مراد علی شاہ اور حماد اظہر صاحب لاک ڈاؤن سے نہیں تو لوڈ شیڈنگ سے مرتی کراچی ،حیدرآباد کی عوام کا نوحہ تکلیف نہیں ریلیف دو
کراچی حیدرآباد میں لاک ڈاؤن اور ڈیلٹا وائرس کا زور جاری ہے حکومت سندھ لوگوں کو بغیر کسی ضرورت گھر سے نا نکلنے کی تنبیہ کرتی ہوئی اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے میں جوٹی ہے مارکیٹوں کارخانوں اور فیکٹریوں میں سناٹے چھائے ہوئے ہیں سینکڑوں کلو واٹ استعمال ہونے والی بجلی تقسیم کار اداروں کے استعمال میں نہیں آرہی پیداوار کی صلاحیت سے کم بجلی کے استعمال کے باوجود کراچی اور حیدرآباد میں روزانہ 7:30 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس دورانیہ بعض اوقات 12 سے 14 گھنٹے تک بھی ہوجاتا ہے لوڈ کے کم ہونے کے باوجود کراچی حیدرآباد کی عوام کا خون نچوڑنے والے کے الیکٹرک اور حیسکو گرمی کی شدت کے باوجود لوگوں کو مطلوبہ سہولیات فراہم کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں این سی او سی کے جناب اسد عمر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر حماد اظہر صاحب سے کراچی اور حیدرآباد کی عوام کی پرزور اپیل ہے کہ بڑے بڑے بجلی کے بل بھیجنے والے عوام کی خون پسینے کی کمائی پر جبری ڈاکہ مارنے والے ان اداروں کو فوری عوام الناس کو ریلیف دینے کے احکامات صادر فرمائے گرمی اور کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ گھروں سے نا نکلنے کی کوشش کس طرح کریں جب کے لوڈ شیڈنگ کا جن اس مشکل حالات میں بھی قابو میں نہیں آرہا تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین بھی عوام کی اس پریشانی کا سد باب کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں عوام کو بیروزگاری پانی سیوریج اور گیس کی قلت جیسے یوٹیلیٹی اشو کو فوری حل کروانے کا مناسب انتظام کیا جائے بلوں میں کرونا ریلیف دیکر تمام پاکستانیوں تک امداد پہنچائی جاسکتی ہے فوری لوڈ شیڈنگ ختم کرکے عوام کو گھروں تک محدود کرنے کا سبب بھی بنا جاسکتا ہے اگر آپ عوام کے ساتھ مخلص ہیں تو عوام کو ریلیف دیں تکلیف نہیں وفاق صوبے پر اور صوبہ وفاق پر ڈال کر کراچی اور حیدرآباد کی عوام کے دلوں میں موجود لاوے کو مزید نا بھڑکائے کیوں کہ یہ لاوا پھٹا تو پھر کوئی اسے روکنے والا نہیں ہوگا
ضد نہیں حکومت کریں جس چیز کا آپکے پاس لنگڑا لولا جیسا بھی مینڈیٹ ہے پاکستان کے معاشی حب کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کرنا بند کریں کراچی پر کاٹھور کے مقام پر لوگوں کو بسوں سے اتار کر ذلیل کرنا کراچی والوں پر ظلم نہیں تو اور کیا ہے پوری دنیا میں لوگ ہنر مند افراد کو پرموٹ کرتے ہیں پاکستان میں الٹا نظام ہے سب سے زیادہ ٹیکس اور سب سے زیادہ پڑھی لکھی آبادیوں والے شہروں کو پستی کی جانب دھکیلا جارہا ہے جو کسی بھی صورت پاک کے لئے اچھا عمل نہیں بہت سی قربانیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شب وروز محنت سے امن کا قیام عمل میں آیا ہے اس امن کو خراب نا ہونے دیں شہیدوں کے خون سے پروان چڑھنے والے اس امن کو مزید بہتر بنانے کیلئے کوششیں کی جائیں تاکہ مزید کوئی فیملی اپنے پیاروں کی جدائی کا صدمہ برداشت نا کرے بجلی کا یہ مسئلہ حل کروانے میں ہم سب کا فائدہ ہی ہوگا انشاء اللہ
Author: Baaghi TV
-

،حیدرآباد کی عوام کا نوحہ تکلیف نہیں ریلیف دو تحریر: عقیل احمد راجپوت
-

منفی سوچ تحریر : ابوبکر گھمن
سوچ دو طرح کی ہوتی ہے مثبت سوچ اور منفی سوچ ہم یہاں منفی سوچ کی بات کریں گے۔
منفی سوچ کیوں پیدا ہوتی ہے۔
منفی سوچ کی ایک بہت بڑی وجہ ابتدائ زندگی کے کچھ ایسے واقعات اور سانحات ہیں جن کے نتائج منفی ہوتے ہیں اور وہ انسانی زندگی ہر گہرے منفی اثرات مرتب کر جاتے ہیں جو بعد میں رفتہ رفتہ منفی سوچ میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ ان واقعات کے بعد انسان منفی سوچنا شروع کر دیتا ہے ۔ اور وہ ہر چیز کو منفی سوچ سے دیکھتا ہے اور وہ منفی سوچ سوچ کر منفی سوچ کا ماہر بن جاتا ہے کیونکہ منفی سوچنا ایک آسان عمل ہے لیکن ہر چیز کے بارے مثبت انداز سے سوچنا بہت مشکل عمل ہے ۔
سوچ کے منفی ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسان کو سوچنا ہی نہیں آتا اگر اس کو سوچنا آ جائے تو اس کو انتخاب مل جاتا کہ کون سی سوچ اختیار کرنی ہے۔
عام طور پر ہمارے پاس ایک ہی انتخاب ہوتا ہے اور وہ ہے منفی سوچنا کیونکہ یہ بہت آسان انتخاب ہے اور مثبت سوچ اختیار کرنا ایک بہت مشکل انتخاب ہے ۔
عام طور ہر ہم کسی شخص کے بارے میں کسی دوسرے سے غلط سن لیتے ہیں حالانکہ اکثر اوقات وہ سچ پر مبنی نہیں ہوتا لیکن وہ بات ہمارے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے پھر ہم اس شخص کو جس محفل میں دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں ہم اس کے بارے میں منفی سوچنا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ اس کے بارے میں ہمارے ذہن میں منفی تاثر ہوتا ہے ۔
عام طور پر ہمارے گھروں میں ایک بچے کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے کہ اس کی کسی بات ہر یقین نہیں کیا جاتا اس کو ہمیشہ کمتر تصور کیا جاتا جس کی وجہ سے وہ سب کے بارے منفی سوچ رکھنا شروع کر دیتا اور پھر رفتہ رفتہ اس کی سوچ بلکل منفی ہو جاتی ہے اور وہ ہر چیز کو منفی نظریے سے دیکھتا ہے۔
ہمارے اندر منفی سوچ کے راستے بنے ہتے ہیں ہم اپنی سوچ کو مثبت بنانے کی نہ خواہش رکھتے ہیں نہ کوشش کرتے ہیں اس طرح منفی سوچ ہماری زندگی کہ ہر پہلو پر نظر انداز ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
