Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • انتخابات اور الیکشن کمیشن  تحریر : راجہ ارشد

    انتخابات اور الیکشن کمیشن تحریر : راجہ ارشد

    اسلامی جہموریہ پاکستان میں الیکشن کوئی بھی ہوں عام انتخابات ، ضمنی انتخابات یا پھر سینٹ انتخابات جو بی ہارا اس نے کبھی تسلیم ہی نہیں کیا  اور الیکشن کو متنازعہ بنانے کی پوری کوشش کی ۔

    پاکستان کی تقریبا تمام سیاسی پارٹیاں اس میں شامل ہیں جو کبھی جیتی ہیں کبھی ہار جاتی ہیں۔
      جیت جاتے ہیں تو جشن یسے مناتے ہیں جیسے 28 فروری کا سرپریز انہوں نے ہی دیا ہو اور ہارنے والے اسے متنازعہ کہہ کے ریاستی اداروں پر الزمات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔
     
    مزے کی بات ہارنے والوں کی جب کبھی حکومت آتی ہے تو وہ کبھی اصلاحات کی کوشش ہی نہیں کرتے۔اور اگر کوئی بندہ اصلاحات کرنے کی بات بھی کرئے تو یہ مخالفت کرتے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔

    حکومتی جماعت کو کرپٹ نظام کی وجہ سے فائدہ ہوتا ہے کرپٹ نظام کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو کنٹرول کیا جاتا ہے ہم نے یہ ماضی میں دیکھا ہے کہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے ان کے مطالبے پر 4 حلقے 4 سال میں وپن نہیں ہوئے تھے اس لیے عمران خان نے 126 دن کا دھرنا دیا تھا اور عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد پاکستان میں شفاف انتخابات اور کرپشن کا خاتمہ ہے۔

    سینٹ الیکشن کی ہی بات کر لیتے ہیں اس الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کتنی ہوتی ہے سب سیاسی پارٹیوں کے سربراہ کو پتہ ہے ۔ عمران خان نے حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپنے 20 ارکان کو پارٹی سے نکالا تھا ان ارکان کی ویڈیو بھی منظرعام پر آئی تھی اس ویڈیو میں دوسری پارٹیوں کے لوگ بھی تھے لیکن کاروائی صرف اور صرف کپتان نے کی باقی سب خاموش رہے۔

    کپتان حکومت کو قانون سازی میں دشواری کا سامنا ہے وجہ سینٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہے اور وہ قانون سازی میں بڑی رکاوٹ ہیں وہ نہیں چاہتے کہ ہارس ٹریڈنگ کا خاتمہ ہو۔
    سینٹ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس بھیجا کہ ووٹنگ وپن ہونی چاہئیے اور ساتھ ہی سپریم کورٹ  سے اس سلسلے میں رائے بھی طلب کی۔
    سپریم کورٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن نے بھی حکومتی آرڈیننس کی مخالفت کی اور خفیہ طریقہ پر ووٹنگ کی حمایت کی اندازہ کریں کہ ایک حکومتی ادارہ نے حکومت کی مخالفت کی یہی عمران خان کی کامیابی  ہے۔
    سپریم کورٹ میں کیس چلتا رہا اور بالآخر سپریم کورٹ نے بھی حکومتی آرڈیننس پر اپنی رائے دیں اور حکم دیا کہ ووٹنگ خفیہ ہوگی۔

    سپریم کورٹ نے مزید تشریح کی اور کہا کہ شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور شفاف الیکشن کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔
    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن  کی رائے کے برعکس حکم دیا کہ ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رکھا جاتا، بے شک ووٹ خفیہ ہی ڈالا جائے گا لیکن ہر پارٹی کی سربراہ کی خواہش پر اس کو بتایا جاسکے گا کہ ووٹ کہاں ڈالا گیا ہے۔
    اب جبکہ ووٹ کا پتہ چل سکے گا کہ کس نے کس کو ووٹ دیا ووٹ قابل شناخت ہوگیا تو یقینا ہارس ٹریڈنگ کاخاتمہ ہوگا اور کرپٹ مافیا اپنے چال نہیں چل سکے گا اور یہی عمران خان حکومت کی جیت ہے۔
    دیکھا جائے تو خفیہ ووٹنگ کا فائدہ حکمران جماعت کو زیادہ ہوتا ہے سارے اختیارات حکومت کے پاس ہوتے ہیں حکومت چاہیے تو خزانے کا منہ کھل دے اور سب ارکان کو پیسوں سے خریدلے جیسے ماضی کی حکومتیں کرتی رہی ہیں لیکن عمران خان کی نیت صاف ہے وہ چاہتے ہیں کہ ادارے آزاد ہو پاکستان میں صاف و شفاف انتخابات ہو کرپشن کا خاتمہ ہو۔

    پاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں سے درخواست ہے کہ پاکستان کو عظیم ملک کرپشن سے پاک ملک بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں اور تمام سیاسی پارٹیوں کے اندر جو کرپٹ مافیا  کے لوگ ہیں ان کا خاتمہ کریں اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیں۔

    اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو
    پاکستان زندہ اباد

    @RajaArshad56

  • کیرئیر کونسلنگ . تحریر : فہد ملک

    کیرئیر کونسلنگ . تحریر : فہد ملک

    آپ کے کیریئر کی ترقی ایک زندگی بھر کا عمل ہے جو آپ کو معلوم ہے یا نہیں ، دراصل آپ کے پیدا ہونے پر ہی شروع ہوا تھا! بہت سارے عوامل ہیں جو آپ کے کیریئر کی ترقی کو متاثر کرتے ہیں ، بشمول آپ کی دلچسپیاں ، قابلیتیں ، اقدار ، شخصیت ، پس منظر اور حالات۔ کیریئر کونسلنگ ایک ایسا عمل ہے جو آپ کو کیریئر ، تعلیمی ، اور زندگی کے فیصلے کرنے کیلئے اپنے آپ کو اور کام کی دنیا کو جاننے اور سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔

    کیریئر کی ترقی صرف یہ فیصلہ کرنے سے کہیں زیادہ ہے کہ آپ فارغ التحصیل ہونے پر آپ کیا نوکری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ واقعی ایک زندگی بھر کا عمل ہے ، مطلب یہ ہے کہ آپ کی ساری زندگی آپ بدلاؤ گے ، حالات بدلیں گے ، اور آپ کو کیریئر اور زندگی کے فیصلے مستقل طور پر لینے پڑیں گے۔ کیریئر کونسلنگ کا مقصد یہ ہے کہ آپ نہ صرف آپ کے فیصلے کرنے میں مدد کریں ، بلکہ آپ کو مستقبل میں کیریئر اور زندگی کے فیصلے کرنے کیلئے آپ کو ضروری علم اور صلاحیتیں فراہم کرنا ہیں۔

