Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • اوور سیز پاکستانیوں سے جگہ ٹیکس   تحریر ؛ خرم شہزاد

    اوور سیز پاکستانیوں سے جگہ ٹیکس تحریر ؛ خرم شہزاد

     
    اوورسیز پاکستانیوں کے بارے میں عمومی رائے ہے کہ ان کو پاکستان بارے خاصی فکر ہوتی ہے ، یہاں کے حالات و واقعات سے اتنے باخبر ہوتے ہیں کہ پاکستان میں رہنے والوں سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔ زیادہ تر اوور سیز پاکستانیوں کو پاکستان میں موجود اپنے گھر کا کفیل ہونے کا بھی شرف حاصل ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ ہر سیاسی ، معاشی اور خارجہ پالیسی کی خبریں بھی من و عن یاد ہوتی ہیں۔
    ان حالات میں میں آپکی توجہ اس مشکل کی طرف کروانا چاہتا ہوں جسکا اوور سیز پاکستانی ، پاکستان میں داخل ہوتے ہی سامنا کرتے ہیں۔ جب اپنی آنکھوں میں خواب سجائے ، دل میں ارمان لئے اور خوشی سے لبریز پاکستانی ائیر پورٹ پہ اترتے ہیں تو ویزہ چیک کرنے والے ڈیسک پہ ہی چند افراد سے سامنا ہوتا ہے جو آپکو پیسوں کے عوض آپکا پاسپورٹ جلد ازجلد کلئیر کروانا چاہتا ہیں۔ اسکے بعد جب آپ اپنا سامان لینے جاتے ہیں تو آپکو چند اور افراد گھیر لیتے ہیں جو پیسوں کے عوض آپکا سامان ڈھونڈتے اور پھر باہر جانے والے کاونٹر سے کلئیر کرواتے ہیں۔ اگر آپ نے ان افراد کی خدمات حاصل نا کی ہوں تو آپکا سامان یقینی طور پہ کھول کر دیکھا جائے گا کہ کہیں کوئی کسٹم کلئیرنس والا سامان آپکے بیگ میں تو موجود نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہاں بھی آپکو پیسے دینے پڑیں تاکہ آپ جلد از جلد ائیر پورٹ سے نکل سکیں۔ کسٹم والے حضرات بھی آپ سے جائز پیسوں سے بڑھ کر تقاضا کرتے ہیں تاکہ اپنی دھاڑیاں لگائی جا سکیں۔ جب یہاں سے آپ کلئیر ہو گئے تو اگلا مرحلہ سامان کو آپکی گاڑی یا ٹیکسی تک پہچانے کا ہے۔ جو شخص آپکے سامان کو آپکے ساتھ لیکر جا رہا ہو گا ، وہ گاڑی تک پہنچنے پہ آپ سے پیسوں کا تقاضا کرے گا اور امید رکھے گا کہ آپ اسے بیرون ملک کرنسی والا نوٹ دیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب بھی میں انگلینڈ سے واپس لاھور آتا ہوں تو مجھ سے ملکہ والا نوٹ (پاونڈ ) کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
    آپ دنیا کے کسی بھی ائیر پورٹ پہ اتر جائیں ، جس نادیدہ طریقوں سے بیرون ملک سے آنے والوں کو پاکستانی ائیر پورٹ پہ لوٹا جاتا ہے اسکی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس لئے میری ارباب اختیار سے گذارش ہے کہ ائیر پورٹ کے عملے کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور کڑی نگرانی کی جائے کہ بیرون ملک سے آنے والے لوگوں سے کسی قسم کا کوئی جگہ ٹیکس نا لیا جائے تاکہ اپنے ملک کی عزت و تکریم پہ کبھی کوئی انگلی بھی نا اٹھا سکے۔
    @drkshahzad  

  • منظر جو کیمرہ میں قید نہ ہو پایا۔  تحریر: محمد اسعد لعل

    منظر جو کیمرہ میں قید نہ ہو پایا۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    صبح دیر سے اُٹھا تب تک گھر والے ناشتہ کر چکے تھے۔ فریش ہونے کے بعد کچن کی طرف منہ کیا جہاں امی الگ سے میرے لیے ناشتہ بنا رہی تھیں۔ جتنی دیر ناشتہ کیا امی کی باتیں بھی سنی ،،، اگر چائے اور پُراٹھا کھانا ہے تو جلدی اُٹھنے کی عادت بنا لو یا پھراپنے لیے خودناشتہ بنالیا کرو۔۔۔رہی سہی کسر بہن نے یہ کہتے ہوے پوری کر دی کہ کر لو مزے جب تک شادی نہیں ہو جاتی پھر تم جلدی بھی اُٹھ جایا کرو گے اور ناشتہ بھی خود بنا رہے ہو گے۔۔۔یہ روز کا معمول ہے میرے لیے الگ سے ناشتہ بنتا ہے اب جب تک چائے پُراٹھے کے ساتھ امی کی ڈانت نہ سننے کو ملے ناشتہ ادھورا لگتا ہے۔
    ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد لپ ٹاپ اُٹھایا اور ابھی کالم لکھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں بڑے بھائی کی آواز آئی اور اگلے لمحے میں بھائی کا بتایا گیا کام کرنے کے لیے گھر سے بازار جا رہا تھا۔ ٹائم تقریباً پونے بارہ کا ہو چکا تھا اور سر پہ جیسے سورج آگ برسا رہا ہو۔ راستے میں ایک گدھا گاڑی دیکھی جس پر سامان لدا ہوا تھا وہیں بچوں کے ساتھ اُن کے امی اور ابو بھی بیٹھے تھے۔ گدھا گاڑی کے ساتھ ایک کتا بھی تیز تیز قدم اُٹھاتے چل رہا تھا یقیناً یہ اُن کا پالتو کتا تھا ۔یہ لوگ شاید خانہ بدوش تھے۔
    بچوں کے ہاتھ میں ایک ایک قلفی ہے جسے وہ بڑے مزے سے کھا رہے ہیں۔ بچوں کا سارا دھیان قلفی پر ہے اُن کی آنکھوں میں الگ سی چمک دکھائی دی اور جیسے ایک ہی بات اُن کے ذہن میں چل رہی ہو کہ یہ قلفی کیسے دیر سے ختم ہوگی۔گرمی کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے لگتا ہے کہ بچے آدھی قلفی ہی کھا سکیں گے اور آدھی قلفی گُھل کر ٹپک جائے گی۔
    یہ منظر میں تصویر کی صورت میں قید کرنا چاہتا تھا لیکن موبائل ریڈی کرنے کا وقت نہ تھا۔یا تو منظر دیکھتا یا پھر ہمیشہ کی طرح ہڑبڑاہٹ میں نہ تو تصویر بنا سکتااور نہ ہی منظر دیکھ پاتا۔ لیکن بازارکےکام سے فارغ ہو کر گھر واپس آنے پر سب سے پہلا کام جو میں نے کیا وہ اس منظر کو قلم بند کرنے کا تھا۔
    اس کے بعد اب میں اپنا اگلا کالم لکھنے بیٹھوں گا جسے مکمل ہونے کے بعد آپ بہت جلد باغی ٹی وی کی ویب سائیٹ پر پڑھ سکیں گے۔تب تک کے لیے اللہ نگہبان۔
    @iamAsadLal
    twitter.com/iamAsadLal

