Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • میری محبت، ایک افسانہ . تحریر: محمد وسیم

    میری محبت، ایک افسانہ . تحریر: محمد وسیم

    عاطف اورعروج کی پہلی ملاقات پنجاب پبلک لائبریری میں ہوئی۔ عاطف انجینرنگ کے آخری سال میں تھا اور عروج ڈاکٹر بن رہی تھی۔ شعبہ مختلف مگر خیالات بہت یکساں تھے۔ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا اور بے تکلفی بڑھتی گئی۔ ایک دن دونوں محو گفتگو تھے کہ اچانک عاطف کو کال آ گئی۔ اس نے عروج سے معزرت کی اور موٹر سائیکل پر چلا گیا۔ عاطف جا رہا تھا کہ اچانک ٹرک کی ٹکر سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔ ہسپتال پہنچنے پر اس کا علاج و معالجہ شروع ہوا، اس کی جیبوں کی تلاشی لی گئی تاکہ شناخت ہوسکے، وہاں سے ایک فون نمبر ملا جو عروج کا تھا۔ انہوں نے اس نمبر پر کال کی اور عاطف کے حادثہ کے بارے میں بتایا توعروج یہ خبر سن کر حواس باختہ ہوگئی اور فوراََ ہسپتال پہنچی۔ ڈاکٹروں نے عروج کو بتایا کہ عاطف کے اعصاب کو شدید نقصان پہنچا ہے اور شاید اب وہ عمر بھر چل پھر نہیں سکتا۔ عروج اب ہسپتال میں ہی رہ کر عاطف کی دیکھ بھال کرنے لگی۔ اسی طرح دو ماہ گزر گئے۔ ڈاکٹروں نے عاطف کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا۔ چونکہ وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھا اس لیے عاطف عروج کے ساتھ ہی رہنے لگا۔ وہ اس کا بہت زیادہ خیال رکھتی۔ اسی طرح چھ ماہ گزر گئے اور وہ تندرست ہوگیا لیکن معذور، دونوں کی تعلیم مکمل ہوگئی۔ عاطف نے عروج کو شادی کی پیش کش کی۔ عروج پہلے تو بہت خوش ہوئی لیکن ایک خیال نے اسے پریشان کردیا۔ خیال یہ کہ عاطف تو معذور ہو گیا ہے، والد صاحب اس حالت میں عاطف کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ اس نے عاطف سے کہا کہ اسے اس حالت میں والد صاحب کبھی بھی قبول نہیں نہیں کریں گے۔ اس لیے اسے چلنا پھرنا ہوگا اور جب تک وہ عروج کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے قابل نہیں ہو پاتا تب تک وہ اس کے ساتھ شادی نہیں کر سکتی۔ عاطف نے عروج سے کہا کہ تم تو جانتی ہوکہ میں عمر بھر چل نہیں سکتا تو میں تمہاری یہ شرط کبی بھی پوری نہیں کر سکتا۔ عروج نے کہا کہ اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو اور چاہتے ہو کہ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں تو تمہیں یہ کرنا ہوگا۔ محبت میں مرتا کیا نہ کرتا۔ بے چارہ عاطف عشق کے ہاتھوں مجبور عروج کی شرط مان گیا۔ عروج نے اپنے آبائی گھر جانے کی اجازت لی اور کہا کہ جب تم چلنے کے قابل ہو جاو تو میرے ابا سے میرا رشتہ طلب کر لینا وہ تمیں انکار نہیں کریں گے۔ وہ چلی گئی۔ اور چونکہ وہ خود ڈاکٹر تھی اس لیے وقتاََ فوقتاََ عاعف کی اعصابی قوت کے ٹپس دیتی رہی۔ عاطف نے چلنے پھرنے کی کوشش کی انتہا کردی۔۔ شروع شروع میں وہ بیساکھیوں کے سہارے چلنے لگا۔ پھر آہستہ آہستہ لاٹھی کے سہارے اور آخر کار وہ بغیر سہارے کے چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔ تین سال گزر گئے۔ اب اس نے عروج کو کال کی اور اپنے آنے کی اطلاع دی کہ وہ اس کے باپ سے اس کا ہاتھ مانگنے آرہا ہے۔ عاطف عروج کے گھر گیا، وہاں اس کی خوب خاطر تواضع کی گئی۔ اس نے عروج کے باپ سے رشتہ کے بارے میں بات کی تو اس نے عروج کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے پوچھ لیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ عاطف اب عروج کی طرف توجہ کرتا ہے۔ عروج کہتی ہے” بڑی دیر کردی مہرباں آتے آتے” ۔ اب تو وقت گزر چکا۔ عروج اپنے شوہر کو آواز دیتی ہے کہ ” وسیم! زرا محمود اور خزینہ کو باہر لے کر آئیے” محمود عروج کا بیٹا اور خزینہ اس کی بیٹی تھی۔ وہ اپنے شوہر اور بچوں کا تعارف عاطف سے کرواتی ہے۔

    عاطف حواس باختہ ہوگیا اورعروج سے کہا کہ وہ محبت وہ وعدے وہ سب کچھ کیا تھا۔ عروج کہتی ہے کہ میں ایک پیشہ ور ڈاکٹر ہوں اور میرا کام مریضوں کو کسی بھی طریقے سے صحت یاب کرنا ہے اس لیے وہ تو محض میں تمہاری صحت یابی کے لیے محبت کا ڈرامہ کر رہی تھی۔ بہر حال میرا تجربہ کامیاب رہا۔

