Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • خاتم البنین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کو ساڑھے چودہ سو سال ہوگیۓ ہیں  تحریر : نواب فیصل اعوان

    خاتم البنین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کو ساڑھے چودہ سو سال ہوگیۓ ہیں تحریر : نواب فیصل اعوان

    ۔
    حضور کریم ﷺ کی سیرت طیبہ پہ لاکھوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا ۔
    خاتم النبین حضور پاک رسول اللہ ﷺ سے محبت ہی صرف وہ چیز ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں فلاح کی ضمانت اور اللہ رب العزت کی محبت پانے کاذریعہ ہے ۔
    اسی طرح کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔
    فرمانِ نبویﷺ ہے
    ” تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو ”
    چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اسلام میں حرمت اور ناموس کے اعتبار سے کسی نبی میں کوئی فرق نہیں ۔“
    تمام انبیاء میں کسی بھی نبی پر کوئی زبان درازی یا گستاخی کے مرتکب کی سزا قتل کے علاوہ کوئی نہیں ہے ایسے شخص کا سر قلم کر دیا جاۓ جو خاتم النبین حضرت محمد ﷺ یا اللہ کے کسی بھی نبی یا پیغمبر کے بارے میں زبان درازی کرے ۔
    یہ تو ہر مسلمان ہی جانتا ہوگا کہ
    حضور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ تمام مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ اورروشن چراغ دوسرے لفظوں میں مشعل راہ ہے ۔
    ہمارے دین اسلام کی تعلیمات نہایت سادہ، واضح اور عام فہم ہیں، ان میں کسی قسم کی پیچیدگی کا گزر نہیں ہے۔
    ان تعلیمات و ہدایات کا مکمل نمونہ آنحضرتﷺ کی ذات گرامی تھی فلہٰذا جب تک آپﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے نہ ہو اس وقت تک نہ ہم اسلام کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی صحیح طور پر اس پر عمل کر سکتے ہیں۔
    مسلمانوں کے لیے یہ باعث سعادت ہے کہ نبی کریمﷺ کی سیرت کے تقریباً ہر پہلو پر علمی کام ہو چکا ہے۔ سیرت النبیﷺ کے کہا کہنے کہ جب وہ بولیں تو ہونٹوں سے پھول جھڑیں کہ جب وہ دیکھیں تو انسان منجمد ہو جاۓ خاتم النبین محمد ﷺ ہمارے بڑی شان والے ۔
    اس وقت سیرت نبوی ﷺ کا معالعہ اس لیۓ بھی ضروری ہے کہ غیر مسلم ہمارے پیارے آقا و کریم خاتم النبین ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق رہنماٸ حاصل کر سکیں وہ جان سکیں کہ ہمارے آقا کی زندگی کیسی تھی ۔؟
    قرآن مجید میں ہے کہ
    ” آپ کیلۓ ہمارے نبی ﷺ کی زندگی اسوہ حسنہ ہے ۔“
    قرآن کریم میں اس بات کا بھی سختی سے ذکر کیا گیا ہے کہ
    ” ہمارے نبی کی اطاعت کرو “
    خاتم النبین حضور کریم آقا مرسلین نانا حسنؓ و حسینؓ حضرت محمد مصطفی کی اطاعت ہر مسلمان پر لازم و ملزوم ہے اس کیلۓ تمام مسلمانوں کو سیرت نبوی کا بغور مطالعہ کرنا چاہیۓ تاکہ وہ جان سکیں کہ حضور کو کونسی چیز پسند تھی کس سے آقا و مولا کریم نے روکا تاکہ آقا کریم کی زندگی کی روشنی میں کامل زندگی بسر کی جا سکے ۔
    اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ
    اے مومنوں نبیﷺ کی اطاعت کرو
    یہاں اطاعت سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم خاتم النبین حضور کریم ﷺ کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جاۓ آپﷺ کی زندگی مکمل ضابطہ حیات اور مشعل راہ ہے ۔
    مسلمان سیرت رسول خاتم النبین کی زندگی کے ہر پہلو میں رہنماٸ پاٸیں ۔
    حضور کریم ﷺ کی عادات و اطوار کا مطالعہ کیا جاۓ تاکہ ایک مکمل کامل زندگی جی جا سکیں کیونکہ کاملیت اس وقت ہوگی جب دل میں حضورکریم خاتم النبین ﷺ کی محبت انتہا کو ہوگی تبھی ایک انسان کامل انسان بن سکتا ہے اور یہی کاملیت انسان کو حضور پاک ﷺ کی کچہری نصیب کرا سکتی ہے اور نبی کریم ﷺ کی شفاعت رب سے ملا سکتی ہے ۔
    اللہ آپ آپکو مجھے سب مسلمانوں کو حضور کریم خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کا فرماں بردار بناۓ اور ان کی زندگی کے رہنما اصولوں پہ اور متعین کردہ حدود و قیود پہ زندگی گزارنے کی توفیق دے آمین ..