  • میرا تجربہ (پارٹ ٹو)  تحریر:  ہما عظیم

    میرا تجربہ (پارٹ ٹو) تحریر: ہما عظیم

    زندگی پرسکون گزر رہی تھی۔۔ ایک دن کولیگ سے اپنی اسکول اور کالج لاٸف کی خوبصورت یادیں تازہ کر رہی تھی۔۔۔اسے بتایا کہ میں کالج لاٸف میں ایک شارٹ اسٹوری راٸٹر ، کالم نگار تھی اور ہلکی پھلکی شاعری بھی کرتی تھی۔۔۔اور اپنے کالج میگزین میں لکھتے ہوۓ بیسٹ اسٹوری راٸٹر ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہوں۔۔وہ مجھے بے یقینی سے دیکھنے لگی کامرس کی اسٹوڈنٹ اور ادب سے شغف۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔اسکی شک بھری نظروں کو دیکھتے ہوۓ۔۔ثبوت کے طور پر اگے دن اپنی میگزین میں چھپی ایوارڈ لیتے ہوۓ کی تصویر بھی دیکھا دی۔۔تب اس نے بتایا کہ اس کے کزن ایک میگزین چلاتے ہیں۔۔ان سے بات کرتی ہوں انہیں تم جیسوں لکھاریوں کی ضرورت رہتی ہے۔
    سو اس نے مجھ سے میگزین لے لیا۔۔جلد ہی میٹینگ سیٹ ہوٸی۔۔اور ہم ایک جانے مانے میگزین کا حصہ بن گۓ۔۔ایک اہم پیج کی زمہ داری سونپی گٸی۔۔شوق بہت اچھا پورا ہو رہا تھا ۔۔۔مشہور لوگوں سے انٹرویو لینے ٹیم کے ساتھ جانے کو ملتا ایسے میں اپنے پسندیدہ لوگوں سے ملاقات۔۔لگتا کہ اللہ تعالہ فل مہربان ہیں
    پھر ایک دن میگزین سے جڑے لوگوں کی میٹینگ تھی
    عموماً تمام میٹینگز دن میں رکھی جاتی تھیں۔۔مگر کچھ خاص لوگوں کے ٹف شیڈول کی وجہ سے میٹینگ رات میں رکھی گٸی۔اب چونکہ رات گھر سے باہر کی اجازت نہیں تھی۔۔تو پاپا جی سے درخواست کی اکیلے تو جانے نہیں دیں گے۔خود ہی ساتھ چلیں تا کہ میرا ساتھ بھی ہو جاۓ اور میں میٹینگ میں بھی شریک ہو سکوں۔بس وہ لاسٹ ڈے لاسٹ ناٸٹ ہو گٸی اس میگزین میں۔۔پاپا جی نے شرکا پر نظر ڈالی اور غصے سے میری طرف دیکھا۔۔کٸی ماڈلز اور ایکٹریسز اپنے لباس کی وجہ سے پاپا جی کہ غصے کی وجہ بن گٸی۔۔
    پاپا جی اگلے دن ہی گۓ میرے تمام مسودے تمام میگزین ایڈیٹر سے یہ کہہ کر واپس لے آۓ۔۔یہاں کا ماحول مجھے پسند نہیں۔۔میں نے کہا میں تو حجاب میں رہتی ہوں مجھے کیا فرق پڑتا کوٸی کیا پہنے۔تو پاپا نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ ماحول بندہ بدل دیتا ہے۔۔ہم اپنا سا منہ لے کر رہ گۓ۔بعد میں بس کولیگ اور اس کے کزن سے سوری کہہ دیا۔
    لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔اسکے بعد چند دن بعد ہی ہم ایک انگلش انجینٸرنگ میگزین میں جاب حاصل کرنے میں کامیاب ہو گٸے۔۔۔مگر یہاں سب کچھ مختلف تھا۔باس ایک شفیق انسان تھے۔۔لڑکیوں کا اسٹاف۔۔بہترین ماحول۔ انہونی بات یہ ہوٸی پاپا جی نے باس سے میٹینگ کے بعد جاب اوکے کی۔میرے انٹرویو کےبعد پاپا جی نے بھی باس کا انٹرویو کیا پورا ایک گھنٹہ۔۔مجھے لگا بیٹا یہ جاب بھی گٸی ہاتھ سے۔۔باس کہیں گے جاب میں نےتمہیں دینی ہے یا باس کی جاب تم نے مجھے دینی ہے۔۔مگر یہاں پھر انہونی ہوٸی باس میرے آۓ اور بولو۔ بیٹا آپکے پاپا کے خدشات درست ہیں۔۔ ان شاء اللہ آپ یہاں خود کو محفوظ محسوس کریں گی۔۔اور واقعی باس نے اس بات کو ثابت کیا۔
    بیٹیوں کی طرح حفاظت رکھی۔سات سال میں اس جریدے کے ساتھ منسلک رہی۔جو شروع کی جاب تلاش کرنے کی تکالیف والی باتیں تھیں۔۔سب کا آزالہ ہو گیا
    حقیقت میں ایک اچھی نوکری کی تلاش ایک اچھے رشتے کی تلاش جیسی ہی مشکل ہے۔۔آپ کو نہیں پتہ ہوتا آپ جن لوگوں میں جارہے ہیں وہ کیسے ہیں۔مگر فرق یہ ہے کہ نا پسندیدگی پر آپ باآسانی استعفی دیکر جان چھڑا سکتے ہیں۔۔آج کے دور میں ایک مجبور لڑکی کا نوکری کے لٸیے نکلنا کھلے ہوۓ بھیڑیوں کے بیچ سے گزرنا ہے۔۔ہر طرف بھوکے حوس کے مارے بیٹھے ہوتے ہیں۔ایسے میں کسی ایک نیک انسان کا مل جانا کسی نعمت سے کم نہیں۔اور ہوتے ہیں ایسے لوگ بھی جو کسی کی مجبوری کا فاٸدہ نہیں اٹھاتے بلکہ ان کی پریشانی دور کر کے اللہ سے صلے کی امید رکھتے ہیں۔۔ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے تو دنیا اب تک برقرار ہے۔۔آخر میں پھر سے دعا ہے۔۔اللہ پاک اچھے اور نیک لوگوں سے ملاۓ۔۔بروں سے بچاۓ۔۔آمین

