Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • الیکشن اور اس کے کردار  تحریر:  قاسم ظہیر

    الیکشن اور اس کے کردار تحریر: قاسم ظہیر

    دنیا میں کہیں بھی جب الیکشن ہوتا ہے عوام کی رائے بھٹی بھی نظر آتی ہے کچھ موجودہ حکومت کو دوبارہ سے حکومت میں لانے کی کوشش کرتے ہیں اور کچھ لوگ اسے گھر جانے کی ترغیب دیتے ہیں مختصر یہ کہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا مختصر کردہ شخص حکومت میں آئے. زمینی حقائق, عوام کی رائے اور کچھ اندرونی طاقتیں سب اپنے اپنے حصے کا کردار نبھاتی ہیں اور آخر پاکستان میں کوئی نہ کوئی حکومت آ جاتی ہے
    تاریخ میں دیکھا جائے تو کبھی بھی عوام کی رائے کو فوقیت نہیں دی گئی.جس کی وجہ سے بہت سے شکوک و شبہات جنم لیتے .جمہوریت کا مطلب خالصتا عوام کی حکومت ہے جہاں پر اکثریت کی رائے کا احترام ہر شخص پر لازم ہے.اس کے برعکس کرنے سے نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے.پاکستان میں آئے روز الیکشن کو لے کر بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے ہر آنے والی حکومت کو اپنی مدت کے پہلے دو سال تو صرف اسی بات کی وضاحت میں لگ جاتے ہیں کہ وہ جس گورنمنٹ میں بیٹھے ہیں اس کو لوگوں کی اکثریت حاصل ہے.ہر اسمبلی میں حزب اختلاف اور حکومت کے درمیان یہی چیز زیر بحث رہتی ہے کہ وہ جس طرح حکومت میں آئے ہیں وہ قانونی طریقہ نہیں عوام کی اکثریت حاصل نہیں جس سے نہ صرف ٹیکس پیر کے پیسے کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ انٹرنیشنل سطح پر بھی کوئی اچھا پیغام نہیں جاتا. دوسرے ممالک اس حکومت کو ترجیح نہیں دیتے اور نہ ہی اس کو ڈیموکریٹک تسلیم کرتے ہیں.آج کل دنیا میں دیکھا جہاں پر بھی سویلین بالادستی ہے انکو کو لوگ زیادہ عزت اور احترام دیتے ہیں
    ان تمام مشکلات کو دور کرنے کا سب سے بہترین طریقہ ایک جامعہ اور واضح پالیسی لانا ہے جس پر سب کا اتفاق ہو اور جس سے ہمارے الیکشن میں بہتری آئی ہے جیتنے والا جیت مان جائے اور ہارنے والا اپنی خوشی خوشی ہاں تسلیم کر لے آج کل کے ترقی یافتہ دور میں ایسا کرنا بالکل مشکل نہیں رہا ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم اپنے انتخابات کو مکمل صاف شفاف بنا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ایک سنجیدہ اور اعلی ظرف کی ضرورت ہے
    کسی بھی ملک کے بیرونی مضبوط ہونے کا انحصار اس کے اندر مضبوط ہونے میں ہے اور الیکشن کا شفاف نہ ہونا اندرونی خلفشار اور ناچاقی کا باعث بنتا ہے.ہمیں پاکستان میں جلد سے جلد اس مشکل پر قابو پانا ہوگا.کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر زیادہ سے زیادہ لوگ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتے رہیں گے اور جس کی وجہ سے ملک میں انتشار پھیلا رہے گا.ان تمام مصیبت سے چھٹکارا پانے کا حل صرف اور صرف الیکشن ریفارمز میں ہے جو ہمیں جلد سے جلد کرنا ہوں گے.الیکشن فارم سے نہ صرف ایک مضبوط حکومت سامنے آئے گی بلکہ سویلین بالادستی قائم کرنے میں بھی مدد ملے گی جو بھی حکومت اقتدار میں آئے گی اس کو وہاں کی عوام کی اکثریت حاصل ہوگی جس کی وجہ سے کوئی بھی غیر قانونی طاقت اس کو ہٹا نے یا مضموم عزائم رکھنے سے باز رہے گی.
    پاکستان کے ایک شہری ہونے کے ناطے سے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ ہماری تمام سیاسی پارٹیاں مل کر ایک جگہ پر بیٹھ کر ان کا حل نکالیں گی اور الیکشن کو سنجیدگی سے لیں گے جس کی وجہ سے ہمارے آنے والے الیکشن کا نظام صاف شفاف ہو گا اور جو شخص بھی وزیراعظم ہاؤس کا خواں ہوگا.وہ قوم کی اکثریت کا رہنما ہوگا.

    @QasimZaheer3

  • عورت مارچ کے معاشرے میں پھیلتے برے تحریر: سمیرا راجپوت

    عورت مارچ کے معاشرے میں پھیلتے برے تحریر: سمیرا راجپوت

    یوں تو عورت مارچ عورتوں کے تحفظ کے نام بنی ہے جس میں نام نہاد عورتوں کے حقوق کے لیے بنی تنظمیں بھی پیش پیش ہوتی ہیں لیکن کیا عورت مارچ میں اٹھائے گئے اصل ایشوز واقعی ہمارے معاشرے کا اصل مسلہ ہے؟؟؟

    کیا واقعی عورت کو اپنے شوہر کو کھانا گرم کرکے دینا ایک ایسا ایشو ہے جسے اٹھایا جانا چاہیے ؟؟ کیا واقعی عورت کے سیگریٹ پینا ، چھوٹے لباس پہننا ، سڑکوں پر ناچنا ، جیسے مسائل اتنے اہم ہیں کہ یہ عورت مارچ میں اٹھائے گئے پلے کارڈز کی زینت بنے رہتے ہیں؟؟

    دراصل عورت مارچ کی آڑھ میں معاشرے کی تباہی ہورہی ہے ہمیں اپنی خواتین کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلام نے عورتوں کو کیا حقوق دیے ہیں تاریخ گواہ ہے پہلے عورتوں کو حیوانوں سے بد تر سمجھا جاتا ہے بیٹی کی پیدائش پر اسے زندہ دفن کردیا جاتا تھا بیٹی پیدا ہوتے ہی اسکا قتل کرنا عام تھا لیکن اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے عورت پر احسان عظیم کیا اور اس کو ذلت و پستی کے گڑھوں سے نکالا جب کہ وہ اس انتہا کو پہنچ چکی تھی ،اس کے باوجود ماننے سے بھی انکار کیا جارہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت اللہ العلمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا اور زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی اور عملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اسکو ذمداریاں سونپی گئی

