Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • فلائٹس بندش، کرونا کی چوتھی لہر اور بےروزگاری تحریر :صائم ابراہیم ملک

    فلائٹس بندش، کرونا کی چوتھی لہر اور بےروزگاری تحریر :صائم ابراہیم ملک

    جیسا کے ہم سب جانتے ہیں اس وقت پوری دنیا سمیت پاکستان بھی کرونا وائرس جیسی وبا کا شکار بن چکا ہے اور اس وبا نے جہاں ترقی یافتہ ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہیں ترقی پذیر ممالک کو بھی اس وبا نے بے حد متاثر کیا ہے لیکن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے پاکستانی کے حالات باقی ترقی یافتہ ممالک سے قدرے بہتر رہے ہیں اور اس سب کا کریڈٹ حکومت وقت کو جاتا ہے کیوں کے بروقت اقدامات کیے جانے کی وجہ سے پاکستان کو دیگر ممالک جیسی صورتحال سے ہمکنار نہیں ہونا پڑا چائنہ کے شہر وہان سے شروں ہونے والا کرونا وائرس
    پاکستان میں 26 فروری 2020 کو کراچی کے طالب علم سے رپورٹ ہوا جس کے بعد اس طالبعلم کی تشخیص کی گئی تو اس میں کرونا وائرس پایا گیا اس کے بعد پنجاب اور باقی صوبوں میں کرونا کیسز سامنے آنے لگے جس کے بعد حکومت پاکستان نے کرونا وائرس کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے پورے پاکستان میں اس وبا کی روک تھام کے لیے لاک ڈاون لگا دیا اسکے بعد سال 2020 اسی کشمکش میں گزرا کبھی لاک ڈاون شروع ادارے بند سکول کالج اور یونیورسٹیاں بند تو کبھی لاک ڈاون ختم ۔ کرونا کی پہلی لہراللہ اللہ کرکے ختم ہوئی تو دوسری نے جنم لے لیا اسکے بعد پھر سے وہی سلسلہ شروع ہوگیا اورجسکے بعد حکومت وقت نے دیگر شہروں اور صوبوں میں سمارٹ لاک ڈاوں متعاوف کروایا کاروباری مراکز کے لیے ٹائم ٹیبل ترتیب دیا اور تمام وزرائے اعلی اور شہروں میں موجود تمام ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنزز کو ہدایات جاری کی کے وہ سختی اسے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درامد کرائیں

    کبھی شادی ہالز بند تو کبھی سیمنا ہالز بند کبھی ہوٹلز اور ریسٹورنٹس بند تو کبھی کاروباری مراکز اور شاپنگ مالز بند یہ سلسلہ پچھلے برس سے شروع ہوا اور موجودہ سال تک جاری ہے اب ہم کرونا کی تیسری لہر کے بعد چوتھی لہر کی نوید سن چکے ہیں لیکن اس میں حکومت کو دوش دینا قطعی غلط ہوگاکیوں کے حکومت نے ہر صورت عوام دوست بروقت اقدامات پہلے بھی کیے اور اب بھی کررہے ہیں لیکن یہاں یہ بات کرنا غلط نا ہوگی اورسیز پاکستانی جن کا ملکی ترقی میں خاطر خواہ حصہ ہے جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو اس وقت زرمبادلہ بھیج کو سہارا دیا جب عمران خان حکومت پست حالی اور معاشی تنزلی کا شکار تھی

    تب ایسے مشکل وقت میں جہاں ایک طرف عمران خان دوست ممالک سے قرض کی درخواست کر رہا تھا وہیں محب وطن اوورسیز پاکستانی اپنے لیڈر اور ملک کے لیے شب و روز محنت کرکے پاکستان زرمبادلہ بھیج رہے تھے ایسے مشکل وقت میں تمام اوورسیز پاکستانیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تاکہ انکے لیڈر اور ملک کو کہیں شرمندہ نا ہونا پڑے کروناوائرس جیسی وبا کے باوجود پاکستانی کی معاشی حالت باقی ممالک سے بہتر رہی ہے اور الحمد اللہ مزید بہتری کی طرف گامزن ہے بہرین اقدامات اور پالیسوں کی وجہ سے پاکستان کرونا وبا کو کنٹرول کرنے میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ چکا

    کرونا کی تیسری لہر کے دوران لگنے والے لاک ڈون کا سلسلہ تو البتہ تھم چکا ہے لیکن اس لاک ڈاون کے دوران ہونے والی فلائٹس بندش نے 4 لاکھ پاکستان آئے اوورسیز پاکستانیوں کو بے روزگار کر کھا ہے خاص طور پر سعودی عرب سے چھٹی گزانے واپس آئے ہوئے تمام پاکستانی حکومت پاکستان سے امیدیں وابستہ کرکے بیٹھے ہیں کے خدا جانے کب فلائٹس سروس بحال ہوگی اور کب وہ لوگ واپس اپنے کام کاج کو جائیں گے ایک روز قبل سعودی وزیر خارجہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صاحب سے ملاقات کرنے پاکستان تشریف لائے تھے تو دیگر پلیٹ فارم پر کوشش کی ان تک اپنا پیغام پہنچایا جا سکے تاکہ پاکستان میں پریشان حال اوورسیز پاکستانی اپنےاپنے کاموں پر جا سکیں۔

    جو لوگ چھٹیوں پر پاکستان آئے تھے انکے ویزے اور اکامے کی مدت ختم ہونے کو ہے اکثر کے ویزے ختم ہوچکے لوگ بے روزگار ہو رہے

    ‏خدارہ ایسے لوگوں کے حال پر رحم کریں تقریباً 4 لاکھ کے قریب پاکستانی اس وقت پریشان ہیں جو سعودی عرب میں محنت مزدوری اور مختلف کمپنیوں میں نوکری کرکے پاکستان زر-مبادلہ بھیجتے ہیں اور اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں لیکن 6 ماہ سے بے روزگار ہوکر فلائٹس کھلنے کے انتظار میں

    ‏حکومت وقت سے امیدیں وابستہ کرکے بیٹھے ہیں اگراب سعودیہ کی فلائٹ سروس بحال ب نہیں کی جاتی توآگے ایسے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا ملک میں بے روزگاری
    مزید بڑھ جائے گی کرونا کی چوتھی لہر سر پر ہے اب فلائٹس نہیں کھلتی تو پھر کئی ماہ انتظار لوگوں کی جان پر وبال ہوگا
    اس لیے میری حکومت پاکستان سے گزارش ہے فوری طور پر پاکستان سے سعودیہ عربیہ کے لیے فلائٹس سروس جو کچھ عرصہ سے بندش کا شکار ہے شروع کی جائے تاکہ محب وطن پاکستانی واپس جا سکیں اور جیسے پہلے مشکل وقت میں حکومت پاکستان کا ساتھ دیتے رہے ویسے آگے بھی ملک اور قوم کے حق میں بہتر کرتے رہیں اپنے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے بیوی بچوں اور خاندان کی کفالت کر سکیں

