Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پاکستان کی کرکٹ ٹیم اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ   تحریر : انجینئر عنصر اعوان

    پاکستان کی کرکٹ ٹیم اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تحریر : انجینئر عنصر اعوان

    حال ہی میں پاکستان کی انگلینڈ کے ساتھ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز اختتام پذیر ہوئی ہے. ون ڈے سیریز میں بری طرح شکست کھانے کے بعد پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کی عمدہ پرفارمنس کی بدولت کچھ امید کی کرن نظر آئی جو فی الوقتی ثابت ہوئی اور بقیہ دو میچز میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی طرف سے پچھلی ون ڈے والی ناقص کارکردگی کو دہرایا گیا. اب ٹیم ویسٹ انڈیز پہنچ چکی ہے جہاں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی جانی ہے. جو کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے پہلے کھیلی جائے والی پاکستان کی آخری سیریز ہے. یہ پاکستان کے پاس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں متوقع الیون بنانے کا آخری موقع ہے.
    انگلینڈ کے ساتھ ہونے والی حالیہ سیریز میں مڈل آرڈر بیٹنگ اور باؤلنگ مکمل طور پر فلاپ ہوئی. یہ بات یقینی نظر آئی کہ بابر اعظم جس میچ میں رنز بنائے گا پاکستان کے وہ ہی میچ جیتنے کے چانسز ہیں بابر اعظم اور محمد رضوان کے علاوہ کسی بیٹسمین کی طرف سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھائی نہیں دی. مڈل آرڈر میں کوئی بھی بیٹسمین زمہ داری قبول کرنے کو تیار دکھائی نہیں دیتا. اس وقت شعیب ملک صرف واحد بیٹسمین ہے جو پاکستان کی مڈل آرڈر بیٹنگ کو سہارا دے سکتا ہے. اس لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سکواڈ میں شعیب ملک کی شمولیت اشد ضروری ہے.
    اسی طرح پاکستانی کرکٹ ٹیم کی باؤلنگ کا بھی یہی حال نظر آیا انگلینڈ کے خلاف سیریز میں پاکستان کی باؤلنگ مکمل طور پر فلاپ دکھائی دی. تمام باؤلرز وکٹیں نہ لینے کے ساتھ رنز کو روکنے میں بھی مکمل ناکام نظر آئے. حسن علی کے علاوہ کوئی بھی باؤلر خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا. ون ڈے میں 331 رنز بنانے کے باوجود پاکستانی باؤلرز ٹارگٹ کا دفاع نہ کر سکے جبکہ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں بھی ریکارڈ 232 رنز بنانے کے باوجود بڑی مشکل سے میچ جیت پائے. جبکہ پاکستان کی باؤلنگ ہمیشہ سے دنیا کی بہترین باؤلنگ لائن میں شمار ہوتی آئی ہے. پاکستان اگر ٹی ٹوئنٹی میں 160 پلس سکور کر دیتا تو مخالف ٹیم کے لیے ٹارگٹ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا تھا. مگر حالیہ سیریز میں 200 پلس کا سکور بچانا بھی مشکل نظر آیا.
    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شامل دیگر ٹیمز کے مقابلے کے لیے پاکستانی باؤلنگ کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے جو کے محمد عامر اور وہاب ریاض کی قومی سکواڈ میں شمولیت سے ہی ممکن ہو سکتی ہے. ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہونے والی حالیہ سیریز میں پاکستان کو چاہیے کے سکواڈ میں موجود تمام پلئیرز کو مواقع فراہم کئے جائیں اور ورلڈ کپ کے لئے متوازن سکواڈ کا انتخاب کیا جائے. مصباح الحق اور وقار یونس کو چاہیے کہ آنکھوں سے انا کی پٹی اتار کر شعیب ملک، محمد عامر اور وہاب ریاض کو ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کر کے ایک متوازن ٹیم ورلڈ کپ میں بھیجیں نہیں تو ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کی کارکردگی انگلینڈ سیریز سے مختلف نہیں ہو گی.

  • عورت اور معاشرتی رویّے  تحریر: سویرااشرف

    عورت اور معاشرتی رویّے تحریر: سویرااشرف

    مرد اور عورت اللہ تعالی کی پخلیق کردہ دو اصناف ہیں اور دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے ۔آج کے ماڈرن اورنام نہاد لبرل دور میں صنفی امتیاز کا لفظ تو زبانِ زدِ عام ہے جس کا مطلب کسی صنف کو اس کے حقوق سے محرومی یا عدم دستیابی کا لیا جاتا ہے، جو یقینا کہیں نہ کہیں دیکھنے میں بھی آجاتی ہے۔ انسانی تاریخ میں ناانصافی inequality. کی ٹرم بیسویں صدی سے باقاعدہ جانی جانے لگی تھی اور مرد اور خواتین کی برابری کی فضا باقاعدہ ماحول میں بدلنے لگی۔ اس اہمیت کو جانتے ہوئے لوگوں میں شعور بیدار ہوا کہ حقوقِ انسانی، خصوصاً عورتوں کے حقوق ، بھی کسی بلا کانام ہے۔ تحریک چلی تو چلتے چلتے ہر سُو پھیلنے لگی اور یوں ہم نے Gender Equality یا Gender Discriminationجیسے الفاظ سے نیا ناتا جوڑلیا۔پاکستان میں حالیہ برسوں میں صنفی مساوات کو فروغ دینے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے آج کی پاکستانی خواتین اپنی پچھلی نسلوں کی نسبت فیصلہ سازی کے زیادہ اختیارات رکھتی ہیں۔ لیبر فورس ہو یا ریاست، خواتین کی نمائندگی ہرشعبۂ زندگی میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جس کے مثبت نتائج اس طرح دیکھنے میں آتے ہیں کہ آج کی خواتین ہر محاذ پر مردوں کے شانہ بشانہ نظر آتی ہیں۔ ملکی ترقی اور استحکام ہو یا اُمورِ خانہ داری، صنفِ نازک کی اوّل صفوں میںموجودگی اِس بات کا اظہار ہے کہ خواتین کسی صورت مردوں سے کم نہیں۔

