Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ٹریفک کا نظام  تحریر : خرم شہزاد

    ٹریفک کا نظام تحریر : خرم شہزاد

    کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی میں ٹریفک کا نظام ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر آپ کسی ملک کی ترقی کے معیار کو جانچنا چاہتے ہیں تو ایک نظر اس ملک کے ٹریفک کے نظام پہ ڈالیں ، آپ کو اس ملک کے انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ اس قوم کی معاشی اور اخلاقی ترقی کا بھی ادراک ہو جائے گا۔
    امریکہ،  یورپ اور خلیجی ممالک کے بیشتر ترقی یافتہ شھروں کے ٹریفک نظام پہ نظر دوڑائیں تو منظم پولیس ، صاف ستھری سڑکیں ، ٹریفک سگنلز ، اشاروں پہ رکتی گاڑیاں ، جگہ جگہ سپیڈ کیمرہ اور عوام کی سہولت کے لئے سائن بورڈز نظر آئیں گے۔ اور ظاہری بات ہے کہ ان ممالک میں ٹریفک نظام کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے اور چھوٹی بڑی تمام شاہراہوں کو ایک سسٹم کے تحت کنٹرول کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر عوام بھی ٹریفک قوانین سے آگاہ ہوتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے ان کا اپنا ہی نقصان ہو گا ۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پہ سخت سزائیں ، جرمانے اور لائسنس پوائنٹس یا لائسنس معطلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے ٹریفک نظام کو دیکھا جائے تو مثبت پہلووں کے ساتھ ساتھ متعدد منفی عوامل بھی نظر آئیں گے جنہیں دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اپنے وطن کی بڑی شاہراہوں جیسا کے موٹر ویز کو کنٹرول کرنے کے لئے موٹر وے پولیس کی خدمات حاضر ہیں۔ یہ بڑی شاہراہیں صاف ستھری بھی نظر آتی ہیں اور ٹریفک سائن بورڈز ، سپیڈ کیمرہ  اور سگنلز سے بھی آراستہ ہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ سے چھوٹی شاہراہوں پہ بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے لیکن پھر بھی ہمارا ٹریفک نظام اس پائے کا نہیں جو ہمیں ترقی یافتہ ممالک میں نظر آتا ہے۔ اس میں ہمارے سسٹم کے ساتھ عوام کا بھی قصور ہے جو ٹریفک قوانین کو یکسر نظر انداز کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ لائسینس کے بغیر ہی ڈرائیونگ کرنا پسند کرتے ہیں۔ ٹریفک اشاروں پہ رکنا تو درکنار ، ان ٹریفک اشاروں کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار ایک سڑک سے دوسری طرف جانے کیلئے سڑکوں کے درمیاں بنے جنگلے جو کہ ٹوٹ چکا یا توڑ دیا جاتا ہے سے گزرنا پسند فرماتے ہیں۔ موٹر سائیکل سوار ٹریفک لینز کا خیال رکھنے میں بھی سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ کار سوار اور بڑی گاڑیوں کے ڈرائیورز کی طرح گاڑی کے اشارے استعمال کرنے کی زحمت بہت کم کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں گاڑیوں کی ہیڈ لائیٹ کا استعمال بے دریغ کیا جاتا ہے اور اس بات کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ آپکی گاڑی کی چکا چوند روشنی سامنے سے آنے والے ڈرائیور کے لئے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ اسکے علاوہ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ہماری عوام کو سڑکوں پہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی جلدی ہوتی ہے اور تیز رفتاری سمیت  یہ تمام عوامل حادثات کا سبب بنتے ہیں۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو ٹریفک قوانین کی آگاہی دی جائے ۔ اسکے لئے سکول اور کالجز کے لیول پہ ٹریفک قوانین کے اسباق متعارف کرواے جا سکتے ہیں اور عام عوام کو لائسنس جاری کرتے وقت وہی اسباق کورس کی شکل میں کروائے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ عوامی آگاہی اور قانون کی پاسداری ہی ہمارے ٹریفک نظام کو بچا سکتی ہے۔ اسکے علاوہ ٹریفک پولیس میں اصلاحات کی جائیں ، رشوت خوروں اور نظم و ضبط برقرار نا رکھنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں کیونکہ جزا اور سزا کے قدرتی اور اسلامی قوانین کی پاسداری میں ہی ہماری بقا ہے۔ 

