Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • صحابہ کرامؓ کا مقام و مرتبہ  تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    صحابہ کرامؓ کا مقام و مرتبہ تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    صحابی کا مقام اور مرتبہ جاننے سے پہلے انکی تعریف کا جاننا ضروری ہے ۔۔تو صحابی ہر اس شخص کو کہا جائے گا جس نے ایمان کی حالت میں خاتم النّبیین محمد صلى الله عليه وسلم سے ملاقات کی ہو اور اسی ایمان کے ساتھ وفات پائی ہو۔۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ صحابہ کرام سے محبت وعقیدت کے بغیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت نہیں ہوسکتی اور صحابہ کرام کی پیروی کئے بغیر آنحضور صلى الله عليه وسلم کی پیروی کا تصور محال ہے۔

    ‎اب ہم صحابہ کے مقام کو قرآن پاک کی روشنی میں دیکھ لیتے ہیں کہ قرآن پاک صحابہ کے مقام کے بارے میں کیا کہتا ہے۔۔ ( آیت نمبر 1 )
    ‎اِنَّ الذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْواتَہم عِندَ رَسُولِ اللّٰہِ اُولٰئِکَ الَّذِیْنَ اِمْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوبَہُم لِلتَّقْویٰ لَہُم مَغْفِرةٌ وَاَجْرٌ عَظِیْمٌ. (سورہ الحجرات:۳)
    ‎ترجمہ: بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کیلئے خالص کردیا ہے ان لوگوں کیلئے مغفرت اوراجر عظیم ہے۔۔۔اس آیت میں صحابہ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ متقی ہیں اور انکے بہت بڑا اجر ہے
    ‎( آیت نمبر 2 ) مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہ اَشِدَّاءُ عَلَی الکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَہُمْ تَراہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ اللّٰہِ وَرِضْواناً سِیْمَاہُم فِی وُجُوْہِہِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ (سورہ فتح:۲۹)
    ‎ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کررہے ہیں کبھی سجدہ کررہے ہیں اور اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ان کی (عبدیت) کے آثار سجدوں کی تاثیر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔۔۔اس ایت میں صحابہ رضی اللہ عنھم کی بہت سی باتوں میں حق تعالی خود تعریف کر رہے ہیں اور جسکی اللہ تعالی خود تعریف کریں انکا مقام کیسا ہو گا آپ اور میں سمجھ سکتے ہیں

    ‎اب ہم صحابہ کا مقام احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں دیکھ لیتے ہیں
    ‎( حدیث نمبر 1 ) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :’’إِنَّ اللّٰہَ نَظَرَ فِیْ قُلُوْبِ الْعِبَادِ فَوَجَدَ قَلْبَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْرَ قُلُوْبِ الْعِبَادِ، فَاصْطَفَاہُ لِنَفْسِہٖ، فَابْتَعَثَہٗ بِرِسَالَتِہٖ ، ثُمَّ نَظَرَ فِیْ قُلُوْبِ الْعِبَادِ بَعْدَ قَلْبِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ قُلُوْبَ أَصْحَابِہٖ خَیْرَقُلُوْبِ الْعِبَادِ، فَجَعَلَہُمْ وُزَرَائَ نَبِیِّہٖ یُقَاتِلُوْنَ عَلٰی دِیْنِہٖ ، فَمَا رَأٰی الْمُسْلِمُوْنَ حَسَنًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ حَسَنٌ وَمَا رَأَوْا سَیِّئًا فَہُوَ عِنْدَ اللّٰہِ سَيِّئٌ۔‘‘ (مسند احمد،۳۴۶۸)
    ‎ترجمہ ’’اللہ تعالیٰ نے اپنے سب بندوں کے دلوں پر نظر ڈالی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب کو ان سب قلوب میں بہتر پایا، ان کو اپنی رسالت کے لیے مقرر کردیا، پھر قلب محمد کے بعد دوسرے قلوب پر نظر فرمائی تو اصحابِ محمد کے قلوب کو دوسرے سب بندوں کے قلوب سے بہتر پایا، ان کو اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحبت اور دین کی نصرت کے لیے پسند کرلیا
    ‎( حدیث نمبر 2 ) اَللّٰہَ اَللّٰہَ فِيْ أَصْحَابِيْ ، لَاتَتَّخِذُوْہُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِيْ، فَمَنْ أَحَبَّہُمْ فَبِحُبِّيْ أَحَبَّہُمْ وَمَنْ أَبْغَضَہُمْ فَبِبُغْضِيْ أَبْغَضَہُمْ ، وَمَنْ أٰذَاہُمْ فَقَدْ أٰذَانِيْ وَمَنْ أٰذَانِيْ فَقَدْ أٰذَی اللّٰہَ، وَمَنْ أٰذَی اللّٰہَ فَیُوْشِکُ أَنْ یَّأْخُذَہٗ۔‘‘(ترمذی، ج:۲، ص:۲۲۵) ترجمہ ’’اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہؓ کے معاملے میں، میرے بعد ان کو (طعن وتشنیع کا) نشانہ نہ بناؤ، کیونکہ جس شخص نے ان سے محبت کی تو میری محبت کے ساتھ ان سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کے ساتھ ان سے بغض رکھا، اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء پہنچائی، اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذاء پہنچائی، اور جو اللہ کو ایذاء پہنچانا چاہتا ہے تو قریب ہے کہ اللہ اس کو عذاب میں پکڑلے گا۔ ان ایات قرآنیہ اور احادیث نبویؐ کی روشنی میں تمام صحابہ کا مقام واضح ہو گیا کہ انکا مقام اللہ اور انکے رسول کے ہاں کتنا بلند و بالا ہے۔۔۔اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

    Chaudhry Yasif Nazir

    Chaudhry Yasif Nazir is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter account