    میں کیا توقع کرسکتا ہوں؟

    آپ کا کیریئر کونسلر آئے گا:
    آپ یہ جاننے میں مدد کریں کہ آپ کون ہیں اور آپ اپنی تعلیم ، کیریئر اور اپنی زندگی سے کیا چاہتے ہیں۔
    آپ کے خیالات ، خیالات ، احساسات اور اپنے کیریئر اور تعلیمی انتخاب کے بارے میں خدشات کے بارے میں بات کرنے کیلئے کوئی شخص بن جائے ، جو آپ کو اپنے خیالات اور احساسات کو الگ الگ کرنے ، ترتیب دینے اور سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا۔ اپنے کیریئر کی ترقی کو متاثر کرنے والے عوامل کی نشاندہی کرنے میں آپ کی مدد کریں اور اپنی دلچسپیوں ، صلاحیتوں اور قدروں کا اندازہ کریں۔
    کیریئر سے متعلق معلومات کے وسائل اور ذرائع تلاش کرنے میں آپ کی مدد کریں۔ اگلے اقدامات کا تعین کرنے اور اپنے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کرنے میں مدد کریں۔

    آپ کا کیریئر کونسلر نہیں کرے گا:
    آپ کو بتائیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے ، یا آپ کو بتانا چاہئے کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے یا آپ کو کیا پیشہ اپنانا چاہئے۔ کورس کے انتخاب یا نظام الاوقات میں آپ کو مشورے دیں۔

    کس کو کیریئر کونسلنگ کی ضرورت ہے؟
    چونکہ کیریئر کی ترقی ایک زندگی بھر کا عمل ہے ، لہذا کیریئر کونسلنگ کسی کے لئے بھی موزوں ہوسکتی ہے ، بشمول تازہ افراد ، سوفومورس ، جونیئرز ، سینئرز اور یہاں تک کہ سابق طلباء بھی۔ قبل ازیں آپ اپنے مستقبل کے بارے میں جان بوجھ کر فیصلے کرنا شروع کردیتے ہیں ، تاہم ، آپ جتنا بہتر تیار ہوں گے! ہمارا مشورہ ہے کہ تمام افسران کیریئر کونسلر سے مل کر تشریف لائیں۔

    ذیل میں خدشات کی کچھ مثالیں ہیں جو طلبا کو کیریئر کونسلنگ میں لاتے ہیں۔
    کیریئر اور اہم اختیارات کی تلاش
    "مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہوں۔”
    "مجھے نہیں معلوم کہ میں کس چیز میں بڑا کام کرنا ہے۔”
    "میں نے اسے کیریئر کے ایک دو آپشنز تک محدود کردیا ہے ، لیکن مجھے ان کے درمیان انتخاب کرنے میں سخت مشکل پیش آرہی ہے۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے اندازہ نہیں ہے کہ فارغ ہونے کے بعد میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ سب سے بڑا میجر کیا ہوگا۔
    "میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں اپنے بڑے سے کس قسم کی ملازمت حاصل کرسکتا ہوں۔”
    "مجھے ایسا نہیں لگتا کہ میں جانتا ہوں کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں جاننے کے لئے وہاں موجود تمام مختلف کیریئر کے بارے میں کافی جانتا ہوں۔”

    تنازعات کو حل کرنا
    "مجھے بہت سارے مختلف مضامین پسند ہیں ، اور میں اپنا اہم تبدیل کرتا رہتا ہوں کیونکہ مجھے یقین نہیں ہے کہ کون سا میرے لئے سب سے بہتر ہے!”
    "میں اپنی کسی بھی جماعت کو پسند نہیں کرتا ہوں اور کوئی بڑی کمپنی مجھ سے واقعی اپیل نہیں کرتی ہے۔”
    "میرے پاس بہت سارے کام کا تجربہ ہے اور میں ایک نیا کیریئر کا راستہ تلاش کرنا چاہتا ہوں جو میں پہلے سے موجود ہنروں کو استوار کروں گا۔”
    "میں ___ پروگرام میں جانے کا ارادہ کر رہا تھا ، لیکن میں نے درخواست دی اور میں داخل نہیں ہوا۔ اب میں کیا کروں؟”
    "میں نے ہمیشہ سوچا کہ میں ___ بننا چاہتا ہوں ، لیکن میں اپنے بڑے ہو گیا اور مجھے واقعی میں یہ پسند نہیں کرتا!”
    "میں واقعی میں اپنے بڑے کو پسند کرتا ہوں ، لیکن یہ وہ نہیں ہے جو میں اپنے کیریئر کے لئے کرنا چاہتا ہوں۔”
    "میں جانتا ہوں کہ میں کس نوعیت کا کام کرنا چاہتا ہوں ، لیکن مجھے ڈر ہے کہ میں یہ کام کرنے میں زیادہ رقم کمانے کے قابل نہیں ہوں گے۔”
    "میرا کنبہ حقیقت میں چاہتا ہے کہ میں ___ بنوں ، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ اگر میں واقعی میں یہی چاہتا ہوں تو۔”
    "میں نے ہمیشہ ___ ہونے کا ارادہ کیا ہے ، لیکن میں سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ میں جانتا ہوں۔”
    "میں وہاں جانے کے لئے ایک فیلڈ ڈھونڈنا چاہتا ہوں جہاں ہمیشہ ملازمت کی کافی مقدار ہوگی۔”
    "میں ایک ایسا کیریئر تلاش کرنا چاہتا ہوں جس سے مجھے اپنے کنبے کے لئے قابل قدر مالی اعانت فراہم ہوسکے۔”
    "میں اپنے کیریئر کی سمت کام کر رہا ہوں ، لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں واقعی میں گھر میں رہنے والے والدین بننا چاہتا ہوں۔”
    "میں نے ہمیشہ بائوس میں ہی رہنے کا ارادہ کیا ہے ، لیکن میں جو کرنا چاہتا ہوں وہ کرنا ہے مجھے حرکت کرنا ہوگی۔”
    "مجھے نوکری نہیں مل سکتی ہے ، لہذا میں گریڈ اسکول جانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔”

    کیریئر کونسلر کون ہے؟
    کیریئر سروسز کا عملہ آپ کی مدد کرنے میں آپ کو ماسٹر ڈگری حاصل ہے اور اس میں کیریئر ڈویلپمنٹ تھیوری ، مشاورت کی تکنیک ، انتظامیہ اور تشخیص کی تشریح ، اور کیریئر سے متعلق معلومات کے وسائل میں مہارت حاصل ہے۔ کیریئر کونسلرز مشاورت یا کیریئر کونسلنگ میں ماسٹر ڈگری رکھتے ہیں۔

    آپ کی ملازمت کی تلاش / کیریئر کے حصول کا عمل آپ کے کیریئر کی ترقی کا ایک اہم پہلو بھی ہے ، اور اسی وجہ سے ، جاب سرچ ایڈوائزیشن اور کیریئر کی صلاحکاری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کے کیریئر کونسلر کو بھی آپ کی ملازمت کی تلاش کے تمام پہلوؤں کی مدد کے لئے مکمل طور پر تربیت حاصل ہے۔

    ‎@Malik_Fahad333

  • نوکری یا کاروبار؟ . تحریر : ایم ابراہیم

    نوکری یا کاروبار؟ . تحریر : ایم ابراہیم

    ہرانسان کو زندگی گزارنے اور اپنی روزمرہ کی ضروریات پورا کرنے کے لئے مستقل ذرائع آمدن کی ضرورت ہوتی ہے. ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا کوئی مستقل ذریعہ آمدن ہو جس سے وہ اپنی اور اپنے خاندان کا پیٹ پال سکے اور سکون سے زندگی گزار سکے. آج کل کے دور میں جب قدرتی ذرائع کم اور انسان کی جگہ مشینری لیتی جا رہی ہے تو اور بھی مستقل ذریعہ آمدن کی فکر بڑھتی جا رہی ہے. آج کل دو ہی بنیادی ذرائع آمدن ہر جگہ زیر بحث ہوتے ہیں اور وہ ہیں نوکری اور کاروبار. ہر کوئی چاہتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک حاصل کرے اور اس کا معاشی مستقبل محفوظ ہو. یہ دونوں ذرائع بالکل الگ ہیں اور ان کا الگ قابلیت کا معیار، کام اور آمدن بھی مختلف ہیں.