    ‎@saimladla786

  • شاعر اور ادیب دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں تحریر: ماہی لطیف

    شاعر اور ادیب دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں تحریر: ماہی لطیف

    شاعر اور ادیب دلوں میں ہمشہ زندہ رہتے ہیں۔
    یہ تھا 1964ء کا ایک خوشگوار دن شام کا وقت تھا کہ عبد الرزاق کے آنگن میں ایک بچے نے جنم لیا۔ گھر میں خوشی کا سماں تھا کہ عبد الرزاق کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے لیکن کسی کو علم نہیں تھا کہ صرف بیٹا نہیں بلکہ اردو اور پنجابی ادب کے ایک درخشاں ستارے نے جنم لیا ہے۔ یہ جنم اردو اور پنجابی ادب کے مشہور شاعر اور ادیب محمد لطیف سیف کا تھا۔
    محمد لطیف سیف نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سوک خورد سے حاصل کی۔ اس کی کل تعلیم میٹرک تک تھی۔ زیادہ تعلیم نہ کرنے کی وجہ غربت تھی۔ وہ گھر کا بڑا بیٹا تھا اس وجہ سے گھر کی ساری زمہ داری ان کے کندھوں پر تھی۔ کم عمری میں روزی روٹی کی تلاش میں نکلے اور ایک شہر سے دوسرے شہر روزگار کے لیے دھکے کھائے۔ اس سفر میں انھیں سعودی عرب جانا بھی پڑا۔ لیکن اپنے ملک سے محبت نے انھیں واپس بلوایا۔ اور یہاں دوبارہ روزی کی تلاش میں رہے۔ اپنی زندگی کے زیادہ عرصہ غربت اور محنت مزدوری میں گزارنے کی وجہ سے طبیعت میں عاجزی اور انکساری تھی۔ لطیف، انسان تو انسان جانوروں کے درد پر بھی دردمند ہونے والے انسان تھے۔ ان کے عاجزانہ طبیعت کا انکی شاعری پر بڑا گہرا اثر ہے۔ ان کی شاعری میں درد و آہ زیادہ پائی جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں ہمیں محبت اور محبوب کا رنگ بھی ملتا ہے ان کے اشعار میں محبوب کے آگے انداز بھی عاجزانہ ہے وہ محبوب کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ لیکن ان کی شاعری میں ہمیں درد اور غربت کا زیادہ زکر ملتا ہے۔
    ("غریبوں کو ہر دم ستاتی ہے دنیا

    ستم اس طرح بھی یہ ڈھاتی ہے دنیا”)

    محمد لطیف سیف کی شاعری میں حمدیں، نعتیں، غزلیں نظمیں وغیرہ شامل ہیں۔
    ان کے کلام مشہور گلوکاروں نے گائے ہیں، جن میں ملکہ ترنم میڈم نور جہاں بھی ہیں۔ میڈم نور جہاں نے ان کا پنجابی کلام "جدوں دیاں تیرے نال لڑ گیاہ اکھیاں” گایا ہے۔ ان کے کلام کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کے کلام کو سخن شناس پوری دنیا میں سنتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے مختلف گلوکاروں نے ان کے کلاموں کو اپنی آوازوں میں گایا ہے ۔
    ان کی شاعری کی دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ پہلی کتاب "اشک بہاتی تنہائی” جو کہ اردو زبان میں اس کی زندگی میں پبلیش ہوچکی تھی،
    ("میں بھول ک دنیا والوں سے اک بار بھی شکوہ کیوں کرتا

    گر سیف میری بربادی پر نا آشک بہاتی تنہائی”)
    جبکہ دوسری کتاب پنجابی زبان میں ہے "مٹی ملیاں سوچاں” اس کے وفات کے بعد پبلیش ہوئ تھی۔ دوسری کتاب مکمل ہوچکی تھی لیکن پبلیش کرنے ابھی نہیں دیا تھا کہ 6 دسمبر 2016 کو اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے اور رب کائنات خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات کا دن نہ صرف ان کے گھر والوں کے لیے بلکہ سب سخن شناس لوگوں کے لیے تکلیف کا دن تھا۔
    اس کے وفات ہونے کے بعد ان کے چاہنے والوں نے ان کے گھر والوں کے ساتھ مل کر ان کی دوسری کتاب شائع کی۔ ان کے چاہنے والے آج بھی ان کے نام کو بڑے احترام سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے چاہنے والے اور اردو اور پنجابی ادب کو پسند کرنے والے یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی جگہ کبھی کوئی پورا نہیں کر پائے گا۔ ان کی شاعری ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ اللّٰہ ان کی آخری منزل آسان فرمائے۔ اللّٰہ ان کی شاعری کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ (امین)

    ("جان دوں گا میں اس ادا سے اسے
    موت دیکھے گی بار بار مجھے”
    جو ملا بن کے غمگسار مجھے
    کر گیا وہ بھی اشکبار مجھے

    زندگی کس طرح کروں گا بسر
    غم کی دلدل میں مت اتار مجھے

    جان دوں گا میں اس ادا سے اسے
    موت دیکھے گی بار بار مجھے

    میں خزاں کو دوش دیتا رہا
    د
    زخم دیتی رہی بہار مجھے۔

    ہے عبث سیف یہ مسیحائی
    اب نزع کا ہے انتظار مجھے۔” )

    ________________________
    twitter.com/MahiLatief1

  • عفو درگزر کرنا تحریر: امتیاز احمد سومرو

    عفو درگزر کرنا تحریر: امتیاز احمد سومرو

    آج کل ہمارے معاشرے میں آپس کی ناچاقیں و نفرتیں عروج پر ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ایک دوسرے کو معاف کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ ہم جتنی بھی بڑی سے بڑی غلطی کریں چھوٹی لگتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ سامنے والا بندہ ہمیں فوری طور پر معاف کرے اگر وہ معاف نہ کرے تو ہم اسے مغرور سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر کوئی شخص سے غلطی ہو جائے تو ہم اسے سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ہم اسے معاف کریں اس کی غلطی ہمیں گناہ کبیرہ لگتی ہے آنا کا مسلہ بنا دیا جاتا ہے۔ جی ہاں گناہ کبیرہ لگتی ہے اب ایسا کیوں؟ کیوں ہمیں اپنی غلطی غلطی نہیں لگتی کیوں ہم اسے آنا کا مسلہ بنا لیتے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے؟

