Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ہمارا معاشرہ اور نوجوان نسل  تحریر:محمد اصغر

    ہمارا معاشرہ اور نوجوان نسل تحریر:محمد اصغر

    ہمارا معاشرہ اس وقت تباہی کی طرف جارہی ہے اسکی اصل وجہ فحاشی، شراب نوشی،جاہلیت، اور اسلام سے دوری ہے نوجوان نسل میں آجکل انٹرنیٹ کی دنیا نے ایسی ہلچل مچا رکھی کہ وہ تعلیم سے میلوں دور ہوتے جارہے ہیں، تعلیم سے دوری یقینا انسان کو اسلام سے دوری کا سبب بنتا ہے
    نوجوان نسل کو انٹرنیٹ کے استعمال نے اس قدر
    گھیر رکھا ہے کہ نہ دین کا پتہ نہ ماں باپ کا پتہ نہ اپنے ہوش رہ گئے ہیں سارا دن انٹرنیٹ پر غیر مواد ایشیاء کی تحریریں ڈرامے فلمے دیکھتے رہتے ہیں
    یہ سب چیزیں پھر نشے کا سبب بنتی ہے جو ہمارے معاشرے میں عام ہوچکا ہے کوئی ایسا خوش نصیب گھر ہو جہاں باپ، بھائی، بھتیجے، کوئی نا کوئی نشہ نہ کرتا ہو، نشے کی لت جس انسان کو لگ جاتی ہے اسکی زندگی دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوجاتے ہیں ماں باپ کو چایئے اپنے اولاد پر کنٹرول رکھے انکی اچھی تریبت کریں، انکی تعلیم پر خاص توجہ دیں، انہیں اچھے دوستوں کے ساتھ چلنے پھرنے کی تلقین کریں، اگر آپکا بیٹا کسی برے انسان کے ساتھ دوستی رکھتا ہے تو اسکے اثرات آپکے گھر پر بھی پڑیں گے، کیونکہ وہ کہتے ہیں نا ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کردیتی ہے
    اپنے اولاد کی تریبت دین اسلام کے امنگوں کے مطابق کریں تو وہ آپکے لئے دنیا اور آپکے مرنے کے بعد بھی آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہوتی ہیں اپنے بچوں کو دین اسلام کے بارے میں بتائیں، نماز قرآن، حقوق اللہ، اور حقوق العباد کی تلقین کریں
    اسکا اجر اللہ عزوجل تمھیں دنیا میں بھی آخرت میں عطاء کرے گا ہماری دعا ہے اللہ عزوجل ہماری اولاد پر رحم کریں اور انہیں نشے سے میلوں دور رکھے ہمیں اور ہماری آنی والی نسل کو دین اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین
    Twitter Handle @ZiDDiBlochPTI

  • 21 ویں صدی میں ضلع شیرانی تعلیمی سہولیات سے محروم . تحریر : حمیداللہ شاہین

    21 ویں صدی میں ضلع شیرانی تعلیمی سہولیات سے محروم . تحریر : حمیداللہ شاہین

    کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے تعلیم کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، قومیں جب ترقی کرتی ہیں تو وہ پہلے تعلیم پہ توجہ دیتے ہیں جبکہ بدقسمتی سے ہمارے ملک پاکستان میں اکثر لوگ تعلیم حاصل کرنے سے بھاگ رہے ہیں یا تو انہیں تعلیم حاصل کرنے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے مگر تعلیمی شرح کے لحاظ سے سب سے پسماندہ صوبہ بھی ھے۔

