Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ببول کے کانٹے . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ببول کے کانٹے . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ماڈرن ازم کے دلدادہ ہوں یا مذہب کے ٹھیکیدار، دانشور ہوں یا فنکار، سیاستدان ہوں یا اساتذہ، سب کو جیسے سانپ سونگھ چکا ہے۔ ہر زبان خاموش، ہر دل کبیدہ خاطر ہے کیونکہ ہر کوئی جانتا کہ اس سارے معاشرتی بگاڑ میں کہیں نہ کہیں ان کا حصہ بھی ہے۔ ببول کا بیج بویا ہو تو پھول نہیں بلکہ کانٹے ہی اگتے۔ کانٹے بھی وہ جن کا زہر ہماری نئی نسل میں اس بری طرح سرایت کر چکا کہ اب کوئی تریاق بھی کام نہیں دے رہا۔ اخلاقیات کی پامالی کی ہر حد پار ہو چکی ہے۔ سماجی قدروں کا زوال پورے جوبن پر ہے اور کسی میں ان سرکش موجوں کے سامنے بند باندھنے کی جرات بھی نہیں ہورہی۔ ایک خوف و وحشت کی فضا ہے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا۔ نہ راہ چلتی بزرگ خاتون محفوظ ہے نہ گلی میں کھیلتی معصوم بچی، چھوٹا بچہ ہویا کوئی خاتون خانہ ہر کسی کی عصمت و جان کو خطرہ ہے۔ ہوس زدہ درندے ہر جگہ کھلے گھوم رہے، اذیتیں دے کر قتل کر رہے، کتوں کی طرح بھنبھوڑ رہے۔ جنون اور ہیجان کا یہ عالم کہ الامان الحفیظ۔ جو لوگ کبھی اپنے خاندانی ہونے پر فخر کرتے تھے خود کو معاشرے کا باوقار فرد گردانتے تھے ان کی ہی اولادیں اتنی سفاک کیسے ہو گئی ہیں؟

    آخر معاشرے میں تمام۔حدود و قیود کو پار کرتا جنسی ہیجان کیونکر پیدا ہو گیا ہے؟ کیا آج سے دو دہائیوں پہلے تک یہ سب کچھ تھا؟ نہیں بلکل نہیں۔ پھر اب ایسا کیا ہو گیا؟ جواب بہت سادہ اور واضح ہے- فحاشی و بے حیائی۔ مغربی معاشرے کی تقلید میں ہم نے بجائے تعلیم وہنر کو کاپی کرنے کے انکی تہذیب کو جوں کا توں کاپی کرلیا یہ جانے بغیر کہ اس کے مستقل اثرات کس قدر بھیانک ہوں گے۔
    قارئین کرام ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ اتنا جنون اتنی سفاکیت راتوں رات نہیں پیدا ہوتی۔ معاشرے میں تبدیلی کا عمل ہمیشہ آہستگی سے آتا ہے۔ قطرہ قطرہ، نامحسوس طریقے سے یہ زہر اترا نہیں اتارا گیا ہے۔ فحاشی وعریانی کا سیلاب ایک دم نہیں آیا بلکہ ہم نے پوری دلی رضامندی سے ماڈرن بننے کے چکر میں اس کو اپنے معاشرے میں رائج کیا ہے۔

    مغربی سیکولر و لبرل معاشرے سے متاثر ہمارے دانشوروں نے اپنی شاندار اسلامی تعلیمات کو دقیانوسی قرار دے کر پس پشت ڈال دیا۔ سیاستدانوں کو مغربی جمہوریت ہی معاشرے کا اصل حسن لگی۔ تو مذہبی رہنماؤں نے معاشرے کی ایلیٹ کلاس میں فٹ ہونے کیلئے مخلوط تعلیم سے لیکر مخلوط محافل تک سب کچھ جائز قرار دے دیا۔ برقع میں بھی ایسی جدیدیت آ گئی کہ پردے کا اصل مقصد ہی فوت ہوگیا۔ مرد و زن کا اختلاط عام ہوگیا خواہ سکول ہو یا آفس۔ بات یہاں تک بھی کنٹرول میں تھی لیکن سونے پر سہاگا الیکٹرانک میڈیا اور ٹک ٹاک جیسی ایپلیکیشنز نے پوری قوم کو ناچ گانے پر لگا دیا۔ جب اس پر بھی تسلی نہیں ہوئی تو پاکستانیوں نے موبائل پر پورن فلموں کو دیکھنے کے سب ریکارڈ توڑ دیے۔

    خدارا ابھی بھی وقت ہے۔ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائیں۔ اربابِ اختیار ہمت کریں ان جنسی درندوں کو سرعام پھانسیاں دیں تاکہ باقی لوگ عبرت پکڑیں اور اپنے گھروں میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دیں تاکہ معاشرے کا بگاڑ سدھارا جاسکے۔ مغربی معاشرہ تو خود لبرل ازم اور الحادیت کے چکر میں تباہ ہو چکا۔ اگر کسی کو شک ہے تو بیشک ریپ کیسز، چائلڈ پورنو گرافی، عورتوں و بچوں پر تشدد کے اعداد و شمار اٹھا کر دیکھ لیں۔ آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ” اور بے شرمی کی باتوں کے قریب ہی نہ جاؤ وہ کھلی ہوں یا چھپی ہوئی ہوں۔”(الانعام۔151)۔
    تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم حد سے تجاوز کر جاتی تو پہلے خدا اُسے مہلت دیتا کہ وہ اپنی اصلاح کرے اگر روش نہ بدلی جائے تو خدا کا غضب جوش میں آتا اور تباہی سب کا مقدّر بن جاتی۔