اگر آپ کسی کی دس خوبیوں میں سے نو خوبیوں کو نظر انداز کر کے اس کی ایک خامی پر توجہ دیتے ہیں تو آپ منفی سوچ رکھتے ہیں منفی سوچ رکھنے والا آدمی کبھی بھی کسی کی خوبیوں کی طرف توجہ نہیں دیتا وہ ہمیشہ دوسروں کی خامیاں ڈھونڈتا اور ان پر تنقید کرتا ۔
منفی سوچ رکھنے والا کبھی کسی پر تنقید اس کی اصلاح کےلیے نہیں کرتا بلکہ وہ تنقید اگلے انسان کو کمتر اور نیچا دکھانے کےلیے ہوتی ہے منفی سوچ رکھنے والا دوسروں کی اچھائیوں کو بھی منفی پہلو سے پرکھتا ہے ۔"زندگی بدلنا چاہتے ہو تو سب سے پہلے سوچ کو بدلو”
سوچ انسانی زندگی کہ اہم ترین عوامل میں سے ہے آپ ویسے ہی ہوں گے جیسی آپ کی سوچ ہو گی لہٰذا سوچ کے طریقہ کار کو سمجھنا اور اس پر قابو پانے کا فن ہمیں سیکھنا ہو گا تب ہی ہم زندگی میں مثبت انداز سے آگے بڑھ سکیں گے۔
منفی سوچ مایوسی کی وجہ سے جنم لیتی ہے منفی سوچ مثبت سوچ میں تب ہی تبدیل ہو سکتی ہے جب آپ پُر امید ہوں اور یہ تب ہی ہو سکتا جب آپ کا اللہ پاک کی ذات پر مکمل یقین ہو جیسے قرآن پاک میں ارشاد ہے
ترجمہ :
"اللّٰه کی رحمت سے ناامید نہ ہو ".کبھی بھی نا امید نہ ہوں انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے ہمیشہ مثبت سوچنے کی کوشش کریں ۔
@Itx_ghumman
-

کیا عورت مارچ صیح معنوں میں عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے ۔۔۔؟ تحریر: چوہدری عطا محمد
گزشتہ دو یا تین سالوں سے اسلام آباد سے شروع ہوتا ۂوا عورت مارچ کا شور اب ملک کے مختلف حصوں میں پھلایا جا رہا ہے اب یہ عورت مارچ رفتہ رفتہ موضوع بحث بنتا جارہا ہے۔ عورت مارچ کی حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے عورت مارچ سمیت کسی کوئی بھی تحریک ہو یا مارچ یا اجتماع یا پھر جلسہ جلوس وغیرہ ان سب میں شمولیت و عدم شمولیت اور حمایت و مخالفت کےلیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس مارچ یا جلسہ جلوس یا اجتماع کے مقاصد، اس کے منشور اور اس کے رجحانات اور سرگرمیوں کا اچھی طرح جائزہ لیا جائے۔ اس جائزہ پر مبنی تجزیہ کی روشنی میں اس طرح کے مارچ جلسہ جلوس یا اجتماع سے اتفاق و اختلاف یا شمولیت و عدم شمولیت کا فیصلہ کیا جانا چائیے اب تک ہونے والے عورت مارچ کے متعلق میں جو کچھ سمجھ سکا ہوں وہ یہ ہے کہہ اس پورے مارچ کے اندر عورت کے جو اصلی حقوق ہیں اس بارے میں تو کسی بھی قسم کا ذکر ہی نہیں کیا گیا ہمارے دور دراز علاقوں میں ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کو جو مسائل زندگی میں درپیش ہیں جن کو سامنے لانا ہمارے معاشرہ کی سب سے پہلی زمہ داری ہے اسکا تو کوئی کہیں دور دور تک زکر ہی نہیں ہے اگر عورت کے مسائل کی بات کی جاۓ تو عورت کے بنیادی مسائل تعلیم، غربت، جہالت، جبری شادی، غیرت کے نام پر قتل، تشدد اور ہراسگی تیزاب گردی ہے ہماری ماؤں بہنوں کو آج بھی قاتل کے لواحقین اور مقتول کے لواحقین کے درمیان صلح کے لئے بہن بیٹیوں کے رشتہ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اور اس نام نہاد صلح کی بھینٹ کوئی بہن یا بیٹی چڑھ جاتی ہے آپ زرا غور کیجیے گزشتہ دو یا تین سالوں سے نکالے جانے والے عورت مارچ کے جلوس کی تقاریر یا ان کے ہاتھ میں پکڑے ہوۓ پلے کارڈ میں کوئی ایک بھی فقرہ عورت کے اصل حقوق کی نشاندہی کر تا ہے کیا اگر آپ انصاف پر مبنی فیصلہ کریں گے تو آپ کا جواب ہوگا نہیں ایسا کوئی فقرہ تقاریر یا پلے کارڈ میں بلکل بھی شامل ہی نہیں ہے آپ خود ہی فیصلہ کریں کہہ یہ عورت مارچ کن حقوق کی بات کر رہا ہے معزرت کے ساتھ عورت مارچ کے نعرے سوشل میڈیا پر سننے کو ملے وہ تھے عورت کیا مانگے آزادی تیرا باپ بھی دے گا آزادی ہم لے کے رئیں گی آزادی ہم چھین کے لیں گے آزادی ہے حق ہمارا آزادی اس طرح کے نعروں کے بعد سب سے پہلا جو سوال زئین میں آتا ہے وہ یہ ہے کہہ ہمارے یہ بہنیں بیٹیاں کس چیز کی آزادی مانگ رہی ہیں کس سے آزادی مانگ رہی ہیں کیا جب وہ پیدا ہوئی تو باپ کے شفقت بھرے سر پر رکھے ہوۓ ہاتھ سے آزادی مانگ رہی ہیں یا پھر بھائی سے آزادی یا پھر جب شادی ہوگئ تو اپنے محافظ یعنی شوہر سے آزادی یہ عورت مارچ کی ہماری بہنیں بیٹیاں کس سے اور کیسی آزادی چائیتی ہیں
اسلام نے عورتوں کو کتنا تحفظ دیا کتنی عزت اور تکریم دی کتنا بلند مقام دیا اس کا تصور بھی کسی اور مزہب میں ممکن ہی نہیں اسلام نے عورت کو پہلے بیٹی کی شکل میں والد کے لئے رحمت کہا اور باپ کو اس کا محافظ بنایا زرا بڑی ہوئی تو بھائی کی شکل میں اسکو ایک اور محافظ مل گیا جب شادی ہوئی تو ایک شوہر کی شکل میں محافظ عطا کر دیا پھر جب بیٹے کی پیدائش ہوئی تو اس بیٹے کے لئے جنت ماں کے قدموں تلے ہیں جنت کا حصول ماں یعنی عورت کی خدمت میں ہے۔ تو زرا سوچو میری عورت مارچ کی بہنوں بیٹیوں آپ کو کس قسم کی آزادی اور کس رشتہ سے آزادی چائیے۔ اگر مغرب کی بات کریں تو ادھر عورت کو اپنے زاتی استعمال کے لئے بھی خود سے مخنت مشقت کرنا پڑتی ہے مثلاً ادھر عورت جاب کے بغیر گزارہ ہی نہیں کر سکتی ہمارے ہاں عورت کے تمام اخراجات اور ضروریات کا پہلے باپ۔ پھر۔ بھائی۔ پھر شوہر۔ اور پھر بیٹا زمہ دار ہوتا ہے میں کہیں پر بھی عورت کی ملازمت کی مخالفت نہیں کر رہا آج ہمارے بہن بیٹیاں زندگی کے تمام شعبہ جات میں اپنے بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتی نظر آتی ہیں اور اس پر ہمیں فخر بھی ہے کہہ ہماری بہنیں بیٹیوں کا ملک کی ترقی اور معیشت میں اتنا ہی کردار ہے جتنا مردو کا ہے