    آج ہم بلوچستان کے پسماندہ ضلع شیرانی کی بات کریں گے۔ شیرانی صوبہ بلوچستان کے ضلع ژوب کی ایک تحصیل تھی۔ جوکہ اب خود ضلع بن چکا ہے۔ یہاں شیرانی قبائل کی اکثریت ہے جس سے اس کا نام پڑا ہے۔ اس کی آبادی 2017 کی مردم شماری کے مطابق ایک لاکھ تریپن ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ یہ علاقہ کوہِ سلیمان میں واقع ہے اور سب سے اونچا مقام تخت سلیمان کہلاتا ہے۔
    یہ علاقہ حضرت سلیمان، قیس عبدالرشید بیٹ نیکہ سمیت غازیوں اور شہیدوں کا بھی مسکن رہا ہے۔ یہاں مغل اور بابر حکمرانوں نے بھی پڑاو ڈالا تھا۔ کوہ سلیمان میں دنیا کا سب سے بڑا خالص چلغوزے کا جنگل ہے اور عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کے اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ سال میں یہاں سے 675 ٹن چلغوزہ برآمد کیا گیا، جس کی کل مالیت  114.7 کروڑ روپے ہے۔
    بلوچستان کا ضلع شیرانی جوکہ پہلے ژوب کا حصہ ہوا کرتا تھا مگر 2006 میں اسے ایک الگ ضلع کی حیثیت حاصل ہوگئی اور اس ضلع کا نام وہاں کے مشہور قبیلے کے نام سے منسلک کر کے شیرانی رکھا گیا۔ ضلع شیرانی کوئٹہ کے شمال مشرق میں واقع ھے۔شیرانی کی خوبصورتی اس کے قداور پہاڑ اور درخت ہیں اور ان درخت پر اگے والا چلغوزہ ذریعہ معاش میں مدد گار ثابت ھوتا ھے ۔
    بلوچستان کے شیرانی کو ضلع کا درجہ ملے پندرہ سال بیت گئےمگرعوام آج بھی انتظامی دفاتر اورعدلیہ تک رسائی کیلئے گھنٹوں کی مسافت طے کرکے ضلع  ژوب جانے پر مجبورہیں.

    شیرانی تعلیم کے معاملے میں باقی اضلاع سے کافی پسماندہ ضلع ھے۔ شیرانی میں کئی سالوں سے تعلیم میں عدم دلچسپی کی وجہ سے لڑکیوں کی تعلیم کو لے کر کافی تحفظات ہیں۔ شیرانی 2800 کلومیٹر رقبے پر پہلا ہوا یے.ذرائع کے مطابق  ضلع شیرانی میں سکولز کی تعداد 186 ہے اور  پورے ضلع میں ایک انٹر کالج ہے جبکہ ڈگری کالجز کا تصور بھی سر ے سے موجود نہیں ۔ اتنے بڑے علاقے میں لڑکیوں کے لیے کوئی بھی سکول قریب نہیں اور نا ہی کوئی کالج اور یونیورسٹی  موجود ہے۔ تعلیم کی پیاس رکھنے والی بہت کم ہی  لڑکیاں ژوب  جاپاتی ہیں زیادہ تر کو اجازت نہیں ملتی اور وہ ساری عمر تعلیم جیسے زیور سے محروم رہتی ہیں۔ مقامی لڑکیوں کا کہنا ہے کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق ہے مگر تعلیمی درسگاہیں دور ہونے کی وجہ سے وہ تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں وہ گورنمنٹ سے اپیل کرتی ہے کے یہاں لڑکیوں کے لیے علیحدہ سکولز,کالجز اور یونیورسٹی تعمیر کرکے مقامی لڑکیوں کی مشکلات کو آسان کیا جاۓ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلع شیرانی میں بہت سے  گھوسٹ سکولز ہیں اور بعض سکولز کی بلڈنگز اس قابل نہیں کے اس میں تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھا جاۓ یہ معاملات بھی توجہ طلب ہے 21 صدی میں بلوچستان میں آج بھی ایسے کئی اضلاع ہیں جن میں خواتین تعلیم سے محروم ہیں اور تشویشناک بات یہ ہے کے ضلع شیرانی میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق محض ٪3 ہے۔

    وزیراعلی بلوچستان اور وزیر تعلیم سے درخواست ہے ضلع شیرانی میں تعلیم پہ توجہ دی جائے اور شیرانی شہر اور دیہاتوں میں 21 ویں صدی کی جدید سہولیات سے اراستہ تعلیمی ادارے بنانے چاہئے۔ ہردیہات میں کم از کم ایک لڑکیوں کا پرائمری اسکول جبکہ شہر میں ہائی اسکول اور انٹر کالج بنانے چاہئے تاکہ شیرانی کی بہادر لڑکیاں تعلیم حاصل کرکے اپنے صوبہ اور ملک کانام روشن کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔

    ٹویٹر: @iHUSB

  • اخلاق نبوی صلیّ اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم  تحریر: فرح بیگم

