Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • آزاد کشمیرمیں الیکشن یا سلیکشن ؟ . تحریر۔ نوید شیخ

    آزاد کشمیرمیں الیکشن یا سلیکشن ؟ . تحریر۔ نوید شیخ

    کل آزاد کشمیر میں الیکشن ہونے جا رہا ہے۔ اس باریہ الیکشن بڑے سپیشل ہیں۔ کیونکہ تمام سیاسی جماعتوں نے خوب زور لگایا ہے مریم تو مسلسل وہاں الیکشن کمپین چلاتی رہیں ۔ بلاول نے بھی خوب بڑے بڑے جلسے کیے ۔ پی ٹی آئی کے وزیر بھی وہاں خوب نوٹ بانٹتے، گولیاں چلاتے، انڈے اور جوتے کھاتے دیکھائی دے ۔

    کشمیر میں الیکشن کے دوران خرید و فروخت کا کام بھی جاری رہا ۔ ایک ایک امیدوار نے بیس بیس کروڑ روپے دیئے ۔ اور ایسا لگا کہ سیٹ کے لیے سب سمجھتے ہیں کہ ہم نے سری نگر نہیں مظفر آباد کو فتح کرنا ہے۔ اب کل ہوگا کیا اس حوالے سے گیلپ نے سروے جاری کیا ہے جس کے مطابق تحریک انصاف آزاد جموں و کشمیر میں آسانی کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ ان کے مطابق آزاد کشمیر میں وزیراعظم پاکستان عمران خان ایک مقبول ترین لیڈر مانے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جماعت آزاد کشمیر میں بھی حکومت بنانے کے لئے بظاہر تیار ہے۔

    ان کے مطابق تحریک انصاف کے جیتنے کا امکان 44 فیصد ہے، جب کہ ن لیگ کے پاس 12 فیصد عوامی حمایت ہے۔ پیپلزپارٹی تیسرے نمبرپرصرف 9 فیصد عوامی پسندیدگی کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ اب اس سروے کو یقینی بات ہے پی ٹی آئی تو خوب پروموٹ کر رہی ہے ۔ بلکہ الیکشن سے پہلے ہی اس سروے کی بنیاد پر وہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ وہ جیت چکے ہیں ۔

    سروے اپنی جگہ مگر جو کچھ دیکھائی دیا ہے اورجو خبریں وہاں سے آئی ہیں۔ مریم اوربلاول نے بھی بھرپورکمپین چلائی ہے۔ سیاست میں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کب پانسہ پلٹ جائے ۔ یہ بھی ممکن ہےکہ حکومت تو تحریک انصاف کی ہی بنے مگر اسکو coliation government
    بنانی پڑے ۔ جیسا گلگت بلتستان میں ہوا یہ بھی ممکن ہے ۔

    دوسری جانب نواز شریف کی لندن افغان سیکورٹی ایڈوائزرسے ملاقات کوبھی خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ کئی وزیروں نے اس پر پریس کانفرنسیں بھی کردی ہیں۔ تو دوسری جانب ن لیگ بھی پیچھے نہیں ہے۔ مریم مسلسل ٹویٹس پرٹویٹس کر رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ establishment کو انڈرپریشرکرنے کے ساتھ ساتھ الیکشن سے پہلے ہی ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کررہی ہیں کہ شاید کل دھاندلی ہوگی ۔

    جبکہ بلاول بھی کہہ رہے ہیں کہ کل ایسا نہ ہو کہ تاریخ کے متنازعہ ترین الیکشن ہوں۔ ان کے مطابق وزیراعظم پاکستان اور وزرا سرکاری وسائل استعمال کررہے ہیں۔ ساتھ ہی ن لیگ کو بھی آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر بھی انتخابی مہم میں سرکاری وسائل استعمال کررہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق اورکئی دیگر رہنما بھی پہلے سے خبردار کرچکے ہیں کہ آزادکشمیر میں الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن ہورہی ہے۔ تو شیخ رشید بھی خوب تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں کہ اپوزیشن نے آزاد کشمیرالیکشن سے پہلے رونا دھونا شروع کردیا ہے۔ اب وہ تو دعوی کر رہے ہیں کہ کل لال حویلی سے پی ٹی آئی کی جیت کا اعلان کروں گا۔

    اس سارے معاملے پرگنڈا پورکی زبان بھی خوب چل رہی ہے اورایسے چل رہی ہے کہ پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ کل تو انھوں نے بہت ہی گری ہوئی باتیں بھی کیں۔ جس پر پی ٹی آئی تو ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ بلکہ ٹاپ ٹرینڈزبن گئے ہیں کہ standwithgandapur تواس سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کہ سیاست میں تلخی کس عروج پر پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ روز عمران خان نے کشمیر پر ریفرنڈم کا بیان دیا جو شہباز شریف نے مسترد کر دیا ہے۔ جبکہ گزشتہ دوجلسے عمران خان نے بھی کافی بڑے اورتگڑے کیے ہیں۔ پرسوشل میڈیا پرایک الگ طوفان بدتمیزی مچا ہوا ہے آسان الفاظ میں جوجو کچھ پاکستان کے الیکشنز میں ہوتا ہے وہ تمام رنگ آزاد کشمیر کے الیکشن میں دیکھائی دیے ۔ کامن سینس تو یہی ہے کہ ووٹ تو انہی لوگوں کو ملنے چاہئیں جوعوام میں مقبول ہیں۔

