Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سوشل میڈیا پر عدم برداشت  تحریر  :  سید محمد مدنی

    سوشل میڈیا پر عدم برداشت تحریر : سید محمد مدنی

    ہمارے سوشل میڈیا پر برداشت کی کمی ختم ہو چکی ہے ہم معمولی سی بات کو بھی گالی اور بدتمیزی سے جوڑتے ہیں کوئی بھی بات ہو ہم سب سے پہلے گالی کا سہارا لیتے ہیں اور گالی دے کر ہم یہ سمجھتے ہیں کے جیسے ہم سامنے والے سے جیت گئے ہیں لیکن حقیقتاً ہم اپنی تربیت کا مظاہرہ دکھا اور ہار رہے ہوتے ہیں اور پستی کی طرف جا رہے ہوتے ہیں جب ہمارے پاس دلیل نہیں رہتی تو ہی ہم گالی کا سہارا لیتے ہیں جبکہ جو گالی دیتا ہے وہ اسی کو آ کر لگتی ہے

    آپ نے دیکھا ہوگا کے ہم آپس میں مذاق کرتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو گالی دے جاتے ہیں اور یہی اگر لڑائی ہو جائے تو بہت برا لگتا ہے آخر کیوں بھئی جب مذاق میں آپ گالی دیتے ہیں تو سنجیدگی یا غصے کے وقت آپ کو وہی گالی بُری کیوں لگتی ہے اور اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کے اگر آپ بے ہودہ یا نا مناسب زبان استعمال کریں گے تو اسے کچھ لوگ باقاعدہ انجوائے کرتے ہیں ہنستے ہیں قہقہے لگاتے ہیں کیا آپ نے کبھی تھوڑی سی دیر کے لئے یہ سوچا ہے کے آپ کر کیا رہے ہیں ہم دوسروں کو تو تلقین کرتے ہیں کے گالی مت دو لیکن ہم خود وہی کچھ کر رہے ہوتے ہیں اکثر دیکھا گیا ہے کے ہم معمولی بات چیت میں گالی بے ہودہ گفتگو کو سرِ فہرست رکھتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں یہ فخر کی بات نہیں بلکہ بے غیرتی کی بات ہے ایک چیز یہ بھی دیکھی گئی ہے کے اگر کوئی ماں بہن تک پہنچ کر گالی دیتا ہے تو جواب میں دوسرا بھی وہی کچھ کرتا ہے اور اگر کوئی جواباً گالی نا دے تو اسے بزدل سمجھا جاتا ہے جناب یہ بزدلی نہیں شرافت ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسے بزدلی کہا جاتا ہے ایک تو گالی نا دیں اور نا ہی اس پر فخر محسوس کریں

    میں نے مشاہدہ کیا ہے اگر اپ اپنی بات سنجیدگی سے لکھتے ہیں کہتے ہیں تو لوگ اس پر اتنی بات نہیں کرتے جلدی ری ایکٹ نہیں کرتے جبکہ یہی بات کسی بھی گالی کے تناظر میں یا عجیب بے ڈھنگی زبان میں لکھ دیں تو مشہور زیادہ ہوتی ہے جیسے کے ایک گروہ نے ایک

    پ یہ ن د ی س ر ی

    (معذرت چاہوں گا الفاظ ملا کر نہیں لکھ سکتا)

    جملہ کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر آدمی وہی جملہ دھہرانے لگا میرا کہنے کا مقصد یہ ہے کے کیا یہ ضروری ہے کہ ہر بات میں عجیب فنگ ڈھنگ نا سلیقہ نا آداب کے عنصر کو شامل کیا جائے، ہو سکتا ہے میری یہ بات بری لگے بہت لوگوں کو لیکن میرے نزدیک یہ کوئی اچھی بات نہیں کسی محفل میں آپ بیٹھے ہوں اور کوئی عجیب سی بات کہہ ڈالیں یا پھر فلاں کی سری یا فلاں کا کچھ کہیں تو دیگر افراد آپ کو دل میں برا ہی جانیں گے اس لئے ہمیشہ اچھی گفتگو کریں اور بات وزن دار کریں کیونکہ زبان سے ادا ہؤا لفظ اور کمان سے نکلا ہؤا تیر واپس ہرگز نہیں آتے

    آئیے اپنے آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے کچھ مثالیں قائم کریں اور گندی اور بے ہودہ گفتگو سے اجتناب کریں تاکہ ہمارا نام اچھے الفاظ میں لیا جائے اور لوگ ہمیں ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد رکھیں

