Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • شادی اور فضول رسم و رواج  تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    شادی اور فضول رسم و رواج تحریر : چوہدری یاسف نذیر

    Twitter Handle: @IamYasif

    پاکستان میں اکتوبر سے مارچ شادیوں کا موسم ہوتا ہے، ہر خاندان میں کوئی نہ کوئی شادی طے ہوتی ہے۔ اکتوبر کا مہینہ آتے ہی ہر طرف سے شادی کارڈ آنے شروع ہوجاتے ہیں جن میں لکھا ہوتا ہے "جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں” لیکن یہ لکھتے وقت ہمارا معاشرہ بھول جاتا ہے کہ جوڑے بے شک آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن مشکلات ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ تقسیم ہند سے پہلے کئی صدیاں مسلمان، سکھ اور ہندو ایک ساتھ رہے، یوں ایک دوسرے کے رسم و رواج بھی اپنا لئے گئے۔ پاکستان بنا تو اسلام کے نام پر تھا لیکن بدقسمتی سے ہندووانہ رسم و رواج آج بھی ہماری شادی بیاہ میں قائم و دائم ہیں۔

    شادیوں پر لاکھوں اڑانے کے بجائے سادگی سے نکاح کرکے بہت سے مسائل سے بچا جاسکتا ہے لیکن ایک جملہ آڑے آجاتا ہے اور وہ ہے "لوگ کیا کہیں گے”۔ آج اسی جملے پر بات کرتے ہیں اور غور کرتے ہیں کہ یہ جملہ کہاں کہاں ہمیں فضول رسم و رواج کی طرف دھکیل رہا ہے

    پہلی رسم کا نام ہے منگنی جس پر ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق ہزاروں سے لے کر کروڑوں روپے لگاکر جھوٹی شان و شوکت قائم کرتا ہے، اگر یہ رسم نہ کریں اور سادگی سے رشتہ طے کریں تو "لوگ کیا کہیں گے” جیسے جملے سنائی دینے لگتے ہیں۔ منگنی کے بعد اکثر اوقات معمولی اختلاف پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور پھر خاندان کئی کئی سال ایک دوسرے سے ناراض رہتے ہیں۔

    منگنی کے بعد الگ سے شادی کی تاریخ رکھنے کے لئے ایک فنکشن ہوتا ہے جس میں خاندان بھر کے لوگ اکٹھے کرکے دوبارہ سے کھانا پینا کیا جاتا ہے، عام طور پر یہ رسم لڑکی کے گھر کی جاتی ہے، جس سے لڑکی کے خاندان پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، حالانکہ شادی کی تاریخ دونوں کے والدین سادگی سے طے کرسکتے ہیں لیکن یہاں بھی لوگ کیا کہیں گے؟ کی وجہ سے سب خاموش ہوجاتے ہیں۔

    شادی کی شروعات ڈھولکی سے ہوتی ہے، جہاں کئی دن ڈھول اور اونچی موسیقی لگاکر ہمسایوں کو تکلیف پہنچائی جاتی ہے، مہندی سے قبل سنگیت اور اُبٹن جیسی ہندووانہ رسمیں بھی شادی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں، مہندی کی رسم عموماً دو دن ہوتی ہے پہلے لڑکی کی مہندی اور پھر لڑکے کی مہندی۔ آج کل کئی شادیوں پر مشترکہ شادیوں کا رجحان بھی آچکا ہے۔

    ایک اور رسم جس کا نام گھڑولی ہے جو بارات والے دن کی جاتی ہے، سر پر پانی کا گھڑا رکھ کر خواتین کسی رشتہ دار کے گھر سے پانی بھر کر لاتی ہیں، یقینا یہ رسم بھی ہمیں بھارت سے ہی ملی ہے۔ بارات کی رسم سے شروعات سے قبل جہیز کے معاملات طے ہوجاتے ہیں، لڑکی کو فرنیچر، برتن اور الیکٹرانک مصنوعات سمیت بعض لوگ گاڑی اور گھر تک دیتے ہیں۔ جہیز سے متعلق واقعات تو ہم اکثر پڑھتے اور دیکھتے ہیں کہ کیسے لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے ساری عمر کنواری بیٹھی رہتی ہیں لیکن لڑکوں کے ساتھ بھی کوئی اچھا سلوک نہیں ہوتا۔ حق مہر کے علاوہ دلہن کے سونے کے زیورات اور رشتے داروں کے مہنگے لباس کی رسم بھی موجود ہے۔ بارات کے آتے ہی دولہا کو صوفے پر جگہ دینے کے نام پر رقم بٹوری جاتی ہے، اسکے بعد جوتا چھپائی اور دودھ پلائی جیسی متعدد رسومات کے نام پر دولہے کی جیب خالی کی جاتی ہے۔ ولیمہ کی رسم میں کو بھی شاہانہ طرز دینے کی وجہ سے نوبیاہتا جوڑے پر مالی دباو آتا ہے، مہنگے شادی ہال اور لذیز پکوان ضروری تصور کئے جاتے ہیں

    نیچے دی گئی چند احادیث کی روشنی میں نکاح کی اہمیت کا اندازہ کریں

    حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: چار چیزیں انبیاء کرام (علیہم السلام) کی سنت میں سے ہیں:حیاء ،خوشبو لگانا، مسواک کرنا اور نکاح‘
    (ترمذی، ج:۱،ص:۲۰۶)

    ابن ابی نجیح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ: مسکین ہے، مسکین ہے وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کیا: اگرچہ وہ بہت مال والا ہو تب بھی وہ مسکین ہے؟ آپ ا نے فرمایا: ہاں! اگرچہ وہ بہت مال والا ہو، پھر فرمایا: مسکین ہے، مسکین ہے وہ عورت جس کا خاوند نہ ہو، لوگوں نے عرض کیا: اگرچہ بہت مالدار ہو تب بھی وہ مسکین ہے؟ آپ ا نے فرمایا: ہاں! اگرچہ مال والی ہو‘‘۔
    (مجمع الزوائد ،ج:۴،ص:۳۲۸،بحوالہ معجم طبرانی اوسط )

    حضور اکرم ا کا ارشاد ہے:
    ’’اے جوانو!تمہیں نکاح کرلیناچاہیے، کیونکہ یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والا اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والا ہے،اور جو اس کی طاقت نہ رکھے وہ روزے رکھے‘‘۔ (ترمذی، ج:۱،ص:۲۰۶)

    ’’جو شخص نکاح کرنے کی طاقت ہونے کے باوجود نکاح نہ کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے(یعنی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں)‘‘۔ (مجمع الزوائد،ج:۴،ص:۳۲۷)

    ہمیں سوچنا چاہیئے کہ نکاح کو ہم نے آخر کیوں مشکل بنادیا ہے، اگر ہم اسلامی احکامات پر عمل کریں تو ان فضول رسومات سے بچ سکتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نکاح میں تاخیر سے معاشرے میں بےراہ روی بڑھی ہے۔ اللہ پاک ہمیں سادگی اور میانہ روی احتیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین

    Chaudhry Yasif Nazir is a freelance journalist, Columnist, Writer and social media activist who writes for baaghitv.com . He raises social and political issues through his articles, for more info visit his twitter

