Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ہم ٹیکنالوجی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔  تحریر : صفدر حسین

    ہم ٹیکنالوجی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ تحریر : صفدر حسین

    ہماری ضرورت کے مطابق ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر ایک تیز رفتار کے ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ میں مشکل ہی سے روزمرہ کی کسی بھی سرگرمی کے بارے میں سوچ سکتا ہوں جس کے لئے ہم ٹیکنالوجی کا استعمال نہ کرتے ہوں۔ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک ہمیشہ کا پہلو بن گیا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی سے پاک فضا میں سانس لینا ناممکن ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ اس کام میں ہماری مدد کرتا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بہت سارے کاموں میں ہماری دلچسپیوں کو فروغ دیتا ہے جو اس کے بغیر بورنگ ثابت ہوسکتا ہے۔ جب ہم ٹیکنالوجی کے بارے میں سوچتے ہیں تو پہلی چیز جو ہمارے ذہنوں میں آتی ہے وہ ہے "انٹرٹینمںٹ”۔ ہمیں اسمارٹ فونز ، گیمنگ سسٹمز ، آن لائن ویڈیوز ، ٹی وی اور ان گنت مزید ٹیکنالوجیوں سے اپنی نام نہاد ککس (kicks) مل جاتی ہیں۔ "تعلیم” وہ پہلو ہے جو ہمیں بڑی تعداد میں ٹیکنالوجیز سے ملتا ہے۔ اگرچہ یہ اس فہرست میں سرفہرست ہونا چاہئے لیکن افسوس یہ نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیم پہلے سے کہیں زیادہ قابلِ رسائی ہے انٹرنیٹ کنیکشن والا کمپیوٹر ہی آپ کو برمودا کے مثلث کی جانب لے جاسکتا ہے جہاں آپ معلومات کے بہتے ہوئے پانی میں گم ہو سکتے ہیں۔ تعلیم کے لحاظ سے ٹیکنالوجی کی ایک نہ ختم ہونے والی اہمیت ہے۔
    ہم اپنا وقت بچانے ہجوم سے بچنے اور بلا جھجک قیمتوں کا موازنہ کرنے کے لیے (ONLINE) آن لائن خریداری کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کبھی کبھی خود کو دکانوں پر جانے کی زحمت دینا پسند نہیں کرتے اور میں ذاتی طور پر اس کو درست مانتا ہوں۔ بعض اوقات یہ خریدار کو بہت بڑے نقصان پہنچاتا ہے۔ ذہن میں رکھیے گا کہ یہ ہی وہ ایک فائدہ نہیں جو ٹیکنالوجی ہمیں دے رہی یے ۔
    "ایک تصویر ایک ہزار الفاظ کے قابل ہے” ، ایک ایسا جملہ جو ہمیں ہر دو دن بعد سننے کو ملتا ہے۔ اور یہ ایسا ہی ہے… ہمارے پیاروں کے ساتھ اپنے لمحات کو گرفت میں لینے کے لئے ہمارے پاس کیمرے ، موبائل فون اور لاتعداد چیزیں ہیں یہ خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم اپنی زندگی کے ہر سیکنڈ پر تصویروں پر کلک کرنا ضروری بناتے ہیں تو وہی بات پاگل پن تک پہنچ جاتی ہے۔ آج کل ہم "جینے ” کو فراموش کر چکے ہیں اور اسے "کیپچرنگ (CAPTURING)” کے ساتھ تبدیل کر چکے ہیں۔ میں نے اپنے آپ کو کچھ دن پہلے اس میں محسوس کیا اپنے بستر پر بیٹھ کر مطالعہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا بدقسمتی سے میں نے مطالعہ نہیں کیا لیکن میری فہرست میں موجود ہر فرد کو بتایا کہ میں پڑھ رہا ہوں۔ اس نے مجھے اپنے طور پر سوچنے پر مجبور کیا اور مجھے لکھنے پر مجبور کیا۔ ایک اچھی تصویر کیلئے ہم ہزاروں تصاویر کھینچتے ہیں اور ڈیلیٹ کرتے ہیں اور تصاویر دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔
    ہمارے طلباء کے بہت ہی جدید کلاس روم ٹیکنالوجی کے نئے آپشن متعارف کرانے کی وجہ سے آگے بڑھے ہیں۔ ٹیکنالوجی ہماری سیکھنے کے عمل کے دوران متحرک رہنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ اس سے اساتذہ اور والدین کے مابین بہتر رابطے کو فروغ ملتا ہے جو طلبا کے لئے ایک بری خبر ہے جو اپنے والدین کو اپنے رپورٹ کارڈ نہیں دکھاتے ہیں جو کہ نہایت افسوس کی بات ہے۔ ٹیکنالوجی صارف دوست بھی ثابت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ چلنا بہترین آپشن ہے۔ یہ ہمیں ہماری مستقبل کی دنیا کیلئے تیار کرتا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی میں کمانڈ کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بہت فائدہ مند ہے لیکن دوسری طرف اس کے کچھ نقصانات ہیں۔ طلباء جب بھی وہ پڑھتے ہیں تو ان کا موبائل فون ان کے کنارے پڑے رہنا بھی پریشان کن ہوسکتا ہے۔ مطالعہ سے 20 منٹ کا وقفہ اور ٹیکنالوجی سے منسلک رہنا بالکل ٹھیک لگتا ہے لیکن جب یہ وقفہ لافانی حد تک بڑھ جاتا ہے تو یہ کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں ہے ۔ جہاں ٹیکنالوجی نے اچھے نمبر لینے میں آسانی پیدا کردی ہے وہیں دھوکہ دہی کرنا بھی آسان بنا دیا ہے ، کیسے؟ آپ اسے خوب جانتے ہیں! ٹیکنالوجی کا ایک نقصان جس سے ہر والدین متفق ہیں وہ ہے ہماری بینائی۔ سب سے عام دقیانوسی تصورات میں سے ایک ہے کہ جو بھی چشمہ پہنتا ہے اس نے ٹی وی کو اتنا قریب دیکھا ہوگا۔ ٹیکنالوجی کو زیادہ وقت دینے سے تھکاوٹ ، موٹاپا ، بے خوابی وغیرہ کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

