Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • گلگت بلتستان یا مسائلستان ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    گلگت بلتستان یا مسائلستان ۔ تحریر : روشن دین دیامری

    آپ نے اکثر سنا ہوگا گلگت بلتستان سوزیرلینڈ سے خوبصورت ہے کبھی دنیا کے کسی اور ترقی یافتہ ملک سے تشبیح دی جاتی ہے۔ اب یہ نعرے سن کے ہمارے سادی عوام واہ واہ کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان دس اضلاع اور تین ڈویژن پہ مشتمل علاقہ ہے یہاں کی آبادی تقریبا بیس لاکھ اور ایریا اٹھائیس ہزار مربع کلو میڑ ہے۔ گلگت بلتستان کا جغرافعہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ گلگت بلتستان کی سرحدیں چین روس کی ریاست تاجکستان بھارت کے زیر انتظام علاقوں سے لگتی ہیں۔ گلگت بلتستان جانے کے لیے آپ کے کے ایچ یا بابوسر روڈ کا استعمال کرسکتے ہو۔ اس کے علاوہ چترال سے شندور کے راستے سے بھی جاسکتے ہو۔

    یہ تھا ایک مختصر سا تعارف باقی گلگت بلتستان خوبصورتی کے لحاظ سے بیشک دنیا کے چند ایک علاقوں میں سے ہے۔ لیکن اس علاقے کے باسی اکیسیوں صدی میں بھی بنیادی انسانی ضروریات کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں ۔ میں گلگت بلتستان کے چیدہ چیدہ مسائل آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ مثلا بجلی کا شدید بحران ہے صاف پانی ۔تعلیمی ادارے۔ میڈیکل کالج انجنئنرینگ یونیورسٹی ٹیکنکل کالج انٹرنیٹ صحت کا نظام یہ سب کے سب یا تو ہے ہی نہیں اگر ہے تو ناکارہ ہے۔ اب کچھ سوال اٹھائیں گے کہ گلگت بلتستان کے لوگ بہت پڑھے لکھے ہوتے ہیں آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں تو ان کے تسلی کے لیے عرض کرتا چلوں کہ حضور ہمارے ہاں جن علاقوں میں تعلیم بہتر ہے وہ پرائیویٹ سیکٹر کی وجہ سے ورنہ سرکاری سکول کم بھوت بنگلہ زیادہ لگتے ہیں۔ ایک اہم بات گلگت بلتستان سے شاید ایک فیصد بچہ یونیورسٹی لائف دیکھ سکتا ہے۔ باقی میڑک کے بعد یا تعلیم کو خیرباد کرکے فوج میں بھرتی ہو جاتے ہیں یا علامہ اقبال سے بی اے بی ایڈ کر کے استاد بھرتی ہوجاتے ہیں یا کسی اور ادارے میں۔ چونکہ میں نے پہلے بجلی کی بات کی تھی تو اس پہ آپ کو اس بابت تھوڑی تفصیل دیتا چلوں۔ گلگت بلتستان کو بجلی کی جو ضرورت ہے وہ تقریبا دوسو دس میگاواٹ تک کی ہے۔ اس وقت جو پاور ہوسسزز سرکاری کھاتوں میں ہیں وہ تو اس سے شاید زیادہ بجلی پیدا کر رہے ہوں لیکن حقیقت میں اس وقت گلگت بلتستان میں بیس بیس گھنٹوں کے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے کئی علاقوں میں دو دو دن بعد نمبر اتا ہے۔ اب جب بجلی نا ہو تو ذندگی کے تمام پہیے جام ہوجاتے ہیں بجلی کا ڈاریکٹ لینک تعلیم کے ساتھ صحت کے ساتھ انڈسٹری کے ساتھ ہے انٹرنیٹ کے ساتھ یےاور صاف پانی کے ساتھ ہے۔ گلگت بلتستان کسی ایک شہر میں اگر صاف پانی بجلی انٹرنیٹ صحت اور تعلیم کا نظام موجود نہیں ۔صورت حال اس قدر ابتر ہے کہ گلگت شہر جو کے دارلخلافہ یے وہاں پہ لوگوں کو صاف تو چھوڑو گندہ پانی پینے کو نہیں مل رہا آئے روز جلسے جلوس ہوتے ہیں تو باقی شہروں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ اب یہ مت پوچھنا وہاں اتنے بڑے دریا ہے تو پانی کا مسئلہ کیوں تو یہ نالائقیاں حکمرانوں سے لیکر انتظامیہ سب کی ۔ ہمارے ہاں ایک محکمہ ہیں جس کا کام چور پیدا کرنا جیسے عرف عام میں پی ڈبلیو ڈی کہا جاتا ہے یہ محکمہ اس قدر کرپٹ ہے یہاں سیکٹری سے لیکر منشی تک سب کرپشن کرتے ہیں اب اس ادارے کے حوالے سے کسی اور دن لکھوں گا۔ تعلیم اور صحت معاشرے کے دوبنیادی ستون ہیں لیکن جی بی میں ان دونوں کے حالت قابل رحم ہے ہسپتالوں کے حالت یہ ہے کہ جہاں ڈااکٹر ہے وہاں مشنری نہیں اور جہان مشنری ہے وہاں ڈاکٹر نہیں ۔ہمارے ایک عزیز سرجن ہے ان کا دیامیر ہسپتال میں دو سال ڈیوٹی رہی ان کا کہنا ہے وہ جس شعبے کا ماہر وہاں اس کے بنیادی آلات ہی نہیں تھے مجھ سے میڈکل افسر کا کام لیا گیا ۔باقی تعلیم وہ تو ناپید ہے۔ جو پرائیویٹ فیس افورڈ کر سکتا ہے وہ بچوں کو پڑھاتا ہے ورنہ اکثر و بشتر دیہی سکول میں پڑھنے والے بچے میڑک کرنے کے کے بعد بھی درخواست نہیں لکھ پاتے ہیں ۔اب آپ فیصلہ کریں گلگت بلتستان مسائلستان ہے کہ نہیں ؟

    @rohshan_Din

  • کیا آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں؟  تحریر: ماہا ارشد

    کیا آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں؟ تحریر: ماہا ارشد

    تاہم جب ورزش کرتے ہیں تو کیا محسوس ہوتا ہے؟ ورزش آپ کے عروقی نظام (آپ کے دل اور پھیپھڑوں) کو بہتر بنانے ، صحت مند ہڈیوں ، پٹھوں اور جوڑ کو بڑھانے اور صحت مند وزن برقرار رکھنے میں معاون ثابت کرنے کے لئے سمجھی جاتی ہے۔ متعدد دائمی بیماریوں کو روکنے اور ان کا انتظام کرنے کو بہتر بناتی ہے. ورزش کو اجتماعی طور پر بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے موثر دکھایا گیا ہے ، جیسے پولیجینک بیماری اور امراض قلب۔

    ورزش کے ان فوائد کا شاید آپ نے پہلے ہی پتہ لگا لیا ہو۔ تاہم ، جب آپ ورزش کریں گے تو کیا آپ کا دماغ ترو تازہ محسوس ہوگا؟ کیا کوئی خوشی محسوس ہو گی ؟ کیا نیند آنے میں آسانی ہو گی؟

