انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے کبھی بھی کوئی بھی انسان بھوکا نہیں مرتا کیونکہ انسان کے رزق کا ذمہ اللہ تعالی نے خود لیا ہے انسان اپنا بچپن گزارا ہے اور اپنے پسندیدہ پکوان اور مشروبات استعمال کرتا ہے یہ سب اللہ تعالی کا دیا ہوا ایک تحفہ ہوتا ہے اور ہم انسان اس کی ناشکری کرتے ہیں لیکن وہ پھر بھی رحیم و کریم ہے اس نے کبھی بھی ہمارے رزق کو نہیں روکا، لیکن جب انسان کسی مقام پر پہنچتا ہے اپنے عروج پر پہنچتا ہے تو وہ نہ تو اپنے اردگرد والوں کا خیال رکھتا ہے آج اگر ہم اپنے ماضی کی طرف دیکھیں تو بہت سی ایسی شخصیات ملیں گی جنہوں نے بہت بڑے بڑے کارنامے کیے اور اکثر نے اپنی دنیاوی زندگی کو ہی اپنی کل زندگی سمجھ لیا لوگوں پر ظلم کیے لوگوں کو قتل کیا اور جب ان کی موت کا وقت آیا تم کو دو گز زمین بھی بہت مشکل سے نصیب ہوئی، آج کا انسان کیا ہے اگر دیکھا جائے تو آج کے دور میں سب اپنے آپ کو نواب سمجھتے ہیں اپنے سے غریب انسان کو اپنا غلام سمجھتے ہیں یہ صرف پیسے کی ہو ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں، کیونکہ اگر اللہ ان سے بھی دولت چھین لے تو وہ بھی دو وقت کے کھانے کو ترسیں گے جب انسان مرنے لگتا ہے تو نہ تو اسکا پیسا اسکے کام آتا ہے اور نہ ہی اسکی انا، آج ہم ایک دوسرے سے طاقت کی لڑائی لڑ رہے ہیں اگر دیکھا جائے تو ہم دنیا میں آئے کس لیے تھے نہ تو ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے آئے تھے اور نا ہی ایک دوسرے کی غلطی پر اپنے پاؤں پکڑوانے۔ ہم سانس اپنی مرضی سے لے نہیں سکتے پتہ نہیں پھر اشرف المخلوقات کس بات کا غرور کرتے ہیں اور وہ ایسے سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی حالانکہ یہ ان کا وہم ہے دنیا میں کئی لوگ آئے اور بہت سے چلے گئے دنیا نہیں رکھی دنیا کا نظام چلتا رہتا ہے۔ بہت سے بادشاہ آج زمین دوز ہیں اور نصیب ہوئی تو صرف دو گز زمین کی قبر، یہ انسان کی حیثیت ہے زندگی تو چل رہی ہے اور چلتی رہے گی اور ایک دن ختم ہو جائے گی لیکن قبر میں نہ تو دنیاوی مال و زر کام آئیں گے اور نہ ہی میرے عزیزو وقار تو کیوں نہ اپنی زندگی کو اصل مقصد کے لئے جیا جائے اپنی دنیاوی زندگی اللہ کو راضی کرنے میں لگائی جائے تاکہ جب کل کو انسان اللہ کے سامنے جائے تو وہ اپنی عبادات اللہ کے سامنے پیش کر سکے، یہ زندگی عارضی ہے اس نے گزر جانا ہے کیوں نہ ہو وہ کام کیا جائے جس میں دنیاوی زندگی میں بھی فائدہ ہو اور آخرت میں بھی فائدہ ہو اور اگر ہم کسی کی زندگی سے مثال لینا چاہیں تو حضور پاک کی زندگی سے لے سکتے ہیں کہ کیسے انہوں نے اپنی زندگی تقوی کے ساتھ گزار دی کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا لوگ ان پر کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے لیکن انہوں نے درگزر سے کام لیا بے شک ان جیسی مثال پوری دنیا میں نہیں ملے گی اور نہ ہی قیامت تک مل سکے گی، آج ہم نے ایک دوسرے پر تہمت لگاتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف چالیں چلتے ہیں جیسے ہمارا اپنی زندگی پر قابو ہے کاش کہ ہم سب کو مرنے سے پہلے یہ سمجھ آ جائے کہ انسان کی اصل حیثیت کیا ہے تو انسان یہ سب کام چھوڑ دے گا اور اللہ سے توبہ کرلے گا بے شک وہ رحیم و کریم ہے اور سب کو معاف کرنے والا ہے
Author: Baaghi TV
-

آزاد کشمیر کی سیاست تحریر: ذیشان وحید بھٹی
تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں دیگر شعبوں کی طرح سیاست پر بھی سامراج کے گماشتہ حکمرانوں کا قبضہ ہے جو اسے سامراج کے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاست کا مطلب لوٹ کھسوٹ اور غنڈہ گردی بن گیا ہے۔آزاد کشمیر چونکہ غلاموں کے غلاموں کا غلام ہے اس لیے یہاں صورتحال مزید پتلی ہے اور کسی سے بھی پوچھئے سیاست کا کیا مطلب ہے تو وہ کہے گا کہ ایمانی،جوڑ توڑ، جھوٹے قرآن اٹھانے،پیسے دے کر ووٹ خریدنے اور برادری ازم کو ہوا دینا۔ جس طرح تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں عالمی سامراجی اپنی معاشی قبضے کی بنیاد پر سیاست میں اس کے دوام کے لیے درکار بنیادوں کو پکا کرنے کے لیے مداخلت کرتے ہیں اسی طرح آزاد کشمیر کی سیاست میں پاکستان کے سیاست کار بھی اپنے اپنے مفادات کی خاطر مداخلت کرتے ہیں اسلامی بازو والے ہو یا عوامی بازو والے "آزاد کشمیر کی بات چلی تو سب ہی ایک ہوئے”کے مصداق کھل کر اور ڈٹ کر مداخلت کرتے ہیں اور الیکشن ہوجانے کے بعد اور عوام کی طرف سے اپنے” نمایندے” اور "خادم” چن لینے کے بعد اگر پاکستان میں حکومت بدل جائے جو مزاج یار کی طرح بدلنے میں دیر کم ہی لگاتی ہے تو آزاد کشمیر میں بھی مطلع ابر آلود ہو جاتا ہے اور ننھا منا دارالحکومت مسند کے اوپر بیٹھی ہوئی کٹھ پتلیوں اور نیچے بڑھتی ہوئی کٹھ پتلیوں کی "پجارووں” کی گرگراہٹ سے لرزنے لگتا ہے اور یہاں نام کی صاحبان اقتدار کو بورے بورے خیالات آنے لگتے ہیں اور ہول اٹھنے لگتا ہے کے ہو نہ ہو کہیں کوئی بات ہوئی ضرور ہے جو میرے تخت پر کپکپی طاری ہے۔
اس کے علاوہ سیاست کے میدان میں الحاق کی قوتوں نے کہیں زیادہ بڑی کامیابیاں حاصل کر رکھی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ الحاق کر بھی چکے ہیں تو بے جا نہ ہوگا انتخابات میں حصہ صرف وہی لے سکتا ہے جو الحاق کا وفادار ہو اور پھر جس طرح انتخابات ہوتے ہیں اور اس کے بعد پاکستان کے صدر یا وزیراعظم کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اس میں اور پاکستان کے صوبوں کی حکومتوں میں فرق صرف یہی ہوتا ہے کہ” کاغذوں میں "وہ صوبے ہیں اور یہ” آزاد” عملی طور پر جس طرح وہاں پاکستان کے مرکزی سیاست کاروں کی "ڈانگ سوٹی”کے بغیر حکومت بن یا رہ نہیں سکتی اسی طرح یہاں بھی جب تک اسلام آباد سے مولوی صاحب نہ آئیں اقتدار کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا اور اس کے بعد اسلام آباد سے مہاراجہ چائیں یہ منسوخ یا کالعدم بھی ہو جاتا ہے ۔
