Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے تحریر: طاہرہ

    مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے تحریر: طاہرہ

    ایک لڑکی جب اپنے والدین کے گھر سے وداع ہوتی ہے تو اسکے دل میں مستقبل کے لئے ہزاروں خواب امیدیں خواہشیں ہوتی ہے. ہم لڑکیوں کو بچپن سے ہی زہن نشین کرا دیا جاتا ہے کہ تمہارا اصلی گھر شوہر کا گھر ہوگا. اسی ایک سپنے کو ایک لڑکی سینچتے بڑی ہوتی ہے والدین کے گھر کتنے بھی ناز و نعم سے پلی چھوٹی سی پری جب بابل کے گھر سے وداع لیتی ہے تو اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اب اسی گھر کو اپنا ماننا ہے اسی گلستان کو سینچنا ہے اسکی اینٹوں کو جوڑے رکھنا ہے اور جب وہ گلستان وہ آشیان وہ سائبان کسی وحشی درندے کی بھی اماہ جگاہ ہو تو وہی حسین خواب ایک بھیانک حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے.
    اپنی تکلیفوں پر روتی بلبلاتی جب والدین کے سامنے کچھ کہنے کی کوشش کرے تو اسے ہی سمجھایا جاتا ہے کہ گھر ایسے نہیں بنتے اسکے لئے قربانی دینی پڑتی ہے اپنے خوابوں کی.
    اسکی تکلیف کوئی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا جان چھڑکنے والے ماں باپ اسکے دکھوں کو ان دیکھا کردیتے ہیں شادی کے بعد صرف کہنے کو ہی نہیں واقعی لڑکیوں کو پرایا دھن سمجھا جانے لگتا ہے.وہ دل ہی دل کڑہتی سسکتی اپنے ماں باپ کے مان انکی عزت کیلئے جسم اور روح پر پڑتے نیل کو سہتی رہتی ہے.سب یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی انسان ہے اس کو بھی تکلیف ہوتی ہے بیٹیاں بوجھ تو نہیں ہوتی بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہیں جو اللہ خوش ہوکر گھروں میں برساتا ہے بیٹیوں کی تربیت پر تو جنت کی وعید ہے مگر یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا کسی مزہب میں نہیں لکھا کہ بیٹیوں کو مرنے کیلئے چھوڑ دو.
    شادی کے بعد بھی وہ آپ کی ہی بیٹی ہوتی ہے کوئی اپنے جسم کا ٹکڑا کاٹ کر کیسے علیحدہ کرسکتا ہے
    اسلام نے لڑکیوں کو وہ سارے حقوق دئیے جو اسکا حق تھا پھر معاشرہ کیوں ان کو خوش رہنے کا حق نہیں دیتا کیوں ان کے لئے زندگی نام نہاد غیرتوں سے باندھ دی جاتی ہے اگر وہ کہتی ہیں کہ وہ تکلیف میں ہے تو اسکی تکلیف سمجھیں.
    بیٹیاں آپ کے آنگن کی بلبل ہیں اگر وہ خاموش ہوجائیں تو اسکی روح کی چیخیں سننے کی کوشش کریں
    اپنی بیٹیوں کو عینی نا بننے دیں

    @Chiishmish

  • اسلام میں بھیک مانگنے کی مزمت  تحریر: صلاح الدین

    اسلام میں بھیک مانگنے کی مزمت تحریر: صلاح الدین

    بھیک مانگنے کی جس قدر مزمت اسلام میں کی گئی ہے شاید ہی کسی اور مذہب میں اس کی اس قدر برائی کی گئی ہو۔ جہاں تک ممکن ہو سائل کو سوال کرنے سے روکا جاۓ اور مانگنے کی برائی اور محنت و مشقت کی خوبی اس پر واضح کی جاۓ۔

    اس زمانے کے گداگروں کی ڈھٹائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کسی ممانعت کا ان پر اثر نہیں ہوتا۔ موجودہ حالات میں ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ غیر مستحق سائلوں کی داد رسی ہر گز نہ کی جاۓ اور جہاں تک ہو سکے مستحقین کی مدد کی جاۓ جو باوجود مستحق ہونے کے کسی سے سوال نہیں کرتے یا جو سخت مجبوری اور ناداری کی حالت میں مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ غیر مستحق مانگنے کے ساتھ کوئی سلوک اور کوئی بھلائی اس سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی کہ ان کو اس پیشے سے باز رکھا جاۓ۔