    @drkshahzad

  • ہم اور ہمارا سیاسی کلچر    تحریر : محمد جواد یوسفزئی

    ہم اور ہمارا سیاسی کلچر تحریر : محمد جواد یوسفزئی

    جمہوری نظام آئین کی بنیاد پر چلتا ہے۔ آئین میں حکومت کے انتخاب اور اس کو چلانے کے لیے مفصل ضابطے دیے گئے ہوتے ہیں۔ مزید قوانین اور ضابطے بنانے کے لیے طریقہ کار بھی آئیں طے کرتا ہے۔ آئین اور دیگر قوانین تحریری شکل میں محفوط ہوتے ہیں۔
    لیکن ملک کے سیاسی نظام کو چلانے کے لیے آئین اور قوانین کی کتابیں کافی نہیں ہوتیں۔ ہر ملک میں سیاسی روایات جنم لیتی رہتی ہیں اور وقت کے ساتھ پختہ ہوتی جاتی ہیں۔ عوام اور سیاستدان ان رویات کی اسی طرح پیروی کرتے ہیں جس طرح تحریری قوانین کے۔ یہ پیروی رضاکارانہ ہوتی ہے لیکن رفتہ رفتہ یہ روایات اتنی مستحکم ہوجاتی ہیں کہ ان کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان روایات کے مجموعے کو ملک کا سیاسی کلچر کہا جاتا ہے۔
    مستحکم جمہوری معاشروں سیاسی کلچر کو تحریری قوانین سے کم اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ برطانیہ میں دستور کا بڑا حصہ غیر تحریری یعنی انہی روایات پر مشتمل ہے۔
    کسی معاشرے کا سیاسی کلچر اس کے مجموعی کلچر کا ائینہ دار ہوتا ہے۔ جیسی معاشرے کی مجموعی سوچ ہوتی ہے، ویسا ہی اس کا سیاسی کلچر پروان چڑھتا ہے۔ مثلاً ہمارے معاشرے میں مذہبی فرقہ واریت، شخصیت پرستی، قبائلی اور خاندانی عصبیت، نمود و نمائش، سخاوت وغیرہ کلچر کے اجزاء ہیں۔ ان کا اثر سیاسی کلچر میں نظر آنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ سیاسی نظام معاشرے کے مجموعی ڈھانچے کا ایک حصہ ہوتا ہے اور اس سے ہم آہنگ۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ہم برطانیہ کا سیاسی کلچر لا کر اپنے معاشرے میں فٹ کردیں۔
    تو کیا ہم اپنے سیاسی نظام کی برائیوں جیسے فرقہ واریت، شخصیت پرستی، قبائلیت وغیرہ کو تسلیم کرکے بیٹھ جائیں؟
    ہر گز نہیں۔ یہ چیزیں جب تک ہمارے سیاسی کلچر میں ہیں، جمہوریت جڑ نہیں پکڑ سکتی۔ لیکن کلچر کو کسی انقلاب یا پارلیمنٹ کے ایکٹ یا ایکزیکیٹیو آرڈر کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
    اس کی ایک مثال ہمارے ہاں پارلیمنٹ کے ارکان کو ترقیاتی فنڈ دینے کی ہے۔ قانونی طور پر ان ارکان کا ترقیاتی کاموں اور فنڈ کی تقسیم سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ عملی طور پر بھی یہ کام بہت سی خرابیوں کا باعث بنتا ہے۔ موجودہ حکومت نے اس عمل کو یکسر ختم کردینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ لیکن تجربے نے ثابت کیا کہ ایسا کرنا فوری طور پر ممکن نہیں، کیونکہ یہ سیاسی کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ یہی صورت حال بیوروکریسی کے سیاسی تبادلوں، ٹکٹوں کی تقسیم میں قبیلے اور براددریوں کا خیال رکھنے، سیاسی جماعت کی قیادت خاندان میں رکھنے وغیرہ کی ہے۔
    ان سب چیزوں سے چھٹکارا پانے کے لیے ہمیں تعلیم کے فروع، جاگیرداریت کے خاتمے جیسی بنیادی ضرورتوں پر توجہ دینی ہوگی۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com

  • غیر ضروری رسومات  تحریر: حالد حسین

    غیر ضروری رسومات تحریر: حالد حسین

    گر دیکھا جائے تو ہر جگہ رسم و رواج شوق و زوق سے منائے جاتے ہیں، اور اِن قبیح رسومات نے ہمیں اپنوں سے غیر بنا دیا ہیں پہلے پہل رشتداروں یا ہمسایوں میں کسی کی حالت علیل ہو جاتی تو لوگ بیمار پرسی کے لئے جاتے اور اچھی صحت کی دُعا دے کر واپس آتے تھے اور سارا زمانہ خوش ہوتا. بیمار پرسی کا ثواب تو ایک قدم پے ہزار نیکی بھی مل جاتی تھی تو تب حقیقت میں لوگ بیمار داری کرنے ہی جاتیں تھیں اب موجودہ صورتحال کچھ یوں ہے کہ جو کوئی بھی بیمار ہو جاتا ہے ہم چاہتے ہوئے بھی بیمار پرسی کے لئے نہیں جا سکتے.

    اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جانے سے پہلے یہ مشورہ کریں گے کہ ہم نے تو بیمار پرسی کے لئے جانا ہے کیا جیب ہمیں اجازت دیتا ہے ؟ ہم کتنے پیسے دیں گے ؟ اگر کم پیسے دیں گے تو جگ ہنسائی ہوگی وغیرہ وغیرہ. یہ بات بھی واضح رہے کہ جب بھی آپ بیمار پرسی کے لئے جاؤ گے تو بندوبست کر کے جانا ہوگا کیونکہ وہ دائم المریض بھی اِس خیال میں مگن رہتا ہے کہ یہ مجھے کتنے پیسے دیں گے؟ اور گھر والوں کی کیفیت بھی کچھ یہ ہوتی ہیں کہ اب اِس کو کِیا کیا پکایا جائے؟ کیونکہ وہ بھی آپ کے پیسوں کے برابر ہی آپ کو پروگرام منعقد کرتے ہیں.

    مطلب زیادہ پیسے دینے والوں کو زیادہ ڈیش مثلاً چکن، قیمہ، بریانی، نہاری، فروٹ، اور بحرین کا مشہور چپلی کباب ،وغیرہ فراہم کیا جاتا ہے جب کہ کم پیسے دینے والوں کو ایک ادھ ڈیش کا مخصوص پروگرام کیا جاتا ہے. گھر سے جاتے وقت ہم کچھ اِس طرح سوچتے ہیں کہ وہ اگر اچھے طریقے سے مہمان نوازی کریں گے تو ہم زیادہ پیسے دیں گے اور اگر اچھی مہمان نوزای نہیں کریں گے تو ہم کم پیسے دے کر بات کو رفع دفع کریں گے. راقم کے تجزیے کے مطابق دور جدید میں "مہمان نوازی گئی بھاڑ میں” کہاں کی مہمان نوازی.

