Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات   تحریر: عمران اے راجہ پارٹ ۴

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات تحریر: عمران اے راجہ پارٹ ۴

    ۳: کروکوڈائل برِج گیٹ Crocodile Bridge Gate
    (گزشتہ سے پیوستہ)
    تیسرے حصے کے اختتام پر میں نے ذکر کیا کروکوڈائل برج گیٹ سے داخلے پر “بِگ فائیو” دیکھنے کے وسیع مواقع ہیں۔ کافی لوگوں نے سوالات کیے “بِگ فائیو” کیا ہے تو ایک مختصر وضاحت کیے دیتا ہوں۔ بِگ فائیو میں پانچ ایسے جانور آتے ہیں جن کا پیدل شکار افریقہ میں سب سے زیادہ مشکل ہے۔ ان میں آتے ہیں “شیر، چیتا، گینڈا، ہاتھی اور افریقی بھینسا (کیپ بفلو)”۔۔ ۱۹۹۰ کے بعد جاری ہونے والی ساؤتھ افریقن کرنسی پر بھی بِگ فائیو کی تصاویر ہیں۔ یہ پانچوں جانور (جنہیں میں ہرگز حیوان کا نام نہیں دوں گا) اپنی نسلوں میں ایک وجاہت، خوبصورتی، وقار اور حجم کے لحاظ سے ضحیم ہیں۔ براعظم افریقہ کے ممالک جہاں بیک وقت بگ فائیو دیکھنے کے مواقع میسر ہیں ان میں انگولا، بوٹسوانا، زیمبیا، یوگنڈا، نمیبیا، ساؤتھ افریقہ، کینیا، تنزانیہ، زمبابوے، کونگو، روانڈا اور ملاوی ہیں۔
    امید ہے وضاحت بہتر انداز میں ہو گئی ہوگی۔
    اب آتے ہیں تھوڑی مزید تفصیلات کروکوڈائل برج گیٹ کی جانب۔ کروکوڈائل ریور روڈ S25 جب مغربی جانب چلتی ہے تو یہاں گہری گھنی جھاڑیاں اور وسیع ترین چراگاہیں ملتی ہیں۔ یہاں سے آپ پارک کے اندرونی حصے سے ہوتے ہوئے جنوبی جانب بھی سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہاں ایک سڑک بیُومے روڈ S26 آپ کو بِیاماتی لُوپ S23 میں مرج کرے گی جبکہ یہیں سے آپ مالےلان ٹاؤن کی ڈائریکشن بھی لے سکتے ہیں۔ S25 آپ کو چند تاریخی مقامات سے بھی محظوظ کروائے گی۔ بالکل آخر میں جا کر اگر آپ داہنے مڑیے جہاں S25 کا اختتام ہو اور S114 کا آغاز ہو تو یہ آپ کو Jock of the bushveld plaque کے تاریخی مقام پر لے جائیگی جس کی اپنی ایک الگ ہسٹری ہے۔۔
    گیٹ سے داخلے کی تقریباً 8 کلومیٹر کے بعد آپ کو S27 کا اختتام اور پہلا باہر جانے کا راستہ ملے گا۔ کروکوڈائل ریور روڈ پر آپ کو دریائی گھوڑے، مگر مچھ اور دوسرے پانی پیتے جانور دیکھنے کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ یہ سڑک اپنے بہترین نظاروں اور مارشل ایگل کی وجہ سے مشہور ہے۔ چونکہ یہاں جانوروں کی بہتات اور گیم واچنگ کے مواقع زیادہ بہترین ہیں اس لیے یہاں رش بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ٹریفک کے بڑھنے سے پہلے ہی آپ اپنا سفر صبح سویرے شروع کیجیے اور دوپہر میں واپسی کے لیے کسی متبادل راستے کا انتخاب کیجیے ورنہ ٹریفک میں پھنسنے کے لیے تیار رہیے۔ ویسے بھی جانور دیکھنے کا آئیڈیل وقت صبح سویرے یا دوپہر اور شام کے بیچ کا وقت ہوتا ہے۔
    مالےلان ٹاؤن سے نکلتے وقت کروکوڈائل ریور S114 سے اگر آپ داہنے مڑ جائیے تو آپ کو ایک بڑا Birds Hide ملے گا جو گارڈینا کہلاتا ہے اور ملامبانے لوپ S118 پر آتا ہے۔
    اس سڑک پر کروکوڈائل ریور کا پرانا کراسنگ پوائنٹ بھی ہے اور وہ تاریخی مقام جہاں Alf Roberts نامی شخص نے اٹھارہویں صدی کے اختتام میں پہلا تجارتی سٹور بنایا تھا۔ یہاں وہ مقام بھی موجود ہے جہاں بیسویں صدی کے آغاز میں “بُور/اینگلو جنگ” کے دوران جنرل بین ولیون نے اپنی آرٹلری ڈپلائے کی تھی۔
    اس سڑک کی مختصر جھلکی بتاتا ہوں کہ گھنے جنگلات، بہت سے ایکو سسٹمز جو مالےلان پہاڑی سلسلے سے شروعات کرتے ہوئے سابی کروکوڈائل کی گھنی جھاڑیوں اور بالآخر ڈیلاگئوا کی جھاڑیوں میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ کروکوڈائل ریور روڈ “لواکاہلے” نامی جگہ کی جنوبی سرحد ہے اور پارک کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔
    “کروکوڈائل برج گیٹ کی مشہوری اور خوبصورتی کی وجہ سے اسے زیادہ تفصیل سے لکھا۔ آئیڈیل جگہ اور زندگی میں کم سے کم ایک بار دیکھنے لائک۔ دوسرے گیٹس کی اب اگلے حصے میں تفصیلات ایڈ کروں گا کیونکہ ہر گیٹ کی اپنی خصوصیات ہیں اور وہاں پائے جانے والے جانور بھی ایک الگ وضاحت کے متقاضی۔ زندگی رہی تو باقی اگلے حصے میں ان شاء اللّٰہ”۔۔
    (جاری ہے)
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • کشمیر کی بدلتی حکومت۔ تحریر : محمد جاوید حقانی