    @DimpleGirl_PTi

  • خرگوش  تحریر : علامہ مولانا محمد وقاص مدنی

    خرگوش تحریر : علامہ مولانا محمد وقاص مدنی

    میری آج کی اس تحریر کا موضوع نہایت ہی خوبصورت تیز رفتار اور پست قامت جانور کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے متعلق ہے اور آج میں اپنی اس تحریر میں اُس جانور کی بنیادی معلومات جیسے کہ وضع قطع ، رہن سہن ، اسکی نسل اسکی اقسام اسکے خصائل اور اسکی خصوصیات وغیرہ کو بیان کروں گا انشاءاللہ عزوجل

    تو آئیے چلتے ہیں اپنے موضوع کی طرف…

    خرگوش یہ اسم جنس ہے جوکہ نر اور مادہ دونوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے
    خرگوش : بکری کے چھوٹے بچے سے مشابہت رکھنے والا ایک جانور ہے جس کے ہاتھ چھوٹے اور پاؤں لمبے ہوتے ہیں اور یہ پچھلی ٹانگوں کی مدد سے ہی چلتا پھرتا ہے

    اسکی اقسام : خرگوش کی سات مختلف اقسام ہیں جو دنیا کے مختلف حصوں میں میں پائی جاتی ہیں اور خرگوش کی ایک قسم اس طرح کی بھی پائی جاتی ہے جس کے بدن کے ایک حصے میں ہڈی اور ایک حصے میں گوشت ہوتا ہے خرگوش رنگت میں سفید کالے اور بھورے پائے جاتے ہیں

    خرگوش کی عمر وزن……

    خرگوش کی عمر تقریباً 9 سے 12 سال ہوتی ہے اور ان کا وزن تقریباً 400 گرام سے 2 کلو تک ہوتا ہے

    خرگوش کے خصائل …….

    خرگوش میں ایک انوکھی بات یہ پائی جاتی ہے کہ یہ جانور ایک سال تک نر ہوتا ہے اور دوسرے سال میں وہ مادہ بن جاتا ہے
    اچھا اسکی دوسری خوبی یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ سوتے ہوئے اپنی آنکھیں کھلی رکھتا ہے اور جب کوئی اسکا شکار کرنے کو آتا ہے تو اس کی کھلی آنکھیں دیکھ یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ جاگ رہا ہے اور وہ خرگوش کا شکار نہیں کرتا
    بعض لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ خرگوش جب دریا کو دیکھتا ہے تو مرجاتا ہے
    جانداروں میں سے جن کو حیض آتا ہے وہ تعداد کے لحاظ سے چار ہیں
    عورت لگڑبگر چمگادڑ اور خرگوش

    خرگوش کا شرعی حکم……….

    حدیث شریف کی مشہور زمانہ کتاب بخاری شریف میں کتاب الھبہ میں ایک روایت بیان کی ہے کہ حضور اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے اس خرگوش کو نہ صرف قبولیت بخشی بلکہ اسے تناول بھی فرمایا ہے
    امام اعظم ابو حنیفہ اور سارے علماء کرام رحمھم اللہ السّلام کے نزدیک اسی روایت کی بدولت خرگوش کا گوشت حلال اور جائز ہے

    خرگوش کی خصوصیات……

    1… جاحظ کا کہنا ہے کہ دور جہالت میں عربی لوگ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اگر کوئی شخص خرگوش کے ٹخنے پہنے تو اس پر بری نظر اور جادو کا اثر نہیں ہوگا کیونکہ ( جن ) خرگوش کے حیض کی بناء پر اسکے نزدیک نہیں آتے
    2… اگر کسی آدمی کے صحتیاب ہونے کے بعد اسکے جسم کا کوئی حصہ ارتعاشی حالت میں مبتلا ہو جائے تو اس آدمی کو خشکی کا خرگوش بھون کر اسکا دماغ کھلائیں تو یہ اس کیلئے بہت فائدہ مند ہوگا
    3… اگر کوئی آدمی دو چنوں جتنا خرگوش کا دماغ لے اور آدھے رطل کے چھٹے حصے جتنا گائے کا دودھ لے کر اسے استعمال میں لائے تو وہ کبھی ضعیف نہیں ہوگا
    4… کینسر کی بیماری میں خرگوش کا انفحہ لگانا بہت فائدہ مند ہے
    5… اگر کوئی خاتون خرگوش کا پنیر کا پانی پئے تو اسکو اولادِ نرینہ ہوگی
    6… اگر کوئی خاتون خرگوش کی منگنی یا گوپر باندھے اور لٹکائے تو وہ خاتون حاملہ نہیں ہوگی
    7… خرگوش کا گوشت پیٹ کی صفائی کرتا ہے اور اس سے پیشاب کھل کر آتا ہے
    8… خرگوش کا گوشت استعمال کرنے سے نیند کا خاتمہ ہو جاتا ہے
    9… خرگوش کا گوشت سرد مزاج لوگوں کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے
    10… اگر کسی خاتون نے خرگوش کا خون پی لیا تو وہ پھر کبھی بھی اُمید سے نہیں ہوگی
    11… خرگوش کا خون سفید داغ دھبوں اور چھائیوں پر لگائیں تو ان شاء اللہ عزوجل داغ دھبے اور چھائیاں ختم ہو جائیں گی
    12…خرگوش کا مغز اگر بچوں کے مسوڑوں پر لگائیں تو بہت جلد اُن کے دانت نکل آئیں گے
    13… خرگوش کے لہو کا سُرمہ آنکھوں میں لگائیں تو آنکھوں بال نہیں آئیں گے
    14… خرگوش کا گوشت بلا ناغہ کھانے سے بستر پیشاب کرنے والوں کو افاقہ ہوگا
    15… ارسطو کا کہنا ہے کہ خرگوش کا پنیر مایہ سرکہ میں مکس کر کے پی لیا جائے تو اسکا پینا سانپ کے زہر کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا
    16… خرگوش کے گوشت میں دوسرے جانوروں کے مقابلے میں پروٹین کیلشیم اور وٹامن زیادہ پایا جاتا ہے جبکہ چکنائی اور سوڈیم کم پائی جاتی ہے

    خرگوش کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر….

