Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ہماری خواتین اور سوشل میڈیا صارفین   تحریر: سعادت حسین عباسی

    ہماری خواتین اور سوشل میڈیا صارفین  تحریر: سعادت حسین عباسی

    ٹویٹر: IamSaadatAbbasi@ 

    چند روز قبل کی بات ہے کہ ٹویٹر پر میری نظروں سے ایک ٹویٹ گزری جو ایک معروف پاکستانی سلیبرٹی کی طرف سے کی گئی تھی جس میں انہوں نے یہ لکھا کہ میں نے تین شادیاں کی اور تینوں میں سے کوئی شوہر بھی مجھے خوش نہ رکھ سکا۔ اب یہ اس سلیبرٹی کی طرف سے ایک نارمل ٹویٹ تھا جو انہوں نے اپنی لائف کے حوالے سے کیا جو کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی تہذیب وتمدن سے پاک تھا لیکن ہمارے سوشل میڈیا صارفین پر صد ہا افسوس کہ اس ٹویٹ کو ایسا رنگ دیا کہ اس معروف سیلبرٹی کو اپنا وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس ٹویٹ کو لیکر ایسی نازیبہ گفتگو کی جو کہ لکھنے کے قابل نہیں ہے۔ اب اسی تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں اگرایسے حالات کسی مرد کی زندگی میں آتے اور وہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر کرتا کہ میں نے تین شادیاں کی لیکن تینوں بیویاں مجھے خوش نہ رکھ سکی تو اس پر بھی تنقید مرد پر نہیں کی جاتی بلکہ اس میں بھی تنقید کا نشانہ سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے خواتین کو بنایا جاتا۔ اور ان خواتین کے بارے میں ایسی ایسی گفتگو کی جاتی جو قابل ذکر بھی نہیں ہوتی۔ 

    جب کہ ہمارا تعلق ایک اسلامی ملک سے ہیں ہم ایک اسلامی ملک میں پیداہوئے ہیں اور ہمارا مذہب اسلام خواتین کی عزت واحترام کا درس دیتا ہے لیکن بطور ایک سوشل میڈیا صارف ہم کیوں نہیں اس بات کو سمجھ پاتے ہیں کہ ہمارے گھر میں بھی ماں،بہن، بیٹی موجود ہیں کل کو ان پر بھی ایسے وار ہوسکتے ہیں جس سے ان کی دل آزاری ہوسکتی ہے۔ لیکن پھر بھی ہم کیوں ہر چیز میں نشانہ خواتین کو ہی بناتے ہیں؟ کیا ہماری تعلیم میں کمی رہ جاتی ہے یا ہماری تربیت اچھی نہیں ہوپاتی جس کی وجہ سے ہم اس ٹریک پر چل پڑتے ہیں جس سے کسی کی بھی دل آزاری ہوتی ہو۔ دو ماہ قبل اسلام آباد میں قتل ہونے والی سابق سفیر کی بیٹی نورمقدم کو بھی سوشل میدیا صارفین تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں جس سے بہت سارے ان کے فیملی کے لوگ دوست احباب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہی چھوڑ کے چلے گئے ہیں۔

    حال ہی میں سوشل میڈیا پرایک اور معروف پاکستانی سرجن نے ایک تصویر جس میں انہوں نے اپنی چند جونیئر سرجنز کے ساتھ اس عنوان کے ساتھ اپلوڈ کی کہ خواتین بھی سرجن بن سکتی ہیں اور ہمارے معاشرے میں ہمارا بازو بن کر کام کر سکتی ہیں اس تصویر کے نیچے  جہاں بہت سارے صارفین اس بات کو سراہا رہے تھے وہی پر ہمارے تنگ نظر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ایسے کمنٹس بھی تھے جن میں انہوں نے یہ لکھا تھا کہ ان سب کو سرجن بنانے کی بجائے کھانا بنانا سکھا دیتے تاکہ وہ اپنے سسرال میں جا کر خوش رہ سکتی یہاں تک کہ کچھ صارفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وجہ سے طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے کیونکہ خواتین تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ہر فیلڈ میں مردوں کے مد مقابل آرہی ہیں لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو دو باتیں سامنے آتی ہیں، پہلی یہ کہ ایک پڑھی لکھی خاتون اپنا گھر اچھے طریقے سے چلا سکتی ہے اور ہر قدم پر شوہر کے ساتھ ملکر آگے بڑھ سکتی ہے اور دوسری بات جب ان صارفین حضرات کو کوئی بھی مسئلہ ہوتا ہے گھر میں کوئی بیمار ہوجاتا ہے یا گھر میں کسی کا ڈلیوری کیس ہو تو یہی صارفین ہسپتالوں میں جا کر لیڈی ڈاکٹر ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں یہ دوہرا معیار آخر کیوں رکھتے ہیں تب ہسپتالوں میں مرد ڈاکٹر حضرات کے پاس کیوں نہیں جاتے تب تو ہر حال میں ان کو لیڈی ڈاکٹر کو ہی دکھانا ہوتا ہے۔ سوشل  میڈیا پر ایسے صارفین ہر طرح کی خواتین کو ہراساں کرتے نظر آتے ہیں کبھی مثبت رویہ نہیں اختیار کرتے ہمیشہ ہر چیز کو منفی رنگ دیتے ہیں۔ ایسے ٹرولر صارفین کے لیے حکومت کو چاہیے کہ کوئی ضابطہ اخلاق کا قانون بنایا جائے اور اس پر عملدرآمد بھی کروایا جائے نا کہ صرف قانون کی حد تک محفوظ رکھا جائے ۔ یہی پر ذکر کرتا چلوں کہ ۲۰۱۸ میں گورنمنٹ کی طرف سے سائبر کرائم قانون پاس ہوا تھا جس پر ایسے صارفین کے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے لیکن جس ادارے کو یہ کام سونپا گیا ہے ان کی قابلیت پر صدہا افسوس کیونکہ اس ادارے میں سائبر کرائم سیل میں ایسے افراد بیٹھے ہوئے ہیں جن کو انٹرنیٹ سرچنگ تک نہیں آتی اور کچھ تو ایسے ہیں جن کو کمپیوٹر آپریٹ کرنا بھی نہیں آتا۔ کچھ دن قبل ایک ایسے ہی کیس کے سلسلے میں اس ادارے میں جانا پڑا وہاں پر جا کر جب اپنی درخواست دی تو اس کے بعد اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا لنک بھی دیا لیکن پہلے تو وہاں پر انٹرنیٹ ہی ٹھیک سے کام نہین کر رہا تھا تین چار بار اس ادارے کے ایک ملازم نے انٹرنیٹ ڈیوائس کو ری سٹارٹ کر کے آخر کار انٹرنیٹ تو چلا ہی لیا اب جب اس لنک کو یوارایل میں پیسٹ کر کے سرچنگ کرنے کا میں نے کہا تو ان صاحب سے نہ ہوسکا آخر کار میں نے خود ہی ان کو سارا کام کر کے دیا، میری حکومت سے یہ اپیل بھی ہے کہ سائبر کرائم سیل میں کم از کم ان لوگوں کو بٹھایا جائے جو سائبر کرائم کو سمجھتے ہوں جس کو کمپیوٹر آپریٹ کرنا نا آتا ہو وہ کیا سائبر کرائم کو سمجھے گا۔  خیر یہ تو ایک الگ مسئلہ ہے جسکو حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنا چاہیے۔ 

    ایسے اور بھی  بے شمار واقعات ملتے ہیں جن میں خواتین کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے ۔خدارا سنبھل جائیں ہم ایک اسلامی ملک میں رہتے ہین مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں ہمیں اپنی خواتین کو عزت واحترام دینا ہوگا اور یہی ہمارا فریضہ بنتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں حوس اس قدر بھر چکی ہے کہ ہر چیز میں اپنی حوس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں ۔ہماری مائیں ہماری بیٹیاں ہماری بہنیں اس ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہیں اس لیے ہر چیز سے بالاتر ہوکر ان کو عزت واحترام دیں اور ان کی عزت وآبرو کی حفاظت کریں۔  

