Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اردو زبان   تحریر : مقبول حسین بھٹی

    اردو زبان تحریر : مقبول حسین بھٹی

    ایک زبان کسی خاص ملک یا برادری میں انسانی مواصلات کا طریقہ ہے ، جس میں بولی یا تحریری شکل ہوتی ہے ، جس کی ساخت الفاظ استعمال پر مشتمل ہوتی ہے اور روایتی طریقہ انسانی زبان میں پیداواری صلاحیت ، تکرار اور بے گھر ہونے کی خصوصیات ہیں اور یہ مکمل طور پر معاشرتی کنونشن اور سیکھنے پر انحصار کرتی ہے ۔ دنیا میں زبانوں کی تعداد کے اندازوں میں مختلف ہے۔ تاہم ، ایتھنولوج میں 7،106 جاننے والی زبانوں پر معلومات موجود ہیں۔ یہ ایک ایسا جامع حوالہ ہے جو ریاست میں تمام معروف زندہ زبانوں کی فہرست دیتا ہے آج دنیا میں درج بہت سی زبانیں ہیں جو تکنیکی طور پر بولی جاتی ہے نہ کہ الگ زبانیں۔ وہ الگ الگ درج ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں باہمی سمجھے جانے کے لئے کافی ہے ۔ اردو زبان آس پاس کے بہت سارے ممالک میں لوگوں کے ذریعہ بولی جانے والی زبان دنیا بھر میں اور پوری دنیا میں پاکستانی کمیونٹیوں میں وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں ، رومن-اردو ٹیکسٹ پروسیسنگ میں پاکستان کے مختلف سوشل نیٹ ورک پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ ہند یوروپیئن کی کچھ دوسری ریاستوں میں انگریزی زبان کی بورڈ استعمال کرکے صارفین کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ بہرحال ، رومن-اردو ٹیکسٹ پروسیسنگ کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں کوئی معیاری لغت نہیں ہے ، اس کے نتیجے میں اردو میں ایک لفظ کی ہجے مختلف ہوتی ہے۔ اس حقیقت کی وجہ سے ، نیشنل لینگویج آف پاکستان (NLP) محقق کی برادری کے ذریعہ اردو زبان میں کم سے کم کام کی اطلاع دی جاتی ہے۔ اس مطالعے کا مقصد رومن اردو اور اردو زبان پر جامع جائزہ پیش کرنا ہے ، جو اس علاقے میں مصنفین کے ذریعہ گذشتہ کاموں کا احاطہ کرتا ہے۔ مزید ، ہم اردو زبانوں کی گرائمٹیکل ڈھانچہ ، قبل از پروسیسنگ تکنیک ، سافٹ ویئر ٹولز اور رومن اردو اور اردو زبان میں استعمال ہونے والے ڈیٹا بیس پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ مزید برآں ، پرفارمنس میٹرکس ، الگورتھم تکنیک کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ آخر میں ، اختتام پر ، تحقیقی نتائج اور آئندہ سمتوں کو اجاگر کیا گیا تاکہ اس شعبے میں ناول کے نظریات پیش کیے جاسکیں۔
    این ایل پی کے کاموں میں شکلیاتی تجزیہ ، اسپیچ کے حصے (پی او ایس) ٹیگنگ ، اسٹاپ الفاظ کو ختم کرنا ، تجزیہ کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ انگریزی زبان کے لئے این ایل پی کافی پختہ ہے ، لیکن اردو کے ساتھ ساتھ رومن اردو زبان میں بھی کام کرنے کے سلسلے میں بہت فرق ہے۔ اردو میں کل پندرہ حرف ہیں ، تاہم ، کسی خاص حرف کی وضاحت کرنے کے لئے ، اردو میں مختلف اشخاص کے نشانات مرتب کیے گئے ہیں جو کسی حرف کے اوپر یا نیچے ہیں جو ایک خاص حرف کی وضاحت کرتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر چار ڈایئریکٹک ہیں جو فوٹوونکس کی نمائندگی کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔ مثال کے طور پر ، جدول 1 میں حرف ‘بی’ کے اس طرح کے امتزاج کو دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ، رومان اردو کو دوسری زبانوں میں نقل کرنے کا بھی ترجمہ گوگل ٹرانسلیٹ API کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لہذا ، لغت پر مبنی نقل حرفی کام کرنے کی مزید ضرورت نہیں ہے. پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں کم از کم چھ بڑی زبانیں اور 58 معمولی زبانیں ہیں۔ اردو قومی زبان ہے اور انگریزی پاکستان کی سرکاری زبان ہے۔ قومی زبان اردو ، کے 11 ملین سے زیادہ مادری زبان بولنے والے ہیں جبکہ جو لوگ اسے دوسری زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں وہ 105 ملین سے زیادہ ہوسکتے ہیں ۔ فلولوجسٹ کہتے ہیں کہ آج ملک میں 300 سے زیادہ بولی اور زبانیں بولی جاتی ہیں اور ہر ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اردو کو قوم کی شناختی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور کسی بھی خطے میں جہاں مادری زبانیں موجود ہیں وہاں اس کی مخالفت نہیں کی جاتی ہے ۔ اردو کو شامل کرکے ، شمالی ہندوستان میں ، بولی جانے والی (خاروبولی – پراکرت) زبان سے تشکیل دیا گیا ہے اسے فارسی اور عربی الفاظ بڑے پیمانے پر منعقد کیے جانے والی غلط فہمی کے برخلاف ، یہ مغل فوجوں کے کیمپ میں نہیں تشکیل پایا ۔ لیکن اردو لفظ اسی سے ماخوذ ہے ترکی کا لفظ آرڈو (فوج) جس نے انگریزی کو بھیڑ دی ہے۔ تاہم ، اردو میں ترکی کے قرضے کم سے کم ہیں ، اور جو الفاظ ترکی اور عربی سے اردو نے لیا ہے وہ فارسی کے ذریعے لیا گیا ہے ، اور اسی وجہ سے اصل الفاظ کا فارسی زبان میں ورژن ہے۔ نام اردو کو سب سے پہلے سن 1780 کے آس پاس شاعر غلام حمادانی مشفی نے استعمال کیا ہے۔ اگرچہ انگریزی زیادہ تر اشرافیہ حلقوں میں استعمال کی جاتی ہے ، اور پنجابی زبان بولنے والوں کی کثرت ہے ، صرف 7٪ پاکستانیوں کو ہی اردو کو اپنی مادری زبان سمجھتے ہیں ، لیکن اردو پورے پاکستان میں سمجھی جاتی ہے۔ یہ تعلیم ، ادب ، دفتر اور عدالت کے کاروبار میں مستعمل ہے۔ یہ اپنے آپ میں ملک کے ثقافتی اور معاشرتی ورثے کا ذخیرہ رکھتی ہے ۔ اردو کی ترقی میں ابتدائی لسانی اثرات غالبا سندھ کی مسلم فتح خصوصا محمد بن قاسم کی فتح سے شروع ہوئے تھے۔ 94 ھ / 712 ء میں 11 ویں صدی کے بعد برصغیر پاک و ہند پر حملے کے دوران ، زبان فارسی اور عربی رابطوں سے تیار ہونا شروع ہوگئی۔ دہلی سلطنت (1206-1526) اور مغل سلطنت (1526-1858) کے دوران اردو میں فیصلہ کن ترقی ہوئی۔ جب دہلی سلطنت جنوب میں دکن مرتفع تک پھیل گئی تو ادبی زبان جنوب میں بولی جانے والی زبانوں اور عدالت کے استعمال سے متاثر ہوئی۔ ابتدائی آیت 15 ویں صدی کی ہے اور اردو شاعری کا سنہری دور 18 ویں تھا -19 ویں صدیوں میں اردو مذہبی نثر متعدد صدیوں سے پیچھے ہے ، جبکہ سیکولر تحریر 19 ویں صدی سے اگلی عروج پر ہے۔ 14 ویں اور 15 ویں صدی کے دوران ، اردو میں بہت زیادہ شاعری اور ادب لکھنا شروع ہوئے۔ ابھی حال ہی میں ، اردو بنیادی طور پر برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے ساتھ جڑی ہوی ہے ، لیکن آج بھی اردو ادب کے بہت سے بڑے کام ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی آمد برصغیر کی تاریخ کا ایک قابل ذکر واقعہ تھا۔ اس نے لوگوں کی معاشرتی زندگی کے تقریبا تمام شعبوں کو متاثر کیا۔ فن تعمیر ، مصوری اور خطاطی ، کتاب کی مثال ، موسیقی اور یہاں تک کہ رقص سمیت مسلمانوں کی اپنی ثقافت اور تہذیب میں شاندار شراکت تھی۔ مسلمانوں نے ہمیشہ زندگی کی تاریخ ، سوانح حیات اور سیاسی تاریخ میں دلچسپی لی تھی۔ لہذا ، اس میدان میں بھی ان کا عمدہ شراکت تھا۔ تاہم ، ان کی سب سے نمایاں شراکت اردو زبان کا تحفہ ہے۔ اگرچہ مسلمان تین صلاحیتوں میں برصغیر میں آئے ، بطور تاجر یا کاروباری افراد ، بطور کمانڈر اور سپاہی یا فاتح اور تبلیغ کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے مبلغین کی حیثیت سے ، لیکن اردو کے ارتقاء اور ترقی میں ان کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے۔ جدید اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور دنیا کے بہت سے لاکھوں لوگوں کے ذریعے بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد ، اردو کو نئے ملک کی قومی زبان منتخب کیا گیا۔ پاکستان میں اردو زیادہ تر پہلی زبان کے طور پر سیکھی جاتی ہے اور پاکستان کی زیادہ تر آبادی اردو کے علاوہ اپنی مادری زبانیں بھی رکھتے ہیں۔ ابتدائی مرحلے کے دوران ، مسلمان برصغیر میں تین صلاحیتوں ، جیسے تاجروں یا کاروباری افراد ، بطور کمانڈر اور سپاہی یا فاتح آئے۔ اردو کی اصل برصغیر میں مسلمانوں کی آمد اور رہائش سے متعلق ہے ، اور وہ اسے اپنے ساتھ نہیں لاتے تھے۔ یہ صرف فاتحین اور فاتحین کے باہمی رابطے کی وجہ سے وجود میں آئی ، اور عربی ، فارسی اور ترکی کے ساتھ مقامی زبانوں میں یکجا ہونے کی وجہ سے اردو جیسی متضاد زبان ابھری۔ ایک ابتدائی مرحلے میں ، ابتدائی اسلامی مذہبی مبلغین نے اپنی تبلیغ کے کام کو انجام دینے کے لئے مقامی بولیوں کے ساتھ ساتھ معاصر ادبی روایات اور خصوصیات کو بھی اپنایا۔ بہر حال ، تبلیغی فرائض کی انجام دہی کے دوران انہوں نے اردو کی ترقی اور ترقی میں بہت خدمات انجام دیں۔ اسی طرح اردو کے ان ترقی یافتہ اور ترقی میں محب وطن نظموں ، نثروں ، ناولوں اور افسانوں کو لکھ کر شاعری کی ذمہ داریاں ادا کرنے والے اردو شاعروں کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ مزید یہ کہ اردو گانوں کے مصنفین اور گیت نگاروں نے اس کو ایک بہت ہی بہتر اصلاح پسند ادبی زبان بنا دیا جس کی ہر قسم کے اظہار کے قابل ہے۔ مزید برآں ، اردو لکھاریوں نے مزاحیہ کالم ، مضامین اور مختلف نیوز پیپرز اور رسالوں میں مباحثے بھی لکھے جو آن لائن دستیاب ہیں ، اور لوگوں کو اس زبان کو جاننے کے لئے متحرک کرنے میں بہت مدد فراہم کرتے ہیں۔ ثقافتی مواصلات ، زبان کی منصوبہ بندی اور زبان کی پالیسی ، زبان کی نشوونما ، زبان کے تعلقات ، اور زبانوں کے بارے میں عمومی تجسس کے ساتھ سب کے لئے یہ معلومات ہر ایک کے لئے قیمتی ہوں گی۔