    یہ تو ویسے بھی سودا بازی ہے بس سودا طے کرنا ہے اور اِس سودا بازی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم لوگ اپنوں کی محبت سے محروم ہوگئے ہیں اللّه کرم کریں آخر کب تک چلے گا؟ جب ہم لوگ کافی عرصہ بعد اپنے رشتداروں کے گھر اُس کے حالات پوچھنے جاتے ہے تو وہ شکوہ کرتا/کرتی ہے کہ مجھ سے بات تک نہ کریں آپ کو ابھی فرصت ملی؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارے بیمار معاشرے میں بیمار کی بیمار پرسی کے لئے خالی ہاتھ آنا جانا دشمنی کے برابر بات سمجھی جاتی ہے یا ہمارے معاشی حالت کچھ ٹھیک نہیں اور پیسوں کی تنگی تھی یا ہیں اس کے بجائے یہ کہتے ہیں کہ مصروفیات اتنے بڑھ چکے ہے کہ بالکل وقت نہیں ملتا صبح جاتے ہیں اور رات کو لوٹتے ہیں۔

    خدارا اِن فضولیات سے باز آجائے اور بغیر پیسوں اور بغیر کسی لالچ کے ایک دوسرے کے حالات پوچھا کریں اِس سے اور کچھ خاص تو نہیں ہو گا البتہ دن بہ دن محبت بڑھے گی یقین مانے اِس دورِ افتادگی میں ہم صرف ایک چیز کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہے اور وہ ہے "محبت” لوگوں کے پاس سب کچھ موجود ہے ماسوائے "محبت” کے اور ہمارے بیچ محبت نہ ہونے کی وجہ پیسے ہی ہو سکتے ہے.

    پیسوں نے ہی ہمارے بیچ محبت جڑ سے ختم کر دی ہے. کہنے کا نصب العین یہ ہے کہ لوگوں کو اِس کالم کے زریعے یہ مثبت پیغام پہنچایا جائے کہ یہ مہنگے اور قبیح رسومات کو جڑ سے ختم کرنا چاہئے تاکہ ہمارے بیچ محبت کا یہ سلسہ قائم و دائم رہیں.اللّه ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور اِن باتو پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    نوٹ: میرا قبیح رسومات کے حوالے سے کالم شائع ہونے پر میری والدہ محترمہ کے تاثرات کچھ یہ تھے،

    کالم جب شائع ہوا تو سب سے پہلے ماں کو پڑھ کر سنانے اور سمجھانے لگا پڑھنے کے بعد ماں کہنے لگی قیموس یہ جو باتے آپ نے لکھی ہیں اور آپ کا جو مرکزی خیال ہے یہ یقیناً قابل تعریف ہے، پر کیا لوگ اِن باتوں کو عملی شکل دے گے؟

    یہ سوال میرے لئے یقیناً مشکل تھا کیونکہ ایسے ڈھیر سارے خوب صورت اور قابل غور باتے ہیں جو فقط کتابوں تک محدود ہیں وہ لوگ پڑھ کر لُطف اُٹھاتے ہے، پر اُن تمام تر باتوں پر عمل کرنا اُن کے لئے موت کا مترادف ہوتا ہے۔

    میرا کالم لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ جِن رسومات اور رواجات نے ہمیں اپنوں سے غیر بنا دیا ہے اُن کو جڑ سے ختم کرنا چائے۔

    خدا ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
    آمین
    حالد حسین ادیب کے قلم سے۔
    Twitter Handle:
    @KD_004

  • حقیقی اسلام اور غیر مسلم کے ذہنی خاکوں کی تعمیر کی وجوہات۔ تحریر بشارت حسین

    دنیا میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جس کی تعلیمات میں سراسر ہدایت ، انسان اور انسانیت کا تحفظ حتی کہ جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔
    دنیا کی نوے سے پچانوے فیصد لوگوں کے ذہن میں اسلام کی وہ تصویر وہ نقشہ موجود ہے جو کہ وہ اپنے قریب رہنے والے مسلمانوں کے طور طریقوں کو دیکھ کر بنایا ہے۔
    حالانکہ اسلام کسی شخص کے ذاتی کردار کا نام نہیں اور نہ مسلمانوں کی ابادی، انکے طور طریقے اور رسم و رواج کا نام اسلام ہے۔
    اسلام تو اللہ کا عطا کردہ نظام زندگی ہے جو کہ اللہ نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ نازل کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے اس کو دنیا میں متعارف کروایا۔
    اسلام انسان اور انسانیت کی بقاء کا دوسرا نام ہے۔ اسلامی تعلیمات انسانیت قدر عزت اور تحفظ کو یقینی بنانے پہ زور دیتی ہیں۔ اسلام میں کسی چھوٹے بڑے ، امیر غریب ، کالے اور سفید کا کوئی تصور نہیں اور نہ کسی کالے کو سفید پر ، امیر کو غریب پر عجمی کو عربی پر اور نہ کسی بڑے کو چھوٹے پر کوئی فوقیت و برتری حاصل ہے۔
    اسلام میں سب مسلمان ایک جیسے ہیں سب کے حقوق برابر ہیں کسی کیلئے کوئی امتیازی قوانین کا کوئی تصور اور گنجائش نہیں۔
    اسلام نہ تو کسی دوسرے مذہب کا دشمن ہے اور کسی بھی مذہب کے لوگوں کو ان کی مذہبی عبادات سے روکتا ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ مسلمانوں جب بھی کسی ملک و قوم پہ حکمرانی کی تو وہاں دوسرے مذاہب کے لوگوں کا پورا پورا خیال رکھا گیا وہاں انسانیت کو عزت دی گئی بغیر کسی امتیازی فرق کے مسلم اور غیر مسلم کو ایک نظام کے تابع کیا گیا ظالم اور مظلوم کو ہر نسلی و مذہبی امتیاز سے بالا تر ہو کر انصاف فراہم کیا گیا۔
    اسلام صرف ایک خدا کی عبادت کا حکم دیتا ہے جس نے کل کائنات کو پیدا کی جس نے تمام مخلوقات کو انکے رزق کے بندوبست کے ساتھ پیدا کیا۔ اسلام میں اس کی ہی عبادت کی جاتی ہے۔
    یعنی اسلام میں داخل ہونے کیلئے اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول ماننا ضروری ہے جس کا اقرار ان الفاظ یعنی کلمہ طیبہ کا پڑھ کر کیا جاتا ہے۔
    لا إله الا الله محمد رسول الله.
    جس کے معنی ہیں
    اللہ۔کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
    جو شخص اسلام کو قبول کر لیتا ہے اس کو مسلمان کہا جاتا ہے۔ ایک مسلمان کی زندگی گزارنے کا طریقہ اللہ نے اپنی کتاب قرآن کریم اور اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ذریعے وضع فرما دیا۔
    دنیا میں سب مزہبوں سے زیادہ فوقیت اسلام کو اپنی تعلیمات کی وجہ سے حاصل ہے۔
    اسلام کے اندر ہر انسان کی عزت نفس وقار اور تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ جانوروں کو حقوق دیے گئے ایک دوسرے کی مدد کا درس دیا گیا۔ اسلام میں کسی کو کسی سے زیادتی یا ظلم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اب وہ چاہے مسلمان مسلمان پہ کرے یا مسلمان کسی دوسرے انسان پہ کرے یا جانور پہ کرے۔

