Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پاکستان میں مہنگائی کا ذمہ دار کون  تحریر ; حسن خان

    پاکستان میں مہنگائی کا ذمہ دار کون تحریر ; حسن خان

    جہاں حکومت کو مہنگائی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے وہی پر ہم پاکستانی بھی مہنگائی کے ذمہ دار ہیں کیوں کہ ہم غیر ملکی اشیا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے مہنگی گاڑیاں مہنگے جوتے کپڑے کھانے پینے کی اشیا سب غیر ملکی استعمال کرتے ہیں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ہم جو یہ پانی خرید کر پی رہے ہیں یہ ہمارے ملک کا ہی پانی ہےصرف ملٹی نیشنل کمپنی اپنا لیبل لگا کر ہم سے پیسے بٹور رہی ہیں اور یہ پیسہ ملک سے ڈولر کی شکل میں باہر جاۓ گا
    جس دن غیر ملکی اشیا خریدنی کم ہوگئی اس دن ہم مہنگائی پر قابو پا لیں گے
    ہمارے سابقہ حکمرانوں نے نا ہم کو شعور دیا نا ہی بتایا کہ معیشت کیا ہوتی ہیں ترسیلات زر کیا ہوتی ہے ایکسپورٹ انپوٹ کیا ہوتی ہیں ملکی معیشت کو کیسے مستحکم بنایا جاتا ہے صرف قرضہ لیتے گئے سبسڈی دیتے گئے ملک لوٹتے گئے
    دس سال بعد جب قرضوں کی واپسی کا وقت آیا تو سارا نزلہ عمران سرکار پر گرا ملک معاشی طور پر مفلوج ہوگیا حکومتی ایوانوں میں افرا تفری مچ گئی عمران خان کبھی ایک ملک کبھی دوسرے ملک مدد کیلئے بھاگا بھاگا پھر رہا تھا وجہ ملکی قرضے واپس کرنے تھے وہ بھی ڈولر کی صورت میں ڈولر تو کرپٹ حکمران بیرونی ممالک لوٹ کر لے گئے تھے تب جاکے ہماری سعودی عرب اور چین نے مدد کی تو ملک مزید تباہی سے بچ گیا آج بہترین معیشت کے ساتھ سارے ادارے خساروں سے نکل چکے ہیں
    مہنگائی ڈولر کی وجہ سے اپر ہے اور ویسے بھی پوری دنیا میں مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے
    کرونا وائرس اس کی مین وجہ بنی
    مہنگائی سے بچے کیلئے پاکستانی عوام کو غیر ملکی اشیا کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہئے تاکہ ملک مزید ترقی کرے
    میری چھوٹی سی تحریر پڑھ کر اگے شیر ضرور کریں

    @Hk_isi_

  • بیٹی . تحریر : محمد علی شیخ

    بیٹی . تحریر : محمد علی شیخ

    بیٹی کو ایک بوجھ کی طرح سمجھنا آخر کیوں بیٹیوں کے بارے میں دو باتیں ہر کسی کی زبان پر ہوتی ہیں بیٹیاں بوجھ ہوتی ہیں، جتنی جلدی اتر جائے اچھا ہے۔ بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں۔ آخکیوں ایسا سمجھا جاتا ہے کیا ہم مکمل دین اسلام میں داخل نہیں ہیں کیوں ان کے لیے ایسی منفی سوچ رکھتے ہیں ۔ جب کے ہم بھی کیسی بیٹی کی اولاد ہی ہیں۔

    زمانہ جہالت میں بیٹی کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا قبائلِ عرب میں عورت کےحقوق واحترام کا تصور بھی بے عزتی سمجھا جاتا تھا انسانی تاریخ نےوہ ہولناک منظر بھی پیش کیا جب ایک باپ مفلسی اورکبھی شرمندگی کےخوف سےنومولودبیٹیوں کوزندہ درگورکر دیتےتھےاوراس عظیم گناہ پر عمل کرنے سےسکون اوراطمینان محسوس کرتے۔خاص طورپرقبیلہ مضر، خزاعہ اور بنوتیم کےقبائل میں یہ رواج عام تھا۔کتنے بے حس اور پتھر دل انسان ہونگے جو اس حد تک چلے جاتے تھے لاکھوں کروڑوں درود و سلام سرکارِدوعالم حضرت محمدﷺ جملہ کائنات کے لیے رحمۃ للعالمین ﷺ نے اس عمل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور قرآن کریم میں ان دل سوز واقعات کی منظر کشی یوں کی گئی ہے: اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی (پیدا ہونے) کی خوشخبری ملتی ہے تو اس کا چہرہ (افسوس کی وجہ سے) کالا پڑجاتا ہے اور وہ دکھ سےبھرجاتاہے۔(سورۃالنحل:۵۸)