    کشمیر کی بدلتی حکومت۔ تحریر : محمد جاوید حقانی

    ہر شخص خوبیوں اور خامیوں کا مرکب ومالک ہے جنہیں رب نے معصوم اور محفوظ بنایا یعنی انبیاء صحابہ و اہلبیت ان کے علاؤہ نہ کوئی معصوم ہے نہ کوئی محفوظ ۔
    راجہ فاروق حیدر سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر صاحب کی زبان کو لے کر سوشل میڈیا پر بہت کچھ کہا گیا ان کی زبان کے دو رخ ہیں ۔
    گو کہ ان کے اپنے کلچر کی وجہ سے ان کے منہ سے کئی بار غصے میں نازیبا گالیاں نکلیں جن کی آڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئی جو کہ اس منصب کے شایان شان نہیں ۔۔
    ہم نے اس کی بھرپور مذمت کی لیکن راجہ صاحب کی زبان کئی ایسی جگہوں پر بھی چلی جہاں بڑے بڑے لیڈروں کے پسینے جنوری میں نکل آتے تھے ۔
    قوم کے لیڈر کی بہت سی خوبیاں ہوتی ہیں ان تمام خوبیوں میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ بہادر ہو بزدل نہ ہو ۔
    کیونکہ لیڈر کے بل بوتے پہ رعایا جان کی بازی جیت یا ہارتی ہے۔

    راجہ فاروق حیدر خان میری شعوری زندگی میں کشمیر کے وہ واحد وزیر اعظم گزرے ہیں ۔
    جو اپنے سابقہ پیش روں سے ایک اعتبار سے مختلف تھے کہ وہ ہر مقام پر سچ بولنے کی بھرپور اخلاقی قوت جرات اور ہمت رکھتے تھے۔
    کئی ایسے مرحلے تاریخ کا حصہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے کہ جنہیں ہمیںشہ یاد رکھا جائے گا جس طرح ختم نبوتﷺ کے حوالہ سے کشمیر اسمبلی میں قانون بنا اور اسی طرح اسلام آباد میں تمام کابینہ کے سامنے بیٹھ کر مسئلہ کشمیر اور مظلوم کشمیریوں کے لیے یہ الفاظ کہ ان کی مدد کیوں نہیں کرتے تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ ڈالروں کی خاطر تم خاموش ہو چباؤ گے ڈالر ؟؟
    ان الفاظ کی قیمت بہت بھاری ہے۔
    پھر کئی دفعہ ببانگ دھل ایک سابقہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کا نام جس طرح لے کر راجہ فاروق حیدر بولا ایسا تو وزیر اعظم بننے کے بعد کشمیر کا کوئی لیڈر خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا کیونکہ ایسا سوچنے کو بھی غداری سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
    پھر راجہ فاروق حیدر کے یہ الفاظ کہ مجھ سے وفاق وفاق کی بات نہ کرو میرا کیا تعلق وفاق سے میں ایک ریاست کا وزیر اعظم ہوں جو کچھ طے شدہ اصولوں کی بنیاد پر ملک پاکستان سے معاملات کرتی ہے ۔
    پھر یہ الفاظ کہ کشمیر سارے کا سارا کشمیر کا حصہ ہے بے شک وہ جس کے قبضے میں بھی ہو ۔
    نئے آنے والے وزیر اعظم صاحب سے بھی گزارش ہے کہ آپ کو بھی پارٹی کی وفاداری سے زیادہ اس قوم کی وفاداری نبھانی پڑھے گی جس کی تاریخ سات سو سالہ ہے بقول جنرل حمید گل کشمیر جہاں بھی گیا اکٹھا جائے گا اس اصول کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا ہو گا پارٹی وفاداری میں اپنے آپ کو اتنا کبھی نہ گرائیے گا کہ کشمیری قوم کا وقار مجروح ہو ۔
    آج یہ الفاظ اس لیے لکھ رہا ہوں کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم الفاظ بیچتے ہیں بلکہ جو حقائق ہیں انہیں تسلیم کرنا چاہیے یہی وسیع ذہن کی حامل سوچ ہے ۔
    راجہ فاروق حیدر صاحب کی پارٹی کے وزراء عوام کے لیے بہترین وزیر ثابت نہیں ہوئے جس کا خمیازہ پارٹی کو بھکتنا پڑا اور بری طرح شکست سے دو چار ہوئے ۔گو کہ کچھ دیگر وجوہات بھی تھیں جن میں ٹکٹ کی تقسیم وفاق کا اثر و رسوخ حکومت سونپنے والوں کی پسند لیکن اس عنصر سے آنکھیں بند کر لینا بھی ناانصافی ہو گی۔
    ہر سیاسی پارٹی اپنے مفادات کا سودہ کرنا اہم سمجھتی ہے بنسبت قومی مفاد کے
    ہمیں اس روش سے خود بھی باہر نکلنا ہے اور ان پارٹیوں کو بھی باہر نکالنا ہے۔
    @JavaidHaqqani

