Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین اور عملدرآمد؟   تحریر: محمد اختر

    خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین اور عملدرآمد؟ تحریر: محمد اختر

    ایک ایسے ملک میں جہاں خواتین کی آبادی کا تخمینہ 50%ہے اور معاشرے میں عصمت دری، نام نہاد غیرت کے نام پر قتل، تیزابی حملوں، گھریلو تشدد، جبری شادیاں اور خواتین سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات حیرت زدہ ہیں۔ ریاست پاکستان میں خواتین تحفظ ہمارے اداروں کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ حالیہ واقعات سے بحث و مباحثہ زندگی اوربرابری کے تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے میدان سے ہٹ گیا ہے، اور انسانی سلامتی کے ان بنیادی اصولوں کی طرف گامزن ہے جو خوف، آزادی، استحصال سے آزادی، ہر طرح کے جنسی تشدد سے آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔

    پاکستان میں خواتین پر تشدد سے متعلق قوانین
    ماضی قریب میں، پاکستان کی خواتین کی حفاظت اور ان کو بااختیار بنانے کے لئے متعدد ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں۔ ایسڈ کنٹرول اور ایسڈ کرائم روک تھام ایکٹ 2011 کے تحت گھناؤنے تیزاب جرائم کے مجرموں کو سزا دینے کے لئے پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ اخلاق کی ضابطے میں ترمیم کی گئی تھی جہاں جرمانے کے ساتھ ساتھ عمر قید تک کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔انسداد خواتین سے بچاؤ کے قانون، 2011 کے تحت جبری شادیوں سے بچنے والی خواتین کے لئے رواج اور تعصب آمیز رسم و رواج کے بارے میں بتایا گیا ہے، قرآن مجید کے ساتھ گنہگار اہتمام سے شادی اور ان کے وراثت کے حق کے تحفظ کے سلسلے میں جہاں اس طرح کی کارروائیوں کی سزا 3 سے 7 سال کے درمیان ہے۔ اور10 لاکھ روپے قید اور جرمانے کی رقم ہے۔ فوجداری قانون (ترمیم) (عصمت ریزی کا ایکٹ) ایکٹ. 2016 نے صاف ستھری بنیادوں کا احاطہ کیا اور اس خوفناک جرم کے مجرموں اور سہولت کاروں سے نمٹنے میں دور رس اثرات مرتب کیے۔ نابالغوں یا معذور افراد کی عصمت دری کے لئے عمر قید مقرر کی گئی تھی، صوبائی بار کونسل کے ذریعہ عصمت دری سے بچ جانے والے افراد کے لئے قانونی امداد کی دفعات شامل کی گئیں اور اس میں سرکاری ملازمین کی ناقص تحقیقات پر 3 سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں کی سزا مقرر کی گئی۔ فوجداری قانون (ترمیم) (غیرت کے نام پر یا بہانے سے متعلق جرائم) ایکٹ، 16 20 غیرت کے نام پر قتل کو مرتکب قرار دینے کے بعد اسے موت یا عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون کے تحت غیرت مندانہ نقصان یا رازداری کی خلاف ورزی پر 7 سال تک قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں کی سزا دی جاسکتی ہے۔

    عمل درآمد نہ ہونے کا ذمہ دار کون ہے؟
    اب، یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ آیا یہ ریاست کی ناکامی ہے، اس کی بے عملی ہے یا معاشرے، کہ ایک ایسے ملک میں خواتین کے خلاف صنفی جبر اور زبردست تشدد کی فضا قائم ہے جو متعدد اہم بین الاقوامی عہدوں پر عمل پیرا ہے اور اس کے تحت خواتین کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے اس کے آئین اور بہترین قوانین اور اقدامات کے تحفظ میں ناکام ہو رہے ہیں۔پاکستان میں خواتین کی سلامتی اور حفاظت کے سمت نہ لے جانے والے حالات اور واقعات پر آج، ہم اجتماعی طور پر خوف زدہ ہیں۔ ناقص تحقیقات اور نظامِ انصاف کے عملی نفاذ کی اس ناکامی کے لئے کس کو مورد الزام ٹھہرایا جائے؟ دوسری جانب میڈیا میں خواتین کی غیر قانونی اور غیر منحرف جنسی تصویر کشی۔ ہوسکتا ہے کہ یہ الزام جزوی طور پر ہمارے ٹیلی ویژن سیریلز پر پڑتا ہے جہاں زیادتی کرنے والے یا اغوا کار کو سزا نہیں ملتی ہے، بعض معاملات میں شکار سے شادی بھی کردی جاتی ہے۔

    خواتین کے خلاف تشدد: پائیدار ممکنہ حل
    پاکستان کی عوام کی حفاظت کے عزم کی واضحی اس کی پالیسیوں اور اقدامات سے ظاہر ہوتی ہے۔ انتظامی طریقہ کار کے ساتھ مل کر قومی اور صوبائی قانون سازی سب صحیح اقدامات ہیں لیکن اگر ہم اپنے معاشرے میں کمزور لوگوں کو پناہ دینا چاہتے ہیں تو اس سے کہیں زیادہ مطلوب ہے۔یہ وقت کی اولین ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرے میں جابرانہ طریقوں کی نشاندہی کی جائے، اور نچلی سطح پر کرنے کی کوششیں کی جائیں۔ ہم نے اپنے معاشرے کو خواتین کے حقوق اور برابری کے بارے میں تلقین اور تعلیم عام کریں، شاید اب سبق آموز معاشرے کو پروان چڑھانے کے لئے رضامندی اور اس سے وابستہ اتحادیوں کی تدبیروں کی طرف راغب ہونا چاہئے۔ اسکولوں میں پروگرام متعارف کرایا جانا چاہیے جس کا مقصد دھونس، شکار، نام کی کالنگ اور اس طرح کے رویوں سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہو۔کارکنوں کے ذریعہ اٹھائے گئے نعروں پر بحث کرنے کی بجائے، ہمیں اپنے معاشرے خصوصا نوجوان نسل کے مابین معاشرتی – جذباتی تعلیم اور صحت مند جنسیت کی تائید کریں۔ اجتماعی طور پر، ہمیں ان روایات اور اقدام کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے جو جنسی تشدد کے خلاف حفاظت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی و صوبائی سطح پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ازسر نو تشکیل دینا ہوگا۔پاکستان میں فارینزک لیبز اور ماہروں کا بہت بڑا فقدان ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انصاف کی عدم فراہمیمیں جرم کی ناقص تحقیقات بھی بڑھتے ہوئے جرائم کے رجحان کا بڑاسبب ہے۔پولیس اصلاحات وقت کی اشد ضرورت ہے مگر اس کے بر عکس پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں غیر متعلقہ افراد کو بھرتی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔جیسے ایک مرض کی تشخیص کے لیے ایک مستند ڈاکٹر کا ہونا ضروری ہے بلکل ویسے ہی ایک جرم کی تشخیص اورارتکاب کرنے والے مجرم کو منطقی انجام پہنچانے کے لیے ایک کرمنالودجسٹ کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ ایک کرمنالودجسٹ جرم کی وجوہات اور سائینسی طریقے کار کو بروہکار لاتے ہوئے ایک منظم تحقیقات کرنے کے جدید علم سے آراستہ ہوتاہے۔یقین ہے،کہ یہ اصلاحات جرائم کی روک تھام میں معاون ثابت ہونگی۔
    @MAkhter_