    آسلام نے عورت پر سب سے پہلا احسان یہ کیا کہ عورت کی شخصیت کے بارے میں مرد عورت دونوں کی سوچ اور ذہنیت کو بدلا انسان کے دل و دماغ میں عورت کا حق مقام و مرتبہ اور وقار اس کو متعین کیا اور اس کی سماجی ،تمدنی ،اور معاشی حقوق کا فرض ادا کیا

    اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے سب سے پہلے خواتین
    کو ان کے حقوق دلائے اور
    خواتین کو معاشرے میں چا عزت مقام دلایا ۔ہمیں اب معاشرے میں ایسے مسائل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو در حقیقت عورتوں کو پیش آتے ہیں عورت مارچ میں سوائے عورت کے تحفظ پر بات کرنے کے تمام تر بے حیائی کو پروموٹ کیا جاتا ہے ۔۔۔

    کچھ بہنیں جو عورت مارچ کی حقیقت سے واقف نہیں انہیں اب پہچان کرنی ہے کہ کوئی بھی معاشرہ مرد اور عورت پر مشتمل ہوتا ہے اور ان دونوں میں سے کسی بھی ایک جنس کے حوالے سے ایک دوسرے کے دلوں میں نفرتیں پھیلانا دور جہالت ہے ایک دوسرے کے خلاف لوگوں کو اکسانہ ایک احمقانہ حرکت ہے اس سے معاشرے میں تیزی سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔۔۔سلطان صلاح الدین ایوبی "کا ایک قول ہے کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس قوم میں بے حیائی برہنگی کو عام کر دو اور یہ بیرونی طاقتیں پاکستان کے ساتھ یہی سب کچھ کرنا چاہتی ہیں یہ ففتھ جنریشن وار کا ایک رخ ہے میری تمام بہنوں سے گزارش ہے ان کے اصل مقصد کو سمجھیں اور دیکھیں
    ک آپ کے اصل مسائل کیا ہیں ؟۔۔ عورت تحفظ کے نام پر بنی تنظمیں بیرون ملک فنڈنگ وصول کرتی ہیں اور مغربی کلچر کو پروموٹ کرتی ہیں جس میں انہیں اسلام میں عورتوں کے تحفظ پر آگاہی دینا تو دور کی بات انہیں مذہب کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہورہا ہے اس سازش کو ہمیں مل کر روکنا ہے اور اس کے خلاف لڑنا ہے انشاء اللہ

  • جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات  تحریر: سویرااشرف

    جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات تحریر: سویرااشرف

    آپ سب کو یاد ہو گا قصور کی زینب سے زیادتی کے بعد اسمبلی میں ایک بل زینب الرٹ کے نام سے منظور ہوا اور یہ امید بڑھ گٸی کہ اب زیادتی کے مجرموں ک سزا ملے گی اور لوگ انصاف حاصل کر سکیں گے لیکن سب بے سود۔۔

    حالیہ دنوں میں ہمارے ملک میں عورتوں سے زیادتی اور تشدد کے واقعات میں تشویس ناک حد تک اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ روزانہ سماجی رابطوں کی ویب ساٸٹس پر کسی کے لیے انصاف مانگنے کا ٹرینڈ چل رہا ہوتا ہے۔۔ واقعہ ہوتا ہے۔عوام جذبات کا اظہار کرتی ہے ٹرینڈ بنتے ھیں کاغذی کارواٸی کیجاتی ہے اور پھر اگلے واقعے کا انتظار کیا جاتا ہے لیکن کوٸی موثر اور عملی اقدامات دیکھنے کو نہیں ملتے۔
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جسٹس فار ںسیم آج کا ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ نسیم بی بی اور اسکے 14 ماہ کے بیٹے کا قتل صرف اس وجہ سے کیا گیا گہ نسیم نے واجد نامی شخص کو اپنے ساتھ زیادتی کرنے سے روکا جس کی وجہ سے واجد نامی درندے نے پہلے نسیم کے چودہ ماہ کے بیٹے کو چاقو سے قتل کیا پھر ریپ کرنے کے بعد نسیم کو بھی قتل کردیا لیکن سوشل میڈیا پر ملزم کی تصاویر اور ویڈیوز ہونے کے باوجود وہ اابھی تک آزاد ہے
    اسلام آباد، کراچی اورلاہور سمیت ملک بھر کے مختلف شہروں میں جنسی زیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں جو ہماری تباہ حال معاشرتی اقدار پر ایک سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ علمائے دین، اساتذہ اور خونی رشتے جب ایسے واقعات میں ملزمان قرار پاتے ہیں تو مختلف نوعیت کے سوالات جنم لیتے ہیں

    زیادتی کے چند واقعات
    لاہور میں حال ہی میں موٹر وے پر جنسی زیادتی کا واقعہ ہوا۔ ثنا نامی ایک خاتون جو بہن سے ملنے کیلئے لاہور آئی تھیں، انہیں 2 ملزمان نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    20 جولاٸی کو جٹس فار نور مقدم ٹاپ ٹرینڈ رہا۔نور پاکستان کے ایک سابق سفیر کی بیٹی یہ واقعہ دارلحکومت اسلام آباد میں پیش آیا۔ جسے ظاہر نامی ملزم جو کہ ذہنی مریض تھا نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا جب نور نے اس سے جان بچانے کیلیے بھاگنے کی کوشش کی تو اس نے نور کو فاٸر کر کے جان سے مار دیا بعد میں چاقو سے اسکے سینے اور کنپٹی پروار کیا اور اسکا سر تن سے جدا کردیا۔ ملزم چونکہ ایک مشہور و معروف بزنس مین کا بیٹا ہے اسلیے وہ سزا سے بچ جاۓ گا۔

    15 جولاٸی کو بھی قرة العین کے لیے ایک ٹرینڈ ٹاپ ٹرینڈ بنا ۔ ٹرینڈ کا مقصد حیدرآباد کی 32 سالہ قرة العین جو کہ چار بچوں کی ماں تھی اسکے لیے انصاف مانگنا تھا۔۔ قرة العین کا قاتل وزیر آبپاشی سندھ کا بیٹا اور اسکا اپنا شوہر تھا۔جس نے غصے میں بیوی کو قتل کردیا۔۔۔ ملزم گرفتار ہو چکا ہے لیکن اس ملک میں جلد انصاف ملنا ایک نا ممکن سی بات ہے۔۔
    اسی طرح روز ایک نیا دن آتا ہے، اپنے ساتھ ظلم کی ایک نٸی داستان لاتا ہے۔ کبھی کسی بچے سے زیادتی ہوتی ہے کبھی کسی عورت کا قتل ہوتا ہے۔ ٹرینڈ چلتا ہے شور اٹھتا ہے اور پھر سالوں عدالتوں می کیس چلتے ہیں