    ایسا اس لیے کیوں کہ ہم نے نبی آخروالزماں سرور کونین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے تعلیمات پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ میرے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے جس کا مفہوم یہ ہے

    "اگر معاف کرنے سے تمہاری عزت میں کمی آئے تو قیامت کے دن مجھ سے لے لینا”

    آج کل ہم کہاں کھڑے ہیں ہم تو اسلام سے بہت دور ہو گئے ہیں بلکہ ہم تو اسلام کی مخالف سمت میں سفر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم جتنا بڑا گناہ کر لیں ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دیں لیکن اگر کسی انسان سے غلطی ہو جائے تو ہم اسے معاف نہیں کریں گے کیوں بھائی اگر اللّٰہ تعالیٰ سے معافی کی امید رکھتے ہیں تو اس کے بندوں کو بھی معاف کرنا سیکھیں تب جا کے اللّٰہ تعالیٰ معاف کریں گے۔ غلطی انسان کی فطرت میں شامل ہے انسان نے غلطی کرنی ہے۔ حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے سگے چچا کے قاتل کو بھی معاف کر دیا تھا۔بھائی غلطی انسان سے ہوتی ہے اپنی غلطی تسلیم کرنے والا بڑا ہے اور معاف کرنے والا اس سے بھی بڑا ہے۔ معاف کرنے سے یا معافی مانگنے سے کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا اس لیے دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کریں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کے گناہ معاف فرمائیں آپ کی غلطیاں معاف کریں تو دوسروں کو بھی معاف کرنا سیکھیں دوسروں کی غلطی کو انا کا مسلہ نہ بنایا کریں۔ اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق معاف کرنا سیکھیں اللّٰہ تعالیٰ بھی آپ کو معاف کریں گے۔

    اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو معاف کرنا سیکھیں۔ درگزر کرنا سیکھیں انشاء اللہ زندگی حسین ہو جائے گی اور معاف کرنے سے جو خوشی ملتی ہے اس کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ آپ کو معاف کریں تو دوسروں کو معاف کرنا سیکھیں۔

    @Imtiazahmad_pti

  • چمکتا ہوا سکہ تحریر: جواد یوسفزئی

    ایک سٹور کے کاونٹر پر بقایا میں ایک نیا چمکتا
    ہوا سکہ بھی آیا۔ کافی عرصے سے سکہ نہیں دیکھا تھا۔ معلوم ہوا کہ دس روپے کا بھی سکہ آیا ہے۔ پہلے ایک، دو پانچ، دس، پچیس اور پچاس پیسے اور ایک روپے کے سکے ہوتے تھے۔ ایک روپے کا نوٹ بھی چلتا تھا۔ شروع میں یہ سکے پیتل، تانبے یا نکل کے ہوتے تھے۔ پھر ایلیمونیم کے سکے آنے لگے۔ ایک پیسے سے شروع ہوکر دس پیسے تک۔ پرانے سکے غائب ہوگئے۔ پھر یہ ایلیمونیم کے سکے بھی غائب ہوگئے۔ بعد میں پچیس اور پچاس کے سکے بھی نکل گئے۔ ایک اور دو روپے کے نئے سکے نکل کے بجائے تانبے کے آگئے۔ ایک، دو اور پانچ کے نوٹ بند ہوگئے اور ان کی جگہ سکے چلنے لگے۔ اب یہ بھی خال خال نظر آتے ہیں۔ ان سکوں کے غائب ہونے کی ایک وجہ تو ان کی ویلیو کا کم ہونا ہے۔ ایک دو بلکہ پانچ روپے کا بھی کچھ نہیں ملتا۔ لیکن زیادہ مقدار میں سکوں سے تو خریداری کی جاسکتی ہے۔ پھر یہ سکے کہاں جاتے ہیں؟ سکوں کی قیمت خرید مہنگائی بڑھنے کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ سکے کی سرکاری قیمت خرید اس دھات کی قیمت سے کم رہ جاتی ہے جس سے سکہ بنا ہوتا ہے۔ اس وقت لوگ اس سکے کو خرید و فروخت کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اسے پگھلاکر زیادہ قیمت پر فروخت کریں گے۔ یہ گراہم لا ہے۔ یہ صاحب سولہویں صدی میں انگلینڈ میں بینکر تھے یا شاید بادشاہ کے مالی مشیر بھی۔ ان کا خیال تھا کہ ملک میں سونے اور چاندی کے سکے ایک ساتھ چلیں گے تو چاندی کے سکے سونے کے سکوں کو مارکیٹ سے نکال باہر کریں گے۔ ہم ابتدائی معاشیات میں اسے پڑھتے تھے تو اسے زمانہ قدیم کی کہانی سمجھتے تھے۔ لیکن اب برسوں سے ہمارے ہاں یہ لاء کام کر رہا ہے۔ ایلومینم کے سکے آئے تو تانبے کے سکے غائب ہوگئے۔ ایلومینم کے سکوں کو کاغذ کے نوٹوں نے نکال باہر کیا۔ یہ دس روپے کا سکہ بھی ایک دو سال چلے گا۔ جب اس میں شامل پیتل کی قیمت دس روپے سے بڑھ جائے گی تو لوگ کاغذ کے نوٹوں کے بدلے سکے خرید کر انہیں پگھلا لیں گے۔
    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@
    ای میل : TheMJawadKhan@Gmail.Com

  • ‏مذہب اور انسانیت   تحریر:  سجاول سلیم

    ‏مذہب اور انسانیت تحریر: سجاول سلیم

    انسان سے محبت اور احترام ہمیں ہمارا مذہب سیکھتا ہے
    اللہ تعالی نے انسان کو ایک جیسی اصلاحیتوں سے نوازا ہے انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک ساری ہدایت مذہب کرتا ہے ماں باپ بہن بھائی رشتےدار برادری ان سب کی پہچان مذہب کرواتا ہے
    دنیا کا کوئی مذہب برے کام کو اچھا کام نہیں بتاتا۔

    اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ظلم و زیادتی نہیں کی جائے انسانی حقوق سب سے اہم پہلو مذہب ہوتا ہے
    انسانی کے اخلاق کا معاشرتی زندگی پر بہت اثر پڑتا ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمتہ اللعالمین بنا کر بھیجا تاکہ دنیا میں علم کا نور پھیلایا جائے۔ انسانیت کے ذریعے انسانوں کی عزت کی جائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حرا سے اللہ کے اس حکم کے ساتھ اترے کہ نبوت کا اعلان کر کے اللہ کے پیغام کو ساری انسانیت میں عام کر دیں۔

    آپ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اسلام انسانیت کے خلاف جنگ کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانیت کے احترام کا بیڑہ اٹھایا، آپ بیواؤں، غریبوں یتیموں، پڑوسیوں کے غمگسار ہیں۔ اس اصول کو آپ نے ساری انسانیت کے سامنے پیش کیا۔
    انسانیت اور اچھا اخلاق انسان کو ہمیشہ اونچے مرتبے پر فائز رکھتا ہے۔
    وہی انسان سب سے اچھا ہے جس کا اخلاق اچھا ہے۔ انسان کو اتحاد اور محبت کے ساتھ زندگی بسر کرنی چاہیے. انسانیت کی خدمت کا جو دائرہ دین اسلام نے دیا ہے وہ کسی بھی مذہب نے نہیں دیا۔
    قرآن مجید میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا اور ایک انسان کی جان کو بچانا پوری انسانیت کی جان کو بچانے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
    مذہب امن کا ضامن ہے کیونکہ مذہب اخوت، اتحاد ، محبت اور مساوات کو جنم دیتا ہے۔ اور نفرت ، عداوت کو بالکل ختم کرتا ہے۔ ایک دوسرے کے کام انا انسانیت ہے۔ ہمارے معاشرے سے انسانیت مر چکی ہے
    غریبوں اور مظلوموں پر ہم ظلم کرتے ہیں حالات سے مجبور لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے لیکن ہمارا مذہب اس چیز کی اجازت بالکل بھی نہیں دیتا کہ کسی مجبور شخص کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا جائے۔

    آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بے مثال خطبہ حجۃ الوداع میں اس حقیقت کاا ظہاربایں الفاظ فرمایا:’’ اے لوگو ! کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے ،تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا۔‘‘

