Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • وطن سے محبت   تحریر:  حادیہ سرور

    وطن سے محبت تحریر: حادیہ سرور


    وطن پہ فدا ہے جو انسان ہے
    کہ حب وطن جزو ایمان ہے

    وطن سے مراد ایسا خطہ جہاں انسان پیدا ہوتا ہے، پرورش پاتا یے،جہاں اس کے عزیز و اقارب رہتے ہوں اور جہاں اس کی تلخ و شیریں یادیں وابستہ ہوں۔ انسان کو فطری طور پر اپنے وطن کے درودیوار سے ، گل و خار سے اور کوچہ و بازار سے محبت ہوتی ہے۔ اس فطری وابستگی کو حبِ وطن کہا جاتا ہے۔
    سیدنا رضی الله عنھا کا فرمان اقدس ہے
    "وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے”
    اس کا مطلب ہے جس طری دیگر ارکان اسلام کا ایمان لانا ضروری ہے اس طرح وطن سے محبت کرنا بھی ضروری ہے۔ جو سرزمین انسان کو پالتی ہے۔ تقاضائے ایمان ہے کہ اس سے بھی ویسی ہی محبت کی جائے۔
    وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ جو کوئی بھی جہاں بھی جس شعبے میں بھی ہو وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے۔اپنے ذاتی مفادات کو وطن کی خاطر قربان کرنا اور وطن کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر عمل کرنا محب وطن ہونے کا ثبوت ہے۔
    وطن کی سرحدوں کی حفاظت بھی وطن سے محبت کا تقاضا ہے۔ سرحدوں سے مراد جغرافیائی سرحد کے ساتھ وطن کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی ضروری ہےاور نئی نسل کو اپنے نظریہ وطن سے آگاہ کیا جائے۔
    ہم نے یہ وطن اسلام کے نام پر حاصل کیا اس کی نظریاتی اساس میں اسلام شامل یے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اس ملک میں اسلامی نظام رائج کریں۔ملکی روایات اور ثقافت کو فروغ دیں۔ غیروں کے طریقے اور طرز پر مبنی چیزیں دیں اور خالصتاً اسلام اور قرآن کے احکامات کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں۔ تب ہی ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب پورا ہوسکے گا۔
    تحریر:

    @iitx_hadii

  • مستحکم آزاد کشمیر ہی مقبوضہ کشمیر کی آواز   تحریر : حمزہ علی

    مستحکم آزاد کشمیر ہی مقبوضہ کشمیر کی آواز تحریر : حمزہ علی

    آزاد کشمیر میں الیکشن کی آمد آمد ہے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کیلئے سب سیاسی کارکنان متحرک ہو چکے ہیں ایسے میں جن لوگوں کی پوزیشن کمزور ہوتی جا رہی ہے وہ سیاسی ہتھکنڈے استعمال کر رہے اور ریاست مخالف بیانیے استعمال کرنے کی حد تک بھی جا رہے ہیں جس سے یہ بات پتا چلتی ہے کہ یہ لوگ اپنی کرسی کی خاطر کسی بھی قسم کے بیانیہ کا سہارہ لے سکتے ہیں ریاست مخالف سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنے میں ن لیگ اور مہاراج فاروق حیدر صاحب صف اول میں نمایا نظر آ رہے ہیں مریم نواز تو کلیبری فونٹ اور لندن فلیٹس کا جھوٹ بولتے تو پکڑائی جا چکی ہیں لیکن اب فاروق حیدر بھی مریم نواز کی ایماء پر آہستہ آہستہ ریاست مخالف اور منفی سیاست باتیں کر رہے ہیں ایسے میں ہی دوسری طرح کا سیاسی ہتھکنڈہ تحریک آزادی کشمیر کے کرداروں کے نام استعمال کرکے ہو رہا ہے مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان صاحب ہوں یا پھر سردار ابراہیم خان صاحب مختلف حلقوں سے ان کے نام پر بنائی گئی جماعتوں کے نام کو ہی حرف آخر اور کشمیر کی اصل وارث جماعتیں قرار دیا جا رہا ہے ایسے میں اگر تحریک انصاف نے کشمیر کی سیاست میں شمولیت اختیار کی جو کہ اب اکثریتی بنیاد پر حکومت بھی بنانے جا رہی ہے تو اس میں تحریک آزادی کشمیر کے کرداروں کے ناموں کا استعمال کرکے تحریک انصاف کے خلاف منفی سیاست کو عروج بخشا جا رہا ہے۔

    اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ سردار عبدالقیوم خان صاحب اور سردار ابراہیم خان صاحب کا آزاد کشمیر کی سیاست میں تا قیامت نام رہے گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تحریک آزادی کے مجاہدین کے نام پر بنائئ گئی جماعتیں آزاد کشمیر کو اپنی جاگیر سمجھ لیں آزادی کی مسلح جدوجہد 47 تک تھی اور اس کے بعد اب بھارت پاکستان اور اقوام متحدہ کے درمیان یہ تنازعہ باقی رہ گیا ہے اس سے ریاستی یا غیر ریاستی جماعتوں کا تعلق 47 میں ختم ہوگیا تھا اب چونکہ آزاد کشمیر کہلایا ہی پاکستان کیلئے آزاد کشمیر تھا تو اس میں پاکستان کی جماعتیں براہ راست شمولیت اختیار کرسکتی ہیں اور کارکردگی کی بنیاد پر حکومت قائم کر سکتی ہیں

    پاکستان تحریک انصاف کے چئرمین اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا ہمیشہ سے ہی یہ بیانیہ رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف و صرف کشمیریوں کی مرضی اور امنگوں کے مطابق حل ہوگا اور پاکستان یا بھارت براہ راست اس پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتا جب تک یہاں کے رہنے والے اس کا خود سے فیصلہ نا کرلیں

    ایسے میں تحریک آزادی کشمیر کے نام پر بنائئ گئی جماعتوں حتی کے غیر ریاستی جماعتیں ن لیگ اور پپلز پارٹی کا منفی پراپگیبڈہ اور یہ دعوی کرنا کہ ان کو اس بنیاد پر ووٹ دیا جائے کہ وہ ریاستی تشخص یا تقسیم کشمیر بچانے کیلئے حکومت میں آئیں گی تو یہ بات کسی بھی دھوکے سے کم نہیں

    مریم نواز جو "بچہ بچہ کٹ مرے گا کشمیر صوبہ نہیں بنے گا” کا نعرہ لگا رہی ہیں ان کی ہی جماعت ن لیگ کے 2016 کے منشور میں آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کا ذکر موجود ہے جس سے ن لیگ کی منافقت عیاں ہوجاتی ہے

    آزاد کشمیر میں اس وقت سب سے بڑی ضرورت تعمیر و ترقی، نا انصافی کو ختم کرنا اور اداروں کو متحرک کرنا ہے جو کہ پاکستان تحریک انصاف کے آنے کے بعد ہی ممکن نظر آتا ہے۔
    پاکستان تحریک انصاف جس کی بنیاد انصاف اور کرپشن کے خاتمے کیلئے ہے مجھے پوری امید ہے کہ اگر وہ آزاد کشمیر میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی (جو کہ ہوتی ہوئی نظر بھی آ رہی ہے) تو 2026 تک نمایاں تبدیلی اور اس کا ثمر حاصل ہوگا