  • زیادہ ڈرنا چھوڑ دو   تحریر:  محمد بخش

    زیادہ ڈرنا چھوڑ دو تحریر: محمد بخش

    یہ کہانی ہے دو دوستوں کی جو کہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے تھے ایک بار دونوں کسی کام سے شہر گئے اور واپس اپنے گاؤں لوٹ رہے تھے ان کے گاؤں تک پہنچنے کے لیے ان کو ایک گھنے جنگل سے ہو کر کے گزرنا تھا اور جب وہ اس جنگل سے گزر رہے تھے تو ایک دوست کو پیاس لگی اور وہ پانی ڈھونڈنے کے لیے راستہ بھٹک گیا تھوڑی ہی دیر بعد شام ہو گئی اور رات ہونے ہی والی تھی تو ان دونوں کی نظر ایک غفا پے پڑی جو کہ درختوں سے گھری ہوئی تھی چاروں طرف سے تو ان دونوں نے سوچا یہ ہی جگہ ٹھیک ہے رات گزارنے کے لیے تو دونوں نے کچھ لکڑیاں اکٹھی کی اور اس غفا کے اندر گئے اور آگ جلا کر کے وہاں پر بیٹھ گئے رات کا وقت تھا غفا کے اندر آگ جل رہی تھی باہر بلکل اندھیرا تھا اور کچھ جانورں کی آوازیں آرہی تھی تو ان دونوں میں سے جو ایک دوست تھا وہ اندر ہی اندر ڈرنے لگا کیونکہ اس نے جن بھوت کی بہت کہانی سنی تھی کے رات کے وقت جنگل میں کچھ بھیانک روحیں بھٹکتی ہیں اور اگر ان کو کوئی ایسا بھٹکا ہوا آدمی مل جائے تو اس کو نہیں چھوڑتی تو جب اس نے یہ جن بھوت کی بات اپنے دوست سے کی تو اس کے دوست نے ہنستے ہوئے اس سے پوچھا کہ کیا کبھی تو نے کسی جن بھوت کو دیکھا ہے تو اس نے کہ نہیں میں نے تو نہیں دیکھا لیکن میرے کچھ جان پہچان کے لوگ ہیں انہوں نے دیکھا ہے تو اس کے دوست نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ یار ایسی سنی سنائی باتوں پے یقین نہیں کرتے اب تو سوجا اور مجھے بھی سونے دے مجھے نیند آرہی ہے اور اتنا کہہ کر کے اس کا دوست وہی پر لیٹ گیا اور تھوڑی ہی دیر میں سو گیا لیکن وہ جو اندر سے ڈرا ہوا تھا وہ لیٹ تو گیا لیکن اس کو نیند نہیں آرہی تھی اس کو لگا تھا کہ شاید یہاں پر کہیں کوئی ہے جو چھپ کر کے کہیں سے اس کو دیکھ رہا ہے اس آگ کی وجہ سے کچھ پرچھائیاں بن رہی تھی وہاں پتھروں پر تو ان پرچھائیوں کو بھی دیکھ کر کہ بھی وہ ڈر رہا تھا پھر کچھ گنٹھے تک ایسا ہی چلتا رہا پھر اس کے بعد میں کیونکہ وہ تھکا ہوا تھا تو اس کو نیند آگئی لیکن نیند آنے کے کچھ دیر بعد ہی اس کو ایک خواب آیا خواب میں اس کو ایک بہت ہی بھیانک پرچھائی اس کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آئی اب جیسے جیسے وہ اندر سے ڈرتا چلا جارہا تھا وہ پرچھائی اس کے اور قریب آتی چلی جا رہی تھی اور بڑی ہوتی چلی جا رہی تھی اور اس پرچھائی میں اس کو ایک ہاتھ نظر آیا جس کے بڑے بڑے ناخن تھے اور وہ ہاتھ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا اور اس کے گلے تک پہنچنے ہی والا تھا کہ تب ہی وہ ڈر کر کے ایک دم سے اٹھا پھر اس نے اپنے دوست کی طرف دیکھا جو کہ سو رہا تھا اسے پکڑ کر زور سے اٹھایا پھر اس نے اپنے دوست کو بتایا کہ اس ساتھ میں کیا ہوا تو اس کا دوست پھر ہنسنے لگا پھر اس کے دوست نے اس کو کہا کہ اب اگر دوبارہ سے تجھے وہ پرچھائی دکھے تو توں وہ کہنا جو میں تجھے کہہ رہا ہوں کہنے کے لیے پھر دیکھتے ہیں وہ پرچھائی تیرا کیا کرتی ہے تجھے اپنے اندر ہی اندر بولنا ہے میں تجھ سے نہیں ڈرتا سامنا آ تو اس کے دوست نے ویسا ہی کیا تھوڑی ہی دیر بعد دوبارہ سے اس کو خواب میں وہی پرچھائی نظر آئی اور وہ پرچھائی آرام آرام سے اس کی طرف بڑھنے لگی لیکن اس بار وہ اس پرچھائی سے ڈرا نہیں بلکہ اپنی پوری طاقت سے اسے نے وہی کہا میں تجھ سے نہیں ڈرتا سامنے آ میں تجھ سے نہیں ڈرتا سامنے آ جیسے جیسے وہ یہ بولنے لگا وہ پرچھائی چھوٹی ہونے لگی اور اس سے دور ہونے لگی وہ بولتا رہا وہ پرچھائی چھوٹی ہوتی رہی اور آہستہ آہستہ وہ پرچھائی دکھنی بند ہو گئی بلکل ایسا ہی ہماری زندگی میں بھی ہوتا ہے ہمارے اندر جتنے بھی ڈر ہیں اس سے ہم جتنا ڈرتے ہیں ہم اتنا ہی چھوٹے ہوتے چلے جاتے ہیں اور وہ ڈر اتنا ہی بڑے ہوتے چلے جاتے ہیں لیکن اگر ہم اپنے اندر کے ڈرو سے نہیں ڈرتے اور اس کا سامنا کرتے ہیں تو دنیا کا ایسا کوئی بھی ڈر نہیں جو کہ ہمیں ڈرا سکے۔۔
    جزاک الله ! خوش رہیں اور خوش رکھیں،

  • چار گناہ اور چار گناہ گار.  تحریر: احسان الحق

    چار گناہ اور چار گناہ گار. تحریر: احسان الحق

    اللہ تعالیٰ نے اسلام میں وسعت، آسانی اور نرمی رکھی ہے. یہی وجہ ہے کہ اسلام بہترین اور آسان ترین دین اور مذہب ہے. نیکی کی نیت کرنے پر ثواب مل جاتا ہے جبکہ گناہ کی نیت کرنے پر گناہ نہیں لکھا جاتا. یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی رحمت اور دین اسلام میں وسعت اور حسن کا ثبوت ہے.
    یہاں چار مختلف قسم کے گناہ یا گناہ گاروں کے متعلق بات کرتے ہیں.

    گناہ گار کی پہلی قسم ہے کہ بندہ گناہ کرنے کا پکا ارادہ کر لے کہ میں کل یا فلاں دن کو یہ کام کروں گا مگر وہ گناہ کرنا بھول جائے تو ایسے گناہ پر یا ایسے گناہگار پر کوئی گرفت نہ ہوگی. گناہ کرنے کے ارادے پر کوئی گناہ نہیں. مگر اس کے برعکس اگر بندہ نیکی کی نیت کرے اور بھول جائے تو اس کو ثواب ملے گا.

    ایسا گناہ گار جو گناہ کرنے کا مصمم ارادہ کر لے مگر کسی مجبوری، کمزوری، ضعف یا معذوری کی وجہ سے گناہ نہ کر پائے تو اس کو گناہ ہو گا. اس بندے کے اعمال نامے میں اس جرم کا گناہ لکھ دیا جائے گا. نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد عالی شان ہے کہ "جب دو مسلمان تلوار لیکر ایک دوسرے کو قتل کرنے کی نیت سے نکلتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں” اصحابِ رسولﷺ نے عرض کیا کہ یارسولﷺ قاتل تو جہنم میں جائے مگر مقتول کیوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مقتول اپنی کمزوری کی وجہ سے اس کو قتل نہیں کر پایا وگرنہ یہ بھی دوسرے کو قتل کرنے کے ارادے سے آیا تھا.