    اب صرف فرق اتنا ہے کچھ گھرانے اسے بیٹی کو اس کی نظروں میں درگور کر دیتے ہیں۔۔ ہر قسم کی روک ٹوک ہر جگہ اسے احساس دیلانا تم بیٹی ہو بیٹی بن کے رہو۔۔یہ مت کرو وہ مت کرو۔ ہمیں تمام شریعت کے احکامات دین دنیا کی تعلیم اور معاشرے کے بدلتے رنگ ڈھنگ سب بتانے چاہیں۔ روک ٹوک ایسے کرو کے اس کے ذہنی نشونما ہو ایسا نا ہو وہ خود پر ہی اپنا اعتماد کھو دے
    بیٹی کی طاقت بنا چاہیے نا کہ اس کی کمزوری بنیں۔ اولاد اللہ پاک کی نعمت ہے، خواہ بیٹا ہو یا بیٹی۔ اصل اولاد کا نیک وصالح ہونا ہے ، صرف اپنی صنف کی وجہ سے بیٹے کو بیٹی پر کسی قسم کی برتری حاصل نہیں تو خدارا ہمیں ان کی تربیت کی ضرورت ہے ان کو نیچا دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ میری بیٹیوں نے مجھ سے سوال کیا پاپا آپ نے آج تک ہمارے لیے اللہ تعالی سے کونسی خاص دعا کی ہے تو میں نے کہا بیٹا ماں باپ کی ہر دعا بیٹیوں کے لیے خاص ہی ہوتی لیکن وہ سب ضد کرنے لگیں تو میں نے کہا تو سنو میں نے اللہ سے دعا کی ہے یا رب میری اگر میری بیٹیوں کے حصے میں کوئی دکھ تکلیف ہے تو وہ بھی مجھے دے دینا میری حصے کے سکھ چین میری بیٹیوں کو دے دینا ۔ وہ تینوں مجھے سے چمٹ گئیں رونے لگیں بار بار بولتی رہی یہ دعا واپس لو اپنی آج بھی وہ منظر یاد کرتا ہوں تو آنکھ بھر آتی ہے یہ سب بتانے کا مقصد صرف اتنا ہے بیٹی لازوال محبت کا نام ہے اللہ ربالعزت تمام بیٹیوں کی حفاظت فرمائے.
    آمین ثم آمین

    @MSA_47

  • میرا شہر آج تک پسماندہ کیوں   تحریر: محمد ابراہیم

    میرا شہر آج تک پسماندہ کیوں تحریر: محمد ابراہیم

    میں ضلع ڈیرہ غازی خان کے حلقہ پی پی 287 ( این اے 190) کا رہائشی ہوں۔ میرے حلقہ میں آج بھی پینے کا صاف پانی بہت سے علاقوں میں نہیں ہے۔ میرے حلقہ میں آج بھی بہت سے علاقوں میں لڑکیوں کا سرکاری سکول نہیں۔ میرے حلقہ میں آج بھی بنیادی صحت کی سہولت موجود نہیں۔ میرے حلقہ میں آج بھی کئی علاقوں میں بجلی موجود نہیں۔ میرے حلقہ کے بہت سے علاقوں میں گیس موجود نہیں۔ میرے بہت سے علاقوں میں امن و امان کی حالت بہت خراب رہتی ہے۔ میرے وسیب میں آج بھی بہت سے سرکاری محکموں میں رشوت اور سفارش عروج پر ہے۔ وغیرہ وغیرہ
    آخر میرا وسیب آج تک اتنا پسماندہ کیوں ہے؟ آئیے کچھ تاریخ پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں جس سے ہمیں شاید کچھ باتیں واضح ہو سکیں۔
    ہمارے وسیب کی تاریخ کا ذرا جائزہ لیں تو اس حوالے سے بہت کچھ ملے گا لیکن ایک بات جو واضح ہے کہ سردار/وڈیرہ نظام عرصہ دراز سے قائم و دائم ہے۔ اس حوالے سے وسیب میں تمن داری نظام کو دوام حاصل رہا جس کے اثرات آج تک نظر آتے ہیں۔ اس سردار/وڈیرہ نظام کو مضبوط کرنے میں ہر برادری کے چند بڑوں (مالی حیثیت سے مضبوط) نے اپنا کردار ادا کیا۔ جو برادری کے نام پر لوگوں کو اکٹھا کر کے زیادہ تر اپنے لیے مفادات لیتے رہے اور اپنے من پسند سردار/وڈیرہ کو ہمیشہ خوش رکھتے رہے اور انھیں سیاسی طور پر مضبوط کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے رہے جس کا سلسلہ ہمارے حلقہ میں آج بھی جاری ہے۔اس نظام نے سردار/وڈیروں اور برادری کے چند بڑوں کو تو فوائد دیئے لیکن 99۔99 فیصد عام طبقہ بنیادی سہولتوں کو ترستا رہا جو آج کے دور میں بھی جاری و ساری یے۔ جس کی مثال ہمارے وسیب کی پسماندگی سب کے سامنے ہے۔
    کیا ہمارے وسیب کے کسی شخص نے اس سے پہلے اس نظام کے خلاف کبھی بغاوت نہیں کی؟ بالکل ایسا نہیں ہے۔ اس حوالے سے کئی لوگوں کی مثالیں موجود ہیں۔

    اس حوالے سے جس شخصیت نے خاص طور پر اس سردار/وڈیرہ نظام کو ختم کرنے کے لیے حقیقی جدوجہد کی وہ 1970 میں ڈاکٹر نذیر احمد شہید تھے۔ یاد رہے وہ پیشے کے لحاظ سے ایک حکیم تھے اور ایک مشہور ومعروف سماجی شخصیت تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے اہم کارکن و رہنما تھے۔ 1970 کے انتخابات میں حلقہ این ڈبلیو 88 ڈی جی خان 1 سے انھوں نے ہمارے حلقہ سے سردار/وڈیروں اور بڑے ناموں کو شکست دی تھی۔ ان میں ایک طاقت ور سردار محمد خان لغاری مرحوم ( والد سابق صدر پاکستان فاروق احمد خان لغاری) تھے۔ اس دور میں ہمارے وسیب کی عوام نے نے ان سردار اور خواجگان کے مقابلہ میں اس عام طبقہ کے سماجی کارکن کو جماعت اسلامی ٹکٹ پر منتخب کروایا۔ یاد رہے میری معلومات کے مطابق وہ جس سیٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے تھے وہ سیٹ رمک سے روجھان تک پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے انھیں جلد قتل کروا دیا گیا جس کا خمیازہ آج تک ہمارا وسیب بھگت رہا ہے اور یوں سردار/وڈیرے اس کے بعد مسلسل اقتدار میں آتے رہے ہیں جو سلسلہ آج تک تھم نا سکا۔
    اسی طرح 1970 کے الیکشن میں منظور احمد لنڈ نے بھی پی این ڈبلیو 88 پر پی پی پی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور سردار/وڈیرہ نظام کے خلاف اپنی بھرپور مزاحمت کی۔

