Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • میری باتیں تحریر: سمیرا راجپوت

    میری باتیں تحریر: سمیرا راجپوت

    یہ بات تو سب نے ہی سنی ہوگی کہ جس کے پاس جو ہوگا وہ اپنے معیار کے مطابق اپکو وہی دے گا ۔۔۔یہ بات بلکل درست ہے اور میں اس پر یقین بھی رکھتی ہوں کیونکہ تجربات ہی کچھ ایسے ہیں ۔۔
    ہم زندگی میں ہر کسی چیز کا گلا کر رہے ہوتے ہیں لوگوں کے برے رویوں کا، لوگوں کے دہرے معیار کا، اور ہر قسم کی بد عنوانی کا مگر ہم سوائے خود کے دوسروں کو جج کرنے پر ترجیح دیتے ہیں مگر ایسا کرنا نا تو ہمارے لیے ٹھیک ہے اور نا ہی معاشرے کے لیے جو کام ہم اپنے لیے منتخب کرتے ہیں پھر کسی دوسرے کو اسی کام پر غلط ٹہرایا جانا ایک جہالت ہے اسی طرح بہت سے لوگ دین کے بارے میں دوسرے لوگوں کو تلقین کرتے دیکھائی دیتے ہیں مگر خود کا عمل نا ہونے کے برابر ہوتا ہے اس وجہ سے پھر وہ تنقید کا نشانہ بنتے ہیں ہمیں دوسروں کی جو باتیں نا پسند ہیں پہلے ہمیں خود کے اندر سے انہیں ختم کرنا ہوگا اسکے بعد ہم معاشرے کو سنوار سکتے ہیں ۔۔۔

    ہمیشہ خوش رہنا سیکھ لیں کیونکہ آپ کے اداس رہنے سے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر لوگوں کے درمیان خوشیاں بانٹنے سے انکے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے سے روحانی سکون حاصل ہوتا ہے ۔۔

    زندگی کا ایک اصول اپنا لیں کہ کبھی کسی کا برا نا چاہے اور نا ہی برا سوچیں یقین کریں اس پاک پروردگار کی ذات اپکو اس قدر نوازیں گی کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے انسانیت کا بھلا چاہنا ایک ایسی نیکی ہے جس کا اجر آپ کو دنیا میں ہی مل جائے گا ۔ بلکل اسی طرح خاموشی بھی انسان کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے اور ایک خاموشی ہی تو ہوتی ہے جسکا کا کوئی مطلب نہیں ہوتا ورنہ اس جہاں میں تو ہر الفاظ کے سو مطلب نکلتے ہیں خاموش رہنے سے آپ کئی غلطیوں سے بچ سکتے ہیں کیونکہ الفاظوں کا منہ سے نکلنا ایسا ہے جیسے گویا کمان سے تیر کا نکلنا جیسے کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں جاتا ،جیسے گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا اسی طرح منہ سے نکلی ہوئی بات کبھی واپس نہیں جاسکتی اگر کبھی ہمارے منہ سے برے الفاظ ادا ہوئے ہوں تو اسکے سنگین نتائج آپکی زندگی میں مرکب ہوتے رہتے ہیں پھر کئی مشکلات کا سامنہ ہوتا ہے ۔۔

    اچھی کتابی باتیں صرف کتاب تک نا رکھیں اسے عملی طور پر اپنی زندگی میں شامل کر کے دیکھیے زندگی کتنی حسین ،خوش و خرم نظر آئے گی میرا ایک تجربہ ہے اگر انسان درگزر کرنا سیکھ لے وہ بہت بڑا فائٹر بن جاتا ہر طرح کے حالات کا سامنہ کرنے والا بہادر فائٹر

    مخلصی اپنائے مگر ایک حد تک حد سے زیادہ مخلصی بھی آپکی دشمن بن سکتی ہے مخلصی ایک کوالٹی سے ایک کمزروی بننے میں وقت نہیں لگاتی لہذا اپنے آپ کو پہچانیے اور اپنی زندگی اور لوگوں سے محبت کیجے ۔۔

    شکریہ

  • گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی پاکستانی سیاست  تحریر: سید لعل حسین بُخاری

    گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی پاکستانی سیاست تحریر: سید لعل حسین بُخاری

    پاکستانی سیاست گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کے لئے مشہور ہے۔حالانکہ یہ دنیا کے کچھ اور ممالک میں بھی ہوتا ہے۔مگر جس طرح کی بے اصولی اور مفادات ہماری سیاست میں نظر آتے ہیں۔وہ شائد ہی کہیں اور ہوں۔
    ان بے اصولیوں کا تاریخی مظاہرہ کرنے والی ،دہائیوں سے ایک دوسرے کی حریف سمجھی جانے والی ن لیگ اور پیپلز پارٹی سر فہرست ہیں۔
    وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ یہ اندر سے ایک ہیں،انہوں نے لوٹ مار کے لئے باریاں مقرر کر رکھی تھیں۔
    مل بانٹ کے کھانا ان کی سیاست کا بنیادی اصول تھا۔
    ایک دوسرے کو غدار کہا گیا،
    ایک دوسرے کی خواتین کی عزتوں کو سر بازار رسوا کیا گیا۔
    مگر جب اپنے مفادات کو بچانے کی نوبت آئ تو ایک دوسرے کے حق میں نعرے بلند کر دئیے گئے۔مزاروں پر جا کر سجدہ ریز ہو کر منافقت کو شرمندہ کیا گیا۔
    جب ایک دوسرے سے مفادات ٹکراۓ تو پھر سے ایک دوسرے کے لتے لینے شروع کر دئیے گئے۔
    ان سب لڑائیوں کے دوران اس وقت سب سے زیادہ دلچسپ معرکہ مسلم لیگ کے اندر -ن اور ش -میں چل رہا ہے
    یہ کشمکش چچا اور بھتیجی کے مختلف نظریات کی نفسیاتی جنگ ہے-
    شہباز شریف نواز شریف کے ریاست مخالف بیانیے سے ہینڈز اپ کر چکے ہیں،مگر ن لیگ پر ابھی تک نواز شریف کی مضبوط گرفت کی وجہ سے وہ وقتی طور پر نواز شریف اور مریم کی کھل کر مخالفت نہیں کر پا رہے،تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی عبرتناک شکست سے اتنا پی ٹی آئ والے خوش نہیں،جتنا شہباز شریف کیمپ ۔
    پاکستانی سیاست میں ن لیگ کے گھر کی اس لڑائ میں فضل الرحمن کو کون بھول سکتا ہے۔
    جو اپنے مفادات کی خاطر شائد بی جے پی سے بھی اتحاد کرنے کو تیار ہو جاۓ۔
    آجکل انہیں کہیں سے بھی گھاس نہیں ڈالی جا رہی،جس کی وجہ سے وہ دم سادھے ہوۓ ہیں۔
    ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایکبار پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ضرور ہیں،مگر ان دو جماعتوں کی منافقت بھری تاریخ کو دیکھتے ہوۓ کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ یہ کب تک ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں گے اور کب کسی میثاق کی آڑ میں باہم شیر وشکر ہوجائیں گے۔
    ان لوگوں کی مطلب پرستیوں اور سیاسی قلابازیوں سے عام آدمی سیاست سے اس قدر متنفر ہو چکا ہے کہ اب تو صدارتی نظام کی بازگشت سُنائ دینا شروع ہو چکی ہے-
    اس دو پارٹی سیاسی نظام کی تباہ کاریوں کے سامنے بند باندھنے کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔
    اگر ہماری سیاست میں عمران خان کی انٹری نہ ہوتی تو پتہ نہیں کب تک عوام ان دو پارٹیوں کی لوٹ مار کا شکار رہتے۔
    آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں ن لیگ کی شکست اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ لوگ اب ان کی مکاریوں کو سمجھنا شروع ہو چکے ہیں۔
    لوگ ان کے جھوٹے بیانیوں کے جھانسے میں آنے کو تیار نہیں۔
    پہلے ان کا ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ مسترد ہوا اب دھاندلی کا واویلہ بھی لوگوں کو متاثر نہیں کر پا رہا۔
    عوام کو پتہ چل چکا ہے کہ ان کے ہر بیانیے کے پیچھے ریاست دشمنی چھپی ہوتی ہے۔
    ان آخری دو بڑی شکستوں کے بعد پارٹی کے اندر سے مریم صفدر کے بیانیے کو مسترد کیا جانا خاص اہمیت کا حامل ہے
    مریم نے آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کی شکست کو دھاندلی سے تعبیر کیا تو مصدق ملک،نوشین افتخار اور محمد زبیر نے مریم کے دعوے کی نفی کرتے ہوۓ کہا کہ دھاندلی نہیں ہوی بلکہ انہوں نے تو پی ٹی آئ کو سیالکوٹ کی جیت پر مبارکباد بھی دے ڈالی۔
    اب آہستہ آہستہ
    مریم کیمپ کے صحافی بھی مریم کے خود ساختہ بیانیوں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں
    جس کی تازہ ترین مثال سلیم صافی کا نواز شریف کی حمد اللہ محب سے ملاقات کو غلط قرار دینا ہے
    سلیم صافی نے کہا کہ حمداللہ نے کسی ایک شخص یا ایک ادارے کو گالی نہیں دی بلکہ ریاست پاکستان کو گالی دی،لہذا نواز شریف کو ایسے شخص سے نہیں ملنا چاہیے تھا۔
    موجودہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوۓ کہا جا سکتا ہے کہ ن لیگ کے ان بیانیوں کی تدفین سے پی ٹی آئ کا الیکشن 2023 جیتنا آسان ہو گیا ہے بشرطیکہ پی ٹی آئ عوام سے اپنا میثاق کرتے ہوۓ انکی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوۓ ان کو کچھ ضروری سہولیات دے سکے،جن میں سر فہرست مہنگائ کے خلاف جنگی بنیادوں پر برسر پیکار ہونا ہے #