    account @IamYasif

    https://twitter.com/IamYasif

  • بلوچستان زلزلہ تحریر   ار کے

    بلوچستان زلزلہ تحریر ار کے

    ترجمہ ۔
    "”ہم تولوگوں کوڈرانے کے لیے ہی نشانیاں بھیجتے ہیں "” الاسراء ( 59 ) ۔
    چھ اکتوبر کو ایک دوست کی دعوت پر کراچی سے شام چھ بجے کوئٹہ بلوچستان پہنچا۔ پرتکلف عشائیے کے بعد دن بھر کے سفر سے نڈھال میزبان کے کثیر منزلہ بیٹھک ( مہمان خانہ ) کے اوپری منزل میں تقریبا رات گیارہ بجے لیٹا ہی تھا ،کب کیسےانکھ لگی پتہ ہی نا چلا۔
    ادھی رات کو مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی میرے بیڈ کو جھولا دے رہا ہو بِلبِلا کر اٹھا ۔
    بیڈ مسلسل ہچکولے کھارہا تھا مجھے کچھ سمجھ نہیں آ ریا تھا اٹھتے ہی موبائل ٹارچ ان کیا تو  ٹائم تین بج کر دو منٹ تھا بیڈ ہی نہیں پورا بنگلہ جھول رہا تھا ۔
    کھڑکیوں اور دروازوں کے کھڑکھڑانے کی خوفناک اوازوں سے اور بھی سہم گیا تھا۔
    مجھے سمجھنے میں زیادہ دیر نا لگی۔ خوف اور زلزلے کی تباہ کاریاں جاننے کے باوجود پژمردگی سےاپنے حواس پر قابو رکھا اور مسلسل ایات الکرسی کاورد کرنے لگ گیا تھا۔
    اتنی دیر میں چند اور مہمان جو نچلی منزل میں ٹھہرے تھے اور میزبان ساتھیوں کا شور سنائی دیا وہ چیخ رہے تھے باہر نکلو زلزلہ ہے۔
    زلزلے کی خوف کی وجہ سے لوگ گھروں سے باہر نکلے ہوئے تھے  جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے ہوائی فائرنگ بھی شروع ہو چکی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جاگ کر باہر نکل سکے۔
    مسجدوں میں اعلانات اور اذانیں بھی شروع ہو گئیں۔
    کوئٹہ واسی کافی چوکس تھے یاد رہے مئی 1935 کا تباہ کن زلزلہ بھی رات تین بج کر تین منٹ پر ایا تھا ، جس سے چند ہی سیکنڈ میں کوئٹہ ملیا میٹ ہوا تھا اور 70 ہزار سے زائد لوگ لقمہ اجل بنے تھے ،اس کے مقابلے میں موجودہ کوئٹہ کافی گنجان اباد اور خطرناک ہے ۔ کیونکہ کوئٹہ خطرناک فالٹ لائن پر واقع ہے۔
    میں کچھ دیر بیڈ پر ساکت بیٹھا رہا جھٹکے تقریبا رک چکے تھے میں اٹھا وضو کر کے تہجد کی نماز پڑھنے بیٹھ گیا۔ ربّ سے اپنے کردہ ناکردہ ،جانے انجانے گناہوں کی معافیاں مانگتا رہا اور امت رسول ﷺ کی حفاظت و خیریت کی دعائیں مانگتا رہا۔
    اتنی دیر میں دوست اوپر میرے پاس پہنچا اور باہر روڈ پہ نکلنے کی ضد شروع کر دی، میں نے  باہر نکلنے کی حامی بھری اور دوست کے ہمراہ باہر مین روڈ پہ نکل ایا۔
    باہر ا کر انگشت بدنداں رہ گیا۔ روڈوں پہ جمِ غفیر امڈ ایا تھاہر طرف لوگ ہی لوگ۔خواتین بوڑھے اور بچوں سے روڈ بھرے تھے۔ہر چہرہ خوفزدہ تھا  نفسا نفسی کا عالم تھا سب نوح کناں تھے۔
    ہر ایک کی لبوں پہ ذکر قرانی تھا کچھ با اواز بلند ذکری کلمات پڑھ رہے تھے اور کچھ گڑ گڑا کر اپنی گناہوں کی معافیاں مانگ رہے تھے۔
    ہلکی سردی محسوس ہو رہی تھی لیکن اللہ تبارک تعالی کا کرم خاص تھا کہ موسم زیادہ سرد نا تھا اگر کچھ دن کے فرق سے یہ زلزلہ اتا تو زلزلے کے ساتھ ساتھ سردی کی تباہ کاریاں بھی مشکلات میں اضافہ کر سکتی تھیں۔
    مں نے رب کا شکر ادا کیا کہ اس پاس پڑوس سے ابھی تک  کسی جانی یا  مالی  نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔
    ایک اور بات جو میں نے مشاہدہ کی تھی کہ فرقہ پرستی کو فروغ دینے والےبدعتی لوگ ،  دولت ،شہرت و بلند مرتبوں کے زعم میں مبتلا  گمراہ لوگ ،  سب کچھ بھول کر اپنے عہدوں پیسوں اور فرقوں سے بالاتر ہو کر، بے سر و عالم ایک اللہ کی طرف متوجہ تھے ۔
    فجر کے اذانوں تک اکثر لوگ باہر تھے اذانوں کے بعد بغرض باجماعت  نماز دوست کے ہمرا مسجد کا رخ کیا تو خلاف توقع مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی ۔
    بے شک ، میرے ربّ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
    "زُلْزِلَتْ” زلزال سے ہے یعنی ہلادیا جانا۔ اَلاَرْضُ کے معنی زمین کے ہیں
    ایک پارسا مسلمان  کا پختہ عقیدہ ہوتا ہے کہ زلزلے بلاسبب نہیں اتے اور  ان کیلیےزلزلوں کے دنیاوی اسباب سے انکار ناممکن  ہے بلکہ اس کے پیچھے اللہ سبحان تعالی کا حکم کار فرما ہونا ہی سمجھتا ہے۔
    قران و حدیث کی رو شنی میں ،لوگوں کے برے اعمال زنا، سُود اور شراب نوشی کا عام ہونا۔ لوگوں کا گانے بجانے کو اپنا مشغلہ بنانا۔ اچھائیوں کا حکم اور برائیوں سے لوگوں کو روکنے کا عمل بند کردینا۔ لوگوں کا ان بُرے اعمال کو نا صرف کرنا ہی نہیں بلکہ انہیں جائز اور وقت کی ضرورت سمجھنے لگنا، رشوت خوری ،حلال حرام کی تمیز  سے مبرا ہوکر صرف دولت جمع کرنا ،زکواۃ نا دینا ،غریبوں یتیموں کے حق پہ ڈاکہ مارنا ہی دراصل زلزلوں  کے اسباب ہیں۔
    اللہ تبارک تعالیٰ فرماتے ہیں
    کیا پھربھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگۓ ہيں کہ ان پرہمارا عذاب رات کے وقت آپڑے اور وہ سو رہے ہوں ، اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہوگۓ ہیں کہ ان پرہمارا عذاب دن چڑھے آپڑے اوروہ کھیل کود میں مصروف ہوں ، کیا وہ اللہ تعالی کی اس پکڑ سے بے فکر ہوگۓ ہیں تواللہ تعالی کی پکڑ سے نقصان اٹھانے والوں کے علاوہ اورکوئی بے فکر نہیں ہوتا ۔ 
    الاعراف ( 97 – 99 ) ۔
    زلزلے آنے پر ہمیں اپنی سر کشی سے گریز کرنا چاہیے اور اس عہد کے ساتھ کہ آئندہ شرعی حدود کے اندر رہتے ہو ئے زندگی گزاریں گے۔ اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنے کردہ گناہوں کی معافی بھی مانگنی جائے۔تو اس بات میں کوئی ابہام نہیں ہمارا رب غفور و رحیم ہے اور اپنے بندوں کیلیے توبہ کے دروازے  ہمیشہ کُھلے رکھتا ہے اور افتیں بھی ٹال دیتا ہے۔تحریر : اے ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan 

