Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • میراتجربہ (پارٹ ون) . تحریر : ہما عظیم

    میراتجربہ (پارٹ ون) . تحریر : ہما عظیم

    پڑھاٸی سے فراغت کے بعد تھوڑا آرام کیا۔ ذہن تھوڑا فریش ہوا تو دماغ میں نوکری کا کیڑا کلبلایا۔ پاپا جی کو آگاہ کیا پہلے تو کہا گیا کیا کمی ہے تمہیں۔ ہم نے کہا جی بی کام کروایا ہے آپ نے زبردستی۔ ورنہ ہم تو ادب سے دلچسپی رکھتے تھے۔ اب جاب کرنے دیں تاکہ دو اوردو چارجوسیکھا ہے اسے استعمال کر سکیں۔ تھوڑے شش و پیج کے بعد اور پچیس تیس نصیحتوں کے ساتھ اجازت مل گٸی۔ گویا زندگی کا پروانہ مل گیا۔

    اب اگلہ مرحلہ ایک ایسی نوکری کی تلاش تھی جہاں ہم تمام نصیحتوں پرعملدرامد کے ساتھ پایہ تکمیل ہو سو اخبار چھاننے شروع کیٸے ڈگری اورکچھ شارٹ کورسز کے سرٹیفیکیٹ یعنی اپنےعمال نامے کی فاٸل لیٸے ڈرتے ڈرتے گھر سے نکلے۔

    اچھا پہلا انٹرویو دینے جاٶ جو وہ احساس ہوتا ہے جو آپکا اسکول کے پہلے دن کا ہوتا ہے۔ دل اس بچے جیسا ہوجاتا ہے جسے اس کے والدین پہلے دن اسکول والوں کے حوالے کر جاتے ہیں. وہ چاروں طرف اجنبی ماحول دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اچھا جی پہلے ہم اپنے آس پاس اسکولز، آفیسز، کمپنیزمیں انٹرویو دیا۔ وہاں جو کچھ دیکھنے سننے کو ملا وہ یہ تھا۔ حجاب کے ساتھ نوکری نہیں ملے گی۔ بچوں کی نظرمیں جازب نظرہونے کے لٸیے جدید تراش خراش کے کپڑوں کےساتھ میک اپ سے مزیّن چہرہ لانا ہوگا۔ اپنا میک اوورکریں۔ یہ برقعہ ساتھ ہوگا تو کام کیسے ہوگا بی بی.

    او میرے خدا

    میں پریشان کہ میں نے اپنی خدمات کاغزی کام کے سلسلے میں دینی ہے یا ماڈلنگ کرنی ہے۔ غرض ہرطرح کے لوگوں کو پایا کسی کی باتوں کے ڈرسے تو کسی کی نظروں سے ڈرسے ساری پراعتمادی کبھی تو آنسوٶں میں بہہ جاتی یا غصہ کی آگ میں جل جاتی۔
    اسی تگ ودو میں اپنے کوچنگ کے پروفیسرسے ملاقات ہوگٸی فرمانے لگے بیٹا نیا اسکول کھولا ہے اساتذہ کی ضرورت ہے مہربانی کرو کچھ ٹاٸم میرے اسکول کو دے دو۔تنخواہ ابھی ہزارہوگی آہستہ آہستہ بڑھا دیں گے.
    اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کوٸی فضول ڈیمانڈ نہیں عزت یہ ہے خود چل کرآفرآٸی اپنی عزت کو ترجیح دی نہ کہ کم تنخواہ کی فکر کی وہ تو بڑھ ہی جانی تھی پراٸیویٹ اسکول تو چلتے نہیں دوڑتے ہیں۔
    سو خوشی خوشی حامی بھری اور جب تک وہاں جاب کی خوش اورپرسکون رہے اللہ پاک سے دعا ہے کہ سب کو اچھے لوگوں سے ملاۓ اوربرے لوگوں سے بچاۓ۔آمین

    @DimpleGirl_PTi

  • جنوبی پنجاب کی محرومیاں . تحریر : غلام نبی

    جنوبی پنجاب کی محرومیاں . تحریر : غلام نبی

    دوستو! میرا تعلق صوبہ پنجاب ضلع راجن پورتحصیل روجھان یونین کونسل کچہ راضی سے ہے اور یہ کچے کا علاقہ (No go area) ہے۔اس علاقے میں تعلیم کا ریشو نہ ہونے کے برابر ہے۔یہاں 3,4 پرائمری سکول کے علاوہ نہ مڈل سکول ہے نہ ہی ہائی سکول۔تعلیمی فقدان کی وجہ سے اس علاقے میں‏ امن بالکل بھی نہیں ہے۔لوگ معمولی رنجش کو بنیاد بنا کر کئ کئ عرصے تک لڑائی جھگڑے میں مصروف رہتے ہیں۔نوجوان نسل اکثریت بے روزگار ہے کیونکہ ادھر فنی تعلیم کا بھی خاطر خواہ کوئی انتظام نہیں۔ چوری و ڈکیٹی یہاں کوئی برائی نہیں سمجھی جاتی۔ ‏Ngo’s جو کہ پسماندہ عاقے میں کام کرتے ہیں وہ بھی یہاں أنے سے کتراتے ہیں۔ صحت کے لیے کوئی ہسپتال نہیں اگر کوئی بیمار ہو تو اسے ضلع رحیم یارخان کے ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے۔‏ نادرہ کا کوئی نظام نہیں لوگ نادرہ ضلع رحیم یارخان کے تحصیل صادق اباد کا رخ کرتے ہیں۔یہاں کے لوگ زراعت سے منسلک ہیں اور مال مویشی کا کام کرتے ہیں۔دریاۓ سندھ پاس ہے لیکن یہاں کے کسان نہری نظام سے محروم ہیں۔ اکثریت کے پاس مال مویشی ہے ادھر لیکن ویٹرنری کا کوئی نظام نہیں۔ اگر کوئی‏ جانور بیمارہوجائے تو وہ مرجاۓ گا کیونکہ ویٹرنری سسٹم نہیں علاج کون کرے۔ ‏وفاقی حکومت اورپنجاب حکومت سے درخواست ہے اس پسماندہ علاقے پرتوجہ دیں کیونکہ ہم بھی صوبہ پنجاب کا حصہ ہیں۔