    ذہنی بیماری
    بالکل اسی طرح جیسے ہم وقتا فوقتا بیمار ہوجاتے ہیں سر درد یا بخار ہونے کے بعد) اس طرح ہمارے دماغ کے اجزاء بھی ہوسکتے ہیں جو ہم محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کی عدم صحت کو ذہنی کیفیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسے "قلبی مرض” جیسے امراض کو متاثر کرنے والی بیماریوں کی وضاحت کے لئے کام کیا جاتا ہے ، آپ ذہنی حالت کے بارے میں سوچیں گے کہ دماغ کو متاثر کرنے والی بیماریوں کی وضاحت کے لئے ایک وسیع اصطلاح ہے۔ ذہنی حالت میں ان حالات کا پھیلاؤ بھی شامل ہے جس کا آپ نے پتہ لگایا ہو ، نیز افسردگی اور اضطراب بھی ، ذہنی حالت کا تجربہ بڑے پیمانے پر بزرگ افراد کے لئے ہوتا ہے ، اس کے نتیجے میں انہیں روزانہ کچھ کرنے کی کوشش کرنے کے لئے صرف کچھ چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے. اور ان کی ذہنی حالت کا سبب بننے والی چیزوں میں کم حرکت اور زیادہ سوچنا شامل ہے. ۔ بزرگ افراد کو ان کی ذہنی حالت سے دور کرنے کے لئے مناسب اقدامات کرنےچاہیے
    نفسیاتی حالت اور ذہنی حالت کے مابین فرق جاننا ضروری ہے۔ آپ کو خراب نفسیاتی حالت کا تجربہ کرنے کیلئے تشخیص شدہ ذہنی حالت کی ضرورت نہیں ہے۔
    جسمانی بیماریوں کی طرح ، ذہنی حالت کا سامنا کرنے والے افراد عام طور پر ورزش میں باہمی روابط رکھنا زیادہ پائیدار محسوس کرتے ہیں اور ، اوسطا ، زیادہ دیر تک غیر فعال (بیٹھنا یا لیٹنا) گزارتے ہیں ، جسے ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ہماری صحت کے لئے غیر صحت بخش ہے۔ ایک بار جب آپ پریشان محسوس کرتے ہیں تو ورزش کریں۔یہاں تک کہ عام آبادی میں بھی ، ورزش کرنے کی ترغیب کم ہے ، جب کہ آبادی کا صرف پچاس حصہ جسمانی سرگرمی کی صلاحی مقدار حاصل کرتا ہے۔ لہذا ، یہ حیرت انگیز نہیں ہے کہ دماغی حالت کے حامل افراد مربع پیمانہ عام طور پر اس سے بھی کم منتقل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

    جسمانی ساخت پر ذہنی حالت کے اثرات
    دماغی بیماری کسی کے روایتی جسمانی کام کو خراب کردے گی۔ اس کے نتیجے میں سنگین جسمانی پیچیدگیوں کے ساتھ ساتھ دباؤ جیسے مسائل بھی ہوں گے۔

    ہائی پریشر
    ذہنی بیماری تناؤ کی شدید سطح کا سبب بنے گی اور دباؤ بڑھائے گی جس
    کے نتیجے میں دل کا فالج اور دماغی ہیمرج ہوسکتا ہے۔

    تھکاوٹ
    ذہنی بیماری تھکاوٹ اور جاگنے کا سبب بنے گی (بے خوابی)

    بھوک میں کمی
    دماغی بیماری کھانے کو کم ہضم کرنے سے پیٹ اور بھوک کو پریشان کرتی ہے

    علاج
    ہمیں فی الحال سمجھنا ہے کہ ورزش مختصر اور طویل دماغی حالتوں میں رہنے والے افراد کی دیکھ بھال کا ایک انتہائی ضروری حصہ ہوگا۔ ورزش موڈ کو بہتر بنائے گی اور ذہنی حالت کی علامات کو کم کردے گی ، نیز افسردگی اور اضطراب کو بھی۔ ورزش سے نیند کا معیار بھی بہتر ہوسکتا ہے ، توانائی کی سطح میں اضافہ اور دباؤ کو کم کیا جاسکتا ہے۔ خود اعتمادی بڑھانے اور ہر میموری اور حراستی کو بہتر بنانے کے لیے ورزش بہت اہم ہے۔ مزید یہ کہ ورزش ان فوائد کی پیش کش کرتی ہے جبکہ مضر اثرات کا خطرہ نہیں ، اگر ورزش کی گولی ہوتی تو ، یہ ہر ایک کے لئے ہر ڈاکٹر کے ذریعہ مریض کو دی جاتی ہے۔

    مشق کا فائد
    حیاتیاتی میکانزم کی شرائط میں ، ورزش کو انور باؤنڈ کیمیکلز میں تبدیلیوں کا سبب دکھایا گیا ہے جن کو انڈورفنز کہا جاتا ہے۔ اینڈورفنز اسکوائر کیمیائی میسینجر کی جانچ پڑتال کرتے ہیں جو پورے مشق میں درد اور تناؤ سے نجات فراہم کرتے ہیں۔ ورزش قزاق سے ڈوپاسٹیٹ ، کیٹکولامین ، اور مونوامین نیورو ٹرانسمیٹرز کے نام سے جانے والے مختلف کیمیکلوں کے خارج ہونے کی ترغیب دیتی ہے … یہ دماغی کیمیکل ہمارے موڈ کو کنٹرول کرنے میں ایک اہم نصف ادا کرتے ہیں۔ در حقیقت ، وہ مربع پیمانہ ہیں.
    ورزش باآسانی کورٹف کے نام سے جانے والے تناؤ کے خاتمہ کی ڈگری کی پیمائش کرنے میں معاون ہوتی ہے ، لہذا ہم کم تناؤ محسوس کرتے ہیں۔
    آخر میں ، ورزش کو متنوع بنائے جانے والے طریق کار کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے
    ورزش کرنے سے اکثر نفسیاتی حالت کو تقویت نہیں ملتی ہے ، تاہم ، اس کے علاوہ جسمانی صحت کے لئے بہت زیادہ مفید ہے

    دورانیہ
    عام آدمی نفسیاتی حالت اور جسمانی خوشحالی کا خیال رکھنے کے لیے آدھے گھنٹہ معیاری ورزش کافی ہے۔ ورزش ایک شخصیت کے مزاج کو تیز کردے گی.
    وقت
    چلنا پھرنا بھی ایک طرح کی ورزش ہے ، صحتمند چہل قدمی خوبصورت نتائج فراہم کر سکتی ہے ، اس سے بھوک اور نیند کو تقویت ملتی ہے ایک شخص کو ہر دن تیس سے چالیس منٹ تک چلنا چاہئے. صبح کے چلنے سے آپ کا موڈ حالیہ ہوجاتا ہے ، توجہ اور تخلیقی سوچ کے ساتھ آپ کی مہارت میں اضافہ ہوگا۔
    روزانہ چلنے اور ورزش کرنے سے صرف نفسیاتی حالت برقرار نہیں رہتی ہے۔ اس سے اعزازی طور پر ذہانت کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے. .

