Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • شہادت مقصودِ مومن تحریر : عثمان غنی

    دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل یہ عجب چیز ہے لذتِ آشنائی بھی
    بے شک شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
    نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی

    مومن کی اصل میراث اللّہ کی راہ میں شہید ہونا بےشک مجاہد کا مستقبل مرنے کے بعد ہی گردانتا ہےاور ایمان، تقویٰ نگہبانی اور جہاد فی سبیل اللہ کا یہ جو مسلمان کے اندر جزبہ ہےافواج پاکستان کو مشکِ ہرن کی طرح ہر لمحہ ہرگھڑی ہرپل ہرنگر غازی بننے اور اس حالت میں شہید ہونے کے جذبے سے سرشاررکھتاہےان سپاہیوں میں یہ آرزو دعا بن کرہمیشہ پختہ رہتی ہے کہ ہم اپنے وطن کے لیے جان کا نظرانہ پیش کر رہے ہیں اور دشمن ہماری للکار سے ڈرتا ہے.ہم اپنی جانوں کی بازی لگا کر دشمن ہم اپنے پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی پکار ان کے جزبہ کو اپنا بنا کر اس حکم اور اس جزبہ کو پوری ایمانداری سے پرا کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں الحمدللہ حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

    ’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے میں یہ اس بات سے شدید محبت کرتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں پھر شہید کردیا جاؤں پھر جہاد کروں پھر شہید کردیا جاؤں پھر جہاد کروں پھر شہید کر یا جاؤں۔‘‘

    نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق شہادت کی حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے خلوص نیت کے ساتھ اللہ کے لیے اپنی جان قربان کر دے۔جس طرح قربانی کے جانور میں اللہ کو جانور کا گوشت و خون مطلوب نہیں ہوتا اسی طرح شہات میں بھی خون نہیں بلکہ اخلاص اور رضا و تسلیم مطلوب ہے
    جہاں جزبہ مان پر جائے تو راستے بند ہونے لگتے ہیں اگر جزبوں میں پاکیزگی اور پختگی ہو وہ پروان چڑھ کر ہی دم لیتے ہیں.
    جیسے کہ ایمان کھڑا رہتا ہے اور نگہبان بھی کھڑا رہتا ہے ایسی تپتی دھوپ اور پے تہاشا گرمی میں. اور تب بھی کھڑا رہتا ہے جب درجہ حرارت منفی ہوجاتا ہے ہر چیز برف کی طرح جم جاتی ہے. تو سوچئے ہمارے جوانوں کو کیا چیز ہے جو کھڑا رکھتی ہے. ایمان، حب الوطنی کا جذبہ جنون اور بے شک ذوقِ شہادت…
    اللّٰہ پاک ہمارے فوجی جوانوں کو اپنی حفاظت میں رکھے اور انکے اس جزبہ ایثار قربانی کا اجردے اور سلام ان ماں باپ پر جو اپنے لخت جگر کو ملک اور قوم کی خاطر قربان کرنے کے لیے ایسی تربیت کرتے ہیں.. اللّہ سلامت اور کامیاب رکھے اسی جزبہ ایمانی کے ساتھ ہمیشہ.. آمین ثم آمین سلام پاک فوج.
    شکریہ۔


    Usman Ghani is a Freelancer, Blogger He is associated with many leading digital media sites in Pakistan. To find out more about him visit her        Twitter Account(@UsmanSay_)  

    Other Article Usman Ghani

     

     

  • پردیسوں کے دکھ تحریر : طاہر ظہور غوری

    پردیسوں کے دکھ تحریر : طاہر ظہور غوری

    رزق کی تلاش میں وطن سے بے وطن ہونے والے پردیسی لوگوں کے بہت سے دکھ ہیں جہاں انہوں اپنوں سے جدائی کا سامنہ ہوتا ہے وہاں وہ اپنے پیاروں کی خوشی وغمی میں شرکت نہیں کر پاتے
    اگر پچھلے دو سال کا جائزہ لیا جائے تو کورونا وبا کی وجہ سے پتہ چلتا ہے کہ مزدور اور اوسط درجے کا کمانے والے اک ہی صف میں نظر آتے ہیں کتنے ہی دوست ایسے ہیں جو یاں تو اپنے پیاروں کے جنازے میں بھی شرکت نہیں کر پائے کسی کی والدہ تو کسی کے والد کسی کی بیوی تو کسی کے بہن بھائی اور کچھ کے تو بچے بھی اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے پر وہ بچارے یہیں روتے نظر آئے جہاں عموماً ان کو تو تسلی دینے والا بھی کوئی اپنا نہیں ہوتا غیر ہی ہوتے ہیں۔
    کچھ تو ایسے نظر آتے ہیں جو بچارے دن رات مزدوری کرتے ہیں اک ہی کمرے میں چھے چھے آٹھ آٹھ لوگ رہتے ہیں اور اپنی کمائی اپنے پیاروں کو ارسال کرتے رہتے ہیں جن میں کچھ تو انکا خیال کرتے ہیں اور جمع کرتے ہیں کہ مشکل وقت میں کام آئے اور کہیں تو انتہائی عجیب مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ انکے بھجے گئے پیسوں پر عیاشیاں کی جاتی ہیں اور اگر کوئی ان عیاش موصوف سے پوچھے کہ آپ کیا کرتے ہیں تو جواب ہوتا ہے “وڈے پائین / ابا جی باہر ہندے نے”
    خدا کیلئے اپنے پردیسی پیاروں کا خیال رکھیں کہ جب وہ جھکی کمر کے ساتھ واپس آئے تو انکو خوشحالی نظر آئے ورنہ یقین کریں پردیسی یہ سوچتا رہ جاتا ہے کہ ابھی تک وطن میں کچھ نہیں بنا جا کر کیا کرونگا اور یہی سوچتے سوچتے اک دن ختم ہو جاتا ہے اور یقین کریں ہم نے بہت سے تابوت وطن کو روانہ کئے ہیں۔
    کچھ کی کہانی تو انتہائی درد ناک ہے کہ جب وہ زندہ سلامت وطن پہنچتے ہیں تو ان کو سننے کو ملتا ہے تو نے ہمارا کیا ہی کیا۔
    بچے کہتے ہے جب ہمیں آپ کی ضرورت تھی تو آپ باہر تھے اب ہمیں آپ کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ وہ اپنے پاؤن پر کھڑے ہو چکے ہوتے ہیں
    کاش اسوقت کوئی اس شخص کو سمجھے کہ وہ پردیس گیا ہی کیوں تھا اس نے اپنے بچوں کی خاطر ہی تو اپنا آپ قربان کر دیا ماں، باپ بیوی سے دور رہا پر اسکو سمجھنے کیلئے ان حالات سے گزرنا ضروری ہے
    کچھ کے والدین ان کو ان کے حق جائیداد سے یہ کہہ کر مرحوم کر دیتے ہیں کہ تو نے تو بہت کمایا ہے اس لئے جائیداد کا اپنا حصہ تو اپنے بہن بھائیوں کے لئے چھواڑ دے
    اور وہ بیچارہ جس نے سب کی زندگی بھر کفالت کی ہوتی ہے اور ان کو ان کے پاؤں پر کھڑا کیا ہوتا ہے اور جس جائیداد کے متعلق مطالبہ کیا جا رہا ہوتا ہے عموماً اس کے بھیجے ہوئے پیسوں سے ہی بنی ہوتی ہے اپنے والدین کی احترام میں یاں تو خاموش ہو جاتا ہے یاں پورے خاندان میں بدنام ہو جاتا ہے کہ دیکھو اتنا کما کر بھی اس کی نظر والدین کی جائیداد پر ہے
    لکھنے کو اتنا کچھ ہے کہ تحریر ختم ہی نا ہو کیونکہ جس پردیسی کے پاس بیٹھ جاؤ اس کی الگ ہی داستان ہوتی ہے
    اہل وطن سے گزارش ہے کہ آپ کو اللہ پاک کا واسطہ پردیسیوں کے دکھ کو سمجھیں اور انکا احساس کریں
    شکریہ

