Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • جیکب آباد کی عوام ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر  تحریر:عبدالرحمن آفریدی

    جیکب آباد کی عوام ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر تحریر:عبدالرحمن آفریدی

    امن و مان کسی بھی ملک اور علاقے کی ترقی کی ضمانت ہے امن ہو گا تو کاروبا بھی ہوگا اور ترقی بھی سندھ کے ضلع جیکب آباد میں آئے روز چوری اور رہزنی کی وارداتوں کی وجہ سے عوام عد م تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں ڈاکو اور چور دن دیہاڑے دیدہ دلیری سے وارداتیں کرکے آسانی سے فرار ہو جاتے ہیں پولیس نہ ملزمان گرفتار کر سکی ہے نہ ہی مسروقہ سامان برآمد کیا جا سکا ہے صرف ایک ماہ میں چور ی اور رہزنی کی متعدد وارداتیں ہوئی ہیں دلمراد تھانہ کی حدود میں مسلح ڈاکوؤں نے بس کو یرغما ل بنا کر مسافروں نریش کمار سے 24لاکھ اور امیت سے 80ہزار لوٹ کر فرار ہو گئے،جبکہ دن دیہاڑے ڈی سی آفیس روڈ پر دوکاندار سے دو لاکھ65ہزارچھین کر با آسانی فرار ہو گئے حالانکہ چند قدم کے فاصلے پر پولیس ٹاور چوکی واقع ہے اسکے علاوہ سٹی تھانہ کی حدود ساؤنڈ مارکیٹ سے مسلح افراد نے بیوپاری اٹھومل سے تین لاکھ سے زائد نقدی بھری بازار میں چھین کر فرار ہو گئے ڈنگر محلہ میں بینک سے رقم نکلوا کر گھر جانے والے مویشی کے بیوپاری احسان رند سے مسلح افرادنے9لاکھ چھین لئے،سبزی منڈی کے بیوپاری مظفر لاشاری سے ٹیکنیکل کالج کے قریب مسلح افراد نے نقدی اور موبائل فون چھین لیا عید کی چھٹیوں کے دنوں میں لاشاری محلہ سے وکیل طاہر رند کے بھتیجے احسان رند کی گھر کے باہر کھڑی نئی سیڈی موٹر سائیکل چوری ہو گئی اسی طرح سوزوکی اسٹینڈ سے وقار اوستوکے گھر کے باہر سے نئی موٹر سائیکل چوری ہو گئی جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی وائرل ہو ئی لیکن تاحال پولیس ملزمان کا سراغ نہیں لگا سکی ہے پولیس کے ناقص کارکردگی کی وجہ سے عوام مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں پولیس چوری اور رہزنی کی وارداتوں کو روکنے میں بے بس نظر آرہی ہے بدامنی میں اضافے کے خلاف جے یو آئی سمیت دیگر جماعتوں کی جانب سے احتجاجی جلوس نکال کر دہرنے دئے گئے اس کے باوجود پولیس اپنی کارکردگی کو بہتر نہیں کر سکی ہے پولیس میں مداخلت سفارشی پر تقرریاں اور تبادلوں کی وجہ سے پولیس کا مورال شدید متاثر ہوا ہے پولیس بااثر وڈیروں کی جی حضوری میں لگی ہوئی ہے دو سو کے قریب پولیس اہلکار محافظ کے طور پر بااثراور من پسند افراد کے حوالے کئے گئے ہیں ایسے افراد کو بھی پولیس گارڈ دئے گئے ہیں جو اچھی شہریت کے حامل نہیں سود خوروں سمیت جن افرا د پر تھانوں پر حملے کے کیس داخل ہوئے وہ بھی پولیس اہلکار محافظ کے طور پر رکھتے ہیں محافظ بنے پولیس اہلکاروں سے نوکروں کا کام لیا جاتا ہے جو کہ قابل افسوس ہے پولیس قانون کا اطلاق صرف کمزور پر کرواتی ہے جبکہ بااثر قانون کو توڑتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے پولیس دیکھتی رہ جاتی ہے کوئی کاروائی نہیں کرتی،پولیس اس دہرے معیار کی وجہ سے عوام اب پولیس کو اپنا نہیں سمجھتے،پولیس کے معتلق عوام کے ایسے تاثرکو ختم کرنے، امن امان کے قیام،عوام کے اعتماد کی بحالی کے لئے سندھ پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے سیاسی اور سفارشی بنیاد پر پولیس افسران کی تقرری اور تبادلوں کا سلسلہ بند کرکے میرٹ پر اچھی شہرت کے حامل افسران کو فری ہینڈ دیا جائے تو امن قائم ہو سکتا ہے اور پولیس کا گرتا ہوا مورال بھی بہتر ہو سکتا ہے وفاقی و صوبائی وزیر داخلہ،آئی جی سندھ پولیس،اے آئی جی سکھر اور ڈی آئی جی لاڑکانہ کو اس ضمن میں سخت فیصلے لینا ہونگے بصورت دیگر حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔
    تحریر:عبدالرحمن آفریدی
    @journalistjcd
    03337346416

  • جرم،انصاف اور معاشرہ  تحریر:فرح خان

    جرم،انصاف اور معاشرہ تحریر:فرح خان

    "اس عہد ظلم میں میں بھی شریک ہوں جیسے
    مرا سکوت مجھے سخت مجرمانہ لگا”

    ہم سب دوسروں پر تنقید کرنے کے عادی ہیں مگر اپنی اصلاح کی جانب توجہ نہیں دیتے یہ ایک بنیادی خرابی ہے جو ہمارے معاشرے میں ہر برائی کو جنم دے رہی ہے۔
    اگر انسان میں خوف خدا کی صفت پیدا ہوجائے تو ہم برائیوں سے خود بھاگے گے۔

    آئیے دن ہم ایک نئی ظلم کی داستان سن رہے ہوتے ہیں،در حقیقت انصاف اور گرفتاری کے تمام ہیش ٹیگز ہمارے قانونی نظام پر سوالیہ نشان ہیں ،اور اب ان مجرموں کا حوصلہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ خود کو ظاہر کرتے ہوئے وڈیو آپ لوڈ کرتے ہیں، گرفتاری کا خوف ہی نہیں ، سزا کا ڈر نہیں ، شرمندگی کا کوئی احساس نہیں ۔

    فرسودہ تباہ شدہ قانون پہ ان کو مکمل یقین ہے کہ ان کا بال بھیگا نا ہوگا،شوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فورم پہ آواز بلند ہوتی ہے وہ گرفتار ہوتے ہیں اور خود کو ایک سلیبرٹی سمجھ کر فخر سے دھندھناتےہوئے نظر آتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ وہ جوڑ توڑ کریں گے اور انہیں آزاد کردیا جائے گا۔ کچھ دن بعد لوگ بھی بھول جائیں گے اور مخصوص تاریخوں پہ کسی چوک پہ موم بتیاں جلاتے ہوئے نظر آئیں گے۔

    "امجدؔ در نگار پہ دستک ہی دیجئے
    اس بے کراں سکوت میں کچھ غلغلہ رہے”

