Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • عمران خان  مسلسل  جدوجہد کا نام ہے تحریر : عائشہ شاہد

    عمران خان مسلسل جدوجہد کا نام ہے تحریر : عائشہ شاہد


    لیڈر وہ ہےجو اپنی آنے والی نسلوں کیلئے محنت اور خون پسینہ بہاتا ہے بلکہ لیڈر قوم کی آنے والی نسلوں کیلئے محنت کرتا اور پسینہ بہاتا
    قیادت جدوجہد کا نام ہے.
    عزم پختگی کانام ہے
    ایک سچے لیڈر کا تنہا کھڑا رہنااور اعتماد، سخت فیصلے کرنے کی ہمت اور دوسروں کی ضرورت اور دوسروں کی ضروریات کو سمجھنے کے لیے ہمدردی ہی ہے.
    وہ لیڈر بننے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ اپنے علم کی خوبی اور اپنے ارادے کی سالمیت سے ایک لیڈر بن جاتا ہے..
    مشکل وقت میں مشکل فیصلے کرنا، ہر طرح کا سیاسی خطرہ مول لیتا ہےاور اللہ بھی مدد کرتا ہے نیک نیتی کے سبب ہر بار سرخروح کرتا ہے
    "کوشش کرو کامیابی دینے والی ذات اللّہ کی ہے”

    اپنے حوصلوں کی پرواز اونچی رکھو.ایک دن مکان بھی بن جائےگااور مقام بھی نب جائے گا اس وقت خان پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کی جنگ لڑ رہاھے جو انگریزوں کو انہی کی زبان میں جواب دیتا ھے لیکن افسوس اسکی اپنی قوم کے چند نادان اسکو یہودی کہنے لگیں تو بات کیا ہوئی
    کبھی خود جھکا نا قوم کو کبھی جھکنے دیا ہے
    وزیراعظم عمران خان کا پاکستانی سر زمین پہ امریکی اڈے نہ دینے کے دوٹوک بیان نے پوری دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ہمیں ایسا ہی لیڈر چاہیے تھا جو ہمیں سرخرو کرے تمام تر دنیا کی طاقتوں کے سامنے.
    74 سال بعد یہ محسوس ہوا ہے کہ ہم انگریزوں کی غلامی سےآزاد ہوگئے ہیں..
    جس شخص نے پوری دنیا کو بتایا کے حضور صل اللہ علیہ وآلہِ وسلم ہمارے دلوں میں بستے ہیں وہ بد عمل کیسے ہو سکتا ہے.
    عمران خان نے پردے،فحاشی کے متعلق بولا تو لبرلز کا ایک بیمار طبقہ اُن کے ماضی کو کھنگالنے لگا اُس کی پرانی تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کی گئیں اگر خان صاحب کل غلط تھا اورآج اس کے خلاف بات کر رہا ہے توتعریف کی جانی چاہیے۔ بغضِ عمران میں اپنا ایمان نا خراب کر بیٹھنا..

    "اللّہ ہم سب کا حامی و ناصر ”

    ‎@BinteChinte

  • والدین کا مقام اور احترام  تحریر : ولید عاشق

    والدین کا مقام اور احترام تحریر : ولید عاشق

    اگر ساری کائنات میں کوئی بے لوث یے غرض محبت کرتا ہے تو وہ صرف آپ کے والدین ہیں،اور اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے،اگر آج آپ میں سے کوئی والد یا والدہ بن چکا /چکی ہے تو آپ با خوبی جانتے ہے کے رات دن والدین کیسے اپنے بچوں کی خدمت کرتے رہتے ہے،
    خدیث پاک کا مفہوم ہے کے اگر آپ محبت بری نگاہ سے اپنے والدین کو دیکھتے ہے تو اللہ‎ پاک آپ کو حج کا ثواب فرماتے ہے،

    اللہ تعالیٰ نے کائنات میں افضل اور اشرف مخلوق انسان کو بنایا ہے۔ والدین درحقیقت انسان کے دنیا میں آنے کا ذریعہ ہوتے ہیں،ہمارا وجود والدین کی وجہ سے ہوتا ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بھی والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی ہے۔محبت کا جذبہ فطری طور پر بدرجہ اتم والدین کو عطا کیا گیا ہے۔اولاد کے لئے والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں،والدین کی جس قدر عزت و توقیر کی جائے گی اسی قدر اولاد سعادت سے سرفراز ہوگی شریعت میں والدین کے ساتھ حُسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

    وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا ؕ اِمَّا یَبۡلُغَنَّ عِنۡدَکَ الۡکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوۡ کِلٰہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنۡہَرۡہُمَا وَ قُلۡ لَّہُمَا قَوۡلًا کَرِیۡمًا ﴿۲۳﴾
    (ترجمہ)
    اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف بھی نہ کہنا ،نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا۔

    دنیا کا سب سے بہترین اخساس جب آپکی امی اپ کو دیکھ کر فرطِ جزبات میں مسکرائے
    دنیا کا سب سے بہترین وقت جب آپکا باپ آپکی وجہ سے فخر مخسوس کرے

    ان سب کے لئے صرف ایک چیز لازمی ہے وہ ہے والدین کا اخترام۔
    "مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود وہ جلتا رہا”
    "میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائی میں”
    اللہ تعالی سب کو اپنے ماں باپ کا اخترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے

    Walees Ashiq

    Waleed Ashiq is a Freelance Journalist and blogger find more about his visit twitter Account