    @GN_bloch

  • سوشل میڈیا کا استعمال  تحریر : راجہ ارشد

    سوشل میڈیا کا استعمال تحریر : راجہ ارشد

    پورانے زمانے میں انسانوں کو صرف زمینی ،سمندری اور فضائی جنگوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ مگر اس وقت میدانِ جنگ سوشل میڈیا ہے جہاں انسانی دماغ بطورِ افواج لڑ رہے ہیں ۔
     
    سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں سے گزارش ھے کہ اس میڈیا کی اصل طاقت کے متعلق آگاہی حاصل کریں ۔اور اس دھوکے سے تو بلکل باہر نکل آئیں کہ سوشل میڈیا کا مقصد محض سماجی رابطے اور  تفریح کا حصول ہے۔

    یہاں پہ ہماری ایک ذاتی رائے ہمارے وطن عزیز کےلئے کس حد تک خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ،ہم سب کےلیے یہ جاننا بہت ضروری ہے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے بہت سےفوائد بھی ہیں ۔ یہ شعور اور علم کی راہیں بھی ہموار کرتا ہے اور ہر خبر سے باخبر بھی رکھتا ہے
    میری اس تحریر کا مقصد آپ کو سوشل میڈیا کے قومی اور بین الاقوامی سطح پہ منفی اثرات کے متعلق آگاہ کرنا ہے۔

    سوشل میڈیا ایک ڈیجیٹل خوبصورت اور تیز ترین دنیا ہے یہاں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کےلیے چند سکینڈ درکار ہوتے ہیں۔
    اپنی بات کو مختصر کرتا ہوں آپ جب بھی اس میدان میں اتریں تو مکمل تیاری سے اپنے عقل و فہم کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کو استعمال کریںں ۔

    پاکستان کے ذمہ دار شہری بنئں۔ایک بات جو بہت ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پہ ملنے والی کسی بھی خبر کو بغیر تصدیق کے آگے مت پھیلائیں۔
    وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت کرنا ہم سب پہ فرض ہے جس سے کوئی بھی بری الزمہ نہیں ہوسکتا۔

    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • ہمارے محسن. تحریر: محمد احمد

    ہمارے محسن. تحریر: محمد احمد

    پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا جب بھی کہیں پر ذکر آئے گا سب سے پہلے ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نام لیا جائے گا۔۔ پاکستان کو پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنانے میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔

    ڈاکٹرعبد القدیر خان 27اپریل 1936کو ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے آپ سات بہن بھائیوں میں چھٹے نمبر پر تھے،آپکے والد شعبہ تعلیم سے وابستہ تھے،وہ اپنے شاگردوں اور بچوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی نقطہء نظر سے انکی اخلاقی تربیت پر بھی خاص توجہ دیتے تھے ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کو مچھلیاں پکڑنے اور ہاکی کھیلنے کا بھی شوق تھا۔۔۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ڈی جے سائنس کالج کراچی سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔۔کالج کی تعلیم کے دوران انہیں فزکس کے مضمون سے بھی لگاؤ رہا، بی ایس سی کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے جرمنی چلے گئے، آپ ہالینڈ اور بلجیئم بھی گئے،ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد آپ ہالینڈ کی ایک فرم ایف ڈی او میں ملازمت اختیار کی۔۔یہ فرم ان دنوں کئی یورپی ممالک کےایک مشترکہ منصوبے کیلئے ہالینڈ میں یورینیم کے افزودگی کے پلانٹ تعمیر کررہی تھی۔۔ یورینیم کی افزودگی کا مطلب اسے ایٹمی توانائی حاصل کرنے کے قابل بنانا تھا۔۔ڈاکٹر عبد القدیر خان جن دنوں جرمنی میں ڈاکٹریٹ کررہے تھے انہی دنوں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا المناک حادثہ پیش آیا تھا۔۔۔ ڈاکٹر صاحب بھی دیگر ہم وطنوں کی طرح شدید ذہنی صدمے سے دوچار تھے۔۔۔ انکے دل میں اس واقعے کے بعد وطن عزیز کیلئے کچھ کر گزرنے کی خواہش شدت اختیار کر گئی۔۔1974 میں جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب نے اپنے علم اور تجربے کو پاکستان کیلئے وقف کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔۔ ایف ڈی او سے منسلک ہونے کی وجہ سے آپ یورینیم افزود کرنے کے فن میں مہارت حاصل کرچکے تھے۔۔انہیں یقین تھا وہ اپنی اس صلاحیت کے ذریعے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر عبد القدیر خان اس سال دسمبر میں جب چھٹیاں گزارنے وطن واپس آئے تو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملے،اور انکے ساتھ ایٹمی منصوبے پر گفتگو کی۔۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے مطابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی دلچسپی کے باعث پاکستان میں یورینیم افزودہ کرنے کے منصوبے پر اتفاق ہوگیا۔۔۔ اس موقع پر آپ نے وزیراعظم کو کہا کہ ” پاکستان کے وسائل انتہائی محدود ہیں جبکہ ہمارا پروجیکٹ بہت بڑا ہے” تو وزیراعظم نے کہا آپ کام شروع کریں فنڈ فراہم کرنا میرا مسلہ ہے۔