    آخر کار ووٹ تو عوام ہی دیتے ہیں۔ لیکن یہ کامن سینس اتنی کامن نہیں ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں ہمیشہ وہ پارٹی ہی کیوں جیتتی ہے، جو پاکستان میں حکومت وقت کی آزاد کشمیر شاخ ہوتی ہے۔ اب یہ جو مفروضہ ہے کہ جو پارٹی اسلام آباد میں برسرِاقتدار ہوتی ہے، اس کا مظفر آباد میں برسرِ اقتدار آنے کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ آزاد کشمیر کے لوگ ایک خاص قسم کی پہاڑی دانش رکھتے ہیں۔ ان کا یہ احساس بہت گہرا ہے کہ ان کولامحدود مسائل کا سامنا ہے۔ اس مسائل کے حل کے لیے وہی لوگ کچھ کر سکتے ہیں، جن کی پاکستان میں حکومت ہو۔ چونکہ کسی بھی بڑے اورقابل ذکر منصوبے کے لیے وسائل اورمنظوری تو بہرحال اسلام آباد سے ہی آئے گی۔ کچھ لوگ اس کیفیت کو دیکھ کر ان پر موقع پرستی کا الزام بھی دھر دیتے ہیں۔

    پراسکا counter narrative لوگ یہ دیتے ہیں کہ پھر پاکستان کے صوبوں میں بھی وہی ہونا چاہیے۔ پاکستان میں کئی بار ایسا ہوا کہ مرکز میں ایک پارٹی کی حکومت قائم ہے، مگر صوبے میں دوسری پارٹی حکومت بنا لیتی ہے۔ ضمنی انتخابات میں بھی اکثرایسا ہوتا رہا ہے کہ عوام نے مرکزی حکومت کے خلاف ووٹ دئیے۔ حال ہی میں پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔ لیکن ان معاملات سے تھوڑا آگے جا کر یہ سنجیدہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ اسلام آباد میں برسر اقتدار حکومت اس کے وزرا اور سرکاری اہل کار حکمران پارٹی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں، جس سے ان لوگوں کا پلڑا بھاری ہو جاتا ہے۔

    دوسری جانب لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کا راگ اس قدر شد ومد سے الاپ رہی ہیں جیسے کہ دھاندلی کا سارا منصوبہ ان کی نگرانی میں مرتب ہوا ہو۔ الیکشن میں کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹنے والی ان دونوں جماعتوں نے آزادکشمیر پر پانچ پانچ برس حکومت کی ۔ گزشتہ عام الیکشن میں پی پی پی اسمبلی کی محض تین نشستیں حاصل کرسکی تھی۔ اب کی بار نون لیگ کی الیکشن میں کامیابی کے امکانات مخدوش ہوچکے ہیں۔ اس کے بڑے بڑے برج الٹنے کا خطرہ حقیقت بنتا نظر آرہاہے۔ آزادکشمیر کے لوگ زیادہ دیر تک ایک جماعت سے وابستہ نہیں رہتے۔ اکثریت ان کی تعلیم یافتہ اور عملیت پسند ہے۔ وہ آزمائے ہوں کو باربار آزمانے کی تھیوری پر یقین نہیں رکھتے۔ ووٹروں اور رائے عامہ کو پی ٹی آئی کے حق میں ہموار کرنے میں اورسیز کشمیریوں کا بھی بڑا اہم کردار ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کے لیے 370 ارب روپے کا معاشی پیکیج دیا ہے۔ کشمیریوں کو توقع ہے کہ جیت کے بعد اسی طرح وہ آزادکشمیر کے لیے بھی بڑے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کریں گے۔ تحریک انصاف کو دوسری جماعتوں پر یہ بھی برتری حاصل ہے کہ وہ پہلے حکومت میں نہیں رہی۔ اس کے برعکس نون لیگ، پی پی پی اور مسلم کانفرنس طویل عرصے تک اقتدار سے لطف اندوز ہوتی رہی ہیں۔

    پی ٹی آئی میں ایسے سیاستدانوں کی ایک معقول تعداد شامل ہوچکی ہے جو اپنے اپنے علاقوں میں موثر ووٹ بینک رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ جماعت اسلامی کے سابق امیر عبدالرشید ترابی نے بھی پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس لیے ابھی تک دیکھا جائے تو پی ٹی آئی اچھی پوزیشن میں ہے صاف جیتی ہوئی دیکھائی دے رہی ہے ۔ مگرمیری sixth sense کہتی ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اور ن لیگ اپنے ووٹر کو باہر نکالنے اور بقول مریم اور بلاول ان کے لوگ ووٹ پر پہرہ دینے میں کامیاب ہوگئے تو یہ سرپرائز ضروردے سکتے ہیں حکومت چاہے ان کی بنے یا نہ بنے۔

    @naveedsheikh123

  • دینِ اسلام اور جہاد   تحریر: محمد بلال

    دینِ اسلام اور جہاد تحریر: محمد بلال

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ہم نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا،اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی، اور تمہارے لئے اسلام کو بطورِ دین پسند کیا۔(سورۃ المائدہ آیت# 3)