    @M1Pak

  • قصہ سلیمان علیہ السلام تحریر:شاندانہ فریدون

    قصہ سلیمان علیہ السلام تحریر:شاندانہ فریدون

    "اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاو ! ایسا نہ ہو کہ سلیمان علیہ السلام کا لشکر تمہیں روند ڈالے۔ اور ان کو خبر تک نہ ہو” ایک ننھی چیونٹی نے اپنی ساتھیوں سے کہا یہ مدھم آواز خضرت سلیمان علیہ السلام نے سنی اور مسکرا دئیے اور اللہ کا شکر ادا کیا حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے عظیم الشان لشکر کے ساتھ وہاں سے گزر رہے تھے اللہ تعالٰی نے انہیں نہایت وسیع و عریض سلطنت کا بادشاہ بنایا تھا اور نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں، پرندوں، جنات اور ہوا تک کو ان کا تابع کر دیا تھا ۔ اللہ نے انہیں اتنی عظیم سلطنت بخشنے کے ساتھ اور حکمت اور غیر معمولی قوت فیصلہ بھی عطا فرمائی تھی
    حضرت سلیمان علیہ السلام ،حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے اور 992 قبل مسیح میں پیدا ہوئے (قبل مسیح کا مطلب ہے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش سے 992 سال پہلے) وہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بعد تحت پر بیٹھے ۔ شروع کے تین سال مشکلات کے تھے۔جس میں مختلف معرکے پیش آئے ۔ بالآخر آپ نے سب مخالفین پر قابو پایا اور ایک نہایت مستحکم اور وسیع حکومت قائم کی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو تعمیرات کا بہت شوق تھا ۔انھوں نے ہیکل سلیمانی اور بہت سے نئے شہر تعمیر کروائے
    ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام کا دربار لگا ہوا تھا۔ سوائے ہد ہد کے سب حاضر تھے۔ ” ہد ہد کہاں ہے؟” حضرت سلیمان علیہ السلام نے ناراضگی سے دریافت فرمایا، "وہ آکر غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بیان کرے ورنہ اسے سخت سزا دوں گا” کچھ ہی دیر میں ہد ہد آگیا ۔ اور اس نے یوں گفتگو شروع کی۔ "میں ابھی بھی ملک یمن سے آرہا ہوں ۔ وہاں میں نے ایک قوم دیکھی جو بہت خوشحال ہے۔ اس کی حکمران ایک عورت ہے۔ یہ قوم گمراہ اور مشرک ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں”
    حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ حال سن کر ہد ہد کے ذریعے وہاں کی ملکہ کو خط بھیجا۔ اس خط کا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے کیا گیا تھا۔ اور اس میں ملکہ اور اس کی قوم کو سیدھے راستے پہ آنے کی دعوت دی گئی تھی ۔ یمن کی ملکہ کا نام ” بلقیس” تھا اور اس ملک میں جو قوم آباد تھی۔ وہ "سبا” کہلاتی تھی ۔ ملکہ کو جب یہ خط ملا تو اس نے اپنے درباریوں سے اس خط کے بارے میں رائے طلب کی۔ سب نے ایک زبان ہوکر یہی مشورہ دیا کہ ہمیں اس بادشاہ سے جنگ کرنی چاہیے۔ ہم سب بہادر بھی ہیں۔ اور ہمارے پاس بہت سا سامان جنگ بھی ہے
    ملکہ ذہین اور دانا تھی۔ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عظیم سلطنت کے بارے میں پہلے سن چکی تھی۔ اس نے اپنے درباریوں کو سمجھایا کہ جلدی کرنا درست نہیں۔ جنگ کوئی بھی جیت سکتا ہے۔ اور جو جیت جاتا ہے وہ بستیوں کو تباہ اور عزت دار لوگوں کو ذلیل کر دیتا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو کچھ تحائف بھیجے جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ بات یہیں ختم ہو جائے
    یوں ایک وفد پیش قیمت تحائف لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا” اللہ تعالٰی نے دین و دنیا کی جو نعمتیں مجھے عطا فرمائی ہیں وہ تمہارے تحائف سے بہت بہتر ہے۔ مجھے ان کی ضرورت نہیں، تم ان کو واپس لے جاو۔ اور اپنی ملکہ سے کہہ دینا کہ اس نے شرک اور گمراہی کا راستہ نہ چھوڑا اور اللہ کا دین قبول نہ کیا تو ہم ایسے لشکروں سے حملہ کریں گے جن کے مقابلے کی تم میں طاقت نہ ہو گی”
    ملکہ سمجھ گئی کہ یہ معاملہ دنیاوی مال و دولت کی حرص کا نہیں ہے۔ چنانچہ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام سے ملنے کیلئے خود روانہ ہو گئی۔ جب وہ پروشم کے قریب پہنچی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے سوچا کہ اس کو اپنے پیغمبر ہونے کی نشانی دکھائی جائے تاکہ اس کو سچائی قبول کرنے میں آسانی ہو۔ آپ علیہ السلام نے دربار کے حاضرین سے پوچھا کہ کوئی ہے جو ملکہ کے یہاں پہنچے سے پہلے اس کا تحت یہاں لے آئے۔ ایک جن نے کہا کہ وہ دربار برخاست ہونے سے پہلے تحت لے آئے گا۔ ایک شخص نے، جو کتاب کا علم رکھتا تھا، کہا کہ میں پلک جھپکنے میں تحت یہاں لا سکتا ہوں۔ اور اگلے لمحے تحت وہاں موجود تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ اور اپنے درباریوں سے فرمایا کہ اس میں تھوڑی تبدیلی کر دو تاکہ ہم آزمائیں کہ ملکہ کتنی ذہین ہے۔ جب ملکہ پہنچی تو اپنا تحت دیکھ کر کہنے لگی۔” یہ تو میرا تحت معلوم ہوتا ہے۔ میں آپ کی عظمت پہلے ہی پہچان گئی تھی۔ ہم نے آپ کی اطاعت قبول کر لی ہے”
    ملکہ نے ظاہری اور دنیاوی اعتبار سے تو اطاعت قبول کر لی تھی۔ لیکن اس کی سوچ میں ابھی گہرائی پیدا نہ ہوئی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کو سمجھانے کے لیے ایک اور طریقہ اختیار کر لیا۔ ان کے محل کا فرش شیشے کا تھا۔ جس کے نیچے نہر بہہ رہی تھی
    اوپر سے دیکھنے پر شیشہ نظر آتا تھا۔ صرف پانی ہی بہتا نظر آتا تھا۔حضرت سلیمان علیہ السلام ملکہ کو اپنے محل لے گئے۔ ملکہ نے نیچے دیکھا تو اس نے فورا اپنے پائنچے اٹھا لیے۔ وہ سمجھی کہ نیچے پانی بہہ رہا ہے۔ کہیں میرے کپڑے بھیگ نہ جائیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔” تم دھوکے میں ہو یہ پانی نہیں شیشہ ہے”۔ ملکہ نے ان کی اس جملے پر غور کیا۔ تو اس کا ذہین روشن ہو گیا۔ وہ سمجھ گئی کہ سورج کو سجدہ کرنا بھی ایک دھوکہ ہے۔ وہ ہستی ہی سجدے کے لائق ہے ۔ جس نے اس سورج اور تمام کائنات کو بنایا ہے۔ اور یوں وہ ایمان لے آئی۔
    حضرت سلیمان علیہ السلام اکتالیس سال حکومت کرنے کے بعد 924 قبل مسیح میں وفات پاگئے۔ وفات کا واقعہ بھی بہت عجیب ہے۔ آپ علیہ السلام نے جنوں کو ایک نیا شہر تعمیر کرنے کے کام پر مامور کیا تھا۔ یہ کام ابھی نامکمل تھا ۔ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا آخری وقت آگیا۔ آپ علیہ السلام اپنے عصا کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ اور اسی حالت میں آپ علیہ السلام کی وفات ہو گئی۔ سب سمجھتے رہے کہ آپ علیہ السلام کام کی نگرانی فرما رہے ہیں ۔عصا میں آہستہ آہستہ گھن لگ رہا تھا۔ایک دن عصا گھن کی وجہ سے ٹوٹ گیا۔ تب جنوں اور تمام مخلوقات کو معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کا انتقال ہو گیا ہے۔

    @Shandana_Twitts

  • حضرت عمر فاروق رض تحریر:  محمد طلحہ رفاقت

    حضرت عمر فاروق رض تحریر: محمد طلحہ رفاقت

    خلیفہ دوم امیر المومنین حضرت عمر فاروق رض عنہا کمال رعب و جلال اور دبدبہ رکھنے والے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خاص صحابی تھے
    تاریخ نے ہزاروں جرنیل اور بڑے بڑے سپہ سالار پیدا کیے لیکن دنیا جہاں کے فاتحین، دنیا جہاں ہے سپہ سالار حضرت عمر فاروق رض کے سامنے طِفلِ مکتب لگتے ہیں

    انکا شمار خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ میں سے ہوتا ہے آپ خلفاء راشدین میں سے دوسرے نمبر پر ہیں
    حضرت عمر فاروق رض وہ صحابی ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی خاص دعاؤں میں گڑ گڑا کر اللہ رب العزت سے مانگا اور اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول کرتے ہوئے حضرت عمر فاروق رض کی صورت میں ہیرا صحابی میسر کیا
    حضرت عمر فاروق رض واہ واحد صحابی ہیں جن کو آتا دیکھ کر شیطان مردود اپنا راستہ تبدیل کرلیتا تھا
    مسلمان تو یقیناً حضرت عمر فاروق رض کی شخصیت سے بے حد متاثر ہیں جبکہ بیسوں غیر مسلم حضرت عمر فاروق رض کی شخصیت سے بھی متاثر ہیں جب حضرت عمر فاروق نے اسلام قبول کیا اسلام کو ترقی کی جانب جو پروان ملی وہ تاریخ کے اوراق میں سنہری حروفوں میں درج ہے