    اگلا قدم
    ان فوائد کے بارے میں جاننا اچھا ہے ، تاہم ، اگر ہم اپنی ذہنی حالت کے علاج کے طریقہ کار کو تبدیل نہیں کرتے ہیں تو یہ یقینی بناتے ہیں کہ ورزش علاج کے ایک حصے کے طور پر منسلک ہے ، تو صرف سائنس ہی کسی کی مدد کرنے کا امکان نہیں ہے۔ اگرچہ اس وقت متعدد ممالک دماغی حالت کے علاج کے ایک حصے کے طور پر ورزش کو مجسم بناتے ہیں ، ہمیں جسمانی اور نفسیاتی حالت کی دیکھ بھال کے مابین تفریق کو توڑنے کے سلسلے میں ایک لمبا سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔ اگرچہ ورزش ادویات یا مختلف علاج کا متبادل نہیں ہے ، لیکن یہ ذہنی حالت کے علاج کا ایک اہم اور مددگار حصہ ہے۔
    ہم نے دماغی حالت کا سامنا کرنے والے افراد کے لئے ورزش کے فوائد کے سلسلے میں کافی بات کی ہے ، تاہم ، ورزش سے متعلق مسئلہ یہ ہے کہ اس سے آپ خود کو زیادہ محسوس کریں گے حالانکہ اگر آپ پہلے ہی ٹھیک محسوس کررہے ہیں تب بھی. ہر ایک خود کو دماغی غیر صحت مند کہیں نہ کہیں پائے گا ، اور یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آپ پاگل نہیں ہیں۔ ورزش کے فوائد کا تجربہ کرنے کے لیے ، ذہنی حالت نازک ہونا ضروری نہیں ہونا چاہئے، ، نارمل آدمی کو بھی ورزش کرنا چاہیے۔ دنیا بھر سے معلومات کو جمع کرنے والے ایک بڑے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش آپ کے ذہنی دباؤ کے امکانات کو ختم کردے گی۔

    @mayajaal12345

  • والدین کا فرض  تحریر: روبینہ سرور

    والدین کا فرض تحریر: روبینہ سرور

    ‏بچوں کی عادات میں والدین کی تربیت کا عکس ہوتا ہے، اس لیے والدیں کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی بہتر تربیت کریں۔
    ‏والدین کے لئے بہت ضروری ہیں کہ وہ اپنے بچوں سے روزانہ کی بنیاد پر ان سے متعلق نرمی سے سوالات پوچھے تاکہ کل جب وہ کبھی ناخوشگوار واقعے کا شکار ہو تو وہ بلاخوف والدین سے بات کر سکے ۔
    والدین کو چاہیے کہ بچوں کو ہمیشہ قرآن پاک احادیث مبارکہ اور نیک لوگوں کے واقعات اور ضروری دینی احکام کی تعلیم دیں جو ان کی بہترین تربیت کے لیے بہت ہی ضروری ہیں۔

    ‎ ‏جب بچے بڑے ہوجائیں اور اُن کی عقل پختہ ہوجائے تو بچوں میں تبدیلی ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتی ہے اسلئے ابتدائی عمر میں چاہیے کہ بچوں کی نگرانی اور ان کی صحیح تربیت کریں


    بچوں کا ذہن صاف وشفاف ہوتا ہے اس میں جو چیز بھی نقش کردی جائے وہ مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے اسی طرح بچپن میں جو بھی چیز ذہن و دماغ میں نقش کر دی جائےوہ پائیدار ہوتی ہے۔


    ‏بچوں کی سہی تربیت سے ایک اعلیٰ معاشرہ وجود میں آتا ہے، والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھے انداز میں تربیت کریں، اور ان کو ہمیشہ وقت دیں۔
    ‏والدین کی لاپرواہی اور نظر اندازی سے بچہ غلط سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتا ہے، جس سے معاشرے میں برائیاں جنم لیتی ہیں۔
    ‏والدین کو چاہیے شروع سے ہی بچوں کو دینی تعلیمات کی طرف راغب کریں۔ اور ان کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔
    ‏ایک اللہ والے کی تربیت اولاد کی تین بنیادی باتیں
    ۱۔ہمیشہ سچ بولنا
    ۲۔نماز کا اہتمام(اچھے سے وضو،وقت پر پورے افعال کے ساتھ)
    ۳۔بزرگوں کی خدمت(والدین،اساتذہ ،بڑوں اورضرورت مندوں کی خدمت)

    انکو پیدا کرنا صرف اسوقت ممکن ہے اگر یہ عادات والدین میں ہوں
    ‏دنیا کی چند روزہ زندگی کے بعد آخرت کی جولامحدود زندگی ہے وہاں کی سرخروئی اور سرفرازی سے خود بھی غافل ہیں اور بچوں کی تربیت میں بھی اس پہلو کو اہمیت نہیں دیتے۔۔
    ‏والدین کی یہ اہم ذمہ داری ہے کے وہ اپنی والاد کی بچپن سے ایسی تربیت کریں کے ان میں دینی شعور پختہ ہو اور بڑے ہوکر وہ زندگی کے جسمیدان میں بھی رہیں ایمان وعمل صالح سے ان کا رشتہ نہ صرف قائم بلکہ مضبوط رہے
    ‏والدین کا فرض ہے کہ بچوں کو شرم وحیاء اور پردے کا درس دیں تاکہ ایک اچھا معاشرہ وجود میں آسکے


    https://twitter.com/rsjanbaz?s=09

    روبینہ سرور

  • جیکب آباد کی عوام ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر  تحریر:عبدالرحمن آفریدی

    جیکب آباد کی عوام ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر تحریر:عبدالرحمن آفریدی

    امن و مان کسی بھی ملک اور علاقے کی ترقی کی ضمانت ہے امن ہو گا تو کاروبا بھی ہوگا اور ترقی بھی سندھ کے ضلع جیکب آباد میں آئے روز چوری اور رہزنی کی وارداتوں کی وجہ سے عوام عد م تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں ڈاکو اور چور دن دیہاڑے دیدہ دلیری سے وارداتیں کرکے آسانی سے فرار ہو جاتے ہیں پولیس نہ ملزمان گرفتار کر سکی ہے نہ ہی مسروقہ سامان برآمد کیا جا سکا ہے صرف ایک ماہ میں چور ی اور رہزنی کی متعدد وارداتیں ہوئی ہیں دلمراد تھانہ کی حدود میں مسلح ڈاکوؤں نے بس کو یرغما ل بنا کر مسافروں نریش کمار سے 24لاکھ اور امیت سے 80ہزار لوٹ کر فرار ہو گئے،جبکہ دن دیہاڑے ڈی سی آفیس روڈ پر دوکاندار سے دو لاکھ65ہزارچھین کر با آسانی فرار ہو گئے حالانکہ چند قدم کے فاصلے پر پولیس ٹاور چوکی واقع ہے اسکے علاوہ سٹی تھانہ کی حدود ساؤنڈ مارکیٹ سے مسلح افراد نے بیوپاری اٹھومل سے تین لاکھ سے زائد نقدی بھری بازار میں چھین کر فرار ہو گئے ڈنگر محلہ میں بینک سے رقم نکلوا کر گھر جانے والے مویشی کے بیوپاری احسان رند سے مسلح افرادنے9لاکھ چھین لئے،سبزی منڈی کے بیوپاری مظفر لاشاری سے ٹیکنیکل کالج کے قریب مسلح افراد نے نقدی اور موبائل فون چھین لیا عید کی چھٹیوں کے دنوں میں لاشاری محلہ سے وکیل طاہر رند کے بھتیجے احسان رند کی گھر کے باہر کھڑی نئی سیڈی موٹر سائیکل چوری ہو گئی اسی طرح سوزوکی اسٹینڈ سے وقار اوستوکے گھر کے باہر سے نئی موٹر سائیکل چوری ہو گئی جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی وائرل ہو ئی لیکن تاحال پولیس ملزمان کا سراغ نہیں لگا سکی ہے پولیس کے ناقص کارکردگی کی وجہ سے عوام مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں پولیس چوری اور رہزنی کی وارداتوں کو روکنے میں بے بس نظر آرہی ہے بدامنی میں اضافے کے خلاف جے یو آئی سمیت دیگر جماعتوں کی جانب سے احتجاجی جلوس نکال کر دہرنے دئے گئے اس کے باوجود پولیس اپنی کارکردگی کو بہتر نہیں کر سکی ہے پولیس میں مداخلت سفارشی پر تقرریاں اور تبادلوں کی وجہ سے پولیس کا مورال شدید متاثر ہوا ہے پولیس بااثر وڈیروں کی جی حضوری میں لگی ہوئی ہے دو سو کے قریب پولیس اہلکار محافظ کے طور پر بااثراور من پسند افراد کے حوالے کئے گئے ہیں ایسے افراد کو بھی پولیس گارڈ دئے گئے ہیں جو اچھی شہریت کے حامل نہیں سود خوروں سمیت جن افرا د پر تھانوں پر حملے کے کیس داخل ہوئے وہ بھی پولیس اہلکار محافظ کے طور پر رکھتے ہیں محافظ بنے پولیس اہلکاروں سے نوکروں کا کام لیا جاتا ہے جو کہ قابل افسوس ہے پولیس قانون کا اطلاق صرف کمزور پر کرواتی ہے جبکہ بااثر قانون کو توڑتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے پولیس دیکھتی رہ جاتی ہے کوئی کاروائی نہیں کرتی،پولیس اس دہرے معیار کی وجہ سے عوام اب پولیس کو اپنا نہیں سمجھتے،پولیس کے معتلق عوام کے ایسے تاثرکو ختم کرنے، امن امان کے قیام،عوام کے اعتماد کی بحالی کے لئے سندھ پولیس میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے سیاسی اور سفارشی بنیاد پر پولیس افسران کی تقرری اور تبادلوں کا سلسلہ بند کرکے میرٹ پر اچھی شہرت کے حامل افسران کو فری ہینڈ دیا جائے تو امن قائم ہو سکتا ہے اور پولیس کا گرتا ہوا مورال بھی بہتر ہو سکتا ہے وفاقی و صوبائی وزیر داخلہ،آئی جی سندھ پولیس،اے آئی جی سکھر اور ڈی آئی جی لاڑکانہ کو اس ضمن میں سخت فیصلے لینا ہونگے بصورت دیگر حالات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔
    تحریر:عبدالرحمن آفریدی
    @journalistjcd
    03337346416