    اللّه پاک کا کروڑوں احسان ہے
    جس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا
    ہمیں ایمان اور اسلام کی دولت سے مالا مال فرمایا
    اپنے محبوب خاتم النّبیین حضرت محمد رسول اللہ ﷺکا امتی بنایا
    حق سچ کا راستہ بتایا
    اسلام کے زریعے ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کیا
    وه دینِ اسلام جس نے زندگی گزارنے کے اصول قوانین،اور ضابطے بیان کرکے انسان کو دوسرے طور طریقوں سے بے نیاز کردیا۔
    قرآنِ پاک نازل کرکے اعلان فرمایا کہ قرآن میں اصولِ دین کو کھول کر بیان کیاگیا ہے
    اور نبی اکرمﷺ کو مبعوث فرماکے اعلان کیا کہ تمہارے لئے اللہ کے رسولﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
    ان سب کے ہوتے ہوۓ مسلمانوں کے نزدیک کسی دوسرے مذہب، اور کسی بھی دنیاوی قانون کی کوئی حثیت نہیں

    مسلمان صرف ایک اللّه کو مانتے ہیں اسی سے ڈرتے ہیں اور سواۓ اللّه کے اور کسی کے آگے نہیں جھکتے

    وه دنیاوی طاقتوں کو خاطر میں نہیں لاتے
    ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے خود ساختہ ڈرامہ کے بعد ایک طرف لاکھوں بیگناہ مسلمانوں کو شہید کیا گیا
    تو دوسری طرف
    عالمی میڈیا کے زریعے جہاد کے بارے میں دنیا کی ذہن سازی کی گئی جہاد کو دہشت گردی اور جہاد کرنے والو کو دہشت گرد کہا گیا

    ڈالر اور طاقت کے بل پر مسلم حکمرانوں کی غیرت کو خریدا گیا

    افغانستان اور اسکے بعد پاکستان پر قبضے پر اپنی حکمرانی کے خواب دیکھے گئے

    لیکن ایک اللّه کے ماننے والو نے اللّه کی مانی

    دنیاوی طاقت کے آگے جھکنے سے انکار کیا
    اور اللّه کے فرمان

    وَ قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۴۴﴾

    اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے ،

    Surat No 2 : سورة البقرة – Ayat No 244

    پر عمل کرتے ہوۓ اللّه کی راہ میں جہاد کیا

    بدلے میں اللّه پاک نے 36 ملکوں کی فوج کے مقابلے میں مسلمانوں کو فتح یاب کیا

    افغانستان سپرپاور کا قبرستان بن گیا

    دنیا نے دیکھا کے امریکہ کھربوں ڈالر جھونک کر اور اپنے ہزاروں فوجی مروا کر
    ان ہی طالبان جن کو دہشت گرد کہتا تھا ان سے واپسی کی بھیک مانگتا رہا

    تاریخ گواہ ہے جب بھی مسلمانوں نے قرآن کے احکامات کو پس پشت ڈال کر دنیاوی طاقتوں کی کے آگے سر جھکایا ذلیل و رسوا ہی ہوۓ

    اور جب جب اللّه پاک اور پیارے آقا ﷺ کے بتاۓ ہوۓ پر رستے پر چلا دنیا ان کے قدموں میں آگری جس کی تازہ مثال افغانستان ہے

    جہاں تین سپر پاورز کا غرور خاک میں مل چکا ہے

    مصنف آزاد کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ ہیں
    @Bilal_1947

  • مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے تحریر: طاہرہ

    مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے تحریر: طاہرہ

    ایک لڑکی جب اپنے والدین کے گھر سے وداع ہوتی ہے تو اسکے دل میں مستقبل کے لئے ہزاروں خواب امیدیں خواہشیں ہوتی ہے. ہم لڑکیوں کو بچپن سے ہی زہن نشین کرا دیا جاتا ہے کہ تمہارا اصلی گھر شوہر کا گھر ہوگا. اسی ایک سپنے کو ایک لڑکی سینچتے بڑی ہوتی ہے والدین کے گھر کتنے بھی ناز و نعم سے پلی چھوٹی سی پری جب بابل کے گھر سے وداع لیتی ہے تو اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اب اسی گھر کو اپنا ماننا ہے اسی گلستان کو سینچنا ہے اسکی اینٹوں کو جوڑے رکھنا ہے اور جب وہ گلستان وہ آشیان وہ سائبان کسی وحشی درندے کی بھی اماہ جگاہ ہو تو وہی حسین خواب ایک بھیانک حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے.
    اپنی تکلیفوں پر روتی بلبلاتی جب والدین کے سامنے کچھ کہنے کی کوشش کرے تو اسے ہی سمجھایا جاتا ہے کہ گھر ایسے نہیں بنتے اسکے لئے قربانی دینی پڑتی ہے اپنے خوابوں کی.
    اسکی تکلیف کوئی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا جان چھڑکنے والے ماں باپ اسکے دکھوں کو ان دیکھا کردیتے ہیں شادی کے بعد صرف کہنے کو ہی نہیں واقعی لڑکیوں کو پرایا دھن سمجھا جانے لگتا ہے.وہ دل ہی دل کڑہتی سسکتی اپنے ماں باپ کے مان انکی عزت کیلئے جسم اور روح پر پڑتے نیل کو سہتی رہتی ہے.سب یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی انسان ہے اس کو بھی تکلیف ہوتی ہے بیٹیاں بوجھ تو نہیں ہوتی بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں جو اللہ خوش ہوکر گھروں میں برساتا ہے بیٹیوں کی تربیت پر تو جنت کی وعید ہے مگر یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا کسی مزہب میں نہیں لکھا کہ بیٹیوں کو مرنے کیلئے چھوڑ دو.
    شادی کے بعد بھی وہ آپ کی ہی بیٹی ہوتی ہے کوئی اپنے جسم کا ٹکڑا کاٹ کر کیسے علیحدہ کرسکتا ہے
    اسلام نے لڑکیوں کو وہ سارے حقوق دئیے جو اسکا حق تھا پھر معاشرہ کیوں ان کو خوش رہنے کا حق نہیں دیتا کیوں ان کے لئے زندگی نام نہاد غیرتوں سے باندھ دی جاتی ہے اگر وہ کہتی ہیں کہ وہ تکلیف میں ہے تو اسکی تکلیف سمجھیں.
    بیٹیاں آپ کے آنگن کی بلبل ہیں اگر وہ خاموش ہوجائیں تو اسکی روح کی چیخیں سننے کی کوشش کریں
    اپنی بیٹیوں کو عینی نا بننے دیں