    ایک سروے کے مطابق پاکستان میں موجود 72 فیصد خواتین جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں جو ایک انتہائی خطرناک شرح ہے۔

    آئینِ پاکستان میں جنسی زیادتی بطور جرم
    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت جنسی زیادتی ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ قانون کے تحت ایسے مجرموں کو سزائے موت اور 10 سے 25 سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔
    دوسری جانب اجتماعی زیادتی کے کیسز میں سزا صرف سزائے موت یا عمر قید ہوسکتی ہے جبکہ سزا دینے سے قبل ڈی این اے ٹیسٹ اور دیگر طبی ثبوت سامنے رکھے جاتے ہیں تاکہ مجرم پر جرم ثابت ہوجائے۔
    گزشتہ برس حکومتِ پاکستان نے ملک بھر میں خصوصی عدالتیں قائم کیں جن کا مقصد خواتین کے خلاف ظلم و تشدد اور جنسی زیادتی جیسے واقعات پر فوری انصاف کی فراہمی ہے۔

    عمومی رویے
    یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے کہ کسی شخص کے ساتھ جنسی زیادتی یا ظلم ہوا ہو اور آپ اسے مختلف نصیحتیں کرنا شروع کردیں۔ بلا شبہ سادہ لباس پہننا اور پردہ کرنا شرعی اصول ہیں لیکن ان اصولوں کی تبلیغ کو جنسی زیادتی کیلئے اخلاقی جواز کے طور پر پیش کرنا خود کسی جرم سے کم نہیں۔
    ہمارے مذہب اسلام نے ہمیں بہت سی باتیں سمجھائی ہیں جن میں سے اہم ترین بات اخلاقیات اور معاشرتی رویوں میں اعتدال ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ پاکستان میں رہنے والا ہر شخص مسلمان ہو یا پھر اِسلامی اصولوں پر اتنا ہی عمل کرتا ہو جتنا کہ معاشرے کو ضروری لگتا ہے ، چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا لگے۔
    جب کسی کے ساتھ جنسی زیادتی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو لوگ یہ رائے دینے لگتے ہیں کہ متاثرہ خاتون نے شاید پردے کی پابندی نہیں کی تھی یا ان کو رات کے اندھیرے میں گھر سے نہیں نکلنا چاہئے تھا۔ ایسی تمام آراء جنسی زیادتی کے مجرموں کو شہ دیتی ہیں۔ہمیں مظلوم کو مشورے دینے کی بجاۓ ظالم کی سزا پر زور دینا چاہیے

    سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جرم کوجرم سمجھا جائے اور اس کی رپورٹ کی جائے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام فرض شناسی کے ساتھ سرانجام دیں۔ عدلیہ فیصلے سنانے میں تاخیر سے کام نہ لے کیونکہ بعض اوقات دیر سے انصاف مہیا کرنا بھی ایک جرم بن جاتا ہے اور پاکستان میں جراٸم کی بڑھتی وجہ ہی کیسیز کا سالوں عدالتوں میں چلتے رہنا ہے
    بہت سے بچوں، لڑکوں اور لڑکیوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا جاتا ہے۔اسلام ایسے جرائم کیلئے سخت سے سخت سزا کی حمایت کرتا ہے جبکہ آئینِ پاکستان میں ایسے جرائم کیلئے مناسب سزائیں موجود ہیں۔
    بدقسمتی سے اس کے باوجود جرائم بڑھ رہے ہیں تو یہ ساری ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں، حکومتِ وقت اور عدلیہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض کا احساس کریں اور عدالتیں جلد از جلد سزاٸیں دیں تا کہ مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو سکے
    @IamSawairaKhan1

