Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پاک افغان تعلقات .  تحریر: ارم چوھدری

    پاک افغان تعلقات . تحریر: ارم چوھدری

    جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایسے ہی ہے جیسے تیز نوکیلی تلواروں کی چھاؤں میں بیٹھا معصوم ہرن کا سہما ہوا
    بچہ ایک طرف افغانستان کی جانب سےڈیورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے عمل میں روز ہمارے فوجی جوانوں کی شہادتیں اور دوسری طرف بھارت کا جنگی جنون ہمہ وقت پاکستان کو حالت جنگ میں رکھتا بات اگر افغانستان کی کی جائے توپاکستان اور افغانستان جنوبی ایشیا کے دو اہم ہمسایہ ممالک ہیں۔ دونوں ممالک تاریخی لحاظ سے جغرافی،لسانی اور نسلیتی بلکہ مذہبی وابستگی بھی رکھتے ہیں دیکھا جائے تو
    افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بہت عرصے سے کچھ زیادہ ٹھیک نہیں چل رہے.

    اسکی سب سے بڑی دو وجوہات ہیں پہلی یہ کہ کابل یہ دعوٰی کرتا ہے کہ وہ ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے اور وہ علاقے جہاں پشتون آباد ہیں بشمول خیبر پختونخوا،قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان کا ایک بہت بڑا حصہ وہ افغانستان کا حصہ ہے
    اور اس دماغی فتور کے لئے افغانستان نے کئی تحریکیں بھی چلائیں جس میں PTM سر فہرست ہے لیکن پاکستان اور بلوچستان کی غیور عوام نے نہ صرف اس تعصب زدہ تحریک کو بلکہ اس کے چلانے والوں کو بھی مسترد کردیا.

    پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں امن کی بحالی کی کوشش کرتا ہے کیوں کہ پاکستان اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ خطے میں امن کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے اور اس کے لیے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی کوششیں نا قابل فراموش ہیں
    افغانستان میں امن کے لئے طالبان کے ساتھ اتحادی حکومت لازمی ہے اور یہ بات انڈیا کو کھٹکتی ہے کیوں کہ انڈیا کبھی نہیں چاہتا کہ خطے میں امن و امان قائم ہو اور اسکی غنڈا گردی بند ہو جائے اس ضمن میں وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے جس سے امن تباہ ہو
    اور ماحول کشیدگی کی طرف جائے.

    ایسے میں جب امریکہ کی تاریخی ہار ہوئی اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا یہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے امریکہ نے دو دہائیوں تک با حثیت سپر پاور افغانستان میں جنگ کر کے دیکھ لیا بالآخر ہار اسکا مقدر ٹھہری موجودہ افغان صدر اشرف غنی جو امریکہ کی زبان بولتا اور اس کے اشاروں پر چلتا ہے اس کے لیے اپنا اقتدار قائم رکھنا مشکل ہو گیا کیونکہ طالبان نے پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ماسوائے چند علاقوں کے اور بہت جلد طالبان پورے افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے افغان عوام طالبان کا ساتھ دے رہی ہے کیوں کہ وہ محکوم قوم کے طور پر رہنا پسند نہیں کرتے. اسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے عمران خان نے آج سے پندرہ سال پہلے کہا تھا کہ افغانستان میں حکومت اور امن کے لئے طالبان کے ساتھ مذکرات بہت ضروری ہیں.

    میرے خیال سے پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے پالیسیاں اس وقت تک تبدیل نہیں ہوں گی، جب تک پاکستان کو یہ گارنٹی نہ مل جائے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور پاکستان کو جغرافیائی لحاظ سے تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی
    اور اس کے لیے سب اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں انڈیا کی دخل اندازی بند ہو.

    حالیہ دنوں میں انڈیا نے اپنے سفارت خانے سے عملہ واپس لانے کے لئے فضائیہ کے جہازوں میں عملہ کی بجائے بھاری مقدار میں بارود بھر کے بھیجا اور اس کی یہ مکروہ سازش بے نقاب ہو گئی طالبان نے ویڈیو جاری کی اور ساری دنیا کے سامنے انڈیا کی حقیقت واضح ہو گئی انڈیا در حقیقت امریکہ کے کہنے پر اشرف غنی کی دم توڑتی حکومت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی یہ کوشش کامیاب کرنے میں اشرف غنی نے افغان امن کانفرنس کو ملتوی کر دیا جس میں طالبان کے وفد کی قیادت بھی مدعو تھی اس حقیقت سے انکار نہیں کہ افغانستان میں حالات خراب ہونے سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوتا ہے.