    ٹویٹرپروفائل لنک: 

    @IamSaadatAbbasi

  • خدا کا شکر ادا کرنا سیکھیں تحریر: نعمان سرور

    خدا کا شکر ادا کرنا سیکھیں تحریر: نعمان سرور


    اسٹریس ہائپر ٹینشن ڈپریشن ٹینشن آجکل اس طرح کے مسائل ہر انسان کو درپیش
    ہیں بڑے دکھ کی بات ہے ہمارے معاشرے میں نفسیات اور احساسات کو زیادہ
    اہمیت نہیں دی جاتی جب کہ ہر دوسرا انسان اپنے اندر ایک جنگ لڑ رہا ہے
    بعض اوقات کچھ یادیں تکلیفیں الجھنیں انسان کو اندر ہی اندر توڑ کر رکھ
    دیتی ہیں اور انسان پر مایوسی اور دل شکستگی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے
    انسان اپنی توجہ دنیا کی ہر چیز سے ہٹا کر ایک نقطے پر مرکوز کر دیتا وہ
    ہے  بے سکونی ,مایوسی ,نا امیدی ,چڑچڑا پن۔

    ڈپریشن کا زیادہ شکار حساس لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو خوش کرتے کرتے اپنی
    زات کو فراموش کر دیتے ہیں روزمرہ کی زندگی میں دیکھیں تو ایک طالب علم
    سے لے کر نوکری کرنے والا انسان کسی نہ کسی ذہنی دباؤ کا شکار ہے کچھ تو
    کام کا تحاشہ لوڈ طویل دورانیے کی نوکری بھی اچھے خاصے انسان کو چڑ چیڑا
    بنا دیتی ہے۔

    کیا کبھی کسی نے سوچا کہ انسان ذہنی مریض کیوں بنتا ہے کیا وجہ ہے دن بدن
    انسان اپنی زندگی سے مایوس ہو جاتا ہے کبھی سوچا اذیت کی وہ کیا انتہا ہو
    گی کہ انسان اس حد تک بے بس ہو جاتا کہ وہ خودکشی تک کرنے پر موجود ہوتا
    ہے ہمارے معاشرے کی یہ بد قسمتی ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اس کو بیماری
    ہی نہیں سمجھتے ہمارے نزدیک بیماری وہی ہے جو نظر آجائے اور جب تک ہمیں
    یہ بات سمجھ آتی ہے بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

    عموماً دیکھا گیا ہے ڈپریشن عام انسان سے زیادہ پڑھے لکھے، مایوس، نوکری
    پیشہ، بیمار ،تنہائی میں مبتلا لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تو
    محبتوں سے محروم ہوتے ہیں احساس محرومی ان کی رگوں میں سرائیت کر جاتی ہے
    جو تکلیف اور ناامیدی کا باعث بنتی ہے یا یہ کہہ لیں کبھی کبھی انسانی
    رویے، ان کے کہے کچھ الفاظ درد کا باعث بنتے ہیں غیروں کے الفاظ انکے
    رویے بھی انسان کسی حد تک سہہ لیتا ہے مگر جب بات دل سے جڑے رشتوں کی
    ہوتی ہے تو وہ کٹ کر رہ جاتا ہے  یا جب اپنے چاہنے والوں سے رخصت ہونا
    پڑتا ہے تو انسان کے پاس بس ان کی یادیں ہوتی ہیں جو اس کا جینا محال کر
    دیتی ہیں کبھی کوئی حالات کا مارا ہوتا نفرت کا ڈسا ہوتا یا محبت کا لوگ
    کس تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں کسی کو احساس نہیں ہوتا کیوں کہ ہمارے
    معاشرے میں درد پر مرہم رکھنے کی ریت نہیں بلکہ دوسرے کے دکھوں کو لوگ
    ہرا کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں  ایسا نفسا نفسی کا دور ہے کسی کی نیند
    ٹوٹے یا خواب دل ٹوٹے یا ہمت کسی کو کوئی پرواہ نہیں لوگ اپنی دنیا میں
    ہی مست رہتے۔

     ایسا بھی دیکھا گیا ہے کبھی کبھی انسان ڈپریشن خود پر بھی مسلط کر لیتا
    ہے وجہ ہوتی ہماری لاشعور میں پلنے والی تکلیفیں, یادیں,تلخیاں اور یہ
    پھر ہماری زندگی کے ہر حصے پر اثر انداز ہوتی ہیں  انسان نہ ٹھیک سے کوئی
    کام کر سکتا ہے نہ کوئی فیصلہ لے پاتا ہے بس مایوسی کے دلدل میں دھنستا
    چلا جاتا ہے۔

    بہت سی نامور شخصیات کے بارے میں سنا ہو گا دولت عزت شہرت  دنیا کی ہر
    آسائش ہونے کے باوجود اپنی زندگی سے مایوس ہو کر سکوں کی تلاش میں نشے کی
    لت میں پڑ جاتے یا اتنے بیزار ہو جاتے خودکشی پر مجبور ہو جاتے اس طرح کی
    تمام برائیوں کی جڑ  ایمان کی کمی ہے انسان در بدر سکون کی تلاش میں رہتا
    ہے مگر انسان یہ سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے کہ سکون کا تعلق دل سے ہوتا ہے
    دل اس کا مطمین ہو گا تو سکون خود بخود اس کے اندر سرایت کر جائے گا مگر
    سوال یہ ہے کہ دل مطمئن کیسے کریں تو اس کا آسان جواب بیشک اللّٰہ کے ذکر
    میں ہی سکون ہے یعنی اللّٰہ پاک کو یاد کرنا اسکی عبادت کرنا اس کے ذکر
    کو اسکے احکامات کو اپنی روح میں ڈھالنا ہے۔ جس سکون کو ہم دنیا بھر میں
    ڈھونڈنے پھرتے ہیں  وہ تو ہماری شہہ رگ سے بھی قریب تر ہے۔

     اگر آپ اپنی زندگی میں ﻣﺜﺒﺖ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻓﮑﺮ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﺎﺩﯼ بن جائیں ﺗﻮ کسی
    قسم کا ﺩﺑﺎﻭٔ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮕﺎﮌ ﺳﮑتا منفی سوچوں خیالات سے دور رہیں
    ہر حال میں اللّٰہ پاک کا شکر ادا کریں اپنے لیے جینا سیکھیں یہ آپ خود
    پر منحصر ہے کہ آپ  اپنی ذہنی پریشانی سے خود کو اس سے کیسے باہر نکالتے
    ہیں یہ آپ نے طے کرنا کہ آپ کے اندر کون سے صلاحیت ہے جسے بروئے کار لا
    کر خودکو ہلکا پھلکا محسوس کر سکتے ہیں جیسے کہ اچھی کتابیں پڑھیں
    باغبانی کریں وغیرہ وغیرہ یا اپنے والدین سے بات کریں نہیں ہیں تو کسی
    قریبی دوست سے اپنے دل کی بات کریں یقین کریں آپ واقعی خود کو ہلکا پھلکا
    محسوس کریں گے اپنے اندر خوشگوار تبدیلی محسوس کریں گے۔

      کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے میں خود بہت مایوس ہو جاتا ہوں شدید ڈپریشن
    ہوتا ایسا لگتا جیسے سر درد سے پھٹ جاۓ گا ایسے میں  سورہ رحمن کی تلاوت
    سنتا ہوں سکون جیسے نس نس میں اتر جاتا ہے۔کبھی ایسا بھی ہوتا میں  اپنے
    خیالات کو اپنی پریشانیوں کو کاغذ پر اتار کر دل ہلکا کر لیتا ہوں دنیا
    میں شاید میرے جیسے بے شمار لوگ ہوں کہ جن کو سنے والا سمجھنے والا کوئی
    نہیں ہوتا تو انکے پاس بس کاغد اور قلم کا سہارا ہوتا۔ یہ میرا ذاتی
    تجربہ ہے اور میں نے بہت حد تک فضول سوچنا اور ٹینشنز پالنا ختم کر دی
    ہیں بجائے ہم منفی ردعمل اپنائیں مثبت چیزیں کر کے دیکھیں بہت حد تک بہتر
    محسوس کریں گے۔۔!!

