Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ہمارا قومی المیہ . تحریر : آصف گوہر

    ہمارا قومی المیہ . تحریر : آصف گوہر

    قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے
    "آپ فرما دیجیئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اے عقل مندو! تاکہ تم کامیاب ہو۔” سورة المائدہ 100 زندہ دل اورمردہ ضمیر برابر نہیں ہوسکتے ۔

    ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہم برائی کو برائی نہیں سمجھتے بلکہ ہر برائی کو اپنی سیاسی اور مذہبی وابستگی کی کسوٹی پر جانچتے ہیں اگر برائی میرے سیاسی قائد یا مذہبی پیشوا سے سرزد ہوئی ہے تو پھر یہ میرے نزدیک اچھائی ہے برائی نہیں اور اب یہ میرے اوپر فرض ہوچکا کہ میں نے ہرحال میں اپنےسیاسی رہنماکی وکالت کرنی ہے چاہے اس کے لیے مجهے کسی حد تک گرنا پڑے قومی اداروں کے ساتھ ٹکرانا پڑے. یہ رویہ انتہائی خطرناک ہے جب کسی قوم میں اچھائی اور برائی کا تصور ناپید ہو جائے تو وہ قوم نہیں ہجوم بن جاتا ہے اور ایسا بے سمت ہجوم معاشرہ جلد کسی سانحہ کا شکار ہو جاتا ہے.

    ہمارا قومی مزاج بهی عجیب ہے ہم اکثر حقیقی ہیروز کو متنازع بنا دیتے ہیں اور غداروں ملک دشمنوں کو قومی ہیروز بنا دیتے ہیں
    حتی کہ وہ شخص جو وصیت کرکے مرتا ہے کہ مجهے پاکستان میں دفن نہ کیا جائے ہم اس شخص کے نام پر ایئرپورٹ اور یونیورسٹیاں بنا دیتے ہیں .

    مہذب معاشروں میں اخلاقی اقدار کا معیار یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی عہدیدار پر الزام بهی لگ جائے وہ اپنے عہدے سے فوری طور پر دستبردار ہو جاتا ہے ۔موجودہ تحریک انصاف حکومت کو کم از کم یہ کریڈٹ ضرور ملنا چاہیے کہ اس کے جس رہنما پر بھی الزام لگا اس نے فوری رضاکارانہ طور پر اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا پنجاب کے سینئر وزیر عبدالعیم خاں ۔وزیر جنگلی حیات و ماہی پروری ملک اسد کھوکھر وزیر جنگلات پنجاب اور زلفی بخاری کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں وگرنہ ہمارے ہاں معاملہ بلکل برعکس رہا ہے مالی بدعنوانی ثابت ہو جانے پر بهی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے منصب سے اس وقت تک چمٹے رہتے ہیں جب تک عدالت کان سے پکڑ کر وزارت اعظمی سے نیچے نہ اتار دے اور جہالت اور شخصیت پرستی کا یہ عالم ہے کہ چند خوشامدی پوری شد و مد کے ساتھ اپنے بدعنوان اور بدزبان رہنما کا اس بے شرمی کے ساتھ دفاع کرتے ہیں کہ بدعنوانی کرنے والے کو خود گمان ہو جاتا ہے کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا.
    گذشتہ چند روز قبل لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں مسلم لیگ ن کے رہنما نے بچوں خواتین کے سامنے ننگی گالیاں نکالیں اور اگلے ہی روز مریم نواز کی سربراہی میں چلنے والے سوشل میڈیا گروپ نے ویلڈن عابد شیر علی کا ٹرینڈ چلایا اور ایک ناپسندیدہ عمل کی تائید اور پذیرائی کی جس پر عابد شیر علی کا حوصلہ بڑھا اور موصوف نے ایک ویڈیو کلپ ریکارڈ کروا دیا کہ میں آئیندہ بھی ایسی ہی گالیاں دوں گا
    کچھ میڈیا ہاوسز نے مالی فوائد کے پیش نظر مجرموں کو ہیرو بنانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے اور ہر غلط بات ریاست مخالف بیانیہ کو پروموٹ کرنا اپنے اوپر فرض کرلیا ہے جوکہ کسی طور درست نہیں ۔ اگرآپ انسان ہیں تو اپنے ضمیر کو اس سطح پر نہ لے کرجائیں کہ اچھائی اور برائی میں فرق ہی نہ کر سکیں کیونکہ زندہ دل اور مردہ ضمیر برابر نہیں ہوسکتے ۔