  • ہنر سیکھے اور  فری لانسینگ شروع کرے۔ تحریر: محمد وسیم

    ہنر سیکھے اور فری لانسینگ شروع کرے۔ تحریر: محمد وسیم

    آج کل کے دور میں ہر کوئ چاہتا ہے کہ ان کے پاس بہت سارا پیسہ ہو اور وہ اسی پیسے سے اپنے دل کی ہر خواہش پوری کرے۔ لیکن کچھ لوگوں کو نہیں معلوم کہ وہ پیسے کس طریقے سے کماۓ اور اس کیلۓ کونسا پلیٹ فارم استعمال کرے جس سے وہ آسانی سے پیسا کماۓ۔
    آج کل جب کرونا کا وبا چل رہا ہے تو اس سے بہت ہی کم وقت میں بہت زیادہ ملکوں کی معیشت خراب ہوگئ جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے کاروبار خراب ہوگۓ کیونکہ وبا کے شروع ہوتے ہی بہت سے ملکوں میں لاک ڈاؤن لگ گۓ ۔ امیر سے امیرتر کی بھی بری حالت بن گئ ہے تو پھر غریب لوگوں کا کیا حال ہوا ہوگا۔
    جب دنیا میں لاک ڈاؤن لگ گیا تھا اور ہر قسم کے کاروبار بند تھے اور لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ملنے جلنے پر پابندی تھی تو اس وقت سب کچھ آنلائن ہورہا تھا اور لوگ اپنے دفاتر کے کام آنلائن کرتے تھے تو اس وقت جن لوگوں کو آنلائن کام آتا تھا اور جو لوگ فری لانسینگ کر رہے تھے وہی لوگ فائدے میں تھے ۔
    فری لانسینگ کے بہت فائدے ہے اگر کوئ بندہ فری لانسینگ کرتا ہو تو انہیں اپنی فیملی سے دور نہیں جانا پڑتا بلکہ وہ گھر بیٹھ کے بھی کام کرسکتے ہے جب کہ دوسرا بڑا فائدہ ایک ہنر ہوتا ہے اپنے ہاتھ میں اور جب بندہ چاہے وہ استعمال کرسکتے ہے ۔ تیسرا فائدہ اگر کوئ بندہ نوکری کررہا ہو تو وہ فری لانسینگ کو پھر ڈیوٹی سے آ کر بھی کرسکتا ہے
    فری لانسینگ کیلۓ دو چیزیں اہم ہے پہلا چیز ہنر سیکھنا اور دوسرا انگلش کا سمجھنا۔ جب انسان کو ایک چیز سمجھ میں آنا شروع ہوتا ہے تو اس کو اس چیز میں لگن ہوجاتی ہے اور وہ پھر اسی چیز کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اس طرح جتنے بھی ٹاپ فری لانسرز ہے وہ ہمیشہ یہی کہتے ہے کہ فری لانسنگ کا مزہ ایک بار ضرور لیں۔
    جب انسان کے پاس ہنر ہو اور انہیں پیسے کی ضرورت ہو لیکن بیچارے کو یہ نہ ہو معلوم کہ میں نے اس ہنر کو لے کے کس طرح اپنی ضروریات کو پوری کرنا ہے تو پھر اس ہنر کا فائدہ ہی کوئ نہیں۔
    میرا ایک یونیورسٹی کا دوست تھا جن کی گھریلوں حالت بہت خراب تھی ایک دن ہاسٹل میں کسی بندے کے ساتھ بیٹھ کے اپنے گھر کے حالات کا انہیں بتایا تو انہوں نے پوچھا بھائ کمپیوٹر سے متعلق کچھ آتا ہے جس پر میرے دوست نے کہا کہ ہاں مجھے گرافکس ڈیزائننگ آتی ہے اس بندے اسی ٹائم ان کو فائیور پر پروفائل بنا کر اسے فری لانسنگ کے بارے میں سمجھایا جب میرے دوست نے فری لانسینگ پر کام شروع کیا تو یقین جانے اس کے حالات بدل گۓ اور وہ اسی فری لانسینگ سے آج ایک لاکھ تک مہینہ کما رہا ہے۔ ایسے بہت سے لوگ ہے جو کہ فری لانسینگ سے مہینے کے لاکھوں روپے کما رہے ہے ۔
    ایک طرف اگر ہم لوگ دیکھ لے تو اس سے ہمارے ملک کی معیشت کیلۓ بڑے فائدے ہے اور جتنا اگر لوگ فری لانسینگ کرینگے اتنا پیسہ آئیگا باہر کی ممالک سے اور ہمارے روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا اور ملک معیشت کے لحاظ سے مضبوط ہوگا۔
    آخر میں میں اپنے ملک کے پڑھے لکھے جوانوں س یہی کہونگہ کہ ایک دفعہ ضرور کوشش کرے اور اپنے ہنر کو چھپانے کے بجاۓ ا سے باہر لے آے اگر آپ چاہتے ہے کہ گھر بیٹھے پیسے کماۓ تو فری لانسینگ سیکھ کر اسے ایک دفعہ ضرور آزماۓ آپ کی زندگی بدل جاۓ گی۔