    @lalbukhari

  • کٹھ پُتلی  تحریر : افشین

    کٹھ پُتلی تحریر : افشین

    ایسا کھلونا جسکو انگلیوں پہ نچوایا جائے انسان بھی کٹھ پتلی بنتا جارہا ہے سوشل میڈیا کی دنیا پہ اس کا رحجان بڑھتا جارہا ہے نوجوان نسل کا لگاو سوشل میڈیا کی طرف زیادہ ہے سوشل میڈیا پہ تعلقات بنائے جاتے ہیں پر ہر کوئ اپنے مفادات کے مطابق انکا استعمال کرتا ہے
    جیسے اپنی زندگی کا رموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں دے دینا جیسے لڑکیاں لڑکے جب آپس میں تعلقات گہرے بنا لیتے ہیں پر وہ جیسے چاہتے ہیں کرتے ہیں اکثر لڑکے/ لڑکیاں کسی کو محبت میں مبتلا کر کے اس سے ناجائز کام کرواتے ہیں اور پر ایک دوسرے کی زندگی خراب کر دیتے ہیں کسی کو اپنی ذاتی معلومات فراہم نا کریں اور رشتوں کے تقدس کو بھی خراب کرنے سے گریز کریں کاروباری دنیا میں بھی کہیں لوگ کٹھ پتلی کی طرح کام سر انجام دے رہے ہوتے ہیں کیوں بنتے ہے ہم کٹھ پُتلی ؟؟؟ کیوں اپنی زندگی کے فیصلے دوسروں پہ چھوڑ دیتے ہیں ؟؟ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے مفادات کا ذریعہ کیوں بناتا ہے ؟؟ دوسروں کو نقصان دے کے اللہ پاک کے انصاف سے بچ پاو گے ؟دوسروں کے دل دُکھانے سے بس خاک ہی پاو گے اللہ پاک کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے اور نا کسی کے آگے جُھکنا چاہئے ہمیشہ اللّه سے مدد مانگے نا کہ انسانوں کے آگے جُھکے اور سوشل میڈیا پہ ناجائز تعلقات سے گریز کریں تاکہ کوئ اپکا استعمال نا کر پائے سوشل میڈیا پہ نا تو کوئ بھائ ہوتا ہے نا کوئ دوست اور پیار یہاں صرف رشتوں کا استعمال ہوتا ہے بہت کم لوگ اچھے تعلقات استوار کرتے ہیں کٹھ پُتلی نا بنے اچھے انسان بنے کسی کی ظاہری مورت لازم نہیں حقیقی ہو چہروں میں چھپے بھید کون جانے فقط خدا جانے۔

    دوسروں کے لیے کٹھ پُتلی نا بنے اپنی راہ خود چُھنے اپنے فیصلوں کے خود مختار بنے انسان کو اللہ پاک خودمختار پیدا کیا ہے راہ منتخب کرنا ہمارا اپنا فیصلہ ہوتا ہے آج کے دور میں دوسروں کی ہاں میں ہاں ملائ جاتی ہے تاکہ ہم ان سے اپنا کام نکلوا سکے خوشامد کی جاتی ہے لیکن پر کیا ہوتا ہے پر اپ کو بھی کٹھ پُتلی کی طرح نچایا جاتا ہے جیسے ایک عہدے دار جیسے ایک پولیس والا پیسے کی خاطر اکثر جاگیرداروں کے اگے ڈُگڈُگی پہ ناچ رہا ہوتا ہے یہ بات میں ان لوگوں کی کی ہے جو ضمیر فروش ہوتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے اگر اس معاشرہ میں ڈُگڈُگی ناچ نا ہو تو معاشرہ سے بہت سے مسائل خود ہی حل ہوجائے جب پیسے پہ فیصلے ہونے لگے تو انصاف کا اختتام ہے خودمختاری خدا پاک کی ذات دی ہےلہذا نا ضمیر فروش بنے نا کٹھ پُتلی.
    اگر اپ صرف دوسروں کے اشاروں پہ چلیں گے تو آپ کی زندگی گویا اپنی نا ہوئ کسی کی جاگیر ہوئ ۔ اگر گھریلو مسائل کی طرف رخ کیا جائے تواکثر گھروں میں بھی کچھ شوہر بیوی کے لیے کٹھ پُتلی بنا ہوا ہوتا ہے جیسے کہتی ہے ویسے ہی فیصلے بنا سوچے سمجھے کر دیتا ہے بعض اوقات اپنے خاص رشتوں ماں باپ کو چھوڑ دیتا ہے یا تو رشتے کھو دیتا ہے یا پھر مال و متاع خالی جیب ہو جاتا ہے اسلئے عقل کے ناخن لے کٹھ پُتلی بننے کے بجائے انسان بنے تاکہ نا خود کو نقصان ہو نا اپکی وجہ سے دوسروں کو۔
    @Hu__rt7