    @Chiishmish

  • اسلام میں بھیک مانگنے کی مزمت  تحریر: صلاح الدین

    اسلام میں بھیک مانگنے کی مزمت تحریر: صلاح الدین

    بھیک مانگنے کی جس قدر مزمت اسلام میں کی گئی ہے شاید ہی کسی اور مذہب میں اس کی اس قدر برائی کی گئی ہو۔ جہاں تک ممکن ہو سائل کو سوال کرنے سے روکا جاۓ اور مانگنے کی برائی اور محنت و مشقت کی خوبی اس پر واضح کی جاۓ۔

    اس زمانے کے گداگروں کی ڈھٹائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کسی ممانعت کا ان پر اثر نہیں ہوتا۔ موجودہ حالات میں ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ غیر مستحق سائلوں کی داد رسی ہر گز نہ کی جاۓ اور جہاں تک ہو سکے مستحقین کی مدد کی جاۓ جو باوجود مستحق ہونے کے کسی سے سوال نہیں کرتے یا جو سخت مجبوری اور ناداری کی حالت میں مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ غیر مستحق مانگنے کے ساتھ کوئی سلوک اور کوئی بھلائی اس سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی کہ ان کو اس پیشے سے باز رکھا جاۓ۔

    ملک و قوم کے حق میں اس بڑا احسان اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ بھیک مانگنے کا پیشہ جو کہ ایک بیماری کی طرح افراد و قوم میں سرایت کرتا جا رہا ہے اور روز بروز بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کی روک تھام کی جاۓ-

    علامہ مقری تاریخ اندلس میں لکھتے ہیں کہ اندلس میں جس سائل کو تندرست اور کام کے لائق دیکھتے ہیں اس کو شرم دلاتے ہیں اور سخت سست کہتے ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں اپاہج اور معذور آدمی کے سوا کوئی سائل نظر نہیں آتا۔ افسوس کے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں جس قدر مسلمان بھیک مانگتے نظر آتے ہیں اس قدر کسی قوم میں نظر نہیں آتے۔

    بحیثیت پالستانی شہری ہمارا فرض ہیکہ ایسے لوگوں کی سخت مزمت کی جاۓ جو غیر مستحق ہیں اور پھر بھی بھیک مانگتے ہیں ایسے لوگوں کی ہر گز مدد نہ کی جاۓ بلکہ ان کو برا بھلا کہا جاۓ تاکہ یہ لوگ اس پیشے کو چھوڑ کر محنت مزدوری کرکے اپنے لیے روزی کما سکیں۔

    مستحقین کی مدد کی جاۓ تاکہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ہوں ان کی مدد ان کی گھر کی دہلیز پر جا کے کی جاۓ کیونکہ ایسے لوگ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو برا سمجھتے ہیں

    Twitter ID: @Salahuddin_T2

  • نور مقدم قتل کیس . تحریر: ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم قتل کیس . تحریر: ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم کون تھی؟
    نور مقدم کا قاتل کون؟
    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج کیا ہے؟

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو 20 جولائی کی شام اسلام آباد میں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
    نور مقدم 27 سالہ نوجوان زندگی سے بھرپور لڑکی تھی۔ نور مقدم کے والد کا نام شوکت مقدم ہے جو کہ پاکستان کے ساؤتھ کوریا میں سابق سفیر رہ چکے ہیں ۔ نور کے والد اوروالدہ بھی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے۔

    نورمقدم کو بے دردی سے قتل کرنے والے شخص کا نام ظہیرجعفر ہے ۔ ظہیر جعفرایک بہت بڑی کمپنی کا سی ای او ہے۔ اس کے علاوہ ظہیرجعفرایک نفسیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر بھی ہے جو کہ اسلام آباد میں اپنا بہت بڑا کلینک بھی چلا رہا ہے۔ ظہیر جعفر کے ایک مریض نے بات چیت کے دوران بتایا کے علاج کے نام پر اسے بہت جسمانی طورپرتکلیف دی گئی اور اسے بلاخر وہاں سے بھاگنا پڑا۔

    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نورمقدم کی موت کی وجہ دماغ کو آکسیجن سپلائی کی بندش ہے رپورٹ میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ مقتولہ کا سردھڑسے الگ کیا گیا ۔ مقتولہ نورمقدم کی داہنی کنپٹی اورسینے پرخنجرکھونپا گیا۔ مقتولہ کے جسم پرتشدد اورتیزدھارآلے سے زخموں کے متعد نشانات پائے گئے ہیں.