    @mstrwaseem

  • اداس کیوں تحریر:حسن قدرت

    پہلے زمانے کے لوگ بہت خوش و خرم زندگی گزارتے تھے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ بات بالکل درست ہو انکے بھی مسائل ہوتے ہوں گے ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہو انسان اور مسائل کے بغیر زندگی گزار کے جائے ناممکن!
    موجودہ نسل میں اداسی بڑھتی جارہی ہے اور وہ بانٹ کر بھی خوشی حاصل نہیں کر پاتے جو خوشی اس دور کے لوگ ملکر کھانے میں محسوس کرتے تھے
    جیسے جیسے زمانہ گزرا ویسے ہی حالات بدلے اور مسائل وہی رہے شاید مگر نوعیت بدل گئی پہلے لوگ اس بات پہ پریشان ہوتے تھے کہ شدید موسمی حالات کا مقابلہ کیسے کریں گے اب لوگ اس بات پہ پریشان ہوتے ہیں رشتوں میں چھپی اس حسد اور نفرت کی شدت کا مقابلہ کیسے کریں گے
    اب لوگ اداس کیوں ہیں؟ اسکی وجہ جو میں نے جانی ہے وہ آپ لوگوں کو بتاتی ہوں اگر
    اگر آج ہم کسی کو ایک روپیہ بھی دیتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارا شکریہ ادا کرے جبکہ ہم اپنے رب کے بھی شکرگزار نہیں ہوتے ، ہم لوگ اتنی شدت کے خودپسند ہوچکے ہیں کہ اگر ہم کسی کو محبت دیتے ہیں ،کسی کو شفقت سے نوازتے ہیں یا کسی کی خدمت کرتے ہیں تو لاشعوری طور پر ہم چاہتے ہیں وہ بندہ ہمارے آگے سر جھکا کے رکھے آخر کیوں؟
    ہم یہ سب انسانوں کو اپنے آگے جھکانے کے لیے کیوں کرتے ہیں؟ اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں کہ ہم نے تو اتنا کچھ کیا اسکے لیے لیکن اس بندے نے مجھے کیا صلہ دیا

    اگر آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو آپ اسکے بندوں سے بھی بے لوث ہوکر محبت کریں انسانیت کی خدمت کریں اور یہ بات ذہن میں رکھیں یہ سب آپ نے اپنے مالک کے لیے کیا ہے اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیا ہے پھر آپ کو غیب سے اسکا صلہ ملے گا اور اتنا اچھا کہ آپ نے سوچا بھی نہیں ہوگا
    اپنی ترجیحات میں جب ہم اپنے بنانے والے کو اور اسکے حکم کو شامل نہیں کرتے تو ہم روتے ہیں چیختے ہیں اور خود سے کہتے ہیں کہ میں *”اداس کیوں”*؟ آخر میں ہی کیوں ؟

    Twitter: @HusnHere

  • مدینہ کے وارث مدینہ چھوڑ چلے . تحریر: مزمل مسعود دیو

    مدینہ کے وارث مدینہ چھوڑ چلے . تحریر: مزمل مسعود دیو

    یزید کے تخت سنبھالتے ہی اس نے والی مدینہ ولید بن عتبہ کو خط لکھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور انکے جانثار ساتھیوں جن میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر ان سے بیعت لے لو اور اگر یہ منع کریں تو ان سب کے سر مجھے بھیج دو۔ ولید نے مروان سے پوچھا کہ کیا کریں تو مروان نے کہا کہ امام حسین نواسئہ رسول ہے وہ کبھی بھی یزید کی بیعت نہیں کریں گے اس سے قبل انکو یزید کی تخت نشینی کی خبر پہنچے ان سب کو بلا لو۔ ولید نے رات کو ہی اپنا ایک آدمی آپ سب کی طرف بھیجا۔ حضرت امام حسین اس وقت اپنے نانا کے مرقد پر تھے تو آپ نے اس آدمی کو کہا کہ میں بعد میں آتا ہوں۔ باقی لوگ بھی امام حسین علیہ السلام کے پاس پہنچ گئے اور اس بارے میں آگاہ کیا۔

    عبداللہ بن زبیر نے کہا حضرت امام حسین علیہ السلام سے کہا کہ مجھے ولید کے اس پیغام نے پریشان کردیا ہے۔ حضرت امام حسین نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ یزید تخت نشین ہو گیا ہے اور یہ لوگ ہم سے اسکی بیعت کا مطالبہ کریں گے۔ فیصلہ ہوا کہ ولید کے پاس جاکر پوچھا جائے کہ اس نے کیوں بلایا چنانچہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے قریبا تیس لوگوں کو اپنے ساتھ لیا اور ولید کے پاس پہنچ گئے۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو اسلحہ لے کر جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ آپ لوگ باہر ہی رکئے۔ اگر تم لوگ میری آواز کو بلند پاؤ تو اندر آجانا کیونکہ ہم اس کی بیعت والے معاملے کو نہیں مانیں گے۔

    حضرت امام حسین علیہ السلام ولید کے پاس گئے۔ مروان بھی وہیں بیٹھا تھا تو ولید نے امیر شام کی موت کی خبر دی اور ولید نے یزید کے خط کے بارے میں بتایا کہ یزید نے آپ سے بیعت کا مطالبہ کیا ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا، مجھے نہیں لگتا کہ تو خفیہ طریقے سے میری بیعت پر راضی ہو بلکہ تو چاہے گا کہ میں یزید کی بیعت اعلانیہ طور پر لوگوں کے سامنے کروں ، ولید نے جواب دیا کہ جیسا آپ نے فرمایا ایسا ہی ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ صبح تک صبر کر۔
    حضرت امام حسین وہاں سے جانے لگے تو مروان نے ولید سے کہا کہ ابھی تو امام حسین (ع) کا ہاتھ بیعت کے لئے نہ لے سکا تو کبھی ایسا نہیں ہو سکے گا اس لیے اگر ابھی بیعت نہ کریں تو ان کا سر قلم کر دے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام مروان کی گستاخی پر سخت غضباک ہوئے اور آپ نے فرمایا، تو مجھے قتل کرے گا، اللہ کی قسم تو جھوٹا ہے۔ تم سب میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ اسکے بعد آپ نے ارشاد فرمائے، "ہم اہلبیت نبوت ہیں، اللہ کے ملائکہ ہمارے ہاں آتے جاتے ہیں، خدا نے خلقت پر ہمیں مقدم کیا ہے اور ہم پر ختم کیا ہے اور یزید شراب پینے والا فاسق فاجر ہے، میں کبھی اس کی بیعت نہیں کر سکتا یہ کہہ کر امام حسین علیہ السلام اپنے چاہنے والوں کے ساتھ باہر نکل گئے”۔