    اخلاق نبوی صلیّ اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم تحریر: فرح بیگم

    اخلاق کا سب مقدم اور ضروری پہلو یہ ہے کہ انسان جس کام کو اختیار کرے اس پر اس قدر استقلال کے ساتھ قائم رہے کہ گویا وہ اس کی فطرت ثانیہ بن جاۓ

    حضرت علی رضی اللہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ، حضرت انس رضی اللہ جو مدتوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہے تھے ان سب کا متفقہ بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہایت نرم مزاج، نیک سیرت اور اخلاق کے اعلی مرتبے پر فائز تھے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرتا تو آپ اس کی بات کو غور سے سنتے تھے جب تک اس شخص کی بات ختم نہ ہوجاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منہ نہیں پھیرتے تھے۔ کوئی شخص آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تب تک اس کا ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک وہ شخص خود اپنا ہاتھ نہ چھڑاتا

    مجالس میں لوگوں کی ناگوار باتوں کو بھی برداشت کر لیتے تھے اور اظہار نہ کرتے تھے کسی شخص کی کوئی بات پسند نہ آۓ تو اس کے سامنے اس کا تزکرہ نہیں کرتے تھے۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں ہمیشہ جگہ کی کمی ہو جایا کرتی تھی کیونکہ صحابہ کرام زیادہ تعداد میں شرکت کرتے تھے تو ایسے میں اگر کوئی شخص آ جاۓ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے لیے اپنی چادر مبارک بچھا دیا کرتے تھے۔

    اگر کسی شخص کی کوئی بات ناگوار گزرے تو اس کا نام صیغہ راز میں رکھ کر فرماتے تھے کہ لوگ ایسا کرتے ہیں یا ایسا کہتے ہیں انہیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے اس سے لوگوں کی اصلاح بھی ہو جاتی تھی اور اس شخص تک بھی پیغام پہنچ جاتا تھا۔

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی اخلاق ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی ہیں ہمیں بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوۓ اعلی اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    Twitter Id: @Iam_Farha

  • میں اور مولوی . تحریر : قاسم ظہیر

    میں اور مولوی . تحریر : قاسم ظہیر

    دنیا میں آج تک کسی فرد گروہ خاندان یا نظریات کو نقصان پہنچا تو اس کے اندر سے ہی پہنچا. اسی تناظر میں دیکھا جائے تو موجودہ حالات میں ہمارے اسلام کو بھی بے حد خطرات لاحق ہیں. چاہے وہ مسلمانوں کا اسلام پر عمل نہ کرنا ہو یا غیر مسلموں کی اسلام کے خلاف سازشیں ہو سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں ان حالات میں جس پر سب سے زیادہ ذمہ داری آتی ہے وہ ہمارے مذہبی اسکالر ہیں.لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو بخوبی نہ سمجھا.

    میں ایک عام پاکستانی اور مسلمان ہوں.میری اخلاقی تربیت میری معاشرتی تربیت کی جہاں ذمہ داری میرے والدین پر عائد ہوتی ہے وہیں یہ ذمہ داری ہمارے مذہبی علماء پر بھی عائد ہوتی ہے.ہمارے علماء کا ہمارے کردار کی تعمیر میں بے حد عمل دخل ہوتا ہے
    لیکن افسوس کے ساتھ ہمارے عالم آج بھی موسیقی حرام, اٹھ اور بیس تراویح, نماز جنازہ آہستہ پڑھنی چاہیے یا اونچی, تین طلاق تین ہیں یا ایک,کیمرہ اور تصویر کیوں ناجائز ہے,اور ایسی کئی چیزیں جن کا ہماری معاشرت سے کوئی لینا دینا نہیں کی گردان کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ معاشرہ جہالت قتل کفر دھوکہ منشیات حق مارنا دشمنی بے حیائی اور منافقت میں ڈوب رہا ہے.یہاں میں واضح کرتا چلوں کہ میں ہرگز اس حق میں نہیں ہوں کہ ان کے بارے میں بات نہ کی جائے ان کے بارے میں بھی بات کی جائے لیکن اتنی بات کی ہے جتنی اس کی ضرورت ہے.نہ کہ ہماری ساری توانائی صرف اسی پر صرف ہو جائے.

