Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • کرونا پر قابو پانے کے لئے احتیاط اور ویکسینیشن ضروری تحریر:  محمد حماد

    کرونا پر قابو پانے کے لئے احتیاط اور ویکسینیشن ضروری تحریر: محمد حماد

    ملک میں کرونا ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ہے اور یومیہ کیسز کی شرح 7 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ کراچی سمیت بڑے شہروں میں یہ شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور ماہرین اسے کرونا کی چوتھی لہر قرار دے رہے ہیں۔ کرونا کا ڈیلٹا ویرئنٹ بھی پاکستان میں پہنچ چکا ہے اور خدشہ اس بات کا ہے کہ اگر صورتحال کو جلد قابو نہ کیا گیا تو خدانخواستہ پاکستان میں بھی بھارت جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    اب سے چند ہفتوں قبل نیچے جاتے کیسز کے اچانک بڑھنے کی وجہ عوام کی غیر سنجیدگی اور بے احتیاطی بھی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کی شرح انتہائی کم ہے۔ ماسک کا استعمال جو کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے ایک بہترین عمل ہے اس پر عملدرآمد بھی انتہائی کم نظر آتا ہے۔ مارکیٹوں میں بے تحاشا رش سے نہ صرف سماجی فاصلہ برقرار نہیں رہتا بلکہ دکانداروں اور خریداروں کا ماسک کا استعمال نہ کرنا کرونا کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حکومت اور ادارے ایس او پیز پر عمل کرانے میں بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔

    کرونا کے خلاف ویکسینیشن کا عمل بھی ملک بھر میں جاری ہے۔ حکومت کے سخت اقدامات اور پابندیوں کی وارننگ کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد نے ویکسینیشن سینٹرز کا رخ کیا ہے جس کے سبب وہاں شدید رش دیکھنے میں آرہا ہے۔ کراچی میں ایکسپو سینٹر میں قائم ویکسینیشن سینٹر کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جہاں عوام کی بڑی تعداد بغیر ایس او پیز اور سماجی فاصلے کے لمبی قطاروں میں کھڑی نظر آتی ہے۔ اسے اداروں کی نااہلی کہیں یا منصوبہ بندی کا فقدان لیکن اندیشہ یہی ہے کہ کرونا سے بچاؤ کے لئے بنائے گئے یہ ویکسینیشن سینٹرز حکومتی نااہلی کے سبب کرونا کے پھیلاؤ کا باعث نہ بن جائیں۔

    بلاشبہ احتیاط اور ویکسینیشن ہی کرونا کا پھیلاؤ روکنے کا واحد ذریعہ ہیں لیکن بڑھتے ہوئے کیسز اور اسپتالوں پر آنے والے دباو کے بائث حکومت لاک ڈاون جیسے سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اگر عوام چاہتی ہے کہ وہ اپنے کاروبار جاری رکھ سکے تو انھیں حکومت کی جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ اپنے اور اپنے ادارے کے تمام افراد کی ویکسینیشن مکمل کرائیں۔

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو اس وبا سے محفوظ رکھیں تو اس کا واحد حل ویکسینیشن اور احتیاط ہے۔ ہمیں بطور قوم سنجیدگی اور اتحاد سے نا صرف اس وبا کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ اسے شکست بھی دینی ہے انشاء اللہ۔


    Muhammad Hammad

    Muhammad Hammad is a writer ,blogger,freelance Journalist, influencer,Find out more about his work on  Twitter  account 

     


  • نشہ ایک معاشرتی ناسور ہے تحریر: موسی حبیب راجہ

    نشہ ایک معاشرتی ناسور ہے تحریر: موسی حبیب راجہ

    ہم ایک ایسے بیمار اور غیر صحت مند معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں دہشت گردی ،قتل عام، بدامنی، اغواکاری، بےروزگاری، ناانصافی،بد عنوانی، جنسی زیادتی اور نشہ اوری اور دوسری غیر انسانی، غیر اخلاقی اور وحشیانہ سرگرمیاں عروج پر ہیں۔اور ملکی ادارے جوکہ مختلف ادارے ہیں اور سب کا اپنا اپنا کام ہے یہ سارے ملکی حالات کو قابو کرنے میں بلکل ناکام نظر آتے ہیں۔
    ویسے تو ہمارا معاشرہ بہت سے مساٸل سے دوچار ہے اور ہر مسٸلے پر الگ الگ بحث و مباحثہ تفصیلی طور پر کیاجاسکتا ہے لیکن آج میں جس مسٸلے کو قلم کی نوچ پر لا رہا ہوں وہ ہے:
    "نشہ آوری اور منشیات.”
    نشہ اسلامی طور پر حرام و ممنوع ہے جبکہ سماجی طور پر ایک لعنت اور ساٸینسی طور پر مضر صحت ہے ۔ ہمارے معاشرے میں سگریٹ، شراب نوشی، چرس، ہیروٸن، شیشہ، اور دوسری قسم کی زہریلی گولیاں اور انجکشنز گلی گلی، شہر شہر، مارکیٹوں اور حتی کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں استعمال ہورہے ہیں اور منشيات کو کنٹرول کرنے والے ادارے جیسے کہ انسداد منشیات فورسز، پاکستان ایکساٸز، پاکستان کوسٹ گارڈ، ایف سی اور صوبائی محکمہ پولیس شامل ہیں۔ اگر ہم ان ملکی اداروں کی کارکردگی پر نظر دوڑاۓ تو ہمارے سارے ملکی انسداد منشيات کنٹرول کرنے والے ادارے اس میں بلکل ناکام نظرآتے ہیں۔
    اگر ہمارے ملکی ادارے ہمارے ملک میں بندوق اور طاقت کے بل بوتے پر گھر گھر، گلی گلی،شہر شہر اور پورے ملک میں پولیوں کے قطرے پلاسکتے ہیں تو نشہ اور منشيات اور منشيات فروخت کرنے والوں کو کیخلاف کاروائی کیوں نہیں کرسکتے؟
    نشہ اووری ایک ایسا زہر ہے جو کسی کو ذہنی، جسمانی اور اخلاقی طور پر کھوکھلا کر دیتا ہے اور آخرکار موت کا سبب بن جاتا ہے۔ نشہ اوری کسی کو سماجی اور معاشرتی طور اکیلا، پاگل، بدکردار، ساٸل، چوری اور گداگری جیسے سرگرمیوں پر مجبور کرلیتا ہے اور نشے کے عادی لوگ ہمیشہ اپنے والدین، بیوی بچوں، رشتہ داروں، دوستوں سے غم اور خوشی میں اپنوں سے دور، لاپرواہی، لاعلمی،دینی، سماجی و معاشرتی عالم میں خوار اور ذلیل زندگی بسر کرلیتے ہیں۔
    نشہ اووری اور منشیات کی سب سے بڑے وجوہات و اسباب بری صحبت، بےروزگاری اور احساس کمتری ہیں۔ایک کہاوت ہے کہ” خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے” اس سے یہ صاف صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جو کسی معاشرے کو اپناتا ہے تو وہ اسی معاشرے میں سیکھ کر اور اسی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اگر معاشرہ مثبت اور نیک چلن ہو تو بندہ باکردار اور معاشرتی تعميرات میں ایک اہم کردار ادا کرلیتا ہے اور اگر معاشرہ منفی اور مجرمانہ ہو تو بندہ ضرور مجرم اور تخریب کار سوچ کا مالک بن جاتا ہے ۔اور دوسری طرف وہ معاشرہ جہاں کام کاج اور روزگار نہ ہو اور بندہ احساس کمتری کا شکار ہوجاۓ تو وہ معاشرے سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے اور معاشرتی مسائل جیسے منشيات، چوری ڈکیتی اور دوسرے مجرمانہ، غیر اخلاقی اور تخریب کاری جیسے سرگرمیوں میں مبتلا ہوتاہے۔
    تو میرے ہم وطنوں! آٸیے کہ ہم سوشل میڈیا پر ایک مہم چلاٸیں اور وقت حکومت سے یہ اپیل کریں کہ خدارا اب ہمارے حال پر رحم کریں ہمارے نوجوان نسل پر رحم کریں ہمیں جینا ہے اور صرف جینا بھی نہیں بلکہ ہم ایک صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں جہاں یہ نشہ اور منشیات کے اڈے نہ ہوں اور آٸیے کہ ہم حکومت وقت سے یہ گزارش کریں کہ یہ جو منشيات کے اڈے ہیں اس کے خلاف کاروائی کریں اور ہماری آنے والی نسلوں کو اس معاشرتی ناسور سے بچایا جاۓ۔