    صبح حضرت امام حسین علیہ السلام گھر سے نکلے، مدینہ کے بازار میں مروان سے سامنا ہوا۔ مروان نے کہا کیا فیصلہ کیا تو آپ نے فرمایا میں یزید کی بیعت نہیں کروں گا۔ اسکے بعد آپ نے مدینہ کو ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اپنے نانا کے مرقد پر آئے اور وہ شب آپ اپنے نانا کے مزار پر ہی رہے، اسکے بعد آپ نے مدینہ کو چھوڑ دیا۔

    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یزید کی بیعت سے انکار کے بعد آپ نے یزید کے خوف سے مدینہ منورہ سے ہجرت کی حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو حضرت امام حسین کسی خفیہ راستے سے مکہ جاتے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے ایک قافلے کی شکل جس میں گھوڑے، اونٹ ، ناقے جو گھریلو سامان سے لدھے ہوئے تھے سب مرکزی شارع سے مکہ گئے۔ بہت سے لوگوں نے آپ کو خاموشی سے نکلنے کا مشورہ بھی دیا تھا لیکن آپ نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ حضرت امام حسین نے کیونکہ بیعت سے انکار کردیا تھا اسلیے آپ چاہتے تھے کہ لوگوں کو اس بات کا پتا چل جائے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام مدینہ سے کسی ڈر اور خوف کی وجہ سے نہیں نکلے بلکہ لوگوں کو ایک اشارہ دیا کہ اب یہ وقت مدینہ میں محفوظ بیٹھنے کا نہیں، بلکہ کربلا سجانے کے عزم کے ساتھ اٹھ کر یزیدی نظام حکومت کے خلاف قیام کا وقت ہے۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے امام حسین علیہ السلام نے محض سوال ِبیعت کی بنا پر مدینہ نہیں چھوڑا بلکہ ظالمانہ حاکمیت کے خلاف آپ پہلے سے ہی قیام کا ذہن بنا چکے تھے۔ سوال ِبیعت نے اتنا ضرور کیا کہ آپ کو وہ موقع فراہم کر دیا جو آپ کے سفر کا نقطہ آغاز بنتا، اور آپ نے مدینہ سے مکہ کی طرف ہجرت کے ذریعہ کربلا کی تعمیر کی صورت اسکا آغاز کر دیا۔

    ۲۸ رجب سن ۶۰ ہجری میں حضرت امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ جانے کا ارادہ کیا۔ آپ ۲۹ رجب المرجب کی رات مدینہ سے نکل گئے اور اس سفر میں آپکے ہمراہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا، حضرت ام کلثوم (ع)، حضرت عباس بن علی (ع) حضرت علی اکبر بن حسین (ع)اور آپکے دیگر اہلخانہ موجود تھے۔ حضرت زینب و ام کلثوم سلام اللہ علیہما کو ملا کر آپکی ۱۳بہنیں اس سفر میں آپ کے ساتھ تھیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بہن حضرت جمانہ بنت ابوطالب (ع) اور ۹ کنیزیں آپ کے ہمراہ مدینہ سے نکلے، اس قافلے میں حضرت امام حسن مجتبٰی علیہ السلام کی بعض زوجات کے علاوہ ۱۶ افراد وہ تھے جنکا تعلق حضرت امام حسن مجتبٰی علیہ السلام و خانوادہ جناب مسلم بن عقیل سے تھا۔ اصحاب ِباوفا کے علاوہ ۱۰ غلام بھی آپکے ہمراہ تھے۔
    حضرت امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ پہنچ کر وہاں کم و بیش 4 مہینے قیام فرمایا اور 8 ذوالحجہ کو مکہ سے کوفہ کی جانب سفر شروع کیا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کو راستے میں حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملی اور پھر راستے میں آپکو ابن زیاد کا پیغام پہنچایا گیا کہ آپ کوفہ نہیں جاسکتے بلکہ آپکو شام لے جانے کا حکم ہے لیکن آپ کے انکار کے بعد آپ نے اپنے قافلے کا رخ کربلا کی جانب موڑ دیا۔ 2 محرم کو آپکا قافلہ کربلا کی سرزمین پر پہنچا اور آپ نے اس جگہ کا نام پوچھا تو بتایا گیا کہ اس کا نام کربلا ہے تو آپ نے اسی وقت وہاں پڑاو ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہی ہماری مقتل گاہ ہے۔

    ‏@warrior1pak

  • عمران خان کی تبدیلی اور اٹھارویں ترمیم . تحریر : اسد خان بلوچ

    عمران خان کی تبدیلی اور اٹھارویں ترمیم . تحریر : اسد خان بلوچ

    عمران خان نے جس تبدیلی کا خواب دیکھا تھا اس خواب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اٹھارویں ترمیم کو سمجھا جاتا ہے کہ اگر اٹھارویں ترمیم نہ ہوتی تو پاکستان کی حالت بہتر ہوجاتی ۔
    اٹھارویں ترمیم کو دیکھتے ہوئے تھوڑا سا تجزیہ کرتے ہیں کہ کیا واقعی پاکستاں کی ترقی میں اٹھارویں ترمیم
    رکاوٹ ہے؟