    حضرت عمر فاروق رض نے اپنے دورِ حکومت میں اسلام کو پوری دنیا کے کونے کونے میں پہنچا کر اپنی سر توڑ کوشش کی اور کوششیں بجا لاتی ہوئی مقصد میں کامیابی ملی آج انہی کی ہی مرہونِ منت ہمارے پاس اسلام کی صورت میں خوبصورت ترین دین ہے
    یقیناً حضرت عمر فاروق رض اور ہزاروں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیوں کی بدولت ہمارے پاس خوبصورت ترین دین میسر ہوا

    ایک عالم دین نے کیا خوب کہا کہ حضرت عمر فاروق رض عطاء اے خداوندی ہیں جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اللہ ربّ العزت سے حیران کن طور پر یہ دعا مانگی کہ اے اللّٰهُ عمرو بن ہشام یا پھر حضرت عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کو اسلام کی زینت بنا تو اللہ ربّ العزت نے عمر فاروق رض کی صورت میں دین اسلام کو رونق بخشی

    شہادت کے وقت آپ رض کی عمر تریسٹھ برس تھی حضرت صہیب رض نے آپ رض کی نماز جنازہ پڑھائی روضہ نبوی میں حضرت ابو بکر صدیق رض کے پہلو میں آپ کی قبر مبارک بنائی گئی۔ رض

    خادمِ نورالہدی بے شک ہیں وہ تنویر پھول
    نکہتِ باغ نبوت حضرت فاروق ہیں

    @Talha0fficial1

  • ‏میرا پاکستان میری پہچان   تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ‏میرا پاکستان میری پہچان تحریر: جہانتاب احمد صدیقی

    ہمارا ملک پاکستان جو جدوجہد کے مستقل عمل میں ہے اور روزانہ کی بنیاد پر نئے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے ، اسے باقی دنیا کے منفی عکاسیوں کے مقابلے میں بتانا یقینا زیادہ اچھا ہے۔.

    یقینی طور پر ہمارے ملک میں بہت سارے مسائل ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمارا ملک کیسی سے کم ہے۔ ہم پہلی اسلامی جوہری طاقت ، دنیا کی چھٹی بڑی فوج ،جو کسی بھی دشمن کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ، نہ صرف خوبصورتی اور سکون سے بھرے ہوئے علاقوں بلکہ معدنیات سے بھی مالا مال ہیں۔. صحت ، تعلیم ، انسانی وسائل اور سماجی شعبے میں بروقت سرمایہ کاری مثبت نتائج لا رہی ہے حالانکہ آہستہ آہستہ ہمارے پاس سائنس اور ٹکنالوجی ، کھیلوں ، سماجی علوم ، فنون لطیفہ اور دیگر شعبوں میں غیر معمولی ہنر مند صلاحیتوں کے حامل پرجوش اور باصلاحیت نوجوان ہیں۔

    دنیا بخوبی جانتی ہے کہ اس پرجوش نوجوان کے پاس یقینی طور پر ان کے پاکستان کو مزید خوشحال بنانے کے لئے تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔

    مکرمی ہمیں پاکستان کو مزید کامیاب بنانے کے لیے محنت کرنی ہوگی ، سب سے پہلے ہمیں تعليمی نظام پر توجہ دینی چاہیے ۔. پاکستان کو اپنی خواندگی کی شرح اور معیاری تعلیم کی کمی کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔. اس وقت کی ضرورت سائنس اور ٹکنالوجی سیکھنے کی ثقافت کو فروغ دینا ، بہتر انفراسٹرکچر ، نئی ایجادات کے ساتھ بڑھتی ہوئی صنعت کی ضرورت ہے۔.

    تحقیق اور ترقی بالکل تکمیل پذیر ہوگی کیونکہ کامیابی کے لیے اس طرح کے بنیادی شعبوں پر دنیا کی توجہ مرکوز ہے۔. بیرون ملک خدمات انجام دینے والے ہمارے نوجوانوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ وہ پاکستان کو بدعات کے میدان میں کس طرح بہتر درجہ بندی پر ڈال سکتے ہیں۔.

    ہمارے پاس دماغ اور ذہانت ہے لیکن اس کے لئے مناسب سمت کی ضرورت ہے۔. ہمارے پاس بڑھتی آبادی ، صحت ، خوراک اور پانی کی قلت اور عام آدمی کی سلامتی کے چیلنجز ہیں لیکن ان تمام امور کو فنڈز ، وسائل اور پالیسی کے صحیح استعمال سے حل کیا جاسکتا ہے۔. اخلاص اور قوم کے ساتھ وفاداری ایک پہلو ہے جس کی پاکستان کو ہم سب سے ضرورت ہے۔.

    ہم سب کو اپنے ملک کے ذمہ دار ، دیانتدار اور قانون کے پابند شہریوں کی ضرورت ہے۔ ہم جو ہیں اس پر فخر کریں اور ہمیں اپنی ثقافتی اقدار ، زبان اور تاریخ کے بارے میں شرمندہ یا معذرت نہیں کرنا چاہئے۔ باقی ممالک اپنی تاریخ کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں اور ہمیں اپنے وژن رہنما عظیم قائد اعظم محمد علی جناح پر فخر کرنا چاہئے ، جو دوسرے سرشار ساتھیوں کے ساتھ مل کر عالمی نقشہ پر پاکستان کو نقش کرنے میں کامیاب رہے تھے۔.

    بچوں کو آزادی کے معنی سمجھنے میں مدد کرنا اور انہیں ایسا ماحول مہیا کرنا جس میں وہ آزادی کے حقیقی جوہر سے لطف اندوز ہوسکیں ریاست کی ذمہ داری ہے۔. ہمیں چاہیے پاکستان کو سیاحت کو فروغ دے کیونکہ اللہ ﷻ نے پاکستان کو شمالی علاقوں میں انتہائی خوبصورت مقامات سے نوازا گیا ہے اگر ان کی دیکھ بھال کی جائے تو وہ ملک میں بہت سارے سیاح لاسکتے ہیں۔.

    بین الاقوامی محاذ پر پاکستان کو تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے اور خارجہ پالیسی میں پہلے سے کافی بہتر ہوگی ہے اسکو مزید بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے

    آئیے یہ نہ بھولیں کہ ہم ایک فخر قوم ہیں جس کی ثقافتی اقدار اور ایک شاندار ماضی ہے۔ ہمیں اپنا 74 واں یوم آزادی مناتے ہوئے اپنی آزادی کو پسند کرنا چاہئے۔

    اب وقت آگیا ہے کہ ہم ایک آزاد ریاست کی قدر کو سمجھیں جس سے ہمیں نوازا گیا ہے۔. آئیے اپنی قوم کی خدمت کا عہد کریں اور اسے پرامن اور خوشحال قوم بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں تاکہ ہم واقعی اپنے کارناموں پر فخر کرسکیں۔.

    اللہﷻ پاکستان کو شاد و آباد رکھے آمین!