  • جرم،انصاف اور معاشرہ  تحریر:فرح خان

    جرم،انصاف اور معاشرہ تحریر:فرح خان

    "اس عہد ظلم میں میں بھی شریک ہوں جیسے
    مرا سکوت مجھے سخت مجرمانہ لگا”

    ہم سب دوسروں پر تنقید کرنے کے عادی ہیں مگر اپنی اصلاح کی جانب توجہ نہیں دیتے یہ ایک بنیادی خرابی ہے جو ہمارے معاشرے میں ہر برائی کو جنم دے رہی ہے۔
    اگر انسان میں خوف خدا کی صفت پیدا ہوجائے تو ہم برائیوں سے خود بھاگے گے۔

    آئیے دن ہم ایک نئی ظلم کی داستان سن رہے ہوتے ہیں،در حقیقت انصاف اور گرفتاری کے تمام ہیش ٹیگز ہمارے قانونی نظام پر سوالیہ نشان ہیں ،اور اب ان مجرموں کا حوصلہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ خود کو ظاہر کرتے ہوئے وڈیو آپ لوڈ کرتے ہیں، گرفتاری کا خوف ہی نہیں ، سزا کا ڈر نہیں ، شرمندگی کا کوئی احساس نہیں ۔

    فرسودہ تباہ شدہ قانون پہ ان کو مکمل یقین ہے کہ ان کا بال بھیگا نا ہوگا،شوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فورم پہ آواز بلند ہوتی ہے وہ گرفتار ہوتے ہیں اور خود کو ایک سلیبرٹی سمجھ کر فخر سے دھندھناتےہوئے نظر آتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ وہ جوڑ توڑ کریں گے اور انہیں آزاد کردیا جائے گا۔ کچھ دن بعد لوگ بھی بھول جائیں گے اور مخصوص تاریخوں پہ کسی چوک پہ موم بتیاں جلاتے ہوئے نظر آئیں گے۔

    "امجدؔ در نگار پہ دستک ہی دیجئے
    اس بے کراں سکوت میں کچھ غلغلہ رہے”

    وزیر اعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ اس شیطانی کھیل کو ختم کرنے کے لئے سخت اقدام کروائیں ،اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی فتنہ اس کھیل کو بڑھاوا دے رہے ہیں تاکہ لاپروائی اور معاشی برائیوں کا الزام حکومت پہ ڈال سکیں۔
    اس میں لبرلز اور غیر ملکی فنڈنگ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    عدلیہ نظام امن،خوشحال معاشرے کی تخلیق کی بنیاد ہوتا ہے پر یہاں کرپٹ اور مسلسل مجرموں کو آزاد کیا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے ایک ناسور کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے۔
    اس نظام پہ جلد توجہ کی ضرورت ہے۔

    تمام انسانوں کو کسی رنگ و نسل ، ذات پات کی تمیز رکھے بغیر انصاف مہیا کیا جائے اور معاشی نظام میں کسی تفریق کے بغیر سب کو برابر سے حقوق ملیں تو اس معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔

    مثبت نتائج کے لیے اپنی ذات سے اصلاح کا کام شورع کریں تو برائیوں پر اچھائیاں حاوی ہو جائیں گی ۔عمدہ مثالی معاشرے کے لیے؛

    ●معاشرے میں انصاف کے لئے اقدامات کیے جائیں۔
    ●افراد کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔
    ●سزاؤں کا نفاذ کیا جائے تاکہ دوسرے افراد عبرت حاصل کریں اور برائی جڑ نہ پکڑ سکے۔
    ●اسکول،نصاب اور والدین پر سخت ذمہ داری ہے اس لیے وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت نا کریں۔
    ●معاشرہ کو خلوص، محبت،انسانیت اور خدمت سے سنوارا جائے۔

    قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے کہ
    "برائی سے روکو اور نیکی کا حکم دو۔”

    #JusticeForNaseemBibi #JusticeForNoormukadam #JusticeForQuratulainAnnie #JusticeforSaima #JusticeForWishah #JusticeforAndaleeb
    #JusticeForKhadija
    #JusticeForAsifa
    #JusticeForZainab
    #ArrestAbdulSalamDawood
    #ArrestUsmanMirza

    اور اس طرح کئی کیس ہمارے سامنے ہیں،ہمارا معاشرہ خاکی کشکول لیے کھڑا ہے جس میں اچھائیوں،نیکی،انصاف اور حقوق کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ان سب واقعات سے بچنے کے لیے اللہ کرے ہم جلد منظم فضا قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔آمین

