Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • نوجوان  تحریر :عائشہ رسول

    نوجوان تحریر :عائشہ رسول


    نوجوانی اور صبر کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا… جس معاشرہ کا نوجوان خاموش ہو جائے وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے…. .وہاں ظلم وناانصافی کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا…… وہاں بلند آوازوں اور نعروں کا رواج ختم ہوجاتا ہے۔ جلسے اور جلوس نہیں ہوتے… وہاں طاقت کے پاس حکمرانی کا حق چلاجاتا ہے. قانون بے حثیت ہوجاتا ہے وہاں قوم نہیں رعایا ہوتی ہےاور رعایا کے نوجوان انقلاب نہیں لاسکتے…. .غلاموں کی اولاد آزاد نہیں ہوتی….!!
    میرے دوستوں! قوم وہی قوم ہی بنے گی جس میں نوجوان کا شعور بھڑکے گا… حق مانگنے کا جزبہ انگڑائی لے گا… جب وقت اسے بیدار کرے گا.
    جب وہ سوچے گا اس میں کیا کمی ہے کیا وہ سرمایہ داروں کے نوجوانوں جیسا نہیں ہے .. کیا جاگیرداروں کے نوجوان کسی خاص مٹی سے بنے ہیں کیا خالق نے انہیں کسی خاص طریقہ سے پیدا کیا ہے?
    نوجوانوں صبر کا دامن چھوڑو انقلاب کا دامن تھام لو. تمہاری صلاحیتوں کو انڑنیٹ کھا ریا ہے. زہنی آورگی تمہاری دشمن ہے جو تمہارے زہنوں کو منجمد کر رہی ہے خیالوں کا بنا رہی ہے. کبھی نام نہاد سیاست اور جمہوریت کے نام پر اور کبھی ملائیت کے رویوں نام پر…
    اے غریب اور نوجوانو! اپنی مردہ صلاحیتوں کو زندگی دو. میدان عمل میں نکلو اور دشمنوں پر ٹوٹ پڑو..
    کون کون آپ کا استحصال کرہا ہے ان سے اپنا حق واپس لو.
    دیکھو تو تمہارے زہن کتنے آسودہ ہو اور کتنی زرخیزی آجاتی ہے. تمہارے زہن بڑے زرخیز ہیں زرا اس مٹی کو نم تو ہو لینے دو

    یہاں اقبال صاحب کا شعر یاد آیا کہ

    نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی

    اے نوجوانو! تم قوم کا قیمتی سرمایہ ہو. تم لازوال قوم کے بچے ہو.. مسلم قوم ایک لازوال قوم ہے. پاکستانی قوم ایک جری اور بہادر قوم ہے اِسے ایک دلیر اور دیانتدار رہنما ملا ہے.. اے خدا تیرا شکریہ تو نے ہمیں ایک ایساعمران خان جیسا لیڈر عطا کیا جو نہ خود جھکتا ہے نہ ہمیں جکھنے دے گا. آئیں سب ملا کر اپنے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی میں اپنے محبوب لیڈر وزیراعظم عمران خان صاحب کا ساتھ دیں…

    Official Twitter handle
    ‎@Ayesha__ra

  • آخرت ، تحریر : محمد خبیب فرہاد

    آخرت ، تحریر : محمد خبیب فرہاد

    ہم جتنا سوچتے ہیں اتنا کم حقیقتاً کرتے ہیں زندگی کی کہانی ” كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ” ہے۔ ہر ایک کو ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی پڑی ہے کہ مجھے شاہانہ زندگی ملے مہنگی گاڑیاں اور بنگلے ہوں کبھی سوچا ہے، کہ ہم کتنے پل کے مہمان ہیں اور کتنا جینا ہے کچھ معلوم نہیں تو کس چیز کی حوس ہے، جو جینے نہیں دے رہی؟

    جو ہمیشہ رہنے والی ہے وہ ہے ہماری آخرت اور آخرت میں دو اعمال کی جزا اور سزا ہیں جنکی کی بنا پر جنت یا جہنم ملے گی ۔
    اللہ تعالی جب ناراض ہوتا ہے تو سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے اپنے بندے /بندی سے۔

    آخرت کی تیاری وہی کرتا ہے جسے خوف خدا ہوتا ہے جس شخص میں اللہ کا خوف نہیں اللہ اس شخص کو اسکے حال پر چھوڑ دیتاہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے:

    موت کو کثرت سے یاد کرنا اپنے اندر فکر آخرت پیدا کرنے کے لئے بڑا معاون ذریعہ ہے ، موت دنیاوی زندگی کے خاتمے کا نام ہے ،

    پھر اس کے بعد آخرت کی منزل شروع ہوجاتی ہےاس لئےنبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے موت کو بکثرت یاد کرنے کا حکم دیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے :
    لذتوں کو توڑنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو۔

    (صحيح الترمذي:2307)

    اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ:

    اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے، اور اصل زندگی عالم آخرت کی ہے کاش وہ سمجھتے۔

    (سورۃ العنکبوت:64)

    آخرت پر ایمان رکھنا اسلام کی نہایت اہم تعلیم ہے۔ قرآن مجید میں اسکی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ سورۃ البقرہ میں متقین کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد ہوا :
    اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

    اگر آخرت پر ایمان نہ ہو تو انسان خود غرضی اور نفس پرستی میں ڈوب کر تہذیب و شرافت اور عدل و انصاف کے تقاضے کو یکسر بھول جائے ۔