    میرے نزدیک معاشرے میں ایک رہبر و رہنما اور لیڈر کی ذمہ داری بھی علماء پر عائد ہوتی ہے.ذرا سوچئے ان پچہتر سالوں میں ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟ ایک ہندو بھی سپریم کورٹ کا جج ریٹائر ہوا لیکن ایک مدرسے کا طالب علم کہاں تک پہنچا ؟اس سسٹم کی ہم نے کتنی خدمت کی؟

    اگر علماء صحیح معنوں میں اس ملک اور قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو نے آگے آنا ہوگا قدم بڑھانے ہوں گے.میں سب علماء سے درخواست کرتا ہوں کہ عورت کی حرمت,بہنوں کا حق, بیوی کے حقوق ,مسلمان کے مسلمان کے ساتھ تعلقات, اسلامی معاشرے میں جان کی قیمت , برداشت, صبر , محبت اور ہم آہنگی جیسے موضوعات پر بات کی جائے.اسی میں اصلاح کا رازمضمر ہے

    @QasimZahee

  • جام پور ضلع بناؤ  تحریر : صابرحسین

    جام پور ضلع بناؤ تحریر : صابرحسین

    جام پور ضلع راجن پور کی تحصیل ہے جو کہ پسماندہ ہے جام پور کی آبادی دو ہزار ستارہ کی مردم شُماری کے مطابق گیارہ لاکھ سے زائد ہے
    جام پور قدیم ترین شہر ہے جو تقریباً آٹھ سو سال پرانہ شہر ہے جس کو ضلع بناؤ کا نعرہ بہت سالوں سے چلا آ رہا ہے
    دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں شہباز شریف یہاں سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے دو ہزار دس کے سیلاب میں پورا شہر سیلاب کی زد میں آ گیا تھا
    اور دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات ایم این اے جعفر لغاری اور ایم پی اے وزیر آبپاشی محسن لغاری اسی نعرہ کی بنیاد پر الیکشن میں کامیاب ہوئے
    جام پور کا رقبہ تقریباً پانچ ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے تحصیل پاکپتن کو ضلعے کا درجہ دیا گیا پاکپتن کا رقبہ تقریباً دو ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے
    جام پور میں بے شمار کاروبار ہے فصلوں کے لحاظ سے یہاں سبزیوں کی کاشت اور تمباکو کی پیداوار سرِ فہرست ہیں
    جام پور میں جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی موٹر سائیکل شورم کی منڈی ہے
    جام پور کا علاقہ پچادھ قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے جو سیاحوں کے لئے ایک منفرد مقام ہے
    جام پور میں علاقہ رسول پور پاکستان کا واحد علاقہ جہاں تعلیم کی شرح سو فیصد ہے
    جام پور میں ایک میونسپل کمیٹی ہے ایک تحصیل کونسل دو ٹاؤن کمیٹیز داجل اور محمد پور ہیں داجل قیام پاکستان کے وقت بھی میونسپل کمیٹی تھی
    جام پور کو ضلع بناؤ کیلئے بہت درخواستیں جمع کروائی ہوئی ہیں
    جنوبی پنجاب میں پانچ نئے ضلعے شامل کئے جا رہے ہیں جن میں احمد پور شرقیہ،چشتیاں،شجاع آباد،کوٹ ادو اور تونسہ شامل ہیں

    @SabirHussain43

  • پاکستان میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے رجحانات تحریر: ملک نصیر اعوان