  • خطے میں امن کیلئے پاکستان  کی کوششیں . تحریر: محمد اختر

    خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششیں . تحریر: محمد اختر

    اس بات سے ہر کوئی آشنا ہے کہ بھارت ا فغان سر زمین استعمال کر کے پاکستا ن کے خلاف ہائبرڈ جنگ میں ملوث ہے۔افغانستان میں بیس برس بیٹھ کر بھارت نے پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کی کوششیں کیں۔کبھی داعش کے دہشت گردوں کی مالی مدد کر کے انہیں پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لیے بھیجا گیا تو کبھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان قائم کر کے اس میں دنیا بھر سے انتہا پسندوں کو اکھٹا کر کے ان کی مالی معاونت کی جاتی اور انہیں پاکستان میں بد امنی پھیلانے کا ہدف دیا جاتا تھا۔جب پاکستان نے تحریک طالبان کو کا لعدم قرار دیا، تو بھارت نے افغان صدر اشرف غنی سے کہا کہ انہیں افغانستان کے صوبہ کنڑ میں پناہ دی۔اب بھی چھ سے سات ہزار کے قریب دہشت گرد جن کا تعلق تحریک طالبان پاکستان سے ہے، وہ بھارتی خفیہ ایجنسی (را) کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔پاکستان نے عالمی برادری کو دہشت گردوں کو (را) کی فندنگ کے ثبوت فراہم کئے لیکن عالمی برادری نے بھی اس پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی۔چندہفتے قبل لاہور میں ہونے والے بم دھماکے کے پیچھے بھی (را) موجود تھی۔شواہد کے باوجود عالمی برادری نے بھارت کی مذمت تک نہیں کی۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے ساتھ ہی طالبان نے چند دنوں میں ملک کے طول و عرض پر قبضہ کر لیا ہے۔ حتی کہ پاکستان،چین،ایران ازبکستان اور روس کے ساتھ ملنے والی افغان سرحدوں پر بھی طالبان نے اپنی رٹ قائم کر دی ہے۔ جس کے بعد بھارت نے بندر کی طرح بھاگ دوڑ شروع کر دی ہے۔کبھی ایک ملک کے پاوًں پڑتا ہے، تو کبھی دوسرے ملک کے تلوے چاٹتا ہے کیونکہ بھار ت کو نہ صرف افغانستان میں اپنی سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آرہی ہے بلکہ پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے لیے اسے جو سہولت میسر تھی وہ بھی ختم ہو چکی ہے۔پاک افغان سرحد کے قریب بھارت کے ایکسو پچاس کے قریب قونصل خانے تھے، اس نے جہاں دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی تھی۔لیکن افغان طالبان کے کنٹرول کے بعد نہ صرف بھارتی سازشیں دم توڑ گئی ہیں بلکہ اس کے پروردہ دہشت گرد بھی اب دم دبا کر بھاگ رہیں ہیں۔بھارت ایک طرف تو افغان طالبان کے ساتھ رابطے استوار کرنے کے لئے تگ ودو کر رہا ہے۔دوسری طرف بھارتی سفیر جے شنکر نے روس اور ایران کے ہنگامی دورے کر کے جلال آباد اور قندھار کے قونصلیٹ کی تالہ بندی پر اظہار تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مدد طلب کی ہے۔اس کے علاوہ جب بھارت اپنے سفارتی عملے کو یہاں سے نکالنے کے لئے آیاتو جہازوں میں اسلحہ لاکر افغان حکومت کو دیا۔جس کا مقصد افغانستان میں امن وامان کو تہہ وبالا کرنا تھا۔گزشتہ ہفتہ بھارت میں غنی حکومت کے سفیر فرید مامونزائی نے کہا ہے؛کہ افغان انٹرا مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں طالبان پر بمباری کے لئے بھارتی فضائیہ کی ضرورت پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ؛ بھارتی فضائیہ کی مدد سے طالبان کو شکست دینا ہوگی۔باقی ملکوں کی طرح بھارت بھی اگر خطے میں امن کا خواہاں ہوتا تو وہ طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کو ترجیح دیتا۔ماضی کی غلطیوں کی تلافی لیتا لیکن ہندوستان حقیقت میں
    امن کا حامی نہیں۔

    وہ اب بھی فاتح کے بجائے شکست خورہ عناصر کو تھپکی دینے سے باز نہیں آ رہا۔بھارت کی کوشش ہے کہ وہ ایران شمالی اتحاد ہزارہ تاجک اور ازبک سمیت دیگر قبائل سے ہاتھ ملا کر افغانستان میں فرقہ ورانہ بنیاد پر قتل و غارت شروع کروائے۔ اس صورت میں بھارت کے ساتھ ہزار کے قریب دہشت گردوں اور باقی مفادات کا تحفظ ہوسکتا ہے۔بصورت دیگر امریکا کی طرح بھارت کو بھی بوریا بسترہ گول کر کے وہاں سے کوچ کرنا ہوگا۔طالبان نے گزشتہ ہفتے سپین بولدک کا کنٹرول سنبھالا تو افغان انٹیلیجنس ایجنسی کے دفتر سے تین ارب روپے کی پاکستانی کرنسی برآمد ہوئی۔اس رقم کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں تخریبی کارو ائیاں کرنے والے دہشت گردوں کو بطور معاوضہ ادا کی جانی تھی۔کیونکہ ماضی میں دہشت گردوں کو ہمیشہ یہی سے پیسہ بھیجا جاتا تھا۔پاک افغان بارڈر پر غنی حکومت کے لئے سب سے بڑا دھچکا ہے کیونکہ یہاں سے یومیہ نوسو سے ہزار مال بردار ٹرک اور ٹینکر گزرتے تھے جبکہ ساٹھ سے ستر ہزار افراد کی امدورفت بھی ہو تی تھی۔اس کے علاوہ نیٹو فورسز کی بڑے پیمانے پر سپلائی بھی یہاں سے ہوتی تھی۔اس بارڈر پر طالبان کے قبضے سے کابل حکومت کی معاشی تدفین کا بھی آغا ز ہو چکا ہے۔یہاں سے اب روزانہ کی بنیاد پر طالبان ریونیو حاصل کریں گے بلکہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات بھی قائم کریں گے۔ پاکستان مستقبل قریب میں افغانستان کے لیے ایک امن کانفرس کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔امید ہے کہ اس کے اچھے نتائج بر آمد ہونگے۔افغان طالبان تمام ہمسایہ ممالک کیساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے میں کوشاں ہیں۔برطانیہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ اگر طالبان نے افغانستان میں حکومت بنائی تو ہم ان کے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔برطانوی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ؛عالمی برادری کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ لہذا اشرف غنی بھی طالبان سے مل کر ملکی استحکام کے لئے کام کریں تاکہ خطے میں امن کی فضا قائم ہو سکے۔

    @MAkhter_

  • پاکستان میں بیوروکریسی  تحریر:  سید محمد مدنی

    پاکستان میں بیوروکریسی تحریر: سید محمد مدنی

    بیورو کریسی یہ ایسی چیز ہے جس سے معاشرہ تباہ و برباد ہوتا ہے آپ کتنا ہی ایماندار ہوں آپ کو چلنے نہیں دیا جاتا اور کُھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے (مطلب ٹرانسفر)
    پاکستان میں بیوروکریسی میں کرپشن انتہا کو ہے یہ حکومتیں گراتے اور بناتے ہیں میرے اپنے ایک جاننے والے رشتہ دار کسی دور میں پنجاب حکومت میں لگے نام بتانا مناسب نہیں سمجھتا کہتے ہیں کہ آپ ایمانداری سے کام نہیں کر سکتے ہیں جب کوئی سی ایس پی کی ٹریننگ حاصل کرنے اور لاہور والٹن سی ایس پی کے حوالے سے اکیڈمی میں رہتا ہے تو انھیں سب سے پہلے سکھایا ہی یہ جاتا ہے کہ اگر تمھارا باپ بھی تم سے ملنے آئے تو کم از کم آدھا گھنٹہ چالیس منٹ اسے اپنے دفتر کے ویٹنگ روم میں انتظار کرواؤ چاہے تم مصروف بھی نہ ہو یہی وہ چیز ہے جس سے فرعونیت پیدا ہوتی ہے اور آپ عام سے آدمی کو بھی ایک چیونٹی جتنا سمجھتے ہیں ان کا کام بس رشوت اور سفارش پر چلتا ہے اگرچہ ان کی تنخواہیں کم اور اختیارات زیادہ ہوتے ہیں لیکن یہ دو نمبر کی کمائی سے خوب پیسہ بناتے ہیں دپٹی کمشنر یا اسسٹنٹ کمشنر عوام کی خدمت کے لئے بھی ہوتے ہیں مگر زیادہ تر یہ صرف اپنی اور دوستی یاری کی پرواہ کرتے ہیں اگر ان کا کوئی ساتھی کسی مشکل میں پھنسا ہو تو سارے مدد کو نکل پڑتے ہیں یہی اگر آپ ایمانداری سے چلیں گے تو آپ کے اپنے ساتھی ہی آپ کا ساتھ نہیں دیں گے
    ہمارے ہاں بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جو اس مافیا سے متعلق ہیں ایک غریب آدمی کو جب ان سے واسطہ پڑتا ہے تو یہ اس کی فائل ادھر ادھر گھماتے ہیں اور درپردہ پیسوں کا تقاضہ کرتے ہیں اب آپ بتائیں کہ غریب آدمی جس کے پاس کچھ نا ہو وہ بھلا اس مافیے کی جیب کیسے گرم کرے گا آپ جب تک ایمانداری سے چلتے رہیں گے مار کھاتے رہیں گے ایسی بات نہیں کہ ایمانداری کا صلہ نہیں ملتا ملتا ضرور ہے مگر ہمارے معاشرے میں کرپشن کے بیج نے اتنی سختی سے نظام کو جکڑا ہؤا ہے کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے
    آپ خود تصور کریں کہ ایک ایسا ماحول جہاں برسا برس سے کرپشن ہورہی ہو یا ہم جیسے لوگ جنھوں نے آنکھ ہی کرپشن دیکھتے ہوئے کھولی ہو وہ بھلا اس کو کیسے ختم کریں گے ہم کبھی کبھی خود مجبور اور تنگ آکر اپنے معاملے کے لئے رشوت دیتے ہیں اب آپ بتائیں کہ ہم کیسے اسے ختم کرسکتے ہیں بات صرف اتنی کے کہ اگر قانون سخت اور عمل درآمد سخت ہو تو سب کچھ ممکن ہے
    بیورو کریسی آپ سے مجبوری کا فائدہ بھی اٹھاتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آپ اسے پیسے نہیں دیں گے تو یہ آپ کا کام بھی نہیں کرے گی اور اگر پیسے دیں گے بھی تو کسی اور کو نہیں بتائین گے کیونکہ آپ کو ڈر ہوگا کہ کہیں میں بھی ساتھ ہی رگڑا نا جاؤ‌ں
    بیورو کریسی کو اگر نکیل ڈال کر رکھی جائے تو یہ کام نہیں ہوسکتے آپ اگر قانون پر عمل کروائیں گے تو سزا کاخوف ہوگا الیگل کام لوگ اسی دھڑلے سے کرتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں
    یاد رکھیں جب تک بیوروکریسی کرپٹ رہے گی کام نہیں پورے ہوں گے سسٹم نہیں چلےگا
    اس کے لئے آپ کو اسٹینڈ لینا ہوگا
    معاشرے میں جب تک جھوٹ پنپتا رہے گا مسائل جنم لیتے رہیں گے اس کے لئے عوام اٹھے اور ایک ہوجائے مگر مہذب انداز سے ارباب اختیار سے مطالبہ کرے کہ نظام بدلو اگر آپ خود کچھ نہیں کریں گے تو قصور وار آپ بھی برابر کے ہوں گے اس مافیے کے خلاف
    صفیں مضبوط کریں اور کرپشن کے بیج کو ملک سے ختم کرنے میں کردار ادا کریں