  • ڈاکٹر عبدالقدیر قومی ہیرو؟ تحریر۔ ثناالله

    ڈاکٹر عبدالقدیر قومی ہیرو؟ تحریر۔ ثناالله


    کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو تھے؟
    جی نہیں معذرت کے ساتھ مجھے جمھور سے اختلاف ہے میری رائے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو نہیں تھے  اُن کے کچھ ایسے راز جو ہم نہ جان سکے اُن کی کچھ باتیں جو ان کے حیات ہونے کے دوران پسِ پردہ رہیں !
    حدیث نبوی ہے "تیر بنانے والا” تیر پہنچانے والا اور تیر چلانے والا تینوں جنتی ہیں
    قارئین تیر اندازی والوں کے لئیے یہ بشارت کس لئیے ، یہ بشارت اس لئیے نہیں کہ انہوں نے تیر ایجاد کیا بلکہ یہ بشارت اس لئیے ہے کہ انہوں نے اس ایک تیر سے غلبہ اسلام کی کوششیں کی تھیں ۔دین حق کی سر بلندی کے لئیے نعرہ لگانے کا ثمر یہ ملا کہ اس تیر کی تیاری سے لے کر اس کے آخری استعمال تک اس کار خیر میں حصہ لینے والوں کو جنت کی بشارت دے دی گئی
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے نہ صرف ایٹم بم نہیں بنایا بلکہ عالم اسلام کو ایٹمی صلاحیت سے لیس کرکے دنیائے کفر میں ایک امر حقیقت کے طور پر ثابت کیا
    قارئین یہ وہ وقت تھا کہ جب دنیائے گفر کی طاقتیں "ایٹم بم "کے زور پر ایک دوسرے زیرو زبر کررہی تھیں اس وقت اسی کا ڈنکہ ہوتا تھا جس کے پاس جس ایٹمی ہتھیار ہوتے تھے
    تاریخ کائنات میں وہ موڑ تھا جب عالم اسلام عالمِ کفر کے زیرنگیں تھااور انہی کے رحم وکرم پر اپنی بقا چھوڑے ہوئے تھے
    تبھی رب کائنات نے پاکستان کی سرزمین کا ایک سپوت چُنا اس وقت اس کے پاس دُنیا کمانے کے لئیے بہت کچھ تھا وہ چاہتا تو اس کی نسلیں عیش کرتی وہ ایک عام انسان نہ تھا بلکہ اعلٰی تعلیم یافتہ سائنسدان اس کو دنیائے کفر کی خدمات کے لئیے بڑا معاوضہ ملتا تھا لیکن اسے جانے کیا سوجھی دنیا کی عیش و عشرت،مال و متاع چھوڑ پاکستان کی جانب چل دیا اور دنیا سے تعلق توڑ عالم اسلام کو ایک عالمی طاقت بنانے کی خواہش لئیے پاکستان میں ڈیرے ڈال دئیے
    قارئین پاکستان کے بارے میں یہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کوئی ملک نہیں یہ رب کریم کا معجزہ ہے اور اس پاک ذات کے رازوں میں ایک راز ہے 27 رمضان کو پاکستان کا قیام بذات خود ایک معجزہ ہے اور سرزمین پاکستان اسی اسلامی ریاست کے قیام کے بعد عالمِ اسلام کا ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ بنے کھڑی ہے اور جب جب اسلام پرطکچھ مشکل وقت آیا تو پاکستان یا اس کے سپوتوں نے خدمت اسلام کو جہاد سمجھ کر سر پر کفن باندھ کر اسلام کا نام سر بلند کیا
    اسلام کو ناقابلِ فراموش عالمی حقیقت بنانے کے لئیے بھی رب جلال نے سرزمینِ پاکستان اور اس کے مجاہد سپوتوں کا انتخاب کیا اور 6 مئی 1998 کو اقوام عالم نے وہ منظر دیکھا جس کے بعد وہ جان گئے کہ اب اسلام کو تا قیامت کوئی دبا نہ پائے گا
    قارئین یہاں یہ بات قابل فکر و تدبر ہے کہ جب پاکستان نے ایٹم بم بنایا تب سے اب تک دُنیائے کفر اسے "اسلامی بم” کے نام سے جانتی ہے گویا یہ ایٹم بم بنانے کا جو معرکہ تھا وہ کوئی ملکی یا قومی معرکہ نہ تھا بلکہ یہ کفر اور اسلام کا معرکہ تھا یہ حق اور باطل کی تفریق کا معرکہ تھا
    یہ تاریخ اسلام میں مسلمانوں کی دنیوی زبوں حالئ کے باوجود دنیا میں اپنے نام کو قائم و دائم اور سربلند رکھنے کا معرکہ تھا تو یہ معرکہ "ڈاکٹر عبدالقدیر خان ” نے سر کیا اور حق و باطل میں پھر سے حدِ فاصل قائم کردی !
    قارئین اب چلتے ہیں میرے آرٹیکل کے شروع میں دئیے گئے جواب کی جانب اس دلیل پر میں حق پر ثابت ہوا کہ "ڈاکٹرعبدلقدیر خان” قومی ہیرو نہیں بلکہ اسلام کے ہیرو ہیں
    اب یہ امر افسوس ناک ہے کہ ہم نے رب کے دئیے ہوئے اس معجزے کو پہچان نہ دی ہم نصابی  اور تاریخی کتب میں اسلامی ہیروز کے نام تو پڑھتے رہ گئے لیکن اس مرد مجاہد کی اس کی اصل پہچان نہ دی
    اسلام پہ کئے  گئے اس احسان کو احسان نہ مانا اور اللہ کے اس ولی کے فیض سے محروم رہ گئے
    ہم طارق بن زیاد کوتو یاد کرتے ہیں ہم سلطان صلاح الدیین ایوبی کی بہادری کے ڈنکے توبجاتے ہیں ہم سلطان محمودغزنوی کو امت کا لیڈر تو مانتے ہیں لیکن امت مسلمہ کے اس جانباز اور درخشندہ ستارے کو کبھی پہچان نہ پائے اب اسے کامیابی کہیے یا ناکامی قومی خوشنصیبی کہیے یا بدنصیبی ۔اخلاقی انحطاط کانام دیں یا اخلاقی عروج کا اسے سزا سمجھیں یا جزا حقیقت یہی ہے کہ رب کریم نے ہم میں ایک اپنا چُنا ہوا بندہ بھیجا اس سے عالم اسلام کی خدمت کاکام لیا ولیوں جیسی گمنام زندگی دی اور اسی خاموشی سےاسے اپنی طرف بلالیا
    ہم نہ تو اس کی خدمات سے فیض لے پائے نا اس ولی اللہ کی پہچان کر اسکی خدمت کا موقع بھی فراہم ہوا
    اللہ پاک مرحوم کوکروٹ کروٹ سکون و بخشش نصیب فرمائے اور ہم جیسے بندہ ناچیز سے بھی عالم اسلام کی سربلندی کے لئیے چھوٹاموٹا کام لےلے تاکہ ہمیں بھی شفاعت کا کوئی ذریعہ نصیب ہو
    آمین
    ستارے تو روز ہی ٹوٹ کر گرتے ہیں
    غضب ہوا آج تو آفتاب ٹوٹا ہے 💔

    ‎@sanaullahakhtar

  • ربیع الاول اور وزیراعظم کے اقدامات تحریر : سید محمد مدنی 

    ربیع الاول اور وزیراعظم کے اقدامات تحریر : سید محمد مدنی 

    وزیراعظم عمران خان جب سے حکومت میں آئے ہیں ربیع الاول اور رسول ﷲ ﷺ سے متعلق بہترین کام کئے ہیں وزیراعظم پر مختلف قسم کے فتوے لگے کہ یہ فلاں ایجنٹ ہے تو یہ ہے تو وہ ہے مگر آج اگر وزیراعظم کے کیے گئے اقدامات پر نظر دوڑائیں تو یہ کہنا مشکل ہوگا کہ کچھ نہیں کیا گیا.

    وزیراعظم نے قومی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح پر رسول ﷲ ﷺ سے متعلق معاملات کو اجاگر کیا اور خاص کر آپ رسول ﷲ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے عناصر جن میں خاص کر یورپی ممالک کو یہ احساس دلایا کہ یہ جو آپ کام کرتے ہیں اس سے مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوتے ہیں آپ کو اندازہ نہیں کہ مسلمان کس تکلیف سے گزرتا ہے.

    اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے جو تقریر کی اس میں انھوں نے رسول ﷲ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں اور غیر مسلم کو یہ باور کرایا کہ آپ رسول ﷲ ﷺ مسلمانوں کے دل میں رہتے ہیں. صرف یہی نہیں بلکہ او آئی سی اور مسلمان ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم سے ملاقات کر کے اس حساس معاملے کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسلمان ممالک ایسی کوئی قرار داد پاس کریں کہ آئندہ کسی کی بھی  ہمت  نہ ہو یہ حرکت کرنے کی.

    پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے ہی دور میں قومی اسمبلی کی کارروائیوں میں ایک تبدیلی کروائی گئی کہ جب بھی رسول ﷲ ﷺ کا نام لکھا جائے تو نام سے پہلے آخری نبی لکھا جائے. اس کے علاوہ ملک بھر میں سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے کانفرینسز منعقد کروانے کا سلسلہ بھی شروع کروایا. مجھے آپ یہ بتائیں کہ جو شخص (وزیراعظم عمران خان) پاکستان کو ریاست مدینہ جیسا بنانا چاہے تو وہ بھلا کسی بھی حساس معاملے کے خلاف کیسے جا سکتا ہے کیا اس سے پہلے اس معاملے پر کوئی ٹھوس کا ہؤا جیسے کہ او آئی سی یا اقوام متحدہ میں رسول ﷲ ﷺ سے متعلق معاملات کو اٹھایا گیا ؟

    اس بار بھی ہمیشہ کی طرح وزیراعظم عمران خان نے بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے بہترین اقدامات کروائے ہیں عشرہ رحمت العالمین کے ﷺ پر تمام اسکول کالجز جامعات درسگاہوں میں سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے تقاریر سیمینار وغیرہ منعقد کروائے جائیں گے اور علماء کرام طلباء کو اس کی اہمیت پر لیکچر دیں گے. حکومتی چینلز اور میڈیا پر سیرت النبی صلعم سے متعلق پروگرامز بھی دکھائے جائیں گے اور وزیراعظم کی ہدایات پر ٣ ربیع الاول سے ١٣ ربیع الاول تک عشرة ربیع الاول منایا جائے گا.