    اسلئے آئیں اور تحریک انصاف کے منشور تعمیر و ترقی، نا انصافی کو ختم کرنے اور کرپشن کے خاتمے کیلئے اس جماعت کو کامیاب کریں اور کسی بھی نظریاتی یا تحریک آزادی کے مجاہدین کے ناموں کو استعمال کرکے ایموشنل بلیک میلنگ سے محفوظ رہیں آزاد کشمیر میں اس وقت اجتماعی مفادات اور تعمیر و ترقی ہی صرف اب لازم ہے اگر آزاد کشمیر معاشی و اقتصادی مضبوط ہوگا تو ہی جا کر مقبوضہ کشمیر کی کچھ مدد کی جا سکے گی وگرنہ نظریاتی اور تحریک آزادی کے نعرے لگا لگا کر کچھ حاصل نہیں ہونے لگا ہے اس کیلئے تحریک انصاف کے وزن کو کشمیر میں پوری قوت کے ساتھ لانا ہوگا تاکہ مستحکم آزاد کشمیر کے ذریعے بیس کیمپ سے مقبوضہ کشمیر کیلئے آواز اٹھائی جا سکے

  • چنگیز خان اور اس کی سلطنت تحریر:محمد عمران خان

    چنگیز خان اور اس کی سلطنت تحریر:محمد عمران خان

    اگر ہم آج سے ایک ہزار سال پیچھے چلے جائیں تو جو آج چین اور روس کا ہمسایہ ملک منگولیا ہے اس وقت یہاں مختلف چھوٹے چھوٹے قبیلے آباد تھے یہ لوگ خانہ بدوش تھے اپنے لئے کسی مناسب جگہ کا انتخاب کرتے اور پھر وہاں زندگی گزر بسر کرنے چلے جاتے اور جب وہاں کی آب و ہوا اور ان کے مویشیوں کے لئے چارہ کافی نہ ہوتا تو یہ لوگ وہاں سے کسی سرسبز اور بہتر جگہ پر ہجرت کر جاتے ان قبیلوں کے اپنے اپنے سردار تھے اور تمام قبیلہ سردار کے ماتحت ہوتا تھا اور تمام قبیلے والے اپنے سردار کی عزت کرتے اور ہر بات مانتے تھے،
    ان قبیلوں میں سے ایک قبیلہ جس کا سردار یسوخئی نام کا جو ایک بہادر جنگجو بھی تھا اور اس کا تعلق بورجگین خاندان سے تھا اس کا ایک بیٹا جسکا نام تموجن جسے آج دنیا ”چنگیز خان” کے نام سے جانتی ہے پانچ سال کی عمر کا تھا اس کے باپ نے اپنے دوست کے قبیلے میں اس کی منگنی کروا دی ان خانہ بدوشوں کے تمام قبیلے ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے جھگڑتے اور ایک دوسرے کے گویا جانی دشمن بھی تھے یہی وجہ تھی کہ ہر قبیلہ کے لوگ جنگی مہارت رکھتے تھے، یسوخئی کو ایک دعوت میں بلا کر زہر دے دیا گیا اور جس سے اس کی موت واقع ہوگئی،
    اب اس کے بیٹے کے خلاف قبیلے والوں نے بغاوت کردی کہ اس پانچ سال کے بچے کو ہم اپنا سردار نہیں مانتے انہوں نے تموجن اور اس کے گھر والوں کو قبیلے سے الگ ہونے کا کہہ دیا،
    لیکن سردار کے قبیلے سے بغاوت کرنے والوں کو یہ معلوم ہو گیا کہ تموجن بڑا ہو کر کہیں ہم سے اس بغاوت کا بدلہ نا لے، انہوں نے اسے قتل کرنے کے منصوبے بنانے شروع کر دیئے، کئی مہینوں تک یہ ان کے ہاتھ نہ آیا اور وہ مسلسل اس کی تلاش میں پھرتے رہے۔وقت گزرتا گیا تموجن بڑا ہو چکا تھا، لیکن آخر کار جو اس کی جان کے درپے تھے انہوں نے اسے پکڑ لیا اور زنجیروں میں جکڑکر اپنے ساتھ لے گئے،لیکن اسے مارا نہیں بلکہ قید میں ڈال دیا،
    تموجن کسی طرح ان کی قید سے نکلا اور گھر والوں کو ڈھونڈتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا، اس نے اپنی منگیتر کو واپس لانے کا فیصلہ کیا، چند عرصہ گزرنے کے بعد کچھ دشمنوں نے اسے آ لیا اس کے گھر والوں پر یلغار ہونے والی تھی جس کا اسے پہلے ہی علم ہو چکا تھا، اس نے اپنی بیوی کو ایک چھکڑے میں چھپایا اسے دوسری طرف روانہ کرتے ہوئے خود پاس بہتے پانی کی طرف روانہ ہو گیا،
    سیانے کہتے ہیں کہ "جیسی کرنی ویسی بھرنی”
    اس کا باپ یعنی یسوخئی ایک عورت کو کسی دوسرے قبیلے سے اغوا کر کے لایا تھا، سو آج یہ سب اس کے بیٹے کے ساتھ ہونے جارہا تھا، تموجن تو جان بچا کر بھاگ گیا لیکن جس طرف اس نے اپنی بیوی کو روانہ کیا تھا وہ چھکڑا پکڑا گیا اور وہ تموجن کی بیوی کو اپنے ساتھ لے گئے، کہا جاتا ہے کہ یہ وہی قبیلے والے تھے جن کی عورت کو اس کے باپ نے اغوا کیا تھا، سو آج یہ قدرتی انصاف مکافات عمل پورا ہوا،
    مگر اس قسم کی باتیں وہ نہیں سوچتے تھے،
    خیر آگے بڑھتے ہیں اور اس تموجن کی کہانی کو مکمل کرتے ہیں،
    لیکن ابھی تو اس کہانی کی شروعات ہے۔ آپ اسے توجہ سے پڑھتے رہیں، شاید آپ کی معلومات میں تھوڑا اضافہ ہو سکے۔
    تموجن کافی عرصے کے بعد اپنے گھر والوں کا پیچھا کرتے واپس لوٹا تو دیکھا اس کی بیوی گھر میں نہیں تھی، چنانچہ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیوی کو واپس لائے گا چاہے اسے کچھ بھی کرنا پڑے ایسے میں اس نے اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا جس کا نام جموکا تھا اس نے پہلے تو اسے خبردار کیا کہ تم ایک عورت کی خاطر جنگ کرو گے بعد میں تموجن کے اصرار پر اس کے دوست جموکا نے اسے اپنے قبیلے کے سپاہیوں کا ایک لشکر اس کی کمان میں سونپ دیا۔ یہ اپنی بیوی کو لینے چل دیا،
    اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ان کے قبیلے پر یلغار کر دی اور اونچی اونچی آواز میں بورتچینا بورتچینا پکارنے لگا بورتچینا اس کی بیوی کا نام تھا، اس نے اور اس کے ساتھ آنے والے سپاہیوں نے قبیلے والوں کے سر دھڑ سےالگ کر کے رکھ دیئے،
    تموجن خیموں کی تلاشی کرتے کرتے اپنی بیوی تک جا پہنچا لیکن پھر کیا ہوا بیوی کو اغوا ہوئے 6/7 ماہ گزر چکے تھے اور اس کی بیوی اس عرصے میں امید سے ہو گئی تھی لیکن اس نے اپنی بیوی کو لیا اور وہاں سے گھر لوٹ آیا،
    تموجن جسے اس کے قبیلے والوں نے تکلیفوں سے دوچار کیا اور خود سے الگ کر دیا اب وہ ان سے ان سب زیادتیوں کا بدلا لینا چاہتا تھا،
    یہ اس قدر ضدی تھا کہ جس چیز کا دل کرتا وہ حاصل کرنے کسی بھی حد تک چلا جاتا۔ بچپن میں اپنے سگے بھائی کو تیر مار کے مار دیا، محض اس وجہ سے کہ وہ اس کی دریا سے پکڑی ہوئی مچھلی کھا جاتا تھا،
    آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ خانہ بدوش قبیلے ایک تو اپنی دشمنیوں کی وجہ سے بہترین جنگجو تھے دوسرا یہ کہ ان کا پیشہ بھی تھا وہ تیز دوڑتے گھوڑوں سے نشانہ لیتے اور تیر چلاتے تھے،
    تموجن اب اپنے باپ کی سرداری چھیننے والوں کے درپے ہو گیا اس نے قبیلے کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی اور اپنی سرداری میں انہیں امان دینے کا وعدہ کیا، کچھ تو اس کی بات مان گئے اور کچھ نے مزاحمت کی لیکن جنہوں نے مزاحمت کی اس نے ان کا تیاپانچا کر کے رکھ دیا،
    وہ کسی غدار کو زندہ نہیں چھوڑتا تھا،
    اس نے ارادہ کیا کہ وہ اب تمام قبائل کو متحد کرے گا چنانچہ اس نے مختلف قبائل کے سرداروں کو اپنے قبیلے میں ایک دعوت پر مدعو کیا جنہوں نے اس سے اتفاق کیا اور جنہوں نے نہیں بھی کیا ان کو بھی اپنی باتوں سے قائل کرلیا لیکن جنہوں نے اس کی ایک نہ مانی اس نے انکا برا حشر کیا جس ظلم اور سفاکیت سے آج وہ پہچاناجاتا ہے،