    1… خرگوش کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر یہ ہے کہ ایک حسین خاتون ملے گی جس میں محبت پیار نام کی کوئی شے نہیں ہوگی
    2… اگر خواب میں یہ دیکھا کہ خرگوش کو ذبح کیا ہے تو اسکی تعبیر یہ ہے کہ اسکی بیوی فوت ہو جائے گی یا اسکی الگ ہوگی
    3… اگر خواب میں خرگوش کا پکا ہوا گوشت کھایا تو اسکی تعبیر یہ ہے کہ اسے ایسی جگہ سے رزق ملے گا جس جگہ سے اُسے گمان بھی نہیں ہوگا
    4… اگر کسی نے خواب میں یہ دیکھا کہ اس نے خرگوش کا شکار کیا یا کسی نے اس کو خرگوش تحفے میں دیا یا اس نے خرگوش خریدا اور وہ خواب دیکھنے والا شخص کنوارا ہے تو اسے رزق کی نعمت عطا ہوگی اور اگر خواب دیکھنے والا شادی شدہ ہے تو اس کو اولاد کی نعمت عطا ہوگی
    Twitter id
    Waqaskh00123456

  • ہمارے رویے سے منسلک ہے کامیابی ہماری  تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    ہمارے رویے سے منسلک ہے کامیابی ہماری تحریر: سید اعتزاز گیلانی

    زندگی میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے اگر میں کہوں کے ہر کوئی اس بات پر متفق ہے تو یقیناً یہ غلط نہ ہوگا۔ کامیابی حاصل کرنا اگر آسان ہوتا تو آج دُنیا میں ہر شخص ہی ہمیں کامیاب ملتا نہ کوئی مایوس ہوتا اور نہ ہی کوئی پریشان نظر آتا شاید کہ۔ اچھا تو بات کچھ یوں ہے ہر چیز کے دو رخ ہوا کرتے ہیں اب کامیابی کے متعلق بھی یہی چیز ہے کہ یا تو کوئی کامیاب ہوتا ہے یا نہیں ہو پاتا۔ اب اہم چیز یہ کہ وہ کیا ایسی چیز ہے جو کامیابی اور ناکامی میں فرق ڈالتی ہے ذرا آپ بھی سوچیں شاید کے آپکے پاس اسکا بہتر جواب ہو مگر میرے پاس تو اسکا جواب ہے ” رویہ” یہی وہ عنصر ہے جو فرق ڈالتا ہے اب میں آپکو ایک مثال دیتا ہے ہوں کہ میں اور میرا دوست ہم دونوں کی منزل ایک ہی ہے ہم نے اُس منزل کی جانب رواں ہونا ہے ہماری بہت سے چیزیں ایک جیسی ہو سکتی ہے اُن میں ہمارا رویہ بھی آتا ہے اب رویہ اگر ہمارا ایک جیسا ہے تو ہم کامیاب بھی ایک ساتھ ہونگے یا ناکام بھی ایک ساتھ ہی لیکن پھر ایک چیز اگر رویہ اس میں فرق آتا مثلاً کہ کل ہمارا بائیولوجی کا پیپر ہے میرا دوست توجہ سے پیپر کی تیاری کر رہا وہ اس میں سنجیدہ ہے اور اسکا ہدف ہے کہ 95 فیصد نمبر لینے ہیں مگر میں ہوں جو موبائل فون کا استعمال کر رہا سونے میں وقت گزار رہا اب ہمارے درمیان کس چیز کا فرق آیا رویے کا اب ہدف میرا بھی وہی ہے 95 فیصد نمبر کا مگر کیا میں اس صورت حال میں وہ ہدف پورا کر سکوں گا کبھی نہیں جب نتیجہ آئے گا تو میرے اور دوست کے نتیجے میں زمین آسمان کا فرق ہوگا شاید کہ میں پاس بھی نہ ہو سکوں۔ اب اسّی چیز کو اپنی روز مرہ زندگی میں لا کر دیکھیں ہم سب کامیاب ہونا چاہتے ہیں ہمارے اہداف بھی مشترکہ ہوتے ہیں مگر جو چیز فرق ڈالنے والی ہے وہ رویہ ہی ہے لہٰذا اس پر توجہ دینے کی زیادہ ضرورت ہے ہم کوئی بھی کام کر رہے ہوں تو ہمیں اپنے رویہ کو دیکھنا ہوگا سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا تب ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں ہر روز کہی لوگ ملتے ہیں جو اس چیز کی شکایت کرتے ہیں کہ فلاں شخص کامیاب ہوگیا ہم کیوں نہیں ہوتے اس کے لیے آپکو اپنے رویہ میں تبدیلی لانی ہوگی آپکو سنجیدہ ہونا ہوگا آپکو اپنے کام سے عہد کرنا ہونا ہوگا۔ اپنا احتساب کرنا ہوگا یاد رکھیں اپنے آپ کو آئینے کے روبرو کرنے والے ہی کامیابی کا مزہ چکھ سکتے ہیں، خود میں بہتری لا سکتی ہیں۔ یہ لمبی کہانی ہو گئی ہے یہ میں نے خود کو سامنے رکھ کر لکھی ہے میں بھی اسّی فیز سے گزر رہا ہوں کامیابی کی تلاش میں لہذا خود کو جانے گے تو کچھ کر سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے علم میں عمل میں قلم میں برکت عطا فرمائیں۔ شکریہ

    TA : @AhtzazGillani

  • سلطنت عثمانیہ کا دسواں سلطان تحریر: ذیشان علی

    سلطنت عثمانیہ کا دسواں سلطان تحریر: ذیشان علی

    دولت عثمانیہ 1299 میں قائم ہونے والی مسلمانوں کی سلطنت جس کے حکمران "ترک” تھے،
    سولہویں اور سترہویں صدی میں یہ سلطنت دنیا کے تین براعظموں میں پھیل چکی تھے،
    سلطان سلیمان 15 سال کی عمر میں گھوڑے پر بیٹھے اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ جنگوں میں گزارا انہوں نے ایشیا اور یورپ کے کئی علاقوں کو فتح کیا اور تمام فتح کیے علاقوں کو عثمانی سلطنت کا حصہ بنایا،
    سلطان سلیمان 1494 کو ترابزون (موجودہ ترکی کا علاقہ) میں پیدا ہوئے,
    وہ 1520 کو عثمانی سلطنت کے دسویں سلطان کے طور پر تخت نشین ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کے 89 خلیفہ بھی منتخب ہوئے,
    جس دور میں آپ تخت نشین ہوئے اس دور میں مسیحی مغربی طاقتیں متحد ہو رہی تھیں یورپ کی سلطنتیں قرون وسطیٰ کے خلفشار سے نکل کر عہد جدید کی معرکہ آرائیوں کے لئے تیار ہو رہی تھی، وہ سب آپس کے مذہبی اختلافات بھلا کر عثمانی سلطنت کے خلاف اگٹھے ہو رہے ہیں،
    کیونکہ پچھلے کئی سالوں سے سلطنت عثمانیہ اور مغربی طاقتوں کے درمیان کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی تھی سلطان سلیمان کے والد سلیم اول کی زیادہ تر توجہ تمام اسلامی ریاستوں کی طرف مبذول رہی، اس مدت میں یورپ کی سلطنتوں نے بہت نمایاں طور پر ترقی کر لی تھی،