    اور اس کے علاوہ بھی کچھ عام طبقہ کے لوگوں نے اپنی سکت کے مطابق کوشش کی جن میں ایک نام ظفر خان بلوچ مرحوم کا ہے جنھوں نے سردار/وڈیروں کے خلاف کافی جدوجہد کی۔ وہ کبھی جیت تو نا سکے لیکن سیاسی حوالے سے سردار/وڈیروں کا خوف کسی حد تک کم کر گئے۔
    پھر جنرل الیکشن 2013 میں حلقہ پی پی 242 سے پی ٹی آئی ٹکٹ پر ایک عام طبقہ کے جوان عطاء اللہ خان کھوسہ صاحب نے الیکشن لڑا۔ حالانکہ وہ الیکشن ہار گئے لیکن انھوں نے جس طرح محنت کی اور نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے اس سردار/وڈیرہ نظام کے خلاف جد وجہد کی وہ لائق تحسین ہے جس کے ثمرات آج تک نوجوان قیادت میں موجود ہیں اور وہ اب اپنی سکت کے مطابق کوشش کر رہے ہیں۔ سردار/وڈیرہ نظام کس طرح کام کرتا ہے اور کتنا مضبوط ہے

    Twitter , @IbrahimDgk1

  • نیا زمانہ نۓ فتنے تحریر: ایم.ایم.صدیقی صاحب

    عہد جدید کا فتنۂ کبرٰی کیا ہے …؟
    مندوبین کرام۔۔۔۔! زمانے کے نۓ چیلینج کو آپ نظر انداز نہیں کرسکتے کم از کم امت مسلمہ کے لۓ اس چیلینج کو نظرانداز کرنے کا کوٸ جواز نہیں ..! فتنے کسی زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں اور ایک ہی فتنہ ہمیشہ نہیں ہوتا نۓ نۓ فتنے سراٹھاتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے لۓ نۓ نۓخطرے سامنے آتے ہیں جاہلیت نۓ نۓ رنگ وروپ میں سامنے آتی ہے اور بڑے دم خم کے ساتھ میدان میں اترتی ہے

    اقبالؒ نے غلط نہیں کہا تھا
    اگرچہ پیر ہےمٶمن جواں ہیں لات ومنات

    بڑی خطرناک بات ہے کہ لات و منات یعنی باطل طاقتیں اور جاہلیتِ قدیم تو زندگی اور جوش و خروش سے بھرپور ہوں اور مٶمن میں جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا وارث اور ناٸب ہے
    کہنگی اور فرسوگی پستی اور افسردگی کنارہ کشی اور پسپاٸ کی ذہنیت پیدا ہوجاۓ لات ومنات نۓ دم خم کے ساتھ نٸ امنگوں اور ولولوں کے ساتھ نٸ تیاریوں اور نۓ طریقوں کے ساتھ نۓ نعروں اور نٸ للکار کے ساتھ میدان میں آٸیں اور مٶمن پر موت طاری ہوجاۓ اس کے قُوٰی میں افسردگی اور اضمحلال پیدا ہوجاۓ وہ زندگی کے میدان سے فرار اختیار کرکے یا کنارہ کش ہوکر گوشۂ عافیت تلاش کرلے جہاں وہ اپنی زندگی کے دن گزار سکے اور لات و منات خم ٹھونک کر میدان میں کھزے ہوں اوردعوت مبارزت دے رہے ہوں
    اس زمانے کا فتنہ اور چیلینج کیا ہے …؟ اس زمانے کا چیلینچ یہ ہے کہ اسلام کو اس کی جداگانہ تہذیب اس کی مخصوص معاشرت اس کے عاٸلی قوانین اس کے نظام تعلیم اس کے زبان و ادب اس کے رسم الخط اور اس کے پورے ورثے سے الگ کردیا جاۓاور اسلام محض چند عبادات اور چندمذہبی و معاشرتی رسوم و تقریبات کا مجموعہ بن کر رہ جاۓ

    ✍️….رشحات قلم….
    @soxcn

  • ہم قوم کب بنیں گے؟؟؟ . تحریر: احمد فراز گبول

    ہم قوم کب بنیں گے؟؟؟ . تحریر: احمد فراز گبول

    ایک موضوعِ بحث ہے جو کہ ہر جگہ زبانِ زد خاص و عام ہے کہ قوم کیا ہوتی ہے؟ قوم کن عناصر پہ مبنی ہوتی ہے؟ قوم کی بنیاد کیا ہے؟ یا ایک قوم کیسے بنتی ہے؟
    گو کہ ان سوالات کے جوابات ہمارے پاس نہیں ہیں کیونکہ ہم ابھی تک ایک قوم نہیں بن سکے بلکہ ایک ریوڑ کی مانند ہانکے جا رہے ہیں۔ آج تک تو ہماری منزل کا تعین بھی نہیں ہو سکا بلکہ ہر چرواہا اپنی مرضی کی چراگاہ کے خواب اور لالچ دے کر ہانکتا رہتا ہے۔ کسی شخص نے دوسرے شخص کے بارے میں کہا تھا کہ "سائنس کہتی ہے کہ انسان پہلے بندر تھے پھر انسان بنے لیکن آپ تو ابھی تک بندر بھی نہیں بنے سوچو انسان کب بنو گے؟”