    وزیر اعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ اس شیطانی کھیل کو ختم کرنے کے لئے سخت اقدام کروائیں ،اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی فتنہ اس کھیل کو بڑھاوا دے رہے ہیں تاکہ لاپروائی اور معاشی برائیوں کا الزام حکومت پہ ڈال سکیں۔
    اس میں لبرلز اور غیر ملکی فنڈنگ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    عدلیہ نظام امن،خوشحال معاشرے کی تخلیق کی بنیاد ہوتا ہے پر یہاں کرپٹ اور مسلسل مجرموں کو آزاد کیا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے ایک ناسور کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے۔
    اس نظام پہ جلد توجہ کی ضرورت ہے۔

    تمام انسانوں کو کسی رنگ و نسل ، ذات پات کی تمیز رکھے بغیر انصاف مہیا کیا جائے اور معاشی نظام میں کسی تفریق کے بغیر سب کو برابر سے حقوق ملیں تو اس معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔

    مثبت نتائج کے لیے اپنی ذات سے اصلاح کا کام شورع کریں تو برائیوں پر اچھائیاں حاوی ہو جائیں گی ۔عمدہ مثالی معاشرے کے لیے؛

    ●معاشرے میں انصاف کے لئے اقدامات کیے جائیں۔
    ●افراد کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
    ●سزاؤں کا نفاذ کیا جائے تاکہ دوسرے افراد عبرت حاصل کریں اور برائی جڑ نہ پکڑ سکے۔
    ●اسکول،نصاب اور والدین پر سخت ذمہ داری ہے اس لیے وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت نا کریں۔
    ●معاشرہ کو خلوص، محبت،انسانیت اور خدمت سے سنوارا جائے۔

    قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے کہ
    "برائی سے روکو اور نیکی کا حکم دو۔”

    #JusticeForNaseemBibi #JusticeForNoormukadam #JusticeForQuratulainAnnie #JusticeforSaima #JusticeForWishah #JusticeforAndaleeb
    #JusticeForKhadija
    #JusticeForAsifa
    #JusticeForZainab
    #ArrestAbdulSalamDawood
    #ArrestUsmanMirza

    اور اس طرح کئی کیس ہمارے سامنے ہیں،ہمارا معاشرہ خاکی کشکول لیے کھڑا ہے جس میں اچھائیوں،نیکی،انصاف اور حقوق کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ان سب واقعات سے بچنے کے لیے اللہ کرے ہم جلد منظم فضا قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔آمین

    @MastaniFarah

  • ويسٹ انڈيز ميں پاکستان ٹيم کا کيا ہوگا تحریر: سلطان محمود خان

    ويسٹ انڈيز ميں پاکستان ٹيم کا کيا ہوگا تحریر: سلطان محمود خان

    پاکستان اور ويسٹ انڈيز کے درميان ٹي ٹوئنٹي سيريز آج سے شروع ہورہي ہے مگر اب بھي ايسے بہت سے مسائل ہيں جن کا سامنا ہيڈ کوچ مصباح الحق اور کپتان بابراعظم کو ہے۔ سب سے بڑا مسلہ تو مڈل آرڈر کي ناکامي ہے۔ ٹي ٹوئنٹي ورلڈ کپ سر پر ہے مگر مڈل آرڈر ہے کہ چلنے کا نام ہي نہيں لے رہا۔ دورہ جنوبي افريقہ اور زمبابوے ميں ٹيم منجمنٹ نے کئي تجربے کيے مگر سب بےکار گئے۔ افتخار احمد، خوشدل شاہ، آصف علي، دانش عزيز، حيدرعلي، حسين طلعت، محمد حفيظ سب کو آزما ليا مگر کوئي فائدہ نہيں ہوا۔ يہاں تک کہ اوپنر فخرزمان اور شرجيل خان کو بھي نمبر تين اور چار پر کھلايا مگر وہ بھي فيل ہوئے۔ سرفراز احمد کو موقع ديا کہ شايد ان کا تجربہ ٹٰيم کے کام آئے مگر وہ بھي مڈل آرڈر کا خلا پُر نہ کرسکے۔ پي ايس ايل ميں عمدہ کارکردگي نے صہيب مقصود پر پانچ سال بعد قومي ٹيم کے دروازے کھولے مگر صہيب کا رنز اگلتا بلا انگلينڈ کے سامنے خاموش رہا۔ اعظم خان کو بھي چانس دے ديا مگر نتيجہ وہي صفر، آخر مسلہ کيا ہے؟ کيوں مصباح اور بابر کمبي نيشن بنانے ميں ناکام ہو رہےہيں؟ دورہ جنوبي افريقہ ميں پاکستان کو جنوبي افريقہ کي ”بي” ٹيم نے ايک ميچ ہرايا وہ ٹيم جو اپنے دس اہم کھلاڑيوں سے محروم تھي۔ فاف ڈوپلسي، ڈي کوک، ڈيوڈ ملر، وين ڈر ڈسن، کاگيسو رباڈا، اينرچ نورکيا، لونگي نگيدي، ٹمبا باووما، ريزا ہينڈرکس اور ڈيوئن پريٹوريس يہ سب پاکستان کے خلاف ٹي ٹوئنٹي سيريز کا حصہ نہيں تھے۔ مگر پھر بھي پاکستان حريف ٹيم کو وائٹ واش نہ کرسکا اور گرتے پڑتے سيريز اپنے نام کي۔ زمبابوے ميں بھي ايسا ہي ہوا پاکستان ٹيم معمولي 119 رنز کا تعاقب نہ کرپائي اور يوں تاريخ ميں پہلي بار زمبابوے نے پاکستان کو ٹي ٹوئنٹي ميچ ميں شکست دي۔ پاکستان ٹيم انگلينڈ گئي تو راتوں رات انگلينڈ کي پوري ٹيم بدل گئي پھر بھي پاکستان نہيں جيت سکا اور انگلينڈ کي ”بي” نے پاکستان کو ون ڈے سيريز ميں وائٹ واش کيا۔ پے در پے شکستوں نے پاکستان ٹيم پر سواليہ نشان لگاديا ہے۔ يواے اي ميں ہونے والے ميگا ايونٹ کيلئے مصباح اينڈ کمپني کي کوئي تياري نہيں، کيا بڑے ٹورنامنٹ ايسے جيتے جاتے ہيں ؟ کيا تيارياں ايسے ہوتي ہيں؟ جہاں انگلينڈ اور بھارت اپني دو دو ٹيموں کے ساتھ انٹرنيشنل ميچز کھيل رہا ہے وہاں پاکستان کے پاس ايک ٹيم نہيں جو انگلينڈ کي ”بي” کا مقابلہ کرتي۔ انگلينڈ سے خالي ہاتھ ويسٹ انڈيز جانے والي بابراليون کيا ورلڈ چيمپين کو شکست دے پائے گي؟ وہ ويسٹ انڈيز جس نے آسٹريليا کو ٹي ٹوئنٹي سيريز ميں چار ايک سے ہرايا، جس ميں کرس گيل، کيرن پولارڈ، نکولس پورن، شمرون ہٹ مائر، آندرے رسل سميت دنيا کے بڑے بڑے ہٹرز موجود ہيں۔ ايسے ميں پاکستان کا کيا ہوگا؟ شائقين کرکٹ کے ذہنوں ميں ايک ہي سوال ہے جو ٹيم جنوبي افريقہ اور انگلينڈ کي ”بي” ٹيموں سے ہار گئي کيا وہ ويسٹ انڈيز کي اس ٹيم کو ہرانے کي صلاحيت رکھتي ہے؟ کپتان بابراعظم نے ايک بار اٹيکنگ کرکٹ کھيلنے کا اعلان کيا ہے مگر کيا پاکستان جديد دور کي اٹيکنگ کرکٹ کھيلنے کي صلاحيت رکھتا ہے؟ يا ہم اب بھي نوے کي دہائي ميں پھنسے ہوئے ہيں؟ کيا بابراعظم اور محمد رضوان بطور اوپنر اٹيکنگ کرکٹ کھيلنے کي اہليت رکھتے ہيں؟ کيا شرجيل خان اور فخر زمان کو مڈل آرڈر ميں کھلانا ٹھيک ہے؟ کيا چار اوپنرز کو ايک ساتھ کھلانا ٹھيک ہے؟ کيا شاداب خان کو ہر ميچ کھلانا لازمي ہے؟ يہ وہ سوالات ہے جو مجھ سميت تمام شائقين کرکٹ اور تجزيہ کاروں کے ذہينوں ميں ہيں مگر ان کا جواب شايد ٹيم منجمنٹ کے پاس بھي نہيں، ليکن اگر پاکستان ٹيم ويسٹ انڈيز ميں بھي ناکام ہوئي تو کيا ہوگا؟ بابراعظم اور رضوان کے علاوہ کسي نے رنز نہ کيے تو کيا ہوگا؟ مڈل آرڈر پھر فيل ہوا تو کيا ہوگا؟ کيا شعيب ملک کو واپس لايا جائے گا؟ کيا مصباح الحق کو عہدے سے ہٹايا جائے گا؟ ٹي ٹوئنٹي ورلڈ کپ سر پر ہے مگر ٹيم منجمنٹ کے پاس کسي سوال کا جواب نہيں، اميد کرتے ہيں کہ ورلڈ کپ سے قبل مصباح اور بابر کو تمام سوالوں کے جوابات مل جائيں ورنہ ناکامي ايک بار پھر شاہينوں کا مقدر بنے گي