یوں دیکھا جائے تو سیاست کے میدان میں بھی الحاق کی تحریک میں نمایاں کارہاے نمایاں سر انجام دیے ہیں اور انتخابی اور حکومتی ڈھانچے کی نوعیت اور فطرت میں یہ صفت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے کے اوپر سے جو حکم آئے اس کا یعنی ہماری آزاد حکومت کے ڈھانچے کا انگ انگ پکار اٹھے "سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے”ٹویٹر آئ دی :
@zeeshanwaheed43 -

بچوں سے مزدوری کروانا تحریر : علی حیدر
ایک پسماندہ اور بے روزگاری کے شکار معاشرے میں کم سن بچے مزدوری کرتے ہوئے , ہوٹلوں پہ کام کرتے ہوئے یا اینٹیں ڈھوتے ہوئے عام دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کم سن بچوں کی بڑی تعداد تعلیم کو خیر باد کہہ کر یا تو محنت مزدوری کرنے پہ لگ جاتی ہے یا کوئی ہنر سیکھتے ہوئی دیکھائی دیتی ہے۔
اگرچہ ہمارے ملک میں بچوں سے مزدوری کروانا , ان سے جسمانی مشقت کا کام لینا جرم ہے اور مختلف ادوار میں اس کے لئیے قانون سازی بھی ہوتی رہی ہے لیکن یہ قانون رفتہ رفتہ بے اثر ہوتا گیا۔ چناچہ گلیوں میں بھیک مانگتے , انڈے , قہوہ اور برگر بیچتے , فیکٹریوں , ہوٹلوں اور اینٹوں کے بٹھوں میں کام کرتے معصوم بچے ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں جو کہ ہماری پسماندہ سوسائٹی کا ایک افسوسناک پہلو ہے۔بچپن بچے کے جسمانی خدوخال کی نشوونما اور ذہنی و نفسیاتی ارتقاء کا بنیادی مرحلہ ہوتا ہے جس کے لئیے سکول بہترین جگہ ہے۔ سکول بچوں کی شعوری سطح کو بلند کرنے کے لئیے ایک ایسا سازگار ماحول فراہم کرتا ہے جہاں وہ اپنے بہترین ہم عمروں کے ساتھ رہ کر آنے والے ذندگی کے لئیے خود کو تیار کر پاتے ہیں اور ان کی شعوری سطح بھی بلند ہوتی ہے۔لیکن سکول میں موجود بچوں کے مقابلے میں بچوں کی ذیادہ تعداد کا سکول کی بجائے مزدوری کرنے کے لئیے سکول سے باہر موجود ہونا اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ ہمارے معاشرے کا ڈھانچہ جن بنیادوں پہ استوار کھڑا ہے ان میں ضرور کوئی خامی ہے۔
بظاہر اس کی بنیادی وجہ بے روزگاری اور آبادی میں اضافہ ہیں لیکن حقائق کا بغور تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے عوامل آپس میں جڑے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ان گنت مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ان مسائل میں مہنگائی , شعور کی کمی , پرانی روایات , غربت , بے روزگاری , منشیات اور صحت کی عدم سہولیات وہ مسائل ہیں جن میں ایک مسئلہ کی وجہ بن رہا ہے۔
آبادی میں اضافہ بہت سے ماحولیاتی اور معاشرتی مسائل کو پیدا کرتا ہے کیونکہ آبادی میں اضافے سے ضروریات ذندگی بڑھ جاتی ہیں جن کو پورا کرنا خاندان کے اکیلے کمانے والے شخص کے بس میں نہیں رہتا۔
ہمارے معاشرے کا افسوسناک اور منفی پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کے اکثر افراد اپنی عورتوں کو ملازمت کی اجازت نہیں دیتے اگرچہ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہوں۔ چناچہ جب اکیلا مرد گھر کے اخراجات پورے نہیں کر پاتا تو وہ معصوم بچوں کی تعلیم چھڑوا کر ان کو کام پر لگا دیتا ہے۔
معاشرے میں بچوں کے مشقت اور مزدوری کرنے کے کلچر کو ختم کرنے کے لئیے پہلا اقدام عورت کے لئیے ملازمت کے مواقع فراہم کرتے ہوئے اس کے ملازمت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ خاوند کے ساتھ مل کر حصول معاش میں اس کا ہاتھ بٹا سکے اور وہ دونوں مل کر اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے ذیور سے آراستہ کر کے ایک باشعور اور تعلیم یافتہ نسل کی بنیاد رکھیں۔
بنیادی تعلیم حاصل کئیے بغیر ایک بچہ جب ایک خاندان کا سربراہ بنے گا تو وہ تب بھی مزدوری کر کے روزی کمائے گا ۔ یوں نہ صرف اس کی ساری ذندگی مزدوری میں گزر جائے گی بلکہ وہ خود بھی مستقبل میں اپنے بچوں کو تعلیم کے ذیور سے آراستہ کرنے کی بجائے ان کو مزدوری پہ لگا دے گا ۔ اس طرح ایک خاندان ایک ایسی نسل کو جنم دے گا جس کا کوئی بھی فرد پڑھا لکھا اور معاشی طور پہ خوشحال نہیں ہو گا۔
معاشرے میں پھیلتے ہوئے جرائم , منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ اور محرومی و احساس کمتری کے شکار افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی کسی حد تک اسی وجہ سے ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ذیور سے آراستہ کرنے کی بجائے ان کو بچپن سے ہی جسمانی مشقت پہ لگا دیا جاتا ہے جہاں سے وہ متششدد بن کر جرائم کی راہ اپناتے ہیں یا منشیات کے عادی ہو کر ذندگی کی ذمے داریوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بچے کی جسمانی مشقت کے ساتھ گھر کی معشیت کو وقتی طور پہ ذرا سا کاندھا تو میسر آ جاتا ہے لیکن اس کے نتائج دیر پا ہوتے ہیں جو نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔بچوں سے مزدوری کروانے کے کلچر کا بنیادی اور مؤثر حل یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کے لئیے اقدامات اٹھائے جائیں