    ‎پاکستان میں بے روزگاروں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے
    ‎ہر چھ ماہ میں ہزاروں طلباء اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں اور یونیورسٹی سے ڈگری لینے کے بعد روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں ہزاروں طلباء جو ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد بھی ایک باوقار نوکری کی تلاش میں ہیں انہیں اس مہنگائی کے دور میں اپنے خاندان کی کفالت بھی کرنا ہوتی ہے جب انہیں کہیں بھی روزگار کی امید نظر نہیں آتی تو وہ مایوس ہو کر خودکشی پر مجبور ہو جاتے ہیں پاکستان میں بےروزگاری ایک بہت بڑا المیہ بن چکا ہے چند سال پہلے سینکڑوں پی ایچ ڈی طلباء جو ڈگری حاصل کرنے کے بعد ہرطرف سے باوقار روزگار سے مایوس ہو گئے تو انہوں نے اسلام آباد میں احتجاج کیا اور اپنی ڈگریوں کو جلانے کی دھمکی بھی دی ستر کی دہائی میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان اتنا نہیں تھا مگر اب ہر بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہے چاہے وہ دیہات سے تعلق رکھتا ہو یا پھر شہر سے ۔اب دیہات میں کافی پرائمری ،ہائی سکول اور ہائیر سیکنڈری سکول بھی بن چکے ہیں اب جس اوسط سے بچے سکولز ،کالجز ،اور یونیورسٹیز بڑھ رہے ہیں اور پھر کل کو جب یہی طلباء اپنی ڈگریاں لے کر باہر نکلیں گے انہیں ایک باوقار روزگار کی تلاش ہوگی ہر طالب علم کے ماں باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ جب انھوں نے لاکھوں روپے لگا کر اپنے بچے کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اسی طرح اسے ایک اچھا روزگار بھی ملنا چاہیے ۔پاکستان میں اس وقت بے روزگاری کے حالات بہت نازک ہیں اگر اب اس بےروزگاری جیسی بلا کو قابو نہ کیا گیا تو یہ بہت جلد ایک ناسور کی شکل اختیار کر لے گا میری حکومت پاکستان سے درخواست ہے کہ جو پہلے سے موجود بے روزگار ہیں ان کی داد رسی کی جاۓ اور نئے آنے والے طلباء کے لیے روزگار کی بہتر پالیسی عمل میں لائی جائے اور زیادہ سے زیادہ نوکریاں پیدا کی جائیں تاکہ جو طلباء اب تعلیم حاصل کر رہے ہیں ان کو مستقبل میں ایک بہتر روزگار کی امید دکھائی دے اور وہ زیادہ سے زیادہ دل لگا کر تعلیم حاصل کریں جب طلباء کو ایک اچھے روزگار ملنے کا یقین ہو جائے گا تو وہ لوگ جو یہ سوچ کر تعلیم حاصل نہیں کرتے کہ "نوکری تو ملنی نہیں تعلیم کیوں حاصل کریں ” تب ان کی یہ سوچ بھی ختم ہو جائے گی ہر بچہ تعلیم حاصل کرے گا اور ایک روشن پاکستان
    ‎بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا ۔

    @Awan_Zaaada

  • ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات . تحریر : عمران اے راجہ

    ساؤتھ افریقہ، دریافت و سیاحتی مقامات . تحریر : عمران اے راجہ

    پارٹ ۱:
    پاکستان کے لیے سنہ 1992 دو لحاظ سے بہت یادگار ہے۔ ایک تو ہم نے کرکٹ ورلڈ کپ جیتا دوسرا ساؤتھ افریقہ دریافت کیا۔
    وجۂ دریافت بھی جونٹی رھوڈز کا انضمام الحق کو کیا گیا رن آؤٹ تھا ورنہ شاید ہم مزید کچھ عرصہ اس ملک سے بےخبر رہتے۔
    کم ہی لوگ جانتے ہوں گے نیلسن منڈیلا کو اقتدار کی منتقلی اور apartheid کے خاتمے سے پہلے ساؤتھ افریقہ بھی اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے پاسپورٹ پر بین لسٹ میں موجود تھا۔ وجہ تھی گوروں کا کالوں کے ساتھ نسلی امتیاز۔ جو خیر آج کے دور میں بالکل ایک دوسرے کے الٹ ہو چکا ہے۔