    ان کارستانیوں کو دیکھ کر اور اس کی باتیں سن کر مختلف قبائل اس کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہوگئے اس نے ان سے کہا کہ میں تم لوگوں کو یہ پوری دنیا دوں گا جیسے چاہو اور جہاں چاہو رہو اور جو چیز تمہیں اچھی لگے اسے حاصل کرو۔ لیکن یہاں ایک مسئلہ تھا اور مسئلہ اس کے بچپن کا دوست جموکا تھا۔منگول اپنے سردار کو خان کا خطاب دیتے تھے اور اب کیونکہ تموجن نے تمام قبائل کو اپنے ساتھ مل جانے کی دعوت دی تھی لیکن وہیں پہ دوسری طرف اس کا دوست بھی منگولوں کا خاقان بننا چاہتا تھا۔
    خاقان منگولوں میں سارے سرداروں سے بڑے سردار کو کہتے تھے لیکن اس وقت تک انہیں کوئی خاقان نہیں مل سکا تھا جو تمام قبیلوں کی نمائندگی کرتا،اب تمام قبیلوں میں اتحاد قائم ہو رہا تھا اور دونوں دوست اپنی اپنی فوج تیار کر رہے تھے، ایک دوسرے کے ساتھ لڑنا جھگڑنا بھی شروع کر دیا تھا لیکن فیصلہ کن جنگ کرنا ضروری تھا۔ تموجن نے اپنے دوست جموکا کو اپنی سرداری تسلیم کرنے اور اس کےتابع ہوکر لڑنےکیلئے پیغام بھیجا اس نےلکھا کہ اس قوم کا مقدر میں ہوں اور میری کمان میں تم لڑو تو تمہارے لئے اچھا ہوگا ورنہ دو سورج ایک ساتھ نہیں چمک سکتے،
    اس کی اس بات پر جموکا نے جواب دیا کہ میں وہی ہوں جس کی مدد سے آج تم اس مقام پر ہو اور یاد کرو وہ دن جب تمہاری بیوی کی واپسی کیلئے میں نے تمہاری مدد کی تمہاری سرداری واپس دلوانے کے لیے بھی میں تمہارے ساتھ کھڑا رہا لیکن آج تم مجھے دھمکی دے رہے ہو۔ اگر تم میرے ساتھ پنجہ آزمائی کرنا چاہتے ہو تو یہ تم کر گزرو،
    چنانچہ تموجن نے اپنی فوج کو جموکا کے ساتھ جنگ کیلئے تیار کیا،
    اور بچپن کے دونوں دوست آج ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے، کہا جاتا ہے کہ ان دونوں نے بچپن میں ایک دوسرے کے ہاتھ پر خون بہایا اور پھر دونوں نے ہاتھ سے ہاتھ ملایا اور ایک دوسرے سے کہا کہ آج کے بعد ہم ایک دوسرے کے خونی بھائی ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ایک تھالی میں کھاتے تھے اور ایک ہی بستر پر سوتے۔
    مگر اب فیصلہ کن جنگ شروع ہو گئی پہلے تو دونوں طرف کے سپاہی دیدہ دلیری کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑتے رہے لیکن نتیجہ جموکا کی گرفتاری کی صورت میں نکلا چناچہ تموجن جموکا کو اپنے خیمے میں لے گیا اور وہاں اس کو کھانا کھلایا اور اپنے دوست سے پوچھنے لگا اگر میں ایسے تمہارے پاس گرفتار ہو جاتا تو بتاؤ تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے،
    جموکا نے جواب دیا کہ وہ اسے مار دیتا کبھی زندہ نا چھوڑتا،
    تموجن نے کہا تم اب خود ہی بتاؤ میں تمارے ساتھ کیا سلوک کروں؟ اس نے کہا مجھے مار دو مجھے مار دو اگر میں زندہ رہا تو تم سے اس کا حساب لوں گا۔
    تموجن نے اسے کمان کی تار سے گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔
    تموجن چاہتا تھا کہ وہ اس کے خونی بھائی کا خون نہیں بہانا چاہتا، لیکن بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ تموجن نے جموکا کی لاش کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کروائے اور پھر اسے جنگل میں پھینک دیا۔
    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ اپنی سفاکیت اور بربریت کی وجہ سے مشہور تھا۔
    اب اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی تھی۔ اس نے دیگر قبائل کو پھر مدعو کیا اور اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا۔
    آپ کو بتاتے چلیں کہ چین کے سرحدی علاقوں پر تموجن نے بہت سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا یہ لوگ چینی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے اور منگولوں کے قبیلوں میں لوٹ مار بھی کیا کرتے تھے،
    تموجن کے اس اقدام کو دیکھتے ہوئے چینی بادشاہ نے اس پر نوازشات کیں اور اسے چینی سرحد کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے سرحدی کمانڈر بننے کی پیشکش کی لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ جسے وہ معمولی سرحدی کمانڈر بنا رہا ہے وہ عنقریب ان کی سلطنت تباہ کر دے گا۔ وقت گزرتا گیا اور تموجن کے لشکروں میں اضافہ ہوتا گیا،
    لیکن ایک دن وہ اچانک غائب ہو گیا اور سب لوگ حیرت زدہ ہو گئے کہ ان کا سردار اچانک گیا تو کہاں گیا ؟
    کہا جاتا ہے کہ دو / تین دن بعد وہ اپنے قبیلے میں لوٹا اور بہت خوش تھا تمام لوگوں کو جمع کیا گیا اور اس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خدا نے اسے بشارت دی ہے کہ وہ پوری دنیاپر حکومت کرے گا۔ تم لوگ تیار ہو جاؤ یہ دنیا تمہاری ہے اور تم اس کے حکمران ہو،
    یہ سن کر تمام لوگ ہش ہش کر اٹھے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہی ہے وہ جو ہماری طاقت میں اضافہ کرے گا،
    تموجن اب چنگیز خان کا روپ دھار چکا تھا۔ اور سب سے پہلے اس نے اپنے ہنسائے ملک چین پر یلغار کرنے کی منصوبہ بندی کی،
    لیکن چینیوں کے پاس اسلحہ تھا اونچی اونچی عمارتیں تھیں لمبی چوڑی دیواریں تھیں یہ سب کیسے ممکن تھا؟ اور اس نے ایسا کیوں سوچا تھا کہ وہ یہ سب کر سکتا ہے؟
    ان کے پاس گھوڑے تلواروں تیروں کے سوا کسی قسم کا کوئی اور ہتھیار نہ تھا جو چینی سلطنت سے مقابلہ کرسکتا اور ان سے ان کا ملک چھین سکتا،
    چنانچہ یہ سب کرنے کے لئے بھی اس کے پاس منصوبہ تھا، وہ اپنی عقل کو استعمال کرتا اور یلغار کر دیتا۔ اس نے طرح طرح کے منصوبے بنائے اور منصوبوں پر عمل کرتے ہوئے اس نے چینی شہروں کے محاصرے کئے بھوک پیاس سے تڑپتے چینی شہری آخرکار شہر سے باہر نکلتے تو منگول شہر میں داخل ہو جاتے اور شہر تہس نہس کر دیتے ۔یہ منگول اپنا خوف اور دہشت پھیلانے کیلئے حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرتے شہر میں موجود کیڑے مکوڑوں تک کو مار دیتے مردوں کے سر اڑا دیتے۔ عورتوں کو اپنے قبضے میں کر لیتے اور شہر کی خوب لوٹ مار کرتے اور جب شہر کو لوٹ لیتے اور تمام جانداروں کو قتل کر دیتےتو شہر کو آگ لگا دیتے ،
    ان کی اس سفاکیت اور بربریت نے دنیا کی باقی اقوام کو خوف میں مبتلا کر دیا۔
    سن 1300ء کے لگ‌بھگ منگولوں کی سلطنت میں شگاف پڑنے لگے۔‏
    ایشیا اور یورپ پر منگول ایک آندھی کی طرح آئے،‏ تھوڑے ہی عرصے کے لئے زوروں پر رہے اور پھر آندھی کی طرح جلد ہی تھم گئے۔‏
    مشہور ہے نا کہ، "ظلم جب حد بڑھ جائے تو مٹ جاتا ہے”