    جنوری 1976 میں ڈاکٹر صاحب نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں بطورِ ایڈوائزر کام کرنا شروع کردیا۔۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں جو تنخواہ وصول کررہے تھے وہ ہالینڈ میں ملنے والی تنخواہ کے مقابل بہت کم تھی،لیکن وطن کی خدمت کے جذبے کے آگے تنخواہ کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔۔ جولائی 1976 میں راولپنڈی میں کہوٹہ نامی قصبے ایک منصوبے کی بنیاد رکھی گئی جو براہ راست وزارت دفاع کے ماتحت تھا۔۔ اس ادارے کا نام کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز رکھا گیا اس منصوبے کا مقصد دفاع اور اسکے مقاصد کیلئے یورینیم کی پر امن افزودگی کرنا تھا۔۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب نے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا چارج سنبھالتے ہی جس جانفشانی،گن اور جذبے سے اس پرعمل درآمد شروع کیا وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے۔ پلانٹ کیلئے عمارت کا ڈیزائن اسکی تعمیر اور اس میں کام کرنے والے محنتی اور باصلاحیت افراد کا انتخاب بھی ایک کھٹن مرحلہ تھا۔ اصل پلانٹ کے ساتھ ایک چھوٹی سی لیبارٹری میں یورینیم کی افزودگی پر تجرباتی کام شروع کردیا گیا۔۔ 1977 میں جب حکومت تبدیل ہوئی تو لوگوں کا خیال تھا کہ اب کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا کام بند ہو جائے گا۔۔۔ مگر نئے سربراہ مملکت جنرل ضیاء الحق نے ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کو مزید اختیارات اور سہولتیں دے دیں اور ڈاکٹر صاحب کی صلاحیتوں کے اعتراف کے طور پر کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کو ڈاکٹر عبد القدیر ریسرچ لیبارٹریز کا نام دے دیا گیا۔۔ 1981 میں ایٹمی پلانٹ کی تنصیب کا کام مکمل ہوا اور 1982 میں یورینیم کی باقاعدہ افزودگی شروع ہوئی۔۔اس دوران ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب نے جن انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہیں۔۔ آپ نے ثابت کردیا کہ وطن سے محبت کرنے والے لوگ کیا کچھ کرسکتے ہیں۔۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بہت کم لاگت اور بہت کم عرصہ میں اتنی بڑی کامیابی حاصل کرنا ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب اور سنکے ساتھیوں کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا اور جب 28مئی1998ء کو پاکستان نے بھارت کے ایٹمی تجربات کے جواب میں چاغی کے مقام پر پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کیئے ملک بھر کے لوگ خوشی سے سجدہ شکر بجا لائے۔۔ ہندوستان کا غرور ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کی محنتوں کی بدولت پاکستان نے خاک میں ملا دیا تھا۔۔پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن چکا تھا اور ہے ( الحمد اللہ) اور چاغی سمیت وطن کی فضائیں ڈاکٹرعبد القدیرزندہ باد اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی تھی.

    ڈاکٹرعبد القدیر خان صاحب ہمارے محسن ہیں اور ہم اپنے اس محسن کو اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔۔اللہ تعالیٰ انکو صحتیابی والی خوشحالی والی لمبی زندگی عطا فرمائے آمین ثم آمین۔۔۔ انہیں ہماری دعاؤں کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہ تھی آئیں سب ملکر ان کے لیئے دعا کریں،اللہ تعالیٰ انہیں اپنی امان میں رکھے اور انہیں ہر مصیبت سے بچائے. آمین ثم آمین

    @MohhammadAhmad

  • کوشش سے قوت . تحریر : زید علی

    کوشش سے قوت . تحریر : زید علی

    ایک طالب علم کو اس کے استاد نے کہا وہ تتلی کی زندگی پرتحقیق کرے اور اس کی زندگی کے آغازکا عملی طورپرمشاہدہ کرے۔ اس کے لیے انہوں نے اسے ایک کوکون دیئے۔ کوکون داراصل ایک ایسا گول سا غلاف ہوتا ہے جس میں تتلی پرورش پاتی ہے۔ طالب علم میں بہت زیادہ تجسس تھا کہ وہ یہ جان لے کہ تتلی اپنی زندگی کیسے شروع کرتی ہے؟ کچھ دن بعد طالب علم نے دیکھا کہ اس کوکون میں ایک سوراخ ہو چکا ہے۔ تتلی پورا زور لگا کر اس خول سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تتلی اپنی قوت اور جدوجہد کے باوجود اس خول سے باہر نہیں نکل پارہی تھی۔ اس کے پر ناتواں اور نہ ہونے کے برابر تھے۔ طالب علم نے فورا اس کی مدد کا فیصلہ کر کے اس خول کا سوراخ بڑا کر دیا کہ تتلی آسانی سے باہر نکل آئے مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تتلی اڑ ہی نہ پائی اور مر گئی۔ وہ بہت حیران ہوا اور اس نے یہ ساری بات اپنے استاد کو بتائی۔ استاد نے پوری تسلی سے طالب علم کی بات کو سنا ارو کہنے لگے۔ بیٹا! تتلی کی زندگی کے چار عہد ہوتے ہیں جنہیں انڈہ، لاروہ، پیوپا اور مکمل تتلی بن جانا کہا جا سکتا ہے۔ تتلی کے لیے فطرت کا اصول یہ ہے تتلی کو اس خول کو خود ہی توڑ کر باہر نکلنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے زندگی کے آغاز میں ہی خول سے جتنا زیادہ محنت کر کے باہر آئے گی اس کے پر اتنے ہی مظبوط اور خوشنما ہوتے ہیں۔ اس میں مشکل حالات میں جینے کی امنگ اور حوصلہ اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ بیٹا! ہم انسانوں کی زندگی بھی ایسی ہی ہے ہمیں ضرورت سے زیادہ مدد تبا و برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔ ہماری زندگی کو بھر پور قوت اور طاقت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے مشکل اور سخت حالات میں خود ہی ہمت، جرات اور استقامت سے اپنی مشکلوں، مصیبتوں اور راستے کی رکاوٹوں پر قابو پا کر زندگی میں اپنا راستہ خود بنائیں۔ ہمیں زندگی میں قوت صرف کوشش سے ہی ملتی ہے۔ ہارتا صرف وہی ہے جو کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ بار بار کوشش کرنے والا اور ہمت نہ ہارنے والا کبھی ناکام نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ خدا کا اصول ہے کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہے۔
    اللہ تعالی سے دعا ہے ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائے (آمین)