    @Sajawal_13

  • نظام مصطفیﷺ کے لیے انفرادی کردار تحریر : اختر علی

    نظام مصطفیﷺ کے لیے انفرادی کردار تحریر : اختر علی

    کبھی لمحوں میں صدیاں بیت جاتی ہیں، کبھی لمحے گزارنے کے لیے صدیوں
    انتظار کرنا پڑتا ہے۔ فطری عمل تو اپنی جگہ،انسان کی زہنی کیفیات گردش ایام کی پیمائش کرتی ہیں۔حضرت عزیر ؑ اور اصحابِ کہف ؓ کے واقعات تو معجزہ وکرامت سے منور ہیں ہی لیکن عامۃالناس پر یہ پیمائشیں اثراندازہوتی ہیں۔ فلم تین گھنٹے کی دیکھنے کے بعد بھی وقت کا پتہ نہیں چلتا اور نماز کا آدھاگھنٹہ بھی بوجھل محسوس ہوتا ہے۔ یہ چیزیں ہماری
    روح، ضمیر اور سوچ کی سمت کاتعین کرتی ہیں۔ قبرکے امتحان میں اگر کامیاب ہو گئے تو صدیوں کی زندگی چند لمحوں میں گزرجائے گی اگر خدانخواستہ ناکامی ہوئی تو ایک ایک لمحہ اذیت ناک گزر ے گا اور کوئی چھڑانے والا بھی نہیں ہو گا۔
    قارئین محترم!دنیا میں اربوں کھربوں انسان آئے،انتہائی مختصر زندگی بسرکی اوراپنا باب زندگی سمیٹ کر چل بسے۔انسان کے جانے کے بعد بھی اگرکسی شخص کا تذ کرہ ہوتاہے تو صرف اُس کے کردار کی بدولت ہوتا ہے۔ مال ومتاع،جاہ ومنصب توعارضی چیزیں ہیں۔ لیکن وہ چیز جوزندگی کےبعدبھی انسان کوجلاہ بخشتے گی وہ اس کا کرداراورمشن ہے۔روز ازل سے دو کردارہمیشہ مدمقا بل رہے ہیں۔لیکن بے سرو ں سامانی کے با وجود فتح نے ہمیشہ حق کےپلڑے میں اپناجھکاؤ رکھا۔معرکہ کربلا ہو یا نمرود کے دربار میں حضرت ابرا ہیم ؑ، غزوہ بدر ہو فرعون کے مقابلہ میں موسی ؑکاکردار، ہمارے لیےحق والوں کی معیت مشعل راہ رہی ہے۔ نمرود، فرعون، یزید اور ابو جہل مال ومتا ع، روپے پیسے، جاہ ومنصب اور حواریوں کی کثیر تعداد ہونے کے باوجود مٹ گئے۔آج ان کا نام لیوا تک نہیں رہا۔لیکن نیکوں کاروں کی سنگت کر نے والا چاہے اصحابِ کہف ؓ کا کتا ہو یا حضرت سلیمانؑ کے راستے پرآنے والی چیونٹی۔ان کے نام تا قیامت زندہ و تابندہ رہیں گے۔آج یہ کہاجاتا ہے کہ اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنا کردار ادا کرو توجواب ملتاہےکہ ایک بندے کی کوشش سے کیا فائدہ ہو گا؟لیکن اصل بات کردارکی ہے۔حضرت ابرا ہیم ؑ کے لیے جب آگ جلائی گئی تھی تو ایک گرگٹ دورسے پھو نکیں مارنےلگا۔تا کہ آگ کی تپش میں اضافہ ہو جائے۔ وہ ایسا کر تو نہ کر سکا لیکن قیامت تک کے لیے نشان عبرت بن گیا۔ایک چڑیا اپنی چونچ میں پانی لاتی تاکہ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے جلائی گئی آگ کو بجھا ئے گو کہ وہ آگ کوبجھاتونہ سکی لیکن بجھانے والوں میں شامل ہو گئی۔آج صدیوں بعد بھی اُس کا تذکرہ ہوتا ہے۔آج لاکھوں کی تعدادمیں کفارنے اسلام کے خلاف ویب سائٹس
    لانچ کی ہو ئی ہیں۔جو مختلف میڈیا کے ذریعے ہماری نئی جنر یشن کے قلوب واذہان پر اثرات مرتب کر رہی ہیں۔کفار نے پلانگ کے تحت ہمیں مغلو ب کر نےکے لیے صدیوں پر محیط ورکنگ کی ہو ئی ہے۔ برِصغیر کے وائسرائے لارڈمیکا لے نے 1835 میں رعب ودبدبہ بٹھا نے کے لیے کہا تھا”یو رپ کی ایک الماری کی کتابیں برصغیرکے سارے لٹر یچر سے بہترہیں“۔حالانکہ اسے نہیں پتہ تھا کہ اس برصغیرکیے لٹر یچر میں قر آن مجید بھی ہے۔جس سے تمام علوم کے سر چشمے پھوٹتے ہیں۔اس نظریے کا تسلسل آج بھی نظر آرہاہے۔ہمارے لوگ یورپ کی نمو دو نما ئش سے مرعوب ہو کر وطن عز یز پاکستا ن کو چھو ڑ کر وہا ں رہا ئش پز یر ہو کر مغلوبی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
    اگران تمام حالات کو بنظر غائر دیکھیں تو قصورہمارااپناہی ہےاجتماعی طورپریہ سوچ غالب ہو تی جارہی ہے کہ اگرمیں اپنے حصے کا کردارنہ بھی اداکروں توخیرہے کیوں کہ باقی جو سب اپنا کرداراداکررہے ہیں،حالانکہ ایساہوتانہیں۔ایک بادشاہ نے اپنی راعیہ سے کہا کہ تمام لوگ رات کےاندھیرے میں اس تالاب میں ایک ایک گلاس دودھ کا ڈال دیں جب صبح اٹھ کربادشاہ نے دیکھا تو ساراتالاب پانی کا بھراہواتھا۔اس نے جب معاملے کی تحقیق کی تو پتا چلا کہ ہر بندے کی سوچ یہ تھی کہ میرے ایک گلاس پانی ڈالنے سے کیاہو گاجب باقی سب نے دودھ ڈالناہے۔ یہ سوچ کروہ سبھی پانی کاگلاس ڈالتے رہے اور ساراتالاب پانی سے بھر گیا۔یوں اگرانفرادی کوشش نہ کی جائے تو نتیجہ غلط نکلتاہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے حصے کاکرداراداکرتے جائیں اورنتیجہ اللہ پرچھوڑدیں تو ضرور بہتری آئے گی۔
    ہم دھوکہ کھانے کہ اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ سچے لوگ سامنے آنے پر بھی اعتماد نہیں کرتے۔ اور ہاں! اگر دھوکہ کھانا ہی ہے تو کم از کم اسلام کےنام پر توکھائیں،نیت سچی ہونے کا ثواب تو مل جائے گا۔ حضرت عمر ؓ اپنےجس غلام کو دیکھتے کہ لمبی نماز پڑھ رہا ہے آپ ؓ اسے آزاد کردیتے،کسی نےکہا کہ یہ آپؓ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں تو آپ ؓنے فرمایا کہ (مفہوم)کہ میں اللہ کے نام پرایسے ہزاردھوکے کھانے کو تیارہوں۔ترکی میں ہم نے دیکھاکہ عوام نے طیب اردگان کی ایک کال پر اتنی بڑی بغاوت کو کچل کر رکھ دیا۔ایسا تب ہوتا ہے جب لیڈر قوم کی توقعات پرپورا اترتا ہو۔مسلم اُمہ کی عوام کی سب سے بڑی توقع ایک ہی ہے کہ پوری دنیا پر اسلام کاپرچم بلند ہوجائے تاکہ برما،فلسطین،کشمیر،عراق
    ،افغانستان اورشام پرکفارکی بربریت ختم
    ہو جائے اور ان کامال، جان، عزت اورآبرو محفوظ ہوجائے۔معیشت کی ثانوی
    حیثیت ہے وہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گی۔عوام کے جذبات اور اُمنگوں کی
    ترجمانی کرنے والالیڈر جب بھی مل جائے گا ملک کی ترقی و خوشحالی کی منازل
    بڑی برق رفتاری سے طے ہوں گی۔اقبالؓ کی روح تو آج بھی کہ رہی ہے۔
    نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی
    حضور ﷺنے فرمایا تھا کہ (مفہوم) ”کفار کا سب سے پہلا حملہ میری
    اُمت کے نظام حکومت پر ہوگا،اور سب سے آخر پر حملہ نمازپرہوگا“(مستدرک
    الحاکم)۔توآج وطنِ عزیزکے نظام کو کفار دوست ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے
    لیے ما لی و بدنی کرداراداکرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو قائد
    اعظم اور علامہ اقبالؒ کے ویژن کے مطابق محفوظ اور خوشحال پاکستان فراہم
    کر سکیں۔