اگر آج کے حالات کا غور و فکر سے اندازہ لگا جاۓ تو ہمارے معاشرہ کے اندر سارے مسائل اور تمام خباسط کی محض اسلئے پائی جاتی ہیں کہ لوگ قرآن مجیدسے دور ہیں اور اسکو سمجھ کر نہیں پڑھتے ۔ اور اس معاملہ میں ہماری بہنیں بیٹیاں بہت پیچھے ہیں۔ جب ایک عورت قرآن کریم کی تعلیمات سے واقف ہوگئ اور اسے معلوم ہوگا کہ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ تعالی نے اس کو کیا زمہ داری سونپی ہے تو پھر لازم سی بات ہے وہ اپنی اولاد کی تربیت اللہ سبحانہ تعالی کے احکامات کی روشنی میں کرے گی ہمارے خواتین اب ہرمیدان میں آگے بڑھ رہی ہیں اِن خواتین کو قرآن فہمی کے میدان میں بھی آگے آنا ہوگا تاکہ اپنے حقوق کو پہچان سکیں،اپنے حقوق کی صیح معنوں میں جنگ لڑ سکیں اور نئی نسل کی اخلاقی اصولوں پر تربیت کرکے
ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں اپنا رول ادا کرسکیں۔
میری باتوں سے اتفاق یا اختلاف کا تمام لوگوں کو مکمل اختیار ہے یہ سب میری زاتی سوچ سمجھ ہے آپ اسپر اپنی زاتی راۓ کا مکمل حق رکھتے ہیں
اللہ سبحانہ تعالی ہمیں دین اسلام کو سمجھ کر سنت نبوی صلى الله عليه وسلم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین ثمہ آمین۔@ChAttaMuhNatt
-

سوشل میڈیا اور زبان کا شر تحریر: زبیر احمد
بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ جو زبان پہ آئے بغیر سوچے سمجھے اور اس کے نتائج کا احاطہ کئے کہہ دیتے ہیں۔ زبان ہی ایک ایسا عضو ہے جو قابو میں رکھنے کا محتاج ہے۔ قرآن و سنت نبویﷺ مطابق زبان کا معاملہ بڑا سنگین ہے اور اس سے نکلے ہوئے کلمات قابل مواخذہ ہیں اور ہر بات نامہ اعمال میں درج ہورہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے "ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم اسے ضرور لکھ لیں گے اور اس کیلئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔” (مریم 79)۔ اللہ کے محبوب ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کی زبانیں لوہے کی قینچیوں سے کاٹی جارہی ہیں تو میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں جبرائیل نے جواب دیا کہ حضورﷺ یہ آپ کی امت کے فتنہ پرور خطیب ہیں جو کہا کرتے تھے ان کا اپنا وہ عمل نہیں ہوا کرتا تھا۔ لوگوں کے اندر فتنہ و فساد برپا کرنے والے لوگ جن کی زبان کی تلخیاں معاشروں میں تفریق پیدا کرتی ہیں کہ بھائی بھائی سے لڑ پڑتا ہے، میاں بیوی کے درمیان تفریق پیدا کردیتے ہیں۔ ان کی زبان نفرت کی چنگاریاں اگلتی ہے اور ان کے لہجے لوگوں کے اندر تفریق، تشدد، اضطراب اور فرقہ بندیاں پیدا کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی زبان قیامت کے دن لوہے کی قینچیوں سے کاٹ دی جائے گی۔بعض اوقات آپ کوئی ایسا بڑا بول یا بات کردیتے ہیں جس سے فتنہ اور شر پھیلنا شروع ہوجاتا ہے جس سے لوگ آپس میں الجھ پڑتے ہیں۔ بعض اوقات آپ آرام سے زبان سے کوئی جملہ کہہ دیتے ہیں بعد میں اس کو واپس لینا بھی چاہیں تو اس وقت تک شر پھیل چکا ہوتا ہے اس لئے ہمارے بزرگوں نے یہ تاکید کی ہے کہ بولنے سے پہلے اچھی طرح بات کو تولو، غوروفکر کر لو کیونکہ کمان سے تیر نہ نکلا ہوتو آپ کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ جب چاہو اس کو پھینک دو لیکن جب تیر کمان سے نکل جاتا ہے پھر آپ کا اختیار ختم ہوجاتا ہے پھر وہ زخمی کرے کسی کی موت کا سبب بنے یا وہ تیر ضائع چلا جائے پھر آپ کا اختیار نہیں ہوتا۔ بولنے سے پہلے ضرور سوچیں کہ میری زبان سے نکلا ہوا کوئی جملہ میرے آس پاس کے لوگوں اور معاشرے پہ کیا اثر پیدا کرے گا۔ آج کل سوشل میڈیا پہ جو دل میں آیا وہ لکھ دیا اور لوگوں کے اندر وہ چیز وائرل کردی۔ جس طرح کی تصویر چاہا ڈال دی لیکن بعد میں وہ چیز آپ کے اختیار میں نہیں رہتی ہے۔ اب تو اتنی محدود سوچ والے اور نیچ فطرت کے لوگ بھی سوشل میڈیا پہ بیٹھے ہوئے ہیں جیسا کہ گندے مزاج کے لوگ واش روم کی اندر بیٹھ کر چھپ کے جو ان کے من میں غلاظت ہوتی وہ واش روم کی دیواروں پہ لکھ دیتے، پبلک واش رومز کے اندر یہ مناظر ہم میں سے اکثر نے دیکھے ہونگے کہ انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے ایسی چھوٹی سوچ کے لوگ وہاں بیٹھ کے لکھ دیا کرتے تھے۔اب ایسے ہی لوگوں کو سوشل میڈیا کا ایک پلیٹ فارم مل گیا ہے اور یہاں وہ اپنے بند کمرے میں جو چاہیں لکھ کے سوشل میڈیا پہ ڈال دیں اور اس کے شرفساد اور غلاظت کے چھینٹے کہاں کہاں تک پہنچتے ہیں ان کو اس سے غرض نہیں ہوتی۔ ایک ایک حرف جو زبان سے نکلتا ہے، قلم سے نکلا ہوا ایک ایک جملہ اس کا قیامت کے دن حساب ہونا ہے۔ ایک ایک چیز کے بارے میں پوچھا جائے گا اور آج اگر سوشل میڈیا پہ کوئی بات کہہ دیتے ہیں یا کسی مجمع عام یا تنہائی میں کوئی بات کرتے ہیں اور پھر اس سے شر پھیلتا ہے تو وہ شر پھر سفر کرتا رہے گا اگر وہ جملے الفاظ کہنا چھوڑ بھی دیں اکاونٹ بند بھی کردیں تو وہ شر و فساد اور اس غلاظت کے چھینٹے جو اڑے تھے وہ آگے بڑھتے رہیں گے اس کا گناہ نامہ اعمال میں درج ہوتا رہے گا حتی کہ مر بھی گئے تو پھر بھی نامہ اعمال میں سب کچھ لکھا جاتا رہے گا۔ اس لئے اپنے آپ کو محتاط کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے ایک ایک لمحے کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے وقت کو قیمتی جانیں۔ اپنی زبان کو کھولنے اور ہاتھ سے کچھ لکھنے سے پہلے ہزار بار سوچیں کہ جو میں لفظ کہہ رہا ہوں کیا وہ مجھے کہنا چاہیے یا نہیں۔ نبیﷺ نے فرمایا جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ خیر کی بات کہے ورنہ چپ رہے اس کا چپ رہنا اس کے لئے بہتر ہے اور اگر وہ کہنا چاہتا ہے تو خیر کی بات کہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کی زبان کے شر سے حفاظت فرمائے، زبان کو قابو میں رکھنے اور خیر و بھلائی کی بات ہی زبان سے نکالنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین
(Twitter: @KharnalZ)
-

گناہوں پر آٹھ گواہ تحریر: مدثر حسن