    @once_says

  • عورت مارچ . تحریر : ڈاکٹر سلطان صلاح الدین سلہری

    عورت مارچ . تحریر : ڈاکٹر سلطان صلاح الدین سلہری

    مجھے آج بھی ایک لڑکی کا واٹس ایپ سٹیٹس اچھی طرح یاد ہے بلکہ میرے پاس اس کا سکرین شاٹ بھی پڑا ہے جو کہ اس کا آخری واٹس ایپ سٹیٹس تھا جس میں تحریر یہ تھی کہ "کہنے والوں کا کیا جاتا،سہنے والے کمال کرتے ہیں”یہ آج سے تقریباً تین سال قبل سہارا میڈیکل کالج نارووال کی ایم بی بی ایس کی طالبہ ڈاکٹر نرگس حیات خان کا خودکشی سے پہلے آخری رات کا سٹیٹس تھا۔ اس خودکشی کے وجہ کیا تھی وہ ایک الگ بحث ہے لیکن بتانا یہ تھا کہ حقیقت یہی ہے کہ ہم کسی بھی چیز پر بے جا تنقید اور اکثر اوقات حد سے زیادہ تنقید کر دیتے ہیں۔حالانکہ جو لوگ اس تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں یعنی سہنے والے ہی جانتے ہیں ورنہ ہم کہنے والوں کا کیا جاتا جو منہ میں آئے کہہ دیں۔عورت مارچ در حقیقت ان خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی آواز ہے جو ظلم سہتی ہیں،جن کو ہراساں کیا جاتا ہے،جائیداد میں حق سے محروم رکھا جاتا ہے،جن پر ان کے شوہر تشدد کرتے ہیں،جن سے شادی کے لیے مرضی نہیں پوچھی جاتی،جن پر رشتے سے انکار پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے،اور وہ نور جو کل تک عورت مارچ میں قاتل کو لٹکانے کا مطالبہ کرتے کرتے پھر خود ایک ظالم قاتل سے قتل ہو جاتی ہے۔اب ذرا دیکھ لیجئے عورت مارچ کے مطالبات کیا ہیں۔اگر عورت مارچ میں جائیداد میں حق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو کیا یہ غلط ہے؟ کہہ دیا جاتا کہ جناب اسلام نے جائیداد میں عورت کو حق دیا ہے۔اسلام نے تو دیا ہے کیا آپ نے جائیداد میں حق دیا؟ پاکستان میں نوے فیصد سے زیادہ لوگ بیٹیوں کو جہیز تو دیتے ہیں جائیداد میں حصہ نہیں دیتے۔

    عورت مارچ میں شادی کے لیے عورت کی مرضی کی بات کی جاتی ہے تو کیا یہ غلط ہے؟ کیا اسلام نے خود یہ حق نہیں دیا؟ اگر اللّٰہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ سے ان کی مرضی دریافت کرتے ہیں تو کیا پاکستان میں ایسا ہوتا ہے؟ پھر وہی شرح ہے کہ بہت کم والدین ہیں۔لہزا عورت مارچ میں پاکستان کی عورتوں کے مطالبات کو یہ کہہ کر نہ ٹھکرایا جائے کہ اسلام نے عورت کو حقوق دیئے ہیں،اسلام نے تو دیے ہیں آپ نے نہیں دیے۔اب آ جائیں باقی مطالبات پر، تو کیا پاکستان میں خواتین پر ہونے والے تشدد کی شرح باقی ممالک کی نسبت خطرناک حد تک نہیں بڑھ رہی؟ کیا اگر خواتین قانون سازی اور قانون پر عملدرآمد کا مطالبہ کر رہی ہیں تو غلط کر رہی ہیں؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لفظ عورت مارچ کو ایک گالی کیوں بنا دیا گیا؟ یہ ہماری خواتین ہیں،اس ملک کی برابر کی شہری اور اس ملک کی آدھی آبادی۔یہ خواتین کا ایک پرامن مارچ ہے،ایک آواز ہے،محض ایک آواز۔ آپ اس آواز کو بند کیوں کروانا چاہتے ہیں؟ آپ کو اس آواز سے اتنی الجھن کیوں ہے؟ عورت مارچ پوری دنیا میں ہوتے ہیں کیا آئین پاکستان میں عورتوں کو سڑک پر نکل کر پرامن اکٹھ یا ریلی نکالنے کا حق نہیں ہے؟ عورت مارچ نہ تو پاکستان کے خلاف ہے نا ہی اسلام کے خلاف ہے۔اور ہر گز نہیں ہے یہ صرف ظالم کے خلاف ہے اور حق نہ دینے والے غاصب کے خلاف۔آخری بات یہ ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عورت مارچ بے حیاء معاشرے کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے بتائیے کہ دو ہزار اکیس میں عورت مارچ کے تھیم لوگو میں جن خواتین کی تصاویر تھیں وہ حجاب پہنے ہوئے تھیں۔عورت مارچ بے حیائی کی آزادی کی بات یا مطالبہ نہیں بلکہ عورت کو اپنی مرضی کے مطابق جینے کا مطالبہ کرتا ہے کہ اگر وہ حجاب کرنا چاہے تو کوئی اسے روکے نہیں یا اگر وہ حجاب نہ کرنا چاہے تو بھی اسے روکا نہ جاے۔باقی شر پسند عناصر یا کچھ نعروں پر اعتراض کیا جا سکتا ہے جو کہ عورت مارچ میں زاتی طور پر کسی کے ہو سکتے ہیں اسے آپ عورت مارچ کا مجموعی طور پر نظریہ نہیں کہہ سکتے۔اس پر بحث بھی ہو سکتی ہے ضرور کیجئے لیکن ان کے نظریات اور مطالبات کو بھی سنیے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملک عظیم پاکستان ترقی کرے تو عورتوں کی کسی بھی آواز کو دبانے کی کوشش نہ کریں،تمام گروہوں،طبقوں اور خیالات کو سنیں اور سننے کا حوصلہ پیدا کریں کیونکہ عدم برداشت سے معاشرے ترقی نہیں کرتے۔

    @SS_Sulehri

  • عورت کا مقام اور ہمارا کردار . تحریر : بشارت حسین

    عورت کا مقام اور ہمارا کردار . تحریر : بشارت حسین

    اسلام نے عورت کو عظیم مقام دیا۔ اسلام سے پہلے عورت کو معاشرے میں ذلت و رسوائی کا کی علامت جانا جاتا تھا۔ بچی کی پیدائش پہ اس کو زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ معاشرے میں عورت کا وجود ذلت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسلام آیا تو اس نے عورت کو مقام دیا رتبہ دیا رفعت بخشی۔ اسلام آیا تو ماں کے قدموں میں جنت آ گئی۔ سارے رشتوں سے افضل درجہ ماں کو قرار دیا گیا۔ بیٹی کے وجود کو رحمت بنا دیا گیا بہن کو سہارا اور ہمت پیار و محبت کی تخلیق قرار دیا۔ عورت کو حقوق دیے وراثت کا حصہ دار بنایا۔ معاشرے کے بھلائی کی بنیادی تربیت کی درسگاہ بنایا۔ بیوی کے روپ کو شریک حیات بنا دیا باعث سکون بنایا.

    جب شریک حیات کا لفظ سامنے آتا ہے تو ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ کوئی میری زندگی میں خاص ہے جس کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔
    جس کے ساتھ دکھ درد بانٹنے ہیں جسکی خوشیوں میں اپنے غم بھلا کر شریک ہونا جس کے غم کو اپنے غم سمجھ کر دور کرنے ہیں۔ جس کی حفاظت کرنی ہے جو آبرو ہے عزت ہے۔ اسلام نے عورت کے مقام اور تحفظ کیلئے قرآن کی آیات نازل فرما دیں۔ آج ہمارا معاشرہ کا طرف جا رہا ہے بیوی کے حقوق کو دیکھیں تو معاشرہ بلکل ان پڑھ اور جاہل لگتا ہے.