    یہ مختصر سا ہی کالم ہے ایک حقیر سی کوشش

    @ M1Pak Twitter id

  • مینڈھے، چھترے اور بکرے کی قربانی پر پانچ سال کیلئے کیوں نا پابندی لگا دی جائے؟  تحریر: نویداختربھٹی

    مینڈھے، چھترے اور بکرے کی قربانی پر پانچ سال کیلئے کیوں نا پابندی لگا دی جائے؟ تحریر: نویداختربھٹی

    قربانی کا فلسفہ اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے لیکن ہمیں تھوڑا وقت نکال کر غور کرنا ہوگا کہ ہر سال عیدالاضحٰی سے پہلے چھوٹا گوشت آخر مہنگا کیوں ہوجاتا ہے؟

    چھوٹا گوشت ہر گزرتے سال کے ساتھ عام پاکستانی کی پہنچ سے دور کیوں ہوتا جا رہا ہے؟
    چھوٹے گوشت کے شوقین لوگ بھی گائے کی قربانی دینے کو کیوں ترجیح دینے لگے ہیں؟

    دنبہ جو کہ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل کی جگہ قربان ہونے کیلئے جنت سے آیا تھا، موجودہ دور میں مسلمان اس کی قربانی کیوں نہیں کر رہے؟
    یہ حقیقت تو سب مسلمان جانتے ہیں کہ عیدالاضحٰی کے موقع پر ایک حلال جانور کی قربانی سنت ابراہیمی ہے اور سنت بھی ان کیلئے ہے جو قربانی کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
    ابتدائے اسلام میں مسلمان کعبہ کے احاطے میں مینڈھوں کی قربانی پیش کیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک مینڈھوں کی پیداوار پریشان کن حد تک کم نا ہوگئی۔ منڈیوں میں مینڈھوں کی کمی کو دیکھتے ہوئے لوگ بکروں، چھتروں اور اونٹوں کی طرف آئے اور قربانی کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ اب چونکہ حالات کا فیصلہ یہی تھا کہ جو بھی حلال چوپایہ ملے اسے قربان کردیا جائے اس لئے کئی سو سال تک مسلمانوں کے کسی ملک میں جانوروں کی کمی کا سامنا نہیں کیا گیا۔
    برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے علاقوں میں بکرے اور چھترے کا گوشت خصوصی طور پر پسند کیا جاتا رہا ہے اس لئے اس خطے میں قربانی کیلئے بھی بکروں یا چھتروں کو ہی منتخب کیا جاتا تھا۔
    بکروں اور چھتروں کی قربانی کے اس رجحان نے آہستہ آہستہ آنے والے ہر سال کے ساتھ ان کی کمی کا سبب بننا شروع کردیا اور اصول معاشیات کے مطابق جس چیز کی رسد کم اور طلب زیادہ ہوگی، اس کی قیمت بھی زیادہ طلب کی جائے گی یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں عام دنوں میں گوشت 1300 روپے سے 1500 روپے فی کلو بک رہا ہے اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس قیمتوں پر عمل کروانے میں بری طرح سے ناکام ہیں۔
    اس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں کہ قیام پاکستان کے بعد مویشیوں کی افزائش کے حوالے سے کبھی کسی حکومت نے کوئی ٹھوس پالیسی نہیں بنائی جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ہر جاتے سال کے ساتھ ان جانوروں کی افزائش میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا۔
    حکومت وقت کے سربراہ وزیراعظم عمران خان نے چند ماہ قبل جب مرغیاں، انڈے اور مویشی پالنے کیلئے قوم کو متحرک کیا اور باقاعدہ پالیسی بنانے کا وعدہ کیا تو پاکستان کے نام نہاد سکالرز اور میڈیا پر بیٹھی کالی بھیڑوں نے اس فلسفے کا مزاق اڑایا اور کہا کہ عمران خان دو کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے سے یو ٹرن لیتا ہوا مرغیوں اور انڈوں تک آگیا ہے۔
    موجودہ حالات یہ ہیں کہ پاکستان میں آج بھی لائیو اسٹاک پر قابل قدر توجہ نہیں دی جارہی خصوصاً چھتروں اور بکروں کی افزائش جدید ریسرچ اور سائنسی بنیادوں پر نہیں کی جا رہی جس کی وجہ سے اس عیدالاضحٰی کے موقع پر دس سے پندرہ کلو گرام گوشت والا چھترا 20 ہزار جبکہ اسی وزن کا بکرا 30 ہزار میں فروخت ہوا ہے۔
    گائے کی پیداوار بھی خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ایک طرف تو ملک میں دودھ کی کمی کا بحران ہے تو دوسری طرف جو کروڑ پتی لوگ ہیں ان کے درمیان زیادہ سے زیادہ گائے قربان کرنے کا ایسا مقابلہ چل پڑا ہے جو آنے والے دنوں میں مارکیٹ میں بڑے گوشت کے مہنگا ہونے کی بڑی وجہ بن سکتا ہے اور اس گوشت کے بھی متوسط اور غریب طبقے کی پہنچ سے باہر جانے کا خطرہ سر اٹھا سکتا ہے۔
    وزیراعظم عمران خان کو چاہیئے کہ ایک طرف تو لائیو اسٹاک میں بکرے پالنے والوں کو بلا سود قرضے دیں اور دوسری طرف بینکوں کو ہدایات دیں کہ وہ ان مویشی پال حضرات کی ماہرین کی مدد سے راہنمائی اور نگرانی کرائیں تاکہ ریاست کے اس بڑے مقصد کو نقصان نا پہنچے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔
    وزیراعظم کو جو غیر مقبول اور دیرپا فیصلہ کرنا ہوگا وہ یہ ہے کہ علماء اکرام کی مشاورت سے کم از کم تین سے پانچ سال کیلئے بکرے، مینڈھے اور چھترے کی قربانی پر مکمل پابندی عائد کر دیں۔
    ہوسکتا ہے کہ جنونی مذہبی رجحان رکھنے والا طبقہ اس تحریر کو ناپسند کرے اور ایک لمبی بحث چھڑ جائے۔۔۔ مگر ان کو میری دعوت ہے کہ تاریخی اور معاشی حقائق کو مدنظر رکھ کر اس تحریر پر غور فرمائیں!