  • ‏وقت، سب سے بڑی عدالت . تحریر:عامر سہیل

    ‏وقت، سب سے بڑی عدالت . تحریر:عامر سہیل

    جب انصاف کا معیار غریب کے لیے الگ اور امیر کے لیے الگ ہو جائے ۔ غریب مجبور اور بے بس کے ساتھ انصاف کے تقاضے اور سلوک جب انصاف پر مبنی نہ رہیں بلکہ دولت اور تعلقات کے پلڑے میں تولے ہوئے فیصلے ہوں تو بے بس غریب لاچار لوگ اللہ کی مقرر کردہ وقت کی عدالت میں اپیل دائر کرتے ہیں ۔ وقت کی عدالت میں وکیل کے فرائض وہ بددعائیں ہوتی ہیں جو بے بس اور مجبور لوگوں کے دلوں سے آنسوؤں کے ساتھ نکلتی ہیں ۔ پھر اللہ کے حکم سے وقت کی عدالت سے فیصلہ جاری ہوتا ہے ۔ وہ فیصلہ اپنے مقررہ وقت پہ جاری ہوتا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ اللہ جو فیصلہ وقت کی عدالت کے ذریعے کرتا ہے اس وقت کی عدالت کے فیصلے خلاف اپیل نہیں نہیں کی جا سکتی.

    وہ فیصلہ کیسا ہوتا ہے ؟
    جب ظالم ، سفاک لوگ کسی غریب کی جائیداد پہ طاقت کے بل بوتے پہ قبضہ کر لیتے ہیں اور عدالت سے فیصلہ اپنے حق میں خرید لیتے ہیں
    جب ظالم امیر لوگ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے ناجائز منافع کی صورت میں غریب کی جیب پہ ڈاکہ ڈالتے ہیں۔
    جب بیوروکریٹ رشوت اور کک بیکس سے ناجائز دولت جمع کر لیتے ہیں
    جب سیاستدان اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دولت جمع کر لیتے ہیں
    جب کوئی سفاک کسی معصوم کے ساتھ درندگی کر کے اسے قتل کردیتا ہے
    جب غریب رشتے داروں کا حق مار لیا جاتا ہے
    جب بے گناہ قتل کیا جاتا ہے

    اس طرح کے ہزاروں واقعات کے گواہ ہونے کے باوجود انصاف بک جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے وقت فیصلے کرتا ہے
    ظالم اور سفاک لوگوں کے پاس دولت کے انبار ہوتے ہیں لیکن اس میں سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ بیماری ایسی لگ جاتی ہے کہ زندگی صرف بستر تک رہ جاتی ہے ۔ ایک لباس ایک کمبل ایک تکیہ نہ جوتے کی ضرورت نہ استری شدہ کپڑوں کی ضرورت، نہ گاڑیوں بنگلوں کی ضرورت۔ایسا عذاب کہ جس کا علاج ممکن نہیں ہوتا
    الماریاں کپڑوں سے بھری ہوتی ہیں لیکن کپڑے پہن نہیں سکتے کہ جسم پہ خارش شروع ہوجاتی ہے ۔ یا جسم اکڑا ہوا ہوتا ہے کہ حرکت نہیں کر سکتا۔

    مخمل کے کروڑوں روپے کے نرم نرم بستر ہوتے ہیں لیکن سو نہیں سکتے ۔ نیند کی گولیاں کھاتے ہیں پھر بھی نیند نہیں آتی ۔ بے چینی ایسی رہتی ہے کہ سکون برباد ہو جاتا ہے ۔
    ہزاروں طرح کی ڈشیں ڈائننگ ٹیبل پہ ہوتی ہیں لیکن کھا نہیں سکتے
    ہر ماہ خون نکلوانا پڑتا ہے کہ بلڈ پریشر نہ بڑھ جائے اور موت واقع نہ ہو جائے
    کپڑوں میں پاخانہ نکل جاتا ہے لیکن باتھ روم جانے کی سکت نہیں ہوتی ۔ کسی کے محتاج ہو جاتے ہیں کہ گندگی کو کوئی صاف کرے ۔
    ہزاروں جوتوں کے جوڑے ہوتے ہیں لیکن شوگر سے پاؤں پھول چکے ہوتے ہیں کہ جوتے پہن نہیں سکتے بولنا چاہتے ہیں لیکن فالج زدہ زبان سے آواز نہیں نکلتی اولاد معذور پیدا ہوتی ہے جس کو دیکھ کے ساری زندگی تڑپتے رہتے ہیں لیکن علاج نہیں ملتا۔
    گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ایسی حرکت کرتا ہے کہ معاشرے میں سر جھک جاتے ہیں۔ اپنا گھر بار چھوڑ کے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ عزت خاک میں مل جاتی ہے۔ سب کچھ ہوتا ہے لیکن گلی کے کتے بھی سلام نہیں کرتے موت آتی ہے تو کوئی لاش کو دفنانے والا نہیں ملتا
    بیماری ایسی آتی ہے کہ تڑپ تڑپ کے روز مرتے ہیں۔ موت کی دعائیں مانگتے ہیں لیکن موت نہیں آتی۔

    بے شک اللہ کی لاٹھی بہت بے آواز ہے۔ جس ظالم پہ پڑ جائے اسے عبرت کا نشان بنا دیتی ہے۔
    وقت کی عدالت کا انصاف بہت بے رحم ہوتا ہے ۔۔ اپیل کی گنجائش نہیں ہوتی.

    @iAmir29

  • نفرت کا جواب محبت سے . تحریر : تاج ولی خان

    نفرت کا جواب محبت سے . تحریر : تاج ولی خان

    افغانستان حکومت جو آج کل پاکستان کے خلاف نفرت اور پروپیگنڈے پھیلانے اوربےبنیاد الزامات لگانے میں مصروف رہا ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ نفرت کا جواب محبت سے دیا ہے کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن چاہتا اور امن کیلئے اپنے خدمات سرانجام دے رہا ہے۔
    چند روز پہلے افغان فوجیوں نے پاکستان سے چترال کے اندو سیکٹر پرپناہ کیلئے 26 جولائی کو درخواست کی تھی کیونکہ وہ اپنے بارڈر پر کنٹرول رکھنے کی طاقت کھو گئے تھے جس پر پاکستان نے ہمدردی دیکھاتے ہوئے ضروری ضابطہ کی کارروائی کے بعد افغان فوجیوں کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔ پاکستان میں پناہ لینے والے فوجیوں میں پانچ افسراوں سمیت 46 افغان فوجی شامل تھے۔ پاکستان نے ان فوجیوں کا استقبال کیا اور ان کی خوب مہمان نوازی کی جبکہ افغانستان کے وزیر خارجہ کی جانب سے اس بات سے انکار کیا گیا کہ ہمارے فوجیوں نے آج تک کسی بھی ملک میں پناہ لی ہے اور پاکستان میں تو بلکل نہیں۔ اس بات سے یہ بات ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان جو ہمیشہ امن کیلئے کوشا رہتا ہے لیکن افغانستان پاکستان سے نفرت کرنے سے بعض نہیں رہتا۔