    اے اللہ کے بندے اور بندیوں بڑھ چڑھ کر نیک کاموں میں حصہ لو تاکہ تمہاری آخرت سنور سکے، قرآن پاک کی تلاوت کرو اور اسے سمجھو کہ قرآن پاک ہمیں کن چیزوں کو کرنے کا حکم دیتا ہے اور کن چیزوں سے منع کرتا ہے ۔

    قبرستان کی زیارت کیا کرو اور جنازوں میں شرکت کیا کرو تاکہ تمہیں موت یاد آتی رہے، اپنے آپ کو حقیر سمجھو دوسروں کی بدولت تکبر صرف میرے اللہ کی ذات کو جچتا ہے۔ سادگی کا ساتھ کبھی مت چھوڑنا اسی میں بھلائی ہے کہ سادہ زندگی گزاری جائے ۔

    ارشاد باری تعالی ہے کہ:

    اور اپنے رب کی طرف پلٹ آؤ اور اس کے مطیع ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ جائے، پھر تمھاری مدد نہیں کی جائے گی۔
    (سورۃ الزمر، آیت: 54)

    @khubaibmkf

  • پردیس کی زندگی .  تحریر: فوزیہ چوہدری

    پردیس کی زندگی . تحریر: فوزیہ چوہدری

    پردیس میں اجڑے ہوئے پھرتے ہیں بیچارے کہتے تھے وہاں امیروں میں رہیں گے بات اگر کی جائے تو پردیس کی تو کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پردیس میں رہنے والے لوگ بڑی عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے پردیس کی زندگی جتنی دردناک ہے یہ کوئی پردیس میں رہنے والا ہی محسوس کر سکتا ہے کہ وہ کس طرح سے رہتے ہیں وہاں میری تو سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے کہ اگر میں پردیس میں ہوتی تو کیسے زندہ رہ پاتی اپنوں کے بنا رونا آ تا ہے جب یہ سوچتی ہوں کہ وہ لڑکے جو پاکستان اپنے گھر میں اتنے نازوں سے پلے ہوتے ہیں کہ شائد کبھی پانی کا گلاس بھی خود نہیں لیتے ہوں گے تو پردیس میں وہ بیچارے کبھی تو بنا چائے پانی پیے اور ناشتہ کئے گھر سے نکل جاتے ہوں گے کام کے لیے کہ کہیں دیر سے جانے پر نوکری نہ چلی جائے اور پھر لنچ ٹائم میں ساتھ لایا ہوا باسی کھانا وہ بھی بنا گرم کئے ایک گھنٹے کے بریک ٹائم میں انہوں نے کھانا بھی کھانا ہے نماز بھی پڑھنی ہو آ رام بھی کرنا ہوتا ہے پھر ڈیوٹی سے واپس آ کر خود ہی اپنے لئے کھانا بنانا اور زہن میں یہ خیال ضرور آ تا ہو گا کہ اگر میں گھر ہوتا تو ماں کو آ واز دیتا گھر آتے ہی اور بہن پانی کا گلاس لاتی اور کھانا لاتی۔

    پردیس میں رہنے والے اگربیمار ہوجائیں تو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا انہیں خود ہی سب کرنا پڑتا ہے رابطہ اگر ماں سے ہو بھائی سے ہو بہن سے ہو اور وہ حال پوچھیں تو ایسا محسوس کرواتے ہیں جیسے پرسکون جنت میں رہ رہیں ہیں کوئی پریشانی نہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ پردیس میں رہنے والے اپنوں کی خوشی کے لیے اپنی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں یہاں تک کے وہ اپنے گھر والوں کی روٹی پوری کرنے کے اپنی ایک وقت کی روٹی تک قربان کر دیتے ہیں۔ پردیس میں رہنے والوں کو اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ باہر جا کر اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو بھول گیا ہے تو ایسی پریشانی سے بھری ہوئی زندگی میں وہ خود کو بھول جاتے ہیں تو کسی دوسرے کو کیسے یاد کریں گے۔ پردیس سے واپسی پر انکو کیا ملتا ہے بگڑی ہوئی اولاد، بوڑھی بیوی اور یہ بات کہ آ پ نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ہے؟ سیونگز کچھ بھی نہیں.

    میرا سلام ہے ہر اس پردیس میں رہنے والے کو جو اپنی فیملی کو اچھی زندگی دینے کے لئے ان سے ہی دور ہو کہ بیٹھا ہے