    ملک و قوم کے حق میں اس بڑا احسان اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ بھیک مانگنے کا پیشہ جو کہ ایک بیماری کی طرح افراد و قوم میں سرایت کرتا جا رہا ہے اور روز بروز بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کی روک تھام کی جاۓ-

    علامہ مقری تاریخ اندلس میں لکھتے ہیں کہ اندلس میں جس سائل کو تندرست اور کام کے لائق دیکھتے ہیں اس کو شرم دلاتے ہیں اور سخت سست کہتے ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں اپاہج اور معذور آدمی کے سوا کوئی سائل نظر نہیں آتا۔ افسوس کے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں جس قدر مسلمان بھیک مانگتے نظر آتے ہیں اس قدر کسی قوم میں نظر نہیں آتے۔

    بحیثیت پالستانی شہری ہمارا فرض ہیکہ ایسے لوگوں کی سخت مزمت کی جاۓ جو غیر مستحق ہیں اور پھر بھی بھیک مانگتے ہیں ایسے لوگوں کی ہر گز مدد نہ کی جاۓ بلکہ ان کو برا بھلا کہا جاۓ تاکہ یہ لوگ اس پیشے کو چھوڑ کر محنت مزدوری کرکے اپنے لیے روزی کما سکیں۔

    مستحقین کی مدد کی جاۓ تاکہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ہوں ان کی مدد ان کی گھر کی دہلیز پر جا کے کی جاۓ کیونکہ ایسے لوگ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو برا سمجھتے ہیں

    Twitter ID: @Salahuddin_T2

  • نور مقدم قتل کیس . تحریر: ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم قتل کیس . تحریر: ازان حمزہ ارشد

    نور مقدم کون تھی؟
    نور مقدم کا قاتل کون؟
    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے نتائج کیا ہے؟

    پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو 20 جولائی کی شام اسلام آباد میں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔
    نور مقدم 27 سالہ نوجوان زندگی سے بھرپور لڑکی تھی۔ نور مقدم کے والد کا نام شوکت مقدم ہے جو کہ پاکستان کے ساؤتھ کوریا میں سابق سفیر رہ چکے ہیں ۔ نور کے والد اوروالدہ بھی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے۔

    نورمقدم کو بے دردی سے قتل کرنے والے شخص کا نام ظہیرجعفر ہے ۔ ظہیر جعفرایک بہت بڑی کمپنی کا سی ای او ہے۔ اس کے علاوہ ظہیرجعفرایک نفسیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر بھی ہے جو کہ اسلام آباد میں اپنا بہت بڑا کلینک بھی چلا رہا ہے۔ ظہیر جعفر کے ایک مریض نے بات چیت کے دوران بتایا کے علاج کے نام پر اسے بہت جسمانی طورپرتکلیف دی گئی اور اسے بلاخر وہاں سے بھاگنا پڑا۔

    پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نورمقدم کی موت کی وجہ دماغ کو آکسیجن سپلائی کی بندش ہے رپورٹ میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ مقتولہ کا سردھڑسے الگ کیا گیا ۔ مقتولہ نورمقدم کی داہنی کنپٹی اورسینے پرخنجرکھونپا گیا۔ مقتولہ کے جسم پرتشدد اورتیزدھارآلے سے زخموں کے متعد نشانات پائے گئے ہیں.

    اسلام آبد پولیس کا انکشاف ہے کہ اس قتل میں ظہیرجعفرکے ساتھ کوئی اور قاتل بھی موجود ہے۔ ظہیرجعفرکا تین روزہ ریمانڈ چل رہا ہے جس میں وہ خود کو نفسیاتی مریض ظاہرکرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ظہیرجعفر اورنورمقدم لیو ریلیشن شپ میں تھے۔ مزید تحقیقات جاری ہے اسلام آباد پولیس دن رات اس کیس میں اپنی ذمی داری سرانجام دے رہی ہے۔ نورمقدم کی تدفین اسلام آبد کے قبرستان میں کردی گئی ہے۔ نورکے والد اور والدہ نہایت صدمے کی حالت میں ہے۔