    اسپین سے مورس کا اخراج ہو چکا تھا وہاں کی چھوٹی چھوٹی مسیحی ریاستیں متحد ہو کر ایک فرمانروا کے زیر حکومت آ چکی تھیں، فرانس بھی اپنے اندر کی مذہبی انتہا پسندی اور خانہ جنگی پر قابو پا کر دوسرے ملکوں کی فتوحات کی طرف نکل چکا تھا،
    آسٹریا اور انگلستان میں بھی قوت و استحکام کی علامتیں موجود تھیں،
    اور چارلس پنجم جس کی سلطنت یورپ کے نصب حصے پر پھیلی ہوئی تھی اس مسیحی اتحاد میں پیش پیش تھا،
    اور دوسری طرف ایشیا میں ایران کی وسیع سلطنت سے بھی عثمانی سلطنت کو خطرات لاحق تھے، اور اس کے علاوہ شام اور مصر میں ہر وقت بغاوت کا خدشہ رہتا،
    ایسے میں سلطنت عثمانیہ کو چارلس پنجم اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ ایک بہت بڑا چیلنج درپیش تھا، چناچہ سلیمان حکومت سنبھالنے کے بعد اپنے 46 سالہ دور اقتدار میں کسی نہ کسی جنگی مہم میں مصروف رہے، جہاد کا جذبہ سلطان سلیمان کے سینے میں موجزن تھا اس جذبے نے انہیں آخری وقت تک میدان عمل میں مصروف رکھا،
    سلطان سلیمان تخت نشین ہونے کے اگلے سال ہی بلغراد فتح کرنے نکل گئے سلطان نے وہاں سب سے بڑے گرجا گھر میں نماز ادا کی اور اس گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کردیا گیا،
    بلغراد کی سرحدوں کے دوسرے قلعوں پر بھی عثمانیوں نے قبضہ کرلیا اور اس طرح ہنگری بھی فتح کیلئے عثمانیوں کے سامنے کھلا پڑا تھا،
    سلطان سلیمان کی بلغراد فتح کا اثر یہ ہوا جمہوریہ وینس نے خود کو سلطنت عثمانیہ کا باج گزار تسلیم کر لیا اور یوں انہوں نے عثمانیوں کو سلانہ خراج دینے پر اکتفا کر لیا،
    بلغراد اور رودوش یہی وہ دو معرکے تھے جن میں سلطان محمد فاتح کو شکست ملی تھی،
    اس کے علاوہ رودوش کے جہاز بحیرہ روم کے مشرقی حصے میں مجمع الجزائر اور اناطولیہ کے ساحلوں پر لوٹ مار مچاتے رہتے تھے، اور مصر اور شام کے درمیان جو تعلقات قائم ہوگئے تھے ان میں مبارزین رودوش اپنے جہازوں کے ذریعے رخنہ ڈالتے رہتے تھے،
    بلغراد تو فتح ہوچکا تھا چنانچہ سلطان سلیمان نے ردوش فتح کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ عثمانیوں پر لگے اس داغ کو بھی صاف کرنا چاہتا تھا،
    سلیمان عالی شان ایک لاکھ فوج لے کر ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل کی طرف بڑھا۔ سلطان 28 جولائی 1522 رودوش کے ساحل پر اترا اور اس نے جزیرہ رودوش کا محاصرہ شروع کر لیا،
    پانچ ماہ تک محاصرہ جاری رہا اور محاصرین کی قوت سے مجبور ہوکر بلآخر انہوں نے 6 دسمبر 1522 ینچروں کے اگئے ہتھیار ڈال دیئے سلطان نے مبارزین کو اجازت دے دی کہ وہ بارہ روز کے اندر اپنے تمام اسلحہ اور ساز و سامان کو لے کر اپنے ہی جہازوں پر رودوش سے چلیں جائیں، اگر ان کے جہاز کم پڑتے ہیں تو ہمارے جہازوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں،
    لیکن اکثریت میں رودوش کے باشندوں نے سلطان کی رعایا بننا پسند کیا اس کے بعد انہیں مکمل طور پر مذہبی آزادی دے دی گئی،پانچ سال کے لیے ٹیکس بھی معاف کر دیا گیا اور ان کے کلیساؤں سے بھی کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، بلغراد اور روش کی فتح کے بعد ہنگری سسلی اور اٹلی کے راستے سلیمان کے لیے کھل گئے،
    لیکن مصر کی بغاوت اور ایشیائے کوچک کی شورش نے اسے اپنی طرف متوجہ کرلیا، لیکن سلطان سلیمان نے اس پر بھی قابو پا لیا اور وہ ہنگری کی طرف سفر کے لیے تیاریاں شروع کرنے لگے،
    سلطان سلیمان نے ایک لاکھ فوج اور تین سو توپوں کے ساتھ قسطنطنیہ سے روانہ ہونے کے پانچ ماہ بعد 28 اگست 1526 کو موباکز کے میدان میں ہنگری کے شہنشاہ شاہ لوی اور اس کی فوج سے مقابلہ کیا،
    دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں سلطان سلیمان کو فتح حاصل ہوئی اور ساتھ ہی ہنگری کی قسمت کا فیصلہ بھی ہو گیا اور ہنگری کا شہنشاہ اور اس کے کچھ وزیر مشیر اور سپاہی بھاگتے ہوئے دریا میں ڈوب کے مر گئے،
    چنانچہ سلطان سلیمان نے ہنگری کا اقتدار زاپولیا کو سونپا اور خود پایہ تخت واپس آگئے،
    لیکن ہنگری میں خانہ جنگی شروع ہو گئی،
    آرک بوک فرڈیننڈ جو شہنشاہ چارلس پنجم کا بھائی تھا، ایک صلح نامہ کی رو سے جو چارلس پنجم اور سابق شہنشاہ ہنگری شاہ لوئی کے درمیان ہو چکا تھا ہنگری کے تخت کا دعویدار ہو گیا،
    ایسے حالات میں زاپولیا اور اس کے حامیوں نے اپنی موافقت میں ہنگری کا ایک قدیم قانون پیش کیا جس کی رو سے ہنگری کے باشندے کے علاوہ کوئی دوسرا شخص وہاں کا بادشاہ منتخب نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس کے باوجود وہاں کے امرا نے فرڈیننڈ کو منتخب کر لیا،
    چنانچہ جنگ ناگزیر ہوگئی لیکن فرڈیننڈ کے ساتھ آسٹریا کی مدد تھی اس نے زاپولیا کو شکست دے کر ملک سے بھگا دیا،
    زاپولیا نے پولینڈ میں پناہ لینے کے بعد سلطان سلیمان کو اس معاملے سے آگاہ کیا اور مدد طلب کی، اور دوسری فرڈیننڈ نے بھی اپنا ایک سفیر سلطان سلیمان کے پاس بھیجا،اور اس نے سلطان سے ہنگری پر اپنا اقتدار تسلیم کرنے اور اس کے علاوہ بلغراد اور رودوش لینے کا مطالبہ کر دیا،
    ایسے میں سلطان سلیمان 1529 کو ڈھائی لاکھ کا لشکر لے کر ہنگری پر چڑھ دوڑا اس نے ہنگری کو دوبارہ فتح کرلیا اور پھر اقتدار زاپولیا کے حوالے کیا اس نے ہنگری سے سفر جاری رکھتے ہوئے ویانا کا محاصرہ کر لیا سلطان اس فتنے کی جڑ کو ہی ختم کرنا چاہتا تھا لیکن تین ماہ کے عرصے تک ایک قلعہ فتح ہو سکا موسم کی خرابی کی وجہ سے سلطان کو محاصرہ ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آرہا تھا،
    ہنگری کو عثمانی سلطنت کا حصہ بنا دیا گیا چناچہ سلطان آسٹریا کے علاقے ویانا سے محاصرہ اٹھا کر واپس آ گیا لیکن یورپ کے قلب تک سلطان سلیمان اپنی سلطنت کو پھیلا چکا تھا،
    اس کے بعد اس نے ایران کا سفر کیا اور اس نے ایران کے بہت سے علاقوں اور آذربائیجان تک اپنی سلطنت کے رقبے کو وسیع کر دیا،
    سلطان سلیمان نے جب تخت نشین ہوئے تھے تو اس وقت سلطنت کا کل رقبہ 68 لاکھ کلومیٹر تھا لیکن جب اس کے 46 سالہ عظیم الشان دور کا اختتام ہوا تو اس وقت سلطنت عثمانیہ کا کل رقبہ لگ بگ 1 کروڑ 48 لاکھ کلومیٹر تھا،
    عدل و انصاف اور لاجواب انتظام کی بدولت انہوں نے دولت عثمانیہ کو خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ مملکت کے لیے قانون سازی کا جو خصوصی اہتمام کیا اس وجہ سے ترک قوم نے انہیں سلیمان قانونی کے لقب سے نوازا اور یورپ کے مفسرین نے انہیں سلیمان ذیشان، سلیمان علیشان اور سلیمان اعظم جیسے ناموں سے مخاطب کیا،
    1565 میں آسٹریا سے جنگ پھر شروع ہوگئی جس میں مسیحیوں نے کچھ کامیابی حاصل کر لیں، سلطان اس وقت کافی بیمار ہو چکے تھے لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی فوج کی قیادت کرنے کیلئے سفر پر جانے کا فیصلہ کیا،
    2 اگست 1566 کو ایک قلعہ کا محاصرہ کیا جو 8 ستمبر تک جاری رہا اور آخر کار قلعہ فتح ہوگیا،
    اس وقت جب لشکرِ اسلام خوشی سے جھوم رہا تھا وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ ان کا محبوب سلطان اللہ کی رحمت میں جا چکا ہے،
    سلطان 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب اس فانی جہان سے رخصت ہو چکے تھے،
    سلطان کی میت کو واپس قسطنطنیہ لایا گیا وہاں ان کی تعمیر کردہ مسجد سلیمانیہ میں ان کو سپرد خاک کیا گیا،
    اللہ سلطان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے،
    آمین