  • کرونا وائرس ایک عالمی وباء ہے     تحریر:  سلمان الیاس

    کرونا وائرس ایک عالمی وباء ہے تحریر: سلمان الیاس

    اور یہ وباء آج کل پھر دنیا بھر میں سر اٹھا رہی ہے۔خاص کر پاکستان میں چھوتا لہر شروع ہو چکا ہے جو پہلے والے سے انتہائی خطرناک ہے ۔اور پریشان کن بات یہ ہے پاکستان میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے

    اس سے پہلے تیسرا لہر بھی انتہائی خطرناک تھا ۔جس نے دنیا میں تباہی مچائی تھی پر الحمد للہ پاکستانی عوام نے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ۔احتیاط سے کام لیا اور اس وباء پر قابو پالیا گیا تھا۔تیسری لہر کا دنیا کے کچھ ترقی یافتہ ممالک پر اثرات کے کچھ مناظر میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

    ‎کینیڈا نے باہر سے آنے اور جانے والی پروازوں پر پابندی عائد کردی تھی ، اور اس کے باوجود روزانہ اموات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر جاتی تھی

    ‎ تنزانیہ مکمل طور پر بند تھا۔

    ‎ برازیل ایک مشکل ترین وقت میں پڑ گیا تھا، جہاں ایک دن میں 4،100 سے زیادہ اموات ہوتی تھی۔

    ‎ برطانیہ نے ایک ماہ کےلئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔

    ‎ فرانس 2 ہفتے کے لئے بند تھا۔ جرمنی 4 ہفتوں کے لئے سیل کر دی گئی تھی۔

    ‎ ان تمام ممالک نے تصدیق کی تھی کہ تیسری لہر پہلی اور دوسری لہر سے کہیں زیادہ مہلک ہے۔ لیکن اس کے باوجود الحمدللہ پاکستان میں نہ لاک ڈاؤن لگا دیا تھا اور نہ ہی دوسرے ممالک کی طرح پابندیاں لگائی گئی تھی پھر بھی ہم نے قابو پالیا تھا

    ‎ اس خطرناک وباء پر قابو پانے پر پوری دنیا نے ہماری تعریف بھی کی تھی اور "ڈبلیو ایچ او ” نے کئی ممالک کو ہماری مثال دیکر ہماری پیروی کرنے کو بھی کہاں تھا جو کہ ہمارے لئے اعزاز اور فخر کی بات ہے
    ‎ وہ اسلئے کہ ہم نے احتیاطی تدابیر اختیار کی تھی ۔

    اب بھی ہم لوگوں کو ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ۔حکومتی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا چاہے اور ویکسینیشن جتنی جلدی ہوسکتا ہو کروالے کیونکہ ویکسین کے بارے میں جو افواہے گردش کر رہی ہے سراسر غلط ہے۔اس میں کوئی سچائی نہیں ہے میں خود پہلا ڈوز لگواچکا ہو اور دوسرا بھی انشاءاللہ کچھ دنوں تک لگ جائے گی

    اور جو لوگ یہ افواہے پھیلا رہے ہے انکے بارے میں معلوم کرے تو وہ بھی آپ کو ویکسینیشن سنٹر کے باہر قطار میں کھڑے ملیں گے۔کیونکہ انکو بھی پتہ ہے اس وباء کی سنگینی کا پر عادت سے مجبور ہے انہی لوگوں نے پہلے بھی افواہ پھیلائی تھی کہتے تھے کرونا جھوٹ ہے اور موت اپنی مقررہ وقت پر اتا ہے اور ابھی کہتے ہے ویکسین لگوانے سے مر جاؤگے ۔یہ لوگ خود شش وپنج میں ہے انکو خود بھی پتا نہیں ہم کیا بول رہے ہیں۔

    اس لئے اپنے آپ پر اور اپنے پیاروں پر رحم کرکے تمام حکومتی احتیاطی تدابیر پر سختی سےعمل کرے ۔خود کو بھی تکلیف سے بچائے اور دوسروں کو بھی جو کہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے

    اللہُ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے پیارے ملک پاکستان کو ہر شر سے اپنی حفظ و امان میں رکھے "آمین ”