آپ کو پتہ قیامت کے دن ہر انسان کے گناہوں پر آٹھ گواہ پیش ہوں گے۔ آٹھ گواہ انسان کے خلاف گواہی دے گئیں اور کہے گئیں کہ اس نے فلاں فلاں گناہ کیا ہے۔۔۔۔۔
پہلا گواہ: جس جگہ بندے نے گناہ کیا ہو گا،وہ جگہ وہ زمین کا ٹکرا قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔۔!!سورۃ الزلزال آیت نمبر(5،6)
وہ زمین کا ٹکڑا یہ گواہی دے گا اے اللہ پاک یہ بندہ مجھ پر اکڑ کر چلتا تھا غرور اور تکبر کیساتھ اپنی گردن اونچی کر کے مہرے اوپر چلتا تھا حالانکہ تکبر تو اللہ پاک کی چادر ہے باقی مخلوق میں اگر ذرا برابر بھی تکبر ا گیا تو ارشاد ہے کہ اسکو جنت کی خوشبو تک نصیب نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ انسان زمین کے جس جس حصے پر گناہ کرتا ہے وہی حصہ قیامت والے دن بولے گا کہ الہیٰ اس نے میرے اوپر گناہ کیے ۔ ہر زمین کا حصہ بولے گا گواہی دے گا چاہے آپ نے نیکی کی ہو اس خطے کے اوپر یا برائی۔۔۔
دوسرا گواہ: وہ دن بھی گواہی دے گا جس دن بندے نے گناہ کیا ہو گا۔(سورۃالبروج آیت نمبر 3)
اس کے علاوہ انسان کا وہ دن جس دن اس نے برائی کی جس دن اس نے کسی مظلوم کے ساتھ زیادتی کی کسی یتیم کا حق کھایا انسانیت کی تضحیک کی وہ دن بھی گواہی دے کہ مولا اس نے اس دن گناہ کیے تھے۔ اور اس نے اس دن مقررہ وقت پر اچھائی کی تھی۔۔۔
تیسرا گواہ: قیامت کے دن ان کی زبان بھی ان کے خلاف گواہی دے گی ۔(سورۃ النور آیت نمبر 24)
انسان کی اپنی زبان بھی اس دن گواہی دے گی وہ بول پڑے گی کہ آیا کہ یہ ساری زندگی گالیاں بکتا رہا یا نیکی پھیلاتا رہا۔ اگر زبان گواہی دے گی کہ اس نے تیری اور تیرے محبوب کی تعریف کرتا رہا ساری زندگی تو پھر تو جنت نصیب ہو جائے گی اور بخشش بھی ہو جائے اگر اس نے بول دیا کہ یہ تمام عمر گالیاں اور فضول باتیں کرتا رہا تو اس کے لیے پھر عذاب ہوگا۔۔
چوتھا گواہ: انسان کے جسم کے باقی اعضاء ہاتھ پاؤں یہ بھی گواہی دیں گے ان کے خلاف ۔(سورۃ یٰسین آیت نمبر 25)
انسان کا ہر کر اعضا اس دن بول پڑے گا کہ آیا اس نے اچھائی کی جا برائی۔ آج جو انسان چوری کرتا ہے یا ہاتھ سے جو بھی گناہ کرتا ہے وہ ہاتھ اس دن بول پڑی گے اور گواہی دینگے۔ اگر انہیں ہاتھوں کیساتھ آسانیاں بانٹیں ہونگی خدا کی مخلوق میں تو بخشش ہو جائے گی وگرنہ عذاب تو بھگتنا پڑے گا۔۔۔
پانچواں گواہ: دو فرشتے جو تم پر نگران مقرر ہیں ،لکھنے والے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دے گئیں تمہارے خلاف ۔(سورۃ الانفطار آیت نمبر12)
اللہ تعالیٰ نے ہمارے کاندھے کے اوپر دو فرشتوں کی ڈیوٹی مقرر رکھی ہے ایک فرشتہ اچھائی والا ہے دوسرا برائی والا ہے۔ اچھائی والا فرشتہ اچھائی نوٹ کرتا ہے اور برائی والا برائی۔ جب قیامت کا دن ہوگا میدان حشر لگا ہوگا تو یہ کاندھے پہ بیٹھے دو فرشتے اس دن انسان کا نامہ اعمال جو انہوں نے اسکی زندگی میں لکھا ہوگا پیش کر دینگے۔۔۔ اور سزا و جزا کا فیصلہ اسکی بنیاد پر کیا جائیگا۔۔
چھٹا گواہ: وہ نامہ اعمال جو فرشتے لکھ رہے ہیں تو زبان بھی گواہی دے گی اور نامہ اعمال بھی دیکھائے جائیں گے قیامت کے دن ۔(سورۃ الکہف :آیت نمبر 49)
ساتواں گواہ: آپ ﷺ بھی گواہ ہوں گے، اللہ رب العزت آپ ﷺ سے بھی گواہی مانگیں گے اور اس وقت رسول ﷺ بھی گواہی دیں گئیں۔(سورۃ النساء آیت نمبر 41)
اس دن ہم خود بھی بول پڑینگے کیونکہ اس دن اللہ کی مرضی ہی ہوگی بس وہ حکم دے گا اور ہم بولنا شروع کرینگے اس کے علاوہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات جو کہ ہماری جانوں سے بھی زیادہ قریب ہیں اور سب کچھ جانتے ہیں وہ بھی گواہی دینگے۔ اگر ہم نے عمل انکی زندگی پر کیا ہوگا تو آپ شفاعت بھی فرمائینگے اور اللہ پاک سے بخشش کی دعا بھی کریںگے۔۔
آٹھواں گواہ: اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں،جو تم گناہ کرتے ہو،ہم قیامت کے دن اس پر گواہ ہوں گے اور سب سے بڑھ کر اللہ گواہی دے گا اور کہے گا تم نے یہ گناہ کیا ہے ۔(سورۃ یونس آیت نمبر 61)
ہمارے گناہوں پر اللہ خود گواہ ہوگا (اللہ اللہ) کیا عالم ہوگا، کبھی سوچا ہے آپ نے کیا جواب دیں گے اس وقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو
یا اللہ ہمارے صغیرہ کبیرہ گناہوں کو بخش دے اور ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطافرما آمين
@MudasirWrittes
-

وطن کے رکھوالے تحریر: تماضر خنساء
افواج پاکستان اس ملک کی آہنی دیوار ہیں جنکو دشمن کبھی پاٹ سکا نہ کبھی پاٹ سکے گا ۔۔ویسے تو ہر ملک کی اپنی فوج ہوتی ہے مگر ہمارے یہاں یہ بات ذرا مختلف ہے ۔۔۔یہاں بات ہورہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی فوج کی ! جنکو اس بات پہ ایمان ہوتا کہ وہ دشمن سے جنگ میں اگر اپنی جان گنوا بھی دیں تو اپنے رب کے حضور شہید ہیں _______اس وطن کا ہر ایک سپاہی موت سے نڈر ہے جبھی اس فوج کا مقابلہ کسی دوسرے ملک کی فوج نہیں کرسکتی _____ہماری تاریخ بھری پڑی ہے ایسے واقعات سے وہ جو تین سو تیرہ اپنے سے دوگنے دشمن پر غلبہ پاگئے وہ جو بدر میں فرشتے قطاروں میں اترے تھے اسلامی لشکر کیلیے یہی وہ قوت ہے جو ایک مسلمان کے پاس ہے اور پاکستان واحد ایٹمی اسلامی طاقت! تو کیوں نہ ہو اسکا ہر ایک رکھوالا بے خوف و نڈر؟
اور شہادت تو وہ اعزاز ہے جسکی تمنا عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے کی ۔۔۔۔جسکی تمنا خالد ابن ولید” اللہ کی تلوار ” کہلانےوالے صحابی نے کی ۔۔۔مگر یہ اعزاز تو بس انہی کو ملتا ہے جنکو رب العزت نے نوازنا ہو _______
یہی وہ اعزاز ہے جو اس وطن کیلیے اپنی جانیں قربان کردینے پر ابھارتا ہے اور یہی وہ اعزاز ہے جسکی بدولت آج اس اسلامی ملک کی فوج کے آگے دنیا کی کوئ فوج نہیں ٹک سکتی!