    @iam_FoziaCh

  • دین فطرت اور ہماری زندگی تحریر:  ملک منیب محمود

    دین فطرت اور ہماری زندگی تحریر: ملک منیب محمود

    ‏پورے عالم میں اس وقت امت مسلمہ کے افراد ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ دنیا کی پوری آبادی کا ایک بٹہ چھ حصہ ہے اس طرح مسلمان دوسرے مذاہب اور تہذیبوں کے ماننے والوں کے مقابلے میں ایک عظیم قوم شمار کیے جاتے ہیں اور برابر اس میں اضافہ ہو رہا ہے صرف امریکہ میں تقریبا ایک کروڑ مسلمان موجود ہیں اور ان کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے اس طرح یورپ کے تمام ممالک اور دنیا کے مشرقی حصے میں بھی اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں نہایت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ماضی تہذیبوں کے سائے میں جن لوگوں نے وقت گزارے اور عیش و عشرت سے پوری طرح فائدہ اٹھایا وہ سب کچھ حاصل کرنے کے باوجود جوہر نایاب سے محروم رہے اور اس کو دور کرنے کے لئے انہوں نے تمام فارمولوں کو آزما کر دیکھ لیا لیکن ان کو وہ سکون نہیں مل سکا جس کے بغیر زندگی میں کوئی لذت یا اس کی کوئی قیمت باقی رہے آخرکار ان کو اسلام کا مطالعہ کرنے اور اس کے بنائے ہوئے نظام زندگی کو بہ نظر غائر دیکھنے کی توفیق ہوئی اور ان کو وہ متاع گمشدہ مل گئی جس سے ان کی زندگی کا رخ بدل گیا اور ان کو خالق کائنات کا یقین حاصل ہوا اور اس کے بنائے ہوئے ہوئے اصول زندگی کو انہوں نے آزمایا تو اچانک ان کے اندر انقلاب برپا ہوا یہ اسلام کے دین فطرت ہونے اور انسانی مزاج سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہونے کی دلیل ہے اللہ تعالی اس حقیقت کی وضاحت فرماتے ہیں کہ "پس سیدھا رکھو اپنا رخ دین کے لیے یکسو ہو کر۔ وہی اللہ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کے دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔یہی سیدھا دین ہے۔لیکن اکثر لوگ اس کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔” (سورہ روم:30) البتہ جن لوگوں پر یہ حقیقت منکشف ہو گی وہ اس کو اپنانے اور اس کو اپنی زندگی کا رہنما بنانے پر متفق ہوگئے اور دنیا کی عظیم سے عظیم تر متاع کی نظروں میں بے قیمت بن کر رہے گی وہ اس دریافت پر نہ صرف یہ کہ بے حد مسرور اور مطمئن ہیں بلکہ اس کو اللہ تعالی کا خاص فضل و انعام سمجھ کر اس پر نازاں ہیں اور اسے اپنی زندگی کا اصل سرمایہ سمجھتے ہیں ۔ ایک نو مسلم نے اسلام قبول کرنے کے بعد جب انتہائی مسرت کا اظہار کیا تو مسلمان رہنما نے اس کو مبارک باد دی ۔ اس نے جواب دیا کہ مبارکباد کس بات کی؟ میں نے اللہ تعالی کے فضل سے فطرت کو پا لیا جس پر اللہ تعالی نے اولاد آدم کو پیدا کیا اور وہ فطرت اسلام ہی ہے۔ لہذا میں نے گویا اپنے آپ کو دریافت کیا ہے اور اس کے قبل میں گمراہی میں مبتلا تھا اور اپنی ذات سے نا آشنا تھا

    تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہم مسلمانوں نے اپنی فطرت کے خلاف زندگی کی گاڑی چلا رکھی ہے یہی سبب ہے کہ ہم کو قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہم کو مٹانے کی کوشش کی زرداری کے ساتھ جاری ہے اور کامیابی سے ہمکنار ہو رہے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سارے جہاں کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے اس رحمت کا نمونہ آپ کی سیرت طیبہ میں موجود ہوتے ہوئے بھی ہم اس سے بڑی حد تک مستغنی ہو گئے ہیں اور ہم تہذیبوں کی بے رحمانہ بندشوں میں اپنے آپ کو مقید کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتے۔ مشرق و مغرب میں ہر جگہ ہم یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اب اسلامی نظام عدل و مساوات اور عالمی قوت کا تصور ایک خواب بن کر رہ گیا ہے اور مادہ پرست نظامی زندگی میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ عورتوں کو اس میں ایک طویل غلامی اور بے رحمانہ زندگی سے نجات دلاکر عزت و عظمت کا بلند مقام و مرتبہ عطا کیا اور اسلامی معاشرے کی تعمیر میں ان کے کرداروں کو دنیاوی اہمیت دی آج ہم اپنے صراط مستقیم سے ہٹ کر دیگر اقوام کی طرح بے سمت مادہ پرستی کے علمبردار بن کر رہ گئے ہیں اور یہود ونصاریٰ کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے یہ ایسا سنگین خطرہ ہے کہ ہم اس کا مقابلہ سنجیدگی کے ساتھ اس وقت کر سکتے ہیں جب ہم مکمل طور پر اسلامی تہذیب کی نمائندگی کر سکیں یہی تہذیب زندہ و جاوید ہے اور زمان و مکان میں اس کی قیادت انسان کی عظمت کو تسلیم کرانے میں مشعل راہ ہے رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت آج دوراہے پر کھڑی ہے اور اپنے کردار کو رحمت کے آئینے میں پیش کرنے سے دور ہے

    Written by Malik Muneeb Mehmood

    ‎@MMuneebPTI

  • عنوان: حسن اخلاق تحریر: تہران الحسن خان

    عنوان: حسن اخلاق تحریر: تہران الحسن خان

    مومنوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہوں’

    حسن اخلاق ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی زندگی میں خوشیاں بڑھاتا اور دوریاں کم کرتا ہے۔

    ایک حدیث کا مفہوم بیان کرنا چاہتا ہوں۔

    دنیامیں ہر چیز فنا ہونے والی ہے بے شک چیزیں ختم ہو جائیں گی صرف انسان کا حسن اخلاق ہی ہے جو ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ یہ باکردار اور اخلاق کا بہت بہترین شخص تھا یہ گواہی اس کے گناہوں کو دھوتی ہے اور نیکیوں کو بڑھاتی ہے بات صرف اخلاق اور اچھے سے ایک دوسرے کے خلوص کے ساتھ رشتے نبھانے کی ہےکہ کچھ نہیں دکھتا سوائے انسان کے حسن اخلاق کے.

