کہتے ہیں تجسس کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے، آج سے ہزاروں لاکھوں سال پہلے جب انسان زمین میں موجود اشیاء سے اپنا تعلق قائم کرنے میں کامیاب ہونے لگا تو اس کی نظر خوبصورت پتھروں پر پڑی۔کچھ لوگ ان پتھروں پر عقیدہ کی حد تک یقین کرنے لگے تو کچھ نے انہیں زیورات کے طور پہ استعمال کیا۔ یہ خوبصورت پتھروں زمانہ قدیم سے ہی بادشاہوں اور عام لوگوں میں کافی مقبول رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انگلیوں میں پہنے جانے والے ان پتھروں اور نگینوں کی افادیت کے بارے میں اسلام ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے۔ کیا یہ پتھر تقدیر بدلنے اور نفع دینے کی طاقت رکھتے ہیں. کچھ لوگ ان پتھروں اور زیورات کے لئے استعمال ہونے والی مختلف دھاتوں کے بارے میں کچھ ایسی غیر حقیقی باتیں بھی مانتے ہیں کہ یہ پتھر انسانی جسم پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں اور مختلف قسم کی بیماریاں ختم کرتے ہیں انسانی جسم میں فائدہ مند مواد بناتے ہیں۔ اگر واقعی ایسا ممکن ہوتا تو آج کے دور کی ترقی یافتہ میڈیکل اور میڈیسن سائنس طرح طرح کی جڑی بوٹیوں اور جسم کے اندر داخل کئے جانے والے مواد کی دوائیاں بنانے میں جان کھپانے کی بجائے ان پتھروں اور دھاتوں کے ذریعے علاج کرتے نظر آتے۔ قرآن مجید میں بھی کئی جگہ ان موتیوں کا ذکر محض زیبائش کے لئے استعمال ہوا ہے نہ کہ اس کے کوئی فوائد بیان کئے گئے ہیں۔ سورہ رحمان کی آیت نمبر 22 اور 58 کا ترجمہ ہے "وہ حوریں خوبصورت ایسی جیسے یاقوت اور مرجان ہوں” اور ان دونوں سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں” ایسے ہی سورہ واقعہ میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ وہ حوریں چھپے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں۔ نبیﷺ ہاتھ کی سیدھی انگلی میں عقیق پہنتے تھے لیکن وہ محض زیبائش کے لئے تھا۔ عقیق کو سنت نبویﷺ کی پیروی کے لئے تو پہنا جاسکتا ہے لیکن کسی نفع کے حصول کے لئے نہیں۔ ارشاد خداوندی یا حدیث کے مفہوم میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ اس قسم کے پتھروں سے کوئی مالی نفع یا نقصان ہوتا ہے بلکہ یہ صرف زینت کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی انسانوں کو کچھ یوں پیغام دیتے ہیں کہ سب کارساز اور کاتب تقدیر وہی ایک ذات ہے جو انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور انسان کو اتنا ہی ملتا یے جتنی اس نے کوشش کی ہوتی ہے۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان پتھروں کے پہننے سے نہ رزق میں فائدہ ہوگا نہ ہی نقصان نہ ہی یہ کسی بیماری کا علاج ہیں۔
اللہ ہمیں وہ عقائد اپنانے اور عمل کرنے کی ہمت اور توفیق دے جن پر اللہ راضی ہوتا ہے اور ہر شر اور گمراہی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(twitter @KharnalZ)
Author: Baaghi TV
-

پتھروں کی حقیقت اور قرآن تحریر: زبیر احمد
-

مسئلہ کیا ہے؟ تحریر : جواد خان یوسفزئی
مغرب اور اس کے نقش قدم پر چلنے والی چند دوسری اقوام دنیاوی ترقی میں ہم سے آگے ہیں تو اس کی کچھ مادی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن یہ ایک معمہ ہے کہ اخلاقی طور پر بھی ہم ان سے بہت پیچھے ہیں۔ جھوٹ، دھوکہ دہی، کینہ پروری، معاشرتی بے حسی، ظلم و جبر، بد عنوانی۔۔۔ العرض کونسی برائی ہے جس میں ہم دنیا میں نمایاں مقام نہیں رکھتے۔
اس کی بہت سی وجوہات پیش کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی ایک وجہ واحد وجہ نہیں ہوسکتی۔ انسانی معاشرہ بہت پیچیدہ نظام ہوتا ہے اور اس کے محرکات کثیر جہتی ہوتے ہیں۔
ہماری اخلاقی پسماندگی کی ایک وجہ کچھ یوں بھی ہوسکتی ہے:
ہر معاشرے کا اخلاقی ڈھانچہ کسی نہ کسی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ مثلاً جدید مغربی اخلاق کی بنیاد انسان دوستی ہیومنزم پر ہے۔ اس فلسفے کی رو سے دنیا میں سب سے اہم چیز انسان کی انفرادی اور اجتماعی (دنیاوی) فلاح اور خوشی ہے۔ اسی سے لبرلزم، سیکولرزم، جمہوریت، افادیت پسندی الٹرا ہیومنزم اور سائینسی طرز فکر نے جم لے لی۔ مغربی معاشرے کے افراد بالعموم انسان دوستی سے اخذ کردہ اخلاقی اصولوں کی کڑی پاسداری کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ یہ معاشرے کے علاوہ خود ان کی ذات کے لیے بھی مفید ہے۔
اس کے مقابلے میں ہمارا معاشرہ اخلاقی اصول مذہبی تعلیمات سے اخذ کرتا ہے۔ ہمارا مذہب ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا ہے اور کس قسم کے رویوں سے اجتناب کرنا ہے۔ ہمارے مذہبی اصول قران اور سنت سے اخذ ہوتے ہیں اور ان دونوں کے موضوعات کی بھاری اکثریت اخلاقی تعلیمات پر مشتمل ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم ان اخلاقی تعلیمات پر بہت کم عمل کرتے ہیں۔ حالانکہ ہم دنیا کی کسی بھی دوسری قوم کے مقابلے میں زیادہ مذہبی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ مذہب سے ہمارا شعف بڑھتا جا رہا ہے۔ لیکن ہم میں مذہب کا وہ پہلو زیادہ اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے جس کا تعلق عقیدے اور مذہبی عبادات و رسومات سے ہے اور مذہب کی اخلاقی تعلیمات کی اہمیت کا احساس کم ہوتا جارہا ہے۔ اس رجحان کو ہم حال اور ماضی قریب میں لکھنے جانے والے مذہبی لٹریچر، نیز مذہبی علماء کے خطبات میں واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ اسلامی فقہ کو ایک ٹیکنیکل فن سمجھا جانے لگا ہے جس پر بات کرتے ہوئے اخلاقی پہلؤں کو مدنظر رکھنے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ حالانکہ قران مجید میں جہاں بھی کوئی قانون بیان کیا گیا ہے اس کے انفرادی یا اجتماعی اثرات کا ذکر ضرور ہے۔
یہ رجحان اس قدرزور پکڑ چکا ہے کہ اگر کوئی اسلام کے اخلاقی تعلیمات پر زیادہ زور دے تو اس پر شک کیا جاتا ہے۔ پچھلی صدی کے ایک مشہور مصنف پر دین میں تحریف کے جو الزامات لگائے گئے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس کی ایک کتاب میں اخلاقی برائیوں سے اجتناب کو بھی عبادت قرار دیا گیا تھا۔
حاصل کلام یہ کہ ہمارے اخلاقی نظام کی بنیاد مذہب پر ہے لیکن موجودہ دور میں مذہب کے اخلاقی پہلو پر توجہ کم ہے۔ اس سے ہمارے اخلاقی نظام کی بنیادیں کمزور ہوگئی ہیں۔ یہ احساس وسیع پیمانے پر پایا جاتا ہے کہ عقیدہ درست ہو اور عبادات کا اہتمام کیا جائے تو فلاح یقینی ہے۔ ہمارے معاشرے کی اخلاقی حالت کو بہتر بنانے کے لیے لوگوں کو یقین دلانا ہوگا کہ معاشرتی ذمے داریوں کو انجام دیے بغیر ہماری فلاح ممکن نہیں، چاہے ہم کتنی ہی زیادہ عبادت کیوں نہ کریں۔ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.com -

ہم مجموعی طور پر ایک شدت پسند معاشرے کا حصہ ہیں۔ تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز
۔۔ شدت پسندی ہمارے خمیر کا حصہ بن چکی ہے،ہمارے نظریات میں رچ بس چکی، جو کہ اب کھرچے نہیں جاتی۔۔۔!!