    نورمقدم کو انصاف ملے گا یا نہیں؟ کب تک عورت ظلم کا نشان بنتی رہے گی؟ یہ کیس بھی پہلے کی طرح کسی امیرزادے کے حق میں چلا جائے گا؟ کب تک اسی طرح ہمارے معاشرے میں نور قتل ہوتی رہے گی؟ کہاں ہے وہ مجرم جن کو پکڑکرسخت سزا دینے کا دعوی کیا گیا تھا؟
    ان سب سوالوں کے جواب تو فی الوقت ہم میں سے کسی کے پاس نہیں مگر جرم کے خلاف آوازاٹھانا ہمارا فرضِ عین ہیں۔ اس لیے اپنا فرض نبھائے اورنورکے حق میں اپنی آوازاٹھائے۔

    @Aladdin_Hu_Me

  • حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طائف کے سفر کا قصہ . تحریر : محمد زمان

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طائف کے سفر کا قصہ . تحریر : محمد زمان

    نبوت مل جانے کے بعد نو برس تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں تبلیغ فرماتے رہے اور قوم کی ہدایت اور اصلاح کی کوشش فرماتے رہے لیکن تھوڑی سی جماعت کے سواجو مسلمان ہو گئی تھی اور تھوڑے سے ایسے لوگوں کے علاوہ جو باوجود مسلمان نہ ہونے کے آپ کی مدد کرتے تھے اکثر کفار مکہ آپ کو اور آپ کے صحابہ کو ہر طرح کی تکلیف پہنچا دیتے مذاق اڑاتے تھے اور جو ہوسکتا تھا اس سے درگزر نہ کرتے تھے حضور کے چچا ابو طالب بھی انہیں نیک دل لوگوں میں سے تھے جو باوجود مسلمان نہ ہونے کے حضور کی ہر قسم کی مدد فرماتے تھے دسویں سال میں جب ابو طالب کا بھی انتقال ہو گیا تو کافروں کو اور بھی ہر طرح کے کھلے بہار اسلام سے روکنے اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کا موقع ملا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس خیال سے تشریف لائے تھے.

    طائف وہاں قبلہ ثقیف کی بڑی جماعت ہے اگر وہ قبلہ مسلمان ہوجائے تو مسلمانوں کو ان تکلیفوں سے نجات ملے اور دین کے پھیلنے کی بنیاد پڑ جائے کیونکہ وہاں پہنچ کر قبلہ کے تین سرداروں سے جو بڑے درجے کے سمجھے جاتے تھے گفتگو فرمائی اور اللہ کے دین کی طرف بلایا اور اللہ کے رسول کی یعنی اپنی مدد کی طرف متوجہ کیا مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ دین کے بعد کو قبول کرتے ہیں یا کم ازکم عرب کے مشہور مہمان نوازی کے لحاظ سے ایک نو وارد مہمان کی خاطر مدارت کرتے صاف جواب دے دیا اور نہایت بے رخی اور بد اخلاقی سے پیش آئیں ان لوگوں نے بھی یہ گوارا نہ کیا کہ آپ یہاں قیام فرمالیں.

    جن لوگوں کو سردار سمجھ کر بات کی تھی وہ شریف ہوں گے اور مزہ ہے گفتگو کریں گے ان میں سے ایک شخص بولا کہ آپ ہی اللہ کے نبی بنا کر بھیجا ہے دوسرا بولا کہ اے اللہ کے تمہارے سوا کوئی اور ملتا ہی نہیں تھا جس کو رسول بنا کر بھیجتے تیسرے نے کہا کہ میں تجھ سے بات کرنا نہیں چاہتا اس لیے کہ اگر تم واقعی نبی ہے ہے جیسا کہ دعویٰ ہے تو تیری بات سے انکار کردینا مصیبت سے خالی نہیں اور اگر جھوٹ ہے تو میں ایسے شخص سے بات کرنا نہیں چاہتا اس کے بعد ان لوگوں سے ناامید ہو کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے بات کرنے کا ارادہ فرمایا کہ آپ تو ہمت اور استقلال کے پہاڑ تھے اگر کسی نے قبول نہ کیا بلکہ بجائے قبول کرنے کے حضور سے کہا کہ ہمارے شہر سے فورا نکل جاؤ اور جہاں تمہاری چاہت کی جگہ ہوں وہاں چلے جاؤ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان سے بالکل مایوس ہوکر واپس ہونے لگے تو ان لوگوں نے شہر کے لڑکوں کو پیچھے لگا دیا کہ آپ کا مذاق اڑائیں تالیاں پیٹتے پتھر مارے آتا کے آپ کے دونوں جوتے خون سے جاری ہونے سے رنگین ہو گیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں واپس ہوئے جب راستہ میں ایک جگہ ان شریروں سے ۔ اطمینان ہوا تو حضور نے یہ دعا مانگی
    اے اللہ مجھے سے شکایت کرتا ہوں اپنی کمزوری اور بے بسی کی اور لوگوں میں ذلت اور رسوائی کی اے الرحم الراحمین
    تو ہی صفات کا رب ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے تو مجھے اس کے حوالے کرتا ہے کسی اجنبی بیگانے کے جو مجھے دیکھ کر ترش رد ہوتا ہے اور منہ چڑھتا ہے یا کسی دشمن کے جس کو تو نے مجھ پر قابودے دیا اے اللہ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی اور کی پرواہ نہیں ہے.

