لباس اللّٰہ کی ایک ایسی نعمت ہے جو اس نے اپنی مخلوق میں صرف انسان کو عطا کی ہے، اللّٰہ کی اس نعمت پر ہمیں اللّٰہ کا شکر گزار ہونا چاہیئے اور اس شکر گزاری کا تقاضا یہ ہے کہ ہم لباس اللّٰہ کے احکامات کے مطابق پہنیں اگر ہم لباس کے انتخاب اور اسے استعمال کرنے کے سلسلے میں اللّٰہ کے احکامات کو نظر انداز کر کے اپنی مرضی کے مطابق لباس پہنیں گے تو یہ اللّٰہ کی نافرمانی ہو گی، اس لئے ہمیں لباس کے ضمن میں ان تمام احکامات کو سامنے رکھنا ہو گا تاکہ ہم صحیح معنوں میں اس نعمت کا شکر ادا کر سکیں۔۔
لباس انسان کی ظاہری وضع قطع کو اجاگر کرتا ہے، کسی کے لباس سے ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کس قوم یا مذہب سے تعلق رکھتا ہے، اسلام میں ایسے لباس کو اہمیت دی گئی ہے جو شرم و حیا، غیرت و شرافت اور جسم کی ستر پوشی اور حفاظت کے تقاضوں کو پورا کرے، دراصل لباس کا اصل مقصد ہی ستر پوشی ہے، ایسا لباس انتہائی ناپسندیدگی سے دیکھا جائے گا جو ستر پوشی اور شرم و حیا کے تقاضوں کو پورا نہ کرے، حیا ایمان کا حصہ ہے، اگر حیا نہ رہے تو انسان ایمان کے منافی کام کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا، جیسا کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا،
"جب تجھ میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہے کر ”
لہذا جس شخص کو اپنا ایمان عزیز ہو گا وہ ایسا لباس اختیار کرے گا جو شرم و حیا کے تقاضوں کو پورا کرتا ہو، اس سلسلے میں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اسلام میں مرد و عورت کے ستر کی کیا حدود ہیں، کہ جن کو چھپانا اور ان کی حفاظت کرنا ضروری اور فرض ہے ستر کے سلسلے میں حدیث میں آتا ہے کہ
” جو کچھ گھٹنے کے اوپر ہے وہ ستر ہے ( جس کا چھپانا فرض ہے ) اور جو کچھ ناف کے نیچے ہے وہ ستر ہے ( جس کا چھپانا فرض ہے )
یعنی مرد کا ستر ناف
سے لیکر گھٹنوں تک ہے اس سارے بدن کو ڈھانپنا فرض ہے، عورتوں کا ستر سوائے چہرے اور ہاتھوں کے تمام جسم ہے، اور سوائے شوہر کے تمام نامحرموں سے ستر کو چھپانا فرض ہے ، حدیث میں آیا ہے کہ،
” جب لڑکی بالغ ہو جائے تو اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہیں آنا چاہیے، سوائے چہرے کے اور ہاتھ کی کلائی کے جوڑ تک ”
ہمارے ہاں عموماً مرد ستر پوشی میں لا پرواہی برتتے ہیں اور مکمل لباس نہیں پہنتے جبکہ عورتیں ایسا لباس زیب تن کرتی ہیں جو انکی ستر پوشی کرنے میں ناکام نظر آتا ہے، یا تو آدھی آستین کا لباس یا بغیر آستین کا لباس پہنتی ہیں جو ستر پوشی کے منافی ہے، لہزا عورتوں کو مکمل لباس پہننا چاہئے جو ان کے تمام جسم کو ڈھانپ سکے، اس کے علاؤہ عورتوں کے لئے دوپٹہ یا چادر وغیرہ اوڑھنا بھی ضروری ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ،
‘اور ( اے پیغمبر ) مسلمان عورتوں سے کہہ دو اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر وہ زینت جو خود ظاہر ہو جائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں ( سینوں) پہ ڈال لیا کریں ”
لباس کے انتخاب کے وقت شریعت کی عائد کردہ پابندیوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے ، عورتوں کو مردوں سے مشابہ لباس پہننے سے پرہیز کرنا چاہئے اسی طرح مردوں کو عورتوں جیسے لباس ا ختیار کرنے سے گریز کرنا چاہیے ، اسلام نے مرد و عورت کی علیحدہ علیحدہ حدود مقرر کی ہیں جن سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے،
حدیث میں ہے ،
” لباس کی سادگی ایمان کی علامتوں میں سے ایک ہے ”
اللّٰہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں غیروں کے لباس اور وضع قطع اختیار کرنے کی اندھی تقلید سے بچائے اور اپنا لباس تمام لوازمات کے ساتھ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔۔
آمین ۔۔
Author: Baaghi TV
-

لباس کے آداب تحریر : انوشہ امتیاز
-

زندہ لاشیں تحریر بشارت حسین
پہلی بار یہ لفظ بارہ تیرہ سال کی عمر میں سنا جب میرے پڑوس میں ایک شخص گرا اور اس کی کمر کی ہڈی ٹوٹ گئی کافی علاج معالجے کے باوجود بھی جب وہ ٹھیک نہ ہوا تو ایک دن اس کے گھر جانا ہوا جب حال پوچھا تو کہنے لگا زندہ لاش ہوں اب تو بس زندگی جیسے کیسے گزارنی ہے سانس تو چلتی ہے لیکن اپنا بھی پتا نہیں نیچے کا حصہ ناکارہ ہو چکا۔
مجھے لگا اس کی بات تو کافی حد تک ٹھیک ہے
لیکن وقت کے ساتھ ساتھ مجھے احساس ہوا کہ وہ شخص تو مجبور تھا محتاج ہو گیا تھا
درحقیقت وہ زندہ لاش نہیں تھا زندہ لاشوں سے تو ہمارا معاشرہ بھرا پڑا ہے۔
جہاں ہر گھر،ہر محلے،ہر گلی اور ہر جگہ چلتی پھرتی دوڑتی زندہ لاشیں نظر آتی ہیں۔
بڑی بڑی گاڑیوں میں کلبوں میں بڑے بڑے ہوٹلوں میں تفریحی مقامات پہ بینکوں میں بسوں میں الغرض ہر شعبہ زندگی میں زندہ لاشوں کا راج ہے۔
زندہ لاشیں ہی تو ہیں روڈ پہ ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے لوگ مر رہے ہوتے زخمی تڑپ رہا ہوتا ہے بلبلا رہا ہوتا ہے مدد کیلئے پکار رہا ہوتا لیکن کوئی مدد کیلئے نہیں آتا گاڑیاں اپنی ہی سپیڈ میں جا رہی ہوتی ہیں کوئی تماشا دیکھنے فوٹو لینے ذرا سا آہستہ ہو جاتا ہے پھر نکل جاتا ہے۔ بنائی ویڈیو یا تصویر کو سوشل میڈیا کی نظر کیا جاتا ہے لائک کمنٹ آتے ہیں بس اس کا فرض پورا ہو جاتا ہے یہ ہیں زندہ لاشیں جن کے اندر اتنی بھی ہمدردی نہیں ہوتی ہے کسی کو ہسپتال پہنچا سکیں کسی کی زندگی بچا سکیں۔
کسی کے جگر کے ٹکڑے کو مرنے سے بچانے کی جسارت کر لیں۔ نہیں کبھی نہیں کیونکہ ان کو کیا ہے وہ انکا بیٹا نہیں بھائی نہیں بیٹی نہیں ان سے کوئی رشتہ نہیں پھر کیوں مدد کریں کیوں اپنا وقت ضائع کریں۔
جب انسانیت کے مقدس رشتے کو یوں پامال کیا جاتا ہے یوں پس پشت ڈالا جاتا ہے تو پھر میں کہتا ہوں وہ شخص نہیں یہ زندہ لاشیں ہیں جن کو اپنے مفاد کے علاوہ کچھ نظر نہیں اتا۔