    Waseem khan
    Twitter id: Waseemk370

  • ماں باپ اور بچے  تحریر: سحر عارف

    ماں باپ اور بچے تحریر: سحر عارف

    بچہ پیدا ہوتے سب کچھ سیکھ کر تھوڑی آتا ہے بلکہ وہ تو جو کچھ سیکھتا ہے اپنے اردگرد کے ماحول سے سیکھتا ہے جس میں سب سے پہلے اس کے ماں باپ، بڑے بہن بھائی، دادا دادی اور گھر کے باقی سب افراد آتے ہیں۔ لیکن ان میں بھی سب سے پہلے وہ ماں باپ سے سیکھنا شروع کرتا ہے۔

    ظاہر ہے جب بچوں کے اردگرد کا ماحول اچھا ہوگا تو وہ سب کچھ اچھا ہی سیکھے گا۔ اسی طرح سے ماں باپ اگر کچھ غلط کرتے ہیں، اگر وہ بچوں کے سامنے لوگوں کی غیبت یا ان سے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں تو اس وقت ان ننھا سا دماغ یہ سب کچھ کمپیوٹر کی میمری کی طرح اپنے اندر محفوظ کرلیتا ہے۔

    پھر جیسے جیسے وہ بڑا ہونے لگتا ہے تو ان باتوں کا جن کو اس نے چھوٹی سی عمر میں اپنے دماغ میں محفوظ کیا تھا استعمال میں لانا شروع کردیتا ہے اور یہ چیز اس کے رویے سے صاف ظاہر ہوتی چلی جاتی ہے۔
    بہت پڑھے لکھیں ماں باپ بھی اگر ہوں تو ان کی بھی اولاد غلط راہ پر نکل پڑتی ہے اور اس کی وجہ باز اوقات صرف اور صرف والدین کی لاپرواہی ہوتی ہے۔

    بچے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو انھیں صرف ماں باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ پاس ہوں، ہماری ننھی ننھی شرارتیں دیکھیں اور خوش ہوں لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو بچے بہت کچھ اپنے ذہنوں پر سوار کرلیتے ہیں۔

    یہاں امیر ماں باپ دیکھے ہیں جو بچوں کو ان کی چھوٹی عمر میں ہی ملازموں کے حوالے کر دیتے ہیں صرف اپنی مصروفیات کی وجہ سے، پر کیا مصروفیات اولاد سے زیادہ قیمتی ہوتی ہیں؟ شاید یہی وجہ ہے کہ پھر بچے بھی ماں باپ سے دور ہو جاتے ہیں۔

    اسی لیے ماں باپ کو چاہیے کہ بچوں کو سمجھیں انہیں اس وقت اکیلا نا چھوڑیں جس وقت بچوں کو سب سے زیادہ ماں باپ کے پیار اور ان کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یقین جانے وہی بچے پراعتماد اور باحوصلہ ہوتے ہیں جنہیں ماں باپ کی توجہ زیادہ ملتی ہے۔

    @SeharSulehri

  • تعلق اور رابطے۔پاٹ 2 تحریر : راجہ ارشد

    تعلق اور رابطے۔پاٹ 2 تحریر : راجہ ارشد

    بھٹی نے کامیابیوں کے سفر کا آغاز صحافت سے کیا اتفاق سے ایک بہت ہی آچھے ٹی وی چینل کے ساتھ سیٹ ہو گیا۔

    ایک دن اسے خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے استاد محترم کا انٹرویو کیا جائے۔ چنانچہ بھٹی اپنے استاد محترم کے گھر پونچ گیا۔ابتدائی سلام دعا کے بعد بھٹی نے انٹرویو لینا شروع کیا۔
    بھئی اپنی تعلیم کے پرانے دور کی مختلف باتیں پوچھ رہا تھا۔ انٹرویو کے دوران بھٹی نے اپنے استاد محترم سے پوچھا سر ایک بار آپ نے اپنے لیکچر کے دوران contact اور connection کے الفاظ پر بحث کرتے ہوئے ان دو الفاظ کا فرق سمجھایا تھا اس وقت بھی میں کنفیوز تھا اب جب کہہ بہت عرصہ ہو گیا ہے مجھے وہ فرق یاد نہیں رہا آپ آج مجھے ان دو الفاظ کا مطلب سمجھا دیں تاکہ مجھے اور میرے چینل کے ناظرین کو آگاہی ہو سکے۔

    استاد محترم مسکرائے اور سوال کے جواب دینے سے کتراتے ہوئے بھٹی سے پوچھا کیا آپ اسی شہر سے تعلق رکھتے ہو ؟
    بھٹی نے کہا جی ہاں سر میں اسی شہر کا ہوں استاد محترم نے پوچھا آپ کے گھر میں کون کون رہتا ہے؟
    بھٹی نے سوچا کہ شاید استاد محترم میرے سوال کا جواب نہیں دینا چاہتے اس لیے ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں بہر حال بھٹی نے بتایا میری والدہ محترمہ وفات پا چکی ہیں والد صاحب گھر میں رہتے ہیں۔
    تین بھائی اور ایک بہن ہے اور سارے شادی شدہ ہیں۔

    استاد محترم نے مسکراتے ہوئے بھٹی سے پوچھا تم اپنے والد محترم سے بات چیت کرتے رہتے ہو؟
    اب بھٹی کو غصہ بھی آرہا تھا اور اور بولا جی میں والد محترم سے گپ شپ کرتا رہتا ہوں استاد محترم نے پوچھا یاد کرو پچھلی بار تم اپنے والد سے کب ملے تھے؟
    بھٹی نے غصے کا گھونٹ پیتے ہوئے کہا شاید ایک ماہ ہو گیا ہے جب میں ابو جان سے ملا تھا۔
    استاد محترم نے کہا پھر تم اپنے بہن بھائیوں سے تو اکثر ملتے رہتے ہوگے ؟ بتاو لاسٹ ٹائم کب اکٹھے ہوئے تھے اور گپ شپ حال احوال پوچھا تھا؟