    وزیراعظم نے رسول ﷲ ﷺ کی تعلیمات اور ان کی سنت پر عمل کرنے کا زور دیا مزید کہ ہم جمعة کی نماز پڑھنے جاتے تو ہیں مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ رسول ﷲ ﷺ نے کیا فرمایا کن باتوں پر عمل کرنے سے منع فرمایا اور کن باتوں پر عمل کرنے کو کہا انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان رسول ﷲ ﷺ پر جان بھی قربان کر سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل بھی تو کریں ناں اور یہ بھی تو دیکھیں کہ آیا ہم ان کے کردار سے کچھ سیکھ بھی رہے ہیں یا نہیں عشرہ ربیع الاول ﷺ کی مناسبت سے ایک بہت عمدہ جملہ وزیراعظم نے کہا کہ

    میرا یہ ایمان ہے اگر ایک انسان نے عظیم انسان بننا ہے تو نبی ﷺ کو رول ماڈل بنالے اور اگر ایک قوم نے عظیم بننا ہے تو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلے. 

    وزیراعظم کے خلاف جتنی نامناسب باتیں میڈیا اور صحافت میں ہوئی ہیں وہ انتہا کو پہنچیں صرف اس لئے کہ وزیراعظم ﷲ اور اس کے رسول ﷲ ﷺ کے باتیں کیوں بتا رہا ہے. ہم اگر ﷲ کے رسول ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کریں گے تو ہی ہماری آخرت میں کامیابی ہوگی اور یہی چیز وزیراعظم بار بار کہتے ہیں کہ رسول ﷲ ﷺ کی تعلیمات کو اپناؤ. 

    غرض یہ کہ بے فکر رہیں وزیراعظم ہر ممکن اقدامات کریں گے اس معاملے اسی کے ساتھ میری تحریر کا اختتام ہوتا ہے.

    Twitter Id ‎@M1Pak

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری پٹیشن اور پی ایم سی تحریر: ناصر بٹ

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری پٹیشن اور پی ایم سی تحریر: ناصر بٹ


    ‎@mnasirbuttt

    یوں تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پوری زندگی سائنسی تجربات، قوم کے درد اور کمزوروں کا سہارا بنتے گزری لیکن زندگی کے آخری ایام میں بھی قوم کے مستقبل یعنی سٹوڈنٹس کا درد ان کے دن میں موجود تھا، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر پاکستان میڈیکل کمیشن، میڈیکل سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کو آمنے سامنے دیکھا، متاثرہ سٹوڈنٹس کا دکھ برداشت نہ ہوا اور کمزوری کی حالت میں بھی طلبا کے شانہ بشانہ چلنے کا فیصلہ کیا اور اپنے وکیل وقاص ملک ایڈووکیٹ کو بلاتے ہی کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان میڈیکل کمیشن کو لیکر چلیں، میں بھی دیکھتا ہوں اس قوم کے سٹوڈنٹس کے ساتھ میرے ہوتے ہوئے کون زیادتی کرتا ہے، دکھ اس بات کا ہے اور شائد اب ساری زندگی ساتھ چلے کہ قوم کے اس محسن کو بس پاکستان میڈیکل کمیشن کے خلاف دائر کی جانے والے پٹیشن پر دستخط کرنے کا ہی موقع مل سکا اور کیس سماعت کے لیے مقرر ہونے سے پہلے ہی ان کا مقررہ وقت آن پہنچا اور وہ خالق حقیقی سے جاملے، آج جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تو اس میں انہوں نے پی ایم سی کے کنڈکٹ آف ایگزامنیشن ریگولیشن 2021 کو کاالعدم قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ احتجاج کرنے والے ینگ ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹوڈنٹس پر پولیس کے لاٹھی چارج سے دنیا بھر میں ایٹمی پاکستان کا امیج خراب ہوا اور طلبا کو مناسب وقت دیے بغیر امتحان کا نیا سسٹم متعارف کرانا درست نہیں، ایڈووکیٹ وقاص ملک سے بات ہوئی تو انہوں نے واضع کہہ دیا کہ مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ینگ ڈاکٹرز کے لیے پٹیشن دائر کرنے کی ہدایت کی اور یوں محسن پاکستان کی آخری دستخط شدہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی ہے، اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اسلام آباد کے وفد کی وقاص ملک ایڈوکیٹ سے ملاقات کے لیے پہنچ گیا، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے وفد میں شامل صدر وائی ڈی اے ڈاکٹر فیض اچکزئی اور چیرمین ڈاکٹر حیدر عباسی نے وقاص ملک ایڈووکیٹ کو مکمل سپورٹ فراہم کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایم ڈی کیٹ، این ایل ای سمیت پی ایم سی کے کسی بھی غیر قانونی اقدام کی بھرپور مخالفت کریں گے، دوسری جانب آگ میں تیل کا کام پی ایم سی صدر و نائب صدر کی جانب سے پریس کانفرنس میں تب ہوا جب حکام کی جانب سے یہ کہہ کر پریس کانفرنس چھوڑنے کر جانے کی راہ لی گئی کہ صحافیوں کے تمام سوالات پلانٹڈ ہیں جس پر صحافیوں کی جانب سے بھی خوب اظہار ناراضگی اور شدید احتجاج کیا گیا اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اس معاملے پر کس حد تک نظر ڈالتی ہے

  • عورت  کا مطلب ہے پوشیدہ چھپی ہوئی چیز    تحریر  غلام مرتضیٰ

    عورت  کا مطلب ہے پوشیدہ چھپی ہوئی چیز تحریر غلام مرتضیٰ

    ، وہ ہیرا 💎جس کی چمک سب کو میسر نہیں ہوتی ،جس کی چمک سب کو خیرہ نہیں کرتی،.                                               جس کا وجود سب کے لیے تسکین نہیں ہوتا ،ہاں اپنے محرم رشتوں کی ابیاری کرنے والا یہ نازک وجود السلام کی نظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے،                                                                          باحثیت بیٹی یہ عورت اپنے باپ کے انگن کی بلبل ہے جس کی چہک سے باپ کے ہونٹوں کی مسکراہٹ قائم ہے ،باعث رحمت ہے وجود اس کا،                                                                                اپنے والدین اور بھائیوں کا درد دل سے محسوس کرنے والی یہ ہی صنف نازک ہے ، اس کی  بےلوث دعائیں ہمیشہ اپنے باپ اور بھائیوں کے گرد حصار رکھتی ہیں،                                        اور تو اور دین اسلام نے عورت کو  وہ مقام دیا جو کسی  مزہب میں نہیں دیا گیا باحثیت ماں پاوں میں جنت ہی رکھ دی گئی سبحان اللہ،                                                                            یہ ہی عورت بیوی ہونے کی حثیت سے اپنے شوہر کے دل کا سکون بھی ہے اور اس کا ایمان قائم رکھنے کی علامت بھی اپنے گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنا نے کی کاریگر بھی ،           اللہ اکبر کبیرا ،.                                                                 کتنا بلند مقام ہے عورت کا تو پھر کون سی ایسی چیز ہے جو عورت کو لبرل ازم کے طریقوں پر چلا رہی ،کیوں مرد حضرات اپنی خواتین کو جدت پسندی ،مغربی تہزیب سے بچا نہیں رہے؟؟   

    بیوی کی صورت میں تمام تر ذمہ داری مرد پے دے کر عورت کو شان سے بیٹھنے کا حکم دیا مرد ہی کمائے گا اور پوری کرے گا یہ ذمہ داری اسی چار دیواری میں ایک بیوی ایک ماں بنتی ہے جنت پاؤں میں آ جاتی ہے اسلام نے عورت کو جو عزت مقام دیا  روئے زمین پر آج تک کسی مذہب میں عورت کو وہ مقام حاصل نہیں ہے  بلکہ عورت اگر غیر مسلم بھی ہے اس کو بھی حقوق دیے دوران جنگ جہاں مرد کو لڑنے کا حکم دیا وہی پر عورت کو ہاتھ تک لگانے کی اجازت بھی نہیں دی  بلکہ ایک لونڈی کی بھی حد رکھ دی حقوق دیے  اور بے شک یہی سچا دین ہے جو ہم سب کی کامیابی کا راستہ ہے