    Follow @IamYasif

  • محبت مسلسل   تحریر:  فرزانہ شریف

    محبت مسلسل تحریر: فرزانہ شریف

    جب ہم ہوش سنبھالتے ہیں سب سے پہلے جو ہماری ماں ہمیں سبق سکھاتی ہے اللہ سے پیار کرنا اس کے بندوں سے پیار کرنا بڑوں کی عزت کرنا اور پھر جیسےجیسے ہم بڑے ہورہے ہوتے ہیں ان لیسنز میں اضافہ ہوتا جاتا "بیٹا کسی کا حق نہ مارنا”
    "کسی سے نفرت نہ کرنا”..
    "جی امی جی بہتر”..
    "کسی کا دل نہ دکھانا”….
    "جو حکم امی جی اپکا”…..
    پھرساری عمر ان باتوں کا خیال رکھتے رکھتے ہم بھول جاتے ہیں ہمارا خود کا بھی ہم پر حق ہے کوئی ہرٹ کرتا ہے تو ہمیں بھی تکلیف ہوتی ہے
    تھپڑ کے بدلے تھپڑ نہ مارو چلو…. مگر اٹھ کر ہاتھ تو پکڑا جا سکتا..
    کوئی ایک دفعہ اعتبار توڑے کبھی دوبارہ اس پر اعتماد نہ کریں "کہ مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ ڈسا نہیں جاتا "جو دل دکھائے غیر محسوس طور پر اس سے اپنے قدم پیچھے کھینچ لیں ۔
    بچپن سے لیکر بڑے ہونے تک ہمارے والدین ہمیں تمیز کا سبق اتنا رٹا دیتے ہیں کہ پھر کوئی جتنی مرضی ذیادتی کرے ہم سوچتے ہیں کوئی نہیں خیر ہے بڑے ہیں کچھ کہہ بھی دیا ہے تو جانے دو ۔پھر اس "جانے دو” کی فہرست اتنی لمبی ہو جاتی ہے کہ بہت وقت لگ جاتا ہے یہ سمجھنے میں کہ ہمارا خود کا بھی ہم پر حق ہے
    اکثر سوچتی ہوں روز قیامت جب جسم کا ایک ایک حصہ گواہی دے گا،، ہر گناہ کا بتائے گا، اچھے برے استعمال کی تفصیل خدا کے سامنے رکھے گا تو مجھے لگتا ہے مینٹل ہیلتھ بھی آ کر اللہ کو بتائے گی….. کہ ہم نے اسکا خیال رکھا یا نہیں….
    اپنے ساتھ انصاف کریں….. اپنی روح بار بار زخمی نہ ہونے دیں…. بدتمیزی کا جواب اگرچہ بدتمیزی نہیں ہوتا، سانپ کاٹ لے تو اسے ڈسا نہیں جاتا مگر "سوراخ” تو بند کیے جا سکتے ہیں….. کیا ہم اتنے بھی قوی نہیں کہ ایسے "سوراخ” بند کر دیں
    ‏ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں۔ اس دنیا میں آپ کی سب سے قیمتی چیز وقت ہے۔ پیسہ واپس آجاتا ہے لیکن وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ اسلئے کوئی برا بھلا بولے اور آپ جواب دینے لگیں تو پہلے یہ ضرور سوچیں کہ کیا یہ بندہ میرے قیمتی وقت سے 1 یا 2 منٹ کا بھی حقدار ہے یا نہیں؟ ایسے لوگ عموما حقدار نہیں ہوتے۔خود سے پیار کریں اپنی ذندگی کا ایک ایک پل انجوائے کریں ۔ذندگی اللہ کا دیا ہوا سب سے پیارا تحفہ ہے اپنے ان پیاروں کا خیال رکھیں جن کو آپ کے دنیا سے جانے کا سب سے ذیادہ فرق پڑے گا ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں جن کی نظر میں آپ کچھ بھی نہیں ۔ان کا خیال رکھنے والے ان کے اپنے بہت۔۔
    اکثر سوچتی ہوں وقت انسان کو بدلتا ہے، حالات یا رشتے؟؟؟؟
    ایک وقت تھا جب کوئی تھوڑا سا ناراض ہو جان پہ بن جاتی تھی منتیں ترلے واسطے سب ہی تو ہوتا تھا_
    اور اب ایک عرصہ لوگوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کے ایک ہی سبق ملا جو جتنا کم لوگوں سے میل جول رکھتا ہے کم کسی کی پرسنل لائف میں انٹرفئیر کرتا ہے اتنا زیادہ پرسکون رہتا ہے_ میں ‘خوش’ نہیں کہہ رہی ‘سکون’ کی بات کر رہی ہوں اور اب مجھے لگتا ہے خوشی سے زیادہ سکون ضروری ہے-
    Actually
    ہمیں سہاروں کی عادت ہو جاتی ہے لوگوں کا اتنا ضروری سمجھ لیتے ہیں جیسے کوئی بنیادی ضرورت ہو.
    ہاں ٹھیک ہے زندگی گزارنے کے لیے کسی نا کسی کے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن کسی کو اتنا ضروری نا کر لو کہ اپنی شناخت ہی گنوا بیٹھو _
    آپ کی خوشیاں کسی شخص کی محتاج نہیں ہونی چاہیے آپ اپنے لیے بہترین دوست بہترین ساتھی اور مسیحا ہیں اپنے آپ سے محبت کریں
    جو جانا چاہتا ہے جانے دیں جو آنا چاہتا ہے ویلکم کریں
    یہی زندگی ہے جب ہر چیز ہی فانی ہے تو ہم کسی رشتے کے ابدی ساتھ کا کیوں سوچتے ہیں……..!

    Take care of yourself….
    Its not selfishness… Its a form of Gratitude..♥️

  • بھارتی فلموں اور ڈرامے کے بچوں پر منفی اثرات  تحرير : حمزہ احمد صدیقی

    بھارتی فلموں اور ڈرامے کے بچوں پر منفی اثرات تحرير : حمزہ احمد صدیقی


    پانچ سال قبل کراچی میں پیش آنے والے ایک واقعے نے مجھ سمیت پوری پاکستانی قوم کو حیرت میں مبتلا کر دیا. دسویں جماعت میں پڑھنے والے 16 سالہ نوروز اور اس کی ہم جماعت فاطمہ نے اسکول میں اسمبلی کے دوران خودکشی کی.

    پستول فاطمہ کے والد محترم کی تھی ،جوکہ نوروز نے منگوائی تھی اور دونوں نے پہلے ہی سے خودکشی کا منصوبہ بنایا ہوا تھا، اس کی وجہ ان کے درمیان کی محبت تھی اور ماں باپ ان کی شادی پر رضا مند نہیں تھے، خودکشی کے بعد دونوں کے سامنے آنے والے خطوط میں ایک دوسرے کے ساتھ دفن ہونے کی آخری خواہش ظاہر کی تھی.۔

    اس سب میں اہم بات یہ ہے کہ کیا یہ انکی عمر تھی ان سب باتوں میں پڑنے کی؟؟ اس 16 سالہ عمر میں تو ان بچوں کو ابھی تک یہ بھی نہیں پتا ہوگا کہ محبت کس چیز کا نام ہے؟؟

    والدین اتنے پیار سے اپنے بچوں کو پالتے ہیں،انکی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انکی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، انکے لیے طرح طرح کی تکالیف برداشت کرتے ہیں مگر پھر بچے ایسا کیوں کرتے ہیں؟ دراصل اس میں قصور انکی تربیت کا ہے، دین اسلام سے دوری اسکی سب سے بڑی وجہ ہے۔.