    @Imran1Khaan

  • بیٹے کی قربانی تحریر: محمد زمان

    آٹھویں ذی الحجہ کی رات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں یہ دیکھا کہ ایک فرشتہ اللہ کا حکم سنا رہا ہے کہ ابراہیم قربانی دو آپ نے صبع کو اٹھ کر ایک سو اونٹوں کی قربانی دی مگر دوسری رات بھی یہی خواب نظر آیا تو آپ نے علی الصباح دو سو اونٹوں کی قربانی دیں مگر تیسری رات بھی یہی خواب دیکھا تو آپ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں کیا چیز تیری راہ میں قربان کروں اس وقت خداوند کریم نے ارشاد فرمایا کہ ابراہیم تم میری راہ میں اس چیز کو قربان کرو جو دنیا میں تم کو سب سے زیادہ پیاری ہے آپ سمجھ گئے یہ میرے فرزند حضرت اسماعیل کی قربانی کا حکم ہے پھر آپ نہ گھبرائے نہ فکرمند ہوئے بلکہ میدان تسلیم و رضا کے شہسوار بن کر بیٹے کی قربانی کے لیے تیار ہوگئے اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر سات برس یا تیرہ برس کی تھی
    اور آپ بہت ہونہار اور صاحب حسن و جمال تھے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی بیوی حضرت ہاجرہ سے فرمایا کہ ایک نیک بخت بیوی آج تمہارے نور نظر کی ایک بہت بڑے بادشاہ کے دربار میں دعوت ہے یہ سن کر پیکر محبت ماں فرط مسرت سے جھوم اٹھیں اور اپنے لخت جگر کو نہلایا بھلا کر آنا اور نفیس پوشاک پہنا کر آنکھوں میں سرما بالوں میں کنگھی کر کے اپنے لال کو دولہا بنا کر باپ کے ساتھ میں بیٹے کی انگلی پکڑا دی حضرت خلیل اللہ اپنی آستین میں رسی اور چوری چھپے ہوئے ذوالحجہ کی دس تاریخ کو مکہ مکرمہ سے منیٰ کی گھاٹی کی طرف روانہ ہو گیے اور جب وادی منی میں پہنچے تو اپنے فرزند سے فرمایا کہ اے میرے پیارے بیٹے مجھے اللہ تعالی کا یہ حکم ہوا ہے کہ میں تم کو اس کی راہ میں ذبح کر دوں تو اے بیٹا تمہاری کیا رائے ہے مہربان باپ کی تقریر سن کر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے مقدس باپ ضرور خدا کے حکم پر عمل کریں ابا جان آپ اطمینان رکھیں کہ میں نہ روں گا نہ چلاوں گا اور نہ فریاد کروں گا بلکہ ان شاء اللہ تعالی میں صبر و استقامت کا پہاڑ بن کر خدا کی راہ میں قربان ہو جاؤں گا اور خدا بندے سبحان کے رضوان و زعفران کی سربلندیوں سے سرفراز ہو جاؤں گا ابا جان اس سے بڑھ کر بھلا میری خواہش نصیبی اور کیا ہوگی کہ میرے سر کی قربانی خدا کی راہ میں قبول ہو جائے

    پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام عرض کرنے لگے کہ ابا جان میری تین وصیتوں پر دھیان رکھیے گا سب سے پہلے وصیت تو یہ ہے کہ آپ قربانی کے وقت میرے ہاتھ پاؤں کو خوب جکڑ کر کر رسی سے باندھ دیں تاکہ بوقت ذبح میرا تڑپنا دیکھ کر آپ کو کہیں رحم نہ آ جائے

    دوسری وصیت یہ ہے کہ آپ مجھ کو منہ کے بل لٹائیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے سینے میں دل دھڑک جائے اور آپ کا ہاتھ جنبیش کر کے رک جائے تیسری وصیت یہ ہے کہ میرے ذبع ہونے کی خبر میری ماں کو نہ دیجیے گا ورنہ ممتا کے ماری میری دکھیاری ماں میرے غم کو برداشت نہ کر سکیں گی
    اور شدت غم سے اس کے سینے میں شیشہ دل پاش پاش ہو جائے گا اس گفتگو کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہاتھ پاؤں کو رسی سے باندھ کر انہوں نے ایک پتھر کی چٹان پر لٹایا اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اپنے نورِ نظر کو حلقوم پر چھری چلا دی لیکن شان خداوندی کا کرشمہ دیکھئے کہ چھری تیز حضرت اسماعیل کی گردن کو نہیں کاٹ سکیں

    اس مرحلہ پر باپ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب امنڈ پڑا اور روتے ہوئے بارگاہ کبریا میں عرض کرنے لگے کہ اے الہی تیرے خلیل سے کون سی ایسی تقصیر ہوئی جو قربانی قبول نہیں ہو رہی ہے اور چھری کے نیچے لیٹے ہوئے حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی رو رو کر کہنے لگے کہ کہ خداوند مجھ سے کون سا ایسا قصور ہو گیا جو میرے سر کی قربانی بارگاہ کرم میں قبولیت سے سرفراز نہیں ہو رہی ہے

    پھر حضرت خلیل خوف خداوندی سے لرزتے ہوے چھری کو پتھر پر تیز کرنے لگے اور دوبارہ پوری قوت سے زبع کرنا چاہا مگر پھر بھی چھری نے کام نہیں کیا تو آپ نے جوش و غضب میں چھری کو زمین پر پٹک دیا اس وقت چھری زبان حال سے عرض کرنے لگی کہ اے ابراھیم آپ مجھ پہخفا ہو رہے ہیں میں کیا کروں ایک مرتبہ مجھ سے خدا کا خلیل کہتا ہے کہ کاٹ اور ستر مرتبہ رب جلیل فرماتا ہے کہ مت کاٹ
    تو اے خلیل اللہ اللہ آپ ہی بتا دیجئے کہ میں خلیل کا کہنا مانو یا رب جلیل کی فرمانبرداری کروں