    Writer Details 


    Musa Habib Raja is a Social Media Activist, Freelance Journalist Content Writer and Blogger. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes on political, international as well as social issues To find out more about him please visit his Twitter

     

    The rest of Musa Habib Raja Articles and Twitter Timeline


    t;

  • ‏زرائع کامیابی  تحریر: آنوشہ امتیاز

    ‏زرائع کامیابی تحریر: آنوشہ امتیاز

    ‏زرائع کامیابی۔۔
    اس دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو ہر چیز کے روشن پہلو دیکھتے ہیں اور ہر کام کو اس یقین کے ساتھ شروع کرتے ہیں، کہ ہم اس میں ضرور کامیاب ہوں گے، وہ مشکلات اور عارضی رکاوٹوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور بالآخر ضرور کامیاب ہو جاتے ہیں، کیونکہ اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیشہ ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔۔۔
    دوسری قسم کمزور دل لوگوں پہ مشتمل ہے، یہ کام کرنے سے پہلے کئی ماہ سوچتے ہیں کہ کیا ہم کامیاب ہو سکیں گے، ناکامی کا خطرہ ان کے دل سے نہیں نکلتا اور خیالی مشکلات کے بھوت ان پر سوار رہتے ہیں، بلآخر اپنی کمزوریوں کی بدولت ہمیشہ ناکام رہتے ہیں، ناکامی کا تجربہ ان کے پیشِ نظر رہتا ہے اور وہ فکر میں گھرے رہتے ہیں، اللّٰہ تعالیٰ کا قانون ایسے لوگوں کے ساتھ رعایت نہیں کرتا اور کامیابی ان کے شامل حال نہیں ہوتی ۔۔۔
    کامیابی کی ضروری شرائط کو تین جامع الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے ، "کامیابی، دیانتداری، عزم بالجزم "۔۔
    کامل یک سوئی یعنی ایک مقصد پر تمام قوتوں کا اجتماع،
    صحیح قوت فیصلہ، دنیا اور اہل دنیا کے متعلق مکمل معلومات،
    کام کے ساتھ زوق و شوق،
    اللّہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور خیالات کی پاکیزگی،
    ایمانداری، محنت اور استقلال،
    الفاظ کم کام زیادہ ،
    محنت، توکل اور اللّٰہ پر بھروسہ،
    کامیابی کی منزل پر پہنچنا دشوار نہیں، بشرطیکہ صحیح راستہ چنا جائے، جو شخص مناسب حالات اور بہتر مواقع کا منتظر رہتا ہے وہ اپنی قبر آپ کھودتا ہے، کیونکہ دنیا میں جتنے بھی بڑے آدمی گزرے ہیں وہ باوجود مخالفت کے کامیاب ہوئے ہیں یا یہ کہنا چاہیے کہ ہر کامیاب انسان زمانے کے مخالف سمت جا کر ہی کامیابی حاصل کرتا ہے۔۔۔
    گویا کامیابی کا واحد راستہ ہی ناکامی ہے،
    اور زندگی میں آگے بڑھنے کے لئیے ضروری ہے کہ انسان مواقع سے فایدہ اٹھانے کے لیے تیار رہے، جو لوگ آج کے کام کو کل پہ چھوڑ دیتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ آج ہم نے کیا کر لیا جو کل کر لیں گے ، کامیابی کے محل کو حاصل کرنے کے لیے انسان اس کا دروازہ خود بناتا ہے، اور کام یا مقصد جتنا اچھا اور بڑا ہو گا اتنی ہی دقتیں اٹھانا پڑیں گی۔۔
    درحقیقت مشکل کاموں کو سرانجام دینے میں ہی لطف ہے ، ورنہ ہر شخص آسان کام پہ ہی ہاتھ ڈالتا، وہ فتوحات جو آسانی سے حاصل ہو جائیں، کم قیمت ہو جاتی ہیں، اور قابلِ قدر فتوحات وہ ہیں جو انتھک محنت کا نتیجہ ہوں، کمزور انسان مواقع کے انتظار میں رہتے ہیں جبکہ عقلمند انسان اپنے مواقع خود پیدا کرتا ہے۔۔
    کامیابی کے چند اقوال درج ذیل ہیں۔۔
    "عمدہ اور صاف و شفاف چشموں کی تلاش نہ کرو، اپنا ڈول جہاں سے بھر سکتے ہو بھر لو”۔۔
    "جفا کشی کے سمندر کی تہہ کامیابی کے موتیوں سے بھری پڑی ہے”۔
    "اپنی تمام طاقتوں کو جمع کر کے ایک مرکز پہ لگاؤ”۔۔
    "کامیابی کا زینہ ناکامی کے ڈنڈے سے تیار ہوتا ہے”۔ ۔
    "انسان دنیا کے سمندر میں تنکے کی طرح بہہ جانے کے لئے پیدا نہیں ہوا بلکہ اس لئیے بھیجا گیا ہے کہ ملاح کی طرح موجوں کا مقابلہ کرتا ہوا آوروں کو پار اتارنے کی کوشش کرے”۔۔
    "دنیا میں وہی پست ہیں، جن کے حوصلے پست ہیں” ۔۔
    نپولین سے اس کے سپہ سالار نے کہا کہ کوہ ایلپس پہ چڑھنا ناممکن ہے، نپولین نے کہا ناممکن کا لفظ پست لوگوں کی لغات میں پایا جاتا ہے چنانچہ اس کی عالی ہمت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، ایک دفعہ راجہ رنجیت سنگھ جب دریائے اٹک پہ پہنچا تو آگے دریا پار کرنے کا سامان نہیں تھا، اس نے گھوڑا دریا میں ڈال دیا کسی نے کہا جناب یہ معمولی دریا نہیں یہ اٹک ہے، رنجیت سنگھ نے فوراً کہا،
    "جس کے دل میں اٹک اس کے لئے اٹک” چونکہ عالی ہمت تھا اس لئے پار ہو گیا،اور کامیاب ہوا،
    ان سب باتوں سے ہم یہ سبق سیکھتے ہیں کہ انسان کو بلند ہمت ہونا چاہیئے، محنت اور جستجو کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور صبرو استقلال کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اللّٰہ سبحانہ وتعالی ہم سب کو زندگی کے ہر موڑ پہ کامیابیاں عطا فرمائے،
    آمین یارب العالمین…