    پہلے ہم نوکری کی بات کرتے ہیں. نوکری کی دو قسمیں ہیں سرکاری اور غیر سرکاری. ہمارے معاشرے میں سرکاری نوکری کو بہت ہی محفوظ معاشی مستقبل کے طور پر سمجھا جاتا ہے جس کی بنیادی وجوہات مستقلی، سروس میں سرکاری مراعات، بچت اور سب سے اہم تا زندگی ملنے والی پنشن ہے. عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اگر آپ سرکاری نوکری سے وابستہ ہیں تو آپ کو کوئی فکر نہیں بس اب آپ تاحیات سرکار کے ‘ ذمہ’ ہیں. نوکری کے لیے اہل ہونے کے لیے سب سے بنیادی چیز جو چاہیے وہ ہے تعلیم. اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں تو آپ اپنی ڈگری کی کیٹگری اور شعبہ کے لحاظ سے ایک سرکاری نوکری حاصل کر سکتے. ریاست جو آپ کے کے ذمہ کام لگائے گی وہ آپ خوش اسلوبی سے سر انجام دیں گے اور آپ کو متعلقہ شعبہ کے کے قوانین کے مطابق سرکاری مراعات وغیرہ اور ماہانہ آمدن دی جائیں گی. اسلام جمہوریہ پاکستان کے قوانین کے مطابق ریٹائرمنٹ ہونے کی عمر ساٹھ سال ہے. ساٹھ سال کے بعد حکومت آپ کو ایک حساب کے مطابق آپ کو یَک مُشت رقم بھی دے گی اور بعد میں تاحیات پینشن بھی دے گی، یہی خصوصیات سرکاری نوکری کو سب سے پرکشش بناتی ہیں. لیکن اس دور میں جب سرکاری نوکریوں کی کمی اور حکومت خود نوجوانوں کو کاروبار کی طرف راغب کر رہی ہے. حکومت چاہتی ہے کہ نوجوان کاروبار کریں، با اختیار بنیں، دوسروں کے لیےبھی روزگار کے مواقع پیدا کریں اور ملک کا بھی فائدہ ہو.

    اب بات کرتے ہیں کاروبار کی، کاروبار ذاتی ہوتا ہے اور کاروبار کرنے کے لئے جس چیز کی آپ کو ضرورت ہوتی ہے وہ ہےسرمایہ. آپ سرمایہ کاری کریں گے اور پھر کاروبار کی نوعیت کے حساب سے آپ کی آمدنی ہوگی. کاروبار میں یہ ہے کہ آپ کو رِسک لینا پڑتا ہے، جب آپ سرمایہ کاری کر رہے ہوتے ہیں، پیسہ لگا رہے ہوتے ہیں تو قدرتی اور ملکی حالات بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں جس سے آپ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جیسا کہ اب کرونا وائرس کی آفت میں کئی کاروبار ٹھپ ہوئے اور سرمایہ کاروں کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا. لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ دنیا کے جتنے بھی امیر ترین افراد ہیں آپ ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں سب کاروباری تھے آپ کو کوئی نوکری والا امیر ترین نہیں ملے گا. نوکری کا یہ فائدہ ہے کہ آپ کا رہن سہن اچھا ہوگا اور پرسکون یعنی نارمل زندگی گزاریں گے. اس کے برعکس کاروبار میں آپ کو کئی مشکلات بھی آئیں گی، نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے لیکن یہ ہے کہ منافع کے بھی کوئی حد نہیں. نوکری میں آپ کو مخصوص وقت اور قوانین کے اندر رہ کر کام کرنا پڑتا ہے، کاروبار میں وقت کی کوئی قید نہیں جتنا آپ کاروبار کو زیادہ وقت دیں گے اتنا زیادہ کمائیں گے. کاروبار ہو یا نوکری اپنی دلچسپی کے شعبہ میں کرنے چاہئیں تاکہ آپ کو زہنی سکون میسر ہو.

    ibrahimianPAK@

  • ببول کے کانٹے . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ببول کے کانٹے . تحریر : سید غازی علی زیدی

    ماڈرن ازم کے دلدادہ ہوں یا مذہب کے ٹھیکیدار، دانشور ہوں یا فنکار، سیاستدان ہوں یا اساتذہ، سب کو جیسے سانپ سونگھ چکا ہے۔ ہر زبان خاموش، ہر دل کبیدہ خاطر ہے کیونکہ ہر کوئی جانتا کہ اس سارے معاشرتی بگاڑ میں کہیں نہ کہیں ان کا حصہ بھی ہے۔ ببول کا بیج بویا ہو تو پھول نہیں بلکہ کانٹے ہی اگتے۔ کانٹے بھی وہ جن کا زہر ہماری نئی نسل میں اس بری طرح سرایت کر چکا کہ اب کوئی تریاق بھی کام نہیں دے رہا۔ اخلاقیات کی پامالی کی ہر حد پار ہو چکی ہے۔ سماجی قدروں کا زوال پورے جوبن پر ہے اور کسی میں ان سرکش موجوں کے سامنے بند باندھنے کی جرات بھی نہیں ہورہی۔ ایک خوف و وحشت کی فضا ہے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا۔ نہ راہ چلتی بزرگ خاتون محفوظ ہے نہ گلی میں کھیلتی معصوم بچی، چھوٹا بچہ ہویا کوئی خاتون خانہ ہر کسی کی عصمت و جان کو خطرہ ہے۔ ہوس زدہ درندے ہر جگہ کھلے گھوم رہے، اذیتیں دے کر قتل کر رہے، کتوں کی طرح بھنبھوڑ رہے۔ جنون اور ہیجان کا یہ عالم کہ الامان الحفیظ۔ جو لوگ کبھی اپنے خاندانی ہونے پر فخر کرتے تھے خود کو معاشرے کا باوقار فرد گردانتے تھے ان کی ہی اولادیں اتنی سفاک کیسے ہو گئی ہیں؟

    آخر معاشرے میں تمام۔حدود و قیود کو پار کرتا جنسی ہیجان کیونکر پیدا ہو گیا ہے؟ کیا آج سے دو دہائیوں پہلے تک یہ سب کچھ تھا؟ نہیں بلکل نہیں۔ پھر اب ایسا کیا ہو گیا؟ جواب بہت سادہ اور واضح ہے- فحاشی و بے حیائی۔ مغربی معاشرے کی تقلید میں ہم نے بجائے تعلیم وہنر کو کاپی کرنے کے انکی تہذیب کو جوں کا توں کاپی کرلیا یہ جانے بغیر کہ اس کے مستقل اثرات کس قدر بھیانک ہوں گے۔
    قارئین کرام ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ اتنا جنون اتنی سفاکیت راتوں رات نہیں پیدا ہوتی۔ معاشرے میں تبدیلی کا عمل ہمیشہ آہستگی سے آتا ہے۔ قطرہ قطرہ، نامحسوس طریقے سے یہ زہر اترا نہیں اتارا گیا ہے۔ فحاشی وعریانی کا سیلاب ایک دم نہیں آیا بلکہ ہم نے پوری دلی رضامندی سے ماڈرن بننے کے چکر میں اس کو اپنے معاشرے میں رائج کیا ہے۔