    یہ تو ہوگئی مردوں اور عورتوں میں امتیاز کی بات لیکن ایک امتیاز ہماری سوسائٹی میں خواتین کا خواتین کے مابین بھی دیکھا جاتا ہے جس کوWorking Woman اور Housewife کے نام سے منسوب کردیاگیا ہے۔یہ تفریق معاشرے سے کہیں زیادہ ہمارے رویوں نے پیدا کی ہے لہٰذا ہم اس کا بوجھ معاشرے کے کندھوں پر نہیں ڈال سکتے۔ ایک مشرقی معاشرے میں، گھر میں رہ کر پورا دن گھر میں کام کرنے والی خاتون کو، 9 سے5 ملازمت کرنے والی خواتین سے، کم تر سمجھا جاتا ہے، یایہ کہا جائے کہ ملازمت کرنے والی گھر کی خاتون کو غیر ملازمہ گھر کی خواتین کی نسبت زیادہ عزت دی جاتی ہے لیکن یہ صورت حال ہر جگہ ایک سی نہیں ، ہم دیہی علاقوں کا رُخ کریں تو وہاں گھریلو خاتون کودی جانے والی ترجیح واضح دکھائی دیتی ہے۔ اسے عزت دی جاتی ہے جبکہ ایک عورت کے لئے باہر کے کام کرنا وہاں معیوب گردانا جاتا ہے۔یہ ہمارے معاشرے کے مختلف رویے ہیں جو ایک ہی صنف کے لئے مختلف نوعیت کا انداز رکھتے ہیں۔
    اب یہ ہمارے ماحول پر منحصر ہے کہ ہماری سوچ کس زوایے سے سب پرکھتی ہے اور کیسے پروان چڑھے گی۔ ماحول مثبت ہوگا تو سوچ اورخیالات بھی مثبت سمت میں پروان چڑھیں گے اور اگر ماحول منفی ہوگا تو نتائج بھی منفی ہوں گے۔ اِن تمام باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر ہم ایک شوہر کی حیثیت سے دیکھیں تو وہ ہمیشہ ایک کام کرنے والی خاتون کو بہتر سمجھتا ہے کیونکہ ایک ورکنگ لیڈی معاشی طور پر کنبے میں حصہ ڈال سکتی ہے اور شوہر کا بوجھ بانٹ سکتی ہے لیکن ہر جگہ ایسا نہیں سمجھا جاتا اسلیے ساتھ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو قدامت پسند سوچ رکھتے ہیں اور اپنی بیویوں کو کام کرنے، کی اجازت دینے میں عار محسوس کرتے ہیں ۔
    ایک بچے کی حیثیت سے دیکھیں تو ایک غیر ملازمت والی ماں بہتر ہے کیونکہ وہ بچے کی بہتر تربیت کرتی ہے اور اس کو اپنا سارا وقت دیتی ہے جس کی اس کی اولاد کو زندگی میں سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔۔ لیکن دوسری طرف دیکھا جاۓ تو ایک ورکنگ لیڈی بھی اچھی ماں ثابت ہو سکتی ہے ۔ ہمارے پاس بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک عورت نوکری کے ساتھ ساتھ بہترین ماں بھی ثابت ہوئی ہے، وہ عورت جو گھر اور نوکری کے فراٸض میں توازن رکھے اور ایک ساتھ باخوبی نبھائے تو وہ معاشرے کے لئے قابلِ تحسین بھی۔ بچے کی پرورش میں ماں کا کردار باپ سے زیادہ اہم ہوتا ہے اور اس لئے یہ ترجیح ہوتی ہے کہ ماں بچوں پر خصوصی توجہ اور وقت دے جس اور مزیدیہ کہ اپنے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق بچے کی پرورش کرے۔
    گھر سے باہر رہ کر مردوں کے معاشرے میں کام کرنا یقینا ایک بہت بہادر عمل ہے لیکن اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں اپنی مائوں، بہنوں کو جو دن رات24/7گرمی کی حدت اور سردی کی شدت میں ہمارے اور گھروالوں کے لئے اپنے دل و جان سے کام کرتی ہیں۔ معاشرتی طور پر ہمارا رویہ ایسا ہے کہ ایک ورکنگ وومین کا کام پہاڑ توڑنے کے مترادف سمجھتے ہیں اور دوسری طرف جب کوئی گھریلو خاتون اپنی پریشانی کا تھوڑا سا اظہار کردے تو ہم اسے کسی خاطر میں نہیں لاتے۔
    بس یہی فرق ہے ہماری سوچ کا۔۔۔۔ ہمارے رویوں کا۔۔۔ خواتین کسی بھی جگہ ہوں،کسی بھی رشتے،کسی بھی ذمہ داری کو نبھا رہی ہوں، گھریلو یا ورکنگ ،وہ قابلِ عزت ہے،قابلِ احترام ہے ۔ہمیں اپنے معاشرتی رویوں کو بدلنا ہوگا ہمیں یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ ایک گھریلو خاتون کسی طور پر بھی ورکنگ وومین سے کم نہیں ہے۔
    ایک طرف دیکھا جاۓ تو ورکنگ لیڈی کو اپنے کام کی اجرت ملتی ہے جبکہ گھریلو عورت کو کام کرنے کے باوجود اکثر لعن طعن ہی ملتی ہے
    ان حقائق کو مدِ نظر ہوئے اس بات کا فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ کون کس سے بہتر ہے ۔
    ایک عورت ماں بھی ہے، بیٹی بھی،بہن بھی اور بیوی بھی۔ زندگی کے ہر روپ میں عورت کو اللہ نے ایک خاص مقام عطا کیا ہے اور اس خاص مقام کی بدولت ہی خدا نے اس کے قدموں تلے جنت رکھی ہے ۔ غرض عورت کے وجود سے ہی کائنات کی رونق ہے اور خود عورت ہونا ایک فخر کی بات ہے۔۔۔ لیکن افسوس کا مقام وہاں آتا ہے جب ہم ورکنگ ویمن کو گھریلو خاتون کے مقابلے میں زیادہ عزت دیتے ہیں۔ یہ بات انتہائی قابلِ افسوس ہے کہ ہمارا زیادہ تر پڑھا لکھا طبقہ بھی اس طرح کی سوچ رکھتے ہوئے زمانۂ جاہلیت کی باتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ اگر ایک مرد گھریلو اور ملازمت پیشہ خواتین کے لئے الگ الگ رائے قائم کرتا ہے تو اس کی یہ سوچ کسی حد تک قابلِ قبول ہو سکتی ہے لیکن ایک عورت ہو کر دوسری عورت کے لئے اس طرح کی سوچ رکھنا یقینا غیر مناسب ہے۔
    اگر کام کرنے والی خواتین اپنے کیرٸیر کیساتھ ساتھ بچوں،شوہر کی دیکھ بھال کے لئے وقت نکالنے کی جدو جہد کرتی ہیں وہی ایک گھریلو خاتون کو اپنے لئے وقت نکالنے کیجدوجہد کرتی ہے ۔ گویا دونوں کو وقت اور حالات کے تناظر میں مختلف چیلنجز کا سامنا رہتا ہے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ کوئی بھی بات یا فعل ایسا نہ ہو جس سے معاشرے کا کوئی بھی فرد حوصلہ شکنی کا شکار ہو یا اس میں احساسِ کمتری پیدا ہو کیونکہ زمانہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے، تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور انسانی رویّوں کی دیکھ بھال ہر دَور کی ضرورت رہی ہے۔ اس لئے اس طرح کے امتیاز کو ذہنی اور معاشرتی طور پر کم کرنا چاہئے کیونکہ حوّا کی بیٹیوں کے دَم سے ہی اس بزمِ جہاں میں رونق ہے اور وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں، معاشرے کی فلاح اور پروان میں دونوں کا اپنااپنا کردار ہے اور دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پرانتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