    اب تو بھٹی صاحب کے ماتھے پر پسینہ آ گیا اور لینے کے دینے پڑ گیے وہ سوچنے لگا میں تو استاد محترم کا انٹرویو لینے چلا تھا مگر الٹا استاد میرا انٹرویو لینے لگے ہیں۔

    بھٹی نے ایک لمبی آہ بھری اور بولا شاید دو سال ہونے والے ہیں جب ہم بہن بھائی اکٹھے ہوئے تھے استاد محترم نے ایک اور سوال ڈالتے ہوے پوچھا تم لوگ کتنے دن اکٹھے رہے تھے؟ بھٹی نے پسینہ پونچھتے ہوئے جواب دیا ہم لوگ تین دن اکٹھے رہے تھے۔

    استاد محترم نے پوچھا تم اپنے والد کے پاس بیٹھ کر کتنا وقت گزارتے ہو؟
    اب تو بھٹی بہت پریشان ہو گیا اور میز پر رکھے ایک کاغذ پر کچھ لکھنے لگا۔ استاد محترم نے پوچھا کبھی تم نے والد صاحب کے ساتھ ناشتہ لنچ یا ڈنر بھی کیا ہے؟
    کبھی آپ نے ابو سے پوچھا وہ کیسے ہیں؟
    کبھی تم نے والد صاحب سے دریافت کیا کہ تمھاری والد محترمہ کے مرنے کے بعد اس کے دن کیسے گزر رہے ہیں؟
    اب تو بھٹی کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو برسنے لگے استاد محترم نے بھٹی کا ہاتھ تھپ تھپایہ اور کہا کہ بیٹا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں مجھے افسوس ہے کہ میں نے بے خبری میں تمھیں ہرٹ کیا اور دکھ پہنچایا لیکن میں کیا کرتا مجھے آپ کے سوال Contact اور connection کا جواب دینا تھا۔

    سنو ان دو لفظوں کا فرق یہ ہے کہ تمھارا contact یا رابطہ تو تمھارے والد صاحب سے ہے مگر connection یا تعلق والد صاحب سے۔نہیں رہا یا کمزور ہے کیونکہ تعلق یا کنکشن دلوں کے درمیان ہوتا ہے جب کنکشن یا تعلق ہوتا ہے تو آپ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ اور پھر ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹتے ہیں۔ ہاتھ ملاتے ہیں گلے سے لگتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام خوشی خوشی کرتے ہیں۔

    بلکل ٹھیک ایسے جیسے ایک معصوم بچے کی ماں اس کو سینے سے لگا کر رکھتی ہے، بوسہ کرتی ہے بغیر مانگے دودھ پلا دیتی ہے بچے کی گرمی سردی کا خیال رکھتی ہے جب وہ بچہ چلنا شروع کرتا ہے تو سائے کی طرح اس کے آس پاس رہتی ہے کہہ کہیں گر نہ جائے کوئی غلط چیز نہ کھا لے۔

    تو بیٹا آپ کے والد اور بہن بھائیوں کے ساتھ صرف contact ہے مگر آپ کے درمیان connection نہیں ہے۔

    بھٹی نے اپنے آنسو رومال سے صاف کیے اور استاد محترم کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا سر آپ نے مجھے آج ایک بہت بڑا سبق پڑھا دیا جو زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔

    بد قسمتی سے آج ہمارے وطن عزیز میں یہی حال ہے کہ ہمارے آپس میں بڑے رابطے ہیں مگر کنکشن بالکل نہیں۔ آج ٹویٹر ، فیس بک اور انسٹاگرام پر ہمارے پانچ ہزار فرینڈز ہیں مگر حقیقی زندگی میں ایک بھی نہیں۔ ہم صبح سویرے بزاروں دوستوں کو گڈ مارننگ کہہ کر بغیر خوشبو کے پھول بھیجتے ہیں۔

    حقیقی زندگی میں ایک پھول کی پتی بھی نہیں ملتی ہم تمام لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔
    کسی اپنے کے بچھڑنے کے بعد چند تعزیتی الفاظ اور رشتوں کے سارے تقاضے پورے کر کے ہم سرخرو ہو رہے ہوتے ہیں۔

    اللہ پاک سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • اردو، زوال کا شکار.  تحریر: احسان الحق

    اردو، زوال کا شکار. تحریر: احسان الحق

    کہتے ہیں کہ جسمانی غلامی سے ذہنی غلامی بڑی لعنت ہے. جسمانی غلام قوم ایک نہ ایک دن آزاد ہو جاتی ہے مگر ذہنی طور پر غلام قوم نسل در نسل غلام ہی رہتی ہے. ان کے ذہنوں سے غلامی کبھی ختم نہیں ہوتی. پاکستان نے جسمانی طور پر انگریزوں سے تو آزادی حاصل کر لی مگر بدقسمتی سے آج تک انگریزی زبان کی ذہنی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکا۔ وطن عزیز میں انگریزی زبان ہی پڑھے لکھے ہونے کا معیار چانچنے کا پیمانہ بن چکی ہے. آپ اردو یا اپنی مادری زبان میں جتنی زیادہ انگریزی کی ملاوٹ کریں گے آپ اتنے ہی زیادہ پڑھے لکھے تصور کئیے جائیں گے. لوگوں پر رعب ڈالنے یا متاثر کرنے کے لئے بھی اردو میں انگریزی الفاظ کی زبردستی ملاوٹ کی جاتی ہے. دنیا میں جتنے بڑے اور ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے انگریزی پر اپنی مقامی اور قومی زبانوں کو ترجیح دی. چین، جاپان، روس، عرب ممالک اور کوریا سمیت دنیا کے ترقی یافتہ اور بڑے ممالک اپنی قومی زبان کو بنیادی اور اعلیٰ تعلیم کے لئے اور سرکاری اور قومی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں.

    پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی قومی زبان اردو ہے. اردو پاکستانیوں کی صرف قومی زبان ہی نہیں بلکہ بزرگوں کی شان، شناخت اور غیرت بھی ہے. بزرگوں کی اس لئے کیوں کہ نوجوان نسل اب اردو بولنے لکھنے میں عار محسوس کرتے ہیں. اب پاکستانیوں کا خیال ہے کہ علم و فراست اور پڑھے لکھے کی نشانی یہی ہے کہ بندہ اردو کی جگہ زیادہ سے زیادہ انگریزی کا استعمال کرے. یقین جانیں ہم بھی اسی کو زیادہ پڑھا لکھا سمجھتے ہیں جو انگریزی بولنا جانتا ہو، حالانکہ انگریزی علم نہیں بلکہ زبان ہے. خاکسار کے نزدیک موجودہ میڈیا اور انٹرنیٹ کی ترقی کے دور میں خالص اردو بولنا مشکل کام ہے بلکہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے.