  • عورت کا تحفظ  تحریر: حسن ساجد

    عورت کا تحفظ تحریر: حسن ساجد

    چند ہفتے قبل راقم الحروف نے ایک کالم "اسلام، پردہ اور عورت مارچ” کے عنوان سے لکھا جس کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستان کے لبرل، سیکولر اور لادین طبقات وزیراعظم کے حجاب کی پابندی سے متعلق بیان پر خاصے رنجیدہ ہیں۔ راقم الحروف نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ لوگ اب کی بار محض "عورت مارچ” تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کسی بہتر، منظم و مربوط اور جامع ترین منصوبہ بندی سے پاکستان کی ثقافت اور اسلامی اقدار پر حملہ آور ہوں گے۔ بندہ ناچیز کو یہ خدشہ بھی لاحق تھا کہ آئندہ چند روز میں ممکنہ طور پر پاکستان میں ریپ کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ میرے یہ وسوسے خوفناک حقیقت کا روپ دھارے میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ان چند ہفتوں کے دوران شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب میڈیا یا سوشل میڈیا سے کسی ریپ کیس کی اطلاع نہ ملی ہو۔ کبھی قراتہ العین کیس، کبھی نور مقدم کیس (میری دانست میں یہ بھی ریپ کے بعد قتل کیس ہے)، کبھی کسی معصوم بچی کا کیس تو کبھی کسی بکری کے ساتھ بدفعلی کا کیس اور اب ایک مولوی کے ہاتھوں چار سالہ معصوم بچی کے ریپ کا کیس یکے بعد دیگرے ہماری نظروں سے گزر رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یک دم پاکستانیوں میں اس قدر حیوانیت کیسے بھر گئی اور نہ ہی میں یہ سمجھ پا رہا ہوں کہ اس پھیلتی ہوئی آگ کا ذمہ دار اپنے اداروں کو ٹھہراوں یا پارلیمنٹ کو، میں اس کا دوش والدین کی تربیت کو دوں یا معاشرے کی صحبت کو۔ میں یہ فیصلہ کرنے سے بھی قاصر ہوں کہ قصوروار جنسی حیوان ہی ہیں یا ہم بھی شریک جرم ہیں۔ میرا سر چکرا کر رہ جاتا ہے جب میں سوچتا ہوں کہ عورت نہ تو Living Relationship کے قائل آزاد خیال ترین معاشرے میں محفوظ ہے اور نہ ہی مساجد کے طیب و طاہر ماحول میں۔ دوسرے طبقے کی بات کیا کرنی مگر ہمارے مولوی حضرات کو یک دم سے کیا انہونی بیت گئی وہ مساجد میں ہی۔۔۔۔۔ استغفراللہ
    لکھاریوں کے قلم اس حساس ترین موضوع پر ہر واقعہ کی مذمت میں حرکت میں آئے مگر بندہ ناچیز خاموشی سے تمام معاملات کے مشاہدہ کی کوشش کرتا رہا کیونکہ راقم الحروف وقتی اور جذباتی سوچ سے اجتناب کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف زوایوں سے سوچنے کے مرض میں بھی مبتلا ہے۔ میں اس بات کا بارہا اظہار کر چکا ہوں کہ پاکستان بین الاقوامی گریٹر گیمز (International Greater Games) کا سرکردہ اور اہم ترین سٹیک ہولڈر یعنی شراکت دار ہے۔ اقوام عالم میں پاکستان کا اثرو رسوخ آئے دن بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہے۔ اسی لیے سوچ کا ایک زاویہ یہ کہتا ہے کہ پاکستان میں ریپ کیسز کا بڑھنا، ان کی بڑے پیمانے پر میڈیا رپورٹنگ، واقعات کی سوشل میڈیا پر انتہا کو چھوتی تشہیر اور پاکستان کو خواتین کے لیے غیر محفوظ اور متشدد ملک ثابت کرنے کی کوشش کرنا پاکستان کے خلاف کسی گھمبیر سازش کا پیش خیمہ ہے۔ اور اس سوچ کی وجہ یہ ہے کہ ساوتھ افریقہ، آسٹریلیا، بیلجیئم، امریکہ، فرانس، سویڈن، آسٹریا اور بھارت جیسے ریپ کیسز کے سر فہرست ممالک کو چھوڑ کر کم ترین سکور کے ساتھ فہرست کے آخری اور نچلے ترین درجوں میں موجود پاکستان کو دنیا کے سامنے "#ریسپتان” بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حقوق نسواں کی علمبردار این جی اوز کا سارا نزلہ بھی اسی ملک پر گرتا ہے۔ اور حقوق نسواں کو لے کر تمام تنقیدی توپوں کا رخ پاکستان کی جانب ہے۔ یہ تصویر کا ایک رخ تھا

    اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کرتے ہیں۔ بالفرض اگر یہ کوئی سازش بھی ہے تو ہم اپنے وطن کے خلاف اس سازش میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ یہاں پے در پے ہونے والے واقعات کو نہ تو ہم نے سنجیدگی سے لیا اور نہ ہی ان واقعات کی روک تھام اور قانون کی مناسب انداز میں عملداری کے لیے منظم اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ زینب انصاری، چارسدہ کی زینب، حوض نور، مشال، قراتہ العین اور موٹروے پر خاتون کی عصمت دری سمیت نہ جانے کتنے ہی واقعات ایسے ہوں گے جن سے ہمارا سامنا ہوا مگر ہم نے کسی ایک سے بھی عبرت حاصل نہیں کی۔ ہمارے یہاں ایک افسوس ناک رواج جنم لے چکا ہے کہ یہاں واقعہ رونما ہوتا ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا کی زینت بنتا ہے، سرکار کی جانب سے واقعہ کا نوٹس لیا جاتا ہے، کمیٹی بنائی جاتی ہے، واقعہ کی کمزور تفتیش عمل میں لائی جاتی ہے، ملزم کے خلاف طویل عدالتی کاروائی کا آغاز ہوتا ہے اور یہ معاملہ ابھی جوں کا توں لٹکا ہوتا ہے کہ اتنی دیر میں ہم دوسرے واقعہ کو جھیل کر اسی بیان کردہ سرکل کے پہلے مرحلے میں دوبارہ داخل ہوچکے ہوتے ہیں۔ منظم قانون سازی، قانون کی مناسب عملداری، معیاری تفتیش، فوری اور منصفانہ عدالتی کاروائی اور مثالی سزاوں کی عدم دستیابی حیوان صفت جنسی مریضوں کے حوصلے مزید بلند کر رہی ہے جس کے باعث جنسی زیادتی یا ریپ کی آگ کئی زندگیاں اور گھر برباد کرتی ہوئی مسلسل پھیل رہی ہے۔
    آج کے ترقی یافتہ دور میں جب پوری دنیا کی خواتین ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور ہم اپنی خواتین کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں تو یقینی طور پر ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی اشد ضرورت ہے۔ ریپ کیسز کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کی اس قدر میڈیا تشہیر نے حصول علم و رزق کی خاطر گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کا مستقبل داو پر لگا دیا ہے۔ حالات ایسے بن چکے ہیں کہ والدین اپنی بچیوں کے گھر سے نکلنے پر تشویش میں مبتلا ہیں۔
    خواتین کو تحفظ اور ان کے خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان حالات و واقعات کی سنجیدگی سمجھے اور ایک حقیقی اسلامی ریاست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بڑھتے ہوئے ریپ کیسز کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروکار لائے۔ فحش بینی اور دیگر غیر اخلاقی حرکات جو ایسے واقعات کا پیش خیمہ بنتی ہیں ان کو حتی الامکان حد تک روکا جائے۔ پارلیمنٹ میں انسداد ریپ آرڈیننس 2020 اور ریپ سے متعلق موجود قانون پر اسکی حقیقی روح کے مطابق عملداری کے لیے جامع اور منظم طریقہ کار وضع کیا جائے اور ایسے واقعات کا شکار لوگوں کے لیے عدالتی انصاف کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی کا اہتمام کیا جائے۔ میرے نزدیک ایک فلاحی ریاست کی حکومت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کو معاشرے کا باکردار اور مہذب فرد بننے میں مدد فراہم کرے۔ لہذا عوام الناس میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے آگہی اور شعور اجاگر کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھائے جانے چاہیں۔ اس مقصد کے لیے میڈیا کا استعمال انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے کہ میڈیا کی بدولت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تہذیب یافتہ معاشرے سے متعلق آگہی پھیلائی جا سکتی ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے تاکہ سکول، کالجز، مدارس اور کام کاروبار کی جگہوں پر خواتین کو محفوظ ماحول میسر آ سکے۔
    حکومت کے ساتھ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ داری ہر باشعور اور مہذب شہری پر بھی عائد ہوتی ہے۔ سماجی کارکنان، انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظیموں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اس نیک عمل میں حصہ لیں اور معاشرے میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے شعور کو اجاگر کرنے میں تعمیری کردار ادا کریں۔ میرے نزدیک ایک خاتون کو تحفظ فراہم کرنے سے مراد آئندہ ایک مکمل نسل کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ عورت کا تحفظ ہماری ایک قومی ذمہ داری ہے جس کی تکمیل ہم سب کے ذمے ہے۔

    @DSI786

  • لوگ کیا کہیں گے  تحریر: فوزیہ چوہدری

    لوگ کیا کہیں گے تحریر: فوزیہ چوہدری

    لوگ کیا کہیں گے؟ اس سوال کی گونج بہت زیادہ ہے ہماری زندگی میں اور یہ سوال لوگ کیا کہیں گے ہماری خواہشات اور خوشیوں پر سبقت لے جاتا ہے اور انسان اپنی ہی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے صرف اس ڈر سے کے لوگ کیا کہیں گے۔
    ویسے تو فلموں ڈراموں میں آپ نے بہت ہی خوفناک کردار دیکھے ہوں گے لیکن ہماری اصل زندگی میں یہ کردار پائے جاتے ہیں اور وہ کردار نبھاتے ہیں لوگ۔۔۔۔۔ جی ہاں لوگ اور انکی کڑوی باتیں جو کہ جینا مشکل کر دیتی ہیں اور ہم خود بھی لوگوں میں ہی آ تے ہیں اگر کوئی ہماری پسند یا کسی بھی کام پر سوال اٹھائے یا اپنی رائے دے تو ہمیں غصہ آ تا ہے پر ایسا کچھ ہمیں اپنے پڑوس کے بچوں یا پھر خالہ کی بیٹی یا بیٹے کے بارے میں یہ پتا چلے کے وہ پیانو بجانا سیکھنا چاہتا / چاہتی ہے تو ہم خود بھی وہ ہی حرکت کرتے جو کہ لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا ہو سوال اٹھاتے ہیں یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ بھی کوئی سیکھنے کی چیز ہے صرف وقت کی بربادی ہے وغیرہ وغیرہ۔
    لوگ کیا کہیں گے سوال اتنا ہمارے دماغ پر سوار ہو چکا ہے کے ہر بات پر سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟
    اتنی ڈارک لپ اسٹک لوگ کیا کہیں گے ؟
    اتنی اونچی ہیل لوگ کیا کہیں گے؟
    میٹرک سائنس کے ساتھ نہیں کیا تو لوگ کیا کہیں گے؟
    پسند کی شادی کر لی تو لوگ کیا کہیں گے؟
    ایسے اور بہت سے لمحات ہماری زندگی میں آ تے ہیں جب ہم یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔
    اس بات پر غور کرنے والا انسان کہ لوگ کیا کہیں گے ہمیشہ ناکام ہی رہتا ہے زندگی میں کبھی آ گے نہیں بڑھ سکتا کیونکہ ایسے انسان کی اپنی کوئی سوچ اپنی کوئی پسند نہیں ہوتی وہ ہمیشہ دوسروں پر ڈیپینڈنٹ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے لیے ہم سفر بھی وہ ہی پسند کرتا ہے جو لوگوں کو اسکے ساتھ اچھا لگے۔
    اکثر ماں باپ اپنے بچوں کی پسند سے شادی اس ڈر سے نہیں کرتے کہ لوگ کیا کہیں گے اتنے ایڈوانس ہیں اتنی چھوٹ دے رکھی ہے اپنے بچوں کو؟ تو خدارا زرا اس بات پر بھی غور کریں کے زندگی آ پ کے بچوں نے گزارنی ہے نہ کہ لوگوں نے مت سوچئے کہ لوگ کیا کہیں گے۔
    کیونکہ لوگوں کا کام ہے بس باتیں بنانا یہ کسی بھی حال میں خوش نہیں ہوتے۔اس بات کو میں ایک کہانی سے بھی سمجھانا چاہوں گی۔
    ایک باپ اور بیٹا پیدل چل رہے تھے اپنے گدھے کے ساتھ تو کچھ لوگوں کی باتیں انکے کام میں پڑی کہ دیکھو کتنے بیوقوف ہیں گدھے کے ہوتے ہوئے پیدل چل رہے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ ہم گدھے پر بیٹھ جاتے ہیں تھوڑا ہی آگے گئے تو پھر سے کچھ لوگ بولے دیکھو کتنے ظالم ہیں دونوں ہی گدھے پر بیٹھے ہیں کتنا بوجھ ڈالا ہے گدھے پر اس بات کو سن کر باپ نے فیصلہ کیا کہ وہ پیدل چلے گا اور بیٹے کو گدھے پر بیٹھا رہنے دے گا پھر تھوڑا آ گے گئے تو لوگوں نے باتیں کی کہ دیکھوں کتنا بدتمیز بیٹا ہے باپ کو پیدل چلا رہا ہے اور خود گدھے پر سوار ہے بیٹا اتر گیا اور باپ کو بٹھا دیا گدھے پر پھر تھوڑا آ گے گئے تو لوگوں نے باتیں کی کہ دیکھو اس ظالم باپ کو خود گدھے پر سوار ہے اور بیٹے کو پیدل چلا رہا ہے اس بات کو سنتے ہی باپ بھی اتر گیا اور اپنے بیٹے سے کہا کہ یہ لوگ کسی حال میں بھی خوش نہیں ہیں اس کا واحد حل صرف اتنا ہے کہ لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کریں اور آ گے بڑھیں ۔
    ہم نے خود لوگوں کو یہ اختیار دے رکھا ہے کہ وہ ہماری زندگی کا فیصلہ لے سکیں یقین جانیں جس دن آ پ نے یہ سوچ لیا کہ یہ آ پکی زندگی ہے اور اسکا ہر فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف آ پکا ہے اس دن آ پکی زندگی کو ایک نیا رنگ ملے گا اور آ پ زندگی جینا سیکھیں گے ابھی تو صرف گزار رہے ہیں۔
    زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے خود اعتماد ہونا ضروری ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اس سوچ اور ڈر کو ختم کرنا بھی ضروری ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔اپنے ذہنوں کو کھولیے اور نکلیں اس سوچ سے کہ لوگ کیا کہیں گے؟
    امید ہے تحریر پسند آئی ہو گی۔شکریہ