  • حضرت خالد بن ولید تحریر : سیف اللہ عمران

    حضرت خالد بن ولید تحریر : سیف اللہ عمران

    حضور کے عظیم ساتھی حضرت خالد بن ولید ایک عظیم جرنیل اور ایک عظیم فاتح تھے۔
    میدان جنگ میں آپ کی مہارت حیران کن تھی۔ اپ کی کنیت ابو سلیمان اور ابو ولیدہ تھی اور آپ کا لقب سیف اللہ تھا (اللہ کی تلوار)
    اپ کا نسب ساتویں پشت میں حضرت ابوبکر صدیق سے ملتا ہے عباس کی والدہ لباب الکبرا کی بہن تھیں۔
    آپ کے والد ، قریش کے سرداروں میں سے تھے اور مکہ کے امیر ترین افراد میں سے تھے۔
    حضرت خالد بن ولید شروع سے ہی ایک بہادر ، محنتی اور سخت آدمی تھے۔ آپ نے یہ آرام چھوڑ دیا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کے بل بوتے پر کام کیا۔
    جب اسلام کا ظہور ہوا تو آپ قریش قبیلے کے لوگوں میں سے تھے جنہوں نے پیغمبر اسلام اور اہل اسلام کی سخت مخالفت کی تھی۔
    آپ حدیبیہ کے امن تک اہل اسلام کے خلاف کفار کی طرف سے لڑی جانے والی تمام جنگوں میں بھی شریک تھے۔
    جنگ احد میں آپ مکہ کے قریشی گھڑسواروں کی قیادت کر رہے تھے۔ جب اپ نے پہاڑی راستے میں ایک اہم مقام چھوڑا اور پیچھے سے ائے اور لشکر اسلام پر حملہ کیا ، جس نے جنگ کا رخ موڑ دیا۔
    حضور کے فوجی نظم و ضبط اور سوچ سے آپ اس قدر متاثر ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور پیار ان کے دل میں ا گئی جس نے بعد میں ان کے لیے اسلام کے جھنڈے تلے آنا آسان بنا دیا۔
    حضرت الولید نے اپنے بھائی کو اسلام کی دعوت دی۔
    آپ کے بھائی نے کہا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے مشورہ کریں گے تو انھوں نے اپنے ایک ساتھی حضرت عثمان بن طلحہ سے مشورہ کیا اور دونوں حق کی تلاش میں مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے۔
    حضرت عمر بن العاص اور حبشیہ کے نجاشی شاہ سے اسلام کی صداقت پر یقین کرنے کے بعد ، وہ راستے میں حضرت خالد اور حضرت عثمان سے ملے اور اپ تینوں اپنے پیروکاروں کے ساتھ مل کر خدمت مصطفیٰ پہنچے۔
    جب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ تینوں کو دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا: اہل مکہ نے اپنے جگر آپ پر پھینکے ہیں۔
    حضرت خالد بن ولید نے پہلے ان سے اور پھر دوسروں سے بیعت کی۔ اور تینوں اسلام کی عظیم فوج میں شامل ہو گئے۔
    اسلام قبول کرنے کے بعد ، حضرت خالد بن ولید نے نبوت کے زمانے ، حق اور حضرت عمر فاروق دور میں مختلف لڑائیوں میں لشکر اسلام کی قیادت کی۔
    آپ نے جمادی الاولیا ہجری میں موطا کی جنگ میں بھی حصہ لیا تین دیگر جرنیلوں حضرت زید بن حارثہ ، حضرت عبداللہ بن رواحہ اور حضرت جعفر طیار کی شہادت کے بعد انہوں نے لشکر اسلام کی قیادت سنبھالی۔
    آپ کہتے تھے کہ ایک جنگ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹ گئیں اور آخر میں صرف ایک یمنی تلوار باقی رہ گئی۔
    حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں اندرونی اور بیرونی محاذوں پر حضرت خالد بن ولید کی عظیم خدمات اسلامی تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں۔
    حضرت ابوبکر صدیق نے مرتدین کے خلاف لشکر روانہ کیا اور ایک لشکر کی قیادت آپ کے حوالے کی۔
    اپ نے مسلمان کو جھوٹوں کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجا۔ ایک سخت لڑائی کے بعد ، مسلمہ مارا گیا اور اس کے لوگ اسلام کے دائرے میں داخل ہوئے۔
    اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے رومیوں کے خلاف شام اور عراق میں فوجیں بھیجیں لیکن حضرت خالد بن ولید کا رخ نے ایرانیوں کی طرف کیا ۔
    پہلی لڑائی ایرانی افواج اور مجاہدین اسلامیہ کے درمیان البلات میں حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں لڑی گئی جس میں رب کائنات نے لشکر اسلام کو فتح عطا کی۔
    حضرت خالد بن ولید ایک سال اور دو ماہ تک عراق میں رہے اور 15 جنگیں لڑیں ، ان میں سے سب جیتے ، پھر یہاں سے انہیں یرموک پہنچنے کا حکم دیا گیا۔
    حضرت خالد بن ولید مارشل آرٹس می رول ماڈل ان کے عظیم کارنامے اب بھی تاریخ کے انمٹ نقوش میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
    ان کی وفات 5 ہجری میں ہوئی جب وہ ساٹھ برس کے تھے۔ بعض روایات کے مطابق ان کی وفات حمص میں ہوئی اور بعض کے مطابق مدینہ منورہ میں۔
    اپنی موت کے وقت ، آپ نے کہا: "میں نے تقریبا تین سو لڑائیاں لڑی ہیں۔ میں اپنے جسم کے ہر حصے میں تلوار ، نیزہ اور تیر سے زخمی ہوا ہوں لیکن میں شہادت سے محروم رہا ہوں اور میں آج بستر پر مر رہا ہوں۔ اللہ تعالی بزدلوں کو امن نہ دے۔ ”
    آپ نے وصیت کی تھی کہ میرے بازو اور گھوڑے کو اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کے لیے وقف کیا جائے اور اپ کے تمام اثاثے ایک غلام ، گھوڑا تھا۔
    حضرت خالد بن ولید کو اللہ کے رسول سے بے پناہ محبت تھی۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بارے میں فرمایا: "خالد کو نقصان نہ پہنچاؤ کیونکہ وہ اللہ تعالی کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو اس نے کفار کے خلاف کھینچی ہے۔ ”