    Twitter handle :
    @Maqbool_hussayn

  • حب آف منی لانڈرنگ  تحریر: محمد اسعد لعل

    حب آف منی لانڈرنگ تحریر: محمد اسعد لعل

    پیسہ ہاتھ کی میل سمجھا جاتا ہے اگر یہ پیسہ ناجائز طریقہ سے کمایا جائے تو ہاتھ کے ساتھ ساتھ نصیب بھی میلا کر دیتا ہے۔منی لانڈرنگ ایک کالا دھندا ہے جس میں غیر قانونی طریقوں سے کمائے گئے کالے پیسے کو سفید میں بدلا جاتا ہے۔جب کوئی مجرمانہ کاروائی سے پیسے کماتا ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس پیسے کی غیر قانونی حیثیت عیاں نہ ہو۔پیسے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر کے اس کی ابتداء کو چھپایا جاتاہے۔
    پاکستان کا پیسہ، انڈیا کا پیسہ، افغانستان کا پیسہ اور دنیا کے غریب ممالک یا ترقی پزیرممالک کا پیسہ کون اور کیسے کھا جاتاہے؟آخر منی لانڈنگ ہو کہ پیسہ جاتا کہاں ہے؟
    اس کے اوپر عالمی سطح پر کام شروع ہوا ہے، پاکستان نے اس معاملے کو اُٹھایا ۔اس سے پہلے کو ئی اور اس بارے میں بولنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔دنیا کے حکمران اس پر بات کیوں نہیں کرتے یہ ایک اہم سوال ہے۔
    برطانیہ کو منی لانڈرنگ کا حب سمجھا جاتا ہے۔برطانیہ کیسے دنیا بھر کا پیسہ اکٹھا کرتا ہے اس پر ٹرانسپیریسی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ شائع کی ۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کا جو گندا پیسہ ہےوہ کچھ مددگار کمپنیوں کے ذریعے سے "یو کے” میں اکٹھا کیا جاتا ہے۔اور پھر دو نمبر طریقے سے "یو کے” کے آف شور سنٹرز تک یہ پیسہ پہنچتا ہے۔ اس پیسہ کوپھر برطانیہ کی لگژری قسم کی پراپرٹیز میں انویسٹ کیا جاتا ہے۔ یعنی پہلے یہ پیسہ ان ممالک سےجہاں پر کرپشن کی گئی ہو، برطانیہ پہنچایا جاتا ہے۔برطانیہ میں اس پیسے کو آف شور کمپنیز میں چھپایا جاتا ہے پھر اس پیسے سے آف شور کمپنیز کے ذریعے پراپرٹیز خریدی جاتی ہیں ، لیکن یہ پتا نہیں چلتا کہ پراپرٹیز کس کی ہیں۔ مثال کے طور پہ برطانیہ میں ایک آدمی کے پاس دس ارب کی پراپرٹی ہے مگر وہ اس کے اپنے نام پر نہیں لی ہوئی۔اس نے پاکستان یا کسی دوسرے ملک سے پیسہ منی لانڈنگ کر کے برطانیہ پہنچایا ، برطانیہ میں وہ پیسہ آف شور کمپنی میں ڈالا گیا ۔اب آف شور کمپنی کا مالک کون ہے یہ کسی کو نہیں پتا۔ وہ کمپنی پراپرٹیز خرید لیتی ہے۔ اب مالک اور پراپرٹیز کے درمیان ایک آف شور کمپنی آ جاتی ہے لحاظہ اصل مالک کا کسی کو پتا ہی نہیں چلتا۔یہ وہ طریقہ واردات ہے۔
    برطانیہ میں داخل ہونے والی دو نمبر رقم کا پیمانہ سالانہ اربوں پاؤنڈ سے کہیں زیادہ ہے۔اب یہ دیکھتے ہیں کہ برطانیہ حکومت ان منی لانڈرز کا دفاع کیسے کرتی ہے۔
    برطانیہ کی گولڈن ویزہ کی ایک پولیسی ہے۔جو بدعنوانی کے اور کرپشن کے پیسوں کو ملک کے اند خوش آمدید کہتی ہے۔اس پولیسی کے تحت اگرآپ کے پاس دو ملین پونڈز ہیں تو آپ برطانیہ کا گولڈن ویزہ لے کر وہاں جا کر کاروبار کر سکتے ہیں ۔اپنا پیسہ وہاں لگائیں کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔تین چیزیں جو برطانیہ کے قانون کے اندر موجود ہیں جن کی وجہ سے منی لانڈرنگ کا پیسہ پکڑا نہیں جاتا۔
    نمبر 1: برطانیہ کا قانون کمپنی مالکان کا نام چھپانےکی اجازت دیتا ہے۔مثال کے طور پر میں برطانیہ میں کوئی اربوں روپے کی پراپرٹی میں رہتا ہوں ۔یہ تو سب کو پتا چل جائے گا کہ اس پراپرٹی میں رہتاکون ہے پر وہ اس پراپرٹی کا مالک نہیں ہے اب مالک کون ہے؟ وہ کوئی آف شور کمپنی ہے اور آف شور کمپنی کا مالک کون ہے اس کا پتا برطانوی قانون نہیں لگنے دیتا۔
    نمبر2: پولیس اس چیز کو ڈیٹیکٹ نہیں کر سکتی کہ ان کمپنیوں کی ناجائز دولت کی ابتداء کیسے ہوئی۔
    نمبر3اور آخری چیز جو برطانیہ کے قانون میں اس غیرقانونی پیسے کو سپورٹ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ برطانوی کمپنیوں کا رازداری کا نظام عالمی سطح پر معاشی جرائم کو سہولت فراہم کرتا ہے۔
    امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ جو 2017 میں شائع ہوئی جسکے مطا بق پاکستان سے ہر سال دس ارب امریکی ڈالرمنی لانڈرنگ کے ذریعے پاکستان سے باہر پہنچ جاتے ہیں۔
    وزیراعظم عمران خان نے 2020 میں اقوامِ متحدہ کے ایک پینل سے کچھ مطالبات کیے تھے ان میں سے 4 مطالبات بہت مقبول ہوئے۔
    انہوں نے پہلا مطالبہ یہ کیا کہ ایسے مالی ادارے جو اس طرح کی رقوم حاصل کرتے ہیں ان کو بھی قانون کے دائرے میں لانا چاہیے۔
    دوسرا ،ترقی پزیر ممالک سے لوٹا گیا پیسہ انہیں واپس ہونا چاہیے۔