  • ناکامی سے آگے تحریر۔ عدنان علی

    سب سے پہلے تو یہ بات آپ ذہن نشین کر لیجئے کہ ناکامی کے بعد ہی اصل کامیابی حآصل ہوتی ہے، ایسا ممکن نہیں کہ ایک جگہ بیٹھ جائیں اور انتظار کریں کہ کامیابی خود چل کر آپ کہ پاس آئے۔ کامیابی محض اسی کہ قدم چومتی ہے جو اسے حاصل کرنے کے لیے جدو جہد کرتے ہیں۔
    آج کا المیہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی سے جلد اُکتا جاتے ہیں۔ اور زندگی سے جلد ہی مایوس ہو کہ بیٹھ جاتے ہیں۔یہی مایوسی ہمیں لے ڈوبتی ہے اور ہماری کامیابیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ کا سبب بنتی ہے جب کہ اللہ پاک نے قران پاک میں واضع فرمایا کہ مایوسی کفر ہے، لیکن ہمارے ہاں جدوجہد کی اتنی کمی ہے کہ کام کرنا تو دور کی بات جس کام میں دل نہ لگے اس کے بارے میں سوچنا بھی مناسب نہیں سمجھتے اور پھر اس کام سے کوسو دور رہتے ہیں۔۔۔
    ناکامیاں اصل میں ہماری کامیابیوں کی سیڑھی ہوتی ہے، لیکن ہم لوگ اس ناکامی سے مایوس ہو جاتے ہیں یہاں ہمیں ایک بار کسی کام میں ناکامی ملی تو ہم بجائے اس کے کہ اپنی خامیوں کو دور کر کے کامیابی کی طرف گامزن ہوں ہم اسے دل سے نکال دیتے ہیں جیسے زندگی میں اس کام کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ جو کہ بالکل غلط ہے۔
    ناکامیاں انسان کو بزدل بنا دیتی ہیں اور یہ انسان کی اپنی سوچ ہوتی ہے کہ ناکامیوں سے آگے بڑھنا ہے یا انہی میں رہنا انسان تب تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اللہ پر یقین کے بعد اپنی محنت اور کام پر یقین نہیں کرتا اپنے اندر کے جذبے کو اجاگر کر دینے کے بعد انسان کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا اور ان ناکامیوں سے بہت دور نکل جاتا اور میرا رب کامیابیاں بھی اسے عطا کرتا جو محنت کرتا آپ محنت تو کر کے دیکھو میرا رب محنت ضائع نہیں کرتا۔ ہر شخص کو اتنا ہی دیتا ہے جس نے جتنی محنت کی ہو۔
    ہمیں اپنے نوجوانوں کو ایسے ہی سمجھانے اور بتانے کی ضرورت ہے کہ اپ کبھی مایوس نہ ہوں اگر کسی کام میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑھے تو اسے اور شوق اور محنت سے کریں اور اپنے پچھلی غلطیوں سے سیکھیں نہ کے انہیں یاد کر کے پچھتائیں جو انسان ناکامی سے ہار مان جاتا اس کے ساتھ ہمیشہ ناکامیاں سفر کرتی ہیں اور احساس دلاتی ہیں لیکن تب انسان وہ کام کرنے کی ووقت نہیں رکھتا
    آپ اپنے ملک کے فخر ڈاکڑ عبدالقدیر خان صاحب کی مثال لیجئے انہوں نے کتنی محنت کی اس میں ناکامیاں بھی ہونگی اور اگر وہ انہی ناکامیوں کے بعد چھوڑ دیتے تو آپ زرہ تصور کیجئے ہم آج کہاں ہوتے لیکن انہوں نے کامیابی حاصل کی اور الحمداللہ اس ملک پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا جو آج اسلامی ممالک کی سپر پاور سمجھا جاتا ہے۔
    یہ بات تو صاف صاف واضح ہے کہ محنت کے بغیر انسان کو کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ اگر انسان زندگی میں کامیابی چاہتا ہے تو اس کے لیئے محنت کرنا لازم ہے۔
    جیسے کہتے ہیں کی محنت میں ہی عظمت ہے۔ خواہ اپنی ان تھک محنت کہ بعد بھی اگر کوئی نتیجہ نہیں ملتا تو خدارا اس پہ مایوس ہونے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔
    ناکامی میں مایوسی کے بجائے مزید لگن سے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
    آئیں ہمیں اپنے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے اس ناکامیوں کو دل کھول کر قبول کریں اور اپنی ان تھک محنت سے ان ناکامیوں کو کامیابیوں میں بدل دیں تاکہ یہی ناکامیاں ہمیں ہماری منزل تک پہنچا سکے۔
    شکریہ @_Ryder007

  • اظہار محبت تحریر : شفقت سجاد دشتی

    یقیناً محبت اظہار مانگتی ہے مگر افسوس کہ ہم خالی اقرار کو اظہار سمجھ لیتے ہیں۔

    دراصل دور حاضر میں کوئی ایسی عام یا خاص درس گاہ نہیں جہاں محبت کا سبق کم از کم پڑھایا ہی جاتا ہو۔

    بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ فلموں ڈراموں اور قصہ کہانیوں میں جو ہوس دکھائی دے رہی ہے ہم اسی کو محبت مان کر چل رہے ہیں۔ اس وجہ سے شاید معاشرے میں بگاڑ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

    مگر محبت تو بڑا جذبہ ہے۔ یہ بے لوث عقیدت ہے۔
    محبت چاہے والدین سے کی جائے یا اولاد سے، خواہ اساتذہ سے خواہ اپنے روزگار و کاروبار سے، خواہ کسی محبوب یا محبوبہ سے یا پھر حقیقی محبت حق تعالٰی اور اسکے محبوب مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی ذات پاک سے کی جائے۔ اس میں بے لوث ہونا تو فرض ہے۔

    یعنی محب اپنے لیئے کچھ نہ چاہے اور ہر اس حال میں کلمہ شکر پڑھے جس حال میں اسکا محبوب اس سے راضی ہو۔ اور وہ خود محبوب کے لیئے ہر طرح سے خیر بن جائے۔

    بیدم شاہ وارثی فرما گئے
    "یہاں ہونا نہ ہونا ہے نہ ہونا عین ہونا ہے
    جسے ہونا ہو کچھ خاک در جانانہ ہو جائے”

    مطلب محب کے لیئے محبوب کے در کی خاک بن جانا ہی بڑی عزت، تسلی اور تشفی کا مقام ہے کہ جب محبوب وہاں سے گزرے تو اپنے قدم مجھ پر رکھ کر گزرے۔

    اب بھائی اس کے بعد تو مجھے نہیں لگتا کہ میں نے جاگتی آنکھوں سے کچھ زیادہ محبت کرنے والے دیکھے ہیں۔ ہاں بہت قلیل بے حد قلیل دیکھے ہیں۔

    افسوس کہ اس جہاں میں بے انتہا اکثریت خود پرست باقی ہیں۔ تو پھر انہیں خدا کیسے سمجھ میں آ سکتا ہے۔

    بابا بلہے شاہ علیہ رحمتہ فرما گئے کہ
    "”جیں دل وچ پیار دی رمز نہیں، بس اوں دل کوں ویران سمجھ،””
    یعنی اندھیرا اور تاریکی ہے ایسے دل میں اور روشنی و نور کی گنجائش ہی نہیں۔

    آگے فرماتے ہیں،
    "”جیں کوں پیار دی جانڑ سنجانڑ نہیں، اوں بندے کوں نادان سمجھ،””
    نادان کا مطلب تو دانائی سے عاری۔ تو واقعی ظلمت اور حکمت ایک ہی بت میں یکجا تو نہیں ہو سکتی ہے۔

    "”ایہو پیار ہے درس ولی یاں دا، اے مسلک پاک نبی یاں دا،””
    اب اس شعر کی اس سے زیادہ آسان تشریح میں کیا کروں؟ بھائی یہ محبتیں بانٹنا اللہ والوں کا کام ہے۔

    "”انمول پیار دی دولت ای یہ، ایں کوں عقبا دا سامان سمجھ،
    ہیں پیار دی خاطر عرش بنڑے، ہیں پیار دی خاطر فرش بنڑے،
    خد پیار خدا وچ وسدا ہے، میں سچ اہداں قران سمجھ،”
    یہاں تو میری عقل کی حد ختم ہی سمجھیں، محبت کو عاقبت کی تیاری بھی کہہ دیا گیا اور اسکو تخلیق جہاں کی وجہ بھی بتا دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ اللہ پاک خود بھی پیار اور محبت کرنے والا رب ہے کہ یہی سبق قرآن بھی دے رہا ہے۔