    حسن اخلاق کے متعلق حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے
    جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے جوڑ لو جو تمہیں محروم کرے اس کو عطاء کرو جو تم پر ظلم کرےاسے معاف کرو..

    زندگی آئینے کی طرح ہے.
    آپ اِس کو بیزار ہو کر گزاریں گے تو بیزار ہو جائیں گے.
    مسکرا کر گزاریں گے تو مسکراتے چلے جائیں گے.
    اخلاق آپ کا آئینہ ہے زندگی آپ کا حسن.
    شکریہ

  • پاکستان میں اشیاء ضروریہ مہنگی کیوں ہوتی ہیں؟   تحریر: ثاقب محمود

    پاکستان میں اشیاء ضروریہ مہنگی کیوں ہوتی ہیں؟ تحریر: ثاقب محمود

    جی ہاں جناب پاکستان میاشیاء کی قیمتیں اچانک آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں اس کی کیا کچھ وجوہات ہیں؟ تو جناب من اس کی وجہ ہم خود ہیں جس چیز کی ویلیو نہیں ہوتی اس کو اہمیت دینا ہمارا شیوہ ہے اور ہم اس چیز کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں جس کا فائدہ ذخیرہ اندوز اور مافیا اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ،مثلا” ٹماٹر 100 کا 5 کلو بک رہا ہے ہم نے لے کے ذخیرہ کرنا شروع کردیا مارکیٹ خالی کر دی دوسرے دن وہی ٹماٹر مارکیٹ سے غائب اور سونے کے بھاو ملےگا لیکن آپکو کیا؟ آپ نے تو ذخیرہ کرلیا ہے ،ایسے ہی مزید چیزیں بھی ہیں عورتوں کے استعمال کی چیزیں لے لیں انتہائی تھرڈ کلاس کے کپڑے بھی مہنگے داموں فروخت ہوتے ہیں بارگیننگ مافیا بیٹھا جہاں داو لگا داو لگا لیا کوئی ریٹ فکس نہیں کوئی پرافٹ کا پتا نہیں ،اب چلتے ہیں باقی چیزوں کی جانب تو جناب گاڑیوں کی طرف چلا جائے زرا جینون کے چکر میں 35 سال چلی ہوئی سوزوکی ایف ایکس کے لوگ پانچ پانچ چھ چھ لاکھ مانگ رہے ہیں جی ہاں سوزوکی ایف ایکس اور مہران 92 ماڈل جینون اگر 4 لاکھ کی تو نئی تو مہنگی ہوگی نہ ہم نے ڈھائی سے تین لاکھ کے مٹیرئیل کی گاڑی کو 12 سے 13 لاکھ تک پہنچا دیا کیوں ہم اتنی اہمیت دیتے ہیں ہم چیزوں کو ہم چیزوں کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں اور جب تک اس کی قیمت آسمان سے باتیں نہیں کرتی ہمیں سکون نہیں سوزوکی ویگنار دیکھ لیں یار زیادہ سے زیادہ 7 لاکھ کریں لیکن 18 سے 20 لاکھ تک اندازا”
    پہنچی ہوئی ہے ، ایک آٹو رکشہ میرے حساب سے 60 ستر ہزار سے اوپر نہیں ہونا چاہیے لیکن وہ بھی 3 لاکھ کا مل رہا ہے سود خوروں نے تو قسطوں پر اس سے بھی مہنگا کر دیا ہے ، موٹر بائیک سی ڈی 70 دیکھ لیں کتنا مہنگا ہے اور 125 کا کیا ریٹ ہے یے سب ہم لوگوں کی غلطی ہے ہم یا تو سستی چیز کو اتنی زیادی اہمیت دے دیتے ہیں کے وہ مہنگی ہو جاتی ہے،اور سب سے اہم بات ہم کوالٹی پر کمپرومائز کر لیتے ہیں اس لئے ملاوٹ خور مافیا سستی چیزیں آسانی سے بنا کر مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں ، تو معزز قارئین کرام اگر ہمیں پتا چل جائے کے دو دن بعد پٹرول مہنگا ہونے والا ہے تو ہم پہلے سے ہی لائنیں لگا کر کھڑے ہو جاتے ہیں جیب میں پیسے نہ بھی ہوں تو کوشش
    کرتے ہیں کہیں سے قرض پکڑ کر ٹیکنکی فل کروا لیں ،ٹینکی کے علاوہ بھی بوتلوں میں بھر لیں ،
    پٹرول مہنگا ہوگا دو دن بعد اور ہم اس کو اہمیت پہلے سے ہی دینا شروع کر دیتے ہیں جسکی وجہ سے ریٹ اوپر جانے کے بعد نیچے آنے کا نام نہیں لیتا ،
    کہتے ہیں کے صدر ایوب خان کے دور میں ٹماٹر کچھ پیسے مہنگا ہوا تو حکومت کی طرف سے اعلان ہوا کے ٹماٹر بیچنے والے کو چھوڑیں اور چو ٹماٹر خریدتے ہیں انہیں کوڑے ماریں جائیں ، کہتے ہیں کے لوگوں نے کوڑوں کے ڈر سے ٹماٹر خریدنا ہی چھوڑ دیا اور عینی شاہدین کے مطابق لاہور میں ٹماٹروں سے بھرے ٹرک دریائے راوں میں بہائے گئے لیکن کسی نے خریدےنہیں، تو کیا آج بھی ہم اسی رویے کے متحمل ہیں کیا آج بھی ہمیں کوڑوں کی ضرورت ہے،
    مہنگائی کا صرف ایک ہی حل ہے
    کے ہم کوالٹی پر کمپرومائز نہ کریں اور چیز کے حجم اور میٹیرئل کے حساب سے قیمت ادا
    کریں اگر آپکو لگے کے چیز مہنگی ہے تو اس کو چھوڑ دیں متبادل دیکھیں اس چیز کے بغیر رہنے کی عادت ڈالیں آپ کے آباو اجداد بھی رہتے رہے ہیں ان چیزوں کے بغیر ان گاڑیوں کے بغیر ان موٹر سائیکلوں کے بغیر یقین جانئے آپ ان چیزوں کی اہمیت کو کم کریں آپ سوچیں مہنگی چیز نہیں لینی اور اس کے بغیر گزارہ کرنا ہے ،
    پھر دیکھیں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں کیسے کمی آتی ہے ۔
    اس کے علاو ہماری حکومت کا بھی کام ریٹ کو کنٹرول کرےبارگیننگ مافیا کو لگام ڈالے سیکنڈ ہینڈ چیز کی بھی ایک حد مقرر کرے ۔
    اور سب سے زیادہ چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے ۔
    ہر چیز ایک حد تک اور کیپیسٹی
    کے مطابق فروخت کی جائے، آپکےشہر میں اگر 10 ہزار رکشے کی ضرورت ہے لیکن آپنے 3 لاکھ رکشہ فروخت کردیا تو وہ رکشے کہاں چلیں گے ، مثلا” آپکی کمپنی ہے اس میں 50 بندوں کی گنجائش ہے اور آپ نے رکھ لیا 350 بندہ تو آپکو ان کا خرچہ نکالنے کے لئے دونمبری کرنی پڑے گی ایسے ہی ہے ہمارا سسٹم جب تک ہر بزنس کی ایک پراپر چین نہ بنائی جائے ، اور ہر بزنس کو حالات دیکھتے ہوئے کیپیسٹی کے مطابق فروغ دیا جائے تو ہی وطن عزیز ترقی کرے گا ایک ہی چیز پر فوکس نہ کریں اور ایک ہی چیز کے پیچھے نہ پڑ جائیں آپ اپنا اور ملک کا جانے انجانے میں نقصان کر بیٹھتے ہیں ، اسلئے اگر کوئی کہے کہ رکشے کا کام اچھا ہے تو سارے رکشہ ہی نہ لینے بیٹھ جائیں ، اگر کوئی کہے کہ ہاسپٹل کا بزنس اچھا ہے تو سب ڈاکٹر ہی نہ بننا شروع ہو جائیں، اور اگر کوئی کہے کہ سکولز کا یا اکیڈمی کا کام اچھا ہے تو سب سکول اور تعلیم کو بیچنے کے چکر میں نہ پڑ جائیں ، کیونکہ ہر چیز بکاو بنائیں گے تو معاشرتی نقصان میں آپ بھی شریک ہونگے کام سارے ہی اچھے ہیں لیکن اہم یے ہے کے آپ لو کونسا کام آتا ہے آپ اپنے پروفیشن کے مطابق کریں اور ایمانداری سے کریں ، آپ دیکھیں معاشرے میں کیسے سدھار آتا ہے ہے اور ریٹ کیسے جگہ پر آتے ہیں، اللہ ہمارے وطن پاک کو ترقی عطا فرمائے آمین۔