    ‎@NAwabFebi

  • پانامہ سازش تھی تو پینڈورا پیپرز کیوں نہیں؟ تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    پانامہ سازش تھی تو پینڈورا پیپرز کیوں نہیں؟ تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    میرے پاکستانیوں کو اچھی طرح یاد ہے جب پانامہ پیپرز منظر پر آئے تو جن جن افراد کے نام تھے ان میں کافی افراد نے اپنے اپنے آس پاس یا حلقہ احباب کو مطمئن کرنے کے لئے طرح طرح کی دلیلیں دی ،ن لیگ نے اسے پاکستان کے خلاف عالمی سازش ،مولانا فضل الرحمن نے اسے یہودی سازش قرار دیا ،نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر نے تو پانامہ کو نظریہ پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا ،خواجہ آصف نے بڑے فخر سے اس وقت کے وزیراعظم  نواز شریف کو اسیمبلی میں کھڑے ہوکر کہا کہ میاں صاحب آپ بے فکر ہوجائیں یہ پانامہ ڈرامہ بھی لوگ بھول جائیں گے کوئ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ،شہباز شریف نے پانامہ کو پاجامہ سے تشبیہ دی مطلب ہر اس بندے نے اپنے اپنے طرز سے پانامہ کے خلاف بیان بازی کی جس کی جماعت کا لیڈر یا حلقہ احباب کے بندے کا اس پانامہ میں نام آیا ،اس وقت عمران خان صاحب اپوزیشن میں تھے انہوں نے کھل کر پانامہ میں نام آنے والے لوگوں کو پاکستانی قوم کے سامنے بے نقاب کیا اور پاکستانی قوم کو بتایا کہ کس طرح اس ملک کا پیسہ لوٹ کر ان لوگوں نے باہر آفشور کمپنیاں بنائ ہیں ،اس کے علاوہ شفاف تحقیقات اور کڑے احتساب کے لئے عمران خان صاحب نے ایک مکمل تحریک چلائ اور آخرکار سپریم کورٹ جاپہنچے جہاں پر مکمل چھان بین اور تمام قانونی پہلووٴں کا جائزہ لیا گیا ،یاد رہے آفشور کمپنی تب تک جرم نہیں جب تک یہ ثابت نا ہوجائے کہ اس کمپنی کو بنانے کے لئے جو پیسہ استعمال ہوا وہ پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجاگیا اس پیسہ کا پاکستان میں کوئ حساب کتاب نہیں دیا گیا اور ناہی ٹیکس ادا کیا گیا ،سپریم کورٹ نے ان تمام قانونی نکات پر اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے جواب طلب کیا لیکن نواز شریف حساب کتاب دینے میں مکمل طور پر ناکام رہے اور کئ عرصے تک چلنے والے اس کیس میں نواز شریف اپنے حق میں کوئ واضع ثبوت پیش نا کرسکے جس کی نتیجے میں آخر کار نواز شریف کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت 28جولائ 2017کو نااہل قرار دے دیا جس کے بعد ن لیگ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف بڑا شور شرابہ کیا ،ججز اور اعلی اداروں کے خلاف ایک مکمل کمپئین چلائ یہ تو تھی  پانامہ پیپرز کے بعد کے حالات ،ابھی چند دن پہلے پانامہ طرز کا پنڈورا پیپرز بھی سامنے آیا جس میں پاکستان کے 700 سے زائد افراد کا نام اس میں شامل ہیں جن کی آفشور کمپنیاں نکل آئ ہیں اب وہی ن لیگ ،مولانا فضل الرحمن سمیت تمام پی ڈی ایم کے لوگ اس پنڈورا پیپرز پر وزیراعظم عمران خان صاحب سے بھی استعفی کا مطالبہ کردیا حالانکہ اس میں وزیراعظم عمران خان صاحب کا کوئ ذکر تک نہیں آیا ،پانامہ کو عالمی سازش کہنے والے لوگ اب پی ٹی آئ کے جن افراد کا نام آیا ہے ان کا کڑا احتساب چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ تحقیقات ہونے سے پہلے ان کو کرپشن میں ملوث قرار دے رہے ہیں ،اب ان سے کوئ بندہ پوچھے جب پانامہ عالمی ،یہودی سازش تھی تو پنڈورا کوئ سازش کیوں نہیں ؟پنڈورا بھی جاری تو انہی لوگوں نے کیا ہے جنہوں نے پانامہ پیپرز جاری کئے تھے 

    بہرحال وزیراعظم عمران خان صاحب نے اسے کوئ سازش قرار نہیں دیا بلکہ اس پنڈورا پیپرز میں شامل تمام پاکستانیوں کے سخت احتساب کا اعلان کرکے ایک اعلی سطحی کمیشن تشکیل دے دیا جس کی نگرانی وزیراعظم صاحب خود کریں گے اور پوری قوم پر امید ہے کہ اس تحقیقات کے بعد جو بھی غیر قانونی طور پر اس میں ملوث پایا گیا اس کو پاکستانی قانون کے مطابق  سزادی جائے گی اور وزیراعظم کسی بھی ایسے اپنی پارٹی کے بندے کی کوئ حمایت نہیں کرے گا جب تک وہ اس میں خود کو بیگناہ ثابت نہیں کرتا وزیراعظم عمران خان صاحب کے اس اعلان کو نا صرف پاکستانی قوم بلکہ عالمی دنیا نے بھی سراہا ہے اور یقینن یہ ایک کرپشن سے پاک پاکستان کی طرف ایک احسن قدم ہے 

    باقی کسی بھی اپوزیشن کی جماعت کو وزیراعظم کے اس تحقیقاتی کمیشن پر کوئ اعتراض ہے یا وہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب اپنے بندوں کو کوئ رعایت دیں گے تو وہ عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں ،جس طرح عمران خان صاحب اپوزیشن میں ہوتے ہوئے پانامہ پیپرز پر سپریم کورٹ گئے تھے اسی طرح اس وقت کی اپوزیشن کے پاس بھی یہ آپشن موجود ہے اور ان کو اگر کہیں کوئ چیز صحیح نا لگے تو ان کو جانا چاہیے سپریم کورٹ کی طرف ،باقی صرف باتوں ،دھمکیوں اور خالی سیاست کے لئے بیان بازی سے اپوزیشن کو کوئ فائدہ نہیں ہونا 

    @MajeedMahar4

  • ڈھونڈ گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں تحریر۔ نعیم الزمان ہم۔

    ڈھونڈ گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں تحریر۔ نعیم الزمان ہم۔