    "”ناں چاونڑ پیار دا سوکھا اے، ہیں کوں طوڑ نبھاونڑ اوکھا ہے،
    معراج تھیندن ایندے سولیاں تے، کئی چڑھدے نوک سنان سمجھ،””
    ہاں یہ بات بالکل درست ہے کہ محبت کا نام لینا یا دعوی کرنا تو واقعی بہت آسان ہے لیکن نبھانے والے مر مر کے جیتے اور کٹ کٹ کر مرتے ہیں۔

    "”ایہو پیار تاں رب ملوا ڈیندے،
    سُتے لیکھ نظیر جگا ڈیندے،””
    فرماتے ہیں کہ یہی محبت بالآخر رب ذالجلال سے جوڑ دیتی ہے اور خوشبختی و خوش نصیبی کی آمد کا ذریعہ بنتی ہے۔

    "”جیں دل وچ پیار دے دیرے ہن، بس ہوں دل کوں عرفان سمجھ،””
    اچھا اب عرفان تو کہتے ہیں معرفت رکھنے والے کو، یعنی کہ جو اللہ کو پہچاننے والا ہو۔ گویا محبت و سوز رکھنے والا دل یقیناً اللہ کا عارف ہے۔

    اب بھلا ایسے بزرگوں کے عارفانہ کلام سے ہٹ کر کوئی کیا سیکھے یا سکھائے گا عشق و محبت کے اسرار و رموز۔

    اللہ اکبر!

    دعا کریں خدا محبت کرنے والا بنا دے تاکہ مرنے سے پہلے ہم بھی اللہ کو پیارے ہو جائیں۔ آمین

    @balouch_shafqat

  • مہنگائی اور بیروزگاری   تحریر   : توقیر عالم

    مہنگائی اور بیروزگاری تحریر : توقیر عالم

    ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے میعار زندگی کو بہتر کرے اچھی خوراک اچھا گھر اور بہتر سہولیات کا حصول انسان کی جبلت میں شامل ہے عمر بھر انسان اسی کوشش میں مصروف عمل رہتا یے اسی خواہش کے زیر اثر نئی نئی ایجادات وقوع پذیر ھوتی ہیں کسی بھی معاشرے میں ان سہولیات سے فائدہ اٹھانے کا حق ہر فرد کو حاصل ہے ان سہولیات کو ہر انسان کی پہنچ میں لانے کے لیے معاشرے میں روزگار کے مواقع پیدا کئیے جاتے ہیں تاکہ ہر فرد اپنی ضروریات کا حصول ممکن بنا سکے اور اپنا میعار زندگی بلند کر سکے معاشرے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم معاشرے کے امن کی ضامن ہوتی ہے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے بہت سے سنگین مسائل پیدا ھوتے ہیں
    افسوس پاکستان میں پچھلے بیس سال سے بیروزگاری اور اس سے پیدا ھونے والے مسائل کو جس طرح نظر انداز کیا وہ قابل مذمت ہے بیروزگاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو کہ خطرے کی علامت ہے ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ساٹھ لاکھ کے قریب لوگ بیروزگار ہیں موجودہ اور گزشتہ حکومتوں نے اس مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا نہ اس کے تدارک کے لیے کوئی جامع حکمت عملی بنائی پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی تیس سال سے کم عمر لوگوں پر مشتمل ہے جن کو بیروزگاری جیسا مسئلہ درپیش ہے اکثر نوجوان بیروزگاری سے پریشان ھو کر نفسیاتی مسائل کا شکار ھو جاتے ہیں یا پھر مختلف قسم کے جرائم کے مرتکب ھوتے ہیں ہزاروں کی تعداد میں بیروزگاری سے پریشان نوجوان منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں جس سے نہ صرف ایک فرد متاثر ھوتا بلکہ پورا گھرانہ برباد ھو جاتا ہے ایسے لوگ امن و امان کے لیے بھی ایک خطرہ ہوتے ہیں
    تیزی سے بڑھتی ھوئی مہنگائی نے سفید پوش طبقے کو پیس کر رکھ دیا ہے غریب لوگ بچوں کو سکول بھیجنے کی بجائے کام پر بھیجنا شروع کر دیتے ہیں جس سے شرح خواندگی میں کمی آتی ہے مہنگائی سے جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ھوتا ہے غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں مجبور بیروزگار لوگ پیسہ کمانے کے لیے غیر قانونی طریقے اخیار کرتے ہیں جس سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے
    ہماری حکومت اور اپوزیش اک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور سیاسی بیان بازی کے سوا کوئی کام نہیں کرتے
    حکومت کو چاہیے اس مسئلے کو سنجیدہ لے اور ان کے دیرپا حل کے لیے جامع حکمت عملی اپنائے تاکہ نوجوانوں میں پھیلتی ھوئی بے چینی اور مایوسی ختم کی جا سکے پاکستان پر اللہ کا کرم ہے اس کی زیادہ آبادی جوان ہے جو اس ملک کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی نصاب کو اپنی عملی ضروریات کے مطابق مرتب کیا جائے فنی مہارت کے لیے قائم کردہ اداروں کو متحرک اور موثر انداز میں چلایا جائے پاکستان میں ایسی پر کشش صنعت دوست پالیساں بنائی جائیں جو بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو لبھائیں تاکہ ملک میں سرمایہ آئے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں مختلف ممالک کو حکومتی سرپرستی میں اپنی افرادی قوت سپلائی کریں جس سے کثیر زر مبادلہ بھی حاصل ھو گا اور بیروزگاری میں کمی آئے گی چھوٹے کاروبار کے لیے بلاسود قرض دئیے جائیں جن سے روزگار کے بہت سے مواقع پیدا کئیے جا سکتے ہیں
    حکومت کو اس معاملے میں سنجیدہ ہونا پڑے گا ورنہ تیزی سے بڑھتی ہوی بیروزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل آنے والے دنوں میں بہت خطرناک صورت اختیار کر جائیں گے
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
    @Lovepakistan000