  • ساس! ماں، بہو اور بیٹی بھی . تحریر : انجینیئر مدثرحسین

    ساس! ماں، بہو اور بیٹی بھی . تحریر : انجینیئر مدثرحسین

    ساس بھی ماں اور بہو بھی بیٹی ہے
    اس سب کی وجہ کیا ہے؟
    ساس یا بہو کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
    کیا ازدواجی زندگی صرف جنسی سکون کا نام ہے؟
    مرد شادی کیوں کرتا ہے؟
    عموماً ہنستا بستا گھر کیوں ٹوٹتا ہے؟
    اس تحریر میں ان سوالات سے متعلق گفتگو کی جائے گی. تاکہ سمجھا جائے اور اپنے اپنے کردار سے منسلک کمی کو دور کیا جائے.
    سب سے پہلی بات یہ کہ آخر فی زمانہ جن رشتوں سے ہمیں روشناس کرایا جاتا ہے ہمارے بزرگوں میں انکی کیا روایات ملتی ہیں جنکی بدولت ایک کامیاب زندگی کی مثال ہمیں ماضی میں ملتی ہے اور شریعت اس بارے کیا کہتی ہے؟
    کچھ چیزیں مقامی روایات سے ملتی ہیں اور علاقائی رسم و رواج کے مطابق چلتی ہیں. شریعت سے انکا کوئی تعلق نہیں ہوتا. جیسے پکارے جانے والے رشتے مثلاً ساس، بہو، دیور، بھابی، نند، جیٹھ، سالا یا سالی وغیرہ ایسے رشتے ہیں جن کا شریعت میں تزکرہ ان ناموں سے نہیں ملتا ہاں! جہاں پردے کی آیات اور احکام درج ہیں قرآن و حدیث میں وہاں ان رشتوں کی پہچان تو کرائی گئی لیکن رشتے کی اصل حیثیت کو برقرار رکھا گیا ہے. اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں سورۃ النور کی آیت نبر 31 میں ارشاد فرمایا
    اور مسلمان عورتوں کو حکم دے دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ ظاہر کریں مگر جتنا (بدن کا حصہ) خود ہی ظاہر ہے اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے والد یا شوہروں کے والد یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھائی کے بیٹوں یا اپنے بہن کے بیٹوں یا اپنی (مسلمان) عورتوں یا اپنی کنیزوں پر جو انکی ملکیت ہوں یا مردوں میں سے وہ نوکر جو شہوت والے نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر اپنے پاؤں اسلئے زور سے نہ ماریں کہ ان کی اس زینت کا پتہ چل جائے جو انہوں نے چھپا رکھی ہے.

    معلوم ہوا کہ رشتوں میں سسر، بھتیجے، بھانجے کی پہچان انکے اصلی حیثیت شوہر کا باپ، بھائی کا بیٹا اور بہن کے بیٹے سے کرائی گئی.
    مطلب سسر کی حیثیت باپ کی اور بھانجوں اور بھتیجوں کی حیثیت بیٹوں کی ہوئی.
    اسی طرح سسر کی حیثیت باپ کی ہونے سے ساس کی حیثیت ماں کی ہوئی. اب ہم نے جو رشتوں کی پہچان سمجھنے کیلیے بنا رکھی ہے وہ سمجھنے کی حد تک ہونی چاہیے ناکہ رشتے کا اصل مقام اور حیثیت ہی بدل دی جائے.

    یاد رکھئیے ساس بھی ماں ہے اسکو ماں کا درجہ دیجئے اور ماں کی طرح خدمت کیجئے. آخر کیوں اس مقدس رشتے کو بگاڑ کر اس کی حیثیت ختم کی گئی؟ آج کی ڈرامہ انڈسٹری نے جس چالبازی سے اس رشتے کی حرمت کا تقدس پامال کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی. ہر ڈرامہ ساس بہو کی لڑائی اور تزلیل کا شاخسانہ دکھائی دیتا ہے. حالانکہ کی شریعت میں اس رشتے کا وجود ہی نہیں. اور اس اصول کے پیش نظر بہو بھی آپکے ماں ہونے کے ناطے بیٹی ہے جومقام آپکے گھر آپکی اپنی پیدا کی گئی بیٹی کو حاصل اپنے گھر اپنے بیٹے کے لیے لائی گئی دلہن کو بھی اس مقام اور درجہ سے نوازیں اور اسی حیثیت سے اس سے تعلق رکھیں. اصول ہر گھر کے الگ ہوتے روایات الگ ہوتی ہیں. اس بیٹی کو ان اصولوں سے اپنی پیدا کی گئی بیٹی کی طرح ترتیب کر کے روشناس کرائیں اور لعن طعن اور غلط القابات سے اجتناب کریں کیونک یہی وہ حقیقی بیٹی ہے جس نے بقیہ زندگی آپکی خدمت کرنی ہے اور اس گھر کو آشیانہ بنانا ہے. دلہن کے عہدے پر فائز ہوتے ہی اپنی انا کو فروغ دینے والی بہنوں سے بھی گزارش ہے کہ آپ کے شوہر کی ماں ہی آپکےلیے ماں کا درجہ رکھتی ہے شادی کے بعد اسی نے آپکی اگلی زندگی کے لیے آپ کو اپنے خاندان کے اصول و ضوابط سے نا صرف روشناس کرانا ہوتا ہے تربیت کرنی ہوتی ہے بلکہ آپ کو اپنے بیٹے کی طبیعت اور مزاج سے بھی روشناس کراناہوتا ہے. ہر رشتہ جب قدر اور عزت کا دامن تھامے چلتا ہے تو ہی گھر سکون کا گہوارہ بنتا ہے. یاد رکھیں ماں اگر کچھ کہ بھی دے تو بھلائی کیلئے ہی کہتی ہے اسلیے اسے ساس بنا کر تلخیوں میں بدلنے سے گریز کرنا چاہیے. چند دنوں میں مزاج ملنے لگتے اور ہر طرف خوشیاں دکھنے لگتی ہیں. یہاں ان ماؤں سے بھی گزارش ہے جو فی زمانہ بیٹی کو بیاہتے وقت تلقین کرتے نظر آتی ہیں کہ شوہر کو ہاتھ میں کرو بس. ایک سوال ان سے کہ کیا جس ماں کی محبت اور شفقت نے ایک نومولود کو 25 سال اپنے حصار میں رکھا ہر طرح کی برائی سے بچا کر آپکی بیٹی کو سونپ دیا کیا اب اس ماں باپ کا حق ختم ہو گیا؟ آپکی بیٹی چکنی چپٹی اداؤں سے اس کا وہ حصار کمزور تو کر سکتی ہے لیکن جب خمار اترتا ہے تو پھر وہی دلہن اور اسکی چالبازی اسی کے لیے تباہی کا سبب بنتی ہے لہٰذا اپنی بیٹی کو گھر بنانے اور ماں باپ کی خدمت کرنے شوہر کے لیے سکون بننے کی ترغیب دیں شوہر کو وقتی طور پٹانے کی نہیں. کیونکہ جس پودے کی بنیاد اچھی ہو وہی مضبوط بھی ہوتا اور پھل بھی اچھا دیتا ہے.