    ٹویٹر اکاؤنٹ

    ‎@Nomysahir

  • سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    سیاست چمکاتے سیاستدان اور نظام تعلیم تحریر حمیرا نذیر

    کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی
    سماتی کہاں اس فقیری میں میری
    سیاست نے مذہب سے پیچھا چھڑایا
    چلی کچھ نہ پیرِ کلیسا کی پیری
    ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی
    ہوس کی امیری ہوس کی وزیری
    سیاست کی دوڑ میں ہانپے ہوئے سیاستدان، ملکی مفاد کو پس پشت ڈالتے ہوئے انفرادی مفاد کی خاطر ہر چیز کا سودا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہر ایک اپنی جماعت کے دفاع میں دوسروں پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف ہے۔ جس کی مد میں کبھی پانامہ کیس سامنے آتا ہے تو کبھی پینڈورا لیکس، ان سب میں نظام تعلیم کے مسائل اور مشکلات حکومتی ترجیحات سے کوسوں دور ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کسی بھی ملک کی بنیادیں تعلیم پہ استوار ہوتی ہیں اور ہر وہ ملک اور معاشرہ جو تعلیم سے منہ موڑ لیتا ہے وہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اپنے نوجوانوں کو بہتر سے بہتر تعلیم دینے کے بجائے ان کے سامنے نت نئے سیاسی ہتھکنڈے رکھ دیے جاتے ہیں کہیں کرپشن اور کہیں بے حیائی، کہیں مہنگائی کے مسائل تو کہیں سکرین پہ بیٹھے سیاستدانوں کے جھگڑے اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو! یہ تربیت ہے ہمارے ان معززین کی جن کے ہاتھوں میں اس ملک کی بھاگ دوڑ ہے۔ جنہوں نے ملک کے ساتھ وفا کے عہد کر رکھے ہیں۔
    حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے
    جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا
    اس تحریر کی بساط سے میرا مقصد ایک ایسے پہلو کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے جس کی وجہ سے طالبعلم نہایت مایوسی کا شکار ہیں۔ میٹرک اور انٹر کے نتائج تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں نجانے کتنی تواریخ دی گئیں اور انٹر کے نتیجے سے ایک دن قبل اس کو منسوخ کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا اور ابھی تک نئی تواریخ کا اعلان نہیں کیا گیا جس کے باعث طالبعلم تذبذب کا شکار ہیں انہیں اپنا سال برباد ہوتا نظر آ رہا ہے۔ کورس کا دورانیہ کم ہوتا جا رہا ہے اور ملکی ترقی کی ضامن افرادی قوت ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔ یونیورسٹیوں کے داخلے رکے ہوئے ہیں ان کے سمسٹر سسٹمز تباہی کے دہانے پہ کھڑے ہیں لیکن ہماری حکومت کو سیاست سے فرست ہی نہیں۔ پروموشن پالیسی منظور ہونے کا بہانہ بنا کر عوام کو لالی پاپ دیا گیا لیکن تاحال اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل پایا۔ جن بورڈز کا رزلٹ آیا ہے ان میں بھی مردان بورڈ میں 1100 میں سے 1100 نمبر دیے گئے جو کہ ناممکنات میں سے ایک بات تھی۔ ہماری تعلیم کا معیار کس قدر گر گیا اس کا اندازہ اس بات سے ہم بآسانی لگا سکتے ہیں۔ بچوں کا رٹالائزیش کی مشین میں گھمایا جاتا ہے اور پھر سوچی سمجھی سکیم کے مطابق پرچہ آتا ہے جس کا طلبعلم کو پہلے ہی علم ہوتا ہے کہ کونسی سبق میں سے معروضی اور انشائیہ کے کتنے کتنے سوال آنے ہیں اور سوالوں کا بھی تقریبا سب کو اندازہ ہوتا ہے۔ اس نظام تعلیم نے تباہی یہ برپا کی کہ ہمارے ہاں کوئی سائنسدان، فلسفی اور کوئی اہل علم نہیں پید ہوتا۔ ایک وقت تھا کہ ہمارے ہی بزرگوں نے سائنس کی بنیاد رکھی تھی جابر بن حیان جسے کیمیا کا بانی کہا جاتا ہے، ابوالقاسم زھراوی جس نے قانون فی الطب لکھ کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالا، محمد بن موسی الخوارزمی جس نے الجبرا کی شناخت کروائی، ابن الہیشم جس نے کیمرے کی ایجاد کی اور روشنی کے آنکھ میں داخل ہونے کی قیاس آرائی کی، عمر خیام نے شمسی کیلنڈر بنایا، عباس بن فرانس جس نے پہلا ہوائی جہاز بنایا ، محمد بن زکریا رازی نے تپ دق کا علاج اور چیچک کا ٹیکہ بنایا۔ بات یہاں پہ ختم نہیں ہوتی ایک لمبی فہرست ہے جس کا احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔
    گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
    ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
    حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی
    نہیں دنیا کے آئینِ مسلَّم سے کوئی چارا
    مگر وہ عِلم کے موتی، کتابیں اپنے آبا کی
    جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا
    اور دوسری طرف کویڈ کے کیسس کم سے کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور تا حال تعلیمی نظام کو اس طرح بحال نہیں کیا گیا ، جامعات بند ہیں۔ جب کے ملک میں مارکیٹس سے لے کر پارکوں تک، شادی حال اور سینما گھر سب کھلا ہے بند ہیں تو صرف جامعات۔ جہاں نہ صرف تعلیم کا حرج ہو رہا ہے بلکہ نوجوان نسل سکرین ٹائمنگ بڑھنے سے مختلف مسائل کا بھی شکار ہو رہی ہے ۔ آنکھوں کے مسائل، اعصابی نظام کے مسائل اور ڈپریشن سر فہرست ہیں۔ یہ سب صرف اور صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم لوگوں کے لیے تفریح تعلیم سے بڑھ کے ہے، ہمارے لیے سیاست اور کاروبار سب اولین ترجیح ہیں تعلیم تو کہیں ہے ہی نہیں۔ ایسی صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کو تعلیمی نظام متاثر کرنے سے روکا جائے اور جہاں ہر اخبار سیاسی خبروں کی سرخیوں سے مزین ہوتا ہے وہاں تعلیمی مسائل کو بھی اجاگر کیا جائے تاکہ حکومت کی توجہ مبذول کروائی جا سکے۔ کیونکہ یہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں اور مستقبل کو اپنے ہاتھوں سے برباد کرنا کسی سمجھدار قوم کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں تو ملکی سرمائے کو نہایت حفاظت کے ساتھ سنبھالنے سے ہی ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں اور ترقی پذیر ملکوں کی فہرستوں سے نکل کہ ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں سر فہرست آ سکتے ہیں۔ خدارا ہم سب کا حامی و ناصر ہو (آمین)۔
    زمانے کے انداز بدلے گئے ۔
    نیا راگ ہے ساز بدلے گئے۔
    ہوا اس طرح فاش راز فرنگ ,
    کہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگ ۔
    پرانی سیاست گری خوار ہے ,
    زمیں میر و وسلطاں سے بے زار ہے ۔
    گیا دور سرمایہ داری گیا ۔
    تماشا دکھا کر مداری گیا