    @EducarePak

  • کمالیہ شہر کے اہم مسائل تحریر : طارق جاوید

    ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل کمالیہ
    دور جدید میں بھی جنرل بس اسٹینڈ کی سہولت سے محروم ہے جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے شہریوں نے اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے 72 سال ہو چکے ہیں لیکن ہمارے شہر میں آج تک لاری اڈے کا قیام نہیں ہو سکا جو بھی حکومت آتی کسی ایسی جگہ پر جگہ خرید لیتی جو شہر سے بہت دور ہو لوگ دوسرے شہروں سے آئیں اور رکشوں میں دھکے کھائیں شہر میں بہت ساری زمین ہونے کے باوجود اس شہر کا کوئی بھی وارث نہیں ھے سیاسی جماعتوں والے اپنے اپنے مفادات کی خاطر توجہ نہیں کرتے
    اور دوسرا سب سے بڑا مسئلہ ون وے روڈ ہے
    اتنا قدیم شہر ہونے کے باوجود ایک کلو میٹر بھی ون وے سڑک نہیں ہے اس کی وجہ سے بہت زیادہ حادثے ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے کم از کم شہر کی آبادی جہاں تک ھے وہاں تک تو ون وے روڈ بننی چاہیے ہمارے سیاست دان جان بوجھ کر ون وے کی سپورٹ نہیں کرتے کیونکہ مین شہر میں جہاں جہاں لوگوں کی پراپرٹی ھے وہ سب سیاست دانوں کو سپورٹ کرتے ہیں ہمارے شہر کمالیہ ایک قدیم شہر ھے لیکن اس کے باوجود غلط پالیسیوں کی وجہ سے یہاں کے مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں ون وے پر ہمارے لوکل نیوز چینل نے بہت کوشش کی لیکن کوئی بات سنتا ہی نہیں
    ابھی موٹر وے بن گی جس کی وجہ سے بورا وہاڑی چشتیاں کی جو لاہور کو ٹریفک جاتی تھی ساری موٹر وے شفٹ ہو گی اور وہ ساری ٹریفک اندرون شہر سے ہو کر جاتی ہے اگر ہمارے شہر کے یہ مسائل حل ہو جائیں تو بہت ساری جانیں ضائع ہونے سے بچ سکتی ہیں
    جزاک اللہ
    طارق جاوید
    ٹیوٹر اکاونٹ
    @TariqJaved_

  • انفراديت اجتماعیت کوتشکیل دیتی ہے . تحریر :‌ سیدہ بشریٰ شاہ

    انفراديت اجتماعیت کوتشکیل دیتی ہے . تحریر :‌ سیدہ بشریٰ شاہ

    اچھائی اوراچھے کام کی کوشش اور مشق کرو یہ سوچے بغیر کے کیا ہو جائے گا میرے ایک کے کرنے سے راهبر ہمیشہ تنہا چلتا ہے بس اگر ہمت نہ ہارے تو ایک ایک سے گيارہ اور پھر قافله بنتا جاتا ۔الفاظ سے زیادہ عمل کر تبہ ہے جو نئی سوچ کو تشکیل دیتا ہے کچھ بھی کرو یہ سوچے بنا کرو انفرادی کاوش اجتماعی سوچ کو بدلنے میں مدد دیتی ہے یا اجتماع سے انفرادی سوچ بنتی؟

    یہ وہ عمل اور سوچ ہے جسکے جو تغیر اور سوچ کو زنگ لگا دیتا ۔احتساب خود سے ہو گا تو دوسرے کی پوچھ کر سکیں گے ۔
    من حسیت قوم ہمارے اندر سب سے بڑی خامی ہم آج بھی ذات برادری قبیلے علاقے پیشے اور گروہ کے لحاظ سے بنی سوچوں روایتوں کے بندھن میں مقید ہیں ۔ہم پركھ اور سوچ کو مستعا ر لیکر بات کرتے یا رائے بناتے کیونكہ ہم تحقیق کرنے کھوجنے کا تردد نہیں کرتے ۔
    کچھ بھی برا لگے پہلے اپنی ذات اور آپنے عمل سے اسکو منہا کرو ۔ دوسرے جو آپ کے ساتھ ہوتے ان پر آپکا عمل خودسے اثر انداز ہو گا ۔لفاظی آپکو مقرر بنا دے گی پر رهبر نہیں ۔جو عمل سچا ہو سہی ہو اور اگر تعصب کی نگاہ سے پاک ہوکر صحیح لگے اسکو کرو بھلے سب حق کے مخالف ہوں ۔ایک وقت آئے گا خود آپکے شانہ بشانہ لوگ کھڑے ہونے لگیں گے ۔بے ہنگم ہجوم کے سپیکر بننے سے بہتر ہے سمجھدار افراد بھلے وہ تعداد میں بہت کم ہوں انکےسنگی ساتھی بنو ۔۔فتح اور کامیابی اور پھر حکومت وہی کرتے جو خود حق پر رہ کر حق کے ساتھ ہوں ۔مکار یا طاقت ور وقتی زور پکڑ بھی لے تو جب سامنے والا اگر حق پرست ہو حق کے لئے کھڑا ہو تو 313 ہزاروں پر بھاری ہو جاتے پھر خدا بھی ساتھ ہوتا ۔ سہارے غیر ضروری امیدیں اور غلط تواقعات افراد کریں قومیں کریں یا گروہ وہ برباد ہو جاتے آگے وہی بڑھتا جو ٹوٹی بیسا كهيو ں کا اعتبار نہیں کرتا ۔