ایسی شدت پسندی اور ایسی نفرت ہماری رگوں میں دوڑ رہی ہے جو ہمیں بنیادی انسانی احساسات سے بھی عاری کیے دیتی ہے۔۔۔!!نور مقدم کیس پر میرے لکھے گئے ارٹیکل پر بھی کئی احباب عجب تاویلات و توجیہات لیے آن وارد ہوئے جس پر بندہ حق دق رہ جاتا۔۔۔!!
لوگوں کے نزدیک نور مقدم کا یہ بہیمانہ قتل کچھ برا نہیں۔۔کیوں۔۔؟ کیونکہ وہ فیمینسٹ یا لبرل تھی۔۔!! ایسا قتل جو رونگھٹے کھڑے کر دینے والا ہو جس کے اثرات معاشرے کی مجموعی نفسیات کو مسخ کر کے رکھ دینے والے ہوں۔۔۔ایسا قتل بھی درست ٹھہرا اگر آپکے مخالف نظریے والے کا ہوا ہے۔۔۔۔
اچھا یہاں پر ایک بات واضح کر دوں۔۔یہ اس نور مقدم والے کیسں کے حوالے سے تحریر نہیں۔۔یہاں مدعا وہ اپروچ ہے وہ سوچ ہے وہ رویہ ہے جو بطور قوم ہم اپنائے ہوئے ہیں بطور معاشرہ جو ہم رکھتے ہیں۔۔۔!!
اسی سوچ یا ذہنیت کی چند مثالیں مزید دوں توایسے ہی چند اذہان مذہبی فرقہ واریت اور اختلاف میں مخالف فرقے پر کفر اور گستاخی کے فتوے لگانے اور دوسرے فرقے کے سر تن سے جدا کرنے انہیں قتل کر دینے کے متمنی ہوتے ہیں ۔۔۔
ایسے ہی ذہن کے لوگ بھارت میں کورونا کی صورتحال بگڑنے پر خوشیاں منا رہے تھے۔۔۔کہ چونکہ ہمارا دشمن ملک لہذا وہاں کی بے گناہ عوام بھی اگر کسی قدرتی آفت میں ایڈیاں رگڑ رگڑ کر مرتی ہے تو ٹھیک ہے اچھا ہے۔۔۔!!
ایسے ہی متشدد اذہان ہوتے جو آنر کلنگ کی تاویلات کرتے کہ جب کوئی بھائی کسی بہن کو غیرت کے نام پر قتل کر دے۔۔تو کہتے چونکہ اس بہن نے یہ کیا لہذاء اس کا قتل ٹھیک ہے اچھا ہوا صحیح انجام۔۔!!
ایسی ہی ذہنیت ہوتی کہ کوئی آپکے سیاسی یا مذہبی نظریے کی مخالفت کرے تو اسے ماردو۔۔ کاٹ دو۔۔دبا دو ۔۔ اگر خود نہیں بھی۔۔۔ تو یہ خواہش ذہن میں ہو کہ اس کی نسلیں ختم ہو جائیں اس پر بہیمانہ تشدد ہو۔۔
اسے اذیت ناک موت دے دی جائے وغیرہ وغیرہیہ سب کیوں۔۔؟ کیونکہ اپ ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔۔
یا وہ مجرم ہیں۔۔۔
یا وہ گناہگار ہیں۔۔۔۔
لہٰذا انہیں انسان سمجھنے کی ضرورت نہیں۔۔
لہذا ان کے ساتھ جو بھی غلط ہو وہ صحیح ہے۔۔۔
لہٰذا دین و قانون کی حدود بھی پس پشت سہی۔۔۔
لہذا ان کا قتل بھی درست بس ان کے کرتوتوں کی سزا کہہ کر پلو جھاڑ لو۔۔۔
لہذا ان کی مال،جان، اور عزت کی کوئی ہی توقیر نہیں۔۔۔۔اسے کہتے کم ظرفی،اسے کہتے اخلاقی گراوٹ، اسے کہتی ہیں ذہنی پستی۔۔۔
رب تعالیٰ ہمیں کم ظرف دشمنوں سے بچائے۔۔۔!!ہم غلط کو ٹھیک کرنے کی پوٹینشل نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی غلط کو ٹھیک کرنا چاہتے بلکہ ہم اسے ختم کر دینا چاہتے۔۔۔اسے مار دینا چاہتے۔۔۔دبا دینا چاہتے۔۔۔!!
دین نے گناہگار کے لیے بھی توبہ کا دروازہ رکھا۔۔۔
قانون نے مجرم کو بھی قانونی استحقاق دیا۔۔۔
لیکن ہم نے۔۔ مجرم اور گنہگار تو کجا اختلاف کرنے والے کے لیے بھی کوئی گنجائش نہ چھوڑی۔۔کبھی سوچا ہے جو ایسے متشدد اذہان والے بااختیار ہو جائیں تو معاشرے کا کیا حشر ہو۔۔؟؟ جسٹ امیجن۔۔!!پھر ذہن میں رہے۔۔!! یہ معاملہ نور مقدم کا نہیں،قتل کا بھی نہیں،لبرل اور ملاں کا بھی نہیں،حتی کہ انصاف کا بھی نہیں۔۔۔یہ معاملہ سوچ کا ہے۔۔۔
دا وے ہاو آ نیشن تھنک۔۔!یہ نفرت، یہ وائلنٹ اپروچ، یہ شدت پسندانہ رویہ، ہمیں بنیادی انسانی احساسات تک سے عاری کر چکا ہے۔۔۔اور ایک بات تو طے ہے کہ بنیادی احساسات سے بھی عاری معاشرہ انسانوں کا معاشرہ کبھی نہیں، قطعاً نہیں کہلا سکتا۔۔۔!!