جب کہیں مظلوم پہ ظلم ہو رہا اور مجمع اکٹھا ہو کر اس کا تماشا کر رہا ہو وہاں مظلوم کا ساتھ دینے والا کوئی نہ ہو تو مجھے وہ سب زندہ لاشیں نظر آتی ہیں وہ سب درد انسانیت سے عاری زندہ لاشیں۔
ایک غریب آدمی جب اپنی جمع پونجی لیکر دل کو سو دلاسے دے کر ہسپتال آتا ہے تو وہاں معالج کے بجائے ایک لٹیرا ہوتا ہے جسکو اس کے پھٹے کپڑے دیکھ کر بھی حیا نہیں آتی ۔ اپنے کمیشن کی خاطر ایسے عجیب و غریب ٹسٹ لکھ کر دیے جاتے ہیں جن کا اس کی بیماری سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کمیشن کی خاطر خوامخواہ مہنگی دوائیاں لکھ کر تھما دی جاتی ہیں۔
یہاں ایسے لوگوں کو دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ یہ درحقیقت زندہ لاشیں ہیں۔
جب دودھ میں پانی ملانے والے کو دیکھتا ہوں تو سمجھ آتی ہیں زندہ لاشیں تو یہ ہیں جنکو نہ کسی کی صحت کا احساس ہے نہ کسی کی زندگی کا۔ پڑوس میں غریب کے بچے بھوکے سو رہے ہیں اور گھر میں شراب نوشی کی محفل جمی ہے زندہ لاشیں تو یہ ہیں۔
قوم کے بچے سڑکوں پہ دھکے کھا رہے ہیں اور صاحب اقتدار قوم کا پیسہ لوٹ کر ملک سے بھاگ رہے ہیں اپنے اثاثے بنا رہے ہیں کوئی پرواہ نہیں سڑکوں پہ پھول بچتے ہوئے ان پھولوں کی جن کے والدین نے ان کیلئے کیا کیا سپنے دیکھے ہوتے ہیں پھر انکو زندہ لاشیں نہ لکھوں تو کیا لکھوں؟
جب راستے پہ عورتوں کو چھیڑا جاتا ہے تو کوئی ان درندوں کو نہیں روکتا یہ سوچ کر شاید کہ یہ انکی کچھ نہیں لگتی حقیقت یہ نہیں حقیقت یہ ہے کہ ان کے اندر انسان مر چکا ہے۔
گھروں میں نوکروں سے جانوروں جیسا سلوک، پولیس کا امیروں سے درد مندانہ اور غریبوں سے ظالمانہ سلوک دیکھ کر لگتا ہے کہ انسانیت مر گئی ضمیر مر گئے اب ان زندہ لاشوں سے کسی بھی اچھائی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرنے والا دھوکے سے لوگوں سے پیسہ بٹورنے والا ، زمینوں کی غلط خرید و فروخت کرنے والا ، پانی جیسی نعمت کو بھی غلط طریقے سے فروخت کرنے والا، ذخیرہ اندوزی کرنے والا ان سب کو کیا کہوں جن کے اندر کا انسان یہ کہنے کے بھی قابل نہیں کہ تم غلط کر رہے ہو۔
معاشرے کا ہر وہ شخص زندہ لاش ہے جس میں احساس نہیں دوسروں کیلئے ہمدردی نہیں محبت نہیں۔ جسکو کسی کی پرواہ نہیں کہ کوئی بھوکا مر رہا ہے یا پیاسا مر رہا ہے کوئی زخمی ہے یا مظلوم ہے۔
اب اپنے گریبان میں بھی جھانکیں آپ کا صف میں کھڑے ہیں؟
کہیں آپ بھی زندہ لاش تو نہیں؟https://twitter.com/Live_with_honor?s=09
-

پرائیویٹ اسکولز مافیا تحریر: فرقان اسلم
”علم ایک لازوال دولت ہے”
ہمارے مذہب اسلام میں تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ اس لیے کوئی بھی ذی شعور انسان تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کرسکتا۔ اسی بِنا پر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ معیاری تعلیم حاصل کرے۔ اب بات آجاتی ہے کہ بچے کو کس تعلیمی ادارے میں داخل کروایا جائے۔ ہمارے ملک پاکستان میں دو طرح کے تعلیمی ادارے ہیں سرکاری تعلیمی ادارے اور پرائیویٹ (نجی) تعلیمی ادارے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی سرپرستی حکومت کرتی ہیں لیکن پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا کوئی خاص سرپرست نہیں ہوتا ملی بھگت سے کام چلتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر والدین سرکاری اسکولز سے متنفر نظر آتے ہیں بعض کا ماننا ہے کہ سرکاری اداروں میں سہولیات کا فقدان ہے اور معیار کی کمی ہے۔ اسی اثنا میں وہ پرائیویٹ مافیا کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ چند پرائیویٹ اسکولز تعلیمی معیار پر پورا اترتے ہیں مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن نام نہاد پرائیویٹ اسکولوں کی بھرمار ہے جن کا معیارِ تعلیم انتہائی ناقص ہے بلکہ وہ تعلیم کے نام پر کاروبار کررہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پرائیویٹ اسکولز ہیں جبکہ بہت سے ایسے ہیں جو رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ یہ عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ اور ہماری عوام بھی انجانے میں ان کے دھندے کا شکار ہورہی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر بات کرنا ضروری ہے مگر میں دو اہم مسائل پر بات کرنا چاہوں گا۔من مانی فیسیوں کا مطالبہ:
پرائیویٹ اسکولز طلبہ اور انکے والدین کو مختلف حیلے بہانوں سے لوٹتے ہیں لیکن سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہر ماہ کے شروع میں والدین کو فیسوں کے نام پہ ہزاروں روپے اسکولز میں جمع کروانے ہوتے ہیں تا کہ انکے بچے تعلیم کی روشنی سے بہرہ مند ہو سکیں۔ چاہے کوئی امیر ہے یا غریب ہے لیکن فیس ہر صورت جمع کروانی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں ہر سال اضافہ ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ پیپر فنڈ اور پیپر کی شیٹوں کے پیسے الگ سے لیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ایک پیپر کی فوٹوکاپی پر دو یا تین روپے خرچ آتا ہے لیکن پیپر فنڈ ہزاروں میں لیتے ہیں۔سٹیشنری کا سامان :
اگر آپکا بچہ کسی مہنگے سکول میں زیرِ تعلیم ہے تو صرف ماہانہ فیس کے ساتھ ساتھ اسکول کے پرنٹڈ مونوگرام والی کاپیاں، کتابیں اور دیگر سٹیشنری کا سامان خریدنا بھی آپکی ذمہ داری ہے۔ جس کاپی کی قیمت باہر 30 روپے ہو یہاں پر یہ دوگنا قیمت پر ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کتابیں، یونیفارم اور دیگر سامان بھی انتہائی مہنگے داموں بیچتے ہیں اگر اس کو کاروبار کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اگر پرائیویٹ اسکولز کا بس چلے تو یہ اس بات کو بھی لازم کردیں کہ آپ کا بچہ جس آٹے کی روٹی کھاتا ہے وہ بھی ہمارے اسکول سے لیا جائے تاکہ اس کی نشوونما بہترین ہوسکے۔مکتب نہیں دوکان ہے، بیوپار ہے