    انفرادی تربیت کے عوامل میں گھر سکول بنیادی اكای ہیں ۔من حثیت قوم ہمیں اب آواز اٹھانا ہی ہو گی آنے والی نسل کی اخلاقی قومی تربیت کی ۔عدل ،سچائ ذمداری ، تہذیب اسکے ضامن ہم ہیں اور ہماری ذمداری اگلی نسل کو یہ بتانا ۔۔اگر گزشتہ چند دہایوں کا محاسبه کریں تو بنا مبا لغہ آرائی کے ہم اخلاقی تہذیبی لحاظ سے پست ہوتے جا رہے ۔ہم بنيادی معاشرتی مذہبی اقدار کو اتار کر کہیں دور پھینک چکے ۔یہ سب ایک یا دو روز کی دین نہیں یہ پستی کمانے میں ہم نے دہایاں لگا دی اور اسکو فكس کرنے کو ہمارا دھیان ہے جو جاتا نہیں ۔اس معاملے کو اب بھی اگر ہم نے سیریس نہ لیا تو تباہی کے علاوہ اور کچھ بھی حصول نہیں ہو گا ۔۔کیونکہ ببول بو کر کبھی گندم یا گلاب نہیں ملتا۔جس قوم میں کرپشن چوری اتنی بڑھ جائے کے گھر کے باہر رکھنے والی بن چوری ہو جائے ۔کچرا کنڈی کے اندر کوڑا ڈالنے کے بجائے لوگ اسکے باہر ڈال جائیں جہاں عصمتیں مردوزن محفوظ نہ رہیں۔جہاں سڑک پر نصب سٹچو سے ہاکی بال لٹ جائے جہاں عدم برداشت اتنی ہو معمولی بات پر قتل ہو جائے وہاں اب مزید لٹنے کو کچھ نہیں بچا ہمیں معاشی سے زیادہ اخلاقی پستی کا سامنا ہے جہاں ادب تہزیب کی جگہ بد فطری بد فعلی نے لے لی ۔نا شائستہ زبان اخلاقی مذہبی روایات سب نا پید ہو چکا ہم نے اپنی نسل کو اندھی نمبروں کی دوڑ میں ڈال دیا اور تربیت کا خانہ خالی چھوڑ رہے ۔یہ تو انفرادی كمياں گھروں سے ملی رہی کثر میڈیا کے بہت سے عوامل اور ہماری سیاسی سماجی تعلیمی کرتا دھرتا نے پوری کر دی ۔ابھی بھی کچھ گیا نہیں اپنی نسل کو سدهار لو انکو انکی ذمداری حق سچ کے ساتھ سمجھ کے سمجهاو ۔یہی لوگ آگے چل کر اہل اختیار بنتے بڑے دفتروں کے مالک بنتے اگر یہ ایسے ہی آگے جا پہنچیں گے تو ان سے بہترین یا بہتر کی امید غلط ہو گا ۔ہمیں اب سدھرنا ہی ہو گا اگر ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں سدھر سکیں گے ۔معاشرتی تنزلی قوم کی بربادی ہے جسکا خمیازہ ہم بھگت رہے ۔
    خود کو سنوار کے حق کے لئے ڈٹ جانے والے بنو ۔راستہ بنا بہت کم کو ملتا ۔راستہ بنا کر دینے والے بنو سیدھا راستہ جسکی منزل گلستان ہو۔

    SyedaBushraSha

  • محب وطن قبائل تحریر: عتیق الرحمن

    محب وطن قبائل تحریر: عتیق الرحمن

    پاکستان کے قبائلی باشندوں سے محب وطن میں کسی کو نہیں دیکھا۔ یہ غیور لوگ پہاڑوں میں رہتے ہیں اور پہاڑوں سا جگر رکھتے ہیں۔ قبائلی علاقہ جات میں بسنے والے افراد پاکستان کے سرحدی دفاع کی اہم طاقت سمجھے جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کسی بھی دشمن نے اس برف کبھی حملہ کرنے کی جرأت نہیں کیونکہ غیور قبائل ارض وطن کے لئے سیسہ پلائی دیوار بنے ہیں ہمیشہ اور افواج پاکستان کے ساتھ ملکر دشمن کے ہر مزموم عزائم کو شکست سے دوچار کرتے ہیں
    بدقسمتی سے گزشتہ کسی بھی حکومت نے انکی تعلیم ترقی کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی جسکی وجہ سے بعض قبائلی افراد دشمن کے بہکاوے میں آکر انکی سازش کا حصہ بن بیٹھتے ہیں جنکی موجودہ مثال منظور پشتین اور محسن داوڑ ہے۔ پہلے اس چیز پر توجہ نہیں دی گئی کہ قبائلی باشندوں کی نمائندگی بھی اسمبلی میں ضروری ہے جس کے پیش نظر اب انکو باقاعدہ نمائندگی بھی دی جارہی ہے
    سنہ 2000 کے جب افغان جنگ شروع ہوئی تو رہورٹس کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ انڈیا نے امریکہ کیساتھ ملکر قبائلی علاقوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کررکھی تھی جس کی خبر جیسے ہی غیور قبائلیوں کو ہوئی تو وہ فورا اپنی افواج کے شانہ بشانہ لڑنے سرحدوں پر پہنچ چکے تھے جس سے دشمن کی جرأت نہ ہوئی اس طرف منہ کرنے کی
    افغانستان کے راستے کچھ دہشت گرد تنظیمیں جیسے کہ تحریک طالبان پاکستان جسے انڈیا نے بنایا انہوں نے قبائلی علاقوں میں اپنے سلیپر سیل بنالئے جس کی وجہ وہاں موجود ہر باشندے کو دُنیا میں دہشت گرد کی نظر سے دیکھا جانے لگا لیکن 2014 میں ہوئے آرمی اپریشن سے ان دہشت گردوں کو ختم کردیا گیا اور اب دوبارہ سے وہاں زندگی خوشحالی کی طرف رواں دواں ہے
    اللّہ ہماری قبائلی علاقوں میں یونہی امن کی فضا بنائے رکھے اور حکومتوں کو یہ سوچ دے کہ وہ انکی ترقی کے لئے بھی اقدامات اُٹھائیں