    مغربی سیکولر و لبرل معاشرے سے متاثر ہمارے دانشوروں نے اپنی شاندار اسلامی تعلیمات کو دقیانوسی قرار دے کر پس پشت ڈال دیا۔ سیاستدانوں کو مغربی جمہوریت ہی معاشرے کا اصل حسن لگی۔ تو مذہبی رہنماؤں نے معاشرے کی ایلیٹ کلاس میں فٹ ہونے کیلئے مخلوط تعلیم سے لیکر مخلوط محافل تک سب کچھ جائز قرار دے دیا۔ برقع میں بھی ایسی جدیدیت آ گئی کہ پردے کا اصل مقصد ہی فوت ہوگیا۔ مرد و زن کا اختلاط عام ہوگیا خواہ سکول ہو یا آفس۔ بات یہاں تک بھی کنٹرول میں تھی لیکن سونے پر سہاگا الیکٹرانک میڈیا اور ٹک ٹاک جیسی ایپلیکیشنز نے پوری قوم کو ناچ گانے پر لگا دیا۔ جب اس پر بھی تسلی نہیں ہوئی تو پاکستانیوں نے موبائل پر پورن فلموں کو دیکھنے کے سب ریکارڈ توڑ دیے۔

    خدارا ابھی بھی وقت ہے۔ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائیں۔ اربابِ اختیار ہمت کریں ان جنسی درندوں کو سرعام پھانسیاں دیں تاکہ باقی لوگ عبرت پکڑیں اور اپنے گھروں میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دیں تاکہ معاشرے کا بگاڑ سدھارا جاسکے۔ مغربی معاشرہ تو خود لبرل ازم اور الحادیت کے چکر میں تباہ ہو چکا۔ اگر کسی کو شک ہے تو بیشک ریپ کیسز، چائلڈ پورنو گرافی، عورتوں و بچوں پر تشدد کے اعداد و شمار اٹھا کر دیکھ لیں۔ آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ” اور بے شرمی کی باتوں کے قریب ہی نہ جاؤ وہ کھلی ہوں یا چھپی ہوئی ہوں۔”(الانعام۔151)۔
    تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم حد سے تجاوز کر جاتی تو پہلے خدا اُسے مہلت دیتا کہ وہ اپنی اصلاح کرے اگر روش نہ بدلی جائے تو خدا کا غضب جوش میں آتا اور تباہی سب کا مقدّر بن جاتی۔

    @once_says

  • عورت مارچ . تحریر : ڈاکٹر سلطان صلاح الدین سلہری

    عورت مارچ . تحریر : ڈاکٹر سلطان صلاح الدین سلہری

    مجھے آج بھی ایک لڑکی کا واٹس ایپ سٹیٹس اچھی طرح یاد ہے بلکہ میرے پاس اس کا سکرین شاٹ بھی پڑا ہے جو کہ اس کا آخری واٹس ایپ سٹیٹس تھا جس میں تحریر یہ تھی کہ "کہنے والوں کا کیا جاتا،سہنے والے کمال کرتے ہیں”یہ آج سے تقریباً تین سال قبل سہارا میڈیکل کالج نارووال کی ایم بی بی ایس کی طالبہ ڈاکٹر نرگس حیات خان کا خودکشی سے پہلے آخری رات کا سٹیٹس تھا۔ اس خودکشی کے وجہ کیا تھی وہ ایک الگ بحث ہے لیکن بتانا یہ تھا کہ حقیقت یہی ہے کہ ہم کسی بھی چیز پر بے جا تنقید اور اکثر اوقات حد سے زیادہ تنقید کر دیتے ہیں۔حالانکہ جو لوگ اس تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں یعنی سہنے والے ہی جانتے ہیں ورنہ ہم کہنے والوں کا کیا جاتا جو منہ میں آئے کہہ دیں۔عورت مارچ در حقیقت ان خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی آواز ہے جو ظلم سہتی ہیں،جن کو ہراساں کیا جاتا ہے،جائیداد میں حق سے محروم رکھا جاتا ہے،جن پر ان کے شوہر تشدد کرتے ہیں،جن سے شادی کے لیے مرضی نہیں پوچھی جاتی،جن پر رشتے سے انکار پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے،اور وہ نور جو کل تک عورت مارچ میں قاتل کو لٹکانے کا مطالبہ کرتے کرتے پھر خود ایک ظالم قاتل سے قتل ہو جاتی ہے۔اب ذرا دیکھ لیجئے عورت مارچ کے مطالبات کیا ہیں۔اگر عورت مارچ میں جائیداد میں حق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو کیا یہ غلط ہے؟ کہہ دیا جاتا کہ جناب اسلام نے جائیداد میں عورت کو حق دیا ہے۔اسلام نے تو دیا ہے کیا آپ نے جائیداد میں حق دیا؟ پاکستان میں نوے فیصد سے زیادہ لوگ بیٹیوں کو جہیز تو دیتے ہیں جائیداد میں حصہ نہیں دیتے۔