    اس حوالے سے تیسرا گناہ گار وہ ہے جو گناہ کرنے کا ارادہ کر لے مگر عین وقت پر اخلاص دل سے اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے اس گناہ سے دستبردار ہو جائے تو ایسے بندے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم ہے. جیسا کہ صحیح بخاری میں بنی اسرائیل کا مشہور واقعہ ہے جس میں ایک غار کا دروازہ بہت بڑی چٹان سے بند ہو جاتا ہے اور تین لوگ اندر محصور ہو جاتے ہیں. ان تین محصورین میں سے ایک ایسا بندہ بھی تھا جو 120 دینار کے بدلے بدفعلی والا کام عین وقت پر اللہ تعالیٰ کے خوف سے ترک کر دیتا ہے. وہ اپنے اس نیکی والے کام کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا ہے تو غار کے دروازے سے پتھر ہٹ جاتا ہے. اسی طرح مسند احمد میں کفل نامی بندے کا واقعہ بھی تفصیل سے موجود ہے جس کے دروازے پر اللہ تعالیٰ لکھ دیتے ہیں کہ آج رات کفل کے سارے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں. 60 یا 70 دینار کے بدلے کفل کسی مجبور عورت کے ساتھ بدفعلی کرنے سے چند لمحے پہلے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے برائی سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور اسی رات کفل کا انتقال ہو جاتا ہے.

    چوتھا گناہ گار ایسا گناہ گار ہے جو اپنے ارادے کے مطابق گناہ کر گزرتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں ایک گناہ لکھ دیا جاتا ہے. یہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے کہ ایک گناہ کے بدلے ایک گناہ جبکہ ایک نیکی کے بدلے 10 نیکیاں ملتی ہیں. خلوص نیت کے مطابق ان نیکیوں میں 70 گنا سے 700 گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے یا اس سے بھی زیادہ جتنا اللہ تعالیٰ چاہیں.

    @mian_ihsaan

  • کیا امیر اور غریب کے لیے انصاف کا ترازو ایک ہے؟ تحریر: سحر عارف

    کیا امیر اور غریب کے لیے انصاف کا ترازو ایک ہے؟ تحریر: سحر عارف

    انصاف کے معنی کچھ یوں ہیں کہ کسی چیز کا فیصلہ کرتے وقت اس کے اصل حقدار کو اس کا پورا حق دینا۔ یا یوں کہیں کہ کسی فرد کے ساتھ کسی دوسرے فرد یا گروہ کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بننے والے کو اس کا حق یعنی انصاف دیا جائے۔

    اللّٰہ پاک کا ارشاد ہے:
    "اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو، اللّٰہ تمہیں خوب نصیحت کرتا ہے، بےشک اللّٰہ سنتا (اور) جانتا ہے”
    (النساء 58)

    اس آیت سے انصاف کی اہمیت کا باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس قدر اللّٰہ پاک نے انصاف کا حکم دیا ہے۔ وہ لوگ جو دوسروں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں اور انہیں انصاف نہیں دیتے بےشک ان کے لیے اللّٰہ کے ہاں سخت سزا موجود ہے۔

    لیکن یہاں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہمارے ملک میں امیر اور غریب کے لیے انصاف کا ترازو ایک ہے؟ تو جناب جواب صاف ہے "نہیں”۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں انصاف کے حوالے سے حالت بہت بگڑی ہوئی ہے۔ یہاں انصاف صرف دو قسم کے لوگوں کو ہی آسانی سے ملتا ہے۔

    ایک وہ جو بہت ہی بااثر لوگ ہوں، جو اپنے زور پہ اپنا حق لینا جانتے ہوں یا دوسرا وہ لوگ جن کا تعلق اچھے خاصے امیر خاندانوں سے ہو جو انصاف لینے کے لیے اگر اپنا پیسہ پانی کی طرح بہا بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ پھر پیچھے بچتی ہے بیچاری غریب عوام، جو خود سے زیادتی ہونے کے بعد انصاف کی طلب کے لیے ساری زندگی انتظار کرتے کرتے بڑھاپے تک کو پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن انہیں انصاف نہیں ملتا۔

    اب تک بہت سی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں پر کسی نے بھی ملک کے عدالتی نظام پر توجہ نا دی بلکہ اس ادارے کو اپنے اپنے مقصد کے لیے جس قدر ہوسکا استعمال کیا۔ لیکن اب جب عمران خان کی حکومت آئی ہے تو غریبوں نے بھی ایک آس لگائی ہے کہ شاید اب ہی عدالتی نظام بہتر ہوجائے گا اور انہیں بھی انصاف ملا کرے گا۔

    لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ جس طرح عدالتی نظام کو بگاڑنے میں سالوں سال لگائے گئے ہیں اسی طرح اس کو سنوارنے میں چند سال تو درکار ہونگے۔ لیکن انشاء اللہ ہم وہ وقت بھی دیکھیں گے جب امیر اور غریب کے لیے قانون ایک ہوگا۔

    @SeharSulehri

  • درخت اور ان کی اہمیت   تحریر  : راجہ ارشد

    درخت اور ان کی اہمیت تحریر : راجہ ارشد

    ماہرین کے مطابق ، کسی بھی ملک کی مجموعی آبادی کا 25٪ جنگلات ہونے جائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی ملک میں ایک ملین درخت لگانے کا فیصلہ کیا ہمارے ملک کو اس فیصلے کی حکومتی سطح پر اشد ضرورت تھی۔
    درختوں کا وجود بھی اللہ تعالٰی کی نعمت ہیں جو موسمی تبدیلی کا سبب بنتے ہیں۔ درختوں کے منصوبے سے ملک کو بہت فائدہ حاصل ہوں گے ۔
    درخت جہاں ہمیں سایہ فراہم کرتے ہیں وہاں ہمیں آکسیجن بھی فراہم کرتے ہیں جو سانس لینے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
    درخت ہوا میں موجود زہریلی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ درختوں کے بغیر زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