  • آپکی خیرات کے اصل حقدار  تحریر : آصف گوہر

    آپکی خیرات کے اصل حقدار تحریر : آصف گوہر

    ارشاد باری تعالی ہے ۔۔۔
    "انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے۔ تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔”
    سورة البقرة 272
    پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ خیرات دی جاتی ہے ۔ ہمارے ہاں بھیک مانگنے کا شعبہ ایک صنعت کا درجہ حاصل کر چکا ہے ۔ بھیک مانگنے والوں کے باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ہیں جو اپنے اڈے علاقے میں کسی دوسرے کو بھیک مانگنے کی اجازت نہیں دیتے یہ نیٹ ورک اتنا وسیع ہے کہ بھیک مانگتے کے لئے بچوں کا اغوا کرنے اور انہیں معذور بنانے کے قبیح عمل میں بھی ملوث ہے۔
    بھیک مانگنے والے معذور بچوں کو باقاعدہ کرائے پر لیتے ہیں۔ چھوٹے بچوں کو نیند آور شربت پلا کر عورتیں سارا دن گود میں اٹھائے بھیک مانگتی آپ کو بازاروں گلی محلوں میں نظر آجائیں گی ۔ مختلف فیشن کی طرح بھیک مانگنے والوں کی بھی الگ الگ کیٹگریز ہیں
    اپاہج زحمی کوڑ زدہ بس کا کرایہ پورا کرنے کے نام پر علاج کے لئے بیٹی کی شادی کے نام پر مزدوری نہیں ملی نیا نیا اسلام قبول کیا ہے بچے کے لئے دودھ خریدنا ہے ملنگ اور دولے شاہ کی چوہے یہ چند پیشہ ور بھکاریوں کے حیلے ہیں ۔اس کے علاوہ جدید منگتے بھی ہیں بس سٹاپوں ریلوے اسٹیشنوں لاری اڈوں اور اوور ہیڈ پلوں پر زکوة صدقات کے بکسز رکھے عام ملتے ہیں اللہ رسول کا واسطہ پچاس روپے کا بیلنس کروا دیں مسجد زیر تعمیر ہے سوشل میڈیا پر کئ بیوہ ڈی ایم کرتی ہیں کہ اتنے پیسے دے دو میرے سابق شوہر کی جائیداد میرے نام جب ٹرانسفر ہوجائے گی میں آپ سے شادی کر لوں گی۔
    بڑے شہروں میں پیشہ ور بھکاریوں کی پسندیدہ جگہ ٹریفک سگنلز اور ہسپتال ہیں۔
    انتظامیہ اور پولیس ان کےخلاف وقتا فوقتا آپریشنز بھی کرتی ہے انکو جیل میں بھی ڈالا جاتا ہے کم سن بچوں کو بازیاب کرکے پنجاب چائیلڈ پروٹیکشن بیور کے حوالے کیا جاتا ہے لیکن یہ چند دنوں بعد پھر آجاتے ہیں۔پولیس گاہے بگاہے شہریوں کے نام آگاہی کے پیغامات بھی جاری کرتی ہے کہ
    ‏اپنے صدقات و خیرات ضرورت مند اور مستحق افراد کو ہی دیں۔
    اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بڑا فضیلت والا کام ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہمیں معاشرے کے نادار مفلس اور بےکسوں کی مدد کرنا کا درس ملتا ہے اسلام نے معاشرے کے غریب مسکین اور ناداروں کی مدد کے لئے زکوة کا خوبصورت اور زبردست نظام دیا ہے ۔
    آپ خیرات ضرور دیں لیکن اس کے لئے اپنے اقربا اور اردگرد میں موجود اصل حقدار کا انتخاب کریں حالیہ کرونا وبا کی ابتداء سے ہی لاہور میں ہمارے ایک دوست سوشل میڈیا کا بڑا نام نوجوان محترم وقاص امجد نے بڑی خوبصورتی اور رات کی تاریکی میں راشن کے سیکنڑوں تھیلے اپنے گردونواح کےضرورت مند گھروں میں خود پہنچائے سوشل میڈیا کے چند ضرورت مندوں کی شناخت ظاہر کئے بغیر باعزت چھوٹے کاروبار کے لئے مالی امداد دی اور درجنوں معذور افراد میں وہیل چیئرز تقسیم کیں اللہ سبحان و تعالی انکی کاوشوں کو قبول فرمائے آمین ۔ یہ عمل ہمارے لئے قابل تقلید ہے ۔پیشہ ور بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کریں اور اپنے اردگرد اصل حقداروں کی مدد کریں یقینا یہ صدقہ جاریہ اور نیکی کے عظیم کاموں میں سے ہے۔
    آصف گوہر @EducarePak

  • فلائٹس بندش، کرونا کی چوتھی لہر اور بےروزگاری تحریر :صائم ابراہیم ملک

    فلائٹس بندش، کرونا کی چوتھی لہر اور بےروزگاری تحریر :صائم ابراہیم ملک

    جیسا کے ہم سب جانتے ہیں اس وقت پوری دنیا سمیت پاکستان بھی کرونا وائرس جیسی وبا کا شکار بن چکا ہے اور اس وبا نے جہاں ترقی یافتہ ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہیں ترقی پذیر ممالک کو بھی اس وبا نے بے حد متاثر کیا ہے لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے پاکستانی کے حالات باقی ترقی یافتہ ممالک سے قدرے بہتر رہے ہیں اور اس سب کا کریڈٹ حکومت وقت کو جاتا ہے کیوں کے بروقت اقدامات کیے جانے کی وجہ سے پاکستان کو دیگر ممالک جیسی صورتحال سے ہمکنار نہیں ہونا پڑا چائنہ کے شہر وہان سے شروں ہونے والا کرونا وائرس
    پاکستان میں 26 فروری 2020 کو کراچی کے طالب علم سے رپورٹ ہوا جس کے بعد اس طالبعلم کی تشخیص کی گئی تو اس میں کرونا وائرس پایا گیا اس کے بعد پنجاب اور باقی صوبوں میں کرونا کیسز سامنے آنے لگے جس کے بعد حکومت پاکستان نے کرونا وائرس کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے پورے پاکستان میں اس وبا کی روک تھام کے لیے لاک ڈاون لگا دیا اسکے بعد سال 2020 اسی کشمکش میں گزرا کبھی لاک ڈاون شروع ادارے بند سکول کالج اور یونیورسٹیاں بند تو کبھی لاک ڈاون ختم ۔ کرونا کی پہلی لہراللہ اللہ کرکے ختم ہوئی تو دوسری نے جنم لے لیا اسکے بعد پھر سے وہی سلسلہ شروع ہوگیا اورجسکے بعد حکومت وقت نے دیگر شہروں اور صوبوں میں سمارٹ لاک ڈاوں متعاوف کروایا کاروباری مراکز کے لیے ٹائم ٹیبل ترتیب دیا اور تمام وزرائے اعلی اور شہروں میں موجود تمام ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنزز کو ہدایات جاری کی کے وہ سختی اسے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درامد کرائیں