    عورت مارچ میں شادی کے لیے عورت کی مرضی کی بات کی جاتی ہے تو کیا یہ غلط ہے؟ کیا اسلام نے خود یہ حق نہیں دیا؟ اگر اللّٰہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ سے ان کی مرضی دریافت کرتے ہیں تو کیا پاکستان میں ایسا ہوتا ہے؟ پھر وہی شرح ہے کہ بہت کم والدین ہیں۔لہزا عورت مارچ میں پاکستان کی عورتوں کے مطالبات کو یہ کہہ کر نہ ٹھکرایا جائے کہ اسلام نے عورت کو حقوق دیئے ہیں،اسلام نے تو دیے ہیں آپ نے نہیں دیے۔اب آ جائیں باقی مطالبات پر، تو کیا پاکستان میں خواتین پر ہونے والے تشدد کی شرح باقی ممالک کی نسبت خطرناک حد تک نہیں بڑھ رہی؟ کیا اگر خواتین قانون سازی اور قانون پر عملدرآمد کا مطالبہ کر رہی ہیں تو غلط کر رہی ہیں؟ سب سے اہم بات یہ ہے کہ لفظ عورت مارچ کو ایک گالی کیوں بنا دیا گیا؟ یہ ہماری خواتین ہیں،اس ملک کی برابر کی شہری اور اس ملک کی آدھی آبادی۔یہ خواتین کا ایک پرامن مارچ ہے،ایک آواز ہے،محض ایک آواز۔ آپ اس آواز کو بند کیوں کروانا چاہتے ہیں؟ آپ کو اس آواز سے اتنی الجھن کیوں ہے؟ عورت مارچ پوری دنیا میں ہوتے ہیں کیا آئین پاکستان میں عورتوں کو سڑک پر نکل کر پرامن اکٹھ یا ریلی نکالنے کا حق نہیں ہے؟ عورت مارچ نہ تو پاکستان کے خلاف ہے نا ہی اسلام کے خلاف ہے۔اور ہر گز نہیں ہے یہ صرف ظالم کے خلاف ہے اور حق نہ دینے والے غاصب کے خلاف۔آخری بات یہ ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ عورت مارچ بے حیاء معاشرے کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے بتائیے کہ دو ہزار اکیس میں عورت مارچ کے تھیم لوگو میں جن خواتین کی تصاویر تھیں وہ حجاب پہنے ہوئے تھیں۔عورت مارچ بے حیائی کی آزادی کی بات یا مطالبہ نہیں بلکہ عورت کو اپنی مرضی کے مطابق جینے کا مطالبہ کرتا ہے کہ اگر وہ حجاب کرنا چاہے تو کوئی اسے روکے نہیں یا اگر وہ حجاب نہ کرنا چاہے تو بھی اسے روکا نہ جاے۔باقی شر پسند عناصر یا کچھ نعروں پر اعتراض کیا جا سکتا ہے جو کہ عورت مارچ میں زاتی طور پر کسی کے ہو سکتے ہیں اسے آپ عورت مارچ کا مجموعی طور پر نظریہ نہیں کہہ سکتے۔اس پر بحث بھی ہو سکتی ہے ضرور کیجئے لیکن ان کے نظریات اور مطالبات کو بھی سنیے۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملک عظیم پاکستان ترقی کرے تو عورتوں کی کسی بھی آواز کو دبانے کی کوشش نہ کریں،تمام گروہوں،طبقوں اور خیالات کو سنیں اور سننے کا حوصلہ پیدا کریں کیونکہ عدم برداشت سے معاشرے ترقی نہیں کرتے۔

    @SS_Sulehri

  • عورت کا مقام اور ہمارا کردار . تحریر : بشارت حسین

    عورت کا مقام اور ہمارا کردار . تحریر : بشارت حسین

    اسلام نے عورت کو عظیم مقام دیا۔ اسلام سے پہلے عورت کو معاشرے میں ذلت و رسوائی کا کی علامت جانا جاتا تھا۔ بچی کی پیدائش پہ اس کو زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ معاشرے میں عورت کا وجود ذلت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسلام آیا تو اس نے عورت کو مقام دیا رتبہ دیا رفعت بخشی۔ اسلام آیا تو ماں کے قدموں میں جنت آ گئی۔ سارے رشتوں سے افضل درجہ ماں کو قرار دیا گیا۔ بیٹی کے وجود کو رحمت بنا دیا گیا بہن کو سہارا اور ہمت پیار و محبت کی تخلیق قرار دیا۔ عورت کو حقوق دیے وراثت کا حصہ دار بنایا۔ معاشرے کے بھلائی کی بنیادی تربیت کی درسگاہ بنایا۔ بیوی کے روپ کو شریک حیات بنا دیا باعث سکون بنایا.

    جب شریک حیات کا لفظ سامنے آتا ہے تو ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ کوئی میری زندگی میں خاص ہے جس کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔
    جس کے ساتھ دکھ درد بانٹنے ہیں جسکی خوشیوں میں اپنے غم بھلا کر شریک ہونا جس کے غم کو اپنے غم سمجھ کر دور کرنے ہیں۔ جس کی حفاظت کرنی ہے جو آبرو ہے عزت ہے۔ اسلام نے عورت کے مقام اور تحفظ کیلئے قرآن کی آیات نازل فرما دیں۔ آج ہمارا معاشرہ کا طرف جا رہا ہے بیوی کے حقوق کو دیکھیں تو معاشرہ بلکل ان پڑھ اور جاہل لگتا ہے.

    عام طور پہ بیوی کو معاشرے میں ایک گھریلو کام کاج کرنے والی مشین سمجھا جاتا ہے جس کو نہ تنخواہ کی ضرورت ہے نہ پیار محبت کی بس شادی ہو گئی اور فری میں ایک ملازمہ مل گئی۔ اب وہ گھر کے سارے کام کرے گی ہر فرد کی ضروریات کا خیال رکھے گی بچے پیدا کرے انکو پالے گی بڑا کرے گی گھر کی رکھوالی کرے گی۔ اس کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پہ ڈانتنا،مارنا اور جھاڑنا یی روزمرہ کا معمول سمجھا جاتا ہے۔

    اس سوچ کا تعلق کہاں سے ہے؟
    یہ کوئی اسلامی سوچ نہیں یہ ایک جاہلانہ سوچ جو دور جاہلیت سے چلی آ رہی ہیں۔ خاوند بیوی سے پیار سے بات نہیں کرے گا اس کے پاس نہیں بیٹھے گا کسی کے سامنے اس کو ہاتھ نہیں ملائے گا اس کی غلطی ہو یا نہ ہو کسی کی شکایت پہ اس کو جھاڑنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب وہ کام ہیں جن کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب عزت اور شرم و حیا کے نام پہ بنائے ہوئے غیر شرعی کام ہیں ہیں۔
    بیوی کو ہاتھ نہیں ملا سکتے لیکن غیر محرم سے کوئی مضائقہ نہیں۔

    کسی سوچ ہے یہ؟
    اسلام نے شریک حیات کو بہت بڑا مقام دیا ہے۔ اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ بیوی سے محبت اور احترام اس کا بنیادی حق ہے۔ اسلام نے یہ رشتہ آپ کیلئے حلال کیا ہے اس کو آپ کے ہر مشکل کا ساتھی بنایا ہے۔ اسکے قدموں میں آپ کے بچوں کی جنت ہے۔ اس کے ساتھ کھانا کھانا کوئی گناہ نہیں اس میں کوئی شرم و حیا کا مسئلہ نہیں اس کے ساتھ سب کے سامنے بات کرنے میں کوئی مذہب آڑے نہیں آتا۔ بیوی کو وہ مقام دیں وہ عزت دیں جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے۔ یہ سب جاہلانہ رسم و رواج ہیں جنکو اسلامی تعلیمات سے ختم کرنا ضروری ہے۔ اپنے شریک حیات کو ایسے رکھیں جیسے اسلام کہتا ہے ایسے نہیں جیسے اباو اجداد کہتے ہیں۔
    بدقسمتی سے آج ہم پھر اس مقام کی طرف لوٹ رہے ہیں جہاں سے اسلام نے ہمیں چلایا تھا۔ بیٹی کی پیدائش پہ گھر میں جیسے ماتم ہو جاتا ہے۔

    بیٹے کی پیدائش پہ دیگیں مٹھائی اور بیٹی کی پیدائش پہ سوگ منایا جاتا ہے بیوی کو طعنے دیے جاتے ہیں جبکہ یہی بچی جب بڑی ہوتی ہے تو سہارا بن جاتی ہے بچے چھوڑ جاتے ہیں لیکن بیٹیاں اپنی خوشیاں والدین کیلئے قربان کر دیتی ہیں۔ آج معاشرے میں بہن کے حقوق کو نظر انداز کیا جاتا ہے وراثت سے نکال دیا جاتا ہے اگر حصہ مانگیں تو لالچی تک کے طعنے دیے جاتے ہیں۔