مقصد یہاں علم نہیں، روزگار ہےان مسائل کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے خلاف ایک موثر ایکشن لیا جائے تاکہ ان کی من مانی بند ہوسکے۔ پرائیویٹ اسکولز انتظامیہ ملی بھگت کرکے اپنا دھندہ چلا رہی ہے جس کا شکار بے چارے سادہ لوح عوام بن رہے ہیں۔ دوسرے ممالک میں پرائیویٹ اسکولوں کا نظام ہم سے کئی گنا بہتر ہے۔ وہاں ہر چیز کا چیک اینڈ بیلنس ہے۔ اگر کوئی اسکول زیادہ فیس وصول کرے یا ان کا معیار اچھا نہ ہو تو فوراً بند کردیا جاتا ہے بلکہ بھاری جرمانہ بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن وطنِ عزیز میں نظام اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسی وجہ سے آج ہم تعلیمی میدان میں بہت سے ممالک سے پیچھے ہیں۔ لٰہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیویٹ اسکول مافیا کو بے نقاب کیا جائے اور تعلیم کی آڑ میں کاروبار کرنے والوں اور قوم کے معماروں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور بلاوجہ سرکاری تعلیمی اداروں پر تنقید نہ کریں کیونکہ وہ بھی عوام کی بھلائی اور آسانی کے لیے تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ہماری زیادہ تر آبادی مڈل کلاس ہے اس لیے وہ پرائیویٹ اسکولز کی فیس ادا نہیں کرسکتے اس لیے وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولز میں داخل کروا دیتے ہیں۔ اللّٰہ پاک وطنِ عزیز کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں ہم سب کی مدد فرمائے۔۔۔آمین@Rumi_PK
-

بہترین تحفہ تحریر: مجاہد حسین
تحفہ ہمیشہ سے ہی لوگوں کے درمیان الفت و محبت پیدا کرنے کا ذریعہ رہا ہے۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا کہ آپس میں تحفے دیا کرو کہ یہ دِلوں میں محبت پیدا کرتے ہیں اور آپس کی کدورتیں ختم کرتے ہیں۔
آج کے جدید دور میں جب تحفے کا ذکر آتا ہے تو ہمارے ذہین میں، موبائل، گھڑی، کمپیوٹر، مہنگے برانڈ کے کپڑے، خوشبوئیں وغیرہ آتی ہیں کہ دنیا میں یہی مادی چیزیں ہی محبت کا معیار مانا جانے لگا ہے۔
آج میں آپ کو ایک معروف عالم دین مفتی مینک کا ایک واقعہ سناتا ہوں جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں دنیا میں سب سے بہترین تحفہ کون سا دیا گیا۔
وہ بیان کرتے ہیں کہ ویسے تو قرآن پاک کی ساری سورتیں بہت شان والی ہیں لیکن جو سب سے زیادہ میرے دل کو اپنا گرویدہ بناتی ہیں وہ سورة الضحى کی تیسری اور پانچویں آیات ہیں۔ ان کی شان نزول یہ ہے کہ جب نبی ﷺ پر کچھ عرصے کے لئے وحی موقوف ہو گئی تھی تو کفار کہنے لگے کہ اللہ نے محمد ﷺ کو چھوڑ دیا ہے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اللہ نے یہ آیات نازل کیں۔
"مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ” اور "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ”
جن کا ترجمہ ہے کہ
"اے محمد ﷺ! تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑا ہے نا تم سے ناراض ہوا ہے”
اور "اور تمہارا رب عنقریب تمہیں اتنا عطا کرے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے”
ان آیات کا حوالہ دے کہ مفتی مینک کہتے ہیں کہ میں کئی سال پہلے تنزانیہ میں زینزیبار یونیورسٹی میں گیا۔ میں نے وہاں کے نوجوانوں کے ساتھ باتیں کیں اور دو تین دن بعد وہ شکریہ کے پیغامات لے کے میرے پاس آئے اور ان میں سے ایک شخص (جو اب میرا بہت اچھا دوست ہے) نے کہا کہ ہم آپ کو ایک تحفہ دینا چاہتے ہیں جو کہ قرآن پاک کی ایک آیت ہے اور کہنا لگا کہ "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ” عنقریب اللہ آپ کو اتنا دے گا آپ خوش (راضی) ہو جائیں گے۔
مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ میری زندگی میں پہلی مرتبہ تھا کہ اس آیت کا ایک مختلف مفہوم میرے سامنے آیا۔ اور تب سے یہ آیت میرے دل کے بہت قریب ہے۔
اس بات سے سمجھ آئی کہ دنیا کا بہترین تحفہ کسی کو دعا دینا ہے جس سے اللہ بھی آپ سے راضی ہو جائے گا اور آپ کو دعا کرنے کا ثواب بھی ملے گا اور آپس میں محبت اور تعلقات بھی بہت بہتر ہو جائیں گے۔
اللہ عمل کرنے کی توفیق دے۔@Being_Faani
-

سیالکوٹ میں تحریک انصاف کی جیت – تحریر: یاسر اقبال
سیالکوٹ پاکستان کا ایک اہم شہر ہے جو پاکستان کے صنعت میں ایک کا بڑا حصہ رکھتا ہے یہاں کافی مقدار میں برآمدی اشیا جیسا کہ سرجیکل، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات اور کپڑا پیدا کرتا ہے سیالکوٹ کو شہر اقبال بھی کہا جاتا ہے، عظیم شاعر، قانون دان اور مفکر علامہ محمد اقبال 9 نومبر1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ اس کے ساتھ اکثر سیالکوٹ میں سیاسی پارہ بھی گرم رہتا ہے اور بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کا مقابلہ دیکھنے کو ملتا ہے جیسا کہ پی پی 38 کے ضمنی انتخاب میں دیکھنے کو ملا پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 38 کا ضمنی انتخاب 28 جولائی 2021 کو ہوا جس میں پی ٹی آئی اور ن لیگ سمیت کئی سیاسی حریفوں کے درمیان 165 پولنگ اسٹیشنوں پر مقابلہ ہوا سیالکوٹ میں بارش کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد ووٹ ڈالنے ہر پولنگ اسٹیشن پر آئی، اس دوران سیاسی کارکنوں میں تلخ کلامی کے کچھ واقعات بھی رونما ہوئے۔ پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنان آمنے سامنے آگئے، رینجرز کے جوانوں نے مشتعل کارکنان میں بیچ بچاؤ کرایا۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 233،422 تھی۔
پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان امیدوار احسن سلیم بریار اور مسلم لیگ ن کے امید وار چوہدری سجانی نے اپنی اپنی جماعت کی نمائندگی کی۔ جس میں پاکستان تحریک انصاف فتح حاصل کر پائی اور مسلم لیگ ن کو شکشت ہوئی۔ غیر حتمی غیر سركاری کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امید وار احسن سلیم بریار نے 60 ہزار 588 ووٹوں کے ساتھ اگے رہے اور حلقہ پی پی 38 کے ضمنی انتخاب میں کامیابی سمیٹ لی جبکہ مسلم لیگ ن کے امید وار 53 ہزار 471 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے اور مسلم لیگ ن کو 7 ہزار 117 ووٹوں سے پاکستان تحریک انصاف کے ہاتھوں شکشت ہوئی۔ پیپلز پارٹی جو کہ پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہے لیکن اس کے باوجود پیپلزپارٹی کے ووٹرز نہ ہونے کے برابر تھے۔ پیپلز پارٹی کا امیدوار محمّد قدیر کا ساتواں نمبر رہا اور اس کے حصے میں صرف 597 ووٹ آئے۔ جبکہ آزاد امیدوار طاہر محمود ھندلی 12 ہزار 488 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نے سات ہزار 117 ووٹوں کی لیڈ سے فتح حاصل کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی کامیابی کا اعلان ہوتے ہی کارکنوں نے خوب جشن منایا اور ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا جبکہ خوشی سے آپس میں مٹھائیاں بھی بانٹی گئیں۔ یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ حلقہ 2018 کے عام انتخابات میں ن لیگ کے رہنما اختر سبحانی کے نام رہا تھا اور ان کی وفات کے باعث خالی ہوا تھا۔
تحریک انصاف کے پی پی 38 ضمنی انتخابات میں کامیابی پر وزیر اعظم عمران خان بھی کافی خوش نظر آئے اور اس نے وزیر اعلی پنجاب کے معاون خصوصی (ایس اے سی ایم) فردوس عاشق اعوان کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کی اور انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس کے اپنے شہر سیالکوٹ میں اس کے خدمات نے پارٹی کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ سیالکوٹ کی پی پی 38 نشست جیتنے پر معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ عوام نے قومی خزانہ لوٹنے والوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انتخابات میں سیالکوٹ کے عوام نے مسلم لیگ ن کا بیانیہ مسترد کردیا۔ پی پی 38 کے اس جیت پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اپنے سیاسی حریفوں کو خوب نشانے پر رکھا اور اس کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کے ضمنی انتخابات میں حق اور سچ کی فتح ہوئی نتائج نے ثابت کردیا پاکستانی سیاست میں اب چوروں اور لٹیروں کی کوئی گنجائش نہیں عوام ریاست مخالف بیانیے سے متنفر ہوچکے ہیں پے در پے شکست کے بعد انہیں منفی سیاست سے توبہ کر لینی چاہئے
پاکستان تحریک انصاف کے اقبال کے شہر میں جیت پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کے اظہار پر سیالکوٹ کے عوام خصوصاً پی پی 38 کے شہریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پاکستان تحریک انصاف نے مخالف جماعت کی نشست جیت کر ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں صرف دیانتداری کی ہی سیاست چلے گی۔ ثابت ہو گیا ہے کہ عوام شفاف اور عوام کی خدمت کرنے والی مخلص قیادت کے ساتھ ہیں۔ وزیراعلیٰ کا اپنی حکومتی کا بھی تذکرہ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی اب تک کی شاندار کارکردگی کی بدولت سیالکوٹ کے عوام نے ان کو اس ضمنی الیکشن میں سرخرو کیا ہے۔ کامیابی نئے پاکستان اور تبدیلی کے ایجنڈے کی جیت ہے۔ امید ہے کہ احسن سلیم بریار حلقے کے عوام کی نمائندگی کا بھرپور حق ادا کریں گے۔ سیالکوٹ الیکشن میں شفافیت کا بول بالا ہوا ہے۔
یہ پاکستان تحریک انصاف کا پہلا ضمنی الیکشن تھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کی جیت ہوئی اس سے پہلے باقی 2018 کے انتخابات کے بعد جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے اس میں پاکستان تحریک انصاف کو شکست ہوئی۔ اقبال کے شہر سیالکوٹ کے عوام اپنے نوجوان نمائندہ احسن علیم بریار سے تبدیلی کے امید پر ہے کہ وہ شہر اقبال کی ترقی میں اپنا پورا حصہ ڈالیں گے اور انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں کو پورا کرینگے۔ وسلام
Twitter:
@RealYasir__Khan -

بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی تحریر: ڈاکٹر ذکاءاللہ
عمران خان نے جب1971 میں کرکٹ کھیلنا شروع کی تو وہ پہلے میچ میں بری طرح ناکام ھوگیا لیکن ہمت نہیں ھاری محنت جاری رکھی
جب 4سال بعد دوبارہ ٹیم میں آے تو ایک نیے ولولے اور جوش سے کھیلے
جاوید میانداد جیسے بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے ھوے اپنے آپ کو ایک بہترین کھلاڑی اور لیڈر منوایا
ویسٹ انڈیز کے خلاف 1979میں کھیلی جانی سیریز تاریج کا حصہ ھے
جب پوری دنیا کے بیٹسمین کالی آندھی سے مشہور باولنگ اٹیک کا نام سنتے تو ضرور انہیں جھٹکا لگتا ھوگا کیونکہ جس ٹیم کی باولنگ لاین اپ میں مایکل ھولڈنگ اور میلکم مارشل جیسے تیز باولر ھوں وھاں پریشانی اورخوف معمولی بات ھے اور دوسری طرف اس دور کے خطرناک سر ویون رچرڈ جیسے بلے باز جو کسی باولر کو خاطر میں نہ لاتے ان کے خلاف کھیلی جانی ٹیسٹ سیریز میں عمران خان نے اپنی بہترین پرفارمنس سے دنیا کو حیران کردیا تھا
وھی کالی آندھی جس کے خلاف ساری ٹیمیں کھلینے سے گھبراتی تھی بھارت جیسی ٹیم کے ایک اننگز میں چھ کھلاڑی بیٹنگ کے دوران زخمی ھوکر پویلین واپس آے اور بھارت کی ٹیم بہت بری شکست سے ٹیم دوچار ھویی تھی
وھاں عمران خان کے دلیرانہ فیصلوں کی بدولت نہ صرف پاکستان نے ٹیسٹ سیریز برابر کھیلی بلکہ پوری دنیا میں اپنی دھاک بھی بٹھایی
اپنی کرکٹ کیریر کے اختتامی دور میں پاکستان کو عالمی کپ جیسا تحفہ بھی دیا
سیمی فاینل اور فاینل میچ میں جلد وکٹ گر جانے سے بیٹنگ میں نمبر تین پر کھیلتے ھوے بہترین اننگز کھیلیں اور پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا
فاینل میں کندھے میں درد کے باوجود پین کلر ٹیکہ لگوا کر نہ صرف کھیلے اور کپتانی کی بلکہ درد کے باوجود باولنگ بھی کرایی اور آخری وکٹ بھی حاصل کی
شوکت خانم جیسے ناممکن نظر آنے والے پروجیکٹ کو اپنے زور بازو سے بنوایا
پہلے الیکشن میں صفر سیٹ سے ناکام رہنے والے کپتان نے اب تک 7 اکاییوں میں سے 6 اکاییوں پر حکمران ہیں صرف سندھ کو فتخ کرنا ھے گلگت بلتستان اور کشمیر الیکشن کے بعد اب سندھ الیکشن جیتنا نہایت آسان دکھایی دے رھا ھے مقابلہ کویی بھی ھو کپتان ہمیشہ چیلنج قبول کرتے ہیں
یہی وجہ ھے کہ عمران خان کو بڑے میچ کا بڑا کھلاڑی کہا جاتا ھے@KHANKASPAHI1
-

مبشر لقمان اور کھرا سچ
مبشر لقمان عہدِ جدید کا ایک عظیم سچا، پائیدار، حق، سچ صحافت کا علمبردار ہے
انہوں نے اپنے صحافتی کیرئیر میں ایسے ایسے دلیرانہ کام کیے جو بڑے بڑے اینکر نہ کرسکے اپنی زندگی میں انہوں نے ہمیشہ کھری صحافت کو ترجیح دی حق سچ اور دلیرانہ ڈنکے کی چوٹ پر صحافت کرنے کی وجہ سے وہ پاکستان کے بلکہ عالمی طور پر سینئر ترین صحافی مانیں اور سمجھے جاتے ہیں لوگ انہیں شوق سے سنتے اور دیکھتے ہیں
میں ذاتی طور پر بچپن سے انکا پروگرام ” کھرا سچ” دیکھنے کا عادی رہا ہوں اور اسی مناسبت سے انکا فین ٹھہرا
ایک فین ہونے کی حیثیت سے انکے پروگرام ” کھرا سچ ” کو بڑے ہی انہماک اور توجہ کے ساتھ سننا میرا ہمیشہ سے مشغلہ رہا ہے
ٹاک شوز کی بھرمار کی وجہ مجھے انکا پروگرام کھرا سچ ہر صورت دیکھنا ہوتا تھا جس طرح انکے پروگرام کا نام کھرا سچ تھا ویسے ہی یہ خد کھرے آدمی ہیں یہ قدرتی امر ہے کہ ہمیشہ قدرتی طور پر کھرا، سچا اور مخلص آدمی عوامی حلقوں میں مقبول سمجھا جاتا ہےانکے پروگرام کا نام مجھے دیسی لفظ ” کھرا ” کشش کے طور اپنی طرف کھینچتا تھا اسی لحاظ سے بھی میں کھری اور سچی بات سننے کا عادی ہوں انکے پروگرام سے بہت کچھ سیکھا جو اپنی زندگی میں لاگو کر کے مشکلات آسان کی
آجکل پروگرام تو کافی کیے جاتے ہیں ٹاک شوز میں من پسند ایشوز کو نقطہ نظر کے حساب سے پرکھا جاتا ہے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بہت سے اینکر حضرات نِت نئ سٹوریز سے اپنے آپ کو منوانے کے چکر میں رہتے ہیں
مگر انکو میں نے ہمیشہ پاکستان کی بہتری کے حق میں بولتے دیکھاآجکل مبشر لقمان صاحب یوٹیوب پر پاکستانیت کو پرموٹ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جب بھی دیکھا جس موقع پر پرکھا مبشر لقمان صاحب پاکستان کے حق میں اور بہتری کے لیے بولتے اور لکھتے ہوئے پایا
خاص طور پر اور قدرتی طور پر انکے پروگرام کھرا سچ کا عکس مجھے پنچایت میں موجود سر پنچ کے لفظ کھری گل کی عکاسی کرتا ہوا نظر آتا تھا
جیسے پنچایت میں موجود ہر آدمی نے سچی اور کھری بات کہنا ہوتی ہے ویسے ہی اس پروگرام میں بھی سچی اور کھری بات مجھے سننے کو ملی
شائید کہ انکے پروگرام کے نام ( کھرا سچ ) کو پنچایت کے وجود سے اخذ کیا گیا ہو
اس پروگرام کی خاص بات یہ تھی کہ ہمیشہ پاکستان کی بہتری کے لیے بات کی جاتی تھی جو کہ خوش آئند بات تھیمبشر لقمان صاحب کا پروگرام کھرا سچ وہ واحد پروگرام تھا جہاں مافیا سے لے کر بڑے بڑے ڈاکوؤں کو للکارا گیا مافیہ کے خلاف بہت سے پروگرام ڈنکے کی چوٹ پر کیے گئے یہی وہ خاص وجہ ہے جو مجھے اس پروگرام کو دیکھنے کی جانب بار بار توجہ مبذول کرواتی رہی
اگر کہی یہ پروگرام میرے سے دیکھنے سے رہ جاتا تو مجھے یوٹیوب پر دیکھنا ہوتا تھا خاص لگاؤ کی وجہ سے ، حق سچ بیانیے کو پروموٹ کرنے کی وجہ سے مجھے آج چند حوصلہ افزائی باتوں کو تحریر میں پرونا پڑا
میں اپنے خیالات اور احساسات کو الفاظوں میں بیان کرنا، کسی بھی شخصیت کے اچھے کردار کو ذکر کرنا، اور انکی صلاحیتوں کو عوام کے سامنے پیش کرنا میرا ہمیشہ سے مشغلہ رہا ہےدعا ہے کہ اللّٰهُ رب العزت پاکستان کی بہتری کے حق میں بولنے والوں کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطاء فرمائے اور مبشر لقمان صاحب کی حفاظت فرمائے آمین
@Talha0fficial1
-

رزق حلال عین عبادت ہے تحریر:شعیب حسن
رزق حلال کے فوائد”رزق حلال عین عبادت ہے”
رزق حلال کے فوائد
رزق حلال کو آسان الفاظ میں جائز روزی یا جائز ذریعہ معاش کہ سکتے ہیں۔رزق حلال کا کمایا ہوا تھوڑا رزق حرام کی کمائ کے کروڑوں سے بھاری ہوتا ہے۔اس حلال کی کمائ کے تھوڑے پیسوں سے نسل کی نسل لاکھوں برائیوں سے برے عیب سے بچ جاتی ہیں۔سچائ اور دیانت داری کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں اور اللہ کا قرب حاصل کر لیتی ہیں۔اس لیے اپنے مال کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس مال کی خامیوں کو بھی ہمیں دوسروں کو اگاہ کرتے رہنا چاہیے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال رزق کو عبادت قرار دے کر انسانوں کے لیے ایسے راستے کی طرف روشنی ڈالی ہے کہ اگر انسان حلال رزق کمائے تو انسان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عبادت اور اللہ کے قریب جانے کو حق دار بن جاتا ہے۔
اللہ اپنی کتاب قرأن کرم فرقان حمید میں حکم دیتا ہے کہ
"اے ایمان والو اپنے رزق کو آپس میں باطل کی راہ سے نا کھاؤ بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو
(سورۃ النساۂ)
حلال طریقے سے رزق کمانے میں اللہ نے اتنا سکون رکھا ہے کہ جو شخص حلال رزق کمائے اور وہی حلال رزق اپنی اولاد کو کھلائے گا آخرت میں صدیقوں اور شہدوں میں اپنے اپ کو پائے گا۔
کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ارکان اسلام کو پورا کرنے سے بھی معاف نہیں کیے جاتے بلکہ حلال رزق کمانے سے اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے معاف ہو جاتے ہیں۔