    افغان وزیر خارجہ کی بیان کے بعد پاکستان کی طرف سے افغان فوجیوں اور ان کی مہمان نوازی کی ویڈیو اور تصاویر جاری کردی گئے جس نے افغانستان کے بیانیے کو پورے دنیا کے سامنے بےنقاب کردیا اور یہ ثابت کردیا کہ پاکستان امن کیلئے کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا
    پاکستان نے ان پانچ افسروں سمیت 46 افغان فوجی 26 جولائی کو باجوڑ کے راستے افغان حکام کے حوالے کردیے اور صرف یہی نہٰں اس سے پہلے 35 افغان فوجی یکم جولائی کو واپس بھیجے گئے تھے، جنہوں نے پاکستان سے محفوظ راستے کی درخواست کی تھی۔
    اس کے بعد بدھ کے دن پاکستان نے پناہ لینے والے مزید پانچ افغان فوجی افغانستان حکام کے حوالے کردیے جو پاکستان کا افغانستان میں امن کیلئے کوشش کرنے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان نے پاک افغان بارڈر پر محفوظ راستے کے لیے پناہ حاصل کرنے والے مزید پانچ افغان فوجیوں کو باجوڑ میں نوا پاس کے مقام پر پانچ بج کر 45 منٹ پر افغان حکام کے حوالے کیا گیا۔

    صرف یہی نہیں اس سے پہلے افغانستان کا پاکستان میں سفیر کی بیٹی کی اغواء کے معاملے کو اگر دیکھا جائے تو اس میں بھی افغانستان کا پاکستان پر بےبنیاد الزامات لگانا اور بغیر کسی تحقیقات کے اپنے سفیر کو واپس بلانا سب اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان پاکستان سے نفرت کی انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ افغان حکومت بھارت سے اتنا متاثر ہے کہ جو حکم نئی دہلی سے کابل آتی ہے کابل اس کو اسطرح مانتا ہے جیسے افغان اسمبلی میں کوئی نئا قانون منظور ہوگیا ہو اسلئے پاکستان سے نفرت کی یہی حال ہے۔ بھارت اب تک افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا آرہا ہے اب جب افغانستان میں افغان طالبان نے قبضہ کرنا شروع کردیا ہے تو یہ سب لوگ ڈر گئے ہیں کہ پاکستان کو کس طرح نقصان پہنچائیں گے اور کسطرح پاکستان کو اپنے قابو میں رکھیں گے جس کیلئے راء اور این ڈی ایس نے دن رات ایک کردی ہیں۔ اسلئے راء ایسے کام کررہے ہیں جس سے پاکستان بدنام ہوجائے اور افغان امن عمل کو ناکام ہوجائے۔ افغان سفیر کی بیٹی کی اغواء کا قصہ بھی بھارتی ایجنسی راء کا کام تھا۔ تحقیقات کی بعد یہ بات سامنے آئی تھی کی افغان سفیر کی بیٹی اغواء ہوئی ہی نہیں تھی اس سب ڈرامے کا مقصد پاکستان میں افغان امن عمل کیلئے ہونے والے کانفرنس کو روکنا۔

    افغان حکومت بھارت کی ہاتھوں کی کٹھ پتھلی بن چکی ہے جو ہر وہ کام کررہی ہے جو بھارت پاکستان کے خلاف کرنا چاہتا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک ہفتہ پہلے بھارت کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے گری لیسٹ میں رکھنا مودی حکومت کی کامیابی ہے جس کی کوششوں کی وجہ سے پاکستان کو فیٹف کے گری لیسٹ میں رکھا گیا ہے۔ جس سے اگر ایک طرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کچھ بھی کرسکتا ہے جس سے پاکستان عالمی دنیا میں بدنام ہوجائے تو دوسرے طرف یہ کہ فیٹف ایک خودمختار ادارہ نہیں ہے۔ پاکستان کو غیر مخفوظ ثابت کرنے کیلئے راء نے اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کی اغوا کا ڈرامہ رچایا۔
    کچھ دن پہلے افغانستان کے حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف یہی پروپیگنڈا کیا گیا تھا کہ پاکستانی عوام نے چمن میں افغان طالبان کا سپین بولدک پاک افغان بارڈر قبضہ کرنے کی خوشی میں ریلی نکالی تھی جو ایک بےبنیا اور منگھڑت الزام تھا تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ وہ لوگ پاکستانی نہیں تھے بلکہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین تھے جو افغان طالبان سے محبت کرتے ہیں اور طالبان کو سپورٹ کرنے کیلئے کوئٹہ کے علاقے میں ریلی نکالی تھی۔

    @WaliKhan_TK

  • پاکستان اللّٰہ کا احسان . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    پاکستان اللّٰہ کا احسان . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    دنیائے تاریخ میں دو ریاستیں ایسی ہیں جو نظرئیے کی بنیاد پر بنی ہے۔ پہلا مدینہ طیبہ اور دوسرا مدینہ ثانی یعنی پاکستان۔ مدینہِ طیبہ اور پاکستان میں ایک دلچسپ ربط ہے جو لوگ لغت سے شغف رکھتے ہیں وہ لغت اٹھا کے دیکھیں مدینہ طیبہ عربی زبان کا لفظ ہے جسکی معنی ہے مدینہ یعنی شہر یا رہنے کی جگہ جبکہ طیبہ صاف کو کہتے ہیں یعنی کہ صاف رہنے کی جگہ۔ اب آجائے پاکستان پہ تو پاکستان فارسی زبان کا لفظ ہے جسکی معنی ہے پاک یعنی صاف اور ستان یعنی رہنے کی جگہ۔ اب پاکستان کو اگر عربی میں لکھا جائے تو لکھا جائیگا مدینہ طیبہ، اگر مدینہ طیبہ کو فارسی میں لکھا جائے تو لکھا جائیگا پاکستان۔

    پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔ اور پاکستان کلمۂ طیبہ کے نعرے اور نظریہِ اسلام کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آیا ہے۔
    قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ "ہمیں محض رہنے کیلئے ایک زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک ایسی تجربہ گاہ چاہیے جہاں ہم اسلامی قوانین کو پرکھ سکےاور اپنے پیغمبرﷺ کی سنت پر عمل کرسکے”۔
    میری خواہش ہے کہ بالعموم ہر پاکستانی اور بالخصوص ہر نوجوان کو دو غیر معمولی وجود یعنی قائد و اقبال اور ایک غیر معمولی تخلیق یعنی پاکستان کے بارے میں پتہ ہو۔

    پاکستان ایک معمولی تخلیق نہیں ہے۔ قدرت کے اشاروں کوسمجھئے اللّٰہﷻ کے ہمارے اوپر بیش بہا احسانات ہے۔ جسمیں سےایک احسانِ عظیم یہ ہے کہ ہم بغیر کسی محنت، بغیر کسی حجت اور بغیر کسی خوبی کے امتِ محمدیؐ میں پیدا ہوئے۔ دوسرا احسانِ عظیم یہ کیا کہ ہمیں سرزمینِ پاکستان میں پیدا فرمایا۔ دوسری بات سے شاید بہت سے لوگ اختلاف بھی کرے کہ پاکستان میں پیدا ہونا احسان کیسے ہوسکتا ہے کہ یہاں تو بہت سی پریشانیاں ہیں، بدامنی ہے، بے روزگاری ہے، مہنگائی ہے، بھوک ہے، ننگ ہے ناانصافی ہے