    اس سب سانحہ میں ایک حیران کن بات جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ بچوں نے کسی بھارتی فلم کی نقل اتاری.بھارتی فلمیں جنہیں ہم خود اور اپنے بچوں کو انٹرٹینمنٹ کے لیے دکھاتے ہیں، دراصل ہمارے خزاں رسیدہ معاشرے کی خرابی کا باعث بن رہی ہیں.. ہماری نوجوان نسل کے اندر صنف مخالف کی طرف کشش مزید ابھارتی، بے حیائی اور فحاشی پھیلا رہی ہیں..

    محبت کے نام پر ہمارے مہذب معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہی ہیں، ہمارے مہذب معاشرے میں نوجوان نسل کی خرابی کی دو اہم وجوہات ہیں، ایک بھارتی فلمیں اور دوسرا کو ہمارا ایجوکیشن سسٹم ہے.. یہ دو وہ اہم اسباب ہیں، جو ہمارے اس معاشرے کو بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں.

    بھارتی فلمیں نوجوان کے ذہنوں میں یہ فتور ڈالتی ہیں کہ کسی کو کیسے سٹ کرنا، کیسے پروپوز کرنا اور پھر آگے بات کیسے بڑھانی۔۔اور کیسے محبت کرنی ہے، باقی اس کام کی آسانی کے لیے ہمارا کو ایجوکیشن سسٹم اور موبائل فون اور انٹرنیٹ موجود ہے.

    میں یہ ہرگز یہ نہیں کہہ رہا کہ بچوں کو موبائل فون اور انٹرنیٹ استعمال نہ کرنے دیا جائے ،مگر اس حوالے سے اپنے بچے پر نظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے. ہماری تہذیب، ہمارا کلچر، ہماری ثقافت سب ہندوؤں نے تباہ و برباد کر دی۔آج ہمارے نوجوانوں کو قرآن کی سوتوں کے ناموں سے زیادہ بھارتی فلموں کے نام یاد ہوں گے،شاید انہیں قرآن پاک پڑھنا بھی نہ آتا ہو ،مگر گانے پوری پوری طرز کے ساتھ سنائیں گے. اور اس پر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ والدین اس پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ انکا بچہ گانا بہت اچھا گاتا ہے.

    آج کل نوجوان نسل کی گفتگو کا موضوع ہی بھارتی فلمیں، فلموں میں کام کرنے والے اداکار اور فلموں کے گانے ہیں. صرف یہی نہیں بلکہ وہ ان بھارتی اداکاروں کی نقل اتارنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں. فضول قسم کے فیشن کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں.

    کراچی کے سکول میں پیش آنے والا واقعہ بہرطور ایک نہ ایک دن رونما ہونا ہی تھا. اور اس میں قصور وار والدین ہیں جہنوں نے اپنے بچوں کو صحیح اور غلط کی پہچان بھی نہ کروا سکے اور کھلی چھٹی دے دی۔۔

    ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ بچہ اگر نماز نہ پڑھے تو اسے کچھ نہیں کہا جاتا، لیکن اگر وہ اسکول کا کام نہ کرے تو خوب مارا پیٹا جاتا ہے.۔ والدین بچوں کو فجر کی نماز کے لیے نہیں بلکہ اسکول جانے کے لیے اٹھاتے ہیں. آئے دن ہونے والی محبت میں خودکشیاں، ریپ کیسز اور دن بہ دن بگڑتا ہوا ہمارا خزاں رسیدہ معاشرہ، ہماری بربادی کے دروازے پر دستک دے چکا ہے۔.

    میرے خیال میں والدین کو بھی اپنے بچوں پر نظر رکھنی چاہیے کہ وہ کہاں کس سے اور کیوں مل رہے ہیں. انہیں اپنے بچوں کی سوسائٹی کا علم ہونا چاہیے. اور اپنے بچوں کو بھارتی فلموں اور ڈراموں سے دور رکھیں. اگر والدین اس حوالے سے محتاط رہتے ہیں تو اس بات کی توقع کی جا سکتی ہے کہ نوجوان نسل کی سوچ میں تبدیلی آئے گی.

    یہ ملک پاکستان، ہمارا ملک ہے. انتھک محنت، لاکھوں قربانیوں اور بے بہا خون کے ساتھ حاصل کیا گیا ہے. اسکی بربادی کی وجہ بھی ہم ہیں اور ہم ہی اسے ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں. اپنی ذمہ داریوں کو پہچانئے اور ایک اچھے پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کی کیجئے!

    ہماری نوجوان نسل ہی دین اسلام اور پاکستان کا مستقبل ہیں، خدارا! انہیں یہود و نصارٰی اور ہندوؤں کی بے حیائی اور فحاشی کے جال میں پھنسنے نہ دیجئے! اس ملک کے تابناک اور روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کیجئے! اپنے بچوں کو دین اسلام سے جوڑیئے! اور انکو ایک بہتر مسلمان بنانے کی کوشش کیجئے تاکہ وہ قوم کا سر فخر سے بلند سکیں.۔

    اللہﷻ آپ کا حامی و ناصر ہو.

    @HamxaSiddiqi

  • آج کا نوجوان اور اسلامی تعلیم  تحریر :  ندرت حامد

    آج کا نوجوان اور اسلامی تعلیم تحریر : ندرت حامد

    تعلیم کے معنی شعور اور آگاہی کے ہیں اور اسی شعور اور آگاہی کو اگلی نسلوں میں منتقل کرنے کا نام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ابن خلدون نے تعلیم کو انسان کے فطری غذ ا قرار دیا ۔جس طرح جسم کو تندرست و توانا رکھنے کے لیے غذا بہت ضروری ہے اسی طرح دماغ کو ترو تازہ رکھنے کے لئے تعلیم بہت ضروری ہے ۔ لیکن وہ تعلیم جو انسان کو تروتازہ رکھے بحیثیت مسلمان ہمارے لئے اسلامی تعلیمات لازم و ملزوم ہے ۔ اسلامی تعلیم سے معاشرے میں برائیاں ختم ہوتی ہیں اور معاشرہ ایک طرح کے توازن میں رہتا ہے ۔ امام غزالی نے اسلامی تعلیم کی تعریف کچھ یوں کی ہے نفس انسانی کو مہلت عادت اور بری خصلتوں سے بچانا اور اسے عمدہ اخلاق سے مزین کر کے سعادت کی راہ میں ڈال دینے کا نام اس تعلیم ہے ۔پوری دنیا اور عالمی اسلام میں تعلیم کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔ تعلیم محض معلومات کی ترسیل کا نام نہیں ۔بلکہ معلومات حقائق اور افکار و نظریات کے ساتھ ساتھ تہذیب اخلاقیات اور نفس کی تربیت کرنا بھی شامل ہے۔
    مگر آج چند کتب کو رٹنے کا نام تعلیم ہے۔ موجودہ دور میں تہذیب و اخلاقیات صفر ہیں۔ تعلیم کی آڑ میں فحاشی پھیلائی جارہی ہے تعلیمی اداروں میں یونیفارم کے نام پر عریانی اور فنکشنز کے نام پر اچھی بھلی معصوم عزت دار لڑکیوں کو پرفارمرز یعنی ٹھمکے لگانے والی طوائفیں بنایا جا رہا ہے۔
    گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
    کہاں سے آئے گی صدا لا الہ الا اللہ
    آج کی نوجوان نسل اسلامی تعلیم سے کوسوں دور ہے مغرب کا ایجنڈا ان کا ایجنڈا ہے تھوڑی سی محنت کے بعد موساد نے ہمارے نوجوانوں کو اس قدر زلیل ورسوا کیا جس کی انتہا نہیں۔ ماں باپ کو بس نوکریاں چاہیے اور بچوں کو وقت گزاری کیلئے مشاغل ہر بندہ اپنی اساس بھول چکا ہے ۔ فیشن کے پیچھے لاکھوں لگا دینے والےپھٹے جوتوں سے ملک فتح کرنے والوں کے سکون سے نا آشنا ہیں ۔ قارئین ہمارا فرض ہے اپنی نسلوں کو سدھارنا ہے اور یہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ سانس لینا۔
    @N_Hkhan