    اسلام کے بارے میں دنیا کے غلط تاثرات
    دنیا کے تقریبا ہر ملک میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ ہر ملک ہر جگہ کے اپنے رسم و رواج ہیں۔ جب لوگ جہاں مسلمانوں کو دیکھتے ہیں انکے رسم و رواج ، رہن سہن انکے بودوباش تو جو خاکہ انکے ذہن میں بنتا ہے وہی وہ اسلام کے متعلق قائم کر لیتے ہیں کہ یہی اسلام اور اسکی تعلیمات ہیں۔
    حالانکہ اسلام کسی قوم کے رس و رواج یا ذاتی زندگی اور سوچ کا نام نہیں۔
    اگر وہاں کے مسلمانوں کا رہن سہن اچھا ہے کردار واقعی اسلام کے اصولوں کے عین مطابق ہے تو وہاں کے رہنے والے لوگ ان سے متاثر ہوتے ہیں سراہتے ہیں اور اسلام کے بارے میں ایک اچھی سوچ رکھتے ہیں اور عموما یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ اپنے مذاہب ترک کر کے اسلام کو دل سے قبول کر لیتے ہیں۔
    اب جہاں مسلمانوں کے قول و فعل میں تضاد ہو انکی زندگی اسلامی تعلیمات کے منافی ہوں وہاں کے لوگ اپنے ذہن میں اس کو اسلام مانتے ہیں اور اسلام سے متنفر ہو جاتے ہیں۔
    حالانکہ یہ انکا ذاتی کردار ہے۔ اسلام جھوٹ ، چوری ، دھوکہ فراڈ ، فتنہ اور فسادات سے منع کرتا ہے۔
    اسلام ہر اس کام سے منع کرتا ہے جس سے کسی دوسرے انسان یا حیوان کو تکلیف پہنچے اب اگر کوئی شخص اس طرح کے کاموں میں ملوث ہے تو یہ اسلام نہیں بلکہ اس کا ذاتی کردار ہے۔
    آئیے ہم اسلام کو بدنام کرنے کی بجائے وہ کام کریں جو کہ بحیثیت مسلمان ہمیں کرنے چاہئیں تاکہ غیرمسلم اسلام کے بارے میں کوئی غلط تاثر نہ لیں انکے سامنے اسلام کا اصل منظر پیش کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
    اسلام کی اصل تبلیغ ایک مسلمان کی زندگی اس کا قول اور فعل ہے۔

    https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

  • قائدِ پاکستان عمران خان کی کہانی ارم کی زبانی تحریر: ارم سنبل

    قائدِ پاکستان عمران خان کی کہانی ارم کی زبانی تحریر: ارم سنبل

    آج کل ہر خاص وعام کی زبان پر ایک ہی نام ہے اور وہ ہے عمران خان، عمران خان نے ہمیشہ سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی ہے چاہے وہ کرکٹ کا میدان ہو یا سیاست کا ، عمران خان ماضی سے لے کر آج تک عوام کے دِلوں پر راج کر رہے ہیں۔

    نوجوان نسل نے عمران خان کے کرکٹ دور کو بذات خود تو نہیں دیکھا مگر اپنے بڑوں سے اسکی قائدانہ صلاحیت کے بارے میں سنا ہے۔ جس کا منہ بولتا ثبوت 1992 کا ورلڈکپ ہے۔

    اگر سیاست کی بات کی جائے تو عمران خان کا یہ دور بھی بہترین اور تاریخی ہے۔ جہاں پاکستانی عوام گہری نیند سو رہی تھی وہاں عمران خان کی محنت اور کوششوں نے عوام کو بیدار کیا ہے۔

    عمران خان کی والدہ متحرمہ کینسر جیسے موضی مرض سےانتقال کرگئی۔ عمران خان کی عوام سے فکرو محبت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے غریب عوام کے لیے یہ سوچ کر کینسر ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا کہ جو تکلیف میری والدہ نے برداشت کی ہے وہ کسی اور کی ماں کو نہ سہنی پڑے۔

    پھر عمران خان نے عوام کی مشکلات اور تکالیف کو سامنے رکھ کر کینسر ہسپتال بنوایا۔ مختلف شعبوں سے وابسطہ افراد نے عمران خان کو منع کیا کہ اس ہسپتال کی تعمیر ممکن نہیں لیکن اس کے باوجود عمران خان کی انتھک محنت کے بعد شوکت خانم ہسپتال تعمیر ہوگیا۔

    ہسپتال نہ صرف تعمیر ہوا بلکہ کافی مریض یہاں علاج کروا کر صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ آج الحمدللہ پاکستان میں ایک کے بجائے دو کینسر ہسپتال ہیں اور تیسرے پر کام جاری ہے جو انشاء اللہ بہت جلد مکمل ہوجائے گا۔

    اسی طرح عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ اور 1996 میں پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نام پاکستان تحریک انصاف رکھا گیا۔ سیاست میں آنے کے بعد عمران خان کا مزاق اڑایا گیا مگر عمران خان نے ہمت نہ ہاری اور اپنی محنت کو جاری رکھا۔