بچوں کی جسمانی مشقت اور مزدوری کرنے کے خلاف قانون سازی عمل میں آنی چاہئیے ۔ اس مقصد کے لئیے وہ فیکٹری , ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان جو بچوں کو ملازمت کرنے کے لئیے اپنے پاس جگہ دیتے ہیں ان کے خلاف کاروئی عمل میں لائی جائے۔
مرد کے ساتھ ساتھ نہ صرف عورت کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے بلکہ عورت کے ملازمت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ مرد کے ساتھ شانہ بشانہ مل کر گھر کی معشیت کا بوجھ ہلکا کر سکے۔
معاشرے کے صاحب حیثیت افراد کو چاہئیے کہ وہ غریب خاندانوں کی کفالت کا ذمہ لیں اور ان کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کریں کیونکہ اکثر لوگ اپنے بچوں کو اس لئیے سکول نہیں بھیجتے کیونکہ وہ بچوں کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔@alihaiderrr5
-

میری باتیں تحریر: سمیرا راجپوت
یہ بات تو سب نے ہی سنی ہوگی کہ جس کے پاس جو ہوگا وہ اپنے معیار کے مطابق اپکو وہی دے گا ۔۔۔یہ بات بلکل درست ہے اور میں اس پر یقین بھی رکھتی ہوں کیونکہ تجربات ہی کچھ ایسے ہیں ۔۔
ہم زندگی میں ہر کسی چیز کا گلا کر رہے ہوتے ہیں لوگوں کے برے رویوں کا، لوگوں کے دہرے معیار کا، اور ہر قسم کی بد عنوانی کا مگر ہم سوائے خود کے دوسروں کو جج کرنے پر ترجیح دیتے ہیں مگر ایسا کرنا نا تو ہمارے لیے ٹھیک ہے اور نا ہی معاشرے کے لیے جو کام ہم اپنے لیے منتخب کرتے ہیں پھر کسی دوسرے کو اسی کام پر غلط ٹہرایا جانا ایک جہالت ہے اسی طرح بہت سے لوگ دین کے بارے میں دوسرے لوگوں کو تلقین کرتے دیکھائی دیتے ہیں مگر خود کا عمل نا ہونے کے برابر ہوتا ہے اس وجہ سے پھر وہ تنقید کا نشانہ بنتے ہیں ہمیں دوسروں کی جو باتیں نا پسند ہیں پہلے ہمیں خود کے اندر سے انہیں ختم کرنا ہوگا اسکے بعد ہم معاشرے کو سنوار سکتے ہیں ۔۔۔ہمیشہ خوش رہنا سیکھ لیں کیونکہ آپ کے اداس رہنے سے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر لوگوں کے درمیان خوشیاں بانٹنے سے انکے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے سے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔۔
زندگی کا ایک اصول اپنا لیں کہ کبھی کسی کا برا نا چاہے اور نا ہی برا سوچیں یقین کریں اس پاک پروردگار کی ذات اپکو اس قدر نوازیں گی کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے انسانیت کا بھلا چاہنا ایک ایسی نیکی ہے جس کا اجر آپ کو دنیا میں ہی مل جائے گا ۔ بلکل اسی طرح خاموشی بھی انسان کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے اور ایک خاموشی ہی تو ہوتی ہے جسکا کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ورنہ اس جہاں میں تو ہر الفاظ کے سو مطلب نکلتے ہیں خاموش رہنے سے آپ کئی غلطیوں سے بچ سکتے ہیں کیونکہ الفاظوں کا منہ سے نکلنا ایسا ہے جیسے گویا کمان سے تیر کا نکلنا جیسے کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں جاتا ،جیسے گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا اسی طرح منہ سے نکلی ہوئی بات کبھی واپس نہیں جاسکتی اگر کبھی ہمارے منہ سے برے الفاظ ادا ہوئے ہوں تو اسکے سنگین نتائج آپکی زندگی میں مرکب ہوتے رہتے ہیں پھر کئی مشکلات کا سامنہ ہوتا ہے ۔۔
اچھی کتابی باتیں صرف کتاب تک نا رکھیں اسے عملی طور پر اپنی زندگی میں شامل کر کے دیکھیے زندگی کتنی حسین ،خوش و خرم نظر آئے گی میرا ایک تجربہ ہے اگر انسان درگزر کرنا سیکھ لے وہ بہت بڑا فائٹر بن جاتا ہر طرح کے حالات کا سامنہ کرنے والا بہادر فائٹر
مخلصی اپنائے مگر ایک حد تک حد سے زیادہ مخلصی بھی آپکی دشمن بن سکتی ہے مخلصی ایک کوالٹی سے ایک کمزروی بننے میں وقت نہیں لگاتی لہذا اپنے آپ کو پہچانیے اور اپنی زندگی اور لوگوں سے محبت کیجے ۔۔
شکریہ
-

گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی پاکستانی سیاست تحریر: سید لعل حسین بُخاری
پاکستانی سیاست گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کے لئے مشہور ہے۔حالانکہ یہ دنیا کے کچھ اور ممالک میں بھی ہوتا ہے۔مگر جس طرح کی بے اصولی اور مفادات ہماری سیاست میں نظر آتے ہیں۔وہ شائد ہی کہیں اور ہوں۔
ان بے اصولیوں کا تاریخی مظاہرہ کرنے والی ،دہائیوں سے ایک دوسرے کی حریف سمجھی جانے والی ن لیگ اور پیپلز پارٹی سر فہرست ہیں۔
وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ یہ اندر سے ایک ہیں،انہوں نے لوٹ مار کے لئے باریاں مقرر کر رکھی تھیں۔
مل بانٹ کے کھانا ان کی سیاست کا بنیادی اصول تھا۔
ایک دوسرے کو غدار کہا گیا،
ایک دوسرے کی خواتین کی عزتوں کو سر بازار رسوا کیا گیا۔
مگر جب اپنے مفادات کو بچانے کی نوبت آئ تو ایک دوسرے کے حق میں نعرے بلند کر دئیے گئے۔مزاروں پر جا کر سجدہ ریز ہو کر منافقت کو شرمندہ کیا گیا۔
جب ایک دوسرے سے مفادات ٹکراۓ تو پھر سے ایک دوسرے کے لتے لینے شروع کر دئیے گئے۔
ان سب لڑائیوں کے دوران اس وقت سب سے زیادہ دلچسپ معرکہ مسلم لیگ کے اندر -ن اور ش -میں چل رہا ہے
یہ کشمکش چچا اور بھتیجی کے مختلف نظریات کی نفسیاتی جنگ ہے-
شہباز شریف نواز شریف کے ریاست مخالف بیانیے سے ہینڈز اپ کر چکے ہیں،مگر ن لیگ پر ابھی تک نواز شریف کی مضبوط گرفت کی وجہ سے وہ وقتی طور پر نواز شریف اور مریم کی کھل کر مخالفت نہیں کر پا رہے،تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی عبرتناک شکست سے اتنا پی ٹی آئ والے خوش نہیں،جتنا شہباز شریف کیمپ ۔
پاکستانی سیاست میں ن لیگ کے گھر کی اس لڑائ میں فضل الرحمن کو کون بھول سکتا ہے۔