    سقوط ڈھاکہ میں سب سے اہم وجہ اردو بنگالی تنازعہ تھا. خاکسار کے مطابق پاکستان کے دو لخت ہونے کی سب سے بڑی اور اہم وجہ اردو بنگالی تنازعہ تھا. پہلی بار ڈھاکہ میں11 مارچ 1948 کو اردو کے مقابلے میں، بنگالی زبان کے حق میں اور اردو کے خلاف ایک جلوس نکالا گیا جس کی منزل وزیر اعلیٰ خواجہ ناظم الدین کا دفتر تھی. جلوس شرکاء کا مطالبہ تھا کہ اردو کی جگہ بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے.

    اردو کی مخالفت میں مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہوتے جا رہے تھے. اسی لئے 21 مارچ 1948 کو بانی پاکستان جناب حضرت قائداعظمؒ ڈھاکہ میں تشریف لے گئے اور ریس کورس میں ایک عظیم مجمعے میں کھلے الفاظ میں فرمایا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور اردو ہی رہے گی البتہ بنگال صوبائی سطح پر سرکاری زبان کے طور پر "بنگالی” زبان اختیار کر سکتا ہے. حضرت قائداعظمؒ نے فرمایا کہ
    "میں آپ سب پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ بلاشبہ پاکستان کی قومی اور ریاستی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی، کوئی دوسری زبان نہیں. کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے اہم ہے کہ اس کی زبان ایک ہو”
    قائداعظمؒ کے رعب دار خطاب سے بنگالی خاموش اور کسی حد تک مطمئن ہو گئے. 26 جنوری 1952 میں خواجہ ناظم الدین نے بھی ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہی ہوگی. حالانکہ خواجہ ناظم الدین کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا اور وہ خود بنگالی تھے.

    بدقسمتی سے اب ہماری عزت، غیرت اور شناخت اردو پاکستان میں زوال پذیر ہے. ہم آہستہ آہستہ اپنی غیرت کا گلہ گھونٹ رہے ہیں. خدانخواستہ اردو جس طرح پستی کی طرف جا رہی ہے اگلی نسلیں اردو کا تذکرہ کتابوں میں پڑھیں گی کہ اردو زبان بھی ہوا کرتی تھی. ہماری آئینی، سرکاری، سیاسی، عدالتی حتیٰ کہ چھوٹے سے چھوٹے ادارے اور محکمے کی زبان انگریزی ہے. سونے پہ سہاگہ ہمارے انتہائی غیر معیاری اور کسی حد تک غیر اخلاقی ڈرامے بھی اردو کا ستیا ناس کر رہے ہیں. ایک زمانہ تھا جب پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈرامے اخلاقیات کے ساتھ ساتھ ثقافت سے بھی بھرپور ہوتے تھے جس میں اردو کے الفاظ کا بہترین انداز میں استعمال کیا جاتا اور خیال کیا جاتا تھا. مگر اب ایسا نہیں ہے. ہم نے صرف انگریزوں سے آزادی حاصل کی مگر بدقسمتی سے انگریزی سے نہیں. ہم انگریزی سے کب آزادی حاصل کریں گے؟ اردو زبان کو ہم پاکستانی عزت نہیں دیں گے تو اور کون دے گا؟

    @mian_ihsaan

  • سائنس و ٹیکنالوجی کی بڑی ہوئی سہولیات  تحریر:ملک نصیر اعوان

    سائنس و ٹیکنالوجی کی بڑی ہوئی سہولیات تحریر:ملک نصیر اعوان

    ‎ایک وقت تھا جب لوگ جنگلوں اور غاروں میں رہتے تھے اور ضروریات زندگی بھی وہیں سے پوری کیا کرتے تھے کسی قسم کی لالچ ،حرص وحوس نہیں تھی جب دل چاہتا تھا شکار کر کے تازہ گوشت کی صورت میں خوراک حاصل کر لیتے تھے آپس میں کسی قسم کی رنجشیں بھی نہیں تھیں جو کچھ ملتا تھا مل جل کر کھا لیا کرتے تھے سانس لینے کو تازہ ہوا میسر تھی کھانے کو قسم قسم کی تازہ سبزیاں ،پھل اور گوشت میسر تھا پینے کو تازہ پانی میسر تھا پتھر پر پتھر مار کر آگ جلاتے تھے اور پھر اسی پر کھانا بنایا جاتا تھا سو زندگی ہر قسم کی پریشانیوں سے پاک تھی پھر وقت بدلا ،سوچ بدلی، لوگ بدلے ۔تب انسان نے پہلی مرتبہ اپنی عقل کا استعمال کیا اس وقت انسان کی پہلی ایجاد پہیہ تھا ۔اہستہ آہستہ انسان نے اپنی عقل کو استعمال میں لاتے ہوۓ مختلف قسم کی ایجادات کیں وہ انسان جو غاروں اور جنگلوں میں رہتا تھا شاندار اور عیش و عشرت سے بھرے محلات میں رہنے لگا وہ انسان جو پہلے میلوں پیدل چلتا تھا اب وہ فضاؤں میں اڑنے گا نت نئی اور آرام دہ گاڑیوں میں سفر کرنے لگا دیکھتے ہی دیکھتے انسان نے اپنے لیے پر مسرت زندگی تخلیق کر لی ۔ اور پوری دنیا کو اپنی ہتھیلی میں قابو کر لیا پوری دنیا ایک گلوب کی شکل اختیار کر گئی یہ سب سائنس اور ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے بر صغیر میں مغل بادشاہ خطوط کی ترسیلات کا کام کبوتروں سے لیا کرتے تھے جب سائنسی دور کا آغاز ہوا تو دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ مواصلات کے نظام میں بھی خاصی ترقی ہوئی ۔موٹر اور ریل گاڑی کی ایجاد کے بعد یہ ڈاک کا ذریعہ بنیں اور پھر ٹیلی گراف کی ایجاد نے موٹر اور ریل گاڑی کی محتاجی بھی ختم کر دی۔
    ‎سائنس وٹیکنالوجی کی بدولت انسان نے مختلف قسم کی ایجادات کر کے دیدہ آنکھ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا آج جو ہم اپنے گھروں میں الیکٹرونک ڈیوائسز سے جتنے بھی فوائد حاصل کر رہے ہیں جب چاہا بٹن آن کر کے روشنی حاصل کر لی اور جب چاہا بٹن آف کر دیا ۔جب گرمی محسوس ہوئی بٹن آن کر کے ایئر کنڈیشنر ان کر لیا۔ہماری زندگی بس ایک بٹن کی محتاج رہ گئی ہے ۔سائنس و ٹیکنالوجی نے ہماری خواہشوں کے سرحدوں کو سمیٹ کر ہمارے قدموں میں لا کھڑا کیا پہلے ہوا میں اڑنا انسان کے لیے ایک خواب تھا مگر انسان نے اس خواب کو بھی حقیقت میں بدل دیا ۔اب انسان فضاؤں میں سفر کر رہا ہے سائنس وٹیکنالوجی نے اس قدر ترقی کر لی ہے کہ پچھلے زمانے کا کوئی آدمی اٹھ کر آجاۓ تو وہ ہمیں کسی دوسرے سیارے کی مخلوق سمجھے گا ۔یہ برقی آلات،جگ مگ کرتی عالیشان عمارات اور مہنگی گاڑیاں ، بحر و بر میں چلنے والی بھاری مشینری یہ سب سائنس کی مرہون منت ہیں ۔ سائنس نے اس قدر ترقی کر لی ہے کہ ہر مقام سائنسی بہاروں کا نظارہ پیش کرتا ہوا ہی نظر آتا ہے