-

:محبت کیا ہے؟ تحریر :- فیضان علی
محبت کیا ہے روز اول سے لے کر آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور آگے بھی جاری رہے گا، دراصل محبت کے بارے میں لکھنے والے ہر شاعر، ادیب، دانش ور، صحافی، صوفی، بزرگ، ولی، گویا جس کے دل و دماغ میں محبت کے لیے جو حُسن پیدا ہوا سب نے اپنے الفاظوں میں محبت کی تعریف قلم بندھ کر دی آپ یوں کہہ سکتے ہیں کے محبت ایک ایسا سفر ہے جس کی چاہت، جس کی تعریف کا زوال نی ہوا،
محبت کا لفظ کئی معانی رکھتا ہے، محبت کئی قسموں کی ہوتی ہے یہ محبت عام کسی شے سے بھی ہو سکتی ہے اور کسی خاص ہستی سے ، شخص یا رشتے سے بھی ہو سکتی ہے۔ محبت معمولی سی بھی ہو سکتی ہے اور شدید بھی ہو سکتی ہے۔ شدید محبت جان دینے اور لینے کی حد تک بھی ہو سکتی ہے۔ اسے ہم پیار یا عشق بھی کہتے ہیں! محبت کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلا مذہب کی روح سے پیار، کسی خاص رشتے سے پیار، حب الوطنی یعنی وطن کے لیے پیار جس کا کوئی ثانی نہیں ، کسی انسان کے لیے پیار
گویا ہر کسی کو اپنی پسندیدہ شے سے محبت کو سکتی ہے مزید اس میں (اشرف المخلوقات) انسان سے لے کر ہر چرند پرند شامل ہیں کہیں انسان کو انسان سے بے پناہ محبت ہے تو کہیں انسان دنیا سے ہٹ کر خدا کی بنائی دوسری مخلوقات سے بھی محبت کے رنگ بکھیرتا ہے گویا محبت ایک ایسی رحم دلی ہے جو کسی ایک شے کے لیے مختص نہیں کی جا سکتی کیونکہ محبت انسان کے اختیار میں نہیں ہے.اس کائنات میں محبت سے بڑھ کچھ نہیں، سب کچھ محبت ہے، انسان سے انسان اور پھر انسان سے کائنات اور کائنات سے خدا تک کا سفر محبت کے سوا کچھ نہیں انسان کے لیے ہی یہ کائنات بنائی گئی گویا جس کو جس سے محبت ہوئی اس نے اُسی کی تعریف میں محبت کے حُسن کو قلم بندھ کر دیا میں یہ ضرور کہوں گا محبت ایک بہت ہی پیارا احساس ہے
محبت جیسا احساس جس کے دل میں پیدا ہو جائے وہ محبوب کے لیے کوئی کچھ بھی کرنے کو تیار ہو جاتا ہوے, جو انسان محبت کے بارے میں جان لیتا پھر وہ اس کائنات اور ﷲ سے واقفیت حاصل کر لیتا ہے
اگر کسی انسان کے میں محبت نہیں تو پھر اس دنیا میں نظریات، سائنس، فلسفہ اور روحانی دنیا کے علم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ دلی لگن، محبت ہی اپ کو سب کچھ سکھاتی ہے
محبت ہے تو سب کچھ ہے محبت کے ہونے سے ہی سب کچھ ممکن ہے
محبت کا مطلب ایک ہوجانا، اس کائنات سے جڑ جانا، زندگی اور موت سے جڑ جانا، اسی کو محبت کہتے ہیں.
انسان کچھ بھی بن جائے، دانش ور، صوفی، مرشد، مذہبی مفکر،سائنسدان، روحانی مفکر، اگر انسان کے دل و دماغ میں محبت نہیں ہے تو اس کائنات میں ہماری کوئی وقعت ہی نہیں ہے کیونکہ یہ محبت ہی ہے جو ہمیں انسانیت سے محبت کرنا سکھاتی ہےمحبت ایک جذبہ محبت جس کا نام بھی محبت سے لیا جاتا ہے جو کسی جاندار، بے جان چیز کے لیے دل کی گہرائی سے پھوٹتاہے محبت بے لوث ہوتی ہے اگر محبت میں بے لوثی نہ ہو تو وہ محبت پاک نہیں ہوتی، ایسی محبت جس میں بے لوثی نہ ہو وہ پھر وہ محبت نہیں دھوکہ ہے اور وقت گزاری کی محبت ہوتی ہے جیسے (فلرٹ) کہا جاتا ہے
کسی نے محبت کو یوں بیان کیا کے محبت پانے کا نام نہیں بلکہ کھو دینے کا نام ہے
اس کی بہترین مثال ہمارے سامنے یہ ہے کے ہر سال عید قربان پہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی رہ میں قیمتی سے قیمتی جانور لے کر قربانی دیتے ہیں جو کے ہر سال 10 زلج کو مسلمان سنت ابراہیمی کو پورا کرتے ہیں گویا یہ بھی ایک محبت ہے جو ہم اللہ کی رہ میں کرتے ہیں*. اب محبت ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
اگر محبت کو سمجھنا ہے اس کو دیکھنا ہے اس کو محسوس کرنا تو اس کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ اس کا تجربہ کیا جائے۔
اس کا مشاہدہ کریں آخر یہ محبت ہے کیا؟ محبت کو بڑی تحمل مزاجی سے سمجھیں کیونکہ محبت کا احساس بہت گہرا ہے اس میں جلد بازی تو بلکل بھی نہیں ہے ہمارا مسلا کیا ہے کے ہم محبت کا تجربہ تو کرتے ہیں لیکن اس کے احساس کو سمجھنے سے ہہلے ہی ہم اس سے نکلنا چاہتے ہیں ہم محبت کے واردات کا مشاہدہ نہیں کرتے اگر محبت کے احساس کو سمجھیں گے نہیں تو پھر ہمیں محبت کے بارے معلوم کیسے ہو گادراصل محبت ایک ایسا احساس ہے جو ہمیں پیار سے پیش آنا، پیار سے بات کرنا اور تحمل مزاجی سیکھاتی ہے اگر ایک انسان جو اپنی انا کے اگے کسی کو نہیں مانتا لیکن کسی کا دل جیتنے کے لیے انسان خود کو کتنا نرم مزاج بنا لیتا ہے کے جس کو وہ محبوب بنا لے اس کا ہر تلخ لہجہ، ہر تلخ رویا برداشت کرتا ہے، اس کے ہر ناز نخرے اٹھاتا ہے وجہ کیا ہوتی ہے اس کو محبت ہوتی ہے اور یہ سب کچھ محبت سکھاتی ہے
محبت ہمیں انسانو سے ہی پیار کرنا نہیں سکھاتی بلکہ اس کائنات میں موجود تمام مخلوقات سے رحم دلی سے ہیش آنا سیکھاتی ہے واقع اگر کسی انسان کے دل میں محبت نہیں ہے تو پھر وہ اس دنیا کو نہیں جان سکتا اس دنیا میں موجود محبت کے احساس کو نہیں جان سکتا،آخر میں اس محبت کا زکر کروں گا جو میرے خدا نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ سے کی تو خدا نے کی ہے جس نے اپنے محبوب پیار آقا ﷺ کے لیے پوری کائنات بنا دی کے میرے نبی جیسا پیار اس دنیا میں کوئی نہیں.
"کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں” -
ظالم پردیس تحریر-سید لعل حسین بُخاری
دیار غیر میں رہنے والوں کی زندگی بہت ہی مُشکل ہوتی ہے،تاہم ایک شخص کی قُربانی باقی فیملی ممبران کے لئے آسودگی اور آسائشیں ضرور لاتی ہے،جو گھاٹے کا سودا نہیں۔
پردیسیوں کے لئے مشکل ترین لمحات وہ ہوتے ہیں،جب وہ اپنوں کی خوشی اور بالخصوص غم میں عملی طور پر شریک نہیں ہو پاتے
جب سے کرونا آیا ہے،اوورسیز کی مشکلات اور بھی بڑھ گئی ہیں۔
آنے جانے کے لئے فلائیٹس کی بندش اور پھر ہوٹل قرنطینہ کے اخراجات اوورسیز کے لئے وبال جان بنے ہوۓ ہیں۔
جن لوگوں کے چولہے دیار غیر میں مزدوری کرنے والوں کے دم سے چلتے ہیں۔وہ اس وقت مشکلات کا شکار ہیں، کیونکہ بہت سے لوگ ان ملکوں سے پاکستان آ کے پھنسے ہوۓ ہیں۔ہر وقت وہ لوگ متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں کہ کسی طرح واپس اپنی نوکریوں پر پہنچاجا سکے۔
کچھ کی تو لمبا عرصہ غیر حاضری کی وجہ سے نوکریاں بھی جا چکی ہیں،کچھ کے ویزے ایکسپائر ہو چُکے ہیں،
ایسے لوگوں کی مدد اور سہولت کاری کے لئے حکومت پاکستان کو آگے آنا چاہیے۔
کیونکہ انہیں لوگوں کی بدولت زرمبادلہ کے زخائر ریکارڈ سطح پر پہچے ہوۓ ہیں۔بیرون ملک سے آنے والا یہ پیسہ ہماری ملکی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے-
اگر ان پھنسے ہوۓمتاثرہ پاکستانیوں کی مدد نہ کی گئی تو خدشہ ہے کہ زرمبادلہ میں کمی پیدا ہو سکتی ہے،جو کسی طور پر بھی معیشت کے لئے اچھی خبر نہ ہو گی-
پردیسیوں کو جن جن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے،ان کا احاطہ کسی ایک کالم میں ناممکن ہے۔
میں خود چونکہ عرصہ دراز سے محنت مزدوری کی غرض سے دیار غیر میں مقیم ہوں،اسلئے میں اپنے پردیسی بھائیوں کے دُکھ بھی اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔
یہاں کئی دفعہ لوگ کھانے کے لئے بیٹھتے ہیں تو انکی سوچیں کہیں اور ہوتی ہیں،
کچھ لوگ تو کھانے کی میز پر بیٹھ کر پہروں چھت کو گھورتے رہتے ہیں۔
کچھ لاگ راتوں کو ہڑ بڑا کر اُٹھ بیٹھتے ہیں۔
ان سب کے لاشعور میں اپنے پیاروں کی یادیں اور ضروریات ہوتی ہیں
اُنکی سوچ کا محور بس یہی ہوتا ہے کہ کس طرح وہ اپنے اہل خانہ کی ضروریات اور فرمائشیں پوری کر سکیں۔
وہ کس طرح گھر بنا سکیں۔
وہ کس طرح موٹر سائیکل یا گاڑی اپنے پیاروں کو خرید کے دے سکیں۔
یہی سوچیں پردیسیوں کو مضطرب کئے رکھتی ہیں۔
ان پردیسیوں میں کچھ مُٹھی بھر ایسے بھی ہوتے ہیں،جو وہاں جا کر بے راہ روی کا شکار ہو کر اپنے خاندانوں کو بھول جاتے ہیں۔
کئی ملکوں میں آسانی سے ملنے والی عیاشیاں انہیں بہکا دیتی ہیں۔
وہ بھول جاتے ہیں کہ پردیس میں آنے کا مقصد کیا تھا؟
تاہم ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔
زیادہ تر لوگ اپنے مقصد پر سختی سے کاربند رہتے ہیں۔وہ رات دن ایک کئے رکھتے ہیں۔وہ لوگ چھٹی والے دن بھی اوور ٹائم پر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔وہ لوگ ایک کولڈ ڈرنک پینے سے پہلے بھی سو بار سوچتے ہیں کہ یہ لگژری کروں یا نہ کروں ؟
یہ لوگ فیملی کے لئے لاکھوں خرچ کر دیں گے مگر اپنی زات پر ایک ریال خرچ کرنا بھی انکے وارے میں نہیں ہوتا۔
یہ وہ جزبہ ہے جسکی دیار غیر میں بسنے والے افراد کے خاندانوں کو قدر کرنی چاہیے۔انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ بھی فضول خرچی نہ کریں،
فرمائشوں کے انبار لگا کر اپنے پیاروں کی زندگیوں کو مشکل سے مشکل تر نہ بنائیں۔
انہیں یہ بات زہن نشین کرنی چاہیے کہ غیر ممالک میں پیسہ درختوں پہ نہیں اُگتا۔
اسکے حصول کے لئے 50ڈگری درجہ حرارت میں کام کرنا پڑتا ہے،
روزانہ کی بنیادوں پر مٹی کے ساتھ مٹی ہونا پڑتا ہے۔
ہر طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں،
صحراؤں میں چلنے والے گرد آلود طوفانوں کا سامنا کر کے نوٹ کماۓ جاتے ہیں۔
اس محنت اور حق حلال کی کمائ کا مصرف بھی بڑا سوچ سمجھ کے ہی ہونا چاہیے۔
پردیس کے باسیوں کے لواحقین کو چاہیے کہ اگر ہو سکے تو کچھ بچت بھی کر لیا کریں ،
کیونکہ ان کے کماؤ پوت نے ساری زندگی وہاں نہیں رہنا۔
ایک نہ ایک دن اس نے واپس آنا ہے،
اس وقت ہو سکتا ہے کہ اسے کسی کاروبار کے لئے کچھ سرماۓ کی ضرورت پڑے۔
اُس وقت آپ بھی اسے سرپرائز دیں تا کہ اسکی زندگی بھر کی تھکن دور ہو جاۓ-#تحریر-سید لعل حسین بُخاری
@lalbukhari -

کرپشن ،بدعنوانی اور رشوت ستانی ایک دیمک ہے تحریر: شمسہ بتول
کرپشن اور رشوت ستانی ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ نیچے سے لے کر بڑے تک سب ہی کہیں نہ کہیں اس میں شامل ہیں غرض یہ کہ کلرک سے لے کر افسر تک سب اس میں اپنا اپنا حصہ ڈال رے ہوتے۔ کرپشن ،رشوت یہ وہ بیماریاں ہیں جو دیمک کے طرح ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھا رہی ہیں اور انہیں کھوکھلا کر رہی ہیں۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اب بھی ایمانداری سے اپنے فراٸض ادا کر رہے ہیں جنہوں نے اس لعنت کو نہیں اپنا اور ملک پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں یہ لوگ قابل تحسین ہیں مگر وہ لوگ جنہوں نےکرپشن کی رشوت لی بدعنوانیاں اور بے ضابط گیاں کیں ان کے لیے سخت سے سخت قانون بنایا جاۓ تا کہ کرپشن اور رشوت جیسے ناسور کو ہمارے معاشرے سے ختم کیا جا سکے ۔پاکستان کی بہتری اور ترقی کے لیے اس اقدام کی بہت ضرورت ہے