    @itx_safder

  • رب سے گفتگو  تحریر :محمد شفیق

    رب سے گفتگو تحریر :محمد شفیق

    انسان ،زمیں پہ خدا کا پیامبر ،اشرف المخلوقات ،جو ارد گرد موجود ہر چیز پہ دسترس پانے کا ہنر رکھتا ہے جب حالات کی چکی میں پستا ہے تو کندن بن کر نکلتا ہے لیکن کبھی حالات اس نہج پر چلے جاتے ہیں کہ انسان کندن بننے کی بجائے مایوسی کی چادر اوڑھ لیتا ہے ۔
    رکیے،زندگی ایک بار ہی ملتی ہے اسے مایوسی اور نا امیدی کی نظر مت کیجیے ،مایوسی سے بچنے کا بہت آسان طریقہ ہے رب سے اپنے تعلقات استوار کیجیے
    یہ زندگی ،زندگی کی رعنائیاں ،جس پروردگار کی عطا کردہ ہیں اس سے ملاقات کیلیے بھی وقت نکالا کریں ۔۔
    بالکل ایسے ہی جیسے دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کا پروگرام بناتے ہیں۔۔۔۔
    دعوتوں پر جانے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔۔۔۔
    کام پر جانے کیلئے وقت کا خیال رکھتے ہیں۔۔۔۔
    اب آپ لوگ کہیں گے، رب سے ملاقات کیلئے نماز پڑھتے تو ہیں ہم۔۔۔ پتا ہے کے نماز سبھی پڑھتے ہیں مگر نماز میں جو خشوع وخضوع ضروری ہوتا ہے وہ ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا یہ بھی نصیب والوں کو ملتا ہے۔۔۔ ہم جیسے تو بس سجدے کر کے اٹھ جاتے ہیں۔۔۔۔
    اللّٰہ پاک سے ملاقات کا وقت رکھیں۔ ٹائم مقرر کر لیں ایک، اس میں اچھے سے صاف ستھرے ہو کے صرف اللّٰہ پاک کیلئے خود کو پیارا بنائیں۔۔۔ بہت اہتمام سے اسکے سامنے حاضری دیں۔ کچھ نہیں کرنا آپ نے کوئی نفل نہیں پڑھنے کوئی لمبی لمبی تسبیحات نہیں کرنی۔۔۔۔ بس خود کو اپنے رب کیلئے پیارا سا بنائیں، جائے نماز بچھائیں اور بیٹھ جائیں۔۔۔۔
    اللّٰہ پاک کو اپنا حال چال سنائیں، اپنی مشکلات بتائیں ۔ بالکل ایسے ہی جیسے اپنے کسی جگری دوست کو بتاتے ہیں۔۔۔ رونا ہے تو رو لیں اسکے سامنے۔۔۔ خوش ہونا ہے تو خوش ہو لیں۔۔۔ اس کو وہ توقعات بتائیں جو آپ نے اپنے رب سے امید کی ہوئیں ہیں۔۔۔ دوسروں سے جو شکوے شکایات اپنے رب کو بتائیں۔۔۔ اپنی کمزوریوں ،کوتاہیوں ،لغزشوں کا عتراف اس ہستی کے سامنے کریں جو طعنہ نہی دیتی جو کسی دوسرے پہ آپ کے راز آپ کے عیب عیاں نہی کرتی ۔۔۔ وہ جو غفور الرحیم ہے نا اس سے اپنی نادانیوں پہ معافی مانگو ۔ جو دل کرتا ہے جیسے کرتا ہے ویسے اس خالق سے گفتگو کریں ۔۔۔اور جب ملاقات ختم کر کے جائے نماز اٹھانے لگے تو بالکل ویسے ہی اٹھیں جیسے ایک دوست سے گلے لگ کر پیار محبت سے رخصت کرتے ہیں۔۔۔ آپ اللّٰہ پاک سے ایسے ہی رخصت ہوں۔۔۔
    پھر۔۔۔۔ پھر آپ سکون سے بھر جائیں گے۔۔۔ پتا جو شکایات آپ اللّٰہ پاک سے کر کے آئیں ہوں گے نا ،وہ خودبخود ختم ہونے لگیں گی۔۔۔ شکر بڑھ جائے گا۔۔۔ دل صاف ہونے لگے گا۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر اللّٰہ پاک کی ذات کے ساتھ ہونے کا احساس رہنے لگے گا ۔۔۔ آپ تنہا ہو کر بھی تنہا نہیں ہوں گے۔۔۔۔ آپ کے پاس بیٹھنے والے لوگ بھی سکون محسوس کریں گے۔۔۔ اور پتہ کیا آپکو اپنے رب سے بہترین دوست کہیں نہیں ملے گا۔۔۔ تو اپنے رب سے دوستی کریں۔۔
    @Ik_fan01