    @ZaidAli0000

  • گمنام ہیروز  تحریر : سیف اللہ عمران

    گمنام ہیروز تحریر : سیف اللہ عمران

    پاکستان کی سب سے اہم ایجنسی انٹر سروسس انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) ہے۔ وہ نہ صرف وطن کے دفاع کے لئے اہم ترین خدمات انجام دے رہا ہے ، ملک دشمن قوتوں کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھنے اور دشمن کے پوشیدہ اور واضح ارادوں کو ناکام بنانے کے لئے دن رات کوشاں ہے۔

    یہ پاکستانی خفیہ ایجنسی ، جس نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے ، کارکردگی ، پیشہ ورانہ مہارت اور کوالیفائی کے لحاظ سے اسے دنیا کی پہلی نمبر کی خفیہ ایجنسی کے طور پر جانا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے۔
    اسی لئے آئی ایس آئی اپنے ناقابل فراموش کارناموں سے پاکستانیوں کے خون کو گرم رکھتی ہے اور پوری پاکستانی قوم ان بہادر بیٹوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے آئی ایس آئی میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی حفاظت اور کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔

    اپنے قیام سے ہی اس مغرور پاکستانی ادارے نے جنوبی ایشیاء میں ہندوستان کی تسلط ختم کرنے اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ایک کامل انٹلیجنس نظام کی بنیاد رکھی تاکہ کافروں کے مذموم منصوبوں اور تدبیروں سے آگاہی حاصل ہو۔

    آئی ایس آئی پاکستان کا دفاعی ضامن ، جولائی 1948 میں جدید عالمی تقاضوں کے مطابق انٹیلی جنس مقاصد کے حصول کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ آئی ایس آئی نے شروع سے ہی بہت ساری لڑائیوں میں اپنی تدبیر کو ثابت کیا ہے ، اور بغیر کسی بڑی جنگ کے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

    کئی عشرے پہلے ، پاکستان غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا مرکز بن گیا ، 40 سے زائد ممالک کے انٹیلیجنس ادارے اپنے اپنے ممالک کے قومی مفاد میں کام کر رہے تھے۔ جو بلوچستان میں امن بگڑ میں بھی ملوث تھیں ، مزید یہ کہ ہمارا سڑا ہوا سیاسی نظام ، جو عدم استحکام کا شکار ہے ، ان انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہورہا تھا۔ لیکن خوش قسمتی ہے کہ پردے کے پیچھے ، آئی ایس آئی آہستہ آہستہ ان تمام غیر ملکی ایجنسیوں کے مذموم مقاصد اور ان کے خلاف داخلی سیاسی ہتھکنڈوں کو ناکام بنا رہی تھی۔

    بظاہر کوئی آئی ایس آئی کا ترجمان نہیں ہے لیکن ہر پاکستانی اپنی اعلی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بے لوث خدمات اور بے لوث قربانیوں کو مانتا ہے۔ اور ہم اپنے گمنام فوجیوں کے عظیم کارناموں پر دل سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو اس ادارہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

    بعض اوقات انہیں کفن اور تدفین کی خوشی صرف اس وجہ سے نہیں ملتی ہے کہ وہ "پاکستان کے سپاہی” ہیں اور انہیں کوئی گارڈ آف آنر نہیں ملتا ہے۔ اور نہ ہی کوئی اعزاز تمغہ یا ستارہ۔ اس کے برعکس ، آئی ایس آئی کے یہ گمنام فوجی حب الوطنی سے بھری تاریخ کے صفحوں میں بھر چکے ہیں۔ آئی ایس آئی کسی نامعلوم سیارے کی مخلوق نہیں ہے ، لیکن یہ عظیم لوگ ہمارے درمیان ہیں۔

    لہذا ہم سب اس کے ترجمان ہیں۔ کبھی کبھی جنگ میں حصہ لینے کی پاک فوج کی باری ہوتی ہے۔ لیکن آئی ایس آئی ہر دن جنگ میں ہے۔ یہ آئی ایس آئی ہی جاگتی ہے اور پوری قوم سوتی ہے۔

    آج ہر پاکستانی کو اس ادارے کی کارکردگی پر فخر ہے۔
    کیونکہ جب تک یہ ادارہ موجود ہے ، پاکستان مخالف عناصر پر یہ واضح ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی براہ راست کارروائی نہیں کرسکتے ہیں۔
    Twitter @Patriot_Mani