  • غربت (پارٹ 2)  تحریر : شاہ زیب

    غربت (پارٹ 2) تحریر : شاہ زیب

    ایسی حالت جس کے پاس عام یا معاشرتی طور پر قابل قبول رقم یا مادی سامان کی کمی ہو۔  غربت اس وقت وجود میں آتی ہے جب لوگوں کے پاس اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے ذرائع نہ ہوں۔
      اس تناظر میں ، غریب لوگوں کی شناخت کے لیے پہلے اس بات کا تعین ضروری ہے کہ بنیادی ضروریات کیا ہیں۔  ان کو "بقا کے لیے ضروری” کے طور پر یا وسیع پیمانے پر "معاشرے میں مروجہ معیار زندگی کی عکاسی کرنے والے” کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔  پہلی کسوٹی صرف ان لوگوں کا احاطہ کرے گی جو فاقہ کشی یا نمائش سے موت کی سرحد کے قریب ہیں۔  دوسرا ان لوگوں تک پھیلایا جائے گا جن کی غذائیت ، رہائش اور کپڑے ، اگرچہ زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے مناسب ہیں ، مجموعی طور پر آبادی کے لوگوں کی پیمائش نہیں کرتے ہیں۔  تعریف کا مسئلہ غیر معاشی مفہوم سے مزید پیچیدہ ہو گیا ہے جو لفظ غربت نے حاصل کیا ہے۔  غربت کو منسلک کیا گیا ہے ، مثال کے طور پر ، خراب صحت ، تعلیم یا مہارت کی کم سطح ، کام کرنے کی نااہلی یا ناپسندیدگی ، خلل ڈالنے والے یا بے ترتیبی برتاؤ کی اعلی شرح ، اور بہتری۔  اگرچہ یہ صفات اکثر غربت کے ساتھ پائی جاتی ہیں ، ان کی غربت کی تعریف میں شمولیت ان کے مابین تعلقات اور کسی کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں ناکامی کو واضح نہیں کرتی ہے۔  جو بھی تعریف استعمال کی جاتی ہے ، حکام اور عام آدمی یکساں طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ غربت کے اثرات افراد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔

    اگرچہ غربت انسانی تاریخ جتنی پرانی ہے لیکن وقت کے ساتھ اس کی اہمیت بدل گئی ہے۔  اجتماعی غربت نسبتا پائیداری کی طرح لیکن تقسیم کے لحاظ سے اس سے مختلف ، کیس غربت سے مراد کسی فرد یا خاندان کی عمومی خوشحالی کے معاشرتی ماحول میں بھی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہونا ہے۔ یہ نااہلی عام طور پر کچھ بنیادی وصف کی کمی سے متعلق ہوتی ہے جو فرد کو اپنے آپ کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتی ہے۔ ایسے افراد ، مثال کے طور پر ، اندھے ، جسمانی یا جذباتی طور پر معذور ، یا دائمی بیمار ہو سکتے ہیں۔ جسمانی اور ذہنی معذوریوں کو عام طور پر ہمدردی کے ساتھ سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ وہ ان لوگوں کے کنٹرول سے باہر ہوتے ہیں جو ان سے متاثر ہوتے ہیں۔ جسمانی وجوہات کی وجہ سے غربت میں کمی لانے کی کوششیں تعلیم ، پناہ گاہ روزگار اور اگر ضرورت ہو تو معاشی دیکھ بھال پر مرکوز ہیں۔

  • مردہ سماج میں ارتعاش کیونکر پیدا نھیں ھوتا ؟ تحریر: صہیب اسلم

    میں سوچتا ھوں کہ اس مردہ سماج میں رھنے والے آھنی زنجیروں اور بیڑیوں کو گلے کا ھار بنا کر جینے والے بے سُدھ مردار ھجوم میں انھیں زندگی کا احساس دلانے والا ارتعاش کیوں کر پیدا نہیں ھوتا؟
    کیوں اس سماج میں رھنے والوں میں سے احساس ختم ھوتا جا رھا ھے؟
    کیوں اس سماج میں بسنے والے اپنے فرائض و ذمہ داری نبھانے کی اخلاقی جرات سے عاری ھوتے جا رھے ھیں؟

    میں سوچتا ھوں کہ اس سماج کا فرد اتنا مردہ کیونکر ھو گیا ھے کہ ابھی بمشکل اپنی زندگی کی دس بہاریں دیکھنے والی حوا کی بیٹی کو بے دردی سے اپنی حوس کا نشانہ بناتا ھے اور پھر اپنی ھی بیٹی کے ساتھ سکون سے سو بھی جاتا ھے؟

    کبھی کبھی میں سوچتا ھوں کہ سماج کا فرد کس طرح کس کے حکم سے، کس کی اجازت سے زمین پر چلتے اپنی اور اپنے خاندان، بیوی بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دن رات اپنے وجود کو مٹا دینے والے معصوم انسانوں کے وجود میں بارود اتار دیتا ھے اور ان بد دعاؤں کی فکر سے بھی ازاد ھو جاتا ھے جو ساری زندگی اس کا پیچھا کرتی رھتی ھیں؟

    میں سوچتا ھوں اس سماج کا ھر فرد جس کا بدقسمتی سے میں بھی حصہ ھوں ھر وقت کس مصلحت کی آڑ لئے ھمیشہ ھی خاموش ھو جاتا ھے؟ یہ سماج اپنے بنیادی حقوق کیلئے آواز کیوں نھیں بلند کرتا؟ اپنے حق کیلئے بھی خاموش کیوں رھتا ھے؟ وہ کون سی طاقت ھے جس نے اسے اس قدر بے بس کر دیا ھے کہ اپنے ھی بچوں کیلئے بھی آواز نہیں اٹھاتا؟