    مسلمانوں یہ وہ منظر تھا کہ اللہ کے فرشتے بھی حضرت خلیل اللہ کے جذبہ وفاداری اور جوش فدا کاری پہ تسکین اور آفرین کا نعرہ بلند کرنے لگے اور رب العالمین نے فرمایا کہ اے فرشتو دیکھ لو بلاشبہ ابراہیم میرا خلیل ہے دیکھ لو کس طرح میرا خلیل میری راہ میں اپنے محبوب فرزند کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر کے اعلان کر رہا ہے کہ ابراہیم کے قلب میں خدا کے سوا کسی کی محبت کی گنجائش نہیں ہے

    بالآخر حضرت خلیل اللہ کے اس فدا کارانہ جذبہ خلوص اور ایثار پر رحمت پروردگار کو ایسا پیارا گیا کہ جناب جبرائیل امین کو یہ حکم دیا کہ اے جبرائیل جنت سے ایک دونبہ کر حضرت اسماعیل کی جگہ لٹا دو چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایک بہشتی دونبہ لا کر لٹا دیا اور خداوندے کریم میں حکم دیا کہ اے ابراہیم اب چھری چلاؤ چنانچہ اب کی مرتبہ جو حضرت خلیل نے ذبح کیا تو چھری چل گئی
    اور قربانی ہوگی مگر جب آنکھ کی پٹی کھول کر دیکھا تو یہ منظر نظر آیا کہ ایک دونبہ زبع ہوا پڑا ہے اور حضرت اسماعیل ایک طرف کھڑے مسکرا رہے ہیں

    اس وقت حضرت جبرائیل نے اللہ اکبر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا
    اور حضرت اسماعیل نے لا الہ الا اللہ واللہ اکبر پڑا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان پر وللہ الحمد کا کلمہ جاری ہوگیا

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات عمران اے راجہ پارٹ ۲:

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات عمران اے راجہ پارٹ ۲:

    کروگر نیشنل پارک میں کیمپنگ کے لیے بہت سے پرائیویٹ لاجز موجود ہیں مگر بہترین اور جدید سہولیات سے آراستہ آٹھ مقامات ہیں جہاں سے دل موہ لینے والے قدرتی نظاروں کے علاوہ جنت کے پرندوں سے بھی ملاقات ہوتی ہے۔
    ‏۱: Malelane
    مالےلان گیٹ ویسے تو کروگر کے دوسرے گیٹس کی طرح عام ہی رہا ہوگا مگر میرے لیے کچھ وجوہات کی بنا پر بہت خاص اور دل کے قریب ہے۔ ایک تو یہ میرا ہوم ٹاؤن رہا اور ساؤتھ افریقہ میں اینٹری کے بعد میری پہلی رہائش یہیں تھی۔ دوسرا اس گیٹ سے میں نے جب بھی اینٹری کی کچھ ہی دیر میں “شیر” ضرور دکھائی دیا اور یہ اتفاق تقریباً ہر بار ہوا۔ ضروری نہیں آپ کے ساتھ بھی ایسا ہو کیونکہ میرے ساتھ پیروں کی خاص دعا بھی ہو سکتی ہے۔
    جب صدر Paul Kruger نے 1898 میں پارک کی بنیاد رکھی تو 1902 میں Malelane Gate کی بنیاد رکھی گئی۔ مطلب یہ حصہ بالکل شروعات سے شکار سے محفوظ ہے اور یہاں آپ Corcodile River کے بہترین نظاروں کے علاوہ گینڈا، کُوڈُو، زرافہ، امپالہ، ہاتھی اور شیر کے علاوہ دریائی گھوڑے بھی دیکھ سکتے ہیں۔
    کروگر کے پہلے وارڈن کرنل جیمز ہیملٹن کا تعلق بھی یہیں سے تھا اور اسی گیٹ پر ان کی تقرری کی گئی۔ تقریباً ایک سو بیس سال پہلے یہاں شکاریوں کی بہتات کی وجہ سے جانور بہت کم ہوگئے اور ایک گیم ریزرو کی ضرورت محسوس کی گئی۔ آج اس علاقے میں جتنے بھی جانور نظر آتے ہیں اس میں بلاشبہ کرنل جیمز کی محنت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔
    کروکوڈائل ریور Crocodile River سے خاص احتیاط کیجیے۔ بظاہر پرسکون دکھنے والا پانی آپ کو اپنے پاؤں اس میں رکھنے پر مجبور کرے گا مگر یہ دیوہیکل مگرمچھوں کا مسکن ہے۔ آپ کا شکار کر کے ان کا پیٹ تو شاید نا بھرے مگر بطور سٹارٹر مگرمچھ اعتراض نہیں کریں گے۔دریائی گھوڑا بھی کافی جگہ نظر آئے گا۔ اس کے قریب جانے سے بھی اجتناب کیجیے۔ بظاہر سست نظر آنے والا یہ جانور انتہائی خطرناک ہے اور اس کے جبڑے میں آپ کا آدھا جسم سما سکتا ہے۔
    کروگر میں دوران سفر گاڑی سے اترنے کی انتہائی سخت ممانعت ہے اور کسی بھی مشکل میں آپ نے ہیلپ لائن کو کال ملانا ہے۔ناصرف آپ اپنی جان خطرے میں ڈال سکتے ہیں بلکہ خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کے علاوہ داخلے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔
    ‏۲: Skukuza
    سکوکوزا سب سے بڑا کیمپ سائٹ ہے کروگر میں اور دوسری خاصیت یہاں پر پارک کے ہیڈکوارٹرز کا ہونا ہے۔ یہ گیٹ Sabie River کے پاس ہے۔ صابی قدرتی حسن سے مالا مال ہے اور آپ یہاں ایسے نظارے دیکھیں گے جو دنیا میں کم ہی نظیر رکھتے ہیں۔ یہاں ایک کمرشل ایئرپورٹ بھی موجود ہے جہاں آپ ملک کے مختلف حصوں سے نیشنل فلائٹس لے سکتے ہیں۔ اتنے حسین ایئرپورٹس آپ نے کم ہی دیکھ رکھے ہوں گے۔ 2018 میں فوربز میگزین نے اسے “دنیا کے خوبصورت ایئرپورٹ” کے اعزاز سے نوازا۔
    سکوکوزا گیٹ سے داخلہ پر وہاں کے خاص جانوروں میں شیر، لگڑبگا، موٹی دم والا بُش بےبی، وارتھوگ، سفید گینڈا اور چیتا ہیں۔ جبکہ پرندوں میں افریقن گرین پیجن، ہیمرکوپ، افریکن فِش اِیگل، کالی کوئل اور جامنی ٹوراکو شامل ہیں۔ اگر آپ پکی سڑک سے کچے پر اتریں (یہ بھی ڈرائیونگ کے راستے ہیں) بُش بکس اور نیالہ بھی ملیں گے۔ آپ کو لگے گا آپ ایک الگ ہی دُنیا میں گھوم رہے ہیں۔ قدرت کو اتنے قریب سے دیکھنے کا موقع آپ کو کم ہی ملتا ہے اور ہر گزرتا سال انہیں دیکھنے کے مواقع مزید معدوم کرتا جا رہا ہے۔
    سکوکوزا کے شمالی طرف جائیں تو آپ کو ہاتھی اور جنگلی بھینسے بھی ملیں گے جنہیں تنگ کرنے سے ہمیشہ گریز کریں۔ یہ حملہ کرتے ہوئے ایک سیکنڈ نہیں لگاتے اور ایک آدھ موقع پر گاڑی کو تھوڑا نقصان پہنچانے میں بھی کامیاب ہوئے۔
    اب ذکر ہو جائے Kruger کے سفر کی کریم “Sabie River Drive” کا ۔۔ یہ سکوکوزا کے مشرق کی طرف ہے اور شیر، چیتا، ہائناز دیکھنے کے بہترین مواقع یہیں میسر آتے ہیں۔ سابی دریا کے ساتھ آپ آہستہ ڈرائیو جاری رکھیے کیونکہ یہی پرائم لوکیشن ہے جہاں آپ کو تمام جانور نظر آئیں گے۔ آپ قسمت کی دھنی ہوں تو شیر اور چیتا کو براہ راست شکار کرتا بھی دیکھ سکتے ہیں۔ سابی دریا پر تمام جانور پانی پینے آتے ہیں اور شکار کرنے والے جانوروں کا داؤ بھی یہیں زیادہ چلتا ہے۔ آپ کا کیمرہ اور ویڈیو موڈ ہمہ وقت آن رہنا چاہیے ورنہ کئی نظارے صرف ذہن میں رھ جائیں گے پردہ سکرین پر نہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی سانحہ ہوا جب چھ شیر ایک کُوڈو کا شکار کرنے لگے اور میرے کیمرہ نکال کر آن کرنے سے پہلے ہی اگلے ڈایننگ ٹیبل پر ضیافت کا اہتمام کر چکے تھے صرف چھری کانٹوں کا انتظار تھا۔
    یہاں Nkuhlu نامی جگہ پر رُک کر آپ اپنے کھانے پینے کا اہتمام بھی کر سکتے ہیں اور اس کی سائٹ بہترین Bird Watch کے علاوہ Sunset Dam کا بھی خوبصورت نظارہ دیتی ہے۔ بہتر ہے اپنے کھانے کا سامان ساتھ لے کر جائیے کیونکہ یہاں حلال فوڈ ملنا وہ بھی ہمارے ذائقے کے مطابق تھوڑا مشکل ہے۔
    کروگر میں چیتے کا زیادہ تر شکار امپالہ بنتے ہیں کیونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر چیتا بُش بک، رِیڈ بک اور واٹربک کا شکار پسند کرتا ہے۔ امپالہ کی نسبت ان تینوں کی سپیڈ زرا کم اور شکار آسان ہے۔
    تقریباً تین سے چار گھنٹے پر محیط یہ سست رفتار ڈرائیو بلاشبہ آپ کی زندگی کی یادگار ترین ڈرائیو ہوگی۔
    (نوٹ: کروگر میں سپیڈ لمٹ کا خاص خیال رکھیے۔ نارمل رفتار 50km/h ہے مگر کئی جگہ اس سے بھی کم۔ سپیڈو کیمز جگہ جگہ لگے ہیں اور تیزرفتاری پر بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے)۔
    باقی گیٹس کی تفصیلات آئندہ کالم میں ان شاء اللہ
    (جاری ہے)
    Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • کالج میں بی ایس پروگرام کا آغاز ، طالب علم کے ساتھ زیادتی   تحریر : محمد دانش