    شوہر شادی کیوں کرتا ہے کیا اس کو صرف جنسی تسکین چاہیے؟ جوکہ فی زمانہ اسے معاشرے سے بیوی کے اخراجات سے کئی گنا کم خرچ میں مل سکتی ہے. وہ زہنی سکون کے لیے کسی کو اپنی عزت بناتا اور اس عزت کو سجاتا سنوارتا اس کے نخرے اٹھاتا اس کیلیے اپنا تن من قربان کر کے اس
    کی خوشیوں پر خرچ کرتا ہے کیوں؟

    تاکہ وہ جب ہر طرح کا ظلم و ستم اپنی زات پر برداشت کر کے گھر لوٹے تو اس کا مسکرا کر گھر استقبال کیا جائے اس کی آو بھگت کی جائے. اسے زہنی سکون چاہیے. یاد رکھیں جو خواتین معاشرے میں لوگوں کی غلط نظروں اور القاب سے حراساں ہوتی ہیں ان سے پوچھئے مرد انہی مشقتوں سے اپنی بیوی اپنی عزت کو بچاتا ہے اور اس کے ناز و نرخوں کیلیے سبب سختیاں سب کچھ اپنی زات ہر برداشت کرتا کبھی موسم کی سختیاں تو کبھی پردیس کے جھمیلے سب صرف اپنی بیوی کے لیے تو اس کو زہنی سکون ملنا اس کا حق ہے. اگر وہ آپ ساس بہو کی لڑائی میں الجھے گا تو اس کو اس رشتے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا. یہ سب چیزیں ایک ہنستے بستے گھر اور ازدواجی زندگی کے کامیاب پہلو ہیں. زہنی سکون ہی نا ہوا تو گھر کا آشیانہ ٹوٹ جاتا ہے. اپنی انا کی بھینٹ اپنے رشتوں کو چڑھنے سے بچائیے. رشتوں کی اصل حیثیت کو سمجھیں آپس میں درگزر والا معاملہ رکھیں. ساس بہو نہیں ماں بیٹی بنیں. غلطی ہو جائے ماں بن کر سمجھائیں اور سکھائیں. اپنی غلطی کو سمجھیں مانیں اسے درست کریں اور اچھی بیٹی کی طرح مستقبل میں غلطی سے اجتناب کریں. گھر کو کھنڈر نہیں جنت بنائیں

    @EngrMuddsairH

  • وٹامنز اور ہماری صحت  تحریر :  شاہ زیب احمد

    وٹامنز اور ہماری صحت تحریر : شاہ زیب احمد

    وٹامن یا حیاتین کا شمار ان اجزاء میں ہوتا ہے جو جسمانی اجزاء کی کارکردگی بہتر بنانے کیساتھ ساتھ جسم کو صحیح طریقے سے کام کرنے اور صحت مند رکھنے میں خصوصی کردار ادا کرتے ہیں.
    اگر روز مرہ خوراک میں وٹامنز کو شامل نہ کیا جائے یا کم مقدار میں لیا جائے تو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے جو احتیاط نہ کرنے پر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے.
    وٹامنز کی دو اہم اقسام ہے:
    ✓ پانی میں حل ہونے والے وٹامنز۔
    ✓چکنائی میں حل ہونے والے وٹامنز۔

    ہمارے جسم کو تقریبا 13 وٹامنز کی ضرورت ہوتی ہیں، جسمیں سے کچھ پر اس تحریر میں بات کرینگے کہ وہ کیوں ضروری ہے اور کہاں سے حاصل کئے جا سکتے ہیں.

    *وٹامن اے (Vitamin A):-*
    ہمارے جسم کو روز مرہ 0.4-1 ملی گرام وٹامن اے کی ضرورت ہوتی ہے
    وٹامن اے کی مناسب مقدار ہماری تیز نظر ، نرم و ملائم جلد، مضبوط دانت اور ناخن کے لئے ضروری ہوتی ہے۔
    وٹامن اے گاجر ، فروٹ، پنیر ،انڈہ اور کلیجی سے وافر مقدار میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    *وٹامن سی (Vitamin C)* :-
    حالیہ مرض کرونا سے متاثر افراد کیساتھ صحت مند لوگوں نے بھی بچاؤ کے لئے وٹامن سی وافر مقدار میں استمال کی ہے، دراصل وٹامن سی مضبوط قوت مدافعت (بیماری کے خلاف لڑنے کی جسمانی صلاحیت) کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے ، اسکےعلاوہ چہرے کی خوبصورتی اور تازگی ، مضبوط بال اور خوشگوار موڈ کے لئے بھی وٹامن سی کی وافر مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔
    جو کہ تازہ سبزیوں، آلو، ٹماٹر، انگور، سنگترہ اور لیموں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
    ہمارے جسم کو روز مرہ 70 ملی گرام وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہیں.

    *وٹامن ڈی (Vitamin D)*:-
    مضبوط ہڈیاں، جوڑوں کے درد سے نجات، نارمل بلڈ پریشر اور جسم سے زہریلے مواد کے خاتمے کے لئے وٹامن ڈی ضروری ہوتا ہے۔
    مچھلی، انڈے کی زردی ، آلو اور سبزیوں میں وٹامن ڈی موجود ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ قدرتی طور پر سورج کی کرنوں سے بھی وٹامن ڈی حاصل کیا جا سکتا ہے
    ہمارے جسم کے لئے روزانہ 2.5 ملی گرام وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے

    *وٹامن ای (Vitamin E) :-*
    بڑھتی عمر کیساتھ صحت مند رہنا،جنسی کمزوری و اعصابی کمزوری، ٹیومر (رسولی)، دل کی تکلیف اور ماحولیاتی بیماریوں سے بچنے کے لئے وٹامن ای ایک ضروری جز ہے۔
    وٹامن ای گوشت ، کدو، مکئی ، پھل اور خشک میوا جات میں بکثرت پایا جاتا ہے۔
    ہمارے جسم کو روزانہ 50-30 ملی گرام وٹامن ای کی ضرورت ہوتی ہے

    *وٹامن کے (Vitamin K) :-*
    زخم کے جلدی بھرنے اور خون کے نارمل گاڑھے پن کو برقرار رکھنے کے لئے وٹامن کے ضروری ہوتا ہے۔
    بچوں کے پیدائش پر انہیں وٹامن کے کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے،
    وٹامن کے گاجر، ٹماٹر، گھوبی،اور سبز چائے میں پایا جاتا ہے۔
    جسم کی روز مرہ کی ضرورت 2-1 ملی گرام ہے

    *وٹامن بی (Vitamin B) :-*
    ذہنی و اعصابی کیفیت میں مبتلا رہنا، نیند کے مختلف مسائل اور چہرے کے مختلف داغ دھبوں کی شکایت وٹامن بی کی مناسب مقدار حاصل نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے،

    وٹامن بی کے مختلف اقسام ہیں جیسے کہ

    _وٹامن بی ون (Vitamin B1):-_
    دماغی کمزوری، صحت مند نظام ہضم، خوشگوار نیند اور پٹھوں کی کمزوری، سے بچنے کے لئے وٹامن بی ون کی مناسب مقدار ضروری ہے،

    مکئ، دلیا، ساگ، مونگ پھلی اور خشک میوا جات میں پایا جاتا ہے۔
    روزانہ کی ضرورت 3-1.2 ملی گرام.