اس ملک کے رکھوالے وہ گمنام سپاہی جو اپنا نام و نسب گھربار اس وطن کیلیے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں ___ایسا عظیم مقصد جسکا ہو وہ
میں یہ نہیں کہتی کہ فوجی کچھ غلط نہیں کرسکتے ۔۔۔ہاں مگر انکا مقصد انکا جذبہ بہت انمول ہے جسکی وجہ سے ہماری سپاہ ہمارے دلوں میں بستی ہے!
لوگ کہتے ہیں کہ فوجی اپنے کام کی تنخواہ لیتے ہیں مگر کیا جان کی بھی کوئ قیمت ہوسکتی ہے کیا؟ کیا آپ میں سے کوئ یا میں اپنی جان کو جوکھم میں ڈال سکتے ہیں؟ نہیں مگر ہماری سپاہ تو یہی کرتی ہے نا! یہی تو وہ چیز ہے جو اس وطن کی سپاہ کو باقی افواج سے الگ کرتی ہے!
اس وطن کی فوج نے پوری دنیا میں اپنے آپکو منوایا ہے اپنے وطن کیلیے جانیں قربان کردینے والے شہیدوں نے اس فوج کی عظمت کو مزید بلند تر کردیا ہے ______ایک ایسے محاذ پر رہنا جہاں کبھی بھی آپکی جان جاسکتی ہے کیا آسان ہے؟ نہیں اپنے گھربار کو چھوڑ کر ایک الگ جگہ جانا کیا آسان ہے؟
میں کہتی ہوں کہ ایک فوجی کا ایمان ہمارے ایمانوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہوگا! کہ وہ اسی رب کے بھروسے اپنے گھر بار کو چھوڑدیتے ہیں اپنی جانیں اس وطن کیلیے ہتھیلی پر رکھ دیتے ہیں یہ انکا مضبوط ایمان ہی تو ہے جو ان سے یہ سب کروالیتا ہے!
ہماری تو خوش قسمتی یہ ہے کہ اس وطن کی صرف فوج ہی نہیں ہر پاکستانی ہی ایسے جذبے سے سرشار رہتا ہے ______جب کبھی اس وطن پہ کوئ مشکل گھڑی آئے تو سب یک جان ہوجاتے ہیں مگر کچھ لوگ جو اس وطن کو ترقی کرتا سہی سالم نہیں دیکھ سکتے وہ اپنی فوج کیلیے لوگوں میں زہر بھرتے ہیں مقصد ان کا صرف ایک ہی ہوتا اس ملک کی فوج کو کمزور کردینا وہ آہنی دیوار توڑ دینا جو اس ملک کے تحفظ کی ضمانت ہے
کوئ اس فوج کے خلاف تب ہی بات کرے جب اس میں اتنی ہمت آجائے کہ اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ سکے صرف اس ملک کی خاطر ۔۔۔وگرنہ اپنا زہر اپنے تک رکھیں ____کیونکہ اس فوج نے اس ساکھ کی بنیاد بھی اپنے خون سے رکھی ہے اور ان شہیدوں کا لہو انکی صداقت کی گواہی ہے ۔۔۔لہو کی گواہی سے بڑھ کر بھی کوئ گواہی ہوتی ہے کیا؟
وہ لوگ جو چلے گئے شہادت کے رتبے سے سرفراز ہوئے وہ تو اپنی منزل پاگئے اور ان سے بڑھ کر کوئ خوش قسمت ہوگا کیا؟
قرآن پاک اللہ رب العزت فرماتے ہیں :
وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًاؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَ) (ال عمران:۱۶۹)ترجمہ:اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔
رب عظیم نے تو قرآن میں صاف فرمادیا کہ شہید تو مرتے ہی نہیں ہاں مگر ہمیں انکی زندگی کا شعور نہیں اصل میں درحقیقت وہ اپنے رب کے مہمان ہیں ۔۔۔اس سے بڑھ کر کونسا بلند مرتبہ ہوگا جسکی چاہ ایک مسلمان کرسکتا ہے؟
یہی وہ عظیم رتبہ جسکو پانے کی تمنا اس وطن کے ہر فوجی کے دل میں سمائ ہوتی ہے ۔۔۔۔جب جان جانے کا ہی خوف نہ ہو تو پھر کوئ اور خوف ایسے انسان کے سامنے ٹھہر سکتا ہے کیا؟
اس ملک کے رکھوالوں کی یہی بے خوفی اور سکون ہے جو دشمن کو کھٹکتا ہے ۔۔۔۔ان رکھوالوں کا مقصد عظیم ہے انکے جذبے عظیم ہیں اس لیے
اپنے وطن کے رکھوالوں کو عزت دیں جو اس ملک کی ناقابل شکست دفاعی لکیر ہیں ،ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں بلاشبہ ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے_______!