  • وہ کرو جس سے تمہیں خوشی ملے نہ کہ پیسہ  تحریر: کاوش لطیف

    وہ کرو جس سے تمہیں خوشی ملے نہ کہ پیسہ تحریر: کاوش لطیف

    دوستوں میں جو باتیں کہنے جا رہا ہوں وہ تم پر بہت زیادہ اثر چھوڑے گی سان 1923 میں دنیا کے سب سے امیر لوگ آپس میں ملے جب انہوں نے اپنی کل دولت کا حساب لگایا تو ان کو پتہ چلا کہ ان کے پاس جتنے پیسے ہیں اس سے پورا امریکہ کو خریدا جا سکتا ہے ان لوگوں نے اپنی زندگی میں اتنا پیسہ کمایا جو کہ دنیا میں کسی اور شخص کے پاس نہیں تھا

    اگر یہ آٹھ لوگ چاہتے تو مل کر دنیا کو ہلا سکتے تھے اتنی پاور تھی ان کے پاس پھر 25 سال کے اندر اندر ان کا کیا حال ہوا اس کو سن کر تم ہل جاؤ گے دنیا کے سب سے بڑی اسٹیل کمپنی کا مالک چارلس چوپ ادھار کے پیسوں سے پانچ سال جیا پھر کنگال ہوکر مرگیا

    دنیا کے سب سے بڑی گیس کمپنی کا مالک ہووارڈ ہوپسون اپنی عمر کے آخری حصے میں پاگل ہوگیا اور پھر مر گیا دنیا کا بہت بڑا بزنس مین آرتھر بینک کا کرپٹ ہو کر مر گیا دنیا کے سب سے بڑی اسٹاک ایکسچینج کمپنی نیویارک اسٹاک ایکسچینج کا مالک ریچرڈ وائٹنے جرم کرنے کی وجہ سے جیل چلا گیا وال اسٹریٹ کا سب سے بڑا انویسٹر خود کشی کر کے مر گیا

    اب یہ سب لوگ تو پیسے کمانے میں ماہر تھے مگر بدقسمتی سے زندگی جینے میں ماہر نہیں تھے اس لئے ہاتھ دنیا میں ہڑ کوئی پیسہ کمانے کے پیچھے بھاگ رہا ہے مگر اپنی زندگی کے خوبصورت لمحوں کو ضائع کیے جا رہا ہے وہ لمحے جو وہ اپنے اپنوں کے ساتھ گزارا سکتا تھا جو اپنے گھر والوں کے ساتھ گزار سکتا تھا بچوں کے ساتھ کھیل کریں انہیں چھوٹی چھوٹی خوشیاں دے کر گزار سکتا تھا

    کسی بھوکے کو کھانا کھلا کر جو خوشی اور سکون ملتا ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں مل سکتا اس لئے کمائیں ضرور کام کریں لیکن اپنے دن کے کچھ منٹ اپنوں میں ساتھ گزارے ان کو آپ کی ضرورت ہے کام کرے پیسے کمائیں اپنے شوق پورے کرے مگر اس بیچ میں اپنی زندگی کو جینا چھوڑ دینا یہ اچھی بات نہیں

    اگر دل خوش ہے تو ایک بوند بھی برسات ہے لیکن دکھی دل کے آگے سمندر کی کیا اوقات ہے اس لیے ہمیشہ خوش رہیں اور خوش رکھیں

    @k__Latif

  • درخت لگائیں ماحول کو خوشگوار بنائیں   تحریر: ملک ضماد

    درخت لگائیں ماحول کو خوشگوار بنائیں تحریر: ملک ضماد

    درخت انسانی زندگی کا جزو لازم ہیں، اور بنی نوع انسان ازل سے ان پر انحصار کرتا رہا ہے۔ درخت ہمیں آکسیجن فراہم کرنے کے علاوہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے ہوا کو صحت مند بناتے ہیں۔ دنیا کے بڑھتے درجۂ حرارت میں کمی اور موسمی تغیرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے جنگلات کو کٹنے سے روکنے اور شجر کاری کو فروغ دینے کے اشد ضرورت ہے

    درخت لگانا نا صرف زمین کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ زمین کو کٹائی سے بچاتے ہیں
    ہمیں صاف شفاف ہوا دیتے ہیں
    ایندھن کے ساتھ ساتھ جانوروں کو چارہ بھی دیتے ہیں
    پرندوں کو گھر تو چرندوں کو خوراک دینے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں
    درخت گھروں کی تعمیر میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں

    جہاں درخت ہوتے وہ جگہ باقی جگہوں سے زیادہ خوبصورت نظر آتی ہے

    درخت بنی نوع انسان اور دیگر مخلوقات کے لیے قدرت کی جانب سے دیا گیا ایک عظیم تحفہ ہیں۔ یہ ہمیں تازہ ہوا فراہم کرتے ہیں، گرمیوں میں چھاؤں دیتے ہیں، زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ درختوں کی عدم موجودگی سیلاب اور سمندری طوفان کی شدت میں اضافہ کرتی ہے