    گزشتہ 15سالوں میں پاکستان میں دہشتگردی سے 70 ہزار سے زیادہ افراد شہید ہوئے اور کسی بھی ملک نے پرائی جنگ میں اتنی زیادہ قربانیاں نہیں دیں جتنی پاکستان نے ہمسایہ ہونے کے ناطے دی ہیں اسی زمر میں پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے اور آیندہ بھی کرتا رہے گا پاکستان ہمیشہ امن چاہتا ہے اور امن کے قیام کے لیے کوشاں رہے گا انشاء اللہ اُمید ہے افغانستان میں اتحادی حکومت کا قیام اور خطے میں امن و امان کی بحالی ممکن ہو سکے لیکن کوئی بھی بات قبل از وقت ہے آنے والے دنوں میں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور افغان طالبان کس حد تک اپنی پالیسیز میں نرمی پیدا کر کے عوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

    @IrumWarraich4

  • سی ایس ایس اور ڈپریشن تحریر: محسن ریاض


    ‎گزشتہ دنوں لاہور میں ایک لڑکی نے سی ایس ایس میں ناکامی پر خودکشی کر لی ہے اور ایک خط چھوڑا ہے جس میں اپنی ناکامی اور بوجھ کا ذکر کیا ہے اور اس حوالے سے لکھا ہے کہ میں اپنے والد کو مس کروں گی-اس خبر کو اتنے دن گزر چکے ہیں مگر میں ابھی تک صدمے میں ہوں کیونکہ میں خود سی ایس ایس کی تیاری کر رہا ہوں -یہ موضوع ہی اتنا حساس ہے کیونکہ لاکھوں طلبا کا مستقبل اس سے جڑا ہے ہر سال میری طرح کے کئی بچے آنکھوں میں سی ایس ایس کا خواب لیے شہر لاہور کا رخ کرتے ہیں اور یہ شہر اتنے بڑے دل کا مالک ہے کہ ہر ایک کو اپنے سینے پر جگہ دیتا ہےمگر جب آہستہ آہستہ اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ ہم ناکام ہو گئے ہیں تو ذہن مفلوج ہو جاتا ہے اور انسان ڈپریشن کا شکار ہو جاتاہے -یقین مانیں اس وقت آپ ایک ایسی پوزیشن میں ہوتے ہیں جہاں اکثر طلبا یہی سمجھتے ہیں کہ اب میری زندگی ختم ہے کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کا قیمتی وقت اس کے لیے وقف کر دیا ہوتا ہے اور کوئی سکلز ان کے پاس ہوتی نہیں ہیں جن سے وہ اپنا مستقبل سنوار سکیں -اس لیے اس سٹیج پر زندگی ان کے لیے بہت کٹھن اور دشوار ہو جاتی ہے اس کے علاوہ زیادہ تر لوگ سی ایس ایس اس لیے کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسے کما سکیں اور اپنا رعب و دبدبہ قائم کر سکیں -آپ مجھے ایک ایسا سی ایس پی آفیسر دیکھا دیں جس نے ایمانداری سے کام کیا ہو اور ارب پتی ہو میں آپ کو کئی ایسے بزنس مین دیکھا سکتاہوں جنھوں نے ایمانداری سے کام کیا ہو اور ارب پتی ہوں -ہماری نسل بہت قابل ہے ہم اچھے وکیل بن سکتے ہیں اچھے استاد بن سکتے ہیں مگر ہمیں نیلی بتی اور پاور لسٹ کے چکر میں پھنسا دیا گیا ہے جو کام ہم سیاسی رعب سے نہیں نکلوا سکتے ہماری خواہش ہوتی ہے کہ سی ایس پی آفیسر بننے کے بعد ان کو نکلوایا جائے خواہ وہ جائز ہوں یا ناجائز -ہمیں پرکھا ہی اسی کسوٹی پر جاتا ہے کہ ہم کتنے بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہیں – اسی پیمانے پر پورا اترنے کے لیے ہم زندگی میں محدود ہو رہے ہیں مثال کے طور آپ ایک مچھلی کی قابلیت کا اندازہ اگر اس بات پر لگائیں کہ وہ درخت پر چڑھ سکتی ہے کہ نہیں تو یقیناً آپ غلط ہیں اسی طرح ہر بچے کا ذہین ،عادات و اطور دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اسی لیے اگر آپ اس کو اسی کسوٹی پر پرکھتے ہیں تو یہ بچے کے ساتھ نا انصافی ہو گی اور اس امتحان کا کوئی ایسا پیمانہ بھی نہیں کہ آپ اس پر پورا اتر گئے تو آپ کامیاب ہو جائیں گے ہو سکتا ہے آپ ایک سال انگریزی کا امتحان پاس کر لیں تو یہ آپشن بھی موجود ہے کہ آپ کو اگلے سال فیل کر دیا جائے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ کوئی نہ کوئی ایسی سکلز ضرور سیکھیں جس سے آپ مستقبل میں بہتر انداز میں زندگی گزارنے کے لیے استعمال کر سکیں -زندگی بہت خوبصورت اور حسین ہے اگر آپ ناکام ہوتے ہیں تو خدارا اسے ضائع مت کریں-اس سے ایک صرف آپ اپنی زندگی ہی ختم نہیں کرتے بلکہ آپ کے والدین کی زندگی بھی تباہ برباد ہو کر رہ جاتی ہے انہوں نے آپ کو اس لیے پروان چڑھا کر اتنا بڑا کیا ہوتا ہے کہ آپ ایک پر آسائش زندگی بسر کر سکیں اور بڑھاپے میں ان کا سہارا بن سکیں خدارا اس طرح کا قدم اٹھاتے وقت آپ اپنے بارے میں نہیں سوچتے تو نہ سوچیں مگر بوڑھے والدین کے بارے میں ایک بار ضرور سوچ لیا کریں-شائد آپ اس طرح کا قدم اٹھانے سے باز آ جائیں
    @mohsenwrites