رشوت لینے کے کٸی طور طریقے ہیں کبھی تو چاۓ پانی کے نام پر اور کبھی یہ کہہ کر کہ جی کام کروانے میں توڑا بہت تو خرچہ کرنا پڑتا ۔
وہ لوگ جو اداروں میں بیٹھے ہی قوم کی خدمت کے لیے ہیں اور اس کام کی وہ تنخواہ لے رہے ہوتے مگر پھر بھی لوگوں سے رشوت کا مطالبہ کرتے یا تو کہتے کہ کوٸی جان پہچان والا ہے تو سفارش کروا لو اس طرح تمہارا کام جلدی ہو جاۓ گا ورنہ پیسے دو گے تو ہم یہ کریں گےورنہ یونہی تمہارا کام لٹکا رہے گا اور ہر روز دفتر کے چکر لگانے پڑیں گے وغیرہ وغیرہ ۔
اگر ہم میں سے ہر پاکستان ایمانداری سے اپنا کام سر انجام دے تو میرے خیال سے ہر کام وقت پر ہو گا کوٸی مسٸلہ نہیں ہو گا مگر خود کو افسر کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا کام قوم کی خدمت ہے بروقت اپنے فراٸض سر انجام دینا ہے نہ کہ رشوت اور سفارش کی وجہ سے لٹکا دینا اور دوسروں کو ذہنی ازیت دینا
صرف سفارش کی بناء پر کسی دوسرے کا جاٸز حق کسی اور کو دے دیا جاتا ہے اور اس طرح میرٹ کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں اور لوگوں کا محنت پر سے یقین اٹھ جاتا ہےاور ایک نااہل دوسرے کے جاٸز حق پر قابض ہو جاتا ہے
اس طرح معاشرے میں ایک بے یقینی کی فضاء پیدا ہوتی ہے اور مختلف سماجی اور معاشرتی براٸیاں جنم لیتی ہیں۔
غرض یہ کہ کرپشن، سفارش اور بدعنوانی اب ہمارے معاشرے کا کلچر بن چکی ہے کوٸی اس پر شرمندگی محسوس ہی نہیں کرتا بلکہ دلاٸل دیے جاتے ہیں کہ آج کہ دورمیں تو صرف سفارش ہی چلتی ہے اور اس کے بغیر کوٸی کام نہیں ہو سکتا اور اگر تمہارے پاس کوٸی سفارش نہیں تو تم خالی ہاتھ ملتے ہی رہ جاٶ گے یعنی ایک تو چوری اور اوپر سے سینہ زوری ۔کرپشن نے ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ طاقت کا غیر قانونی استعمال اور قومی خزانے میں غبن کرنا اور ترقیاتی فنڈز کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا ان سب سے ہمارے ملک کی ساکھ اور قومی خزانے کو بہت نقصان پہنچا ہے
اگر دیکھا جاۓ تو کرپشن اوررشوت بہت سی براٸیوں کی جڑ ہے ۔ ہمیں ان براٸیوں کو جڑ سے ختم کرنا ہے اور اپنے ملک کی ساکھ کو قومی اور بین الاقومی سطح پر دوبارہ بحال کرنا ہے اور اس کے لیے ہم ب کو مشرکہ کوشش کرنا ہو گی ۔
کرپشن اور سفارش کی وجہ سے نٸی نوجوان نسل سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے ان کا اس سسٹم پر سے اور محنت پر سے اعتبار اٹھ رہا ہے جو کہ ایک بہت سنجیدہ مسٸلہ ہے ۔ نوجوان نسل تو قوم کا اثاثہ اور امید ہوتی اگر وہی مایوس ہو کر غلط راستے پر چل پڑی اور اس سسٹم کا شکار ہو گٸی تو یہ بہت نقصان دہ ہو گا۔ اس لیے ہمیں سیاسی ، سماجی طور پر ان براٸیوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہونگی تا کہ اس قوم کا مستقبل روشن ہو ✨
@b786_s -

ماں کیسی ہستی ہے جس کو جنت کہتے ہیں تحریر: آویز
سعودی عرب کے کیپیٹل ریاض کی ہائی کورٹ میں ایک مشہور کیس آیا جو دنیا بھر کے اخباروں اور ٹی وی چینل بھی اس کا چرچا ھوا جج نے کیا فیصلہ کیا۔؟
کیس کوئی دولت کا نہیں تھا بلکہ ایک بھائی نے دوسرے بھائی کے خلاف کیا تھا ان کو اپنی والدہ کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں بڑے بھائی کی عمر 80 سال تھی اس کی والدہ کی عمر ایک سو دس سال تھی جبکہ چھوٹے بھائی کی عمر 70 سال تھی چھوٹے بھائی نے کیس کیا کہ یہ اب بوڑھا ہوگیا ہے اب یہ ماں کو صحیح طریقے سے نہیں سنبھال سکتا یہ اکیلا ہی جنت کا حقدار نہیں ہوسکتا میری بھی ماں ہے مجھے بھی حق ہے کہ میں اس کو سنبھالو اسی طرح کے چلتا گیا جج نے کہا پندرہ دن چھوٹا بھائی رکھ لے اور پندرہ دن بڑا بھائی رکھ لے اس بات پر بھی وہ دونوں بھائی رضامند نہ ہو اور جج نے کہا ان کی ماں کو عدالت میں پیش کیا جائے جج نے ماں سے پوچھا تم کس بیٹے کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں میں نے کہا میرے لئے دونوں بیٹے ایک جیسے ہوں جو آپ فیصلہ کرو مجھے منظور ہے جج فیصلہ کرتے ہوئے کہا بڑا بھائی اب زیادہ عمر کا ہو گیا ہے سو یہ اپنی ماں کا صحیح طریقے سے خیال نہیں رکھ سکے گا سو چھوٹے بھائی کے ساتھ رہنے کا میں ان کی والدہ کو حکم دیتا ہوں اس بات پر چھوٹا بھائی تو خوش ہوگیا لیکن بڑا بھائی عدالت میں روتا رہا اور اس نے کہا میرے بڑھاپے نے میری ماں کو مجھ سے چھین لیا ہے
ہم کو اپنے ماں باپ کا خیال رکھنا چاہیے
وہی ہماری ہر ضرورت ہر خواہش پوری کرتے ہیں