    صحیح بخاری میں ہے:
    6012: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ غَرَسَ غَرْسًا فَأَكَلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ».
    ترجمہ:حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’جب کوئی مسلمان درخت لگاتا ہے، پھر اس (کے پھل، پتوں یا کسی بھی حصے)سے کوئی انسان یا جانور کھالیتا ہے تو یہ اس کے لیے صدقہ شمار ہوتا ہے۔‘‘

    سبحان اللہ! درخت میں سے کوئی انسان یا جانور کچھ کھا لے تو اس درخت لگانے والے کو اس کا اجر وثواب ملتا ہے۔ظاہر ہے کہ درخت سے نجانے کتنے چھوٹے بڑے جاندار اپنے مزاج کے موافق کچھ نہ کچھ کھا ہی لیتے ہیں تو یہ سب اس شخص کے لیے اجر کا باعث ہے، اسی طرح اگر کوئی انسان کچھ کھا لے تب بھی اس درخت لگانے والے کو اجر ملتا ہے۔

    درخت لگانے سے ماحول خوشگوار ہونے کے ساتھ ساتھ ملک میں موسمی حالات میں بھی کافی حد تک تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے

    موسم خوشگوار ہوتا ہے
    تازہ ہوا ملتی ہے
    ایندھن میں اضافہ ہوتا ہے
    جنگلوں میں اضافہ ہوتا ہے جس سے جنگلی جانور اور پرندے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنی زندگی کو آسانی سے بسر کرتے ہیں

    حکومت پاکستان نے موجودہ موسمی حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے دور میں 10 بلین درخت 5 سالوں میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے
    اگر حکومت پاکستان کا یہ منصوبہ کامیاب ہو تو پاکستان سمیت پڑوسی ممالک میں بھی موسمی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی

    اس وقت شجرکاری کا موسم چل رہا ہے آئیں مل کر اپنے حصے کا ایک درخت لگائیں
    تاکہ موسم تبدیلیوں اور ملک کی خوبصورتی میں ہم اپنا کردار ادا کر سکیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو آلودگی اور موسمیات کی خرابی سے بچا سکیں

    @MalikZamad_

  • تحریک پاکستان  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    تحریک پاکستان تحریر : مقبول حسین بھٹی