    DrAkAliOfficial

  • سرسبز و شاداب پاکستان تحریر : محمد وسیم

    سرسبز و شاداب پاکستان تحریر : محمد وسیم

    ہر کوئ چاہتا ہے کہ انہیں صاف و شفاف ماحول ملے لیکن بدقسمتی سے ہم وہ لوگ ہے جو کہ اپنے ماحول کو صاف بنانے کیلۓ کچھ بھی نہیں کر رہے اور ہر روز اپنے ماحول کو بدترین بنا رہے ہے ۔ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ صفائ نصف ایمان ہے ۔ یعنی صفائ ہمارے ایمان کا آدھا حصہ ہے ۔ چونکہ ہم مسلمان ہے اور حضورﷺ کو اپنا آخری نبی مانتے ہے تو ہمیں چاہئیے کہ ہم حضورﷺ کی اس بات پر عمل کرتے ہوۓ صفائ کو اپنا نصف ایمان بناۓ۔ اس سے ہم نہ صرف ہمیں فائدہ پہنچے گا بلکہ ہمارا ملک بھی صاف رہے گا اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی فائدہ ہوگا۔
    پاکستان کا شمار دنیا کے ان دس ملکوں میں سے ہوتا ہے جو کہ آلودگی سے بری طرح متاثر ہے۔ اور یہ سب کچھ ہماری خود کی وجہ سے ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی خاص وجوہات میں شامل ایندھن کا جلانا، سڑک کے اطراف کچھرا پھینکنا، جنگلات کی کٹائ، گاڑیوں اور بجلی کے آلات کا غیر ضروری استعمال، کیڑے مار ادویات کا غلط استعمال اور صنعتی فضلہ یہ سب ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ کر رہے ہے جو کہ ماحولیاتی آلودگی کا بنیادی وجوہات ہے۔
    جب گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ موسم کی تبدیلی میں بھی شدت سے اضافہ ہوتا ہے ۔ اس موسمیاتی تبدیلی کے نتائج ہمارے خوراک، موسم، اور ہمارے صحت پر بھی پڑتا ہے۔
    نیشنل جیوگرافک کے مطابق موسمیاتی حالات میں شدت کی وجہ سے گرین لینڈ اور انٹارکٹیکا جیسے برف کی چادریں پگھل جاتی ہے اضافی پانی جو کہ کبھی گلیشئرز میں ہوتا تھا۔ اس کی وجہ سے سمندر میں پانی کافی حد تک بڑھ جاتی ہے جو کہ ساحلی علاقوں میں سیلاب کا سبب بنتا ہے۔
    ماحولیاتی آلودگی ہمارے لیۓ ایک بہت ہی خطرناک صورتحال پیدا کرسکتا ہے ۔ جب اگر بارشیں نہیں ہوگی تو ہماری زمینیں زرخیز نہیں ہوگی۔ جب زمینیں زرخیز نہیں ہوگی تو فصل سہی نہیں ملےگا اور جب سہی فصل نہیں ملے گے تو اچھی صحت نہیں ہوگی اور بیماریاں زیادہ ہونگی کہیں ہم خشک سالی کا شکار ہونگے اور کہیں سیلاب کا۔ ہمارے پاس بھوک سے مرنے والے چہروں کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔
    ہمیں اگر اپنے ملک پاکستان کو آلودگی سے پچانا ہو تو ہمیں چاہئیے کہ پولی تھین بھیگ کا ہرگز استعمال نہ کرے ۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک بہت چھوٹی چیز ہے لیکن زمینی آلودگی کو ختم کرنے کیلۓ یہ بہت کارآمد ثابت ہوسکتا ہے .پولی تھین بیگ بہت نقصان دہ ہیں جن کا دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا لہذا ہمیں اس کے استعمال پر پابندی عائد کرنی ہوگی. شمسی اور ہوا سے توانائی کا استعمال کیا جانا چاہئے جو گرین ہاؤس گیس کا اخراج پیدا نہیں کرتا ہے۔ بہاولپور میں پاکستان کا فوٹو وولٹک پاور اسٹیشن ، 100 میگاواٹ کا قائد اعظم سولر پارک کام کر رہا ہے.
    ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کیلۓ ہمارے وزیراعظم عمران خان نے باقائدہ حکومتی سطح پر بلین ٹری سونامی کا آغاز کیا جس کے تحت پورے ملک میں 1 بلین درخت اگاۓ جائینگے۔ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے پاکستان کو صاف و شفاف بنانے کیلۓ یہ ایک انتہائ سحر انگیز اقدام ہے ۔ جس میں نہ صرف درخت اگانے ہے بلکہ جگہ جگہ پر جو گندگی پڑی ہے اس کا بھی خاتمہ کرنا ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم حکومت کے ساتھ بلین ٹری سونامی میں جوش و جزبے کے ساتھ شامل ہو

    جیسا کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ ہمارے ایک متحدہ عمل اور منزل مقصود پر اعتماد کے ساتھ ہی ہم اپنے خوابوں کے پاکستان کو حقیقت میں تبدیل ہونے میں کامیاب ہونگے۔ پاکستان کو صاف و شفاف اور سرسبز و شاداب بنانا بھی ہمارا ایک خواب ہے جسے ہم ایک دن ضرور پورا کرینگے. اور اپنے ملک سے ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ کرینگے۔ اپنے پاکستان کو صاف و شفاف بنانے کیلۓ ہر پاکستانی سے درخواست کرونگا کہ اس مون سون میں اپنے حصے کا ایک پودا لازمی لگواۓ.

    Waseem khan
    Twitter id: @Waseemk370

  • موجودہ دور میں پاکستانی ڈراموں کا معیار  تحریر: سید محمد مدنی

    موجودہ دور میں پاکستانی ڈراموں کا معیار تحریر: سید محمد مدنی

    میں ان میں سے ہوں جس نے موجود دور کے ایک یا دو ڈرامے مشکل سے دیکھے ہوں گے اب پاکستانی ڈرامے سبق آموز نہیں بلکہ نوجوان نسل کو بگاڑتا اور انھیں نت نئے فسادات کروانے پر اکساتا ہے آپ نوے کی دہائی میں جائیں یا اس سے بھی پہلے تو آپ کو بہترین ڈرامے دیکھنے کو ملتے تھے اور سبق آموز ہؤا کرتے تھے اب صرف بے باکی ریپ تشدد گلیمر عشق دولت ساس بہو ناچاقی نند بھاوج کی لڑائی دیور بھابی جیسے مقدس رشتے کو غلط رمگ دے کر عشق دکھانا بس اس پر توتوجہ دی جاتی ہے
    کیا وجہ ہے کہ ترکی کا ایک ڈرامہ ارطغرل اتنا مشہور ہؤا ہے پاکستان میں بھی برصغیر پاک و ہند پر ڈرامے بنے ایک بہت پرانا ڈرامہ تعبیر بنا تھا بہت عمدہ تھا مگر اب نوجوان نسل کو اول فول چیزوں کا اتنا دلدادہ بنا دیا گیا ہے کہ وہ کچھ اور پسند ہی نہیں کرتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہ تو بورنگ ڈرامہ ہے معین اختر مرحوم کا ایک ڈرامہ روزی آیا جسے بہترین انداز میں بنایا گیا میری ناقص معلومات کے مطابق معین اختر نے عورت کا روپ دھارنے والا ایک ہی ڈرامہ کیا بظاہر انھوں نے ایک عورت کا روپ دھارا لیکن اس ڈرامے میں ایک سبق تھا کہ عورت ہونا اور اس کے لئے زندگی کا مقابلہ کرنا کتنا سخت مرحلہ ہے اورچروزی روٹی کے لیے کتنی مشکلات آتی ہیں مگر آج کل کے دور میں آپ جب تک بے ہودگی نا دکھائیں آپ کا ڈرامہ مکمل ہی نہیں ہوتا اور اب اس بے ہودگی کو فیشن اور ماڈرنیزم کا نام دے دیا گیا ہے آپ شائد مجھ سے ایگری نہ کریں مگر اب کے ڈراموں کا اثر بہت حد تک اور بہت جلدی پڑتا ہے کیا وجہ ہے کہ ہمارے ڈرامے ایک دور میں بھارت میں مقبول تھے اور اب ہم نے ان کی کاپی کرنا شروع کر دی ہے افسوس ہمارا معیار اب وہ نہیں رہا جب تک ہم اپنا کھویا ہؤا معیار واپس نہیں لاتے کامیابی حاصل نہیں کر سکتے
    آپ اپنے ڈراموں میں اپنی تاریخ کے حوالے سے بتائیں جیسے کے پاکستان جب آزاد ہؤا تو کس کس طرح سے بھارت سے لوگ بھاگے جب پاکستان آزاد ہو رہا تھا تو اس الگ ملک کا خواب دیکھنے والے بھارت سے بھاگ کر پاکستان پہنچنے کی کوشش کرنے لگے لیکن راستے میں جو ان کے ساتھ ظلم ہوتا وہ بیان کرنا بہت مشکل ہے انھوں نے بہت تکلیفیں اٹھائیں کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ اپنی ثقافت اپنا کلچر اور اپنی روایات کے مطابق ہی ڈرامے بنانے چاہئیں ورنہ ہم اپنا کھویا ہؤا مقام واپس حاصل نہیں کر سکتے
    پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں کمی بس بہترین ڈرامے لکھنے کی ہے پہلے جب پاکستانی ڈرامے آیا کرتے تھے تو لوگ اس دن کی تاریخ پر شادی بیاہ کا فنکشن تک نا رکھتے تھے اور جب وارث ڈرامہ آتا تھا تو سڑکیں سنسان ہو جاتی تھیں یہ میں نے اپنے والد والدہ سے سنا اور پھر ٹی وی کے بہترین کردار اور ایکٹرز ایکٹریسز سے بھی ہماری تاریخ واقعات سے بھری پڑی ہے اگر عسکری حوالے سے دیکھا جائے تو کتنے اہم واقعات ہوئے پاکستان آرمی کے حوالے سے بھی بہترین ڈرامے بنے ہیں جیسے سنہرے دن ایلفا براوو چارلی لیکن مزید ڈراموں کی شدت سے ضرورت ہے تحریک پاکستان اور آزادی پھر کارگل کی جنگ، ٦٥ اور ٧١ کی جنگ ان سب سے متعلق اور بھی ڈرامے بننے چاہئیں پرانے دور میں کچھ ڈرامے بنے تو تھے مگر اب ناپید ہوچکے ہیں اسی طرح پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی کے حوالے سے بھی کچھ ڈرامے بنے مگر اب نظر نہیں آتے ہمیں اپنہ تاریخ دکھانی ہے نا کہ دوسرے ملک کے ڈراموں کو پروموٹ کرنا ہے