دین اسلام نے انسانوں کو کئی طریقوں سے محنت کرنے معاشی جدوجہد کرنے حلال رزق کمانے پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس کو حاصل کرنے کے بہت ہی آسان طریقے بتائے ہیں جیسے انسانی عقل تسلیم کر چکی ہے
"اے لوگو جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے پاک اور حلال چیزیں کھاؤ(سورۃ البقرہ)
حلال رزق اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہےکہ انسان اللہ سے جو بھی دلی خواہشات کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے تو اللہ اسی وقت وقت اپنی بارگاہ میں قبول فرماتے ہیں۔حرام کی کمائ کا ایک لقمہ بھی انسان اگر کھا لے تو اس کی چالیس دن دعا قبول نہیں ہوتی۔کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ ہماری دعائیں قبول ہوں
کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ حلال رزق کما کر اپنے اہل و ایال اور اولاد کو کھلا کر آخرت می صدیقوں اور شہدوں میں شامل ہو
اللہ ہم سب کو حلال رزق کمانے کی توفیق بخشے
کیوں کہ رزق حلال عین عبادت ہے
رزق حلال کو آسان الفاظ میں جائز روزی یا جائز ذریعہ معاش کہ سکتے ہیں۔رزق حلال کا کمایا ہوا تھوڑا رزق حرام کی کمائ کے کروڑوں سے بھاری ہوتا ہے۔اس حلال کی کمائ کے تھوڑے پیسوں سے نسل کی نسل لاکھوں برائیوں سے برے عیب سے بچ جاتی ہیں۔سچائ اور دیانت داری کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہیں اور اللہ کا قرب حاصل کر لیتی ہیں۔اس لیے اپنے مال کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اس مال کی خامیوں کو بھی ہمیں دوسروں کو اگاہ کرتے رہنا چاہیے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال رزق کو عبادت قرار دے کر انسانوں کے لیے ایسے راستے کی طرف روشنی ڈالی ہے کہ اگر انسان حلال رزق کمائے تو انسان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ عبادت اور اللہ کے قریب جانے کو حق دار بن جاتا ہے۔
اللہ اپنی کتاب قرأن کرم فرقان حمید میں حکم دیتا ہے کہ
"اے ایمان والو اپنے رزق کو آپس میں باطل کی راہ سے نا کھاؤ بلکہ باہمی رضامندی کے ساتھ تجارت کی راہ سے نفع حاصل کرو
(سورۃ النساۂ)
حلال طریقے سے رزق کمانے میں اللہ نے اتنا سکون رکھا ہے کہ جو شخص حلال رزق کمائے اور وہی حلال رزق اپنی اولاد کو کھلائے گا آخرت میں صدیقوں اور شہدوں میں اپنے اپ کو پائے گا۔
کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ارکان اسلام کو پورا کرنے سے بھی معاف نہیں کیے جاتے بلکہ حلال رزق کمانے سے اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے معاف ہو جاتے ہیں۔
دین اسلام نے انسانوں کو کئی طریقوں سے محنت کرنے معاشی جدوجہد کرنے حلال رزق کمانے پر نہ صرف زور دیا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس کو حاصل کرنے کے بہت ہی آسان طریقے بتائے ہیں جیسے انسانی عقل تسلیم کر چکی ہے
"اے لوگو جو چیزیں زمین میں موجود ہیں ان میں سے پاک اور حلال چیزیں کھاؤ(سورۃ البقرہ)
حلال رزق اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہےکہ انسان اللہ سے جو بھی دلی خواہشات کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے تو اللہ اسی وقت وقت اپنی بارگاہ میں قبول فرماتے ہیں۔حرام کی کمائ کا ایک لقمہ بھی انسان اگر کھا لے تو اس کی چالیس دن دعا قبول نہیں ہوتی۔کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ ہماری دعائیں قبول ہوں
کیا ہم میں سے کوئ نہیں چاہتا کہ حلال رزق کما کر اپنے اہل و ایال اور اولاد کو کھلا کر آخرت می صدیقوں اور شہدوں میں شامل ہو
اللہ ہم سب کو حلال رزق کمانے کی توفیق بخشے
کیوں کہ رزق حلال عین عبادت ہے -

اسلام اور بیٹیاں, رحمت العالمین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی شفقت
حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ نہایت خوبصورت تھے۔ تفسیر نگار لکھتے ہیں کہ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ عرب کی عورتیں دروازوں کے پیچھے کھڑے ہو کر یعنی چھپ کر حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کرتی تھیں۔ لیکن اس وقت آپ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک دن سرورِ کونین تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر حضرت دحیہ قلبی پر پڑی۔ آپؐ نے حضرت دحیہ قلبی کے چہرہ کو دیکھا کہ اتنا حیسن نوجوان ہے۔ آپ نے رات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی؛ یا اللہ اتنا خوبصورت نوجوان بنایا ہے، اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے، اسے مسلمان کر دے، اتنے حسین نوجوان کو جہنم سے بچا لے۔ رات کو آپ نے دعا فرمائی، صبح حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔
حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کہنے لگے؛ اے اللہ کے رسول ! بتائیں آپؐ کیا احکام لے کر آئے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ پھر توحید و رسالت کے بارے میں حضرت دحیہ قلبی کو بتایا۔ حضرت دحیہ نے کہا؛ اللہ کے نبی میں مسلمان تو ہو جاؤں لیکن ایک بات کا ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے ایک گناہ میں نے ایسا کیا ہے کہ آپ کا اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا؛ اے دحیہ بتا تونے کیسا گناہ کیا ہے؟ تو حضرت دحیہ قلبی نے کہا؛ یا رسول اللہ میں اپنے قبیلے کا سربراہ ہوں۔ اور ہمارے ہاں بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ دفن کیا جاتا ہے۔ میں کیونکہ قبیلے کا سردار ہوں اس لیے میں نے ستر گھروں کی بیٹیوں کو زندہ دفن کیا ہے۔ آپ کا رب مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اسی وقت حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے؛
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اسے کہیں اب تک جو ہو گیا وہ ہو گیا اس کے بعد ایسا گناہ کبھی نہ کرنا۔ ہم نے معاف کر دیا ۔