  • سوسائٹی اور ماحولیات پر ٹِک ٹوک ایپ کا اثر .  تحریر: زاہد کبدانی

    سوسائٹی اور ماحولیات پر ٹِک ٹوک ایپ کا اثر . تحریر: زاہد کبدانی

    رواں دواں: نوجوان لوگوں پر ٹک ٹوک کا اثر حالیہ ماضی میں لوگوں کی طرف سے سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کا استعمال بڑھتا رہا ہے۔ نوجوان نسل کی مقبولیت کے استعمال کے لئے سوشل میڈیا کی بہت سی ایپلی کیشنز استعمال ہوتی ہیں۔ ٹِک ٹوک سوشل میڈیا کی بہت سی ایپلی کیشنز میں شامل ہے ، جو نوعمروں اور نوجوانوں کی جانب سے شہرت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور بعض اوقات غضب سے چھٹکارا پاتا ہے۔ ایپ کو بنیادی طور پر استعمال کنندہ کے مابین شیئر امیجز اور ویڈیوز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ امیج اور ویڈیو پر مبنی ایپس کے اثر سے متعلق حالیہ مطالعات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ وہ صارفین کو ذہنی طور پر صحت سے متعلق دشواریوں کا باعث بن سکتے ہیں جیسے کھانے کے عارضے اور آنکھوں کے مسائل۔ اس مطالعے نے نوجوانوں پر ٹک ٹوک کے تاثرات کی جانچ پڑتال میں عملی نقطہ نظر پر توجہ دی ہے۔ مشمولات کا تجزیہ صارفین کے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد تاثرات کے بقیہ نظریات اور تبصروں سے لیا گیا ہے۔ اس کاغذ کے ساتھ ساتھ ٹک ٹوک کے صارفین کے ساتھ فوکس گروپ انٹرویو بھی استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان پر اثر انداز ہونے والے امور دریافت کیے جانے والے سوچاوں کے مسائل اور ایپ کے بارے میں بنیادی حقائق دریافت کیے جارہے ہیں۔ اس مطالعے میں صارفین کے نقطہ نظر اور ایپ کی فعالیت کو بہتر بنانے کی بنیاد پر مزید تحقیق کے لئے علاقوں کو تیز کرنے کے سلسلے میں اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تحقیقی سوال کا بیان – ٹک ٹوک کی تیز رفتار ترقی اور نوجوان لوگوں کے ذریعہ اس کے استعمال ، اس سے دونوں پر اثر پڑے گا طویل مدت میں مثبت اور منفی. اس میں تین عوامل ہیں جو نوجوان نسل پر اس کے اثرات پر غور کرنے کے لئے ہیں۔ ، اس منڈی کا استعمال جس کا مارکیٹ کے سامعین نوجوان ہیں۔ ٹک ٹوک کے سامعین 18-25 سال کی عمر کے نوجوان ہیں ، ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے اس کی ترقی بہت ضروری ہے۔ دوم ، ٹِک ٹاک میں موجود مواد مختصر ویڈیوز ہیں جن کی ویڈیو کی اصلیت پر مرکزی دھیان ہے جو بدلے میں بڑی تعداد میں نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ تیسرا ، ویڈیو کو بانٹنے میں ٹک ٹوک کی انفرادیت یہ آہستہ آہستہ ہر نوجوان کی ضرورت بن گیا ہے ، اور وہ اس ایپ کو استعمال کرنے میں گھنٹوں ضائع کرتے ہیں۔ انہیں یہ احساس نہیں ہے کہ وہ اس وقت کو کسی ہنر کو سیکھنے ، یا علم یا کوئی اور چیز حاصل کرکے استعمال کرسکتے ہیں جو مستقبل میں ان کی مدد کرسکے۔ وہ اپنا وقت کسی کی مدد کرنے یا کھیل کھیلنے میں بھی گزار سکتے تھے ، جس سے ان کا دماغ اور جسم صحت مند رہتا ہے۔ اپنی زندگیوں پر توجہ دینے ، اور اپنے کیریئر اور مطالعے کو ترجیح دینے کے بجائے ، وہ ان ایپس کے عادی ہو رہے ہیں جو ان کے سوچنے کے عمل میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔

    @Z_Kubdani

  • احتجاج اور اسلام پسند طبقہ . تحریر: وقاص رضوی جٹ

    احتجاج اور اسلام پسند طبقہ . تحریر: وقاص رضوی جٹ

    اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑاٸی جاۓ تو یہ بات واضح ہےکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قوانین کےنفاذ اور اسلامی شعاٸر کی حفاظت کےحوالےسےہر عشرےمیں ایک یا دو منظم اور بااثر تحریکیں چلتی رہی ہیں۔ چاہے 1950کی دہاٸی ہو جب 1953میں قادیانیوں کیخلاف چلنےوالی تحریک سےلیکر 2017میں ختم نبوت ﷺ کےقانون میں تبدیلی کیخلاف چلنےوالی تحریک تک کہیں نا کہیں اسلام پسند طبقہ اپنےمطالبات منوانےکیلیے احتجاج کاسہارا لیتارہاہے۔