    کالج میں بی ایس پروگرام کا آغاز ، طالب علم کے ساتھ زیادتی تحریر : محمد دانش

    ‎بی ایس پروگرام، انٹر کے بعد چار سال کا ہوتا ہے
    ‎اور ماسٹر ڈگری کے برابر ہوتا ہے۔ یونیورسٹی لیول پہ طالب علم اس پروگرام سے بے حد مستفید ہوتا ہے کیونکہ یونیورسٹی بآسانی ان تمام سہولیات کو مہیا کر سکتی ہے جو کہ اس پروگرام کے لئے ضروری ہیں  جیسا کہ مناسب لائبریری، جدید کمپیوٹر لیب اور بہت ساری لیبارٹریاں۔
    ‎کالج لیول پر اس پروگرام کا آغاز سٹوڈنٹس کے مستقبل کو تاریک بنانے کے مترادف ہے۔ کالج میں انٹر اور ڈگری لیول کی کلاسز ہوتی ہیں اور اساتذہ کی تعداد پہلے ہی بہت کم ہوتی ہے وہ بہت مشکل سے ان کلاسز کو منظم کرتے ہیں اور بی ایس پروگرام کو منظم کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔لیکن اعلی حکام صورت حال کو جانے بغیر پالیسی بناتے ہیں اور اس کو لاگو کر دیتے ہیں وہ ادارہ جو انٹر کی کلاسز کو مشکل سے منظم کر رہا ہے وہ کیسے بی ایس پروگرام کو شروع کروا سکتا ہے
    ‎اگر بی ایس پروگرام کا آغاز کالج لیول پر کرنا ہے تو پہلے وہاں موجود پرنسپل اور متعلقہ استاد میٹنگ کے لئے بلانا چاہئے تاکہ اعلی حکام کو اصل حقائق کی خبر ہو۔
    ‎کیا صرف ایک لیبارٹری، لائبریری میں موجود چند کتابوں اور کلاس روم کی ناممکل سہولیات  سے بی ایس پروگرام کا آغاز کیا جا سکتا ہے؟؟
    ‎وہ طالب علم جو کالج بی ایس پروگرام میں داخلہ لیں گے  ان کے ساتھ یہ بہت زیادتی ہو گی کیونکہ نہ تو وہ یونیورسٹی کے طالب علموں سے مقابلہ کر پائیں گے اور نہ کوئی بہتر جاب حاصل کر پائیں گے۔ تو ایسی تعلیم اور سند لینے کا کیا فائدہ ہے جس سے نہ تو علم حاصل ہوا اور نہ ہی معاشرے میں کوئی بہتر روزگار۔
    ‎البتہ اس سب سے طالب علموں کے اندر مایوسی بڑھے گی اور ڈپریشن کی بیماری میں اضافہ ہوگا
    ‎لہٰذا طالب علموں کے بہتر مستقبل کے لئے کالج میں بی ایس پروگرام کا آغاز کرنے سے پہلے کالج میں ہر وہ سہولت مہیا کی جائے جو اس کے لئے ضروری ہے تاکہ طالب علموں کے مستقبل کو روشن تابناک بنایا جاسکے۔