    اس سماج کا فرد کیوں چپ رھتا ھے جب کوئی ظالم اسی سماج سے اٹھتا ھے اور میری معصوم زینب کو حیوانوں کی طرح اسکے معصوم وجود کو بھنبھوڑتا ھے چیر پھاڑ کرتا ھے اور بنا کسی خوف و خطر نئی زینب کی طرف چلا جاتا ھے۔

    اس سماج کا فرد کیونکر خاموش تماشائی بن جاتا ھے جب کہیں سے کسی وڈیرے کا بیٹا اپنے پیسے اور اندھا دھند طاقت کے نشے میں کسی ماں کے لال شاہ زیب کے سینے میں صرف اس لئے بندوق کا پورا میگزین اتار دیتا ھے کہ شاہ زیب نے اپنی بہن کی عزت کے تحفظ کی کوشش کی؟

    اس سماج کا ھر فرد تب بھی خاموش ھی رھتا ھے جب
    کوئی قانون کا رکھوالا کسی ماں کے جگر گوشے کو سب کے سامنے گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیتا ھے اور وجہ بھی نھیں بتاتا

    اس سماج میں بسنے والا نابینا فرد تب بھی اپنے منہ میں موجود زبان کو کاٹ لیتا ھے جب کوئی مجید خان اچکزئی نشے میں دُھت بد مست ھاتھی کی طرح سڑک کنارے ٹھہرے سب کی رھنمائی کرتے معصوم وردی والے کو اپنی لمبی لینڈ کروزر کے نیچے کچل ڈالتا ھے اور ببانگ دھل قانون کی رسیاں توڑتا ھوا رہا ھو جاتا ھے۔

    اس سماج کا ھر فرد تب بھی منہ پر تالہ اور آنکھوں پر پٹی باندھ لیتا ھے جب کوئی سڑک کنارے مسافروں سے بھری بسوں سے سب کو اتار کر اپنی گولیوں کی زینت بنا کر چپ چاپ چلا جاتا ھے۔

    اس سماج کا ھر فرد اب خاموش رھتا ھے جب
    کوئی ان جیسا زندہ سانس لیتا انسان دن میں گھر سے اپنے بیوی بچوں کیلئے انکے زندہ رھنے کیلئے روزی روٹی کمانے نکلتا ھے اور شام کو اسے چار کندھوں پر اٹھا کر لایا جاتا ھے

    آج جانے کیوں اس بے حس بے درد بے کار سماج کیلئے میری سوچوں نے اتنے سوالات کھڑے کر دئیے کہ شاید ان سوالات کا جواب پاتے پاتے میں بھی کسی دن اس مردہ سماج کی بے حسی کا نشانہ بن جاؤں۔

    لیکن اس سب کے باوجود روشنی کی اک مدھم مگر ٹمٹماتی سی کرن مجھے آج بھی نظر آتی ھے کہ شاید کہیں کوئی اس بیڑیوں میں جکڑے بے حس مردہ سماج میں ارتعاش پیدا کر دے۔ شاید کوئی اپنی چلتی رواں رھتی خوبصورت سانسیں روک کر اس سماج میں رھنے والوں بسنے والوں میں زندگی کا احساس پیدا کر دے

    اسی لئے تو کہتا ھوں اے اس سماج کے وارثین، خود کو آل کل کا مالک سمجھنے والو اس سماج میں بسنے والوں کو کہانی بنانے سے ڈرو، کہانی مسخ کرنے سے ڈرو
    کہانی دیکھنے سے ڈرو کہانی پھیلانے سے ڈرو کیونکہ میرا اللہ سب سے بڑا انصاف کرنے والا ھے۔ اس کی عدالت میں کوئی ڈالرز، کوئی روپیہ، کوئی سونا، کوئی جائیداد، کسی طاقت کا نشہ، کسی اقتدار کی بھوک کچھ کام نہ آئے گی۔

    کیونکہ کچھ پتہ نھیں ایسا نہ ھو کہ آج تم سماج میں بسنے والوں کی کہانیاں بنا رھے ھو اور کل کو کوئی اٹھے اور تمھاری کہانی بنا دے اور پھر تم تاریخ کے اوراقوں میں بھی نہ ملو حتیٰ کہ کسی کہانی میں بھی نہ ملو۔۔۔۔۔۔