    اسلام آبد پولیس کا انکشاف ہے کہ اس قتل میں ظہیرجعفرکے ساتھ کوئی اور قاتل بھی موجود ہے۔ ظہیرجعفرکا تین روزہ ریمانڈ چل رہا ہے جس میں وہ خود کو نفسیاتی مریض ظاہرکرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ظہیرجعفر اورنورمقدم لیو ریلیشن شپ میں تھے۔ مزید تحقیقات جاری ہے اسلام آباد پولیس دن رات اس کیس میں اپنی ذمی داری سرانجام دے رہی ہے۔ نورمقدم کی تدفین اسلام آبد کے قبرستان میں کردی گئی ہے۔ نورکے والد اور والدہ نہایت صدمے کی حالت میں ہے۔

    نورمقدم کو انصاف ملے گا یا نہیں؟ کب تک عورت ظلم کا نشان بنتی رہے گی؟ یہ کیس بھی پہلے کی طرح کسی امیرزادے کے حق میں چلا جائے گا؟ کب تک اسی طرح ہمارے معاشرے میں نور قتل ہوتی رہے گی؟ کہاں ہے وہ مجرم جن کو پکڑکرسخت سزا دینے کا دعوی کیا گیا تھا؟
    ان سب سوالوں کے جواب تو فی الوقت ہم میں سے کسی کے پاس نہیں مگر جرم کے خلاف آوازاٹھانا ہمارا فرضِ عین ہیں۔ اس لیے اپنا فرض نبھائے اورنورکے حق میں اپنی آوازاٹھائے۔

    @Aladdin_Hu_Me

  • حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طائف کے سفر کا قصہ . تحریر : محمد زمان

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طائف کے سفر کا قصہ . تحریر : محمد زمان

    نبوت مل جانے کے بعد نو برس تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں تبلیغ فرماتے رہے اور قوم کی ہدایت اور اصلاح کی کوشش فرماتے رہے لیکن تھوڑی سی جماعت کے سواجو مسلمان ہو گئی تھی اور تھوڑے سے ایسے لوگوں کے علاوہ جو باوجود مسلمان نہ ہونے کے آپ کی مدد کرتے تھے اکثر کفار مکہ آپ کو اور آپ کے صحابہ کو ہر طرح کی تکلیف پہنچا دیتے مذاق اڑاتے تھے اور جو ہوسکتا تھا اس سے درگزر نہ کرتے تھے حضور کے چچا ابو طالب بھی انہیں نیک دل لوگوں میں سے تھے جو باوجود مسلمان نہ ہونے کے حضور کی ہر قسم کی مدد فرماتے تھے دسویں سال میں جب ابو طالب کا بھی انتقال ہو گیا تو کافروں کو اور بھی ہر طرح کے کھلے بہار اسلام سے روکنے اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کا موقع ملا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس خیال سے تشریف لائے تھے.

    طائف وہاں قبلہ ثقیف کی بڑی جماعت ہے اگر وہ قبلہ مسلمان ہوجائے تو مسلمانوں کو ان تکلیفوں سے نجات ملے اور دین کے پھیلنے کی بنیاد پڑ جائے کیونکہ وہاں پہنچ کر قبلہ کے تین سرداروں سے جو بڑے درجے کے سمجھے جاتے تھے گفتگو فرمائی اور اللہ کے دین کی طرف بلایا اور اللہ کے رسول کی یعنی اپنی مدد کی طرف متوجہ کیا مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ دین کے بعد کو قبول کرتے ہیں یا کم ازکم عرب کے مشہور مہمان نوازی کے لحاظ سے ایک نو وارد مہمان کی خاطر مدارت کرتے صاف جواب دے دیا اور نہایت بے رخی اور بد اخلاقی سے پیش آئیں ان لوگوں نے بھی یہ گوارا نہ کیا کہ آپ یہاں قیام فرمالیں.