    @MastaniFarah

  • ويسٹ انڈيز ميں پاکستان ٹيم کا کيا ہوگا تحریر: سلطان محمود خان

    ويسٹ انڈيز ميں پاکستان ٹيم کا کيا ہوگا تحریر: سلطان محمود خان

    پاکستان اور ويسٹ انڈيز کے درميان ٹي ٹوئنٹي سيريز آج سے شروع ہورہي ہے مگر اب بھي ايسے بہت سے مسائل ہيں جن کا سامنا ہيڈ کوچ مصباح الحق اور کپتان بابراعظم کو ہے۔ سب سے بڑا مسلہ تو مڈل آرڈر کي ناکامي ہے۔ ٹي ٹوئنٹي ورلڈ کپ سر پر ہے مگر مڈل آرڈر ہے کہ چلنے کا نام ہي نہيں لے رہا۔ دورہ جنوبي افريقہ اور زمبابوے ميں ٹيم منجمنٹ نے کئي تجربے کيے مگر سب بےکار گئے۔ افتخار احمد، خوشدل شاہ، آصف علي، دانش عزيز، حيدرعلي، حسين طلعت، محمد حفيظ سب کو آزما ليا مگر کوئي فائدہ نہيں ہوا۔ يہاں تک کہ اوپنر فخرزمان اور شرجيل خان کو بھي نمبر تين اور چار پر کھلايا مگر وہ بھي فيل ہوئے۔ سرفراز احمد کو موقع ديا کہ شايد ان کا تجربہ ٹٰيم کے کام آئے مگر وہ بھي مڈل آرڈر کا خلا پُر نہ کرسکے۔ پي ايس ايل ميں عمدہ کارکردگي نے صہيب مقصود پر پانچ سال بعد قومي ٹيم کے دروازے کھولے مگر صہيب کا رنز اگلتا بلا انگلينڈ کے سامنے خاموش رہا۔ اعظم خان کو بھي چانس دے ديا مگر نتيجہ وہي صفر، آخر مسلہ کيا ہے؟ کيوں مصباح اور بابر کمبي نيشن بنانے ميں ناکام ہو رہےہيں؟ دورہ جنوبي افريقہ ميں پاکستان کو جنوبي افريقہ کي ”بي” ٹيم نے ايک ميچ ہرايا وہ ٹيم جو اپنے دس اہم کھلاڑيوں سے محروم تھي۔ فاف ڈوپلسي، ڈي کوک، ڈيوڈ ملر، وين ڈر ڈسن، کاگيسو رباڈا، اينرچ نورکيا، لونگي نگيدي، ٹمبا باووما، ريزا ہينڈرکس اور ڈيوئن پريٹوريس يہ سب پاکستان کے خلاف ٹي ٹوئنٹي سيريز کا حصہ نہيں تھے۔ مگر پھر بھي پاکستان حريف ٹيم کو وائٹ واش نہ کرسکا اور گرتے پڑتے سيريز اپنے نام کي۔ زمبابوے ميں بھي ايسا ہي ہوا پاکستان ٹيم معمولي 119 رنز کا تعاقب نہ کرپائي اور يوں تاريخ ميں پہلي بار زمبابوے نے پاکستان کو ٹي ٹوئنٹي ميچ ميں شکست دي۔ پاکستان ٹيم انگلينڈ گئي تو راتوں رات انگلينڈ کي پوري ٹيم بدل گئي پھر بھي پاکستان نہيں جيت سکا اور انگلينڈ کي ”بي” نے پاکستان کو ون ڈے سيريز ميں وائٹ واش کيا۔ پے در پے شکستوں نے پاکستان ٹيم پر سواليہ نشان لگاديا ہے۔ يواے اي ميں ہونے والے ميگا ايونٹ کيلئے مصباح اينڈ کمپني کي کوئي تياري نہيں، کيا بڑے ٹورنامنٹ ايسے جيتے جاتے ہيں ؟ کيا تيارياں ايسے ہوتي ہيں؟ جہاں انگلينڈ اور بھارت اپني دو دو ٹيموں کے ساتھ انٹرنيشنل ميچز کھيل رہا ہے وہاں پاکستان کے پاس ايک ٹيم نہيں جو انگلينڈ کي ”بي” کا مقابلہ کرتي۔ انگلينڈ سے خالي ہاتھ ويسٹ انڈيز جانے والي بابراليون کيا ورلڈ چيمپين کو شکست دے پائے گي؟ وہ ويسٹ انڈيز جس نے آسٹريليا کو ٹي ٹوئنٹي سيريز ميں چار ايک سے ہرايا، جس ميں کرس گيل، کيرن پولارڈ، نکولس پورن، شمرون ہٹ مائر، آندرے رسل سميت دنيا کے بڑے بڑے ہٹرز موجود ہيں۔ ايسے ميں پاکستان کا کيا ہوگا؟ شائقين کرکٹ کے ذہنوں ميں ايک ہي سوال ہے جو ٹيم جنوبي افريقہ اور انگلينڈ کي ”بي” ٹيموں سے ہار گئي کيا وہ ويسٹ انڈيز کي اس ٹيم کو ہرانے کي صلاحيت رکھتي ہے؟ کپتان بابراعظم نے ايک بار اٹيکنگ کرکٹ کھيلنے کا اعلان کيا ہے مگر کيا پاکستان جديد دور کي اٹيکنگ کرکٹ کھيلنے کي صلاحيت رکھتا ہے؟ يا ہم اب بھي نوے کي دہائي ميں پھنسے ہوئے ہيں؟ کيا بابراعظم اور محمد رضوان بطور اوپنر اٹيکنگ کرکٹ کھيلنے کي اہليت رکھتے ہيں؟ کيا شرجيل خان اور فخر زمان کو مڈل آرڈر ميں کھلانا ٹھيک ہے؟ کيا چار اوپنرز کو ايک ساتھ کھلانا ٹھيک ہے؟ کيا شاداب خان کو ہر ميچ کھلانا لازمي ہے؟ يہ وہ سوالات ہے جو مجھ سميت تمام شائقين کرکٹ اور تجزيہ کاروں کے ذہينوں ميں ہيں مگر ان کا جواب شايد ٹيم منجمنٹ کے پاس بھي نہيں، ليکن اگر پاکستان ٹيم ويسٹ انڈيز ميں بھي ناکام ہوئي تو کيا ہوگا؟ بابراعظم اور رضوان کے علاوہ کسي نے رنز نہ کيے تو کيا ہوگا؟ مڈل آرڈر پھر فيل ہوا تو کيا ہوگا؟ کيا شعيب ملک کو واپس لايا جائے گا؟ کيا مصباح الحق کو عہدے سے ہٹايا جائے گا؟ ٹي ٹوئنٹي ورلڈ کپ سر پر ہے مگر ٹيم منجمنٹ کے پاس کسي سوال کا جواب نہيں، اميد کرتے ہيں کہ ورلڈ کپ سے قبل مصباح اور بابر کو تمام سوالوں کے جوابات مل جائيں ورنہ ناکامي ايک بار پھر شاہينوں کا مقدر بنے گي

  • کرونا وائرس ایک عالمی وباء ہے     تحریر:  سلمان الیاس

    کرونا وائرس ایک عالمی وباء ہے تحریر: سلمان الیاس

    اور یہ وباء آج کل پھر دنیا بھر میں سر اٹھا رہی ہے۔خاص کر پاکستان میں چھوتا لہر شروع ہو چکا ہے جو پہلے والے سے انتہائی خطرناک ہے ۔اور پریشان کن بات یہ ہے پاکستان میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے

    اس سے پہلے تیسرا لہر بھی انتہائی خطرناک تھا ۔جس نے دنیا میں تباہی مچائی تھی پر الحمد للہ پاکستانی عوام نے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ۔احتیاط سے کام لیا اور اس وباء پر قابو پالیا گیا تھا۔تیسری لہر کا دنیا کے کچھ ترقی یافتہ ممالک پر اثرات کے کچھ مناظر میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

    ‎کینیڈا نے باہر سے آنے اور جانے والی پروازوں پر پابندی عائد کردی تھی ، اور اس کے باوجود روزانہ اموات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر جاتی تھی

    ‎ تنزانیہ مکمل طور پر بند تھا۔

    ‎ برازیل ایک مشکل ترین وقت میں پڑ گیا تھا، جہاں ایک دن میں 4،100 سے زیادہ اموات ہوتی تھی۔