    :
    Twitter: @iamhumera_

  • الوداع "محسن پاکستان” الوادع تحریر: سحر عارف

    الوداع "محسن پاکستان” الوادع تحریر: سحر عارف


    سن 1936ء کو بھارت کے شہر بھوپال میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبدالقدیر خان رکھا گیا۔ کون جانتا تھا کہ یہ بچہ بڑا ہوکر سانئس دان بنے گا۔ ایک ایسا سانئس دان جو پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا دے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے آباؤ اجداد کا تعلق بھوپال سے تھا۔ مگر سن 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد جب پاکستان وجود میں آیا تو ان کا پورا خاندان بھارت سے ہجرت کر کے پاکستان میں آکر آباد ہوگیا۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی ابتدائی تعلیم پاکستان سے حاصل کی اور سن 1960ء میں کراچی یونیورسٹی سے سائنس کی ڈگری لینے کے بعد وہ مزید علم کے حصول کی خاطر جرمن کے دارالحکومت برلن چکے گئے۔ کافی عرصہ وہاں قیام پذیر رہے اور پھر اسی عرصے کے دوران انھوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کو بھارت کی جانب سے نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

    پھر 1971ء کی جنگ میں پاکستان کو جن صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو ان درپیش مسائل سے نکالنے اور پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی تھان لی۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے 1974 میں ذولفقار علی بھٹو کو ایک پیغام بھجوایا کہ وہ جوہری قوت کے حصول اور پاکستان کو ایک مضبوط ایٹمی قوت بنانے کے لیے بھرپور مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

    پھر اسی طرح یہ سلسلہ آگے بڑھا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1976 کو مستقل طور پر اپنی اہلیہ ہنی خان اور دو بیٹیوں کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوگئے۔ کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے کے لیے ان کے وطن کو ان کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہ یہ کام ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا۔ یہ وطن کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہی تو تھا کہ جس کی بدولت آپ ہالینڈ میں اپنی اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر پاکستان واپس چلے آئے۔

    اس اہم فیصلے میں ان کی اہلیہ ہنی خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے اندر پاکستان کے لیے عشق کے جذبے کو دیکھتے ہوئے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کے ساتھ ہی پاکستان آگئیں۔ وطن واپس آتے ہی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے 1976 کے وسط میں ای آر ایل یعنی کہ "انجنیرنگ ریسرچ لیبارٹری” کی بنیاد رکھی۔ بعد میں 1981 کو اس لیبارٹری کا نام "خان ریسرچ لیبارٹری” رکھ دیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک کو جوہری طاقت بنانے کے لیے انتھک محنت کرتے ہوئے اپنی گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔

    اور پھر 28 مئ 1998 کا وہ تاریخی دن تو سب کو یاد ہی ہوگا جب بھارت کے ایٹمی دھماکے کے جواب کے طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سربراہی میں چاغی کے مقام پر کامیاب ترین ایٹمی تجربہ کرتے ہوئے بھارت سمیت پوری دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہی تو وہ ہستی ہیں جن کی بدولت آج ہم اپنے ملک میں بغیر کسی خوف و خطر کے کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

    آج اگر بھارت ہمیں جنگ کی دھمکی دیتا ہے تو ہمارے چہروں پر خوف کا سایہ نہیں لہراتا بلکہ ہم پر سکون ہوکر انھیں جواب دیتے ہیں۔ وہ شخص وہ "محسن پاکستان” جس کی بدولت آج پاکستان بھارت کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوجاتا ہے اب سے کچھ گھنٹے قبل شدید علالت کے بعد رحلت فرما گیا ہے۔ یاں یوں کہوں تو کچھ غلط نا ہوگا کہ اب سے کچھ گھنٹے قبل پاکستان نے اپنا سب سے قیمتی اثاثہ کھو دیا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر جہاں پوری قوم اشکبار ہے وہیں آج پاکستان کے اتنے بڑے نقصان پر قومی پرچم کو بھی سرنگوں کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان خود تو اس دنیا سے چلے گئے پر ان کا نام اور ان کا کام رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ الوداع "محسن پاکستان” الوداع

    مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا
    جب بھی اس شہر کی تاریخ وفا لکھے گی
    میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہوگا
    میرا نوحہ انھیں گلیوں کی ہوا لکھے گی !!!

    ‎@SeharSulehri

  • مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں تحریر عابد آفریدی


    حدیث نبویﷺ ۔

    مفہوم۔  ”ماں کا حق ادا کرتے رہو، قسم ہے اللہ کی اگر تم اپنا گوشت کاٹ کربھی اسے دے ڈالو تب بھی اس کا چوتھائی حق ادا نہ ہوگا”

    عمران خان کی والدہ کا انتقال کینسر کی وجہ سے ہوا تو عمران خان نے اپنی ماں کی یاد اور محبت میں دِن رات ایک کرکے اپنی والدہ کے نام سے شوکت خانم کینسر ہسپتال قائم کیاکیونکہ جس مرض سے اُن کی والدہ کی وفات ہوئی عمران خان یہ نہیں چاہتے تھے کہ کسی اور کی ماں اس تکلیف سے وفات پا جائے۔ یہ اُن کا اپنی والدہ کے ساتھ محبت کا اظہار تھا

    والدین کی فرمانبرداری اور خدمت کے بارے میں ایک حدیث مبارکہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ کون اس کا مستحق ہے کہ میں اسکے ساتھ خیر خواہی کروں؟ حضور ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ پھر عرض کیا اس کے بعد؟ حضور ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ پھرعرض کیا اس کے بعد ؟ حضور ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ پھر عرض کیا اس کے بعد ؟ حضور ﷺ نے فرمایا تیرا باپ۔ امام بخاری اور مسلم شریف نے روایت کیا ہے

    ماں باپ سے محبت اور اُن کی خدمت کے متعلق اللہ سبحانہ وتعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے

    اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اسکے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اِن سے اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اِن سے بات ادب کے ساتھ کرنا

    ماں سے محبت کے متعلق مجھے ایک سچی کہانی یاد آگئی جس کو میں آپ لوگوں کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں

    بابرزمان گاؤں میں بائیک ریپئرنگ کا کام کرتا ہے، پڑھا لکھا نہیں لیکن محنتی لڑکا ہے اور اپنے ضروریات سے زیادہ پیسہ کماتا ہے، باپ کا انتقال ہو گیا ہے، ماں کے ساتھ رہتا ہے اور دو بہنوں کی شادی کروا چکا ہے

    عمران خان کے خلاف ایک لفظ نہیں سن سکتا ایموشںل ہو جاتا ہے اور کئی بار لوگوں سے تلخ کلامی یا ہاتاپائی کر چکا ہے پچھلے الیکشن میں پارٹی کے لیے فائنانشل سپورٹ کے علاوہ اتنا دوڑ دھوپ کیا تھا کہ بیمار ہو گیا تھا

    کسی دوست نے عمران خان سے بے پناہ محبت کی وجہ پوچھی تو بابر نے کہا کہ میری ماں کو کینسر ہوا تھا لوگوں نے مشورہ دیا کہ لاہور میں کینسر ہسپتال ہے جو عمران خان نے بنایا ہے اور آپ اپنی ماں کو وہاں لے جاو علاج مفت ہے اور تمہاری ماں انشاللہ ٹھیک ہو جائے گی

    وہ اپنی ماں کو لاہور لے گیا اور کینسر ہسپتال میں ڈاکٹروں نے معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ اپ ماں جی کو گھر لے جاو اور کچھ ہفتے یا مہینوں کا وقت دیا کہ اس کے بعد آجاو کیونکہ ہمارے پاس الریڈی مریض زیادہ ہیں اور لیمٹڈ کیپیسٹی کی وجہ سے ہم اور مریضوں کو داخل نہیں کر سکتے