    @Patriot_Mani

  • کیسے نہ ہو عوام کو اپنے کپتان پہ اعتماد تحریر: مریم صدیقہ

    کیسے نہ ہو عوام کو اپنے کپتان پہ اعتماد تحریر: مریم صدیقہ

    اس بات سے بلکل انکار نہیں کہ ملک میں مہنگائی کی شرح میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہےہر چیز کی قیمت میں آئے دن اضافے کی خبرسننے کو ملتی ہے چاہے وہ پیڑولیم مصنوعات ہوں یا کھانے پینے کی اشیاء۔ مگر اس کے باجود یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ عوام کا اعتماد اب بھی خان صاحب پہ ہی ہے۔ یہ اس لیے ہر گز نہیں کہ وہ آخری آپشن ہیں بلکہ اس لیے کیوں کہ اب اس قوم کو یقین ہو چکا ہے کہ وقتی پریشانی ضرور اٹھانی پڑ رہی ہے مگر اس تکلیف کے بعد جو آسانی آئے گی وہ ان کی نسلوں کو سنوار دے گی۔
    بے شک مہنگائی نے عوام کی کمر توڑدی ہے لیکن ہر پاکستانی کے لیے اس سے بڑھ کہ اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ اب دنیا میں انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے ، اب انہیں خود کو پاکستانی بتاتے ہوئے شرم کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔کیوں کہ جو ان کا پرائم منسٹر ہے وہ دنیا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کے بات کرتا ہے ،وہ اب امریکہ کو اسی کی زبان میں “Absolutely Not” کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے، وہ “Do More” کی بجائے برابری کی سطح پہ تعلقات قائم رکھنا جانتا ہے،وہ امریکی ایڈ کی بجائے تجارت کو فروغ دینے پہ بات کرتا ہے، وہ ظلم کا ڈٹ کے مقابلہ کررہا ہے، وہ کشمیر کا سفیر بنا ہے، وہ چائنا جیسے دوست سے دوستی نبھانا اور بھارت جیسے دشمن سے مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ جب وہ خطاب کرتا ہے تو اسے پرچی کی ضرورت نہیں پیش آتی اور دنیا کی نظریں اس پہ اور دنیا کے ہر بڑے چینل کی ہیڈلائن ہوتا ہے۔ اس نے وقت کے فرعونوں کو للکارا ہے۔ پاکستانیوں کو بخوبی معلوم ہے کہ ان کے لیڈر کو صرف بیرونی ہی نہیں بہت سے اندرونی دشمنوں کا بھی سامنا ہے۔ ہر مافیا چاہے وہ قبضہ مافیا ہو چینی مافیا اس کے راستے کی روکاٹ بنا ہوا ہےمگر وہ ان سے بھی لڑ رہاہے۔سیاسی مخالفین کو کب کہاں کس طرح ٹھوکنا ہے یہ خان صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔وہ پاکستانی عدالتوں سے صادق اور امین ڈیکلیرڈ ہے۔ ہاں تھوڑے کنجوس ضرور ہے کیوں کہ وہ "کھاتا ہے تو لگاتا بھی توہے” والی سیاست نہیں کرنا جانتا۔ عوام کے ٹیکس کا پیسہ کیسے عوام پہ ہی خرچ کرنا ہے اورمزید چوری ہونے سے کیسے بچانا ہے یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
    تو پھر کیسے نہ ہو پاکستانی عوام کو اپنے کپتان پہ اعتماد۔ وہ کپتان جس نے حکومت میں آنے سے پہلے ان کے لیے انتھک محنت کی ، 22 سال اپنے نوجوانوں کا انتظار کرتا رہا،ان کے لیے لڑتا رہاتاکہ وقت آنے پہ یہ اس کا ساتھ دیں اور دنیا کو بتا دیں گے کہ پاکستانی کسی کم نہیں ۔تو اب وہ وقت ہے جب پاکستان کے نوجوان خان کی سر پرستی میں ہر قسم کی جنگ چاہے وہ اندرونی دشمنوں سے ہو یا بیرونی لڑ سکتے ہیں کیوں کہ یہ جنگ خان کی نہیں یہ پاکستان کی جنگ ہے ، یہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کی جنگ ہے جس میں بہت سی پریشانیاں اور روکاوٹیں ضرور ہیں مگر اس کے نتائج بہت حوصلہ افرزا ہوں گے۔ بس ہمت، حوصلہ اور یقین رکھیں اچھے دن آنے والے ہیں۔

    @MS_14_1

  • حقوقِ نسواں  تحریر: تحریر عبید الله

    حقوقِ نسواں تحریر: تحریر عبید الله

    کسی بھی موضوع پر گفتگو سے پہلے اس کی بنیاد جاننا لازمی ہے۔
    حقوق سے مراد وہ بنیادی معاشی، معاشرتی، اخلاقی، دینی اور حکومتی و قانونی
    اصول ہیں جن کے میسر ہو نے سے کوئی بھی فردِ واحد معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرسکتا ہے۔ حقوق نسواں سے مراد وہ تمام حقوق ہیں جو کہ اسلام اور عصرِ حاضر کے جدید تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آئین پاکستان میں درج ہیں۔ کسی بھی معاشرے کو بنانے اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہونے کےلیے مرد اور عورت دونوں کی برابر کی کاوشیں لازم ہیں۔ اگر معاشرے کو ہم ایک موٹر سائیکل سے تشبیہ دیں تو مرد اور عورت اس کے دو پہیے ہیں اگر ان میں سے ایک پہیہ میں خرابی آئے تو دوسرا بھی اس سے متاثر ہوتا ہے اور نتیجتاً موٹر سائیکل منزل تک پہنچنے سے پہلے راستے میں ہی رک جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر مرد اور عورت دونوں اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام نہ دے سکیں تو معاشرے ترقی اور خوشحالی کی بجائے انتشار اور بے راہ روی کی جانب گامزن ہو جاتے ہیں اس لیے دونوں کے حقوق اور کردار سے انکار ممکن نہیں۔
    عورتوں کے حقوق سےانکار ممکن نہیں کیونکہ عورت کے حقوق اور اکرام تو اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے اپنی کتاب میں شامل فرما دیےاورہر لحاظ سے عورت کو صاحب عزت قرار دیا۔ اگر وہ ماں ہے تو اس کے قدموں میں جنت رکھ دی، بیٹی ہے تو نعمت قرار دیا، بہن ہےتو غم خواراور جائیداد میں حصہ دار اور بیوی ہے تو لباس اور باعثِ سکون قرار دیا۔ اسی طرح اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ ووٹ دینے اور شہری ترقی میں حصہ لینے کا حق بھی دیا ہے۔ سیاست یا سوشلائیز ہونے کا بھی حق دیا ہے اس کے باوجود آجکے جدید دور میں بھی مرد حضرات عوامی بسوں میں خود کھڑے ہوکر عورت کو جگہ دیتے ہیں اور اس بات سے کون قطع نظر ہے۔ ہماری سڑکوں پر چلنے والی بسوں میں سوار نوجوان آج بھی اس سیٹ پر نہیں بیٹھتے جس کے ساتھ والی سیٹ پر عورت بیٹھی ہواور بے شک اس سب میں بھی قابل تحسین ہیں وہ مائیں اپنے بچوں کی تربیت یوں احسن طریقے سے کر رہی ہیں لیکن افسوس آج عورت کے حقوق کے نام پر ایسے لبرل حضرات آگے آرہے ہیں جو گو کہ مرد اور عورت دونوں کے لباس میں ہیں لیکن وہ عورت کے حقوق اور تقدس سے دور اور نا واقف ایسے بے حیائ پر مبنی نعرے لگاتے ہیں کہ باعزت گھرانوں کے مردوخواتین سن کر شرم کے مارے پانی پانی ہو جائیں۔ گوکہ یہ لبرلز تعداد میں تھوڑے ہی سہی(آٹے میں نمک)، لیکن مرد اور عورت کے نام پر دھبہ اور معاشرے کے لیے ناسور ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کی معصوم بیٹیوں کو اس نظامِ الٰہی سے متنفر کرنے کی کوشش میں ہیں کہ جس نے ایک ایسے وقت میں جب عرب میں لڑکیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور عورتوں کو قابل منتقلی جائیداد سمجھا جاتا تھا تو اسلام نے معاشرے میں عورتوں کو عزت دی اور انہیں بے مثال حقوق سے تحفظ دیا۔ اسلام نے خواتین کو تعلیم، اپنی پسند کے کسی سے شادی کرنے، شادی کے بعد اپنی شناخت برقرار رکھنے، خلع لینے، کام کرنے، جائیداد کی ملکیت اور فروخت کرنے، قانون کے ذریعے تحفظ حاصل کرنے، معاشرتی معاملات میں حصہ لینے کا حق دیا ہے۔ جس نے عورت کو اس قدر حقوق سے نوازا اس باپ بھائی کے خلاف اکسانے میں مصروف عمل ہیں۔ جو کہ ہمہ وقت اپنی بہن بیٹی کے ناز و نخرے اٹھانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
    اگراس موضوع پر لکھنا شروع کیا جائے تو شاید الفاظ اور اوراق ختم ہو جائیں لیکن موضوع پھر بھی سمندر کو کوزے میں بند کر نے کے مترادف ہے لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مرد و عورت کی بقا دین اسلام پر عمل کرنے میں ہی ہے۔