  • دشمنی مٹاؤ نسل بچاؤ تحریر: محمد نوید

    میانوالی میں قتل و غارت کا بازار ہمیشہ کی طرح گرم ھے پر افسوس کہ کوئی کام نہیں ہو رہا نئے روڈ پل گاوں تو بن جائیں گے لیکن یہاں رہنے والوں کی سوچ تو وہی ہے … لوگ باتیں کر رہے کہ پولیس کچھ نہیں کر رہی اگر اپ پچھلے سال کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں تو میانوالی میں جتنے قتل ہوے ان میں دشمن نے آ کر اپنے دشمن کو نہیں مارا بلکہ زیادہ تر بھائی نے بھائی کو مار دیا بیٹے نے باپ کو مار دیا بھائی نے بہن کو مار دیا یا پھر بازار میں چھوٹی سی وجہ سے کسی نے کسی کو مار دیا اور یہ سب کچھ سواے جہالت کے کچھ نہیں ہے ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم میں سے جو لوگ پڑھ لکھ جاتے وہ یہاں سے شفٹ ہو جاتے کیونکہ پڑھے لکھے لوگوں کا اس ماحول میں جینا ہی انتہائی مشکل ہے یہاں کے لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں اگر ہم نے اپنے علاقہ میں امن بحال کرنا ہے تو سوچ تبدیل کرنی پڑے گی اور سوچ پر کام کرنا ہڑے گا ورنہ میرے بھائیوں ہر گھر سے اسی طرح بے گناہ لوگوں کے جنازے نکلتے رہیں گے
    پرسوں ایک روز میں مختلف جگہوں پر چار قتل ہوئے دشمنیاں ہر علاقے میں ہوتی ہیں مگر میانوالی میں افسوسناک صورتحال ھے ذرہ سی بات پر کسی کو قتل کر دینا بھائی بھائی کو مار رہا ھے نہ رشتوں کی پہچان ھے نہ بڑے چھوٹے کا لحاظ نہ کسی کی عزت کی پرواہ ماں باپ پیچھے عدالتوں اور جیلوں میں خوار دنیا میں بھی زلیل اور آخرت بھی تباہ حدیث کا مفہوم ھے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ھے اسلام سے دوری نئ نسل کو تباہ کر رہی ھے بدمعاشی ٹرینڈ بن چکی ھے جیل جانا اور پھر کچھ دن بعد ضمانت پر رہا ہو کے آجانا بھی ایک نارمل سی بات ھے کتنے خوبصورت جوان دشمنیوں کی بھینٹ چڑھ گئے نہ جانے کتنے خاندان تباہ ہو گئے مگر یہ سلسلہ اس جدید دور میں بھیرکنے کانام نہیں لے رہا۔
    ہمیں کب شعور آئے گا آنے والی نسلوں کو ہم کیا پیغام دے رھے ہیں نام کمانا ھے تو اور بہت سے طریقے ہیں رائفل اٹھا کے کسی کو شوٹ کر دینا اصل میں بزدلی کی علامت ھے بہادر انسان وہ ھے جو حالات کا مقابلہ کرنا جانتا ھے جسمیں جتنی برداشت ھے وہ اتنا بہادر ھے جسمیں برداشت اور صبر نہیں وہ بزدل انسان ھے کبھی یہ بھی سوچاھے کہ کسی کو قتل کرکے کیا خود سکون سے رہ پاؤ گے کبھی نہیں جو انسان بوتا ھے وہ کاٹتا ھے ہتھیار اٹھاؤ جہاں پہ ہتھیار اٹھانا بنتا ھے غریب کا زور بازو بنو طاقتور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرو ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہتھیار اٹھاؤ تاکہ تمہارا نام رہتی دنیا تک یاد رھے چھوٹی چھوٹی باتوں پہ کسی کو ناحق قتل کر دینا یہ روایت تمہاری نسلیں اجاڑ دے گی کیونکہ پڑھے لکھے لؤگوں کا اس ماحول میں جینا ہی انتہائی مشکل ہے یہاں کے لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں اگر ہم نے اپنے علاقہ میں امن بحال کرنا ہے تو سوچ تبدیل کرنی ہوگی برداشت کرنا سیکھو دشمن کو بھی عزت دو اگر وہ انسان کا بچہ ہوگا تو سمجھ جائے گا۔۔
    کچھ بھی ہوجائے خدارا کسی انسان کی جان لینا ہمارا سب سے آخری آپشن ہونا چاہیئے۔
    اس سے پہلے کچھ بھی ہو معاملات کو سلجھانے کی حتی الامکان کوشش کریں بدمعاشی نانصافی کے کلچر کو پروموٹ نہ کریں صبر اور برداشت کا دامن تھامیں ابھی بھی وقت ھے ورنہ کوئی خاندان ایسا نہیں بچے گا جو اس کلچر سے متاثر نہ ہوگا شکریہ
    تحریر ۔۔ محمد نوید
    @naveedofficial_