جو اپنے مفادات کی خاطر شائد بی جے پی سے بھی اتحاد کرنے کو تیار ہو جاۓ۔
آجکل انہیں کہیں سے بھی گھاس نہیں ڈالی جا رہی،جس کی وجہ سے وہ دم سادھے ہوۓ ہیں۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایکبار پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ضرور ہیں،مگر ان دو جماعتوں کی منافقت بھری تاریخ کو دیکھتے ہوۓ کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ یہ کب تک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں گے اور کب کسی میثاق کی آڑ میں باہم شیر وشکر ہوجائیں گے۔
ان لوگوں کی مطلب پرستیوں اور سیاسی قلابازیوں سے عام آدمی سیاست سے اس قدر متنفر ہو چکا ہے کہ اب تو صدارتی نظام کی بازگشت سُنائ دینا شروع ہو چکی ہے-
اس دو پارٹی سیاسی نظام کی تباہ کاریوں کے سامنے بند باندھنے کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔
اگر ہماری سیاست میں عمران خان کی انٹری نہ ہوتی تو پتہ نہیں کب تک عوام ان دو پارٹیوں کی لوٹ مار کا شکار رہتے۔
آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی شکست اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ لوگ اب ان کی مکاریوں کو سمجھنا شروع ہو چکے ہیں۔
لوگ ان کے جھوٹے بیانیوں کے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں۔
پہلے ان کا ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ مسترد ہوا اب دھاندلی کا واویلہ بھی لوگوں کو متاثر نہیں کر پا رہا۔
عوام کو پتہ چل چکا ہے کہ ان کے ہر بیانیے کے پیچھے ریاست دشمنی چھپی ہوتی ہے۔
ان آخری دو بڑی شکستوں کے بعد پارٹی کے اندر سے مریم صفدر کے بیانیے کو مسترد کیا جانا خاص اہمیت کا حامل ہے
مریم نے آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کی شکست کو دھاندلی سے تعبیر کیا تو مصدق ملک،نوشین افتخار اور محمد زبیر نے مریم کے دعوے کی نفی کرتے ہوۓ کہا کہ دھاندلی نہیں ہوی بلکہ انہوں نے تو پی ٹی آئ کو سیالکوٹ کی جیت پر مبارکباد بھی دے ڈالی۔
اب آہستہ آہستہ
مریم کیمپ کے صحافی بھی مریم کے خود ساختہ بیانیوں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں
جس کی تازہ ترین مثال سلیم صافی کا نواز شریف کی حمد اللہ محب سے ملاقات کو غلط قرار دینا ہے
سلیم صافی نے کہا کہ حمداللہ نے کسی ایک شخص یا ایک ادارے کو گالی نہیں دی بلکہ ریاست پاکستان کو گالی دی،لہذا نواز شریف کو ایسے شخص سے نہیں ملنا چاہیے تھا۔
موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوۓ کہا جا سکتا ہے کہ ن لیگ کے ان بیانیوں کی تدفین سے پی ٹی آئ کا الیکشن 2023 جیتنا آسان ہو گیا ہے بشرطیکہ پی ٹی آئ عوام سے اپنا میثاق کرتے ہوۓ انکی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ان کو کچھ ضروری سہولیات دے سکے،جن میں سر فہرست مہنگائ کے خلاف جنگی بنیادوں پر برسر پیکار ہونا ہے #@lalbukhari
-

کٹھ پُتلی تحریر : افشین
ایسا کھلونا جسکو انگلیوں پہ نچوایا جائے انسان بھی کٹھ پتلی بنتا جارہا ہے سوشل میڈیا کی دنیا پہ اس کا رحجان بڑھتا جارہا ہے نوجوان نسل کا لگاو سوشل میڈیا کی طرف زیادہ ہے سوشل میڈیا پہ تعلقات بنائے جاتے ہیں پر ہر کوئ اپنے مفادات کے مطابق انکا استعمال کرتا ہے
جیسے اپنی زندگی کا رموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں دے دینا جیسے لڑکیاں لڑکے جب آپس میں تعلقات گہرے بنا لیتے ہیں پر وہ جیسے چاہتے ہیں کرتے ہیں اکثر لڑکے/ لڑکیاں کسی کو محبت میں مبتلا کر کے اس سے ناجائز کام کرواتے ہیں اور پر ایک دوسرے کی زندگی خراب کر دیتے ہیں کسی کو اپنی ذاتی معلومات فراہم نا کریں اور رشتوں کے تقدس کو بھی خراب کرنے سے گریز کریں کاروباری دنیا میں بھی کہیں لوگ کٹھ پتلی کی طرح کام سر انجام دے رہے ہوتے ہیں کیوں بنتے ہے ہم کٹھ پُتلی ؟؟؟ کیوں اپنی زندگی کے فیصلے دوسروں پہ چھوڑ دیتے ہیں ؟؟ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے مفادات کا ذریعہ کیوں بناتا ہے ؟؟ دوسروں کو نقصان دے کے اللہ پاک کے انصاف سے بچ پاو گے ؟دوسروں کے دل دُکھانے سے بس خاک ہی پاو گے اللہ پاک کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے اور نا کسی کے آگے جُھکنا چاہئے ہمیشہ اللّه سے مدد مانگے نا کہ انسانوں کے آگے جُھکے اور سوشل میڈیا پہ ناجائز تعلقات سے گریز کریں تاکہ کوئ اپکا استعمال نا کر پائے سوشل میڈیا پہ نا تو کوئ بھائ ہوتا ہے نا کوئ دوست اور پیار یہاں صرف رشتوں کا استعمال ہوتا ہے بہت کم لوگ اچھے تعلقات استوار کرتے ہیں کٹھ پُتلی نا بنے اچھے انسان بنے کسی کی ظاہری مورت لازم نہیں حقیقی ہو چہروں میں چھپے بھید کون جانے فقط خدا جانے۔دوسروں کے لیے کٹھ پُتلی نا بنے اپنی راہ خود چُھنے اپنے فیصلوں کے خود مختار بنے انسان کو اللہ پاک خودمختار پیدا کیا ہے راہ منتخب کرنا ہمارا اپنا فیصلہ ہوتا ہے آج کے دور میں دوسروں کی ہاں میں ہاں ملائ جاتی ہے تاکہ ہم ان سے اپنا کام نکلوا سکے خوشامد کی جاتی ہے لیکن پر کیا ہوتا ہے پر اپ کو بھی کٹھ پُتلی کی طرح نچایا جاتا ہے جیسے ایک عہدے دار جیسے ایک پولیس والا پیسے کی خاطر اکثر جاگیرداروں کے اگے ڈُگڈُگی پہ ناچ رہا ہوتا ہے یہ بات میں ان لوگوں کی کی ہے جو ضمیر فروش ہوتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے اگر اس معاشرہ میں ڈُگڈُگی ناچ نا ہو تو معاشرہ سے بہت سے مسائل خود ہی حل ہوجائے جب پیسے پہ فیصلے ہونے لگے تو انصاف کا اختتام ہے خودمختاری خدا پاک کی ذات دی ہےلہذا نا ضمیر فروش بنے نا کٹھ پُتلی.