  • بچوں کی اچھی تربیت تحریر : ارشاد حسین

    بچوں کی اچھی تربیت تحریر : ارشاد حسین

    میری بہنو اور بھائیو بچے ایک پھول کی مانند کی طرح ہوتے ہیں والدین پر فرض ہے ان کی اچھی تربیت کریں آج ہم اپنے بچوں کی جیسی تربیت کریں گے وہ اس پر عمل کریں گے جب وہ بڑے ہو جائیں گے تو وہ اپنی اولاد کی بھی اچھی تربیت کریں گے یعنی ہماری اچھی تربیت سے ہماری نسلیں سنور جائیں گی تو آج اپنے بچوں کی تربیت صرف زبانی نصیحت نہ کریں آج جو عمل ہم کریں گے ہمارے بچے بھی ہمیں فالو کرتے ہیں اگر آج ہم اچھے عمل کریں قرآن مجید نماز پڑھیں تو ہمارے بچے ہمارے ساتھ آ کے نماز پڑھنا شروع ہو جاتے ہیں اگر ہم اپنے گھروں میں گالم گلوچ کرتے ہیں تو بچوں میں یہی عادتیں پروان چڑھتی ہیں اور جن گھروں میں دینداری کا ماحول ہوتا ہے اچھایاں ہوتی ہیں ایک ایک کے ساتھ حسن سلوک اور ہمدردی ہوتی ہے بچوں میں بھی یہی عادتیں صفات ہوتی ہیں آپ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنا چاہتے ہیں تو کم از کم ان کے سامنے اچھے عمل کرنے کی کوشش کریں اور برائیوں سے دور ہوجائیں اچھی تربیت کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم بھی دیں تعلیم سے انسان شعور سیکھتا ہے چھوٹے بڑے سے بات کرنے تہذیب ہوتی ہے اپنے بچوں کے ذہن میں اچھے خیال ڈالیں نماز اور قرآن مجید بڑھائیں۔ اپنے بچوں کو سمجھائیں ہمارے دین اسلام میں غلط کام کرنا کتنا بڑا گناہ ہے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے بچوں کو دور رکھیں جس طرح یہ لوگ ہمارے بچوں کی تعلیم کرنا چاہتے ہیں یا کر رہے ہیں ایک مسلمان کے لیے ناقابل قبول ہے اور یہ بھی ضروری ہے نو عمر بلوغت کے قریب پہنچنے والی بچیوں اور بچوں کو اپنے وجود میں ہونے والی تبدیلیوں اور دیگر مسائل سے آگاہ کرنا ہو گا ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر سے بچوں کو اس چیز کی مناسب تعلیم نہ ملے تو وہ باہر سے لیں گے جو کہ گمراہی اور فتنہ کا باعث بنے گا کچھ لوگوں کو چھوڑ کر ہمارے گھروں میں بہت سے والدین پریشان ہیں والدین اگر اس پریشانی سے نجات چاہتے ہیں تو اپنے بچوں کو گھر میں زیادہ دیر تک اکیلا نہ چھوڑا کریں کیونکہ آج کل ہر گھر میں ٹی وی اور موبائل عام ہیں تنہائی میں انسان کو شیطان گمراہ کرتا ہے جس سے بچوں کے ذہن میں منفی خیالات آتے ہیں اور پھر وہ غلط کاموں کا شکار ہو جاتے ہیں اپنے بچوں پر نظر رکھیں وہ کس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اپنے دوستوں میں کیا وہ اچھے انسان ہیں یا برے کیونکہ آپ کے بچوں کا کسی برے انسان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے تو وہ بھی غلط کاموں میں لگ جائے گا اس سے بہتر ہے اپنے بچوں پر نظر رکھیں میں متحدہ عرب امارات میں رہتا ہوں پچھلے چھ سال سے عرب لوگ اپنے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بہت اچھی تربیت بھی کرتے ہیں ہم جب بھی مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں بچے اپنے والدین کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں یہاں ہر بچہ نماز پڑھتا ہے ان کو کسی بڑے سے بات کرنے کی تہذیب ہے عرب لوگ اپنی چھوٹے بچوں کو غلط کام کرنے سے منع کرتے ہیں اللہ پاک ہم سب کو اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    twitter.com/ir_Pti
    @ir_Pti

  • میاں بیوی کا رشتہ  تحریر: امتیاز احمد سومرو

    میاں بیوی کا رشتہ تحریر: امتیاز احمد سومرو

    دنیا کا سب سے بڑا رشتہ میاں بیوی کا ہوتا ہے اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے جس کا مفہوم یہ ہے

    "اگر اللّٰہ تعالیٰ کے بعد کسی کو سجدے کی اجازت ہوتی تو وہ شوہر ہوتی کہ اس کی بیوی سجدہ کرے۔”

    میاں بیوی کی محبت اسلام ہمیں سیکھاتا ہے اور حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس محبت کا عملی ثبوت دیا۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور اماں عائشہ صدیقہ راضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جیسی محبت کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ایک بار پانی پی رہی تھیں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا عائشہ اپنے اس پانی سے تھوڑا سا پانی مجھے بھی بچا کے دینا ہے جب حضرت عائشہ صدیقہ نے اپنے حصے کا بچا ہوا پانی دیا تو حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ مجھے وہ جگہ بتائیں جہاں سے آپ نے اپنے ہونٹ لگائے ہیں۔سبحان اللّٰہ دیکھیں کیسی محبت ہے۔
    اسلام نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا پردہ کہا ہے۔ دنیا میں کامیاب انسان اگر دیکھے جائیں تو ان کی کامیابی میں ان کی بیوی کا ہاتھ ہو گا جو اس ہر مشکل حالات میں اس کے ساتھ کھڑی ہے۔ اور تاریخ بھری پڑی ہے جس میں کسی شخص کی ناکامی میں اس کی بیوی کا ہاتھ ہوگا۔شیطان روز کچہری لگاتا ہے اور اپنے چیلوں سے پوچھتا ہے کہ آج کیا کام ہے سب باری باری بتاتے ہیں کہ حضور آج جھوٹ بلوایا ہے کوئی کہتا ہے زنا کرایا کوئی کہتا ہے چوری کرائی ہے اس طرح سارے بتاتے ہیں آخر میں ایک چیلا رہ جاتا ہے وہ کہتا ہے حضور میں نے میاں بیوی کی لڑائی کرائی ہے۔تو شیطان فورا خوش سے تالیاں بجاتے ہوئے کہتا ہے اصل کام تو تو نے کیا ہے اور اس چیلے کو اپنے ساتھ بیٹھتا ہے۔ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ کتنا بڑا یہ رشتہ ہے۔ میاں بیوی کی لڑائی مطلب شیطان کی خوشی تو کیا ایک مومن کبھی چاہے گا کہ اس کے عمل سے شیطان خوش ہو؟؟
    آج کل مرد عورت کو غلام بنانا چاہتے ہیں اور عورتیں مرد کو۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے درمیان رشتہ کتنا بڑا ہے ان کی لڑائی نسلیں تباہ کر دیتی ہے۔کوئی یہ کوشش نہیں کر رہا کہ کیسے ہم اس رشتے کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ کمپرومائز کریں تو زندگی حسین بن سکتی ہے ۔ مرد عورت کو سمجھے اس کی تکلیف سمجھے عورت مرد کو سمجھے تو وہ ایک خوش حال زندگی گزار سکتے ہیں۔ اپنی لڑائی ایک بند کمرے میں لڑی جائے کسی تیسرے فریق کو خبر بھی نہیں ہونی چاہیے۔ ایک گھر کو خوش حال کرنے میں عورت کا کردار بہت اہم ہے۔مرد عورت کو خوش رکھیں اس کے لیے مرد کوشش کرے۔ عورت کو خوش کیسےرکھا جا سکتا ہے یہ طریقہ ہمیں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے بتایا ہے انہوں نے ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ ہے
    ” عورت مرد کی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اس لیے وہ پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر آپ طاقت سے اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو عورت ٹوٹ جائے گی اور اگر پیار سے آہستہ آہستہ سیدھا کرو گے تو سیدھی ہو جائے گی”