    اسلام آباد جو صرف 24 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے وہاں کوئی اٹھارویں ترمیم نہیں ہے وہاں وفاقی حکومت کا کنٹرول ہے اسلام آباد میں کونسی تبدیلی آئی ذرا دیکھئیے ۔
    شفقت محمود وفاقی وزیر تعلیم ہے لیکن ہر صوبے کا علیحدہ وزیر تعلیم بھی ہے اس لیے شفقت محمود 24 کلومیٹر کا وزیر تعلیم ہےتو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا
    شفقت محمود 24 کلومیٹر کے علاقے میں کیا تعلیمی تبدیلی لے کر آیا؟
    کیا کبھی شفقت محمود نے اسلام آباد کے نامی گرامی سکول ٹیچرز کو بلایا کبھی ان سے پوچھا کہ حضور جو سہولتیں پرائیویٹ سکولز مالکان آپکو دیتے ہیں اس سے بڑھ ہم آپ کو سہولیات دیں گے لیکن جو رزلٹ جو محنت آپ پرائیویٹ سکول میں کرتے ہیں وہ یہاں کئیجیے جب پرائیویٹ سکول سے بچے سرکاری سکول میں آئیں گے تو حکومت کی طرف سے آپ کو اتنا بونس ملے گا تبدیلی ہمیشہ کچھ بڑا کرنے سے آتی ہے ۔

    پولیس کو دیکھ لیں صوبوں کو چھوڑ دیں صرف اسلام آباد پولیس میں کیا تبدیلی آئی؟
    اگر اسلام آباد پولیس چاہے تو اسلام آباد سے ایک سوئی باہر نہیں جا سکتی وہاں اسی اسلام آباد میں نائٹ کلبز چل رہے ہیں اور پولیس ہفتہ لیتی ہے اور خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے
    عمران خان صاحب شہد کی دلدل سے نکلئیے اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر کچھ کیجئے صوبوں میں اٹھارویں ترمیم آڑے آتی ہے لیکن اسلام آباد پولیس اور اسلام آباد میں تعلیمی نظام کو بدلئیے تاکہ لوگوں کو آپ پر بھروسہ ہو.

    @khanasad253

  • بنیادی تعلیمی نظام  تحریر : ‏سیدہ بنت زینب

    بنیادی تعلیمی نظام تحریر : ‏سیدہ بنت زینب

    تعلیم کا حصول فرد، معاشرے اور ریاست کے ساتھ ساتھ اجتماعی ترقی کے لئے بھی اہم ہے. بنیادی تعلیم ایک ایسی بنیاد ہے جس پر تعلیم اور انسانی ترقی کی پوری عمارت کھڑی ہے. یہ بچے کو نئی دنیا کی بنیادی بصیرت فراہم کرتا ہے اور اسے زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے لئے ضروری اوزار فراہم کرتا ہے. بدقسمتی سے، پاکستان میں پرائمری تعلیمی نظام انتہائی تاریک ہے۔ نجی تعلیمی نظام کی کاروباری کارپوریشنز والدین کا بے حد استحصال کرتے ہیں.
    ایک سروے کے مطابق کرونا کے دوران اب تک 10٪ بچے اسکول چھوڑ کر مختلف مزدوری کرنے لگے ہیں. اور باقی جو کسی بھی اسکول جا رہے ہیں وہ بھی معیاری تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے.
    پرائمری ایجوکیشن سسٹم کی خراب صورتحال کے لئے متعدد عوامل ذمہ دار ہیں جن میں بنیادی ڈھانچے کی کمی، اہل اساتذہ کی کمی، طلباء اساتذہ کا متناسب تناسب، لیبارٹریوں کی عدم موجودگی، اساتذہ کی غیر حاضری، تعلیم کی جدید تکنیک کا عدم استعمال اور ناقص اساتذہ اور والدین کی باہمی تعامل شامل ہیں.
    ملک کی بجٹ کی ترجیحات اس حقیقت سے عیاں ہیں کہ ہمارے پالیسی سازوں کے لئے تعلیم ترجیح نہیں ہے. اگر ہم ترقی یافتہ دنیا کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور اپنی ترجیحات کو درست بنانا ہوگا.
    ہنگامی بنیادوں پر ہمارے بنیادی تعلیمی نظام میں اصلاح کرنا ضروری ہے. پہلے، ہمارے بنیادی تعلیم کے نظام میں اصلاح اور جدید کاری کے لئے ہمارے بجٹ اور توانائیاں کا ایک بہت بڑا حصہ مختص کیا جانا چاہئے. دوم، ایک موثر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے جو نہ صرف اساتذہ کی کارکردگی کی نگرانی کرے بلکہ نظم و ضبط اور احتساب کا عمل بھی کر سکے.
    ایمانداری کے ساتھ اٹھائے جانے پر اس طرح کے ضروری اقدامات نہ صرف بنیادی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ ہمیں اپنے پرائمری نظام تعلیم میں بہتری لانے کی بھی ترغیب دیں گے. تعلیمی ترقیاتی نظام کی طرف ایک اقدام پر غور کرتے ہوئے، پاکستان ترقی یافتہ دنیا میں مقابلہ کرسکتا ہے اور انشاء اللہ اپنا پرچم دنیا کے ہر میدان میں سب سے سر بلند کر سکتا ہے.
    *پاکستان ذندہ باد⁦!*

  • عمران خان اور پاکستان . تحریر : نسیم کھیڑا

    عمران خان اور پاکستان . تحریر : نسیم کھیڑا

    عمران خان آیا تو ملک چاروں اطراف سے سائل میں گھرا پڑا تھا معیشت بدحال تھی ،انڈسٹری کا پہیہ بند تھا ،زراعت تباه ہوچکی تھی اور ملک کئی اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار تھا شاید یہی وجوہات تھیں کہ غربت اور مفلسی سے ستائی عوام نے عمران خان کا انتخاب کیا عمران خان نے آتے ہی ملکی معیشت کی بحالی اور ملکی داخلہ و خارجہ مسائل سے نمٹنے کے لئیے عملی اقدامات کئیے۔معیشت کی بحالی کے لئیے کئی اقدامات کئیے گئے ملکی انڈسٹری کے زوال کی بڑی وجہ بجلی کی کمی تھی عمران خان نے آتے کئی ڈیمز جن پر کام کئی دہائیوں سے رُکا ہوا تھا ان پر کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کروایا اور ساتھ ساتھ کئی سستی بجلی کے منصوبے شروع کئیے بجلی کے علاوه کئی مراعات اور انڈسٹریز کو سبسڈیز دیں یہ ہی وجہ ہے کہ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں جہاں پاور سیل لوہے کے بھاؤ بک رہا تھا اب کئی لاکھ مزدوروں کی کمی کا شکار ہے اور متواتر لوگوں کو روزگار فراہم کررہا ہے.