    ساؤتھ افریقہ میں ویسے تو بہت سے مقامات ٹورازم میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں مگر نمایاں مقام “Table Mountain” اور “Kruger National Park” کو حاصل ہے۔ ٹیبل ماؤنٹین کو تو دنیا کا آٹھواں عجوبہ تسلیم کروانے کی مہم بھی چلی تھی جو فی الوقت پائپ لائن میں ہے۔ “کروگر نیشنل پارک” کو ساؤتھ افریقہ میں وہی مقام حاصل ہے جو پاکستان میں “لاہور” کو۔ افریقہ آئے اور آپ نے کروگر پارک نہیں دیکھا تو سمجھیں کچھ نہیں دیکھا۔ “Big Five” کے لیے مشہور اس پارک میں آپ ناصرف قدرتی جنگل سے محظوظ ہو سکتے ہیں بلکہ سیزن میں “شیر” کی جھلک بھی دکھ سکتی ہے۔ کروگر کے سفر کو تبھی کامیاب تصور کیا جاتا ہے جب آپ Big Five میں سے کم سے کم تین دیکھ لیں اور ان میں شیر بھی شامل ہو تو پیسہ وصول۔
    کروگر کا رقبہ اتنا وسیع ہے کہ تین ممالک کے بارڈر کو چھُوتا ہے اور تمام تر سہولیات کے باوجود دو تین دن میں بھی پورا دیکھنا ناممکن ہے۔

    اس پارک کو جہاں بڑھتی ہوئی انسانی آبادی سے خطرات لاحق ہیں وہیں جانوروں کا غیرقانونی شکار کھیلنے والے “پوچرز” بھی ہاتھی اور گینڈا کی نسل کو تیزی سے ختم کر رہے ہیں۔ موزمبیق کی طرف بارڈر بہت دشوارگزار ہونے کی وجہ سے مکمل نگرانی مشکل ہے اور یہیں سے فائدہ اٹھا کر شکاری اپنا داؤ کھیلتے ہیں۔ اس کے باوجود SanParks جن کے لیے میں فوٹوگرافی بھی کرتا ہوں ڈرون اور ہیلی کاپٹرز کے علاوہ اب ڈاگ یونٹ بھی میدان میں لایا ہے۔ صرف 2012 میں 300 کے قریب پوچرز کو پکڑا گیا اور لگ بھگ تیس سے چالیس مختلف مقابلوں میں مارے گئے۔ یاد رہے ان مقابلوں میں حفاظتی اہلکار جنہیں “رینجرز” کہا جاتا ہے اکثر جنگلی جانوروں یا پھر پوچرز کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ حال ہی میں پوچرز کے ایک ہیلی کاپٹر پر فائرنگ سے نوجوان رینجر اہلکار ہلاک ہو گیا۔ اور ایسے بہت سے واقعات ہیں جن میں شکاری بھی جنگلی جانوروں کا شکار ہوئے اور موزمبیق سے آنے والا اٹھارہ شکاریوں کا دستہ شیروں کے ایک جھنڈ کے راستے میں آ گیا جن میں سے بمشکل تین بچ کر واپس جا پائے۔

    کروگر پارک میں کیمپنگ کے لیے محفوظ مقامات بھی بنائے گئے ہیں اور مختلف جگہوں پر نائٹ سفاری کے علاوہ ریسٹ ہاؤسز بھی ہیں مگر ان کے لیے آپ کو ایڈوانس بکنگ کروانی پڑتی ہے۔ کچھ مقامات تو اتنے مہنگے ہیں کہ شاید دونوں گردے بیچ کر بھی کچھ بقایا دینا رھ جائیگا۔
    (جاری ہے)