    🌷خوش رہے اور خوشیاں بانٹھے یہی اصل زندگی ہے🌷

    ٹویٹر
    ‏ @Salmanjani12

  • ڈیلٹا ویرئینٹ تحریر:  محسن ریاض

    ڈیلٹا ویرئینٹ تحریر: محسن ریاض

    ابھی عید کو گزرے چنددن ہی ہوئے ہیں اور ایک نئی بلا نے سر اٹھا لیا ہے – آج کورونا کے کیسز میں انتہائی تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کراچی میں اس کی شرح تیس فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے این سی او سی نے اس بات کے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ڈیلٹا ویرینٹ پاکستان میں اضافے کا سبب بن رہا ہے جبکہ اس بات کا مکمل ثبوت موجود ہے کہ کافی عرصے سے یہ ویرینٹ پاکستان میں موجود ہے ۔سندھ حکومت نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا اور بدقسمتی سے سندھ میں کرونا کے تمام پازٹیو ٹیسٹ ڈیلٹا ویرینٹ کے ہی ہیں اب تک پائے جانے والے تمام ویرینٹ میں سے اسے سب سے زیادہ تباہ کن مانا جاتا ہے کیونکہ اس نے انڈیا میں جو تباہی مچاہی ہے اس کے بارے میں سن کر ہی رونگٹے کھڑے کو جاتے ہیں انڈیا میں ایک دن کے اندر لاکھوں کی تعداد میں لوگ ااس میں مبتلا ہونے لگے تھے اور ہسپتالوں کے اندر جگہ نہ تھی بلکہ اس کی تباہی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ لوگوں کو جلانے کے لیے شمشان گھاٹ میں بھی جگہ تنگ پڑ گئی تھی اور شمشان گھاٹوں کے باہر کوگوں کی لمبی لائن ہوتی تھی جو اس بات کا انتظار کر رہے ہوتے تھے کہ باری آنے پر اپنے پیاروں کی نعش کو جلا سکیں سندھ حکومت نے اس حوالے سے عملی اقدامات اٹھانے کا اعلان بھی کر دیا ہے اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر سندھ حکومت نے سوموار سے تمام سکولوں کو بند کرنے کیا ہے صرف جن طلبا کے امتحانات ہو رہے وہ معمول کے مطابق کھلے ہیں اس کی علاوہ ایک اور احسن کام یہ کیا ہے کہ پی ٹی اے اور این سی او سی کو ایک مراسلہ بھیجنے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے جس میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ جن افراد نے ویکسین نہیں لگوائی ان کے سم کارڈ بند کر دئیے جائیں اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو بھی اس بات سے مشروط کیا ہی کہ ویکسین کروانے والے افراد ہی وصول کر سکیں گے-عید کے اجتماعات کے علاوہ مویشی منڈیوں میں شدید رش دیکھنے کو ملا جس کی وجہ سے اس بات کا اندیشہ ہے کہ چوتھی ویو آ سکتی ہے کیونکہ ان جگہوں کوئی ایک بھی فرد ایسا نہیں دیکھا گیا جس نے ایس او پیز کی پابندی کر رکھی ہو اور مویشی بیچنے والے زیادہ تر ایسے افراد ہی ہوتے ہیں جو کم پڑھے لکھے ہوں اور ان کا دیہاتوں سے تعلق ہوتا ہے اس لیے انہیں اس حوالے سے آگاہی نہیں ہوتی اور وہ نہیں سمجھتے کہ وہ وبا کے پھلاؤ میں حصہ ڈال رہے ہیں مگر اصل حیرت کی بات تو یہ تھی کہ پڑھا لکھا طبقہ بھی وائرس کے پھیلاو میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈال رہا تھا کیونکہ عید کی نماز کے بعد کئی ایسے افراد کو بھی دیکھا جو دوایتی طریقے سے تین بار گلے مل کر عید کی مبارک پیش کر رہے تھے اور اس بات سے ہی منکر تھے کہ کورونا اصل میں موجود ہے بلکہ اس کو امریکا اور بل گیٹس کی ملی بھگت قرار دے رہے تھے پنجاب حکومت اس حوالے سے بالکل خاموش ہے کسی قسم کے اقدامات کے بارے میں نہیں سوچا گیا-بزدار حکومت بے ابھی تک ایسے کوئی اقدامات نہیں کئے جن سے ان کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکے بلکہ اس کو زیادہ تر سیاسی پوائنٹ سکورننگ کرت ہی دیکھا گیا ہے اس کے علاوہ کشمیر الیکشن میں بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں نے کورونا کو نظر انداز کیا ہے بلکہ مجھے پیپلز پارٹی پر اور ان کے دوہرے معیار پر اس سے بھی زیادہ حیرت ہوئی کیونکہ سندھ میں تو انہوں نے کورونا کو قابو کرنے کے اقدامات کیے مگر یہاں پر ایسا لحاظ نہیں رکھا گیا بلکہ بقول حلیم عادل شیخ کے پیسوں سے بھرے جہاز کشمیر کو فتح کرنے کے لیے روانہ کیے گئے اگر خدانخواستہ ڈیلٹا ویرینٹ انڈیا کی طرح تباہی مچاتا ہے تو ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو گا کہ اپنے پیاروں کو اپنے سامنے ایڑیاں رگڑتے ہوئے دیکھیں اس لیے ضروری ہے کہ اپنے تمام رشتہ داروں کو آمادہ کرئیں کہ وہ ویکسین لگوائیں اور حکومت سے بھی اپیل ہے کہ اس ویرینٹ کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں تاکہ اس عفریت سے بچا جا سکے

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • ڈرٹی گیمز، عمران خان اور الیکشنز 2023 تحریر: نویداختربھٹی