    @ObaidVirk_717

  • انسان اور اسکی انسانیت  تحریر: صادق سعید

    انسان اور اسکی انسانیت تحریر: صادق سعید

    اسلام وعلیکم

    انسانیت رحمدلی اور اخالقیات کا نام ہے ۔ انسان ہونا ہمارا انتخاب نہیں بلکہ اللّہ نے ہم پر خاص کرم کیا
    ہے لیکن اپنے اندر انسانیت بنائے رکھنا ہمارے ہاتھ میں ہے ۔ انسان کی تخلیق کا مقصد اللّہ تعالی کی
    عبادت اور انسانیت کی خدمت ہے ۔ انسانیت کی خدمت کا دائرہ جو اسلام نے دیا ہے وہ کسی بھی
    مذہب نے نہیں دیا۔ اللّہ نے انسان کو دنیا میں اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے ۔ اس نے انسان کو
    اپنی بندگی کرنے کے لئے اس زمین پر اتارا پر ساتھ ساتھ اس کے دل میں انسانیت اور تمام
    مخلوقات کے لئے رحمدلی کا گوشہ بھی اس کے دل میں اتارا۔ اس کے لئے ہمیں دنیا میں اخلاق
    سیکھنے پڑتے ہیں۔ اخلاقیات سیکھنے کی چیز ہے یہ پڑھنے سے نہیں آتی اور نہ ہی پڑھانے سے
    آتی ہے البتہ جب تک انسان خود کچھ نہیں سیکھنا چاہتا وہ کچھ نہیں سیکھ سکتا۔ اسلام ہمیں
    سوچنے اور تلاش کرنے کا کہتا ہے تاکہ ہم ایک بہترین انسان بن سکیں۔ اسکی مثال ایسے لے
    سکتے ہیں کہ جب لکڑی آگ میں جل کر کوئلہ ہو کر رہ جاتی ہے بلکل اسی طرح اگر انسان میں
    انسانیت نہ ہو تو وہ ایسا ہی ہے کہ اس کا مسلمان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ہم تب تک اچھے
    مسلمان نہیں بن سکتے جب تک ہم اچھے انسان نہ بن جائیں۔ انسان کو اپنے اندر ایک عادت ضرور
    ڈالنی چاہئے کہ جو چیز آپکے بس میں نہ ہو اس کی آرزو کرنا چھوڑ دے کیونکہ دوسروں کی بات
    ماننا ان کو اہمیت دینا ایک انسان کے پاس شفاف انسانیت ہونے کی نشانی ہے ۔
    جیسے جیسے دنیا میں انسان بڑھتے جا رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں انسانیت ختم ہوتی
    جا رہی ہے۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم کسی کو دکھ یا پریشانی میں دیکھیں تو آگے بڑھ کے انسانیت کا حق
    ادا کریں اور دنیا میں انسانیت ،رحمدلی اور تقویٰ کا چرچہ عام کریں۔ کیونکہ اچھے اعمال لوگوں کو
    متاثر کرتے ہیں۔ انسان اچھی بری باتیں ایک دوسرے سے ہی سیکھتا ہے تو یہ ہمارا فرض ہے کہ
    ہم اللّہ کی مخلوق کے ساتھ رحمدلی کا معاملہ رکھیں۔ رحمدلی تو جانور تک میں پائی جاتی ہے۔ وہ
    بھی ایک دوسرے کا دکھ،خوشی اور محبت کو محسوس کرتے ہیں پھر ہمیں تو اللّہ نے اشرف
    المخلوقات بنایا ہے اور ہمارے اندر احساس اور محبت کا جذبہ ہماری مٹی میں گوندھا گیا ہے ۔ ہماری
    زندگی ہمیں یہی سبق سکھاتی ہے کہ ایک انسان کے دل میں انسانیت کا پایا جانا بڑی چیز ہے۔
    کبھی بھی کسی انسان کی ذات اور اس کے لباس کو حقارت سے مت دیکھنا کیونکہ وقت بدلتے دیر
    نہیں لگتی اللّہ کبھی بھی کسی کو بھی کچھ بھی نواز سکتا ہے ۔ اس کو دینے واال اور تمہیں دینے
    والا ایک ہی خدا ہے ۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ کسی بھی چیز کی دو بار قدر کرتا ہے ایک ملنے
    کے بعد اور دوسرا کھونے کے بعد اور خوشی انسان کو اتنا نہیں سکھاتی جتنا غم سکھاتے ہیں۔
    انسان کی انسانیت تب ختم ہوتی ہے جب وہ کسی دوسرے انسان کے غم پر ہنستا ہے جس سے
    اسکی اخلاقیات کا فوری اندازہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللّہ پاک نے انسان کا دل ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنوں
    سے ملی ذلت اور غیروں سے ملی عزت کو کبھی نہیں بھولتا۔
    کبھی بھی کسی انسان کی سوچ پڑھنی ہو تو اس سے مشورہ کر لیں۔ اس سے مشورہ کرنے سے
    آپکو اس کا انصاف، اس کا علم اور اس کے کردار کا پتہ چل جائے گا۔ انسان کی پہچان اس کے
    دوست بھی ہوتے ہیں۔ جن لوگوں مین انسان اٹھتا بیٹھتا ہے وہی اس کا عکس ہوتا ہے۔

    اگر کوئی بھی انسان عظمت کی بلندیوں کو چھونا چاہتا ہے تواپنے دل میں نفرت کے بجائے انسانی
    محبت کو آباد د کرنا سیکھے۔ ہمیں دوسروں کو غیر حقیقت پسندانہ معیار پر پرکھنا نہیں چاہئے۔ مگر
    یہ لوگوں کے لئے آسان نہیں کیونکہ نشوونما بغیر تکلیف کے حاصل نہیں ہوتی اور کامیابی ہمیشہ
    کوشش کے بعد ہی ملتی ہے۔ اگر انسان میں بد اخلاقی ہے تو اس میں انسانیت پھر کوئی چیز نہیں۔
    ہمیں جس سبق کو پڑھنے کی زیادہ ضرورت ہے وہ انسانیت کا سبق ہے ایک مسلمان ہونے کے
    ناطے ہمیں اچھا انسان تلاش کرنے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے بلکہ خود اچھا انسان بن جانا
    چاہئیے تاکہ کسی اور انسان کی تلاش آپ تک آ کر ختم ہو جائے۔
    آپ انسان ہیں تو خود میں انسانیت پیدا کریں بعض دفعہ انسان سمندر کے اندر کھڑا ہو کر بھی پیاسا
    رہ جاتا ہے کیونکہ سمندر کا پانی کھارا ہوتا ہے اور پینے کے قابل نہیں ہوتا ٹھیک اسی طرح انسان
    کے اندر اگر لوگوں کی محبت، احساس کا جذبہ ختم ہو جائے تو وہ بھی سمندر کے پانی کی طرح
    کھارے ہوتے ہیں۔ اللّہ ہمیں اچھا انسان بننے کی توفیق دے آمین یارب العالمین۔