    @IamSawairaKhan1

  • نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر سے ملاقات تحریر: سید لعل بخاری

    نواز شریف کی افغان سیکورٹی ایڈوائزر سے ملاقات تحریر: سید لعل بخاری

    تہمت لگا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
    ایسے سخن فروش کو مر جانا چاہئے
    پروین شاکر کا یہ شعر نواز شریف جیسے لوگوں کے لئے ہی ہے۔جو ایک ایسے شخص سے ملاقات کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں،جو تمام تر سفارتی،اخلاقی اور دنیاوی آداب کو ایک طرف رکھ کر ہمارے ملک پاکستان کو چکلہ قرار دے۔جو کچھ اس بد تہذیب افغان سیکورٹی ایڈوائزر حمداللہ محب نے کہا،چلیں وہ تو اسکے اندر کی غلاظت تھا۔مگر پاکستان کے تین دفعہ کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو اس سے ملاقات کرتے وقت شرم کیوں نہ آئ۔کیا پاکستان دشمن شخص سے ملاقات پاکستان دشمنی نہیں ؟
    یہ سوال ہمیشہ نواز شریف کا پیچھا کرتا رہے گا۔کیا یہ بھی عمران دشمنی میں کیا گیا ہے۔مگر یہ عمران دشمنی میں کیسے ہو سکتا ہے؟
    اس نے تو ارض پاک کو گالی دی تھی۔وہ گالی ہم سب کے لئے تھی۔شائد وہ گالی نواز شریف جیسے لوگوں کے لئے نہ ہو،جن کا اوڑھنا بچھونا ان کی دولت ہوتی ہے،چاہے وہ جائز طریقے سے آۓ یا نا جائز طریقے سے۔
    یہ لوگ اقتدار کے پجاری ہیں۔اقتدار میں آنے کے لئے انہیں ملکی اقدار کی پرواہ نہیں ہوتی۔انہیں ہر حال میں اقتدار میں آنا ہوتا ہے،اس کے لئے چاہے مودی سے ہاتھ ملانا پڑے،چاہے خفیہ طریقے سےاسرائیل وفد بھیجنا پڑے یا پھر حمداللہ محب جیسے مکروہ شخص سے ملنا پڑے۔
    جس ملک نے ان جیسے لوگوں کو عزت دی،دولت دی،شُہرت دی۔اسی کے ساتھ دغابازیاں،؟
    کہاں کا دستور ہے؟
    ایسی احسان فراموشیوں کی مثال نہیں ملتی۔
    اس بندے حمداللہ محب کی ہرزہ سرائ پر وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا تھا کہ آئندہ اس سے کوئ پاکستانی نہ تو ہاتھ ملاۓ گا اور نہ ہی ملاقات کرے گا۔
    میں بھول گیا کہ قریشی نے یہ بات پاکستانیوں کے لئے کی تھی جو شائد نواز شریف پر لاگو نہیں ہوتی۔کیونکہ وہ آجکل پاکستان کے قانون کو چکمہ دیکر بحیثیت مفرور اور اشتہاری کے لندن میں تشریف فرما ہیں۔انہیں نہ پاکستانی قانون کی پرواہ ہے اور نہ ہی پاکستان کی۔انہیں پاکستان اسی وقت پیارا لگتا ہے جب وہ وزارت عظمی کی کرسی پر براجمان ہوں۔
    پاکستان ایسے لوگوں کا مسکن اسی وقت ہوتا ہے،جب انہیں اس سے دولت آرہی ہوتی ہے۔اور وہ اقتدار کے مزے اُڑا رہے ہوتے ہیں۔
    پاکستان ان کے لئے پیسے بنانے کی مشین ہے۔
    دولت کے پجاریوں کا ملک ان کی دولت ہی ہوتی ہے۔
    ان کی زندگی کا محور اسی ہوس میں اندھا ہو کر آگے بڑھتے رہنا ہوتا ہے۔

    @lalbukhari

  • علم کا اجالا تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    علم کا اجالا تحریر: محمد بلال انجم کمبوہ

    مرکزی کردار
    رشید۔۔۔۔۔ایک گاؤں کا ان پڑھ کسان
    بشیر۔۔۔۔۔رشید کا دوست جو تھوڑا پڑھا لکھا ہے اور گاؤں میں رہتا ہے اور دفتری کاموں کو جانتا ہے
    احمد۔۔۔۔۔۔۔ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے آیا ہوتا ہے
    اسلم۔۔۔۔۔۔ایک گورنمنٹ کا ملازم پٹواری
    ظفر اقبال۔۔۔۔۔۔ اسسٹنٹ کمشنر

    آغاز میں ہوتا یوں ہے کہ رشید کسی سے زمین خریدتا ہے اور وہ اپنے دوست بشیر کے پاس جاتا اور کہتا ہے کہ وہ اس کا کام کروا دے۔۔۔۔۔