    ‏@Awan_Zaaada

  • صفائی نصف ایمان اور پاکستان   تحریر : محمد ماجد

    صفائی نصف ایمان اور پاکستان تحریر : محمد ماجد

    ہمارے دین اسلام میں صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے بھی قرآن پاک میں کئی جگہ پاکیزگی اور صفائی کا حکم فرمایا ہے مگر بحیثیت مسلمان اور پاکستانی کیا ہم ان احکامات پر عمل کر رہے ہیں ؟
    پانچ وقت نماز کی پابندی تو ہم کرتے ہیں مگر اس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم صفائی کا خیال نہ رکھیں اُس کو بھول جائیں ۔ ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہمارے دین اسلام نے ہمیں نماز پڑھنے ، روزہ رکھنے ، حج کرنے زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے وہیں دین ہمیں صفائی کا حکم بھی دیتا ہے اس لئے تو صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔
    ‎بطور افراد معاشرہ ہم لوگ اپنے گھروں کا کچرہ سڑکوں اور گلیوں پر پھینکے میں کوئی عار نہیں سمجھتے۔کیا اس کے لئے کسی لمبی چوڑی قانون سازی کی ضرورت ہے یا ہمیں خود احساس کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ صفائی جتنی گھر کے لئے ضروری ہے اس کے ساتھ ساتھ ہماری گلیاں اور سڑکیں بھی اتنی ہی اہم ہیں۔جیسے اپنے گھر کو ہم صاف رکھتے ہیں ویسے ہی ہمارا فرض ہے کہ اپنے گلی محلے اور شہر کو بھی صاف ستھرا رکھیں۔ ہمیں صفائی نصف ایمان ہے اس پیغام کو عام کرنا ہوگا اپنے معاشرے میں شعور پیدا کرنا ہوگا تب ہی ہماری عوام اس پہ سوچنے کے قابل بنے گی۔
    آج کل بارشوں کا موسم ہے پورے ملک میں ہی بارشیں ہو رہی ہیں۔نالے کوڑاکرکٹ کی وجہ سے بھرے پڑے ہیں تھوڑی سی بارش مومول سے زیادہ ہوجائے تو شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال بن جاتی ہے لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہوجاتا ہے۔ پانی زیادہ دن کھڑا رہے تو بیماریاں اور مچھر پیدا ہوجاتے ہیں۔ان سب مسائل کا حل بروقت صفائی ہے جس کا خیال رکھنا پوری قوم کا فرض ہے۔ افسوس دوسری قومیں صفائی میں ہم سے آگے نکل اور ہمارے مذہب نے ہمیں حکم دیا اور ہم اُس پہ عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
    الحمدللہ پاکستان کے حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں پاکستان کو اللہ تعالٰی نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے اُن میں سے ایک نعمت ہے پاکستان میں موجود خوبصورت مقامات جن کی سیر کے لئے پاکستان اور پوری دنیا سے سیاہ آتے ہیں ۔ مگر افسوس ہماری عوام ان خوبصورت جگہوں پر جاکر وہاں کی خوبصورتی کو نقصان پہنچاتے ہیں وہاں کوڑا کرکٹ پھینک آتے ہیں۔جب ایک انسان صاف ستھرا ہوگا تو سب لوگ اُس کو پسند کریں گے اور اگر کوئی صاف ستھرا نہیں رکھے گا تو سب لوگ اُس سے دور رہیں ۔ ایسے ہی جب ہم اپنے ملک کو صاف ستھرا رکھیں گے تو باہر سے لوگ آکر یہاں خوش ہوں گے واپس جا کر پاکستان کی تعریف کریں گے اور پاکستان کا ایک مثبت چہرہ پوری دنیا کے سامنے جائے گااور ماحول بھی صاف ستھرا رہے گا۔حکومت کا کام ہے عوام میں شعور پیدا کرےاور تفریحی مقامات پہ کوڑادان نصب کریں اور عوام صفائی کا خیال رکھتے ہوئے کوڑا کرکٹ اُن کوڑا دانوں میں ڈال کر ایک زمیدار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔
    اج کل پوری دنیا میں ایک وبا جو کورونا کی شکل میں پھیلی ہوئی ہے جس سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں اس سے محفوظ رہنے کے لئے بھی صفائی پہ زور دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹرز بھی بار بار ہاتھ دھونے اور ماسک پہننے کا مشورہ دےرہے ہیں جیسے کے ہمارا دین بھی صفائی کا حکم دیتا ہے۔
    کچھ دن ہی گزرے ہیں عیدالاضحٰی کو لوگوں نے جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد اُن کی آلائیشوں کو گلی محلوں اور سڑکوں پہ پھینک دیا جس کی وجہ سے شہریوں کا سانس لینا بھی مشکل ہوگیا تھا ہر سال ایسا دیکھنے کو ملتا ہے ہمارا فرض ہے جیسے گھر کو صاف رکھتے ویسے اپنے شہر اور پیارے ملک پاکستان کو بھی صاف رکھیں تاکہ ہم بیماریوں سے محفوظ رہیں۔
    آئیں ہم سب ملکر اپنے گھر پاکستان کو صاف رکھیں اور خوبصورت بنائیں۔
    Twitter Id: @mpakiiprince