    اس طرح عمران خان کی بائیس سال کی انتھک محنت 2018 کے انتخابات میں رنگ لے آئی اور عمران خان ملک کے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ عمران خان نے بہت ہی کم عرصے میں دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان ایک مضبوط، آزاد اور خود مختار ریاست ہے۔

    عمران خان کی کوششوں کے نتیجے میں عالمی دنیا پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اپوزیشن نے بہت کوششیں کیں کہ عوام کا عمران خان پر محبت و اعتماد کو کسی طریقے سے ختم کیا جائے، مگر اپوزیشن کو ہمیشہ کی طرح منہ کی کھانی پڑی۔

    عوام مکمل طور پر عمران خان پر اعتماد کرتی ہے اور ہر فورم پر دفاع کرتی ہے کیونکہ پاکستانی عوام کو عمران خان کی صورت میں ایک عظیم رہنما ملا ہے۔

    میری دعا ہے کہ اللہ پاک میرے عظیم لیڈر کی حفاظت فرمائے اور نیک مقاصد میں کامیاب فرمائے آمین۔

    @Chem_786

  • سربز پاکستان  تحریر: حسیب احمد

    سربز پاکستان تحریر: حسیب احمد

    جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں پاکستان میں گرمی کا موسم زیادہ تر علاقوں میں رہتا ہے۔ پاکستان میں زیادہ گرمی اس لیے پڑتی ہے کیوں کہ یہاں خے کے لوگ اپنی ذاتی مفادات کے لیے درخت کاٹ دیتے ہیں۔ اور پاکستان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو شجرکاری مہم کو بڑھاتے ہوئے پاکستانی نوجوانوں کو درختوں اور سربز و شاداب پاکستان کی اہمیت سکھاتے ہیں۔ کافی تنظیمیں پاکستان میں ہر سال موسم گرما سے بچانے کے لیے شجرکاری کرتی ہے جس سے Globalwarming سے بچاؤ ممکن ہے۔

    ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی اس میں اپنا حصہ ڈالیں اور ملک کی خدمت کریں۔ درخت خدا پاک کی نعمت ہے، درخت ہمیں اپنے سائے سے ہمیں سخت دوپ سے دور رکھتے ہیں۔

    درخت لگانے سے آپ کی اپنی نسلیں محفوظ رہیں گی، کیا اپنے کبھی سوچا ہے اگر دنیا سے درخت ختم ہوجائیں گے تو کیا ہم سب زندہ بچ پائیں گے۔

    پاکستانی پرچم کا ایک بڑا حصہ سبز ہے ، لیکن ملک کا ایک وسیع علاقہ ہریالی سے خالی ہے۔ پاکستان میں درخت لگانے کا تناسب بہت کم ہے۔ یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ جس ملک کو پانچ دریاؤں کی برکت حاصل ہے وہاں سبزہ بہت کم ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کم از کم ایک چوتھائی حصے میں جنگلات ہونے چاہئیں۔ پاکستان میں جنگلات پانچ فیصد سے بھی کم ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم ان درختوں کو کاٹنے پر تلے ہوئے ہیں جو ہماری سینئر نسلوں نے لگائے تھے۔ یہ ایک بہت عام منظر ہے کہ ہر دوسرے دن بے شمار درختوں کو توڑا جا رہا ہے کبھی سڑکوں کو بڑھانے کے لیے اور کبھی نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے کبھی کبھی ہم لکڑیاں حاصل کرنے کے لیے درخت کاٹ دیتے ہیں۔ وجہ کچھ بھی ہو ، یہ عمل انتہائی افسوسناک ہے۔ تصویر کا زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی ان کے متبادل کے بارے میں سوچنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا۔ درخت ماحول کی زینت ہیں۔ وہ زمین کو خوبصورت بناتے ہیں اور صحراؤں کو زمینی جنت میں بدل دیتے ہیں۔

    وہ پرندوں اور جانوروں کو قدرتی رہائش فراہم کرتے ہیں۔ وہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کرتے ہیں۔ وہ زندگی کا دھارا چلاتے رہتے ہیں۔ درختوں کے بغیر ، ماحول ایک بنجر نظر دیتا ہے جہاں نہ پرندے گاتے ہیں اور نہ جانور آتے ہیں۔

    آج عہد کریں سب مل کر ہم نے پاکستان کو سرسبز و شاداب پاکستان بننا ہے کیونکہ یہ ہماری نسلوں کا سوال ہے۔

    اللہ پاکستان کو اس طرح سربزو شاداب بنانے میں ہمارا ساتھ دے اور ہمیں ہمت دے کہ ہم اپنے ملک پاکستان کے لیے کچھ کرسکیں اور اپنی نسلوں کو مثبت انداز میں اپنی خدمات کے بارے میں بتاسکے۔

    "پاکستان زندہ باد”