    موجودہ حکومت اور بالخصوص وزیراعظم  عمران خان کے ایک ارب درختوں کے منصوبے سے ملک میں سیلاب کی صورت حال کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ درخت لگانے سے بہت سی قدرتی آفات سے بچا جا سکتا ہے- گزشتہ برسوں سیلابوں کی صورتحال سے تو سبھی آگاہ ہیں۔ہمارا کتنا جانی اور مالی نقصان ہوا
    ان سیلابوں کی صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی درخت بہت ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
    درخت زیرِ زمین پانی کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور اس سے ان کی نشوونما ہوتی ہے۔ درخت ہمارے ماحول کو بھی خوشگوار بناتے ہیں درختوں کے ارد گرد بسنے والے لوگوں کی صحت پر بھی بڑا اچھا اثر پڑتا ہے بیماریاں بھی کم ہوتی ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے درخت لگانے کا جو شعور قوم کو دیا ہے اس کے بہت فائدے ہیں- ہمیں بھی چاہیئے کہ شجر کاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ماحول کو خوشگوار بنائیں اور آنے والی نسلوں کے لیےخوشگوار اور اچھا ماحول تیار کریں۔ ملک پاکستان کا ہر فرد کم از کم ایک درخت ضرو لگائے چاہے اپنے صحن میں ہی لگا لے۔

    ہمارے شہروں میں فیکٹریوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ماحول پر بہت برا اثر پڑ ریا ہے درخت آوازوں کو بھی اپنے اندر جذب کرتے ہیں شور اور آلودگی کو بھی ختم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کے اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگا کر ملک میں معیار زندگی کو بہتر بنایا جائے کپتان کے اس اقدام سے شہروں میں صاف فضا اور ایک آچھا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کے اس ملین ٹری منصوبے سے ملک میں موجود خشک سالی بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ درخت خشک سالی کو کنٹرول کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    درختوں کی موجودگی تناؤ اور افسردگی کو کم کرتی ہے اور لوگوں کو جسمانی اور جسمانی طور پر صحت مند بناتی ہے ۔درخت لینڈ سلائیڈنگ سے بھی بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • کوڈ 19 اور سائبرسیکیوریٹی پاکستان کیلئے ایک ڈراؤنا خواب تحریر: شہزاد احمد

    کوڈ 19 اور سائبرسیکیوریٹی پاکستان کیلئے ایک ڈراؤنا خواب تحریر: شہزاد احمد

    جب کووڈ- 2019،19میں سر اٹھانے لگا اور اس کے بعد 2020 میں تقریبا تمام شعبہ ہائے زندگی متاثر ہوئے۔ لوگوں کی ملازمتیں ختم ہوگئیں، کمپنیوں کو اپنی پیداوار بند کرنا پڑا اور اسکول بند کردیئے گئے۔
    لیکن اس وسطی وقت میں سائبر سیکیورٹی حملے وہ واحد حقیقت تھی جو پوری دنیا میں کورونا وائرس کے پھیلنے سے بڑ تھی گئ۔
    اس مہلک وبا کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوگئے، اور ان کی سرگرمیاں صرف انٹرنیٹ اور کمپیوٹر تک ہی محدود ہوگئ۔ اس سے سائبر جرائم پیشہ افراد کو رازداری کی خلاف ورزی کرنے اور اسے اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنے کا موقع مل گیا ۔ قرنطین کے دوران، صارفین اپنے موبائل فونز اور کمپیوٹرز میں ایپس ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں اور ایپ کو اپنے موبائل ڈیٹا تک رسائی فراہم کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ چونکہ آج معلوماتی جنگ کا دور ہے، لہذا کوئی بھی ادارہ یا ریاست غیر اعلانیہ انہیں دیئے گئے ڈیٹا سے فائدہ اٹھاسکتی ہے، یہ تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے، اور لوگوں کے ڈیٹا کو ذاتی اور قومی سلامتی کو بھی نقصان پہنچانے کے لئے غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔
    حالیہ دنوں میں گوگل نے لاکھوں پشنگ اور میلویئر گھوٹالوں سے متعلق اطلاع دی ہے۔
    چونکہ پاکستان ایک ترقی پذیر
    ملک ہے اور کوویڈ 19 کی غیر یقینی صورتحال میں، سائبرسیکیوریٹی کے خطرات ایک مکمل ڈراؤنہ خواب ہے۔
    تمام تعلیم، کاروبار اور معیشتیں تیزی سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور ٹیکنالوجیز پر منحصر ہوتی جارہی ہیں۔ روایتی معیشتوں کے کام کرنے کے طریقے مکمل طور پر تبدیل ہو رہے ہیں۔
    عالمی نیٹ ورکنگ پر کوڈ 19 کے اثرات کی اطلاعات کے مطابق، امریکہ میں ٹیلی مواصلات کی ایپلی کیشنز (جیسے زوم، اسکائپ، وغیرہ) میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
    امریکہ میں گیمنگ میں 400٪ اضافہ ہوا ہے۔
    زوم سے ڈیٹا ٹریفک میں 828٪ اضافہ اور تھائی لینڈ میں اسکائپ ویڈیو کانفرنسنگ ایپلی کیشنز میں 215٪ اضافے۔
    سیٹیلائٹ آپریٹرز کے مشاہدہ کے مطابق، پورے یورپ اور امریکہ میں خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں ڈیٹا ٹریفک میں 15 سے 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
    یہ "ورک فرام ہوم” تنظیموں، طلباء، اور اساتذہ کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج تھا جو جدید مواصلاتی اوزار سے واقف نہیں تھے۔ غیرخفیہ کردہ مواصلات کی وجہ سے بہت سے زوم اکاؤنٹس اس وبائی مرض کے دوران ہیک ہو گئے
    یہ بھی اطلاعات بھی ملتی رہی کہ تعلیمی زوم سیشن کے دوران مشتبہ افراد سیشن میں شامل ہوجاتے ہیں اور بہت سی رکاوٹوں کا باعث بنتے ہیں۔
    ملازمین پر سوشل انجینئرنگ کے حملوں کا زیادہ امکان تھا اور حملے ہوۓ بھی کیونکہ حملہ آور ملازمین کے بڑھتے ہوئے کام کا بوجھ، انکے نیۓ کام کرنے کے طریقوں سے نا شناسی کا غلط فایدہ اٹھا تے تھے۔
    پی ٹی اے کے مطابق پاکستان میں موبائل ٹریفک میں تقریبا 22 فیصد اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں محدود فکسڈ نیٹ ورک ہیں۔
    لوگ روایتی سے او ٹی ٹی سروس (اوور دی ٹاپ میڈیا) میں منتقل ہورہے ہیں۔
    پاکستان میں جب تمام طلباء اور اساتذہ کی نظریں ایچ ای سی (ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان) کی طرف تھیں، کچھ آن لائن کلاسوں کی منسوخی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ کچھ نے مشورہ دیا کہ پورے ملک میں انٹرنیٹ کی دستیابی کو یقینی بنائیں اور پھر آن لائن کلاسیں دوبارہ شروع کریں، اور اسی اثنا میں، ایچ ای سی کی سرکاری ویب سائٹ ہیک ہوگئی-
    پاکستان میں جب ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا تو لوگ بے روزگار ہو گئے تھے اور انہیں پیسوں کی ضرورت تھی ان میں سے کچھ نے آن لائن کام کا رخ کیا۔
    صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لئے اسکیمرز نے اپبی منصوبہ بندی کو بڑھاوا دیا، انہوں پاکستانی موبائل نمبروں کا ایک ڈیٹا بیس تیار کیا اور لوگوں پر ایک سوشل انجینئرنگ تکنیک کا استعمال کیا۔ اس وقت حکومت پاکستان نے روزانہ مزدوری کرنے والوں میں 1200 روپے تقسیم کرنے کے لئے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا۔
    اسکیمرز نے اسی پلیٹ فارم کا استعمال کیا اور پاکستان کے اندر لاکھوں دھوکے کے پیغامات بھیجے کہ ”آپ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے لیے اہل ہیں اور اپنے پیسے وصول کرنے کے لیے ہم سے رابطہ کرے۔ ان سے ذاتی معلومات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور موبائل لوڈ کی شکل میں پیسے بھی مانگے جا رہے ہیں۔ ہزاروں افراد اس دھوکے کا شکار ہوچکے ہیں
    اسکیمرز نے یہی تکنیک (بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام)، جیتو پاکستان (پاکستان میں مشہور ٹی وی شو) کا رکن بنک یا ایزی پیسہ کے ممبر ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے بھی استعمال کیا،
    یہاں تک کہ ایف آئی اے، پی ٹی اے، اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے ملازمین کو بھی اسی طرح کے دھوکے کے پیغامات موصول ہوتے ہیں۔
    لیکن یہ کھیل اب بھی جاری ہے اور رک نہیں رہا، ہر روز ہزاروں افراد کو یہ دھوکے کے پیغامات موصول ہوتے ہیں اور ان میں سے سیکڑوں افراد اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔
    نہ صرف کوڈ 19 کی وجہ سے بلکہ ہمارے خطے اور پڑوسی مماللک کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے اب اور مستقبل میں دنیا کی نگاہیں پاکستان کی طرف ہیں۔
    جیسے ہی دنیا ٹیکنالوجی اور سائبرسیکیوریٹی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہے پاکستان میں سائبرسیکیوریٹی آگہی کا فقدان ہے
    حکومت پاکستان کو سائبر کرائمینلز کے خلاف مناسب کاروائیاں کرنے اور مقامی زبانوں میں سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر سائبرسیکیوریٹی بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
    سائبر خطرات سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے پاس ضروری قانون سازی نہیں ہے۔ پاکستان نے 2016 میں ایک سائبر کرائم قانون کی منظوری دی، جسے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 کا عنوان دیا گیا تھا، تاہم سائبر سیکیورٹی کے بہت سے اہم شعبوں پر توجہ نہیں دی گئی ۔ پاکستان میں سائبر سیکیورٹی کے مزید سخت قوانین کی ضرورت ہے جن میں کاروباری اداروں اور تنظیموں کو اپنے کمپیوٹر سسٹم اور حملوں کے خلاف ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہو۔ سرکاری اداروں، توانائی کی صنعت کے ساتھ ساتھ صحت کی دیکھ بھال اور مالی تنظیموں کو بھی قوانین کے تحت اپنے کمپیوٹر سسٹم اور معلومات کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہو۔
    by Shehzad Ahmad
    Follow me on Twitter @Imshehzadahmad