    بس میاں بیوی ایک دوسرے سے پیار کریں اپنے بچوں کو وقت دیں ان کی تربیت اچھی طرح کریں اور زندگی حسین بنائیں۔

    @Imtiazahmad_pti

  • ‏معاشرے میں اساتذہ کیوں اہم ہیں ؟   تحریر : مقبول حسین بھٹی

    ‏معاشرے میں اساتذہ کیوں اہم ہیں ؟ تحریر : مقبول حسین بھٹی

    اساتذہ ہمارے معاشرے کے سب سے اہم ممبر ہیں۔ وہ بچوں کو مقصد دیتے ہیں ، انہیں ہماری دنیا کے شہری کی حیثیت سے کامیابی کے لئے مرتب کرتے ہیں ، اور ان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ آج کے بچے کل کے قائد ہیں ، اور اساتذہ وہ نازک نکتہ ہیں جو کسی بچے کو اپنے مستقبل کے لئے تیار کرتا ہے۔ اساتذہ کیوں اہم ہیں؟
    بچے پوری زندگی میں جو کچھ انھیں سکھایا جاتا ہے وہ پوری زندگی میں وہی کرتے ہیں جو وہ سیکھتے ہیں ۔ وہ جو کچھ سیکھتے ہیں وہ معاشرے کو متاثر کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ سبھی جانتے ہیں کہ آج کا نوجوان کل کے قائد بن جائے گا ، اور اساتذہ کو ان کے سب سے زیادہ متاثر کن سالوں میں نوجوانوں کو تعلیم دینے کی سہولت ہے – چاہے وہ پری اسکول کی تعلیم ، غیر نصابی تعلیم ، کھیلوں یا روایتی کلاسوں کی تعلیم ہو ۔ اساتذہ یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ معاشرے کے لئے مستقبل کے رہنماؤں کی تشکیل کے لئے بہترین اور موثر مستقبل کی نسلوں کی تشکیل کریں اور اسی وجہ سے معاشرے کو مقامی اور عالمی سطح پر ڈیزائن کریں۔ حقیقت میں ، اساتذہ کا دنیا میں سب سے اہم کام ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو معاشرے کے بچوں پر اثر ڈالتے ہیں وہ زندگی کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ نہ صرف خود ان بچوں کے لئے ، بلکہ سب کی زندگیوں کے لئے ۔ عظیم اساتذہ کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے کہ وہ زندگی کو بہتر سے بہتر بناسکیں۔ اساتذہ امدادی نظام کی حیثیت سے کام کر سکتے ہیں جس میں طلبہ کی زندگیوں میں کہیں اور کمی نہیں ہے۔ وہ ایک رول ماڈل اور آگے بڑھنے اور بڑے خواب دیکھنے کے لئے ایک تحریک بن سکتے ہیں۔ وہ طلبا کو اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے لئے جوابدہ ٹھہراتے ہیں اور اچھے اساتذہ اپنے ہونہار طلبا کو اپنی پوری صلاحیتوں کے مطابق نہ رہنے دیتے ہیں۔ ہر شعبہ ہائے زندگی اور مضامین کے اساتذہ قابلیت کی تشکیل کرنے اور معاشرے ، زندگی اور ذاتی اہداف کے بارے میں نظریات کی تشکیل میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اساتذہ طلباء کی حدود کو بڑھا سکتے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیت کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ تعلیم دینا کا ایک مشکل کام ہے ، لیکن یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کسی اور شخص کی زندگی میں سب سے زیادہ اثر ڈال سکتے ہیں۔ اساتذہ طلبا کے لئے حتمی رول ماڈل ہیں۔ اس حقیقت کی حقیقت یہ ہے کہ طلباء اپنے تعلیمی کیریئر میں متعدد مختلف قسم کے اساتذہ کے ساتھ رابطے میں آجاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ امکان نہیں ، ایک ایسا استاد ہوگا جو ان سے بات کرے۔ اساتذہ طلباء کا ربط کچھ طلباء کے لئے انمول ہے ، جن میں دوسری صورت میں استحکام نہیں ہوسکتا ہے۔ اساتذہ اپنے طلبا کے لئے مثبت رہیں گے یہاں تک کہ چیزیں بھیانک محسوس ہوسکتی ہیں۔ ایک عظیم استاد ہمیشہ اپنے طلباء کے لئے ہمدردی ، اپنے طلباء کی ذاتی زندگی کو سمجھنے اور ان کے تعلیمی اہداف اور کامیابیوں کے لئے تعریف کرتا ہے۔ اساتذہ بچوں کے مثبت ہونے ، ہمیشہ زیادہ محنت کرنے اور ستاروں تک پہنچنے کے لئے رول ماڈل ہیں۔ علم اور تعلیم ہی ان تمام چیزوں کی اساس ہیں جو زندگی میں پوری ہوسکتی ہیں۔ اساتذہ آج کے نوجوانوں کو تعلیم کی طاقت فراہم کرتے ہیں ، جس سے انہیں بہتر مستقبل کا امکان مل جاتا ہے۔ اساتذہ کمپلیکس کو آسان بناتے ہیں ، اور خلاصہ تصورات کو طلباء تک قابل رسائی بناتے ہیں۔ اساتذہ بچوں کو ایسے آئیڈیاز اور عنوانات سے بھی روشناس کرتے ہیں جن سے وہ بصورت دیگر سیکھنے میں نہیں آئے تھے۔ وہ مفادات کو بڑھا سکتے ہیں اور اپنے طالب علموں کو بہتر کام کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ اساتذہ ناکامی کو قبول نہیں کرتے ہیں ، اور اسی وجہ سے طلباء کے کامیاب ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اساتذہ جانتے ہیں کہ طلبا کو کب دھکیلنا ہے ، کب صحیح سمت میں ہلکا ہلکا انداز دینا ہے اور کب طالب علموں کو خود ان کا پتہ لگانا ہے۔ لیکن وہ کسی طالب علم کو ہار نہیں ماننے دیں گے۔ اساتذہ ہر طرح کے طلباء کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اساتذہ ہر بچے کی طاقت اور کمزوریوں کو دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں اور مدد اور رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں تاکہ یا تو انھیں تیز رفتار سے بڑھایا جائے . یا اس سے زیادہ بلند کیا جاسکے۔ وہ طلبا کی بہترین صلاحیتوں کو ظاہر کرنے اور زندگی کی قیمتی صلاحیتوں جیسے مواصلات ، ہمدردی ، پیش کش ، تنظیم ، مندرجہ ذیل سمتوں اور مزید بہت کچھ سکھانے میں مدد کرتے ہیں۔ وہ تحریک الہامی اور محرک کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔ اساتذہ طلبا کو اچھے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں ، اور انہیں محنت سے کام کرنے اور اپنے تعلیمی اہداف کو راستے پر رکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ تعلیم کسی ملک کی ترقی کا ایک بنیادی پہلو ہے۔ اگر معاشرے کے نوجوان تعلیم یافتہ ہوں تو مستقبل پیدا ہوتا ہے۔ اساتذہ ایسی تعلیم مہیا کرتے ہیں جس سے معیار زندگی بہتر ہوتا ہے ، لہذا مجموعی طور پر افراد اور معاشرے دونوں میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ اساتذہ طلباء کی پیداوری اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں اور اس وجہ سے آئندہ کارکنوں کی جب طلبا کو تخلیقی اور نتیجہ خیز بنانے پر مجبور کیا جاتا ہے تو ، ان کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ وہ کاروباری ہوں اور تکنیکی ترقی کریں ، اور آخر کار یہ کسی ملک کی معاشی ترقی کا باعث بنیں۔