  • چائلڈ لیبر ایک لعنت:  تحریر  محمد جاوید

    چائلڈ لیبر ایک لعنت: تحریر محمد جاوید

    پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک سنگین مسئلہ ہے خاص کر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے جہاں لوگوں کے حقوق کا کوئی پرسان حال نہیں تو وہاں ، بچوں کے حقوق کی تو بات ہی کوئی نہیں کرتا ۔
    یونیسیف کے مطابق پاکستان میں تقریبا 3.3 ملین بچے چائلڈ لیبر ہیں۔ یہ بچے مختلف انڈسٹریز میں کچھ ہوٹلوں اور ورکشابوں میں کام کرتے ہیں۔
    چائلڈ لیبر کے پیچھے اکثر بچوں کے گهريلویں حالات ہوتے جس کی وجہ سے مجبور ہو کر پڑھنے کی عمر میں یہ بچے محنت مشقت والا کام کرتے
    پاکستان کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں بچوں کی مزدوری کے استعمال کی سب سے اہم وجہ غربت ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اسے والدین کا اپنے بچوں کو کام پر بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا ہے تاکہ وہ خاندانی آمدنی میں اضافہ کرسکیں۔ روز بروز بڑھتی مہنگائی معاشرے کے غریب اور پسماندہ طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔
    مہنگائی کے بڑھنے کی وجہ سے پاکستان کے غریب خاندانوں کا اپنا پیٹ پالنا ہی مشکل ہو جاتا اوراسکی وجہ سے چايلڈ لیبر میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ معصوم بچے اس کم عمری میں اپنے خاندان کا پیٹ پلنے میں اپنی زندگی اور مستقبل داؤ پہ لگا دیتے ہیں۔
    پاکستان میں نظام تعلیم کا فقدان ہے جس کی وجہ سے بچے تعلیم حاصل کرنا اور اسکول جانے کے بجائے ملازمت پر چلے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی کمی ، سہولیات کا فقدان اور والدین کے اندر شعور نہ ہونے سے وہ اپنے بچوں کو اسکول بیجنے کے بجائے فیکٹریوں میں ملازمت کے لئے بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    پاکستان میں اسکولوں سے باہر بچوں کی بہت بڑی تعداد ہے جن کی زیادہ تر عمر یں 5-16 سال کی ہے۔ ان بڑی تعداد میں بچوں کا اسکول میں نہیں ہونا ایک بہت بڑا المیہ ہے پاليسی سازوں کو اس بارے میں سوچنا چائے تاکہ ان معصوم بچوں کا مستقبل محفوظ کیا جاسکے۔
    اکثر کام کرتے ہوۓ بچوں کو جسمانی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہ بچے ہمیشہ کے لئے معذور بن جاتے ہیں
    چائلڈ لیبر کے نتائج در حقیقت بہت پرشان کن ہیں اس کی وجہ سے اکثر ان کی دماغی استحصال ہو جاتی ہے اور کند ذہن بن جاتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو خوشگوار بچپن نہیں ملتا جس کی وجہ سے سیکھنے کھلینے اور مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے سے محروم ہو جاتے اور ان شخصیت پہ برا اثر پڑتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ چائلڈ لیبر تیار کرنے اور بچوں پر برے اثرات پیدا کرنے میں منفی کردار ادا کرتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ ان چائلڈ لیبر کو مناسب اجرت نہیں دیتا اور وہ پیسے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دوسرے جرایم میں ملوث پاے جاتے جیسے کہ چوری کرنے اور چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔
    حکومت کو چائلڈ لیبر کے سماجی مسئلے پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا کوئی مخصوص ادرہ بنائے جو صرف اور صرف بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کریں۔
    چائلڈ لیبر سے بچنے کے لیے قانون سازی کیا جاے ۔ کچھ ترقی یافتہ ممالک نے اپنے ملک کی کامیابی کے لیے اپنے اثاثوں کو بچانے اور اچھی طرح ترقی کرنے کے لیے چائلڈ لیبر پر پابندی عائد کی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان بھی بہت جلد ان میں سے ایک ہوگا اور یہ اقدامات اٹھا لے گا۔
    حکومت کو چائے کہ چائلڈ لیبر پہ پابندی لگایا جائے اس سلسلے میں قانون سازی کیا جائے تکہ ان معصوم جانوں کے مستقبل کو محفوظ کیا جاسکے۔