    @Ssatti_

  • قومی حکومت تشکیل دے کرملکی مفادات میں آئینی اصلاحات کی جائیں مافیاز کا رستہ روکا جائے تحریر:ڈاکٹر راہی

    الیکشن سے زیادہ وطن عزیز کوایسی آئینی اصلاحات کی ضرورت ہےجن کے ذریعے بیس کروڑ کے عوام کی اسمبلی چند افراد کے ذاتی مفادات کی خاطر استعمال ہونے کا تدارک ہو
    ایسی پارلیمنٹ بنے جو قوم کی آواز ہو

    ایسی حکومت آئے جومسائیل کے حل کے لیے بہترین قانون سازی کرے
    جہاں جرم کے لیے قانون میں کمزوری نظر آئے اس کمزوری کو مقننہ دور کرے
    ہو یہ رہا ہے کہ مقننہ چوروں کو استثنی دے کر ان کی حفاظت کرتی ہے
    ان کو بڑے بڑے عہدوں پر پہنچاتی ہے
    پارلیمنٹ چوری ہضم کروا کر بعد میں اس واردات کو گڑا مردہ کہہ کر این آر او کر لیتی ہے
    اس ملک کے ادارے یرغمال ہیں انہیں سیاسی مداخلت سے نجات چائیے

    اس وقت نون لیگ پی پی پی قاف لیگ جماعت اسلامی جے یو آئی ایم کیو ایم فنکشنل مسلم لیگ تحریک انصاف میں موجود لوگوں اوران سب پارٹیوں نے کسی نہ کسی صورت اقتدار کا حصہ رہ کر جو تیر مارنا تھا وہ مار لیا عوام نے دیکھ لیا
    پی ٹی آئی نے خیبر پختونخواہ کو کس قدر بدلا ہے یہ وہاں کے عوام بتلا سکتے ہیں