    کبھی شادی ہالز بند تو کبھی سیمنا ہالز بند کبھی ہوٹلز اور ریسٹورنٹس بند تو کبھی کاروباری مراکز اور شاپنگ مالز بند یہ سلسلہ پچھلے برس سے شروع ہوا اور موجودہ سال تک جاری ہے اب ہم کرونا کی تیسری لہر کے بعد چوتھی لہر کی نوید سن چکے ہیں لیکن اس میں حکومت کو دوش دینا قطعی غلط ہوگاکیوں کے حکومت نے ہر صورت عوام دوست بروقت اقدامات پہلے بھی کیے اور اب بھی کررہے ہیں لیکن یہاں یہ بات کرنا غلط نا ہوگی اورسیز پاکستانی جن کا ملکی ترقی میں خاطر خواہ حصہ ہے جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اس وقت زرمبادلہ بھیج کو سہارا دیا جب عمران خان حکومت پست حالی اور معاشی تنزلی کا شکار تھی

    تب ایسے مشکل وقت میں جہاں ایک طرف عمران خان دوست ممالک سے قرض کی درخواست کر رہا تھا وہیں محب وطن اوورسیز پاکستانی اپنے لیڈر اور ملک کے لیے شب و روز محنت کرکے پاکستان زرمبادلہ بھیج رہے تھے ایسے مشکل وقت میں تمام اوورسیز پاکستانیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تاکہ انکے لیڈر اور ملک کو کہیں شرمندہ نا ہونا پڑے کروناوائرس جیسی وبا کے باوجود پاکستانی کی معاشی حالت باقی ممالک سے بہتر رہی ہے اور الحمد اللہ مزید بہتری کی طرف گامزن ہے بہرین اقدامات اور پالیسوں کی وجہ سے پاکستان کرونا وبا کو کنٹرول کرنے میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ چکا

    کرونا کی تیسری لہر کے دوران لگنے والے لاک ڈون کا سلسلہ تو البتہ تھم چکا ہے لیکن اس لاک ڈاون کے دوران ہونے والی فلائٹس بندش نے 4 لاکھ پاکستان آئے اوورسیز پاکستانیوں کو بے روزگار کر کھا ہے خاص طور پر سعودی عرب سے چھٹی گزانے واپس آئے ہوئے تمام پاکستانی حکومت پاکستان سے امیدیں وابستہ کرکے بیٹھے ہیں کے خدا جانے کب فلائٹس سروس بحال ہوگی اور کب وہ لوگ واپس اپنے کام کاج کو جائیں گے ایک روز قبل سعودی وزیر خارجہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب سے ملاقات کرنے پاکستان تشریف لائے تھے تو دیگر پلیٹ فارم پر کوشش کی ان تک اپنا پیغام پہنچایا جا سکے تاکہ پاکستان میں پریشان حال اوورسیز پاکستانی اپنےاپنے کاموں پر جا سکیں۔

    جو لوگ چھٹیوں پر پاکستان آئے تھے انکے ویزے اور اکامے کی مدت ختم ہونے کو ہے اکثر کے ویزے ختم ہوچکے لوگ بے روزگار ہو رہے

    ‏خدارہ ایسے لوگوں کے حال پر رحم کریں تقریباً 4 لاکھ کے قریب پاکستانی اس وقت پریشان ہیں جو سعودی عرب میں محنت مزدوری اور مختلف کمپنیوں میں نوکری کرکے پاکستان زر-مبادلہ بھیجتے ہیں اور اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں لیکن 6 ماہ سے بے روزگار ہوکر فلائٹس کھلنے کے انتظار میں

    ‏حکومت وقت سے امیدیں وابستہ کرکے بیٹھے ہیں اگراب سعودیہ کی فلائٹ سروس بحال ب نہیں کی جاتی توآگے ایسے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا ملک میں بے روزگاری
    مزید بڑھ جائے گی کرونا کی چوتھی لہر سر پر ہے اب فلائٹس نہیں کھلتی تو پھر کئی ماہ انتظار لوگوں کی جان پر وبال ہوگا
    اس لیے میری حکومت پاکستان سے گزارش ہے فوری طور پر پاکستان سے سعودیہ عربیہ کے لیے فلائٹس سروس جو کچھ عرصہ سے بندش کا شکار ہے شروع کی جائے تاکہ محب وطن پاکستانی واپس جا سکیں اور جیسے پہلے مشکل وقت میں حکومت پاکستان کا ساتھ دیتے رہے ویسے آگے بھی ملک اور قوم کے حق میں بہتر کرتے رہیں اپنے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بیوی بچوں اور خاندان کی کفالت کر سکیں

    ‎@saimladla786

  • شاعر اور ادیب دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں تحریر: ماہی لطیف

    شاعر اور ادیب دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں تحریر: ماہی لطیف

    شاعر اور ادیب دلوں میں ہمشہ زندہ رہتے ہیں۔
    یہ تھا 1964ء کا ایک خوشگوار دن شام کا وقت تھا کہ عبد الرزاق کے آنگن میں ایک بچے نے جنم لیا۔ گھر میں خوشی کا سماں تھا کہ عبد الرزاق کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے لیکن کسی کو علم نہیں تھا کہ صرف بیٹا نہیں بلکہ اردو اور پنجابی ادب کے ایک درخشاں ستارے نے جنم لیا ہے۔ یہ جنم اردو اور پنجابی ادب کے مشہور شاعر اور ادیب محمد لطیف سیف کا تھا۔
    محمد لطیف سیف نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سوک خورد سے حاصل کی۔ اس کی کل تعلیم میٹرک تک تھی۔ زیادہ تعلیم نہ کرنے کی وجہ غربت تھی۔ وہ گھر کا بڑا بیٹا تھا اس وجہ سے گھر کی ساری زمہ داری ان کے کندھوں پر تھی۔ کم عمری میں روزی روٹی کی تلاش میں نکلے اور ایک شہر سے دوسرے شہر روزگار کے لیے دھکے کھائے۔ اس سفر میں انھیں سعودی عرب جانا بھی پڑا۔ لیکن اپنے ملک سے محبت نے انھیں واپس بلوایا۔ اور یہاں دوبارہ روزی کی تلاش میں رہے۔ اپنی زندگی کے زیادہ عرصہ غربت اور محنت مزدوری میں گزارنے کی وجہ سے طبیعت میں عاجزی اور انکساری تھی۔ لطیف، انسان تو انسان جانوروں کے درد پر بھی دردمند ہونے والے انسان تھے۔ ان کے عاجزانہ طبیعت کا انکی شاعری پر بڑا گہرا اثر ہے۔ ان کی شاعری میں درد و آہ زیادہ پائی جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں ہمیں محبت اور محبوب کا رنگ بھی ملتا ہے ان کے اشعار میں محبوب کے آگے انداز بھی عاجزانہ ہے وہ محبوب کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ لیکن ان کی شاعری میں ہمیں درد اور غربت کا زیادہ زکر ملتا ہے۔
    ("غریبوں کو ہر دم ستاتی ہے دنیا