    جو یاد آئے بھول کر پھر اےہم نفسو وہ خواب ہیں ہم۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان خان 1936ء کو ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ 1952ء  میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے ۔ کراچی سے میٹالرجی میں ڈگری حاصل کی۔ پھر جرمنی اور ہالینڈ سے  اعلی تعلیم حاصل کی ۔ 1970ء میں ہالینڈ سے میٹالرجی میں ماسٹر کیا ۔ اور 1972ء میں بیلجیئم سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔  اس کے بعد وطن واپس لوٹے۔ 1974ء میں جب ہندوستان نے ایٹمی دھماکوں کے تجربات کیے۔ اس کے بعد آپ نے 1976 ء میں پاکستان انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا۔بعد میں اس ادارے کا نام صدر پاکستان ضیاءالحق نے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھا۔ یہ وہ ادارہ ہے جو پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتاہے۔ صرف آٹھ سال کی قلیل مدت میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی محنت اور لگن کے ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کر کے دنیا کے تمام نوبل انعام یافتہ سائنسدان کو حیرت میں مبتلا کیا۔  28 مئی 1998 ء میں پاکستان نے کامیابی سے ایٹمی دھماکے کا تجربہ کیا ۔جس کی نگرانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کر رہے تھے ۔یہ سب آپ کی  اور آپ کی ایٹمی ٹیم کی محنت اور جذبہ حب وطنی کی بدولت ممکن ہوا۔ الحمدللہ پاکستان دنیا کا پہلا اسلامی ایٹمی ملک بنا ۔آپ نے 2000ء میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو وطن عزیز کیلئے شاندار خدمات سرانجام دینے پر محسن پاکستان کا خطاب دیا گیا۔ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کی پہلی شخصیت ہیں جنہیں تین صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ انہیں ان خدمات پر دو بار نشان امتیاز اور ایک بار ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔ سنہ 2003 میں اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق ادارے نے پاکستان  گورنمنٹ کو ایک خط ارسال کیا جس میں الزام لگایا گیا کہ پاکستانی جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے جوہری راز فروخت کیےہیں۔ بعدازاں ٹی وی پروگرام میں آ کر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے غیر قانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی کی ایران لیبیا اور شمالی کوریا منتقلی کے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد  انہیں اسلام آباد  میں ان کے گھر نظر بند کر دیا گیا ۔2009 ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ ان کی نظر بندی کو ختم کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے انہیں ایک آزاد شہری کی طرح زندگی گزارنے کے احکامات جاری کیے۔ مگر وہ اپنی نقل و حرکت کے بارے میں احکام کو مطلع کرنے کے پابند تھے۔ بغیر مطلع کیے کہیں آنا جانا ممکن نہیں تھا۔ 2020ء میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں ان کا موقف تھا کہ میری نقل و حرکت کو محدود کیا گیا ہے مجھ سے ملاقات کے لیے آنے والوں کو ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ تعلیمی اداروں میں نہیں جانے دیا جاتا ۔مجھے تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت دی جائے تا کہ میں سٹوڈنٹ کو کچھ لیکچر دیے سکوں۔ درخواست میں مزید یہ بھی کہا گیاتھا کہ جب میں نیوکلیئر پروگرام اور ایٹم بم بنانے میں مصروف تھا اس وقت تو  میرے ساتھ گارڈ نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی بندوقیں نہ فوجی اور نہ ہی رینجرز ۔ اب 84 سال کا عمر رسیدہ ہو چکا ہوں۔ چلنا پھرنا مشکل ہے ۔ میں اپنے ہی ملک میں موجود ہوں اور باہر جانے کا کوئی ارادہ بھی نہیں رکھتا۔ میں اپنے ملک سے غداری نہیں کروں گا ۔ایک عام آدمی کی طرح بقیہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ جس پر عدالت کے ریمارکس تھے کہ ان حالات میں آپ کی زندگی کو خطرہ سے محفوظ رکھنے کیلئے یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں جو آپ کے لیے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں مگر غیر محفوظ نہیں ۔نظر بندی کے باعث ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے بہت ساری مشکلات کا سامنا کیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان گزشتہ کئی سالوں سے پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے ۔ خاندانی ذرائع کے مطابق کچھ ہفتے پہلے ڈاکٹر صاحب کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ اور ہسپتال میں زیر علاج رہے۔  ڈاکٹر عبد القدیر خان کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کی گئی۔ بعد میں طبیعت بہتر ہونے پر کرونا سے ریکوری پر آپ کو واپس گھر منتقل کر دیا گیا تھا۔ 9 اکتوبر کی شب کو ڈاکٹر صاحب کی اچانک طبیعت خراب ہوئی۔ جس کے بعد انہیں ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔ 10 اکتوبر کی صبح سات بجے کے قریب پاکستان ایٹمی پروگرام کے خالق اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ محب وطن پاکستانی اور محسن پاکستان کا سنہرا باب ہمیشہ کے لئے لیے بند ہو گیا۔ آپ کی خدمات کو رہتے پاکستان تک یاد رکھا جائے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا اس قوم اور ملک پر جتنا بڑا احسان تھا اقتدار میں رہنے والوں نے انہیں اتنا ہی نظر انداز کیا۔ درویش صفت انسان اپنی کسم پرسی اور تکالیف چھپائے رخصت ہو گئے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رخلت کا سن کر کر پوری قوم غمزدہ ہے ۔ہر آنکھ اشک بار ہے۔ آپ نےانتھک محنت اور لگن کے جذبے سے سر شار ہوکر ہماری دفاعی صلاحیت کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ ڈاکٹر صاحب ہم شرمندہ ہیں یہ ریاست آپ کا خیال نہ رکھ سکی جو عزت آپ کو دینی چاہیے تھی وہ نہ دے سکی۔ اللہ ہمیں قوم کے محسنوں کی قدر سکھائے ۔ اللہ آپ کی مغفرت فرمائے آپ کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین

    ہم بھی چلے ہیں سوئے کارواں 

    آنے والوں کو ہمارا سلام کہنا۔

    Follow on Twitter

    @786Rajanaeem

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے تحریر:شمسہ بتول

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے تحریر:شمسہ بتول

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے💕

    10 اکتوبر 2021 کو ہم نے اس دیدہ ور اس قیمتی اور نایاب ہیرے کو کھو دیا جن کی خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں اور جن کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا: 

    "ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ۔۔۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا”

    آپ یکم اپریل 1936 کو بھوپال میں پیدا ہوے۔ آپ ایک بہت ہی سادہ اور انتہاٸی عاجز مزاج اور ایک مخلص انسان تھے۔آپ نے پاکستان کے لیے نا قابل فراموش اور گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ بھارت کے ایٹمی پروگرام کے بعد آپ نے پاکستان کو عالمی برادری میں مضبوط بنانے کے لیے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے 28مٸی 1998 کو بلوچستان میں چاغی کے مقام پہ ایٹمی دھماکہ کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت ہے لہذا ہماری ارضِ پاک کی طرف میلی نگاہ سے نہ دیکھنا ورنہ ہم جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ دنیا آپ کو A.Q.Khan کے نام سے بھی جانتی ہے اور عالمی دنیا میں آپ کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔

    ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جہاں علامہ اقبال رح اور قاٸداعظم رح کی خدمات ناقابل فراموش ہیں وہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بقاء کی خدمات قابلِ تحسین ہیں ۔ آپ نے شدید مخالفت اور دباٶ کے باوجود بھی اس ارضِ پاک کو ایک ایٹمی طاقت بنایا ۔

    پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا پوری دنیا کے لیے یہ پیغام تھا کہ اس اسلامی مملکتِ خداداد کو کوٸی شکست نہیں دے سکتا۔ آپ کے اس اقدام سے دنیا میں پاکستان ایک طاقتور مملکت بن کر اُبھرا۔ 

    آپ کو محسنِ پاکستان کے خطاب سے نوازا گیا ۔ اور سرکاری سطح پہ بہت سے اعزازات نشانِ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا مگر پھر بھی بحیثیت قوم ہم نے انہیں وہ عزت و مقام نہیں دیا جس کے وہ قابل تھے

    انہوں نے اس اسلامی ریاست کو ایٹمی طاقت بنا کہ عالمی دنیا کے ظلم سے بچا لیا شام ، فلسطین، اعراق، لبنان، یمن اور دیگر اسلامی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سرزمین پاکستان پہ قدرت کا ایک انمول تحفہ تھے جنہوں نے وطنِ عزیز کے دشمنوں پہ لرزا طاری کر دیا ۔

    آپ نے ایک اسلامی ریاست کی مضبوطی اور اس کی بقاء کے لیے جو کوششیں کیں اور جو کارہاۓ نمایاں انجام دیے اس کے بعد اگر آپ کو محسنِ  اُمت کہا جاۓ تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔

    آپ ایک سچے مسلمان اور عاشقِ رسول صلى الله عليه واله وسلم بھی تھے. آپ نے ایک نجی ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں کہا تھا :

    "کہ آپ کو اپنے بھوپالی ہونے پہ فخر ہے کیونکہ ایک تو وہ غدار نہیں ہوتے اور دوسرا ان میں کوٸی قادیانی پیدا نہیں ہوتا ”

    آپ صرف ایک شخصیت کا ہی نام نہیں تھے بلکہ ایک عہد کا نام بھی تھے جو تمام ہوا اور سب کو افسردہ کر گیا۔ پاکستان ایک مخلص ایماندار اور نڈر و  دلیر محبِ وطن اور ایک مضبوط قوت سے محروم ہو گیا😢

    ” ڈھونڈو گے اگر ہمیں ملکوں ملکوں ۔۔۔ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم” 

    ہر آنکھ اشک بار ہے انکے جانے پہ۔ انکا خلاء باقی رہے گا اور پاکستان اور پاکستانی انکی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ قوم ہمیشہ انکی خدمات کی مقروض رہے گی اور تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف میں لکھا جاۓ گا۔ ہمیں یہ افسوس ہمیشہ رہے گا کہ جیسے انکی قدر کرنے کا حق تھا ہم نے ویسی نہیں کی۔ 

    "عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن۔۔۔۔یہ الگ بات ہے دفناٸیں گے اعزاز کے ساتھ”

    اللّٰہ پاک ڈاکٹر صاحب کی بے حساب مغفرت فرماۓ اور ان کے درجات بلند فرماۓ آمین ❣️

    شمسہ بتول

    @sbwords7

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے تحریر:شمسہ بتول

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے💕

    10 اکتوبر 2021 کو ہم نے اس دیدہ ور اس قیمتی اور نایاب ہیرے کو کھو دیا جن کی خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں اور جن کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا: 

    "ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ۔۔۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا”

    آپ یکم اپریل 1936 کو بھوپال میں پیدا ہوے۔ آپ ایک بہت ہی سادہ اور انتہاٸی عاجز مزاج اور ایک مخلص انسان تھے۔آپ نے پاکستان کے لیے نا قابل فراموش اور گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ بھارت کے ایٹمی پروگرام کے بعد آپ نے پاکستان کو عالمی برادری میں مضبوط بنانے کے لیے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے 28مٸی 1998 کو بلوچستان میں چاغی کے مقام پہ ایٹمی دھماکہ کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت ہے لہذا ہماری ارضِ پاک کی طرف میلی نگاہ سے نہ دیکھنا ورنہ ہم جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ دنیا آپ کو A.Q.Khan کے نام سے بھی جانتی ہے اور عالمی دنیا میں آپ کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔

    ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جہاں علامہ اقبال رح اور قاٸداعظم رح کی خدمات ناقابل فراموش ہیں وہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بقاء کی خدمات قابلِ تحسین ہیں ۔ آپ نے شدید مخالفت اور دباٶ کے باوجود بھی اس ارضِ پاک کو ایک ایٹمی طاقت بنایا ۔

    پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا پوری دنیا کے لیے یہ پیغام تھا کہ اس اسلامی مملکتِ خداداد کو کوٸی شکست نہیں دے سکتا۔ آپ کے اس اقدام سے دنیا میں پاکستان ایک طاقتور مملکت بن کر اُبھرا۔ 

    آپ کو محسنِ پاکستان کے خطاب سے نوازا گیا ۔ اور سرکاری سطح پہ بہت سے اعزازات نشانِ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا مگر پھر بھی بحیثیت قوم ہم نے انہیں وہ عزت و مقام نہیں دیا جس کے وہ قابل تھے

    انہوں نے اس اسلامی ریاست کو ایٹمی طاقت بنا کہ عالمی دنیا کے ظلم سے بچا لیا شام ، فلسطین، اعراق، لبنان، یمن اور دیگر اسلامی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سرزمین پاکستان پہ قدرت کا ایک انمول تحفہ تھے جنہوں نے وطنِ عزیز کے دشمنوں پہ لرزا طاری کر دیا ۔

