا کیا تھا، اس سے شفقت محمود کی اس بات کی بھی تائید ہوگی کہ حکومت نے اس سال امتحان کے بغیر کسی بچے کو گریڈ نہیں دیا ساتھ ہی لاکھوں بچوں کو کورونا کے اس وبا سے کافی حد تک محفوظ کیا جا سکتا ہے، اس فیصلہ سے پاکستان بھر کے نوی اور گیارویں کے لاکھوں بچوں کا اگلا تعلیمی سال بھی وقت پر شروع ہوگا اور اگلے تعلیمی سال میں اس طرح کے نا خوشگوار واقعوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کورونا کے بڑھتے کیسز کو مد نظر رکھتے ہوئے نوی اور گیارویں کے جو چند پیپرز ہوئے ہیں اُنکو اور جو ہو رہے ہیں اُن کو منسوخ تصوّر کرنا یقیناً ایک دانشمندانہ فیصلہ ہوگا۔ پیپرز کو مزید ملتوی کر کے طلباء کا اگلا تعلیمی سال بھی متاثر کرنا یہ کوئی موزوں فیصلہ نہیں ہوگا اور یقیناً اس سے طلباء کا بہت زیادہ نقصان ہوگا، ساتھ ہی وزراء تعلیم کو اپنے اجلاس میں دسویں اور باروی کے وہ تمام طلباء جو اس سال بغیر پڑھایئے کے امتحان دینے پر مجبور ہوئے اور اپنے امتحانات دے چکے ہیں اُن کو خصوصی رعایت دے کے طلباء کے ساتھ ہمدردی کا ثبوت دینا چاہئے، اب وہ وزراء پر منحصر ہے کہ وہ طلباء کو رعایت کس شکل میں دیتے ہیں، متاثرہ تعلیمی سال کو مدنظر رکھتے ہوئے آیا حکومت اُنکو کچھ فیصد اضافی مارکس دینے کا اعلان کرتی ہے یا پھر اس سال کسی بھی سٹوڈنٹ کو فیل نہ کرنے پر غور کرتی ہے۔ طلباء کے بہترین مفاد میں فیصلے کرنے میں نہ تو ملک و قوم کا کوئی نقصان ہے نا ہی حکومت کو کوئی حرج۔ اب دیکھنا یہ ہے چار اگست کو وزراء تعلیم کس رخ بیٹھتے ہیں، اگر قوم کے بچوں کے بہترین مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں تو ہم اس کی مکمل حمایت کریں گے اور کھل کر حکومت کو داد دیں گے، حکومت کو بھی چائیے قوم کے معماروں کے ساتھ انصاف کے تمام تر تقاضے پورے کر کے اُن کو ایک مثبت انداز میں پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے اجنڈے میں اپنے ساتھ شریک کرے بجائے اس کے کہ معصوم طلباء کے مفادات کو نظراداز کر کے اُن کو اشتعال دلائیں۔ شُکریہ
    Twitter account @Azeem_GB

  • گلگت میں کرونا واٸریس کے وار جاری۔   تحریر  سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ

    گلگت میں کرونا واٸریس کے وار جاری۔ تحریر سیف الرحمٰن افق ایڈووکيٹ


    ملک بھر کی طرح گلگت بلتستان میں بھی مہلک واٸریس کرونا کے وار اور تباہ کاریاں جاری ہیں گلگت بلتستان میں کرونا کیسسز کی شرح میں بہت اضافہ ہوچکا ہے خصوصا ضلع گلگت میں کرونا کے بڑھتے کیسسز اور شرح اموات نے لوگوں کی تشویش ,پریشانیوں اور تکلیفوں میں اضافہ کردیا ہے صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ہسپتالوں میں او پی ڈیز بند کردی گٸی ہیں اور کرونا سے متاثرہ مریضوں کے لیے مختص آٸیسولیشن سینٹر بھر چکے ہیں اور کچھ پراٸیوٹ ہسپتالوں نے نٸے مریضوں کو لینے سے معذرت کے اشتہار بھی چسپاں کردٸے ہیں طبی ماہرین کے مطابق کرونا کی نٸی لہر مہلک انڈین ڈیلٹا ورژن ہے جس کے مہلک اثرات زیادہ ہیں ماضی میں گلگت بلتستان میں سخت ایس او پیز اور لاک ڈاٶن سمیت دیگر حفاظتی اقدامات کی وجہ سے کرونا کی شرح اور صحت یابی کی شرح حوصلہ افزا رہی تھی مگر حالیہ لہر کے بعد صورتحال گھمبیر ہوچکی ہے سیاسی و سماجی حلقے بڑھتے ہوئے کیسیز اور شرح کے حساب سے مکمل لاک ڈاٶن اور سخت ایس او پیز کا مطالبہ کررہے ہیں گلگت بلتستان ایک پسماندہ اور دورافتادہ خطہ ہونے کی وجہ سے طبی سہوليات اور طب کے شعبے میں ملک کے دیگر صوبوں سے بہت پیچھے ہے خدانخواستہ اگر صورتحال مزید گھمبیر ہوٸی تو روک تھام اور تدارک سنگین چیلنج بن سکتا ہے حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق صوبے میں878 کرونا سے متاثرہ مریض کرونا سینٹرز میں زیرعلاج ہیں اب تک اس موزی واٸیریس سے صوبے میں 147 افراد جاں بحق ہوئے ہیں سب سے زیادہ 67 اموات کے ساتھ ضلع گلگت سرفہرست ہے دوسرے نمبر پر46 اموات کے ساتھ ضلع سکردو اور تیسرے نمبر پر سات اموات کے ساتھ ضلع غذر نمایاں ہے کرونا کیسسز میں شرح کے حساب سے بلتستان 13.40 کی شرح سے پہلے نمبر پر اور ضلع گلگت 8.92 فیصد شرح کے حساب سے دوسرے نمبر پر موجود ہے ایکٹیو کیسسز کی شرح کے حساب سےضلع گلگت297 مریضوں کے ساتھ سرفہرست ہے ضلع سکردو185 کیسسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر جکہ 151 کیسسز کے ساتھ ضلع غذر تیسرے نمبر پر موجود ہے صوبے میں کرونا کیسسز کی شرح %8.45سے بڑھ کر 9.77%تک پہنچ گٸی ہے جو کہ تشویش ناک صورتحال ہے یہاں یہ بات قابل زکر ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کا سیزن ہے اور اندرون و بیرون ملک سے سیاحوں کی بڑی تعداد گلگت بلتستان میں موجود ہے حالیہ بارشوں سے پیدا شدہ صورتحال کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے کرونا کیسسز نے بھی سیاحوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے حکومت نے کرونا کیسسز کی شرح کے حساب سے مختلف علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا ہے اور سیاحوں کے لیے بھی پالیسی وضع کی گٸی ہے کہ کرونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ اور ٹیسٹ رپورٹ کے بغیر صوبے میں داخلے کی ایس اوپیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جارہا ہے جو کہ خوش آٸند بات ہے دوسری طرف ہسپتالوں میں او پی ڈیز کی بندش کی وجہ سے عام مریضوں کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے حکومت کو چاہیے کہ سخت ایس او پیز کے ساتھ عام عوام کے لیے او پی ڈی سروس یقینی بناٸی جاۓ تاکہ عام مریضوں کو درپيش مشکلات میں کمی آسکے ان حالات میں صوبائی حکومت کو چاہیے کہ کرونا کیسسز کی بڑھتی ہوٸی شرح کو مدنظر رکھتے ہوۓ جامع حکمت عملی اور ایس او پیز پر عملدرآمد کو سختی سے یقینی بنائے اور عوام الناس بھی طبی ماہرین اور حکومت کی جانب سے وضع کردہ پالیسسز و ایس او پیز پر بھرپور عملدرآمد کریں تاکہ کرونا کیسسز کی موجودہ لہر کے مضر اور مہلک اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے ۔۔۔۔۔ Srufaq@