    لیکن اگر کچھ مرد جواتین کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہے اسے قطعاً مذہب کے ساتھ مت جوڑا جائے
    دین اسلام نے سارا سال بلکہ ساری زندگی کے حقوق طے کر دیے تو عورتوں کا ایک دن عورتوں کے حقوق پے قدغن لگانے کے مترادف ہے

    اور یہود و نصاریٌ  ، یورپ اور  ایلومینٹی

    عورت کو کال گرل فاحشہ وحشیہ طوائف بائی اور بھی عجیب گھٹیہ نام دے کر عورت جیسے عظیم نام کی  توہین کی جاتی ہے  ایک لڑکی کو جسم فروشی سے پیسا کمایا جاتا ہے اور بچے پیدا کراوئے جاتے ہے پھر شادی کی جاتی ہے اور وہی بچہ بڑا ہو کر ان کو اولڈ ہاؤس داخل کروا دیتا ہے
    ہالی وڈ سے لیکر بالی وڈ صرف جسم کی نمائش کی جاتی ہے کپڑے اتارے جاتے ہے پھر جا کے کچھ پیسے ملتے ہے اور تو اور پھر اسی عورت کو پورن گرافی بھی کروائی جاتی ہے اور اس پے ایوارڈ دیے جاتے ہے فگر سٹائل کو مدنظر رکھ کے کیا اسلامی معاشرے کی عورتیں اسی قسم کی آزادی چاہتی ہے
    اللہ کی قسم یہ آزادی ہے بلکہ شیطان کی غلامی ہے پتا نہیں کتنی ہی بہنیں اس دھوکے میں آ کے زلیل و رسوا ہوگئی خدارا میں اپنی بہنوں سے درخواست کروں گا کیا اتنے خوبصورت جسم اللہ نے آگ میں جلنے کے لیے پیدا کیے ہیں  آج تم فطری طور پر چھپکلی کاکروچ کو دیکھ کر ڈر جاتی ہو تو قبر میں سانپ بچو کاٹے گے تو سوچو کیا ہو گا جس حسن کو آج لوگوں کو دکھا دکھا کر فخر محسوس کرتی ہو  کل کو آگ کی نظر ہو جائے گا خدارا لوٹ آؤ سچے دین کی طرف اپنی جانوں پے ظلم مت کرو

    معزرت کے ساتھ اب وقت ہے کہ مرد حضرات کو  لا دینیت، اور دیوثیت کی زنجیریں توڑ کر اپنی بچیوں،اور خواتین کی تربیت السلام کے اصولوں پر کریں تاکہ کفار جو بے حیائی کا بیج ہمارے معاشرہ میں بو رہے ہیں وہ تناور درخت بنے اس سے پہلے ہم مسلمانوں کو اس کی جڑیں کاٹ دینی چاہیے،                                                                                                  تاکہ۔اللہ کے سامنے ہم منہ دکھا نے کے قابل رہیں ،عورت ہیرا ہے اس کی تراش محرم مرد کرتے ہیں ،اٹھیں ہمت کریں اج اور ابھی سے باریک بینی سے مشاہدہ کریں کہ گھر کے ماحول کو با پردہ کیسے بنانا ہے اللہ مدد کرے گا

    ‎@__GHulamMurtaza 

  • مردہ پرست قوم تحریر: حمزہ طاہر

    مردہ پرست قوم تحریر: حمزہ طاہر

    ہم مردہ پرست لوگ ہیں۔ کسی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کی موت کا انتظار کرتے ہیں۔
    وقت بدلا سال بدلے حالات بدلے لیکن اس قوم کی ناقدری کی عادت نہیں بدلی۔
    شاید یہ اس قوم یا پھر بنی نوع انسان کی فطرت ہے کہ وہ وقت پر کسی کی قدر نہیں کرتا۔ ناقدری ہماری فطرت میں حلول کر گئی ہے۔ اسی لئے ہم ہر روز کسی نہ کسی نئے سانحہ سے دو چار ہو رہے ہیں اور رحمت نما انسان ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔
    ہماری بہت سی بدنصیبیوں اور کج فہمیوں کے ساتھ ہمیں ناقدری کی فطرت بھی ورثہ میں ملی ہے کہ ہم اپنے ادیبوں، شاعروں، فلاسفروں، دانشوروں اور عظیم شخصیات کی وقت پر قدر نہیں کی اور ان کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ حقدار تھے۔
    ہمیشہ خدا کی عطا کردہ ان نعمتوں کے چھن جانے کے بعد یاد آیا کہ ہم سے ایک عظیم ہستی بچھڑ گئی اور ہم نے وقت پر اس کی قدر نہ کی۔ یہ ہماری قوم کا بدترین المیہ ہے کہ زندہ لوگوں کو مارتے رُلاتے اور تڑپاتے ہیں اور مرنے والوں کیلئے روتے تڑپتے اور پچھتاتے ہیں۔
    مردہ پرست قوم ایسی ہی ہوتی ہیں زندہ محسنوں کی بے قدری کرتی ہے اور مرنے کے بعد ان کی قبروں پر خوبصورت مزارات تعمیر کر کے، ان پر رنگ برنگی چادریں چڑھاتی ہے اور ان کے قیصدے پڑتی ہیں ،کارنامے بیان کرتی ہے۔
    یہی ہمارا المیہ ہے زندوں کی بے قدری اور مردوں کی عزت و توقیر!!!!
    ہماری تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے یہی ہمارا کام ہے اور یہی ہم اپنے عظیم محسن قوم ، محسن پاکستان کے ساتھ کیا ہے۔
    محسن قوم ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب ہم شرمندہ ہیں! ہم نے اپ کی قدر نہ کر سکے۔
    آپ کی خدمات اور احسانات کا بدلہ ہم کیا چکا سکیں گے کہ ہمارے جیتے جی ملک کے اس عظیم سپُوت کی ایسی ناقدری ہوئی کہ شرافت کا یہ پیکر، کردار کا یہ غازی اور عظم کی مثال یہ عظیم ترین انسان اپنی آدھی سے زیادہ زندگی پریشانیوں اور بیماریوں کی نذر رہا۔
    مجھے آنسوءوں میں ڈوبی وہ منحوس شام کبھی نہیں بھولتی جب ڈاکٹر صاحب سے ’ پاکستان سے محبت کا اقبالِ جرم ‘ کرایا جارہا تھا اور وہ اپنا کلیجہ چبا چبا کر ناکردہ گناہ تسلیم کرتے ہوئے اپنا گلہ پھانسی کے پھندے میں ڈال رہے تھے ۔ دھتکار ہے ان لوگوں پہ جو اس گھنائونی سازش میں شریک تھے ۔ تُف ہے ایسے منافقوں پر جنھوں نے آپ کو اس پہ آمادہ کیا اور جو بعد میں کفِ افسوس بھی مل رہے تھے اور ساتھ ہی یہ اقرار بھی کہ ” آج ڈاکٹر قدیر نے دوسری دفعہ پاکستان کو بچایا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان
    غیر اعلانیہ حراست میں ہی رب کے حضور حاضر ہوگے
    اے محسن پاکستان اے محسن اسلام میں ایک پاکستانی ہونیکی حثیت سے شرمندہ ہوں۔ آپکی ذات تو سر آنکھوں پہ بٹھانے کے قابل تھی۔
    دنیا تو محسنوں کے لئے زندگیاں وقف کر دیتی ایک ہم ہیں کہ اس عظیم انسان کی زندگی ہی دکھ و درد کا شاخسانہ بنا دی
    ہم بطور قوم کس منہ سے اظہار افسوس کر رہے ہیں کیونکہ اس انسان کی ازیت زدہ زندگی میں ہم سب بھی برابر کے شریک ہیں۔
    آج میں بطور پاکستانی انتہائی شرمندہ ہوں یہ لکھتے ہوئے کہ
    یہ قوم آپ جیسے عظیم انسان کے قابل نہیں تھی!
    گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات بھی قدیر
    ستم ظریف مگر کُوفیوں میں گزری ہے (ڈاکٹر عبدالقدیر خان)

    Acemaker007
    Twitter Handle: @

  • پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    پسماندہ سے ترقی پذیر تک: بنگلہ دیش: عمران افضل راجہ