  • پاک فوج سے محبت تحریر: وسیم اکرم

    پاک فوج سے محبت تحریر: وسیم اکرم

    دنیا میں کہیں بھی ایسی لازوال محبت آپکو کہیں نہیں ملے گی جتنی پاکستانی قوم اپنی فوج سے کرتی ہے پاک فوج کے سپاہیوں کو دیکھ کے سلام کرنے کو دل کرتا ہے اور میں سلام پیش کرتا ہوں ان ماؤں کو جو اپنے لخت جگر کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتیں
    وطن کے رکھوالے کئی کئی دن تک سوتے نہیں ۔ ان کا ایک یقین، ایمان ہوتا ہے کہ اے وطن تو سلامت رہے اپنی فوج سے پیار صرف محب وطن لوگ ہی کرتے ہیں کیونکہ پاک فوج سے محبت کرنے والے ہی درحقیقت اس وطن کے مخلص اور سچے سپاہی ہیں
    پاکستان فوج واحد ایک ایسا ادارہ ہے جس کی محبت ہر پاکستانی کے خون میں شامل ہے کیونکہ جو ملک میں سکون ہے اس کے پیچھے وردی والوں کا خون ہے

    پاک فوج کا مطلب امن ہے پاکستان آرمی نے ہر مشکل حالات میں پاکستان عوام کی خدمت کو پہنچی ہے
    جنگ ہو یا امن ، زلزلہ ہو یا سیلاب، مردم شماری ہو یا الیکشن یا سول انتظامیہ کی مدد ، پاک فوج نے ہمیشہ قوم کی پکار پہ لبیک کہا ہے۔
    پاک فوج کے جوانوں کی بہادری اور مسلح قیادت کے راست اقدام سے پاکستان اب مشکل حالات سے نکل آیا ہے، پاکستان دن بہ دن ترقی اور امن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہمارے محفوظ کل کے لیے اپنا آج قربان کرنے والے شہدائے وطن اور ان کے ورثاءکو مت بھولیں، کیونکہ جو قومیں اپنے محسنین کو بھلا دیتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں.
    دہشت گردوں نے پاکستان کے داخلی اور خارجی امن کو تہہ و بالا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا، مگر ہر بار افواج ِ پاکستان کے آہنی عزم ، ثابت قدمی اور جُرات کے سامنے وہ چاروں شانے چت ہوتے گئے

    وہ ممالک جن کے پاس فوج نہیں آج وہ کس حال میں
    ہیں دوسرے ممالک ان پہ تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں
    نا، ان کا مال نا ان کی ناموس نا، ان کی نسلیں محفوظ ہیں بلکہ دنیا کے سامنے وہ ایک عبرت بنے ہوئے ہیں
    اور ہماری افواج جو دن رات سرحدوں پہ بنا موسموں
    کی پرواہ کیے صرف اس ارض پاک اور ہماری جان و مال کی حفاظت کر رہی ہے
    اس سوہنی دھرتی کے پیچھے سہی معنوں میں یہی خاکی وردی ہے جس کی دہشت سے دشمن اپنی صفیں چھوڑ کے بھاگ جاتا ہے ۔ "پاکستان زندہ آباد پاک فوج زندہ آباد” @MalikGii06

  • محافظِ ناموسِ رسالت نورالدین زنگی اور موجودہ اسلامی حکمران   تحریر : صائمہ ستارہ