    اسوقت ملکی سیاست پارٹیوں سے زیادہ چند سیاسی خاندانوں کے ہاتھ میں ہے
    ایک حلقے میں کسی خاندان کا کوئی فرد سیاسی طور پر مضبوط ہے تو پارٹیاں اسی کے چچا ماموں یا کسی رشتہ دار کو اس کے مقابلے میں تکٹ کو ترجیح دیتی ہیں

    اعلی قیادت کرپشن نہ بھی کرے ثانوی قیادت دونوں ھاتھوں سے ملکی خزانے پراپنا ہاتھ صاف کر لیتی ہے

    ملکی قانون تو بیچارہ کرپٹ مافیا کے گھر کا غلام ہے

    قومی اسمبلی اور سینٹ نے گزشتہ دنوں نا اھلی کی شرط ختم کرکے کسی اک شخص یا خاندان کو جو فائدہ دینے کی کوشس کی یہ بات نئی نہیں مشرف اور زرداری کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے بھی قانون میں کئی بار ترمیم کی گئی
    کوئی سیاسی پارٹیاں قبضہ گروپوں سےخود کو الگ نہیں کرسکتیں
    حال یہ ہو چکا ہے کہ بدعنوان لوگ سیاسی پارٹیوں کی مجبوری بن گئے ہیں
    ان کرپٹ لوگوں کے سرمایے نے ان پارٹیوں کو بچا رکھا ہے
    بڑی پارٹیوں کی اعلی کمان ان لوگوں کے کرتوت جان کر بھی ان کو تحفظ دیتی ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے ان کی بھی بادشاہت قائم ہے
    بد عنوان لوگوں کا یہ وطیرہ بن گیا ہے کہ جب قانون ان پر اپنی گرفت مضبوط کرتا ہے یہ سیاسی پارٹیوں میں شامل ہو کر سیاسی انتقام کا واویلا کرنا شروع کر دیتے ہیں
    علاوہ ازیں یہ اقتدار میں موجود پارٹیوں پر اپنی سیاسی حیثیت جتلا کر اپنے حق میں رعائیت کروا لیتے ہیں
    کئی سیاسی گروہ قرضے معاف کروا گئے کئی این آر او کے ذریعے جیلوں سے نکل گئے
    وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام کو عوام کے حق میں مضبوط کیا جائے
    قانون سازوں کو صرف قانون سازی تک محدود رکھا جائے

    یا تو پورا ملک ایک حلقہ ہو تمام پارٹیوں کا باہمی مقابلہ کرایا جائے
    یاپھرہر ضلع میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کا مقابلہ پارٹیوں کے درمیان ہو
    پورے ضلع میں کسی پارٹی کو پڑنے والےووٹ کے تناسب سے پارٹیوں کواس ضلع میں نشستیں الاٹ کی جائیں

    وڈیروں جاگیرداروں ٹھیکیداروں کی دلچسپی سیاست میں کیوں ہے ؟
    کیونکہ انہوں نے اسمبلیوں میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنا ہوتی ہے
    مندرجہ بالا تحفظات اور تجاویز کے ساتھ میری محب وطن لوگوں اور مقتدر لوگوں سے اپیل ہے کہ بیشک الیکشن کے انعقاد میں تین سال لگ جائیں نگران حکومت کے اس عرصہ میں ملک کو درست سمت میں چلانے کے لیے قومی حکومت تشکیل دے کر کڑے فیصلے کیے جائیں
    وسائیل کی منصفانہ تقسیم فاٹا کے الحاق سے لے کر تمام فیصلے مل بیٹھ کر کیے جائیں
    ملک لٹیروں سے نجات کا یہی واحد راستہ ہوگا کہ گزشتہ پندرہ بیس سالوں کاکڑا احتساب کیاجائے
    جو سیاسی لوگ گھپلوں میں ملوث پائے جائیں انہیں جیل بھیجا جائے
    اس صفائی کے بعد الیکشن کا انعقاد کرایا جائے
    تمام استثنی وغیرہ ختم کیے جائیں
    ہر عہدیدار کو جوابدہ بنایا جائے چاہے وہ پاک فوج کا جرنیل ہی کیوں نہ ہو
    عوامی عہدوں پر لوگوں کا بے جا پروٹوکول واپس کیا جائے
    اسمبلی اراکین و وزراء کو ایک سے زیادہ گاڑی نہ دی جائے