    یاد رکھیں انکو یہ حقوق اسلام نے دیے ہیں۔ جو مقام عورت کو اسلام نے دیا ہم کون ہوتے ہیں اس کو پس پشت ڈالنے والے ہمیں کوئی حق نہیں کہ عورت کے حقوق کو نظر انداز کریں اسلام نے مرد کو عورت کا محافظ بنایا۔ جب گھر سے باہر نکلے تو ساتھ محرم مرد کو لے کر نکلے اس کا مطلب مرد عورت کا محافظ ہے نا کہ اس کی عزت کو روندنے والا۔

    آج ہم کس مقام پہ کھڑے ہیں؟
    ہم نے عورتوں کے مقام کو بھلا دیا آج عورت مرد کے ساتھ کو اپنے لیئے خطرہ سمجھنے لگی ہمارے اندر سے انسانیت اور اسلام کی روشنی غائب ہو گئی ہمارے اندر جہالت اور درندگی نے بسیرا کر لیا۔ ہم نے عورت کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے اس طوائف بنا دیا۔ اسے معاشرے کی نظر میں گرا دیا اس سے اس کا وہ مقام چھیننے کی کوشش کی جو اس کو اسلام نے دیا جسکی تعلیمات ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیں۔ آج عورت گھر سے نکلتے ہوئے خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے۔ گھر سے نکلتے ہی ہماری نظروں کے تیر اس کو گھائل کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے نے اس کی مجبوریوں کو دیکھ کر اس کا شرعی لباس چھین لیا آخر آج ہمارا رخ کا طرف ہے؟
    کیا ہم اس مقام کی طرف جا رہے ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھا یا ہم اب بھی اس کو ترقی کا ہی نام دیں گے جس میں عورت کے وجود کی عزت خاک میں مل کر رہ گئی۔

    Live_with_honor

  • کامیابی اور محنت تحریر : ولید عاشق

    کامیابی اور محنت تحریر : ولید عاشق

    ‏‎‏کامیابی کا راز ہے خود پر یقین جس کی شروعات اللہ پر یقین سے ہوتی ہے۔
    کامیاب ہونے کا طلبگار تو ہر ایک ہے مگر ساٸنس کی ایجادات نے، انسانی زندگی میں بے شمار سہولیات پیدا کر دی ہیں، انسانی ترقی کا راز صرف اور صرف محنت میں ہی ہے۔یہ محنت کا ہی صلہ تھا جس کے ذریعے انسان نے کٸ ایجادات جیسے ریڈیو، ٹیلی فون، ٹیلی ویژن، کمپیوٹر اور نٸ ٹیکنالوجی وغیرہ دریافت کیں اس کے برعکس جو قومیں محنت و مشقت نہیں کرتیں وہ پسماندہ رہ جاتی ہیں۔
    کجھ وقت کی محنت ساری زندگی کو پر سکون بنا دیتی ہے اور محنت سے عاری شخص ساری زندگی آرام طلبی کی غرض سے دوسروں کے رحم وکرم پر ہی رہتا ہے اور زندگی بھر ذلت اور رسواٸی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں کر پاتا ہے۔سونا آگ میں جل کر کندن بنتا ہے اور کندن بننے سے پہلے سونے کے حصول کے لیے منوں مٹی کو کھودا جاتا ہے منوں مٹی کی کھوداٸی کے نتیجے میں قلیل مقدار میں سونا حاصل ہوتا ہے کھودی گٸ مٹی کو کٸ مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے تب کہیں سونے کا حصول ممکن ہوتا ہے منوں مٹی کھوداٸی کے باوجود نتاٸج حسبِ توقع نہیں حاصل ہوتے پھر بھی کانکنی کے دوران کسی بھی قسم کی نا امیدی کا شکار ہوۓ بغیر کھوداٸی کے کام کو نہایت انہماک سے انجام دیا جاتا ہے اور سونے جیسی دھات کے حصول کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہاں ایک بات قبلِ توجہ ہے کہ جب ہم سونے جیسی دھات کے لیے منوں مٹی کو بغیر کسی نا امیدی کے کھودتے ہیں تو بھلا اپنی شخصیت جو کہ دنیا کی تمام قیمتی اشیا ٕ سے نایاب اور انمول ہے اس کے حصول کے لیے کس طرح نا امیدی کا شکار ہو سکتے ہیں۔زندگی امید کے ساتھ چلتی ہے جو شخص پر امید رہتا ہے اور کوشش کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب اندھیرے چھٹ جاتے ہیں اور ہر طرف اجالا ہی اجالا نظر آتا ہے۔مستقبل کو درخشاں کرنے کے لیے حال کے چراغ میں محنت کا تیل ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔انسان قوی ارادوں کے ساتھ دانشمندانہ حکمتِ عملی کے ذریعے ہاری ہوٸی بازی جیت سکتے ہیں ۔ہم اپنی صلاحيتوں کو بروۓکار لاتے ہوۓ کامیابی کی عظیم مثالیں قاٸم کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ہمیں صرف اپنے تساہل کو چھوڑنا پڑے گا۔

    Walees Ashiq

    Waleed Ashiq is a Freelance Journalist and blogger find more about his visit twitter Account


  • قومی ہیروز کو جیتے جی یاد  کریں . تحریر: محمد عثمان

    قومی ہیروز کو جیتے جی یاد کریں . تحریر: محمد عثمان

    کچھ روز قبل صبح جیسے ہی میری آنکھ کھلی تو میں نے اپنا موبائل آن کیا اورٹویٹرچلایا ٹاپ ٹرینڈ پاکستان چیک کیا تو وہاں (AliSadpara#) ٹاپ ٹرینڈ چل رہا تھا میرے ذہن میں آیا کہ یہ نام سنا ہوا لگتا ہے اسی لمحے اچانک مجھے پتہ چلا کہ ہاں چھ ماہ پہلے ایک قومی ہیرو علی سدپارہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کو سیر کرنے گئے تو وہاں لاپتہ ہوگئے تھے ۔میں نے گہری سانس لی اور کہا اللہ خیر کریں۔۔۔۔پھر میں نے (AliSadpara#) ٹاپ ٹرینڈ چیک کیا تو پتہ چلا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ‘ بلند چوٹیوں سے بلند حوصلہ رکھنے والا پاکستان کا قومی ہیرو کوہ پیما علی سدپارہ کی لاش مل گئیں، قومی ہیرو کی لاش بوٹل نیک کے ٹو سے صرف تین سو میٹر نیچے تھی اور تقریبا چھ ماہ بعد قومی ہیرو علی سدپارہ کی لاش ملی ۔واٹس اپ آن کیا تو وہاں بھی لوگوں نے علی سدپارہ کے اسٹیٹس لگائے ہوئے تھے ۔ فیس بک ان کی تو وہاں بھی لوگوں نے قومی ہیرو علی سدپارہ کی اسٹوری لگائی ہوئی تھی موبائل بند کیا اور ٹی وی آن کیا تو وہاں بھی قومی ہیرو علی سدپارہ کی خبر چل رہی تھی اور حکمران ، اداکار و سماجی شخصیات علی سدپارہ کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے، یہ سب دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں اچانک ایک سوچ آئ کہ ہماری پاکستانی قوم کا یہ سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم اپنے قومی ہیروز کو جیتے جی یاد نہیں کرتےبلکہ جب وہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تب ہم ان کی قدر ، حوصلہ افزائی اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور صرف دو دن تک اسے واٹس ایپ اسٹیٹس فیس بک اسٹوری اور ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ تک محدود رکھتے ہیں جس طرح ہمارے قومی ہیرو علی سدپارہ آج اس دنیا میں نہیں رہے پوری پاکستانی قوم علی سدپارہ کو خراج تحسین پیش کر رہی ہے اور جب علی سدپارہ اس دنیا میں تھے تو یقینن میں اور باقی میری طرح کروڑوں پاکستانی بھی نہیں جانتے تھے کے علی سدپارہ کون ہے ؟ یہ ہماری قوم کا المیہ ہے کہ ہم اپنے قومی ہیروز کو جیتے جی یاد کرتے ہیں نہ حکومت کی طرف سے سپورٹ ہوتی ہے جس طرح حال ہی کے ایک اور قومی ہیرو ویٹ لفٹر طلحہ طالب جنہوں نے ٹوکیو اولمپکس 2020 میں پانچویں پوزیشن لے کر برونز میڈل پاکستان کے نام کیا ۔ طلحہ طالب کا بھی یہی کہنا تھا کہ اگر حکومت پاکستان یا کسی ادارے کی طرف سے مجھے تھوڑی سپورٹ ہوتی تو آج میں گولڈ میڈلسٹ ہوتا اور پورے پاکستان میں جشن ہوتا۔ ہاں بالکل!