    اگرمذہبی جماعتوں کےاحتجاج پرغور کریں تو یہ بات واضح نظر آتی ہےکہ انہوں نےاپنےمطالبات منوانےکیلیےاحتجاج کاراستہ اپنایااور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔مگر سوال یہ ہےکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی قوانین اور اسلامی شعاٸر کی حفاظت کیلیےاحتجاج کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟دوسرا سوال یہ پیدا ہوتاہےکہ مختلف ادوار میں حکومتیں اسلامی جماعتوں کیخلاف متشدد رویہ کیوں اپناتی ہیں؟تیسرا سوال یہ ہےکہ اسلامی جماعتیں جن کےپاس بہت زیادہ سٹریٹ پاور ہونےکےبعدآج تک اقتدار میں نہیں آ سکیں؟
    ان تمام سوالوں کےجواب ڈھونڈنےکیلیے پاکستان میں تعلیمی نظام کوسمجھناضروری ہے۔اس وقت پاکستان میں تین قسم کےتعلیمی نظام موجود ہے۔ایک تعلیم نظام وہ ہے جس میں اشرافیہ کےبچےتعلیم حاصل کرتےہیں۔ان تعلیمی اداروں میں سرِ فہرست ایچیسن کالج لاہور ہے۔اس کالج کاقومی سیاست میں کردار کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ موجودہ وزیراعظم عمران خان وزیرِخارجہ شاہ محمود قریشی وزیرِدفاع پرویزخٹک سمیت بہت سےوفاقی و صوباٸی وزرا ایچیسن کےپڑھےہوۓ ہیں ایچیسن کےعلاوہ دیگر اداروں میں LUMSیونیورسٹی لارینس کالج مری سمیت بیکن ہاٶس اور لاہور گرامر سکول شامل ہیں جبکہ غیرملکی گریجوایٹس بھی شامل ہیں جن میں بلاول بھٹو سرفہرست ہیں درج بالاتعلیمی اداروں میں صرف جدید تعلیم پرتوجہ دی جاتی ہےاور سیکولرزم کی ترویج کی جاتی ہے۔ اس لیےجب یہ لوگ نظام پرقابض ہونگے جو سیکولراداروں سےپڑھےہونگےتویہ سیکولرزم کی ترویج کریں گے ناکہ اسلام کو۔دوسرا طبقہ متوسط طبقہ جو اسلام کےقریب توہوتےہیں مگر اپنی روزی روٹی کےچکرسےباہر نہیں نکل پاتےاسلام بماقبلہ سیکولرزم کی جنگ میں عملاً شریک نہیں ہوتے۔اس لیے انہیں ملکی حالات سےخاص غرض نہیں ہوتی۔

    جبکہ تیسرا طبقہ مذہبی طبقہ ہے جوحکومت کی غیراسلامی قوانین اور غیرشریعی پالیسیوں کےخلاف نکلتےہیں۔مگر چونکہ نظام پر سیکولر اشرافیہ کا قبضہ ہےاس لیےیہ اپنےمطالبات نہیں منوا پاتےاور مجبوراً پہیہ جام ہڑتال کرتےہیں اور سیکولر اشرافیہ کی حکومت مجبوراً انکےمطالبات وقتی طور پر مان لیتی ہے۔ مگر بعدمیں پھر کسی نا کسی موقع پہ سیکولر پاکیسیاں جاری رکھتی ہے۔
    اب وقت آگیاہےکہ اسلام پسند طبقےکو نظام میں اپنےپنجے گاڑھنےچاہیں اورتمام اہم اداروں خاص کر ملٹری اسٹیبلشمنٹ ٗ سیاستٗ عدالتی نظام ٗ بیوروکریسی ٗ میڈیا اورصنعت و تجارت میں اپنے نوجوانوں کو شامل کرنےکیلیے جدید تعلیم پرتوجہ دینی چاہیے۔اگر ایسا نہ کیاگیا تولبرل اور سیکولر طبقہ جوپہلےہی اتنامظبوط ہوچکاہے اسے روکناناممکن ہوجاۓگا۔

    @waqasRizviJutt

  • خیبر پختونخوہ کے مثالی تعلیم سے ہم محروم . تحریر : محمد عرفات بدر

    خیبر پختونخوہ کے مثالی تعلیم سے ہم محروم . تحریر : محمد عرفات بدر

    بنیادی تعلیم ہر بچے کا حق ، اور اس بنیادی حق کو فرہم کرنا ریاست کی زمہ داری ہے حصول تعلیم کے زریعے ہی انسان اپنی منزل تک کے راستے اسان کر دیتا ، حصول تعلیم کے زریعے دنیا نے چاند پہ قدم رکھا ، بلکہ دنیا کے مختلف ممالک جیسا کہ امریکہ اور سعودی عرب چاند پہ کلوننگ کا منصوبہ بنا رہے ہیں کلوننگ کے حوالے سے سعودی ایجوکیٹ بھی کر رہے ہیں اس جدید تعلمی دور میں خیبر پختونخوہ کا آخری ضلع، ضلع کوہستان وہ تمام تر بنیادی تعلمی سہولتوں سے محروم ہے جو کہ ایک بچہ یا شہری اپنی ریاست پہ حق رکھتا ہے ، محکمہ تعلیم کا پوچھ تاش صرف شہر تک محدود ، اس محدود اینوسٹیگشن سے گاوں میں تعاینات محترم استاتذہ حضرات برپور فایدا اٹھاتے ہیں ، گاوں کا میٹرک پاس لڑکا جس کو ریڈینگ اتی ہو ۸ سے ۱۰ ہزار تک کی تنخواہ اس تک پنچا دی جاتی ہے اور وہ ایک قسم کا خود کو ہیڈ ماسٹر سمجھتا ہے سرکاری طور پہ تائنات استاد شہر میں ایک اعدد کوٹھی میں آ بستا ہے ، خدانخواستہ تگڑی اینوسٹیگیش ٹیم آ جاے تو اس کے اگے کے سہولت کار جانے سے پہلے فون کال پہ اطلاع فرہم کر دے گے کہ صاحب ہم تشریف فرما رہے ہیں اپ اپنی جگہ حاضرہو.