    Name :Sadiq Saeed
    Twitter: @SadiqSaeed_

  • اسلام آباد، قدرتی حسن کا دارالخلافہ تحریر: عمران راجہ

    اسلام آباد، قدرتی حسن کا دارالخلافہ تحریر: عمران راجہ

    ‎خوبصورتی کی تخلیق اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنا کسی بھی پُرجوش شہری منصوبہ ساز کے اہم اہداف ہوتے ہیں ۔ تاہم پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے بارے میں فخر سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں ثقافت اور تاریخ کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔
    ‎اسلام آباد ، پاکستان کا خوبصورت دارالحکومت ، غیر معمولی خوبصورتی ، پرامن ماحول اور اعلی معیار زندگی کے لئے جانا جاتا ہے۔ قدرتی نظاروں اور خوبصورتی کی وجہ سے ، اس شہر کو دنیا کا دوسرا خوبصورت دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔ یہ شہر اپنے قابل دید مقامات ،سر سبزجنگلات، پارکوں ، اور بہترین سڑکوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ اسلام آباد رہائش کے لئے بہترین مقامات میں سے ایک ہے۔ خوبصورت نظاروں کے علاوہ ، اسلام آباد میں ساری سہولیات میسر ہیں جیسے بہترین یونیورسٹیاں ، سکولوں کا بہترین نظام ، جدید تعلیم ، اور صحت کی سہولیات۔ اسلام آباد کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کو خاص طور پر دارالحکومت بنانے کے لیے جنگلات کو کاٹ کر 1960 میں بنایا گیا ہے۔ اور 1963 سے یہ پاکستان کا دارالحکومت ہے۔ یوں تو اسلام آباد اپنی خوبصورت سڑکوں، پر سکون ماحول اور پرفضا جنگلات کی وجہ سے سیاحوں کا پسندیدہ مقام ہے۔ لیکن یہاں بہت سے ایسے مقامات بھی ہیں جو سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔
    ‎فیصل مسجد
    ‎اسلام آباد میں دیکھنے کے لئے فیصل مسجد ایک مشہور جگہ ہے۔ یہ دنیا کی چھٹی بڑی اور جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد ہے جو کہ دارالحکومت اسلام آباد میں مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔ مسجد کی تعمیر 1976 میں سعودی شاہ فیصل کی جانب سے 28 ملین ڈالر کی گرانٹ کے بعد شروع ہوئی ، اسی لیے اس کا نام فیصل مسجد ہے۔ مسجد جدید فن تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس مسجد میں ایک لاکھ افراد کی گنجائش ہے۔
    ‎دامن کوہ
    ‎دامن کوہ ایک پرفضا اور خوبصورت مقام ہے۔ جو اسلام آباد کے شمال میں اور مارگلہ پہاڑیوں کے وسط میں واقع ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریبا 2400 فٹ اور اسلام آباد شہر سے تقریبا 500 فٹ کی دوری پر ہے۔ یہ رہائشیوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے لیے بھی ایک مشہور مقام ہے۔ یہاں سے پورے اسلام آباد کا نظارہ بہت خوبصورت لگتا ہے۔ موسم سرما کے دوران یہاں بہت بندر نظر آتے ہیں اوربرفباری کے دوران چیتے اکثر مری کی اونچی پہاڑیوں سے اترتے ہیں۔ دامن کوہ سے پیر سوہاوہ تک چیئر لفٹ تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔
    ‎لوک ورثہ
    ‎لوک ورثہ پاکستان کی تاریخ اور ثقافت کا ایک مظہر ہے۔ یہ شکر پڑیاں روڈ کے قریب واقع ہے۔ یہ میوزیم پاکستان کی زندہ ثقافتوں اور روایات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ لوک ورثہ، متعدد ثقافتی اشیاء کو ظاہر کرتا ہے جن میں پاکستان کے مختلف نسلی گروہوں کے مجسمے ، تصاویر ، مٹی کے برتن ، موسیقی اور ٹیکسٹائل کا کام شامل ہے۔ اس میں لائبریری بھی ہے جس میں لوک داستان ، ثقافت ، روایات ، نسلوں اور تاریخ کے بارے میں کتابوں کا ایک بہت بڑا انتخاب ہے۔ میوزیم میں باقاعدہ نمائشیں بھی منعقد کی جاتی ہیں۔ جن میں کڑھائی والے ملبوسات ، زیورات ، لکڑی کے کام ، دھات کا کام ، بلاک پرنٹنگ ، ہاتھی دانت اور ہڈیوں سے بنی اشیاء شامل ہیں۔
    ‎سید پور گاؤں
    ‎سید پور ایک قدیم گاؤں ہے جس کی ایک متمول تاریخ ہے۔ ماضی میں ، یہ ایک ہندو گاؤں رہا جہاں دور دراز کے علاقوں سے ہندو پوجا کرنے آتے تھے۔ گاؤں کی باقیات آج بھی موجود ہیں جہاں سیاح باقاعدگی سے آتے ہیں۔سید پور پاکستان کے قدیم دیہات میں سے ایک ہے۔ یہ پانچ سو سال سے زیادہ پرانا گاؤں ہے جو اپنے بھرپور ورثے ، ثقافت ، تاریخ اور لوک کہانیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ سید پور اسلام آباد میں ایک قابل دید اور تاریخی طور پر پرکشش مقام ہے جو بیک وقت ہندوؤں ، مسلمانوں اور سکھوں کی ثقافت اور تاریخ کو اجاگر کرتا ہے۔ سید پور کو 2008 میں فرانس حکومت کے تعاون سے ایک خوبصورت اور جدید گاؤں میں تبدیل کر دیا گیا۔ اب یہاں متعدد پوش ریستوران اور سیاحوں کے لیے تفریح کا سامان ہے۔
    ‎شاہ اللہ دتہ غار
    ‎دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلام آباد میں دیکھنے کے لئے بہت سارے مقامات ہیں اور شاہ اللہ دتہ غار ان میں سے ایک ہے۔ غاروں کے قریب واقع گاؤں 700 سال پرانا بتایا جاتا ہے جو کابل اور گندھارا شہر کو ملانے والے راستے کے طور پر کام کرتا تھا۔ جہاں تک غاروں کی بات ہے تو، مورخین کا دعویٰ ہے کہ ان غاروں کی عمر 2400 سال پرانی ہے۔ یہ غار بدھ مت کے دور ، اورنگ زیب دور اور ہندو عہد کی آثار ہیں۔ غاروں کو ایک تفریح گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں لوگ آتے ہیں ، پکوڑوں،چائے اور موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
    ‎راول جھیل
    ‎پاکستان میں پانی کا ایک مصنوعی ذخیرہ ہے جو راولپنڈی اور اسلام آباد شہروں کے لیے پانی کی ضروریات فراہم کرتا ہے۔ دریائے کورنگ کے ساتھ ساتھ مارگلہ کی پہاڑیوں سے آنے والی کچھ چھوٹی ندیوں کے ساتھ یہ مصنوعی جھیل بنائی گئی ہے جو 8.8 کلومیٹر کے رقبے پر محیط ہے۔ راول جھیل گاؤں مالپور ، بنی گالہ اور مارگلہ ہلز نیشنل کے الگ تھلگ حصے میں واقع ہے۔ جھیل کے آس پاس کے علاقے کو باغ اور پکنک سپاٹ کے طور پر بنایا گیا ہے۔ ماہی گیری اور کشتی رانی کی سہولیات بھی موجود ہیں۔
    ‎پاکستان مونومنٹ
    ‎پاکستان مونومنٹ ایک قومی یادگار ہے جو اسلام آباد ، شکرپڑیاں پر واقع ہے۔ یہ یادگار پاکستانی عوام کے اتحاد کی علامت کے طور پر تعمیر کی گئی تھی۔ یہ ایک مشہور سیاحتی مقام ہے۔ اس کی اندرونی دیواریں گرینائٹ سے بنی پھولوں کی پنکھڑی کی ساخت کی شکل میں ہیں۔ پنکھڑیوں پر قلعہ لاہور ، بادشاہی مسجد ، خیبر پاس اور مینار پاکستان کے خاکے بنےہوئے ہیں۔ یادگار کی چار اہم پنکھڑیاں چاروں صوبوں بلوچستان ، خیبر پختونخوا ، پنجاب اور سندھ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہاں ایک میوزیم بھی ہے جس میں تحریک پاکستان کے اہم واقعات کی عکاسی کی گئی ہے۔ خوبصورتی میں بے مثال یہ جگہ سیاحوں کے لیے بہت کشش رکھتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں 1500 کے قریب سیاح روزانہ آتے ہیں۔
    ‎شکر پڑیاں
    ‎شکر پڑیاں پہاڑوں پر واقع ایک باغ ہے، یہ ایک قومی باغ ہے جو اسلام آباد ، پاکستان میں زیرو پوائنٹ انٹر چینج کے قریب واقع ہے۔ لوک ورثہ بھی اس کے نزدیک ہی واقع ہے۔ یہاں پر مختلف ممالک کے سربراہان کے ہاتھ سے لگائے گئے درخت بھی موجود ہیں۔ سرسبز درختوں سے ڈھکا یہ پرسکون اور پر فضا مقام سیاحوں کے لئے بہت کشش رکھتا ہے۔
    ‎مونال ریسٹورنٹ
    ‎اسلام آباد کے نزدیک آبادی سے ہٹ کر پہاڑوں کے درمیان مونال ریسٹورنٹ سیاحوں کے لیے مرکز نگاہ ہے۔ یہاں کے حسین مناظر، بہترین ماحول اور پر پیچ راستے شمالی علاقہ جات کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔ مونال ریسٹورنٹ اس وقت اسلام آباد میں تفریح کے لئے بہترین مقام سمجھا جاتا ہے۔
    ‎جناح سپر
    ‎جناح سپر اسلام آباد کی بہترین مارکیٹ ہے۔ یہاں پر شاپنگ کرنے، کھانے پینے اور تفریح کی غرض سے آنے والوں کا بہت رش ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سینٹورس مال اور گیگا مال میں بھی شاپنگ اور تفریح کے بہترین مواقع ہیں۔
    ‎اسلام آباد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے مرکز نگاہ ہے۔ زیادہ تر غیر ملکی افراد اسلام آباد کے اعلی معیار زندگی، سہولیات اور پرسکون ماحول کی وجہ سے یہاں رہائش کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے تمام ممالک کے ایمبیسڈر یہاں رہائش اختیار کرتے ہیں۔
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • خود پر ایک نظر   تحریر: سجاد حسین قمر