    تیری حفاظت مجھے کافی ہے میں تیرے چہرے کے اس نور کے طفیل جس سے تمام اندھیریاں روشن ہوگی اور جس سے دنیا اور آخرت کے سارے کام درست ہوجاتے ہیں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ پر تیرا غصہ ہو یا مجھ سے ناراض ہو تیری ناراضگی کا اس وقت تک دور کرنا ضروری ہے جب تک تو راضی نہ ہو نہ تیرے سوا کوئی طاقت ہے نہ قوت ہے.

    @Z_Bhatti1

  • نماز‏ سکون کا راستہ . تحریر : عزیز الحق

    نماز‏ سکون کا راستہ . تحریر : عزیز الحق

    زندگی میں اگر سکون چاہتے ہیں تو نماز کی پابندی کریں نماز صرف زندگی کا سکون ہی نہں آپکو ہر طرح کے برے کاموں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے جو بھی انسان صحیح طرح دل سے اللہ کے لاگو کیے گئے اس احکام کی پیروی کرے تو نہ صرف اس کی وقتی زندگی آسان ہوجاتی ہے بلکہ اس کے مستقبل میں کامیابی کے راستے آسان ہوجاتے ہیں.نماز کی پابندی کرنے والے کے لیے نماز اس کی تمام برائیوں کو جڑ سے ختم کرنے کا سبب بن جاتی ہے اور انسان کی اخلاقی طور پے اصلاح کا باعث بنتی ہے معاشرے میں آپکا مقام بنانے میں کردار ادا کرتی ہے آپکی آخرت سنوارنے کا سبب بنتی ہے نماز کے خواہ جیتنے فوائد گنوائے جائیں کم ہیں.
    نماز روزانہ کی عبادت ہے ، جو دن میں پانچ وقت کی پڑھی جاتی ہے.صبح ، دوپہر ، سہ پہر ، شام اور رات کے وقت۔ ایک مسلمان کسی بھی جگہ باجماعت یہ اکیلے بھی نماز ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اجتمائی نماز/جماعت کے ساتھ کے فوائد اور اہمیت عليدہ ہی ہیں. نماز اللہ پاک سے ملاقات کا ایک بہترین ذریعہ ہے آپکو ڈائریکٹ اس خالق سے ملوا دیتی ہے جو اس کائنات کا مالک ہے بیماری ہو یا علاج معالجے کی تلاش پریشانی ہو یا بے چینی انسان ہر مسئلے کو نماز ادا کر کے سجدے میں سر جھکا کے اپنے رب سے دعا مانگ کر حل کر سکتا ہے، خاص کر نفسیاتی بیماریوں میں بھی شفا بخش ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ہمارے پیارے نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق بہت سی بیماریاں نفسیاتی حالات جیسے پریشانی ، غم ، خوف ، تنہائی ، وغیرہ کی نماز اور مذہب سے دوری کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔ لہذا ، نماز روح کا سکون ہے اور آپکی زندگی کے سکون کو بحال کرتی ہے۔
    نماز رسمی معنوں میں ایمان کا ایک فریضہ ہے ، جو بالغ مسلمان روزانہ پانچ وقت ادا کریں۔
    اپنی زندگی میں نماز کی پابندی کو اپنا کر اپنا حال اور مستقبل کامیاب بنائیں.