    محافظِ ناموسِ رسالت نورالدین زنگی اور موجودہ اسلامی حکمران تحریر : صائمہ ستارہ

    557ء میں شام کے سلطان نورالدین زنگی کے دورِ حکومت میں رسول اللہ‏‎ﷺ کے جسدِ مبارک کو مدینہ منورہ سے نکالنے کی ناپاک کوشش کی گئی ایک رات سلطان سو رہےتھے کہ مسلسل 3 بار ایک ہی خواب دیکھا کہ رسول اللہ ‏‎ﷺخواب میں تشریف لاتے اور دو آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے فرماتے ہیں کہ نور الدین مجھے ان آدمیوں کی شرارت سے بچاؤ. اب سلطان کو چین کہاں تھا فوراً مدینہ کی طرف کوچ کیا اوردنوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرتے مدینہ منورہ پہنچے. وہاں تحائف دینے کے بہانے مدینہ منورہ کے ہر فردسے ملے لیکن وہ دوچہرے نظر نہ آئےجو 3 بار انہیں خواب میں دکھائے گئےتھے.سلطان نے پوچھا کیا آپکو یقین ہے کہ مدینہ کا ایک ایک فرد مجھ سے مل چکا ہے؟ جواب ملا کہ جی ہاں سوائے دو افراد کہ جو مراکش کے نماز, روزہ کے نہایت پابند متقی باشندے ہیں اور دن رات صرف روضہ رسول‏‎ﷺ پہ حاضر درودو وسلام بھیجتے رہتے ہیں.(منافقت کا درجہ دیکھیے ذرا) آپکا انہیں بتایا گیا لیکن انہوں نے کہا ہمیں کسی تحفے کی ضروت نہیں. سلطان نے فوراً انہیں بلوایا. باز پرس کے بعد معلوم ہوا کہ دونوں عیسائ باشندے ہیں اور مال وزر کی لالچ میں اپنے عیسائ حکمران کے کہنے پر منافقت کا اعلی ڈرامہ رچا کر روضہ رسول کے قریب مکان حاصل کرنے میں کامیاب ہوئےوہاں سے روضہ رسول تک سرنگ کی کھدائ کامنصوبہ تقریباً تکمیل کے مراحل میں تھا.سلطان نورالدین زنگی سنتے رہے روتےرہے.انکے قتل پر فوری عمل درآمد کرو کر سلطان نے روضہ رسول‏‎ﷺ کے گرد خندق کُھدوائ اور اسے پگھلے ہوئے سیسے سے بھروا دیا تاکہ قیامت تک دوبارہ ایسی ناپاک سازش نہ ہو سکے.رسول اللہ ‏‎ﷺکی عزت پر کامیاب پہرا دے کر اپنا فرض ادا کر کے سلطان اپنا دامن پکڑ کر فقیروں کی طرح مدینہ منورہ کی گلیوں میں دیوانہ وار روتے ہوئے پھرے آپ روتے جاتے اور ایک ہی بات فرماتے.. میرا نصیب کہ پوری دنیا سے اور بھی مسلم حکمرانوں کہ ہوتے ہوئے یا رسول اللہ‏‎ﷺ
    اس غلام کو ہی آپ نے اس خدمت کے لیے چنا؟
    حال ہی میں فرانس میں سرکاری سطح پر گستاخی ہوئ یہ ایک فرد کا ذاتی فعل نہیں تھا ریاستی سطح پر یہ اقدام کیا گیا جسے ساری یورپی یونین مطلب سب مغربی ممالک نے مکمل سپورٹ کیا..سرکاری عمارتوں پر بڑی سکرینز پر انکے خاکے دکھائے گئےجنکا سایہ ہی نہیں تھا.💔لیکن 57 مسلم ممالک میں سے ایک ایک نے رسول اللہ‏‎ﷺ کی عزت پر مُردوں والا کردار ادا کیاسوچنے کی بات یہ ہے کہ آج ان 57 مسلم حکمرانوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں تھا؟کہ رسول اللہ‎ﷺسوتے میں آجگاتے کہ اٹھو میری عزت پہ پہرہ دو. کسی ایک سے انہوں یہ کام لینا گوارا نہ کیا؟ انہیں اپنے اعمال کا احتساب کرنا چاہیے کہ کس لیے انہیں ناموسِ رسالت ‏‎ﷺکے تحفظ کے عظیم کام کی سعادت حاصل نہ ہوسکی..؟نماز,روزہ,تسبیحوں کا نام ہی دین ہے تو وہ تو اللہ منافق سے بھی نہیں چھینتا.. نہ ہی یہ کہ چند تقاریر اور مذمت سے ذمہ داری سے فارغ ہوا جائے. اصل بات تو ہے میدانِ عمل میں آکر رسول اللہ‎ﷺسے وفا کر جانا..اور جہاں تک اولیاء, محدثین کی تحقیق ہے کہ سلطان نورالدین کو اس سعادت کہ حاصل ہونے کی بڑی وجہ انکا علماء اور دین کے تحفظ کے اقدامات تھے آپ نے اپنے دورِ حکومت میں سب سے عالیشان عمارتیں دین پڑھانے کے لیے بنوائیں. علماءِ حق کو سب سے بلند مقام, عہدے اور عزت دی جب کہ آج کےدور میں علماءِ حق کی وہ عزت نہیں.نہ ہی دینی تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے بلکہ اسے تعلیم سمجھا ہی نہیں جاتا. عمومی سوچ ہے کہ عالم کو بس مسجد تک محدود ہونا چاہیے جبکہ اسلام میں علماء کو انبیاء کے وارث کہا گیا ہے.قصہ مختصر کہ مسلمانوں میں اگر کبھی تبدیلی آئے گی ترقی ہو گی تو اسلام کو عملی طور پر اپنانے سے ہو گی.اور اسلام میں اگر سیدنا محمد‏‎ﷺ سے محبت, وفا ہر چیز سے بڑھ کر نہ ہو تو اسلام میں کچھ نہیں بچتا.آخری
    با اختیار عثمانی حکمران سلطان عبدالحمید کے دور میں فرانس نے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا اعلان کیا تو آپ نے باوجود اس کے کہ سلطنتِ عثمانیہ آخری سانسیں لے رہی تھی ملک میں خانہ جنگی کی صورتِ حال تھی پھر بھی آپ نے سنتے ہی فوراً فرانس کے
    سفیر کو بلا کر خاکے منسوخ کرنے کا کہا بصورتِ دیگر جہاد کا اعلان کرنے کا کا عندیہ دیا.سلطان کےالفاظ میں عزم کی اسقدر پختگی جھلک رہی تھی کہ فرانس کو خاکے منسوخ کرنا پڑے.یہ تھی نبی آخر الزماں‏‎ﷺ سے عملی وفا. شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے دنیاوی واُخروی کامیابی کا راز چند الفاظ میں سمو دیا کہ محمد‏‎ﷺ سے کوئ وفا کرے جیسے وفا کرنے کا حق ہے تو لوح و قلم (قسمت لکھنے کا اختیار) بھی اسکے ہوتے ہیں.مختصر یہ کہ امتِ مسلمہ اگر عروج چاہتی ہے تو پہلے رسول اللہ‏‎ﷺ سے وفاکرنی ہو گی.اس وفا کے بغیر,رسول اللہ‏‎ﷺ کی عزت پہ سمجھوتہ کر کے کسی قسم کی ترقی/ عروج کی خواہش فضول ہے.ساری دنیا آج کرونا, مہنگائ , معاشرتی بے سکونی اور ایک سے بڑھ کر ایک مسلئے سے دوچار ہے لیکن شائد آسمان سے پتھر گریں تو کوئ مانے گا کہ ہاں اللہ واقعی ناراض ہے.