    تیسرا ،بین الاقوامی برادری کو غیر قانونی دولت کے بہاؤ کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اُٹھانے کے لیے نئے قوانین بھی بنانے چاہیں۔
    چوتھا، اگر کسی بھی متاثرہ ملک کی غیر ملکی آف شورکمپنی کی تحقیقات ہو رہی ہےتو پھر برطانیہ یا وہ ملک جہاں یہ کمپنی موجود ہے،اس آف شور کمپنی کی اونر شپ کو ظاہر کر دے۔
    اب بین الاقوامی ادارے بھی اس پر بات کر رہے ہیں ۔برطانیہ نے کچھ نئے قوانیں بنائے ہیں کچھ اور ملک اس بارے میں سوچ رہے ہیں پر ابھی بھی وہ ان پیسوں کو بچانا چاہتے ہیں۔ اگر یہ دباؤ بڑھتا جائے ، کمزور اور غریب ملک مل کر آواز اُٹھائیں کے ہمارا پیسہ واپس کرو تو شائد اُن کا پیسہ واپس آ جائے۔لیکن اس کے لیے ہم آواز ہونے اور بین الاقوامی انصاف کی ضرورت ہے۔
    ہمیں اب اس مسلہ کے حل کی طرف آنا چاہیے۔سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ برطانیہ کرپٹ سیاستدانوں کی دولت کی حفاظت کرتا ہےاور بدلے میں ان ممالک کے اندرونی معاملات کو کنٹرول کرتا ہے۔دوسرا برطانیہ غریب ملک کے پیسے پر موج کر رہا ہےاگر تمام غریب ملک اپنا پیسہ نکالنے میں کامیاب ہو جائیں تو برطانیہ دھرم سے نیچے آجائے گا۔
    برطانیہ پاکستان سے لوٹا گیا پیسہ اپنے بنکوں میں ڈال رہا ہے اور جس کی قیمت پاکستانی عوام ترقی میں رکاوٹ کی صورت میں برداشت کر رہا ہے۔برطانیہ اور امریکہ اب اس بات کو سمجھیں غریب ملک کی عوام اپنی غربت،پریشانیاں اور پسماندگی کے لیےنہ صرف اپنے نااہل اور کراپٹ حکمرانوں کو ذمےدار سمجھتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان ممالک کو بھی ذمے دار سمجھنے لگ گے ہیں جہاں پر یہ پیسہ لے جا کر چھپایا جا رہا ہے۔ جتنا جلدی یہ ممالک اس بات کو سمجھیں گے یہ ان کے لیے بھی اچھا ہو گا اور غریب ممالک کے لیے بھی بہتر ہو گا ورنہ غربت بڑھتی چلی جائے گی اور دنیا نئی لڑائیوں کی طرف دھکیلی جائے گی۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • ہم بدلیں گے نظام تحریر: آمنہ فاطمہ

    ہم من حیث القوم مسائل کا شکار ہیں آسمان سے کوئی مسیحا نہیں اترے گا اس نظام کو بدلنے کے لیے ہمیں کمر خود باندھنا ہو گی
    پاکستان میں لاقانونیت انتہادرجے کو پہنچ چکی ہےہم صحیح معنوں میں قوم نہیں بن سکے آئین پاکستان اور قانون میں تمام شہری برابر ہیں مگر یہ بات صرف تقریروں اور تجزیوں کی حد تک مخفوظ ہے کیونکہ برابری کے قانون پر عمل در آمد کی بات کتابی تحریر سے زیادہ اہم نہیں ہوتی ہر شخص اور ادارہ اپنی اصلاح کی بجائے دوسروں پر تنقید کرتا ہے چاہے وہ بیوروکریسی ہو یا عدلیہ یا کوئی اور ادارہ بدانتظامی اور کرپشن کی وجہ سے ہم تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں ہم جہالت اور لاقانونیت کی وجہ سے بدترین نظام بناتے جا رہے ہیں ہمیں پرائمری سکول میں قطار میں لگنے کا سبق تو پڑھایا جاتا ہے مگر حقیقت میں ہر شخص اسی کوشش میں ہوتا ہے کہ لائن میں لگے بغیر کام ہو جائے اور لائن سے بچنے کے لیے رشوت یا سفارش کا سہارا لینا ہوتا ہے نتیجتاً میرٹ کا قتل عام ہو جاتا ہے
    یہاں الٹی گنگا بہتی ہے جو قانون کی پاسدارسی کرتا ہے اسے انصاف میسر نہیں ہوتا اور جو قانون کو ہاتھ میں لیتا ہے وہ سزا یافتہ قرار نہیں پاتا کیونکہ اس کا تعلق وی آی پی خاندان سے ہے وہ پنے لئے انصاف جیت تو نہیں مگر خرید ضرور سکتا ہے
    بے شمار وسائل ہونے کے باوجود جہالت, بے روزگاری, نا انصافی, غربت اور لاقانونیت کی دلدل میں دھنسی ہوئی اس قوم نے قدرتی وسائل کا جس بے دردی سے ضیاع کیا ہے اسکی مثال دنیا میں نہیں ملتی ان سارے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمیں بحیثیت قوم سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا سب سے پہلے تو قانون کی حکمرانی اور سستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہو گا ہمیں انفرادی طور پر بدلاؤ کی ضرورت ہے, انفرادی بدلاؤ ہی اجتماعی تبدیلی کا سبب بنتا ہے اگر آج ہم میں سے ہر کوئی خود کے ساتھ یہ عہد کرے کہ وہ رشوت, سفارش اور لاقانونیت سے باز رہے گا, میرٹ کو پروموٹ کرے گا قومی وسائل کا بے جا استعمال نہیں کرے گا, ناپ تول میں کمی نہیں کی جائے امیر,غریب کا فرق نہ کرتے ہوئے مسائل کو حل کیا جائے گا جھوٹ کو چھوڑتے ہوئے سچ بولے گا حتی کہ زندگی کے ہر فیز میں ایمانداری, دیانت داری, اور نظم و ضبط کو اپنایا جائے اپنایا جائے گا تو دیکھئے گا زندگی کا سفر کتنا آسان ہو جائے گا آسانیاں بانٹیں تا کہ آپ آسانیاں سمیٹ سکیں خود احتسابی کی کوشش کو عام بنائیں چاہے آپ کا تعلق کسی بھی شعبہ سے ہو اپنا کام درست انداز میں کریں