    پچاس سال قبل جب پاکستان دو لخت ہوا اوربنگلہ دیش  معرض وجود میں آیا تو اس کا
    شمار دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں ہوتاتھا۔  قدرتی آفات اور آبادی کے بوجھ
    تلے دبے، کم شرحِ خواندگی، غربت، محدود قدرتی وسائل اور گنتی کی چند صنعتوں
    والے اسخطہ کے بارے میں اقوام عالم کو یہ یقین تھا کہ پاکستان سے الگ ہوکر یہ
    اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ پچھلے ۵۰؍ برسوں میںاس  نے بہت سے نشیب و
    فراز دیکھے اور بے شمار مصائب کا سامنا کیا۔ 1974ء کی قحط سالی، 1991ء کا
    سمندری طوفان، عوامیبغاوت اور فوجی کارروائی نے اس کے مسائل میں بے پناہ اضافہ
    کیا۔ لیکن  نہ صرف اس نے اپنا وجود اور پہچان برقرار رکھی بلکہتیزی سے ترقی کی
    راہ پر گامزن ہوا۔ عالمی ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ جلد ہی یہ ملک دنیا کی
     تیز رفتار ترین معیشت بن جائیگا۔بنگلہ دیش اور بنگلہ دیشی کرنسی ٹکے کی حیثیت
    نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن آج 50 سال بعد نہ صرف بنگلہ دیش ترقی کی راہ میں
    پاکستان اور  بھارت دونوں سے آگے ہے بلکہ اب ایک بنگالی ٹکہ پاکستانی 1.66روپے
    کے برابر ہے۔ ڈالر کی قیمت پاکستانی 170 روپے جبکہ بنگلہ دیش میں 84 ٹکہ ہے۔

    وہ بنگلہ دیش جس کا  نام ذہن میں آتے ہی  قحط سالی، غربت، بیماری اور بدحالی
    ذہن میں آتی تھی آج ترقی پزیر ممالک کیلئے رولماڈل بن چکا ہے۔ غربت کا خاتمہ
    کرنے، صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے، شرح خواندگی بڑھانے اور عورتوں کو
    خودمختار بنانے میںبنگلہ دیش نے جو کارنامہ انجام دیا ہے تمام دنیا اس کی معترف
     ہے۔

    شیخ حسینہ واجد کے ۱۱؍ سالہ دور اقتدار میں بنگلہ دیش نے حیرت انگیز ترقی کی۔
    مفلسی اور قحط سالی کا شکار ملک غذائی اجناس کیپیداوار میں کافی حد تک خود کفیل
     ہوگیا۔

    بنگلہ دیش اپنی برآمدات سے اربوں ڈالر کما رہا ہے۔ کورونا وائرس کے دوران جہاں
    بہت سے ممالک شدید معاشی بحران کا شکار ہورہے تھے، بنگلہ دیش میں جی ڈی پی کی
    شرح میں اضافہ ہو رہا تھا۔

    فی کس آمدنی 2017 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ غربت کی شرح 20 اعشاریہ پانچ تک ہو کر
    رہ گئی ہے۔اس وقت کے اعداد و شمار کےمطابق سنہ 2035 تک بنگلہ دیش دنیا کی 25ویں
     بڑی معیشت بن جائے گا۔

    اگر بنگلہ دیش کا مقابلہ پاکستان سے کیا جائے تو بنگلہ دیش پر آبادی کا دباؤ
    ہم سے چار گنا زیادہ ہے۔ اور اسی طرح رقبے اور وسائلکے لحاظ سے وہ ہم سے چار
    گنا کم ہے ۔

    فی کس آمدنی اور سالانہ شرح ترقی میں وہ ہمیں پہلے ہی بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
    بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات41 ارب ڈالر جبکہپاکستان کی 25 ارب ڈالر سے کم ہیں،
     اور بنگلہ دیش کی درامدات 43 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی درامدات 56 ارب ڈالر ہو
     چکی ہیں۔بنگلہ دیش پر کل غیر ملکی قرضہ اس وقت 35 ارب ڈالر کے قریب جبکہ
    پاکستان میں 87 ارب ڈالر ہے۔ بنگلہ دیش میں بے روزگاریکی شرح %4 جبکہ پاکستان
    میں بے روزگاری %6 کے قریب ہے۔ بنگلہ دیش کی %33 آبادی صنعتوں سے منسلک ہو چکی
    ہے اور  پاکستان کی صرف %20 صنعتوں سے وابستہ ہے۔ اسی طرح تعلیمی اعتبار سے بھی
     ہم بنگلہ دیش سے بہت پیچھے کھڑے ہیں۔ عالمیبینک کے مطابق ان کی شرح خواندگی
     74 فیصد جبکہ ہماری 59 فیصد ہے۔

    کپاس درآمد کرنے کے باوجود بنگلہ دیش چین کے بعد جنوبی ایشیا کا دوسرا سب سے
    بڑا گارمنٹس کا برآمد کار بن چکا ہے، جبکہ کپاسکے معاملے میں خود کفیل ہونے کے
     باوجود ہماری برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    بنگلہ دیش میں  گارمنٹس کی تقریباً 5 ہزار صنعتیں ہیں۔ یہ شعبہ لاکھوں کی تعداد
     میں عوام کو روزگار مہیا کرتا ہے، جن میں سے 80 فیصدخواتین ہوتی ہیں۔

    معاشی اعتبار سے بنگلہ دیش بہت جلد ایشین ٹائیگر بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے
    چھوٹے قرضوں پر مبنی منصوبوں کے ذریعے اپنیخواتین کو خودمختار بنانے پر دھیان
    دیا اور تعلیم پر توجہ مرکوز رکھی۔

    بنگلہ دیش میں صحت اور خوراک کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے شعبہ صحت اور
    غیر سرکاری تنظیموں نے پسماندہ علاقوں کومالی امداد پہنچانے کی کوششیں بھی کیں۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja

  • ایک عہد ساز شخصیت (مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ) : تحریر احسان اللہ خان

    ایک عہد ساز شخصیت (مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ) : تحریر احسان اللہ خان

    مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا وجود ملت اسلامیہ کے لیے قدرت کا عطیہ تھا۔ آپ کو قدرت نے بے شمار خوبیوں سے سرفراز فرمایا تھا اور آپ کی تمام تر خوبیاں و صلاحیتیں خدمتِ اسلام کے لیے وقف تھیں۔

    آپ 1919 میں ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں پنیالہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے ہی گاؤں سے کیا۔ میٹرک کا امتحان گورنمنٹ ہائی سکول پنیالہ سے امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کیلئے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے۔ ایک سال تک دارالعلوم دیوبند میں رہے اور بعد میں تعلیم مکمل کرنے کیلئے آپ جامعہ قاسمیہ مراد آباد تشریف لے گئے۔ 

    حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ نے سیاسی زندگی کا آغاز زمانہ طالبعلمی سے کیا۔ دوران تعلیم ہی میں آپ نے جمعیت علماء ہند میں شمولیت اختیار کیا۔ 1943 میں آپ تعلیم سے فارغ ہوگئے تو "ہندوستان چھوڑدو” کی تحریک جاری تھی۔ یہ تحریک انگریزوں کے دور کی بہت ہی اہم اور دور غلامی کی آخری متحدہ تحریک تھی۔ آپ ہی نے اس تحریک میں بھر پور حصہ لیا۔

    آپ 1944 کو ہندوستان سے واپس وطن آگئے۔ اور سرحد جمعیت پلیٹ فارم پر جدوجہد آزادی کی مہم میں مصروف ہوگئے۔ بے پناہ قربانیوں، صلاحیتوں اور بھرپور سیاسی سرگرمیوں کیوجہ سے جلد ہی حضرت مفتی صاحب جمعیت علماء سرحد کی مجلس عاملہ کے رکن اور آل انڈیا جمعیت علماء کے کونسلر منتخب ہوگئے۔