    @AtiqPTI_1

  • اساتذہ کی اہمیت اور آن کا کردار  تحریر: محمد مبین اشرف

    اساتذہ کی اہمیت اور آن کا کردار تحریر: محمد مبین اشرف

    اساتذہ کا دن ہر سال 16 مئی کو منایا جاتا ہے جو ہماری قوم کا انمول اثاثہ رکھنے والے طلباء کی تعلیم و تعلیم میں ان کی شراکت کو سراہتے ہیں۔

    اساتذہ کو ہر وقت پہچانا جانا چاہئے اور ان کی تعریف کی جانی چاہئے ، وہ جو خدمت کر رہے ہیں اور جنہوں نے خدمت کی ہے ، خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے ہم پر میراث اور گہرا اثر چھوڑا تھا۔

    اس سال کے جشن کا مرکزی خیال "علم اور کردار کے معمار” ہے جو اساتذہ کے کردار کو بخوبی بیان کرتا ہے۔

    درس و تدریس ایک بہت ہی عمدہ پیشہ ہے جو ملکی تعمیر کے لئے لازمی ہے۔

    میں اس نظریہ کو شریک کرتا ہوں کہ جو لوگ تدریسی پیشے میں شامل ہونے کے خواہشمند ہیں انہیں نہ صرف پڑھانا پسند کرنا چاہئے بلکہ بچوں سے بھی پیار کرنا چاہئے اور انہیں اپنی تعلیم کے ذریعے دیکھنا چاہئے۔

    اساتذہ کو طلبا کو تعلیم دینے اور مستقبل کے رہنماؤں میں ڈھالنے کا موقع حاصل ہے۔

    وہ نسلی تفہیم کو فروغ دینے اور معاشرتی ہم آہنگی ، انضمام اور اتحاد کے عمل کو تیز کرنے کے لئے تمام نسلوں کے اسکول جانے والے بچوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعامل اور آپس میں ملنے کی حوصلہ افزائی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

    خصوصیت کی ترقی ہمارے نظام تعلیم کا ایک اہم مقصد ہے اور ہمیں اس سے منظم انداز میں رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔

    اس طرح کے پروگراموں کی کامیابی کے لیے ایک مکمل نقطہ نظر ، جہاں کرداروں کی نشوونما کے مواقع اسکول نصاب اور ماحولیات کے مختلف پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہیں۔

    بچہ ہر تجربے سے گزرتا ہے ، خواہ وہ کلاس روم کے اسباق میں ہو ، مختلف تعلقات ، تادیبی اقدامات اور ہم نصابی سرگرمیاں ، ہر ایک کے بچے کے کردار ، اقدار اور مزاج کی نشوونما پر اثر پڑے گا۔

    یہی وجہ ہے کہ مجھے یقین ہے کہ قائدین کی اگلی نسل کی ترقی کے اس قومی تعمیری عمل کو شروع کرنے کے لئے ہمیں پہلے کردار کے ایک منظم اور ثابت طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے کردار پر مبنی ثقافت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

    کردار کی تربیت کی ضرورت کے ساتھ طلباء کی تعلیمی مہارتوں میں توازن پیدا کرنے میں والدین کو ایک شراکت دار بننا ہوگا۔

    ہمارے نظام تعلیم کی کامیابی کا اندازہ نہ صرف ہمارے طلباء کی تعلیمی کامیابیوں سے ہوتا ہے بلکہ لوگوں کے معیار کے ذریعہ بھی تعلیم کا نظام پیدا ہوتا ہے۔ ان کا علم ، ان کی سالمیت ، ان کے کردار؛ ان کا رویہ ، ٹیم کے کھلاڑی بننے کی ان کی قابلیت ، اور قوم و برادری سے ان کی ذمہ داری اور عزم کا احساس۔

    درحقیقت ، ہمارے نوجوانوں کے کردار ، رویے اور اقدار لازمی پہلو ہیں جو ہمیں مولڈ اور پرورش کرنے ہیں۔

    اگرچہ یہ ضروری ہے کہ ہمارے طلباء اہم قومی امتحانات میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں اور بین الاقوامی مقابلوں میں پذیرائی حاصل کریں ، ان کی ہمہ جہت ترقی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے۔

    ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی پوری شخصیت متوازن ہو تاکہ ہمارے طلباء کی ترقی اخلاقی ، علمی ، جسمانی ، معاشرتی اور جمالیاتی پہلوؤں کو مدنظر رکھے۔

    اساتذہ ہر بچے کا تعلیمی تجربہ طے کرتے ہیں۔ وہ طلبا کے کردار کو بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    وہ نہ صرف اہم رول ماڈل ہیں۔ وہ بچے کے تجربے کے بعد کشش اور معنی خیز مباحثے اور سوچ سمجھ کر عکاسی کے ذریعے دریافت اور سیکھنے کی دنیا کے دروازے بھی کھول سکتے ہیں۔

    اس طرح کے تجربات مثبت سیکھنے کا باعث بنے۔ لہذا ، استاد سیکھنے کے مناسب نتائج کی تشکیل اور تقویت کے لئے ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
    اساتذہ والدین کی جگہ لیتے ہیں ، وہ طالب علم کے کردار اور شخصیت کی رہنمائی کرتے ہیں۔ وہ طلبا کے ابتدائی سالوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ایک اچھا استاد ایک طالب علم کو اپنی صلاحیتوں کو سمجھنے اور ایک بہتر انسان بننے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اساتذہ کو یہ موقع ہے کہ وہ طلبا کو آئندہ کے رہنماؤں میں ڈھالیں اور انھیں ملک کی ڈھال بنائیں۔