    Twitter handle :
    ‎@Maqbool_hussayn

  • بس خواب ہی یا جینا بھی ہے! تحریر:مریم صدیقہ

    بس خواب ہی یا جینا بھی ہے! تحریر:مریم صدیقہ

    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اگر آپ اپنی ساری زندگی ایک ہی معمول کے مطابق گزار دیں اور آپ ” آفس پلانکٹن” بن جائیں پھر کیا ہو گا؟ کیا آپ اپنی زندگی کو اس قدر بورنگ کر کے گزارنا چاہتے ہیں کہ تمام تر زندگی خواب اور محض خواب دیکھنے میں ہی گزر جائے؟ اگر نہیں! تو ابھی رک جائیں اور سوچیں کہ جو خواب آپ دیکھ رہے ہیں انہیں پورا کرنے کے لیے کیا بدلا جا سکتا ہے اور زندگی کو جینے کا اصل مزہ کیسے لے سکتے ہیں؟
    لیکن یہ بھی سچ ہے کہ زندگی میں ہم میں سے ہر شخص کم از کم ایک بار ضرور خوابوں کی دنیا میں کھو جاتا اور حقیقت سے کہیں بہت دور نکل جاتا ہے، ہم رات و رات سپر سٹارز بننے کا خواب کا دیکھنے لگتے ہیں اور سب کی توجہ کا مرکز بننے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔مگر ایسا صرف ہم اپنی سوچوں میں کررہے ہوتے ہیں کبھی سوچا کہ حقیقت میں اس کے لیے کیا کیا اب تک؟ بہت سے لوگ اب کہیں گے کہ خواب سچے ہوتے ہیں تو انہیں بتاتی چلوں خواب سچے ہوتے نہیں ہیں انہیں سچا بنانا پڑتا ہے، خواب پورے کرنے پڑتے ہیں، محنت کرنی پڑتی ہے۔ اور خواب تب سچے ہوتے ہیں جب آپ رکتے نہیں ہیں ، جب آپ ہار نہیں مانتے اور پوری لگن کے ساتھ ان کو حاصل کرنے کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ جب آپ خوابوں کو جینا شروع کرتے ہیں۔
    اب وقت ہے جینا شروع کریں!!
    اپنی زندگی میں تاخیر سے کام لینا بند کریں۔فلموں اور پریوں کی کہانیوں پہ یقین کرنا چھوڑ دیں ، ان میں کوئی سچائی نہیں ہوتی۔ یہ سب جھوٹ ہوتا ہے، ان میں یہ بھی جھوٹ ہے ہوتا ہے کہ آپ کو بس صبر سے کام لینا ہےاور انتظار کرنا ہے سب کچھ ایک دن خود بہ خود ٹھیک ہوجائے گا۔ ایسے کیسے ٹھیک ہو جائے گا جب آپ نے اس کے لیے کبھی کوشش کی ہی نہیں! اس وہم کو اپنے دل و دماغ سے نکال دیں کہ جب آپ پریکٹکل زندگی میں قدم رکھیں گے تو خود بہ خود ایک مشروط مقام تک پہنچ جائیں گےجس کے خواب بچپن سے اب تک دیکھتے آئے۔اسے افسانہ سمجھیں – ایک ہوریزون لائن کی طرح جسے منزل کے قریب پہنچنے پہ ہٹا دیا جاتا ہے۔یہ بس ایک پوائنٹ ہے۔ اور اس کے پیچھے سوائے خاموشی اور اندھیرے کے کچھ نہیں ہے اور جہاں رکنے سے بہت دیر ہو سکتی ہے۔ آگے بڑھیں اور منزل کو پا لیں!
    جیو! ابھی جیو! خود کو محسوس کرو ، اپنی گزری ہوئی زندگی پہ نظر ڈالو۔ لمبی لمبی سانس لہں اور وقت کی گردش کو محسوس کریں یا پھر اسے رکنے دیں، آپ پہ منحصر ہے۔ہر اس چیز کو رستے سے ہٹا دو جو آپ کو منزل کی طرف بڑھنے سے روک رہی ہے، اپنے لیے آسانیاں اور سکون کے رستے ہموار کریں۔ اپنے سمارٹ فونز میں سے دوسروں کی زندگیوں، ان کے حقائق اور خوابوں کو دیکھنا چھوڑیں، لوگ جیسے سوشل میڈیا پہ خود کو دیکھاتے وہ اصل زندگی میں ویسے نہیں ہوتے۔ اپنی زندگی بنایں ، کچھ ایسا کر جایں کہ دنیا آپ کا نام سرچ کرے آنے والے دنوں میں۔
    پرانی باتیں، نفرتیں، ناکامیابیاں سب بھول کر محسوس کریں کہ آپ ہیں ! آپ کے پاس کودآپ ہیں ۔ جی آپ! مکمل، بلکل مکمل اور جب آپ ہیں تو کسی اور کی ضرورت نہیں۔ یہ سوچ یقینا آپ کو آپ کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں کافی فائدہ مند ثابت ہو گی۔