    بالکل یہی حال کچھ ہمارا بھی ہے۔ ہم تو ابھی تک منظم ہجوم بھی نہیں بن پائے قوم کب بنیں گے۔ ہم میں سے ہر فرد کی اپنی ترجیحات ہیں، ہر فرد اپنے ذاتی مفادات کے پیچھے ہے، ہر کسی کی اپنی پسند ناپسند ہے اور ہر فرد کی اپنی پسند کی "چراگاہ” ہے۔ کسی کا جھکاؤ "مشرق وسطیٰ” کی طرف ہے تو کوئی "مغرب” کی طرف بانہیں پھیلائے ہوئے۔ کسی کا رخ "مغربی پڑوسی” کی طرف ہے تو کوئی "سرخ ہاتھی” کی طرف کھنچا جلا رہا ہے۔ غرضیکہ ہر بندہ اپنی مرضی اور مستی میں مگن ہے۔ کسی کے بھی اغراض و مقاصد مشترک نہیں ہیں۔ اب ان حالات میں ہم کیسے اقوامِ عالم کا مقابلہ کریں گے؟ جس قوم کو ایسے حالات درپیش ہوں اسے تو اپنی بقا کی فکر ہونی چاہئے لیکن ہمیں یہ فکر ہے کہ دانش مر گیا تو کیا ہو گا؟ فرہاد اور ماہی مل بھی سکیں گے یا نہیں؟ زارا موسیٰ کی ہو گی یا نہیں؟

    افسوس صد افسوس ہم نے اپنی حقیقی زندگی کو بھی ڈرامہ سیریل کی طرح "ڈرامہ باز” بنا لیا ہے۔
    پاکستانیوں کو اس وقت ہوا اور پانی سے بھی زیادہ ضرورت تعمیرِ ملت کی ہے۔ ہم بجائے اپنی شناخت کی تعمیر میں سرکرداں ہونے کے دوسروں کے معاملات میں الجھنا بہت پسند کرتے ہیں۔ ہمارے اردگرد رونما ہونے والے جملہ واقعات میں ہم پہلا تجزیہ یہی پیش کرتے ہیں کہ زیادتی ہماری ریاست کی ہی ہو گی۔ ہم حقائق کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا کا ڈراپ سین ہوا۔ ایک فرضی تصویر کو سفیر کی بیٹی بنا کر خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ افسوس کہ خود کو عوامی لیڈر کہنے والی سیاستدانوں نے بھی ریاستی مؤقف کی تائید نہ کی اور آزاد کشمیر کے الیکشن کی گہما گہمی میں صرف اور صرف سیاسی مفادات کے پیشِ نظر ریاست پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی اور اغوا ہوا ہی نہیں تھا۔ جس ملک کی عوام خارجہ معاملات میں بھی

    اپنی ریاست کے بیانیے کو سپورٹ نہیں کر سکتی کیا وہ خود کو قوم کہہ سکتی ہے؟
    محال است و محال است و محال است ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے ہومیوپیتھک نظریات کو پسِ پشت ڈال کر نظریۂ اسلام و پاکستان کو مضبوطی سے تھامنا ہو گا۔ کیونکہ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں ایک قوم بننے کی اشد ضرورت ہے۔ اس وقت پاکستان کے تمام دشمن ایک پیج پہ آ چکے ہیں لیکن ہم ابھی تک خوابِ خرگوش کے مزے میں محو ہیں۔
    میرے پاکستانیو! اس سے پہلے کہ دشمن آپ کے ناخن نوچیں، خدارا اب ہوش کے ناخن لو۔ ہمیں ایک مضبوط اور منظم قوم بننا ہے۔ اپنے تابناک ماضی کی طرح ایک روشن مستقبل پیدا کرنا ہے۔ اگر ہمارا حال ہمارے "حال” والا ہی رہا تو ہمارا کوئی حال نہیں ہو گا۔ جب تک ہم اپنی "میں” کو نہیں مار لیتے تب تک بس بکریوں کا ریوڑ بن کر "میں میں” ہی کرتے رہیں گے۔

    اس موقع پر سب سے اہم ذمہ داری ہمارے نوجوانوں کے کندھوں پہ ہے، جو آج کل رانجھے اور مجنوں بننے کے چکروں میں ہیں۔ ہر دوسرا نوجوان محبت میں ناکام اور زندگی سے تنگ نظر آتا ہے۔ کوئی بات کر لیں تو ایسے ایسے انمول فلسفے سننے کو ملتے ہیں کہ عقل بحرِ حیرت کی طلاطم خیز لہروں میں غرق ہو جاتی ہے۔ جس عمر میں بچے کھلونے ٹوٹنے پر روتے ہیں یہاں اس عمر کے بچے دل ٹوٹنے پہ نشے میں مگن ہیں۔ لیکن ہمیں آج تک اپنی قوم کے اس حال کا خیال نہیں آیا۔ کیونکہ ہم ابھی تک قوم بن ہی نہیں پائے۔ نوجوان ہی اس ملک کی وہ واحد طاقت ہیں جو اس ملک کو جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکال کر روشنی اور عظمت کی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
    دعا ہے کہ خدائے تعالیٰ ہمیں ایک قوم بننے کی توفیق دے اور ہم عظیم مستقبل کی حامل ایک مضبوط قوم اور طاقت ور ریاست بن سکیں۔
    پاکستان پائندہ باد