    ‎ برطانیہ نے ایک ماہ کےلئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔

    ‎ فرانس 2 ہفتے کے لئے بند تھا۔ جرمنی 4 ہفتوں کے لئے سیل کر دی گئی تھی۔

    ‎ ان تمام ممالک نے تصدیق کی تھی کہ تیسری لہر پہلی اور دوسری لہر سے کہیں زیادہ مہلک ہے۔ لیکن اس کے باوجود الحمدللہ پاکستان میں نہ لاک ڈاؤن لگا دیا تھا اور نہ ہی دوسرے ممالک کی طرح پابندیاں لگائی گئی تھی پھر بھی ہم نے قابو پالیا تھا

    ‎ اس خطرناک وباء پر قابو پانے پر پوری دنیا نے ہماری تعریف بھی کی تھی اور "ڈبلیو ایچ او ” نے کئی ممالک کو ہماری مثال دیکر ہماری پیروی کرنے کو بھی کہاں تھا جو کہ ہمارے لئے اعزاز اور فخر کی بات ہے
    ‎ وہ اسلئے کہ ہم نے احتیاطی تدابیر اختیار کی تھی ۔

    اب بھی ہم لوگوں کو ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ۔حکومتی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا چاہے اور ویکسینیشن جتنی جلدی ہوسکتا ہو کروالے کیونکہ ویکسین کے بارے میں جو افواہے گردش کر رہی ہے سراسر غلط ہے۔اس میں کوئی سچائی نہیں ہے میں خود پہلا ڈوز لگواچکا ہو اور دوسرا بھی انشاءاللہ کچھ دنوں تک لگ جائے گی

    اور جو لوگ یہ افواہے پھیلا رہے ہے انکے بارے میں معلوم کرے تو وہ بھی آپ کو ویکسینیشن سنٹر کے باہر قطار میں کھڑے ملیں گے۔کیونکہ انکو بھی پتہ ہے اس وباء کی سنگینی کا پر عادت سے مجبور ہے انہی لوگوں نے پہلے بھی افواہ پھیلائی تھی کہتے تھے کرونا جھوٹ ہے اور موت اپنی مقررہ وقت پر اتا ہے اور ابھی کہتے ہے ویکسین لگوانے سے مر جاؤگے ۔یہ لوگ خود شش وپنج میں ہے انکو خود بھی پتا نہیں ہم کیا بول رہے ہیں۔

    اس لئے اپنے آپ پر اور اپنے پیاروں پر رحم کرکے تمام حکومتی احتیاطی تدابیر پر سختی سےعمل کرے ۔خود کو بھی تکلیف سے بچائے اور دوسروں کو بھی جو کہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے

    اللہُ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے پیارے ملک پاکستان کو ہر شر سے اپنی حفظ و امان میں رکھے "آمین ”

    🌷خوش رہے اور خوشیاں بانٹھے یہی اصل زندگی ہے🌷

    ٹویٹر
    ‏ @Salmanjani12

  • ڈیلٹا ویرئینٹ تحریر:  محسن ریاض

    ڈیلٹا ویرئینٹ تحریر: محسن ریاض

    ابھی عید کو گزرے چنددن ہی ہوئے ہیں اور ایک نئی بلا نے سر اٹھا لیا ہے – آج کورونا کے کیسز میں انتہائی تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کراچی میں اس کی شرح تیس فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے این سی او سی نے اس بات کے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ڈیلٹا ویرینٹ پاکستان میں اضافے کا سبب بن رہا ہے جبکہ اس بات کا مکمل ثبوت موجود ہے کہ کافی عرصے سے یہ ویرینٹ پاکستان میں موجود ہے ۔سندھ حکومت نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا اور بدقسمتی سے سندھ میں کرونا کے تمام پازٹیو ٹیسٹ ڈیلٹا ویرینٹ کے ہی ہیں اب تک پائے جانے والے تمام ویرینٹ میں سے اسے سب سے زیادہ تباہ کن مانا جاتا ہے کیونکہ اس نے انڈیا میں جو تباہی مچاہی ہے اس کے بارے میں سن کر ہی رونگٹے کھڑے کو جاتے ہیں انڈیا میں ایک دن کے اندر لاکھوں کی تعداد میں لوگ ااس میں مبتلا ہونے لگے تھے اور ہسپتالوں کے اندر جگہ نہ تھی بلکہ اس کی تباہی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ لوگوں کو جلانے کے لیے شمشان گھاٹ میں بھی جگہ تنگ پڑ گئی تھی اور شمشان گھاٹوں کے باہر کوگوں کی لمبی لائن ہوتی تھی جو اس بات کا انتظار کر رہے ہوتے تھے کہ باری آنے پر اپنے پیاروں کی نعش کو جلا سکیں سندھ حکومت نے اس حوالے سے عملی اقدامات اٹھانے کا اعلان بھی کر دیا ہے اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر سندھ حکومت نے سوموار سے تمام سکولوں کو بند کرنے کیا ہے صرف جن طلبا کے امتحانات ہو رہے وہ معمول کے مطابق کھلے ہیں اس کی علاوہ ایک اور احسن کام یہ کیا ہے کہ پی ٹی اے اور این سی او سی کو ایک مراسلہ بھیجنے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے جس میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ جن افراد نے ویکسین نہیں لگوائی ان کے سم کارڈ بند کر دئیے جائیں اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو بھی اس بات سے مشروط کیا ہی کہ ویکسین کروانے والے افراد ہی وصول کر سکیں گے-عید کے اجتماعات کے علاوہ مویشی منڈیوں میں شدید رش دیکھنے کو ملا جس کی وجہ سے اس بات کا اندیشہ ہے کہ چوتھی ویو آ سکتی ہے کیونکہ ان جگہوں کوئی ایک بھی فرد ایسا نہیں دیکھا گیا جس نے ایس او پیز کی پابندی کر رکھی ہو اور مویشی بیچنے والے زیادہ تر ایسے افراد ہی ہوتے ہیں جو کم پڑھے لکھے ہوں اور ان کا دیہاتوں سے تعلق ہوتا ہے اس لیے انہیں اس حوالے سے آگاہی نہیں ہوتی اور وہ نہیں سمجھتے کہ وہ وبا کے پھلاؤ میں حصہ ڈال رہے ہیں مگر اصل حیرت کی بات تو یہ تھی کہ پڑھا لکھا طبقہ بھی وائرس کے پھیلاو میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈال رہا تھا کیونکہ عید کی نماز کے بعد کئی ایسے افراد کو بھی دیکھا جو دوایتی طریقے سے تین بار گلے مل کر عید کی مبارک پیش کر رہے تھے اور اس بات سے ہی منکر تھے کہ کورونا اصل میں موجود ہے بلکہ اس کو امریکا اور بل گیٹس کی ملی بھگت قرار دے رہے تھے پنجاب حکومت اس حوالے سے بالکل خاموش ہے کسی قسم کے اقدامات کے بارے میں نہیں سوچا گیا-بزدار حکومت بے ابھی تک ایسے کوئی اقدامات نہیں کئے جن سے ان کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکے بلکہ اس کو زیادہ تر سیاسی پوائنٹ سکورننگ کرت ہی دیکھا گیا ہے اس کے علاوہ کشمیر الیکشن میں بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں نے کورونا کو نظر انداز کیا ہے بلکہ مجھے پیپلز پارٹی پر اور ان کے دوہرے معیار پر اس سے بھی زیادہ حیرت ہوئی کیونکہ سندھ میں تو انہوں نے کورونا کو قابو کرنے کے اقدامات کیے مگر یہاں پر ایسا لحاظ نہیں رکھا گیا بلکہ بقول حلیم عادل شیخ کے پیسوں سے بھرے جہاز کشمیر کو فتح کرنے کے لیے روانہ کیے گئے اگر خدانخواستہ ڈیلٹا ویرینٹ انڈیا کی طرح تباہی مچاتا ہے تو ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو گا کہ اپنے پیاروں کو اپنے سامنے ایڑیاں رگڑتے ہوئے دیکھیں اس لیے ضروری ہے کہ اپنے تمام رشتہ داروں کو آمادہ کرئیں کہ وہ ویکسین لگوائیں اور حکومت سے بھی اپیل ہے کہ اس ویرینٹ کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں تاکہ اس عفریت سے بچا جا سکے