    جان لیں کہ آپ اپنے خوابوں کے تخلیق کار ہیں۔یہ زندگی آپ کی ہے، اس میں ہر خوشی ، ہر دکھ ، ہر جیت اور ہر ہار کے آپ ذمہ دار ہیں۔ صرف آپ! اب یہ آپ کا کام ہے کہ سوچیں اب تک آپ کیا تھے اور آگے آپ کو کیا بننا ہے۔ سب کچھ آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے۔اپنے دل کی آواز سنیں اور چل پڑیں اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے۔سکون کا سانس لیں! پیار کریں! خوشیاں بانٹیں اور عمل کرنا شروع کریں۔جو بھی کرنا ہے یا زندگی میں جو بھی کچھ آپ کو چاہیے ابھی وقت ہے حاصل کر لیں، اسےمزید ملتوی نہ کریں۔
    آپ کے پاس ہر وہ چیز پہلے سے موجود ہے جس کی اپنے خوابوں کی تکمیل میں آپ کو ضرورت پڑ سکتی ہے۔خوش رہیں اور شکر گزار بنیں۔ آپ اندر سے کون ہیں اس سے خوفزدہ نہ ہوں۔ خودکو خودسے پوشیدہ نہ رکھیں۔اپنے ٹیلنٹ کو کھل کے سامنے آنے کا موقع دیں۔ اور اب جینا شروع کریں!

    @MS_14_1

  • آزاد کشمیر کی صحافت  تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    آزاد کشمیر کی صحافت تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    میری اپنی سمجھ کے مطابق صحافت قوموں کی آزادی و خودمختاری میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اور آزادی کے خیالات کو پھیلانے اور ان کی نشونما کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتی ہے مجھے اس کی تازہ ترین مثال بھارتی مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کے کردار سے دی جاسکتی ہے کے وہاں سے صحافیوں نے اندرونی اور عالمی سطح پر اس تحریک کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور پھر وہاں سے جو ایک اخبار کا غالبًا سیری نگر فلیش نکلتا ہے بقول ایک انگریز "ٹورسٹ” اس کو نکالنے والے کشمیری صحافی جن خطرناک حالات میں اسے نکالتے ہیں اس سے ان کی اپنی پیشہ اور قوم کے ساتھ جنون کی حد تک وابستگی کا پتا چلتا ہے یوں دیکھا جائے تو باقی مقبوضہ کشمیر میں الحاق ہندوستان کی قوتیں اپنا کردار صحیح طرح سے ادا کرنے میں ناکام رہی ہیں کیوں کہ وہاں سے موجود مسلح تحریک کے شروع ہونے سے پہلے 22 روزنامہ اور بیسیوں ہفت روزے اور ماہنامے نکلتے تھے لیکن آزاد کشمیر میں الحاق پاکستان کی قوتوں نے اپنا کردار اس بھرپور طریقے سے ادا کیا ہے کہ یہاں صحافت بیچاری کا جنم ہی نہیں ہوسکا بالکل معیست کی طرح خدا خدا کرکے ایک روزنامہ آزادی نکلا تھا سنا ہے کے وہ بھی نہ نکلنے کا پابند ہوگیا ہے۔جس طرح باقی میدانوں میں آزاد کشمیر پاکستان کے سرمایا کاروں کی منڈی ہے اس طرح صحافت کی منڈی پر بھی پاکستان کے سرمایہ کاروں کی آجارہ داری ہیں اور آزاد کشمیر کا کوئی اخبار "جنگ” اور "نوائے وقت” کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور یہ دونوں اخبار الحاق کی تحریک کو پاکستان کے حکمرانوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق آگے بڑھا رہے ہیں اور آزاد کشمیر کی حکومتیں بھی آج تک اس میں کامیاب رہی ہیں کے یہاں سے کوئی اخبار نہ نکلے جس کی وجہ سے اس خطے میں افراد میں صحافتی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں وہ پاکستان کے ان اخباروں کے علاقائ رپورٹروں اور تقسیم کاروں سے آگے نہیں بڑھ سکتے یوں کشمیر کے اس خطے کے اخبار بینوں کا سیاسی اور سماجی شعور براہ راست پاکستانی اخبارات اور ان کے ذریعے پاکستان کے حکمرانوں کی مٹھی میں رہتا ہے اور ان کے مفادات کے مطابق "پروان "چڑھتا ہے۔
    نام : ذیشان وحید بھٹی
    ٹویٹر آئ دی :
    @zeeshanwaheed43