    حکومت پاکستان کو چاہیے جیسے دیگر ممالک کے کھلاڑی گولڈمیڈلسٹ ہیں انہیں جس طرح کے پلیٹ فارم و سہولیات ملتی ہے وہ دی جائیں تاکہ ہمارے قومی ہیروز بھی دیگر ممالک کی طرح گولڈمیڈلسٹ بنے اور دنیا میں پاکستان کا نام روشن کریں ۔ تو یاد رکھیں! جس سچے پاکستانی نے قسم کھائی ہے کہ اس ملک پاکستان کے لیے کچھ کرنا ہے تو پھر انہے کسی کی سپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کیلئے ان کا جذبہ ہمت اور ملک سے محبت ہی کافی ہوتی ہے ۔ جس طرح علی سدپارہ کے بقول
    ۔ چل کسی شوق کی تکمیل میں مارے جائیں،
    ہمت کے آسمان کے اے تارہ آئے
    اٹھ کر کسی چٹان سے سدپارہ آئے
    برحق ہے موت پر عجب یہ معاملہ
    سب چاہتے ہیں کہ آپ دوبارہ آئیں
    آخری بات خدارا اس ملک کے قومی ہیروز کی جیتے جی مدد و سپورٹ اور حوصلہ افزائی کریں ۔ یہ قومی ہیروز فخر پاکستان ہے یہ جو کچھ کرتے ہیں پاکستان کیلئے کرتے ہیں۔

    @UsmanKbol

  • گداگری ایک معاشرتی ناسور۔ تحریر: نصرت پروین

    گداگری ایک معاشرتی ناسور۔ تحریر: نصرت پروین

    گداگری یعنی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا، ان سے مالی معاونت طلب کرنا ایک انتہائی ناپسندیدہ اور گھناؤنا عمل سمجھا جاتا ہے۔ اسلام جہاں حقیقی مستحق، اپاہج اور معذور لوگوں کی مدد کا درس دیتا ہے وہیں بلا وجہ گداگری کو ایک برا معاشرتی فعل کہہ کر سخت ممانعت بھی کرتا ہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بلا وجہ مانگنے والے کو وعید سنائی ہے کہ وہ مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اس حال میں الله سے ملے گا کہ اس کے چہرے پہ گوشت کا ایک ٹکرا بھی نہ ہوگا۔
    "عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب کہ آپ منبر پر تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے صدقہ اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کا اور دوسروں سے مانگنے کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والے کا ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والے کا۔
    (صحیح بخاری۱۴۲۹)”