    ٹوئٹر ھینڈل
    @KaalaPak

  • مڈل کلاس عورت کے مسائل تحریر: زوبیہ سدوزئی

    مڈل کلاس عورت کے مسائل تحریر: زوبیہ سدوزئی

    پاکستان میں مڈل کلاس عورت کو اک انسان نہیں اک روبوٹ کنسیڈر کیا جاتا ہے جس کا ریموٹ سوسائٹی ہوتی ہے۔ اگر اک مڈل کلاس لڑکی کی زندگی میں آنے والے چیلنجز کی بات کی جائے تو سب سے بڑا چیلنج اس کی زندگی میں سوشل پریشر ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کی ساری کہانی صرف اک فقرے کہ گرد گھومتی رہتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ حتی کہ وہ اپنی مرضی کا لباس زیب تن کرتے بھی 10 ہزار دفعہ سوچتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ مڈل کلاس لڑکی وہ کھلونا ہے جس کہ انچارج اس کہ ماں باپ سے لے کر معاشرے کا ہر وہ فرد ہے جس سے اس کا کوئی خونی یا جذباتی رشتہ ہو گا۔ مڈل کلاس لڑکیاں وہ کٹھ پتلیاں ہیں جو خوف سے بھر دی گئی ہیں۔ زندگی کہ چھوٹے سے بڑے فیصلے کہ لیے انہیں گھر کہ مردوں پہ یقین کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں گھروں میں پیدا ہوتے ہی یہ درس دیا جاتا ہے کہ ان کہ ماں باپ اور ان کا معاشرہ ہی ان کہ لیے سب کچھ ہے۔ اب اگر بات کی جائے مڈل کلاس لڑکی کی تعلیمی سفر اور پریکٹیکل زندگی کی تو اس کا تعلیمی سفر اور پریکٹیکل زندگی بھی اس کے گھر کے سیٹ کردہ اصولوں اور معاشرے کہ سیٹ کردہ اصولوں پہ گزرے گی۔ اگر وہ اپنی کوئی خواہش ظاہر کرے گی تو معاشرہ اسے بدکردار اور بد چلن اور اس کی فیملی کہ لیے باعث شرمندگی ہو گی۔ اگر کسی مڈل کلاس لڑکی سے اس کی زندگی کہ سب سے اہم فیصلوں کا پوچھا جائے تو اس کا جواب ہوتا ہے جیسے میرے بڑے کہیں گے میں ویسے ہی کروں گی۔ مڈل کلاس فیملی کی لڑکی کہ لیے کپڑوں سے لے کہ زندگی کہ بڑے بڑے فیصلوں میں اس کی اپنی رائے اور صحیح اور غلط کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ اب آجاتے ہیں مڈل کلاس لڑکی کی رخصتی پہ ،گھر سے رخصت ہوتے اس کہ ماں باپ اور معاشرہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ تمہارا جنازہ ہی اس گھر سے نکلنا چاہیے اور پھر ایسا ہوتا ہے کہ مڈل کلاس لڑکی اس خوف سے تشدد برداشت کرتے کرتے درحقیقت جنازہ نکالتی ہے اپنا۔ پیدا ہونے سے جوانی تک اس کا ریموٹ اس کہ اپنوں اور معاشرہ کہ پاس ہوتا ہے اور پریکٹیکل زندگی میں داخل ہونے کہ بعد اس کا ریموٹ اس کہ سسرال اور خاوند کہ ہاتھوں میں جاتا ہے۔ اگر کسی مڈل کلاس لڑکی سے اس کہ حقوق کا پوچھا جائے تو یہ جواب ملتا ہے کہ میرے ماں باپ کو پتہ ہو گا۔ میری اس تحریر کو پڑھنے کہ بعد بھی بہت سی مڈل کلاس لڑکیاں مجھے برا بھلا کہیں گی کیونکہ ان کے مائنڈ ایسے بلڈ کیے گے کہ وہ خود بھی کانفڈنٹ اور بولڈ لڑکیوں کہ خلاف بولتی ہیں۔ میں اس میں بھی انہیں قصور وار نہیں سمجھتی کیونکہ مڈل کلاس لڑکیاں خود کو وہ انسان سمجھنے میں فخر محسوس کرتی ہیں جو دن رات معاشرے کہ سیٹ کردہ اصولوں کہ تابع رہنے میں فخر محسوس کرتی ہیں۔ اپنی اس تحریر میں بس وہ مسائل اجاگر کیے ہیں جو روزمرہ زندگی میں مڈل کلاس لڑکیوں کو پیش آتے ہیں۔ میں اپنی اس تحریر پڑھنے والے ہر انسان سے یہ ریکوسٹ کروں گی کہ مڈل کلاس لڑکیاں بھی جیتے جاگتے انسان ہیں انہیں یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی اور اللّٰہ کہ سیٹ کردہ اصولوں کہ مطابق زندگیاں گزار سکیں نہ کہ کٹھ پتلیاں بن کہ۔
    @KhatoonZobia

  • زندگی اور امیدیں  تحریر: محمد علی شیخ

    زندگی اور امیدیں تحریر: محمد علی شیخ

    زندگی یوں تو اس پروردیگار نے ہر انسان کو دی ہے کے وہ ہر انسان کی آزمائش کر سکے عبادت کے لیے فرشتے کم نہیں ہیں لیکن رب کریم نے اپنی حکمت سے انسانی وجود کی تخلیق کی تاکے وہ دیکھ سکے کون الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ پر چل کر آتا ہے ۔ اور کون دنیا کو ہی اپنا سب کچھ سمجھتا ہے ۔۔
    ابھی کچھ اس قسم کا بھی رجحان ہوگیا ہے کے ہم شارٹ کٹ مار کے جنت میں چلے جاہیں نماز کی پابندی ہم نہیں کریں پڑوسی کا خیال ہم نہیں کریں زکوة سے ہم نے پیچھا چھڑا لیا ہے یعنی ہم کچھ نا کریں اور جنت میں جانے کے وسیلے تلاش کر کے جنت حاصل کر لیں مگر ایسا ممکن نہیں ہے ۔
    اور نا ہی کوئی کیسی کا کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔ کیسی کا کیسی نبی یا رسول یا ولی اللہ سے خون کا رشتہ جاکر ملتا ہے تو وہ بھی ہمیں جہنم سے بچا نہیں سکتے۔ تو ہمیں سب سے پہلے اس خوش فہمی سے باہر آنا ہوگا ۔۔ دنیا کے ہر بیرونی سفر کے لیے جب ہم کو ہمارے نام کا ہی ٹکٹ لے کر بیرونے ملک سفر ممکن ہوتا ہے۔ تو پھر ہم یہ لاپروائی کیوں کرتے ہیں کیوں کیسی نبی یا رسول یا ولی کے نام پر موت کے بعد کا سفر طے کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ کیا ہمیں اب بھی قرآن کریم کے فرمانا عالی شان کو سمجھنے کے لیے تعلیم کی ضرورت ہے۔ قرآن مجید میں کئی جگہ پر الگ الگ نبی کے اور ان کے خون کے رشتوں کا بیان موجود ہے فرعون جیسے ظالم جابر کی بیوی آسیہ، حضرت موسی علیہ السلام کا فرعون کے گھر پرورش پانا، حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کا کفر پہ مرنا، حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا نافرمان ہی رہنا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا اسلام کی دولت سے محروم رہنا یہ سب اس بات کی واضح مثالیں ہیں۔

    بچپن تو ہمارا بولنے ،چلنے میں گزر جاتا ہے۔ جوانی کی خوب قدر کرنی چاہیے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اچھے اور نیک کاموں میں صرف کرنا چاہیے ورنہ اس دور میں کی جانے والی بے فکری ،لاپرواہی بڑھاپے میں پچھتاوے کا سبب بن جاتی ہے کیوں کہ گیا وقت کبھی ہاتھ نہیں آتا۔جو نوجوان وقت کی قدر کرنا جانتے ہیں وہ صحراوٴں کو گلشن بنا دیتے ہیں ۔جب اللہ ربالعزت نے ہمیں صحراؤں کو گلشن بنانے کی ہمت اور طاقت دی ہے تو پھر ہم کیوں اپنی زندگی کو کانٹوں کی سیج بنا کر پھرتے ہیں اتنے مصروف رہتے ہیں اپنی موت کے بعد کی زندگی کو بھول جاتے ہیں قبر میں کیسی اور نے آ کے سوالات کے جواب نہیں دینے ہم کو دینے پڑھیں گے۔۔ اپنے ہر برے عمل کا حساب ہم کو خود دینا ہو گا۔ تو ہم کو اتنی ہی امیدیں کرنی چاہیں جو ہم با آسانی رزق حلال سے پوری کر سکیں اور اس سے بھی زیادہ فکر زندگی کو اس راستے پر لے کر چلنا چاہیے جو ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی کا سبب بنے۔۔ اللہ ربالعزت کو بھی جوانی کی عبادت بہت پسند ہے تو جوانی کی قدر کرو یہ ہی وہ وقت ہے جو آپ کے کردار کا آگے جا کے فیصلہ کرئے گا۔۔
    اس رب کریم نے ہم کو ہر نعمت سے نواز ہے کیا یہ کم ہے ؟؟
    ان سب سے بڑھکر اس پروردیگار نے ہم کو امت محمدیہﷺ میں پیدا کیا تو ہم کیوں غافل ہیں ہر گزرتے پل کا شکرادا کرتے رہو۔