    عام طور پہ بیوی کو معاشرے میں ایک گھریلو کام کاج کرنے والی مشین سمجھا جاتا ہے جس کو نہ تنخواہ کی ضرورت ہے نہ پیار محبت کی بس شادی ہو گئی اور فری میں ایک ملازمہ مل گئی۔ اب وہ گھر کے سارے کام کرے گی ہر فرد کی ضروریات کا خیال رکھے گی بچے پیدا کرے انکو پالے گی بڑا کرے گی گھر کی رکھوالی کرے گی۔ اس کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پہ ڈانتنا،مارنا اور جھاڑنا یی روزمرہ کا معمول سمجھا جاتا ہے۔

    اس سوچ کا تعلق کہاں سے ہے؟
    یہ کوئی اسلامی سوچ نہیں یہ ایک جاہلانہ سوچ جو دور جاہلیت سے چلی آ رہی ہیں۔ خاوند بیوی سے پیار سے بات نہیں کرے گا اس کے پاس نہیں بیٹھے گا کسی کے سامنے اس کو ہاتھ نہیں ملائے گا اس کی غلطی ہو یا نہ ہو کسی کی شکایت پہ اس کو جھاڑنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب وہ کام ہیں جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب عزت اور شرم و حیا کے نام پہ بنائے ہوئے غیر شرعی کام ہیں ہیں۔
    بیوی کو ہاتھ نہیں ملا سکتے لیکن غیر محرم سے کوئی مضائقہ نہیں۔

    کسی سوچ ہے یہ؟
    اسلام نے شریک حیات کو بہت بڑا مقام دیا ہے۔ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ بیوی سے محبت اور احترام اس کا بنیادی حق ہے۔ اسلام نے یہ رشتہ آپ کیلئے حلال کیا ہے اس کو آپ کے ہر مشکل کا ساتھی بنایا ہے۔ اسکے قدموں میں آپ کے بچوں کی جنت ہے۔ اس کے ساتھ کھانا کھانا کوئی گناہ نہیں اس میں کوئی شرم و حیا کا مسئلہ نہیں اس کے ساتھ سب کے سامنے بات کرنے میں کوئی مذہب آڑے نہیں آتا۔ بیوی کو وہ مقام دیں وہ عزت دیں جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے۔ یہ سب جاہلانہ رسم و رواج ہیں جنکو اسلامی تعلیمات سے ختم کرنا ضروری ہے۔ اپنے شریک حیات کو ایسے رکھیں جیسے اسلام کہتا ہے ایسے نہیں جیسے اباو اجداد کہتے ہیں۔
    بدقسمتی سے آج ہم پھر اس مقام کی طرف لوٹ رہے ہیں جہاں سے اسلام نے ہمیں چلایا تھا۔ بیٹی کی پیدائش پہ گھر میں جیسے ماتم ہو جاتا ہے۔

    بیٹے کی پیدائش پہ دیگیں مٹھائی اور بیٹی کی پیدائش پہ سوگ منایا جاتا ہے بیوی کو طعنے دیے جاتے ہیں جبکہ یہی بچی جب بڑی ہوتی ہے تو سہارا بن جاتی ہے بچے چھوڑ جاتے ہیں لیکن بیٹیاں اپنی خوشیاں والدین کیلئے قربان کر دیتی ہیں۔ آج معاشرے میں بہن کے حقوق کو نظر انداز کیا جاتا ہے وراثت سے نکال دیا جاتا ہے اگر حصہ مانگیں تو لالچی تک کے طعنے دیے جاتے ہیں۔

    یاد رکھیں انکو یہ حقوق اسلام نے دیے ہیں۔ جو مقام عورت کو اسلام نے دیا ہم کون ہوتے ہیں اس کو پس پشت ڈالنے والے ہمیں کوئی حق نہیں کہ عورت کے حقوق کو نظر انداز کریں اسلام نے مرد کو عورت کا محافظ بنایا۔ جب گھر سے باہر نکلے تو ساتھ محرم مرد کو لے کر نکلے اس کا مطلب مرد عورت کا محافظ ہے نا کہ اس کی عزت کو روندنے والا۔

    آج ہم کس مقام پہ کھڑے ہیں؟
    ہم نے عورتوں کے مقام کو بھلا دیا آج عورت مرد کے ساتھ کو اپنے لیئے خطرہ سمجھنے لگی ہمارے اندر سے انسانیت اور اسلام کی روشنی غائب ہو گئی ہمارے اندر جہالت اور درندگی نے بسیرا کر لیا۔ ہم نے عورت کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے اس طوائف بنا دیا۔ اسے معاشرے کی نظر میں گرا دیا اس سے اس کا وہ مقام چھیننے کی کوشش کی جو اس کو اسلام نے دیا جسکی تعلیمات ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیں۔ آج عورت گھر سے نکلتے ہوئے خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے۔ گھر سے نکلتے ہی ہماری نظروں کے تیر اس کو گھائل کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے نے اس کی مجبوریوں کو دیکھ کر اس کا شرعی لباس چھین لیا آخر آج ہمارا رخ کا طرف ہے؟
    کیا ہم اس مقام کی طرف جا رہے ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھا یا ہم اب بھی اس کو ترقی کا ہی نام دیں گے جس میں عورت کے وجود کی عزت خاک میں مل کر رہ گئی۔

    Live_with_honor

  • کامیابی اور محنت تحریر : ولید عاشق

    کامیابی اور محنت تحریر : ولید عاشق

    ‏‎‏کامیابی کا راز ہے خود پر یقین جس کی شروعات اللہ پر یقین سے ہوتی ہے۔
    کامیاب ہونے کا طلبگار تو ہر ایک ہے مگر ساٸنس کی ایجادات نے، انسانی زندگی میں بے شمار سہولیات پیدا کر دی ہیں، انسانی ترقی کا راز صرف اور صرف محنت میں ہی ہے۔یہ محنت کا ہی صلہ تھا جس کے ذریعے انسان نے کٸ ایجادات جیسے ریڈیو، ٹیلی فون، ٹیلی ویژن، کمپیوٹر اور نٸ ٹیکنالوجی وغیرہ دریافت کیں اس کے برعکس جو قومیں محنت و مشقت نہیں کرتیں وہ پسماندہ رہ جاتی ہیں۔
    کجھ وقت کی محنت ساری زندگی کو پر سکون بنا دیتی ہے اور محنت سے عاری شخص ساری زندگی آرام طلبی کی غرض سے دوسروں کے رحم وکرم پر ہی رہتا ہے اور زندگی بھر ذلت اور رسواٸی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتا ہے۔سونا آگ میں جل کر کندن بنتا ہے اور کندن بننے سے پہلے سونے کے حصول کے لیے منوں مٹی کو کھودا جاتا ہے منوں مٹی کی کھوداٸی کے نتیجے میں قلیل مقدار میں سونا حاصل ہوتا ہے کھودی گٸ مٹی کو کٸ مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے تب کہیں سونے کا حصول ممکن ہوتا ہے منوں مٹی کھوداٸی کے باوجود نتاٸج حسبِ توقع نہیں حاصل ہوتے پھر بھی کانکنی کے دوران کسی بھی قسم کی نا امیدی کا شکار ہوۓ بغیر کھوداٸی کے کام کو نہایت انہماک سے انجام دیا جاتا ہے اور سونے جیسی دھات کے حصول کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہاں ایک بات قبلِ توجہ ہے کہ جب ہم سونے جیسی دھات کے لیے منوں مٹی کو بغیر کسی نا امیدی کے کھودتے ہیں تو بھلا اپنی شخصیت جو کہ دنیا کی تمام قیمتی اشیا ٕ سے نایاب اور انمول ہے اس کے حصول کے لیے کس طرح نا امیدی کا شکار ہو سکتے ہیں۔زندگی امید کے ساتھ چلتی ہے جو شخص پر امید رہتا ہے اور کوشش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب اندھیرے چھٹ جاتے ہیں اور ہر طرف اجالا ہی اجالا نظر آتا ہے۔مستقبل کو درخشاں کرنے کے لیے حال کے چراغ میں محنت کا تیل ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔انسان قوی ارادوں کے ساتھ دانشمندانہ حکمتِ عملی کے ذریعے ہاری ہوٸی بازی جیت سکتے ہیں ۔ہم اپنی صلاحيتوں کو بروۓکار لاتے ہوۓ کامیابی کی عظیم مثالیں قاٸم کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں صرف اپنے تساہل کو چھوڑنا پڑے گا۔