    ٹویٹر-mohsenwrites@

  • ڈرٹی گیمز، عمران خان اور الیکشنز 2023 تحریر: نویداختربھٹی

    ڈرٹی گیمز، عمران خان اور الیکشنز 2023 تحریر: نویداختربھٹی

    جب نوازشریف کو باہر بھیجا گیا تو قریب سب انصافینز نے اچھا خاصا شور مچایا۔ مجھے کئی دوستوں نے طعنے بھی دیے لیکن میں نے خاموشی اختیار کی اور مؤقف اختیار کیا کہ اس پالیسی کے نتائج چند سال بعد سامنے آئیں گے۔
    پہلے تین صوبے، پھر گلگت بلتستان اور اب کشمیر میں نتائج دیکھ کر یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر نوازشریف کو نااہلی کے بعد واقعتاً جیل کے اندر ہی رکھا جاتا تو اپنی سزا پوری کرنے کے بعد اس بندے نے ایک ایسی بلا بن کر باہر نکلنا تھی جسے اگلے چالیس سال تک اقتدار سے الگ کرنا نا صرف مشکل ہوجاتا بلکہ ناممکنات میں تصور کیا جاتا۔ سات سال کی سزا کا مطلب ہے ساڑھے تین سال۔ ساڑھے تین سال کا مطلب ہے کہ الیکشن 2023 سے تقریباً ڈیڑھ سال پہلے باہر آجانا۔۔۔یعنی شیر کو بھوکا رکھ کر چھوڑنے والی بات تھی۔
    اپنے مفادات کیلئے بھارت، یورپ اور امریکہ کیلئے نوازشریف سے بہتر اب تک بھی کوئی کھلاڑی نہیں رہا۔ کشمیر کے الیکشنز تک نوازشریف کشمیریوں کا بھی کسی حد تک ہیرو رہا ہے لیکن عمران خان نے مسٔلہ کشمیر کو جس طرح عالمی منظر نامے پر زندہ کیا ہے یہ دنیا کیلئے حیران کن تھا کیونکہ دنیا یہ فرض کرکے بیٹھی ہوئی تھی کہ پاکستان کشمیر کے حق سے دستبردار ہوچکا ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کیلئے واشگاف الفاظ میں بولنا، اس کی آزادی اور استصواب رائے پر بابنگِ دہل بیانات دینا ایک اس کمزور ترین خارجہ پالیسی والے حکمران کے منہ سے حیران کن تھا جو پالیسی اسے اسی کے سابق حکمران ورثے میں دے گئے تھے۔
    18 جولائی 2017 میں سہہ پہر کے وقت جب سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اقامہ کیس پر نوازشریف کو نااہل کیا تو موجودہ وزیراعظم عمران خان ‘ڈرٹی گیمز’ کی بُو اسی وقت سونگھ گئے تھے لیکن انہوں نے پوری قوم کے ساتھ مل کر اس نااہلی کا جشن منایا اور انہیں افسوس اس بات کا تھا کہ پاناما کیس ابھی بھی حل طلب تھا۔ جے آئی ٹی کے والیم 10 کو بھی نا کھولنا کسی ایسی گیم کا حصہ تھا یا شاید ابھی بھی ہے، جس کے نتائج کا علم صرف انہیں کو ہی پتا ہے جو قوم کو اس دلاسے پر خوش فہمی میں مبتلا رکھے ہوئے ہیں کہ اس کے اندر شریف فیملی کے متعلق ایسے ایسے انکشافات ہیں کہ اگر اسے ایک بار کھول دیا گیا تو یہ خاندان کبھی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔
    ڈرٹی گیمز کھیلنے والے اپنا کھیل کھیل رہے ہیں اور عمران خان اس سیاسی شطرنج کی بساط پر اپنی چالیں چال رہے ہیں جن میں سب سے بڑی چال 50 روپے کے اشٹام پر نوازشریف کو علاج کیلئے لندن جانے کی اجازت دینا ہے اور یہ اجازت ریاست کی سب سے بڑی عدلیہ نے دی تھی۔ عوام آج بھی اسی غلط فہمی میں ہیں کہ یہ سب انہوں نے کیا جو اس کھیل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں لیکن شاید وہ یہ بھول رہے ہیں کہ اس کھیل کا سب سے بڑا کھلاڑی اب عمران خان بن چکا ہے اور اس نے مریم نواز کو ضمانت دلوا کر جہاں ایک طرف اسے عورت ہونے کا فائدہ دیا اور عوام کی ہمدردی حاصل کی وہیں دوسری طرف نوازشریف کو لندن بھجوا کر اسے پاکستانی سیاست سے دور کرنے کیلئے اس سے چند ایسے لوگوں کے ذریعے نوازشریف کے منہ سے ایسی تقریریں کروا دیں جن کی سمجھ شاید نوازشریف کو آج بھی نا آرہی ہو۔ سپریم کورٹ نے ان تقاریر کی بنیاد پر نوازشریف کی قومی میڈیا پر تقریر کو بین کردیا گیا۔ آہستہ آہستہ اس قوم کی یاداشت سے نوازشریف کو نکالنے کا عمل شروع کیا گیا تو دوسری طرف مریم نواز کو ایسے ایجنڈے پر کام کیلئے چنا گیا جس سے صرف اور صرف (ن) لیگ کو ہی نقصان ہوا اور آج (ن) لیگ پورے پاکستان میں اپنی موت نہیں مری بلکہ مریم نواز کے ہاتھوں مروائی گئی ہے۔
    مجھے سلیم صافی کی ایک ٹی وی پروگرام میں کہی گئی بات اکثر ذہن میں آجاتی ہے کہ عمران خان دنیا کا اس وقت ذہین ترین سیاستدان ہے۔ نوازشریف اور زرداری اس کے سامنے معمولی سی حیثیت بھی نہیں رکھتے۔
    الیکشن 2023 میں پاکستان تحریکِ انصاف الیکشن 1997 والا جھرلو پھیرے گی اور اس بار یہ جھرلو شفاف ترین الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے پھرے گا۔ یہ عوامی جھرلو ہوگا جو انشاءاللّٰہ نئے نظام کیلئے ایسا رستہ ہموار کردے گا جو پچھلے تمام راستوں کو بند کرکے اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازیوں کو بھی بیرکوں تک لے جائے گا۔
    ابھی بھی اگر کوئی یہ کہے کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی تو اسے باؤلے کتے کے کاٹے کا ٹیکہ لگوانا بنتا ہے۔