    @zsh_ali

  • عمرہ کا سفر تحریر:  دانش علی

    عمرہ کا سفر تحریر: دانش علی

    اسلام وعلیکم۔
    وہ کہتے ہیں کہ اگر صبر کریں یقین رکھیں اور دل سے دعا کریں تو وہ دعا قبول ہونے میں دو پل بھی نہیں لگتے کیونکہ رب سے مانگ کر دیکھو تو سہی
    ایک وہی تو ہے جو حقیقت میں آپ کا منتظر ہے ۔
    ایسا ہی میں اپنے عمرہ کا سفر آپ سب کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں کہتے ہیں جب اللّٰہ کے گھر سے بلاوا آتا ہے جیب میں کچھ ہو یا نہ ہو حاضری لگ ہی جاتی ہے بس اللّٰہ پر ایمان پختہ دل صاف اور نیت پاک ہونی چاہیئے اگر کسی چیز کی تمنا ہو تو اسے اپنا جنون بنا لینا چاہیئے کیونکہ جب کوئی امید نہ ہو تب زیادہ یقین سے مانگو کیوں کہ معجزے خدا کی شان ہیں ایسی ہی حسرت میری تھی جب بھی کوئی احباب عمرہ یا حج کے لئے تشریف لے جاتے تھے ایک تمنا دل میں گھر کر لیتی تھی جب سرکار بلائے گے کب عمرہ کے لئے جائے گے الحمدللہ اللّٰہ نے جب بلایا تو خبر ایک گھنٹہ پہلے ملی کہ عمرہ کے لئے تیاری کرو میں عمرہ کا دلچسپ سفر آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ۔
    یہ بات دو سال پہلے چھبیس رمضان کی ہے میں تراویح پڑھ کر آیا تو میرے کفیل نے کہا کہ تیاری کرو عمرہ کرنے جاؤ جب یہ بات سنی اپنے رب کا لاکھ شکر ادا کیا کہ حاضری لگ گئی ہے آنکھیں نم ہو گئیں اور جمعرات کا دن تھا رات آٹھ بجے سعودیہ عرب کے شہر طریف سے روانہ ہوئے عمرہ کے لئے اور یہ سفر طریف سے مکہ سولا گھنٹے کا ہے جو سولا سو کلو میٹر بنتا ہے یہ میری زندگی کا بہترین وقت اور خوبصورت سفر تھا اللّٰہ سب کو اس یسا سفر نصیب فرمائے سفر کی جب شروعات ہوئی تو میں نے محسوس کیا اپنے دل کے جذبات کو کس قدر بے چین تھا کعبہ کا دیدار کرنے کے لئے کچھ باتیں محسوس کی جاتی ہیں لکھ کر بیان نہیں کی جا سکتی ایسے ہی سفر جاری تھا صحری کے لئے ایک ہوٹل پر صحری کی اور وہ ہوٹل کے آس پاس پہاڑ تھے جو مجھے اس قدر لطف اندوز کر رہے تھے زبان س ایک ہی بات جاری تھی سبحان اللہ سبحان اللہ سفر جاری رہا جیسے جیسے مدینہ منورہ پاس آ رہا تھا دل کی دھڑکن بھی بڑھتی جا رہی تھی مغرب کے وقت مدینہ منورہ پہنچے افطار کی نماز کی ادائیگی کے بعد سب تیاری مکمل کرنے کے بعد مکہ کا سفر شروع کیا دنیاوی باتوں سے دور دل ذکر الٰہی کرتے ہوئے سحری کے وقت مکہ پہنچے بزرگوں سے سنا تھا جب کعبہ پر پہلی نظر پڑتی ہے تو ہر دعا قبول ہوتی ہے فجر مسجد اقصیٰ میں ادا کی پھر عمرہ ادا کیا الحمدللہ لکھنے کو تو بہت ساری باتیں ہیں لیکن کچھ باتیں صرف محسوس کی جا سکتی ہیں۔۔
    ‏اللہ پاک آپ سب کو ہمیشہ ایمان و صحت کی بہترین حالت میں رکھے آنے والا ہر دن رحمتوں اور برکتوں والا ہو ۔