اگر اپ صرف دوسروں کے اشاروں پہ چلیں گے تو آپ کی زندگی گویا اپنی نا ہوئ کسی کی جاگیر ہوئ ۔ اگر گھریلو مسائل کی طرف رخ کیا جائے تواکثر گھروں میں بھی کچھ شوہر بیوی کے لیے کٹھ پُتلی بنا ہوا ہوتا ہے جیسے کہتی ہے ویسے ہی فیصلے بنا سوچے سمجھے کر دیتا ہے بعض اوقات اپنے خاص رشتوں ماں باپ کو چھوڑ دیتا ہے یا تو رشتے کھو دیتا ہے یا پھر مال و متاع خالی جیب ہو جاتا ہے اسلئے عقل کے ناخن لے کٹھ پُتلی بننے کے بجائے انسان بنے تاکہ نا خود کو نقصان ہو نا اپکی وجہ سے دوسروں کو۔
@Hu__rt7 -

وقت، سب سے بڑی عدالت . تحریر:عامر سہیل
جب انصاف کا معیار غریب کے لیے الگ اور امیر کے لیے الگ ہو جائے ۔ غریب مجبور اور بے بس کے ساتھ انصاف کے تقاضے اور سلوک جب انصاف پر مبنی نہ رہیں بلکہ دولت اور تعلقات کے پلڑے میں تولے ہوئے فیصلے ہوں تو بے بس غریب لاچار لوگ اللہ کی مقرر کردہ وقت کی عدالت میں اپیل دائر کرتے ہیں ۔ وقت کی عدالت میں وکیل کے فرائض وہ بددعائیں ہوتی ہیں جو بے بس اور مجبور لوگوں کے دلوں سے آنسوؤں کے ساتھ نکلتی ہیں ۔ پھر اللہ کے حکم سے وقت کی عدالت سے فیصلہ جاری ہوتا ہے ۔ وہ فیصلہ اپنے مقررہ وقت پہ جاری ہوتا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ اللہ جو فیصلہ وقت کی عدالت کے ذریعے کرتا ہے اس وقت کی عدالت کے فیصلے خلاف اپیل نہیں نہیں کی جا سکتی.
وہ فیصلہ کیسا ہوتا ہے ؟
جب ظالم ، سفاک لوگ کسی غریب کی جائیداد پہ طاقت کے بل بوتے پہ قبضہ کر لیتے ہیں اور عدالت سے فیصلہ اپنے حق میں خرید لیتے ہیں
جب ظالم امیر لوگ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے ناجائز منافع کی صورت میں غریب کی جیب پہ ڈاکہ ڈالتے ہیں۔
جب بیوروکریٹ رشوت اور کک بیکس سے ناجائز دولت جمع کر لیتے ہیں
جب سیاستدان اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دولت جمع کر لیتے ہیں
جب کوئی سفاک کسی معصوم کے ساتھ درندگی کر کے اسے قتل کردیتا ہے
جب غریب رشتے داروں کا حق مار لیا جاتا ہے
جب بے گناہ قتل کیا جاتا ہےاس طرح کے ہزاروں واقعات کے گواہ ہونے کے باوجود انصاف بک جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے وقت فیصلے کرتا ہے
ظالم اور سفاک لوگوں کے پاس دولت کے انبار ہوتے ہیں لیکن اس میں سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ بیماری ایسی لگ جاتی ہے کہ زندگی صرف بستر تک رہ جاتی ہے ۔ ایک لباس ایک کمبل ایک تکیہ نہ جوتے کی ضرورت نہ استری شدہ کپڑوں کی ضرورت، نہ گاڑیوں بنگلوں کی ضرورت۔ایسا عذاب کہ جس کا علاج ممکن نہیں ہوتا
الماریاں کپڑوں سے بھری ہوتی ہیں لیکن کپڑے پہن نہیں سکتے کہ جسم پہ خارش شروع ہوجاتی ہے ۔ یا جسم اکڑا ہوا ہوتا ہے کہ حرکت نہیں کر سکتا۔مخمل کے کروڑوں روپے کے نرم نرم بستر ہوتے ہیں لیکن سو نہیں سکتے ۔ نیند کی گولیاں کھاتے ہیں پھر بھی نیند نہیں آتی ۔ بے چینی ایسی رہتی ہے کہ سکون برباد ہو جاتا ہے ۔
ہزاروں طرح کی ڈشیں ڈائننگ ٹیبل پہ ہوتی ہیں لیکن کھا نہیں سکتے
ہر ماہ خون نکلوانا پڑتا ہے کہ بلڈ پریشر نہ بڑھ جائے اور موت واقع نہ ہو جائے
کپڑوں میں پاخانہ نکل جاتا ہے لیکن باتھ روم جانے کی سکت نہیں ہوتی ۔ کسی کے محتاج ہو جاتے ہیں کہ گندگی کو کوئی صاف کرے ۔
ہزاروں جوتوں کے جوڑے ہوتے ہیں لیکن شوگر سے پاؤں پھول چکے ہوتے ہیں کہ جوتے پہن نہیں سکتے بولنا چاہتے ہیں لیکن فالج زدہ زبان سے آواز نہیں نکلتی اولاد معذور پیدا ہوتی ہے جس کو دیکھ کے ساری زندگی تڑپتے رہتے ہیں لیکن علاج نہیں ملتا۔
گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ایسی حرکت کرتا ہے کہ معاشرے میں سر جھک جاتے ہیں۔ اپنا گھر بار چھوڑ کے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ عزت خاک میں مل جاتی ہے۔ سب کچھ ہوتا ہے لیکن گلی کے کتے بھی سلام نہیں کرتے موت آتی ہے تو کوئی لاش کو دفنانے والا نہیں ملتا
بیماری ایسی آتی ہے کہ تڑپ تڑپ کے روز مرتے ہیں۔ موت کی دعائیں مانگتے ہیں لیکن موت نہیں آتی۔بے شک اللہ کی لاٹھی بہت بے آواز ہے۔ جس ظالم پہ پڑ جائے اسے عبرت کا نشان بنا دیتی ہے۔
وقت کی عدالت کا انصاف بہت بے رحم ہوتا ہے ۔۔ اپیل کی گنجائش نہیں ہوتی.@iAmir29
-

نفرت کا جواب محبت سے . تحریر : تاج ولی خان
افغانستان حکومت جو آج کل پاکستان کے خلاف نفرت اور پروپیگنڈے پھیلانے اوربےبنیاد الزامات لگانے میں مصروف رہا ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ نفرت کا جواب محبت سے دیا ہے کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا اور امن کیلئے اپنے خدمات سرانجام دے رہا ہے۔