    آپ نے ایک اسلامی ریاست کی مضبوطی اور اس کی بقاء کے لیے جو کوششیں کیں اور جو کارہاۓ نمایاں انجام دیے اس کے بعد اگر آپ کو محسنِ  اُمت کہا جاۓ تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔

    آپ ایک سچے مسلمان اور عاشقِ رسول صلى الله عليه واله وسلم بھی تھے. آپ نے ایک نجی ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں کہا تھا :

    "کہ آپ کو اپنے بھوپالی ہونے پہ فخر ہے کیونکہ ایک تو وہ غدار نہیں ہوتے اور دوسرا ان میں کوٸی قادیانی پیدا نہیں ہوتا ”

    آپ صرف ایک شخصیت کا ہی نام نہیں تھے بلکہ ایک عہد کا نام بھی تھے جو تمام ہوا اور سب کو افسردہ کر گیا۔ پاکستان ایک مخلص ایماندار اور نڈر و  دلیر محبِ وطن اور ایک مضبوط قوت سے محروم ہو گیا😢

    ” ڈھونڈو گے اگر ہمیں ملکوں ملکوں ۔۔۔ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم” 

    ہر آنکھ اشک بار ہے انکے جانے پہ۔ انکا خلاء باقی رہے گا اور پاکستان اور پاکستانی انکی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ قوم ہمیشہ انکی خدمات کی مقروض رہے گی اور تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف میں لکھا جاۓ گا۔ ہمیں یہ افسوس ہمیشہ رہے گا کہ جیسے انکی قدر کرنے کا حق تھا ہم نے ویسی نہیں کی۔ 

    "عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن۔۔۔۔یہ الگ بات ہے دفناٸیں گے اعزاز کے ساتھ”

    اللّٰہ پاک ڈاکٹر صاحب کی بے حساب مغفرت فرماۓ اور ان کے درجات بلند فرماۓ آمین ❣️

    شمسہ بتول

    @sbwords7

  • استحکام پاکستان کی بنیاد چل بسا  ازقلم محمد عبداللہ گِل 

    مملکت خداداد کا 14 اگست 1947ء کرہ ارض کے نقشے پر ظہور ہوا۔پاکستان کو سیکولرازم اور لبرلزم کہ بنیاد پر نہیں بنایا گیا بلکہ اس مملکت کا نظریہ اس کی بنیاد دین اسلام کو چنا گیا پھر اس کے لیے محنت کی گئی جس کا ثبوت مسلم لیگ کے اس نعرے سے ہوتا ھے جو کبھی بھوپال میں لگ رہا ہوتا تو کبھی بنگال میں کبھی دہلی میں کبھی بلوچستان میں 

    "مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ”

    اسلام کی بنیاد پر یہ وطن بنا دیا گیا مخلص اور اسلام پسند قیادت نے اس کے لیے قربانیاں دی۔لیکن ابھی مملکت کو بنے 24 سال ہی بیٹے تھے تو اس ملک کے خلاف سازش کو رچا گیا۔ان سازشوں کی وجہ سے ہمارا دشمن اور ازلی حریف بھارت کامیاب ہوا اور پاکستان دولخت ہوا اس وقت ایک شخصیت نے سربراہ مملکت خداداد پاکستان کو خط لکھا جس میں خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اسلام کو ایٹمی قوت کا تحفہ دینا چاہتے ہیں۔امت مسلمہ کے لئے اس قدر درد دل رکھنے والی شخصیت کا اسم گرامی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ھے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے امت مسلمہ اور پاکستان کو استحکام دیا۔لیکن آج 10 اکتوبر کو وہ شخصیت اس جہان فانی سے رخصت ہو گی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان حب الوطنی کے جذبہ سے مالا مال بلکہ محبت اسلام سے لبریز تھے۔کمال عجب کی شخصیت تھی کہ اتنا بڑا نام۔رکھنے والا شخص جس کو کئی لاکھ ڈالر تنخواہ پر نوکریاں دینے کو ملک تیار تھے لیکن اس نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کا فرض انجام دیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک پاکستان کے نظر بندیوں کو بھی برداشت کر لیا اپنے بارے دشمن کی سازشوں کو بھی برداشت کر لیا۔بلکہ اندرونی و بیرونی دشمنوں کے آگے آہنی دیوار بن کر کھڑے ہو گے لیکن پاکستان پر آنچ تک کو نہ آنے دیا۔

    بلکہ یہ کہا ہو گا 

    "اے ستم گر ادھر آ ستم آزمائے 

    تو تیر آزما اور ہم ہنر آزمائے”

    بلکہ کیسا ہنر آزمایا کہ ملک پاکستان کو اپنے اردگرد موجود چیل بھیڑوں سے بچا لیا۔آج بھی ہم سے دس گنا بڑا حریف ہم سے کاپنتا ھے۔اس کی وجہ ہماری فوج کا جوہری طور پر مضبوط ہونا ھے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ نظریاتی لوگوں کے لیے سرحدوں کی قید نہیں ہوتی کیونکہ ڈاکٹر صاحب بھوپال سے چلے ہنری سے تعلیم کو حاصل کیا پھر پاکستان آئے انڈیا کے ایٹمی حملوں کے مد مقابل 1998 میں چاغی کے پہاڑوں میں نعرہ تکبیر کو بلند کر دیا اور یہ بھی پیغام دے دیا کہ آج استحکام پاکستان مکمل ہو چکا ھے۔وہ پاکستان کی ناو جس پر 1971 پر نظریاتی حملہ ہوا آج وہ مستحکم ہو چکی ھے۔جس کی وجہ سے قوم ان کو سلام پیش کرتی ھے۔میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جو ان کے کارناموں کو بیان کر سکے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے ایٹمی قوت پاکستان کو بنایا جس کی وجہ سے آج افغان امن معاہدہ میں پاکستان کی اہمیت ھے اگر فوجی اتحاد ھے تو پاکستان چیف ھے۔ملکوں کی فوجیں ہمارے پاس جنگی مشقیں کرنے آتی ہیں بلکہ امریکہ،اسرائیل بھارت اور یہ یہود و نصاری کے ملک ہم سے گھبراتے ہیں۔انھیں پتہ ھے کہ ان کے پاس نظریہ جہاد تو پہلے ہی ھے لیکن اب ان کے پاس جنگی گھوڑیں بھی ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے اس کارنامہ کی وجہ سے امت مسلمہ ان کی مقروض ھے اور ان سے عقیدت رکھتی ھے۔جس کا منہ بولتا ثبوت آج ان کی وفات کے بعد سوشل میڈیا اور مسلم ممالک کے چینلز کی طرف سے ان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی وفات پر غم و رنج کا اظہار کیا گیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب جیسے باہنر شخص کو بدقسمتی سے ملک پاکستان کے حکمرانوں نے اس طرح بروئے کار نہیں لایا جس طرح حق تھا بیرونی پریشر پر ان کو پابند سلاسل کر دیا جاتا تھا۔جو اس ملک کے نظریاتی غدار ہیں ان کی جمع پونجی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی اور محسن پاکستان کے پاس لباس کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔میری حکومت وقت سے گزارش ھے کہ خدارا ایسے نظریاتی محافظوں کو تلاش کر کے ان کا خیال رکھو ان کو قید و بند کی صعوبتوں سے نہ گزرارو۔