    _وٹامن بی 2 (Vitamin B2) :-_
    جسم کے مردہ خلیوں کو دوبارہ بناتا ہے، تیز نظر اور پٹھوں کے کمزوری سے بچانے میں مدد دیتا ہے،
    گوشت، دودھ، بادام، پنیر ، اور انڈے میں پایا جاتا ہے۔
    جسم کی روزانہ ضرورت 3-1.3 ملی گرام.

    _وٹامن بی 5 (Vitamin B5):-_
    تیز حافظہ ،خوشگوار موڈ مضبوط رگیں (نس)، مضبوط دل کے لئے وٹامن بی5 ضروری ہوتا ہے۔
    چکن، چاول، مکئی کی روٹی ، گھوبی، دودھ کے بنے اشیاء ،اور ڈرائی فروٹ میں پایا جاتا ہے۔
    روز مرہ کی ضرورت 5 ملی گرام

    _وٹامن بی6 (Vitamin B6) :-_
    تا دیر جوان رہنے ، مضبوط اعصابی نظام ، اور مضبوط رگوں کے لئے وٹامن بی6 ضروری ہوتا ہے.
    مچھلی، گوشت ،زرعی اجناس, سلاد، کیلے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
    روزانہ کی ضرورت 2-1.6 ملی گرام.

    _وٹامن بی12 (Vitamin B12):-_
    قوت مدافعت، قوت سماعت، وزن کو برقرار رکھنا اور خوراک کی نالی کے پٹھوں کے مضبوطی کے لئے ضروری ہوتا ہے۔
    گوشت، دودھ، انڈے کی زردی، پنیر ، مٹر اور پالک میں پایا جاتا ہے۔
    روزانہ کی ضرورت 2.5 ملی گرام ہے.

    یہاں کچھ وٹامنز کے بارے میں مختصر تفصیل شئیر کیا ہے انشاء اللّٰہ اگلے تحریروں میں مزید تفصیل بھی شئیر کی جائی گی.

    .
    Twitter I’d @Zebi_afridi

  • ٹیکنالوجی ایک نعمت . تحریر : زاہد کبدانی

    ٹیکنالوجی ایک نعمت . تحریر : زاہد کبدانی

    معاشرے میں ٹکنالوجی سے چلنے والا ہے۔ ہم اپنے ٹیبز، سمارٹ فونز، لیپ ٹاپس کے ذریعہ اس ورچوئل دنیا سے مستقل رابطے میں ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان آلات کو طویل عرصے سے نمائش نہ صرف ہمارے کام کرنے اور کھیل کے انداز کو تبدیل کررہی ہے ، بلکہ یہ ہمارے سوچنے کے انداز کو بھی ڈرامائی انداز میں متاثر کررہی ہے۔ بہت کم لوگ کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ ، سوشل میڈیا اور کمپیوٹر گیمز کے استعمال سے صارف پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ یہ انسان کو کم معاشرتی تعامل اور انحصار کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کی ذاتی شناخت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ لیکن تحقیق اس نقطہ نظر کی مکمل حمایت نہیں کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت ساری مثبت خصوصیات بھی موجود ہیں! آج ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہم اس دنیا کے مختلف حصوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم فوری طور پر چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ ہم اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ رابطہ قائم کررہے ہیں اور نیا بنارہے ہیں۔ پیشہ کی فہرست لامتناہی ہے۔ لہذا ، اگر آپ مجھ سے پوچھیں ، کیا جدید ٹیکنالوجی ہمارے دماغ کے کام کرنے کے انداز کو بدل رہی ہے ، تو میں کہوں گا ، ‘ضرور ہاں!’ ہم اس دور میں ہیں جہاں ہم نے گوگل ، جی پی ایس ، کیلنڈر انتباہات اور کیلکولیٹروں سے اپنی میموری کو آؤٹ سورس کیا ہے۔ اب آپ کو ان حقائق کو یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو صرف اس پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی کہ اس کا استعمال کیسے کریں۔ پیشہ ور افراد کے ساتھ ، یقینی طور پر بھی بہت کم ہیں۔ آئیے ان کے بارے میں مختصر گفتگو کریں۔ پیشہ: مزید جسمانی کوششیں نہیں۔ ٹکنالوجی کی مدد سے زیادہ تر جسمانی کام آسانی سے ہوسکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ، آپ آسانی سے تھک نہیں جاتے ہیں۔ کم وقت اور کم لاگت میں ٹکنالوجی زیادہ کارکردگی مہیا کرتی ہے۔ ٹکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ، پیداوار میں غلطی کی پیمانے میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر ان پٹ درست ہے تو آپ نتیجہ پر اعتماد کرسکتے ہیں۔ حفاظتی آلات اور مشینری کی طرف شراکت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے الیکٹرانک گیجٹ اب زیادہ محفوظ ہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی نمایاں نمو دیکھنے میں آیا ہے۔ انسانوں کی زیادہ عمر میں نتیجہ اخذ کرنا۔ بدعنوانی: جیسے جسمانی کوششیں کم ہوئیں۔ لوگ زیادہ صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ بے روزگاری کا پیمانہ بڑھ گیا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی نے انسانی طاقت کی ضرورت کو کم کردیا ہے اور ملٹی ٹاسکنگ کی جاسکتی ہے۔

    ایک طرف ٹکنالوجی نے ہمیں اعلی محفوظ گیجٹ اور نیٹ ورک دیئے ہیں۔ دوسری طرف ، اس نے ہمیں ان میں فرق کرنے کے لئے بہت سارے طریق کار فراہم کیے ہیں۔ ایک بڑی بات یہ ہو سکتی ہے کہ یہ ماحول کے ساتھ کیا کر رہا ہے ، ‘ہماری ماں کی فطرت’۔ گاڑی جیسی ٹیکنالوجیز آلودگی کررہی ہیں اور قابل تجدید قابل تجدید ذرائع کو استعمال کررہی ہیں۔ میرا لے لو: ڈیجیٹل ٹکنالوجی سے پہلے ہی بھی تاریخ نے ٹیلی ویژن اور حتی کہ مشینوں کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے جو ممکنہ طور پر تہذیب کے زوال کا باعث بنے تھے۔ ماہر عمرانیات ولیم اوگبرن نے 1934 میں مشینی دور کے مقامی لوگوں کے بارے میں بات کی جن کا فطرت اور روایت سے تعلق ختم ہوگیا تھا ، اور جو طلاق کا شکار تھے۔ انسانوں کا ہمیشہ سے ٹکنالوجی سے ہم آہنگی کا رشتہ رہا ہے۔ بہرحال، وہ اس کے باپ / موجد ہیں۔ اور ایک باپ ہمیشہ جانتا ہے کہ اپنے بچے کے لئے لکیر کہاں کھینچنا ہے۔ میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ بحیثیت انسان ہمیں ایک ایسے شخص کی حیثیت سے ترقی کرنے اور زندگی کو آسان بنانے کےلئے ٹکنالوجی کا استعمال کرنا چاہئے۔ تباہ کن اور غیر صحت مند ماحول نہیں بنانا۔ ایک ہی وقت میں ، اس ٹیکنالوجی کو زمین کو مزید محفوظ اور صحت مند سیارے بنانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہم پر ہے کہ ہم کس طرح ٹیکنالوجی کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تو ، عقلمندی کا انتخاب کریں!