  • ہم پڑھے لکھے بے کار تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    ہم پڑھے لکھے بے کار تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم ہم نے پڑھے لکھے جاہل کی اصطلاح تو بہت بار سنی اور سمجھتے بھی ہیں.
    مگر یہ پڑھے لکھے بے کار کیا بلا ہے
    ہم اگر آج سے دس بیس سال پیچھے چلے جائیں تو خال خال گریجوایٹ ہوا کرتے تھے.ہر گھر سے کوئی ایک کالج یا یونیورسٹی جانے والا ہوتا تھا.
    مگر اب پرائیویٹ اداروں کی بھرمار نے نقشہ بدلا پڑھے لکھے اور بلخصوص کالج اور یونیورسٹی جانے والوں کی "تعداد” میں نمایاں اضافہ ہوا.
    اور اب ہر گھر میں گریجویٹ ملتا ہے.
    ان اعدادوشمار پہ خوشی تو ہوتی ہے مگر ایک دکھ کی کیفیت طاری رہتی ہے
    کہ تعداد تو بڑھ گئی معیار نہ رہا
    ڈگریاں تو آگئیں ہنر نہ رہا
    ہمارے کمزور اور بے ہنر ہاتھوں کی کرامت ہے کہ ہم سے رہبری چھن گئی ہے
    آج چودہ سولہ سال پڑھنے لکھنے کے بعد بھی ہم بے ہنر رہ جاتے ہیں.
    ہم اپنے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے بھی محتاج اور سراپا احتجاج بنے رہتے ہیں

    کرونا وباء نے جہاں تعلیمی ادارے بند کروائے وہیں تعلیمی معیار کی قلعی کھول کے رکھ دی کہ ہزار پڑھے لکھوں نے مل کے وہ نہ کمایا جو ایک ہنر مند نے کما لیا.
    فری لانسنگ اور ای کامرس میں ہنر کی ضرورت اور اہمیت نے ہمیں جھنجوڑ کے رکھ دیا
    کمانے کے لیے ایسی راہیں کھولیں جن پہ ڈگریوں والے ڈگمگا گرے اور ہنر والے بازی لے گئے
    ڈگری کے حصول کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہی مگر یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ڈگری پروگرامز وقت کا ضیاع ہیں اور ہمارے جوان یونیورسٹیوں سے محض کاغذ کا ٹکڑا حاصل کر. کے نکلتے ہیں.
    آزاد چائے والا کے فلسفے کو سو بٹہ سو نمبر دیتے ہوئے تائید کروں گی کہ ڈگری سے بہتر ہنر ہے
    اب ہنر کو محض ویلڈنگ سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے تو جو کام آپ اپنی عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کرتے ہیں اسکا مقابلہ کوئی ڈگری نہیں کر سکتی.
    ہمارے تعلیمی نظام کے تمام نقائص میں سب سے بڑا نقص پریکٹیکل کی کمی ہے.چین اور جاپان کے سکول سسٹم سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے
    جہاں طلباء حصول علم کے ساتھ گھرداری بھی سیکھتے ہیں .
    ہم پڑھ لکھ کر بے کار ہیں کیونکہ ہم نے صرف پڑھا ہے اس کو کہیں استعمال میں لانے کے لیے ہمارے پاس گراؤنڈ ہی نہیں تھا نہ ہی پریکٹس.
    علم اور ہنر کو جب تک لازم و ملزوم کر کے تعلیمی نظام کو ازسرنو تعمیر نہیں کیا جاتا ہم
    پڑھے لکھے بے کار پیدا کرتے رہیں گے.جو گلے شکوے اور شکایات کے ساتھ ٹائر جلایا کریں گے.
    عمل سے زندگی بنتی ہے ….

    @hsbuddy18

  • اسلام میں حضرات صحابہ کرام کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    اسلام میں حضرات صحابہ کرام کا کردار تحریر: سید عمیر شیرازی

    اسلام جب وجود میں آیا تو اللّه تبارک و تعالی نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہ السلام کو دنیا میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کیلئے بھیجا اور انکی اس دعوت و تبلیغ کے لیے کچھ مخصوص لوگ چنے،
    اسی طرح جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی اور آپکو جب نبوت سے نوازا گیا تو آپﷺ کے اس مشن کیلئے جو لوگ چنے رب العزت نے وہ حضرات صحابہؓ کی جماعت تھی اور صحابہ کرامؓ کی تعداد کم و بیش چونتیس ہزار بتائی گئی ہے بعض روایات میں یہ وہ جماعت تھی جن کی تربیت براہ راست میرے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔۔
    صحابہ کرام رضوان اللّه تعالی علیہم اجمعین میں بھی ہر صحابیؓ کو الگ الگ درجہ حاصل ہے جس میں عشرہ مبشرہ دس خوش نصیب صحابی رسولؑ بھی موجود ہیں جنہیں دنیا میں ہی جنّت کی بشارت سنا دی گئی تھی جن کے نام یہ ہیں
    ابو بکر
    عمر
    عثمان
    علی
    طلحہ بن عبید اللہ
    الزبیر بن العوام
    عبدالرحمن بن عوف
    سعد بن ابی وقاص
    سعید بن زید
    ابو عبیدۃ بن الجراح رضی اللہ تعالی عنہ