    بابر اپنی ماں کو گھر واپس لے آیا اور اسی دن اسلام آباد چلا گیا ٹیکسی ڈرائیور سے کہا کہ مجھے عمران خان کے گھر لے جاؤ بابر بنی گالا پہنچ گیا اور گیٹ پر بتایا کہ خان صاحب سے کہہ دو کے پی سے بابر نام کا ایک لڑکاآیا ہے جو آپ سے ملنا چاہتا ہے نوکر نے خان صاحب کو بتایا تو خان صاحب نے کہا کہ اس کو اندر لے او اور بٹھاؤ تب تک میں شاور لیتا ہوں

    خان صاحب فریش ہوکر آیا تو بابر سے پوچھا کہو کون ہو کہاں سے اور کیسے انا ہوا، بابر نے ماں کے بیماری کی پوری کہانی خان صاحب کو سنا دی اور خان صاحب نے کہا کہ فکر مت کرو میں کچھ کرتا ہوں اپنا فون نمبر چھوڑ دو میں کل پرسوں اپ کو اطلاع کر دونگا

    خان صاحب نے بابر کو چائے پلائی اور پوچھا کہ اب کہاں جانا ہے تمہیں تو بابر نے کہا کہ میں بس سٹیشن جاونگا اور وہاں سے اپنے گھر تو خان صاحب نے کہا کہ میں اسی طرف جا رہا ہوں تم میرے ساتھ چلو میں تمہیں بس سٹیشن ڈراپ کر دوں گا اور وہ خان صاحب کے ساتھ گاڑی میں بس سٹیشن پہنچ کر بس میں بیٹھ کر گاوں پہنچ گیا چار دن بعد خان صاحب نے بابر کو کال کیا اور کہا کہ ماں جی کو ہسپتال لے کر جاو اس کا ایڈمشن ہو گیا ہے اور علاج شروع ہو جائے گا بابر ماں جی کو ہسپتال لے گیا اور اس کا علاج شروع ہو گیا اب الحمداللہ وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گئی ہے بابر کے ماں کی بیماری اور علاج کو کئی سال گزر گئے لیکن اج بھی بابر کی ماں اپنے بچے سے پہلے عمران خان کے لیے دعا کرتی ہے اور بابر کہتا ہے کہ میری زندگی اللّٰہ صبحانہ و تعالیٰ کی امانت ہے لیکن میری دعا ہے کہ میری عمر عمران خان کو لگ جائے تاکہ غریب لوگوں کی مائیں سلامت رہے

     

    ‎@soon_abid 

  • تدفین پر بھی یو ٹرن تحریر: ذکیہ نّیر

    فیصل مسجد کے احاطے میں قبر کھودنے کے مناظر سبھی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر دیکھے وہ آخری آرام گاہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تیار کی جارہی تھی قبر کھود دی گئی اینٹیں بھی رکھ لی گئیں مگر نمازِ جنازہ کے فوراً بعد انہیں اسلام آباد کے ایچ ایٹ قبرستان میں دفنا دیا گیا ایسی کیا جلدی تھی یا پھر کون سا ایسا خوف تھا کہ تدفین قومی ہیرو کی وصیت کے مطابق نہ کی جاسکی جو کارنامہ ڈاکٹر صاحب نے اس مملکت کے لیے سر انجام دیا انکا تو جنازہ بھی اس شایان شان نہ تھا۔وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے رسماً ڈاکٹر صاحب کی وفات پر "صرف”افسوس کا اظہار ہی کیا جبکہ ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ تدفین مرحوم کی وصیت کے مطابق فیصل مسجد میں ہوگی مگر اس معاملے پر وزیراعظم کا یو ٹرن تب قوم نے دیکھا جب نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو ایمبولینس کے ذریعے ایچ ایٹ پہنچا دفنا دیاگیا۔ زندہ دل اور احسان مند قوم کی ایک بڑی تعداد نے جنازے کو کندھا دیا نماز جنازہ میں شرکت کے لیے آنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی ک فیصل مسجد کو جانے والی سڑک بلاک ہوگئی شہریوں نے "ڈاکٹر قدیر زندہ باد”کے نعرے لگائے سرخ گلاب بھی نچھاور کیے کچھ لوگ بین کرتے بھی دکھائی دئیے ہر آنکھ اشکبار تھی ہر سر جھکا ہوا تھا ہر نظر چھپتی پھر رہی تھی کہ جو سلوک انکی زندگی میں روا رکھا گیا اس پر شرم ہی محسوس کی جاسکتی تھی خیر پاکستانیوں کی محبت نے ثابت کیا کہ وہ عام آدمی کے ہیرو تھے اور رہیں گے ۔
    امید تھی کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے کی پہلی صف میں وزیراعظم،صدر پاکستان ،چاروں صوبوں کے وزیر اعلیٰ ، گورنر اور قومی اداروں کے سربراہان شرکت کریں گے جنکی وہاں موجودگی پوری دنیا کو بتائے گی کہ قومی ہیرو کو خراجِ عقیدت اور احترام کیسے دیا جاتا ہے مگر دکھ ہوا یہ دیکھ کر کہ ایک ہی شہر میں ہوتے ہوئے وزیراعظم صاحب تک نہ پہنچ سکے جبکہ اسی وقت وہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے موجود تھے، برائے نام گارڈ آف آنرز کے بعد پاکستانی پرچم ڈاکٹر صاحب کی بیٹی کو تھما کر ساری رسمیں ادا کر دی گئیں۔۔۔ یہ سب مناظر اتنے حیرت انگیز تھے کہ یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ہم واقعی بدلے ہوئے پاکستان میں  ہیں نہیں ہم تو آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں مشرف دور میں تھے جب اپنے ہی سائنسدان پر الزامات لگا کر انہیں نظر بند کر دیا گیا آذادی سلب کر لی گئی مرتبہ مقام سب چھین لیا گیا گمنامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا گیا جسکے کہنے پر کیا گیا ہم نے تو نمازِ جنازہ میں ہی ثابت کر دیا کہ آج بھی ہم انہی کے غلام ہیں خود مختاری کے دعوے تو رائیگاں ٹھہرے جن میں اتنا بھی دم نہیں کہ جیتے جی نہ سہی مرنے کے بعد وفادار پر سے غدار کا لیبل اتارنے کی جرات کر سکیں۔۔۔پھر مشرف کیوں گناہ گار انکے بعد کتنی حکومتیں آئیں گئیں جس نے ڈاکٹر صاحب کی عزت و رتبہ بحال کیا؟؟؟کس نے انہیں وہ مقام دیا جس کے وہ حقدار تھے ہم تو اس قدر "باندی” کردار کے عادی ہوچکے کہ ہم نے مرے ہوئے قدیر خان کو بھی مار دیا ۔۔ 