  • طوائف کی زندگی  تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف کی زندگی تحریر: فوزیہ چوہدری

    طوائف تو دنیا کی تھی بے حیاء
    رہے نسبتاً ہم ہی بےباک کم

    آ پ نے اکثر دیکھا ہو گا نئی چم چماتی گاڑیاں لیکن ان گاڑیوں کا استعمال لوگ کچرہ اٹھانے کے لئے گندگی صاف کرنے کے لیے نہیں کر سکتے بلکہ اس کام کے لئے الگ سے گاڑیاں ہوتی ہیں جو کہ آ پ کو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں اور اگر آپ پاس سے گزر جائیں تا ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں کیوں؟ کراہت محسوس ہوتی ہے بدبو آ تی ہے اسی لیے نہ ؟ پر ان گاڑیوں کا ہونا بھی ضروری ہے ورنہ آ پ کو ہر گلی کوچے میں گندگی کے ڈھیر نظر آ ئیں گے اور آ پکا جینا مشکل ہو جائے گا۔
    بلکل اسی طرح طوائف کی بھی زندگی ہے یہ وہ عورت ہوتی ہے جو ایسے مردوں کی گندی کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے جو عیاش ہوتے ہیں حوس کے پوجاری ہوتے ہیں اور جیب میں چاندی کے سکے اور بہت سے پیسے لے کر گھومتے ہیں۔
    ایک عورت کو طوائف بنانے والے بھی مرد ہی ہوتے ہیں وہ لڑکی جو کسی مرد کے پیار میں گھر سے بھاگ جاتی ہے یا تو اسے بیچ دیا جاتا ہے یا چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ لڑکی کیا کرے جس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں تو ایسی ہی لڑکی پھر ٹوٹ کر بکھر جاتی ہے اور زندگی گزارنے کے لئیے غلط راستہ اختیار کر لیتی ہے۔
    یقین جانیں اگر یہ طوائف نہ ہو تو مرد کی گندگی آ پ کو ہر جگہ دکھائی دے گی اور شاید حوس کا پوجاری مرد اپنے ہی گھر کی بہو بیٹیوں کے ساتھ گندہ کھیل کھیل بیٹھے اور میں ایسے واقعات سنے بھی ہیں کہ باپ نے بیٹی کے ساتھ زیادتی کی،یہاں تک کہ بے زبان جانور تک کو نہیں چھوڑتے یہ لوگ،ایک معصوم بلی کے ساتھ لڑکوں کا وحشیانہ سلوک تو سب کو یاد ہی ہو گا ۔
    جس چیز کی مانگ زیادہ ہوگی وہ تو مارکیٹ میں ضرور آئے گی اور مرد کی مانگ ہے عورت اور رنگین رات اسی لیے آ ج بھی کہیں نہ کہیں چکلہ آ پکو ملے گا اور اگر مرد اچھا ہو جائے تو یقین کیجیے یہ چکلے ہر جگہ سے خود بخود بند ہو جائیں ۔
    ایک عام عورت اور ایک طوائف میں یہ فرق ہے کہ طوائف اپنے لیے خود کماتی ہے اور عام عورت کے پاس کمانے کے بہت لوگ ہوتے ہیں اسکا باپ بھائی یا بیٹا۔
    اور ایک بات یہ کہ اچھے اور برے لوگوں میں فرق صرف ہم انسان کرتے ہیں خدا تو کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔
    میں نے دیکھا ہے نیک لوگوں کو دوسروں کا مذاق اڑاتے ہوئے ان پر ہنستے ہوئے اور گناہ میں ڈوبے لوگوں کو راتوں میں اللّٰہ کے سامنے روتے ہوئے۔ہم نہیں جانتے کون اچھا ہے کون برا تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر بھی فتوا لگانے والے۔
    یہاں آ پ کو ایک مثال سے بھی سمجھا دیتی ہوں کہ آپ کی اولاد میں سے ایک بچہ لائق اور ایک نالائق ہے تو کیا آ پ اپنے نالائق بیٹے کو اکیلا چھوڑ دیں گے نہیں بلکہ اس پر زیادہ توجہ دیں گے کہ کسی طرح یہ بھی لائق ہو جائے پر آ پ انکا موازنہ یا مقابلہ ہر گز نہیں کریں گے۔
    بلکل اسی طرح ایک عام عورت اور طوائف کا کوئی مقابلہ ہے ہی نہیں بلکہ کسی ایک انسان کا دوسرے انسان سے نہیں ہے ہر انسان اپنے آ پ میں ایک ہیرا ہے کوئی نہ کوئی خوبی موجود ہے کیونکہ اللّٰہ نے کسی کو بھی فضول نہیں بنایا ہے۔
    بی
    بہت سے لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آ پ سیاہ قلم ہو کڑوا لکھتی ہو تو میں کہنا چاہوں گی کہ میں معاشرے کا چہرہ دکھاتی ہوں اور اگر آپ میرا لکھا آ پ برداشت نہیں کر سکتے تو پھر یہ معاشرہ بھی بھیانک ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    نوٹ: میں نے اس تحریر میں ہر مرد کو برا نہیں کہا ہے جو برے ہیں انکو برا لکھا اور بیان کیا ہے بے شک پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی ایسے ہی ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا شکریہ تحریر کیسی لگی ضرور بتائیے گا۔ خوش رہیں محبتیں بانٹتے رہیں