حضرت دحیہ آپ کی زبان سے یہ بات سن کر رونے لگے۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ اب کیا ہوا ہے؟ کیوں روتے ہو ؟ حضرت دحیہ قلبی کہنے لگے؛ یا رسول اللہ، میرا ایک گناہ اور بھی ہے جسے آپ کا رب کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ کیسا گناہ ؟ بتاؤ ؟
حضرت دحیہ قلب فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ، میری بیوی حاملہ تھی اور مجھے کسی کام کی غرض سے دوسرے ملک جانا تھا۔ میں نے جاتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کی پرورش کرنا اگر بیٹی ہوئی تو اسے زندہ دفن کر دینا۔ دحیہ روتے جا رہے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ میں واپس بہت عرصہ بعد گھر آیا تو میں نے دروازے پر دستک دی۔ اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی نے دروازہ کھولا اور پوچھا کون؟ میں نے کہا: تم کون ہو؟ تو وہ بچی بولی؛ میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں۔ آپ کون ہیں؟ دحیہ فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، میرے منہ سے نکل گیا: اگر تم بیٹی ہو اس گھر کے مالک کی تو میں مالک ہوں اس گھر کا۔ یا رسول اللہ! میرے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ چھوٹی سی اس بچی نے میری ٹانگوں سے مجھے پکڑ لیا اور بولنے لگی؛ بابا بابا بابا بابا آپ کہاں چلے گئے تھے؟ بابا میں کس دن سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔ حضرت دحیہ قلبی روتے جا رہے ہیں اور فرماتے ہیں؛ اے اللہ کے نبی! میں نے بیٹی کو دھکا دیا اور جا کر بیوی سے پوچھا؛ یہ بچی کون ہے؟ بیوی رونے لگ گئی اور کہنے لگی؛ دحیہ! یہ تمہاری بیٹی ہے۔ یا رسول اللہ! مجھے ذرا ترس نہ آیا۔ میں نے سوچا میں قبیلے کا سردار ہوں۔ اگر اپنی بیٹی کو دفن نہ کیا تو لوگ کہیں گے ہماری بیٹیوں کو دفن کرتا رہا اور اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔ حضرت دحیہ کی آنکھوں سے اشک زارو قطار نکلنے لگے۔ یا رسول اللہ وہ بچی بہت خوبصورت، بہت حیسن تھی۔ میرا دل کر رہا تھا اسے سینے سے لگا لوں۔ پھر سوچتا تھا کہیں لوگ بعد میں یہ باتیں نہ کہیں کہ اپنی بیٹی کی باری آئی تو اسے زندہ دفن کیوں نہیں کیا؟ میں گھر سے بیٹی کو تیار کروا کر نکلا تو بیوی نے میرے پاؤں پکڑ لیے۔ دحیہ نہ مارنا اسے۔ دحیہ یہ تمہاری بیٹی ہے۔
ماں تو آخر ماں ہوتی ہے۔ میں نے بیوی کو پیچھے دھکا دیا اور بچی کو لے کر چل پڑا۔ رستے میں میری بیٹی نے کہا؛ بابا مجھے نانی کے گھر لے کر جا رہے ہو؟ بابا کیا مجھے کھلونے لے کر دینے جا رہے ہو؟ بابا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ دحیہ قلبی روتے جاتے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ یا رسول اللہ ! میں بچی کے سوالوں کاجواب ہی نہیں دیتا تھا۔ وہ پوچھتی جا رہی ہے بابا کدھر چلے گئے تھے؟ کبھی میرا منہ چومتی ہے، کبھی بازو گردن کے گرد دے لیتی ہے۔ لیکن میں کچھ نہیں بولتا۔ ایک مقام پر جا کر میں نے اسے بٹھا دیا اور خود اس کی قبر کھودنے لگ گیا۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دحیہ کی زبان سے واقعہ سنتے جارہے ہیں اور روتے جا رہے ہیں۔ میری بیٹی نے جب دیکھا کہ میرا باپ دھوپ میں سخت کام کر رہا ہے، تو اٹھ کر میرےپاس آئی۔ اپنے گلے میں جو چھوٹا سا دوپٹہ تھا وہ اتار کر میرے چہرے سے ریت صاف کرتے ہوئے کہتی ہے؛ بابا دھوپ میں کیوں کام کر رہے ہیں؟ چھاؤں میں آ جائیں۔ بابا یہ کیوں کھود رہے ہیں اس جگہ؟ بابا گرمی ہے چھاؤں میں آ جائیں۔ اور ساتھ ساتھ میرا پسینہ اور مٹی صاف کرتی جا رہی ہے۔ لیکن مجھے ترس نہ آیا۔ آخر جب قبر کھود لی تو میری بیٹی پاس آئی۔ میں نے دھکا دے دیا۔ وہ قبر میں گر گئی اور میں ریت ڈالنے لگ گیا۔ بچی ریت میں سے روتی ہوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ میرے سامنے جوڑ کر کہنے لگی؛ بابا میں نہیں لیتی کھلونے۔ بابا میں نہیں جاتی نانی کے گھر۔ بابا میری شکل پسند نہیں آئی تو میں کبھی نہیں آتی آپ کے سامنے۔ بابا مجھے ایسے نہ ماریں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ریت ڈالتا گیا۔ مجھے اس کی باتیں سن کر بھی ترس نہیں آیا۔ میری بیٹی پر جب مٹی مکمل ہو گئی اور اس کا سر رہ گیا تو میری بیٹی نے میری طرف سے توجہ ختم کی اور بولی؛ اے میرے مالک میں نے سنا ہے تیرا ایک نبی آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دے گا۔ جو بیٹیوں کی عزت بچائے گا۔ اے اللہ وہ نبی بھیج دے بیٹیاں مر رہی ہیں۔ پھر میں نے اسے ریت میں دفنا دیا۔ حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ واقعہ سناتے ہوئے بے انتہا روئے۔ یہ واقعہ جب بتا دیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا رو رہے ہیں کہ آپؐ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے گیلی ہو گئی۔ آپؐ نے فرمایا؛ دحیہ ذرا پھر سے اپنی بیٹی کا واقعہ سناؤ۔ اس بیٹی کا واقعہ جو مجھ محمد کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی۔ آپؐ نے تین دفعہ یہ واقعہ سنا اور اتنا روئے کہ آپ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رونے لگ گئے اور کہنے لگے؛ اے دحیہ کیوں رلاتا ہے ہمارے آقا کو؟ ہم سے برداشت نہیں ہو رہا۔ آپؐ نے حضرت دحیہ سے تین بار واقعہ سنا تو حضرت دحیہ کی رو رو کر کوئی حالت نہ رہی۔ اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ اسلام حاضر ہوئے اور فرمایا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! دحیہ کو کہہ دیں وہ اُس وقت تھا جب اس نے اللہ اور آپؐ کو نہیں مانا تھا۔ اب مجھ کو اور آپ کو اس نے مان لیا ہے تو دحیہ کا یہ گناہ بھی ہم نے معاف کر دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں.