    سبحان اللہ، سکول کی عمارت اس کی تو بات ہی الگ ہے، عمارت کو تو ایسے کارآمد طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے کہ پوچھے ہی مت، پہلے تو سکول کی عمارت کھنڈر کا منظر پیش کرے گی ، بد قسمتی سے ایک عد کمرہ بچ بھی گیا ہو تو اس کے لون میں ، لمبے کانوں والی ایک بکری اور گاے اپنے بچھڑے کے ساتھ دھوپ تب رہی ہوگی اور اس نیک کام میں چوکیدار کا پورا پورا ہاتھ ہوگا، جوہی براے نام اینوسٹیگشن ٹیم کی کال اے گی چکیدار بھی مال معاوشی کو سایڈ کردے گا اور سکول کو صاف ستھر کر رکھے گا کیونکہ انے والے اینوسٹگیشن ٹیم میں ایک عدد ممبر ان کے اس نیک کام میں ملا ہوا نہیں ہوتا ، یہ سلسلہ کئی دہائوں سے چلا آ رہا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں.
    بچیوں کے سکول کا تو اللہ ہی حافظ ہے.

    @ArafatBadr6

  • ریٹیل تھراپی اور اسکے نقصانات . تحریر : حُسنِ قدرت

    ریٹیل تھراپی اور اسکے نقصانات . تحریر : حُسنِ قدرت

    ریٹیل تھراپی کیا ہے؟ جب ہم پریشان ہوں اور ہمیں کوئی چیز خرید کر خوشی ملے جبکہ اس چیز کی ہمیں ضرورت نہ ہو تو اسے ریٹیل تھراپی کہتے ہیں.

    اس میں کوئی بری بات نہیں بظاہر لیکن جو کام ہمیں اچھا لگتا ہے ہمیں اسکی عادت ہو جاتی ہےاور ہم اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں ریٹیل تھراپی کے کچھ نقصانات یہ ہیں اس عادت سے ہم دھڑا دھڑ خریداری کرتے ہیں اور ہماری شاپنگ کنٹرول میں نہیں رہتی
    یہ تھراپی جب عادت کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو مہنگی سے مہنگی چیزوں کی خریداری کی طرف لے جاتی ہے اور یہ غلط فہمی بڑھتی چلی جاتی ہے کہ میں نا خوش ہوں ،کیونکہ میرے پاس یہ چیز نہیں ہے یا میرے پیسے ختم ہو گئے ہیں میں نے شاپنگ نہیں کی اب میں خوش کیسے ہوں گی.

    یہ عادت ایسے شدت اختیار کرسکتی ہے جیسے کسی نشے کی لت میں مبتلا انسان کو نشے کی طلب ڈاکٹررونلڈریوڈن نے اس بارے میں تحقیق کی ہے کہ ہمارے دماغ میں موجود خوشی کے ایک ہارمون "سیروٹونین” کا تعلق خوشی سے ہوتا ہے اور اسی وجہ سے ہم شاپنگ کے نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں.

    جب ہم کوئی ایسی شے خریدتے ہیں جسکا تعلق دماغ کے سکون پہنچانے والے ہارمون سیروٹونین سے ہوتا ہے تو وہ شے خریدنے پر ہمیں خوشی ہوتی ہے یہ بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسا کہ سکون آور دوا کھانے پہ ہوتا ہے.

    اسلیے ہم بہت سی چیزیں بلاوجہ اور بغیر کسی ضرورت کے خود کو مختلف محسوس کرنے کےلئے خریدتے ہیں اور ہمارا بجٹ ڈسڑب ہونے لگتا ہے ہم بچت نہیں کر سکتے جسکی وجہ سے پیسے ختم ہونے پہ ہم پریشان ہوتے ہیں اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ ہم اس عادت میں خطرناک طور پہ مبتلا ہو چکے ہیں یا ہونے والے ہیں تو ہم اسے چھوڑ سکتے ہیں یہ ایک لاشعوری عادت ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذہن میں یہ بات بٹھانی ہوگی کہ اس ماہ اتنے پیسے اگر میں نے بچا لیے تو میں خوش ہوں گی اس طرح آہستہ آہستہ ہم اپنی پرانی روٹین کی طرف آسکتے ہیں اور ریٹیل تھراپی کے برے اثرات سے بچ سکتے ہیں.