    @iam_FoziaCh

  • کرپشن کا بڑھتا ہوا رجحان   تحریر : اقصیٰ صدیق

    کرپشن کا بڑھتا ہوا رجحان تحریر : اقصیٰ صدیق

    کرپشن کا لفظ خراب، بوسیدہ اور عیبی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے، دوسرے لفظوں میں اسے بدعنوانی کے معنوں میں بھی لیا گیا ہے۔
    یعنی اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کرتے ہوۓ کسی دوسرے کا وہ کام کرنا جس کا وہ اہل نہیں ہے۔ اور بدلے میں بھاری معاوضہ طلب کرنا۔
    موجودہ سیاست کرپشن کی مرہون منت ہے۔
    بد عنوانی کے سبب کسی بھی ملک کے وسائل کا صحیح استعمال ممکن نہیں اس میں کئی بار اہل لوگوں کی جگہ پر نااہل لوگ تعنیات کر دیۓ جاتے ہیں۔ اور اس طرح رشوت اور دولت کی تقسیم میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔
    ماہرین کے مطابق بد عنوانی حکومت کو معاشی بحران کا شکار کردیتی ہے اور عوام کی بنیادی وسائل اور خدمات تک رسائی کی صلاحیت کو کم کردیتی ہے۔

    بڑھتی ہوئی کرپشن کی ایک بڑی وجہ ہمارے ہاں ریاستی، انتظامی اور قانونی اداروں میں بے جا سیاسی مداخلت ہے۔
    ہمارے ملک میں سرکاری افسران کرپشن کی ایک بڑی وجہ ہیں, یہ لوگ معاشرے کے اہل لوگوں کی حق تلفی کرتے ہوۓ اپنے خاندان کے لوگوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

    موجودہ دور میں کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان خود اس بحران سے دو چار ہے۔ اس کا اندازہ پاکستان کی موجودہ سیاسی، انتظامی، قانونی، معاشرتی اور معاشی نظام میں عدم شفافیت کی بنا پر لگایا جایا سکتا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ یا ریاست اس وقت تک نہیں ترقی نہیں کر سکتی ہے جب تک اس کی تمام تر پالیسیاں ٹھوس منصوبہ بندی کی بنیاد پر منظم نہ ہوں اور اس کا اپنا داخلی نظام شفافیت پر مبنی نہ ہو۔ ٹرانسپریسنی انٹرنیشنل2020 کی کرپشن سے متعلق سی پی آئی انڈیکس رپورٹ کے مطابق پاکستان کرپشن سے نمٹنے میں مسلسل ناکامی سے دوچار ہے، اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان 31 پوائنٹس کی بنیاد پر 124 نمبر پر کھڑا ہے۔ جبکہ اس سے قبل سال 2019 میں پاکستان 120 ویں نمبر پر تھا۔
    پاکستان میں آۓ دن کرپشن میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اور ملکی صورت حال انتہائی مایوس کن ہے،
    ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی مسائل اس قدر زیادہ ہیں،کہ ان کا شمار ناممکن ہے۔ ان میں دو اہم مسائل ایک بڑھتی ہوئی آبادی اور دوسری بڑھتی ہو ئی کرپشن ہے۔
    گزشتہ کئی سالوں کی نسبت پاکستان آج بہت زیادہ کرپٹ ملک تصور کیا جارہا ہے،
    علاوہ ازیں حکومتی اختیارات کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 97 میں سے 69 ویں نمبر پر ہے۔
    بدعنوانی کی شکلیں بہت مختلف ہیں ، ان میں سے کچھ یہ ہیں:

    بدعنوانی کی ایک بڑی شکل رشوت کا لین دین ہے،

    جرائم کے وقوع ہونے کی سب سے بڑی وجہ سے رشوت خوری ہے ، اور یہ ٹیکس چوری کے بدلے بڑی رقم کی پیش کش سے شروع ہو کر جرمانے سے بچنے کے لئے کسی سیکیورٹی آفیسر کو معمولی رقم کی رسائی تک ہوتی ہے۔ رشوت جرائم کی جڑ ہے۔
    رشوت کی تعریف کچھ ان الفاظ میں بیان کی جاتی ہے کہ کسی سرکاری افسر یا کسی عوامی یا قانونی امور کے مجاز سے اپنا کام نکلوانے کے عمل کو متاثر کرنے کے لیے پیسے کی پیشکش، دینا، وصولی یا مانگنا رشوت کہلاتا ہے۔
    جب کسی قوم میں عدل و انصاف ختم ہو جائے اور لوگوں کو ان کے حقوق جائز طریقے سے نہ مل رہے ہوں تو اس صورت میں رشوت کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔

    دنیا کے مختلف حصوں میں رشوت خوری کو مقبولیت حاصل ہے۔
    رشوت دینے والے اور لینے والوں دونوں کو جہنمی کہا گیا ہے۔

    ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے دونوں پر رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے,

    سیاسی جماعتوں کے نظام میں کرپٹ اراکین کو حکومت نہ صرف تحفظ دیتی ہے بلکہ ان کو سیاسی جماعتوں کے داخلی نظام میں بہت بڑی حیثیت حاصل ہے۔
    یہاں مسئلہ صرف سیاست یا سیاست دانوں کا نہیں بلکہ معاشرے کا ہر طاقت رکھنے والا فرد کرپشن کے زمرے میں آتا ہے ۔
    موجودہ حکومت اور عمران خان کی سیاست کاب بنیادی مقصد احتساب اور کرپشن کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہے۔
    وزیر اعظم عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ کرپشن کا خاتمہ کوئی معمولی کام نہیں, معاشرے میں کرپشن کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ کرپشن کا خاتمہ ملک کے سیاسی، انتظامی، قانونی اور معاشی نظام میں ایک بڑی اصلاحات کا منتظر ہے۔

    @_aqsasiddique