    صنعت کی بحالی کے علاوه ملکی معیشت اور عام عوام کے حالات ٹھیک کرنے کے لئیے سبز معیشت پر بھی زور دیا زراعت کی بحالی کے لئیے سستے بیج اور کھادوں کے علاوه عام کسان کی فصلیں "انشورڈ” کردیں اب فصلوں کے نقسان(کیڑا،آگ،سیلاب ) کی صورت میں عام کسان اس کے تباه کن معاشی اثرات سے بچ سکے گا اور اگلے سال پھر سے فصل اگانے کے قابل ہوگا.

    معیشت کی بحالی کے لئیے صنعت اور زراعت کے روایتی طریقہ کار کے علاوه غیر روایتی طریقہ کار بھی اپنایا۔ایک طرف روشن ڈیجٹل اکاؤنٹ کے ذریعے ملکی معیشت اور بیرون ممالک پاکستانیوں کو فائده ہوا تو دوسری طرف مذہبی ٹورزم ،سیاحتی ٹورزم،تاریخی ٹورزم اور تفریحی ٹورزم کی نئی جہتوں کو کھولا تاکہ پاکستان روایتی طریقوں کے علاوه غیر روایتی طریقوں سے معاشی ترقی حاصل کرسکے
    عمران خان کا سی پیک کے فلیگ شپ منصوبے اور اس سے جڑے چھوٹے بڑے منصوبوں پر متواتر کام بھی ملکی معیشت کے لئیے اکسیر ہے.

    عمران خان نے معیشت کی بہتری کے علاوه عوامی اور معاشرتی مسائل کے سدباب کے لئیے عملی اقدامات کئیےغریب افراد اور خاندانوں کی بھوک،افلاس ختم کرنے اور ان کے سر پر چھت دینے کے لئیے لنگر خانے ،احساس پروگرام،ہیلتھ کارڈ اور وزیراعظم ہاؤسنگ سکیم کا اجرا کیا ہیلتھ کارڈ کے ذریعے ہر شہری کے صحت کا خرچہ کم کیا اور گھروں کے لئیے وسیع پیمانے پر قرض دینے سے عام عوام ایک تو گھر جیسی سہولت حاصل کرنے لگے تو دوسری طرف کنسٹرکشن کی صنعت کو خوب فائده ہوا عام عوام کے ان مسائل کے علاوه اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئیے معاشرتی کے سدباب کے لئیےبھی سعی کی۔والدین کے حقوق کے لئیے آرڈینینس لایا اور معاشرے میں بڑھتی اس برائی کو ہمیشہ کے لئیے ختم کرنے کی کوشش کی ،وراثت کا قانون لاکر خواتین کے شرعی حق کو محفوظ کیا اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی بےراه روی کو "پردے "کے حکم کی تلقین کرکے کم کرنے کی کوشش کی گئی.ٕ

    عمران خان ناصرف معشت،عوامی مسائل اور معاشرتی خامیاں دور کرنے کے لئیے سامنے آیا بلکہ ماحولیات پر بھی خاص توجہ دی عمران خان کا بلین ٹری سونامی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے جس سے نہ صرف پاکستان کی آلودگی کم ہوئی بلکہ کلائیمیٹ چینج پر بھی بین الااقوامی ایشو میں پاکستان کا کردارنمایاں ہوااور دنیا نے پاکستان ان ماحول دوست اقدامات کی تعریف کی اور کورونا وبا میں بھی پاکستان کا کردار بھی کچھ کم نہ تھا WHO قومی اداره صحت نے بھی کورونا وبامیں پاکستان کے مثبت اقدامات کی تعریف کی اور باقی اقوام کو پاکستان سے سیکھنے کا کہا یہ بھی عمران خان کا سمارٹ لاک ڈاؤن کا اقدام تھا جس سے نا صرف کورونا وبا کے اثرات سے عوام محفوظ رہی بلکہ غریب کو روٹی بھی ملتی رہی اور معیشت کا پہیہ بھی رواں دواں رہا.

    خارجہ محاذ پر پاکستان کئی دہائیوں سے مسائل کا کا شکار تھا دشمن ممالک نہ صرف اسے سفارتی طور پر "اکیلا” کرنا چاہتے تھے بلکہ اسے ایک دہشت گرد ملک کے طور پر دنیا کو ثابت کرنا چاہتے تھے لیکن عمران خان نے آتے ہی بھارت ،اسرائیل کو اصل دھشت گرد قرار دے دیا اور دنیا کو بتایا ہم پاکستان امن مپسند ملک ہیں اور بھارت RSS کے نظرئیے پر چل رہا ہے اور دنیا کے سامنے کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم اور درندگی کو واضح کردیا .

    قارئین موجوده حالات میں پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کےلئیے بہت دباؤ بھی ڈالا گیا اور کئی معاشی فائدوں کا لالچ بھی دیا گیا لیکن قابل تحسین ہے عمران خان کا کردار جس نے نہ صرف ان ساری آفرز اور دباؤ کو ٹھکرایا بلکہ قائداعظم اور پاکستان کا اصولی کو دہرایا اور فلسطینوں کو ان کا حق نہ ملنے تک اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا.
    دشمن ممالک افغانستان میں بدامنی کے باعث پاکستان کو مسلسل بدامنی کی دلدل میں رکھنا چاہتے تھے لیکن عمران خان نے کمال دوراندیشی اور دانشوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناصرف امریکہ افغان امن معاہدہ کروایا بلکہ افغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی ہر پاکستان مخالف قوت کو منہ توڑ جواب دیا .