    جن لوگوں کو سردار سمجھ کر بات کی تھی وہ شریف ہوں گے اور مزہ ہے گفتگو کریں گے ان میں سے ایک شخص بولا کہ آپ ہی اللہ کے نبی بنا کر بھیجا ہے دوسرا بولا کہ اے اللہ کے تمہارے سوا کوئی اور ملتا ہی نہیں تھا جس کو رسول بنا کر بھیجتے تیسرے نے کہا کہ میں تجھ سے بات کرنا نہیں چاہتا اس لیے کہ اگر تم واقعی نبی ہے ہے جیسا کہ دعویٰ ہے تو تیری بات سے انکار کردینا مصیبت سے خالی نہیں اور اگر جھوٹ ہے تو میں ایسے شخص سے بات کرنا نہیں چاہتا اس کے بعد ان لوگوں سے ناامید ہو کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے بات کرنے کا ارادہ فرمایا کہ آپ تو ہمت اور استقلال کے پہاڑ تھے اگر کسی نے قبول نہ کیا بلکہ بجائے قبول کرنے کے حضور سے کہا کہ ہمارے شہر سے فورا نکل جاؤ اور جہاں تمہاری چاہت کی جگہ ہوں وہاں چلے جاؤ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان سے بالکل مایوس ہوکر واپس ہونے لگے تو ان لوگوں نے شہر کے لڑکوں کو پیچھے لگا دیا کہ آپ کا مذاق اڑائیں تالیاں پیٹتے پتھر مارے آتا کے آپ کے دونوں جوتے خون سے جاری ہونے سے رنگین ہو گیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں واپس ہوئے جب راستہ میں ایک جگہ ان شریروں سے ۔ اطمینان ہوا تو حضور نے یہ دعا مانگی
    اے اللہ مجھے سے شکایت کرتا ہوں اپنی کمزوری اور بے بسی کی اور لوگوں میں ذلت اور رسوائی کی اے الرحم الراحمین
    تو ہی صفات کا رب ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے تو مجھے اس کے حوالے کرتا ہے کسی اجنبی بیگانے کے جو مجھے دیکھ کر ترش رد ہوتا ہے اور منہ چڑھتا ہے یا کسی دشمن کے جس کو تو نے مجھ پر قابودے دیا اے اللہ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی اور کی پرواہ نہیں ہے.

    تیری حفاظت مجھے کافی ہے میں تیرے چہرے کے اس نور کے طفیل جس سے تمام اندھیریاں روشن ہوگی اور جس سے دنیا اور آخرت کے سارے کام درست ہوجاتے ہیں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ پر تیرا غصہ ہو یا مجھ سے ناراض ہو تیری ناراضگی کا اس وقت تک دور کرنا ضروری ہے جب تک تو راضی نہ ہو نہ تیرے سوا کوئی طاقت ہے نہ قوت ہے.

    @Z_Bhatti1

  • نماز‏ سکون کا راستہ . تحریر : عزیز الحق

    نماز‏ سکون کا راستہ . تحریر : عزیز الحق

    زندگی میں اگر سکون چاہتے ہیں تو نماز کی پابندی کریں نماز صرف زندگی کا سکون ہی نہں آپکو ہر طرح کے برے کاموں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے جو بھی انسان صحیح طرح دل سے اللہ کے لاگو کیے گئے اس احکام کی پیروی کرے تو نہ صرف اس کی وقتی زندگی آسان ہوجاتی ہے بلکہ اس کے مستقبل میں کامیابی کے راستے آسان ہوجاتے ہیں.نماز کی پابندی کرنے والے کے لیے نماز اس کی تمام برائیوں کو جڑ سے ختم کرنے کا سبب بن جاتی ہے اور انسان کی اخلاقی طور پے اصلاح کا باعث بنتی ہے معاشرے میں آپکا مقام بنانے میں کردار ادا کرتی ہے آپکی آخرت سنوارنے کا سبب بنتی ہے نماز کے خواہ جیتنے فوائد گنوائے جائیں کم ہیں.
    نماز روزانہ کی عبادت ہے ، جو دن میں پانچ وقت کی پڑھی جاتی ہے.صبح ، دوپہر ، سہ پہر ، شام اور رات کے وقت۔ ایک مسلمان کسی بھی جگہ باجماعت یہ اکیلے بھی نماز ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اجتمائی نماز/جماعت کے ساتھ کے فوائد اور اہمیت عليدہ ہی ہیں. نماز اللہ پاک سے ملاقات کا ایک بہترین ذریعہ ہے آپکو ڈائریکٹ اس خالق سے ملوا دیتی ہے جو اس کائنات کا مالک ہے بیماری ہو یا علاج معالجے کی تلاش پریشانی ہو یا بے چینی انسان ہر مسئلے کو نماز ادا کر کے سجدے میں سر جھکا کے اپنے رب سے دعا مانگ کر حل کر سکتا ہے، خاص کر نفسیاتی بیماریوں میں بھی شفا بخش ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ہمارے پیارے نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق بہت سی بیماریاں نفسیاتی حالات جیسے پریشانی ، غم ، خوف ، تنہائی ، وغیرہ کی نماز اور مذہب سے دوری کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔ لہذا ، نماز روح کا سکون ہے اور آپکی زندگی کے سکون کو بحال کرتی ہے۔
    نماز رسمی معنوں میں ایمان کا ایک فریضہ ہے ، جو بالغ مسلمان روزانہ پانچ وقت ادا کریں۔
    اپنی زندگی میں نماز کی پابندی کو اپنا کر اپنا حال اور مستقبل کامیاب بنائیں.