    برصغیر پاک و ہند پر ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کے مطالبے کو ایک شاعر ، فلسفی سر محمد اقبال کی 1930 کی تقریر اور اس وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر (پاکستان کی آزادی کے بعد مسلم لیگ کو مختصر کر کے دیکھا جا سکتا ہے ). یہ اس کی دلیل تھی کہ برٹش انڈیا کے چار شمال مغربی صوبے اور علاقے یعنی سندھ (سندھ) ، بلوچستان ، پنجاب اور شمال مغربی سرحدی صوبہ (اب خیبر پختونخوا)-ایک دن آزاد اور خودمختار مسلمان بننے کے لیے شامل ہونا چاہیے۔ حالت. اس تجویز کے محدود کردار کو ڈیموگرافک طول و عرض کے بجائے اس کے جغرافیائی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس وقت لاپتہ ایک جنوبی ایشیائی ملک کو بیان کرنے کا نام تھا جہاں مسلمان اپنے مقدر کے مالک ہوں گے۔ یہ کام چودھری رحمت علی کے سپرد ہوا ، جو ایک نوجوان مسلمان طالب علم تھا جو انگلینڈ میں کیمبرج میں پڑھتا تھا ، جس نے ایک لفظ پاکستان میں شاعر اور سیاستدان کی خواہشات کو بہترین انداز میں پکڑا۔ 1933 کے ایک پمفلٹ میں ، اب یا کبھی نہیں ، رحمت علی اور تین کیمبرج کے ساتھیوں نے اس نام کو پنجاب ، افغانیہ (شمال مغربی سرحدی صوبہ) ، کشمیر ، اور سندھ-سندھ کے مخفف کے طور پر ملایا ، جس کا استن لاحقہ بلوچستان (بلوچستان ). بعد میں اس کی نشاندہی کی گئی کہ جب اردو سے ترجمہ کیا جائے تو پاکستان کا مطلب "پاک زمین” بھی ہو سکتا ہے۔
    انگریزوں کے برصغیر پر حملہ کرنے اور ان پر قبضہ کرنے سے بہت پہلے ، مسلم افواج نے آباد آبادیوں کو گھومنے والی ہموار زمین میں فتح کیا تھا جو ہندوکش کے دامن سے دہلی اور انڈو گنگاٹک کے میدان اور مشرق کی طرف بنگال تک پھیلا ہوا تھا۔ مسلمان فاتحین میں سے آخری اور سب سے کامیاب مغل خاندان (1526–1857) تھا ، جس نے بالآخر پورے برصغیر پر اپنا اختیار پھیلا دیا۔ برطانوی برتری مغل زوال کے ساتھ ہوئی ، اور ، میدان جنگ میں یورپی کامیابیوں اور مغلیہ ناکامیوں کے ایک عرصے کے بعد ، برطانوی مغل طاقت کا خاتمہ کر دیا۔ آخری مغل بادشاہ 1857–58 کی ناکام بھارتی بغاوت کے بعد جلاوطن ہوا۔ اس بغاوت کے تین دہائیوں سے بھی کم عرصے بعد ، انڈین نیشنل کانگریس کا قیام برٹش انڈیا کے مقامی لوگوں کو سیاسی نمائندگی دینے کے لیے کیا گیا۔ اگرچہ کانگریس میں رکنیت سب کے لیے کھلی تھی ، ہندو شرکاء نے مسلم ارکان کو زیر کیا۔ 1906 میں منعقد ہونے والی آل انڈیا مسلم لیگ کا مقصد مسلمانوں کو ایک آواز دینا تھا تاکہ اس کا مقابلہ کیا جا سکے جو اس وقت برطانوی راج کے تحت ہندوؤں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے طور پر سمجھا جاتا تھا۔ کانگریس کے ممتاز مسلم رکن محمد علی جناح نے کانگریس لیڈر موہنداس کے گاندھی سے علیحدگی کے بعد لیگ کی قیادت سنبھالی۔ قانون کے اینگلو سیکسن قانون پر پختہ یقین رکھنے والے اور اقبال کے قریبی ساتھی ، جناح نے بنیادی طور پر ہندو اتھارٹی کے زیر اثر ہندوستان میں مسلم اقلیت کی سلامتی پر سوال اٹھایا۔ اعلان ہندوؤں کے دوبارہ زندہ رہنے سے اسلام کو خطرے میں ڈال دیا گیا ، جناح اور لیگ نے ایک "دو قومی نظریہ” پیش کیا جس میں دلیل دی گئی کہ ہندوستانی مسلمان ایک دوبارہ تشکیل پانے والے برصغیر میں ایک علیحدہ اور خود مختار ریاست کے حقدار ہیں۔ برطانوی پارلیمانی جمہوریت کی طرز پر ہندوستان کو خود حکومت دینے کا برطانوی ارادہ 1935 کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ میں ظاہر ہے۔ یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں نے اپنے آپ کو برطانوی رسم و رواج اور انتظامیہ کے نوآبادیاتی انداز کے مطابق ڈھال لیا۔ مزید برآں ، ناکام بھارتی بغاوت کے بعد ، ہندو برطانوی طرز عمل اور نظریات کو اپنانے کے لیے زیادہ بے تاب تھے ، جبکہ ہندوستانی مسلمان برطانوی غضب کا شکار ہوئے۔ مغلیہ سلطنت کو باضابطہ طور پر 1858 میں تحلیل کر دیا گیا اور اس کے آخری حکمران کو برصغیر سے نکال دیا گیا۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ انہیں سزا کے لیے الگ کر دیا گیا ہے ، ہندوستان کی مسلم آبادی برطانوی طریقے اپنانے یا انگریزی تعلیمی مواقع سے فائدہ اٹھانے سے گریزاں تھی۔ ان مختلف عہدوں کے نتیجے میں ، ہندو اپنے مسلم ہم منصبوں کی قیمت پر برطانوی راج کے تحت آگے بڑھے ، اور جب برطانیہ نے مقامی آبادی کے لیے سول سروس کھولی تو ہندوؤں نے عملا پوسٹنگ پر اجارہ داری بنا لی۔ اگرچہ سید احمد خان جیسے بااثر مسلمانوں نے طاقت کے بڑھتے ہوئے عدم توازن کو تسلیم کیا اور مسلمانوں کو یورپی تعلیم اور نوآبادیاتی سول سروس میں داخلے کی ترغیب دی ، لیکن انہیں یہ بھی احساس ہوا کہ زیادہ ترقی پسند اور فائدہ مند ہندوؤں کو پکڑنا ایک ناممکن کام تھا۔ ہندوستان کی طرح پاکستان نے بھی اگست 1947 میں دولت مشترکہ کے اندر ایک تسلط کے طور پر آزادی حاصل کی۔ تاہم ، مسلم لیگ کے رہنماؤں نے بھارت کے آخری برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو پاکستان کا پہلا گورنر جنرل یا ریاست کا سربراہ ٹھہرا دیا۔ کانگریس کو ، جس نے اسے ہندوستان کا چیف ایگزیکٹو بنایا۔ برطانیہ کی چالوں سے ہوشیار اور جناح کو انعام دینے کے خواہشمند-ان کے "عظیم قائد” (قائد اعظم) ، ایک لقب جو انہیں آزادی سے پہلے دیا گیا تھا-پاکستانیوں نے انہیں اپنا گورنر جنرل بنایا۔ پارٹی میں ان کے لیفٹیننٹ لیاقت علی خان کو وزیر اعظم نامزد کیا گیا۔ تاہم ، پاکستان کی پہلی حکومت کے لیے اس سے پہلے ایک مشکل کام تھا۔ محمد اقبال کے پاکستان کے لیے پہلے کے وژن کے برعکس ، ملک ان دو علاقوں سے تشکیل پایا تھا جہاں مسلمان اکثریتی تھے — شمال مغربی حصہ جس کی انہوں نے حمایت کی تھی اور صوبے بنگال کے علاقے اور مشرقی علاقہ (جو خود بھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہوچکا تھا) ). چنانچہ پاکستان کے دو پروں کو تقریبا ایک ہزار میل (1،600 کلومیٹر) خودمختار ہندوستانی علاقے سے الگ کر دیا گیا جس کے درمیان ان کے درمیان رابطے کے کوئی آسان راستے نہیں تھے۔ نئی پاکستانی حکومت کے کام کو مزید پیچیدہ بنانا یہ احساس تھا کہ برٹش انڈیا کی دولت اور وسائل بھارت کو دے دیے گئے ہیں۔ پاکستان میں اسے برقرار رکھنے کے لیے بہت کم مگر خام جوش تھا ، خاص طور پر تقسیم کے فورا بعد کے مہینوں میں۔ در حقیقت پاکستان کی بقا توازن میں لٹکی ہوئی نظر آتی ہے۔ برٹش انڈیا کے تمام منظم صوبوں میں سے صرف سندھ ، بلوچستان اور شمال مغربی سرحدی صوبے کے نسبتا کم ترقی یافتہ علاقے پاکستان میں آئے۔ دوسری صورت میں زیادہ ترقی یافتہ صوبے پنجاب اور بنگال تقسیم ہوئے اور بنگال کے معاملے میں پاکستان کو گنجان آبادی والے دیہی علاقوں سے تھوڑا زیادہ ملا۔
    پاکستان کی آزادی کے صرف 13 ماہ بعد ستمبر 1948 میں محمد علی جناح کا انتقال ہوا۔ بہر حال ، یہ جناح کی متحرک شخصیت تھی جس نے ان مشکل مہینوں میں ملک کو برقرار رکھا۔ قوم کے سربراہ اور عملی طور پر صرف فیصلہ ساز کے طور پر ذمہ داری سنبھالتے ہوئے ، جناح ہندوستان میں اپنے برطانوی ہم منصب کے رسمی عہدے سے زیادہ تھے۔ لیکن وہاں بھی ایک خاص مسئلہ تھا۔ جناح کی زبردست موجودگی ، حالانکہ بیماری سے کمزور ہو گئے تھے ، سیاست پر بہت زیادہ اثر انداز ہوئی ، اور حکومت کے دیگر ارکان اس کی خواہشات کے بالکل ماتحت تھے۔ اس طرح ، اگرچہ پاکستان نے پارلیمانی نظام کے ساتھ جمہوری وجود کے طور پر اپنے آزاد وجود کا آغاز کیا ، سیاسی نظام کے نمائندہ پہلو قائد اعظم کے کردار سے خاموش تھے۔ درحقیقت ، جناح – انڈیا کے ماؤنٹ بیٹن نہیں – نائب روایتی روایت کو برقرار رکھا جو برطانیہ کی نوآبادیاتی حکمرانی کا مرکزی حصہ تھا۔ بھارت کے برعکس ، جہاں گاندھی نے حکومت سے باہر رہنے کا انتخاب کیا اور جہاں ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو ، اور پارلیمنٹ ملک کے زیر انتظام ہے ، پاکستان میں پارلیمنٹ اور گورننگ کابینہ کے ارکان کو ماتحت کردار میں ڈال دیا گیا۔