    جسکی خاطر سارے دُکھ جھیلیں
    تو پھر بھی پاکستان گھر تو آخر اپنا ہے

    پاکستان 14 اگست 1947 کو بنا جو کہ نزولِ قرآن 27ویں رمضان کی رات تھی۔ شبِ قدر کو پاکستان کابننا محض اتفاق نہیں بلکہ انتخاب تھا۔
    اسلامی دنیا میں ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز بھی پاکستان کو حاصل ہے۔ یہ بھی محض ُحسنِ اتفاق نہیں ہے- یاد کریں وہ دن جب پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے چاغی کا پہاڑ پاکستان میں لال ہوا تو فلسطین میں لوگوں نے اسرائیل کوللکار کر کہا تھا کہ اب ہمارے اوپر ظلم نہیں کرنا اب ہم ایٹمی طاقت ہے۔ دُنیا میں سات ممالک کے پاس ایٹمی طاقت ہے جس میں سے 6 غیر مسلم ممالک ہیں جبکہ مسلم ممالک میں واحد پاکستان ہے جو کہ ایٹمی طاقت ہے۔ یعنی مسلمان ایٹمی طاقت ہونے سے ہمیں امت کی سرداری کاشرف بھی اللّٰہ نے بخشا۔
    قُرآنِ مجید فِرقانِ حمید کے سورۃ الرحمٰن میں جتنے بھی باغات و میوہ جات کا ذکر ہے تو گویا کہ سورۃ الرحمٰن کی تفسیر ہے پاکستان۔

    ایک روایت کے مطابق: اللہﷻ کے رسولِ مقبولﷺ نے مختلف مقامات کے بارے میں پیشنگوئیاں کی عرب کیطرف اشارہ کیا کہ یہاں سے مجھے منافقت کی بدبُو آرہی ہے پھر ایک طرف اشارہ کیا جسمیں پاکستان اور افغانستان شامل ہے کہ یہاں سے مُجھے خوشبوں آرہی ہے جبکہ دوسری روایت کے مطابق فرمایا تھا کہ یہاں سے مُجھے ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہے گویا کہ پیغمبرِ خداﷺ کا پیغام اور خوشخبری ہے پاکستان۔

    پاکستان اتنا بڑا معجزہ ہے جیسا کہ صالحؑ کی اونٹنی ایک معجزہ تھی۔ اس قوم نے اس احسان کی ناقدری کی تو صفحۂ ہستی سے مٹ گئے جبکہ ہم اس تحفے کی بے توقیری کرکے دنیا میں ذلیل ورسوا ہورہے ہیں۔

    ماں کے بارے میں ہم گالی نہیں سُن سکتے کیونکہ اس نے بچپن میں سینے سے دودھ پلایا ہوتا ہے اور جوانی تک سارے مصائب اور غم اُٹھائے ہوتے ہیں لیکن ماں مرنے کے بعد کچھ بھی نہیں کرسکتی اور نہ ہی اُس کا اِتنا طاقت و قُدرت ہوتا ہے۔ اِسی طرح دھرتی بھی ماں ہوتی ہے۔یہی دھرتی ماں ہمیں ساری زندگی اپنے سینے سے اناج کھلاتی ہے وطن وہ ماں ہے جو مرنے کے بعد اپنی آغوش میں دو گز زمین بھی دے دیتی ہے۔

    پاکستان کی عزت کیجئے اور عزت کروائیے۔ بے ضمیر لوگ کہتے ہیں وطن نے کیا دیا ہمیں جبکہ باضمیر اور غیور لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے وطن کو کیا دیا۔ میں ایک قدم آگے بڑھ کر بڑے ادب سے کہتا ہوں کہ ہم کیا دے سکتے ہیں وطن کو۔
    پاکستان کو ہم اگر کچھ دینا چاہتے ہیں تومیری التجاء ہے کہ وہ مرد جن کے ذمے اپنے اپنے خاندان کی کفالت کرنا ہے کم از کم اپنے شعبوں میں دیانتداری سے کام کریں اس یقین کیساتھ کہ ایک بے ایمان بندہ کم ہوجائے اور وہ بہنیں جو کہ مائیں بنی ہے یا بنے گی وہ ایک احسان کرے کہ ایک اچھی نسل دے اس قوم کو۔ اس قوم و ملت کو ضرورت ہے ایسے نسل کی جو اس ملک کو وہ مقام دلائے جس کیلئے یہ وجود میں آیا ہے۔

    کھڑے تھے ہم بھی تقدیر کے دروازے پر
    لوگ دولت پہ گرے ہم نے وطن مانگ لیا

    میں مشکور ہوں ربّ ذوالجلال کا کہ پاکستان میرے نام کا بھی حصہ ہے، میری ذات کا بھی حصہ ہے اور میری جان کا بھی حصہ ہے۔ پاکستان سے مُجھے عشق ہے۔ یہ میری لیلیٰ اور میں اسکا مجنون ہوں۔ پاکستان کا محبت میری رگ رگ میں بسا ہے۔
    پاکستان ہمیشہ قائم و دائم سلامت و آباد رہے۔
    خوش رہیں خود بھی اور خوش رکھیں اپنے ساتھ منسلک لوگوں کو۔ اپنا اور اپنے دیس کا خیال رکھیں۔
    پاکستان زندہ باد

    @IjazPakistani

  • مرد محافظ ہے  تحریر: سحر عارف

    مرد محافظ ہے تحریر: سحر عارف

    آج تک ہمارے معاشرے میں صرف عورتوں کے حقوق سے لے کر ان کی معاشرے میں اہمیت، ان کی آزادی کے لیے اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لیے آواز اٹھتی رہی ہےاور ایسے میں عورتوں کو پیش آنے والے ان تمام مسائل کی وجہ مردوں کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔

    کہیں نا کہیں یہ بات بھی بلکل درست ہے کہ زیادہ تر مرد ہی عورتوں کی آزادی کے خلاف، ان کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ذمہ دار ہیں ہیں۔ پر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جیسے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح تمام مرد ایک سے نہیں ہوتے۔ جہاں کچھ مرد عورت ذات کے لیے پریشانی کا سبب بنتے ہیں اور ان کو تشدد اور اپنی حوس کا نشانہ بنانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں وہیں بہت سے مرد عورت ذات کی عزت کرنا بھی باخوبی جانتے ہیں۔ یہی چیز اگر ہم اپنے گھروں میں دیکھیں تو ہمارے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان مردوں سے ہٹ کر بھی گھر سے باہر ایسے مرد بھی موجود ہوتے ہیں جو راہ چلتی عورتوں سے نظریں جھکا ہر چلتے ہیں۔

    پر افسوس کا عالم یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ صرف چند ایسے مردوں کی وجہ سے جو عورت ذات کو درپیش مسائل کی وجہ بنتے ہیں باقی کے تمام مردوں کو بھی انہیں جیسا سمجھتے ہے۔ اگر غور کریں تو اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب ہم صرف غلط کو دیکھنے اور دیکھانے پر زور رکھتے ہیں تو پھر ہمارے اردگرد سب غلط ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔

    ٹھیک اسی طرح معاشرے میں چند بھیڑیوں کی وجہ سے ہم مرد ذات کو ہی برا کہنا شروع کردیں تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہے۔ جو مرد عزت کے قابل ہو اسے عزت ضرور ملنی چاہیےنا کہ باقی غلط راہ پہ چلنے والے مردوں کی طرح ان سے سلوک کیا جائے۔ "مرد” لفظ ہی اپنے اندر بےتحاشا مٹھاس سموئے ہوئے ہے۔ اس لفظ کو سنتے ہی اپنے اردگرد حفاظت کی دیوار کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ہمارے محرم مرد ہمارے اصل سائبان ہیں۔ جو خود مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ہماری حفاظت کرتے ہیں اور اپنے ہونے کا ایک خوبصورت احساس دلاتے ہیں۔

    ہماری خوشیوں کی خاطر ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ مرد اہے کتنا ہی غریب اور کمزور کیوں نا ہوپر وہ اپنی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر اپنے سے جڑے لوگوں کی خواہشات پوری کرنے کا حوصلہ اور جذبہ رکھتا ہے۔ دن سے رات تک چاہے شدید سردی ہو یا گرمی سخت محنت کر کے اپنا گھر چلاتا ہے۔ بےشک ایسے مرد سراہے جانے کے قابل ہیں۔

    آج کے دور کی عورت مرد کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کا حوصلہ ضرور رکھتی ہے پر کچھ معاملات میں وہ کبھی مرد کا مقابلہ نہیں کرسکتی کیونکہ ہنر اللّٰہ نے صرف مرد ذات کو ہی دیا ہے۔ اللّٰہ مے مرد کے جسم میں اتنی طاقت دی ہے کہ وہ اس طاقت کا استعمال کرکے عورت کو معاشرے میں پلنے والے گندے بھیڑیوں سے بچا کر اسے تحفظ کی گھنی چھاؤں میں بیٹھا سکتا ہے۔ عورت مرد کی طرح م،دوری نہیں کرسکتی، اپنے سے، زیادہ وزن نہیں اٹھا سکتی پر اس کے برعکس مرد اپنا اور اپنے سے جڑے لوگوں کا پیٹ پالنے کی خاطر مزدوری کرسکتا ہے۔ وہ اپنے سے کئی کئی گنا زیادہ وزن اٹھا سکتا ہے اور پھر بھی کسی سے شکوہ نہیں کرتا۔ مرد تکلیف میں ہونے کے باوجود رو نہیں سکتا کیونکہ ہمارا معاشرہ انھیں رونے کا حق نہیں دیتا۔ بس اپنے اندر ہی اندر اپنا غم اور تکلیف جذب کرلیتا ہے۔ پھر میں یہ کسیے نا کہوں کے مرد اللّٰہ کی بہت ہی خوبصورت تخلیق ہے۔ جو عورت کی ہی طرح محبت، اعتبار اور عزت کا حقدار ہے۔

    @SeharSulehri

  • انتخابات اور الیکشن کمیشن  تحریر : راجہ ارشد

    انتخابات اور الیکشن کمیشن تحریر : راجہ ارشد

    اسلامی جہموریہ پاکستان میں الیکشن کوئی بھی ہوں عام انتخابات ، ضمنی انتخابات یا پھر سینٹ انتخابات جو بی ہارا اس نے کبھی تسلیم ہی نہیں کیا  اور الیکشن کو متنازعہ بنانے کی پوری کوشش کی ۔

    پاکستان کی تقریبا تمام سیاسی پارٹیاں اس میں شامل ہیں جو کبھی جیتی ہیں کبھی ہار جاتی ہیں۔
      جیت جاتے ہیں تو جشن یسے مناتے ہیں جیسے 28 فروری کا سرپریز انہوں نے ہی دیا ہو اور ہارنے والے اسے متنازعہ کہہ کے ریاستی اداروں پر الزمات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔
     
    مزے کی بات ہارنے والوں کی جب کبھی حکومت آتی ہے تو وہ کبھی اصلاحات کی کوشش ہی نہیں کرتے۔اور اگر کوئی بندہ اصلاحات کرنے کی بات بھی کرئے تو یہ مخالفت کرتے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔

    حکومتی جماعت کو کرپٹ نظام کی وجہ سے فائدہ ہوتا ہے کرپٹ نظام کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو کنٹرول کیا جاتا ہے ہم نے یہ ماضی میں دیکھا ہے کہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے ان کے مطالبے پر 4 حلقے 4 سال میں وپن نہیں ہوئے تھے اس لیے عمران خان نے 126 دن کا دھرنا دیا تھا اور عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد پاکستان میں شفاف انتخابات اور کرپشن کا خاتمہ ہے۔

    سینٹ الیکشن کی ہی بات کر لیتے ہیں اس الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کتنی ہوتی ہے سب سیاسی پارٹیوں کے سربراہ کو پتہ ہے ۔ عمران خان نے حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپنے 20 ارکان کو پارٹی سے نکالا تھا ان ارکان کی ویڈیو بھی منظرعام پر آئی تھی اس ویڈیو میں دوسری پارٹیوں کے لوگ بھی تھے لیکن کاروائی صرف اور صرف کپتان نے کی باقی سب خاموش رہے۔

    کپتان حکومت کو قانون سازی میں دشواری کا سامنا ہے وجہ سینٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے اور وہ قانون سازی میں بڑی رکاوٹ ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ ہو۔
    سینٹ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس بھیجا کہ ووٹنگ وپن ہونی چاہئیے اور ساتھ ہی سپریم کورٹ  سے اس سلسلے میں رائے بھی طلب کی۔
    سپریم کورٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن نے بھی حکومتی آرڈیننس کی مخالفت کی اور خفیہ طریقہ پر ووٹنگ کی حمایت کی اندازہ کریں کہ ایک حکومتی ادارہ نے حکومت کی مخالفت کی یہی عمران خان کی کامیابی  ہے۔
    سپریم کورٹ میں کیس چلتا رہا اور بالآخر سپریم کورٹ نے بھی حکومتی آرڈیننس پر اپنی رائے دیں اور حکم دیا کہ ووٹنگ خفیہ ہوگی۔

    سپریم کورٹ نے مزید تشریح کی اور کہا کہ شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور شفاف الیکشن کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔
    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن  کی رائے کے برعکس حکم دیا کہ ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رکھا جاتا، بے شک ووٹ خفیہ ہی ڈالا جائے گا لیکن ہر پارٹی کی سربراہ کی خواہش پر اس کو بتایا جاسکے گا کہ ووٹ کہاں ڈالا گیا ہے۔
    اب جبکہ ووٹ کا پتہ چل سکے گا کہ کس نے کس کو ووٹ دیا ووٹ قابل شناخت ہوگیا تو یقینا ہارس ٹریڈنگ کاخاتمہ ہوگا اور کرپٹ مافیا اپنے چال نہیں چل سکے گا اور یہی عمران خان حکومت کی جیت ہے۔
    دیکھا جائے تو خفیہ ووٹنگ کا فائدہ حکمران جماعت کو زیادہ ہوتا ہے سارے اختیارات حکومت کے پاس ہوتے ہیں حکومت چاہیے تو خزانے کا منہ کھل دے اور سب ارکان کو پیسوں سے خریدلے جیسے ماضی کی حکومتیں کرتی رہی ہیں لیکن عمران خان کی نیت صاف ہے وہ چاہتے ہیں کہ ادارے آزاد ہو پاکستان میں صاف و شفاف انتخابات ہو کرپشن کا خاتمہ ہو۔

    پاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں سے درخواست ہے کہ پاکستان کو عظیم ملک کرپشن سے پاک ملک بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں اور تمام سیاسی پارٹیوں کے اندر جو کرپٹ مافیا  کے لوگ ہیں ان کا خاتمہ کریں اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیں۔

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو
    پاکستان زندہ اباد

    @RajaArshad56

  • کیرئیر کونسلنگ . تحریر : فہد ملک

    کیرئیر کونسلنگ . تحریر : فہد ملک

    آپ کے کیریئر کی ترقی ایک زندگی بھر کا عمل ہے جو آپ کو معلوم ہے یا نہیں ، دراصل آپ کے پیدا ہونے پر ہی شروع ہوا تھا! بہت سارے عوامل ہیں جو آپ کے کیریئر کی ترقی کو متاثر کرتے ہیں ، بشمول آپ کی دلچسپیاں ، قابلیتیں ، اقدار ، شخصیت ، پس منظر اور حالات۔ کیریئر کونسلنگ ایک ایسا عمل ہے جو آپ کو کیریئر ، تعلیمی ، اور زندگی کے فیصلے کرنے کیلئے اپنے آپ کو اور کام کی دنیا کو جاننے اور سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔

    کیریئر کی ترقی صرف یہ فیصلہ کرنے سے کہیں زیادہ ہے کہ آپ فارغ التحصیل ہونے پر آپ کیا نوکری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ واقعی ایک زندگی بھر کا عمل ہے ، مطلب یہ ہے کہ آپ کی ساری زندگی آپ بدلاؤ گے ، حالات بدلیں گے ، اور آپ کو کیریئر اور زندگی کے فیصلے مستقل طور پر لینے پڑیں گے۔ کیریئر کونسلنگ کا مقصد یہ ہے کہ آپ نہ صرف آپ کے فیصلے کرنے میں مدد کریں ، بلکہ آپ کو مستقبل میں کیریئر اور زندگی کے فیصلے کرنے کیلئے آپ کو ضروری علم اور صلاحیتیں فراہم کرنا ہیں۔

    میں کیا توقع کرسکتا ہوں؟

    آپ کا کیریئر کونسلر آئے گا:
    آپ یہ جاننے میں مدد کریں کہ آپ کون ہیں اور آپ اپنی تعلیم ، کیریئر اور اپنی زندگی سے کیا چاہتے ہیں۔
    آپ کے خیالات ، خیالات ، احساسات اور اپنے کیریئر اور تعلیمی انتخاب کے بارے میں خدشات کے بارے میں بات کرنے کیلئے کوئی شخص بن جائے ، جو آپ کو اپنے خیالات اور احساسات کو الگ الگ کرنے ، ترتیب دینے اور سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔ اپنے کیریئر کی ترقی کو متاثر کرنے والے عوامل کی نشاندہی کرنے میں آپ کی مدد کریں اور اپنی دلچسپیوں ، صلاحیتوں اور قدروں کا اندازہ کریں۔
    کیریئر سے متعلق معلومات کے وسائل اور ذرائع تلاش کرنے میں آپ کی مدد کریں۔ اگلے اقدامات کا تعین کرنے اور اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرنے میں مدد کریں۔

    آپ کا کیریئر کونسلر نہیں کرے گا:
    آپ کو بتائیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے ، یا آپ کو بتانا چاہئے کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے یا آپ کو کیا پیشہ اپنانا چاہئے۔ کورس کے انتخاب یا نظام الاوقات میں آپ کو مشورے دیں۔

    کس کو کیریئر کونسلنگ کی ضرورت ہے؟
    چونکہ کیریئر کی ترقی ایک زندگی بھر کا عمل ہے ، لہذا کیریئر کونسلنگ کسی کے لئے بھی موزوں ہوسکتی ہے ، بشمول تازہ افراد ، سوفومورس ، جونیئرز ، سینئرز اور یہاں تک کہ سابق طلباء بھی۔ قبل ازیں آپ اپنے مستقبل کے بارے میں جان بوجھ کر فیصلے کرنا شروع کردیتے ہیں ، تاہم ، آپ جتنا بہتر تیار ہوں گے! ہمارا مشورہ ہے کہ تمام افسران کیریئر کونسلر سے مل کر تشریف لائیں۔

    ذیل میں خدشات کی کچھ مثالیں ہیں جو طلبا کو کیریئر کونسلنگ میں لاتے ہیں۔
    کیریئر اور اہم اختیارات کی تلاش
    "مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہوں۔”
    "مجھے نہیں معلوم کہ میں کس چیز میں بڑا کام کرنا ہے۔”
    "میں نے اسے کیریئر کے ایک دو آپشنز تک محدود کردیا ہے ، لیکن مجھے ان کے درمیان انتخاب کرنے میں سخت مشکل پیش آرہی ہے۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے اندازہ نہیں ہے کہ فارغ ہونے کے بعد میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ سب سے بڑا میجر کیا ہوگا۔
    "میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں اپنے بڑے سے کس قسم کی ملازمت حاصل کرسکتا ہوں۔”
    "مجھے ایسا نہیں لگتا کہ میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں جاننے کے لئے وہاں موجود تمام مختلف کیریئر کے بارے میں کافی جانتا ہوں۔”

    تنازعات کو حل کرنا
    "مجھے بہت سارے مختلف مضامین پسند ہیں ، اور میں اپنا اہم تبدیل کرتا رہتا ہوں کیونکہ مجھے یقین نہیں ہے کہ کون سا میرے لئے سب سے بہتر ہے!”
    "میں اپنی کسی بھی جماعت کو پسند نہیں کرتا ہوں اور کوئی بڑی کمپنی مجھ سے واقعی اپیل نہیں کرتی ہے۔”
    "میرے پاس بہت سارے کام کا تجربہ ہے اور میں ایک نیا کیریئر کا راستہ تلاش کرنا چاہتا ہوں جو میں پہلے سے موجود ہنروں کو استوار کروں گا۔”
    "میں ___ پروگرام میں جانے کا ارادہ کر رہا تھا ، لیکن میں نے درخواست دی اور میں داخل نہیں ہوا۔ اب میں کیا کروں؟”
    "میں نے ہمیشہ سوچا کہ میں ___ بننا چاہتا ہوں ، لیکن میں اپنے بڑے ہو گیا اور مجھے واقعی میں یہ پسند نہیں کرتا!”
    "میں واقعی میں اپنے بڑے کو پسند کرتا ہوں ، لیکن یہ وہ نہیں ہے جو میں اپنے کیریئر کے لئے کرنا چاہتا ہوں۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کس نوعیت کا کام کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے ڈر ہے کہ میں یہ کام کرنے میں زیادہ رقم کمانے کے قابل نہیں ہوں گے۔”
    "میرا کنبہ حقیقت میں چاہتا ہے کہ میں ___ بنوں ، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ اگر میں واقعی میں یہی چاہتا ہوں تو۔”
    "میں نے ہمیشہ ___ ہونے کا ارادہ کیا ہے ، لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ میں جانتا ہوں۔”
    "میں وہاں جانے کے لئے ایک فیلڈ ڈھونڈنا چاہتا ہوں جہاں ہمیشہ ملازمت کی کافی مقدار ہوگی۔”
    "میں ایک ایسا کیریئر تلاش کرنا چاہتا ہوں جس سے مجھے اپنے کنبے کے لئے قابل قدر مالی اعانت فراہم ہوسکے۔”
    "میں اپنے کیریئر کی سمت کام کر رہا ہوں ، لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں واقعی میں گھر میں رہنے والے والدین بننا چاہتا ہوں۔”
    "میں نے ہمیشہ بائوس میں ہی رہنے کا ارادہ کیا ہے ، لیکن میں جو کرنا چاہتا ہوں وہ کرنا ہے مجھے حرکت کرنا ہوگی۔”
    "مجھے نوکری نہیں مل سکتی ہے ، لہذا میں گریڈ اسکول جانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔”