    زندگی کا پل کا بھروسہ نہیں اور ہماری امیدیں آسمان کو چھونے کی ہیں۔

    گناہ کو پھیلانے کا ذریعہ بھی کبھی مت بنو ۔۔کیونکہ ہوسکتا ہے آپ تو توبہ کرلو پر جس کو آپ نے گناہ پر لگایا ہے وہ آپ کی
    آخرت کی تباہی کا سبب نا بن جائے۔۔
    عمل ایسے ہوں کے ہم اللہ کو پسند آ جاہیں ۔
    علامہ اقبال کا شعر کیا خوب ہے ۔
    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔۔
    اللہ ربالعزت ہم سب کو صراط المستقيم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔ آپ سب کی دعاوںکا طلبگار ۔۔🙏
    @MSA_47

  • انسان اور تکبر  تحریر:شمسہ بتول

    انسان اور تکبر تحریر:شمسہ بتول

    مٹی کے بندے یعنی کہ ہم انسان جو کہ خاک کے پتلے ہیں اور ایک دن خاک ہو جاٸیں گے۔ لیکن پھر پتہ نہیں انسان میں اکڑ اور غرور کس چیز کا ہے۔ نہ تو انسان اپنی مرضی سے اس دنیا میں آیا نہ ہی ہمیشہ یہاں رہے گا مختصر یہ کہ نہ زندگی کا اعتبار اور نہ موت کا خبر اور اس دنیا میں آنے پہ بھی دوسرے غسل دیتے اور جانے پہ بھی دوسروں نے غسل دینا مگر انا پرستی اور خود پرستی ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی ۔ ہمارے اس دنیا میں آنے اور یہاں سے جانے میں صرف ایک ازان اور نماز کا فاصلہ ہے۔
    پھر پتہ نہیں انسان تکبر کس بات کا کرتا ? اس دولت کا جو ہمیشہ نہیں رہے گی یا پھر اس جوانی اور حسن کا جو ماند پڑ جاۓ گا اور آخر کار بڑھاپا اور کمزوری آگھیرے گی۔ اللہ کو عاجزی پسند ہے نہ کہ تکبر اور اکڑ۔ ہم مٹی کے بندے ہیں اور ایک دن مٹی ہی ہو جاٸیں گے اس لیے عاجزی اختیار کریں کسی کو حقیر یا کمتر نہ سمجھے ۔ ہم سب اللہ کے بندے ہیں ہیں اور اس نے ہر انسان کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے کوٸی بھی کسی سے کم نہیں ہے اس لیے کسی کو نیچا دکھانے کی کوشش نہ کریں بلکہ اخلاق اور میانہ روی کو اپناۓ محض دولت اور رتبہ کی بنیاد پر کسی کو اپنے سے کم تر جاننا اور اس پہ ظلم وستم کرنا یہ خدا کو سخت نا پسند ہے ۔
    اگر ہو سکے تو اپنے مال سے اپنے سے مفلس اور کمزور لوگوں کی مدد کریں بجاۓ اس کے کہ آپ انہیں کمتر جانے کیونکہ اچھے اعمال صدقہ جاریہ ہیں اور یہ آپ کے لیے سکون قلب کا باعث بنتے ہیں ۔
    طاقتور انسان اپنے مرتبے اور دولت کی بنیاد پر خود کو خدا سمجھ لیتا اور کمزور پہ رعب و دبدبہ اپنا حق سمجھتا ۔ خدارا اس جاہلانہ سوچ سے باہر آٸیں ہم سب انسان ہیں ہم سب کے جزبات اور احساسات ہیں ہم سب کی ایک عزت نفس ہے جسے مجروح کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں خواہ وہ کوٸی بھی کیوں نہ ہو
    انسانیت کے ناطے ایک دوسرے سے محبت کرنا سیکھیں ایک دوسرے کی راۓ کا احترام کرنا سیکھیں اور جسے مدد کی ضرورت ہو اسکی مدد کریں کیوں کہ انسان کو درد دل کے واسطے پیدا کیا گیا ہے ایک دوسرے کے کام آنے کے واسطے نہ کے ایک دوسرے کو درد اور تکلیف دینے کو واسطے اور نہ دوسروں کی ٹانگیں کھینچنے کے لیے
    "درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ اطاعت کے لیے کچھ کم نہ تھا کہ کروں بیاں”
    اللہ تعالی رحمن اور رحیم ہے اور وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے بندے ایک دوسرے کے ساتھ رحم کا معاملہ کریں اور حسن سلوک سے پیش آٸیں اور وہ عاجز ہے اس لیے اسے عاجزی پسند ہیں اس لیے عاجز بنے کیونکہ ہمیشہ قاٸم رہنے والی زات صرف اس رب تعالی کی ہے کیونکے وہی ہر شے سے پاک ہے ۔ ہم سب تو اس کے محتاج بندے ہیں تو پھر غرور اور انا کس بات کی۔ معاف کرنا سیکھیں ایک دوسرے سے تحمل مزاجی کا مظاہرہ کریں
    انسان انا پرستی اور تکبر میں اتنا اندھا ہو جاتا کہ حق و باطل ، صحیح اور غلط کی تمیز بھول جاتا مگر جب ٹوکر لگتی ہے اور تکبر کا خول اترتا ہے تو فقط پچھتاوا رہ جاتا ہے ۔ اس لیے اس پچھتاوے سے بہتر ہے کہ آپ غرور و تکبر جیسی بیماری کا شکار نہ ہوں اور اگر کبھی آپ کو لگے کہ آپ تکبر کا زینہ چڑھنے لگے تو ایک چکر قبرستان کا لگا لیجیے گا تو آپ کو اندازہ ہو جاۓ گا کہ ہم خاک کے پتلے بھی ایک دن وہی خاک میں پڑے ہونگے ۔ تکبر کا حق صرف اللہ تعالی کا ہے ہم جیسے خاک کے پتلوں کو نہیں ہمارے پاس جو بھی ہے یہ سب اللہ کی عطا اور کرم ہے ہمارا کمال نہیں اس لیے اپنے غرور و تکبر کو ختم کریں کیونکہ جو دینے پر قادر ہے وہ لینے پر بھی قادر ہے ۔ ایک دوسرے کو انسان سمجھ کر ایک دوسرے کے ساتھ احسن سلوک کریں۔ غرور اور تکبر ہم انسانوں کو زیب نہیں دیتا اور عاجزی و انکساری اس رب تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے اس راستے کو اپناٸیں تا کہ آپ کا قلب پرسکون رہ سکے😇