    @ImranARaja1

  • آج مسلمان کی تذلیل کیوں؟ . تحریر: محمد معوّذ

    آج مسلمان کی تذلیل کیوں؟ . تحریر: محمد معوّذ

    بھائیو! تم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہو اور تمہارا ایمان ہے کہ مسلمان پر اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے مگر ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو کیا اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت تم پر نازل ہو رہی ہے آخرت میں جو کچھ ہوگا وہ تم بعد میں دیکھو گے مگر اس دنیا میں تمہارا جو حال ہے اس پر نظر ڈالو اس ہندوستان میں تم 32 کروڑ ہو تمہاری اتنی بڑی تعداد ہے کہ اگر ایک ایک شخص ایک ایک کنکری پھینکے تو پہاڑ بن جائے لیکن جہاں اتنے مسلمان موجود ہیں وہاں کفار حکومت کر رہے ہیں تمہاری گردنیں ان کی مٹھی میں ہیں کہ جدھر چاہیں تمھیں موڑ دیں۔ تمہارا سر جو اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی کے آگے نہ جھکتا تھا اور آج انسانوں کے آگے جھک رہا ہے تمہاری عزت جس پر ہاتھ ڈالنے کی کوئی ہمت نہ کر سکتا تھا آج وہ خاک میں مل رہی ہے تمہارا ہاتھ جو ہمیشہ اونچا ہی رہتا تھا اب نیچا ہوتا ہے اور کافر کی آگے پھیلتا ہے جہالت اور افلاس اور قرض داری نے تم ہر جگہ تم کو ذلیل و خوار کر رکھا ہے کیا یہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت ہے اگر یہ رحمت نہیں ہے بلکہ کھلا ہوا غضب ہے تو کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان اور اس پر خدا کا غضب نازل ہو۔ مسلمان اور ذلیل ہو۔ مسلمان اور غلام ہو۔ یہ تو ایسی ناممکن بات ہے جیسے ہر چیز سفید بھی ہو اور سیاح بھی ہو۔ جب مسلمان اللّٰہ تعالیٰ کا محبوب ہوتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ کا محبوب دنیا میں ذلیل و خوار کیسے ہو سکتا ہے کیا نعوذباللّٰہ تمہارا خدا ظالم ہے کہ تم اس کا حق پہچان اور اس کی فرماں برداری کرو اور وہ نافرمانوں کو تم پر حاکم بنا دے۔ اور تم کو فرماں برداری کے معاوضے میں سزا دے؟ اگر تمہارا ایمان ہے کہ اللّٰہ ظالم نہیں اور اگر تم یقین رکھتے ہو اللّٰہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بدلہ ذلت سے نہیں مل سکتا تو پھر تمہیں ماننا پڑے گا کہ مسلمان ہونے کا دعویٰ جو تم کرتے ہو اسی میں کوئی غلطی ہے تمہارا نام سرکاری کاغذات میں تو ضرور مسلمان لکھا جاتا ہے مگر اللّٰہ تعالیٰ کے ہاں انگریزی سرکار کے دفتر کی سند پر فیصلہ نہیں ہوتا اللّٰہ تعالیٰ اپنا دفتر الگ رکھتا ہے وہاں تلاش کرو تمہارا نام فرمانبرداروں میں لکھا ہوا ہے یا نافرمانوں میں؟

    اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے پاس کتاب بھیجی تاکہ تم اس کتاب کو پڑھ کر اپنے مالک کو پہچانو اور اس کی فرمانبرداری کا طریقہ معلوم کرو کیا تم نے کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اس کتاب میں کیا لکھا ہے؟ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تمہارے پاس بھیجا تاکہ تم مسلمان بننے کا طریقہ سکھائے کیا تم نے کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش کی اس نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کیا سکھایا اللّٰہ تعالی نے تم کو دنیا اور آخرت میں عزت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا کیا تم اس طریقے پر چلتے ہو اللّٰہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بتایا کہ کون سے کام ہے جن سے انسان دنیا اور آخرت میں ذلیل ہوتا ہے کیا تم ایسے کاموں سے بچتے ہو بتاؤ تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے اگر تم مانتے ہو کہ نہ تم نے اللّٰہ تعالیٰ کی کتاب اس کے نبی کی زندگی سے علم حاصل کیا اور نہ اس کے بتائے ہوئے طریقے کی پیروی کی تو تم مسلمان ہوئے کب تمہیں اس کا اجر ملے جیسے تم مسلمان ہو ویسا ہی تمہیں اجر مل رہا ہے اور ویسے ہی اجر آخرت میں بھی دیکھ لو گے۔
    اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کی سمجھ اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین.