    کیریئر کونسلر کون ہے؟
    کیریئر سروسز کا عملہ آپ کی مدد کرنے میں آپ کو ماسٹر ڈگری حاصل ہے اور اس میں کیریئر ڈویلپمنٹ تھیوری ، مشاورت کی تکنیک ، انتظامیہ اور تشخیص کی تشریح ، اور کیریئر سے متعلق معلومات کے وسائل میں مہارت حاصل ہے۔ کیریئر کونسلرز مشاورت یا کیریئر کونسلنگ میں ماسٹر ڈگری رکھتے ہیں۔

    آپ کی ملازمت کی تلاش / کیریئر کے حصول کا عمل آپ کے کیریئر کی ترقی کا ایک اہم پہلو بھی ہے ، اور اسی وجہ سے ، جاب سرچ ایڈوائزیشن اور کیریئر کی صلاحکاری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کے کیریئر کونسلر کو بھی آپ کی ملازمت کی تلاش کے تمام پہلوؤں کی مدد کے لئے مکمل طور پر تربیت حاصل ہے۔

    ‎@Malik_Fahad333

  • نوکری یا کاروبار؟ . تحریر : ایم ابراہیم

    نوکری یا کاروبار؟ . تحریر : ایم ابراہیم

    ہرانسان کو زندگی گزارنے اور اپنی روزمرہ کی ضروریات پورا کرنے کے لئے مستقل ذرائع آمدن کی ضرورت ہوتی ہے. ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا کوئی مستقل ذریعہ آمدن ہو جس سے وہ اپنی اور اپنے خاندان کا پیٹ پال سکے اور سکون سے زندگی گزار سکے. آج کل کے دور میں جب قدرتی ذرائع کم اور انسان کی جگہ مشینری لیتی جا رہی ہے تو اور بھی مستقل ذریعہ آمدن کی فکر بڑھتی جا رہی ہے. آج کل دو ہی بنیادی ذرائع آمدن ہر جگہ زیر بحث ہوتے ہیں اور وہ ہیں نوکری اور کاروبار. ہر کوئی چاہتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک حاصل کرے اور اس کا معاشی مستقبل محفوظ ہو. یہ دونوں ذرائع بالکل الگ ہیں اور ان کا الگ قابلیت کا معیار، کام اور آمدن بھی مختلف ہیں.

    پہلے ہم نوکری کی بات کرتے ہیں. نوکری کی دو قسمیں ہیں سرکاری اور غیر سرکاری. ہمارے معاشرے میں سرکاری نوکری کو بہت ہی محفوظ معاشی مستقبل کے طور پر سمجھا جاتا ہے جس کی بنیادی وجوہات مستقلی، سروس میں سرکاری مراعات، بچت اور سب سے اہم تا زندگی ملنے والی پنشن ہے. عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اگر آپ سرکاری نوکری سے وابستہ ہیں تو آپ کو کوئی فکر نہیں بس اب آپ تاحیات سرکار کے ‘ ذمہ’ ہیں. نوکری کے لیے اہل ہونے کے لیے سب سے بنیادی چیز جو چاہیے وہ ہے تعلیم. اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں تو آپ اپنی ڈگری کی کیٹگری اور شعبہ کے لحاظ سے ایک سرکاری نوکری حاصل کر سکتے. ریاست جو آپ کے کے ذمہ کام لگائے گی وہ آپ خوش اسلوبی سے سر انجام دیں گے اور آپ کو متعلقہ شعبہ کے کے قوانین کے مطابق سرکاری مراعات وغیرہ اور ماہانہ آمدن دی جائیں گی. اسلام جمہوریہ پاکستان کے قوانین کے مطابق ریٹائرمنٹ ہونے کی عمر ساٹھ سال ہے. ساٹھ سال کے بعد حکومت آپ کو ایک حساب کے مطابق آپ کو یَک مُشت رقم بھی دے گی اور بعد میں تاحیات پینشن بھی دے گی، یہی خصوصیات سرکاری نوکری کو سب سے پرکشش بناتی ہیں. لیکن اس دور میں جب سرکاری نوکریوں کی کمی اور حکومت خود نوجوانوں کو کاروبار کی طرف راغب کر رہی ہے. حکومت چاہتی ہے کہ نوجوان کاروبار کریں، با اختیار بنیں، دوسروں کے لیےبھی روزگار کے مواقع پیدا کریں اور ملک کا بھی فائدہ ہو.

    اب بات کرتے ہیں کاروبار کی، کاروبار ذاتی ہوتا ہے اور کاروبار کرنے کے لئے جس چیز کی آپ کو ضرورت ہوتی ہے وہ ہےسرمایہ. آپ سرمایہ کاری کریں گے اور پھر کاروبار کی نوعیت کے حساب سے آپ کی آمدنی ہوگی. کاروبار میں یہ ہے کہ آپ کو رِسک لینا پڑتا ہے، جب آپ سرمایہ کاری کر رہے ہوتے ہیں، پیسہ لگا رہے ہوتے ہیں تو قدرتی اور ملکی حالات بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں جس سے آپ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسا کہ اب کرونا وائرس کی آفت میں کئی کاروبار ٹھپ ہوئے اور سرمایہ کاروں کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا. لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا کے جتنے بھی امیر ترین افراد ہیں آپ ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں سب کاروباری تھے آپ کو کوئی نوکری والا امیر ترین نہیں ملے گا. نوکری کا یہ فائدہ ہے کہ آپ کا رہن سہن اچھا ہوگا اور پرسکون یعنی نارمل زندگی گزاریں گے. اس کے برعکس کاروبار میں آپ کو کئی مشکلات بھی آئیں گی، نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے لیکن یہ ہے کہ منافع کے بھی کوئی حد نہیں. نوکری میں آپ کو مخصوص وقت اور قوانین کے اندر رہ کر کام کرنا پڑتا ہے، کاروبار میں وقت کی کوئی قید نہیں جتنا آپ کاروبار کو زیادہ وقت دیں گے اتنا زیادہ کمائیں گے. کاروبار ہو یا نوکری اپنی دلچسپی کے شعبہ میں کرنے چاہئیں تاکہ آپ کو زہنی سکون میسر ہو.

    ibrahimianPAK@