    @AamnaBukhari

  • ‏منفی اور مثبت سوچ تحریر:عرفان اللہ

    ‏منفی اور مثبت سوچ تحریر:عرفان اللہ

    اس دنیا میں قابل سوچ اور سلامت ذہن والے لوگوں کے دو اقسام ہوتے ہیں جس میں منفی سوچ اور مثبت سوچ والے ہوتے ہیں۔ منفی سوچ والے لوگ ایک اچھے کام، بات، سوچ یا نظریے میں بھی صرف ان چیزوں کا نشاندہی کرتا ہے جس کا رجحان نفی کی طرف ہو اور مثبت سوچ والے لوگ کسی نفی بات یا کام میں بھی مثبت چیزوں کو ایسے سامنے لاتا ہے کہ انسان کی ذہن اس کام کیلئے مکمل تیار ہوتا ہے۔ دنیا میں پائی جانے والی تمام اشیاء کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اور ایک برا۔ اب یہ انسان کی ذہنیت پر ہے کہ وہ اس چیز کا استعمال اچھائی کے ساتھ کریں یا برائی کے ساتھ۔
    مثال کہ طور پر آج کل استعمال ہونے والی ایک انٹرٹینمنٹ ایپ ٹک ٹاک دیکھے۔ ٹک ٹاک پر اپکو بہت سے کیٹگری انٹرٹینمنٹ، شوبز، سپورٹس، شاعری، مزاحیہ، ٹیلنٹ اور انفارمیٹیو سے وابستہ لوگ ملے گی۔ اب اگر ایک انسان اچھا سوچتا ہے اس کی سوچ مثبت ہے تو اس ایپ کو اچھے طریقے سے استعمال کرکے لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اس پر لوگوں کو تعلیم دیا جا سکتا ہے، اس کے ذریعے بہت سے لوگوں کو روزگار سکھایا جا سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنا چھوٹا کاروبار کر سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنی کاروبار کو پروموٹ کر سکتا ہے، اس ایپ کی مدد سے ایک خیراتی ادارہ چلا سکتا ہے، اس ایک کے ذریعے انسانوں کو زندگی کے اصول سکھایا جا سکتا ہے، کھیل کھود اور دوسرے انٹرٹینمنٹ ویڈیو دکھا سکتا ہے، احادیث اور اقوال زرین دکھایا اور سکھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں جن کی مدد انسان معاشرے اور انسانوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
    اب ایک بندہ ہوگا جس کی سوچ منفی ہوگی ہمیشہ کیلئے ایک اچھی چیز میں بھی اس کو حامی نظر آئے گی۔ ہمیشہ کیلئے کسی چیز کا استعمال منفی طریقے سے کرے گا۔  اب وہی بندہ جس کی سوچ منفی ہے، مثبت سوچ رکھنے والے کی برعکس اسی ایپ کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرسکتا ہے۔ محتلف ایسے موضوعات پر لیکچر دے سکتا ہے جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب ہو، اس ایپ کے ذریعے  فحاشی پھیلایا جا سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے حرام کی کمائی کیا جا سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے کسی کی پردہ پوشی کر سکتا ہے، اس ایپ کے ذریعے اپنی عزت نیلام کر سکتا ہے۔
    اس ایپ کے ذریعے ڈانس، گانے بجانے یا فحاشی کے مراکز کو دکھا کر معاشرے کو تاریکی اور فحاشی کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔
    اس کے علاوہ منفی سوچ کی سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ نہ وہ انسان خود معاشرے کی فلاح اور اصلاح کیلئے تیار ہو سکتا ہے اور نہ دوسروں کو اس کام کیلئے تیار ہوتے دیکھ سکتا ہے۔ لقمان حکیم صاحب فرماتے ہے کہ کہ اگر آپ کے پاس کوئی انسان آئے اور اسکی ایک آنکھ کسی نے نکالی ہو اور وہ آپ سے کہے کہ فلاں نے میری آنکھ نکالی ہے تو یقین کرنے سے پہلے تحقیق کیا کرے کہ کہے اس بندے نے اسی انسان سے دو آنکھیں تو نہیں نکالے ہیں۔ معاشرے اس بات حیال ضرور رکھا کرے کہ کسی سے بھی کسی کام کیلئے مشورہ لیتے ہوئے ایسے بندے سے لے کہ اسکی سوچ مثبت اور وسیع ہو۔ تاکہ آپکی کام کیلئے ایک مشورہ ملنے کے ساتھ ساتھ آپکی حوصلہ افزائی بھی ہو جائے۔ ایک نفی سوچ والے سے اگر آپ ایک اچھے بلے کام  کیلئے مشورہ اور صلاح لینا چاہوںگے تو وہ آپکی حوصلہ افزائی کے بجائے اس میں اتنی حامیاں نکالے گی کہ آپ کام کرنا ہی چھوڑے گے۔ اس لئے اللہ تعالی سے، انسانوں سے اور چیزوں سے ہمیشہ کیلئے اچھی توقعات رکھے انشاءاللہ آپکی قسمت ہر چیز نفع بخش اور سودمند ثابت ہوگی۔ کیونکہ اللہ تعالی انسان کی گمان اور سوچ کی مطابق فیصلے نازل فرماتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں انسانوں اور حیوانوں کی ضرر سے محفوظ رکھے اور ہمیں اچھی اور مثبت سوچ رکھنے والے رفیق عطا فرمائے۔