    Twitter: @HusnHere

  • ہماری توجہ کہاں؟ . تحریر : حسنین ممتاز

    ہماری توجہ کہاں؟ . تحریر : حسنین ممتاز

    نماز سے سلام پھیرتے ہی نمازیوں میں یہ بحث شروع ہو گئی کہ امام صاحب نے تین رکتیں پڑھائیں ہی چار رکتیں۔طویل بحث ہوئی لیکن سب ایک بات پر متفق نہ ہو سکے اتنے میں اگلی صف میں بیٹھا ایک شخص بولا رکتیں تو تین ہوئی ہیں اس شحص سے پوچھا گیا کہ تم اتنے اعتماد کے ساتھ بول رہے ہو تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو کہنے لگا دلیل کی کیا بات ہے میری چار دوکانیں ہیں ہر رکت میں، میں نے اپنی ایک دوکان کا اج کا حساب کتاب کیا ہے اور ابھی میری چوتھی دوکان کا حساب رہتا تھا تو امام صاحب نے پہلے ہی سلام پھیر لیا۔
    ایک وقت میں ایک کام ہی کیا جاتا ہے زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو اس میں توجہ بہت ضروری ہے چاہے وہ پرھانے والا استاد ہو،پڑھنے والا طالب علم ہو، مزدور ہو یہ کوئی بھی سرکاری ملازم ہو اگر وہ اپنے کام پر توجہ نہیں دیتا تو پھر زاتی معاملات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے جو کے معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں اپنے اپ سے یہ پوچھنا چاہیے کہ جب ہمیں رقم گننی ہو تو ہماری ساری توجہ گننے کی طرف ہوتی ہے اسی طرح ہم ٹی وی، موبائل پر فلمیں ڈرامے کس قدر توجہ سے دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ہمیں آواز بھی نہ دے۔لیکن نماز میں ہماری توجہ کہاں؟ ذرا غور کیجئے کی ایسا کیوں؟
    تیری رحمتوں پہ ہےمنحصر،میرے ہر عمل کی قبولیت
    نہ مجھے سلیقہء التجا،نہ مجھے شعور نماز ہے۔

    @HusnainMumtaz10

  • انسان کی پیدائش، اس کی مرضی سے نہیں ہوتی . تحریر : زینب فاطمہ

    انسان کی پیدائش، اس کی مرضی سے نہیں ہوتی . تحریر : زینب فاطمہ

    مومن کا کامل ایمان ہوتا ہے کہ تمام جہانوں کی مخلوقات کا خالق "اللہ” ہے ۔ اس نے اپنی مخلوقات کو اپنی مرضی و رضا سے تخلیق کیا۔ وہ جب جہاں جسے چاہے جیسے چاہے تخلیق کر دیتا ہے۔ میرا اللہ کامل ہے، بے شک اس میں کوئی عیب نہیں، میرا مالک ہر عیب سے پاک ہے۔ اپنی مخلوق کو پیدا کرتے ہوئے وقت،جگہ،عمر،موت یہ سب اللہ اپنی مرضی سے طے کرتا ہے۔اگر بات کی جائے اشرف لمخلوقات کی تو انسان کی جائے پیدائش میں خدا کی ہی مرضی ہوتی ہے۔ یوں تو مومن زبان سےبولتا ہے کہ اللہ کی رضا میں اس کی رضا ہے مگر کچھ لوگوں کا دل ان کی زبان کا ساتھ نہیں دیتا ۔ عموماً انسان کو یہ دیکھ کر پہچانا جاتا ہے کہ وہ کس خاندان میں پیدا ہوتا ہے اگر اونچے، اچھے خاندان سے ہو تو اس انسان کو بغیر جانے بغیر پرکھے اچھا سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ اس کہ  بر عکس جو شخص بُرے یا کسی نیچ خاندان میں جنم لے تو اس کہ بارے میں یہی گمان کیا جاتا ہے کہ وہ بھی گھٹیا ہی ہے۔ انسان کو جانے بغیر جو یہ اچھے اور بُرے ہونے کا پیمانہ رکھا جاتا ہے یہ بہت غلط ہے۔

    کسی کو اس بِنا پر دھتکار دینا اور اس سے دُور ہو جانا کہ وہ اچھے خاندان سے نہیں ہے اور اسی وجہ سے اس کی تمام اچھی باتوں کو نظر انداز کر کے اس خاندان سے جُڑی نصبت کو اپنے دل و دماغ میں رکھنا اور اس نے نفرت کرنا کیا صحیح ہے؟
    اسی طرح اگر کوئی اچھے خاندان سے ہو تو اس کی تمام تر خامیاں جانتے ہوئے بھی اس کے گُن گانا کیا صحیح ہے؟
    نہیں ہر گِذ نہیں۔

    انسان کے اچھے برے ہونے کا اندازہ اس کے خاندان کو دیکھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔ کس انسان نے کب کہاں اور کس خاندان میں پیدا ہونا ہے یہ تو میرے اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے نا۔ ہم اگر اچھے خاندان میں پیدا ہو جائیں تو اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں۔ تو یہ اکڑ اور انا کس بات کی ؟؟
    اسی طرح اگر ہم برے خاندان میں جنم لے لیں اور کوئی یہ سوچ کر ہم سے دور ہو جائے کہ ہمارا تعلق فلاں فلاں خاندان سے ہے، اور اس شخص کے سامنے اس کا اخلاق  اور محبت ایک طرف رکھ کہ  یہ بات بولی جائے کہ اس کے خاندان کی نسل کی نسل سے بھی دور رہنا چاہیے۔ کیا یہ سب درست ہے؟؟
    اُس شخص نے تو نہیں کہا تھا اللہ سے کہ مجھے فلاں خاندان میں پیدا کرے۔