    ڈرٹی گیمز، عمران خان اور الیکشنز 2023 تحریر: نویداختربھٹی

    جب نوازشریف کو باہر بھیجا گیا تو قریب سب انصافینز نے اچھا خاصا شور مچایا۔ مجھے کئی دوستوں نے طعنے بھی دیے لیکن میں نے خاموشی اختیار کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اس پالیسی کے نتائج چند سال بعد سامنے آئیں گے۔
    پہلے تین صوبے، پھر گلگت بلتستان اور اب کشمیر میں نتائج دیکھ کر یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر نوازشریف کو نااہلی کے بعد واقعتاً جیل کے اندر ہی رکھا جاتا تو اپنی سزا پوری کرنے کے بعد اس بندے نے ایک ایسی بلا بن کر باہر نکلنا تھی جسے اگلے چالیس سال تک اقتدار سے الگ کرنا نا صرف مشکل ہوجاتا بلکہ ناممکنات میں تصور کیا جاتا۔ سات سال کی سزا کا مطلب ہے ساڑھے تین سال۔ ساڑھے تین سال کا مطلب ہے کہ الیکشن 2023 سے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے باہر آجانا۔۔۔یعنی شیر کو بھوکا رکھ کر چھوڑنے والی بات تھی۔
    اپنے مفادات کیلئے بھارت، یورپ اور امریکہ کیلئے نوازشریف سے بہتر اب تک بھی کوئی کھلاڑی نہیں رہا۔ کشمیر کے الیکشنز تک نوازشریف کشمیریوں کا بھی کسی حد تک ہیرو رہا ہے لیکن عمران خان نے مسٔلہ کشمیر کو جس طرح عالمی منظر نامے پر زندہ کیا ہے یہ دنیا کیلئے حیران کن تھا کیونکہ دنیا یہ فرض کرکے بیٹھی ہوئی تھی کہ پاکستان کشمیر کے حق سے دستبردار ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کیلئے واشگاف الفاظ میں بولنا، اس کی آزادی اور استصواب رائے پر بابنگِ دہل بیانات دینا ایک اس کمزور ترین خارجہ پالیسی والے حکمران کے منہ سے حیران کن تھا جو پالیسی اسے اسی کے سابق حکمران ورثے میں دے گئے تھے۔
    18 جولائی 2017 میں سہہ پہر کے وقت جب سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اقامہ کیس پر نوازشریف کو نااہل کیا تو موجودہ وزیراعظم عمران خان ‘ڈرٹی گیمز’ کی بُو اسی وقت سونگھ گئے تھے لیکن انہوں نے پوری قوم کے ساتھ مل کر اس نااہلی کا جشن منایا اور انہیں افسوس اس بات کا تھا کہ پاناما کیس ابھی بھی حل طلب تھا۔ جے آئی ٹی کے والیم 10 کو بھی نا کھولنا کسی ایسی گیم کا حصہ تھا یا شاید ابھی بھی ہے، جس کے نتائج کا علم صرف انہیں کو ہی پتا ہے جو قوم کو اس دلاسے پر خوش فہمی میں مبتلا رکھے ہوئے ہیں کہ اس کے اندر شریف فیملی کے متعلق ایسے ایسے انکشافات ہیں کہ اگر اسے ایک بار کھول دیا گیا تو یہ خاندان کبھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔
    ڈرٹی گیمز کھیلنے والے اپنا کھیل کھیل رہے ہیں اور عمران خان اس سیاسی شطرنج کی بساط پر اپنی چالیں چال رہے ہیں جن میں سب سے بڑی چال 50 روپے کے اشٹام پر نوازشریف کو علاج کیلئے لندن جانے کی اجازت دینا ہے اور یہ اجازت ریاست کی سب سے بڑی عدلیہ نے دی تھی۔ عوام آج بھی اسی غلط فہمی میں ہیں کہ یہ سب انہوں نے کیا جو اس کھیل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ اس کھیل کا سب سے بڑا کھلاڑی اب عمران خان بن چکا ہے اور اس نے مریم نواز کو ضمانت دلوا کر جہاں ایک طرف اسے عورت ہونے کا فائدہ دیا اور عوام کی ہمدردی حاصل کی وہیں دوسری طرف نوازشریف کو لندن بھجوا کر اسے پاکستانی سیاست سے دور کرنے کیلئے اس سے چند ایسے لوگوں کے ذریعے نوازشریف کے منہ سے ایسی تقریریں کروا دیں جن کی سمجھ شاید نوازشریف کو آج بھی نا آرہی ہو۔ سپریم کورٹ نے ان تقاریر کی بنیاد پر نوازشریف کی قومی میڈیا پر تقریر کو بین کردیا گیا۔ آہستہ آہستہ اس قوم کی یاداشت سے نوازشریف کو نکالنے کا عمل شروع کیا گیا تو دوسری طرف مریم نواز کو ایسے ایجنڈے پر کام کیلئے چنا گیا جس سے صرف اور صرف (ن) لیگ کو ہی نقصان ہوا اور آج (ن) لیگ پورے پاکستان میں اپنی موت نہیں مری بلکہ مریم نواز کے ہاتھوں مروائی گئی ہے۔
    مجھے سلیم صافی کی ایک ٹی وی پروگرام میں کہی گئی بات اکثر ذہن میں آجاتی ہے کہ عمران خان دنیا کا اس وقت ذہین ترین سیاستدان ہے۔ نوازشریف اور زرداری اس کے سامنے معمولی سی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔
    الیکشن 2023 میں پاکستان تحریکِ انصاف الیکشن 1997 والا جھرلو پھیرے گی اور اس بار یہ جھرلو شفاف ترین الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے پھرے گا۔ یہ عوامی جھرلو ہوگا جو انشاءاللّٰہ نئے نظام کیلئے ایسا رستہ ہموار کردے گا جو پچھلے تمام راستوں کو بند کرکے اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازیوں کو بھی بیرکوں تک لے جائے گا۔
    ابھی بھی اگر کوئی یہ کہے کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی تو اسے باؤلے کتے کے کاٹے کا ٹیکہ لگوانا بنتا ہے۔