    یہاں عوام الناس کچھ غلط فہمیوں کا شکار بھی رہی ہے کہ اگر یہ صحابہ کرامؓ جنتی ہیں تو کیا باقی جنتی نہیں ہے؟
    تو یہاں یہ بات بتانا چاہوں گا صحابہ کرامؓ میں بھی ہر صحابیؓ کو اپنا الگ مقام حاصل ہے لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں حضور اکرمﷺ کے سارے صحابہ کرامؓ جنتی اور معیار حق ہیں۔
    انبیاء علیہ السلام کے بعد
    صحابہ کرامؓ میں سب سے افضل مرتبہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو حاصل ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام اور حضورﷺ کی پیروی میں گزاری اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیقؓ کو یہ شرف بھی حاصل ہے آپؓ نے حضورﷺ کی موجودگی میں انکے کہنے پر امامت بھی کروائی اسی طرح حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ جن کی شان یہ تھی کہ رب العزت نے انہیں حضورﷺ کی دعا کے مانگنے پر ساتھی چنا اور حدیث کی متعدد روایات میں محمد عربیؐ نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔۔
    اسی طرح حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کی شان دیکھیں جنہیں دو نور والا لقب حاصل ہے آپؓ کے نکاح میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں تھیں ایک بیٹی جب فوت ہوئی آپﷺ نے دوسری بیٹی نکاح میں دی اور جب دوسری بھی فوت ہوگی تو آپؐ نے فرمایا اگر میری اور بیٹیاں بھی ہوتی تو وہ بھی عثمانؓ کے نکاح میں دیتا حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ وہ جلیل القدر صحابی ہیں جن سے اللہ پاک بھی حیا کرتے ہیں اور قیامت کے روز آپؓ کی شہادت
    کی گواہی قرآن مجید دے گا۔۔
    حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ جنکو حیدر کرار کا لقب حاصل ہے
    آپؓ کی شجاعت اور بہادری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں آپؓ وہ صحابی ہیں جنہوں نے فتح خیبر کے موقع پر خبیر کا دروازہ اکیلے کھولا جو اس وقت بیس سے تیس لوگ بھی مل کر نہیں کھول سکتے تھے آپؓ کے نکاح میں خاتون جنت اور لخت جگر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا تھی۔
    اسی طرح پھر سیدنا امیر معاویہؓ جنہوں نے شام و روم کو فتح کیا آپؓ کو کاتب وحی کا لقب حاصل ہے آپؓ زہین اور باوقار شخصیت کے مالک تھے اور رشتے میں پوری امت مسلمہ کے ماموں لگتے ہیں آپ کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ جب فتح مکہ ہوا تو حضور اکرم صلی وسلم نے فرمایا جس نے ابو سفیان کے ہاں پناہ لی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا،
    یہ تاریخ کا ادنا سا حصہ صرف بتایا ہے بلکے ادنا سے بھی ادنا حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی زندگی پر خدا کی قسم ہزاروں کتب بھی لکھی جائے کم ہے اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے ہمیں سیدھی راہ پر چلنے اور حضرات صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    آمین

    @SyedUmair95

  • امریکہ کا خونی کھیل، مریم اور نوازشریف کا کردار تحریر: رانا عزیر

    امریکہ کا خونی کھیل، مریم اور نوازشریف کا کردار تحریر: رانا عزیر

    اس وقت افغانستان کی صورتحال فیصلہ کن مراحل میں داخل ہوچکی ہے، وزیراعظم عمران خان کا ایک اور انٹرویو امریکی نشریاتی ادارے کو دیا گیا، جس میں عمران خان نے واضح کیا امریکہ کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ وہ یہ جنگ ہار گیا ہے، اب امریکہ پاکستان کے خلاف ایک ایسا محاذ کھولنا جارہا ہے جو پاکستان کیلئے مشکل ہوگا ، وہ اصل پلان کیا ہے؟اور اسی ایجنڈے پر نوازشریف اور مریم نواز بھی کام کررہی ہے، بھارت بھی اپنے سلیپر سیل کیلئے ذریعے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کررہا ہے۔
    ایک طرف لندن میں نوازشریف پاکستان کو گالیاں دینے والوں کے ساتھ ملاقاتیں کررہے ہیں اور پاکستان کے خلاف سازشیں اور سکیمیں کررہے ہیں، امریکہ کا اصل پلان یہ ہے کہ وہ پاکستان کو توڑ کر آزادی کی تحریکوں کو جنم دے، وہ کیسے؟ امریکہ افغانستان میں خانہ جنگی شروع کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے اور وہ اس خانہ جنگی کو پاکستان منتقل کرنا چاہتا ہے، ایک پائپ لائن جو عراق سے شروع ہوتی ہے اور پھر پاکستانی ہمالیہ، کشمیر سے چین جاتی ہے جس سے تیل چائینہ جائے گا اور چینی سرمایہ کاری مشرق وسطی تک جائے گی، اور پاکستان کے ایک طرف مستقبل کی سپر پاور چین، ایک طرف بھارت، ایک طرف توانائی کا کوریڈور اور پاکستان اب پوری دنیا کیلئے بہت اہم ہوگیا، تو امریکہ براہِ راست پاکستان پر حملہ نہیں کرسکتا، تو امریکہ نے پلان کیا کہ وہ پاکستان میں آزادی کی تحریکوں کو جنم دے پاکستان اور افغانستان کی پشتون آبادی کو ملا کر پاکستان کو توڑ دے، یہی کچھ مریم نواز آزاد کشمیر میں کررہی ہے کشمیر کے خلاف پروپیگنڈا کررہی ہے اور اسے توڑنے کی سازش کررہی ہے، اور عمران خان نے آج امریکہ کو واضح کردیا ہے کہ ہم بھرپور جواب دیں گے اور اب برابری کی سطح پر بات ہوگی۔ یہ سازش نوازشریف گزشتہ برس سے دشمنوں کے ساتھ ملکر مختلف ممالک کے سفارتکاروں، اہم شخصیات اور غیر ملکی ایجنسیوں سے رابطے کرکے اس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا گروہ اور جماعت تشکیل دی جائے جو پاکستان کو توڑنے کیلئے سرگرم رہے صرف جمہوریت کا راگ الاپ کر، معاملات سنگین ہورہے ہیں اور امریکہ اپنی کاروائیاں تیز ست تیز تر کرتا چلا جارہا ہے۔

    twitter.com/RanaUzairSpeaks