    امریکہ چین کی بڑھتی کشیدگی اور سپرپاور کے کھیل میں پاکستان کا کردار بہت واضح ہے پاکستان دونوں ممالک سے بہتر تعلقات چاہتا ہے لیکن کسی بھی ملک کے لئیے اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا جس کی واضح مثال وزیراعظم عمران خان نے امریکی ٹی وی کو "absolutely not ” کا جواب دے کر واضح کردی ہے .
    الغرض وہ وقت دور نہیں جب عمران خان اور پاکستانی عوام کا نا صرف "اسلامی فلاحی ریاست” والا خواب پورا ہوگا بلکہ پاکستانیوں اور پاکستانی پاسپورٹ کی پوری دنیا میں عزت ہوگی اور ہم سب فخر سے بتا سکین گےکہ ہم پاکستانی ہیں .

    @Naseem_Khera

  • ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک . تحریر: محمداحمد

    ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک . تحریر: محمداحمد

    انسان کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحات ماں کے ساتھ گزارے لمحات ہے جن کے بغیر زندگی میں اندھیرا نظر آتا ہے مولانا رومی فرماتے تھے "کہ ماں باپ کے ساتھ تمہارا سلوک ایسی کہانی ہے جو لکھتے تم ہو لیکن پڑھ کر تمہاری اولاد سناتی ہے” اسی لئے اللہ پاک میں ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے.

    خداراہ ماں باپ کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ کریں بیشک آپ کسی بھی مزہب سے ہوں معاشرے میں دیکھا جاتا ہے کہ بچوں کی جب شادی ہو جاتی ہے تو ماں باپ کے ساتھ رویہ بدل جاتا ہے انسان اپنی انسانیت بھول جاتا ہے لیکن انسان کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے جو آج حال ماں باپ کا ہے وہ حال کل تمہارا بھی ہوگا جو سوالات آج بچے اپنے ماں باپ سے کر رہے ہیں وہی سوالات کل آپ کے بچے آپ سے کریں گے اس لئے ماں باپ کی قدر کریں.

    قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ماں باپ کو اُف تک نہ کہو
    اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم فرمایا جو بچے ماں کی خدمت کرتے ہیں ماں کی عزت کرتے ہیں ماں کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ماں کی دعا ہر رستے انسان کے ساتھ ہوتی ہے.

    اج کل کے دور میں لوگ ماں کو اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آتے ہیں ماں کو اولڈ ایج چھوڑتے وقت ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان اور قرآن مجید کی تعلیم ہمیں کیا درس دیتی ہے اسلام میں ماں کے احترام کا درس دیا گیا ہے خداراہ اپنے اپنے والدین کی عزت احترام کریں جن کو والدین وفات پا گے ہیں اُن کیلئے دعا خیر کریں اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

    @JingoAlpha

  • ‏پُرانے وقتوں کی چار جماعتیں پاس تحریر : بشارت محمود رانا

    ‏تعلیم جو کہ ہر انسان کیلئے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ جسم سے روح کا تعلق ہو کیونکہ یہ تعلیم و تربیت ہی ہے جو انسانوں اور جانوروں میں فرق بتلاتی ہے۔ اور میری آج کی یہ تحریر موجودہ میٹریلائیزڈ دور میں ہمارے بچوں کو ملنے والی بڑی بڑی ہائی کلاس ڈگریوں کے باوجود بھی وہ ہمارے اسلامی و معاشرتی اصولوں سے بڑی حد تک ناواقفیت کی وجہ سے ایک نامکمل انسان بن رہے ہیں۔

    ‏اور اس کے برعکس پرانے وقتوں میں جب کہ اِن ڈگریوں کے بغیر ہی اپنے گھر کے بزرگوں اور مسجد یا سکول سے حاصل شدہ معمولی تعلیم و تربیت کے باوجود بھی اپنے مضبوط اخلاق و کردار سے نظر آنے والے ایک مکمل اور کامیاب انسان بننے کے بارے میں ہے۔

    ‏اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ دوست میری اس بات سے متفق ہوں اور کچھ دوست اختلاف بھی کریں۔ مگر! میں اتنا کہتا چلوں کہ یہ سب میں اپنے ذاتی مشاہدے، تجزیے اور علم کی استطاعت میں رہتے ہوئے لکھ رہا ہوں گا۔

    ‏علم جو کہ کسی کی میراث نہیں ہوا کرتا اور جو کوئی بھی اس کو حاصل کرنے کی لگن رکھتا ہو اور اس کے لیے کوشش کرتا ہو یہ اسی کے پاس چلا جاتا ہے۔ اسی طرح علم رکھنے والے کو اپنے پاس علم کے ہونے کا ثبوت کے طور پر کسی کو دکھانے کے لیے ناں تو کوئی ورق اور ناں ہی ڈگری نامی کسی شے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلکہ یہ تو اُس کے عمل، بول چال اور اخلاق و کردار سے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ کسی بھی شخص کی علمی اور ادبی استطاعت کتنی ہو سکتی ہے۔

    ‏اگر ہم وقت کے حساب سے تھوڑا پیچھے چلے جائیں اور اپنے بزرگوں کی زندگی پہ نظر دوڑائیں اور ان کی باتوں کا مشاہدہ کریں تو ہمارے لیے اس کا اندازہ لگانا ذرا بھی مشکل نہیں ہو گا۔ جیسا کہ اگر ہم اُن کا دینی میدان میں معاملات پر بات چیت کا انداز اور اُن کے پاس معقول دینی علم کا ہونا اور پھر اُس پہ اُن کا عملی طور پہ مضبوط کردار کا بھی ہونا، الغرض! آپ کو دینی لحاظ سے ان میں ایک مکمل اور بہترین انسان دیکھنے کو ملے گا۔

    ‏اور اسی طرح اگر ہم اُن کا دنیاوی زندگی میں اپنے معاملات کو دیکھنا، مسائل کو سمجھنا اور پھر اُن کے مطابق بہترین اپروچ اپناتے ہوئے انہیں حل بھی کرنا، اُن کے دنیاوی علمی ہُنر کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔

    ‏اور پھر اگر اُن کا معاشرتی و خاندانی لحاظ سے زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اُن کا اپنے بڑوں و بزرگوں کے ساتھ انتہائی ادب و احترام سے پیش آنے کا طریقہ، اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ اُن کا حُسنِ سلوک، اُن کا بچوں کے ساتھ پیش آنے کا شفقت و مہربانی والا انداز اور یہاں تک کہ اپنے ہم عمر لوگوں کے ساتھ شرارتی اور مہذب طریقے سے کیا جانے والا مذاق کا انداز بھی انتہائی دیدنی ہوتا ہے۔

    ‏اور یہ سب کچھ انہیں کسی مہنگے سکول، کالج یا یونیورسٹی سے حاصل کی ہوئی بڑی بڑی اعلی ڈگریوں والی تعلیم سے نہیں بلکہ! ان کی ذاتی زندگی کے تجربات اور اُن کے اپنے بزرگوں یا اُن کے دور کے معمولی سے سکول سے پاس کی ہوئی چار جماعتوں والی زبانی تعلیم اورعلم کا ہی کمال ہوتا ہے۔

    ‏اور اگر دیکھا جائے تو ہمیں اُن میں سے زیادہ تر کی دنیاوی تعلیم کے حوالے سے قابلیت میٹرک، مڈل یا پرائمری تک کی ہو گی (البتہ! ان میں سے چند اس سے زیادہ پڑھے لکھے بھی ہوں گے، مگر زیادہ تر اُن بزرگوں میں آپ کو کم پڑھے لکھے ہی دیکھنے کو ملیں گے)۔

    ‏اب اس سب کے برعکس اگر ہم آج کے دور کے نوجوانوں کو دیکھیں اور اُن کی دینی، دنیاوی اور معاشرتی زندگی میں ان کے کرداروں کا بغور جائزہ لیا جائے۔ تب آپ کو پتا چلے گا کہ آج کل کے نوجوان جو کہ زیادہ تر بڑے مہنگے مہنگے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بڑی بڑی اعلی ڈگریوں کے مالک تو بن رہے ہوتے ہیں۔

    ‏مگر! میرے مطابق ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آج کے نوجوان اِن مہنگے مہنگے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے اچھی تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ زندگی کے ہر شعبے میں ایک بہترین اور کامیاب انسان بنیں، لیکن آج کا نوجوان یہ اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد زیادہ تر تو صرف اور صرف پیسہ کمانے والی بہترین مشینیں ہی بن کے رہ گئے ہیں۔

    ‏اور اُنہیں ملی ہوئی اِس مادیت پسندی کی تعلیم و تربیت کے علاوہ زیادہ تر نوجوان نہ تو اپنے مذہبی، معاشرتی، ثقافتی اور خاندانی اصولوں و اقدار کے بارے میں زیادہ جانتے ہی ہیں، نہ ہی اس میں انہیں کوئی زیادہ دلچسپی اور نہ ہی اس میں حصہ لینے کی اِن کی کوئی باقاعدہ کوشش نظر آتی ہے۔

    ‏اور اب اگر آج کے اِس نوجوان کو اُن پرانے دور کے چار یا چند زیادہ جماعتیں پاس کیے ہوئے ان بندوں کے ساتھ کمپئر کیا جائے۔ تو میں اُس پرانے دور کے چار یا چند زیادہ جماعتیں پاس بندوں کو آج کے نوجوانوں سے بہتر کہوں گا جو اپنی سب مذہبی، معاشرتی، خاندانی اور ثقافتی اقدار کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے بھی ایک بہترین اور کامیاب انسان ہیں/تھے۔

    ‏اور اب آخر میں یہ کہوں گا کہ اے میرے پیارے پاکستان کے پیارے نوجوانو! میرے نزدیک کتنی بھی اعلي ڈگری ہو وہ صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔ اِس سے زیادہ اس کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ یہ کاغذ کا ٹکڑا کبھی بھی کہیں بھی گم ہو سکتا ہے لیکن آپ کا حاصل کیا ہوا ذاتی علم اور تجربہ ہی اصل خزانہ ہے جو آپ کے ساتھ ہمیشہ رہتا ہے۔

    ‏اور بلاشبہ ہم نے پرانے دور کے مقابلے میں بہت ترقی کر لی ہے لیکن! ہمیں اپنے مذہبی، معاشرتی، خاندانی رسم و رواج اور اپنی ثقافت کو بھی ہر صورت ہر جگہ اپنی پہچان بنا کر اپنے ساتھ لے کر چلنا ہے۔

    ‏تاکہ ہم اس ماڈرن ورلڈ میں لازوال ترقی کی منازل طے کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی بہترین مذہبی و ثقافتی اقدار کو بھی زندہ رکھ سکیں۔ کیونکہ جو قومیں اپنی اصلیت کھو بیٹھتی ہیں وہ کبھی اُس اصل کامیابی کو حاصل نہیں کر سکتیں جو ہم نے حاصل کرنی ہے۔
    ‏اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
    ‏واخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين
    ‏دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    ‏ : ⁦‪@MainBhiHoonPAK

  • عنوان : ﷽ "ذوالحجہ دس دن اور دس راتوں میں چهپے بابرکت خزانے  ‏تحریر : عائشہ شاہد

    عنوان : ﷽ "ذوالحجہ دس دن اور دس راتوں میں چهپے بابرکت خزانے ‏تحریر : عائشہ شاہد

    ماہ ذوالحجہ آپ سب مسلمانوں کو مبارک ہو.
    اس مبارک مہینے کی پہلی دس راتوں کی ﷲ تعالٰی نے قسم کهائی ہے کہ ان دس راتوں میں بہت بڑی طاقت ہے

    بلکہ یوں کہیئے کہ ﷲ تعالٰی کی بہت حکمت چھپی ہوئی ہے
    ان راتوں میں ﷲ نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے
    ان راتوں میں ﷲ تعالٰی کی قسم گردش کر رہی ہے
    ان راتوں میں برکت و عافیت کے خزانے پوشیدہ ہیں
    ان راتوں میں ایک پوشیدہ نور ہے
    ان ہی راتوں میں مدد ہی مدد ہے ﷲ تعالی کی طرف سے
    ذوالحج کی 10 راتوں میں اولاد ہے
    ان ہی راتوں میں بندشوں کا خاتمہ ہے
    ان راتوں میں مال و دولت میں برکت بھی ہے
    ان ہی راتوں میں پریشانیوں کا خاتمہ بھی ہے..
    ان ہی راتوں میں خوش بختی ہے
    ان راتوں میں دین و دنیا پوشیدہ ہے
    ان راتوں میں سچی توبہ کریں معافی مانگیں خلوت جلوت کے گناہوں کی رو رو کر معافی مانگیں . بعض اوقات بہت کچھ عطاء ہونے والا ہوتا ہے مگر ہمارے گناہ سامنے آجاتے ہیں.