    ڈاکٹر راہی

  • معافی مانگئے معاف کیجئے تحریر  : محمد اویس

    معافی مانگئے معاف کیجئے تحریر : محمد اویس

    بس اتنی کوشش کیا کریں کہ کوئی آپ کی وجہ سے اپنے رب کے سامنے نہ رو پڑے
    یقین کیجیے اگر کوئی آپ کی وجہ سے اپنے رب کی بارگاہ میں رو پڑا اور جو رو رہا ہے وہ سچا اور مظلوم بھی ہے، تو آپ کی آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا بھی تباہ ہو سکتی ہے ۔
    کوشش کیجئے کہ کسی کا دل توڑنے کا بائث نہ بنیں ۔
    اگر کسی کا دل توڑا ہے ، ظلم کیا ہے ، دل آزاری کی ہے ، کسی کو اپنے رعب و دبدبے سے ڈرایا ہے تو فورا اُس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیجئے اِس سے پہلے کہ وہ اپنا فیصلہ اللّه پر چھوڑ دے
    اور
    اگر آپ کو کسی نے رلایا ہے، دل آزاری کی ہے ، ظلم کیا ہے، دھوکہ دیا ہے تو آپ کو میرا مشوره ہے کہ بڑے دل کا مظاہرہ کیجئے اور اللّه کی رضا کی خاطر اُس شخص کو معاف فرما کر درگزر سے کام لیجئے..
    ان شاءاللہ ! اس معاف کرنے کا اللّه آپ کو بہترین صلہ عطا فرماۓ گا ۔
    کیونکہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ ” جو رحم نہیں کرتا اُس پر رحم نہیں کیا جاتا اور جو معاف نہیں کرتا اُس کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ ”
    (مسند امام احمد ج۷ص۷۱ حدیث ،۱۹۲۶۴ )
    اور معاف کرنے سے تو عزت بھی بڑھتی ہے،
    جی ہاں !
    حضرتِ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے ربّ  تیرے نزدیک کون سا بندہ زیادہ عزّت والا ہے؟ فرمایا: ” وہ جو بدلہ لینے کی قدرت کے باوُجود مُعاف کردے۔”
    (شعب الایمان ج۶ص۳۱۹حدیث۸۳۲۷ )
    آج کل دیکھا گیا ہے ہر دوسرا گھر لڑائی جھگڑوں اور ناراضگیوں کی آفت میں مبتلا ہے ، کہیں بھائی بھائی کی آپس میں نہیں بنتی تو کہیں والدین اولاد سے ناراض ہیں ، کہیں بہنیں بھائیوں سے بات کرنے کو تیار نہیں تو کہیں ساس بہو کی آپس میں ٹھنی رہتی ہے الغرض ہر جگہ نااتفاقی اور ناراضگیوں نے اپنے جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں۔
    اس لئے آپ سے عرض ہے کہ کوئی شرعی عزر نہ ہو تو معافی مانگنے ، معاف کرنے اور رجوع میں پہل کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے کہ ایک ہمارا "رب” بھی تو ہے جو دن رات ہماری ہزارہاں غلطیاں و گناہ دیکھنے کہ باوجود ہم پر فوراً عذاب مسلط نہیں فرماتا بلکہ ہمیں توبہ و معافی مانگنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔
    بے شک اللہ پاک غفور و رحیم ہے اور ہم اُس کے بندے ہیں۔

    تو آخر میں خلاصہ کلام یہی ہے کہ معافی مانگئیے اور
    معافی دیجئے اور اپنے روٹھے ہوئے منا لیجئے ۔
    اور
    مجھ گناہ گار کو بھی اپنی دعاوں میں یاد رکھیے۔
    جزاک اللہ خیرا !

    @Awsk75

  • جس تن لاگے، اوہی جانڑے تحریر: مجاہد حسین

    میں 5 سال کا تھا جب ابو فوت ہوئے (اللہ ان کے درجات بلند فرمائے)
    بھائیوں کے اصرار کے باوجود امی نے دوسری شادی نہیں کی،
    تین بھائی سکول میں تھے۔
    میں اور ایک چھوٹا بھائی ابھی سکول نہیں جاتے تھے۔
    ورثے میں تین کنال زمین ملی، دو کنال زرعی ایک بنجر۔
    ‏دو گائے تھیں ایک وچّھا ایک وچّھی تھی۔
    تین بکریاں تھیں۔
    شروع شروع میں رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کی طرف سے فصل کٹائی پر صدقات کی مد میں اتنی گندم جمع ہو جاتی تھی کہ سال بھر کے لئے کافی ہوتی تھی۔
    کچھ عرصے بعد بڑے بھائی کو کالج چھوڑنا پڑا اور ویک ویگن پر کنڈکٹر لگ گیا۔
    ‏وقت گزرتا گیا
    ہماری ضروریات اس زمین اور جانوروں سے پوری ہوتی رہیں۔
    بڑے تینوں بھائی کام کاج پہ لگ گئے۔ سب سے بڑے کی شادی بھی ہوگئی۔ سرکاری ملازمت بھی لگ گئی۔
    اب اس کے بچے بھی ہو گئے تھے تو شہر میں الگ گھر بھی بنا لیا،
    لیکن ماں کو کب آرام تھا۔ ہم چھوٹے تھے
    اب توجہ کا مرکز بنے۔
    ‏کسی بھی طرح میں نے سکول (اول پوزیشن سے) پاس تو کر لیا لیکن آگے کالج داخلے کے لئے اخراجات نہیں تھے۔ بڑا بھائی جو شہر میں رہتا تھا، میرے کاغذات جمع کروا دئے اور انٹریو کی تاریخ بھی آگئی۔
    سوال یہ تھا کہ پیسے کہاں سے آئیں؟؟
    ‏اماں نے ایک وچھا پال پوس کے بیل بنایا تھا، چنگا سوہنڑا۔
    بیچنا پڑا۔۔۔
    داخلہ ہو گیا
    اور میں کالج سے گریجویٹ ہو گیا۔
    اماں کی دعا سے رزلٹ سے پہلے ہی نوکری مل گئی۔
    اور آج بیرون ملک اللہ کے فضل سے اپنی سوچ سے بھی زیادہ کما رہا ہوں۔
    سب بھائی خود مختار ہیں۔
    اپنے اپنے گھر خوش ہیں۔
    ‏ہم نے ایسے بھی دن دیکھے ہیں کہ کبھی کبھی دو دو دن تک گندم کے دلیئے میں لسی ڈال کر کھا کے گزارا کرنا پڑا۔
    اس دن ہماری عید ہوتی تھی جس دن گڑ والے چاول بنتے تھے۔
    حالات کا احساس اورادراک تھا اس لئے عید اور میلوں کا شوق پیدا ہی نہیں ہوا۔
    آج الحمدللہ خود مختار ہیں۔
    ‏سوال یہ ہے کہ جناب! یہ سب ممکن کیسے ہوا۔
    تو محترم! ماں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔
    نا کبھی نا شکری کی نہ ہمیں سکھائی۔
    گھر میں بندھی ان دو گائیوں، چند مرغیوں اور دو تین کنال زمین سے رب نے ماں کے وسیلے سے ایسا انتظام چلایا کہ کبھی کبھی جب آج سوچتے ہیں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
    ‏قصہ مختصر: عمران خان نے جو غریبوں کو بھینسیں، بکریاں یا مرغیاں دی ہیں ان کی اہمیت کا اندازہ ملاوٹ والا دودھ، پلاسٹک کے انڈے اور پانی سے بھرا گوشت کھا کر اسٹنٹڈ گروتھ کے حامل ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے بے ضمیروں کو نہیں ہوگا۔