  • عبادت۔۔۔۔پوری زندگی میں بندگی تحریر: محمد معوّذ

    عبادت۔۔۔۔پوری زندگی میں بندگی تحریر: محمد معوّذ

    اصل حقیقت یہ ہے کہ اللّٰه نے جس عبادت کے لیے آپ کو پیدا کیا ہے اور جس کا حکم آپ کو دیا ہے وہ کچھ اور ہی چیز ہے ۔ وہ عبادت یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی میں ہر وقت ہر حال میں خدا کے قانون کی اطاعت کریں اور ہر اس قانون کی پابندی سے آزاد ہو جا ئیں جو قانون الہی کے خلاف ہو ۔ آپ کی جنبش اس حد کے اندر ہو جو اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مقر کی ہے ۔ آپ کا ہر فعل اس طریقے کے مطابق ہو جو اللّٰه تعالیٰ نے بتادیا ہے ۔ اس طرز پر جو زندگی آپ بسر کریں گے وہ پوری کی پوری عبادت ہوگی ۔ ایسی زندگی میں آپ کا سونا بھی عبادت ہے اور جاگنا بھی، کھانا بھی عبادت ہے اور پینا بھی ، چلنا پھرنا بھی عبادت ہے اور بات کرنا بھی حتی کہ اپنی بیوی کے پاس جانا اور اپنے بچے کو پیار کرنا بھی عبادت ہے ۔ جن کاموں کو آپ بالکل دنیاداری کہتے ہیں وہ سب دین داری اور عبادت میں اگر آپ ان کو انجام دینے میں اللّٰه کی مقررکی ہوئی حدوں کا لحاظ کر لیا کریں اور زندگی میں ہر ہر قدم پر یہ دیکھ کر چلیں کہ اللّٰه کے نزدیک جائز کیا ہے اور ناجائز کیا ؟ حلال کیا ہے اور حرام کیا ؟ فرض کیا چیز کی گئی ہے اور منع کس چیز سے کیا گیا ہے ؟ کس چیز سے اللّٰه خوش ہوتا ہے اور کس سے ناراض ہوتا ہے مثلا آپ روزی کمانے کے لیے نکلتے ہیں ۔ اس کام میں بہت سے مواقع ایسے بھی آتے ہیں جن میں حرام کا مال کافی آسانی کے ساتھ آپ کو مل سکتا ہے ۔ اگر آپ نے اللّٰه سے ڈرکر وہ مال نہ لیا اور صرف حلال کی روٹی کما کر لائے تو جتنا وقت آپ نے روٹی کمانے پر صَرف کیا یہ سب عبادت تھا اور یہ روٹی گھر لاکر جو آپ نے خود کھائی اور اپنی بیوی بچوں اور خدا کے مقرر کیے ہوئے دوسرے حق داروں کو کھلائی ، اس سب پر آپ اجروثواب کے مستحق ہو گئے ۔ آپ نے اگر راستہ چلتے میں کوئی پتھر یا کانٹا ہٹادیا ، اس خیال سے کہ اللّٰه کے بندوں کو تکلیف نہ ہو تو یہ بھی عبادت ہے ۔ آپ نے اگر کسی بیمار کی خدمت کی ، یا کسی اندھے کو راستہ چلایا ، یا کسی مصیبت زدہ کی مدد کی ، تو یہ بھی عبادت ہے ۔ آپ نے اگر بات چیت کرنے میں جھوٹ سے غیبت سے بدگوئی اور دل آزاری سے پرہیز کیا ، اور اللّٰه سے ڈر کر صرف حق بات کی تو جتنا وقت آپ نے بات چیت میں صَرف کیا وہ سب عبادت میں صَرف ہوا ۔
    پس اللّٰه کی اصلی عبادت یہ ہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد سے مرتے دم تک آپ اللّٰه کے قانون پر چلیں اور اس کے احکام کے مطابق زندگی بسر کریں ۔ اس عبادت کے لیے کوئی وقت مقر نہیں ہے ، یہ عبادت ہر وقت ہونی چاہیے ۔ اس عبادت کی کوئی ایک شکل نہیں ہے ، ہر کام اور ہرشکل میں اسی کی عبادت ہونی چاہیے ۔ جب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں فلاں وقت خدا کا بندہ ہوں اور فلاں وقت اس کا بندہ نہیں ہوں ، تو آپ یہ بھی نہیں کہ سکتے کہ فلاں وقت اللّٰه کی بندگی عبادت کے لیے ہے اور فلاں وقت اس کی بندگی و عبادت کے لیے نہیں ہے۔ بھائیو ! آپ کوعبادت کا مطلب معلوم ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ زندگی میں ہر وقت ہر حال میں اللّٰه کی بندگی و اطاعت کرنے کا نام ہی عبادت ہے ۔ اب آپ پوچھیں گے کہ یہ نماز ، روزہ اور حج وغیرہ کیا چیز ہیں ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل یہ عبادتیں جو اللّٰه نے آپ پر فرض کی ہیں ، ان کا مقصد آپ کو اس بڑی عبادت کے لیے تیار کرنا ہے جو آپ کو زندگی میں ہر وقت ہر حال میں ادا کرنی چاہیے ۔ نماز آپ کو دن میں پانچ وقت یاد دلاتی ہے کہ تم اللّٰه کے بندے ہو ، اس کی بندگی تمھیں کرنی چاہیے ۔ روزہ سال میں ایک مرتبہ پورے ایک مہینے تک آپ کو اس کی بندگی کے لیے تیار کرتا ہے ۔ زکوۃ آپ کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ یہ مال جو تم نے کمایا ہے کہ اللّٰه کا عطیہ ہے ، اس کو صرف اپنے نفس کی خواہشات پر صَرف نہ کرو ، بلکہ اپنے مالک کا ادا کرو ۔ حج دل پر اللّٰه کی محبت اور بزرگی کا ایسا نقش بڑھاتا ہے کہ ایک مرتبہ اگر وہ بیٹھ جائے تو تمام عمر اس کا اثر دل سے دور نہیں ہوسکتا ۔ ان سب عبادتوں کو ادا کرنے کے بعد اگر آپ اس قابل ہو گئے کہ آپ کی ساری زندگی اللّٰه کی عبادت بن جائے تو بلاشبہ آپ کی نماز نماز ہے اور روزہ روزہ ہے ، زکوۃ زکوة ہے اور جج ہے لیکن اگر یہ مقصد پورا نہ ہو تو رکوع اور سجدہ کرنے اور بھوک پیاس کے ساتھ دن گزارنے اور حج کی رسمیں ادا کر دینے اور زکوۃ کی رقم نکال دینے سے کچھ حاصل نہیں ۔ ان ظاہری طریقوں کی مثال تو ایسی ہے جیسے ایک جسم ، کہ اگر اس میں جان ہے اور وہ چلتا پھرتا اور کام کرتا ہے تو بلاشبہ ایک زندہ انسان ہے ۔ لیکن اگر اس میں جان ہی نہیں تو وہ ایک مردہ لاش ہے ۔ مردے کے ہاتھ پاؤں ، آنکھ ناک سب ہی کچھ ہوتے ہیں مگر اس میں بس جان نہیں ہوتی ، اس لیے تم اسے مٹی میں دبا دیتے ہو ۔ اسی طرح اگر نماز کے ارکان پورے ادا ہوں ، یا روزے کی شرطیں پوری ادا کر دی جائیں مگر خدا کا خوف ، اس کی محبت اور اس کی وفاداری و اطاعت نہ ہو جس کے لیے نماز اور روزہ فرض کیا گیا ہے تو وہ بھی ایک بے جان چیز ہوگی ۔
    اللّٰه تعالیٰ ہمیں تقویٰ اور پرہیزگاری سے زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    (آمین یارب العالمین)

    @muhammadmoawaz_

  • امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ   تحریر : محمد بلال

    امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ تحریر : محمد بلال

    شرم و حیا کے پیکر ذُوالنُّورین خلیفہ ثالث( تیسرے خلیفہ)امیرالمؤمنین حضرت سیّدُنا عثمانِ غنی رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ

    آپ عامُ الفِیل(اَبْرَہَہ بادشاہ کے مکّۂ مکرّمہ پر ہاتھیوں کے ساتھ حملے) کےچھ سال بعدمکّۂ مکرّمہ میں پیدا ہوئے۔

    آپ رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں (پیارے آقا ﷺ کے وه صحابہ جنہیں زندگی میں ہی جنت  کی بشارت دے دی گئی تھی)

    آپ کا شمار حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب شوریٰ میں ہوتا ہے
    آپ کو کاتب وحی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے
    آپ رضی اللّه تعالی عنہ کو جامع القرآن بھی کہا جاتا ہے

    آپ رضی اللّه تعالی عنہ نے خلیفہ اوّل سیدنا صدیق اکبر رضی اللّه تعالی عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کرتے ہوئے اپنے آپ کو ’’نورِایمان‘‘ سے منور کیا، آپ  ’’السابقون الاوّلون‘‘ کی فہرست میں بھی شامل ہیں

    پیکر حیا:

    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بڑے باحیا تھے حتی کہ فرشتے بھی ان سے حیا کرتے تھے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ ہی کے متعلق ارشاد فرمایا تھا:
    أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ

    اے عائشہ رضی اللّه تعالی عنہ کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔

    (صحیح مسلم 6209)

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أرحَمُ أمَّتي بأمَّتي أبو بَكْرٍ ، وأشدُّهم في دينِ اللَّهِ عُمرُ وأصدقُهُم حياءً عُثمانُ”

    میری امت کے ساتھ سب سے زیادہ رحم دلی کرنے والے امتی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں اور اللہ کے دین کے معاملے میں سب سے سخت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں اور ان میں سب سے سچے حیادار عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہیں

    ( الترمذی3790)

    ذُوالنُّورین:

    خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی دو بیٹیوں حضرت سیدہ رقیہ رضی اللّه تعالی عنہ اور حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللّه تعالی عنہ کے ساتھ یکے بعد دیگرے نکاح کی وجہ سے حضرت عثمان عنی رضی اللّه تعالی عنہ کو ’’ذوالنورین‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

    حضرسیدہ رقیہ رضی اللّه تعالی عنہ کی وفات کے بعد پیارے آقا محمد مصطفی ﷺ
    نے اپنی دوسری بیٹی حضرت سیدہ امّ کلثوم رضی اللّه تعالی عنہ کا نکاح بھی سیدنا عثمان غنی
    رضی اللّه تعالی عنہ سے کر دیا
    دوسری بیٹی سیدہ حضرت ام کلثوم
    رضی اللّه تعالی عنہ کی وفات کے بعد حضور اقدس ﷺ نے فرمایا اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں اور ایک روایت کے مطابق حضور اقدس ﷺ
    نے فرمایا کہ اگر میری دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں ایک کے بعد دوسری سے تمہارا نکاح کردیتا کیونکہ میں تم سے راضی ہوں
    (معجم اوسط،ج4،ص322،حدیث:6116

    عشرہ مبشرہ:
    حضرت ابوموسی’
    اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللّه کے پیارے نبی
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے اس کے دروازے پر رہنے کا حکم دیا،چنانچہ ایک شخص آئے اور انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت بھی سنادو،میں نے دیکھا تو وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔
    پھر ایک اور شخص آئے اور انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اجازت دے دو اور انہیں جنت کی خوشخبری سنادو،میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔
    پھر ایک اور شخص آئے اور انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” ائذَنْ له و بشِّرْه بالجنةِ معها بلاءٌ يٌصيبُه

    اجازت دے دو اور انہیں جنت کی خوشخبری بھی سنادو”اور انہیں آگاہ کرو کہ ان پر ایک مصیبت نازل ہوگی،میں نے دیکھا تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔

    (صحیح بخاری 7097)

    ہجرتِ مدینہ کے بعدمسلمانوں کومیٹھے پانی کی بڑی تکلیف تھی۔ شہرمدینہ میں بئررومہ کے نام سے میٹھے پانی کاایک کنواں تھا جس کا مالک ایک یہودی شخص تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے یہودی مالک کو منہ مانگی قیمت دے کر یہ کنواں خریدلیا اور تمام انسانوں کے لئے وقف کردیاجس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کوجنت کی بشارت دی۔

    ( الترمذی 3703)

    حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ .

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ( ساتھی ) ہے، اور میرے رفیق ( ساتھی ) اس میں عثمان بن عفان ہیں ۔
    (سنن ابن ماجہ 109)

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : "صَعِدَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أُحُدًا ومعهُ أبو بَكْرٍ، وعُمَرُ، وعُثْمانُ، فَرَجَفَ، وقالَ: اسْكُنْ أُحُدُ – أظُنُّهُ ضَرَبَهُ برِجْلِهِ -، فليسَ عَلَيْكَ إلَّا نَبِيٌّ، وصِدِّيقٌ، وشَهِيدانِ.

    ایک روز نبی کریم
    صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے،آپ کے ساتھ
    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے،تو پہاڑ کانپنے لگا،
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احد تھم جاؤ تمہارے اوپر نبی،صدیق اور دو شہید ہیں

    (صحیح بخاری 3699)

    دورِ خلافت: 
    آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ یَکُم محرّم الحرام 24 ہجری کو مَسندِ خِلافت پر فائز ہوئے۔آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت میں اَفریقہ، ملکِ روم کا بڑا عَلاقہ اور کئی بڑے شہر اسلامی سلطنت کا  حصہ بنے۔ 26 ہجری میں مسجدِ حرام کی توسیع جبکہ 29 ہجری میں مسجدِ نَبَوی شریف  کی توسیع  کرتے ہوئے پتھر کے ستون اور ساگوان کی لکڑی کی چھت بنوائی

    جامع القرآن:

    آپ رضی اللّه تعالی عنہ
    کی حیات مبارکہ کا اہم ترین کارنامہ خدمتِ قرآن کے حوالے سے ہے۔ عرب قرآن کو مختلف لہجوں اور قرأتوں سے تلاوت کرتے تھے۔ فتوحات کی وسعت کی وجہ سے یہ سہولت غلط فہمیوں کا باعث ہوسکتی تھی، آپ نے اپنی ’’فراست باطنی‘‘ سے پوری امت کو قرأتِ قریش پر جمع کردیا اور یوں آپ ’’جامع القرآن‘‘کہلائے۔

    وصال مبارک (شہادت): 
    آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ نےبارہ سال خلافت پر فائز رہ کر  18 ذُوالحجۃ الحرام سن 35 ہجری میں بروزِ جمعہ روزے کی حالت میں تقریباً 82 سال کی طویل عمر پاکر نہایت مظلومِیَّت کے ساتھ جامِ شہادت نَوش فرمایا۔

    اللّه پاک ہمیں حضرت عثمان غنی
    رضی اللّه تعالی عنہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرماۓ آمین

    مصنف آزاد کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ ہیں
    @Bilal_1947

  • محنت کشوں کے شب و روز اور ہمارا معاشرہ تحریر: فجر علی

    محنت کشوں کے شب و روز اور ہمارا معاشرہ تحریر: فجر علی

    تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
    ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