    ٹویٹر: ‎@Muna_Pti

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات تحریر عمران اے راجہ

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات تحریر عمران اے راجہ

    پارٹ ۳:
    ۳: کروکوڈائل برِج گیٹ Crocodile Bridge Gate
    اس راستے سے پارک کی کون سی خاص جگہات پر جا سکتے ہیں اس کا خلاصہ کچھ ایسے ہے
    ٭ مین روڈ جو کہ پکی سڑک ہے جنوب کی جانب لوئر سابی کی طرف جاتی ہے جس کا نام H4-2 ہے۔
    ٭ مشرق کی طرف لیبومبو ایریہ کی طرف جاتی ہے جس کا نام S28 ہے۔
    ٭ مغرب کی جانب جانے والی کوروکو ڈائل ریور سڑک بیاماتی ایریہ کی طرف جاتی ہے S25 ۔
    ٭ شمال کی طرف رُوٹ رینڈسپریٹ روڈ H5 کے راستے سکوکوزا کی جانب جاتا ہے جس کا نام ہے H4-1۔
    اب آتے ہیں تفصیلات کی جانب۔ کروکوڈائل برج گیٹ بالکل مشرقی جانب سے کروگر میں داخلے کا راستہ ہے جو ہائی وے N4 سے آتا ہے۔ N4 ہائی وے مین ٹاؤن نیلسپریٹ اور مالےلان سے ہوتی ہوئی کوماٹی پورٹ کی جانب آتی ہے جو موزمبیق کے بارڈر سے پہلے ساؤتھ افریقہ کا آخری چھوٹا سا ٹاؤن ہے۔ اس کا شمار گرم ترین علاقوں میں ہوتا ہے اور موسم گرما میں درجہ حرارت 40 ڈگری تک بھی جاتا ہے۔
    کروکوڈائل برج گیٹ کا نام کروکوڈائل ریور کی نسبت سے رکھا گیا۔ جو لوگ پارک کے جنوب مشرقی حصے کی طرف جانا چاہیں ان کے لیے یہ گیٹ سب سے ڈائریکٹ اور آسان راستہ ہے۔ کروکوڈائل برج پر آپ کو جھاڑیوں اور گھنے جنگل پر بہت کڑی نظر رکھنی ہے کہ یہاں بہترین مواقع ہیں نایاب جانوروں کو درختوں یا جھاڑیوں میں دیکھنے کے۔
    گیٹ سے داخلے کے کچھ ہی فاصلے بعد آپ کو کروکوڈائل برج کیمپ ملے گا جہاں پٹرول پمپ اور کھانے پینے کے علاوہ دوسری اشیاء ضروریہ میسر ہیں۔ یاد رہے بارش کے موسم میں یہاں سیلابی کیفیت ہوتی ہے لہذا بارش کی صورت میں زیادہ دیر رکنے سے گریز کریں۔
    کروکوڈائل برج سفید گینڈوں کا مسکن ہے اور یہ اکثر آپ کو درختوں تلے ملیں گے جبکہ شرمیلا کالا گینڈا آپ کو گھنی جھاڑیوں میں ملتا ہے۔
    یہاں کے دوسرے خاص جانور شیر، چیتا، ہائنا، جنگلی کتے، امپالہ اور دریائی گھوڑے ہیں۔
    انیسویں صدی کی شروعات سے Nhlowa Road S28 کروکوڈائل برج گیٹ کی طرف سابی گیم ریزرو کی جانب جانے والا مین راستہ تھی۔ یہ سڑک جنوب مشرقی جانب مڑتی ہے جہاں سے پارک کا داخلہ ہے اور اس کا رُخ لیبومبو رینج کی طرف ہے جو موزمبیق اور جنوبی افریقہ کا بارڈر ہے۔
    یہ خطہ نوب تھورن جھاڑیوں اور مارُولا کے درختوں سے گھِرا ہے۔ یہ عام جنوبی حصے کی نسبت زیادہ میدانی اور ہموار ہے اور گیم واچنگ کے لیے بہترین کیونکہ یہاں اچھی چراگاہیں ہیں۔
    جیسے جیسے آپ لیبومبو پہاڑی سلسلے کی طرف بڑھتے جائیں گے سبزہ کم سے کم ہوتا چلا جائے گا۔ جیسا کہ جنوبی حصے کی خاصیت سفید گینڈا ہے یہاں آپ کو بلیک بریسٹ سنیک ایگل بھی دِکھے گا۔
    یہیں پر آپ کو ایم پانا مانا ڈیم بھی ملے گا جس کا اختتام کروکوڈائل ریور میں ہوتا ہے۔ یہ سڑک S28 آپ کو مزید جنوبی طرف لے جائیگی جہاں براستہ H4-2 آپ لوئر سابی ریسٹ کیمپ کی طرف جاتے ہیں۔
    کروکوڈائل برج اور لوئر سابی کی درمیان شمالی ایریا H10 آپ کو جنگلی حیات کے چند بہترین نظارے فراہم کرتا ہے۔ بہترین مناظر چیتا دیکھنے کے ہیں۔ یہ ایریا ہموار، سرسبز، بہترین گھاس اور چراگاہوں سے مزین ہے جو چیتوں کی پسندیدہ ترین جگہیں ہیں۔ چیتا ہمیشہ ہموار جگہ کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ وہاں اس کی رفتار تیز ترین اور شکار آسان ہے۔
    لوئر سابی کا گومونڈوانے روڈ ورھامی ریور کے ساتھ چلتا ہے۔ یہاں پر دو پانی کے ذخیرے ہیں گیزاٹومبی اور گومونڈوانے۔ پانی کے ذخیرے بہترین جگہ ہیں گیم واچ کے لیے کیونکہ تمام جانوروں کو پانی کے لیے وہیں جانا پڑتا ہے۔
    جیسے ہی آپ لوئر سابی کیمپ پہنچیں گے آپ کو مشرق کی جانب لیبومبو ماؤنٹین رینج نظر آئیگی اور منتشے ماؤنٹین بالکل آپ کے سامنے جہاں بہت سے زیبرہ اور وائلڈ بِیسٹ بھی ملیں گے۔یہ سڑک داہنے مڑتے ہی آپ کو بہترین دریائی ماحول والی کیمپ سائٹ کی سیر کروائے گی۔
    کروگر پارک کا جنوبی حصہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے جو صدیوں پیچھے جاتی ہے۔ یہاں پر دوسری دلچسپیوں کی علاوہ یہاں آپ کو مشہور زمانہ “بُش مین” کی پینٹنگز بھی ملیں گی جو San لوگوں نے بنائی ہیں۔ یہ لوگ کسی زمانے میں یہیں رہتے اور شکار کرتے تھے۔
    یہ خطہ ناصرف شکار اور جنگلی حیات کے مشاہدے کے لیے بہترین ہے بلکہ یہاں ایک کثیر تعداد ہائناز کی بھی ہے۔ یہاں کا گیم ایریہ “جنوبی سرکل” کہلاتا ہے۔ یہاں شیروں کے جھنڈ پائے جاتے ہیں جو نِت نئے طریقوں سے شکار کے لیے مشہور ہیں اور بہترین دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ کروکوڈائل برج اور لوئر سابی کے درمیان کا علاقہ کروگر کے بہترین حصوں میں سے ہے اور یہاں سب سے زیادہ چانس ہے کہ آپ “بِگ فائیو” کو دیکھ سکیں۔
    “کروکوڈائل برج گیٹ بہت مشہور اور آئیڈیل جگہ ہے لہذا اس کی طوالت زیادہ ہے۔ دوسرے گیٹس کے ساتھ اس کی مزید تفصیلات ایڈ کروں گا”۔۔
    (جاری ہے)
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • پیشہ ور بھکاری۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    پیشہ ور بھکاری۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عمیر اسلم

    دورانِ سفر کسی بھی چوک میں ٹریفک کا اشارہ سرخ ہوتے ہی لوگوں کا ایک ہجوم گاڑیوں کی طرف لپکتا ہے۔ کوئی گاڑیوں کے شیشے صاف کرنا شروع کرتا ہے اور کوئی کُچھ بیچنے کی کوشیش، اس ہجوم میں زیادہ تر بچے یا خواتین ہوتی ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر کوئی ایک مخصوص لین تک ہی محدود رہتا ہے۔

    اسی طرح ہسپتالوں کے اندر اور باہر بھی لوگوں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے جو لوگوں سے مدد مانگتے نظر آتا ہے۔ کسی کو گھر واپسی کے لیے کرایہ چاہیے ہوتا ہے تو کسی کے پاس دوائی لینے کے لیے پیسے کم پڑ جاتے ہیں۔

    یہ لوگ ایسی ایسی تاویلیں گھڑتے ہیں کہ کوئی بھی سننے والا ششد رہ جائے۔ خیرات ملنے کی صورت میں جہاں یہ لوگ دعاؤں کی بھرمار کر دیتے ہیں وہیں کُچھ لوگ خیرات نہ دینے پر بُرا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