  • درخت لگاؤ پاکستان بچاؤ تحریر: موسی حبیب راجہ

    درخت لگاؤ پاکستان بچاؤ تحریر: موسی حبیب راجہ

    ﺑﻼﺷﺒﮧ ﺩﺭﺧﺖ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻗﺪﯾﻢ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﺎ ﺯﯾﻮﺭ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﺎﺭﯾﺦِ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﻭﺍﻓﺎﺩﯾﺖ ﻣﺬﮨﺐ ﻭ ﺳﻤﺎﺝ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻭﺗﮩﺬﯾﺐ ﺗﮏ ﮨﺮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺩﺭﺧﺖ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﮭﻞ ﺩﺍﺭ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺻﺤﺎﺋﻒ، ﺍٓﺳﻤﺎﻧﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﺍﻓﺎﺩﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺟﮕﮧ ﭘﺎﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﺭﻧﮓ ﺩﺍﺭ، ﺧﻮﺷﺒﻮﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺰﮮ ﺩﺍﺭ ﭘﮭﻞ، ﭘﮭﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﻮ ﻗﺎﺋﻢ ﻭ ﺩﺍﺋﻢ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔
    اسلامی روایات اور فرمودات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں شجرکاری کے بارے میں ارشادت ملتے ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شجرکاری کو پسند فرمایا ہے اور اسکی ترغیب بھی دی ہے۔دور حاضر میں عالمی سطح پر درپیش مسائل میں سرفہرست ماحول کا بچاؤ، آبی وسائل کی دستیابی ہے لاتعداد کُتب رسائل، جرائد، تحقیقی مقالے ، اخبارات اور ٹی وی مباحثوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ درخت ہی زندگی ہیں۔ موسم برسات کی آمد سے پہلے پہلے گٹلی دار جتنے بھی پھل ہیں ان کی گٹلیاں صاف کرکے ایک تھیلی میں اپنے پاس محفوظ کیجیے اور کرنا صرف اتنا ہے کہ سفر کے دوران یا گلی محلے چوک چوراہوں سڑک اور گزرگاہوں پر ایک مخصوص اور محفوظ سی جگہ دیکھ کر اپنے حصے کی شمع جلائیے۔ ساون کے مہینوں میں برسات کی وجہ سے درختوں کو پانی کی کمی کا سامنا نہیں ہوتا جس سے یہ آسانی سے پروان چڑھتے ہیں۔پانی زندگی کی بہت بڑی نعمت ہے درخت اس نعمت کے ضیاع سے ہمیں بچانے کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بہت سی آسانیاں پیدا کرنے کا سبب بھی ہیں مثلاً برسات کے دنوں میں سیلاب زدہ علاقوں میں زمینی کٹاؤ کو روکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان صاحب کو درختوں سے پیار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت کے پچھلے دور میں خیبرپختونخواہ میں بلین ٹری سونامی جیسا عالمی درجے کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا اور اب جب پاکستان تحریک انصاف وفاق اور پنجاب میں بھی برسراقتدار ہے تو گرین اینڈ کلین پنجاب اور گرین اینڈ کلین پاکستان جیسے منصوبوں سے ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بہت معاون کردار ادا کر رہے ہیں مگر یہ اجتماعیت کے کرنے کے کام ہیں انہی کاموں کو فلاح عامہ کی خاطر ہم سب کو مل کر مکمل کرنا ہے۔ اور میرا تو ماننا یہ بھی ہے کہ پیار درختوں سے کیجیے درختوں کے پیچھے نہیں۔ ایک تو اس سے ماحول کے آلودہ ہونے کے خطرات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے دوسرا ملکی آبادی پر بڑھنے والے بوجھ کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔

    بقول علامہ محمد اقبالؒ:

    ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
    پیوستہ رہ شجرسے امید بہار رکھ
    Writer Details


    Musa Habib Raja is a Social Media Activist, Freelance Journalist Content Writer and Blogger. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes on political, international as well as social issues To find out more about him please visit his Twitter

     

    The rest of Musa Habib Raja Articles and Twitter Timeline


     

  • پھیپھڑوں  کے کینسر کا عالمی دن  تحریر:  ندرت حامد

    پھیپھڑوں کے کینسر کا عالمی دن تحریر: ندرت حامد

    دنیا میں جتنی بھی کینسر کی اقسام پائی جاتی ہیں ان میں پھیپھڑوں کا کینسر ‘ کینسر کی دوسری قسم ہے جو کہ بہت عام ہے ۔پھیپھڑوں کا کینسر مرد و خواتین میں یکساں پایا جاتا ہے اور اموات کی وجہ بنتا ہے ۔ یکم اگست کو ہر سال پھیپھڑوں کے کینسر کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ اس میں پھیپھڑوں کی حفاظت کے بارے میں آگاہی اور شعور اجاگر کیا جاتا ہے اس دن معاشرے میں لوگوں کو ان خطرات سے آگاہ کیا جاتا ہے جو کہ پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتے ہیں ۔تمباکو سگریٹ اور دیگر نشہ آور ادویات جو کہ پھیپھڑوں کے کینسر کو جنم دیتی ہیں ان کے نقصانات کے بارے میں بتایا جاتا ہے ۔ پھیپھڑوں میں خلیوں کی ابنارمل گروتھ کا کو کینسر کہا جاتا ہے ۔ اور دنیا میں بہت زیادہ اموات پھیپھڑوں سے کینسر کی وجہ سے ہوتی ہیں۔بعض اوقات خون کے ذریعے یہ کینسر جسم کے دوسرے حصوں میں بھی منتقل ہو جاتا ہے ۔کینسر کوئی براہ راست نہیں لیکن بہت سے ایسے عوامل ہیں جو کہ وجہ بنتے ہیں جس میں تمباکو نوشی سب سے زیادہ عام ہے ۔ تمباکو کے دھویں میں 70 فیصد کارسنجن ہوتے ہیں جو کہ کینسر کی وجہ بنتے ہیں ۔ اگر خاندان میں کسی کو کینسر ہے جیسے ماں باپ بہن بھائی تو اگلی نسل میں کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں ۔
    پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا شخص اس بیماری کا تجزیہ نہیں کر سکتے یہاں تک کہ کینسر آخری مراحل تک پہنچ جاتا ہے ۔یا شدت اختیار کر جاتا ہے ۔ مسلسل کھانسی اور وہ جو طویل عرصے تک رہتی ہے۔ کھانسی سے خون کا آنا سانس میں کمی ۔ سینے کمر یا کندھوں میں درد جو کہ کھانسنے ہنسنے یا سانس لینے کی وجہ سے ہوتا ہے کینسر کی علامات میں سے ہے ۔ مختلف کیسز میں علامات مختلف ہو سکتی ہیں ۔پھیپھڑوں کے کینسر کی ابتدائی مراحل میں نشاندہی اور بروقت علاج فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔ خود کو اور اپنے پیاروں کو پھیپھڑوں کے کینسر سے بچانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے ۔
    اس کا مکمل علاج دریافت ہونے تک اس کے عالمی دن کے موقع پر لوگوں میں آگاہی پیدا کریں ۔ اور اپنے پیاروں کی جان بچائیں ۔
    @N_Hkhan