    @azizbuneri58

  • انگیج افریقہ پالیسی . تحریر : دانیال خلیل

    انگیج افریقہ پالیسی . تحریر : دانیال خلیل

    پاکستان کی براعظم افریقہ کی جانب معاشی سفارت کاری

    پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کے ایک اہم کلیدی حصے کے طور پر براعظم افریقہ کے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کرنے کے لئے "انگیج افریقہ ” پالیسی کا تصور کیا ہے ” وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

    قیام پاکستان سے ہی پاکستان نوآبادیاتی نظام اور امپیریلزم کے خلاف افریقی ممالک جیساکہ مراکش, زیمبیا, اریٹیریا کی جدوجہد کی موثر آواز رہا. براعظم افریقہ کے ساتھ معاشی اور سیاسی تعلقات ایک اہم سنگ میل ہے. نومبر 2019 سے جنوری 2020 تک پاکستان بحریہ کی جہازوں پی این ایس اصلت اور مومن نے 8 افریقی ممالک مراکش, کینیا, تنزانیہ, گھانا, نائجیریا, جنوبی افریقہ اور سچلیز کی بندرگاہوں کا کامیاب دورہ کیا. اور اسی عرصہ میں سوڈان اور جبوتی کا بھی کامیاب دورہ کیا گیا. ان دوروں میں پاکستانی عوام کی جانب سے افریقی ممالک کی عوام کے لیے خوراک, فری میڈیکل کیمپوں کے ذریعے علاج کی سہولت اور تکنیکی امداد فراہم کی گئ.
    پاکستان افریقی ممالک کی ترقی کے لئے پرعزم ہے.30 جنوری 2020 کو پاکستان کی جانب سے کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں دو روزہ پاکستان – افریقہ ٹریڈ کانفرنس کا کامیاب انعقاد کیا گیا جس میں 100 پاکستانی کمپنیوں سمیت 20 افریقی ممالک سینیگال, مصر, مراکش کے 200 وفود نے شرکت کی. حکومت کی کوشش سے پاک-افریقہ تجارتی حجم 2019 میں باوجود کورونا وباء کے 4.6 ارب ڈالر کو چھو گیا جو 2013-2016 کے درمیان 3 ارب ڈالر رہا تھا.افریقی ممالک جیسا کہ نائجیریا کے نوجوانوں کو پاکستان کی اعلی علمی درسگاہوں تک رسائی پاکستان کی تعلیم کے فروغ کے لئے عالمی کوششوں کو تقویت ملتی ہے. اس کے علاوہ پاکستان مصر, سوڈان اور نائجیریا کے ساتھ اپنے تعلقات کو فوجی میدان تک وسعت دے رہا ہے. لیبیا میں دیر پا قیام امن کی خاطر پاکستان کی کوششیں موثر اور یقینی ہے. ایگنج افریقہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتی ہے. برسوں سے براعظم افریقہ کے ممالک داخلی اور خارجی انتشار کا شکار ہیں پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے امن مشن کی صورت میں امن کے قیام کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں.

    بغیرمعاشی اورسیاسی تعاون کے فروغ کے تعلقات قائم تو رہ سکتے ہیں لیکن موثر اور تعمیری نہیں ہو سکتے.

    @DanialFarooqi27

  • پری کوویڈ حج مہینوں کی طویل تیاری تحریر:  ثروت نجمی

    پری کوویڈ حج مہینوں کی طویل تیاری تحریر: ثروت نجمی

    پری کوویڈ حج مہینوں کی طویل تیاری ، جشن اور مذہبی جوش و خروش کا وقت ہوتا تھا۔ شرکاء کی اکثریت بچت کرتے تھے اور دعائیں کر کے پوری زندگی اس کے ادا کرنے کے قابل ہونے کا انتظار کیا کرتے تھے ۔ عروج پر ،20 لاکھ سے زیادہ زائرین مکہ پہنچتے اور حج ادا کرتے تھے ۔ اہل خانہ حج کی خوشی میں مذہبی تقاریب کے ساتھ عازمین کی روانگی اور آمد کا جشن منایا کرتے تھے ۔ حجاج کو معاشرے کی طرف سے انھیں وقار اور قدردانی عطا کرنے والے "حاجی” کا اعزاز حاصل ہوتا تھا

    2020 ایک انوکھا سال تھا کیونکہ کوویڈ وبائی مرض کی وجہ سے پوری دنیا لاک ڈاؤن میں تھی۔ حج کو بجا طور پر کم سے کم کردیا گیا۔ اس کا معاوضہ ادا کیا گیا کیوں کہ حج کو ایک سپر اسپریڈر کی درجہ بندی نہیں کی گئی تھی لہذا مسلمانوں کو اسلامو فوبیک ردعمل سے بچایا جاسکتا ہے۔