    @I_MJawed

  • شاعری تحریر: محمد حماد

    جب ایک دن میں نے کالم لکھنے کے بارے میں سوچا   کہ چلو آج کچھ طبع آزمائی اس میدان میں بھی  ہو تو ذہن لاشعوری  طور پر اس تحریر کی طرف منتقل ہو ا جو میں نے ایک کتاب سے متاثر ہوکر ” اللہ نورُ السمٰواتِ والارض” کے عنوان سے لکھاجو یونی ورسٹی کے لائبریری کے ایک کتاب "خدا موجود ہے سائنسدانوں کی نظر میں”کے مطالعے کے بعد لکھا۔ لیکن اس تحریر نے مجھے اس مخمصے میں ڈال دیا کہ آج تک میں یہ نہیں جان پایا کہ وہ تحریر تبصرہ تھا ، تجزیہ تھا  یا پھر کالم ۔۔۔؟ لیکن خیر آج شاعری پر لکھنا چاہتا ہوں اور بہت گہرائی میں جانا چاہتا ہو اس یقین کہ ساتھ کہ  میرا  عقل  اس متنوع موضوع  کا متحمل کبھی  بھی نہیں ہوسکتا  کیوں کہ صرف موضوع کے بارے   میں سوچ کر ہی احساسات  میں تغیر پیدا ہونا شروع ہوا  ۔ہوسکتا میرا اس کیفیت کی وجہ شایدمیرا شاعری سے جنون کی حد تک لگاؤ کا ہونا  یا پھر اُردو ادب کی طالب کی حیثیت سے میں  شاعری کے ساتھ ایک  ان جانا  ساتھ اور رشتہ محسوس کرتا ہوں۔ قبل اس کے کہ شاعری اور احساسات کا ذکر طول پکڑ لیں  روئے  سخن شاعری کی طرف ہونا چاہئے اگرچہ  شاعری پر لکھا گیا ہے ، لکھا جاتا رہا ہے اور لکھا جائے گا کیوں کہ یہ وہ لفظی احساس ہے  جو ہر دور کے انسانوں کی جذبات کی ترجمان  رہی  ہے ۔ باوجود اس کے  کہ یہ   کہ زمان ومکاں کے حدود و قیود سے آزاد ہے  یہ معلوم نہیں کہ اس کی ابتدا تاریخِ انسانی میں کب کیسے  اور کیونکر ہوئی؟ لیکن جہاں تک اس ناچیز کی  ذہن کا خیال ہے  یہ خدائی ودیعت  تخلیقِ انسانی کے ساتھ  دنیائے فانی میں نازل کی گئی۔ تاریخ کے جھرکوں سے آنے والی  مدھم کرنوں کی روشنی میں یہ کہنا بجا ہے    کہ اس کا وجود ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا  اپنے تمام تر عروج  وزوال سمیت۔۔۔۔ عربی زبان کا کیا ہی خوبصورت قول ہے کہ:
            ” الشعرا    ُ تلامیذ الرحمٰن( شعرا رحمان ( اللہ)  کے شاگرد ہوتے ہیں۔)”
    اگر بات کی جائے شاعری کی تعریف کی  تو ایک بار پھر      یہ بات غیر واضح رہ جائے گی  لیکن جہاں تک عقل ناقص کی رسائی ہے وہاں یہ بات عیاں ہے  کہ ہر چیز کی تعریف کا احاطہ کرنا ممکن نہیں بعض چیزیں  اپنا تعارف خود ہوتی ہے جو خود کو اس قدر تفصیل سے منظر ِ عام پر لاتی ہے کہ اس کے لیےلغت کے صفحات الٹنے پلٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی   با ایں ہمہ شاعری کی جو مختلف تعریفیں مختلف  زمانوں میں اس کے حسبِ حل کی گئی ہے سب میں یہ امر مشترک قرار پایا ہے  کہ یہ جذبات اور احساسات  اور ما فی الضمیر کے اظہار  کا وہ  بیان ہے جو  قافیہ اور ردیف کے پیرائے  میں کیا جاتا ہے ۔  یہ بات معقول بھی ہے لیکن میرے خیال میں شاعری کا خوب صورت   توضیحی تصور مارک انڈریو نے پیش کیا ہے ۔ لکھتے ہیں:
            ” شاعری غم کی بہن ہے ، ہر وہ انسان جو دکھ سہتا ہے  اور روتا
            ہےشاعر ہے ، ہر آنسوشعر ہے اور دل ایک نظم ہے۔”
          شاید بہت سوں کو اس با ت سے اختلاف ہو  کہ شاعری کی بہتر سے بہترین تعریفیں کی گئی ہیں، تو بھی وہ اپنے دعوے میں حق بجانب ہیں  لیکن وہ کیا ہے کہ ہر انسان کا اپنا  نکتہ نظر ہوتا  ہے جس کی روشنی میں اسے جو مناسب نظر آتا ہے  اسی کو درست خیا ل کرتا ہے لہذا  آپ کے نظر میں کوئی اور جامع تشریحی تعریف بھی ہوسکتی ہے۔
        اگر کبھی آپ کو بھی شاعری پر لکھنے کی جسارت ہوں تو  تو الفاظ کو اس خیال کے ساتھ احاطہ تحریر  میں لانا  کہ آپ شاعری کے بارے میں جو لکھ رہے ہیں  وہ سمندر کے سینے میں موجود سیپ کے بطن  کے اس پانی کی طرح ہے جس میں جمع قطرے کو نکال باہر کرنے سے سمندر کے پانی پر کچھ فرق نہیں پڑتا ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شاعری پر ہر زبان میں جو ضحیم کتابیں لکھی گئیں ہیں وہ بھی  اس موضوع کے اصل روح کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
        شاعری صرف ایک فرد کی جذبات کی زیروبم کا نام نہیں  بلکہ اس میں فرد کے ساتھ معاشرہ ، سماج ، روایات ، تاریخ ، فلسفہ ، حالات کے دھارے اور تقاضے ، حدود وقیود کی پابندیاں، زندگی کی نیرنگیاں    اور امید و نا امیدی کے جلتے بجھتے چراغ بہ یک وقت نظر آتے ہیں گویا شاعری تخیل کے بارش کے بعد کا وہ  ست رنگہ دھنک ہے  جس کی ہر رنگ کا اپنا خاص مزہ ہے۔ آخر میں نیئر نسعود کی  دل کو لگنے والی بات یاد آگئی کہ
                    ” شاعری دنیا کی مادری زبان ہے”

  • پشتو زبان  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    پشتو زبان تحریر : مقبول حسین بھٹی