    @Its_MuBii

  • زندگی  اور موت   تحریر:ازان حمزہ ارشد

    زندگی اور موت تحریر:ازان حمزہ ارشد

    موت سب سے بڑی حقیقت ہےجس کو ہر شخص بھلا بیٹھا ہے اور زندگی سب سے بڑا دھوکہ ہے جس کے پیچھے ہر شخص بھاگ رہا ہے۔زندگی ایک خوبصورت جھوٹ اور موت ایک کڑوا سچ ہے۔ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی سب سے بڑی نعمت ہے۔اکثر لوگ زندگی کا یہ مطلب نکالتے ہیں کہ بس صبح جاگیں، کام پر جائیں، وآپس آئیں ،کھانا کھائیں ، سو جا ئیں اور کچھ عرصے بعد مر جائیں۔ زندگی محض خود کو ایک مشین بنا دینے کا نام نہیں بلکہ زندگی ہمارے کیے گئے اچھے اور برے اعمال کا کمرہِ امتحان ہے۔جس کا نتیجہ روزِ محشر سنایا جائے گا۔ اللہ عز و جل نے ہمیں پیدا کیا تاکہ ہمیں آزمائے اور ہمارا امتحان لے، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الملک میں فرمایا:
    "وہی ہے جس نے موت وحیات کو اس لئے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے۔” (الملک:2)
    ہم انسان چاہے جتنی بھی کوشش کرلیں جتنے بھی جتن کر لیں پر موت کی اٹل حقیقت کو نہیں ٹال سکتے کیونکہ ایک نہ ایک دن ہم سب نے خالقِ حقیقی سے جا ملنا ہیں جیساکہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ آل عمران میں فرمایا
    ” ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔” (الملک:185)
    اصل زندگی وہی ہے جس میں روحانیت ہو۔روحانی زندگی کیا ہے اللہ کی یاد اور ذکر میں لگے رہنا، درودوسلام کا ورد کرتے رہنا۔ اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور لوگوں تک پہنچانا تا کہ ان کے لیئے باعث ِفائدہ اورنمونہ ہو۔غریبوں اور کمزوروں کی مدد کرنا ، رہنمائی کرنا اور ان کی جہاں تک ممکن ہو مالی مدد کرنا ، ظلم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا، کسی مشکل میں پھنسے شخص کو دلاسا دینا۔کسی نا انصافی کرنے والے کے خلاف کھڑے ہونا، اپنی عبادات کا اہتمام کرنا اور دوسروں کو بھی عبادت کی تلقین کرنا ۔حلال کھانا، ہمیشہ سچ بولنا، امانتوں کا خیال رکھنا ، موت کو یاد رکھنا، قبرستان جانا ، عبرت حاصل کرنااور وہاں بسنے والوں کے لیئے دعاۓمغفرت کرنا ۔ یہی کامیاب زندگی ہے ۔ زندگی ایسی گزاروکہ زندگی کو فخر ہو کہ کوئی اسے ایسے گزار کر گیا جیسے گزانے کا حق تھا ، اور قبر کو بھی فخر ہو کہ اس میں رسول ِ پاک ؐ کا سچا عاشق اور غلام آیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو آخرت کی صحیح معنوں میں تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔(آمین)
    موت کی آغوش میں جس دن ہمیں سونا ہوگا
    نہ کوئی تکیہ ہوگا نہ کوئی بچھونہ ہوگا
    ساتھ ہوں گے اعمال ہمارے
    اور قبرستان کا چھوٹا سا کونا ہوگا
    Twitter: @Aladdin_Hu_Me

  • باغی ٹی وی . تحریر : محمد طلحہ

    باغی ٹی وی مستند، غیر جانبدار، عوامی حلقوں میں مقبول ایک محبِ وطن چینل ہے، باغی ٹی وی نے ہمیشہ ملک کے حق میں جو بھی آواز اٹھی ہے، اسکوہرموقع پرسراہا ہے. ویسے تو بیسوں چینل ملک میں اپنی ذمے داریاں نبھا رہے ہیں، ملک کا نام روشن کررہے ہیں، ملک کے وسیع ترمفاد میں بہت سے چینل پاکستان کے لیے اچھا کام کررہے ہیں، پاکستان کا مثبت پہلواُجاگرکرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کے مسائل کے ادارک کے لیے حتی الامکان کوشش کررہے ہیں، لیکن جس قدراورجس طرح باغی ٹی وی پاکستانیوں کے لیے آواز بنا ہوا ہے پاکستانیت کو پرموٹ کررہا ہے، پاکستان کا مثبت چہرا دنیا کے سامنے اجاگرکررہا ہے اسکی مثال آپ ہے.

    اس مشکل وقت میں جب ٹوئٹرکی طرف سے ویری فائیڈ کا آپشن آن کیا گیا ہے، اسکے لیے آپکا کسی بھی نشریاتی یا پھر صفحاتی ادارے کے ساتھ منسلک ہونا لازمی قراردیا گیا ہے، اس کے لیے لوگ جوق درباغی ٹی وی کے ساتھ منسلک ہوتے جارہے ہیں، لوگ غول کی طرح باغی ٹی وی سے اپنی تحریریں شائع کروارہے ہیں، اس کے لیے باغی وی کا کرداراہم ہے.