    تاہم ، جولائی 2021 ایک الگ کہانی ہے۔ ابھی ابھی ہمارے پاس یورپی کپ فٹ بال ٹورنامنٹ ہوا جس میں لاکھوں شائقین متعدد شہروں میں مختلف اسٹیڈیموں ، پارٹیوں میں گئے اور بغیر کسی پریشانی کے خوشی خوشی لطف اٹھایا۔ عالمی سطح پر ، بہت سے ممالک نے تمام پابندیوں کو ختم کردیا ہے اور لوگ بڑی تعداد میں بغیر کسی احتیاط کے آزادانہ طور پر جمع ہو رہے ہیں۔

    پھر کسی نادان وجہ سے ، حج 2021 ایک انتہائی محدود واقعہ ثابت ہوا۔ صرف 60،000 عازمین حج کی اجازت ہے اور وہ بھی صرف ملک کے اندر سے۔ اس نے مسلمانوں کے لئے ایک خوشگوار وقت کی بجائے محرومی اور غم کا احساس پیدا کیا ہے۔ مسلمان بقیہ دنیا کو بغیر کسی پابندی کے کھلے دل اور آزادانہ طور پر اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ابھی تک ، کسی بھی مسلمان کی سب سے اہم زیارت کی اجازت نہیں ہے۔ وہ سب حیران ہیں کہ سعودی عرب کے حکمرانوں نے یہ کارروائی کیوں کی؟

    یہ بہت افسوسناک ہے۔ کاش ہمارے پاکستانی اسکالرز اور لوگ اس شہزادے کے خلاف احتجاج کریں۔

    کینیڈا میں ہمارے نام نہاد مسلمان رہنما کہاں ہیں جو ہر وقت اسلامو فوبیا کا رخ کرتے ہیں؟ اب ، کیا کسی کافر نے ان کی زبان بند کردی ہے؟ وہ کیوں اس شہزادے کے خلاف ایک لفظ نہیں کہتے ہیں؟
    ہمارے کینیڈا کے امام اور پارلیمنٹ کے مسلمان ممبران ، کہاں بیٹھے ہیں اور تمام مفت فائدے اٹھا رہے ہیں ، انہیں کینیڈا کے بارے میں برا کہنے میں شرم نہیں آتی ہے۔ یہ بے شرم مسلمان امام اور مسلم قائدین جس پلیٹ میں کھاتے ہیں اسے چھید دیتے ہیں۔

    لیکن ان میں ہمت نہیں ہے کہ وہ عرب شہزادوں کے خلاف بات کریں۔ عربوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات جعلی بنائے اور حج اور کعبہ کی بے حرمتی کی ، اور ان اماموں اور مسلم رہنماؤں نے دم گھٹ لیا اور خاموش رہے۔

    ہم سب منافق اور بے ایمان ہیں ، اسی لئے ہم سو جوتیاں اور سو پیاز کھاتے ہیں۔ وہ اپنے اور دوسروں کو مار دیتے ہیں۔

    اب ہمارے پاکستانی مسلمان ان عرب شہزادوں کے خلاف احتجاج کرنے ، کعبہ کی بے حرمتی پر بھی خاموش رہنے والے اماموں اور کینیڈا کے مسلم قائدین پر احتجاج کرنے کے لئے کینیڈا میں سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتے ہیں۔

    خدا ان کافروں سے پہلے ان نام نہاد بے شرم اور بے ایمان مسلمان اماموں ، اسکالروں اور مسلم قائدین کو ہدایت دے – آمین ثمہ آمین