چند روز پہلے افغان فوجیوں نے پاکستان سے چترال کے اندو سیکٹر پرپناہ کیلئے 26 جولائی کو درخواست کی تھی کیونکہ وہ اپنے بارڈر پر کنٹرول رکھنے کی طاقت کھو گئے تھے جس پر پاکستان نے ہمدردی دیکھاتے ہوئے ضروری ضابطہ کی کارروائی کے بعد افغان فوجیوں کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔ پاکستان میں پناہ لینے والے فوجیوں میں پانچ افسراوں سمیت 46 افغان فوجی شامل تھے۔ پاکستان نے ان فوجیوں کا استقبال کیا اور ان کی خوب مہمان نوازی کی جبکہ افغانستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے اس بات سے انکار کیا گیا کہ ہمارے فوجیوں نے آج تک کسی بھی ملک میں پناہ لی ہے اور پاکستان میں تو بلکل نہیں۔ اس بات سے یہ بات ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان جو ہمیشہ امن کیلئے کوشا رہتا ہے لیکن افغانستان پاکستان سے نفرت کرنے سے بعض نہیں رہتا۔افغان وزیر خارجہ کی بیان کے بعد پاکستان کی طرف سے افغان فوجیوں اور ان کی مہمان نوازی کی ویڈیو اور تصاویر جاری کردی گئے جس نے افغانستان کے بیانیے کو پورے دنیا کے سامنے بےنقاب کردیا اور یہ ثابت کردیا کہ پاکستان امن کیلئے کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا
پاکستان نے ان پانچ افسروں سمیت 46 افغان فوجی 26 جولائی کو باجوڑ کے راستے افغان حکام کے حوالے کردیے اور صرف یہی نہٰں اس سے پہلے 35 افغان فوجی یکم جولائی کو واپس بھیجے گئے تھے، جنہوں نے پاکستان سے محفوظ راستے کی درخواست کی تھی۔
اس کے بعد بدھ کے دن پاکستان نے پناہ لینے والے مزید پانچ افغان فوجی افغانستان حکام کے حوالے کردیے جو پاکستان کا افغانستان میں امن کیلئے کوشش کرنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے پاک افغان بارڈر پر محفوظ راستے کے لیے پناہ حاصل کرنے والے مزید پانچ افغان فوجیوں کو باجوڑ میں نوا پاس کے مقام پر پانچ بج کر 45 منٹ پر افغان حکام کے حوالے کیا گیا۔صرف یہی نہیں اس سے پہلے افغانستان کا پاکستان میں سفیر کی بیٹی کی اغواء کے معاملے کو اگر دیکھا جائے تو اس میں بھی افغانستان کا پاکستان پر بےبنیاد الزامات لگانا اور بغیر کسی تحقیقات کے اپنے سفیر کو واپس بلانا سب اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان پاکستان سے نفرت کی انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ افغان حکومت بھارت سے اتنا متاثر ہے کہ جو حکم نئی دہلی سے کابل آتی ہے کابل اس کو اسطرح مانتا ہے جیسے افغان اسمبلی میں کوئی نئا قانون منظور ہوگیا ہو اسلئے پاکستان سے نفرت کی یہی حال ہے۔ بھارت اب تک افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا آرہا ہے اب جب افغانستان میں افغان طالبان نے قبضہ کرنا شروع کردیا ہے تو یہ سب لوگ ڈر گئے ہیں کہ پاکستان کو کس طرح نقصان پہنچائیں گے اور کسطرح پاکستان کو اپنے قابو میں رکھیں گے جس کیلئے راء اور این ڈی ایس نے دن رات ایک کردی ہیں۔ اسلئے راء ایسے کام کررہے ہیں جس سے پاکستان بدنام ہوجائے اور افغان امن عمل کو ناکام ہوجائے۔ افغان سفیر کی بیٹی کی اغواء کا قصہ بھی بھارتی ایجنسی راء کا کام تھا۔ تحقیقات کی بعد یہ بات سامنے آئی تھی کی افغان سفیر کی بیٹی اغواء ہوئی ہی نہیں تھی اس سب ڈرامے کا مقصد پاکستان میں افغان امن عمل کیلئے ہونے والے کانفرنس کو روکنا۔
افغان حکومت بھارت کی ہاتھوں کی کٹھ پتھلی بن چکی ہے جو ہر وہ کام کررہی ہے جو بھارت پاکستان کے خلاف کرنا چاہتا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک ہفتہ پہلے بھارت کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے گری لیسٹ میں رکھنا مودی حکومت کی کامیابی ہے جس کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان کو فیٹف کے گری لیسٹ میں رکھا گیا ہے۔ جس سے اگر ایک طرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کچھ بھی کرسکتا ہے جس سے پاکستان عالمی دنیا میں بدنام ہوجائے تو دوسرے طرف یہ کہ فیٹف ایک خودمختار ادارہ نہیں ہے۔ پاکستان کو غیر مخفوظ ثابت کرنے کیلئے راء نے اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کی اغوا کا ڈرامہ رچایا۔
کچھ دن پہلے افغانستان کے حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف یہی پروپیگنڈا کیا گیا تھا کہ پاکستانی عوام نے چمن میں افغان طالبان کا سپین بولدک پاک افغان بارڈر قبضہ کرنے کی خوشی میں ریلی نکالی تھی جو ایک بےبنیا اور منگھڑت الزام تھا تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ وہ لوگ پاکستانی نہیں تھے بلکہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین تھے جو افغان طالبان سے محبت کرتے ہیں اور طالبان کو سپورٹ کرنے کیلئے کوئٹہ کے علاقے میں ریلی نکالی تھی۔@WaliKhan_TK
-