اے حق کے راہیوں، حق کے راستے میں جان دینے والوں
تمہیں اس وطن کی عظیم مٹی سلام پیش کرتی ہے ۔@timazer_K
-

کالم نام : الیکٹرانک ووٹنگ مشین ۔۔۔۔۔۔۔۔ ای وی ایم تحریر : سجاد علی
الیکٹرانک ووٹنگ مشین ایک خودکار اور جدید ووٹنگ کا نظام ہے جو کہ بہت عرصے سے دنیا میں استعمال ہو رہا ہے۔ کچھ ممالک میں اس کا استعمال حال ہی میں شروع ہوا ہے اور کچھ ممالک اسے مستقبل میں استعمال میں لا سکتے ہیں۔
جن ممالک میں یہ خود کار نظام رائج ہے ان ممالک میں بھارت، ایشیا، یورپ، عرب ممالک، مالدیپ، بیلجیئم، برازیل، فلپائن، مصر، نمیبیا، بھوٹان، یو اے ای، آسٹریلیا، ایسٹونیا، کینیڈا، فِن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئیر لینڈ، اٹلی، کازکستان، لتھوئینیا، ملائیشیا ،نیدرلینڈ، ناروے، رومانیہ، ساؤتھ کوریا، سپین، سوئٹزرلینڈ، تھائی لینڈ، یونائیٹڈ کنگ ڈم ،یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ، ونیزویلا وغیرہ شامل ہیں۔
دنیا میں سب سے پہلے اٹھارہ سو اکاسی میں انتھونی برینک نے شکاگو یونائیٹڈ سٹیٹ کے جنرل الیکشن میں اس مشین کا استعمال کیا تھا۔
آئیں اب ذرا دیکھتے ہیں کہ یہ مشین کام کیسے کرتی ہے۔
اس مشین کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک حصہ پولنگ بوتھ میں رکھا جاتا ہے اور اسے بیلٹ یونٹ کہا جاتا ہے اور دوسرا حصہ پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس پڑا ہوتا ہے اور اسے کنٹرول یونٹ کہتے ہیں۔ اور یہ دونوں یونٹ ایک تار کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور کوئی تار یا مشین وغیرہ اس میں نہیں ہوتی۔
اب اس کے خود کار طریقہ کو سمجھتے ہیں کہ یہ کام کیسے کرتی ہے۔
جب ووٹر ووٹ ڈالنے کے لیے اپنے حلقہ کے پولنگ اسٹیشن جاتا ہے تو سب سے پہلے وہ پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس جا کر کنٹرول یونٹ پر اپنا انگوٹھا لگائے گا۔ اس سے تصدیق ہو جائے گی کہ اس شخص کا شناختی کارڈ نمبر یہ ہے، اور تمام معلومات، رہائش، شناختی علامت وغیرہ سب ڈیٹا کنٹرول یونٹ میں موجود ہے یعنی اس کا اندراج اس مشین میں ہے۔
یعنی جو مشین جس پولنگ اسٹیشن کی ہو گی وہاں کے تمام ووٹرز کے ریکارڈ کا اندراج اس مشین میں کر دیا جائے گا۔ مثال کے طور پر ایک پولنگ اسٹیشن پر دو ہزار ووٹر ہے تو ان دو ہزار افراد کی مکمل معلومات اس مشین میں ڈال دی جائیں گی. جس میں ان کے شناختی کارڈز کی تمام تفصیلات، انگوٹھے کا نشان، چہرے کی شناخت سب اس یونٹ میں موجود ہو گا۔
انگوٹھا لگانے سے اس شخص کے بارے میں تصدیق ہو جائے گی کہ وہ اس ووٹر لسٹ میں موجود ہے یا نہیں۔
تصدیق ہونے کی صورت میں اس کی تمام تفصیلات، شناختی کارڈ وغیرہ چیک کرنے اور مکمل مطمئن ہونے کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر اسے پولنگ بوتھ کے اندر بھیج دے گا۔پولنگ بوتھ، پولنگ اسٹیشن میں موجود وہ خفیہ جگہ ہوتی ہے جہاں ووٹر اپنا ووٹ ڈالتا ہے۔
پولنگ بوتھ میں اس خود کار مشین کا دوسرا حصہ رکھا ہو گا جسے بیلٹ یونٹ کہتے ہیں۔ یہ ایک کی بورڈ سے مشابہت رکھنے والا یونٹ ہوتا ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے نام، انتخابی نشان وغیرہ کا اندراج ہوتا ہے۔
پولنگ بوتھ میں داخل ہونے کے بعد پولنگ بوتھ میں موجود بیلٹ یونٹ کو پریزائیڈنگ آفیسر آن کرے گا اور ایک بیپ سنائی دے گی اس کے بعد جس کو بھی آپ نے ووٹ ڈالنا ہو اس کے انتخابی نشان پر آپ نے اپنا انگوٹھا لگا کر دبانا ہے اور پھر نیچے موجود اوکے بٹن کو دبا کر تصدیق کرنی ہے اور آپ کا ووٹ ڈل جائے گا۔ اور پھر ایک بیپ بجے گی جس کا مطلب کہ آپ کا عمل مکمل ہو گیا۔ پھر آپ پولنگ بوتھ سے باہر آجائیں گے اور اگلا ووٹر اندر چلا جائے گا۔
ایک ووٹر کی ویریفیکیشن کے بعد مشین صرف ایک دفعہ ہی آن ہو گی، یعنی ایک شناختی کارڈ پر ایک ہی دفعہ آن ہو گی، اور ایک دفعہ انگوٹھا لگانے پر بھی ایک ہی دفعہ آن ہو گی، دوبارہ انگوٹھا لگانے پر مشین آن نہیں ہو گی۔ یعنی دوبارہ انگوٹھا لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ یعنی وہ شخص ایک ہی دفعہ ووٹ ڈال سکتا ہے دوبارہ ووٹ نہیں ڈال سکے گا۔
اس لیے بہت آرام، احتیاط کے ساتھ ووٹ ڈالیں تاکہ آپ کا ووٹ ضائع نہ ہو۔
یہ تھا الیکٹرانک ووٹنگ مشین یعنی "ای وی ایم” کا طریقہ کار۔ اب اس کی ایک جدید طرز بھی ہے جسے "وی وی پی اے ٹی” یعنی "ووٹر ویریفائیڈ پیپر آڈٹ ٹریل” کہتے ہیں۔ اور یہ نظام پاکستان میں رائج کرنے کے لیے حکومتِ وقت کوشاں ہے۔
اس کا طریقہ کار بلکل وہی ہے بس جب ووٹر اپنا ووٹ ڈالے گا تو ساتھ ہی اس کا ایک پرنٹ بھی نکل آئے گا۔ یعنی آپ کو بیلٹ پیپر بھی مل جائے گا اور اسے آپ وہاں موجود بیلٹ باکس میں ڈال دیں گے۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح ریکارڈ دو جگہوں پر آجائے گا ایک الیکٹرانک شکل میں مشین میں موجود اور دوسرا بیلٹ باکس میں بیلٹ پیپرز کی صورت۔ جب بھی ضرورت ہو یہ ریکارڈ چیک کیے جا سکتے ہیں۔
ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد صرف ایک بٹن دبانے پر سیکنڈوں میں متعلقہ حلقے کا نتیجہ آپ کے ہاتھ میں ہو گا۔
اس میں درج ہو گا کہ کس کس امیدوار کو کتنے ووٹ حاصل ہوئے۔
اس کے بعد بیلٹ باکس میں موجود بیلٹ پیپرز کی گنتی بھی کی جائے گی لیکن نتیجہ پہلے ہی مرتب کر کے بھجوایا جا چکا ہو گا اور گنتی مکمل ہونے کے بعد نتیجہ بلکل وہی نکلے گا جو الیکٹرانک مشین پہلے ہی دے چکی ہے۔ نتیجہ مختلف ہو ہی نہیں سکتا اور فرق آنے کی صورت میں یہ ظاہر ہے کہ بیلٹ باکس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے کیونکہ مشین کا رزلٹ تو پہلے ہی بھجوایا جا چکا ہے۔