  • عورتوں پر تشدد اور یہ معاشرہ  تحریر:محمد کامران

    عورتوں پر تشدد اور یہ معاشرہ تحریر:محمد کامران

    عورتوں پر تشدد زمانہ قدیم سے لیکر
    اب تک چلا آ رہا ہے کسی پر زبردستی اپنی جارحیت اور ظلم کا نشانہ بنانہ تشدد کہلاتا ہے عورتوں پر تشدد کو غیر فطری نہیں سمجھا جاتا کیونکہ مرد کا
    عورت پر جبر ایک تاریخی پس منظر ہے لوگ اس کو روایات کا نام بھی دیتے ہیں، عورت کو نچلی زات سمجھا جاتا ہے. عورتوں کو انکے جائز حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے. جسمانی تشدد کہ ساتھ ساتھ انکو زہنی دباؤ اور زیادتی کا شکار بھی کیا جاتا ہے. یوں ہر شعبے میں مردوں کو عورت پر فوقیت دی جاتی ہے مرد اپنی طاقت کا اظہار تشدد کی صورت میں کرتے ھیں مختلف ادوار میں
    حکومت نے عورتوں کہ حقوق کی پاسداری اور ظلم و جبر روکنے کہ لیے متعدد بار قانون سازی کی مگر عملی طور پر عورتوں پر تشدد اور غیرت کے نام پر قتل عام ہے اور کوئی بھی قانون اس ظلم کو روکنے میں ابھی تک قاصر ہے. بہت سے واقعات میں عورتوں کو گھروں سے نکال کر انکے معصوم بچوں سے دور رکھا جاتا ہے. اگرچہ گورنمنٹ اور سول سوسائٹی نے عورتوں کی بالادستی اور مثاوی حقوق کہ لیے بہت آواز بلند کی ہے مگر ہمارے معاشرے میں عورتوں کا بنیادی تحفظ اور گھریلو تشدد کے واقعات کم ضرور ہوئے ہیں لیکن ابھی تک عورتوں کو وہ مقام نہیں مل سکا. بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی عورتوں پر تیزاب پھینکنے، جنسی ہراساں کرنے جیسے واقعات میں ملوث ہے. دین اسلام نے عورتوں کو تعلیم سے لیکر گھریلو داری تک عزت اور مثاوی حقوق دیئے ہیں. بحثیت مسلمان ہمیں عورتوں کہ حقوق اور پر تشدد واقعات کو روکنے کہ لیے اپنی آواز بلند کرنا ہوگی. اگر عورت مضبوط ہوگی تو آنے والی نسل بھی بہترین پروش پا کر ملک و قوم کے لیے تعمیری سرگرمیوں میں حصہ لے گی اور بہت سی معاشرتی برائیوں سے معاشرہ پاک رہے گا.

  • وزیراعظم عمران خان کا دورہ ازبکستان بہادری    ‏تحریر :تنویر راجپوت کی مثال

    وزیراعظم عمران خان کا دورہ ازبکستان بہادری ‏تحریر :تنویر راجپوت کی مثال

    وزیراعظم عمران خان کے دورہ ازبکستان نے ویسے تو کئی بہادری کے جھنڈے گاڑے ساتھ ساتھ دنیا کو یہ باور کروایا کہ اب پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہے اب پاکستان کی حکمرانی ایک ایسے محب وطن لیڈر کے ہاتھوں میں ہے جسے صرف خدا کے ڈر کے علاؤہ کسی کا ڈر نہیں ۔۔۔
    عمران خان نے ازبکستان میں اس بہادری اور جرت مندانہ طریقے سے پاکستان کا موقف دنیا کے سامنے رکھا جو پیچھلی کئی باریاں لینے والے زرداری اور نواز شریف نا کر سکے ۔۔

    نواز شریف اور زرداری نے قوم کو سوائے دھوکے میں رکھنے کے کچھ نہیں کیا ڈرون حملوں کی اجازت دے کر کئی سالوں تک عوام کے سامنے مذمتی چورن پیچا گیا ۔۔

    پیچھلے روز قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے 60 منٹ سے زائد وقت کے خطاب نے ثابت کردیا کہ وہ واقعی اقبال کا سچا شاہین اور قائد اعظم کا بہادر سپاہی ہے اس مرد مجاہد کی تقریر بغیر کسی شور شرابے ،رکاوٹ کے جاری رہی پورا اعوان نعرہ تقبیر اللہ ہو اکبر کے نعروں سے گونج رہا تھا اور لہو گرما دینے والا منظر ان آنکھوں نے دیکھا۔۔
    وزیراعظم عمران خان کے خطاب سننے کے بعد اس مرد مجاہد کے لیے دل سے دعائیں نکلتی رہیں کہ اے میرے رب اس شخص کے ارادے بہت بڑے ہیں منزل صاف ہے لیکن راستہ بہت مشکل خان صاحب کے راستے میں آنے والی تمار رکاوٹیں دور عطا فرما اور وزیراعظم عمران خان کو تندرستی عطا فرما آمین