    کیونکہ جناب!
    جس تن لاگے، اوہی جانے

    @Being_Faani

  • والد کا احترام   تحریر:  سمیرا جمال

    والد کا احترام تحریر: سمیرا جمال

    والد وہ ہستی ہے جس کی شفقت کے سائے میں اولاد پروان چڑھتی ہے۔بچپن سے جوانی
    میں پاؤں رکھنے تک اولاد اپنے باپ کی وجہ سے خود کو مضبوط اور محفوظ سمجھتی ہے ۔کیونکہ والد ہی وہ ہستی ہے جو دنیا کے تنام غم اور تکلیف کو خود میں پرو لیتا ہے مگر اولاد پہ آنچ نہیں آنے دیتا۔باپ ہی وہ ہستی ہے جو خود تو بھوکا رہ لیتا ہے مگر اولاد کی بھوک اس سے برداشت نہیں ہوتی،یہ وہ ہستی ہے جو مصائب و آلام کے تھپیڑوں کے سامنے اولاد کے لئے ڈھال بن جاتی ہے ‏۔باپ اولاد کے لئے سائباں ہوتا ہے ،پتہ اس وقت چلتا ہے جب یہ عظیم ،بے غرض ،محبت بھرا رشتہ دنیا میں آپکو اکیلا چھوڑ کے عدم سدھار جاتا ہے ۔تب احساس ہوتا ہے کہ آپ تو کڑی دھوپ میں بے سہارا کھڑے ہیں،وہ ہاتھ جو ہر تکلیف میِ آپکو تھام لیتے تھے،وہ جسم جو زمانے کے سامنےآپ کے لئے ڈھال بن جاتا تھا، وہ ساکت ہے تب آپ زندہ لاش بن جاتے ہیِں۔استدعا ہے کہ والدین کا احترام سیکھیں،ان کا خیال اسی طرح رکھیں جیسا انہوں نے بچپن نیں آپ کا خیال رکھا۔تب جا کے اس قابل ہوئے کہ بول سکیں یا چل سکیں ۔بولنے کے بعد وہی زبان اپنے والدین کے سامنے نہ چلائیں۔ ہمارا مذ ہب بھی والدن سے نرمی کے برتاؤ کا درس دیتا ہے ایک موقع پر باپ کا مقام بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”باپ جنت کے بیچ کا دروازہ ہے، اگر تو چاہے تو اس دروازے کی حفاظت کر یا اس کو ضائع کردے۔
    ایک اور جگہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا، وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا، وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی، یا رسول اللہﷺ کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے ماں باپ میں سے دونوں یا کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں داخلے کا حق دار نہ بن سکا۔“
    ۔بیٹی ہو یا بیٹا باپ کی شخصیت اولاد کے لئے آئیڈیل ہوتی ہے ۔مگر باپ بیٹی کا رشتہ ازل سے ہی بہت پیار اور انسیت کا رشتہ ہے باپ اور بیٹی کا رشتہ اللہ رب العزت نے بہت مقدس بنایا ہے اور اس رشتے کو بہت خوب صورت احساس سے نوازا ہے۔ بیٹیاں باپ کے آنگن کی رونق ہوتی ہیں۔باپ کا شفقت بھری تربیت بیٹیوں کے اندر زمانے کے تھپیڑوں سے نبرد آزما ہونے کی ہمت اور طاقت پیدا کرتی ہے۔
    خوش قسمت ہے وہ اولاد جن کے والدین حیات ہیں اور وہ خدمت سے جنت کما رہے ہیں ،اور بدبخت ہے وہ اولاد جو بڑھاپے میں اپنے والد صاحب کو اپنا وقت دے کر دعاؤں سے اپنا دامن نہ بھر سکیں۔
    آج زندہ ہیں تو ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھیں جب پردہ فرما گئے تو پھر زندہ لاشوں کی معاشرے کو کوئ ضرورت نہیں ۔
    سب تو اچیاں سنگتاں یارو باپ دیاں
    جیدے صدقے بندیاں قسمتاں آپ دیاں
    باپ مرے تے سارے حوصلے ٹے جاون
    پتر ، تیاں وچ مصیبتاں پے جاون
    لوک پرائے کدی وی نیڑے لگدے نئیں
    ٹر جاون جد باپ تے مڑ کے لبدے نئیں.😭