    Walees Ashiq

    Waleed Ashiq is a Freelance Journalist and blogger find more about his visit twitter Account


  • قومی ہیروز کو جیتے جی یاد  کریں . تحریر: محمد عثمان

    قومی ہیروز کو جیتے جی یاد کریں . تحریر: محمد عثمان

    کچھ روز قبل صبح جیسے ہی میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنا موبائل آن کیا اورٹویٹرچلایا ٹاپ ٹرینڈ پاکستان چیک کیا تو وہاں (AliSadpara#) ٹاپ ٹرینڈ چل رہا تھا میرے ذہن میں آیا کہ یہ نام سنا ہوا لگتا ہے اسی لمحے اچانک مجھے پتہ چلا کہ ہاں چھ ماہ پہلے ایک قومی ہیرو علی سدپارہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سیر کرنے گئے تو وہاں لاپتہ ہوگئے تھے ۔میں نے گہری سانس لی اور کہا اللہ خیر کریں۔۔۔۔پھر میں نے (AliSadpara#) ٹاپ ٹرینڈ چیک کیا تو پتہ چلا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ‘ بلند چوٹیوں سے بلند حوصلہ رکھنے والا پاکستان کا قومی ہیرو کوہ پیما علی سدپارہ کی لاش مل گئیں، قومی ہیرو کی لاش بوٹل نیک کے ٹو سے صرف تین سو میٹر نیچے تھی اور تقریبا چھ ماہ بعد قومی ہیرو علی سدپارہ کی لاش ملی ۔واٹس اپ آن کیا تو وہاں بھی لوگوں نے علی سدپارہ کے اسٹیٹس لگائے ہوئے تھے ۔ فیس بک ان کی تو وہاں بھی لوگوں نے قومی ہیرو علی سدپارہ کی اسٹوری لگائی ہوئی تھی موبائل بند کیا اور ٹی وی آن کیا تو وہاں بھی قومی ہیرو علی سدپارہ کی خبر چل رہی تھی اور حکمران ، اداکار و سماجی شخصیات علی سدپارہ کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے، یہ سب دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں اچانک ایک سوچ آئ کہ ہماری پاکستانی قوم کا یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم اپنے قومی ہیروز کو جیتے جی یاد نہیں کرتےبلکہ جب وہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تب ہم ان کی قدر ، حوصلہ افزائی اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور صرف دو دن تک اسے واٹس ایپ اسٹیٹس فیس بک اسٹوری اور ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ تک محدود رکھتے ہیں جس طرح ہمارے قومی ہیرو علی سدپارہ آج اس دنیا میں نہیں رہے پوری پاکستانی قوم علی سدپارہ کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے اور جب علی سدپارہ اس دنیا میں تھے تو یقینن میں اور باقی میری طرح کروڑوں پاکستانی بھی نہیں جانتے تھے کے علی سدپارہ کون ہے ؟ یہ ہماری قوم کا المیہ ہے کہ ہم اپنے قومی ہیروز کو جیتے جی یاد کرتے ہیں نہ حکومت کی طرف سے سپورٹ ہوتی ہے جس طرح حال ہی کے ایک اور قومی ہیرو ویٹ لفٹر طلحہ طالب جنہوں نے ٹوکیو اولمپکس 2020 میں پانچویں پوزیشن لے کر برونز میڈل پاکستان کے نام کیا ۔ طلحہ طالب کا بھی یہی کہنا تھا کہ اگر حکومت پاکستان یا کسی ادارے کی طرف سے مجھے تھوڑی سپورٹ ہوتی تو آج میں گولڈ میڈلسٹ ہوتا اور پورے پاکستان میں جشن ہوتا۔ ہاں بالکل!

    حکومت پاکستان کو چاہیے جیسے دیگر ممالک کے کھلاڑی گولڈمیڈلسٹ ہیں انہیں جس طرح کے پلیٹ فارم و سہولیات ملتی ہے وہ دی جائیں تاکہ ہمارے قومی ہیروز بھی دیگر ممالک کی طرح گولڈمیڈلسٹ بنے اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں ۔ تو یاد رکھیں! جس سچے پاکستانی نے قسم کھائی ہے کہ اس ملک پاکستان کے لیے کچھ کرنا ہے تو پھر انہے کسی کی سپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کیلئے ان کا جذبہ ہمت اور ملک سے محبت ہی کافی ہوتی ہے ۔ جس طرح علی سدپارہ کے بقول
    ۔ چل کسی شوق کی تکمیل میں مارے جائیں،
    ہمت کے آسمان کے اے تارہ آئے
    اٹھ کر کسی چٹان سے سدپارہ آئے
    برحق ہے موت پر عجب یہ معاملہ
    سب چاہتے ہیں کہ آپ دوبارہ آئیں
    آخری بات خدارا اس ملک کے قومی ہیروز کی جیتے جی مدد و سپورٹ اور حوصلہ افزائی کریں ۔ یہ قومی ہیروز فخر پاکستان ہے یہ جو کچھ کرتے ہیں پاکستان کیلئے کرتے ہیں۔