  • بہتری کی گنجائش تحریر: سہیل احمد چوہدری

    شروع کرتے ہیں 80 سے 90 کے دور سے.
    میرے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے دن
    علاقے میں پرائیویٹ سکول وہ بھی بابا جی کے نام سے مشہور تھا.مزاج بہت کڑک , شاید بزرگ ہوتے ہی کڑک تھے. اس وقت ایک بہترین نظام چل رہا تھا .سرکار ہو یاں پرائیویٹ بندہ .ہر ایک گود سے لے کر گور تک اپنے اپنے دائرے میں لگے ہوئے تھے. ہاں بات لوڈ شیڈنگ کی تو اس وقت بھی ہوا کرتی تھی. آبادی کم ہونے پر علاقے اور مکان اس طرح ترتیب دیئے جاتے تھے کہ ٹھنڈے رہیں. ماحول اور صحبت کا واقعی اثر ہوتا ہے
    گھر میں ماں باپ بوڑھے بزرگوں سے فاصلے پر بیٹھتے تھے.اور بہو کی تو جرآت نام کی کوئی چیز نہیں ہوا کرتی تھی. اللہ کی رحمت صبح صادق کو نماز سے دن کا آغاز ہوا کرتا تھا بچوں کو مساجد میں نماز کے ساتھ ساتھ قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا. اسکے فورا بعد ناشتہ اور سکول کی تیاری ہوا کرتی تھی. سکول سے واپس آکر گلی میں کرکٹ یاں کوئی کھیل کود کے بعد پڑھائی پھر کھانا اور پورا گھر ایک بلیک اینڈ ٹی وی پر 8 بجے ڈرامہ اور پھر 9 کے بعد پردہ دار خاتوں گھر کے ساتھ ساتھ ٹی وی پر بھی دکھائی دیتی تھی وہ بھی دن بھر کی خبروں کا مجموعہ.پھر گھر اور ٹی وی ٹرالی کے دروازے بند کر دیئے جاتے تھے. اس وقت 10 دس بچے ماں پالتی تھی اور گھر والوں کی تابعداری میں اعلئ مقام بھی پاتی تھی.جب کہ اب سینکڑوں چینل .مختصر اولاد .ہر ایک کا اپنا کمرہ. یو پی ایس . جنریٹر.موٹر سائیکل .کار .جیپ اے سی. سب سہولتیں پھر بھی ناشکری عام طور پر گھر سے باہر کا کھانا عام روٹین.ساس سسر کی کوئی روک تھام نہیں . اتنی سہولتیں پھر بھی ہم خسارے میں کیوں.
    وغیرہ وغیرہ
    اتفاق ہی اتفاق بڑے بوڑھے کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت پر تربیت پر گھر سے لے کر تعلیمی میدان سے رہنما کو مقام دیا جاتا تھا.
    آج ہم بہت آگے چلے گئے ہیں پر تعلیم کیلیے آج بھی 4 سال بعد بچہ کچھ بولنا سیکھتا.
    خیر اس وقت نام لے کر ریفرنس دیا جاتا تھا
    یہاں تک کہہ محلے میں اگر کسی کے ہاں کوئی خوشی غمی آتی تو رشتہ داروں کی صرف سیوہ کی جاتی باقی کام محلے دار ہی کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے.
    ریاستی ادارے اپنے کاموں میں لگے رہتے اور عوام اپنی زمہ داریاں بخوشی انجام دیتے تھے.
    تہزیب .تربیت .اور تعلیم . شعور کی بھٹی میں پکا کر ماں باپ سے لے کر استاد ایک مہزب انسان معاشرے میں اتارتے تھے.
    اچھی طرح یاد ہے.کہ ایک مرتبہ چینی ایک روپے مہنگی ہوئی تھی تو لوگ میدان میں آئے تو حکومت کو وہ فیصلہ واپس لینا پڑا تھا.
    بالکل یوپین ممالک جیسا احتجاج نوٹ کروایا جاتا تھا.
    علاقے کا ایک بڑا بزرگ منتخب کرکے علاقے کے مسائل حل کروائے جاتے تھے.
    جب کہ آج کل کوئی کسی کو بڑا نہیں سمجھتا.ہر کوئی نواب.
    کوئی مسئلہ آئے تو شاید کچھ ایسے افراد جن کی تربیت پرانے لوگوں نے کی وہ شاید اپنی عادت سے مجبور ہو کر کچھ سوشل ورک کر لیتے پر اب ان کو بھی کوئی شاباشی نہیں ملتی . بے حسی نے پنجے گاڑ لیے ہیں .
    اب حکومت کسی چیز کا ریٹ بڑھاتی تو کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی. شاید حرام کی کمائی والے کو ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں .
    رات لیٹ سونا. صبح دیر سے جاگنا.
    رہی سہی کسر چھوٹے بڑے میں تمیز بھی ختم
    بالآخر قصور کس کا.
    میں بہت فکر کرتا ہوں دوسروں کی طرف دیکھ کر غصہ بھی بہت آتا ہے.کیونکہ گھر سے لے کر سکول , سکول سے لے کر جاب .ہر جانب سخت اساتذہ سے واسطہ پڑا . شاید یہ اس وقت کی ریت ورواج تھا. آج بھی ماتحت ملازمین سخت رویے کی بدولت سر پھرا بھی کہتے ہیں .کیا کریں .ہم تو اپنی تربیت بولے تو بنیاد پر کھڑا رہنے پر مجبور .ورنہ نئی تعمیر ہونے والی بلڈنگ کے میٹریل اور ڈھانچے سے تو سب واقف اور پریشان وہ بھی بے تحاشہ خرچ کرکے.
    بنکوں نے قسطوں پر چیزیں دے دے کر عوام میں حرام حلال کی تمیز ختم کر دی ہے.
    آخر میں ہم سب یہی دسکس کرتے ہیں کہ بچوں کا کیا بنے گا.کیونکہ تعلیم .اور روزمرہ اخراجات نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا.
    جو سب سے اہم چیز شاید ہم بھول رہے ہیں اور مسلسل نظر انداز بھی کر رہے ہیں وہ ہے تربیت ,
    جس پر بہتری کی گنجائش تو ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے
    وہ تو ہم کر سکتے ہیں .جب توبہ کا دروازہ آخری سانس تک کھلا ہے تو پھر غم کاہے کا .ہم کوشش تو کر ہی سکتے ہیں کیا خیال.
    اب آپ کی باری
    @iSohailCh