  • ویکسین کیوں نہ لگوائی  جاۓ   تحریر : ثروت نجمی

    ویکسین کیوں نہ لگوائی جاۓ تحریر : ثروت نجمی

    کو ویڈ ۱۹ نے دنیا تو بدل ہی دی، ہمیشہ کی طرح ہمیں ایک نیا عالمی سازش کا مرکز بھی بنا دیا ہے۔

    دنیا بھر کے لوگ اس فکر میں ہیں کہ کس طرح سے اپنے آپ کو، اپنے اہل و عیال، پڑوسی محلہ دار، رشتہ دار، دوست احباب اور ہم وطنوں کو اس جان لیوا وائرس سے بچائیں۔
    پچھلے ڈیڑھ سال سے دنیا بھر کی حکومتیں مختلف قسم کے لاک ڈاؤن کر کے ، حفاظتی طریقہ کار اور واءرس سے بچاؤ کے پیغامات کو ہر خاص و عام تک پہہچارہی ہیں تاکہ اس وائرس کی تباہ کاریوں کو کسی نہ کسی طریقے سے قابو میں لایا جا سکے۔ ان تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود لاکھوں لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں، کڑوڑوں لوگ اس وائرس کی وجہ سے جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اس موزی وائرس کے انسانی جسم پڑ پڑنے والے دور رس مضر صحت اثرات کے بارے میں ابھی مکمل معلومات ہی نہیں ہیں۔

    معاشرتی طور پر اس وائرس کی وجہ سے میل ملاپ، درس و تدریس، غمی و خوشی، دکھ سکھ ، آنا جانا، ملنا ملانا ، غرض یہ کی زندگی کا ہر ایک پہلو اس کی زد میں آکر پاش پاش ہو گیا ہے۔ جو معاشرتی ضابطے دہایوں، صدیوں اور نسل در نسل ہماری زندگی کا حصہ بن چکے تھے، اب اچانک ہی خطرناک اور جان لیوا بن گئے ہیں۔
    کسی بھی جگہ ، کسی بھی وقت، کسی سے بھی ملاقات کرنے کی آزادی فلحال ختم ہوگئی ہے۔ بچے اپنے ماں باپ سے ملنے سے قاصر ہو گۓ، میتیں بغیر عزیز و اقارب کے سپرد خاک کر دی گئیں، بیمار جانیں اپنی اقرباء کی عیادت سے محروم ہو گئیں، دفاتر، اسکول، اعلیُ تعلیمی ادارے، جیمخانہ وغیرہ بند ہو گۓ ۔ قصہ مختصر ، زندگی جو ہم جانتے تھے وہ مکمل طور پر بدل گئی ہے۔

    معاشی طور پر کروڑوں لوگوں کے کاروبار تباہ و برباد ہو گۓ، نوکریاں ختم ہو گئیں، غریب ممالک میں مزید غربت پھیل گئی ہے، امیر ممالک بھی قرضوں کے بھوجھ میں دبیں ہیں۔ کساد بازاری کا ایک بڑھتا ہوا طوفان ہے جو دنیا بھر کی معاشیات کو اپنی ظالمانہ گرفت میں لے رہا ہے۔ غریب مزید غریب ہوا جارہا ہے اور اسے امید کی کرن شازونازر ہی نظر آ رہی ہے۔

    یہ تو پھر بھی کافروں کی ایجادات بشمول انٹرنیٹ ، موبائل فون، اور کمپیوٹرز کی معجزہ کاری ہے کہ زندگی کا نظام جاری ہے اور ہم اپنی روز مرہ زندگی کی گذر بسر کر رہے ہیں۔ یہ وہی ایجادات جنہیں ہم مختلف حیلے بہانوں سے رد کرتے ہیں یا ان میں سازشوں کا عنصر تلاش کرتے رہتے ہیں۔ اور اگر کچھ نہیں بات سوجھتی تو ان ایجادات کے استعمال کو فحاشی پھیلانے کازریعہ اور اسلامی اقدار کے منافی قرار دیتے ہیں۔