بہت مشکلوں اور تکلیفیں برداشت کر ہمیں پالتے ہیں ہیں ہم کو ان کے بوڑھے ہونے پر ان کا خیال کرنا چاہیے خدمت کرنی چاہیے لیکن افسوس ہے ہم ایسا نہیں کرتے سینکڑوں مثالیں ہیں اس دنیا میں ماں باپ کے بوڑھے ہو جانے کے بعد ان کو گھر سے باہر نکال دیتے ہیں طرح طرح سے ذلیل و رسوا کرتے ہیں اس سے نہ صرف ہم اپنے ماں باپ کو ناراض کرتے ہیں بلکہ ہم اپنے اس اللہ کو بھی ناراض کرتے ہیں اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہمیں اپنے ماں باپ کی عزت کرنی چاہئے تاکہ آخرت والے دن اللہ ہمارے لئے بہترین جگہ منتخب کرے اور ہم پر آنے والے عذاب سے اللہ ہمیں بچائے زندگی میں انسان سب کچھ حاصل کر لیتا بہت کچھ کھو لیتا ہے اور بہت کچھ لیتا ہے محنت کرنے پر انسان کو اس کی ہر ایک چیز مل جاتی ہے اس کی خواہش ہے کہ ضرورت ہے سب پوری ہوجاتی ہیں لیکن ایک واحد شخصیت ماں باپ ہوتے ہیں جو ایک بار کھو دینے پر دوبارہ نہیں ملتے خاص طور پر میں ان لوگوں سے مخاطب ہوں جو یہ سوچتے ہیں جب ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو وہ بچپنا حرکتیں کرتے ہیں ایسا ہرگز نہیں ہے ہمیں ایسا نہیں سوچنا چاہیے اگر ہم اپنے آنے والی آخرت کو بہتر بنانا چاہتے ہیں اجر پانا چاہتے ہیں اور آخرت کی زندگی میں سکون چاہتے ہیں تو صرف اور صرف ہمیں اپنے ماں باپ کی خدمت کرنی چاہیے یہی وہ راستہ ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے اللہ ہمارے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے لیکن اگر ہم اپنے ماں باپ کو رد کریں تو یہ سزا ہمیں ملے گی ضرور کیوں کہ ماں کا رتبہ بہت اعلی ہے سچ کہو جو لوگ اپنے ماں باپ کی بہت عزت کرتے ہیں ان کو سنبھالتے ہیں ان کا خیال رکھتے ہیں ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں وہی لوگ اجر پائیں گے یقین مانو خدا ان لوگوں سے بہت خوش ہے جان اپنے ماں باپ کے فرمانبردار ہیں دیکھا جائے آج کل کے بچوں کو دو دن کی محبت کے لیے اپنے ماں باپ کو چھوڑ دیتے جوانی سنبھالتے ہیں
یہ لوگ بہت غلط کرتے ہیں ایک وقت ایسا آئے گا جب اپنی غلطی کا احساس ہو گا کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے ضروری نہیں اگر آپ کے ماں باپ آپ کی پسند کے خلاف ہیں
@Hi_Awaiz -

فیمنزم تحریر : اقصٰی صدیق
ویسے تو فیمنزم کی تاریخ بہت پرانی ہے مگر صحیح معنوں میں فیمنزم ایک ایسا تصور ہے جس کے مطابق مرد اور عورت دونوں یکساں انسانی حقوق، بنیادی سہولیات، معاشی اور سماجی حقوق کے حق دار ہیں۔فیمنزم اصل میں مغربی خواتین کی اپنے حقوق کے لیے کئیے جانے والی جدوجہد کی ہی ایک شکل ہے۔
فیمنزم کا آغاز اس وقت ہوا، جب 1911 میں برطانوی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے احتجاج پر انہیں ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔دیکھا جا سکتا ہے، کہ مغربی خواتین نے اپنے حقوق کیلئے کوششیں کی جو ابھی تک جاری ہیں ۔
مغربی خواتین نے پہلے خود کو مرد کے تسلط سے آزاد کیا، تعلیم، ملازمت، بزنس، غرض کہ ہر جگہ یکساں اپنی ذمہ داریاں خود اٹھائیں جس کے پیش نظر انہیں حقوق کی جدوجہد میں بہت آسانیاں رہیں۔
حال ہی میں پاکستان میں بھی فیمنزم کا نام سنا جانے لگا ہے گزشتہ کچھ سالوں سے اس میں بہت تیزی بھی آئی ہے۔ پاکستان میں فیمنزم کے حوالے سے خواتین کا کردار ہر گز مغربی خواتین والا نہیں ہے یہاں خواتین کو حقوق مغربی خواتین والے چاھئیں مگر ذمہ داریوں کے لحاظ سے پاکستان کی خواتین اتنی زمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں۔
معاشرہ مرد و عورت دونوں سے مل کر بنتا ہے۔دیکھا جائے تو خواتین کے استحصال میں مردوں کا حصہ زیادہ گناجاتا ہے، یہ بات بھی قابل قبول ہے لیکن خواتین اس معاشرہ کا حصہ ہیں۔ خواتین پر ظلم نہیں کیا جاسکتا، یہ ترقی یافتہ قوموں کا دستور نہیں۔موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر گالی کی طرح بنا دیا گیایہ لفظ عورتوں کے اپنےحقوق کی کتنی لمبی لڑائی اور جدوجہد کے کے بعد وجود میں آیا ہے، تاریخ میں اس کے حوالے سے ہزاروں مضامین اور کتابیں موجود ہیں لیکن آج بات چیت کا موضوع وہ نہیں ہے۔
جب ایک معاشرہ عورت کی عقل و دانش کی نفی کرتا ہے تو اسے فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتا، اسے اختیارات حاصل نہیں۔ایسے معاشرے میں عورت کی حیثیت بھیڑ بکریوں کی مانند ہوتی ہے جن کو انسان کچھ فائدے اٹھانے کے لیے پالتا ضرور ہے لیکن انہیں وہ اپنا جیسا نہ تو اپنے جیسا سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی ان سے برابری کا سلوک کر سکتا ہے۔
حقوق نسواں(عورتوں کے حقوق) اور فیمنزم بھی ایک ایسا ہی موضوع ہے،
جس پر ہمارے معاشرے میں بغیر کسی سمجھ بوجھ کے، اسکی تاریخ، اغراض و مقاصد، اور کردارکو جانے بغیر رائے دی جاتی ہے اور بعد میں یہی اختلاف رائے یا اتفاق رائے بعض اوقات بہت پیچیدہ مسائل کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔
فیمنزم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسانی معاشروں میں مردکت نقطہ نظر کو ترجیح دی جاتی ہے اور خواتین کے ساتھ غیر مساوی، امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں فیمنزم ایک ایسی جدوجہد مسلسل کا نام ہے جس میں خواتین کیلئے مردوں کے برابرتعلیمی اور پیشہ ورانہ مواقع کے حصول کی جدوجہد کرنا شامل ہے۔
خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے مسلسل ایک تحریک فیمنسٹ موومنٹ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے، اس مہم میں خواتین کا ووٹ ڈالنے کا حق، عوامی عہدے پر فائز ہونا، جائداد کی ملکیت کا حق حاصل کرنا، تعلیم حاصل کرنا، پسند کی شادی کرنے کا حق خواتین اور لڑکیوں کو عصمت دری، جنسی ہراسانی اور گھریلو تشدد سے محفوظ رکھنا، من پسند لباس زیب تن کرنا اور مناسب اور قابل قبول جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حقوق شامل ہیں۔عورت ’’انسان ‘‘ کا نسوانی روپ ہے۔تو ظاہر ہے کہ اس کے امکانات بھی لامحدود ہیں۔
ہم تاریخ کے تسلسل کا ایک حصہ ہیں۔برصغیر میں مسلمان معاشرے کی تاریخ ہمیں ہرگز یہ نہیں بتاتی کہ ہمارے آباؤ و اجداد عورت کے مکمل انسانی وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔
زیادہ تر معاشروں میں یہ رواج نہ جانے کب سے چلا آرہا ہے کہ عورتوں کو مذہبی معاملات سے دوررکھا جاتا ہے۔ دنیاوی تعلیم تو بہت دور کی بات ہے دینی تعلیم کی بھی نفی کی جاتی ہے۔
برصغیر کے مسلم معاشرے میں عورت کے مکمل انسانی وجود کو تسلیم کرنے کے روشن شواہد موجود ہیں۔آج جب میں دنیا بھر کے مسلمان معاشروں میں عورت پر ظلم ہوتا دیکھتی ہوں، تو مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔کیونکہ میں مغرب کی آزاد و خود مختار عورت کو پس پشت ڈالتے ہوئے زمانہ جاہلیت کے دور میں زندہ دفن کر دی جانے والی عورت سے لے کر موجودہ دور میں ظلم و تشدد، جبر، غربت کی چکی میں پیستی، ہراساں کی جانے والی، تیزاب پھینک کر جلا دی جانے والی اور غیرت کے نام پر قتل کر دی جانے والی بنتِ حوا کو دیکھ کر خوف زدہ ہوں، اور ان کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتی ہوں.
@_aqsasiddique
-

درد کی داستان تحریر: محمداحمد
زندگی کی ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جیسے ہم جنت نظیر وادی کہتے ہیں آج وہ صدی دو سالوں سے خون سے دُھلی پڑی ہے اُس وادی کو جنت نظیر کہتے ہیں یہ وہ وادی ہے جہاں لوگ سیر و تفریح کرنا بڑی خواہش سمجھتے تھے جو آج خاموش ہے کشمیر میں ظلم اور بربریت کے ایسے پہاڑ توڑے گے ہیں جس کی مثال کہیں نہیں ملے گی اور جن نام نہاد مسلم امہ کا اتحاد بنا ہوا ہے نام کا رہ گیا ہے انسانیت کا درس دینے والوں کو ظلم نظر نہیں آتا سب اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہیں مسلم امہ انڈیا میں انتہا پسند تنظمیں نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح مسلمانوں کو شہید کر رہے ہیں کسی کو بھی شوشل میڈیا پہ شئیر کی گئی تصویریں نظر نہیں آئیں سب مسلم ممالک اپنے مفادات کی خاطر بیان بازی کر کے تھکتے نہیں ہیں لیکن جو جبر اور ظلم کی داستان سے کشمیر میں جو بچے یتیم ہوگے کتنے لوگ لاوارث ہوگے کتنوں کے گھر برباد ہوگے سب کِن کے منتظر ہے سب لوگ مسلم امہ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب یہ بے حس لوگ ہمارے لئے ہمارے حق کے ساتھ لڑیں گے
اللہ تعالیٰ کو ظلم و ستم بالکل پسند نہیں جس طرح کشمیر اور فلسطین میں ظلم کے پہاڑ توڑے گے ہیں پوری دنیا جانتی ہے ۔ اُن بہنوں ، بیٹیوں، بچوں ، بزرگوں کی آہ لگی ہے جو آج پوری دنیا کرونا کی وباء میں مبتلا ہے اب کرونا کی وجہ سے پوری دنیا پر عذاب آیا ہوا ہے اسی وجہ سے اب کفار کو انڈیا میں بڑھتے ہوئے کرونا کیسسز کی وجہ سے انسانیت یاد آگئی اس وقت سوشل میڈیا پر کشمیر اور فلسطین میں ظلم کی داستان نظر نہیں آئی بچوں کے سامنے والدین کو گولیاں ماری گئیں بزرگوں کو شہید کیا گیا پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے پوری کوشش کی جاتی ہے کہ کسی طرح پاکستان کو بدنام کیا جاۓ لیکن کشمیریوں کی داد رسی کیا ہے وہ اپنا حق مانگتے ہیں کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں کسی بھی دوسرے ملک میں حق ارادیت کا قانون ہے وہاں ان کے مزہب کیلئے کوئی پابندی نہیں لگائی جاتی ان کو پورا حق دیا جاتا ہے وہ جیسے مرضی اپنی عبادت کریں لیکن انڈیا میں کہیں مسلمان ملے اس کو زندھ جلا دیا جاتا ہے یا اس پر تب تک ظلم کیا جاتا ہے جب تک وہ اپنی جان سے ہاتھ نہیں دھو بیٹھتا جہاں داڑھی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت رسول کو زبردستی کاٹ دیتے ہیں کہیں بھی جبر سے کچھ بھی نہیں منایا جاتا