    پاکستانی ڈراموں کو بہترین بنائیں تاکہ ہماری نسلیں کچھ سبق حاصل کر سکیں اور اس پر عمل بھی کر سکیں
    بس یہی میں کہنا چاہتا تھا

    @ M1Pak

  • ناراض بلوچوں سے مزاکرات  تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    ناراض بلوچوں سے مزاکرات تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

     

    وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے بلوچستان میں کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ 

     ہم چاہتے ہیں کہ ناراض بلوچوں کو بھی راضی کیا جائے 

    اس اعلان کے فوری بعد وزیراعظم صاحب نے اسلام آباد پہچتے ہی نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے ایم این اے شاہ زین بگٹی کو اپنا معاون خصوصی کا درجہ دیتے ہوئے انہیں ناراض بلوچوں سے بات چیت کا اہم ٹاسک سونپ دیا جو کہ یقینن بہت خوش آئند بات ہے کیونکہ اگر ہمیں ایک مضبوط ،بہتر اور خوشحال پاکستان کی طرف گامزن ہونا ہے تو سب سے پہلے اپنے ناراض لوگوں کو سینے سے لگانا ہوگا ان کی داد رسی کرنی ہوگی ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر اس احساس محرومی کا ازالہ کرنا ہوگا جس بنیاد پر وہ ہم سے روٹھے ہوئے ہیں اور اس میں کوئ شک نہیں کہ گھر سے روٹھا ہو /ناراض بھائ جب گھر چھوڑتا ہے تو قوی امکان  ہوتا ہے کہ اس ناراض بھائ کی ناراضگی کا فائدہ کوئ غلط بندہ اٹھائے 

    ایک چھوٹے سے خاندان میں بھی جب گھر کا کوئ فرد ناراض ہوکر گھر سے نکلتا ہے تو سب سے ذیادہ گھر کے بڑوں کو ڈر اسی بات کا رہتا ہے کہ کہیں یہ کسی غلط صحبت میں نا چلاجائے کہیں نشہ شروع نا کردے یا کسی چوری،ڈکیتی میں ملوث لوگوں کے ساتھ ان کاموں میں نا پڑجائے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ناراض بندہ پھر جن کی صحبت اختیار کرتا ہے وہ اسے اور ورغلاتے ہیں تاکہ اس کے دل میں اپنوں کے لئے ذیادہ نفرت پیدا ہو 

    یہی معاملہ ہمیں بلوچستان میں بھی دیکھنے کو ملے گا یہاں سے بھی کئ بلوچ بھائ جو ہم سے تھوڑے بہت ناراض تھے پھر وہ بیرونی قوتوں کے ہاتھوں میں گئے تو ان کے مزید ورغلاکر ہمارے خلاف کیا گیا ،یہاں تک کہ کچھ ناراض بلوچوں نے ہمارے دشمن ممالک کی کے ورغلانے پر ہمارے ہی خلاف ہتھیار بھی اٹھالئے ایسے لوگوں سے بات چیت کرنا حکومت کے لئے بہت مشکل ہوگا کیونکہ یہ لوگ اب ناراضگی کی حد سے کافی آگے نکل چکے ہیں یہ لوگ اب دشمن کے آلہ کار بنے بیٹھے ہیں ایسے ناراض بلوچ ملک سے باہر بیٹھ کر بلوچستان میں فنڈنگ کے زریعے اور اپنے بیانات و تقریروں کے زریعے بلوچستان میں بیٹھے نوجوانوں کو لڑوا رہے ہیں ہماری افواج کے ساتھ جوکہ ہمارے ملک کی تعمیر و ترقی میں بڑی رکاوٹ کا سبب بھی بنتے آرہے ہیں 