  • کرونا ویکسین لازم ہے  تحریر:  رانا بشارت محمود

    کرونا ویکسین لازم ہے تحریر: رانا بشارت محمود

    کرونا وائرس (کووڈ-19) پوری دنیا کے لیے ایک انتہائی مہلک اور جان لیوا وبائی بیماری ثابت ہوئی ہے۔ اِس وبائی بیماری سے متاثرہ چند افراد دسمبر 2019 میں جب چین کے ایک صوبے ووہان میں سامنے آئے، تب کسی کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ یہ وبائی بیماری اتنے لمبے عرصے تک پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

    اور اب تک آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں اِس کرونا وائرس نامی وبائی بیماری کو تقریباً دو سال پورے ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک اس کے مکمل طور پہ ختم ہو جانے کی کوئی مثبت اور حوصلہ افزا امید نظر نہیں آ رہی ہے۔

    تاہم پوری دنیا سے بہت سارے سائنسدانوں کی دن رات کی محنت اور کوششوں سے اب پوری دنیا میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے منظور شدہ متعدد ویکسینز عوام الناس کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب پوری دنیا میں 13 مختلف ویکسینز استعمال کی جا رہی ہیں، جن کی کم از کم دو خوراکیں یا پھر زیادہ سے زیادہ تین خوراکیں (تاہم ضرورت پڑنے پہ ڈاکٹرز کے مشورے سے اس سے زیادہ بھی دی جا سکتی ہیں) لوگوں کو کچھ دنوں کے وقفے کے بعد دی جا رہی ہیں۔ جن میں سے چند کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    اِن میں سب سے پہلی ویکسین جو 2020 کے آخر میں جرمنی کے شہر مینز میں واقع بائیو ٹیک نامی کمپنی کے دو ڈاکٹرز جن میں 55 سالہ اوگور ساہین اور 53 سالہ اوزیلیم توریسی (جوکہ اصل میں خاوند اور بیوی بھی ہیں) اور ان کی ٹیم نے فائزر کے نام سے ایک ویکسین تیار کرلی تھی۔ جسے تب عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھی کرونا وائرس کے خلاف 90٪ تک مؤثر قرار دے دیا گیا تھا اور اس کا پہلا تجربہ انگلینڈ میں ایک 91 سالہ خاتون جس کا نام مارگریٹ کیینن ہے، کو 8 دسمبر 2020 کو انجیکشن کے ذریعے پہلی خوراک دے کر کیا گیا تھا۔

    پھر اُس کے بعد آسٹرزینیکا/اے زیڈ ڈی 1222 نامی ویکسین جسے آسٹرزینیکا /آکسفورڈ اور اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور ایس کے بایو نے تیار کیا تھا، اور جس کو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 16 فروری 2021 کو عوام الناس کو دینے کی منظوری بھی دے دی گئی تھی.