اس جبر کے نظام کی وضاحت کا مقصد یہ ہے کہ دنیا نے وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کو قراردادوں کے ذریعے سے اُن کو اُن کا حق دلانا ہے کشمیریوں کےلئے ریفرنڈم سے فیصلہ کرنا چاہیے کہ کشمیری آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں یہاں حالات ایسے ہیں اگر کوئی ملک کشمیر ، فلسطین کیلئے آواز بلند کرتا ہے ہا حمایت کرتا ہے تو اس کو زور دیا جاتا ہے اس پر معافی مانگے کیا مسلمانوں کے خون اتنے سستے ہوگے ہیں کہ 65 ممالک نے انکھوں پہ پٹی باندی ہوئی ہے جن میں انسانیت ختم ہوگئی ہے انصاف کے تقاضے ختم ہو گے ہیں عمران خان صاحب نے جب پہلی دفعہ کشمیر کے حق میں آواز بلند کی تھی اور تقریر کرکے دنیا کو واضع پیغام دیا تھا کہ پاکستان کشمیر کے معاملے میں کتنا سنجیدہ ہے اور کرفیو ہٹانے کی آواز بلند کی ۔ بہت سے لوگوں نے مزاق اڑانا شروع کر دیا کہ آدھے گھنٹے کی تقریر سے کیا ہوگا بہت زیادہ مزاق اڑایا حالانکہ عزت اور زلت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے پوری دنیا میں کہرام مچ گیا تھا کہ پاکستان اس حد تک بھی جا سکتا ہے پاکستان نے کھلا پیغام دیا ہے پاکستان کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ہم کسی بھی صورت کمپرومائز نہیں کریں گے اللہ نے کشمیروں کو ان کا حق ضرور دلانا ہے ایک دن آۓ گا کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے اللہ پاک کی لاٹھی بے آواز ہے ظلم جب حد سے بڑھ جاتا یے مٹ جاتا ہے
تمام دوستوں عزیزوں سے گزارش ہے جتنا ممکن ہوسکے اپنے کشمیری بہن بھائیوں کیلئے آواز بلند کریں ہمیشہ یہ سوچ کر آواز بلند کریں کہ شاید آپ ایک میسج سے کسی کا ضمیر جاگ جاۓ
@JingoAlpha -

زندگی تحریر: محمد عدنان شاہد
زندگی سفر کے آغاز کا نام ہے اس سفر کے اختتام کو موت کہتے ہیں اس سفر میں انسان کو بہت کچھ سہنا پڑتا ہے انسان بہت کچھ پاتا ہے انسان بہت کچھ کھو دیتا ہے ہم زندگی کے ان مراحل کو بیان کرتے ہیں
زندگی ہر مخلوق کو ملتی ہے لیکن ہم انسانی زندگی کی بات کریں گے انسان اس دنیا میں آتا ہے تو اس کے سفر کا آغاز بچپن سے ہوتا ہے یہ مرحلہ حیرت انگیز حد تک حسین اور پیارا ہوتا ہے اس مرحلے میں کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی اس مرحلہ میں انسان دھوکے سے بچا رہتا ہے انسان کی زندگی میں جتنی خوشیاں آ جائیں اسے بچپن کبھی نہیں بھولتا بچپن کی یادیں آپ کا سہارا ہوتی ہیں انسان جوں جوں آگے بڑھتا ہے اسے اپنا بچپن اس قدر ہی یاد آتا ہے بچپن دراصل زندگی کا ایسا دورانیہ ہے جس میں آپ کسی سے کوئی غرض نہیں رکھتے بچپنہ زندگی کا ایک بہترین حصہ ہوتا ہے جو ہر قسم کی پریشانیوں سے آزاد ہوتا ہے۔اس کے بعد آتا ہے لڑکپن یہ وہ دورانیہ ہوتا ہے جہاں آپ کی عادات بنتی ہیں آپ ہر لمحے کچھ نہ کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں آپ کے اندر جستجو ہوتی ہے آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں آپ دنیا پر اپنی نگاہیں جماۓ رکھتے ہیں
اس کے بعد جوانی کا دورانیہ شروع ہوتا ہے یہ عملی اور مشکل زندگی کا آغاز ہے یہاں آپ خواب دیکھتے ہیں اور ان خوابوں کو پورا کرنے میں لگ جاتے ہیں یہ خواب آسان نہیں ہوتے ان خوابوں کو پورا کرتے کرتے آپ کی جوانی ختم ہو جاتی ہے، انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے خوابوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کو بھی انجوائے کرے اپنوں کو وقت دے خوشی اور غمی کے لمحات میں ان کے ساتھ شریک ہو زندگی کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہی نہیں، جوانی کا وقت ہی انسان کا اصل امتحان ہوتا ہے اسی دوران انسان بھٹک بھی جاتا ہے یا پھر زندگی کے اصل مقصد کے حصول کیلئے سہی راستے پر چل پڑتا ہے۔ جوانی کا وقت انسان کیلئے ایک امتحان ہوتا ہے انسان کو چاہیے کہ اس دوران سمبھل کر چلے ایک ایک قدم سوچ سمجھ کر اٹھائے۔
اس دورانیے میں انسان اپنے مقاصد بناتا ہے ان مقاصد کی تکمیل کے لیے انسان سر توڑ کوشش کر جاتا ہے جو اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے وہ کامیاب ٹھہرتا ہے
جوانی زندگی کا نازک مرحلہ ہوتی ہے اس مرحلے میں چھوٹی سی غلطی آپ کی گزشتہ کامیابیوں اور آنے والی زندگی پر پانی پھیر دیتی ہے یہاں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے اس مرحلے میں انسان کو اپنی حفاظت خود کرنا ہوتی ہے
زندگی کا آخری مرحلہ بڑھاپا ہوتا ہے اس مرحلے میں انسانوں کو دو طرح کی زندگی ملتی ہے جن کی اولاد نیک ہو انہیں حسین اور پر آسائش زندگی ملتی ہے جن کی اولاد نا خلف نکلے انہیں موت سے پہلے موت جیسی زندگی ملتی ہے
جیسا کہ شروع میں بولا تھا کہ زندگی ایک سفر ہے تو اس سفر کا اختتام بھی ہونا ہے زندگی کے سفر کے اختتام کو موت کہتے ہیں انسان زندگی میں بنایا سب کچھ چھوڑ کر آخرت کی جانب گامزن ہو جاتا ہے اس کا نام، دولت اور مرتبہ دھرے کا دھرا رہ جاتا ہے لیکن سچے لوگوں کا نام ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔
بس انسان کو چاہیے کہ وہ جس مقصد کیلئے اس جہاں میں آیا ہے اپنے اس مقصد کو پورا کرنے میں کامیاب ہو اور اس مقصد کو پورا کرے نہ کہ بھٹک جائے، مشکلات اور مصائب آتے رہتے ہیں بس انسان کو ثابت قدم رہنا چاہئے، اللّه تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّه تعالیٰ ہمیں سہی معنوں میں زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ٹویٹر ہینڈل: @RealPahore