    قیام پاکستان کے بعد آپ نے ملتان کے سب سے بڑے دینی اور تعلیمی ادارے جامعہ قاسم العلوم میں مدرس کی حیثیت سے علمی زندگی کا آغاز کیا۔ یہاں پر حضرت مفتی صاحب شیخ الحدیث اور مفتی کے منصب پر فائز ہوگئے۔ افتاء کے سلسلے میں آپ کی شہرت اور عظمت ملک و بیرون میں تسلیم کی گئی۔ فقہی مسائل میں آپ کی باریک بینی، نکتہ آفرینی وسعت علمی اور بلند نظری آپ نے مخالفین بھی مان گئے۔ آپ نے چالیس ہزار سے زائد شرعی فتوے جاری کئے۔ جنہیں علمی اور فنی اعتبار سے آج تک کسی نے چیلنج نہیں کیا۔ حضرت مفتی صاحب کا شمار اسی صدی کے ممتاز ترین علماء کرام میں ہوتا تھا۔ آپ ایک بلند پایہ مفکر، نکتہ سنج فقہیہ، عمدہ مفسر، بہترین ادیب، محقق اور مورخ ہی نہیں تھے بلکہ قانوں و سیاست اور سائنس و فلسفہ پر عبور رکھتے تھے۔ حضرت مفتی صاحب کئی زبانوں کے ماہر تھے بالخصوص عربی، فارسی اور اردو ادب پر گہری دسترس حاصل تھی۔ حضرت مفتی صاحب کی شخصیت کا سیاسی پہلو بڑا تابناک اور شاندار تاریخی روایات کو اپنے اندر لئے ہوئے تھے۔ حضرت مفتی صاحب نے برصغیر کے تقسیم سے پہلے سیاست کی پرخار وادی میں قدم رکھا اور برطانیہ کے استعمار کے خلاف قومی آزادی کی جدوجہد میں بھرپور حصہ بھی لے لیا۔

     قیام پاکستان کے بعد جب سیاست اور معیشت پر مخصوص مفادات کے حامل برطانوی اقتدار کا پیدا کردہ طبقہ مسلط ہوگیا اور اسلام جمہوریت، انسانی حقوق اور معاشی آزادی کے داعی افراد اور جماعتوں پر قدغن لگادی گئی اور علماء کرام (وہ علماء کرام جو برصغیر کی سیاست کا اہم عنصر تھے) کا ملک کی سیاست سے اثر ختم کردیا گیا اور انہیں صرف اور صرف مساجدوں، مدرسوں اور خانقاہوں تک محدود کردیا گیا تو اس وقت حضرت مفتی صاحب پہلے ہی شخص تھے جو نہایت ناخوشگوار حالات، مالی وسائل اور پروپیگنڈوں سے تہی دست ہوتے ہوئے ملک میں علماء کی سیاست کو تسلیم کروانے سیاسی میدانوں میں علماء حق کا سکہ پھر سے رائج کیا اور پھر سے ملک میں اسلام کی بقاء قائم رکھنے کیلئے 1956ء میں سکندر مرزا کی صدارت میں دوران سیاسی سٹیج پر نہایت آہستگی اور توازن سے نمودار ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک کی سیاسی عدم و استحکام اور افراتفری کا شکار تھا۔ سکندر مرزا نے وزارتوں کو اکھاڑ پچھاڑ کاسلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ امریکہ سے چند معاہدوں کی وجہ سے ملکی سیاست، معیشت، ثقافت اور معاشرت پر امریکی اثر و رسوخ بڑھتا جارہا تھا۔ نظام حکومت مکمل طور پر نوکر شاہی کے ہاتھوں جاچکا تھا۔ 

    1956ء ہی میں پاکستان کا پہلا آئین دستور ساز اسمبلی نے پاس کیا تھا۔ جس میں اسلام کا صرف اور صرف نام ہی استعمال کیا گیا تھا۔ حقیقی اسلام کی عکاسی اس سے نہیں ہوتی تھی۔ حضرت مفتی صاحب نے 1956ء کے درمیان میں علماء کا ملگ گیر کنونشن بلایا۔ جس مقصد یہ تھی کہ حقیقی اسلام کے حمایتی افراد جو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے اور پوری خلوص اور سرگرمی سے ملکی سیاست میں حصہ لیا جائے۔ اگرچہ یہ مفتی صاحب کا پہلا سیاسی اقدام تھا مگر اس کے نتائج بہت حوصلہ افزاء رہے اور اس کنونشن میں باقاعدہ جمعیت علماء اسلام کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس وقت شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کو جمعیتہ علماء اسلام کا پہلا امیر منتخب کیا گیا جو ایک طویل سیاسی تجربہ رکھتے تھے۔ جمعیتہ علماء اسلام کی تاریخ چلتی رہی، ملک میں آئین بنتے رہے۔ ان کے بنوانے میں جمعیتہ اور حضرت مفتی صاحب نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اور ایک وقت آیا کہ حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ مئ 1962ء میں صوبہ سرحد (خیبر پختونخوا) کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ 

    حضرت مفتی سرحد (خیبرپختونخوا) کا زیراعلیٰ بننے کے بعد اسلامی روایات کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی۔ حضرت مفتی صاحب نے امتناع شراب کے قوانین جاری کئے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ سرحد (خیبرپختونخوا) میں شراب مکمل پابندی عائد کردی گئی۔ حضرت مفتی صاحب نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے قرون اولیٰ کے درویش حکمرانوں کی یاد تازہ کی اور ان کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں ایک دن بھی دفعہ 144 نہ لگا، جہیز پر پابندی، سرکاری اداروں میں قومی لباس کی تاکید سادگی کی اعلیٰ ترین مثالیں ہیں۔ جمعہ کی تعطیل کی سفارش، اردو کو سرکاری زبان قرار دینا ان کی حکومت کے ایسے کارنامے ہیں فراموش نہیں کئے جاسکتے۔ پاکستانی سیاست پہلی مرتبہ یہ روایات بھی حضرت مفتی صاحب نے قائم کی کہ جسکی اکثریت کی نمائندہ حکومت کو بلاوجہ برخواست کیا گیا تو انہوں نے بھی احتجاجاً اپنی حکومت کا استعفیٰ پیش کردیا۔ جب 1973ء میں بھٹو مرحوم نے مسلمہ جمہوری اقدار کو پامال کرتے ہوئے صوبہ سرحد اور بلوچستان کے گورنر برطرف کردئے اور بلوچستان کی کابینہ کو بھی سبکدوش کردیا تو حضرت مفتی صاحب نے بھٹو نے اس اقدام پر جرتمندی اور بے باکی سے صدائے احتجاج بلند کی اور وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ذولفقار علی بھٹو کو یہ خیال نہ تھا کہ مفتی محمود رحمہ اللہ استعفیٰ دینگے۔ تو انہوں نے مفتی صاحب کو کہا کہ حضرت آپ تو ہمارے امام ہیں، آپ کو کسی نے نہیں چھیڑا، آپ نے استعفیٰ کیوں دیا ؟ آپ استعفیٰ واپس لیں، حضرت مفتی صاحب نے جواب دیا کہ پہلے ہمارے اس شکایات کا تدارک کریں جو استعفیٰ کا باعث بنی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو نے کئ دن تک اس کا استعفیٰ منظور نہ کیا اور حضرت مفتی صاحب کو استعفیٰ واپس لینے پر مجبور کرتے رہے۔ مگر انہوں اصولی سیاست پر اپنے منصب کو قربان کردیا اور پاکستان کی سیاست میں روشن و تابندہ مثال قائم کی۔ ذولفقار علی بھٹو نے حضرت مفتی صاحب کو پیغام بھیجا اور ملاقات جی خواہش کا اظہار کیا لیکن مفتی صاحب نے یہ تجویز بھی مسترد کردی اور کہا کہ : ” ہم آئین کے پابند ہیں اور اسکی بالادستی کا حلف لیا ہے اسلئے غیر آئینی اقدامات کی حمایت یا است درست قرار دینا حلف کی خلاف ورزی ہے۔ وہ کوئی اور ہونگے جن کو اقتدار سے پیار ہے، میں ایسا نہیں کرسکتا "۔ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ وزارت اعلیٰ کو ٹھوکر ماردی اور یوں ممکن ہوا کہ انہوں نے وزارت اعلی سے کوئی سیای اور مادی فائدہ نہیں اٹھایا۔ سرکاری کار دفتر کیلئے ضرور استعمال کی جو اس کی ضرورت تھی، مگر کوئی تنخواہ اور مراعات حاصل نہیں کیں۔ یقیناً وزیراعلیٰ کے منصب کو عوام کی امانت کو جانا اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے وقف کردیا اور یہ ایسا واقعہ ہے جس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اقتدار چھوڑنا مشکل کام ہے۔ 1973ء کے آئین کو اسلامی بنانے میں حضرت مفتی صاحب کا بہت اہم کردار ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے سیاسی حقوق کی بازیابی کے علاوہ آئینی سطح پر ہر کسی سے ٹکر لی۔ قومی اسمبلی سے7 ستمبر1974 کو قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں حضرت مفتی صاحب کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے اسمبلی میں قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر پر جو علمی جرح کی، وہ تاریخ کا ایک ناقابل فراموش حصہ ہے۔ 