    پھر ایک اور مشہور سینوفرم نامی ویکسین جس کو چین نیشنل بائیوٹیک گروپ (سی این بی جی) کے ماتحت ایک ادارہ ہے، جسے بیجنگ بائیو انسٹیٹیوٹ آف بائیولوجی پراڈکٹ کمپنی لمیٹڈ نے تیار کیا ہے۔ اور جسے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 7 مئی 2021 کو عوام الناس کو دینے کی منظوری بھی دے دی گئی تھی.

    اب تک اگر پوری دنیا کی بات کریں تو عالمی ادارہ صحت کے مطابق آج بتاریخ 28 جولائی 2021 تک کُل تین ارب بیاسی کروڑ ننانوے لاکھ پینتیس ہزار سات سو بہتر ویکسین کی خوراکیں لوگوں کو دی جا چکی ہیں۔

    جن میں سے امریکہ میں دی جانے والی اب تک کل تعداد چونتیس کروڑ چودہ لاکھ انتیس ہزار چھ سو چھیانوے ہے، روس میں دی جانے والی اب تک کی کل تعداد پانچ کروڑ ستائیس لاکھ بیاسی ہزار آٹھ سو اٹھاسی ہے، انگلینڈ میں دی جانے والی اب تک کی کل تعداد آٹھ کروڑ چوبیس لاکھ تیرا ہزار سات سو چھیاسٹھ ہے، بھارت میں دی جانے والی اب تک کی کل تعداد پینتالیس کروڑ انیس لاکھ بارہ ہزار تین سو پچانوے ہے اور برازیل میں دی جانے والی اب تک کی کل تعداد بارہ کروڑ بتیس لاکھ اکانوے ہزار چھ سو دس ہے۔
    جبکہ پاکستان میں این سی او سی کے مطابق دی جانے والی اب تک کی کل تعداد آج بتاریخ 28 جولائی 2021 تک دو کروڑ اٹھہتر لاکھ پچھتر ہزار نو سو ننانوے ہے۔ جن میں سے وہ جن کی ویکسین کی خوراکیں مکمل ہو چکی ہیں ان کی کل تعداد انسٹھ لاکھ سات ہزار نو سو انتیس ہے، جبکہ وہ جن کو اب تک ویکسین کی کم از کم ایک خوراک دی جا چکی ہے ان کی کل تعداد دو کروڑ انیس لاکھ اڑسٹھ ہزار ستر ہے۔

    اور اب روزانہ کی بنیاد پہ لوگوں کا ویکسین کی خوراکیں لینے والوں میں بھی بڑی حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جیساکہ این سی او سی کے مطابق آج کے دن بتاریخ 28 جولائی 2021 کو پچھلے چوبیس گھنٹوں میں آٹھ لاکھ انچاس ہزار چھ سو چونتیس لوگوں کو ویکسین کی خوراکیں دی گئی ہیں۔ جو کہ ایک بہت بڑی اور حوصلہ افزا تعداد ہے۔

    کیونکہ پچھلے دِنوں پاکستان اور کئی دوسرے ممالک میں بھی کرونا کی ویکسین کے متعلق بہت سی افواہیں گردش کرتی رہی ہیں۔ کہ جو ویکسین کی خوراکیں لیں گے وہ خدانخواستہ بانجھ ہونا شروع ہو جائیں گے یا پھر وہ لوگ ایک، دو یا چند سالوں کے بعد مرنا شروع ہو جائیں گے اور اِن میں سے ایک خبر جو کہ کسی سائنسدان سے منسوب کی جارہی تھی جو میں نے بھی ایک اخبار کے تراشے پہ پڑھی وہ یہ تھی کہ ویکسین لگوانے کے بعد لوگ مگرمچھ بن جائیں گے، جوکہ انتہائی غیر فطری اور سراسر جھوٹ پہ مبنی بات ہے۔

    ایسے عناصر اور اخبارات و رسائل جو ایسی بے بنیاد، من گھڑت اور جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ اُن کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔ تاکہ عوام میں کرونا ویکسین لینے کے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات ختم ہو سکیں اور تاکہ اس سے عوام میں یہ پیغام بھی جائے کہ کرونا ویکسین کی خوراکیں لینا انتہائی اہم اور ضروری ہے۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ میرے پاکستانیوں جیساکہ ہم سب جانتے ہیں کہ پوری دنیا میں اِس کرونا وائرس نامی وبائی بیماری نے اب تک لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کی جان لے لی ہے۔ تو اِس کے پھیلاؤں کو روکنے اور خود کو اس سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب جلد از جلد حکومت کی طرف سے عوام کی حفاظت کی خاطر دی جانے والی ویکسین کی خوراکیں لازمی لیں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں، تاکہ ہم خود کو اور اپنے پیاروں کو بھی اِس مہلک وبائی بیماری سے بچا سکیں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    – Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • کماۓ کراچی ہاۓ کراچی ہاۓ کراچی!!!  تحریر: سلمان احمد صدیقی