    مجھے یاد ہے جب ان پر ایٹمی راز ادھر ادھر کرنے کے سنگین الزامات لگا کر انہیں پانچ سال پابند سلاسل کیا گیا تھا بعد میں عدالتی احکامات جاری ہوئے کہ انکی قید ختم کی جائے مگر انہیں نظر بند ہی رکھا گیا جب جوہری ٹیکنالوجی کو لیبیا شمالی کوریا اور ایران منتقل کرنے جیسے الزامات لگائے گئے تو ان سے زبردستی سرکاری چینلز پر اعتراف بھی کرایا گیا تو وہ ایک ہی بات کہتے تھے کہ سچ بہت جلد سامنے لاؤں گا کس کے کہنے پر ان کے سر سارے الزام دھرے گئے اور اسکے پیچھے وجوہات اور مفادات کیا ہیں مگر پھر وہ خاموش ہوگئے بعد میں ایک ہی بات کہا کرتے تھے "وطن اگر ایک آدمی کے بیان سے بچ جائے تو یہ بہتر ہے” لفظ لفظ میں ریاست سے وفاداری کی خوشبو مہکتی ہے مِٹی کے لیے ایسی قربانیاں عام لوگ نہیں دیا کرتے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وقار اپنی آزادی اپنے نام کو ریاست ہر قربان تو کر دیتے ہیں مگر اسکی سالمیت کو کسی طور خطرے میں نہیں دھکیلتے تبھی28 مئی کو پوری دنیا نے ایک ایسے ملک کو ایٹمی قوت بنتے دیکھا جو آزادی کو چار دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں گنوایا جاتا تھا جسکی معیشیت کا دارومدار بیرونی قرضوں اور امداد پر تھا مگر عبدالقدیر نے پاکستان کو قوت دی آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کرنے کی جرات دی ڈاکٹر صاحب سے جب بھی بات ہوتی ہے پاکستان سے شروع ہوتی اور پاکستان ہر ہی ختم ہوتی جبکہ اس محب الوطن پاکستانی کے ساتھ ڈگڈگی پہ ناچنے والوں نے جو سلوک کیا شاید وہ تاریخ میں کالے حروف سے لکھا جائے گا۔
    وہ حقدار تھے کہ وفات پر قومی سطح پر سوگ کا اعلان کیا جاتا تعطیل دی جاتی تین دن پرچم سرنگوں رہتا انکی وصیت پر لفظ بہ لفظ عمل ہوتا انکے جسد خاکی کو ریاست کے اعلیٰ عہدیدار خود لحد میں اتارتے،قبر پر پاکستانی پرچم لہرایا جاتا اعلان کیا جاتا کہ بچوں کی نصابی کتابوں میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کی خدمات کو بطور مضمون شامل کیا جائے گا موجودہ حکومت جو کہتی پھرتی ہے کہ وہ کسی "اور” کے حکم کے تابع نہیں یہ وقت تھا ثابت کرنے کا کہ یہ بات لفاظی تک محدود نہیں واقعی اب پاکستان خودمختاری کی جانب قدم رکھ چکا ہے جہاں ترجیحات وہی ہونگی جو ملک کی آبرو کو دوام بخشیں جو ہمارا ہیرو ہے وہ ہیرو ہی ہے چاہے لاکھ دنیا اسے وِلن گردانتی پھرے۔۔۔اے کاش ہم حقیقتاً آذاد ہوسکیں۔۔ڈاکٹر صاحب ہم شرمندہ ہیں ہوسکے تو ہم احسان فراموشوں کو معاف فرمائیے گا۔

    NayyarZakia@

  • لاہور کا اعزاز۔۔۔ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان تحریر  وقاص امجد

    لاہور کا اعزاز۔۔۔ کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان تحریر وقاص امجد

    قیام پاکستان سے اب تک لاہور کی تاریخ میں بہت سے افسران آئے جنھوں نےباغات کے شہر کی خوبصورتی میں اضافے اور سہولت کیلئے اپنے سے پہلے والے افسر سےبھی زیادہ اور بہتر اقدامات کیے لیکن اس شہر کی ترقی اور خوبصورتی کا جو سہرا کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کے سر سجا ہے ، اسکی نظیر نہیں ملتی۔بطور کمشنر لاہور تعیناتی کے دوران انکے شروع کیے گئے پروجیکٹس کی بدولت آج لاہور کو عالمی سطح پرنئی پہچان مل رہی ہے۔
    ماضی میں اسی شہر کے ڈپٹی کمشنر رہنے والےکیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان جب لاہور ڈویژن کے 59 ویں کمشنر بنے تو جہاں اپنے پرانے تجربے کی بنیاد پر کام کا آغاز کیا وہیں کورونا وباء کے دوران بطور سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ پنجاب کی حیثیت سے کیے گئے اقدامات کو بھی مدنظر رکھا۔ صحت کے شعبے سے ایک خاص عرصے تک جڑے رہنے کا ہی نتیجہ تھا کہ لاہوریوں کو اس وباء سے بچانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر آگاہی مہم کا آغاز کرتے ہوئے انھیں ایک شفیق باپ کی طرح ماسک پہننے کی تلقین کی اور بعدازاں” لاہور وئیرز ماسک” مہم پر سختی سے عمل درآمد بھی کروایا۔
    اسی طرح” لاہور گیٹس ویکسی نیٹڈ ” مہم کے تحت شہریوں کو ویکسین لگوانے کی طرف راغب کیا اورساتھ ساتھ افواہوں کی شکار پڑھی لکھی عوام کو ویکسینیشن کی اہمیت سے بھی روشناس کروایا۔ اس کام کیلئے جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے انٹرن شپ پروگرام کا آغاز بھی کیا گیاہے۔اس پروگرام کے تحت طلباء کی مدد سے عوام الناس کو معاشرے کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ویکسینیشن کا کورس مکمل کرنے کی ہدایات دی جائیں گی۔
    کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نگاہ کے مترادف کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ڈی جی کی حیثیت سے بھی ماضی میں خاصہ کام کیا اورجس تندہی کیساتھ کیا، اسکی مثال ملنا بھی مشکل ہے۔ انھوں نےعوام کی صحت پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے بغیر انھیں صاف ستھری اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔
    اسی طرح لاہور کی ادبی پہچان اور اسے ملنے والےسٹی آف لٹریچر کے اعزاز میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے کمشنر لاہور نے ادبی سرگرمیوں کے کیلنڈر کی تیاری کی بھی ہدایات کررکھی ہیں جو انکے ادب دوست ہونے کی واضح نشانی ہے۔ ٹریفک کے اژدھام کے باعث لاہور شہر کی خوبصورتی پر پڑنے والےمنفی اثرات کو بھانپتے ہوئے کمشنر لاہور نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی مدد سے شہر کو مزید خوبصورت بنانے کا بھی پلان بنایا اور اس پلان کووزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ لاہور میں بڑی تفصیل سےبیان بھی کیاگیا۔ کمشنر لاہور کی انتھک محنت اور مسلسل کام کرنے کی لگن کی بدولت کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کو وزیراعظم سے تعریفی کلمات بھی سننے کو ملے۔

    Twitter Id
    @waqas_amjaad

  • خاتم البنین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کو ساڑھے چودہ سو سال ہوگیۓ ہیں  تحریر : نواب فیصل اعوان

    خاتم البنین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کو ساڑھے چودہ سو سال ہوگیۓ ہیں تحریر : نواب فیصل اعوان