    Twitter handle :
    @Maqbool_hussayn

  • کراچی اور بھکاری تحریر: ام سلمہ

    کراچی اور بھکاری تحریر: ام سلمہ

    بھکاری جو کراچی میں اس وقت ایک بڑے اور آسان پیشے کا رخ اختیار کر کیا ہے بہت ہی آسان لگتا ہے حلیہ بدلنا اور سڑک پے آجانا اور بھیک مانگنا کہیں عورتیں کہیں مرد کہیں بچے کہیں بوڑھے کہیں زبردستی معذور کیئے گئے لوگ بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں.
    بھکاریوں کی دن با دن بڑھتی ہوئی رفتار سے جرائم کو روکنے والے ادارے اس شک میں ہیں کہ کراچی میں بھکاری بھی بچوں کے اغوا ملوث ہیں.
    اور ساتھ ساتھ پولیس نے بھکاری مافیا کے منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم میں شمولیت کا انکشاف کیا ہے.
    پولیس کی طرف سے کراچی کی سڑکوں سے متعدد بھکاریوں کوگرفتار کا سلسلہ جاری ہے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جہ سکے کے ان کے ساتھ بھیک مانگنے والے بچے شاید ان کے اپنے نہ ہوں اور ان کو اغوا کیا گیا ہو
    اس شبہے کی تصدیق کے لئے پولیس پولیس بچوں اور گرفتار شدہ بالغ بھکاریوں کا کچھ طبی جانچ کرنے کا کام شروع کر رہی ہے۔
    پولیس نے کچھ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر شہر میں بھکاری مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کے لئے مشترکہ تفتیش کا آغاز کیا ہے۔تاکہ اگر یہ کسی قسم کی جرائم میں ملوث ہیں تو اسکا پتہ لگایا جہ سکے.
    کراچی پولیس چیف سے بات کرنے پے پتہ چلا کہ اس سلسلے میں کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
    انہوں نے بتایا کے "حکومت سندھ کے کچھ محکمہ جیسے کے سوشل ویلفیئر اور بچوں کی پروٹیکشن اتھارٹی کچھ ٹرسٹ ، ٹریفک پولیس اور کچھ ہیلپ لائن جیسے کے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ ، جرائم کو روکنے کے محکمے ، اور دیگر تنظیمیں اس کے لیے پولیس کے ساتھ مل کر کر رہی ہیں۔”
    ان کے مطابق اس بات کے کافی شواہد مل رہے ہیں کہ کراچی کے بھکاری بھتہ منشیات کی اسمگلنگ سمیت متعدد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
    پولیس سربراہ نے کہا ان بھکاریوں میں سے بیشتر کا تعلق شہر کی مقامی آبادی سے نہیں ہے دوسرے شھروں سے آتے ہیں. اس میں سے کچھ تو جنوبی پنجاب کی طرف کے ہیں اور کئی نسلوں سے بھیک مانگنے کے پیشے سے منسلک ہے مختلف زبانوں اور مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے کئی غیر ملکی شہری بھی ہیں ، جن میں سے ایک بڑی تعداد افغانی بھی ہے۔
    انہوں نے کہا ،مختلف تنظیموں سے ہماری ملاقات کے دوران ، ہم نے ان بھکاریوں کے ہمراہ بچوں کے بارے میں اپنے شک کا ظاہر کیا اور ان کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے تاکہ معلوم کریں کہ بچوں کو کہیں سے اٹھایا تو نہں گیا ہے۔
    بہت سے معاملات میں ، بھکاریوں نے جان بوجھ کر اغوا کیے گئے بچوں کے اعضاء اور ہاتھ / پاؤں کاٹ دیے جاتے ہیں تاکہ وہ انہیں بھیک مانگنے کے کاروبار میں بطور اوزار استعمال کرسکیں۔
    کراچی پولیس چیف کے مطابق ، شہر میں محکمہ سوشل ویلفیئر کی نگرانی میں کورنگی اور ملیر میں بھکاری بچوں کے رہائش کے مراکز موجود ہیں جہاں بھکاریوں اور ان کے بچوں کو رہائش اور کھانے کی مکمل سہولت فراہم کی جائیں گی۔
    پولیس کی طرف سے اٹھائے گئے اس اقدام کی صحیح طرح تشہیر کی ضرورت ہے تاکہ بکھاری مافیا کو پتہ چلے اور ساتھ ہی عوام کے بھی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ بڑھتے ہوئے بچوں کے اغوا کے واقعات کو روکا جا سکے اور ایک معاشرہ بنانے میں ہوں پولیس کی مدد کر سکیں.
    تحریر

    @salmabhatti111

  • ‏آخر کب تک ؟  تحریر : رفاقت علی کھوکھر

    ‏آخر کب تک ؟ تحریر : رفاقت علی کھوکھر

    اولمپکس 2021 میں بھی حسب روایت پاکستان ابھی تک کوی میڈل نہی جیت سکا۔ جناب عزت مآب جنرل ریٹائرڈ سید عارف حسن جو کہ سنہ 2004 سے مسلسل صدر اولمپکس ایسوسی ایشن منتخب ہو رہے ہیں ،ان سے کوی پوچھنے والا نہی کہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے
    آخر آپ کو مزید کتنے سال درکار ہیں!