پاکستان اللّٰہ کا احسان . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی
دنیائے تاریخ میں دو ریاستیں ایسی ہیں جو نظرئیے کی بنیاد پر بنی ہے۔ پہلا مدینہ طیبہ اور دوسرا مدینہ ثانی یعنی پاکستان۔ مدینہِ طیبہ اور پاکستان میں ایک دلچسپ ربط ہے جو لوگ لغت سے شغف رکھتے ہیں وہ لغت اٹھا کے دیکھیں مدینہ طیبہ عربی زبان کا لفظ ہے جسکی معنی ہے مدینہ یعنی شہر یا رہنے کی جگہ جبکہ طیبہ صاف کو کہتے ہیں یعنی کہ صاف رہنے کی جگہ۔ اب آجائے پاکستان پہ تو پاکستان فارسی زبان کا لفظ ہے جسکی معنی ہے پاک یعنی صاف اور ستان یعنی رہنے کی جگہ۔ اب پاکستان کو اگر عربی میں لکھا جائے تو لکھا جائیگا مدینہ طیبہ، اگر مدینہ طیبہ کو فارسی میں لکھا جائے تو لکھا جائیگا پاکستان۔
پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔ اور پاکستان کلمۂ طیبہ کے نعرے اور نظریہِ اسلام کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا ہے۔
قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ "ہمیں محض رہنے کیلئے ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ چاہیے جہاں ہم اسلامی قوانین کو پرکھ سکےاور اپنے پیغمبرﷺ کی سنت پر عمل کرسکے”۔
میری خواہش ہے کہ بالعموم ہر پاکستانی اور بالخصوص ہر نوجوان کو دو غیر معمولی وجود یعنی قائد و اقبال اور ایک غیر معمولی تخلیق یعنی پاکستان کے بارے میں پتہ ہو۔پاکستان ایک معمولی تخلیق نہیں ہے۔ قدرت کے اشاروں کوسمجھئے اللّٰہﷻ کے ہمارے اوپر بیش بہا احسانات ہے۔ جسمیں سےایک احسانِ عظیم یہ ہے کہ ہم بغیر کسی محنت، بغیر کسی حجت اور بغیر کسی خوبی کے امتِ محمدیؐ میں پیدا ہوئے۔ دوسرا احسانِ عظیم یہ کیا کہ ہمیں سرزمینِ پاکستان میں پیدا فرمایا۔ دوسری بات سے شاید بہت سے لوگ اختلاف بھی کرے کہ پاکستان میں پیدا ہونا احسان کیسے ہوسکتا ہے کہ یہاں تو بہت سی پریشانیاں ہیں، بدامنی ہے، بے روزگاری ہے، مہنگائی ہے، بھوک ہے، ننگ ہے ناانصافی ہے
جسکی خاطر سارے دُکھ جھیلیں
تو پھر بھی پاکستان گھر تو آخر اپنا ہےپاکستان 14 اگست 1947 کو بنا جو کہ نزولِ قرآن 27ویں رمضان کی رات تھی۔ شبِ قدر کو پاکستان کابننا محض اتفاق نہیں بلکہ انتخاب تھا۔
اسلامی دنیا میں ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز بھی پاکستان کو حاصل ہے۔ یہ بھی محض ُحسنِ اتفاق نہیں ہے- یاد کریں وہ دن جب پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے چاغی کا پہاڑ پاکستان میں لال ہوا تو فلسطین میں لوگوں نے اسرائیل کوللکار کر کہا تھا کہ اب ہمارے اوپر ظلم نہیں کرنا اب ہم ایٹمی طاقت ہے۔ دُنیا میں سات ممالک کے پاس ایٹمی طاقت ہے جس میں سے 6 غیر مسلم ممالک ہیں جبکہ مسلم ممالک میں واحد پاکستان ہے جو کہ ایٹمی طاقت ہے۔ یعنی مسلمان ایٹمی طاقت ہونے سے ہمیں امت کی سرداری کاشرف بھی اللّٰہ نے بخشا۔
قُرآنِ مجید فِرقانِ حمید کے سورۃ الرحمٰن میں جتنے بھی باغات و میوہ جات کا ذکر ہے تو گویا کہ سورۃ الرحمٰن کی تفسیر ہے پاکستان۔ایک روایت کے مطابق: اللہﷻ کے رسولِ مقبولﷺ نے مختلف مقامات کے بارے میں پیشنگوئیاں کی عرب کیطرف اشارہ کیا کہ یہاں سے مجھے منافقت کی بدبُو آرہی ہے پھر ایک طرف اشارہ کیا جسمیں پاکستان اور افغانستان شامل ہے کہ یہاں سے مُجھے خوشبوں آرہی ہے جبکہ دوسری روایت کے مطابق فرمایا تھا کہ یہاں سے مُجھے ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہے گویا کہ پیغمبرِ خداﷺ کا پیغام اور خوشخبری ہے پاکستان۔
پاکستان اتنا بڑا معجزہ ہے جیسا کہ صالحؑ کی اونٹنی ایک معجزہ تھی۔ اس قوم نے اس احسان کی ناقدری کی تو صفحۂ ہستی سے مٹ گئے جبکہ ہم اس تحفے کی بے توقیری کرکے دنیا میں ذلیل ورسوا ہورہے ہیں۔
ماں کے بارے میں ہم گالی نہیں سُن سکتے کیونکہ اس نے بچپن میں سینے سے دودھ پلایا ہوتا ہے اور جوانی تک سارے مصائب اور غم اُٹھائے ہوتے ہیں لیکن ماں مرنے کے بعد کچھ بھی نہیں کرسکتی اور نہ ہی اُس کا اِتنا طاقت و قُدرت ہوتا ہے۔ اِسی طرح دھرتی بھی ماں ہوتی ہے۔یہی دھرتی ماں ہمیں ساری زندگی اپنے سینے سے اناج کھلاتی ہے وطن وہ ماں ہے جو مرنے کے بعد اپنی آغوش میں دو گز زمین بھی دے دیتی ہے۔
پاکستان کی عزت کیجئے اور عزت کروائیے۔ بے ضمیر لوگ کہتے ہیں وطن نے کیا دیا ہمیں جبکہ باضمیر اور غیور لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے وطن کو کیا دیا۔ میں ایک قدم آگے بڑھ کر بڑے ادب سے کہتا ہوں کہ ہم کیا دے سکتے ہیں وطن کو۔
پاکستان کو ہم اگر کچھ دینا چاہتے ہیں تومیری التجاء ہے کہ وہ مرد جن کے ذمے اپنے اپنے خاندان کی کفالت کرنا ہے کم از کم اپنے شعبوں میں دیانتداری سے کام کریں اس یقین کیساتھ کہ ایک بے ایمان بندہ کم ہوجائے اور وہ بہنیں جو کہ مائیں بنی ہے یا بنے گی وہ ایک احسان کرے کہ ایک اچھی نسل دے اس قوم کو۔ اس قوم و ملت کو ضرورت ہے ایسے نسل کی جو اس ملک کو وہ مقام دلائے جس کیلئے یہ وجود میں آیا ہے۔کھڑے تھے ہم بھی تقدیر کے دروازے پر