    رشید:- میاں بشیر کیا حال ہیں اور کدھر مصروف ہوتے ہو؟

    بشیر۔۔ الحمدللہ رب کا کرم ہے اور دفتروں کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔
    رشید:- یار بات یہ ہے کہ میں نے کچھ زمین خریدی ہے اور اسے اپنے نام کروانا چاہتا ہوں تم دفتروں کے معاملات جانتے ہو میں تو ان پڑھ جاہل ہوں۔

    بشیر:- اچھا بھائی کل تم تیار ہو کر آجانا ہم شہر چلے جائیں گے اور تمام معلومات لے کر آئیں گے اور بعد میں تمہارا کام کروا دوں گا۔
    (بشیر سرکاری لوگوں سے ملا ہوتا ہے اور پیسے لے کر سب کے کام کرواتا ہے اور وہ رشید کے ساتھ بھی ایسا کرتا ہے)

    بشیر:- اسلم بھائی (پٹواری) کیا حال ہیں اور یہ میرا دوست رشید ہے اس نے زمین نام کروانی ہے سرکاری فیس کے ساتھ جو بھی غیر سرکاری فیس ہے وہ بھی بتا دیں۔
    اسلم:- الحمدللہ۔
    زمین کی منتقلی کے لئے پچاس ہزار اور باقی پچاس ہزار غیر سرکاری فیس ہے۔ وہ بشیر کو علیحدہ کر کے بتاتا ہے کہ جس میں دس ہزار آپ کا ہے اور وہ بہت خوش ہوتا ہے۔
    بشیر:- اسلم بھائی آپ کا بہت شکریہ جو آپ نے مناسب ہدیہ لیا ہے باقی ہماری طرف سے فائنل سمجھیں اور وہ رشید کو آکر بتاتا ہے۔
    رشید:- بشیر بھائی مجھے کچھ پتہ نہیں جو سہی لگتا ہے وہ کر دیں۔
    (وہ شام کو گھر پہنچتے ہیں اور رشید اپنے گھر چلا جاتا ہے اور اسے احمد ملنے آتا ہے)
    احمد:- بھائی رشید کیا حال ہیں اور آج کل کیا چل رہا ہے؟
    رشید:- الحمدللہ بھائی جان۔۔۔۔۔ یار کچھ زمین خریدی ہے اور وہ کل منتقل کروانی ہے۔
    احمد:- بھائی سرکاری فیس کے علاوہ کوئی پیسے تو نہیں دیے؟

    رشید:- آپ کو تو پتہ ہے میں ان پڑھ ہوں بشیر کو ساتھ لے کر گیا تھا پچاس ہزار فیس کے ساتھ پچاس ہزار غیر سرکاری فیس دینی ہے۔
    احمد:- بھائی آج کل کوئی رشوت نہیں لیتا اور بشیر تو سب کچھ جانتا ہے، بھائی آج کل بہت سختی ہے۔
    رشید:- مجھے تو اس نے جو کہا میں نے تو اس کی ہاں میں ہاں ملائی ہے۔
    احمد:- میں کل تمہیں لے کر جاؤں گا اور تمہارا کام سرکاری فیس کے ساتھ کروا دوں گا۔
    رشید:- احمد بھائی آپ کی مہربانی ہوگی میں تو کچھ نہیں جانتا.
    (احمد اور رشید اگلے دن شہر جاتے ہیں اور احمد اس کا کام کرواتا ہے)
    (احمد اسسٹنٹ کمشنر ظفر اقبال کے پاس جاتا ہے اور کام کرواتا ہے)
    احمد:- ظفر اقبال صاحب یہ میرا دوست ہے اس نے زمین نام کروانی ہے اور سرکاری طور پر زمین نام کر دیں اور جو فیس ہے یہ ادا کر دیتا ہے۔
    ظفر اقبال:- جناب میں ان کا مسئلہ ابھی حل کروا دیتا ہوں۔

    (ظفر اقبال اپنے سیکرٹری کو بلاتا ہے اور اس کو کہتا ہے سرکاری طور پر اس کا مسئلہ حل کرو)
    احمد؛- رشید میاں مبارک ہو آپ کا کام ہو گیا اور ہمارے سب ادارے سرکاری فیس پر کام کرتے ہیں معاشرے کے چند لوگوں کی وجہ سے ادارے خراب ہو رہےہیں۔
    رشید:- احمد بھائی یہ سارا کچھ آپ کی وجہ سے ہوا ہے مجھے تو کچھ پتہ نہیں تھا۔
    احمد؛- بھائی یہ تو میرا فرض تھا جو میں نے پورا کر دیا۔

    رشید:- احمد بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ۔
    ( جب یہ بات بشیر کو پتہ چلتی ہے تو وہ رشید کے پاس آتا ہے)
    بشیر:- رشید یار مجھے پتہ چلتا ہے کہ احمد نے تیرا کام کروا دیا ہے اور میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں۔
    رشید:- یار کوئی بات نہیں تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا یہی کافی ہے اور بات یہ ہے کہ معاشرے کا ہر شخص برا نہیں ہوتا….

    معاشرے میں چند لوگ غلط ہوتے ہیں پورا معاشرہ کبھی بھی غلط نہیں ہوتا اور ہمیں ہمیشہ اچھے لوگوں کو دیکھ کر ان کی اچھائی بیان کرنی چاہیے نا کہ برے لوگوں کی خامیاں بیان کرتے زندگی گزار دیں۔
    @ibn_e_Adam424