    مؤرخ اگرتاریخ دہرائے گا یا پھراپنے قیمتی صفحات میں تاریخ کے چند صحافتی پہلواجاگرکرے گا تو یقیناً باغی ٹی وی کا اس میں نام سرفہرست آئے گا، باغی ٹی وی نے عام آدمی کی آوازکومؤثراندازمیں اجاگرکرکے اس عام انسان کا قد بڑھایا ہے. جس طرح تحریریں لکھنے کا جزبہ مانند پڑتا جارہا تھا لوگ سیل فون میں مصروف ہوگئے تھے، نِت نئے کارنامے انجام دے رہے تھے، ایسے میں باغی ٹی وی نے حقیقی طورپرلوگوں میں تحریریں لکھنے کا جزبہ پیدا کیا ہے، لوگ ایک سے بڑھ کرایک تحریرکواپنے اندازمیں اپنے الفاظ میں پرو کر پڑھنے والوں کو محوکررہے ہیں.

    یقیناً اس میں باغی ٹی وی کا کرداراہم ہے، لکھنے کے جذبے کو مانند پڑنے سے بچانے کے لیے باغی ٹی وی جس طرح کام کررہا ہے لوگوں کے درمیان شوق پیدا کررہا ہے وہ یقیناً قابلِ تحسین اورقابلِ ستائش ہے، عام آدمی کو خوشی ہے کہ کوئی تو مستند چینل ہے جو ہماری آواز ہمارے الفاظوں کو تحریروں میں سمو کر لوگوں تک پہنچا رہا ہے.

    میں ذاتی طورپراس خیال سے ہم آہنگ ہوں کہ لوگ دن بدن آئے روز نئی سے نئی تحریریں باغی ٹی وی پرشائع کروارہے ہیں تاکہ انکی آواز مؤثراندازمیں لوگوں تک پہنچ پائے، میں ذاتی طورپرکچھ عرصہ ایک صفحاتی ادارے میں کالم لکھتا رہا ہوں میرا چونکہ تعلق زیادہ ترلکھنے سے ہے، بغدادیّ کا خیالی سے اقتباس کے نام سے میں کئ تحریروں کو لکھ چکا ہوں، مٔجھے جب اپنے جذبے کی جانچ پڑتال کرنا پڑی تومجھے اپنا جذبہ لکھنے کے حوالے سے مانند پڑتا ہوا نظرآرہا تھا، ایسے میں باغی ٹی وی کی طرف سے دلچسپی دیکھتے ہوئے مٔجھے بھی لکھنا پڑا تاکہ میں اپنے لکھنے کے جذبے کو تروتازہ رکھ سکوں.

    آخر میں میری باغی ٹی وی کے لیے لکھنے والوں سے گزارش ہے کہ اگرچہ باغی ٹی وی ایک اصول پسند ادارہ ہے ہرادارے کے اصول و ضوابط ہوتے ہیں، أنکے اصول و ضوابط اور قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی تحریریں لکھیں تاکہ آپکی لکھی ہوئی ہربات میں وزن ہو، عوام پڑھے تودلچسپی ظاہرہو، ایسا نہ ہو کہ آپکی تحریرکو شرفِ قبولیت میسرنہ ہو، عوام ورق کو آگے پلٹیں اورچلے جائیں.

    وہ شعر ہے ابنِ جہان کا کہ
    ‏‎اگرتحریر کو شرفِ قبولیت نہیں
    بخشنی تو بتا دیں ہم أردو سرائے
    سے کٔوچ کر جائیں

    @Talha0fficial1

  • ‏عدت کیا ہے اور کیوں لازم ہے  تحریر: علی رضا بخاری

    ‏عدت کیا ہے اور کیوں لازم ہے تحریر: علی رضا بخاری

    شوہر کا انتقال ہونے کی صورت میں بیوہ کو عدت کے طور پر چار مہینے اور دس دن گزارنے ہوتے ہیں۔

    قرآن پاک میں اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    "اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں”
    (سورۃ البقرۃ : 234)

    شوہر کے انتقال سے پہلے عورت حاملہ ہو يا کچھ دن بعد علم ہو تو عدت ڈیلیوری تک ہوگی خواہ یہ مدت 9 ماہ کی ہی کیوں نہ ہو۔

    قرآن پاک میں اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    "اور حمل والیوں کی عدت ان کا حمل ہے”
    (سورۃ الطلاق : 4)

    اگر عورت کو طلاق یا خلع ہوئی ہے تو اس صورت میں عدت تین ماہواری ہوگی۔

    عدت کے مسائل:
    عدت کی شروعات اس دن سے ہوگی جب شوہر کی وفات ہوئی ہے، اگر کسی بیوہ کو کچھ دن تاخیر سے شوہر کی وفات کی خبر ملتی ہے تو بھی عدت کی شروعات اسی دن سے مانی جائے گی جب وفات ہوئی ہو یعنی انجانے میں گزرے ایام بھی عدت میں شمار کیے جائیں گے۔

    بیوہ کیلئے نبی پاکﷺ کا فرمان ہے:
    "تم اپنے اس گھر میں عدت بسر کرو جہاں تمہیں اپنے خاوند کی موت کی خبر ملی تھی حتٰی کہ کتاب اللّٰہ کی بیان کی ہوئی مدت پوری ہو جائے”

    دورانِ عدت سفر کرنا منع ہے اس لیے حج و عمرہ کا سفر ہو یا سیر و تفریح کا یہ سب بیوہ کیلئے دورانِ عدت ممنوع ہیں، بیوہ ضرورت کے تحت سفر کر سکتی ہے مثلاً شوہر کے گھر عدت گزارنا مشکل ہو یا دوسرے کا گھر ہو تو مناسب جگہ منتقل ہو کر عدت گزار سکتی ہے، اسی طرح کوئی ضرورت کی چیز لا دینے والا نہ ہو تو خود باہر جا کر اشیاء خرید سکتی ہے اور اگر بیمار پڑ جائے تو علاج کی غرض سے بھی گھر سے باہر نکل سکتی ہے یعنی بیوہ کیلئے دورانِ عدت ضرورت کے تحت باہر جانا جائز ہے۔