  • غربت   تحریر : شاہ زیب

    غربت تحریر : شاہ زیب

    ایسی حالت جس کے پاس عام یا معاشرتی طور پر قابل قبول رقم یا مادی سامان کی کمی ہو۔  غربت اس وقت وجود میں آتی ہے جب لوگوں کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے ذرائع نہ ہوں۔
      اس تناظر میں ، غریب لوگوں کی شناخت کے لیے پہلے اس بات کا تعین ضروری ہے کہ بنیادی ضروریات کیا ہیں۔  ان کو "بقا کے لیے ضروری” کے طور پر یا وسیع پیمانے پر "معاشرے میں مروجہ معیار زندگی کی عکاسی کرنے والے” کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔  پہلی کسوٹی صرف ان لوگوں کا احاطہ کرے گی جو فاقہ کشی یا نمائش سے موت کی سرحد کے قریب ہیں۔  دوسرا ان لوگوں تک پھیلایا جائے گا جن کی غذائیت ، رہائش اور کپڑے ، اگرچہ زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے مناسب ہیں ، مجموعی طور پر آبادی کے لوگوں کی پیمائش نہیں کرتے ہیں۔  تعریف کا مسئلہ غیر معاشی مفہوم سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے جو لفظ غربت نے حاصل کیا ہے۔  غربت کو منسلک کیا گیا ہے ، مثال کے طور پر ، خراب صحت ، تعلیم یا مہارت کی کم سطح ، کام کرنے کی نااہلی یا ناپسندیدگی ، خلل ڈالنے والے یا بے ترتیبی برتاؤ کی اعلی شرح ، اور بہتری۔  اگرچہ یہ صفات اکثر غربت کے ساتھ پائی جاتی ہیں ، ان کی غربت کی تعریف میں شمولیت ان کے مابین تعلقات اور کسی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ناکامی کو واضح نہیں کرتی ہے۔  جو بھی تعریف استعمال کی جاتی ہے ، حکام اور عام آدمی یکساں طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ غربت کے اثرات افراد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
    ایسی حالت جس کے پاس عام یا معاشرتی طور پر قابل قبول رقم یا مادی سامان کی کمی ہو۔  غربت اس وقت وجود میں آتی ہے جب لوگوں کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے ذرائع نہ ہوں
    اگرچہ غربت انسانی تاریخ جتنی پرانی ہے لیکن وقت کے ساتھ اس کی اہمیت بدل گئی ہے۔  اجتماعی غربت نسبتا پائیداری کی طرح لیکن تقسیم کے لحاظ سے اس سے مختلف ، کیس غربت سے مراد کسی فرد یا خاندان کی عمومی خوشحالی کے معاشرتی ماحول میں بھی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہونا ہے۔ یہ نااہلی عام طور پر کچھ بنیادی وصف کی کمی سے متعلق ہوتی ہے جو فرد کو اپنے آپ کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ ایسے افراد ، مثال کے طور پر ، اندھے ، جسمانی یا جذباتی طور پر معذور ، یا دائمی بیمار ہو سکتے ہیں۔ جسمانی اور ذہنی معذوریوں کو عام طور پر ہمدردی کے ساتھ سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ وہ ان لوگوں کے کنٹرول سے باہر ہوتے ہیں جو ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ جسمانی وجوہات کی وجہ سے غربت میں کمی لانے کی کوششیں تعلیم ، پناہ گاہ روزگار اور اگر ضرورت ہو تو معاشی دیکھ بھال پر مرکوز ہیں۔