    ایسے لوگ دراصل پیشہ ور بھکاری ہوتے ہیں، بھیک مانگنا ہی ان کا روزگار ہوتا ہے۔ کم محنت اور زیادہ کمائی کی وجہ سے یہ محنت مزدوری کرنے کی بجائے بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    پیشہ ور بھکاری بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق بھکاری مافیا سے ہوتا ہے اور دوسرے وہ جو ایسے کسی گینگ کے ساتھ منسلک ہونے کی بجائے انفرادی یا اجتماعی طور پر یہ کام کرتے ہیں۔

    بھکاری مافیا سے منسلک افراد ایک گینگ کی صورت میں کام کرتے ہیں۔ اغواء شدہ اور گود لیے گئے بچوں کو اپاہج بنایا جاتا ہے اور پھر اُن سے بھیک منگوائی جاتی ہے۔ کُچھ بچوں کو بھیک لینے کے لیے کتابیں بھی دی جاتی ہیں، اور انہیں سکھایا جاتا ہے کہ کتابیں بیچنے کے نام پر کس طرح غربت اور بھوک کا رونا رونا ہے کہ سامنے والا خود ہی بھیک دینے پر مجبور ہو جائے۔

    یہ گینگ بچوں کے ساتھ خواتین سے بھی بھیک منگواتا ہے۔ یہ مافیا نہ صرف ان سب بھیک مانگنے والوں کو مقررہ جگہ پر چھوڑنے اور واپس لے جانے کا انتظام کرتا ہے بلکہ ان بچوں اور خواتین کی نگرانی بھی کی جاتی ہے تا کہ کوئی ان کے مانگنے کے کام میں خلل نہ ڈالے۔

    پیشہ ور بھکاریوں کی دوسری قسم کسی گینگ یا مافیا سے تو منسلک نہیں ہوتی لیکن کام اسی طرح سے کرتے ہیں۔ بچوں اور خواتین سے چیزیں بیچنے کے نام پر بھیک منگوانا، معذوری اور غربت کے نام پر بھیک مانگنا وغیرہ۔ یہ لوگ یا تو انفرادی طور پر خود بھیک مانگتے ہیں یا اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کو بھی بھیک مانگنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔

    کسی بھی بارونق جگہ چلے جائیں، چاہے وہ کوئی بازار ہو یا مارکیٹ، ہسپتال ہو یا کوئی سرکاری ادارہ، بس سٹاپ ہو یا بس اڈے، کالج ہو یا یونیورسٹی، فوڈ سٹریٹ ہو یا کوئی ریسٹورنٹ آپ کو جگہ جگہ یہ پیشہ ور بھکاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    اگر ان بھکاریوں کی روزآنہ کی بھیک کا حساب کیا جائے تو یہ ہزاروں میں بنتی ہے۔ کُچھ عرصہ قبل ایک بھکاری سے ملاقات ہوئی جو رکشہ خریدنے لاہور آیا تھا۔ رکشہ خریدنے کی وجہ پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ بھیک مانگنے کے اڈے پر آنے جانے کے لیے اُسے روزآنہ 1200 روپیہ ایک رکشے والے کو دینا پڑتا ہے۔ رکشہ خرید کر وہ نہ صرف کرائے کے پیسے بچائے گا بلکہ رکشہ رینٹ پر بھی دے دے گا۔ ماہانہ آمدنی کا پوچھنے پر اُس نے بتایا کہ ہر مہینے وہ لاکھوں روپیہ بھیک اکٹھی کرتا ہے۔

    اس واقعہ کے کُچھ عرصہ بعد ایک ہسپتال میں بھی ایک بھکاری سے ملاقات ہوئی، اُس نے بتایا کہ وہ روزآنہ چار سے پانچ ہزار روپیہ اکٹھا کرتا ہے، لیکن اُسے وارڈ کی آپا وغیرہ کو بھی حصہ دینا پڑتا ہے۔

    ان پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف آئے روز برائے نام کریک ڈاؤن ہوتے رہتے ہیں، لیکن اس مسئلے کا حل صرف اس طرح کی کارروائیوں سے نہیں ہو سکتا، کیوں کہ یہ لوگ پہلے ہی حصہ دے دیتے ہیں اور اگر کاروائی ہو بھی تو چائے پانی دے کر دوبارہ وہی کام شروع کر دیتے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں بحثیت معاشرہ ایسے عناصر کی حوصلا شکنی کرنی چاہیے۔ جہاں اداروں کی کارروائی ضروری ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایسے پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک دینے سے اجتناب کریں۔ اگر ہم ایسے افراد کو بھیک دینا بند کر دیں گے تو یہ خود ہی یہ کام چھوڑ دیں گے۔

  • تاریخ کے ابواب  تحریر: نایاب آصف

    تاریخ کے ابواب تحریر: نایاب آصف

    تاریخ کے ابواب کے تابندہ کرنوں کی مانند چمکتے ہوئے صفحات پر نظر پڑی تو میری چشم فلک نے قمر روشن کو حسن مکاں و لا مکاں کی خاطر شق ہوتے دیکھا٫روحانیت کے نیر اعظم کو اپنے قول و فعل سے بنی نوعِ انسان کو منور کرتے دیکھا٫قرآن کو پہاڑوں کی بجائے انسان کے سینے پر اترتے دیکھا٫ دشمنان اسلام کے مظالم کی تاریخ کو عفو و درگزر کی عظیم مثالوں سے مٹتے دیکھا٫عرب کے درندہ صفت انسانوں کو اپنے جذبہ ایمانی سے قیصر و کسریٰ کے محلات کو زیر کرتے دیکھا تو میرے ذہن میں یہ بات جنم لی کہ اس عظیم انسان کی امت کو بھی اتنا ہی عظیم ہونا چاہیے کہ جس کی آفتاب عالم تاب کی مانند شخصیت نے انسانیت کے قلب و جگر کو اپنے نور سے روشن کر دیا۔
    وہ پیر کامل ،دونوں جہانوں کا تاجدار انسانیت کی ہچکولے کھاتے ہوئی کشتی کا بیڑا پار لگانے آیا۔اس دار فانی کا زرہ زرہ اپنی استعداد کے مطابق اس ہستی کے کمال سے فیض یاب ہوا۔یہ وہی ذات تھی کہ جو راتوں کو رو رو کر اپنی امت کو نار جہنم سے آزادی کا پروانہ ملنے کی دعائیں کرتی تھی۔
    ان کی امت کون ہے؟
    ہم امت مسلمہ ہیں۔❤️
    کیا کبھی ہم نے سوچا کہ قیامت کے دن ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے؟ بدقسمتی سے آج ہم تباہی کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں۔12 ربیع الاول کے موقع پر صرف چراغاں کرنے اور ذاتِ اقدس کے قصیدے بیان کرنے سے ہم محبت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔آج فرانس میں ہمارے وہ نبی جو اپنی امت کے لئے اشک بار رہتے تھے ان کی توہین کی گئی اور افسوس امت مسلمہ ہمیشہ سے چند مظاہرے کرنے کے بعد خاموش ہو گئی۔ دنیا میں مسلمانوں کی پستی کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے نبی کی پیروی کرنا چھوڑ دی ہے۔ہمیں اپنے کردار سے ثابت کرنا ہو گا کہ ہم واقعی میں اس عظیم ہستی کی امت کہلانے کے لائق ہیں۔ہمیں صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے دنیا پر رعب قائم کرنا ہوگا تا کہ ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کرنے کی کسی کی ہمت نہ ہو۔ آئیے آج ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اپنے اقوال و افعال کو اپنے نبی کی زندگی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رول ماڈل مانیں گے ان کی ذاتِ مبارکہ کے اعلیٰ نمونے کو سامنے رکھ کر ویسا بننے کی کوشش کریں گے۔ہم اپنے کردار سے ایک دفعہ پھر اس دنیا پر اپنی دھاک بٹھائیں گے کیونکہ ہم اس نبی کی امت ہیں جن کی شان کے قصیدے غیر مسلم بھی پڑھتے ہیں۔
    سر باسورتھ سمتھ کا قول ہے:
    "اس دنیا میں اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس نے منصفانہ طور پر ایمانداری سے حکومت کی ہے تو وہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے”