    @azizbuneri58

  • انگیج افریقہ پالیسی . تحریر : دانیال خلیل

    انگیج افریقہ پالیسی . تحریر : دانیال خلیل

    پاکستان کی براعظم افریقہ کی جانب معاشی سفارت کاری

    پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے ایک اہم کلیدی حصے کے طور پر براعظم افریقہ کے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کرنے کے لئے "انگیج افریقہ ” پالیسی کا تصور کیا ہے ” وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

    قیام پاکستان سے ہی پاکستان نوآبادیاتی نظام اور امپیریلزم کے خلاف افریقی ممالک جیساکہ مراکش, زیمبیا, اریٹیریا کی جدوجہد کی موثر آواز رہا. براعظم افریقہ کے ساتھ معاشی اور سیاسی تعلقات ایک اہم سنگ میل ہے. نومبر 2019 سے جنوری 2020 تک پاکستان بحریہ کی جہازوں پی این ایس اصلت اور مومن نے 8 افریقی ممالک مراکش, کینیا, تنزانیہ, گھانا, نائجیریا, جنوبی افریقہ اور سچلیز کی بندرگاہوں کا کامیاب دورہ کیا. اور اسی عرصہ میں سوڈان اور جبوتی کا بھی کامیاب دورہ کیا گیا. ان دوروں میں پاکستانی عوام کی جانب سے افریقی ممالک کی عوام کے لیے خوراک, فری میڈیکل کیمپوں کے ذریعے علاج کی سہولت اور تکنیکی امداد فراہم کی گئ.
    پاکستان افریقی ممالک کی ترقی کے لئے پرعزم ہے.30 جنوری 2020 کو پاکستان کی جانب سے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں دو روزہ پاکستان – افریقہ ٹریڈ کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا گیا جس میں 100 پاکستانی کمپنیوں سمیت 20 افریقی ممالک سینیگال, مصر, مراکش کے 200 وفود نے شرکت کی. حکومت کی کوشش سے پاک-افریقہ تجارتی حجم 2019 میں باوجود کورونا وباء کے 4.6 ارب ڈالر کو چھو گیا جو 2013-2016 کے درمیان 3 ارب ڈالر رہا تھا.افریقی ممالک جیسا کہ نائجیریا کے نوجوانوں کو پاکستان کی اعلی علمی درسگاہوں تک رسائی پاکستان کی تعلیم کے فروغ کے لئے عالمی کوششوں کو تقویت ملتی ہے. اس کے علاوہ پاکستان مصر, سوڈان اور نائجیریا کے ساتھ اپنے تعلقات کو فوجی میدان تک وسعت دے رہا ہے. لیبیا میں دیر پا قیام امن کی خاطر پاکستان کی کوششیں موثر اور یقینی ہے. ایگنج افریقہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے. برسوں سے براعظم افریقہ کے ممالک داخلی اور خارجی انتشار کا شکار ہیں پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے امن مشن کی صورت میں امن کے قیام کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں.

    بغیرمعاشی اورسیاسی تعاون کے فروغ کے تعلقات قائم تو رہ سکتے ہیں لیکن موثر اور تعمیری نہیں ہو سکتے.

    @DanialFarooqi27

  • پری کوویڈ حج مہینوں کی طویل تیاری تحریر:  ثروت نجمی

    پری کوویڈ حج مہینوں کی طویل تیاری تحریر: ثروت نجمی

    پری کوویڈ حج مہینوں کی طویل تیاری ، جشن اور مذہبی جوش و خروش کا وقت ہوتا تھا۔ شرکاء کی اکثریت بچت کرتے تھے اور دعائیں کر کے پوری زندگی اس کے ادا کرنے کے قابل ہونے کا انتظار کیا کرتے تھے ۔ عروج پر ،20 لاکھ سے زیادہ زائرین مکہ پہنچتے اور حج ادا کرتے تھے ۔ اہل خانہ حج کی خوشی میں مذہبی تقاریب کے ساتھ عازمین کی روانگی اور آمد کا جشن منایا کرتے تھے ۔ حجاج کو معاشرے کی طرف سے انھیں وقار اور قدردانی عطا کرنے والے "حاجی” کا اعزاز حاصل ہوتا تھا

    2020 ایک انوکھا سال تھا کیونکہ کوویڈ وبائی مرض کی وجہ سے پوری دنیا لاک ڈاؤن میں تھی۔ حج کو بجا طور پر کم سے کم کردیا گیا۔ اس کا معاوضہ ادا کیا گیا کیوں کہ حج کو ایک سپر اسپریڈر کی درجہ بندی نہیں کی گئی تھی لہذا مسلمانوں کو اسلامو فوبیک ردعمل سے بچایا جاسکتا ہے۔

    تاہم ، جولائی 2021 ایک الگ کہانی ہے۔ ابھی ابھی ہمارے پاس یورپی کپ فٹ بال ٹورنامنٹ ہوا جس میں لاکھوں شائقین متعدد شہروں میں مختلف اسٹیڈیموں ، پارٹیوں میں گئے اور بغیر کسی پریشانی کے خوشی خوشی لطف اٹھایا۔ عالمی سطح پر ، بہت سے ممالک نے تمام پابندیوں کو ختم کردیا ہے اور لوگ بڑی تعداد میں بغیر کسی احتیاط کے آزادانہ طور پر جمع ہو رہے ہیں۔