۔
جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟
بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہےاور یہ بیٹیاں اللّہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں.@M_ASMarkhor
-

هیجان تحریر: سیدہ بشری
دو شدید انتہاؤں کے درمیان اعتدال ہے ۔۔اسکے آر پار دونوں اطراف پر موجود سوچ کو ہم نے لبرل یا قدامت پسند میں تقسیم کر دیا معاشرہ جنکو شدت پسند کہتا وجہ ہے ا نکے سخت خیالات چاہے وہ مذہبی ہوں ثقافتی ہوں تہذیبی ہوں یا تمدنی ۔ وہیں ایک دوسرا گروہ ہے جنکو لبرل کہا جاتا ۔ لفظ لبرل کی تعریف تو یہ ہے کے دوسروں کو انکے خیالات احساسات اور انکی روایات کے مطابق آزاد چھوڑ دو ۔۔پر ایسا ہے نہیں لبرل بھی شدت پسندوں کی ضد نہیں بلکہ دوسرے حصے کے شد ت پسند ہیں ۔کیونکہ یہ بھی دوسرے کے خیالات احساسات نظر یات یا جذبات کے احترام کے شدید منکر ۔کیونکہ وہ اس لفظ کی تعریف کے برعکس وہ چاہتے جو انکا عقیدہ سوچ یا نظریہ ہے ۔۔اس دو انتہاؤ ں کی جنگ نے ایک هیجان پیدا کر کے رکھ دیا ۔
ہر کوئی اپنی حد پر ایک سرحد بنا کر اس پر مسلح پہرہ دے رہا ادھر منشا کے خلاف بات ہوئی ادھر حملہ آور تیار ۔ایک جنگ کا سماں بن چکا جہاں سوچ سمجھ کو تالا لگا کر ضد پر ڈٹ جانے کا نام انکے نظریہ کی حفاظت ہے ۔اگر نظر انداز ہوا تو وہ اعتدل ہوا ۔۔اعتدال ہی وہ واحد حل ہے جو ان دو حدوں کے بین بین سہی راستہ ہے ۔جو سكهاتا ہے کے سنو احترام سے سنو ۔قایل کرو اگر نہیں کر سکتے تو چھوڑ دو ۔پر یہ حق کسی کو نہیں کے کسی کو لٹھ کے زور بازو پر کچھ منوا لو۔کسی کو کسی کی جان لینے کا حق نہیں ۔ہم نے ایک سوچ بنا لی کسی کی داڑھی دیکھی قمیض شلوار پہنا دیکھا اور اس نے کوئی جرم کیا فورا مذھب کو گا لی دو ۔
یا کوئی جرم ہوا اور جسکے ساتھ ظلم ہوا وہ اگر آزاد ہے تو آزادی کو جرم ۔
نہ ہی مذھب غلط ہوتا نہ آزادی غلط وہ فرد ہوتا جو جرم کرتا ۔یہ تفریق ہمیں سمجھنا ہو گی ۔
مذھب کسی پر جبر نہیں کرتا ۔نا جرم کی تبلیغ کرتا ۔پھر دین پر سوال کیوں ؟
کسی بھی معاشرے میں جب اعتدال کی جگہ انتہا لے لے پھر وہاں اخلاقی تباہی مقدر بن جاتی ہے ۔
ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھو ۔بردآشت واحد اکائ ہے جو سبکو جوڑ کر رکھتی ہے ۔
آزادی کی تعریف کو سمجھو اور اسکی حد تجاوز کرنے سے پرہیز کرو ۔جہاں اپنی آزادی سے نکلے سمجھو دوسرے کی حد پر حملہ اور ہوا ۔۔
جنسی تفریق کا راگ الاپ کر ہم نے مرد عورت کو دو الگ مخلوقا ت بنا دیا ۔برابری کی بات کریں تو تو برابری کی حدوں کی جانکاری لینا لازم ۔تعلیم، انصاف، جائیداد، نوکری، شادی ، کاروبار کی آزادی یہ وہ معاملات ہیں جن پر ایک برابر حق ہے کسی کو حق نہیں کے کوئی ان پر مرضی مسلط کرے ۔پر وہیں ہمارےہاں خاندانی نظام کے تحت سبکے اپنے طور طریقے ہوتے جنکے افراد پاپند ہوتے بلا تفریق جنس ۔اپنی روايات کو اگر مانتے ہو تو ٹھیک اگر غلط لگے تو انکو بدلو ۔۔سڑک پر نکل کر باجا بجا کر کچھ نہیں بدلے گا ۔۔اس سے سوآئے اضطراب کے کچھ نہیں ملے گا۔۔وہ لوگ جو عورت کے نام پر عورت مارچ کا حصہ بنے انہی میں سے ایسے ابلیس بھی نکلے جن نے سر تن سے جدا کر کے بے رحمی سے قتل کیا عورت کو وہ جو خود کو سو آزاد خیال کہتے انہی نے گھروں میں عورتوں پر ظلم ڈھائے ۔پھر کس کا بھروسا ۔یہ آزادی کے نام پر منافقت ہے جو ہم کرتے ۔ہمارے ہاں ظلم ہوتے دیکھ کر سب تماشائ ہوتے اور جب ظلم ہو جاتا پھر دھڑے بازی وہی عورت کارڈ مذھب کارڈ آزادی کارڈ زندہ ہو جاتا ۔ہیش ٹیگ ٹرینڈ بنتے ۔پھر چار، دس روز بعد نیا قصہ نئی کہانی ۔ان كارڈز سے نکل کر انسان بن کر انسانیت کے لئے سوچو اور اقدام کرو ۔اپنے گھر قبیلے سے سٹارٹ کرو خود تبدیلی نظر آئے گی ۔منبر کو حق کے لئے استعما ل کرو اپنے قلم کو سچ کے لئے اٹھاؤ قانون کا نفاذ اور انصاف کے فروغ کے لئے آواز اٹھاؤ سسٹم بدلنا ہو گا ۔جسکی لاٹھی اسکی بھینس جیسے محاورے کو جسکی بهینس اسکی لاٹھی کرنا ہو گا ۔اگر کوئی آواز اٹھانا بنتی ہے وہ اس عدالتی اور پولیس کے نظام کے لئے ہے سارا گھن چکر ان دو اداروں کی وجہ سے ہے ۔جہاں طاقتور آزاد ہے ہر ظلم کے ساتھ جہاں کمزور کا مقدر دھکے ہیں ۔۔باغی ہونے سے کچھ نہیں ملتا کیونکہ طغیانی سے فصلیں سیراب نہیں ہوتی بلکہ چمن اجڑ جاتے ایسے ہی شدت پسندی سے نسلیں فیض یاپ نہیں ہوتی ۔حد پكڑ نا سیکھو ۔علم اور نمبر کی ووڑ میں تربیت کو سب سے اہم مقام دو ۔اپنی نسلوں کو جنونی اور پاگل ہونے سے بچا و ۔۔https://twitter.com/SyedaBushraSha3?s=08