    اللہ تبارک و تعالی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے

    @ABGILL_1 

  • برطانیہ کتنا طاقتور ہے:-تحریر اصغر علی

    برطانیہ کتنا طاقتور ہے:-تحریر اصغر علی

             

    کبھی برطانیہ کا دعوی تھا کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پر اس کا قبضہ ہے دنیا کے 150 ملکوں پر برطانوی راج قائم تھا اور برطانوی سلطنت  میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور آج حال یہ ہے کہ برطانیہ کا رقبہ پاکستان کے صوبہ پنجاب سے کچھ زیادہ ہے کیا ان سب چیزوں نے برطانیہ کی طاقت کو کم کر دیا ہے تو اس کا جواب ہے ہاں برطانیہ کا سوپر پاور اسٹیٹس تو ختم ہوگیا ہے لیکن آج بھی امریکہ میں سکیورٹی کونسل کا مستقبل ممبر ہونے کی وجہ سے سے برطانیہ کسی بھی مسئلے کو ویٹو کر کر اس مسئلہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے ہے برطانیہ کے پاس ویٹو کرنے کا اختیار موجود ہے برطانیہ کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ نے کسی جگہ پر فوج بھیجنی ہو یا کسی بھی مسئلہ کے اوپر کوئی ڈبیٹ کرنی ہو تو وہ برطانیہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا بھلے ہی برطانیہ رقبہ کے لحاظ سے سے پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تھوڑا سا بڑا ہے لیکن اس کا دفاعی بجٹ اور فوجی بجٹ کتنا ہوتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ برطانیہ کا فوجی بجٹ 61 ارب ڈالر ہوتا ہے یعنی پاکستان کے فوجی بجٹ سے چھ گناہ زیادہ برطانوی ایئر فورس کے پاس دو سو سے زیادہ طیارے ہیں اور برطانوی بحریہ کے پاس کسی بھی طیارے کو منٹوں میں تباہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن اس کا سب سے خطرناک ہتھیار ایٹمی آبدوزیں ہیں یہ آبدوزیں ہر وقت برطانیہ کے ارد گرد چکر لگاتی رہتی ہیں اور اس کا دفاع کرتی رہتی ہیں دوسری طرف طرف اگر غور کریں تو اسلحہ تیار کرنے میں برطانیہ کا دنیا میں چھٹا نمبر ہے برطانوی معیشت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے اور جی سیون کا اہم رکن بھی ہے کچھ سال پہلے برطانیہ نے یونان اور آئرلینڈ کو دیوالیہ ہونے سے بھی بچایا تھا برطانیہ کی جغرافیائی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے کہ امریکہ ایشیا اور افریقہ کے درمیان میں واقع ہے جس کا اس کو یہ فائدہ ہے کہ دنیا کے ان تین براعظموں میں ہونے والی کسی بھی قسم کی کوئی تجارت برطانیہ کے بنا نہیں ہو سکتی ایک امریکی جریدے کے مطابق اگر امریکہ دنیا کی سپرپاور ہے تو برطانیہ دنیا کی سپر سافٹ پاور ہے کیونکہ برطانیہ اپنی تمام تر طاقت کے باوجود یہ میسج لکھنے میں آج تک برقرار ہے کہ وہ امریکہ سے بہتر ہے مختصر بات کریں تو برطانیہ اتنی بڑی فوجی طاقت تو نہیں ہے کہ وہ دنیا کے کسی ملک پر تن تنہا حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لے لیکن برطانیہ اتنی بڑی طاقت ضرور ہے کہ دنیا میں ہونے والے کسی بھی ملک میں کسی بھی فیصلے پہ وہ اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اتنی بڑی فوجی طاقت ضرور ہے کہ کوئی بھی ملک اس پر حملہ کرنے کی سوچ نہیں سکتا یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ برطانیہ کی طاقت اس کی فوجی اور معاشی قوت میں چھپی ہوئی نہیں بلکہ برطانیہ کی طاقت جدید  یونیورسٹیاں یا سائنسی مہارت اور دنیا کے تمام ملکوں سے اچھے تعلقات ہیں

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI
    https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09

  • "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان   صوفیہ صدیقی

    "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان صوفیہ صدیقی

    دس اکتوبر 2021کی صبح, سوا نو بجے کے قریب ایک مخصوص ایس ایم ایس ٹون کے بعد میں نے موبائل اٹھایا۔ ساتھ ہی ایک افسوسناک خبر میری آنکھوں کے سامنے تھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہم میں نہیں رہے۔
    معذرت کے ساتھ گزشتہ تین چار سالوں میں یہ مذاق اتنی بار سن چکے تھے کہ دکانوں کو ایسے لگا کہ جیسے ایک بار پھر دھوکا دیا جارہا ہے ایس ایم ایس کرنے والے سے سوال بھیجا کیا واقعی؟؟
    جواب ملا! بدقسمتی سے اس بار یہ خبر درست ہے ۔افسوس صد افسوس ہم نے ایک عظیم سائنسدان اور ایک عظیم انسان کو کھو دیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کو یقینا پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے اور رشک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے اسلام آباد میں شاہرہ ِ فیصل کو ان کی جنازہ سے قبل و بعد کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر بند دیکھا۔ بے وقت کی بارش اور گھٹاؤں نے عظیم سائنسدان کو رخصت کیا۔ گویا آسمان بھی رویا اس بے قدری پہ جس کا اس قوم کو سامنا ہے۔