  • یاالٰہی یہ ماجرا کیا ہے، تحریر: محمد عاصم صدیق

    یاالٰہی یہ ماجرا کیا ہے، تحریر: محمد عاصم صدیق

    ساتوں بیٹیوں کا کے باپ کو جب دوسری بار دل کا دورہ پڑا تو، فرسٹ ایڈ کے لئے اس کے پرس سے وہ گولی فوری نکال کر اس کی زبان تلے رکھی گئی تاکہ عارضی طور پر زندگی کی سانس کو بحال رکھا، لیکن گولی نے کوئ اثر نہ کیا، اور یوں لاتعداد بیٹیوں کی کفالت کرنے والا باپ ہمیشہ کے لئے اس جہاں سے چلتا بنا، بعد میں تحقیق ہوئ تو پتہ چلا کہ گولی نمبر دو تھی جس کا اثر ذرہ بھی نہ ہوا،
    نمبر دو ادویات بنانے والی کمپنی کو اس کا بھی احساس نہیں رہا کہ کم از کم جان بچانے
    والی گولی کو جعلی نہ بناتی،
    اسی طرح معاشرے میں جعلی اور ملاوٹ سے بھری چیزوں کی مارکیٹ میں بھر مار ہے، جس چیز کو بھی پرکھیں ، وہ آپ کو نمبر دو اور غیر معیاری نظر آئے گی،
    غیر معیاری کی پیشکش اتنی دلکش ہے معیاری شہ کو بھی مات دے،
    ہم کسی چیز بھی دیکھ لیں وہ حفظان صحت کے اصولوں سے بہت پرے نظر آتی ہے، ہمارے گھروں میں روزانہ چائے بنتی ہے اور چائے چھوٹے بڑے کے حلق سے گزرتی ہے لیکن چائے جس دودھ سے تیار ہوتی ہے، اسے ٹی وائٹنر کہا جاتا، اور ٹی وائٹنر میں دودھ نام کی کوئ چیز تک نہیں بلکہ یہ اک لیکوئیڈ مادہ ہے جس سے چائے تیار کی جاتی ہے، اور اسی طرح چائے کی پتی کو دیکھ لیں جو اصلی چائے نہی ہے بلکہ کالے چنوں کے چھلکوں سے اور مساگ کی کڑواہٹ سے مارکیٹ میں لانچ کی جاتی اور سستے دام ہونے کی وجہ سے لوگ خرید کر چائے سے لطف اندوز ہوتے ہیں،
    اسی طرح ہم چولہے پہ تیار ہونے والی دوسری چیزوں کی غیر معیاری چیزوں سے نہیں بچ رہے ہیں، اگر سبزیاں دیکھیں تو گٹر کے پانی سے پل بڑھ کر ہمارے معدہ کا حصہ بنتی ہیں،اور جس گھی سے تیار ہوتی ہیں وہ انتہائ غیر معیاری ہے جو کہ مردار جانوروں کی چکنائی سے تیار ہوتا ہے اور یوں عوام اک بار پھر سستے دام میں اپنی مہنگی صحت کی دھجیاں اڑاتے ہیں،
    رہا مسلہ پانی کا، پانی کا بھی یہی مسلہ ہے، ہر دسواں آدمی ہیپاٹائٹس کا شکار ہے وجہ صرف آلودگی سے بھرا پانی ہے،
    گورنمنٹ میٹرو بسیں ،اورنج ٹرین اور ہائ فائ روڈوں پر اربوں خرچ کرتی ہے لیکن عوامی صحت کی طرف توجہ نہیں کرتی، جس ملک کا وزیراعظم خود صحت مند ہو تو ظاہر ہے وہ دماغ کا ضرور کم ہو گا،
    کیونکہ عقل انسان سے صحت چھین لیتی ہے،
    ہم جس فیلڈ میں بھی غور کریں انسان انسان کی زندگی کو تباہ کئے جا رہا ہے، کوئ پوچھنے والا نہیں جس کے ہاتھ میں پیسہ وہیں حکمران ہے، پیسہ ہمیشہ قانون کو توڑ دیتا ہے، لوگ بیماریوں سے مر رہے ہیں ، ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں، صحت بگڑتی چلی جا رہی ہے،کوئ کسی کا پرسان اس لئے بھی نہیں کہ وہ خود مبتلاء صحت ہے،
    اگر یہی صورت حال رہی تو پھر بیماریوں کا یہ گھمبیر مسلہ آپے سے باہر ہو جائے گا، اور ایسا نہ کہ پھر ریاست پہلے بھی ناکام ہے اور پھر مزید ناکامی پہ ناکامی دیکھے،
    عوام الناس کو بھی گونگا بہرا نہیں ہونا چاہئے اللہ کریم نے کائنات کی سب سے اہم نعمت عقل کی دی ہے اس سے بھی فایدہ اٹھانا چاہئے اور غیر معیاری اور معیاری چیز کو پرکھے جہاں کھانے پینے کی چیزوں بارے میں غلط ہوا دیکھے تو روکے یا پھر ریاستی مدد کو کال بھی کر سکتا ہے، کیونکہ ہماری صحت سب سے پہلے ہے، اسی صحت کے ساز سے کائنات میں رنگینیاں ہیں، اگر صحت سلامت ہے تو غریبی میں بھی امیری ہے اور صحت نہیں تو امیری بھی غریبی ہے، ہم جو بھی کھا رہے ہیں پی رہے ہیں اپنے نصیب میں لکھا سمجھ کے کر رہے ہیں اور یوں سلسلہء حیات چلتے جا رہا ہے، حالانکہ نصیب بنانے والی خود پاکیزہ ہے پاکیزہ چیزوں کو پسند کرتا ہے،
    اللہ ہم سب کو معیاری اور غیر معیاری چیزوں کی پرکھنے بارے آگاہی دے، اللہ ہم سب کی صحت سلامت رکھے، کیونکہ ہوائیں رنگ خوشبوئیں سب اسی کی مٹھی میں ہیں چاہے تو موسم پل میں بدل دے چاہے تو ہماری سیات حسنات میں بدل دے

    Muhammad Asim Siddiq
    ۔ Twitter Handle : ‎@Asimsiddiq_
    Email; asimsak47@gmail.com

  • ہر حال میں خیر ہی خیر صرف مومن کا حصہ ہے  تحریر: ملک منیب محمود

    ہر حال میں خیر ہی خیر صرف مومن کا حصہ ہے تحریر: ملک منیب محمود

    بیماری دکھ مصیبت نقصان پریشانی میں سب ہی مبتلا ہوتے ہیں کوئی ایک شخص بھی اس زمین کے سینے پر ایسا نہیں ہے جو یہ دعوی کر سکے کہ میں مصائب و آلام سے یقینی طور پر محفوظ ہوں گردش ایام کا وارسا پر ہوتا ہے آج اگر آپ کا کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے تو کل کسی اور کا نمبر ہے آج اگر آپ کو زخم لگا ہے تو آپ کیوں بھول رہے ہیں کل کوئی اور زخم کھا چکا ہے اور آنے والا کل نہ معلوم کس کے لیے اور کیا لانے والا ہے مصائب و آلام پریشانیاں اور الجھنوں سے سبھی کو پیش آتی ہیں غریب کو بھی اور امیر کو بھی بادشاہ وقت کو بھی اور فقیر کو بھی مومن اور اس والے کو بھی خدا کے منکر اور فاسق کو بھی گردش لیل و نہار کی چکی میں آج ایک پکچر آیا ہے تو کل کسی اور کی باری ہے۔
    "یہ زمانے کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں” (آل عمران 3:140)
    آپ کا شدید مالی نقصان ہو گیا ہے اس کے معاشی ذرائع مسدود ہو گیے ہیں وہ بستر مرگ پر لیٹا صحت کے لئے ترس رہا ہے۔ یہ بیوی بچوں کے مسائل سے پریشان ہیں۔وہ ایک نہ کہانی مصیبت میں مبتلا ہے۔اس پر ایک عجیب ہی آفت ٹوٹ پڑتی ہے۔انہیں مناظر کا نام دنیوی زندگی ہے پھر یہ آفتیں اور مصیبتیں خدا کے باغیوں پر بھی آتی اور خدا کے پرستاروں پر بھی اور قدرتی بات ہے کہ آفات و آلام سے سب ہی متاثر ہوتے ہیں خدا پرست بھی متاثر ہوتے ہیں اور خدا بیزار بھی دکھ کا احساس سب کو ہوتا ہے درد کی ٹیسیں سب کے سینے میں اٹھتی ہی تکلیف میں ان کی زبان سے نکلتی ہے۔