لوگ دولت پہ گرے ہم نے وطن مانگ لیامیں مشکور ہوں ربّ ذوالجلال کا کہ پاکستان میرے نام کا بھی حصہ ہے، میری ذات کا بھی حصہ ہے اور میری جان کا بھی حصہ ہے۔ پاکستان سے مُجھے عشق ہے۔ یہ میری لیلیٰ اور میں اسکا مجنون ہوں۔ پاکستان کا محبت میری رگ رگ میں بسا ہے۔
پاکستان ہمیشہ قائم و دائم سلامت و آباد رہے۔
خوش رہیں خود بھی اور خوش رکھیں اپنے ساتھ منسلک لوگوں کو۔ اپنا اور اپنے دیس کا خیال رکھیں۔
پاکستان زندہ باد@IjazPakistani
-

مرد محافظ ہے تحریر: سحر عارف
آج تک ہمارے معاشرے میں صرف عورتوں کے حقوق سے لے کر ان کی معاشرے میں اہمیت، ان کی آزادی کے لیے اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لیے آواز اٹھتی رہی ہےاور ایسے میں عورتوں کو پیش آنے والے ان تمام مسائل کی وجہ مردوں کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔
کہیں نا کہیں یہ بات بھی بلکل درست ہے کہ زیادہ تر مرد ہی عورتوں کی آزادی کے خلاف، ان کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ذمہ دار ہیں ہیں۔ پر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جیسے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح تمام مرد ایک سے نہیں ہوتے۔ جہاں کچھ مرد عورت ذات کے لیے پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور ان کو تشدد اور اپنی حوس کا نشانہ بنانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں وہیں بہت سے مرد عورت ذات کی عزت کرنا بھی باخوبی جانتے ہیں۔ یہی چیز اگر ہم اپنے گھروں میں دیکھیں تو ہمارے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان مردوں سے ہٹ کر بھی گھر سے باہر ایسے مرد بھی موجود ہوتے ہیں جو راہ چلتی عورتوں سے نظریں جھکا ہر چلتے ہیں۔
پر افسوس کا عالم یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ صرف چند ایسے مردوں کی وجہ سے جو عورت ذات کو درپیش مسائل کی وجہ بنتے ہیں باقی کے تمام مردوں کو بھی انہیں جیسا سمجھتے ہے۔ اگر غور کریں تو اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب ہم صرف غلط کو دیکھنے اور دیکھانے پر زور رکھتے ہیں تو پھر ہمارے اردگرد سب غلط ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔
ٹھیک اسی طرح معاشرے میں چند بھیڑیوں کی وجہ سے ہم مرد ذات کو ہی برا کہنا شروع کردیں تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ جو مرد عزت کے قابل ہو اسے عزت ضرور ملنی چاہیےنا کہ باقی غلط راہ پہ چلنے والے مردوں کی طرح ان سے سلوک کیا جائے۔ "مرد” لفظ ہی اپنے اندر بےتحاشا مٹھاس سموئے ہوئے ہے۔ اس لفظ کو سنتے ہی اپنے اردگرد حفاظت کی دیوار کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ہمارے محرم مرد ہمارے اصل سائبان ہیں۔ جو خود مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ہماری حفاظت کرتے ہیں اور اپنے ہونے کا ایک خوبصورت احساس دلاتے ہیں۔
ہماری خوشیوں کی خاطر ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ مرد اہے کتنا ہی غریب اور کمزور کیوں نا ہوپر وہ اپنی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر اپنے سے جڑے لوگوں کی خواہشات پوری کرنے کا حوصلہ اور جذبہ رکھتا ہے۔ دن سے رات تک چاہے شدید سردی ہو یا گرمی سخت محنت کر کے اپنا گھر چلاتا ہے۔ بےشک ایسے مرد سراہے جانے کے قابل ہیں۔
آج کے دور کی عورت مرد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ ضرور رکھتی ہے پر کچھ معاملات میں وہ کبھی مرد کا مقابلہ نہیں کرسکتی کیونکہ ہنر اللّٰہ نے صرف مرد ذات کو ہی دیا ہے۔ اللّٰہ مے مرد کے جسم میں اتنی طاقت دی ہے کہ وہ اس طاقت کا استعمال کرکے عورت کو معاشرے میں پلنے والے گندے بھیڑیوں سے بچا کر اسے تحفظ کی گھنی چھاؤں میں بیٹھا سکتا ہے۔ عورت مرد کی طرح م،دوری نہیں کرسکتی، اپنے سے، زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتی پر اس کے برعکس مرد اپنا اور اپنے سے جڑے لوگوں کا پیٹ پالنے کی خاطر مزدوری کرسکتا ہے۔ وہ اپنے سے کئی کئی گنا زیادہ وزن اٹھا سکتا ہے اور پھر بھی کسی سے شکوہ نہیں کرتا۔ مرد تکلیف میں ہونے کے باوجود رو نہیں سکتا کیونکہ ہمارا معاشرہ انھیں رونے کا حق نہیں دیتا۔ بس اپنے اندر ہی اندر اپنا غم اور تکلیف جذب کرلیتا ہے۔ پھر میں یہ کسیے نا کہوں کے مرد اللّٰہ کی بہت ہی خوبصورت تخلیق ہے۔ جو عورت کی ہی طرح محبت، اعتبار اور عزت کا حقدار ہے۔
@SeharSulehri