    اس وقت حکومت کے پاس سب سے بہتر آپشن ہونا چاہیے بلوچستان میں بیٹھے ان نوجوانوں سے بات چیت کرنے کا ان کو پہاڑوں سے واپس لائیں ان کے مطالبات سنیں جو احساس محرومیاں ان کے اندر پائ جاتی ہیں ان مسائل کا حل نکالیں ،انہیں بتایا جائے کہ جن کی ایماء پر آپ لوگوں نے ہتھیار اٹھائے ہیں وہ لوگ تو انڈیا،روس ،فرانس،دبئ میں بیٹھے عیاشی کی زندگی گزارہے ہیں ان لوگوں کو بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی سے اب کوئ غرض نہیں وہ اب مکمل طور پر دشمن کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے آپ لوگوں کی ترقی و خوشحالی کا راستہ روک رہے ہیں آپ ان دشمن قوتوں سے اپنا رابطہ ختم کریں قومی دھارے میں آئیں تاکہ بلوچستان کی ترقی ،خوشحالی و بہتری کا سفر مزید بہتر انداز میں جاری رہ سکے 

    آپ نا صرف اپنی حکومت اور افواج پر یقین رکھیں بلکہ آپ خود بھی عملی سیاست میں حصہ لیں محرومیوں کی نشاندھی کریں اپنے لوگوں کو ایسے سرداروں کے پیچھے چلنے سے روکیں جو دشمن قوتوں کی گود میں بیٹھ کر آپ کو غلط راستے پر چلنے کی ہدایات جاری کررہے ہیں ایسے نام نہاد سرداروں سے جان چھڑائیں اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیں انشااللہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی سے ہی ہم ملک دشمن قوتوں کو زیر کرسکتے ہیں 

    یہ تو تھی ہماری رائے یقینن ہمارے ملک کے سربراہان ،افواج اور انٹیلی جنس اداروں سمیت پاکستان کے ان تمام طبقات کےپاس جوکہ بلوچستان کے ان ناراض دوستوں کو راضی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ان کے پاس بہترین آپشن کے ساتھ مزید کارآمد حکمت عملی بھی ہوگی 

    ہمیں یقین ہے بلوچستان کا یہ مسئلہ جلد حل ہوگا پہاڑوں پر بیٹھے تمام لوگ جلد قومی دھارے میں شامل ہوکر اپنی تمام تر توانائیاں بلوچستان کی خوشحالی کے لئے صرف کریں گے ،اور دشمن ممالک کی تمام چالیں ایک بار پھر ناکام ہوں گی 

    اللہ پاک ہمارے پیارے وطن پاکستان کو دشمن کی میلی نظر سے بچائے آمین 

     

  • مہنگائ۔حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن  تحریر-سید لعل بُخاری

    مہنگائ۔حکومت کی سب سے بڑی اپوزیشن تحریر-سید لعل بُخاری

    حکومت کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ اپوزیشن تو اپنی موت آپ مر چُکی ہے-
    مگر بُری خبر یہ ہے کہ بڑھتی ہوئ مہنگائ اور اس کے بڑھنے پر مناسب چیک اینڈ بیلنس کا نہ ہونا،عوام کی کمر توڑ رہا ہے۔
    جو حکومت کے لئے یقینا” باعث تشویش بات ہے-
    اس حوالے سے کوئ بھی حکومتی موقف لوگوں کو اس وقت تک مطمئن نہیں کر سکتا،جب تک مہنگائ کو کم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے جائیں۔
    مہنگائ کی بات کرتے وقت یہ حقائق ہمارے زہن میں ہونے چاہییں کہ خصوصا” کرونا آنے کے بعد مہنگائ کی لہر
    بین الاقوامی طور پر آئ ہے۔بعض چیزوں مثلا”خوردنی تیل وغیرہ کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں بھی دو سو فیصد تک بڑھی ہیں۔
    علاوہ ازیں پاکستان بننے کے بعد سے مہنگائ کبھی ایک جگہ رُکی نہیں۔کبھی کم بڑھی،کم زیادہ لیکن بڑھی ضرور
    مہنگائ بڑھنے کی شرح کے لحاظ سے جنرل ضیاالحق مرحوم کا دور سب سے بہترین تھا،اس وقت فوجی حکومت ہونے کی وجہ سے چیک اینڈ بیلنس بہت اچھا تھا۔
    مافیاز خوف زدہ رہتے تھے کہ اگر بلاوجہ چیزوں کے نرخ بڑھاۓ تو مشکلات پیدا ہونگی۔اسی کے باعث اعداد و شمار کے لحاظ سے وہی گیارہ سالہ دور تھا جب عوام مہنگائ کے ہاتھوں قدرے کم ستاۓگئے ورنہ تو ہمیشہ ہی سے
    بے چارے لوگ مسلسل مہنگائ کی چکی میں پستے آرہے ہیں
    موجودہ مہنگائ کے پیچھے وہ مافیاز بھی کارفرماہیں،جن کی آبیاری نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کے بعض کرپٹ راہنماؤں نے کی۔اُن کی جڑیں اب اتنی مضبوط ہو چُکی ہیں کہ وہ جب چاہییں مارکیٹ میں اشیاۓ ضروریات کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کروا لیتے ہیں،چینی اسکینڈل اسکی ایک مثال ہے۔
    ان سب حقائق کے باوجود حکومت کو اسکی زمہ داری سے استثنا نہیں دیا جا سکتا۔
    معاشرے میں کوئ بڑے سے بڑا بدمعاش بھی حکومت سے تگڑا نہیں ہو سکتا۔
    ایسے معاشرتی ناسوروں کو کُچلنے کے لئے مزید قانون سازی کریں،کسی بھی قسم کی چور بازاری کا خاتمہ کرنے کے لئے سخت سے سخت سزائیں دیں۔اسسٹنٹ کمشنرز کے اختیارات بڑھائیں۔مختلف چھاپہ مار ٹیمیں بنائیں۔ان ٹیموں میں کام کرنے والے افراد کو ترغیبات دیں
    کچھ بھی کریں۔عوام کو اس مہنگائ کے عفریت سے نجات دلائیں
    اپوزیشن اگرچہ اپنے کرتوتوں اور باہمی خلفشار کے باعث بیک فُٹ پر جا چکی ہے،۔
    ایسے میں حکومت کی اصل اپوزیشن یہی مہنگائ ہے۔جس پر کنٹرول حاصل کر کے حکومت عوام میں اپنی جڑیں مضبوط کر سکتی ہے۔
    اللہ تعالی کے فضل و کرم وحکومت کے کچھ اچھے اقدامات سےملکی معاشی صورتحال بھی اب بہتر ہے۔
    سیاسی طور پر بھی
    پُر سکون حالات خصوصا”آزاد کشمیر کا الیکشن جیتنے کے بعد پی ٹی آئ حکومت کے لئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں عوامی فلاوبہبود پر صرف کرے اور پریشان حال عوام کی جائز پریشانیوں کا مداوا کرے#

    تحریر-سید لعل بُخاری
    @lalbukhari