    بیوہ کو دورانِ عدت زینت کی چیزیں مثلاً میک اپ، کان کی بالیاں، پازیب، کنگن، ہار، انگوٹھی، چوڑیاں، کریم، پاؤڈر اور مہندی وغیرہ استعمال کرنا منع ہے۔

    عورت عدت کے دوران گھر کی معمول کی زندگی گزارے گی اور آنے والے محرم رشتہ داروں سے ملاقات اور میل جول کر سکتی ہے۔

    جب عورت کی عدت مکمل ہو جائے تو جہاں چاہے دوسرے دین دار مرد سے شادی کر سکتی ہے۔

    ‎@aliraza_rp

  • ماں باپ ایک نعمت  ۔تحریر :  فجر علی

    ماں باپ ایک نعمت ۔تحریر : فجر علی

    زندگی بہت تکلیف دہ چیز ہے یہ موت سے بڑھ کر اذیت دیتی ہے ۔کیونکہ اس کا کوئی بھروسہ نہیں کب بیچ راستے میں چھوڑ جائے نہیں معلوم ۔ہمارے ماں باپ ہمیں جنم دیتے ۔ہماری پیدائش سے ہمارے لئے سپنے دیکھنا شروع ہوتے ہیں۔ہمیں دنیا جہاں کی خوشیاں عطا کرتے ہیں ۔انکی ہر طرح سے کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے بچے کی زندگی میں کوئی خواہش ادھوری نہ رہ جائے ۔اپنی تمام تر پونجی ہم پر نچھاور کردیتے ہیں ۔بچے ماں باپ کو دیکھتے ہوئے بٹے ہوتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ساتھ رہیں گے ۔کیونکہ ماں باپ ہر چیز سیکھاتے ہیں سوائے اس کے کہ بیٹا ہم ایک دن نہیں رہینگے تو تم ابھی سے ہمارے بغیر زندگی جینا سیکھ لو
    ۔اولاد کے لیے سب سے تکلیف دہ مقام یہ ہوتا ہے جب وہ اپنے سامنے اپنے ماں باپ کو بوڑھا اور کمزور ہوتا دیکھتی ہے ۔پھر ایک دن ان میں کوئی ایک ہمیشہ کے لیے چلے جاتا اور وہ اولاد جس نے اپنی سانس بھی والدین کے بغیر لینے کا تصور تک نہیں کیا ہوتا وہ بڑے بڑے پہاڑ اکیلے برداشت کرنا سیکھ جاتی ۔
    اللہ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندوں سے ستر ماوں سے زیادہ محبت کرتا ہوں ۔تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیا کوئی ایک ماں اپنے بچے کو یوں بلکتا ہوا دیکھ سکتی ہے؟ حضرت اسماعیل کی پیاس بی بی حاجرہ سے برداشت نہ ہوئی وہ کس قدر تڑپی تھی کہ نگے پاوں پانی کی تلاش میں دوڑتی گئیں ۔یہ تھی ماں کی تڑپ ۔یہاں ہم ہر روز تڑپتے بلکتے رہتے کوئی دلاسہ دینے والی ذات نہیں آتی ۔ایک ماں جو بچے کو جنم دینے کے دوران فوت ہوجاتی ہے اس میں رب کی کیا مصلحت ہے ۔جو بچے کو تو جنم دے گئی اور جود اس جہاں سے کوچ کرگئی ۔اور وہ بچہ جس نے اپنی ماں کا لمس تک محسوس نہیں کیا اس کے مسکین ہونے میں کیا بہتری تھی؟ دونوں کو ملی تو ہمیشہ کے واسطے کی جدائی ،تڑپ ۔اللہ تو ہر چیز سے پاک ہے اور بے پراوہ بھی ۔وہ خود کو کبھی بھی کسی چیز پر ذمہ دار نہیں ٹھہراتا ۔۔
    جیسے جب کسی کا وصال ہوتا ہے تو عزرائیل پر الزام لگتا کہ انہوں نے جان نکالی؟ لیکن کس کے کہنے پر؟ یہ کسی نے نہیں بولا ۔
    یہ بات آج تک سمجھ سے باہر ہے کہ ایک ماں باپ کو اولاد سے محبت اور اولاد کو ماں باپ سے محبت کی تاکید کی گئی لیکن دوسری طرف ان کو جدا کرکے جو ہمیشہ کا غم دیا جاتا ہے اللہ کی طرف سے اس پر بھی صبر کا حکم ۔
    کسی کی ساری دنیا لے جاتی ہے اور اسے صبر کی تلقین کرنا کیا دانائی کی بات ہے؟یقینا نہیں ۔ ہم اللہ کے ہیں اسی کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں لیکن یہ اذیت بھرا سفر کبھی تمام نہیں ہوتا چاہے اس پر صبر کربھی لیں تو ۔۔یہ سفر یونہی ٹوٹی پھوٹی لہروں کی مانند جاری وساری رہتا ہے