    @UsmanKbol

  • گداگری ایک معاشرتی ناسور۔ تحریر: نصرت پروین

    گداگری ایک معاشرتی ناسور۔ تحریر: نصرت پروین

    گداگری یعنی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا، ان سے مالی معاونت طلب کرنا ایک انتہائی ناپسندیدہ اور گھناؤنا عمل سمجھا جاتا ہے۔ اسلام جہاں حقیقی مستحق، اپاہج اور معذور لوگوں کی مدد کا درس دیتا ہے وہیں بلا وجہ گداگری کو ایک برا معاشرتی فعل کہہ کر سخت ممانعت بھی کرتا ہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بلا وجہ مانگنے والے کو وعید سنائی ہے کہ وہ مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اس حال میں الله سے ملے گا کہ اس کے چہرے پہ گوشت کا ایک ٹکرا بھی نہ ہوگا۔
    "عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ آپ منبر پر تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے صدقہ اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کا اور دوسروں سے مانگنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والے کا۔
    (صحیح بخاری۱۴۲۹)”

    "رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی اپنی رسی اٹھائے اور لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس کو بیچے اور الله اس کے ذریعے اس کی آبرو بچائے رکھے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے کہ وہ دیں یا نہ دیں۔
    (مسند أحمد، رقم: ۱۷۱۱۵)”
    اسلام نے مانگنے سے منع کر کے رزقِ حلال کمانے پر ابھارا ہے اور اپنے ہاتھ سے کمانے کی فضیلت بھی بتائی ہے۔
    بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات پر عمل سے قاصر ہے۔ گدا گری جتنی خطرناک بیماری ہے اتنی ہی تیزی سے یہ معاشرے میں سرائیت کرتی جارہی ہے۔ گداگری کو لوگ باقاعدہ پیشہ اپنا رہے ہیں۔ اور پسِ پردہ پورا ایک نیٹ ورک کام کررہا ہے جو اس گھناؤنا فعل انجام دینے والوں کو سہولیات مہیا کررہا ہے۔ اس لت میں مبتلا افراد معاشرے کے تمام چھوٹے، بڑے شہروں، گاؤں قصبوں، ہسپتالوں، دفاتر، اداروں، شاہراؤں، ٹریفک سگنلز، اور تمام چوراہوں پر موجود پائے جاتے ہیں۔ جہاں انہیں ایک مافیا مقررہ جگہوں پر چھوڑ جاتا ہے اور پھر مقررہ وقت پر واپس لے جاتا ہے۔ اسکے علاوہ مافیا انہیں موبائل فونز وغیرہ کی سروسز بھی مہیا کر رہا ہے۔۔ اور اسطرح وہ باقاعدہ اپنی اس معاشرتی لعنت کو انجام دے رہے ہیں۔
    میرا ذاتی تجربہ رہا ہے کہ میں یونیورسٹی جاتے ہوئے اور یونیورسٹی سے واپسی پر پانچ سے دس منٹ سٹاپ پہ ٹھہرتی ہوں اور ان دس منٹ میں میرا تین گداگروں سے لازمی واسطہ پڑتا ہے۔ اور اکثر مقررہ وقت پہ میں مقررہ گدا گروں کو دیکھتی ہوں۔ اور وہ ہمیشہ پیسے مانگتے ہیں اگر انہیں کوئی راشن وغیرہ یا کھانے کی چیز دیں تو اکثر وہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں اور اسطرح یہ مافیا کئی ہتھکنڈے استعمال کر کے ناجائز پیسہ بٹور رہا ہے۔
    گداگری جہاں بذاتِ خود ایک مرض ہے وہاں اپنے ساتھ دوسری بہت سے معاشرتی برائیوں کا سبب بھی ہے۔ گدا گروں کو جب پیسے نہ ملیں تو یہ مافیا گینگ مختلف جرائم میں ملوث ہوجاتا ہے۔ جیسے بچوں کے اغواہ اور منشیات فروشی وغیرہ۔ یہ گدا گر اکثر بچوں کو اغواہ کرتے ہیں۔ ان پر ظلم و ستم کر کے انہیں اس گندی لت گدا گری کی تربیت دیتے ہیں۔ بعض کو معذور بنا کر اس لعنت میں ملوث کرتے ہیں اور بعض کو معذوری کا ڈھونگ سکھا کر گداگری کرواتے ہیں۔ کچھ روز قبل میرے ایک جاننے والوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا ایک گداگر جو مسلسل تین دن سے ان کی گلی میں مقررہ وقت پہ آتا تھا ان کے آٹھ سالہ معصوم بچے کو اغواہ کرنے کی ناکام کوشش کی اور پھر جھٹ سے منظرِ عام سے غائب ہوگیا۔ اور اسطرح کے بہت سے واقعات ہمارے معاشرے کا روگ بنے ہوئے ہیں۔
    یہ مافیا معاشرے کے حقیقی ضرورت مند مستحق طبقے کا مجرم بھی ہے کہ ان کی وجہ سے ان مستحق افراد کو بھی انکا حق نہیں مل پاتا۔ لوگ انہیں بھی گداگر سمجھتے ہیں۔ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے بارے میں منفی نظریات قائم کر لیتے ہیں۔
    اس گھناؤنے فعل کو فوراً جڑ سے اکھاڑنا تو ممکن نہیں۔ لیکن اگر ہم بطور قوم اپنے حصے کی جدوجہد کریں تو معاشرے سے اس لعنت کا کسی حد تک سدِباب کیا جا سکتا ہے۔ لہذا ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ اس ناسور سے وابستہ لوگوں کی کوئی مدد نہ کریں۔ بلکہ جہاں تک ہو سکے ان کے خلاف آواز اٹھائیں۔ انکی حوصلہ شکنی کریں۔ اور اپنے صدقات وغیرہ حقیقی مستحق لوگوں تک پہنچائیں۔ تاکہ وہ ہمارے کے لئے توشۂ آخرت بنیں۔