    بحثیت قوم ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے کہ ایک کھلاڑی کی حکومت کے ہوتے ہوے 21 کروڑ کی آبادی میں سے ہم صرف 9 کھلاڑی اولمپکس میں بھیج سکے۔ سوال یہ ہے کہ صدر اولمپکس پاکستان ایسوسی ایشن کے عہدے کے لیے کیا ہمارے پاس ایک 71 سالہ بزرگ سے بہتر کوی نہی؟ کیا میرٹ نام کا لفظ صرف ہمیں تقاریر میں سننے کو ملے گا؟ کیا اس پر کبھی عمل بھی ہو گا؟ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے پچھلے 20 سال سے مسلسل میرٹ پر نوکریاں دینے کے وعدے کیے مگر وعدے تکمیل ہوتے نظر نہی آرہے،

    سویلین کی نوکریاں ریٹائرڈ جنرلز یا کرنلز کو کیوں دی جا رہی ہیں؟ جہاں تک عام فہم کی بات کہ اگر آپ ایک ڈاکٹر سے بال بنوائیں گے تو نتیجہ کچھ اچھا نہی آے گا، بال بنوانے کے لئے آپ کو حجام کے پاس ہی جانا پڑے گا، ٹھیک اسی طرح ملک کے بارڈرز کے رکھوالوں سے اگر آپ ڈپلومیسی ، پبلک افیرز ، پبلک پالیسی ، حتیٰ کہ منسڑرز کا کام لیں گے تو نتائج بھی آپ کو ایسے ہی ملیں گے! مندرجہ زیل چند مثالیں ملحظہ فرمائیں ۔
    چیف آف سٹاف ہیڈ کواٹر نادرا ریٹائرڈ کرنل طاہر مقصود خان ہیں ۔
    ڈائریکٹر جنرل آر ایچ او اسلام آباد برگیڈئیر ر طلال قیوم ہیں ۔
    ایکٹنگ ڈائیریکٹر جنرل آر ایچ او ملتان میجر (ر) عمران علی خان ۔
    ڈی جی ایلین رجسڑیشن ہیڈکواٹر نادرا اسلام آباد لیفٹیننٹ کرنل محمد طلہ سعید ہیں۔
    پاکستان کے بہت سے اداروں کی اعلی ترین کرسیوں پر زیادہ تر ریٹائرڈ فوجی افسران تعینات ہیں جو کہ میرٹ کے نام پر بہت بڑا داغ ہے، پاکستان سے باہر بھی (ر) فوجی افسران کو پاکستان کا ایمبیسڈرز بنا کر بھیجا جاتا ہے جیسا چند ہفتہ قبل جنرل (ر) بلال اکبر کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر بنا دیا گیا ، یہ پہلے جنرل نہی جن کو سفیر بنا کر بھیجا گیا ، صرف پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران کم از کم 9 ریٹائرڈ جنرلز کو بیرون ملک ایمبیسڈرز بنا کر بھیجا گیا!
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فارن آفس میں موجود جوسولین افسران عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں، فارن افیرز میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں ، جنہوں نے ڈپلومیسی کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے ، کیا ان سب میں سے کوی اس قابل نہی تھا جسے سعودی عرب یا دوسرے ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کے لئے بھیجا جاتا؟ جناب ضرور قابل لوگ ہوں گے جن کی حق تلفی کی گئی! جن کا مسقبل داو پر لایا گیا، میرٹ کی دھجیاں بکھیری گئی ! سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر اداروں کے ڈائریکٹرز ، چیرمینز اگر آپ نے فوجی افسران ہی لگانے ہیں تو پھر براے کرم میرٹ میرٹ کی رٹ لگانا چھوڑ دیں ۔

    کیا پبلک سروس کمیشن کا ادارو ناکام ہے؟اگر ناکام ہے تو نیا نظام کون لے کر آے گا؟ تبدیلی کے نعروں سے تبدیلی نہی آتی بلکہ عملی اقدام اٹھانے پڑتے ہیں ! کیا سولین برے مینجرز ہیں؟ تو اچھے مینجرز ہم کہاں سے درآمد کریں ؟ عوام پر رحم فرمائیں جو بھی ریٹائیرڈ ہوں انہیں گھر بھیجیں ۔نوجوانوں کو مواقع فراہم کریں۔

    پاکستان میں قابلیت کی ہر گز کمی نہی مگر سفارش والے کلچر کو ختم کرنا ہو گا ، پاکستان کو ترقی یافتہ بنانا ہے تو اپنے نوجوانوں پہ بھروسہ کرنا ہو گا، آخر کب تک ڈگریاں ہاتھوں میں لئے نوجوان زلیل و خوار ہوں گے اور بڑی کرسیاں صرف ریٹائرڈ جنرلز کو ملیں گی، آخر کب تک !

    ‎@IamRafaqatAli

  • اللہ کی طرف سے آزمائش تحریر:حسیب احمد

    اللہ کی طرف سے آزمائش تحریر:حسیب احمد

    "اللہ کی طرف سے آزمائش”

    اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈالتے ہیں کیوں کہ اللہ پاک دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس کے بندے کتنا صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں۔ کرونا بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اور اللہ چاہتا ہے انسان جیسے میں نے اشرف المخلوقات کا لقب دیا وہ کیسے میری اس آزمائش سے خود کو کامیاب کرتا ہے۔ اللہ نے ہمیں آزمائش میں بھی ڈالا تو ہمیں اس سے بچنے کا حال بھی دیا وہ ویکسین کی صورت میں۔

    اللہ کی طرف سے آزمائش کسی پر آسکتی ہے اس بار پوری دنیا پر آئی ہے تاکہ اللہ پاک کو بھی اندازہ ہوسکے کہ اس کی اشرف المخلوقات کس طرح اس آزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے اور یہ وقت سیاست کا نہیں ہے۔

    اللہ پاک ہمیں اس قابل سمجھتے ہیں اس لیے تو ہمیں ازما رہے ہیں کیوں کہ اللہ آزمائش کے لیے بھی اس بندے کا انتخاب کرتا ہے جس کو وہ اس کے قابل سمجھتا ہے۔ آزمائش تو ختم ہوجائے گی بس ہمیں اپنا اعتماد اللہ پر ہمیشہ برقرار رکھنا ہے۔

    آزمائش صرف کرونا کی صورت میں نہیں بلکہ پیسوں کی ضرورت کی صورت میں، نوکری کی صورت میں ہوتی ہیں اور اس سے اللہ دیکھتا ہے بندہ کوئی غلط راستے کا انتخاب تو نہیں کرتا۔ اگر بندے کا اللہ پر یقین ہوتا ہے تو چاہے دنیا کی کوئی بھی طاقت ہو اس بندے کا ایمان اور یقین نہیں بدل سکتا۔

    اللہ کے سامنے امیر غریب سب برابر ہیں اور وہ یہ نہیں دیکھتا ازماتے وقت کہ بندہ امیر ہے یا غریب۔ وہ ازماتا ہے اور اس وقت بندے کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ کچھ ایسا نا کردے جس سے اللہ ناراض ہو اور بندے کو گناہ گار قرار دے دے۔

    اللہ کی آزمائش سے ڈریں نا اور اس کی آزمائش کا سامنا کرنا سیکھیں وہ اپنے بندے سے بہت پیار کرتا ہے۔ جتنا ایک ماں اپنے بچے سے کرتی ہے اس سے 70 گنا زیادہ پیار کرتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے اللہ کے لیے اس کے بندے کیا مقام رکھتے ہیں۔