    آپ آنے والی مصیبت سے پریشان نے مسکراتا چہرہ مغموم میں دل غمزدہ ہے طبیعت تھکی ہوئی ہے اور آپ کے شب و روز نشاط و ولولہ کی رونق سے خالی ہیں یہ ایک فطری بات ہے آپ کو ہرگز ملامت نہیں کی جا سکتی آپ کو ملامت کرنے والا انسان کی فطرت سے ناواقفی چوٹ لگے اور تکلیف نہ ہو زخم پہنچے اور دکھ نہ ہو خوف ہو اور دل نہ لرزے کیسے ممکن ہے؟

    البتہ دو باتیں ضرور پیش نظر رکھے بلکہ ان کو جذب کیجئے آپ دل میں سکون کی ٹھنڈک محسوس کریں گے اور غم غلط ہو گا اور آپ کو اپنی مصیبت ہلکی معلوم ہونے لگے گی پہلی بات تو یہ کہ مصیبت تکلیف الجھن پریشانی وقت اور ہنگامی چیزیں ہیں ان کی مدت بہت تھوڑی ہوتی ہے آپ ہی سوچئے اگر آج آپ پر کوئی مصیبت آئی ہے تو آپ عمر عزیز کے کتنے سال آرام وراحت میں گزار چکے ہیں چاند سال کے راحت و آسائش کے مقابلے میں چند گھنٹے اور چند دنوں کی تکلیف و مصیبت کی کیا اہمیت صبح و شام کی چند گردشوں میں دکھ کے یہ دن بھی گزر جائیں گے اور پھر ذہن پر زور دے کر ہی یاد کریں گے تو یاد آئے گا کہ ہم کبھی اس مصیبت سے دوچار ہوئے تھے اور پھر آپ کو خدا کے کلام کا یہ فقرہ بھی یاد ہو جائے گا کہ ہر دکھ کے ساتھ راحت ہے اور ہر تنگی کے ساتھ خوشحالی ہے اور خدا نے بندے کے دل میں یہ حقیقت جمانے کے لیے یہ فقرہ دو بار دہرایا ہے
    "یہ حقیقت ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے بے شک تنگی کے ساتھ فراخی ہے۔”( الم نشرح)
    اور یہ بھی اطمینان بخش عقیقۃ ہے کہ خدا نے ہر چیز کی مدت اور مقدار دے کر دیے کسی کے بس میں نہیں جو اس سے کمی بیشی کر سکے مصیبتوں اپنا وقت پورا کرکے ہی دور ہوگی اور ضرور ہوگی ۔

    طول غم حیات سے گھبرا نہ اے جگر
    ایسی بھی کوئی رات ہے جس کی سحر نہ ہو۔

    Written by” Malik Muneeb mehmood”

  • نفسی نفسی، تحریر : محمد خبیب فرہاد

    زندگی کی دوڑ میں اور فانی دنیا کی شان و شوکت کی لالچ میں ہم اپنوں سے اس طرح دور ہورہے ہیں، جیسے خزاں کے موسم میں سوکھے پتے درخت سے جدا ہو جاتے ہیں ۔ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں ایسا ، جس سے ہماری خاندان و معاشرے کی ساکھ کمزور ہو رہی ہے ۔ ہر زندگی اتنی مصروف ہوگئی ہے کہ آداب زندگی کیا ہے بڑوں کا ادب و احترام کیا ہے، آجکل اگر گھر کا بڑا کوئی کام کہہ دے تو کہنا نہیں مانتے اور اوپر سے بد تمیزی سے پیش آتے ہیں ۔ کیا اولاد ماں باپ کا حق ادا کرسکتی ہے؟ بالکل بھی نہیں! ایک دفعہ کا ذکر ہے، کہ ایک شخص اپنی بوڑھی ماں کو حج کروانے ساتھ لے گیا ، وہ ماں جو چل نہیں سکتی تھیں۔

    اس شخص نے اپنی ماں کو کندھوں پر اٹھا کر حج کروایا، حج مکمل ادا کرنے کے بعد جب وہ شخص حج سے واپس لوٹا تو اس نے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیا میں نے اپنی ماں کا حق ادا کردیا ہے، تو نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے شخص تونے رائی کے دانے کے برابر بھی ابھی حق ادا نہیں کیا اور نہ کبھی اپنی ماں کا حق کرسکے گا ۔ ماں ہی ہے جو خد گیلے بستر پر سوجاتی ہے ، پر اپنے بیٹے کو سوکھی جگہ پر لیٹاتی ہے۔ ماں نہ ہو تو دنیا میں رہنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ۔ ماں ہی وہ ہستی ہے ، جسے صرف یہی فکر رہتی ہے کہ بیٹےنے کچھ کھایا ہے کہ نہیں ماں کو تمہارے پیسوں کی نہیں تمہارے وقت کی ضرورت ہے، جو شخص اپنی ماں کو مسکرا کر دیکھتا ہے تو اللہ کی طرف سے اس شخص کو ایک حج ادا کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے ۔

    جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بتایا کہ کس طرح پہلی قومیں تباہ ہوئیں تو نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہ سنتے ہی خوفزدہ ہوگئے ، اور نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خد کو کمرے میں بند کرلیا اور متواتر تین دن بنا کچھ کھائے پئیے ،
    بارگاہ الہی میں روتے رہے یا اللہ میری امت کو بچا لے یا اللہ میری امت کو بچا لے۔

    اسی وقت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آئے ، جس میں ایک خاص دعا تھی ، وہ خاص دعا ہر پیغمبر علیہ السلام کو اپنے دور میں ملی اور سب پیغمبر علیہ السلام وہ دعا مانگ چکے ہیں۔ لیکن نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وہ دعا اپنی امت کے لئے سنبھال کر رکھی ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم چاہتے تو اہل بیت سلامتی کے لئے دعا مانگ چکے ہوتے، مگر نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وہ دعا اپنی امت کی شفاعت کے لئے اللہ سے دعا
    کرنے کو ترجیج دی ہے ۔

    قیامت کا خوفناک منظر ہوگا، ہر اک شخص پکار رہا ہوگا نفسی نفسی، حتی کہ سارے پیغمبر علیہ السلام بھی نفسی نفسی پکار رہیں ہوں گے ۔ ایک طرف سے آواز آئے گی امتی امتی یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت وہ آواز
    نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہوگی ۔ پھر نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی امت کی مقام محمود پر
    اللہ تعالی سے اپنی امت کی شفاعت کے لئے دعا کریں گے۔

    اللہ تعالی ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
    آمین ثم آمین یا رب العالمین

    @khubaibmkf