    جزاکم الله خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • ہمارا پیارا پاکستان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    ہمارا پیارا پاکستان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    پاکستان صرف ایک مملکت ہی نہیں بلکہ یہ تو ایک نعمت ہے ۔پاکستان اللہ کا احسان ہے ہمارے اوپر۔ مگر افسوس ہم اس نعمت کی قدر کرنے سے گریزاں ہیں۔
    پاکستان یونہی بیٹھے بیٹھے معرض وجود میں نہیں آگیا تھا اس کے لیے ہمارے آباواجداد نے بے پناہ قربانیاں دیں ۔ماٶں نے اپنے دودھ پیتے بچوں کے گلے دبا دیے کہ کہیں ان کے رونے کی آواز سن کر دشمن حملہ آور نہ ہو جاۓ قافلے والوں پر عورتوں نے عصمت دری سے بچنے کے لیے نہروں میں چھلانگیں لگا دیں۔ انہوں نے اپنا گھر اپنی زمینیں سب چھوڑ دیا جوانوں کو ذبح کر دیا گیا تب جا کر پاکستان وجود میں آیا مگر ہم نے اپنے بڑوں کی تمام تر قربانیوں کو فراموش کر دیا۔
    محمد صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا : وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے ۔ اور ایک اور جگہ ہجرت کے وقت فرمایا کہ اے مکہ اگر تیرے بیٹے مجھے نہ نکالتے تو میں کبھی تجھے نہ چھوڑتا۔مگر ان احادیث کو پڑھنے کے بعد بھی اپنے وطن سے حقیقی معنوں میں محبت نہ کر سکے۔ ہم میں سے کوٸ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا بلکہ ہم یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دیتے کہ دوسرے بھی تو ایسا کر رے تو ہم ہی کیوں سوچیں ۔ ہم یہ بات نہیں سمجھتے کہ ہمارا ملک ہمارا گھر ہے اور گھر کا خیال رکھنا تو سب کا فرض اور ذمہ داری ہوتی اور اگر گھر کا کوٸ ایک فرد لاپرواہ ہو تو گھر دوسرے مل کر گھر کی دیکھ بھال کرتے اس کی حفاظت کرتے بلکل اسی طرح ہمیں اپنے پیارے وطن کا بھی مل جل کر خیال رکھنا ہے اسکی فلاح و بہبود کے لیے محنت کرنی ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں یہ تو حکومت کا کام ہے وہ اسکی صفاٸی کا خیال رکھیں وہ اس کی ترقی کے بارے میں سوچیں ۔ یہ خیال بلکل غلط ہے پاکستان ہم سب کا ہے ہم سب کو انفرادی طور پر اسکی فلاح وترقی کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا
    جب بچہ گھر میں کچرا پھینکتا تو ماں اسے ڈانٹتی ہے کہ تم نے کچرا پھیلا دیا گھر گندا کر دیا مگر مجھے تعجب ہوتا وہی بچہ جب کسی پبلک پلیس پہ کوڑا پھینکتے تو والدین کچھ نہیں کہتے اگر ہم سب کو یہ بات سمجھ آجاۓ اس ملک کا ہر حصہ ہمارا گھر ہے اس لیے مہربانی کر کے نٸ نسل کو ترغیب دیں کیونکہ بچے وہی کرتے جو وہ اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے
    : باہر کے ملک اگر آپ چلے جاٸیں تو آپ وہاں کا ایک پتہ نہیں توڑتے ایک کاغذ تک زمین پہ نہیں پھینکتے کہ آپ کو جرمانہ ہو گا اور یہاں آکر تعریفوں کے پل باندھ دیتے اور اپنے ملک میں اپنے گھرکا کوڑا سڑک پر پھینک دیتے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے اور پھر اپنے ہی ملک کی براٸیاں کرتے کہ یہاں فلاں فلاں مسٸلے ہیں درحقیقت ان مسٸلوں کی وجہ کہیں نہ کہیں ہمارا غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی رویہ بھی ہوتا اور پھر ہم کہہ رے ہوتے کہ فلاں ملک تو بہت صاف ہے وہاں کے لوگ تو قانون کا بہت احترام کرتے وغیرہ وغیرہ سیاستدان کہتے عوام نہیں سمجھتی اور عوام کہتی کہ سیاستدان اپنا کام نہیں کر رہے غرض کوٸی بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ مہربانی کر کہ تیرے میرے کا راگ الاپنا چھوڑ دیں پاکستان ہم سب کا ہے اسکی تعمیر و ترقی ہم سب کا فرض و ذمہ داری ہے۔
    جن سے محبت ہوتی نہ ان میں نقص نہیں نکالے جاتے بلکہ انکی بہتری کی خاطر محنت کی جاتی اسلیے پاکستان سے شکوے کرنے کی بجاۓ اسکی بہتری کے لیے کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان نے تو آپکو مذہب کی کلچر کی آزادی دی آپکو ایک پہچان دی مگر آپ نے اسے کیا دیا کچھ بھی نہیں الٹا آپکی لاپرواہیوں کی وجہ سے پاکستان مساٸل کا شکار ہوا ۔ ہمارے بڑوں نے بہت مشکلات و مصاٸب کے بعد اسے حاصل کیا خدارا اسکی قدر کریں اور اگر واقع ہی آپکو اس سے محبت ہے تو اسکا خیال ویسے ہی رکھیں جیسے آپ اپنے گھر کا رکھتے ہیں۔ ملک پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم سب اس گھر کے فرد ہیں لہذا ہمیں مل جل کر اپنے پیارے گھر پاکستان کی تعمیرو ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے

    @b786_s

  • 18 ترمیم اور مسائل تحریر: مریم صدیقہ

    18 ترمیم اور مسائل تحریر: مریم صدیقہ

    ہر کچھ عرصے بعد ملک میں 18 ترمیم کا شور زوروں پہ سنائی دیتا ہے ۔8 اپریل 2010 پیپلز پارٹی کےدور حکومت میں پاکستان کے آئین کی 102 شقوں میں کچھ نمایاں ردوبدل کر کے ترامیم قومی اسمبلی سے منظور کرا لی گئی۔مگر کوئی سیاسی جماعت اس میں مزید ردوبدل کرنے کا عندیہ دیتی نظر آتی ہے تو دوسری طرف کسی کو اس میں تبدیلی سے صوبوں کی خودمختاری خطرے میں لگنے لگتی ہے۔آخر یہ 18 ترمیم پاکستان کے حق میں ہے بھی یا نہیں چلیں آئیں آج اس پہ نظر ڈالتے ہیں۔
    18 ترمیم میں دراصل ہے کیا؟
    بظاہر تو یہ ترمیم، صوبائی خودمختاری، پارلیمان کی مضبوطی اور نچلے لیول پر اختیارات کومنتقل کرنے کے لیے کی گئی تھی جس سے میثاق جمہوریت کی مثال، ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے، قائم کرنے کی کوشش بھی ہوئی ۔ ان میں سے چند ترامیم یہ ہیں کہ اٹھارویں آئینی ترامیم کے تحت صدر سے ہنگامی صورتِ حال کے نفاذ کا اختیار لے کر پارلیمان کو دیا گیا۔ آئین کو توڑنے اور معطل کرنے کو بھی سنگین غداری قرار اور اسے ناقابلِ معافی جرم قرار دیا گیا۔ صوبائی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے آئین کے کئی آرٹیکلز کو بدل دیا گیا۔اور پاکستان کے شمال مغربی صوبہ سرحد کا نام بدل کر خیبر پختونخوا رکھ دیاگیا۔وفاق سےاختیارات لے کے صوبوں کو زیادہ خود مختار بنا یا۔ وزرائے اعلیٰ اور وزیرِ اعظم کے تیسری مرتبہ منتخب ہونے پر جو پابندی تھی اسے ختم کر دیا۔ صوبوں کو تعزیرات اور فوجداری کے قوانین میں ترمیم کا اختیار دیا گیا۔ فوجی سربراہان کی تقرری میں وزیرِ اعظم کی مشاورت لازمی قرار دی گئی۔ پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم ضروری اور اس کی مفت فراہمی کی ذمہ داری ریاست پر عائد کی گئی۔
    کیا 18 ترمیم وفاق کے رستے کا پتھر؟
    دیکھا جائے تو تین سیاسی جماعتیں جن کا اس ترمیم کی منظوری میں اہم کردار تھا ، تینوں نے اپنے اپنے سیاسی مفادات کو خاصا ملحوظ خاطر رکھا۔سب سے پیپلز پاڑٹی، جن کا سندھ گڑھ ہے اور ان سے زیادہ کسی کے لیے بھی صوبوں کو اختیارات کی منتقلی اتنی اہم نہیں ہو سکتی۔ پھر آتے ہیں نواز شریف ، ن لیگ کے قائد ، جو کہ تیسری بار وزیراعظم بننے کے خواہش مند تھے انہوں نے اس لیے ترمیم میں اپنا پھر پور کردار ادا کیا۔ اور آخر اے –این –پی نے اپنا ووٹ بنک بچانے کے لیے اپنے وٹرز کے کیا وعدہ وفا کیا اور صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے پختونخوا رکھ دیا گیا۔ پر اس سب میں پاکستان کہاں رہ گیا تینوں میں سے کسی نے دھیان نہ دیا۔یہ ترمیم کہاں کہاں وفاق کو کمزور کررہی ہے اس پر بات کرتے ہیں:
    – اس میں تمام تر کی جانے والی ترامیم وفاق کو سرے سے کمزور کرتی دیکھائی دیتی ہیں۔جیسا کہ صوبوں کے پاس اب مالی وسائل میں 47اشاریہ 5 فیصد کا شیئر ہے جبکہ وفاق کے پاس 42اشاریہ5 فیصد رہ گیا۔وسائل میں سے زیادہ پر حصہ صوبوں کے پاس مگر بیرونی قرضوں کا تمام تر بوجھ وفاق پر۔ ان بگڑتے معاشی حالات کے ساتھ ترمیم میں شامل یہ بات کہ کسی این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا شیئر پچھلے سال کے شیئر سے کم نہیں ہو گا ایک الگ مسئلہ ہے۔ وفاق کہاں سے دے گا یہ؟یہ قرض کیسے اتار پائے گا ؟ اب آپ ہی بتائیں دنیا میں کون سا ملک ایسے چلتا ہے؟کہاں وفاق کو اتنا کمزور کر دیا جاتا ہے؟ صوبوں کے پاس اس طرح کے اختیارات سےکیا کرپشن میں مزید اضافہ نہیں ہوگا؟
    – وفاق کے پاس دیگر اخراجات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قرضوں کی واپسی کا بھی بوجھ ہوتا ہے اور جب تعلیم اور صحت کے بے شمار اختیارات صوبوں کو دے دیے گئے ہیں تو وفاق کے اعتراضات تو بنتے ہیں۔ پھر جس طرح صوبے ان شعبوں میں اپنا فرض نبھا رہے ہیں اس کا اندازہ ہمیں سندھ کے حالات دیکھ کے بخوبی ہوجاتا ہے۔صوبوں کوبراہ راست غیر ملکی قرضے لینے کا اختیا ر بھی ان ترامیم کے ذریعے دے دیا گیا ۔ کیا اس سے ملک کی معیشت اور وفاق مزید کمزور نظر نہیں آتی؟
    – اب جی ایس ٹی کی طرف بھی نظر کر لیتے ۔ پاکستان کا سب سے زیادہ رونیو جینڑیٹ کرنے والا صوبہ سندھ ہے اب جب یہ جی ایس ٹی بھی صوبوں کے پاس جائے گی ملک کے وہ صوبے جہاں اتنا جینڑیٹ نہیں کیا جاتا وہ کہاں جائیں گے؟ کیا وفاق اس معاملے کو زیادہ پہتر انداز میں ڈیل نہیں کر سکتی تھی؟
    – وفاق اور صوبوں کے درمیان موجود کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ کر کے مرکز کے دائرۂ کار میں آنے والے کئی قانونی اختیارات صوبوں کو منتقل کیا گئے۔ اس سے صوبوں کے درمیان نئی لڑائی نے جنم لیا کہ آئی جی لگانے کا اختیار آخر ہے کس کے پاس ،وفاق یا صوبوں کے پاس ۔
    یہ تو بہت مختصرا تجزیہ دیا گیا اگر مزید گہرائی میں جائیں تو ناجانے کتنے صفحے بھر جائیں مگرحالات کو بہتر بنانے کے لیے اب ایک ہی حل دیکھائی دیتا ہے کہ اس اٹھارویں ترمیم کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس میں ہوئی ہر آئینی ترمیم کو بدلا جائےلیکن جہاں مزید ترمیم کی ضرورت ہے اس پہ بحث لازمی ہے کیوں کہ وہ ملک کی ترقی کی راہ میں پتھر کا کردار ادا کررہی ہیں۔مگر جب بھی اس میں بدلاو لانے کی بات کی جاتی ہے تو سب سے زیادہ شور پیپلز پارٹی کی طرف سے اٹھتا ہے لیکن شاید وہ بھٹوجن کے دورمیں آئین بنا ،ان کی وہ سات ترامیم بھول جاتے ہیں جو خاصی ملک دشمن بھی تھیں خیر بات موضوع سے ہٹ جائے گی مگر آخر میں بس اتنا ہی کہوں گی کہ جب بات ملک کے فائدے یا نقصان کی ہو تو ہر سیاسی فائدہ بھول کر ملک کے فائدے کے لیے کھڑے ہونا چاہیے کیوں کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان زندہ باد!