کام مکمل ہونے کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر اس مشین کو سیل کر دے گا اور اسے لے جا کر آر او کے حوالے کر دے گا اور اسی طرح بیلٹ باکس بھی آر او کو دے دیے جائیں گے۔
آر او ان ووٹوں کی تصدیق کر لے گا اور کبھی بھی کسی شکایت کے نتیجے میں آر او مشین اور بیلٹ باکس کا نتیجہ نکال کر دکھا دے گا کہ یہ مشین کا رزلٹ ہے اور یہ بیلٹ پیپرز آپ کے سامنے پڑے ہیں، دوبارہ گنتی کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں۔اس خود کار الیکٹرانک مشین سے الیکشن کے سارے عمل میں تیزی بھی آئے گی اور الیکشن کمیشن کا کام بھی آسان ہو جائے گا۔ غیر ملکی پاکستانیوں کو بھی اس کی وجہ سے ووٹ کا حق ملے گا جو کہ بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ اور جو سب سے بڑا فائدہ اس نظام کا ہو گا وہ یہ کہ اس میں دھاندلی کی گنجائش نِشتہ۔
حکومتِ وقت کو سر توڑ کوشش کر کے اس نظام کو پاکستان میں رائج کرنا چاہیے تاکہ ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں ہم بھی پیچھے نہ رہیں۔
ٹویٹر ہینڈل : @SajjadAli_1
-

ٹائٹل: افغانستان اور خطے کی بدلتی صورتحال تحریر: رانا عزیر
بظاہر تو ہمیں یہ نظر آرہا ہے کہ افغانستان کی جنگ ختم ہورہی ہے اور امریکہ یہاں سے شکست کھا کر جارہا ہے، لیکن اسی طرف خطے میں ایک عالمی جنگ کا خطرہ بھی سر پر منڈلا رہا ہے۔ آج کہا جارہا ہے، خوش ہورہے ہیں کہ طالبان جنگ جیت رہے ہیں، اور ماضی میں ہم امریکہ کےساتھ ملکر طالبان کے خلاف جنگ بھی کرتے رہے اور ہم پر امریکہ بے تحاشا زبان تراشی بھی کرتا رہا، کیا آپ یہ تسلیم کرتے ہیں دنیا کی سپر پاور اب اتنی آسانی سے شکست تسلیم کرلے گی؟
یہ مت بھولیے کہ ہمارے ہاں جو بھی یا کسی بھی قسم کی سیاسی تبدیلیاں آتی ہیں اس کے پیچھے بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔ اس وقت افغانستان میں لڑائی شدت اختیار کر چکی ہے، طالبان بڑے شہروں کے اندر گھس چکے ہیں اور گمسان کہ جنگ شدت اختیار کرچکی ہے، طالبان اب اندرون شہر گھس کر جو افغانستان کے سب سے اہم صوبے اور شہر ہیں جن کو سقوط کابل سے پہلے بہت اہم کہا جارہا ہے طالبان وہاں قبضہ کرتے چلے جارہے ہیں ۔ اب امریکہ جارہا ہے اسے ہماری ضرورت ہے، لیکن امریکہ بہت منافق ہے وہ اب ہم پر الزام پر الزام لگائے جارہا ہے،معاملات بہت سنجیدہ ہیں۔جوبائڈن بہت شاطر آدمی ہے۔ وہ بھی کلنٹن کی طرح اس خطے کی سیاست کو جانتا ہے اور وہ آخر پراپنا پتا شو کرے گا، جس پر پاکستان کو بہت سی مشکالات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکہ اب نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتر رہا ہے اور وہ پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دے رہا ہے اور نور ولی محسود کا پاکستان کے قبائلی علاقوں پر قبضہ کرنے کا بیان اسی چیز کی کڑی ہے، امریکہ افغانستان کی پشتون آبادی اور پاکستان کی پشتون آبادی کو ملا کر ایک آزادی کی تحریک شروع کردے گا اور جس طرح داؤد خان نے پاکستان کے مغربی بارڈر پر حملے کیے اور اب وہی صورتحال بنتی ہوئی نظر آرہی ہے، 1950 اور 60 کی دہائی میں جب افغانستان میں داؤد خان کا دور تھا تو قبائلی پشتونوں نے افغان آرمی کے ساتھ ملکر چمن بارڈر پر حملہ کیا اور 30 میل تک اندر گھس آئے اور مزید جھڑپیں بھی پوتی رہیں، وہ الگ پختونستان چاہتے تھے۔ چین اب اس خطے میں پوری طرح سے ایکٹو ہے اور وہ بیک ڈور ڈپلومیسی کو ترجیح دے رہا ہے۔تو اب خطے کے حالات خطرناک دوراہے پر ہیں_
twitter.com/RanaUzairSpeaks
-

بےحیاٸی اور ہمارا معاشرہ تحریر: شعیب خان
آج مسلم معاشرہ دین اسلام سے دوری کے ساتھ اپنی تہذیب و ثقافت کو بھی بھول گئے ہیں۔ ہمارا معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہوگئے ہیں، جس کی وجہ ہمارا معاشرہ بےحیاٸی کی دلدل میں دس چکا ہےبےحیاٸی کی ایک وجہ بے پردگی بھی ہے۔ہمارے معاشرہ کا المیہ ہے کہ ہم نے پردہ کو ترقی کی راہ میں رکاٶٹ سمجھ کر حکم الہی سے کو رد کیا ہے جبکہ نبی کریم ﷺنے اللہ ﷻ کے احکامات کے مطابق پردے کی سختی سے تلقین و تاکید فرمائی ہے ۔
جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی کو پھیلانے کے محرک ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ مسلم معاشرے میں سے شرم وحیا کاجنازہ اٹھ جائے ایسے لوگ دنیا میں بھی درد ناک عذاب سے دو چار ہوں گے اور آخرت میں بھی انہیں دردناک عذاب دیا جائے گا۔اور جہنم کاعذاب انتہائی سخت اذیت ناک اور ناقابل برداشت عذاب ہوگا۔اللہ ﷻ کا ارشاد ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُون
ترجمہ: جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا میں اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں۔اللہ جانتاہے اور تم نہیں جانتے
النور:19
محرم اور نا محرم کا امتیاز پیدا کر کے قوانین و ضوابط کے بارے میں امت مسلمہ کو آگاہ کیا تاکہ ممکنہ بےحیاٸی کو پھیلنے سے روکا جاٸیں جو آگے چل کر اسلامی معاشرے کو تباہ کرسکتی ہے
اس سلسلہ میں ازواج مطہرات کو بھی اپنے گھروں سے نکلنے کی ممانعت کر دی گئی تھی مگر بدقسمتی سے مارڈن اور مغربی عورتوں و مرد کی نقالی میں آجکل ہماری مسلم بہن بھاٸی بہت آگے نکلنے کی کوشش میں لگے ہوئیں ہیں اور اپنی شناخت کھو بیٹھے ہیں ۔اسکی وجہ سے تو ہمارا اسلامی اقتدار مجروح ہوتا ہے تو دوسری طرف ہمارے معاشرے میں بےحیاٸی کے یہی لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں۔حالانکہ دوسروں کی نقل اترنے والے لوگ احساس کمتری میں مبتلا ہوتے ہیں۔