  • انسان اور اس کی حیثیت  تحریر : اسامہ خان

    انسان اور اس کی حیثیت تحریر : اسامہ خان

    انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا رزق لکھ دیا جاتا ہے کبھی بھی کوئی بھی انسان بھوکا نہیں مرتا کیونکہ انسان کے رزق کا ذمہ اللہ تعالی نے خود لیا ہے انسان اپنا بچپن گزارا ہے اور اپنے پسندیدہ پکوان اور مشروبات استعمال کرتا ہے یہ سب اللہ تعالی کا دیا ہوا ایک تحفہ ہوتا ہے اور ہم انسان اس کی ناشکری کرتے ہیں لیکن وہ پھر بھی رحیم و کریم ہے اس نے کبھی بھی ہمارے رزق کو نہیں روکا، لیکن جب انسان کسی مقام پر پہنچتا ہے اپنے عروج پر پہنچتا ہے تو وہ نہ تو اپنے اردگرد والوں کا خیال رکھتا ہے آج اگر ہم اپنے ماضی کی طرف دیکھیں تو بہت سی ایسی شخصیات ملیں گی جنہوں نے بہت بڑے بڑے کارنامے کیے اور اکثر نے اپنی دنیاوی زندگی کو ہی اپنی کل زندگی سمجھ لیا لوگوں پر ظلم کیے لوگوں کو قتل کیا اور جب ان کی موت کا وقت آیا تم کو دو گز زمین بھی بہت مشکل سے نصیب ہوئی، آج کا انسان کیا ہے اگر دیکھا جائے تو آج کے دور میں سب اپنے آپ کو نواب سمجھتے ہیں اپنے سے غریب انسان کو اپنا غلام سمجھتے ہیں یہ صرف پیسے کی ہو ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں، کیونکہ اگر اللہ ان سے بھی دولت چھین لے تو وہ بھی دو وقت کے کھانے کو ترسیں گے جب انسان مرنے لگتا ہے تو نہ تو اسکا پیسا اسکے کام آتا ہے اور نہ ہی اسکی انا، آج ہم ایک دوسرے سے طاقت کی لڑائی لڑ رہے ہیں اگر دیکھا جائے تو ہم دنیا میں آئے کس لیے تھے نہ تو ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے آئے تھے اور نا ہی ایک دوسرے کی غلطی پر اپنے پاؤں پکڑوانے۔ ہم سانس اپنی مرضی سے لے نہیں سکتے پتہ نہیں پھر اشرف المخلوقات کس بات کا غرور کرتے ہیں اور وہ ایسے سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی حالانکہ یہ ان کا وہم ہے دنیا میں کئی لوگ آئے اور بہت سے چلے گئے دنیا نہیں رکھی دنیا کا نظام چلتا رہتا ہے۔ بہت سے بادشاہ آج زمین دوز ہیں اور نصیب ہوئی تو صرف دو گز زمین کی قبر، یہ انسان کی حیثیت ہے زندگی تو چل رہی ہے اور چلتی رہے گی اور ایک دن ختم ہو جائے گی لیکن قبر میں نہ تو دنیاوی مال و زر کام آئیں گے اور نہ ہی میرے عزیزو وقار تو کیوں نہ اپنی زندگی کو اصل مقصد کے لئے جیا جائے اپنی دنیاوی زندگی اللہ کو راضی کرنے میں لگائی جائے تاکہ جب کل کو انسان اللہ کے سامنے جائے تو وہ اپنی عبادات اللہ کے سامنے پیش کر سکے، یہ زندگی عارضی ہے اس نے گزر جانا ہے کیوں نہ ہو وہ کام کیا جائے جس میں دنیاوی زندگی میں بھی فائدہ ہو اور آخرت میں بھی فائدہ ہو اور اگر ہم کسی کی زندگی سے مثال لینا چاہیں تو حضور پاک کی زندگی سے لے سکتے ہیں کہ کیسے انہوں نے اپنی زندگی تقوی کے ساتھ گزار دی کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا لوگ ان پر کوڑا کرکٹ پھینکتے تھے لیکن انہوں نے درگزر سے کام لیا بے شک ان جیسی مثال پوری دنیا میں نہیں ملے گی اور نہ ہی قیامت تک مل سکے گی، آج ہم نے ایک دوسرے پر تہمت لگاتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف چالیں چلتے ہیں جیسے ہمارا اپنی زندگی پر قابو ہے کاش کہ ہم سب کو مرنے سے پہلے یہ سمجھ آ جائے کہ انسان کی اصل حیثیت کیا ہے تو انسان یہ سب کام چھوڑ دے گا اور اللہ سے توبہ کرلے گا بے شک وہ رحیم و کریم ہے اور سب کو معاف کرنے والا ہے

  • آزاد کشمیر کی سیاست تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    آزاد کشمیر کی سیاست تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں دیگر شعبوں کی طرح سیاست پر بھی سامراج کے گماشتہ حکمرانوں کا قبضہ ہے جو اسے سامراج کے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاست کا مطلب لوٹ کھسوٹ اور غنڈہ گردی بن گیا ہے۔آزاد کشمیر چونکہ غلاموں کے غلاموں کا غلام ہے اس لیے یہاں صورتحال مزید پتلی ہے اور کسی سے بھی پوچھئے سیاست کا کیا مطلب ہے تو وہ کہے گا کہ ایمانی،جوڑ توڑ، جھوٹے قرآن اٹھانے،پیسے دے کر ووٹ خریدنے اور برادری ازم کو ہوا دینا۔ جس طرح تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں عالمی سامراجی اپنی معاشی قبضے کی بنیاد پر سیاست میں اس کے دوام کے لیے درکار بنیادوں کو پکا کرنے کے لیے مداخلت کرتے ہیں اسی طرح آزاد کشمیر کی سیاست میں پاکستان کے سیاست کار بھی اپنے اپنے مفادات کی خاطر مداخلت کرتے ہیں اسلامی بازو والے ہو یا عوامی بازو والے "آزاد کشمیر کی بات چلی تو سب ہی ایک ہوئے”کے مصداق کھل کر اور ڈٹ کر مداخلت کرتے ہیں اور الیکشن ہوجانے کے بعد اور عوام کی طرف سے اپنے” نمایندے” اور "خادم” چن لینے کے بعد اگر پاکستان میں حکومت بدل جائے جو مزاج یار کی طرح بدلنے میں دیر کم ہی لگاتی ہے تو آزاد کشمیر میں بھی مطلع ابر آلود ہو جاتا ہے اور ننھا منا دارالحکومت مسند کے اوپر بیٹھی ہوئی کٹھ پتلیوں اور نیچے بڑھتی ہوئی کٹھ پتلیوں کی "پجارووں” کی گرگراہٹ سے لرزنے لگتا ہے اور یہاں نام کی صاحبان اقتدار کو بورے بورے خیالات آنے لگتے ہیں اور ہول اٹھنے لگتا ہے کے ہو نہ ہو کہیں کوئی بات ہوئی ضرور ہے جو میرے تخت پر کپکپی طاری ہے۔
    اس کے علاوہ سیاست کے میدان میں الحاق کی قوتوں نے کہیں زیادہ بڑی کامیابیاں حاصل کر رکھی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ الحاق کر بھی چکے ہیں تو بے جا نہ ہوگا انتخابات میں حصہ صرف وہی لے سکتا ہے جو الحاق کا وفادار ہو اور پھر جس طرح انتخابات ہوتے ہیں اور اس کے بعد پاکستان کے صدر یا وزیراعظم کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اس میں اور پاکستان کے صوبوں کی حکومتوں میں فرق صرف یہی ہوتا ہے کہ” کاغذوں میں "وہ صوبے ہیں اور یہ” آزاد” عملی طور پر جس طرح وہاں پاکستان کے مرکزی سیاست کاروں کی "ڈانگ سوٹی”کے بغیر حکومت بن یا رہ نہیں سکتی اسی طرح یہاں بھی جب تک اسلام آباد سے مولوی صاحب نہ آئیں اقتدار کے ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا اور اس کے بعد اسلام آباد سے مہاراجہ چائیں یہ منسوخ یا کالعدم بھی ہو جاتا ہے ۔
    یوں دیکھا جائے تو سیاست کے میدان میں بھی الحاق کی تحریک میں نمایاں کارہاے نمایاں سر انجام دیے ہیں اور انتخابی اور حکومتی ڈھانچے کی نوعیت اور فطرت میں یہ صفت کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے کے اوپر سے جو حکم آئے اس کا یعنی ہماری آزاد حکومت کے ڈھانچے کا انگ انگ پکار اٹھے "سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے”