  • اپنا قیمتی اثاثہ بچا لیجئے۔ تحریر: نصرت پروین

    اپنا قیمتی اثاثہ بچا لیجئے۔ تحریر: نصرت پروین

    نوجوان نسل کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ملک و ملت کی ترقی یا تنزلی کا انحصار انہی پر ہوتا ہے۔ نوجوان مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ نوجوان اپنی ہمت، حوصلہ، صلاحیتوں، رجحانات، لگن، امنگ، محنت، جوش اور ولولہ کی وجہ سے کسی بھی قوم کا قیمتی فعال طبقہ سھمجے جاتے ہیں۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے شاعر مشرق علامہ اقبال کی بہت سی توقعات نوجوان نسل سے وابستہ تھی۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جتنی بھی اقوام نے ترقی کی اپنی نوجوان نسل کی بہترین تعلیم و تربیت کی بدولت ہی کی۔ "شیخ عبدالعزیز بن باز لکھتے ہیں کہ کسی بھی قوم کے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں جو اپنی قوم میں نئی زندگی اور انقلاب کی روح پھونکنے کا کام کرتے ہیں وہ ثمر آور تونائی، تازہ دم اور خداداد صلاحیتوں سے مسلح ہوتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ بیشتر قوموں کی بیداری اور انکے انقلاب کا سہرا نوجوانوں کے سر ہی جاتا ہے” دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہے تو اسکی نوجوان نسل کو انحرافی راہوں پر چلادیں اسطرح وہ قوم راہِ راست، مقصدِ حیات ،فلاح و کامرانی سے ہٹ کر تباہی کے راستے پہ چل پڑتی ہے۔
    پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوان نسل پر مشمتل ہے تعلیم و تربیت کسی بھی قوم کی روحانی خوراک سھمجی جاتی ہے۔ آج کے مسلم نوجوان کو دیکھیں تو اسکے پاس ڈگری ہے لیکن تعلیم وتربیت نہیں ہے، اسلام نہیں ہے۔ آج کا نوجوان اسلام، روایات، معمولات، اور اقدار سے عاری ہے وہ اپنے دین، روایات، معمولات، اقدار کا محافظ نہیں المیہ یہ ہے کہ وہ خدا کی واحدانیت، رب کی ربوبیت اور اسکی قہاریت و جباریت کا قائل نہیں۔ آج کا نوجوان اپنے دن کا بیشتر حصہ فضول ترین مشاغل اور فتنوں سے سرشار سرگرمیوں میں گزارتا ہے
    رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال قبل فرمایا "میں فتنوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ بارش کے قطروں کی طرح تمہارے گھروں میں داخل ہورہے ہیں۔ (بخاری:7060)”
    تو یہ فتنے کیا ہیں؟ تمام لہو و لعب، فحش اور منفی سرگرمیاں جنکی نذر آج ہمارا نوجوان ہے۔ تعلیم و تربیت کی بات کریں تو اسے تعلیم ناپسند اور خشک لگتی ہے تربیت پر وہ توجہ نہیں دیتا دین، علم و ادب سے دوری اسکے ذہنی بگاڑ کی بڑی وجہ ہےاور کامیابی کے لئے ناجائز حربے استعمال کرتا ہے اسطرح وہ علمی و ادبی میدان میں اپنے آپ کے ساتھ خود ہی خیانت کرتا ہےآج کا نوجوان مستقل مزاجی سے عاری ہے۔ اسکے پاس کوئی رول ماڈل نہیں۔ آج کا نوجوان مذہبی اقدار و معمولات کا قائل نہیں اسطرح ہمارا قیمتی اثاثہ مذہبی و ثقافتی اقدار کو پسِ پشت ڈال کر ایسی راہ پر چل پڑا ہے جسکی منزل پستی، ناکامی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں۔ اخلاقی پستی کیا یہ عالم لمحہ فکریہ ہونے کے ساتھ ساتھ تشویشناک بھی ہے۔
    ہماری نوجوان نسل کے پاس بے شمار صلاحیتیں ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو نکھار کر انہیں صلاحیتوں کا بہترین استعمال سکھایا جائے۔ اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کا کردار بہت اہم ہے تاریخ میں جتنے بھی عظیم اور کامیاب لوگ گزرے ہیں انکی تعلیم و تربیت میں والدین اور اساتذہ نے بہترین خدمات انجام دی۔ والدین اور اساتذہ دونوں کو چائیے کہ اپنی زمہ داریوں کو سھمجیں اور نوجوانوں کی بہترین تعلیم و تربیت کریں انہیں زندگی کے اعلی و ارفع مقاصد کے تعین اور حصول کے لئے سرگرمِ عمل بنائیں۔
    والدین اور اساتذہ کیلئے اشد ضروری ہے کہ اپنا قیمتی سرمایہ بچانے کے لئے مربوط لائحہ عمل اپنائیں جس سے نوجوان نسل کی ذہنی و فکری نشوونما ہو اور پستی کا خاتمہ ہوسکے ایسی جدوجہد کی جائے کہ یہ بنجر زمین زرخیز ہو سکے۔
    نہیں ہے نو امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
    @Nusrat_186