    @muhammadmoawaz_

  • موروثی راجکماری ۔ تحریر :‌ زوبیہ سدوزئی

    موروثی راجکماری ۔ تحریر :‌ زوبیہ سدوزئی

    مریم نواز صاحبہ کی بات کریں تو میں انہیں موروثی راجکماری یا جعلی ملکہ پاکستان کہوں گی۔ مریم نواز صاحبہ کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ پاکستان کی عوام شعور سے عاری ہے۔ اگر شعور کی بات کریں تو شعور آئے گا بھی کیسے؟ صدیوں سے پاکستان پہ حکومت لٹیروں اور چوروں کی رہی۔ ان چوروں اور لٹیروں نے عوام کو شعور نہیں غلامی باننٹی۔ اگر شعور دیا ہوتا تو آج یہ موروثی راجکماری کیا ہزاروں لوگوں کی لیڈر ہوتی؟ اگر اس عوام میں شعور ہوتا تو کوئی اک بھی بندہ موروثی راجکماری کے جلسوں میں شرکت کرتا نظر نہ ائے۔ اگر تقاریر اور ویژن کی بات کی جائے تو موروثی راجکماری اپنے حسن کے جلوے دکھانے میں مصروف نظر آتی ہیں اور جاہل عوام ان حسن کے جلوؤں سے لطف اندوز ہوتی نظر آتی ہے۔ جب کہ اگر عوام باشعور ہو تو مریم کو لیڈر ماننے سے پہلے ان سے ان کی کارگردگی پہ سوال کرے۔ موروثی راجکماری سے یہ سوال پوچھے کہ پاکستان کا پیسہ لوٹ کے جائیداد بنانے کے علاوہ آپ نے کیا کیا اس ملک کے لیے؟ آپ کی اپنی کیا کریڈیبیلٹی ہے؟ لیکن یہ شعور آتے اور اک تربیت یافتہ قوم بنتے ابھی بہت وقت درکار ہے۔ اور جس دن عوام میں شعور آگیا کوئی اک بندہ بھی موروثی راجکماری کے جلسوں میں نظر نہیں آئے گا۔

    @KhatoonZobia

  • عنوان: ویزوں کے چکر میں دھوکے بازی تحریر: محمداحمد

    عنوان: ویزوں کے چکر میں دھوکے بازی تحریر: محمداحمد

    پاکستان میں لوگوں کا وطیرہ بن گیا ہے کہ دھوکے بازی کرکے لوگوں سے لوٹ مار کر رہے ہیں ہر انسان غلط نہیں ہوتا لیکن جو لوگ نیک نیتی کے ساتھ کسی دوسرے کی مدد کرتے ہیں ان کی ذات کیلئے بھی سوال پیدا ہوجاتے ہیں خداراہ ان مجبور کی مدد نہیں کرسکتے تو ٹھگی بازی کرکے کتنے پیسے کما لیں گے ویسے ہی وہ خرچ ہو جائیں گے اللہ پاک کی لاٹھی بے آواز ہے ہمیشہ اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے

    لیکن پاکستان میں لوگ منہ مانگی رقم وصول کرتے ہیں جبکہ دبئی، ابوظبی ، مسقط، عمان میں کفیل ویزہ فری دیتے ہیں سب کےلئے یہی مشورہ ہے کہ وہ کمپنی کے through ویزہ لیں اس کے بہت فائدے ہیں

    ویزے کا ٹوٹل خرچ کمپنی کا ہوتا ہے جس میں میڈیکل، ویزہ پیسٹنگ وغیرہ فری ہوتا ہے اس کے علاوہ دو سال بعد ویزہ بھی فری ہوتا ہے اِسی طرح جتنی دیر بھی باہر کے ممالک میں رہیں گے تمام واجبات کمپنی کے ہوتے ہیں یہی فائدہ کمپنی کے ویزے کا ہوتا ہے کہ کام کی پریشانی نہیں ہوتی واجبات ملتے رہتے ہیں

    جبکہ جو لوگ آزاد جاتے ہیں ان کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے کام ڈھونڈنے کی پریشانی ، رہائش کی پریشانی اس کے علاوہ اگر کسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں تو واجبات نا ملنے کی پریشانی ۔

    ہمیشہ ایک بات کا خیال رکھیں کہ کسی ایجنٹ سے ویزہ نا لیں صرف رجسٹرڈ ایجنسی سے ویزہ لیں جہاں نا تو پیسے ڈوبنے کا ڈر ہوتا ہے نا فراڈ کا ۔ اسی لئے اُن بےبس والدین پر تھوڑا سا رحم کریں تاکہ جو لوگ پیسوں کو اپنا وطیرہ بنا کر لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اگر اللہ پاک نے آپ کو اہلیت دی ہے تو خدا ترسی کرکے بے لوث ہوکے مدد کر کے دیکھیں بڑی خوشی ملے گی اجر اللہ پاک نے دینا ہے اُس کی لاٹھی بے آواز ہے

    @JingoAlpha