    @FA_aLLi_

  • پاکستان کی ترقی اور کرپشن  تحریر :  نوید بونیری

    پاکستان کی ترقی اور کرپشن تحریر : نوید بونیری

    کرپشن انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کی اردو معنی بدعنوانی ہے
    اگر اقوامِ عالم پر نظر دوڑائی جائے تو ایک بھی قوم اپ کو ایسا نظر نہیں آئے گا جس نے بدعنوانی کی خاتمے کے بغیر ترقی کی ہو ایک قوم تب تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک وہ متحد ہو کر معاشرے میں موجود بدعنوان عناصر کو سخت سزائیں دے کر بد عنوانی کو جڑ سے اکھاڑ نہیں پھینکتے

    ہمارے ملک کی ترقی میں سب سے بڑی روکاٹ کرپشن ہے پاکستان کی سیاست میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ کرپشن ہی ہے ستر سالو سے جو بھی حکومت اتی ہے تو ان کا سب سے بڑا دغوا کرپشن کا خاتمہ ہوتا ہے لیکن جب حکومت اپنی اختتام کو پہنچ جاتی ہے تو وہی حکومت کرپشن کا ذمہ دار ٹھہر جاتی ہے کیونکہ پاکستان میں بڑے افسر سے لے کر ایک ادنیٰ کلرک تک ہر بندہ اپنی ڈیوٹی کی فرائض کے بارے میں اتنا نہیں جانتے جتنا کرپشن کے بارے میں جانتے ہیں کرپشن اور رشوت خوری کے نت نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں حالانکہ پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کے لئے ایک ازاد اور آئینی ادارہ موجود ہے جس کا نام قومی احتساب بیورو ہے جس کا بنیادی کام ملک سے کرپشن اور اقرباءپروری کا خاتمہ ہے اور ملک میں موجود بدعنوان عناصر پر نظر رکھنا ان کے خلاف تحقیقات کر کے سزائیں دلوانا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں کرپش ایک لاعلاج مرض بن کر ایک ناسور کی طرح ہر طرف پھیل رہا ہے جس نے نہ صرف ہمارے اداروں کو تباہ کر رکھا ہے بلکہ ہمارے اخلاقی اور سماجی اقدار کو بھی تباہ کر رکھا ہے ہر جگہ سفارش اور اقرباءپروری اپنی عروج پر ہے ہمارے تعلیمی نظام ہو صحت کا نظام ہو ایک ادارہ ایسا نہیں ہے جو کرپشن سے پاک ہو اج اس بد عنوانی نے پورے معاشرے کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے اج معمولی سطح پر اگر کسی شخص کو کسی بھی ادارے میں کوئی کام درپیش آئے اور لائن میں کھڑا ہونا ہوتا ہے تو اس سے بچنے کے لیے وہ رشوت دیتا ہے اور اس کا کام سب سے پہلے پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے باقی جس کے پاس رشوت دینے کے لیے پیسے نہیں ہوتے تو وہ لائنوں میں خوار ہوجاتے ہیں ہمارے معاشرے پر کرپشن نے اتنا اثر کر رکھا ہے کہ اج ہم گھر میں کسی بچے کو تب تک دکان سے سامن لینے نہیں بھیج سکتے جب تک کہ ہم اس کو سو میں سے دس نہیں دیتے اج ہم نے اپنے بنیاد کو ہی کرپشن پر رکھا ہے جس سے خاص کر نوجوان طبقے میں احساس محرومی پیدا ہوئی ہے بد عنوان عناصر نے ان کے حقوق کو غضب کر رکھا ہے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنے جائز حق کو حاصل کرنے کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھاتی ہیں اج علم اور تجربے کی بجائے پیسہ ہی سب کچھ ہےجس کی وجہ سے اداروں میں نااہل لوگ تعینات ہوجاتے ہیں

    پاکستان میں کرپشن کی خاتمے میں سب سے بڑی روکاٹ احتساب کا نظام ہے کیونکہ ہمارے احتساب کی عدالتیں انتہائی سست روی کا شکار ہے ملزمان سالہا سال جیلوں میں بند ہوتے ہیں اور عدالتوں میں تاریخ پے تاریخ دی جاتی ہے اس لیے اج تک کسی ملزم کو سزا نہیں دی جا سکی جس کا بدعنوان عناصر بھر پور پیدا اٹھا رہے ہیں جس کی وجہ سے کرپشن کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے سب سے پہلے ہمیں احتساب کا نظام مظبوط بنانا ہوگا موثر قانون سازی کے زریعے احتساب عدالتوں میں ایسے جج تعینات کرنے ہوگے جو بدعنوانی کے بارے وسیع تجربہ رکھتے ہوں جن کی دامن کرپشن اور سیاست سے پاک ہو اور ان کے فیصلوں سے انصاف ہوتا ہوا نظر آئے جب انصاف کا نظام کسی کے اثر میں آئے بغیر کام کرتا ہے تو کوئی بھی ملزم سزا سے نہیں بچ سکتا
    اگر ہمیں اس ارضِ پاک سے کرپشن ختم کرنا ہے اور اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو سب سے پہلے ہر فرد کو اپنی ذات سے شروع کرنا ہوگا معاشرے کے ہر فرد کو خود اپنا احتساب کرنا ہوگا کہ میں کرپشن کی اس مرض میں کتنا مبتلا ہو جب ہر فرد اپنی خود احتسابی شروع کرے اور اس مرض سے چھٹکارا پائے تب ہم معاشرے میں موجود بااثر بدعنوان عناصر کے خلاف اواز اٹھا سکتے ہیں
    @Naveedk07