  • پردیس ایک میٹھی جیل   تحریر:محمد احسن گوندل

    پردیس ایک میٹھی جیل تحریر:محمد احسن گوندل

    میں لاہور ائیر پورٹ کے ویٹنگ ہال میں بیٹھا گھر والوں سے کال پر بات کرنے میں مصروف تھا ابھی فلائٹ میں کچھ وقت تھا۔
    میرے بلکل سامنے والی کرسی پر ایک اور شخص بھی کال پر بات کرنے میں مصروف تھا اور ساتھ ساتھ اپنے آنسو بھی صاف کر رہا تھا اس کی آواز مجھے صاف سنائی دے رہی تھی میں نے بات ختم کی اور کال بند کر دی۔
    وہ مسلسل یہی کہ رہا تھا بیٹی میں جلدی واپس آؤنگا بہت جلدی ۔ ادھر جاکر بہت سارے پیسے بھیجوں گا پھر تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ گی بس اب رونا بند کرو بیٹی میری فلائٹ کا ٹائم ہوگیا ہے یہ کہ کر کال بند کر دی حالانکہ فلائٹ میں ابھی ٹائم تھا۔ اسکی آنکھوں میں زاروں قطار آنسو تھے اور وہ بار بار ٹشو سے صاف کر رہا تھا
    کرونا کی وجہ سے زیادہ رش نہی تھا اس بار ویٹنگ ہال میں وہ موبائل میں بار بار دیکھے جا رہا تھا اور آنسو تھے اسکے کہ رکنے کا نام نہی لے رہے تھے تھوڑی دیر تک وہ ریلکس ہوا تو میں نے پوچھ لیا کہ کہاں جارہے ہیں آپ تو انہوں نے بتایا کہ جدہ جارہے ہیں وہ میں نے بھی جدہ ہی جانا تھا تو حال حوال کے بعد میں نے ان سے خیر خیریت اور رونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ مجبوریاں ہیں ورنہ پردیس والا زہر کون کھائے اللہ سب کو اپنے دیس میں رزق عطاء فرمائے میں نے آمین کہا اور پھر وہ کہنے لگے میں تین سال بعد دو بیٹیوں کی شادی کے لیے تین مہینے کی چھٹی لیکر آیا تھا لیکن ابھی فلائٹ بند ہونے کے ڈر سے دو مہینے بعد ہی جارہا ہوں۔دو بیٹیوں کی شادی کر دی ہے اور ایک چھوٹی بیٹی ابھی بیمار ہے ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہے اسے اسی حال میں چھوڑ کر واپس جانا پڑ رہا ہے میری مصوم سی پھولوں جیسی بیٹی ہاسپٹل میں مجھے بلا رہی ہے میرا کلیجہ پھٹ رہا ہے دل کر رہا ہے ادھر سے ہی واپس چلا جاؤں لیکن مجبوریوں نے ایسا جکڑا ہے کہ نہ چاہتے ہوے بھی بھاری دل کے ساتھ واپس لوٹنا پڑ رہا ہے میرے نصیب میں اللہ نے شاید پردیس کی روزی ہی لکھی ہے ورنہ پھول جیسی بیمار بیٹھی چھوڑ کر کون جاسکتا ہے۔
    پردیس کے خواب بہت سہانے ہوتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ سوچیں ایسا تانا بانا بنتی ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے لیکن جب حقیقت سے
    واسطہ پڑتا ہے تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ایک طرف محبتیں ہوتی ہیں تو دوسری طرف ان محبتوں سے جڑی مصلحتیں۔
    ایک پردیسی کچھ پیسے نہیں کما کر دیتا بلکہ آپنی دن رات کی محنت دیتا ہے ۔ خود پردیس میں ایک وقت کھانا کھاتا ہے تاکہ دیس میں بیٹھے بہن بھائی تین وقت کا کھانا کھا سکے ۔ ماں کی آواز سن کہ آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ ماں کے ہاتھ کہ کھانے کو ترستے رہتے ہیں۔ بہنوں کی شادیوں پہ لاکھوں پیسے تو بھیج دیتے ہیں مگر بہنوں کے چہروں کی خوشی نہیں دیکھ پاتے۔
    پردیس ایک میٹھی جیل ہے جب انسان ایک بار اس میں داخل ہو جاتا ہے پھر نہ مجبوریاں ختم ہوتی ہیں نہ ہی خواہشات یہاں تک کہ پردیس میں بندہ اپنی جوانی ختم کردیتا ہے اور یہ ایک کڑوا سچ ہے۔
    اللہ پاک سب پردیسیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور رزق حلال اپنے وطن میں عطاء فرمائے آمین
    تحریر

    @ahsangondalsa

  • ہمارا مقصدِ حیات  تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    ہمارا مقصدِ حیات تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    دنیا ایک امتحان گاہ ہے جس میں اللّٰه نے ہمیں آخرت میں ہونے والے امتحان میں تیاری کے لیے پیدا فرمایا ہے تا کہ بروزِ قیامت یہ معلوم ہو سکے کون اطاعتِ خداوندی کا پیکر بنا رہا اور کون نافرمانوں کی فہرست میں رہا

    ہمیں اس امتحان کی تیاری کے لیے پیدائش سے لے کر موت تک کا جو مخصوص وقت دیا گیا ہے اس دورانیے میں اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی اللّٰه اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے بسر کرنی ہے اور یہی ہمارا "مقصدِ حیات” ہے

    آتے ہوئے اذان اور جاتے ہوئے نماز
    قلیل وقت میں آئے اور چلے دیئے

    اللّٰه نے ہمیں عبادت و اطاعت کے ذریعے اپنی رضا حاصل کرنے کے لیے زندگی کی انمول نعمت سے نوازا ہے پس جس شخص کی زندگی میں بندگی نہ ہو بھلا وہ بھی بندہ ہے؟؟ کیونکہ بے بندگی رضائے خداوندی کے حصول میں سوائے شرمندگی کے کچھ حاصل نہ ہوگا

    ہزاروں مصروفیات کے باوجود دنیا کے لیے جیسے بھی ممکن ہو ہم وقت نکال ہی لیتے ہیں تو کیا جس مقصد کے لیے ہمیں پیدا کیا گیا ہے اس کے لیے تھوڑا سا وقت بھی نہیں نکال سکتے؟ اس سلسلے میں ہمارا طرزِعمل کیسا ہے اس پر خود ہی غور فرما لیجیے کیونکہ ہمارا مقصدِ حیات تو رضائے خداوندی کا حصول ہے

    مگر افسوس! صد افسوس! ہم اس سب سے غافل ہو کر دنیا کی ترجیحات میں مگن ہو چکے ہیں۔

    ہمارے مذہب کا نام اسلام ہے اور ہم مسلمان ہیں اگر ان الفاظ کے معانی پر غور کر لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمیں تو احکامِ اللّٰه کے سامنے سر تسلیم خم کر دینے کا حکم ہے مگر شاید ہم دَھن کی دُھن میں نہ صرف اپنے مقصدِ حیات کو بھول کر رحمتِ خداوندی سے دور ہو چکے ہیں بلکہ خود اپنے آپ سے بھی غافل ہو چکے ہیں

    حیرت شیخ ابوطالب فرماتے ہیں کہ اللّٰه نے اہلِ سلامتی و نجات کے دو گروہ بنائے ہیں جن میں سے کچھ، کچھ سے افضل ہیں جبکہ ہلاکت و بربادی والے افراد کا صرف ایک ہی درجہ ہے ان میں سے کچھ، کچھ سے پستی میں ہیں۔ لہٰذا بروزِ قیامت جن لوگوں کے بائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال ہوگا وہ ان کا دل اس حسرت میں مبتلا ہو گا کہ وہ دائیں ہاتھ والوں میں کیونکر نہ ہوئے۔ اور دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دیئے جانے والے اس حسرت میں مبتلا ہوں گے کہ وہ مقربین میں کیونکر نہیں اور مقربین اس حسرت میں مبتلا ہوں گے کہ وہ شہدا میں کیوں شامل نہیں اور شہدا چاہتے ہوں گے کہ وہ مقامِ صدیقین پر فائز ہوتے

    الغرض یہ دن حسرت کا ہوگا جس سے غافلین کو ڈرایا گیا ہے پس جو لوگ آج یہاں مردہ ہیں کل وہاں ان کی حالت کیسی ہوگی؟ کیونکہ ان کے پاس تو کوئی نیکی نہ ہو گی۔