    پھر کسی نادان وجہ سے ، حج 2021 ایک انتہائی محدود واقعہ ثابت ہوا۔ صرف 60،000 عازمین حج کی اجازت ہے اور وہ بھی صرف ملک کے اندر سے۔ اس نے مسلمانوں کے لئے ایک خوشگوار وقت کی بجائے محرومی اور غم کا احساس پیدا کیا ہے۔ مسلمان بقیہ دنیا کو بغیر کسی پابندی کے کھلے دل اور آزادانہ طور پر اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ابھی تک ، کسی بھی مسلمان کی سب سے اہم زیارت کی اجازت نہیں ہے۔ وہ سب حیران ہیں کہ سعودی عرب کے حکمرانوں نے یہ کارروائی کیوں کی؟

    یہ بہت افسوسناک ہے۔ کاش ہمارے پاکستانی اسکالرز اور لوگ اس شہزادے کے خلاف احتجاج کریں۔

    کینیڈا میں ہمارے نام نہاد مسلمان رہنما کہاں ہیں جو ہر وقت اسلامو فوبیا کا رخ کرتے ہیں؟ اب ، کیا کسی کافر نے ان کی زبان بند کردی ہے؟ وہ کیوں اس شہزادے کے خلاف ایک لفظ نہیں کہتے ہیں؟
    ہمارے کینیڈا کے امام اور پارلیمنٹ کے مسلمان ممبران ، کہاں بیٹھے ہیں اور تمام مفت فائدے اٹھا رہے ہیں ، انہیں کینیڈا کے بارے میں برا کہنے میں شرم نہیں آتی ہے۔ یہ بے شرم مسلمان امام اور مسلم قائدین جس پلیٹ میں کھاتے ہیں اسے چھید دیتے ہیں۔

    لیکن ان میں ہمت نہیں ہے کہ وہ عرب شہزادوں کے خلاف بات کریں۔ عربوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات جعلی بنائے اور حج اور کعبہ کی بے حرمتی کی ، اور ان اماموں اور مسلم رہنماؤں نے دم گھٹ لیا اور خاموش رہے۔

    ہم سب منافق اور بے ایمان ہیں ، اسی لئے ہم سو جوتیاں اور سو پیاز کھاتے ہیں۔ وہ اپنے اور دوسروں کو مار دیتے ہیں۔

    اب ہمارے پاکستانی مسلمان ان عرب شہزادوں کے خلاف احتجاج کرنے ، کعبہ کی بے حرمتی پر بھی خاموش رہنے والے اماموں اور کینیڈا کے مسلم قائدین پر احتجاج کرنے کے لئے کینیڈا میں سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتے ہیں۔

    خدا ان کافروں سے پہلے ان نام نہاد بے شرم اور بے ایمان مسلمان اماموں ، اسکالروں اور مسلم قائدین کو ہدایت دے – آمین ثمہ آمین

  • عورتوں پر تشدد اور یہ معاشرہ  تحریر:محمد کامران

    عورتوں پر تشدد اور یہ معاشرہ تحریر:محمد کامران

    عورتوں پر تشدد زمانہ قدیم سے لیکر
    اب تک چلا آ رہا ہے کسی پر زبردستی اپنی جارحیت اور ظلم کا نشانہ بنانہ تشدد کہلاتا ہے عورتوں پر تشدد کو غیر فطری نہیں سمجھا جاتا کیونکہ مرد کا
    عورت پر جبر ایک تاریخی پس منظر ہے لوگ اس کو روایات کا نام بھی دیتے ہیں، عورت کو نچلی زات سمجھا جاتا ہے. عورتوں کو انکے جائز حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے. جسمانی تشدد کہ ساتھ ساتھ انکو زہنی دباؤ اور زیادتی کا شکار بھی کیا جاتا ہے. یوں ہر شعبے میں مردوں کو عورت پر فوقیت دی جاتی ہے مرد اپنی طاقت کا اظہار تشدد کی صورت میں کرتے ھیں مختلف ادوار میں
    حکومت نے عورتوں کہ حقوق کی پاسداری اور ظلم و جبر روکنے کہ لیے متعدد بار قانون سازی کی مگر عملی طور پر عورتوں پر تشدد اور غیرت کے نام پر قتل عام ہے اور کوئی بھی قانون اس ظلم کو روکنے میں ابھی تک قاصر ہے. بہت سے واقعات میں عورتوں کو گھروں سے نکال کر انکے معصوم بچوں سے دور رکھا جاتا ہے. اگرچہ گورنمنٹ اور سول سوسائٹی نے عورتوں کی بالادستی اور مثاوی حقوق کہ لیے بہت آواز بلند کی ہے مگر ہمارے معاشرے میں عورتوں کا بنیادی تحفظ اور گھریلو تشدد کے واقعات کم ضرور ہوئے ہیں لیکن ابھی تک عورتوں کو وہ مقام نہیں مل سکا. بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی عورتوں پر تیزاب پھینکنے، جنسی ہراساں کرنے جیسے واقعات میں ملوث ہے. دین اسلام نے عورتوں کو تعلیم سے لیکر گھریلو داری تک عزت اور مثاوی حقوق دیئے ہیں. بحثیت مسلمان ہمیں عورتوں کہ حقوق اور پر تشدد واقعات کو روکنے کہ لیے اپنی آواز بلند کرنا ہوگی. اگر عورت مضبوط ہوگی تو آنے والی نسل بھی بہترین پروش پا کر ملک و قوم کے لیے تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لے گی اور بہت سی معاشرتی برائیوں سے معاشرہ پاک رہے گا.