    @1nVi5ibL3_

  • بیٹی رحمت یا زحمت  تحریر:  نزاکت شاہ

    بیٹی رحمت یا زحمت تحریر: نزاکت شاہ

    کیا بیٹی کبھی رحمت بھی تھی ؟ جی ہاں! لیکن اسکو سمجھنے کیلئے ہمیں 1500سال قبل عرب کی بدلتی تقدیر کے سنہرے ابواب کا مطالعہ کرنا ہوگا۔جب جہالت و فسادات پر مبنی تہذیب و روایات کی گرد نے معاشرے کو بری طرح اٹ دیا تھا۔عرب وعجم کے مسیحا نے اس معاشرے کی گرد کو صاف کرتے ہوئے، معاشرے کے اہم جز،نوع انسانی کا فخر و سرمایہ،نازک مزاج،گراز طبیعت اور نرم طینت کو اعزاز سے نوازتے ہوئے فرمایا:جس نے دو لڑکیوں کو ان کے بالغ ہونے تک پالا،قیامت کے دن میں اور وہ ( آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر اشارہ کرتے ہوئے بتایا) ان دو انگلیوں کی طرح اکھٹے ہونگے۔
    درحقیقت یہ اشارہ بیٹی کے سر تا پا رحمت ہونے سے کنایہ تھا ۔جس کی پرورش پر اپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قربت کی نوید سنائی۔بالآخر بیٹی نے نمونہ رحمت پیش کیا۔جب اپ صلی اللہُ علیہ وسلم کے پائے مبارک میں کافروں کے بچھائے ہوئے کانٹے چبھ جاتے تو اپنی ننھی انگلیوں سے کانٹے چنتی جاتی اور سسکیاں بھرتی جاتی۔
    یہ بھی ہوتا جب کفر کے غرور میں مبتلا کفار مکہ اپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر آلودگی پھینکتے۔اپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم گھر واپس تشریف لاتے یہ اپنے ننھے ہاتھوں سے اسے صاف کرتی ۔پقنی سے سر مبارک دھوتی اور روتی جاتی۔
    آج بھی اگر دیکھا جائے ،بیٹی کو جس قدر محبت والد، والدہ اور بہن بھائیوں سے ہوتی ہے بیٹے کو نہیں ہوتی۔دوسری طرف تاریخ اسلام سے قبل کی روایات(جن کو عورت کو خاص کر بحثیت بیٹی، پاپ سمجھا جاتا تھا) اور عصر حاضر میں یگانگت کا ناسور آئے دن کینسر کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے ۔جسے گرد ونواح کے ماحول میں ہم بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ دعاؤں اور التجاؤں میں نرینہ اولاد کو اس قدر فوقیت دی جانے لگی ہے کی شاید بیٹی اولاد کے مفہوم سے خارج ہے ۔
    بیٹے کی پیدائش پر اگے بڑھ بڑھ کر مبارک باد دی اور لی جاتی جاتی ہے۔شادیانے بجائے جاتے ہیں ۔جبکہ بیٹی کی پیدائش پر سوگ کا منظر دکھائی دیتا ہے ۔اسکی ایک وجہ شاید ہماری غیروں سے مستعار لی ہوئی وہ روایات ہیں جن پر عمل کرنا ہم مزہبی فریضہ سمجھتے ہیں ۔پھر اسے پورا کرنے میں درست ونادرست،جائز وناجائز اور حلال حرام کی پرواہ کئے بغیر،اپنی وسعت سے زیادہ کوشش خرچ کرتے ہیں ۔اسی لئے بیٹی کو بیاہ کر رخصت کرنا بہت بڑے محاذ کو سر کرنے سے کم نہیں رہا ۔
    ابتداء سے انتہا تک، رسوم اور ان پر ہونے والے اخراجات کی لمبی فہرست ہے۔منگنی ہو یا مہندی، نکاح ہو یا ولیمہ،ہر مرحلے سے گزرنا کسی پل صراط سے کم نہیں ۔پھر بیٹی کی شادی اور بھی دشوار ہے کیونکہ اج بیٹی کو بیاہنے پر جس قدر خرچ ہوتا ہے ۔اس سے تین بیٹوں کے وسائل مہیا ہو سکتے ہیں ۔
    جب ایسا ہی ہے اور اسے ہم نے معاشرے، تعلق داروں اور رسم ورواج سے مرعوب ہو کر اپنی زندگی کا اہم جز بنا رکھا ہے ،تب بیٹی کا رحمت یا زحمت ہونا ظاہر ہے ۔ہمیں اس پر سنجیدگی سے سوچتے ہوئے ،ان واہموں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہ ”رشتہ دار کیا کہیں گے ،عزیز کیا کہیں گے اور لوگ کیا کہیں گے ”،ایسے مواقع سے ان رواجوں کو نکالنا ہوگا جنہوں نے معاشرے میں جینا دو بھر کردیا ہے ۔اگر ایسا ممکن ہو جائے تو اس تذبذب،تزلزل،اضطراب اور بے چینی کو قرار آ جائے گا جو معاشرے میں پھیل ہے
    اور
    بیٹی کھوئی ہوئی متاع پھر سے پا لے گی ۔
    @NZ760

  • آپ کا ذہنی نمونہ کیا ہے؟ . تحریر : عثمان لاشاری

    آپ کا ذہنی نمونہ کیا ہے؟ . تحریر : عثمان لاشاری

    1. "شکاری” ذہنی نمونہ "” کسان "ذہنی نمونہ جو ایک شکاری کی طرح کامیابی کے راستے پر جیتے اور چلتے ہیں وہ اپنی زندگی کے سارے لمحات” شکار "کو تلاش کرتے ہیں۔ ان کے نقطہ نظر سے ، ہر چیز ایک موقع یا خطرہ ہے۔

    ہرسرگوشی، ہر روشنی کی روشنی، تاریکی کا ہر راستہ، ان میں امید یا خوف پیدا کرسکتا ہے۔ قابل جسم شکاری جانتا ہے کہ رات کے وقت ، ہاتھ سے ہاتھ سے شکار گھر واپس آجائے گا۔ اپنے گھر کے دروازے اور دیوار پر ، وہ ہرنوں کے پوشاک اور ہرن کے سینگ اور سواروں کے دانت نصب کرتا ہے ، اور کل شکار کا سوچ کر ہر رات سوتا ہے۔ شکاری کی زندگی کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ہر جاندار کو شکاری یا شکاری کے طور پر جانتا ہے۔