    پشتو زبان ، پشتو کی ہجے بھی کی ، جسے پختو بھی کہا جاتا ہے ، جو کہ ہند یورپی زبانوں کے انڈو ایرانی گروپ کے ایرانی ڈویژن کا رکن ہے۔ وسیع پیمانے پر قرض لینے کی وجہ سے پشتو انڈو یورپی زبانوں کے انڈو آریائی گروہ کی بہت سی خصوصیات کا اشتراک کرتا تھا۔ اصل میں پشتون لوگوں کی طرف سے بولی جانے والی پشتو 1936 میں افغانستان کی قومی زبان بن گئی۔ اسے 35 ملین سے زائد لوگ بولتے ہیں ، جن میں سے اکثر افغانستان یا پاکستان میں رہتے ہیں ایران ، تاجکستان ، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں چھوٹی چھوٹی تقریریں موجود ہیں۔ علماء کو پشتو کی اصل کے بارے میں مخصوص دعووں کے بارے میں اتفاق رائے تک پہنچنا مشکل ہے۔ بہر حال ، یہ بات واضح ہے کہ قدیم دنیا کے ایک متنازعہ حصے میں تقریر کمیونٹی کے مقام نے قدیم یونانی ، ساکا ، پارتھیان اور فارسی کی اقسام سمیت دیگر زبانوں کے ساتھ وسیع رابطے ، اور ادھار لینے پر اکسایا۔ پشتو بھی شمال مغربی ہندوستانی زبانوں ، خاص طور پر پراکرت ، بلوچی اور سندھی کے ساتھ مل گیا۔ ان زبانوں سے ، پشتو نے ریٹروفلیکس آوازیں (زبان کی نوک سے منہ کی چھت کے ساتھ جھکی ہوئی آوازیں) اور تقریبا 5 5،550 لون ورڈز حاصل کیے۔ پشتو کی بولیاں دو اہم حصوں میں آتی ہیں: جنوبی ، جو قدیم / sh / اور / zh / آوازوں کو محفوظ رکھتا ہے ، اور شمالی ، جو اس کے بجائے / kh / اور / gh / آوازوں کو استعمال کرتا ہے- اسپائریٹ-آوازیں جو ایک قابل سماعت سانس کے ساتھ پشتو کی پڑوسی انڈو آریائی زبانوں میں عام ہیں لیکن پشتو میں غیر معمولی ہیں۔ پراکرت ، سندھی اور بلوچی کے قرضے کے الفاظ کو ظاہر کرنے والی معمولی تبدیلیاں عام طور پر پہچاننے میں بہت آسان ہیں۔ مثال کے طور پر ، سندھی میں گڈی ‘ایک کارٹ’ کو ہندی میں گڑی اور پشتو میں گڈائی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ، ‘نر بھینس’ کی اصطلاح ہندی میں ریت اور پشتو میں سنر ہے۔ ہندی ، سندھی اور پشتو میں کئی الفاظ یکساں ہیں ، بشمول سدک ‘سڑک’ ، ‘پیڈا’ ایک میٹھی ، ‘اور خیرکی’ کھڑکی ‘۔ پشتو زبان نے تاجک (فارسی کی ایک شکل) اور ازبک (ایک ترک زبان) سے بھی الفاظ لیے ہیں۔ مثالوں میں روئی جرج ‘ایک مشترکہ پلیٹ فارم’ اور الغر ‘حملہ’ شامل ہیں۔ کئی عربی الفاظ یا ان کی فارسی شکلیں بھی پشتو میں ضم ہو چکی ہیں ، جیسا کہ کئی فارسی فعل ہیں۔ فارسی کی آواز / n / کی جگہ پشتو میں / l / ہے۔ پشتو کی جملے کی تعمیر ہندی کی طرح ہے۔ فارسی کے برعکس ، لیکن جیسا کہ پراکرتوں میں ، پشتو اسم صفت کے بعد آتا ہے اور مالک تخلیقی تعمیر میں مالک سے پہلے ہوتا ہے۔ فعل عام طور پر موضوع سے متضاد اور عبوری دونوں جملوں میں متفق ہوتا ہے۔ ایک استثنا اس وقت ہوتا ہے جب ایک مکمل عمل کی اطلاع ماضی میں دی جائے۔ ایسی صورتوں میں ، پشتو کی شکلیں ہندی شکلوں جیسی ہوتی ہیں: فعل اگر موضوع سے متفق ہو تو وہ متنازعہ ہو اور اعتراض کے ساتھ اگر وہ عارضی ہو۔ پشتو ایک ترمیم شدہ عربی حروف تہجی کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ ابتدائی ادبی شکل شاعری ہے۔ محمد ہوتک کا پتا خزانہ (1728–29 “ پوشیدہ خزانہ ") آٹھویں صدی کے بعد سے پشتو شاعری کا مجموعہ ہے۔ افغانستان کے قومی شاعر خوشحال خان خٹک (1613–94) نے بڑی دلکشی کی بے ساختہ اور زوردار شاعری لکھی۔ ان کے پوتے افضل خان پشتون کی ابتدائی تاریخ کے مصنف تھے۔

    Twitter handle :
    @Maqbool_hussayn

  • شکرگڑھ  تحریر: زید علی

    شکرگڑھ تحریر: زید علی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب ضلع نارووال کی ایک تحصیل کا نام شکرگڑھ ہے۔ نارووال سے 45 کلومیٹر شمال کی جانب واقع ہے۔ شکرگڑھ کی بنیاد 1890 میں رکھی گی۔ تقسیم ہند کے وقت شکرگڑھ ضلع گرداسپور کی تحصیل تھی۔ مگر پاکستان بننے کے بعد یہ ضلع سیالکوٹ سے منسلک ہو گئی۔ 1991 میں نارووال کو ضلع کا درجہ ملنے کے بعد تحصیل شکرگڑھ کو ضلع نارووال کے ساتھ منسلک کر دیا گیا۔ تحصیل شکرگڑھ کے شمال میں جموں کا علاقہ ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کو زمینی راستہ بھی یہیں سے ہو کر گزتا تھا۔ شکرگڑھ کے مشرق میں پاکستان اور بھارت کے درمیان بین الاقوامی سرحد اور شمال میں ورکنگ باؤنڈری موجود ہے۔ جس کی لمبائی 193 کلو میٹر ہے۔ جو سیالکوٹ سیکٹر سے شروع ہوتی ہے اور شکرگڑھ کے مقام پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ شکرگڑھ سے ہی انٹرنیشنل بارڈر کا آغاز بھی ہوتا ہے۔ سوار محمد حسین (نشان حیدر) نے بھی اسی سر زمین پر شہادت پائی۔ یادگار شکرگڑھ آج بھی ہمارے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شکرگڑھ کی سرزمین بہت زیادہ زرخیز ہے۔ نارووال، شکرگڑھ کے باسمتی چاول پورے پاکستان میں مشہور ہیں۔ تعلیمی میدان میں بھی شکرگڑھ کے طالب علموں نے ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ یہاں کے طالب علم مختلف ادوار میں بورڈ ٹاپ کر چکے ہیں۔ یہاں پنجابی اور اردو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ شکرگڑھ کے مشرق میں دریائے راوی ہے۔ دریائے راوی بل کھاتے ہوئے اسی تحصیل سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں نالہ بئیں بہتا ہے۔ شکرگڑھ کو ایک اہم مقام یہ بھی حاصل ہے کہ اسی تحصیل کے ایک قصبہ مسرور (بڑا بھائی) سے پاکستان کا سٹینڈرڈ ٹائم لیا گیا ہے۔ پاکستان میں سب سے پہلے سورج کی کرن اسی گاؤں میں پڑتی ہے۔ اسی گاؤں سے کشمیری پہاڑیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ موسم صاف ہو جانے کے بعد اس علاقے سے جموں و کشمیر کے پہاڑ صاف دکھائی دیتے ہیں۔ رات کو کشمیر میں جلنے والی روشنیوں کو یہاں سے با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ شکرگڑھ کا کشمیر کے ساتھ پرانا گہرا اور جغرافیائی تعلق ہے۔ شکرگڑھ کو باب کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔
    شکرگڑھ کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔

    Twitter: ZaidAli0000