    @Z_Kubdani

  • عورت کارڈ اور مردانگی . تحریر : سیدہ ام حبیبہ

    عورت کارڈ اور مردانگی . تحریر : سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ تقسیم در تقسیم در تقسیم ہے.
    *ذات پات رنگ و نسل کی تقسیم
    *لسانیات کی بنا پہ تقسیم
    *صوبائی تقسیم
    یہ سب کسی طور قابل قبول ہیں اور تبدیل کیے جانے کی گنجائش موجود ہے مگر کوشش نہیں کی جاتیاور اگر کوشش کی جارہی ہے تو
    ناقابل تبدیلی تقسیم کو جو جنس کی بنا پہ ہے.

    مرد و زن سے معاشرے کا حسن ہے مگر یہی معاشرہ اس قدر پستی کا شکار ہو چکا ہے کہ کہیں تو صنف کی بنیاد پہ برتری کا احساس نمایاں کیے ہوئے ہے تو کہیں ہر جرم کے باوجود صنف کی آڑ میں چھپنے میں مصروف. یہ عورت کارڈ اورمردانگی دو ایسی اصطلاحات ہیں جو تقریبا روزانہ ہماری سماعتوں سے گزرتی ہیں. سیاست ہو یا نجی زندگی دونوں طرف اس کی گونج ہے.
    جہاں مرد اپنی برتری اپنی طاقت کی بنا پہ عورت پہ ہاتھ اٹھا کر ثابت کرے تو وہ مرد ہے ہی نہیں. جہاں عورت مرد کے مقابل آکر تمام وار آزمائے اور مذاحمت پہ رونا دھونا شروع ہو جائے کہ عورت ہے عورت کے ساتھ یہ ہو گیا وہ ہو گیا مرد ظالم ہے . تو جناب بلکل یہ عورت کارڈ ہے.

    بہت سی لبرل خواتین کے منہ سے سیاسی مخالفت کی بنا پہ سیاسی لیڈرز کو اور فوج کو اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں پڑتے سنا ہے.انکی ٹائم لائن پہ گالیاں اور ذومعنی گفتگو بھری ملے گی اور اظہار رائے اور مرد کی برابری کا مکمل احساس ملے گا
    مگر جونہی کسی ایک مرد نے اس کا جواب اسی انداز میں دیا تو وہی مظلومیت در آتی ہے کہ عورت ہے. عورت کی تذلیل ہو گئی تو جناب یہ "عورت کارڈ” ہے. عورت سیاستدان مرد سیاستدان کی جلسے میں تذلیل کرے اور بار بار کرے تو وہ بے باک اور نڈر کہلاتی ہے مگرمرد سیاستدان اسی عورت پہ اسی قسم کا وار واپس پلٹائے تو جن مردوں کا معاشرہ ہے عورت کی تذلیل کرتا ہے جناب یہ عورت کارڈ ہے. ایک اینکرمردوں پہ درشتی سے زبانی حملہ کرتی ہے مرد جواب میں بی بی زبان سنبھال کے کہہ دے تو عورت کی مظلومیت پہ لیکچر ہر طرف سے آتے ہیں تو جناب یہ عورت کارڈ ہے.

    جہاں مرد اختیارات کے ناجائز استعمال اور طاقت کے بل پہ صنف مخالف کا استحصال کرے تو یہ” مردانگی” نہیں ہے اسی طرح عورت بدزبانی کرنے کے بعد اپنے عورت کارڈ کے پیچھے چھپے تو یہ عورت پنا نہیں ہے.

    آفرین ہے ایک سیاستدان پہ کہ جس نے آج تک کسی عورت کو جواب نہیں دیا چاہے اس نے اس کے خلاف کیسی بھی زبان استعمال کی کیسا بھی الزام لگا اس نے خاموشی اختیار کی.عورت کو عورت کارڈ استعمال کرنے کا موقع ہی نہیں دیا.مرد کو بہر حال برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ مرد ہے اسکی مضبوطی اسکی طاقت اسکے جسم نہیں برداشت سے عبارت ہے.