    اللہ سب کو اپنی آزمائش کا مقابلہ کرنے کی توفیق دے اور سب انسانوں کو کرونا جیسی آزمائش سے مقابلہ کرنے کی ہمت دے اور اس کو اتنا مضبوط بنائے کہ وہ کسی آزمائش سے ڈر کر پیچھے نا ہٹ جائے۔

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور دنیا بھر کے سب انسانوں پر اپنا خاص کرم برقرار رکھے آمین

  • ترکی میں لگی خوفناک  آگ، حادثاتی یا تخریب کاری  تحریر : توحید احمد رانا ازمیر، ترکی

    ترکی میں لگی خوفناک آگ، حادثاتی یا تخریب کاری تحریر : توحید احمد رانا ازمیر، ترکی

    ترکی کے جنگلوں میں آگ لگنا کوئی نئی بات نہیں ہے، ہزاروں سال پرانی تاریخ قدرتی حوادث سے بھری پڑی ہے، جہاں ایک طرف تو زلزلوں نے شہر کے شہر تباہ کردیے وہاں آگ نے بھی ایسے بہت سے شہر صفحہ ہستی سے جلا کر راکھ کردیے

    ترکی کا وسیع رقبہ جنگلوں اور پہاڑوں پر مبنی ہے، محکمہ جنگلات محکمہ پانی و زراعت سے بھی بڑا ہے ہر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے کے لئے باقاعدہ راستہ بنایا جاتا ہے تقریباً ہر سال گرمیوں میں ترکی کے جنگلوں میں آگ لگنا ایک معمول کا عمل ہے، سخت گرمی میں سورج کی دھکتی شعاوُں سے ایسا ممکن ہے کیونکہ زیادہ تر درخت چیڑ کے ہیں جو بڑی جلدی آگ پکڑ لیتے ہیں۔ کچھ واقعات میں ٹوٹی ہوئی شیشے کی بوتلوں نے بھی میگنیفائر کا کام کیا، مگر سب سے زیادہ آگ لگنے کے واقعات پکنک منانے والوں کی باربی کیو کی آگ یا پھر چلتی گاڑی سے سگریٹ پھینکنے سے ہوتے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی لاپروائی سے منٹوں میں سینکڑوں ایکڑ جنگل جل کر راکھ ہوجاتا ہے اور آگ پر قابو پانے میں کئی گھنٹے یا دن لگ جاتے ہیں کیونکہ مسلسل سمندر سے زمینی علاقوں اور زمینی علاقوں سے سمندر کی طرف چلنے والی تیز ہوائیں بھی آگ کو پھیلانے میں مدد دیتی ہیں۔

    ترکی ہر سال اس آگ سے نپٹنے کے لئے پانی لانے والے نئے جہاز، ہیلی کاپٹر یا جنگل اور پہاڑی راستوں پر اسانی سے چلنے والی گاڑیاں خریدتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان مشکل حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے آگ بجھانے والے آلات کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس بھی کرتا رہتا ہے

    آگ لگانے کے تخریبی واقعات بھی عام ہیں اور یہ زیادہ تر مشہور سیاحتی مقامات کے قریبی ان جنگلات میں ہوتے ہیں، جہاں محکمہ ماحولیات نے ہر قسم کی تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی لگائی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کچھ عرصے بعد رہائشی منصوبے یا ہوٹلز وغیرہ کی تعمیر کی اجازت مل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر موئلہ صوبے کے سب سے مشہور سیاحتی مرکز بودروم شہر کے اس ہوٹل تک بھی آگ پہنچ گئی ہے جو اس جگہ تعمیر کیا گیا تھا جہاں جنگل میں کچھ سال پہلے آگ لگی یا جان بوجھ کر لگائی گئی تھی مگر بعد میں نئے درخت لگانے کی بجائے ہوٹل کی تعمیر کی اجازت مل گئی تھی۔

    موجودہ آگ کو ترک ماہرین اور تجزیہ نگار ماحولیاتی دہشتگردی کے طور پر بیان کر رہے ہیں۔ شرپسندوں کی طرف سے جنگلوں میں آگ لگانے کے اتنے وسیع اور منظم طریقے سے تخریب کاری پہلی دفعہ دیکھنے میں آئی ہے، جہاں صرف چار دن میں (اٹھائیس سے اکتیس جولائی تک) 26 صوبوں کے 98 سے زائد مقامات پر اچانک آگ کا بھڑک اٹھنا بھی اس بات کا ثبوت ہے اور پولیس کے ہوائی ڈرونز نے بھی مختلف جگہوں پر شرپسندوں کو آگ لگاتے کیمرے کی آنکھ سے پکڑا ہے اور اس بار یہ آگ صرف سیاحتی مراکز ہی نہیں بلکہ دور دراز کے شہری علاقوں کے قریبی جنگلات میں بھی لگائی گئی ہے جس کے نتیجے میں بوقت تحریر 4 قیمتی انسانی جانوں کے نقصان علاوہ ہزاروں کی تعداد میں مویشی اور جنگلی جانور تلف ہوچکے ہیں، املاک کے نقصانات کا اندازہ لگانا ابھی تقریبا ناممکن ہے۔ آگ بجھانے کے لیے 45 ہیلی کاپٹر، 6 عدد پانی لے جانے والے ہوائی جہاز، 1080عدد فائیربرگیڈ کی گاڑیاں، 2270 عدد ابتدائی مداخلت والی جییپیں، 10,550 آگ بجھانے کے ماہرین 280 عدد پانی کے ٹینکروں کی مدد سے کوشاں ہیں، ترک صدر جناب رجب طیب ایردوآن کی طرف سے پانچ صوبوں (انطالیہ، میرسن، عثمانیہ، موئلہ اور عادانا) کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کر ایمرجنسی لگا دی گئی ہے

    دو تین سال پہلے جب یونان کے مختلف علاقوں میں آگ لگی تھی تو ترکی نے ہمسایہ ملک کی بھر پور مدد کی تھی آگ بجھانے میں مگر آج حالات یہ ہیں کہ ترکی کے اپنے آگ بجھانے کے وسائل ناکافی ہوچکے ہیں، آزربایجان اور یوکرین نے اپنے ہوور جہاز مدد کے لیے بھیجے ہیں . پاکستان نے بھی ترک بھائیوں کی ضرورت پڑنے پر ہر قسم کی مدد کی یقین دہانی کروائی ہے

    امید اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ ترکی کو اس مشکل وقت اور سخت امتحان سے جلد نکالے۔ مالی اور جانی نقصان پر صبر عطا کرے۔ آمین

    @Tarvelogue