    اگر وہ اسے شکار دیکھے گا ، تب تک وہ سکون کا تجربہ نہیں کرے گا جب تک کہ وہ اسے پکڑ نہ لے اور اسے پکڑ نہ لے ، اور اگر وہ دوسرا شکاری دیکھے تو مقابلہ کی مشکل اس کے لئے hunting شکار کا میٹھا ذائقہ تلخ کردے گی۔ کیا آپ نے ان شکاریوں کو ماحول اور کاروباری ماحول میں دیکھا ہے؟ سارا دن کوشش اور کامیابی اور ترقی اور ترقی اور رقم کی تلاش میں رہتا ہے۔ اور ان کے کمروں کی دیواریں دستاویزات اور تعریفی خطوط سے ڈھکی ہوئی ہیں۔

    لیکن کسان … وہ ہیں جو کامیابی کی راہ پر گامزن ہیں ، جیسے کسان کی طرح۔ وہ بیج بوتے ہیں اور خاموشی سے بیٹھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک دن یہ بیج پھل میں بدل جائے گا۔ وہ اس دن تک انتظار کرتے ہیں۔ وقتا فوقتا ، وہ کھیت پر پانی چھڑکتے ہیں اور مٹی کو سیراب کرتے ہیں۔ وقتا فوقتا ، وہ انکروں پر ہاتھ رکھتے ہیں اور شکاری سے زیادہ خاموش رہتے ہیں۔ عام عوام ان دو ذہنی عقائد میں سے کسی ایک میں پھنس چکا ہے۔ پہلا گروہ ترقی اور کامیابی سے اس قدر مشغول ہے کہ وہ زندگی کے دوسرے پہلوؤں کو بھول جاتے ہیں … اور دوسرا گروہ امن کی تلاش میں اس قدر مشغول ہے کہ وہ تناؤ اور کوشش کی مٹھاس کو بھول جاتے ہیں۔💡

    لیکن ایک تیسرا راستہ ہے! تیسرا طریقہ "ماہی گیر” کا ذہنی نمونہ ہوسکتا ہے۔ امن ، خاموشی ، خوشی اور موقع کے منتظر۔ جب موقع پیدا ہوتا ہے ، ہمیں تیز رفتار اور توانائی سے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور انتظار اور آرام سے بیٹھ جانا چاہئے۔ زندگی میں کامیابی مطلق امن سے حاصل نہیں ہوتی اور نہ ہی سخت کوششوں سے۔ کامیابی دونوں کا کامل امتزاج ہے۔ اپنے آپ سے پوچھنے کا وقت آگیا ہے ، ‘میں واقعتا میں کیا کر رہا ہوں؟ "کسان؟ "ہنٹر۔ یا ایک ماہی گیر؟

    Twitter @UsmanLashari

  • انٹرنیٹ کے نقصانات اور فوائد تحریر انجینئرمحمد امیر عالم

    انٹرنیٹ کے نقصانات اور فوائد تحریر انجینئرمحمد امیر عالم

    دورِ حاضر میں موبائل ہر انسان کی ضرورت بن چکا ہے اور اس موبائل فون کے ذریعے ہر دوسرا انسان اپنا بیشتر وقت انٹریٹ پر خرچ کرتا ہے۔
    مرد عورت اور بچے سب انٹرنیٹ کا استعمال کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
    اب انٹرنیٹ استعمال کرنے کے دو قسم کے طریقے ہیں ایک غلط اور دوسرا صحیح۔
    انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرنے کے کئی نقصانات ہیں جبکہ صحیح استعمال کرنے کے بہت سارے فوائد۔
    ہم پہلے نقصانات کا ذکر کریں گے۔

    انٹرنیٹ کے نقاصانات:۔

    1) نوجوان نسل کا فحش فلمیں اور تصویریں دیکھنا:۔

    یوٹیوب اور فیس بک پر فحش ویڈیوز اور ننگی تصویریں دیکھ کر نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے۔
    اسلام ہمیں پاکیزہ اور با حیا زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے لیکن ان گندی ویڈیوز کو دیکھ کر ہماری نو جوان نسل نہ صرف دنیا بلکہ اپنی آخرت اور اپنے ایمان کو بھی برباد کر رہی ہے اور اس طرح نوجوانوں پر شہوت کاغلبہ ہوتا بے جس سے آئے روز ایک معصوم بچی کی عزت کو تار تار کرکے اسے بے دردی سے ماردیا جاتا ہے۔

    2) وقت کا ضیاع:۔

    انسان کی زندگی کی ہر ساعت بہت قیمتی ہوتی ہے لیکن ہم اکثر اپنا زیادہ تر وقت انٹرنیٹ پر غیر ضروری کاموں میں صرف کرتے ہیں۔
    کبھی آن لائن گیم کھیل کر اپنا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی اور کسی غیر ضروری سرگرمی میں مثلاََ کبھی پول کریٹ کر کے ایک دو دو ہفتے اس کے لئے مہم چلانا اور دوسرے دوستوں کو بھی پریشان کرنا اس کے علاوہ طلبا و طالبات کا کثرت سے انٹرنیٹ استعمال کرنے سے مطالعہ پر اثر پڑتا ہے اور خاص کر امتحانات کے دوران انٹرنیٹ پر وقت ضائع کرنےسے امتحان میں اچھی کاردگی نہیں دکھا سکتے اور اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

    3) رشتوں کے احساس اور محبت میں کمی:۔

    کبھی دوستوں کا مل بیٹھ کر خوب محفل جمانا ان میں ایک اپنایئت کا احساس دلاتا تھا اور اس سے محبت بڑھتی تھی لیکن اب دوستوں کو ساتھ بیٹھ کر بھی ساتھ ہونے کا احساس نہیں ہوتا ہے ایک ساتھ بیٹھے ہوئے دوست بھی ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے اپنے اپنے موبائل میں کہیں اور لگے ہوتے ہیں۔
    بوڑھے ماں باپ اپنی اولاد سے بات کرنے کے لئے ترستے ہیں لیکن اولاد کو نیٹ سے فرصت ہی نہیں ملتی۔