یہ لوگ نقالی میں نہ صرف لباس،رہن سہن،اور کھانے پینے کی چیزوں میں کی جاتی ہے بلکہ مرد زنانہ لباس میں خود کو دیکھنا قابل فخر سمجھتے ہیں اور خود کو مارڈن کہتے ہیں جبکہ ایسے لوگ بس بےحیاٸی و فحاشی کو فروغ دیتے ہیں۔۔
آپﷺ نے فرمایا ہے کہ لعنت ہے اُن عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کرتی ہیں اور اُن مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت پیدا کرتے ہیں ۔
حقیقت میں جہاں ہر انسان معاشرے کی اصلاح یا بگاڑ کا خود ذمہ دار ہوتا ہے وہاں معاشرے کو سدھارنے کی ذمہ داری حکام بالا پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے قوانین پر عمل درآمد کریں اور شہریوں کو کرائیں جن سے معاشرہ بےحیاٸی کی طرف آگے بڑھنے کے بجائے اصلاحی پہلو نکل سکے۔
بے حیائی کے اس سیلاب کے خلاف آواز اٹھاٸیے اس سے پہلے کہ بے حیائی کا یہ سیلاب ہمارے گھروں، ہماری عزتوں کو بھی بہا کر لے جائے۔۔۔
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو آمین
@aapkashobi
-

معذور افراد کی زندگی کتنی مشکل ہے تحریر : احمد فریدی
اس دنیا میں سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز دنیا کا مہتاج ہونا ہے جو کہ زندگی کی تمام مشکلات اور پریشانیوں سے اذیت ناک ہوتا ہے،
کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ معذور افراد کی زندگی میں کیا مشکلات ہوتی ہیں اور وہ کیسے زندگی بسر کرتے ہیں اور پیدائش سے لے کر بڑھاپے تک یہ معاشرہ کیسا سلوک کرتا ہے؟
کہتے ہیں کہ مرنے والے سے سب سے بڑی وفا یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کے آخری رسومات میں شرکت کرے اور اپنی اپنائیت اپنی محبت کا یقین دلائے لیکن یہ سب چاہتے ہوئے بھی ایک معزور افراد نہیں کر سکتا کیونکہ وہ دنیا کا مہتاج ہوتا ہے اور اس وقت ہمارے قریبی رشتے دار کہتے ہیں اپ کا کیا کام بہت رش ہے آپ گھر بیٹھیں اور صرف اپنوں کی وافات کے موقع پر ہی نہیں بلکہ شادی بیاہ اور دیگر روز مرہ کے معمولاتِ زندگی اور تقریبات میں شرکت بھی نہیں کرنے دیتے
آج پوری دنیا میں کورونا کی وجہ سے کچھ حالات بدلے اور چند دن حکومت نے لاک ڈاؤن لگایا تو محسوس ہوا کہ کیسے سارا سال گزرتا ہے ان لوگوں کا جو بیچارے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں کیا ان کا دل نہیں کرتا کے انکے ساتھ بھی کوئی وقت گزارے کیا ان کا دل نہیں کرتا کہ وہ بھی باہر کی دنیا دیکھیں
جب پیدائشی یا چھوٹی عمر میں انسان کسی طرح کی بھی معذوری میں مبتلا ہوجاتا ہے تو سب سے اہم چیز اسکی پڑھائی ہوتی ہے جس سے وہ محروم رہتا ہے 100 میں سب صرف 05% افراد ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں،
جو خود سے پانی تک نہیں پی سکتے کھانا تک نہیں کھا سکتے انہیں پاکستانی تعلیمی ادارے نے کیا سہولیات مہیا کی ہیں ہمارے ہاں تو ان کا حق بھی نہیں دیا جاتا،
اگر ہم اپنا موازنہ یورپ سے کریں تو وہاں آپ جا کر دیکھیں کہ کیسے انہوں نے اپنے معذور افراد کے لیے اقدامات کیے ہیں
کیسے انہوں نے اپنے معذور افراد کو سپیشل پرسن بنایا اور ایک نارمل انسان سے کہیں بہتر اقدامات کیے تاکہ وہ معذوری کو مجبوری نہ بنائیں اور اچھے طریقے سے زندگی گزاریں یقیناً اس کا واحد حل صرف اور صرف تعلیم یافتہ ہونا ہے،
ہمیں ہرصورت ان لوگوں کے لیے آواز بلند کرنی پڑے گی جو بیچارے نا تو احتجاج کر سکتے ہیں نہ کوئی انکی سننے والا ہوتا ہے واحد اللہ ہی انکا سہارا ہے ہم لوگ صرف اپنی حکومت کو کہتے ہیں کہ وہ کوئی اقدام اٹھائے کیا آپ لوگوں نے کبھی سوچا ہے کہ آپ نے کیا کیا ہے جتنا آپ کر سکتے ہیں کم ازکم وہ تو کریں اور کچھ نہیں کرسکتے تو انکے ساتھ وقت تو گزار سکتے ہیں،
اور یقین جانئے یہ دنیا کی سب سے بڑی خوشیوں میں سی ایک ہے کہ آپ کیسی کو اپنا وقت دیتے ہیں اور جہاں تک بات ہے وہیل چیئر کی تو وہیل چیئر معذور افراد کی آدھی زندگی ہے،
اگر ہماری حکومتوں نے معذور افراد کو بھی اپنا شہری مانا ہوتا بروقت اقدامات کیے ہوتے معذور افراد تک مفت وہیل چیئر پہنچائی ہوتی معذوری سرٹیفکیٹ بنوانے کا آسان طریقہ رکھا ہوتا اور سپیشل پرسن والے کارڈ بنا کر انہیں ماہانہ کی بنیاد پر وظیفہ مقرر کیا ہوتا تو آج معذور افراد آپ کو یوں سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر نہ آتے، اور مخیر حضرات آگر حق حقداروں تک حق پہنچاتے تو یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا ان لوگوں کی وجہ سے ہم جیسے لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، دوسروں کو الزام دینے کے بجائے آپ خود کو دیکھیں آپ نے کیا کیا ہے آگر ہر بندہ اپنی ذمےداری نبھائے تو معذور افراد کی زندگی بہتر اور بہت خوبصورت بننے کے ساتھ ساتھ گزر بھی جائے گی اور وہی اسی طرح دوسروں کی خدمت کریں گے دوسروں کیلئے جدوجہد کریں گے دوسروں کے حقوق کی جنگ لڑیں گے دوسرے معذور افراد کو اپنایت کا احساس دلائیں گے ان کیلئے سہارا بنے گے،
پاکستان کی حکومت پاکستان کے ادارے پاکستان کے ٹرسٹ پاکستان کے مخیر حضرات اس اہم ایشو کو اپنے اہم ایشو میں شامل کریں تاکہ پاکستان کے لاکھوں معذور افراد اس پریشانی سے ان محرومیوں سے نکل سکیں اور اپنی صلاحیت پاکستان کیلئے پاکستان کے غریبوں مزدوروں اور معذوروں کیلئے استعمال کریں،
اس دعا کے ساتھ اور اس امید کے ساتھ اختتام کررہا ہوں یقیناً صاحب اقتدار اور صاحبِ استطاعت ہماری مودبانہ گزارش کا نوٹس لیتے ہوئے تمام تر اقدامات بروئے کار لائیں گے،
اللہ پاک آپ سب کا حامی و ناصر ہو پاکستان ذندہ باد
Twitter ID
👇
https://twitter.com/ahmad_faredii?s=09