    وطن عزیر میں قانون سازی کی حد تک حکومتوں نے محنت کشوں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دے رکھی ہیں تاہم محنت کشوں کا معیار زندگی بہتر بنانے اور ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آج تک ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
    ہمارے ملک میں کارخانوں ، فیکٹریوں اور مختلف اداروں میں یومیہ اجرت اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے محنت کش لوگ جن کے خون پسینے سے قومی ادارے اور صنعتیں چل رہی ہیں کے حالات دگر گوں ہیں۔ متعدد محنت کش گھرانوں کو روٹی ، کپڑا اور مکان جسی بنیادی ضروریات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ صحت اور تعلیم کی سہولیات تو ان کی پہنچ سے دور ہیں ہی پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔
    دنیا میں کون سا ایسا ذی روح ہوگا جس کو زندگی سے پیار نہیں ہوگا یا اس کے دل میں بہتر انداز میں زندگی بسر کرنے کی خواہش نہیں ہوگی۔ کوئی ایسا انسان نہیں ہوگا جو اپنے بچوں کو اعلیٰ مقام پر نہ دیکھنا چاہتا ہو۔ ہر انسان کی یہی چاہت ہوتی ہے کہ اللّٰہ کی تمام نعمتیں اور دنیا کی ساری آسائشیں اس کی اولاد کو میسر ہوں اور اس کی اولاد کا مستقبل روشن ہو۔ ایسی ہی خواہشات محنت کش اور مزدور طبقہ کے افراد بھی رکھتے ہیں۔ مزدور و محنت کش کبھی نہیں چاہتے کی جن مسائل و آفات کا سامنا وہ کر رہے ہیں کل کو ان ہی حالات سے ان کی اولاد دوچار ہو۔
    لیکن بد قسمتی میں پاکستان میں طبقاتی نظام اور انصاف و مساوات کی عدم فراہمی کے باعث غریب و متوسط طبقہ دن بدن غربت و مسائل کے دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے اور طبقہ اشرافیہ دن بدن پھل پھول رہا ہے۔ یہاں کسی کی محنت کا پھل کوئی غاصب کھا رہا ہے اور محکوموں کے سروں پر حکمرانی بھی کی جارہی ہے۔ معاشی ناہمواریوں کے باعث محنت کش و مزدور آئے روز بیروزگاری کا شکار ہوکر بھوک و افلاس کے ڈر سے اپنے بچوں کو دریائوں میں پھینکنے جیسے غیر انسانی افعال پر مجبور ہیں۔خوراک کی کمی اور علاج سے محرومی کے باعث اپنے پیاروں کو تڑپ تڑپ کر موت کے منہ میں جاتا دیکھ رہے ہیں اور کسمپرسی کی زندگی کے باعث کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔
    جس معاشرہ میں ہم رہ رہے ہیں کہنے کو تو مسلم معاشرہ ہے لیکن یہاں غرباء سے غیر انسانی اور امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ معاشرہ میں غربت اور تنگ دستی کے باعث مزدوروں اور محنت کشوں کی خود کشیاں باعث شرم و حزیمت ہیں۔ غربت ، بیروزگاری اور تنگ دستی دنیا کے تمام ممالک میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے لیکن وہاں قوانین پر عملدرآمد اور مخلصانہ حکومتی کوششوں کے باعث ناامیدی اور مایوسی نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے اور طبقاتی نظام کے باعث مایوسی اور ناامیدی جیسے حالات ہیں جو پوری قوم کے لیے باعث تشویش ہیں۔ یہ ناامیدی اور مایوسی ہمارے مستقبل کا گلا دبوچے ہوے ہے۔
    حالیہ بجٹ میں صوبائی و وفاقی حکومتوں نے مزدوروں کی کم سے کم اجرت میں اضافہ کا اصولی و قابل تعریف فیصلہ کیا ہے۔ لیکن مختلف اداروں اور کارخانوں میں کام کرنے والے مزدور عملدرآمد کے منتظر ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ طبقاتی نظام کے خاتمے اور نچلے طبقات کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے ہم سب کو آواز اٹھانی ہوگی۔ حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنا ہوگا۔ مافیاز اور اشرافیہ کے خلاف بغاوت کرنی ہوگی۔

    اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
    کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو
    جس کھیت سے دہقان کو میسر نہیں روزی
    اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

    @FA_aLLi_

  • آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بلوچستان میں مقیم کشمیریوں نے خاصی دلچسپی ظاہر کی: تحریر: حمیداللہ شاہین

    آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں بلوچستان میں مقیم کشمیریوں نے خاصی دلچسپی ظاہر کی: تحریر: حمیداللہ شاہین

    ملک بھر میں خصوصا کشمیر میں آزاد و جموں کشمیر انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہونے کے بعد بالآخر 25 جولائی کو انتخابات ہوئے اور اس انتخابات میں کشمیریوں نے اپنے رائے دہی استعمال کرکے نمائندے چن لئے۔
    25 جولائی 2021 کو کشمیر انتخابات کے پیش نظر بلوچستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں نے بھی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں خاصی دلچسپی ظاہر کی۔
    الیکشن کمیشن نے کوئٹہ ، مستونگ ، سبی ، نصیر آباد ، بارکھان ، قلعہ سیف اللہ اور کیچ اضلاع میں پولنگ اسٹیشن قائم کیے تھے ، لیکن کشمیری ووٹرز نے صرف کوئٹہ اور سبی میں ہی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
    متعلقہ عہدیداروں کے مطابق نصیر آباد ، کیچ ، مستونگ ، بارکھان اور قلعہ سیف اللہ میں پولنگ اسٹیشنوں پر ایک بھی ووٹر نہیں ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اضلاع میں انتخابی عملہ رائے دہندگی کے اختتام تک پولنگ اسٹیشنوں پر موجود رہا۔
    کشمیری پناہ گزینوں جن کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ میں رہتی ہے نے پاک گرلز ہائی اسکول اور گورنمنٹ سینڈیمین ہائی اسکول میں قائم تین پولنگ اسٹیشنوں میں اپنا ووٹ ڈالا۔
    پولنگ کے لئے مقرر سات اضلاع میں سے صرف دو ہی ووٹ ڈال رہے ہیں
    ایل اے 34 جموں کے لئے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 535 تھی ، لیکن ان میں سے 202 نے اپنے ووٹ ڈالے۔
    ریٹرننگ افسر کے اعلان کردہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق ، پاک سرزمین پارٹی کے شاہ عبد اللطیف نے 158 ووٹ حاصل کیے ، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ناصرحسین ڈار نے 12 اور پاکستان پیپلز پارٹی کے زاہد اقبال نے 11 ووٹ حاصل کیے جبکہ باقی ووٹ دوسری جماعتوں کے امیدواروں کو گئے۔ ایل اے 40 وادی کشمیر میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1059 تھی ، لیکن صرف 418 نے اپنا ووٹ کاسٹ ہوئے، جبکہ نو ووٹ مسترد کردیئے گئے۔
    غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سلیم بٹ نے 199 ووٹ حاصل کیے ، جبکہ پیپلز پارٹی کے عامر غفار لون نے 125 اور مسلم لیگ (ن) کے طاہر وانی نے 81 ووٹ حاصل کیے جبکہ باقی ووٹ دوسرے امیدواروں کو گئے۔
    خواتین کی بڑی تعداد اپنے ووٹ کاسٹ نہیں کر سکی کیونکہ وہ ووٹر لسٹ میں اپنے نام تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
    تحریک انصاف ، پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے صوبائی رہنما کوئٹہ میں پولنگ اسٹیشنوں کے باہر موجود رہے۔
    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے پی ٹی آئی کے مقامی رہنماؤں کے ہمراہ ایک پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا۔
    سبی میں صرف چار ووٹ ڈالے گئے۔ ان میں سے ایک ووٹ پیپلز پارٹی کے عامر غفار لون اور دو زاہد اقبال کو ملے ، جبکہ ایک ووٹ مسترد کردیا گیا۔ سبی میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے۔
    صوبائی انتظامیہ نے پولنگ اسٹیشنوں اور اس کے آس پاس کے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے۔
    بلوچستان میں کافی عرصے سے کشمیری شہری رہ رہے ہیں، انکے یہاں پہ اپنے کاروبار اور سرکاری نوکریاں ہیں، بلوچستان میں بیکری کے کاروبار میں کشمیری شہری خاصی شہرت رکھتے ہیں، خاص طور پر پشین، قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ شہر میں کشمیری بھائیوں کے بیکری کا کاروبار مشہور ہے اور انکی مہارت سے پورے بلوچستان کے عوام کے دل کے خاصے قریب ہیں۔

    ٹویٹر: @iHUSB