    1977ء کی تحریک میں قبائلی عوام نے تحریک میں شامل ہونے کی پیش کش کی تو مفتی صاحب نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ اگر قبائلی تحریک میں آگئے تو وہ بندوقیں اٹھائیں گے بندوق سے شدت آئے گی اور میں شدت پسندی کا قائل نہیں۔ حضرت مفتی صاحب نے قبائلی رہنماؤں اور عمائدین کا رخ مسلح جدوجہد سے سیسی جدوجہد کی طرف موڑا، اس وجہ سے آج تک قبائلی عام نے علماء کرام اور جمعیتہ علماء اسلام پر اعتماد کرنے ہیں۔ جس کے جمعیتہ علماء اسلام کے تحت قبائلی عمائدین پر مشتمل "قبائلی جرگہ” ہی پر اثر پلیٹ فارم ہے۔ وزارتِ اعلیٰ کے منصب تک پہنچے اور بڑے بڑے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی موجودگی میں بھی نو سیاسی جماعتوں کے متحدہ محاز نے قیادت کی ذمہ داری بھی ان کو سونپ دی اور وہ پاکستان کے قومی اتحاد کے سربراہ منتخب ہوئے۔

    حضرت مفتی صاحب حج کے لئے روانہ ہوئے کراچی پہنچ کرایک علمی موضوع پرحضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی،حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی،حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید،حضرت مولانا مفتی احمدالرحمنؒ،مفتی محمد جمیل خان شہید،حضرت مولانا ڈاکٹرعبدالرزاق سکندرکی موجودگی میں ایک خالص فقہی مسئلے پر گفتگو کر تے ہوئے 14اکتوبر1980کواچانک سفرآخرت پرروانہ ہوئے۔

    Twitter / ‎@IhsanMarwat_786

    https://t.co/vCKLp37n27‎

  • عورتوں کے دو کونسی اہم حقوق جلد ادا کرنے چاہئیے؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    عورتوں کے دو کونسی اہم حقوق جلد ادا کرنے چاہئیے؟ | تحریر : عدنان یوسفزئی

    وراثت ایک شرعی حق ہے اس میں کوتاہیاں عام ہیں۔شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ ہم جن علاقوں اور معاشروں میں رہتے ہیں ۔وہاں نہ جانے کتنی ایسی غلط رسمیں ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں، لیکن جب ہم ان معاشروں میں پہنچتے ہیں تو ان کی روک تھام کے لئے کوشش کرنے کی بجائے خود ان کا حصہ بن جاتے ہیں ۔

    ہمیں دن رات یہ بات مشاہدے میں آتی ہے کہ ہمارے معاشرہ میں بھی عورتوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔مثلاً باپ نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر بیٹی سے اجازت لئے بغیر اس کی شادی کردی ۔بیٹی کو یہ بات کہنے کی اجازت نہیں کہ فلاں رشتہ مجھے پسند نہیں، یہ بات باپ کی غیرت کے خلاف ہے وہ قتل کرنے کیلئے آمادہ ہوجاتا ہے کہ تجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ تو میرے فیصلے کے خلاف زبان کھولے، نتیجہ یہ کہ اس بیچاری کی ساری زندگی جہنم بن جاتی ہے۔

    اسی طرح یہ بھی عام رواج ہے کہ بیٹی کو ترکے میں سے کوئی حق نہیں دیا جاتا ۔اسی طرح عورت اگر بیوہ ہوجائے تو اس کے لیے دوسرے نکاح کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے بلکل ایسا جیسے کفر، حالانکہ ہمارے بزرگوں نے نکاح بیوگان کے حق میں عملی جہاد کیا ۔لیکن ہم اپنے معاشرے میں ان رسموں کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے ان کے اندر بہہ جاتے ہیں ۔

    وراثت میں زبانی معافی کا اعتبار نہیں! کراچی سے پشاور اور کوئٹہ سے طورخم تک جہاں کسی کا انتقال ہوتا ہے اس کا سارا ترکہ اس کے بیٹے لے جاتے ہیں ۔بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا لیکن ہم نے کتنی مرتبہ اس کے خلاف آواز اٹھائی؟

    بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہماری بہنوں نے ہمارا حصہ بخش دیا اول تو بخشا نہیں ہوتا، بلکہ بہن کو پتہ ہوتا ہے کہ اگر میں نے ذرا سی زبان کھولی تو میرا بھائی میری زندگی عذاب کردے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ ترکے کےبارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کوئی وارث زبان سے بھی کہہ دے کہ میں نے بخش دیا تو وہ بخشنا معتبر نہیں معتبر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس کا حصہ اس کے قبضہ میں دو ۔اس پر قبضہ کرنے کے بعد اگر وہ اپنی خوشدلی سے تمہیں کچھ دینا چاہے تو دیدے ۔اس لئے لوگوں کا یہ حیلہ سراسر غلط اور خلافِ شریعت ہے ۔

    یہی حال مہر کا ہے کہ نکاح کے وقت تو بھاری مہر مقرر کرلیتے ہیں اور دینے کی نیت ہوتی نہیں ۔جب بیچاری کے مرنے کا وقت اپہنچا تو اس وقت اسے کہتے ہیں کہ اللہ کے لئے مجھے مہر معاف کردو ۔اب بیچاری کیا کہے کہ میں معاف نہیں کرتی، ظاہر ہے کہ اس موقع پر وہ زبان سے معاف کردیتی ہے، لیکن یہ معافی شرعاً معتبر نہیں ۔

    مغرب نے عورتوں کو جو اذادی دی ہے ہم بعض اوقات اسکے خلاف تو بولتے ہیں اور بولنا بھی چاہئے لیکن اس اذادی کا ایک سبب وہ ظلم بھی ہے جو ہمارے یہاں عورتوں کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے ۔اس لئے اس اذادی کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان مظالم کے بارے میں گفتگو کرنا بھی ضروری ہے ۔جن کی چکی میں ہماری مشرقی عورت پس رہی ہے ۔

    آج ہمارا سارا معاشرہ اس بات سے بھرا ہوا ہے کہ کوئی بات صاف ہی نہیں ۔اگر باپ بیٹوں کے درمیان کاروبار ہے تو وہ کاروبار ویسے ہی چل رہا ہے ۔اس کی کوئی وضاحت نہیں ہوتی کہ بیٹے باپ کے ساتھ جو کام کررہے ہیں وہ آیا شریک کی حیثیت میں کررہے ہیں، یا ملازم کی حیثیت میں کررہے ہیں یا ویسے ہی باپ کی مفت مدد کررہے ہیں اس کا کچھ پتہ نہیں مگر تجارت ہورہی ہے ۔ملیں قائم ہورہی ہیں دکانیں بڑھتی جارہی ہیں ۔مال اور جائیداد بڑھتا جارہا ہے لیکن یہ پتہ نہیں ہے کہ کس کا کتنا حصہ ہے ۔اگر ان سے کہا بھی جائے کہ اپنے معاملات کو صاف کرو، تو جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ تو غیرت کی بات ہے ۔بھائیوں بھائیوں میں صفائی کی کیا ضرورت ہے؟

    یا باپ بیٹوں میں صفائی کی کیا ضرورت ہے؟

    اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب شادیاں ہوجاتی ہیں اور بچے ہوجاتے ہیں اور شادی میں کسی نے زیادہ خرچ کرلیا اور کسی نے کم خرچ کیا، یا ایک بھائی نے مکان بنا لیا اور دوسرے نے ابھی تک مکان نہیں بنایا ۔بس اب دل میں شکایتیں اور ایک دوسرے کی طرف سے کینہ پیدا ہونا شروع ہوگیا اور اب آپس میں جھگڑے شروع ہو گئے کہ فلاں زیادہ کھا گیا اور مجھے کم ملا اس دوران باپ کا انتقال ہوجائے تو اس کے بعد بھائیوں کے درمیان جو لڑائی اور جھگڑے ہوتے ہیں. وہ لا متناہی ہوتے ہیں ۔پھر ان کے حل کا کوئی راستہ نہیں ہوتا ۔

    Twitter | @AdnaniYousafzai