    ذوالحجہ کے پہلے دس دن دنیا کے افضل دن ہے اللّٰہ پاک نے ان دس دنوں کی قسم قرآن پاک میں اٹھائی ہے سورہ فجر کی پہلی آیات میں ( والفجر . ولیال عشر۔ ترجمہ فجر کی قسم ۔اور دس راتوں کی قسم )
    حضرت جابر بن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ یارسول اللّہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دنیا میں افضل ترین دن ذوالحجہ کے دس دن ہیں

    حضرت عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے رسول ﷲ نے ارشاد فرمایا: کوئی دن ایسا نہیں جس میں عمل صالح ﷲ کے ہاں (ذو الحجہ کے) دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہوں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کی’’ یا رسول ﷲ ﷺ کیا جہاد بھی ان کے برابر نہیں؟
    آپ ﷺ کافرمان: ہاں مگر وہ شخص جو جان و مال لے کر جہاد کے لیے نکلے اور پھر ان میں کوئی بھی واپس نا آئے یعنی اپنا سب جان و مال قربان کردے
    نبی کریم ﷺ کی سنت احکامات پر علم پیرا ہو جائیں.دعا میں ﷲ تعالٰی سے اس مہینے میں پوشیدہ برکت و عافیت کے خزانے مانگیں پوری امت اپنے مسلمان جو تکلیف میں جو ظلم کا شکار ہیں ان کے لیے مانگیں انسان ذات اور پرند چرند کے لیئے خیر کی دعا مانگیں

    ﷲ تعالی سے رزق میں برکت اور خیر و عافیت مانگیں
    @BinteChinte

  • بےروز گاری، مواقع کی کمی یا سستی اورکاہلی . تحریر: وقاس محمد

    بےروز گاری، مواقع کی کمی یا سستی اورکاہلی . تحریر: وقاس محمد

    بیروزگارافراد سے پوچھیں تو آدھے افراد اس لئے فارغ ہیں کہ کوئی ڈھنگ کی نوکری نہیں مل رہی اور چاہتے ہیں کہ کوئی عالی شان جاب تھالی میں سجا کر انہیں پیش کی جائے اور وہ بس کرسی پر بیٹھ کر دستخط کر کے احسان کر دیں اور ہر ماہ ان کے اکاؤنٹ میں بھاری رقم آ جائے اور آدھے لوگ اس لئے بیروز گار ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی تھالی میں سجا کر چلتا پھرتا کاروبار ان کو پیش کرے اور وہ کلف لگا سوٹ پہن کر کرسی پر بیٹھ کر سیٹھ بن کر بیٹھے رہیں.

    ایسا کیسے ممکن ہے اور دنیا میں کہاں ہوتا ہے ایسے، دنیا کے کامیاب افراد کو دیکھیں آپ کو سمجھ آئے گی کہ انہوں نے کس طرح صفر سے شروع کیا اور پھر محنت سے لگن سے اپنا مقام بناتے ہوئے آگے بڑھتے جاتے ہیں.

    پھر ہمارے یہاں یہ بہت بری روایت کہہ لیں یا عادت کہہ لیں کہ ہم آگے بڑھنے کا سوچتے ہی نہیں ایک انسان جس ملازمت سے زندگی شروع کرتا ہے اسی پر ہی ساری زندگی گزار دیتا ہے ڈرائیونگ سے کیریئر شروع کرنے والا ساری زندگی ڈرائیور بن کر ہی گزار دیتا ہے اس سے آگے سوچتا ہی نہیں، اسی طرح ہم دیکھیں تو ہمارے آس پاس نظر آئے گا چاچا منظور 20 سال سے دوکان ہی چلا رہا ہے، لالہ ارشد 25 سال سے حجامت کرتا نظر آتا ہے، ارشد مکینک آپکو ساری زندگی سے بجلی کے سوئچ لگاتا نظر آتا ہے، ماسی رشیداں گھروں میں کام ہی کرتی رہی اب اسکی بیٹی بھی اسکے ساتھ وہی کام کرتی ہے، چاچا غلام رسول جوتے ہی سلائی کرتا نظر آتا ہے اسی طرح ملازمت کرنے والے افراد اسی فیکٹری اسی کارخانہ اسی دفتر میں ساری زندگی کام کرتے رہتے ہیں وہ آگے بڑھنے اپنی زندگی بہتر بنانے کیلئے کچھ کرتے ہی نہیں اور پھر حکومت یا نصیب کو کوستے نظر آتے ہیں.

    ہمیں یہ عادت چھوڑنا ہوں گی نوکری جو بھی ملے ﷲ کا نام لیکر شروع کریں اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہیں اسی طرح جو بھی کاروبار یا کام آپ کرتے ہیں اس میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہیں حالات اور وقت کے حساب سے چلیں، اپنی محنت کرتے رہیں اپنا سو فیصد دیں، بیروزگاری کچھ بھی نہیں بس ہماری کام چوری اور کاہلی کا دوسرا نام ہے جس دن ہم نے یہ عادت بدل ڈالی اس دن ہمیں نا تو کوئی فارغ نظر آئے گا اور نا ہی کوئی حالات اور ملازمت کا رونا روتے ہوئے.

    @WailaHu