    ۔
    حضور کریم ﷺ کی سیرت طیبہ پہ لاکھوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا ۔
    خاتم النبین حضور پاک رسول اللہ ﷺ سے محبت ہی صرف وہ چیز ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں فلاح کی ضمانت اور اللہ رب العزت کی محبت پانے کاذریعہ ہے ۔
    اسی طرح کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔
    فرمانِ نبویﷺ ہے
    ” تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو ”
    چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اسلام میں حرمت اور ناموس کے اعتبار سے کسی نبی میں کوئی فرق نہیں ۔“
    تمام انبیاء میں کسی بھی نبی پر کوئی زبان درازی یا گستاخی کے مرتکب کی سزا قتل کے علاوہ کوئی نہیں ہے ایسے شخص کا سر قلم کر دیا جاۓ جو خاتم النبین حضرت محمد ﷺ یا اللہ کے کسی بھی نبی یا پیغمبر کے بارے میں زبان درازی کرے ۔
    یہ تو ہر مسلمان ہی جانتا ہوگا کہ
    حضور نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ تمام مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ اورروشن چراغ دوسرے لفظوں میں مشعل راہ ہے ۔
    ہمارے دین اسلام کی تعلیمات نہایت سادہ، واضح اور عام فہم ہیں، ان میں کسی قسم کی پیچیدگی کا گزر نہیں ہے۔
    ان تعلیمات و ہدایات کا مکمل نمونہ آنحضرتﷺ کی ذات گرامی تھی فلہٰذا جب تک آپﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے نہ ہو اس وقت تک نہ ہم اسلام کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی صحیح طور پر اس پر عمل کر سکتے ہیں۔
    مسلمانوں کے لیے یہ باعث سعادت ہے کہ نبی کریمﷺ کی سیرت کے تقریباً ہر پہلو پر علمی کام ہو چکا ہے۔ سیرت النبیﷺ کے کہا کہنے کہ جب وہ بولیں تو ہونٹوں سے پھول جھڑیں کہ جب وہ دیکھیں تو انسان منجمد ہو جاۓ خاتم النبین محمد ﷺ ہمارے بڑی شان والے ۔
    اس وقت سیرت نبوی ﷺ کا معالعہ اس لیۓ بھی ضروری ہے کہ غیر مسلم ہمارے پیارے آقا و کریم خاتم النبین ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق رہنماٸ حاصل کر سکیں وہ جان سکیں کہ ہمارے آقا کی زندگی کیسی تھی ۔؟
    قرآن مجید میں ہے کہ
    ” آپ کیلۓ ہمارے نبی ﷺ کی زندگی اسوہ حسنہ ہے ۔“
    قرآن کریم میں اس بات کا بھی سختی سے ذکر کیا گیا ہے کہ
    ” ہمارے نبی کی اطاعت کرو “
    خاتم النبین حضور کریم آقا مرسلین نانا حسنؓ و حسینؓ حضرت محمد مصطفی کی اطاعت ہر مسلمان پر لازم و ملزوم ہے اس کیلۓ تمام مسلمانوں کو سیرت نبوی کا بغور مطالعہ کرنا چاہیۓ تاکہ وہ جان سکیں کہ حضور کو کونسی چیز پسند تھی کس سے آقا و مولا کریم نے روکا تاکہ آقا کریم کی زندگی کی روشنی میں کامل زندگی بسر کی جا سکے ۔
    اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ
    اے مومنوں نبیﷺ کی اطاعت کرو
    یہاں اطاعت سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم خاتم النبین حضور کریم ﷺ کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جاۓ آپﷺ کی زندگی مکمل ضابطہ حیات اور مشعل راہ ہے ۔
    مسلمان سیرت رسول خاتم النبین کی زندگی کے ہر پہلو میں رہنماٸ پاٸیں ۔
    حضور کریم ﷺ کی عادات و اطوار کا مطالعہ کیا جاۓ تاکہ ایک مکمل کامل زندگی جی جا سکیں کیونکہ کاملیت اس وقت ہوگی جب دل میں حضورکریم خاتم النبین ﷺ کی محبت انتہا کو ہوگی تبھی ایک انسان کامل انسان بن سکتا ہے اور یہی کاملیت انسان کو حضور پاک ﷺ کی کچہری نصیب کرا سکتی ہے اور نبی کریم ﷺ کی شفاعت رب سے ملا سکتی ہے ۔
    اللہ آپ آپکو مجھے سب مسلمانوں کو حضور کریم خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کا فرماں بردار بناۓ اور ان کی زندگی کے رہنما اصولوں پہ اور متعین کردہ حدود و قیود پہ زندگی گزارنے کی توفیق دے آمین ..

    ‎@NAwabFebi

  • پانامہ سازش تھی تو پینڈورا پیپرز کیوں نہیں؟ تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    پانامہ سازش تھی تو پینڈورا پیپرز کیوں نہیں؟ تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    میرے پاکستانیوں کو اچھی طرح یاد ہے جب پانامہ پیپرز منظر پر آئے تو جن جن افراد کے نام تھے ان میں کافی افراد نے اپنے اپنے آس پاس یا حلقہ احباب کو مطمئن کرنے کے لئے طرح طرح کی دلیلیں دی ،ن لیگ نے اسے پاکستان کے خلاف عالمی سازش ،مولانا فضل الرحمن نے اسے یہودی سازش قرار دیا ،نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر نے تو پانامہ کو نظریہ پاکستان کے خلاف سازش قرار دیا ،خواجہ آصف نے بڑے فخر سے اس وقت کے وزیراعظم  نواز شریف کو اسیمبلی میں کھڑے ہوکر کہا کہ میاں صاحب آپ بے فکر ہوجائیں یہ پانامہ ڈرامہ بھی لوگ بھول جائیں گے کوئ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ،شہباز شریف نے پانامہ کو پاجامہ سے تشبیہ دی مطلب ہر اس بندے نے اپنے اپنے طرز سے پانامہ کے خلاف بیان بازی کی جس کی جماعت کا لیڈر یا حلقہ احباب کے بندے کا اس پانامہ میں نام آیا ،اس وقت عمران خان صاحب اپوزیشن میں تھے انہوں نے کھل کر پانامہ میں نام آنے والے لوگوں کو پاکستانی قوم کے سامنے بے نقاب کیا اور پاکستانی قوم کو بتایا کہ کس طرح اس ملک کا پیسہ لوٹ کر ان لوگوں نے باہر آفشور کمپنیاں بنائ ہیں ،اس کے علاوہ شفاف تحقیقات اور کڑے احتساب کے لئے عمران خان صاحب نے ایک مکمل تحریک چلائ اور آخرکار سپریم کورٹ جاپہنچے جہاں پر مکمل چھان بین اور تمام قانونی پہلووٴں کا جائزہ لیا گیا ،یاد رہے آفشور کمپنی تب تک جرم نہیں جب تک یہ ثابت نا ہوجائے کہ اس کمپنی کو بنانے کے لئے جو پیسہ استعمال ہوا وہ پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجاگیا اس پیسہ کا پاکستان میں کوئ حساب کتاب نہیں دیا گیا اور ناہی ٹیکس ادا کیا گیا ،سپریم کورٹ نے ان تمام قانونی نکات پر اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے جواب طلب کیا لیکن نواز شریف حساب کتاب دینے میں مکمل طور پر ناکام رہے اور کئ عرصے تک چلنے والے اس کیس میں نواز شریف اپنے حق میں کوئ واضع ثبوت پیش نا کرسکے جس کی نتیجے میں آخر کار نواز شریف کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت 28جولائ 2017کو نااہل قرار دے دیا جس کے بعد ن لیگ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف بڑا شور شرابہ کیا ،ججز اور اعلی اداروں کے خلاف ایک مکمل کمپئین چلائ یہ تو تھی  پانامہ پیپرز کے بعد کے حالات ،ابھی چند دن پہلے پانامہ طرز کا پنڈورا پیپرز بھی سامنے آیا جس میں پاکستان کے 700 سے زائد افراد کا نام اس میں شامل ہیں جن کی آفشور کمپنیاں نکل آئ ہیں اب وہی ن لیگ ،مولانا فضل الرحمن سمیت تمام پی ڈی ایم کے لوگ اس پنڈورا پیپرز پر وزیراعظم عمران خان صاحب سے بھی استعفی کا مطالبہ کردیا حالانکہ اس میں وزیراعظم عمران خان صاحب کا کوئ ذکر تک نہیں آیا ،پانامہ کو عالمی سازش کہنے والے لوگ اب پی ٹی آئ کے جن افراد کا نام آیا ہے ان کا کڑا احتساب چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ تحقیقات ہونے سے پہلے ان کو کرپشن میں ملوث قرار دے رہے ہیں ،اب ان سے کوئ بندہ پوچھے جب پانامہ عالمی ،یہودی سازش تھی تو پنڈورا کوئ سازش کیوں نہیں ؟پنڈورا بھی جاری تو انہی لوگوں نے کیا ہے جنہوں نے پانامہ پیپرز جاری کئے تھے 