    @hsbuddy18

  • ‏پڑھے لکھے قصائی   تحریر:  سہیل احمد

    ‏پڑھے لکھے قصائی تحریر: سہیل احمد

    آج پھر اپنے معاشرے کی تلخ حقیقت پر ایک نظر
    وہ کہتے ہیں ناں
    بد نالوں بدنام برا
    قابل مشاہدہ بات ہے ان دنوں کی جب سوشل میڈیا نام کی کوئی چیز بھی نہیں ہوتی تھی. صرف بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی یاں ریڈیو
    اسکول میں اساتذہ روحانی باپ کا رول ادا کرتے تھے
    گھر میں ماں بچوں کی نشونما پر زور دیتی تھی اور باپ حق حلال کمائی کو اپنا زریعہ معاش بنا کر بچوں کو اچھا انسان بنانے پر دن رات ایک کرتے تھے.
    اسی دوران اگر کہیں کوئی برائی نظر آتی تو اس پر پردہ ڈالنے کی بجائے اسے جڑ سے ختم کرواتے تھے.
    جھوٹ اور فریب پر سزا دی جاتی تھی.
    پولیس میں کالی بھیڑوں کی بدولت اس محکمے کو بدنام کرنے پر شدید ضرب لگائی گئی اور پھر اس پر ڈرامے اور لفظی جملوں نے جگہ لی . رہی سہی کسر آنے والے سی ایس پیز آفیسرز نے بھی پوری کروانے میں کوئی کسر ناں چھوڑی.
    آج تک اس محکمے پر لگے کالے دھبے کو کسی بھی کوشش کے باوجود ناں دھویا جا سکا.
    صرف یہی محکمہ بدنام کیوں رہا . کیا باقی محکمے روزانہ غلط کام نہ کرنے کا حلف اٹھاتے تھے.
    آج کل سوشل میڈیا بہت فاسٹ ہے.
    ہر ایک کے پاس اینڈرائیڈ فون اور بیسیوں چینل موجود ہیں ایک کلک پر دنیا کا احوال اور معلومات آپکے سامنے.
    16 سال پہلے کا سچا واقعہ
    نئی نئی جاب لگی.
    زہن بالکل کلیئر
    سکول اور گھریلو تربیت کیلیے بہت سخت لوگوں کے زیر سایہ رہا.
    رشوت لینے اور دینے والا دونوں جہنمی کا سبق یاد تھا . خیر ادویات کی مارکیٹنگ کا کام زمے تھا
    میڈیکل اسٹور .ڈاکٹرز , ڈسٹری بیوٹرز , اور اٹینڈنٹ کے ساتھ واسطہ پڑنے والا تھا.
    جو کچھ ذہن میں تھا سب کچھ ایسے ختم ہوا جیسے
    "” دور کے ڈھول سہانے”
    جن کو دیکھ کر پروفیشن جوائن کیا تھا انہوں نے تو کوٹھی.گاڑی.اور دنیاداری میں بہت اونچا مقام پایا تھا
    ہمارے زہن میں بھی وہی پروٹوکول تھا.
    پر شاید اک خواب بن کر رہ گیا.
    خیر :
    بھرپور تیاری کی لٹریچر یاد کیے گئے کہ کس طرح ڈاکٹر کو میڈیسن کے متعلق بریفنگ دیں گے.
    اچانک اسی دوران ٹیکنالوجی نے انگڑائی لی اور موبائل فون آنا شروع ہوئے.آدھا آدھا کلو والے پاکٹیل کے سیٹ سرفہرست تھے.
    ہر کسی کے منہ میں پانی آنا شروع ہوا.
    ایک ہفتے بعد جب باس کے ساتھ مشہور زمانہ لیڈی ڈاکٹر کے پاس پہنچے تو اس نے موبائل کی ڈیمانڈ کر دی
    اور کہا کہ ٹارگٹ بتاو
    میری معصومیت کا یہ عالم تھا کہ جب تفصیل پوچھی کہ باس یہ کیا ہے تو 5 دن گھر سے نہ نکل سکا یہ سوچ کر کہ یی تو سیدھی سادھی رشوت ہے
    ہم کس طرف جارہے ہیں .
    پھر جب بڑوں کی بیٹھک لگی تو کچھ یوں تفصیل ظاہر کی گئی کہ بیٹا آپ کو اس سے کیا .کمپنی جانے اس کا کام جانے .
    آپ نے تو ڈاکٹر کو دوائی ہروموٹ کرنی ہے اور اپنی تنخواہ لینی ہے
    خیر "” نوکر کی تے نخرہ کی "”
    سرکاری نوکری نہ ہونے پر اسی کو غنیمت جانا اور دوڑ لگا دی ..
    کیونکہ پیٹ کی خاطر مرتا نہ تو کیا کرتا.
    پھر نہ دن دیکھا نہ رات دیکھی اور ڈٹ گئے کہ کچھ کرکے ایک مقام کو حاصل کرنا ہے
    کچھ سال گزرے
    پروفیشن میں ایک محنتی کے طور پر امیج بنا لیا
    دوسرا دھجکا اس وقت لگا جب علاقے میں ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج بنایا گیا جس میں میرٹ پر پورا ناں اترنے والے بچوں کو بھی پیسے لے کر ڈاکٹر بنا دیا جانا تھا .
    ایک ڈاکٹر کے پاس بیٹھے تھے عمر کے لحاظ سے 55’s میں شمار ہوتے تھے. کافی اچھی بیٹھک ہوتی تھی انکے ساتھ.
    اسی وجہ سے سامنے ایک فون کال آئی .کیونکہ پی ٹی سی ایل کے پرانے سیٹ کے ہیڈ فون سے اچھی آواز دوسروں تک بھی پہنچ جاتی تھی سو ہم نے بھی سنا.
    ہوا کچھ یوں کہ انکے عزیز کے بیٹے کا میرٹ گرا ہوا تھا تو سوچا بچے کو ڈاکٹر بنائیں گے تو وراثتی کلینک سنبھال لے گا.
    لہذا 2007 میں 30 لاکھ پر بات فائینل ہوئی.
    جو آجکل شاید کروڑ کو ٹچ کر گئی ہو گی.
    ظاہر سی بات ہے جو لگاتا یے پھر کمانے پر بھی فتوئ اسے ہمارا معاشرہ ہی دیتا ہے
    پھر وقت نے زور دار انگڑائی لی اور مزید جدت آ گئی.سب کچھ بدل گیا.
    اب تو مارکیٹنگ کمپنیوں نے انفارمیشن آفیسرز کی جگہ عہدے کا نام سیلز پروموشن آفیسرز رکھ دیا
    "” سیل کو بڑھانے والا””
    زمانے کی نوعیت اور ڈاکٹروں کی ہوس کو مد نظر رکھتے ہوئے مالکان ڈائیریکٹ ڈیل میں آگئے اور رہی سہی محنتی ملازمین کی جگہ جعلی ڈگریوں والے اور چاپلوسی, خوشآمد پرست لوگوں نے لے لی.
    آج کل جو جتنا گڑھ ڈالے گا اتنا میٹھا کھائے گا والا حساب ہو گیا.
    17 سال پہلے جو ڈاکٹر کمپنی سے 1000 روپے کے رائیٹنگ پیڈ پرنٹ کروانے سے ڈرتے تھے
    آج وہ ان چیزوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں.
    خیر یہ تو کچھ بھی نہیں
    حلال حرام کی تمیز نہ ہونے کے برابر
    جو ڈاکٹر اپنی جیب سے ایک پنسل نہیں خرید پاتے تھے آج کمپنیاں انکے بچوں کے اسکول کی فیسیں, گاڑیوں کی قسطیں , ہوٹلوں میں گیدرنگ. پک اینڈ ڈراپ , یورپئین ٹوور, کلینک رینوویشن , ریٹرن ٹکٹس , کیش اماونٹ وغیرہ وغیرہ دینے پر مجبور ہو گئی ہیں .
    یہ سب لینے والے پر انحصار کرتا.
    کیسی بات ہے ڈاکٹروں نے
    نے نیچر "” قدرت”” کو پڑھا آج وہی قدرت کی مخلوق کو لوٹنے میں لگے.
    آج آپریشن کے نام پر لاکھوں روپے دینے پر لوگوں کو مجبور کیا جا ریا ہے.
    رہی سہی کسر تو ریاست نے انکو کلینک کے اندر فارمیسی کھولنے پر انکے دھندے کو چار چاند لگا دیئے ہیں .مارکیٹ میں فارمیسی پر کروڑوں لگانے والوں پر اب یہ بات فٹ آتی ہے
    "”باتیں کروڑوں کی دکان پکوڑوں کی””
    کیونکہ انکی سیل تو ڈاکڑر کے کلینک کی اپنی فارمیسی کی وجہ سے ٹھپ ہو گئی ہے
    آج ٹراسپیرینسی انٹرنیشل کی رپورٹ پڑھی جس میں پاکستانی سیاستدانوں کے بعد دوسرے نمبر پر ڈاکٹر آگئے ہیں
    سیاستدانوں نے ملک لوٹا
    جو بچ گئے تھے انہیں ڈاکٹروں نے لوٹ لیا.
    ہمارے پیارے پیغمبر صہ نے ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی تھی پر
    ہمارے کام تو شاید کافروں سے بھی بدتر ہیں
    کیسا کھلا تضاد ہے
    تعلیم اور پریکٹیکل
    جانا پھر بھی خالی ہاتھ
    ہم کس طرف چل پڑے ہیں
    انسان کی جگہ پیسے نے لے لی.
    "” جس نے ایک انشان کی جان بچائی. گویا اس نے ساری انسانیت کی جان بچائی””
    کیوں اتنا پیسا لگاتے ہیں اپنے بچوں کی تعلیم پر
    اگر انہوں نے کمانا ہی پیسا ہے تو اتنے سال اور دماغ خرچ کرنے سے بہتر ہے کوئی معقول کاروبار کر لیا جائے
    کم از کم پڑھے لکھے قصائی کہلوانے سے تو بچ جائیں گے.

    شاید "” شرم انکو مگر آتی نہیں "”
    ریاست ستو پی کر سو رہی ہے ٹھنڈے جو ہوتے.
    حیرت اس بات کی ہے
    کہ اتنے بد ہونے کے باوجود بدنام کیوں نہیں ہوئے .
    کیسا آنکھوں دیکھا زہر کھانے پر مجبور ہیں
    آج بھی لوگ ان قصائیوں کو ڈاکٹر صاحب کہہ کر پکارتے ہیں
    جیسے ملک لوٹنے والوں کو میڈیا
    نواز شریف صاحب , شہباز شریف صاحب, زرداری صاحب , مریم صفدر صاحبہ کے نام سے پکارتا ہے
    ایسا کیوں