    اپنے مقصدِ حیات کو پہچانیے اور اللّٰه کی رضا و عبادت میں خود کو پا لیں اور زندگی کو حقیقت معنوں میں جیئیں۔ ہماری زندگی کا حقیقی مقصد یہی تو ہے

    اور بے شک دونوں جہانوں میں اللّٰه کی رضا اور خوشنودی کا کوئی نعم البدل نہیں
    اور اللّٰه کی خوشنودی پانے کا بہترین ذریعہ اس کے رسولؐ کی سنت و احکام پر عمل کرنا ہے۔ اللّٰه اور اس کے رسول کی پیروی ہم سب پر واجب ہے

    اپنی سانس کی مالا کے ٹوٹنے سے خود کے آنے کا مقصد پہچانیے اسی میں بھلائی و بہتری ہے آج کی بھی اور آنے والے کل کی بھی اور اس کے بعد روزِ محشر میں بھی یہی ہماری مددگار بھی ہوگی

    وتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ

    @H___Malik

  • پہلی صلیبی جنگ اور سقوط بیت المقدس  تحریر: رانا محمد عامر خان

    پہلی صلیبی جنگ اور سقوط بیت المقدس تحریر: رانا محمد عامر خان

    پانچویں صدی ہجری کے آخر میں جب کہ خلافت عباسیہ زوال پذیر تھی اور امت مسلمہ مختلف ٹکڑوں میں بٹ کر کمزور ہو چکی
    تھی میسحئ اقوام کو اپنی ناپاک آرزوکی تشکیل کا موقع مل گیا۔ میڈیاوار کے تحت پطرس راہب نے مسلمانوں کے مظالم کی
    فرضی داستانیں سن کر پورے یورپ میں اشتعال پیدا کر دیا اور مسحیی دنیامیں ایک سرے سے دوسرے سرے تک آگ لگادی
    ۔ پوپ اربن دوئم نے اس جنگ کو "صلیبی جنگ کانام دیا اور اس میں شرکت کرنے والوں کے گناہوں کی معافی اور ان کے
    جنتی ہونے کا مژ دہ سنایا- زبردست تیاریوں کے بعد فرانس انگینڈ اٹلی جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کی افواج پر مشتمل تیره
    لاکھ افراد کا سیلاب عالم اسلام کی سرحدوں پر ٹوٹ پڑا- روبرٹ نارمنڈی ‘گاڈ فری اور ریمون الطلولوزی جیسے مشہور یور پی
    فرمانروان بپھری ہوئی افواج کی قیادت کر رہے تھے۔ شام اور فلسطین کے ساحلی شہروں پر قبضہ کرنے اور وہاں ایک لاکھ سے
    زائد افراد کا قتل عام کرنے کے بعد شعبان 496 جولائی 1099 میں صلیبی افواج نے بیالس دن کے محاصرے کے بعد بیت
    المقدس پر قبضہ کیا اور وہاں خون کی ندیاں بہادیں۔ فرانسی مورخ "میشو کے بقول صلیبیوں نے ایسے تعصب کا ثبوت دیا
    جس کی مثال نہیں ملتی عربوں کو اونچے اونچے برجوں اور مکانوں کی چھتوں سے گرایا گیا آگ میں زندہ جلایا گیا گھروں سے
    نکال کر میدان میں جانوروں کی طرح ذبح کیا گیا-صلیبی جنگجو مسلمانوں کو مقتول مسلمانوں کی لاشوں پر لے جاکر قتل کرتے- کئی
    ہفتوں تک قتل عام کا یہ سلسلہ جاری رہا – ستر ہزار سے زائد مسلمان صرف اقصی میں تہ تیغ کیے گئے۔ عالم اسلام پر نصرانی
    حکمرانوں کی یہ وحشیانه یلغار تاریخ میں پہلی صلیبی جنگ کے نام سے مشہور ہے۔
    عیسائی کمانڈروں نے فتح کے بعد یورپ کو خوشخبری کا پیغام بیجھا اور اس میں لکھا: ‘اگر آپ اپنے دشمنوں کے ساتھ ہمارا سلوک
    معلوم کرنا ہیں تو مختصر یہ لکھ دینا ناکافی ہے کہ جب ہمارے سپاہی حضرت سلیمان علیہ اسلام کے معبد (مسجد اقصی) میں داخل
    ہوئے تو ان کے گھٹنوں تک مسلمانوں کا خون تھا۔( تاریخ یورپ اے جے گرانٹ )
    بیت المقدس کے سقوط کے بعد مسحی اقوام نے مقبوضہ شام و فلسطین کو تقسیم کرکے القدس,طرابلس, انطاکیہ, اور یافاکی کی چار
    مستقل صلیبی ریاستیں قائم کر لیں- حالات نہایت پر خطر تھے- عالم اسلام کے اکثر حکمران خانہ جنگیوں میں مست تھے -بعض صلیبیوں کے حلیف بن گئے۔
    ان میں سے کوئی بھی نصرانیوں سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہ رکھتا تھا-
    *Twitter ID @pakdefsd*

  • بیوی ایک حسین ساتھی  تحریر:  محمد بلال اسلم

    بیوی ایک حسین ساتھی تحریر: محمد بلال اسلم

    حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ خوش خلقی، حسن معاشرت کی عظیم مثالیں قائم کرکے گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کے اصول بتا دیے ۔ آپ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ جس طرح کا محبت بھرا انداز تھا اسکو اگر ہم اپنی زندگیوں میں لے ائیں تو ہمیں گھریلو ناچاقیوں سے چھٹکارہ مل سکتا ہے اور ہمارے گھر سکون اور خوشیوں بھر سکتے ہیں۔ ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کر کے گھر کو جنت بنا سکتے ہیں

    نبی پاک ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ’’تم میں بہترین انسان وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے حق میں بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لیے تم میں سب سے زیادہ بہتر ہوں۔ (ترمذی)

    انسان کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سامنے وہ اپنی زندگی کی داستان بیان کرسکے اور یہ ضرورت ایک اچھی بیوی پوری کرتی ہے اور اسی طرح انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سکون حاصل کرے تو بیوی ایسی ذات ہے کہ جسکے ذریعے انسان سکون حاصل کرتا ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد مبارک ہے: ’’اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو۔‘‘ ( القرآن )

    حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ازواج سے محبت ۔۔
    ( 1) آپ ﷺ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت کا عالم یہ تھا کہ آپ ﷺ ان کے پس خوردہ کو بھی پسند فرماتے تھے اور جہاں سے آپ رضی اللہ عنہا ہڈی سے گوشت کھاتیں سرکار ﷺ وہیں سے گوشت تناول فرمایا کرتے تھے۔۔۔( 2) حضرت ربیعہ بن عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرکار ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم مجھے مکھن ملی کھجور سے بھی زیادہ محبوب ہو۔ ( الطبقات الکبری لابن سعد)(3) حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مقام حُر) سے واپس آرہے تھے، میں ایک اونٹ پر سوار تھی جو دوسرے اونٹوں میں آخر میں تھا، میں نے رسول اللہ ﷺ کی آواز سنی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہائے میری دلہن“۔ (مسند احمد: 26866 ) ایسے ہی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کاموں میں اپنی ازواج کا ہاتھ بٹاتے اور انکے ساتھ مزاح فرماتے ۔۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش ائیں

    اور مردوں کو ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ مرد بیوی کو گھر کے کام پر مجبور نہیں کر سکتا، اگرچہ مستحب ہے کہ عورت گھر کے کام کو انجام دے ۔۔عورت کا اخلاقی حق ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر کے افراد کے کام کرے لیکن اسپر ضروری نھیں ۔۔اور شوہر ماں اور بیوی دونوں کو ساتھ لیکر چلے بیوی کی وجہ سے ماں کے ساتھ نا انصافی نا کرے اور ماں کی وجہ سے بیوی کے ساتھ نا انصافی نا کرے ۔۔کسی کے سامنے دوسرے کو نا ڈانٹے بلکے کسی اکیلے وقت میں انکو سمجھائے۔۔۔۔۔اللہ پاک ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلائے ۔آمین

    @BilalAslam_2

  • سبق آموز از    تحریر: صدام حسین

    سبق آموز از تحریر: صدام حسین

    یہ کہانی میری آپ بیتی ہے بس سانپ اور دوسرے کردار نقلی ہیں کہانی کو سمجھنے والے دماغ سے اگر پڑھا جائے تو بہت زبردست پوائنٹ ہے کسی کے لئے

    *سبق آموز ____*
    گاؤں میں میرے ایک دوست نے ایک سانپ رکھا ہوا تھا نہایت ہی خوبصورت اور دلکش سفید رنگ دھاری دار تھا
    میں اکثر اس کے گھر پر جاتا اور سانپ کے ساتھ دل بہلاتا تھا، یا آپ یوں کہ لیں کہ میں اس سے بہت مانوس ہوگیا تھا، ایک دن میں سانپ کے ساتھ کھیل رہا تھا میں لیٹا ہوا تھا کہ سانپ نے مجھے پاؤں پر ڈس لیا، ﷲ کی قدرت خون کڑوا ہونے کی وجہ سے مجھے کچھ خاص پریشانی تو نہ ہوئی بس ڈنگ کی تھوڑی سی تکلیف ہوئی_

    میں دوست کو بتائے بغیر واپس آگیا کچھ دنوں بعد جب دوبارہ اس کے گھر گیا تو سانپ نے ایک بار پھر خلافِ توقع مجھے ڈس لیا، اور حیرانی کی بات مجھے کچھ نہ ہوا اب کی بار میں ایک دن کے ناغہ کے بعد گیا تو سانپ نے اپنا نرم سا جسم میرے اردگرد لپیٹ لیا، میں بے خبری میں اس سے کھیلتا رہا جیسا کہ میں بتا چکا ہوں میں اس سانپ کم دوست زیادہ سے بہت مانوس ہو چکا تھا اس لئے اسے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا _
    خیر مجھے کسی کام سے شہر جانا پڑ گیا جب ایک ہفتے بعد میں واپس آنے لگا تو دوست نے کال کی کہ کسی ماہر ڈاکٹر کو ساتھ لے آنا سانپ بیمار ہوگیا ہے اسے چیک کروانا ہےمیں ڈاکٹر کو لے کر سیدھا دوست کے گھر آیا، میرے دوست نے بتایا کہ سانپ نے ایک ہفتے سے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے کمزور ہو گیا ہے،
    جب ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کرنے کے بعد جس چیز کا انکشاف کیا تو ہم دونوں حیران رہ گئے_______

    ہوا یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جب سانپ میرے جسم کے اردگرد گھیرا ڈال کر کھیل رہا تھا تو بظاہر وہ کھیل رہا تھا مگر اصل میں وہ جا ئزہ لے لیا تھا کہ کتنے دن وہ کھانا نہ کھائے تو مجھے وہ کھا سکتا ہے اس لئیے سانپ نے ایک ہفتے سے کھانا نی کھایا- مزید یہ کہ جب میں نے بتایا کہ سانپ دو دفعہ مجھے ڈس چکا ہے تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر آپ پہلی دفعہ ہی اِسے مار دہتے تو اچھا ہوتا مگر آپ نے خود موقع دیا اسے اس میں سانپ کی نہیں آپکی غلطی ہے اگر آپ اُسی دن مار دیتے تو آج یہ آپکو کھانے کی تیاری نہ کر رہا ہوتا_____ لہذا میں نے دوست کے ساتھ مل کر اُس سانپ کو ٹھکانے لگایا اور ﷲ کا شکر ادا کیا_____

    *خلاصہ* :- آپ بھی اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ آپ کے دوستوں، رشتے داروں، اور خیر خواہوں کی شکل میں کئی ایسے سانپ ہونگے جو آپکو ڈسنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اپنے آپکو محفوظ رکھئیے زمانے سے اور لوگوں کے شر سے، ضروری نہیں وہ سانپ بظاہر ہی کوئی سانپ ہو کسی کسی انسان کا دل، دماغ، زبان، آنکھ غرض کُچھ بھی ایسا سانپ ہو سکتا ہے جس سے آپکو نقصان تو ہوتا ہے پر پتا تب چلتا ہے جب آپ برباد ہو چُکے ہوتے ہیں_
    ایک بات اور قارئین انسان کی سب سے بڑی دولت اُسکی عزت ہے اسے سنبھال کر رکھیں کیونکہ یہ ایک بار چلی گئی تو واپس نی آئے گی اپنے آپ کو معاشرے میں ایسے بنائیں کہ دوسرے آپکی کاپی کریں نا کہ آپ سے نفرت کریں_
    @SAA_afridi