    بہرحال وزیراعظم عمران خان صاحب نے اسے کوئ سازش قرار نہیں دیا بلکہ اس پنڈورا پیپرز میں شامل تمام پاکستانیوں کے سخت احتساب کا اعلان کرکے ایک اعلی سطحی کمیشن تشکیل دے دیا جس کی نگرانی وزیراعظم صاحب خود کریں گے اور پوری قوم پر امید ہے کہ اس تحقیقات کے بعد جو بھی غیر قانونی طور پر اس میں ملوث پایا گیا اس کو پاکستانی قانون کے مطابق  سزادی جائے گی اور وزیراعظم کسی بھی ایسے اپنی پارٹی کے بندے کی کوئ حمایت نہیں کرے گا جب تک وہ اس میں خود کو بیگناہ ثابت نہیں کرتا وزیراعظم عمران خان صاحب کے اس اعلان کو نا صرف پاکستانی قوم بلکہ عالمی دنیا نے بھی سراہا ہے اور یقینن یہ ایک کرپشن سے پاک پاکستان کی طرف ایک احسن قدم ہے 

    باقی کسی بھی اپوزیشن کی جماعت کو وزیراعظم کے اس تحقیقاتی کمیشن پر کوئ اعتراض ہے یا وہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب اپنے بندوں کو کوئ رعایت دیں گے تو وہ عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں ،جس طرح عمران خان صاحب اپوزیشن میں ہوتے ہوئے پانامہ پیپرز پر سپریم کورٹ گئے تھے اسی طرح اس وقت کی اپوزیشن کے پاس بھی یہ آپشن موجود ہے اور ان کو اگر کہیں کوئ چیز صحیح نا لگے تو ان کو جانا چاہیے سپریم کورٹ کی طرف ،باقی صرف باتوں ،دھمکیوں اور خالی سیاست کے لئے بیان بازی سے اپوزیشن کو کوئ فائدہ نہیں ہونا 

    @MajeedMahar4

  • ڈھونڈ گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں تحریر۔ نعیم الزمان ہم۔

    ڈھونڈ گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں تحریر۔ نعیم الزمان ہم۔

    جو یاد آئے بھول کر پھر اےہم نفسو وہ خواب ہیں ہم۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان خان 1936ء کو ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ 1952ء  میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے ۔ کراچی سے میٹالرجی میں ڈگری حاصل کی۔ پھر جرمنی اور ہالینڈ سے  اعلی تعلیم حاصل کی ۔ 1970ء میں ہالینڈ سے میٹالرجی میں ماسٹر کیا ۔ اور 1972ء میں بیلجیئم سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔  اس کے بعد وطن واپس لوٹے۔ 1974ء میں جب ہندوستان نے ایٹمی دھماکوں کے تجربات کیے۔ اس کے بعد آپ نے 1976 ء میں پاکستان انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا۔بعد میں اس ادارے کا نام صدر پاکستان ضیاءالحق نے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز رکھا۔ یہ وہ ادارہ ہے جو پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتاہے۔ صرف آٹھ سال کی قلیل مدت میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی محنت اور لگن کے ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کر کے دنیا کے تمام نوبل انعام یافتہ سائنسدان کو حیرت میں مبتلا کیا۔  28 مئی 1998 ء میں پاکستان نے کامیابی سے ایٹمی دھماکے کا تجربہ کیا ۔جس کی نگرانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کر رہے تھے ۔یہ سب آپ کی  اور آپ کی ایٹمی ٹیم کی محنت اور جذبہ حب وطنی کی بدولت ممکن ہوا۔ الحمدللہ پاکستان دنیا کا پہلا اسلامی ایٹمی ملک بنا ۔آپ نے 2000ء میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو وطن عزیز کیلئے شاندار خدمات سرانجام دینے پر محسن پاکستان کا خطاب دیا گیا۔ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کی پہلی شخصیت ہیں جنہیں تین صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ انہیں ان خدمات پر دو بار نشان امتیاز اور ایک بار ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔ سنہ 2003 میں اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق ادارے نے پاکستان  گورنمنٹ کو ایک خط ارسال کیا جس میں الزام لگایا گیا کہ پاکستانی جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے جوہری راز فروخت کیےہیں۔ بعدازاں ٹی وی پروگرام میں آ کر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے غیر قانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی کی ایران لیبیا اور شمالی کوریا منتقلی کے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد  انہیں اسلام آباد  میں ان کے گھر نظر بند کر دیا گیا ۔2009 ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ ان کی نظر بندی کو ختم کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے انہیں ایک آزاد شہری کی طرح زندگی گزارنے کے احکامات جاری کیے۔ مگر وہ اپنی نقل و حرکت کے بارے میں احکام کو مطلع کرنے کے پابند تھے۔ بغیر مطلع کیے کہیں آنا جانا ممکن نہیں تھا۔ 2020ء میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں ان کا موقف تھا کہ میری نقل و حرکت کو محدود کیا گیا ہے مجھ سے ملاقات کے لیے آنے والوں کو ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ تعلیمی اداروں میں نہیں جانے دیا جاتا ۔مجھے تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت دی جائے تا کہ میں سٹوڈنٹ کو کچھ لیکچر دیے سکوں۔ درخواست میں مزید یہ بھی کہا گیاتھا کہ جب میں نیوکلیئر پروگرام اور ایٹم بم بنانے میں مصروف تھا اس وقت تو  میرے ساتھ گارڈ نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی بندوقیں نہ فوجی اور نہ ہی رینجرز ۔ اب 84 سال کا عمر رسیدہ ہو چکا ہوں۔ چلنا پھرنا مشکل ہے ۔ میں اپنے ہی ملک میں موجود ہوں اور باہر جانے کا کوئی ارادہ بھی نہیں رکھتا۔ میں اپنے ملک سے غداری نہیں کروں گا ۔ایک عام آدمی کی طرح بقیہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ جس پر عدالت کے ریمارکس تھے کہ ان حالات میں آپ کی زندگی کو خطرہ سے محفوظ رکھنے کیلئے یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں جو آپ کے لیے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں مگر غیر محفوظ نہیں ۔نظر بندی کے باعث ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے بہت ساری مشکلات کا سامنا کیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان گزشتہ کئی سالوں سے پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے ۔ خاندانی ذرائع کے مطابق کچھ ہفتے پہلے ڈاکٹر صاحب کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔ اور ہسپتال میں زیر علاج رہے۔  ڈاکٹر عبد القدیر خان کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کی گئی۔ بعد میں طبیعت بہتر ہونے پر کرونا سے ریکوری پر آپ کو واپس گھر منتقل کر دیا گیا تھا۔ 9 اکتوبر کی شب کو ڈاکٹر صاحب کی اچانک طبیعت خراب ہوئی۔ جس کے بعد انہیں ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔ 10 اکتوبر کی صبح سات بجے کے قریب پاکستان ایٹمی پروگرام کے خالق اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ محب وطن پاکستانی اور محسن پاکستان کا سنہرا باب ہمیشہ کے لئے لیے بند ہو گیا۔ آپ کی خدمات کو رہتے پاکستان تک یاد رکھا جائے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا اس قوم اور ملک پر جتنا بڑا احسان تھا اقتدار میں رہنے والوں نے انہیں اتنا ہی نظر انداز کیا۔ درویش صفت انسان اپنی کسم پرسی اور تکالیف چھپائے رخصت ہو گئے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رخلت کا سن کر کر پوری قوم غمزدہ ہے ۔ہر آنکھ اشک بار ہے۔ آپ نےانتھک محنت اور لگن کے جذبے سے سر شار ہوکر ہماری دفاعی صلاحیت کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔ ڈاکٹر صاحب ہم شرمندہ ہیں یہ ریاست آپ کا خیال نہ رکھ سکی جو عزت آپ کو دینی چاہیے تھی وہ نہ دے سکی۔ اللہ ہمیں قوم کے محسنوں کی قدر سکھائے ۔ اللہ آپ کی مغفرت فرمائے آپ کے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین

    ہم بھی چلے ہیں سوئے کارواں 

    آنے والوں کو ہمارا سلام کہنا۔

    Follow on Twitter

    @786Rajanaeem