    4) اصراف:۔
    غیر ضروری انٹرنیٹ استعمال کرنے سے نیٹ پیکیج پر پیسہ خرچ کرنا بھی پیسوں کی نا قدری اور صریحاََ اصراف ہے۔ جن پیسوں سے ہم کسی غریب کی مدد کر سکتے تھے یا جن پیسوں کو ہم کسی اور بھلائی کے کام میں خرچ کرسکتے تھے انھیں ہم انٹرنیٹ کے بےجا استعمال میں خرچ کرتے ہیں۔

    انٹرنیٹ کے فوائد:۔

    جہاں انٹرنیٹ استعمال کرنے کے کچھ نقصانات ہیں وہاں اس کے کچھ فوائد بھی ہیں۔

    1) گھر بیٹھے علم حاصل کرنا:۔

    انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے آسانی سے علم حاصل کیا جاسکتا ہے یوٹیوب پر ہر قسم کے لیکچرز موجو ہوتے ہیں جن سے ہر کوئی با آسانی گھر بیٹھے مستفید ہوسکتا ہے۔
    گوگل سے آپ کوئی بھی کتاب جس کی آپ کو ضرورت ہو یا کوئی بھی لغت آپ با آسانی ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
    آپ جس شعبے سے منسلک ہیں اسی شعبے کے اعلٰی تعلیم یافتہ لوگوں کو ایڈ کر کے انباکس میں آپ ہر قسم کا سوال پوچھ سکتےہیں۔

    2) گھر بیٹھے آن لائن اپنے کاروبار کی تشہیر کرنا:۔

    ہم انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے کاروبار کی خوب تشہیر بھی کرسکتے ہیں۔
    مثلاََ ایک دوکان دار اپنی دکان میں میں رکھی گئیں نایاب چیزوں کی انٹرنیٹ پر تشہیر کرتا ہے اور میلوں دور بیٹھے کسی کو وہ چیزیں پسند آتی ہیں تو وہ آن لائن آرڈر کرتا ہے اور اسی طرح اس کا کاروبار خوب ترقی کرتا ہے۔

    3) پر دیس میں رہ کر بھی اپنوں سے با آسانی ہم کلام ہونا:۔

    کسی زمانے میں پردیس میں رہنے والے اپنے رشتہ داروں تک کوئی پیغام بھیجتے تھے تو کئی مہینوں بعد وہ پیغام ان تک پہنچتا تھا اور پھر جواب میں ان کے پیغام کا بھی مہینوں انتظار کر نا پڑتا تھا لیکن اب نیٹ کے ذریعے اپنا پیغام ٹائپ کر کے ایک منٹ میں ہم دنیا کے کسی کونے تک پہنچا سکتے ہیں بلکہ اب تو وٹس ایپ پر ویڈیوں کال کے ذریعے سکرین پر بالکل آمنے سامنے ہوکر بات کرسکتے ہیں۔

    4) با آسانی پیسے اور ڈاکومینٹز بھیجنے کا ذریعہ:۔

    پہلے زمانے میں کسی کو پیسے بھیجنا ہو تو جہاں پیسے بھیجنا مقصود ہوتا تھا وہاں جانے والے کسی شخص کو ڈھونڈنا اور اس کا انتظار کر نا کہ وہ کب جارہا ہے اور پھر اس بات کا بھی خیال رکھنا کہ آدمی بھروسے کا ہے کہ نہیں مطلب بہت انتظار اور بہت احتیاط کے بعد کسی کے ہاتھ پیسے بھیج دیتے تھے اب اپنے موبائل اکاؤنٹ سے آسانی کے کے ساتھ چند منٹوں میں کہیں بھی پیسہ بھیج سکتے ہیں۔
    اسی طرح اور کوئی ڈاکومینٹز یا کاغذات مثلاََ ڈومیسائل ڈی ایم سی یا شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کہیں دور بھیجنا ہو تو یا تو خود جانا پڑتا تھا یا بذریعہ ڈاک کافی دنوں بعد پہنچا سکتے تھے اب موبائل سے تصویر لے کر ایک منٹ میں وٹس ایپ پر بھیج سکتے ہیں۔

    ‎@EKohee

  • کیا موجودہ پاکستان قائد اعظم کا پاکستان ہے . تحریر : میاں اسد

    کیا موجودہ پاکستان قائد اعظم کا پاکستان ہے . تحریر : میاں اسد

    پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے کچھ عرصہ بعد قائد اعظم کی وفات ہوئی۔اور قائد کی وفات کئی سوالات کو جنم دے گئی۔
    قائد اعظم کو ٹی بی جیسے خطرناک مرض کی تشخیص کے بعد زیارت جیسے ٹھنڈے مقام پہ کیوں بھیج دیا گیا؟
    طبیعت کی ناسازی پہ زیارت سے واپسی کے لئے خراب ایمبولینس کس کے کہنے پہ مہیا کی گئی؟ ملک پاکستان کے سربراہ گورنر جنرل کے لئے اضافی ایمبولینس کیوں نہیں رکھی گئی؟

    ان سوالات کے جوابات آج تک نہیں مل سکے۔
    اس واقعے کے تین سال بعد ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو جلسے کے دوران سکیورٹی کے باوجود شہید کر دیا گیا۔ انہیں شہید کرنے والا ایک افغان باشندہ تھا جسے گرفتار کرکے تفتیش کرنے کی بجائے جائے وقوعہ پر ہی گولی مار دی گئی۔یہ سازش بھی ان تک بےنقاب نا ہو سکی۔
    اس کے بعد پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل جو اب دوسرے وزیراعظم بن چکے تھے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا۔۔
    اور پھر مارشل لاء کا دور آیا ۔ جی وہی دور جب ہمیں حقیقی سیاستدانوں کی ضرورت تھی اپنی مرضی کے سیاستدان لانچ کیے گئے۔جن کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ اسی قائد کے پاکستان میں قائد اعظم کی ہمشیرہ کو غدار کہا گیا اور نجس جانور سے تشبیہہ دی گئی۔۔۔