    @b786_s

  • پاکستانی صحافت کے نشیب و فراز تحریر: سید لعل حسین بُخاری

    شعبہ صحافت میں کسی وقت پرنٹ میڈیا کا دور دورہ تھا۔لوگ صبح ناشتے کے ساتھ اخبار کے منتظر رہتے تھے۔
    جس دن اخبار لیٹ ہوجاتا،لوگوں کی بے چینی دیدنی ہوتی تھی،بار بار ہاکر کو گلی میں نکل کے دیکھا جاتا۔
    جونہی دور سے ہاکر کی سائیکل کی گھنٹی بجتی اور اسکی تازہ اخبار،تازہ اخبار کی آواز آتی،
    اخبار بینوں کے چہرے کھل اُٹھتے۔پھر ایک ہاتھ میں اخبار ہوتا اور دوسرے اخبار میں چاۓ کا کپ۔چاۓ کی چسکیوں کے ساتھ اخبار کی سرخیوں کا مزہ لیا جاتا۔
    ان سب تجربات سے مجھے خود بھی گزرنے کا اتفاق ہوا،میرا صبح کا تجسس عام قارئین سے زیادہ ہوتا تھا،کیونکہ میں براہ راست ان اخبارات میں سے کچھ کے ساتھ بطور رپورٹر منسلک تھا،
    مجھے انتظار ہوتا کہ کس اخبار میں میری کونسی خبر شائع ہوئ ہے۔اسے کس صفحے پر چھاپا گیا ہے؟
    اس کتنے کالم میں جگہ دی گئی ہے،جس دن کوئ خبر فرنٹ پیج پر شائع ہوتی اس دن خوشی کی انتہا نہ رہتی۔صبح گھر سے نکلتے وقت اخبار کو بغل میں دبا کے نکلنا کبھی نہ بھولتا،مقصد دوستوں کو وہ خبر دکھانا ہوتا۔خبر کی اہمیت کے لحاظ سے مقامی،تحصیل ،ضلعی اور صوبائ انتظامیہ کے وضاحتی فون آنا شروع ہو جاتے۔
    ان خبروں سے علاقے کا کوئ مسئلہ حل ہو جاتا تو لوگ جوق در جوق مبارکباد دینے چلے آتے۔
    بطور رپورٹر کیرئر کا آغازمیں نے اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگلش اخبار
    PAKISTAN OBSERVER
    سے کیا،بعد ازاں میں وقتا” فوقتا”روزنامہ خبریں،روزنامہ جنگ،روزنامہ اوصاف،روزنامہ دن،روزنامہ کائنات،اور اس وقت کی نمبر ون اردو نیوز ایجنسی
    NNI
    سے بھی منسلک رہا۔
    اس نیوز ایجنسی کا ان دنوں طوطی بولتا تھا۔تمام بڑے اخبارات اسکی خبر لفٹ کرتے تھے۔
    ان اخبارات میں لکھے گئےاداریوں اور کالموں سے حکومتیں ہل جایا کرتی تھیں۔
    کالم نگاروں میں نزیر ناجی،سویرے سویرے،عبدالقادر حسن،ارشاد حقانی ،منو بھائ اور حسن نثار وغیرہ بڑے نام تھے۔بعد میں آنے والوں میں حامد میر،خوشنود علی خان اور جاوید چوہدری قابل زکر کالم نگار تھے۔حامد میر کے ساتھ اوصاف اور خوشنود علی خان کے ساتھ خبریں میں کام کرنے کا اتفاق ہوا۔
    یہ سب اچھا لکھتے تھے،مگر نہ جانے پھر کیا ہوا کہ حامد میر اور جاوید چوہدری جیسے لوگ کیا سے کیا ہو گئے،
    دیکھتے دیکھتے
    ان لوگوں نے غیر جانبداری کا راستہ چھوڑ دیا،خاص طور پر حامد میر نے اپنی ہی فوج کے خلاف بدقسمتی سے مورچہ سنبھال لیا،جو انتہائ افسوسناک ہے،اسی ڈگر سے ان لوگوں نے اپنی مقبولیت بھی کھو دی۔
    پرنٹ میڈیا کی اہمیت اب بھی ہے مگر پہلے والی بات نہیں رہی۔ الیکٹرونک میڈیا کے آنے سے ابھی کی خبر آپکو ابھی ملنے لگی ہے۔
    کسی خبر کے لئے آپکو اگلے دن کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔
    بلیک میلنگ اور زرد صحافت پرنٹ میڈیا میں بھی ہوتی تھی،ابھی الیکٹرونک میڈیا میں بھی موجود ہے۔
    ہر چینلز کی اپنی ترجیحات ہیں،ہر کوئ اپنے مفادات دیکھتا ہے۔اپنے اشتہارات دیکھتا ہے،
    سب سے پہلے اور ریٹننگ کی دوڑ میں جھوٹ اورسنسنی خیزی کا سہارا لیا جاتا ہے۔اپوزیشن پارٹیوں سے منتھلیاں لی جاتی ہیں۔ان کے ناجائز کو بھی جائز بنا کے پیش کیا جاتا ہے۔
    پہلے کی حکومتیں بھی اپنی کرپشن چھپانے کے لئے صحافیوں اور ٹی وی چینلز کو نوازتی تھیں۔
    موجودہ حکومت اس گندی روٹین کو ختم کرنا چاہتی ہے،جس کے باعث اسکی راہ میں قدم قدم پر روڑے اٹکاۓ جاتے ہیں۔ہمارے ملک کی صحافت بھی سسلین مافیاز کا ہی حصہ ہے۔
    میڈیا کا مثبت کردار اگر سامنے آۓ تو ملک کی قسمت بدل سکتی ہے۔صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔
    اس ستون کے مضبوط اور مثبت کرادار کا حامل ہونے سے باقی ریاستی ستون خود بخود درست ہو سکتے ہیں۔
    مگر مستقبل قریب میں شائد ایسا ممکن نہ ہو سکے۔
    اب یہ مجھ پر ہے،آپ پر ہے،ہم سب پر ہے کہ ہم اس میڈیا کے منفی پروپیکنڈے کا شکار ہو کر اپنے ملک کی جڑیں نہ کاٹیں۔
    یہ ملک ہمارا ہے۔ہمارا سب کچھ اسی سے وابستہ ہے۔ہم نے اس کے استحکام کے لئے تن من دھن کی بازی لگا دینی ہے۔
    مضبوط،خوشحال اور مستحکم پاکستان ہی میں ہماری آنے والی نسلوں کی بقا ہے۔پاکستان زندہ باد #

    @lalbukhari