    اس کسمپرسی اور مایوسی میں امید کی واحد کرن وہ علاج ہے جوُ کہ جہنمی کافروں نے اپنی دنیاوی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوۓ اور دن رات کی انتھک کا وشوں سے ایک ویکسین کی شکل میں ایجاد کیا۔ یہ ویکسین دنیا میں امید کی واحد کرن ہے جس کے استعمال سے ہم اپنی معمول کی زندگی گزارنے کا خواب دوبارہ دیکھنے لگے ہیں۔
    جن معاشروں میں اس ویکسین کا استعمال وافر تعداد میں ہو رہا ہے وہاں زندگی کسی نہ کسی معنوں میں واپس آرہی ہے۔ روز مرہ کے معمولات میں توازن آرہا ہے۔

    لیکن ہمارے معاشرے کی سوچ میں جو یہود و ہنود کی سازشوں کا جال بن دیا گیا ہے وہ اس ویکسین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ ہمیں مختلف طریقوں، تاویلوں، شرعی حوالہ جات اور فتاؤں کی مدد سے یہ باور کرایا جارہا ہے کہ یہ ویکسین ایک بینالاقوامی سازش ہے جس کے پیچھے کافروں (چین کی استثنی) کا ہاتھ ہے۔ کہ ہم جو دنیا جہان کے سب سے معزز، پاکیزہ، نیک سیرت، غریب پرور، عبادتگار، ہمدرد، اور ترقی یافتہ لوگ ہیں، یہ ویکسین ہماری ان تمام خوبیوں اور صفات کے خلاف ایک کافرانہ ہتھیار ہے۔ ہمارا مقتدر دینی طبقہ تو مزید آگے بڑھ کر یہ بیان فرمارہا ہے یہ ویکسین مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کے لۓ ایک عالمی کافرانہ سازش ہے۔ ان کے مطابق موجودہ اربوں مسلمانوں نے مل کر دنیا میں جو ایجادات، خوشحالی، امن، بھائ چارہ اور مثالی اسلامی معاشرے قائم کیا ہے ، ان کی معازاللہ روک تھام ہو جاۓ گی۔

    ایک ایسی سازش جس کا تانہ بانہ ہر اس کافر ملک سے ملتا ہے، جس کی امیگریشن لینے کے لۓ مسلمان اپنا جان و مال قربان کرنے کے لۓ ہمہ وقت تیار ہیں۔ دنیا بھر کا جھوٹ اور فراڈ کر کے ہم مسلمان ان ہی کافر ممالک کی امیگریشین لیتے ہیں ، جو ہماری تعداد کو گھٹانے کے لۓ یہ ویکسین لے کر آئے ہیں۔ تو جناب اب یہ بات عیاں ہو رہی ہے کہ ان مقتدرہ حضرات کی نظر میں اسلام کا مفاد اتنا عزیز ہے کہ وہ اس کے لۓ ویکسین نہ لگا کر اپنی جان دے دیں گے ۔ چنانچہ اگر آپ کو بھی اسلام سے اتنی ہی محبت ہے تو پھر ان پہنچی ہوئی ہستیوں کی تقلید میں آپ بھی ویکسین نہ لگوا کر شہید ہو سکتے ہیں اور اگر آپ ایک مسلمان مرد ہیں تو فوراُ ہی جنت پہنچ کر بہتر حوروں، انگنت غلامان، اور اپنی دنیاوی بیگم کے ساتھ عیش و آرام کی ابدی زندگی گزار سکتے ہیں۔ وما علینہ اللالبلاغ۔

  • غنی شاکر اور فقیر صابر تحریر: احسان الحق

    غنی شاکر اور فقیر صابر تحریر: احسان الحق

    اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے کچھ بندوں کو رزق دے کر آزماتے ہیں اور کچھ بندوں کو رزق کی تنگ دستی سے آزماتے ہیں. مال دار اور غنی بندے کو ہر حال میں شاکر ہونا چاہئے، یہ بہترین غنی ہے. اسی طرح فقیر اور تنگ دست بندے کو ہر حال میں صابر رہنا چاہئے، یہ بہترین فقیر ہے. ایسے شاکر "غنی” اور صابر "فقیر” کے لئے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ہاں اجر عظیم ہے. اگر غنی ناشکری کرنے والا ہو تو ایسا مالدار بدتر مالدار ہے. بے صبری کرنے والا فقیر بدتر فقیر ہے.

    ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے پوچھا کہ اے ابوذرؓ تمہارے خیال میں کثرت مال "مالداری” ہے؟ فرمایا کہ جی ہاں. دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ قلت مال "فقیری” ہے؟ آپ نے جواب دیا ہاں جی. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں،
    "ابوذرؓ تمہارا جواب غلط ہے حقیقی مالدار اور غنی وہ ہے جو دل کا غنی ہو، جس کا نفس غنی ہو چاہے اس کے پاس مال کم ہو یا زیادہ. فقیر وہ ہے جس کا دل اور نفس فقیر ہو چاہے اس کے پاس بہت زیادہ مال ہو”.

    دل کے غنی ہونے کا مطلب ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے راہ میں خرچ کرنے والا اور شاکر ہو. اپنے پاس موجود کم یا زیادہ مال میں سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے خرچ کرے یہ حقیقی مالدار اور غنی ہے. اسی طرح مالدار آدمی ہو مگر دل کا فقیر ہو مطلب وہ کنجوس ہو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والا ہو اور ناشکری کرنے والا ہو ایسا بندہ حقیقی فقیر ہے. اسلام میں فقیری اور امیری دونوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور فقیری اور امیری کی مذمت بھی کی گئی ہے. مال کی کثرت سے ہی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور مستحقین پر خرچ کیا جا سکتا ہے جو کہ فقیری پر ترجیح کی وجہ ہے. بہترین مالدار وہ ہے جو شاکر بھی ہو.

    پاکیزہ اور حلال بہت ہی عمدہ ہے اگر وہ نیک اور صالح بندے کے پاس ہو. وہ بندہ جو اس پاکیزہ اور حلال مال اور رزق کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے. مال و دولت آنے کے بعد اس کے دل میں غرور و تکبر پیدا نہ ہو. اکثر ہوتا یہ ہے کہ مال و دولت ملنے کے بعد انسان فرعون بن جاتا ہے. غیر شرعی اور غیر قانونی کاموں میں پیسے اڑاتا ہے. اگر مال کسی ایسے بندے کے پاس ہو جو اپنے مال کو ناجائز طریقوں یا ناجائز کاموں میں خرچ کرے، فضول خرچی کرے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے روک لے، ایسے مالدار کے لئے اس کا مال آخرت کے دن وبال جان بن جائے گا. ایسا فقیر جو بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر شرعی اور غیر قانونی طریقوں سے مال کمانے کی کوشش کرے یا اپنے عقائد اور منہج پر سمجھوتہ کرتے ہوئے غیراللہ کی مدد طلب کرے تو اس کے لئے بھی آخرت کے دن سزا مقرر ہے.

    جب حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی توبہ قبول ہوئی تو کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے کہا میں اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا اے کعب سارا مال خرچ مت کرو، کچھ مال اپنے پاس رکھو. اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہہ سے فرمایا تھا کہ اے سعد اگر تم اپنے ورثاء کو غنی چھوڑ کر جائو تو یہ افضل ہے، تمہارے ورثا امیر ہوں تاکہ وہ لوگوں سے بھیک نہ مانگنے پر مجبور ہوں. اس سے یہ ثابت ہوا کہ غریب اور فقیر ہونے سے مالدار ہونا بہتر ہے.

    اسلام میں مالدار ہونا یا مال اکٹھا کرنا کوئی گناہ نہیں، شرط یہ ہے کہ مال حلال طریقے سے کما کر حلال طریقے سے خرچ کیا جانا چاہئے. اس مال کو مستحقین کی مدد کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے. اسلام میں فقیر ہونا بھی کوئی عیب نہیں مگر شرط یہ ہے کہ بندہ صابر ہونا چاہئے. فقیر کو تنگ دستی سے تنگ آ کر کوئی غیرشرعی اور غیرقانونی کام نہیں کرنا چاہئے.
    ‎@mian_ihsaan