    ٹویٹر آئ دی :
    @zeeshanwaheed43

  • بچوں سے مزدوری کروانا    تحریر : علی حیدر

    بچوں سے مزدوری کروانا تحریر : علی حیدر

    ایک پسماندہ اور بے روزگاری کے شکار معاشرے میں کم سن بچے مزدوری کرتے ہوئے , ہوٹلوں پہ کام کرتے ہوئے یا اینٹیں ڈھوتے ہوئے عام دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کم سن بچوں کی بڑی تعداد تعلیم کو خیر باد کہہ کر یا تو محنت مزدوری کرنے پہ لگ جاتی ہے یا کوئی ہنر سیکھتے ہوئی دیکھائی دیتی ہے۔
    اگرچہ ہمارے ملک میں بچوں سے مزدوری کروانا , ان سے جسمانی مشقت کا کام لینا جرم ہے اور مختلف ادوار میں اس کے لئیے قانون سازی بھی ہوتی رہی ہے لیکن یہ قانون رفتہ رفتہ بے اثر ہوتا گیا۔ چناچہ گلیوں میں بھیک مانگتے , انڈے , قہوہ اور برگر بیچتے , فیکٹریوں , ہوٹلوں اور اینٹوں کے بٹھوں میں کام کرتے معصوم بچے ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں جو کہ ہماری پسماندہ سوسائٹی کا ایک افسوسناک پہلو ہے۔

    بچپن بچے کے جسمانی خدوخال کی نشوونما اور ذہنی و نفسیاتی ارتقاء کا بنیادی مرحلہ ہوتا ہے جس کے لئیے سکول بہترین جگہ ہے۔ سکول بچوں کی شعوری سطح کو بلند کرنے کے لئیے ایک ایسا سازگار ماحول فراہم کرتا ہے جہاں وہ اپنے بہترین ہم عمروں کے ساتھ رہ کر آنے والے ذندگی کے لئیے خود کو تیار کر پاتے ہیں اور ان کی شعوری سطح بھی بلند ہوتی ہے۔لیکن سکول میں موجود بچوں کے مقابلے میں بچوں کی ذیادہ تعداد کا سکول کی بجائے مزدوری کرنے کے لئیے سکول سے باہر موجود ہونا اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ ہمارے معاشرے کا ڈھانچہ جن بنیادوں پہ استوار کھڑا ہے ان میں ضرور کوئی خامی ہے۔
    بظاہر اس کی بنیادی وجہ بے روزگاری اور آبادی میں اضافہ ہیں لیکن حقائق کا بغور تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے عوامل آپس میں جڑے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ان گنت مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ان مسائل میں مہنگائی , شعور کی کمی , پرانی روایات , غربت , بے روزگاری , منشیات اور صحت کی عدم سہولیات وہ مسائل ہیں جن میں ایک مسئلہ کی وجہ بن رہا ہے۔
    آبادی میں اضافہ بہت سے ماحولیاتی اور معاشرتی مسائل کو پیدا کرتا ہے کیونکہ آبادی میں اضافے سے ضروریات ذندگی بڑھ جاتی ہیں جن کو پورا کرنا خاندان کے اکیلے کمانے والے شخص کے بس میں نہیں رہتا۔
    ہمارے معاشرے کا افسوسناک اور منفی پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کے اکثر افراد اپنی عورتوں کو ملازمت کی اجازت نہیں دیتے اگرچہ وہ اعلی تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہوں۔ چناچہ جب اکیلا مرد گھر کے اخراجات پورے نہیں کر پاتا تو وہ معصوم بچوں کی تعلیم چھڑوا کر ان کو کام پر لگا دیتا ہے۔
    معاشرے میں بچوں کے مشقت اور مزدوری کرنے کے کلچر کو ختم کرنے کے لئیے پہلا اقدام عورت کے لئیے ملازمت کے مواقع فراہم کرتے ہوئے اس کے ملازمت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ خاوند کے ساتھ مل کر حصول معاش میں اس کا ہاتھ بٹا سکے اور وہ دونوں مل کر اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے ذیور سے آراستہ کر کے ایک باشعور اور تعلیم یافتہ نسل کی بنیاد رکھیں۔
    بنیادی تعلیم حاصل کئیے بغیر ایک بچہ جب ایک خاندان کا سربراہ بنے گا تو وہ تب بھی مزدوری کر کے روزی کمائے گا ۔ یوں نہ صرف اس کی ساری ذندگی مزدوری میں گزر جائے گی بلکہ وہ خود بھی مستقبل میں اپنے بچوں کو تعلیم کے ذیور سے آراستہ کرنے کی بجائے ان کو مزدوری پہ لگا دے گا ۔ اس طرح ایک خاندان ایک ایسی نسل کو جنم دے گا جس کا کوئی بھی فرد پڑھا لکھا اور معاشی طور پہ خوشحال نہیں ہو گا۔
    معاشرے میں پھیلتے ہوئے جرائم , منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ اور محرومی و احساس کمتری کے شکار افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی کسی حد تک اسی وجہ سے ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ذیور سے آراستہ کرنے کی بجائے ان کو بچپن سے ہی جسمانی مشقت پہ لگا دیا جاتا ہے جہاں سے وہ متششدد بن کر جرائم کی راہ اپناتے ہیں یا منشیات کے عادی ہو کر ذندگی کی ذمے داریوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    بچے کی جسمانی مشقت کے ساتھ گھر کی معشیت کو وقتی طور پہ ذرا سا کاندھا تو میسر آ جاتا ہے لیکن اس کے نتائج دیر پا ہوتے ہیں جو نسلوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔

    بچوں سے مزدوری کروانے کے کلچر کا بنیادی اور مؤثر حل یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کے لئیے اقدامات اٹھائے جائیں

    بچوں کی جسمانی مشقت اور مزدوری کرنے کے خلاف قانون سازی عمل میں آنی چاہئیے ۔ اس مقصد کے لئیے وہ فیکٹری , ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان جو بچوں کو ملازمت کرنے کے لئیے اپنے پاس جگہ دیتے ہیں ان کے خلاف کاروئی عمل میں لائی جائے۔
    مرد کے ساتھ ساتھ نہ صرف عورت کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے بلکہ عورت کے ملازمت کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ مرد کے ساتھ شانہ بشانہ مل کر گھر کی معشیت کا بوجھ ہلکا کر سکے۔
    معاشرے کے صاحب حیثیت افراد کو چاہئیے کہ وہ غریب خاندانوں کی کفالت کا ذمہ لیں اور ان کے بچوں کی تعلیم کا بندوبست کریں کیونکہ اکثر لوگ اپنے بچوں کو اس لئیے سکول نہیں بھیجتے کیونکہ وہ بچوں کے تعلیمی اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔

    @alihaiderrr5