    ستم اس طرح بھی یہ ڈھاتی ہے دنیا”)

    محمد لطیف سیف کی شاعری میں حمدیں، نعتیں، غزلیں نظمیں وغیرہ شامل ہیں۔
    ان کے کلام مشہور گلوکاروں نے گائے ہیں، جن میں ملکہ ترنم میڈم نور جہاں بھی ہیں۔ میڈم نور جہاں نے ان کا پنجابی کلام "جدوں دیاں تیرے نال لڑ گیاہ اکھیاں” گایا ہے۔ ان کے کلام کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کے کلام کو سخن شناس پوری دنیا میں سنتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے مختلف گلوکاروں نے ان کے کلاموں کو اپنی آوازوں میں گایا ہے ۔
    ان کی شاعری کی دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ پہلی کتاب "اشک بہاتی تنہائی” جو کہ اردو زبان میں اس کی زندگی میں پبلیش ہوچکی تھی،
    ("میں بھول ک دنیا والوں سے اک بار بھی شکوہ کیوں کرتا

    گر سیف میری بربادی پر نا آشک بہاتی تنہائی”)
    جبکہ دوسری کتاب پنجابی زبان میں ہے "مٹی ملیاں سوچاں” اس کے وفات کے بعد پبلیش ہوئ تھی۔ دوسری کتاب مکمل ہوچکی تھی لیکن پبلیش کرنے ابھی نہیں دیا تھا کہ 6 دسمبر 2016 کو اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے اور رب کائنات خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات کا دن نہ صرف ان کے گھر والوں کے لیے بلکہ سب سخن شناس لوگوں کے لیے تکلیف کا دن تھا۔
    اس کے وفات ہونے کے بعد ان کے چاہنے والوں نے ان کے گھر والوں کے ساتھ مل کر ان کی دوسری کتاب شائع کی۔ ان کے چاہنے والے آج بھی ان کے نام کو بڑے احترام سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے چاہنے والے اور اردو اور پنجابی ادب کو پسند کرنے والے یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی جگہ کبھی کوئی پورا نہیں کر پائے گا۔ ان کی شاعری ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ اللّٰہ ان کی آخری منزل آسان فرمائے۔ اللّٰہ ان کی شاعری کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ (امین)

    ("جان دوں گا میں اس ادا سے اسے
    موت دیکھے گی بار بار مجھے”
    جو ملا بن کے غمگسار مجھے
    کر گیا وہ بھی اشکبار مجھے

    زندگی کس طرح کروں گا بسر
    غم کی دلدل میں مت اتار مجھے

    جان دوں گا میں اس ادا سے اسے
    موت دیکھے گی بار بار مجھے

    میں خزاں کو دوش دیتا رہا
    د
    زخم دیتی رہی بہار مجھے۔

    ہے عبث سیف یہ مسیحائی
    اب نزع کا ہے انتظار مجھے۔” )

    ________________________
    twitter.com/MahiLatief1

  • عفو درگزر کرنا تحریر: امتیاز احمد سومرو

    عفو درگزر کرنا تحریر: امتیاز احمد سومرو

    آج کل ہمارے معاشرے میں آپس کی ناچاقیں و نفرتیں عروج پر ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو معاف کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ ہم جتنی بھی بڑی سے بڑی غلطی کریں چھوٹی لگتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ سامنے والا بندہ ہمیں فوری طور پر معاف کرے اگر وہ معاف نہ کرے تو ہم اسے مغرور سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر کوئی شخص سے غلطی ہو جائے تو ہم اسے سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ہم اسے معاف کریں اس کی غلطی ہمیں گناہ کبیرہ لگتی ہے آنا کا مسلہ بنا دیا جاتا ہے۔ جی ہاں گناہ کبیرہ لگتی ہے اب ایسا کیوں؟ کیوں ہمیں اپنی غلطی غلطی نہیں لگتی کیوں ہم اسے آنا کا مسلہ بنا لیتے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے؟

    ایسا اس لیے کیوں کہ ہم نے نبی آخروالزماں سرور کونین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ میرے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے جس کا مفہوم یہ ہے

    "اگر معاف کرنے سے تمہاری عزت میں کمی آئے تو قیامت کے دن مجھ سے لے لینا”

    آج کل ہم کہاں کھڑے ہیں ہم تو اسلام سے بہت دور ہو گئے ہیں بلکہ ہم تو اسلام کی مخالف سمت میں سفر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم جتنا بڑا گناہ کر لیں ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دیں لیکن اگر کسی انسان سے غلطی ہو جائے تو ہم اسے معاف نہیں کریں گے کیوں بھائی اگر اللّٰہ تعالیٰ سے معافی کی امید رکھتے ہیں تو اس کے بندوں کو بھی معاف کرنا سیکھیں تب جا کے اللّٰہ تعالیٰ معاف کریں گے۔ غلطی انسان کی فطرت میں شامل ہے انسان نے غلطی کرنی ہے۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے سگے چچا کے قاتل کو بھی معاف کر دیا تھا۔بھائی غلطی انسان سے ہوتی ہے اپنی غلطی تسلیم کرنے والا بڑا ہے اور معاف کرنے والا اس سے بھی بڑا ہے۔ معاف کرنے سے یا معافی مانگنے سے کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا اس لیے دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کریں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کے گناہ معاف فرمائیں آپ کی غلطیاں معاف کریں تو دوسروں کو بھی معاف کرنا سیکھیں دوسروں کی غلطی کو انا کا مسلہ نہ بنایا کریں۔ اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق معاف کرنا سیکھیں اللّٰہ تعالیٰ بھی آپ کو معاف کریں گے۔

    اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو معاف کرنا سیکھیں۔ درگزر کرنا سیکھیں انشاء اللہ زندگی حسین ہو جائے گی اور معاف کرنے سے جو خوشی ملتی ہے اس کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو معاف کریں تو دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں۔

    @Imtiazahmad_pti