    خود پر ایک نظر تحریر: سجاد حسین قمر

    اپنی ایک ہفتے کی ہر ایک ایک مصروفیات کو اپنی ڈائری پر لکھیں۔ وہ منفی ہو یا مثبت، ایک ہفتے کے بعد ایک صفحے پر لائن لگا کر ایک طرف اپنی مثبت اور دوسری جانب اپنی منفی مصروفیات درج کریں۔ اب خود جائزہ لیں کہ کس مصروفیت سے آپ کشیدگی اور مایوسی کا شکار ہوئے اور کس سے آپ کو حوصلہ افزائی ملتی ہے یا آپ کا دن اچھا گزرتا ہے۔ اب جس کے اثرات مثبت ہیں اس پر توجہ بڑھا دیں جس کے اثرات منفی ہیں اس کو ترک کر دیں۔ ہم صبح اٹھنے سے لے کر رات سونے سے پہلے تک لوگوں کی کردار کشی میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم لوگوں کی برائیاں کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے ان کے ساتھ برابر کے حصہ دار بنے ہوتے ہیں۔ ہم ہر آتے جاتے شخص کی راہ دیکھتے رہتے ہیں ہم کسی کی درگت بنانے کے چکر میں لگے رہتے چاہے وہ اپنے محلے کا کوئی شخص ہو یا کوئی نامی گرامی بندہ۔
    ایسا کیوں ہے! کیا لوگ اخلاقیات کے بنیادی تقاضوں کو خود میں ڈھالنے سے عاری رہے ہیں یا جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں؟ ہم نے اپنے اسلاف کے دئیے ہوئے اسباق کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔ اس کی بہت ساری وجوہات میں ایک وجہ ہماری ہر گزرتے دن کے ساتھ گرتی ہوئی اخلاقی قدریں ہیں۔ کسی بھی قوم کی اخلاقیات کو اس کے حکمران اور دیگر اکابرین رہنمائی کرتے ہیں مگر جہاں اعلیٰ عہدیدار چھوٹی سی بات پر کسی کا مذاق اڑانے کو کار ثواب سمجھتے ہوں وہاں ہم کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ عوام الناس پر ان کی ایسی باتیں اثر نہیں کرتی ہوں گی؟ جہاں آپ کے معتبرلوگ کسی کی شکل و صورت، کسی کے لباس کے مخصوص انداز، کسی کے بولنے اور یہاں تک کہ چلنے پھرنے کی بھی باقاعدہ نقلیں اتارتے ہوئے پائے جائیں تو سماج کی ذہنیت پر اس کا کیا اثر پڑتا ہوگا اس کا مشاہدہ آپ خود کرسکتے ہیں۔ معاشرے کے اخلاقی معیار کو بہتر بنانے کی بجائے سب اس کو مزید نیچے لے کر جا رہے ہیں یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کے اثرات ایک لمبے عرصہ تک محسوس ہوتے رہیں گے۔ ہم اس مذہب کے ماننے والے ہیں جس میں کسی کا نام لے کر براہ راست تنقید کرنے کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ ہمارے اسلاف نے معاشرے میں نفرت اور اخلاقی اقدار کی گراوٹ کی حوصلہ شکنی کی اور معاشرے میں محبت اور باہمی رواداری کو فروغ دیا۔ آج ہمیں اردگرد نفرت کے کانٹوں کو چن کر وہاں پیار کے پھول برسانے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کی رائے کے احترام کی ضرورت ہے۔ اپنے اخلاق کو اس سطح پر لے کر جائیں جہاں نفرت کی کوئی گنجائش نہ ہو، جہاں جھوٹ اور بددیانتی کی کوئی گنجائش صفر سے بھی نیچے کے درجے پر چلی جائے۔ اس بات کو نظرانداز کردیں کہ فلاں نے ایسا کیا بلکہ اس بات کی فکر کریں کہ اخلاقیات کو بہتر بنانے میں میرا کیا کردار ہوسکتا ہے۔

    جگر مراد آبادی نے کیا خوبصورت انداز میں کوزے میں سمندر کو بند کردیا :

    وہ ادائے دلبری ہو، کہ نوائے عاشقانہ
    جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