    @iEngrDani

  • والدین اور اولاد اور والد کی بد دعا  تحریر: ذیشان علی

    والدین اور اولاد اور والد کی بد دعا تحریر: ذیشان علی

    ہمارا پیارا اسلام سب سے زیادہ والدین کے حقوق کی بات کرتا ہے،
    اسلامی تعلیمات کے مطابق ہمیں ہدایت دی گئی۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب وہ عمر رسیدہ ہو جائیں تو ان کی خدمت کرو۔
    اور ان کے اگے اف تک نہ کرو عاجزی کے ساتھ ان کے اگے جھکے رہو اور ان کے لئے دعا کیا کرو۔
    اللہ تعالی نے دونوں کو بلند مقام و مرتبہ دیا ہے۔
    اور شریعت میں اس سلسلے میں دو طرفہ حقوق اولاد کے والدین پر اور والدین کے اولاد پر واضح کیے ہیں،
    والد ایک سائبان شفقت ہے اور اولاد اس سائے میں پروان چڑھتی ہے۔
    وہ اپنی ساری زندگی بالخصوص اولاد کہ جوان ہونے تک ان کے لئے محنت مشقت کرتا ہے،
    والد اللہ رب العزت کی طرف سے دنیا میں ایک عظیم نعمت ہے۔ جب تک اولاد پر باپ کا سایہ سلامت رہتا ہے اولاد بے فکری کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتی ہے۔
    لیکن جب یہ سایہ شفقت قانون قدرت کے تحت اٹھا لیا جاتا ہے تب اولاد کو اس کی کمی محسوس ہوتی ہے اور اولاد کو زندگی کے اتار چڑھاؤ اور نشیب و فراز کا اندازہ ہوتا ہے،
    کہ باپ اولاد کے لیے کتنی مشکلات سے گزرتا ہے اور اولاد کو اپنی مشکلات کا اندازہ بھی نہیں ہونے دیتا۔
    والد ایک ایسا مقدس محافظ ہے جو ساری زندگی اولاد کی حفاظت کرتا رہتا ہے اور انہیں کامیاب دیکھنا چاہتا ہے،
    دعا ہے رب العزت سے کہ وہ ہمارے آپ کے سروں پر باپ کا سایہ تادیر قائم و دائم رکھے،
    اور جن کے والد اس دنیا سے گزر گئے ان کی بخشش و مغفرت فرمائے،
    اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کی نافرمانی سے اجتناب کرے کیونکہ یہ بہت ہی سخت گناہ ہے۔
    والد کی ناراضی اور اس کی بد دعا آپ کی کوئی دعا قبول نہیں ہونے دیتی۔
    والد کی بد دعا کے متعلق آپ سے ایک واقعہ شیئر کرتے ہیں،
    شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کے ہاں ایک شخص اپنے بیٹے کو بہت عرصے تک لے کر آتا رہا،
    شاہ صاحب رحمہ اللہ کبھی اس کے لئے دعا کرتے، کبھی کوئی عمل اس کے باپ کو بتاتے،
    تو کبھی تعویذ لکھ کر دے دیتے،
    لیکن اس کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،
    ایک دن انہوں نے باپ سے پوچھا کیا تم نے کبھی اسے کوئی بد دعا دی ہے۔
    تو باپ نے کہا ہاں حضور اس کی حرکتوں اور اس کی نافرمانیوں کو دیکھ کر مجھے بہت غصہ آیا اور بہت دکھ ہوا اور میں نے غصے میں اسے بد دعا دی،
    تو شاہ صاحب نے فرمایا تو خود اس کا علاج کر۔
    بد دعا دے کے علاج مجھ سے کروانے آیا،
    ایک تو ہمیں والدین کی نافرمانی سے بچنا چاہیے اور دوسری طرف میری مخلصانہ عرض ہے کہ والدین کو چاہیے اٹھتے بیٹھتے نماز کے بعد اپنی اولاد کے لیے دعا کریں،
    ان کے بہتر مستقبل کے لئے دعا کریں والدین کی دعا! اولاد کی نسلوں تک ان کا ساتھ دیتی ہے،
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لیے دعا کی تھی، اور ان دعاؤں کا اثر قیامت تک ان کی نسلوں میں موجود رہے گا،
    اس لیے اپنی اولاد کو ایسی دعائیں دے جائیں جو ان کی نسلوں میں بھی سب کو نظر آئے اور وہ خود بھی اس کا مشاھدہ کریں،
    اللّٰہ سب کے والدین پر اپنا خصوصی کرم فرمائے، اور سب کی اولاد کو والدین کا فرمابردار بنائے، آمین

    @zsh_ali

  • بلبیر سنگھ  تحریر: علیہ ملک

    بلبیر سنگھ تحریر: علیہ ملک

    تاریخ اسلام ایسے ایسے روحانی و وجدانی واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جنہیں پڑھنے اور سننے کے بعد انسان ایک عجیب کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے۔
    اسلام کے ابتدائی دنوں میں ایمان لانے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی اکثریتی تعداد غریب ہے دو چار کے علاوہ
    جس طرح ابتداء میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ غریب تھے (دنیاوی لہاظ سے) اسی طرح اُس وقت کے مشرکین مکہ کے ساتھ جنگ کی سکت بھی نہیں رکھتے تھے
    اگرچہ اس وقت جہاد کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔
    اس طرح چند سال گزر گئے لیکن اسلام کو طاقت میسر نہ آئی
    پھر ایک دن حضرت سیدنا عمر پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام قبول کر لیتے ہیں
    اور ان کے قبول اسلام کے ساتھ ہی اسلام طاقتور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
    پہلے دن ہی جناب عمر رضی اللہ عنہ مشرکین کو للکارتے نظر آتے ہیں
    مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
    یہ سلسلہ رکتا نہیں بلکہ مزید تیز ہوجاتا ہے
    مکہ سے حبشہ اور مکہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت ہوتی ہے
    مسلمان ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھتے ہیں
    جہاد کا حکم نازل ہوتا ہے
    معرکہ بدر وجود میں آتا ہے
    کفار کوشکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    اور کفار اس کا بدلہ لینے کیلئے دن رات ایک کرتے ہیں
    یہاں تک کہ غزوہ احد کا دن آجاتا ہے
    مسلمانوں پر کفار غالب آجاتے ہیں
    اور اس پر مسلمانوں کا بھاری نقصان خالد بن ولید اپنی کامیاب جنگی چال سے کرتے ہیں۔
    وقت گزرتا ہے وہی خالد بن ولید حضرت خالد بن ولید بن جاتے ہیں یعنی اسلام کو سینے سے لگا لیتے ہیں
    اور اپنی بہادری و شجاعت کی وجہ سے رسول اللہﷺ سے ” سیف اللہ” کا لقب پاتے ہیں اور فاتح شام و ایران ہوتے ہیں۔
    دنیاء کی "سپر پاور” قیس و کسریٰ کو اپنے پاؤں تلے روند دیتے ہیں۔
    یہ سلسلہ یہاں بھی ختم نہیں ہوتا بلکہ ہر دور کے اندر ایسے واقعات ملتے ہیں
    مذہب اسلام کوصفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے نکلنے والی درندہ صفت ہلاکو خان کی فوج جب بہت سارے علاقے فتح کرلیتی ہے اور عباسی خلیفہ "معتصم باللہ” کو گرفتار کرکے گھوڑوں کے سونبوں تلے روند چکی ہوتی ہے تو ہلاکو خان کا چچا زاد بھائی "برکہ خان” اپنی پوری فوج سمیت مسلمان ہونے کا اعلان کر دیتا ہے اور ہلاکو خان کی قمر ٹوٹ کے رہ جاتی ہے۔
    یہ تاریخ اسلام کے سنہری باب ہیں
    اسی طرح بر صغیر میں مسلمانوں کے عقائد کا پرچم بلند ہوتا ہے اور ایک ہزار کے لگ بگ سال اسلامی حکومت رہتی ہے
    لیکن وقتاً فوقتاً ہندو اور مسلمانوں کے درمیان تعصب اور نفرت کی آگ کو بھڑکایا جاتا ہے
    اسی دوران برطانیہ کا انگریز بھی تجارت کی غرض سے ہندستان آتا ہے اور قابض ہوجاتا ہے
    کایا پلٹتی ہے تو بھاگ کے برطانیہ تک ہی محدود ہوجاتا ہے
    مگر انگریز کا بویا ہوا بیج ہندو مسلمان کے درمیان نفرت کو بڑھانا
    مزید ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔
    ہندستان کی قدیم اور سب سے بڑی مسجد "بابری مسجد” کو شہید کردیا جاتا ہے
    اور شہید کرنے میں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ سب سے آگے رہنے والا "بلبیر سنگھ” ہوتا ہے
    مسلمانوں کے صرف جذبات مجروح نہیں کئے جاتے بکلہ مسلمانوں کے سینے گولیوں سے چھلنی کر دئے جاتے ہیں۔
    وقت کی کایا ایک بار پھر پلٹتی ہے اور "بلبیرسنگھ” مسلمان ہوجاتا ہے
    مسلمان ہونے کے بعد یہی بلبیر جب بابری مسجد کا ذکر کرتا ہے تو رو پڑتا ہے
    اور اس کا کفارہ اداء کرنے کیلئے ہندستان میں 100 مساجد تعمیر کرانے کا عہد کرلیتا ہے اور شب و روز اسی کار خیر میں گزارتا چلا جاتا ہے
    یہاں تک کہ 96مساجد کی تعمیر مکمل ہوچکی ہوتی ہے اور آج مورخہ 24/07/2021 کو یہ خبر گردش کرتی ہے کہ "بلبیرسنگھ” آج صبح اپنے دفتر میں مردہ پائے گئے۔
    إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