  • ہمارے ذہن حقائق کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ہیں۔؟  تحریر: زاہد کبدانی

    ہمارے ذہن حقائق کو کیوں تسلیم نہیں کرتے ہیں۔؟ تحریر: زاہد کبدانی

    بہت سے تجربات کیے گئے ہیں تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ ہم ایسی معلومات کو ڈھونڈتے اور مانتے ہیں جو اس بات کی تائید کرتی ہے جو ہم پہلے سے درست سمجھتے ہیں ، یہاں تک کہ جب اس کے برعکس ٹھوس حقائق پیش کیے جائیں۔ سائنس میں اسے تصدیقی تعصب کہا جاتا ہے ، اور تحقیق کے طریقے اس طرح کے ہونے سے روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی میں ، کچھ اس رجحان کو "مائی سائیڈ” تعصب سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور ، جب متضاد معلومات کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے ، تو اکثر دلیل یا بحث جیتنا اس سے زیادہ اہم ہوتا ہے جتنا کہ ہم جو کچھ مانتے ہیں اس سے مختلف حقائق کو سننا ، یہ دیکھنا کہ کیا ہم کچھ نیا سیکھ سکتے ہیں۔ ماہر معاشیات ، جے کے گالبریتھ نے اس کا اظہار اس طرح کیا: "کسی کا ذہن بدلنے اور یہ ثابت کرنے کے درمیان انتخاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، تقریبا ہر کوئی ثبوت کے ساتھ مصروف ہو جاتا ہے۔

    الزبتھ کولبرٹ نے ٹھیک کہا ہے ، "وجہ کی وجہ سے انسانی صلاحیت کا سیدھا سوچنے کے بجائے جیتنے والے دلائل سے زیادہ تعلق ہوسکتا ہے۔ "لوگ حقیقی خوشی کا تجربہ کرتے ہیں ، ڈوپامائن کا رش ہوتا ہے جب معلومات پر کارروائی ہوتی ہے جو ان کے عقائد کی حمایت کرتی ہے۔ "اپنی بندوقوں پر قائم رہنا اچھا لگتا ہے چاہے ہم غلط ہوں۔” لیو ٹالسٹائی کے مطابق ، "سب سے مشکل مضامین سب سے سست ذہن والے آدمی کو سمجھایا جا سکتا ہے اگر اس نے پہلے سے ان کے بارے میں کوئی خیال نہیں بنایا ہے۔ لیکن سب سے ذہین آدمی کے لیے سب سے آسان بات واضح نہیں کی جا سکتی اگر اسے مضبوطی سے قائل کیا جائے کہ وہ پہلے سے جانتا ہے ، بغیر کسی شک کے ، اس کے سامنے کیا رکھا ہے۔ انسان سماجی مخلوق ہیں ، اور حقائق اور درستگی صرف وہی چیزیں نہیں ہیں جو انسانی ذہن کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم تعلق رکھنے کی گہری خواہش رکھتے ہیں ، یہاں تک کہ اگر یہ "حقیقت میں غلط ، لیکن معاشرتی طور پر درست” کو قبول کرنے کی قیمت پر ہے۔
    جیمز کلیئر ، کتاب ، جوہری عادات ‘کے مصنف نے ایک بار لکھا ، "بہت سے حالات میں ، معاشرتی رابطہ دراصل آپ کی روز مرہ کی زندگی کے لیے کسی خاص حقیقت یا خیال کی حقیقت کو سمجھنے سے زیادہ مددگار ہوتا ہے۔” ہارورڈ کے ماہر نفسیات اسٹیون پنکر نے اس طرح کہا ، "لوگوں کو ان کے عقائد کے مطابق قبول کیا جاتا ہے یا ان کی مذمت کی جاتی ہے ، لہذا دماغ کا ایک کام اعتقاد کو برقرار رکھنا ہوسکتا ہے جو عقیدہ رکھنے والے کو اتحادیوں ، محافظوں یا شاگردوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد میں لاتا ہے۔ ایسے عقائد سے زیادہ جو سچ ہونے کے امکانات ہیں سماجی ماحول میں ، جب ہمیں دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے ، لوگ اکثر حقائق اور درستگی پر دوستوں اور خاندان کا انتخاب کرتے ہیں۔ کسی کو اپنا ذہن بدلنے کے لیے قائل کرنا واقعی اسے اپنے قبیلے کو تبدیل کرنے کے لیے قائل کرنے کا عمل ہے۔ اگر وہ اپنے عقائد کو ترک کردیتے ہیں تو وہ سماجی روابط ختم ہونے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ اگر آپ ان کی کمیونٹی کو بھی چھین لیتے ہیں تو آپ کسی سے ان کی سوچ بدلنے کی توقع نہیں کر سکتے۔ آپ نے انہیں کہیں جانا ہے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ ان کا عالمی نظریہ ٹوٹ جائے اگر تنہائی نتیجہ ہے۔ ہمارا مذہبی پس منظر اس پر اثر انداز ہوتا ہے کہ ہم کس طرح سوچتے ہیں ، اور یہ ہمارے عالمی نقطہ نظر کو بھی تشکیل دیتا ہے۔ جو لوگ گہری مذہبی پرورش رکھتے ہیں انہیں محض دنیا کو اپنی روحانی عینک سے دیکھنے سے محتاط رہنا چاہیے۔ روحانیت استدلال کے خلاف نہیں ہے۔ ہمیں اپنی سوچ اور عقائد میں روحانی طور پر ہٹ دھرم نہیں ہونا چاہیے کہ ہم عقلی اور منطقی استدلال کے لیے تیار نہیں ہیں۔
    مجموعی طور پر ، میٹاکجنیٹیو سوچ پر عمل کریں۔ اپنی سوچ کے معیار سے آگے بڑھنا ناممکن ہے۔ کیا کوئی عقیدہ ہے جو آپ کو روکتا ہے؟ کیا آپ کے ماضی کی تکلیف دہ یادیں ہیں جو اب بھی آپ کے آگے بڑھنے کے لیے خوف پیدا کرتی ہیں؟ ان چیزوں پر غور کرنے کے لیے وقت نکالیں تبدیلی خود آگاہی سے شروع ہوتی ہے۔

    @Z_Kubdani