    اے کیو خان کو تمام تر سرکاری اور عسکری اعزازات کے ساتھ قومی ہیرو کے طور پر سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں لاکھوں عام افراد کے علاؤہ سیاسی قائدین، مذہبی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ نمایاں بات یہ تھی کہ صدر مملکت یا وزیر اعظم کے جنازے میں آنے سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافے ہونے کا احتمال تھا سو وہ شریک نہ ہوئے۔

    ہماری لاش گلستاں میں دفن کر صیاد

    چمن سے دور کوئی نوحہ خواں رہے نہ رہے

    تعزیت کرنے والے انبار اور بہت سے نقطوں پر مشتمل بحث دیکھتے دیکھتے، پاکستان کے بھارت میں تعینات سابق سفیر عبداللہ باسط کی ایک تحریر آنکھوں سے گزری۔ درج تھا ” دفنائیں گے قومی اعزاز کے ساتھ”. ایسے لگا یہ الفاظ ڈاکٹر عبد القدیر کے تھے۔ آج سچ ثابت ہو گئے تھے۔ پھر لگا کہ نہیں پاکستان کے ہر محسن کی آواز ہے جو لٹ پٹ کہ پاکستان آیا اپنا سب کچھ اس کو دیا اور پھر غدار ہوا پھر جاتے جاتے اعزازات سے نواز دیا گیا کیوں کہ زبان بند ہوگئی تھی۔

    خیرسوشل میڈیا پہ تلاش کیا تو ان کے یوٹیوب چینل پہ ایک وڈیو ملی جس میں سابق سفارتکار 25 مئی 2018 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گھر میں ہونے والی اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ پاکستان کی حکومتوں سے نالاں تھے۔ مگر ریاستی پالیسیوں سے باغی نہیں تھے۔ عام لوگوں کی طرح بلا وجہ میں واویلا بھی نہیں مچاتے تھے۔
    عبد الباسط کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا ” اب پاکستان سے تو کچھ مقدم نہیں ہے ۔ یہ ریاست ہے تو ہم ہے نہیں ہیں۔ نہیں تو ہم نہیں ہیں” ایک اور جگہ کہا کہ میں قید میں ہوں لیکن سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کرینگے۔

    ان چند جملوں سے ایسے لگتا ہے کہ اے کیو خان کم ظرف نہیں تھے۔ یقینا نہیں تھے۔ انھوں نے پاکستان کے لیے بہت کچھ کیا۔ لکھا۔ بنایا بتایا۔ اپنی تحریروں سے بہت سے مشکلات کو حل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
    محسن پاکستان کے جانے سے پاکستان ایک ایسے اثاثہ سے محروم ہوا ہے۔ جس کا ازالہ ممکن ہی نہیں۔
    قومی سلامتی کا ایک اہم باب رقم کرنے والا اے کیو خان دنیا سے تمام سرکاری اعزازات کے ساتھ رخصت ہوا ۔ اپنا باب بند کرتے کرتے ایک نیا باب کھول گیا ہے ہم کب تک اپنے ہیروز ایسے غداری کے الزامات میں نظر بند رکھیں گے اور پھر سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن!!

  • عورت کے حقوق اور ہمارا معاشرہ  تحریر : امبر صباء

    عورت کے حقوق اور ہمارا معاشرہ تحریر : امبر صباء

    Twitter 👇
    @MrsHamdani1
    جب ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی طرف سے دین اسلام لے کر آئے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت چمک اٹھی اور اسلام کی بدولت ظالم مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی و روندی ہوئی عورتوں کا درجہ اس قدر بلند ہو گیا کہ عبادات اور معاملات بلکہ زندگی و موت کے ہر مرحلے اور موڑ پر عورتیں مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں.
    مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر کیے گئے اور قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر عورتوں کی مختلف حیثیتوں میں ان کے حقوق و فرائض کی وضاحت ملتی ہے عورتوں کو کسبِ معاش کا حق دیا گیا انہیں وراثت میں حصہ دار ٹھہرایا گیا ماں کی اطاعت کے نتیجے میں جنت کی خوشخبری سنائی گئی ماں گھر میں ایک ایسی قوت ہے جو تربیت اور ایثار کے ہتھیار سے اپنی اولاد کو منشاء خداوندی کے مطابق ڈھالتی ہے
    دین اسلام نے واضح طورپر بتا دیا ہے کہ مرد اور عورت کی تخلیقی بنیاد ایک ہی ہے.
    سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ترجمہ: ” جو نیک کام کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اسے دنیا میں پاکیزہ زندگی دیں اور ان کے اچھے کاموں کا جو وہ کرتے ہیں اجر دیں گے” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی کی حیثیت کے ضمن میں فرمایا ”اس (بیٹی) کے ساتھ رحمت و شفقت کا برتاؤ کرو” اور بیٹی کی اچھی تربیت اور اس کے ساتھ شفقت کو آگ سے نجات کا ذریعہ قراردیا. اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ”عورت جب بیوی بنتی ہے تو اپنے شوہر کا آدھا دین مکمل کرتی ہے.
    دور نو میں پھر سے عورت پر مختلف قسموں کے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں آزادی نسواں کے پرفریب نعروں سے عورتوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے اور ان عورتوں کو سرعام ننگا کیا جا رہا ہے ہر کوئی عورت ذات کو ہوس کا نشانہ بنا رہا ہے اور آزادی نسواں کے نام پر عورت کو بیٹی، بیوی، بہن اور ماں بننے سے روکا جا رہا ہے عورتوں کو کلیوں و محفلوں کی زینت بنایا جا رہا ہے ان کی عزت و ناموس کو ہر گلی کوچے میں لوٹا جا رہا ہے الغرض عورت کو ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے کیا یہی ہمارا دین ہے؟ عیاش پسند لوگ قرآنی احکامات میں تاویلیں کر رہے ہیں علماء حق کو قدامت پسند کے القابات دیئے جا رہے ہیں
    خدارا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں دین اسلام کے احکامات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے،آزادی نسواں کے پرفریب نعروں کی ذد میں آکر ہم کہیں دینی اسلام کے احکامات کو بھول تو نہیں بیٹھے تو آئیے اپنی اصلاح کریں عورتوں کو ان کے حقوق دیں وہ حقوق جو کہ عورتوں کو دین اسلام نے دیئے ہیں آئیے اپنی اصلاح کیجئے اور ایک عزت دار مسلمان ہونے کا ثبوت دیجیے.
    ” سنو عورت کو کھلونا سمجھنے والو
    جس کے نام سے ہےرونق
    وہ ہے عورت
    تو جس کا بیٹا ہے
    وہ ہے عورت
    خدا نے جس کے قدموں تلے رکھی ہے جنت
    وہ ہے عورت
    جو کل تیرا نصیب ہے
    وہ ہے عورت
    جس کا تو باپ بنے گا
    وہ ہے عورت
    جس کا بھائی ہے تو
    وہ ہے عورت
    سنو! عورت کی عزت کرنا ایک عزت دار مرد کی نشانی ہے.