  • لمحہ موجود میں جینا  تحریر:حُسنِ قدرت

    لمحہ موجود میں جینا تحریر:حُسنِ قدرت

    ایسے بہت سے لوگ مل جائیں گے جو ہر وقت ماضی کا رونا روتا رہتے ہیں کہ ماضی میں ہماری پاس یہ یہ راحتیں اور نعمتیں تھیں مگر اب نہیں ہیں یہ سوچ کر وہ بہت کڑھتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مستقبل کو سوچ کر خوفزدہ ہوتے ہیں انہیں مستقبل سے خدشات ہوتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ ہر نیا روز کوئی نئی آفت لے کر آئے گا لیکن یہ ایک انتہائی فضول رویہ ہے کیونکہ ماضی میں جو کچھ ہو چکا ہے وہ اچھا ہے یا برا اسے ہم چاہ کر بھی تبدیل نہیں کر سکتے لہذا کوئی بھی عقل مند انسان اپنے حال کو ماضی کا نوحہ کرکے ضائع نہیں کرے گا اور اسی طرح جو انسان اپنے مستقبل کو سوچ سوچ کر فکر مند ہوتا ہے وہ بھی اپنے حال سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ ان دونوں حالتوں میں مبتلا رہنا کسی بڑی بے وقوفی سے کم نہیں ان دونوں حالتوں میں انسان اپنے حال سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے
    حال وہ لمحہ ہے جو کہ زندگی میں سب سے اہم ہے دنیا کبھی بھی کسی انسان کے بارے میں یہ دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتی کہ اسکا ماضی کیا تھا یا مستقبل کیا ہوگا وہ صرف حال کو دیکھتی ہے
    جیسا کہ ایک ریٹائرڈ افسر لوگ جب اس سے ملیں گے اگر وہ ریٹائر ہونے کے بعد بہت سخت مزاج اور جھگڑالو ہو جائیں تو لوگ یہ نہیں دیکھیں گے کہ یہ کتنے بڑے عہدے سے ریٹائرڈ افسر ہیں اور نہ یہ دیکھیں گے کہ مسقبل میں انہوں نے کتنا بڑا بزنس کرنا ہے لوگ صرف اور صرف یہ دیکھیں گے کہ یہ ایک جھگڑالو انسان ہے
    ہمارے ماضی یا مسقبل کی کیفیت کسی بھی انسان کے لیے اہم نہیں ہوتی کوئی بھی شخص یا ادارہ کبھی بھی ہمارے حال کو نظر انداز کرکےمحظ ہمارے ماضی کو دیکھتے ہوئے ہمیں مدد یا حفاظت فراہم نہیں کرے گا چنانچہ یہ ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے حال پہ قابو پائیں اور لمحہ موجود میں جینا سیکھیں اپنے حال پہ قابو پا کر اور درست منصوبہ بندی کرکے نہ صرف ہم اپنے مستقبل کو بہترین بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی ماضی میں کی گئی کوتاہیوں کا مداوا بھی احسن طریقے سے کر سکتے ہیں
    اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان پہ توجہ دی جائے نہ کہ ماضی میں کی گئی غلطیوں کو بار بار دہرایا جائے اور ان پہ پشیمان ہوا جائے ہماری زندگی میں مختلف عوامل ہوتے ہیں اور لاتعداد پہلو اسلیے یہ ضروری نہیں کہ اپنی توجہ کو بس ایک ہی پہلو پہ موقوف کرلیا جائے ماضی سے صرف سیکھنے کا کام لیا جائے اس سے زیادہ ماضی کی اہمیت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اصل زندگی تو حال ہی ہے جو ہم آبھی وقت گزار رہےہیں یہ دن گزرنے کے بعد ہمارا ماضی بن جائے گا اور یہ لمحہ موجود ہم جسطرح سے گزاریں گے ویسا ہی ہمارا مستقبل ہوگا
    لمحہ موجود پہ یقین رکھنے والا شخص اپنی امیدوں اور کامیابیوں کو ان بے شمار چیزوں سے منسلک کرتا ہے جو اس کے لیے بہت زیادہ اہم ہوتی ہیں وہ اپنے ہر ایک لمحے کو بھرپور جیتا ہے کیونکہ جیسے یہ کہا جاتا ہے کہ ہر دن اک نئی زندگی ہے ویسے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر لمحہ ایک نئی زندگی ہے
    اسلیے حال پہ یقین رکھنے والا انسان بہت کم پریشان ہوتا ہے اور لمحہ موجود پہ یقین رکھتے ہوئے کامیابی کی راہیں طے کرتا جاتا ہے
    لمحہ موجود صرف خوشی ہے اور آپ لوگوں نے یہ سن رکھا ہوگا خوشی کی سمت کوئی راستہ نہیں جاتا کیونکہ خوشی خود ایک راستہ ہے
    لمحہ موجود پہ یقین رکھنے والے اور جینے والے اسے محسوس کرتے ہیں
    حُسنِ قدرت
    Twitter: @HusnHere

  • پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے تحریر: خالد اقبال عطاری

    پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے تحریر: خالد اقبال عطاری


    دنیا میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کے مضر اثرات پیدا ہو رہے ہیں جسکے روکنے اور سدباب کرنے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ ذیادہ سے ذیادہ شجر کاری کی جائے. کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک کی ٹوٹل آبادی کا 25 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے. جبکہ ہمارے پاکستان میں یہ 4 سے 5 فیصد ہے. بڑھتی ہوئی گرمی کو روکنے کیلئے بھی شجر کاری نہایت اہم ہے. اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا پروجیکٹ بلین ٹری سونامی بھی کافی زبردست رہا. جسے عالمی طور پر بھی سراہا گیا. ماحولیاتی تبدیلی کو دیکھتے ہوئے ایک مزہبی تنظیم دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس عطار قادری صاحب نے بھی پودے لگانا کا ذہن دیا. تو انکے ایک ذیلی ادارے عالمی تنظیم فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRF نے بھی ایک اگست کو پاکستان بھر میں 26 لاکھ پودے لگانے کا اعلان کیا ہے. جن کا نعرہ یہ ہے کہ پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے. پودے تو ہر کوئی لگا دیتا ہے لیکن اکثریت بعد میں اس کا دیہان نہیں رکھتی جسکے بنا پر وہ ضائع ہو جاتا ہے. فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRG کا ایک وسیع نیٹ ورک پاکستان کے تقریباً ہر شہر میں موجود ہے. فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن اتنی کوشش کر رہی ہے کہ سوشل میڈیا پر پاکستان کے ہر علاقے کے لحاظ سے بتا رہی ہے کہ کس علاقے میں کونسی قسم کا پودا موزوں رہے گا. پودا لگانا ثواب کا کام اور صدقہ جاریہ بھی ہے. جیسا کہ اس حدیث پاک سے ثابت ہو رہا ہے.
    ہما پیارے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نے ارشاد فرمایا :
    "درخت لگانا ایک ایسی نیکی ہے. جو بندے کی موت کے بعد بھی جاری رہتی ہے جبکہ وہ اپنی قبر میں ہوتا ہے” .
    تو ہمیں چاہیے کہ آئیں اور ایک اگست کو فیضان گلوبل ریلیف فاؤنڈیشن FGRG کے تحت ہونے والی شجرکاری میں ان کا ساتھ دیں جس سے ہمیں نیکیوں کا خزانہ بھی ہاتھ آئے گا اور ہمارے پیارے وطن پاکستان کو سر سبز و شاداب، خوبصورت اور ماحولیاتی آلودگی سے پاک کریں.

  • لفظوں کی حکومت تحریر : مدثر حسن

    لفظ، الفاظ ہمارے خیالات ،سوچ ضرورت کے اظہار کا ذریعہ ہیں ان کے ذریعے انسان دوسرے سے گفتگو کرتا ہے اور اپنی ضرورت کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے

    کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کے منہ سے ادا ہوئے لفظ بھی اپنی تائثر رکھتے ہیں اور یہ الفاظ ہی دوسرے انسان کے دل ودماغ پر حکومت کرتے ہیں

    اب آپ سوچیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے ؟
    جب ہم کسی سے اچھے الفاظ میں بات کرتے ہیں یا اس کے لیے اچھے اچھے الفاظ بولتے ہیں تو وہ اس انسان کو خوشی دیتے ہیں اسی طرح جب ہم برے یا کھردرے لفظ سے بات کرتے ہیں تو وہ انسان کو دکھی کر دیتے ہیں
    لفظ انسان کی پہچان کرواتے ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا پر جہاں ہم ایک دوسرے کو ذاتی طور پر نہیں جانتے لیکن ان کی وجہ سے ہم اپنے خاندان کا اپنی تربیت کا بتاتے ہیں
    آج کل کے لوگ بنا سوچے سمجھے کسی کو بھی کچھ کہہ دیتے ہیں یا سوچے بغیر کہ ان کے کہے الفاظ سے کسی کی شخصیت ،کسی کی زندگی ،کسی ک کیریئر ،کسی کا کردار مشکوک ہوسکتا ہے کہنے والا تو کہہ کر چلا جاتا ہے جو ان الفاظ کو اور ان کی وجہ سے بھگتاتا ہے یہ وہ جانتا ہے کہ اس پر کیا گزری ۔۔۔۔

    انسان کے الفاظ اس کی وہ طاقت ہیں جس سے وہ کسی کو بھی زندگی بخش سکتا ہے کوئی کتنا بھی دکھی کیوں نہ ہو آپ اس کو اچھے الفاظ میں تسلی دیں گے تو اس کی آدھی پریشانی وہیں ختم ہو جائے گی
    برے لفظ بہت کھردرے اور نوکدار ہوتے ہیں جو اگلے انسان کے دل و دماغ کی دنیا کو تہہ وبالا کر دیتے ہیں

    اگر آپ مالی طور پر اتنے مظبوط نہیں ہیں تو ذہنی طور پر اتنے مظبوط اور امیر ضرور ہوں کہ کسی کو اپنے بہترین الفاظ سے اس کی تکلیف کم کرسکیں
    آج کے اس دور میں جب سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور دکھی کرنے میں مصروف ہیں تو کوشش کریں آپ مسیحا بنیں جواپنے الفاظ سے دوسرے کی تکلیف پر مرہم رکھتاہے
    خوش کلامی زبان کا صدقہ ہے
    خوش کلامی انسان کو صراط مستقیم کی طرف لے جاتی ہے
    خوش کلامی انسان کی طاقت ہے
    خوش کلامی تقاضائے ایمان ہے
    اور بطور مسلمان ہمارا یقین ہونا چاہیے کہ

    "قیامت کے دن مومن کے نامہ اعمال میں خوش اخلاقی سے بڑھ کر کوئی چیز بھاری نہ ہوگی”

    (حدیث مبارکہ )

    @MudasirWrittes