    پیدائش کے وقت انسان خود تو اپنا خاندان پسند کر کہ پیدا نہیں ہوتا ۔اسے اگر اللہ نے نیچ خاندان میں پیدا کر دیا تو اس میں اس کا تو کوئی قصور نہیں۔ اسی طرح اچھے خاندان میں پیدا ہونےوالے شخص کا بھی اس میں کوئی کمال نہیں ۔ کوئی بھی یہ ضمانت دے کر جنم نہیں لیتا کہ وہ جس خاندان میں پیدا ہو رہا ہے بالکل اسی خاندان کے لوگوں پر جائے گا۔
    اچھےخاندان سے برے ، اور برے خاندان سے اچھے لوگ بھی موجود ہیں اس دنیا میں جنہیں ہمارا معاشرہ کھلی آنکھوں سے بھی نہیں دیکھ پاتا یا شاید دیکھنا ہی نہیں چاہتا۔ خدارا اس بات کو سمجھ جائیں کہ اللہ نے اپنی مرضی سے سب کو اپنی مرضی کی جگہ پہ پیدا کیا ہے۔
    وہ چاہتا تو ہمیں جانور بنا دیتا۔ اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں کہ ہمیں انسان پیدا کیا گیا یہ خدا کی رضا تھی وہ چاھتا تو ہمیں جانور بناتا اور ہم کچھ نہ کر پاتے۔ ٹھیک اسی طرح نیچ خاندان میں پیدا ہونے والوں کا اس میں کوئی قصور نہیں، نہ ہی ان کی پیدائش سے پہلے خدا نے ان سے ان کی مرضی پوچھ کر وہاں پیدا کیا۔
    تو پھر ایسے لوگوں کا دل کیوں دکھایا جاتا ہے؟
    کیوں ان کے ہر اچھے عمل کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟ صرف یہ دیکھ کر کہ وہ اچھے خاندان سے نہیں ۔
    دوسری جانب کسی اچھے خاندان میں پیدا ہونے والے بُرے شخص کے ہر عیب اور ہر گناہ کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟
    کیا یہی مومنوں کا طریقہ ہے ؟
    جبکہ میرا اللہ تو صاف صاف کہہ چکا ہے کہ روزِ حشر ذات پات اونچ نیچ اس سب سےکچھ نہیں ہوگا، خدا کی نظر میں اگر کچھ اہم ہے تو وہ ہے پرہیزگاری۔

    @zaynistic_13

  • پاکستان کا مطلب کیا . تحریر :  توقیر عالم

    پاکستان کا مطلب کیا . تحریر : توقیر عالم

    پاکستان اس وقت شاید اپنی تاریخ کے سب سے نازک موڑ پر ہے جہاں اک طرف بیرونی طاقتیں پورے زور و شور سے پاکستان میں حالات خراب کرنے کے در پہ ہیں وہیں سیاسی افراتفری اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے ناانصافی کرپشن اقرباء پروری اور رشوت کا بازار گرم ہے ہمارے نوجوانوں میں گرل فرینڈ بوائے فرینڈ جیسی بے حیائی عام ھو چکی ھے تعلیمی اداروں میں لڑکے لڑکیاں ناچتے نظر آتے ہیں اور تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ھو چکا ہے.

    تعلیمی ادارے تربیت گاہ کی بجائے ایک کاروبار بن چکے ہیں نوجوانوں کو مذہب بیزار بنانے کی مہم اپنے عروج پر ہے حقوق نسواں کے نام پر ہم جنس پرستی جیسی بے حیائی کے فروغ اور اس کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے.
    پاکستان کے قیام کا واحد مقصد ایک فلاحی اسلامی ریاست تھا جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ اپنے دین کی پیروی کر سکیں اسی خواب کی تعبیر کے لیے قائد اعظم علامہ اقبال اور دوسرے بانیان پاکستان نے ہندوستان میں مسلمانوں کو الگ ریاست کے قیام کے لیے قائل کیا اور ایک بھرپور تحریک چلائی تحریک پاکستان میں مسلمان جو نعرہ لگایا کرتے تھے وہ تھا ”پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ ” یعنی پاکستان کا مطلب شرک کا رد اور خدا کی واحدانیت کا اعلان تھا حالات اور واقعات نے ثابت کیا کہ پاکستان کا قیام مسلمانان ہند کے لیے ناگزیر تھا
    تقسیم ہند کے وقت لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھر بار جائداد کاروبار چھوڑ کر پاکستان چلے آئے ہجرت کے وقت جو واقعات رونما ہوئے اس خون آلود داستان کے دلخراش واقعات سن کر انسان کانپ جاتا ہے مگر سلام ہے ان مسلمانوں کو جو ایسے مظالم سہنے کے بعد پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھتے ہی خدا کے حضور سجدہ ریزہ ھو کر اس کا شکر ادا کرتے رہے اس ہجرت میں لاکھوں بچے جوان اور بزرگ شہید ہوئے ہزاروں بیٹیوں کی عصمتیں لٹیں سینکڑوں نے عزت بچانے کی خاطر خود کو موت کی نیند سلا دیا
    میں اپنے بزرگوں سے اکثر سنا کرتا تھا اللہ کی رحمت کا نام پاکستان ہے یہ ملک اللہ کا تحفہ ہے مسلمانوں کے لیے مگر افسوس ہم نے اس ملک کی حفاظت نہیں کی آپسی لڑائی میں ہم نے اس ملک کا ایک حصہ گنوا دیا اور اس سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا ہمارے حکمران پاکستان کی بہتری کی کوشش کرنے کی بجائے اپنا پیٹ بھرنے میں لگے رہے جس کا بس چلا اس نے اس ملک کو جتنا نوچ سکتا تھا اتنا نوچا جس مذہب کے نام پر ملک حاصل کیا ہم اسی مذہب سے دور ھوتے جا رہےہیں مذہب کو بیسیوں فرقوں میں بانٹ دیا گیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سرعام ہمارے مذہبی عقائد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں مذہب پسندوں کو شدت پسند کہنا شروع کر دیا گیا مغرب نے اسلاموفوبیا کی ترویج کی تو ہمیں لبرل بنانے کی مہم شروع کر دی گئی کبھی آزاد خیالی کے نام پر تو کبھی فنونِ لطیفہ کی آڑ میں بے حیائی کو فروغ دیا گیا ہماری روایات ہماری ثقافت اور اقدار کو قدامت پسندی اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹ بنا کر پیش کیا گیا ہمارے معاشرتی نظام کو برباد کرنے کے لیے مغربی طرز معاشرت کو فروغ دیا گیا اور ہمارے احساس کمتری کا شکار لوگ خود کو مہذب اور پڑھا لکھا ثابت کرنے کے لیے مغربی اطوار اپنانے لگے.

    اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دوبارہ سے جنگی بنیادوں پر اپنی نئی نسل کو حصول پاکستان کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا جائے تاکہ بچوں کو سمجھ آئے.
    پاکستان کا مقصد کیا لا الہ الا اللہ
    اللہ ہمارا اوراس پاک سرزمین کا حامی و ناصرہو.

    @Lovepakistan000

  • عمران خان کے سپورٹرز پُرامید . تحریر : دانش اقبال

    عمران خان کے سپورٹرز پُرامید . تحریر : دانش اقبال

    عمران خان کے نام کامیابیوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو ان کے سپورٹرز کو یقین دلاتی ہے کہ جس کام کا بیڑہ کپتان اٹھاتا ہے وہ کر کے رہتا ہے جلد یا بدیرکرکٹ کھیلنے سے لے کے ٹیم کا کپتان بننے تک اور پھر ورلڈکپ جیتنا , یہ سب سمجھتے تھے کہ یہ خان کی کامیابیوں کا اختتام ہے لیکن خان نے کامیابیوں کا سفر جاری رکھا اور شوکت خانم , نمل یونیورسٹی بنانے کے علاوہ سیاست میں قدم رکھ دیا جو کہ اس وقت بہت سے لوگوں کی نظر میں ایک رسک اور غلط فیصلہ تھا خان کو پتا تھا کہ یہ جدوجہد لمبی اور مشکل ہے لیکن خان نے ٹھان لی اور ایک سیٹ والی پارٹی سے پاکستان کی نمبرون پارٹی بناڈالی باٸیس سالہ جدوجہد رنگ لاٸی اور کپتان نے وزیراعظم کا حلف اٹھا لیا کپتان اور ان کے سپورٹرز کامیاب ہوۓ.

    جب اسمبلی میں سپیکر نے عمران خان کے وزیراعظم بننے کا اعلان کیا تو خان کی آنکھوں میں چمکتے موتی صاف دیکھے جاسکتے تھے کیونکہ اس لمحے کا کپتان نے باٸیس سال تک انتظار کیا تھا اب کپتان کی جدوجہد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں انہیں باٸیس سالوں کے کۓ وعدے اور عوام کو دلاٸی گٸ امیدیں پوری کرنی ہیں اور احتساب کے وعدے کو بھی پورا کرنا ہے
    تین سالوں میں لۓ گۓ مشکل فیصلے , مہنگاٸی کی عالمی لہر اور مافیاز کی سازشیں , ان سب مشکلات پہ خان صاحب عوام کو یقین دلاتے رہے کہ سب ٹھیک ہو جاۓ گا گھبرانا نہیں ہے کچھ سپورٹرز گھبراۓ جبکہ اکثریت خان کے ساتھ کھڑی نظر آٸی اور اب ان کی طرف سے بہت یقین سے کہا جا رہا ہے کہ اگلی حکومت بھی عمران خان کی ہے اور ساتھ میں اس بات کا یقین بھی ہے کہ اگلی حکومت بغیر بیساکھیوں کے ہو گی اور عمران خان تن تنہا حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاٸیں گے.

    عمران خان کے سپورٹرز کا جوش و خروش دیکھ کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں سب بہتر ہوتا نظر آ رہا ہے خان جس کام کی ٹھان لیتا ہے وہ کر کے چھوڑتا ہے ماضی کا کامیاب ریکارڈ ہے جو خان کے سپورٹرز کے یقین کی وجہ ہے ان تین سالوں کے اقدامات اور بہتر ہوتی معیشت پہ اگلے کالم میں تفصیل سے لکھوں گا.

    @ch_danishh