    @MS_14_1

  • یک سوئی کی اہمیت   تحریر:حُسنِ قدرت

    یک سوئی کی اہمیت تحریر:حُسنِ قدرت

    یک سوئی یعنی توجہ ہماری جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کے لیے ضروری ہے یک سوئی دماغ کی قوت بڑھاتی ہے جب ایک انسان خود کو دماغی طور پہ مضبوط کر لیتا ہے تو وہ اردگرد کے شور شرابے اور ہنگامے سے آسانی سے متاثر نہیں ہوتا ۔ توجہ اور یک سوئی بڑھانے کے لیے ضروری ہی کہ ہم جو بھی کام کریں اسی پوری توجہ سے کریں یعنی اس میں جذب ہوکر کریں یہ جذب وہ ہے جسے اکثر و اوقات ہم لوگ جذباتیت کہتے ہیں جدید تحقیقات کے بعد اس کا نام تبدیل ہو چکا ہے اور اسے مائنڈفلنس کے نام سے پڑھایا اور سکھایا جا رہا ہے اس جذب کے بنیادی عناصر خلوص اور جنون ہیں جنکی بنیاد پہ آپ زندگی کی کوئی بھی کٹھن منزل بلا خطر طے کر سکتے ہیں
    جب ہم کام کرنے کے لئے مخلص ہوتے ہیں تو ہم اس میں اتنا ہی جذب ہو جاتے ہیں اس سلسلے میں ایک واقعہ بہت مشہور ہے جو کہ مشہور سائنسدان آئن سٹائن سے مشہور ہے اس نے پانے گھر دوستوں کو دعوت دی مگر عین دعوت کے وقت اسے ایک سائنسی مسئلہ یاد آگیا اور وہ اس مسئلے کو حل کرنے میں اس طرح توجہ سے اسں پہ کام کرنے میں لگا کہ اسے مہمانوں کی خاطر تواضع کرنے کا خیال ہی نہ رہا اور نہ خود کھانے کا احساس رہا اس کے دوست کھانے کھا کر چلے گئے تو اسکی بیوی نے تمام برتن اٹھا لیے رات کے کسی پہر جب آئنسٹائن کی نظر کھانے کی خالی میز پر پڑی تو اس نے میز دیکھ کر کہا اوہو ! میں تو سمجھ رہا تھا میں نے رات کو کھانا ہی نہیں کھایا ہے میں کتنا بھلکڑ ہوں کھانا کھا کر بھی بھول گیا
    اب ہم یک سوئی کے فوائد اور اسکے حصول کے طریقے پہ بات کرتے ہیں
    یک سوئی یہ ہے کہ آپ جس وقت جو کام کر رہے ہیں اس کے سوا باقی تمام کاموں سے آپکا تعلق بالکل ٹوٹ جائے ۔ خود کو کسی کام میں اس قدر محو کر لینا کام کو معیار کے ساتھ جلد مکمل کرنے کا موثر ترین ذریعہ ہے اور یک سوئی شعوری نہیں ہوتی یہ بات بہت ضروری ہے کہ ہمیں اپنے دلچسپی کے کاموں میں شعوری طور پر یک سوئی پیدا کرنی چاہیے اس سے ہمیں ایک فائدہ یہ ہوگا کہ جب ہم کوئی ایسا کام کریں گی جو ہمارے لیے دلچسپی کا باعث نہیں ہے تو ہم اسے بھی یکسوئی سے کر سکیں گے
    بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس بہت سارے کام جمع ہوجاتے ہیں اگر ایسا ہو جائے تو ملٹی ٹاسکنگ یعنی ایک ساتھ بہت سارے کام کرنے کے بجائے ایک وقت میں ایک کام کریں اور اپنے تمام کاموں کی فہرست بنالیں کہ ان میں سے اہم کام کون سا ہے اور پہلے کسے کرنا چاہیے اسکے بعد لسٹ پہ عمل کرتے ہوئے آپ اپنے کام آسانی سے کر سکتے ہیں
    یک سوئی ایک بے نیازی کی کیفیت ہے یعنی آپ ایک کام کرتے ہوئے اس میں اس قدر غرق ہو جاتے ہیں کہ آپ کو اپنے گردو نواح کا ہوش تک نہیں ہوتا ہے
    پوموڈ ورو ٹیکنیک بھی یکسوئی حاصل کرنے کا موثر ترین ذریعہ ہے ۔ اس ٹیکنیک میں بڑے کاموں کو وقت کے مختلف حصوں میں تقسیم کرکے جو کام کیا جاتا ہے تو وہ معیاری ہوتا ہے اور جلدی بھی ہوتا ہے اینڈرائڈ پلے سٹور پر اب اس نام سے ایپس بھی موجود ہیں جنھیں آپ اپنے اسمارٹ فون پر انسٹال کرکے اس اوزار سے مستفید ہو سکتے ہیں
    اگر ہم خوشی اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم ہر کام یک سوئی سے کریں
    حُسنِ قدرت
    Twitter: @HusnHere

  • پانی کی قلت کیا ہے؟ تحریر:بختاورگیلانی

    پانی کی قلت کیا ہے؟ تحریر:بختاورگیلانی

    مقامی سطح پر اور عالمی سطح پر پانی کی قلت کی شدت پر زور دینے کے لئے ، عوام کو اس حیران کن اعدادوشمار سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔  پوری دنیا میں ہر براعظم متاثر ہوتا ہے ، نہ صرف وہی خطے جو روایتی طور پر خشک ہیں۔  سال کے کم از کم ایک ماہ تک کم سے کم دو ارب افراد متاثر ہوتے ہیں۔  اور 1 بلین سے زیادہ افراد کو پینے کے صاف پانی یا پینے کے پانی تک رسائی نہیں ہے۔  یہاں ایک توسیع دی جارہی ہے کہ پانی کی قلت کیا ہے اور اس کے بغیر ہونے کا کیا مطلب ہے۔

    موجودہ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ضروری وسائل کی کمی ہے
    پانی کی قلت کو پانی کی قلت ، پانی کے تناؤ ، پانی کے بحران کے نام سے بھی جانا جاتا ہے
    وسائل کی کمی کے علاوہ ، میٹھے پانی تک رسائی حاصل کرنے میں بھی دشواری ہے

    وسائل کی کمی اور پانی تک رسائی کی وجہ سے ، موجودہ وسائل میں مزید خرابی واقع ہوتی ہے

    خشک موسم کی صورتحال کی وجہ سے ، اور  کمی واقع ہوتی ہے

    خاص طور پر ، پانی کی قلت ان علاقوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جو موجودہ غیر آباد پانی اس کی طلب سے کہیں کم ہے
    سب صحارا افریقہ جیسی جگہوں پر صاف پانی لوگوں کے لئے عیش و آرام کی طرح بن گیا ہے۔  زیادہ تر لوگ سارا دن اس کی تلاش میں گزارتے ہیں ، جو ان کی صلاحیت کو کچھ دوسری چیزوں میں ہاتھ کرنے کی کوشش کو محدود کردیتا ہے۔  سال 2025 تک ، صورتحال اس وقت مزید خراب ہوسکتی ہے جب دنیا کی دوتہائی آبادی کو پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
    ہم سب جانتے ہیں کہ زمین کا تقریبا 70 70٪ حصہ پانی سے ڈوبا ہوا ہے۔  اس پانی کا صرف 2.5-3٪ ہی تازہ ہے۔  باقی پانی نمکین اور سمندر پر مبنی ہے۔  اس 3 فیصد میٹھے پانی میں سے ، اس میں سے دو تہائی گلیشیرز اور اسنوفیلڈز میں پھنس گیا ہے اور ہمارے استعمال کے لئے دستیاب نہیں ہے۔  اس میٹھے پانی کا باقی ایک تہائی حصہ انسانی استعمال اور اس سیارے پر پوری آبادی کو کھانا کھلانے کے لئے دستیاب ہے۔  اس کے نتیجے میں ، میٹھے پانی – پانی ہم پیتے ہیں ، نہانا نایاب ہے اور کرہ ارض کے تمام پانی کا ایک چھوٹا سا حصہ بنا دیتا ہے۔
    اس وقت تک پانی کی قلت کے عالمی مسئلے کو اجاگر کرنے اور اس پر بار بار زور دینے کی ضرورت ہے جب تک کہ ہر کوئی اس سے بخوبی واقف ہو اور ذمہ داری کے ساتھ پانی کی بچت کے لئے اپنا کردار ادا کرے ،