    کماۓ کراچی ہاۓ کراچی ہاۓ کراچی!!! تحریر: سلمان احمد صدیقی

    دورِ حاضر میں کراچی ملک کو تقریباً 65 سے 70 فیصد ریونيو اور سندھ کو 90 فیصد کما کر دینے والا ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اگر یہ بات کہی جاۓ کے ملک کی معیشت چلانے میں کراچی شہر کا بہت بڑا ہاتھ ہے تو یہ کسی صورت غلط نہ ہوگا۔ لیکن جب ہماری نظر اس شہر کے مسائل پر پڑتی ہے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کے اتنا ریونيو دینے والے شہر کے شہری ذندگی کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ ملک کے تقریبا تمام قوموں سے تعلق رکھنے والے افراد کراچی میں رہائش پزیر بھی ہیں اور برسرِ روزگار بھی ہیں۔ اگر ہم آج سے گیارہ سال پیچھے چلے جاٸیں تو کراچی ایسا نہ تھا بلکے کراچی دنیا کے دس تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں کی فہرست میں شامل تھا۔ شہر میں عوام کی تفریح کےلیے خوبصورت پارک موجود تھے۔ فلاٸ اوورس اور بہترین سڑکوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ نکاسی آب کا نظام بھی آج کے دور سے بہت بہتر تھا۔اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی بھی قدرے بہتر تھی۔آج وہ ہی کراچی دنیا کے پانچ اُن شہروں میں شامل ہے جو کے انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں ہے غرض یہ کے آج کراچی تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ اس تباہی اور بربادی کے زمیداروں کا تعين کرنا کسی سوال سے کم نہیں۔ عقل سمجھنے سے قاصر ہے کے اس بربادی کا زمیدار کس کو ٹہرإیا جاۓ۔ کیا وہ تمام سرکاری ادارے اس کے زمیدار ہیں یا وہ سیاسی پارٹیاں جو اس شہر کا مینڈیت لے کے اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں یا عوام جو کے اتنی پریشانیاں اٹھانے کے باوجود بھی خاموش تماشائی بن کے صبر کیے ہوۓ ہیں۔ یہ فیصلہ تو میں پڑھنے والے تمام معززین پے چھوڑتا ہوں۔ ملک کا سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کبھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے بھیگ مانگ رہا ہوتا ہے۔ بڑے بڑے منصوبوں اور فنڈز دینے کے اعلانات اور دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن عملی طورپر کارکردگی صفر ہے۔ جتنا ٹیکس کراچی سے جمع کیا جاتا ہے اگر اس میں سے چند فیصد بھی ایمانداری کے ساتھ اس شہر کی تعمير و ترقی کے لیے خرچ کیا جاتا تو آج اس شہر کا یہ حال نہ ہوتا۔ یہ بات اس شہر کی بدقسمتی سے کم نہیں ہے۔ پاکستان الله کی طرف سے ہمارے لیے بہت بڑی نعمت ہے اور کراچی پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ریاست اور اربابِ اختیار کی یہ ذمیداری ہے کے کراچی کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پے حل کریں تاکہ یہاں معاشی سرگرمياں میں بھی استحکام پیدا ہوسکے۔ پاکستان کی ترقی کراچی کی ترقی سے جوڑی ہوٸ ہے اور کراچی کا تباہ ہونا پاکستان کا تباہ ہونا ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ حکمرانوں کو ہدایت دے اور اس تباہ حال شہر کو مسائل سے پاک کردے۔آمین

  • ذکر الہٰی  تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    ذکر الہٰی تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    ذکر کے معنی یاد کرنا کے ہوتے ہیں اور ذکر الہٰی سے مراد رب کائنات اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا ہیں۔
    ذکر الہٰی سب عبادتوں کا مجموعہ ہے اور ذکر الہٰی میں دلوں کا سکون ہے۔

    *قرآن مجید میں ارشاد:*

    *”آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ کے ذکر میں دلوں کا اطمینان ہے۔”* (سورت الرعد 28)

    آج کل کے دور میں ہر کوئی بے سکونی کا شکار ہے، ٹینشن کا شکار تو اس کا واحد حل خدا تعالیٰ کا ذکر ہے۔

    *آقائے دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:*

    *”اللہ تعالیٰ کا ذکر دلوں کی شفاء ہے.”*

    انسان دنیاوی جتنی بھی باتیں کرے وہ خدا کے ذکر سے اچھی نہیں ہوتیں، انسان دنیاوی جتنی بھی محافل میں شرکت کرے وہ ذکر الہٰی کی محفل سے افضل نہیں ہوتیں۔ ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد خدا کو یاد کرنا تھا اور وہ ہم بھول گئے ہیں۔
    ذکر الہٰی کی بہت سی قسمیں ہیں،جیسا کہ نماز، قرآن مجید کی تلاوت، تسبیحات وغیرہ۔
    جملہ امراض نفسانی و روحانی سے شفا ذکر الہٰی ہے۔
    انسان کی ہلاکت کے لیے بہت سی بلائیں منہ کھولے کھڑی ہیں، اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کی روک ہے۔
    اللہ کا ذکر سب بیماریوں کی شفاء اور خدا تعالیٰ کے ساتھ دوستی اور محبت کا ذریعہ ہے۔
    آج ہر گھر میں پریشانی، لڑائی، جھگڑے، فسادات ہیں اس کی وجہ سے خدائے واحد کے پیغام سے دوری۔۔۔
    اس کی وجہ ذکر الہٰی سے دوری۔۔۔
    ہم لوگ دکانوں، سینماؤں، مارکیٹوں میں گھنٹوں صرف کر دیتے ہیں مگر خدا کو یاد نہیں کرتے۔۔۔
    ہم یہ تو راگ الاپتے ہیں کہ کاروبار میں برکت نہیں، گھر میں پریشانی ہے، رات کو نیند نہیں آتی، ارے بھائی یہ سوچ تونے خدا کو بھی یاد کیا ہے، جب ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کریں گے تو وہ خدا ہماری پریشانیوں کو دور کر دے گا اور ہمارے لیے بہتری کے فیصلے فرما دے گا۔۔۔
    انسان جس سے محبت کرتا ہے اسے دن میں کئی مرتبہ یاد کرتا ہے اور خدا سے محبت کا تقاضا ہے کہ اس کا ذکر کیا جائے۔۔۔۔
    ہم اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں جو ہر وقت خدا کی یاد میں مستغرق رہتے تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی ہر وقت خدا کی یاد میں مصروف رہتے تھے۔ وہ اپنے کام بھی کرتے اور خدا کو یاد بھی کرتے اور ہم لوگ دنیاوی کاموں میں مصروف ہوچکے ہیں اور خدا کو بھول چکے ہیں۔۔
    دنیا کی ہر چیز اللہ کا ذکر کرتی ہے، چرند، پرند، درند حتی کہ مٹی کے ذرات بھی خدا کا ذکر کرتے ہیں اور ہماری زبانیں غیبت، چغلی کرنے میں مشغول ہوتی ہیں اسی وجہ سے پریشانیوں کا شکار ہیں۔
    اے مسلمان!!
    اے میری جان!!
    اپنے دنیاوی کاموں کو کرنے کے ساتھ ساتھ خدا کو بھی یاد رکھ یہ تیرے لیے اصل سرمایہ ہے جو کہ تیری ہمیشہ کی زندگی کے لیے ضروری ہے، تو خدا کو یاد کر کے تو دیکھ اس کے دنیاوی فوائد بھی اور آخرت میں بھی۔۔۔
    خدا کو کسی مطلب کے لیے یاد نہ کر خدا کو صرف اس کی رضا کے لیے یاد کر۔۔۔۔۔

    *رہوں ہر وقت تیری یاد میں مستغرق*
    *میرے لب پہ ہر پل یہی دعا ہے*
    *(بلال انجم)*