    قائد کے پاکستان میں چائے بسکٹ کا خرچ بھی وزراء اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔ مگر آج اس کے برعکس وزراء ہاوسز،گورنر ہاؤسز،صدارتی محل اور بیشتر کیمپ آفسز کا سالانہ خرچہ اربوں میں بنتا ہے۔
    قائد کے پاکستان میں پروٹوکول کے نام پر غریب عوام کو تنگ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک بار قائد اعظم کی گاڑی گزارنے کے لئے ریلوے کا بند پھاٹک کھولا گیا تو قائد کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ آپ نے فرمایا: اگر میں قانون کی پاسداری نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا؟ آپ نے پھاٹک بند کرنے کا حکم دیا۔
    زیارت میں ایک بار نرس نے تبادلہ کروانے کے لئے آپ سے درخواست کرنا چاہی، مگر آپ نے اداس لہجے میں جواب دیا: سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے۔

    قائد کے 13ماہ ہمارے 73سالوں پر غالب نظر آتے ہیں۔ آج ہم سب (Look Busy Do Nothing) کے محاورے پر چل رہے ہیں۔ ہم خود کو مذہبی کہتے ہیں مگر مذہبی ہیں نہیں۔ ہم قانون کی پاسداری کی بات کرتے ہیں لیکن کسی کواس کا حق دینے کے لئے تیار نہیں۔ہم بات بات پر کہتے ہیں کہ ملاوٹ نا کرو۔اس حوالے سے قرآن وحدیث کی باتیں بھی کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں۔ اب صرف نوٹ والا قائد باقی ہےاور وہ بھی گندہ ہو جائے تو دکان دار لیتا ہے نا خریدار سفر لمبا ہے کم سے کم ابتداء اس سے کر لیجیے کہ آج جب قوم اور ملک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے تو ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ قائد اعظم کے پیش نظر قیام پاکستان کا مقصد کیا تھا۔اور ان کے تصورات کے مطابق پاکستان کا نظام اور پاکستان کی قومی زندگی کی اہمیت کیا ہونی چاہیے تھی؟ ہم سب کو اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کی تعمیر وترقی اور استحکام کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ یہی راستہ ہے قائد اعظم کے نظریے اور تصورات کو عملی جامہ پہنانے کا۔ بات ہے مساوی حقوق کی۔ بات ہے مساوی قانون کی۔ جو قانون ایک عام شہری کے لئے بنایا گیا کیا اس پر عمل کرنا حکومت اور عوام کی توہین کی ہے؟

    سوچیے اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے

    @Asad_Tells

  • سیاست  و لفظ غدار تحریر ، شاہ فہد

    سیاست و لفظ غدار تحریر ، شاہ فہد

    *سیاست اور لفظ غدار ایک الگ الگ الفاظ ہے* سیاست مطلب ڈائلاگ گفتگو زہنی نشونما ، جیسا کہ سیاست میں ایک لیڈر سیاستدان عام عوام کا ذہن بناتے ہیں کہ آپ لوگ کیلئے ایسا کرونگا ویسا کرونگا مطلب سیاست کرتے ہیں کچھ کام ہو جاتے ہیں کچھ نہیں

    *غدار* غدار لفظ اس کیلئے استعمال ہوتا ہے جو ملک سے غداری کریں یا وہ کام کرے جو مخالف کو فائد دینے کی کوشش کریں

    آپس میں دونوں الفاظ کتنے مختلف ہے لیکن ان کا دوستی بہت زیادہ ہے

    آپ کو پتا ہوگا جب جب انتخابات قریب آتے ہیں غدار غدار لفظ آپ بہت زیادہ سنتے ہونگے۔ یہ سلسلہ شروع آج نہیں زمانے سے آرہا ہے *اسلام میں غدار کو منافق کہتے ہیں* جیسا کے ایک جنگ میں منافقین نے کافروں کا ساتھ دیا تھا مطلب یہ سلسلہ زمانے سے آرہا ہے

    لیکن غدار لفظ انتخابات میں بہت زیادہ زد عام ہو جاتا ہے مجیب الرحمن اور ذولفقار بھٹو آپس میں ایک دوسرے کیلئے استعمال کرتے تھے پھر جب جب انتخابات قریب آتے تھے حاص کر نواز شریف پیپلز پارٹی کو استعمال کرتے تھے کہ یا غدار ہے فلاں ہے وغیرہ وغیرہ کہ اقتدار کیلئے ملک تھوڑا وغیرہ وغیرہ

    صرف پاکستان میں غدار لفظ الیکشن میں استعمال نہیں ہوتا۔ پڑوس ملک انڈیا میں پاکستان سے زیادہ ایک دوسرے کیلئے استعمال ہوتا ہے

    آج کل پاکستان تحریک انصاف ، پیپلز پارٹی ۔ مسلم لیگ ن آپس میں ایک دوسرے کے خلاف کارکردگی کے بجائے عوام کو دوسرے پارٹی لیڈرز کی غداری کے بات انتخابی کمپئین میں سنتے ہیں

    جیسا کہ اس مہینے 25 جولائی 2021 کو کشمیر میں الیکشن ہے آپ سب لیڈروں کے تقریریں سیاق و سباق دیکھ لے سب تقریروں میں یہ ہوگا فلاں غدار ہے فلاں غدار ہے

    اگر ملک کو ترقی دینا ہے تو عوام کو چاہیے ترقی کارکردگی سننے والے کو ووٹ دے ……
    *سیاست اور غدار لفظ دوستی ختم کریں*

    تحریر شاہ فہد @alwaysPTI