  • سوچ ہی حیات زندگی بدل دیتی ہے تحریر: حضوربخش کنول اعوان

    سوچ ہی حیات زندگی بدل دیتی ہے تحریر: حضوربخش کنول اعوان

    اس دنیا میں بسنے والا ہر ذی روح اس دنیا کا باسی ہے ۔
    انسان اس وقت تک معاشرے کا کارآمد شخص نہیں بن سکتا جب تک اس کی سوچ مثبت نہ ہو کیونکہ انسان کی سوچ ہی اس کو مثبت یا منفی بناتی ہے ۔
    آپ کی جیسی سوچ ہوگی ویسے کام ہونگے اور اگر سوچ اچھی ہے تو نتاٸج اچھے نکلیں گے اگر بری ہے تو برے ۔
    اسی چیز کو اللہ پاک نے قرآن میں واضع بھی کیا ہے ۔

    ‏اللّٰہ ﷻ کا ارشاد ہے :

    وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹)

    ” اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی“۔

    ایک انسان اپنے لفظوں سے نہیں اپنے عمل سے مثالی بنتا ہے انسان کو پستیوں سے نکال کر بلندیوں پر لے جانے والی شے اُس کا عمل ہے۔

    جب انسان پیدا ہوتا ہے،اس وقت وہ سب جیسا ہوتا ہے لیکن اپنے مقصدِ حیات کا تعین کر لینے اور اس کی تکمیل کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کے بعد وہ مثالی اور کامیاب لوگوں کا ہم سفر بن جاتا ہے۔وہ لوگوں کے لیے مثال بن جاتا ہے۔اسے منزلوں کے سلام آنے لگتے ہیں۔

    مثبت سوچ تحریکی انسان کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔انسان کو جب سمجھ آ جائے کوئی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتا جب تک وہ خود اپنے لیے کچھ نہ کرے۔

    جب انسان میں یقین پیدا ہو جائے میں کر سکتا ہوں اور جب وہ اپنی رائے سے نہیں اپنے عمل سے دنیا کو دکھادے کہ وہ زندگی کے سفر میں جیتا ہے پھر وہ مثال بنتا ہے۔عزم صمیم اور جہدِ مسلسل کی زندہ داستان،جو صدیوں لوگوں کے دلوں کو اپنے حصار میں لیے رہتی ہے۔ 

     ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عملی نمونہ پیش کیا۔اللّٰہ کے ہر حکم پر عمل کر کے دکھایا۔انسانوں سے پیار کر کے انسانیت کے دلوں میں گھر کیا حضور کریم خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ ہمارے لیۓ مشعل راہ ہے ۔
    اس دنیا میں حقیقی مشعل راہ حضور کی ذات اقدس ہے ۔
    آپ کا ہر قول فعل زندگی گزارنے کے رہنما اصولوں پہ مبنی ہے ۔
    حضور کریم کی ذات طیبہ تاقیامت مسلمانوں اور روۓ زمین پہ بسنے والے ہر ذی شعور کیلۓ ایک مثال ہے ۔
    حضور کریم کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جاۓ تو زندگی گزارنے عبادات و انصاف اور زندگی کے ہر پہلو کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے ۔

    قائداعظم نے اقبال کے خواب کو عمل اور تعبیر کی چادر میں لپیٹ کر پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک مثالی مملکت بنا دیا ۔
    قاٸداعظم نے ایک ایسے ملک کیلۓ جدوجہد کی جس میں مسلمان اپنی عبادات تسلی سے ادا کر سکیں ۔
    پاکستان کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ پہ رکھی گٸ ہے اس وقت برصغیر کے مسلمانوں کی زبان پہ ایک ہی نعرہ تھا الله أكبر ۔

    دو ایسے بھائی جنہیں پرندوں کی طرح اڑنے کا جنون تھا پھر ایک دن انہوں نہ اپنے عمل سے اس جنون کو حقیقت کر دکھایا۔ انہوں نےثابت کر دیا کہ کامیابی اور نام عمل والوں کا مقدر ہے۔
    آج دنیا بھر میں تیز ترین سفر ہواٸ جہازوں پہ ہو رہا ہے ۔

    انسانیت کے علمبردار عبد الستار ایدھی اپنے عمل سے مثال بنے ،لوگوں کا درد محسوس کرنے والے ہمدرد کی زندہ و جاوید مثال۔ جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔
    آپ نے اپنی سوچ عمل اور اللہ پہ کامل یقین کی بنا پہ دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس بنا دی ایدھی پناہ گاہیں لنگر خانے بنا لیۓ جو پوری آب و تاب سے اب بھی چل رہے ہیں ۔

    ہر انسان عملِ پیہم سے دنیا کے لیے مثال رقم کرسکتا ہے۔ اپنے جنون اور عمل کی روشنی سے دنیا کو منور کر  کے اس کی تاریکیوں کو اجالوں میں بدل سکتا ہے۔

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    ‎@Gumnam_HBK