    "رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی اپنی رسی اٹھائے اور لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس کو بیچے اور الله اس کے ذریعے اس کی آبرو بچائے رکھے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرے کہ وہ دیں یا نہ دیں۔
    (مسند أحمد، رقم: ۱۷۱۱۵)”
    اسلام نے مانگنے سے منع کر کے رزقِ حلال کمانے پر ابھارا ہے اور اپنے ہاتھ سے کمانے کی فضیلت بھی بتائی ہے۔
    بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات پر عمل سے قاصر ہے۔ گدا گری جتنی خطرناک بیماری ہے اتنی ہی تیزی سے یہ معاشرے میں سرائیت کرتی جارہی ہے۔ گداگری کو لوگ باقاعدہ پیشہ اپنا رہے ہیں۔ اور پسِ پردہ پورا ایک نیٹ ورک کام کررہا ہے جو اس گھناؤنا فعل انجام دینے والوں کو سہولیات مہیا کررہا ہے۔ اس لت میں مبتلا افراد معاشرے کے تمام چھوٹے، بڑے شہروں، گاؤں قصبوں، ہسپتالوں، دفاتر، اداروں، شاہراؤں، ٹریفک سگنلز، اور تمام چوراہوں پر موجود پائے جاتے ہیں۔ جہاں انہیں ایک مافیا مقررہ جگہوں پر چھوڑ جاتا ہے اور پھر مقررہ وقت پر واپس لے جاتا ہے۔ اسکے علاوہ مافیا انہیں موبائل فونز وغیرہ کی سروسز بھی مہیا کر رہا ہے۔۔ اور اسطرح وہ باقاعدہ اپنی اس معاشرتی لعنت کو انجام دے رہے ہیں۔
    میرا ذاتی تجربہ رہا ہے کہ میں یونیورسٹی جاتے ہوئے اور یونیورسٹی سے واپسی پر پانچ سے دس منٹ سٹاپ پہ ٹھہرتی ہوں اور ان دس منٹ میں میرا تین گداگروں سے لازمی واسطہ پڑتا ہے۔ اور اکثر مقررہ وقت پہ میں مقررہ گدا گروں کو دیکھتی ہوں۔ اور وہ ہمیشہ پیسے مانگتے ہیں اگر انہیں کوئی راشن وغیرہ یا کھانے کی چیز دیں تو اکثر وہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں اور اسطرح یہ مافیا کئی ہتھکنڈے استعمال کر کے ناجائز پیسہ بٹور رہا ہے۔
    گداگری جہاں بذاتِ خود ایک مرض ہے وہاں اپنے ساتھ دوسری بہت سے معاشرتی برائیوں کا سبب بھی ہے۔ گدا گروں کو جب پیسے نہ ملیں تو یہ مافیا گینگ مختلف جرائم میں ملوث ہوجاتا ہے۔ جیسے بچوں کے اغواہ اور منشیات فروشی وغیرہ۔ یہ گدا گر اکثر بچوں کو اغواہ کرتے ہیں۔ ان پر ظلم و ستم کر کے انہیں اس گندی لت گدا گری کی تربیت دیتے ہیں۔ بعض کو معذور بنا کر اس لعنت میں ملوث کرتے ہیں اور بعض کو معذوری کا ڈھونگ سکھا کر گداگری کرواتے ہیں۔ کچھ روز قبل میرے ایک جاننے والوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا ایک گداگر جو مسلسل تین دن سے ان کی گلی میں مقررہ وقت پہ آتا تھا ان کے آٹھ سالہ معصوم بچے کو اغواہ کرنے کی ناکام کوشش کی اور پھر جھٹ سے منظرِ عام سے غائب ہوگیا۔ اور اسطرح کے بہت سے واقعات ہمارے معاشرے کا روگ بنے ہوئے ہیں۔
    یہ مافیا معاشرے کے حقیقی ضرورت مند مستحق طبقے کا مجرم بھی ہے کہ ان کی وجہ سے ان مستحق افراد کو بھی انکا حق نہیں مل پاتا۔ لوگ انہیں بھی گداگر سمجھتے ہیں۔ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے بارے میں منفی نظریات قائم کر لیتے ہیں۔
    اس گھناؤنے فعل کو فوراً جڑ سے اکھاڑنا تو ممکن نہیں۔ لیکن اگر ہم بطور قوم اپنے حصے کی جدوجہد کریں تو معاشرے سے اس لعنت کا کسی حد تک سدِباب کیا جا سکتا ہے۔ لہذا ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ اس ناسور سے وابستہ لوگوں کی کوئی مدد نہ کریں۔ بلکہ جہاں تک ہو سکے ان کے خلاف آواز اٹھائیں۔ انکی حوصلہ شکنی کریں۔ اور اپنے صدقات وغیرہ حقیقی مستحق لوگوں تک پہنچائیں۔ تاکہ وہ ہمارے کے لئے توشۂ آخرت بنیں۔
    جزاکم الله خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • ہمارا پیارا پاکستان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    ہمارا پیارا پاکستان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    پاکستان صرف ایک مملکت ہی نہیں بلکہ یہ تو ایک نعمت ہے ۔پاکستان اللہ کا احسان ہے ہمارے اوپر۔ مگر افسوس ہم اس نعمت کی قدر کرنے سے گریزاں ہیں۔
    پاکستان یونہی بیٹھے بیٹھے معرض وجود میں نہیں آگیا تھا اس کے لیے ہمارے آباواجداد نے بے پناہ قربانیاں دیں ۔ماٶں نے اپنے دودھ پیتے بچوں کے گلے دبا دیے کہ کہیں ان کے رونے کی آواز سن کر دشمن حملہ آور نہ ہو جاۓ قافلے والوں پر عورتوں نے عصمت دری سے بچنے کے لیے نہروں میں چھلانگیں لگا دیں۔ انہوں نے اپنا گھر اپنی زمینیں سب چھوڑ دیا جوانوں کو ذبح کر دیا گیا تب جا کر پاکستان وجود میں آیا مگر ہم نے اپنے بڑوں کی تمام تر قربانیوں کو فراموش کر دیا۔
    محمد صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا : وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے ۔ اور ایک اور جگہ ہجرت کے وقت فرمایا کہ اے مکہ اگر تیرے بیٹے مجھے نہ نکالتے تو میں کبھی تجھے نہ چھوڑتا۔مگر ان احادیث کو پڑھنے کے بعد بھی اپنے وطن سے حقیقی معنوں میں محبت نہ کر سکے۔ ہم میں سے کوٸ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا بلکہ ہم یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دیتے کہ دوسرے بھی تو ایسا کر رے تو ہم ہی کیوں سوچیں ۔ ہم یہ بات نہیں سمجھتے کہ ہمارا ملک ہمارا گھر ہے اور گھر کا خیال رکھنا تو سب کا فرض اور ذمہ داری ہوتی اور اگر گھر کا کوٸ ایک فرد لاپرواہ ہو تو گھر دوسرے مل کر گھر کی دیکھ بھال کرتے اس کی حفاظت کرتے بلکل اسی طرح ہمیں اپنے پیارے وطن کا بھی مل جل کر خیال رکھنا ہے اسکی فلاح و بہبود کے لیے محنت کرنی ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں یہ تو حکومت کا کام ہے وہ اسکی صفاٸی کا خیال رکھیں وہ اس کی ترقی کے بارے میں سوچیں ۔ یہ خیال بلکل غلط ہے پاکستان ہم سب کا ہے ہم سب کو انفرادی طور پر اسکی فلاح وترقی کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا
    جب بچہ گھر میں کچرا پھینکتا تو ماں اسے ڈانٹتی ہے کہ تم نے کچرا پھیلا دیا گھر گندا کر دیا مگر مجھے تعجب ہوتا وہی بچہ جب کسی پبلک پلیس پہ کوڑا پھینکتے تو والدین کچھ نہیں کہتے اگر ہم سب کو یہ بات سمجھ آجاۓ اس ملک کا ہر حصہ ہمارا گھر ہے اس لیے مہربانی کر کے نٸ نسل کو ترغیب دیں کیونکہ بچے وہی کرتے جو وہ اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے
    : باہر کے ملک اگر آپ چلے جاٸیں تو آپ وہاں کا ایک پتہ نہیں توڑتے ایک کاغذ تک زمین پہ نہیں پھینکتے کہ آپ کو جرمانہ ہو گا اور یہاں آکر تعریفوں کے پل باندھ دیتے اور اپنے ملک میں اپنے گھرکا کوڑا سڑک پر پھینک دیتے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے اور پھر اپنے ہی ملک کی براٸیاں کرتے کہ یہاں فلاں فلاں مسٸلے ہیں درحقیقت ان مسٸلوں کی وجہ کہیں نہ کہیں ہمارا غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی رویہ بھی ہوتا اور پھر ہم کہہ رے ہوتے کہ فلاں ملک تو بہت صاف ہے وہاں کے لوگ تو قانون کا بہت احترام کرتے وغیرہ وغیرہ سیاستدان کہتے عوام نہیں سمجھتی اور عوام کہتی کہ سیاستدان اپنا کام نہیں کر رہے غرض کوٸی بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ مہربانی کر کہ تیرے میرے کا راگ الاپنا چھوڑ دیں پاکستان ہم سب کا ہے اسکی تعمیر و ترقی ہم سب کا فرض و ذمہ داری ہے۔
    جن سے محبت ہوتی نہ ان میں نقص نہیں نکالے جاتے بلکہ انکی بہتری کی خاطر محنت کی جاتی اسلیے پاکستان سے شکوے کرنے کی بجاۓ اسکی بہتری کے لیے کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان نے تو آپکو مذہب کی کلچر کی آزادی دی آپکو ایک پہچان دی مگر آپ نے اسے کیا دیا کچھ بھی نہیں الٹا آپکی لاپرواہیوں کی وجہ سے پاکستان مساٸل کا شکار ہوا ۔ ہمارے بڑوں نے بہت مشکلات و مصاٸب کے بعد اسے حاصل کیا خدارا اسکی قدر کریں اور اگر واقع ہی آپکو اس سے محبت ہے تو اسکا خیال ویسے ہی رکھیں جیسے آپ اپنے گھر کا رکھتے ہیں۔ ملک پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم سب اس گھر کے فرد ہیں لہذا ہمیں مل جل کر اپنے پیارے گھر پاکستان کی تعمیرو ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے

    @b786_s