    @KHT_786

  • پاکستان میں آج کل سب سے بڑا مسئلہ اور پی ٹی آئی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی ہے   تحریر:   سلمان الیاس

    پاکستان میں آج کل سب سے بڑا مسئلہ اور پی ٹی آئی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج مہنگائی ہے تحریر: سلمان الیاس

    باقی ہر محاذ پر حکومت بڑی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے مہنگائی کو چوڑ کر ۔
    مہنگائی کنٹرول نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ بیوروکریسی ہے ۔کیونکہ وہ لوگ کام تو کرتے نہیں بس حاضری لگوانے آتے ہیں ۔اور آکر اے سی میں بیٹھ کر اور پھر چلے جاتے ہیں ۔ ان سے سوال کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے ۔ دکھ کی بات یہی ہے
    ہمارے وزیر بھی ماشاءااللہ کسی سے کم نہیں ہے بیان بازی میں سب سے آگے ہیں اور آگے سب اچھا ہے کا رپورٹ دیتے ہے لیکن کام کرنا نہیں کئی کو چھوڑ کر ۔

    حکومت کی طرف سے سبسڈی دی جاتی ہے ۔لیکن اس کے ثمرات نیچے تک نہیں پہنچتی

    سستے بازار حکومت لگواتی ہے پر وہاں بھی غریب کے لئے کوئی چیز پہلے تو سستا نہیں ہوتا اور اگر مل جائے تو کھانے کے لائق نہیں ہوتا ۔

    یوٹیلیٹی سٹورز پر تو غریب آدمی صرف ذلیل ہوسکتا ہے ۔کیونکہ وہاں پر غریب کی ضرورت کا کوئی چیز تو پہلے ملتا نہیں اور اگر مل بھی جائے تو دکھے کھانے کے بعد کسی خوش نصیب کو ملتا ہے۔

    اب یہ سب کنٹرول کرنا کس کا کام ہے ہم عوام کا ؟
    مہنگائی نے لوگوں کی کمر تھوڑ کر رکھ دی ہے۔اور خاص کر سفید پوش لوگ بہت زیادہ متاثر ہوئے ہے لاک ڈاؤن کے بعد کیونکہ کاروبار کا تو ویسے بھی برا حال ہے ۔اور مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگیں ہے .

    نچلے طبقے والے لوگوں کے ساتھ لوگ امداد کرتے ہے ۔کسی نے زکوٰة دیا صدقہ خیرات دیا انکا گزارہ ہو جاتا ہے
    لیکن سفید پوش نہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتے ہے ۔اور نہ خود سے کوئی دیتے ہے۔

    اب اگر حکومت پوری دنیا بھی فتح کرلے تو غریب آدمی کا اس سے کوئی غرض نہیں ۔کیونکہ انکو تو دو وقت کی روٹی چاہئے جو عزت سے اور سکون سے مل جائے

    اس لئے میں کہتا ہو ۔حکومت بمقابلہ اپوزیشن نہیں
    بلکہ حکومت بمقابلہ مہنگائی ہے کیونکہ یہ کنٹرول ہوگئی تو حکومت کو کوئی ہلا بھی نہیں سکتا اور اگر نہیں۔۔۔۔

    میں بحیثیت پی ٹی آئی کا ایک ادنا سا کارکن یہ سب بڑی دکھ کےساتھ لکھ رہا ہوں ۔لیکن یہ صرف میری آواز نہیں بلکہ ان کروڑوں ورکرز کی آواز ہے جنہوں نے پارٹی کے لئے جان لڑا دی ہے اب تک چاہے وہ سوشل میڈیا کے محاذ پر ہوں یا گراؤنڈ پر ۔

    تو خدارہ اس طرف بھی تھوڑا توجہ دے کر ہم ورکرز پر احسان کردے ۔ شکریہ

    🌷خوش رہے اور خوشیاں بانٹھے یہی اصل زندگی ہے 🌷

    عنوان
    پی ٹی آئی بمقابلہ مہنگائی

    ٹویٹر اکاؤنٹ
    @Salmanjani12

  • اسلامی معاشرہ اور نوجوان نسل تحریر: آمنہ فاطمہ

    اسلامی معاشرہ اور نوجوان نسل تحریر: آمنہ فاطمہ

    نوجوانی کی عمر انسان کی زندگی کا قوی ترین دور ہوتا ہے کسی بھی قوم و ملک کی کامیابی و ناکامی, فتح و شکست, ترقی و تنزلی اور عروج و زوال میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے
    اللّہ تعالیٰ کو جوانی میں کیا گیا عمدہ کام بشمول عبادات اتنی محبوب ہیں کہ جن کا اندازہ لگانا مشکل ہے اللّہ تعالیٰ نے اصحاب الکہف کے بارے میں فرمایا وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں مزید رہنمائی بخشی اور ہم نے ان کے دلوں کو اس وقت مضبوط کر دیا حب انہوں نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ: ہمارا رب تو وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی اور الہ کو نہیں پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو یہ بعید از عقل بات ہوگی 148 ۔ یہ وہ نوجوان تھے جو وقت کے حاکموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اللّہ کی وحدانیت پر ایمان لائے
    اسلام میں نوجوانوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور روز قیامت اسی جوانی کے بارے میں خصوصی سوال کیا جائے گا حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ اللّہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: یعنی قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے عمر کن کاموں میں گنوائی؟ جوانی کی توانائی کہاں صرف کی؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ جو علم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا؟
    دین اسلام کی سنہری تاریخ میں اسلام کی خدمت اور اشاعت میں نوجوانوں کا بڑا کردار ہے نوجوان صحابہ نےبڑے بڑے کارنامے انجام دیے دور شباب میں ہی حضرت على کرم اللہ وجہہ, حضرت معصب بن عمیر, حضرت خالد بن ولید, حضرت ابن عباس, اور دوسرے نوجوان صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ساتھ دیا اور بے شمار غزوات میں اپنی بے مثال قربانیاں پیش کیں. اسی دور میں صلاح الدین ایوبی, طارق بن زیاد اور محمد بن قاسم جیسے سالاروں نے اپنے کارناموں سے اسلامی تاریخ کو تابناک بنایا یہ ایسے نوجوان تھے جنہوں نے اپنی جوانی اور اپنی صلاحیتوں کو اللّہ کے دین پر قربان کیا
    اس کے بر عکس آج کا نوجوان بے راہ روی کا شکار ہے سستی شہرت حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے آج کے نوجوانوں کی زندگی کا مقصد سوشل میڈیا پر اپنے آپ کو وائرل کر کے لائیکس, کمنٹس لینا اور فالورس بنانا رہ گیا ہے معاشرے میں اچھا گھر, گاڑی اور ملبوسات سے اسٹیٹس سمبل بننا چاہتا ہے خود پسندی اور خود نمائی نوجوانوں کی زندگیوں میں زہر گھول رہی ہے دیر رات تک چیٹنگ کرنا اور دن بارہ بجے تک سوئے رہنا مسلم نوجوانوں کا مشغلہ بن چکا ہے آج کے نوجوان کردار و اخلاق, شرم و حیا, ادب و احترام جیسی صفات سے محروم نظر آتا ہے آج دشمن اسلام ہر جانب سے مسلم نوجوانوں کے ایمان اور پہچان کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے اکثر نوجوان اس سازش کا شکار بھی ہو رہے ہیں
    آج کے مسلم نوجوان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کا اصل مقصد تلاش کریں اور اپنے آپ کو پہچانیں اور یہ پہچان اسے صرف اسی صورت حاصل ہو سکے گی جب وہ قرآن و سنت کے ساتھ اپنا تعلق جوڑیں گے
    وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
    شباب جس کا ہے بے داغ, ضرب ہے کاری

    @AamnaBukhari