  • عبادت۔۔۔۔پوری زندگی میں بندگی تحریر: محمد معوّذ

    عبادت۔۔۔۔پوری زندگی میں بندگی تحریر: محمد معوّذ

    اصل حقیقت یہ ہے کہ اللّٰه نے جس عبادت کے لیے آپ کو پیدا کیا ہے اور جس کا حکم آپ کو دیا ہے وہ کچھ اور ہی چیز ہے ۔ وہ عبادت یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی میں ہر وقت ہر حال میں خدا کے قانون کی اطاعت کریں اور ہر اس قانون کی پابندی سے آزاد ہو جا ئیں جو قانون الہی کے خلاف ہو ۔ آپ کی جنبش اس حد کے اندر ہو جو اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مقر کی ہے ۔ آپ کا ہر فعل اس طریقے کے مطابق ہو جو اللّٰه تعالیٰ نے بتادیا ہے ۔ اس طرز پر جو زندگی آپ بسر کریں گے وہ پوری کی پوری عبادت ہوگی ۔ ایسی زندگی میں آپ کا سونا بھی عبادت ہے اور جاگنا بھی، کھانا بھی عبادت ہے اور پینا بھی ، چلنا پھرنا بھی عبادت ہے اور بات کرنا بھی حتی کہ اپنی بیوی کے پاس جانا اور اپنے بچے کو پیار کرنا بھی عبادت ہے ۔ جن کاموں کو آپ بالکل دنیاداری کہتے ہیں وہ سب دین داری اور عبادت میں اگر آپ ان کو انجام دینے میں اللّٰه کی مقررکی ہوئی حدوں کا لحاظ کر لیا کریں اور زندگی میں ہر ہر قدم پر یہ دیکھ کر چلیں کہ اللّٰه کے نزدیک جائز کیا ہے اور ناجائز کیا ؟ حلال کیا ہے اور حرام کیا ؟ فرض کیا چیز کی گئی ہے اور منع کس چیز سے کیا گیا ہے ؟ کس چیز سے اللّٰه خوش ہوتا ہے اور کس سے ناراض ہوتا ہے مثلا آپ روزی کمانے کے لیے نکلتے ہیں ۔ اس کام میں بہت سے مواقع ایسے بھی آتے ہیں جن میں حرام کا مال کافی آسانی کے ساتھ آپ کو مل سکتا ہے ۔ اگر آپ نے اللّٰه سے ڈرکر وہ مال نہ لیا اور صرف حلال کی روٹی کما کر لائے تو جتنا وقت آپ نے روٹی کمانے پر صَرف کیا یہ سب عبادت تھا اور یہ روٹی گھر لاکر جو آپ نے خود کھائی اور اپنی بیوی بچوں اور خدا کے مقرر کیے ہوئے دوسرے حق داروں کو کھلائی ، اس سب پر آپ اجروثواب کے مستحق ہو گئے ۔ آپ نے اگر راستہ چلتے میں کوئی پتھر یا کانٹا ہٹادیا ، اس خیال سے کہ اللّٰه کے بندوں کو تکلیف نہ ہو تو یہ بھی عبادت ہے ۔ آپ نے اگر کسی بیمار کی خدمت کی ، یا کسی اندھے کو راستہ چلایا ، یا کسی مصیبت زدہ کی مدد کی ، تو یہ بھی عبادت ہے ۔ آپ نے اگر بات چیت کرنے میں جھوٹ سے غیبت سے بدگوئی اور دل آزاری سے پرہیز کیا ، اور اللّٰه سے ڈر کر صرف حق بات کی تو جتنا وقت آپ نے بات چیت میں صَرف کیا وہ سب عبادت میں صَرف ہوا ۔
    پس اللّٰه کی اصلی عبادت یہ ہے کہ ہوش سنبھالنے کے بعد سے مرتے دم تک آپ اللّٰه کے قانون پر چلیں اور اس کے احکام کے مطابق زندگی بسر کریں ۔ اس عبادت کے لیے کوئی وقت مقر نہیں ہے ، یہ عبادت ہر وقت ہونی چاہیے ۔ اس عبادت کی کوئی ایک شکل نہیں ہے ، ہر کام اور ہرشکل میں اسی کی عبادت ہونی چاہیے ۔ جب آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں فلاں وقت خدا کا بندہ ہوں اور فلاں وقت اس کا بندہ نہیں ہوں ، تو آپ یہ بھی نہیں کہ سکتے کہ فلاں وقت اللّٰه کی بندگی عبادت کے لیے ہے اور فلاں وقت اس کی بندگی و عبادت کے لیے نہیں ہے۔ بھائیو ! آپ کوعبادت کا مطلب معلوم ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ زندگی میں ہر وقت ہر حال میں اللّٰه کی بندگی و اطاعت کرنے کا نام ہی عبادت ہے ۔ اب آپ پوچھیں گے کہ یہ نماز ، روزہ اور حج وغیرہ کیا چیز ہیں ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دراصل یہ عبادتیں جو اللّٰه نے آپ پر فرض کی ہیں ، ان کا مقصد آپ کو اس بڑی عبادت کے لیے تیار کرنا ہے جو آپ کو زندگی میں ہر وقت ہر حال میں ادا کرنی چاہیے ۔ نماز آپ کو دن میں پانچ وقت یاد دلاتی ہے کہ تم اللّٰه کے بندے ہو ، اس کی بندگی تمھیں کرنی چاہیے ۔ روزہ سال میں ایک مرتبہ پورے ایک مہینے تک آپ کو اس کی بندگی کے لیے تیار کرتا ہے ۔ زکوۃ آپ کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ یہ مال جو تم نے کمایا ہے کہ اللّٰه کا عطیہ ہے ، اس کو صرف اپنے نفس کی خواہشات پر صَرف نہ کرو ، بلکہ اپنے مالک کا ادا کرو ۔ حج دل پر اللّٰه کی محبت اور بزرگی کا ایسا نقش بڑھاتا ہے کہ ایک مرتبہ اگر وہ بیٹھ جائے تو تمام عمر اس کا اثر دل سے دور نہیں ہوسکتا ۔ ان سب عبادتوں کو ادا کرنے کے بعد اگر آپ اس قابل ہو گئے کہ آپ کی ساری زندگی اللّٰه کی عبادت بن جائے تو بلاشبہ آپ کی نماز نماز ہے اور روزہ روزہ ہے ، زکوۃ زکوة ہے اور جج ہے لیکن اگر یہ مقصد پورا نہ ہو تو رکوع اور سجدہ کرنے اور بھوک پیاس کے ساتھ دن گزارنے اور حج کی رسمیں ادا کر دینے اور زکوۃ کی رقم نکال دینے سے کچھ حاصل نہیں ۔ ان ظاہری طریقوں کی مثال تو ایسی ہے جیسے ایک جسم ، کہ اگر اس میں جان ہے اور وہ چلتا پھرتا اور کام کرتا ہے تو بلاشبہ ایک زندہ انسان ہے ۔ لیکن اگر اس میں جان ہی نہیں تو وہ ایک مردہ لاش ہے ۔ مردے کے ہاتھ پاؤں ، آنکھ ناک سب ہی کچھ ہوتے ہیں مگر اس میں بس جان نہیں ہوتی ، اس لیے تم اسے مٹی میں دبا دیتے ہو ۔ اسی طرح اگر نماز کے ارکان پورے ادا ہوں ، یا روزے کی شرطیں پوری ادا کر دی جائیں مگر خدا کا خوف ، اس کی محبت اور اس کی وفاداری و اطاعت نہ ہو جس کے لیے نماز اور روزہ فرض کیا گیا ہے تو وہ بھی ایک بے جان چیز ہوگی ۔
    اللّٰه تعالیٰ ہمیں تقویٰ اور پرہیزگاری سے زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    (آمین یارب العالمین)

    @muhammadmoawaz_