    دورہ ازبکستان میں وزیراعظم عمران خان کو شاندار گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا دورے میں معاشی تعاون اور باہمی دلچسپی کی امور بھی زیر بحث آئے اس کے علاوہ دو طرفہ تعاون کے مزید فروغ کیلئے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کے گئے وزیراعظم عمران خان پاک ازبک تجارتی فورم سے بھی خطاب کیا جسے سن کر با حیثیت ایک پاکستانی سینا فخر سے چوڑا ہوگیا ۔۔۔وزیراعظم عمران خان کے ہر بیرونی دورے میں کیے گئے خطاب میں وہ موقف پیش کیا جاتا رہا جو ہر ایک پاکستانی کے دل کی آواز ہے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی صحافی کو دیے گئے بیان میں بھی دو ٹوک بات کی گئی جس میں بھارتی بھونڈے چہرے کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ کپتان نے بھاتی صحافی کو دھو کر رکھ دیا یہ وہ عمل تھا جو صرف وہ شخص کرسکتا ہے جسکی بیرون ملک جائدادیں نا ہوں جو ذاتی مفاد کو ملکی مفاد پر ترجیح نا دیتا ہو۔۔

    صرف عمران خان جیسا بہادر لیڈر ہی مسلم ملکوں کو متحد کر ان کے سربراہان کو ایک پیج پر لاسکتا ہے۔۔۔ انشاء اللہ

  • شیطان کے چیلے   تحریر: مدثر حسن

    شیطان کے چیلے تحریر: مدثر حسن

    آپ لوگ عنوان پڑھ کر یقیناً چونک گئے ہوں گے اور سوچ رہے ہو کہ یہ کس کو مخاطب کیا جارہا ہے
    میں آپ کو بتاتا چلوں یہ میں نے ان لوگوں کو کہا ہے جو بظاہر تو بہت مہذب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں لیکن دراصل شیطان کے چیلے ہیں۔ وہ ہی شیطان جس نے حضرت ابرہیم علیہ السلام کا تین دفعہ راستہ روکا تھا
    اب جو کہ زمانہ جدید ہے تو شیطان بھی جدید اشکال میں ظاہر ہورہا ہے خاص طور پر عید الاضحی۔ سے دن پہلے
    اپنے چیلوں کے ذریعے شیطان ہمیں مختلف پلیٹ فارمز جیسا کہ سوشل میڈیا پر ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کے حکم اور حضرت ابرہیم علیہ السلام کی پیروی سے زیادہ ضروری ہے جانوروں کی زندگی بچانا اور کسی غریب کی مدد کرنا ہے
    یہ وہ لوگ ہیں خود لاکھوں روپے روزمرہ کی اشیاء پر استعمال کرتے ہیں ۔ہزاروں روپے کا برانڈڈ کھانا کھاتے ہیں جن میں ایسے جانوروں کا گوشت ہوتا ہے جس کی قربانی سے ان کو تکلیف اس وقت نہیں ہوتی

    اب آتا ہوں میں وجہ کی طرف سب سے بڑی وجہ اسلام سے تکلیف
    جی بلکل ہمارے دیسی لبریز اسلام مخالف قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان میں اسلام اور اس کے احکام پر عمل درآمد ہو اس لیے وہ حیلے بہانے سے قربانی کے خلاف بولتے رہتے ہیں
    ایک اور بڑی اور اہم وجہ غیر ملکی قوتوں کی پیروی کرنا ہے وہ قوتیں اور ممالک جو خود تو سارا سال اربوں جانوروں کو زبح کرکے مختلف اشکال اور کھانوں میں لوگوں کو کھلاتے ہیں لیکن عید قربان پر ان کو تکلیف دیکھنے والی ہوتی ہے

    میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ نام نہاد انسانیت کے علمبردار سارا سال کدھر غائب ہوتے ہیں ؟
    یہ لوگ اپنی مہنگی گاڑیاں اور اپنے مہنگے پرس کی جگہ کیوں کسی غریب کی بیٹی کی شادی نہیں کرواتے ؟ کیوں یہ لوگ راڈو واچ لینے کی بجائے مسجد میں پنکھا اور واٹر کولر نہیں لگواتے
    وجہ صاف ظاہر ہے ہم سب کے ذہنوں میں وسوسے ڈالنا اور سنت ابرہیمی کی پیروی سے ہٹانا۔
    لیکن آپ لوگوں نے شیطان کے چیلوں کی باتوں میں نہیں آنا کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے اور بطور مسلمان ہم اللہ کے حکم پر نہ انکار کرسکتے ہیں اور نہ ہی سوال
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک کاموں کی توفیق دے اور شیطان اور اس کے چیلوں سے محفوظ رکھے ۔آمین !!!!!

    @MudasirWrittes