Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • تعلیم اور معاشرہ .  تحریر : فہد ملک

    تعلیم اور معاشرہ . تحریر : فہد ملک

    وہ قومیں جو تعلیم کو حقیر سمجھتی ہیں وہ ایک نا ایک دن برباد ہو جاتی ہیں، یہ مثال ہمارے معاشرے پر پوری طرح سے فکس آتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے لکھاری بھی مغربی لکھاریوں کی زبان استعمال کرتے ہیں، چونکہ ہمارے پاس سوچ کی تو کمی ضرور ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ تنقید کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے یورپی تاریخ ادب کا ماڈل ہمارے ذہنوں میں اس قدر شامل کیا جاچکا یے کہ ہم اپنی تاریخی عمل کو بھی یورپی نقطہ نظر سے سمجھنے اور دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ایک قوم کو تاریخ کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟؟

    تاریخ کی ضرورت تب ہی محسوس ہوتی ہے جب مظلوم، لاچارکمزور، بےسہارا اور استحصال شدہ لوگوں کو ان کے اپنے جائزحقوق دلائے جائے۔
    ایلن مسلو کہتا ہے ” کہ ماضی نہ تو دریافت کیا جاتا ہے اور نہ ہی چپھا ہوا پایا جاتا ہے یہ مورخ ہیں جو اس کو تخلیق کرتے ہیں”

    اب اگر ملک پاکستان کی تاریخ کا ذکر کیا جائے۔ تو اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ماضی کی تشکیل نو کی جائے یہ اس لیے نہی کہ ماضی کو شاندار بنا کر اس پر فخر کیا جاسکے، بلکہ اس لیے کہ ہماری پسماندگی اور زوال کے اسباب کو سمجھا جا سکے ۔ اور یہ بھی زیر غور کیا جائے کہ کن وجوہات کی بنیاد پر ہمارا معاشرہ منجمد ہو کر رہ گیا ہے اس وقت ہمارے مسلم اقوام میں مذہبی اور سیاسی دونوں اختلاف موجود ہیں.

    جسکی وجہ سے ذہنی ثقافتی اورسماجی ترقی نہیں ہو رہی ہے۔ اس نے معاشروں اور معاشرے کے لوگوں کو اس قدر پسماندہ کردیا ہے کہ ان موجودہ دور کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ذہنی دلائل اور عقلی استدلال نہیں لا سکتا۔ اس لیے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آخر دنیا میں ہم مسلمانوں کی ہی عزت کیوں نہیں ہے؟ تو اس کا جواب ایک ہی ملتا ہے کہ دنیا میں ان قوموں کا احترام ہوتا ہے اور ان کی عزت کی جاتی ہے جو دنیا کے تہزیب و تمدن اور تقافت میں اضافہ کرتی ہیں اور اس میں حصہ لیتی ہیں۔ جو علم کی تخلیق کرتے ہیں اور اسکو زرخیز بناتی ہیں۔

    @Malik_Fahad333

  • توبہ . تحریر : روبینہ سرور

    توبہ . تحریر : روبینہ سرور

    ہر گناہ سے توبہ کرنا واجب ہے- اگرگناہ کا تعلق بندے اور اللہ کے درمیان ہو اور کسی انسان کا حق اس سے متعلق نہ ہو تو اس کے لئے تین شرائط ہیں-
    *پہلی شرط یہ ہے کہ وہ اس گناہ سے لا تعلق ہو جائے-
    *دوسری یہ ہے وہ اس کے ارتکاب پر نادم ہو-
    * تیسری یہ ہے وہ اس بات کا پختہ ارادہ کر ے کہ دوبارہ کبھی اس گناہ کا ارتکاب نہیں کرے گا-
    اگر ان تین میں سے کوئی ایک بھی شرط موجود نہ ہوئی تو تو بہ درست نہیں ہو گی-
    اگر گناہ کا تعلق کسی آدمی کے ساتھ ہو تو اس کی شرائط چار ہو ں گی- تین شرائط کے ہمراہ
    *چوتھی یہ ہے کہ آدمی اس حقدار کے حق سے بری الزمہ ہو یعنی اگر مال وغیرہ تھا تو اسے وہ واپس کر ےاور اگر حدقذف وغیرہ کا معاملہ ہو تو اپنے آپکو اس کے حوالے کر گیااس سے معافی مانگے اور اگر غیبت ہو تو اسے بھی معاف کروائے.

    اللہ اپنے بندے کی توبہ سے جب وہ بندہ اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے اس شخص سے زیادہ خوش ہو تا ہے جو اپنی سواری پر کسی جنگل میں موجود ہو اور پھر وہ سواری اسے چھوڑ کر چلی جائے اس سواری پر اس کے کھانے اور پینے کا سامان ہو اور وہ شخص اس سواری سے مایوس ہو کر درخت کے پاس آئے اور اس کے ساۓ میں لیٹ جاۓ جبکہ وہ اس سواری سے مایوس ہو چکا ہو ابھی وہ اسی حالت میں ہو کہ وہ سواری اس کے پاس کھڑی ہوئی ہو تو وہ اس کی لگام تھام کر یہ کہے خوشی کی شدت کی وجہ سے یہ کہے اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا پروردگار ہوں یعنی خوشی کی شدت کی وجہ سے غلط بول دے.

    @rsjanbaz

  • سعودیہ عرب نئی جوہری طاقت؟ . تحریر : محمد محسن خان

    سعودیہ عرب نئی جوہری طاقت؟ . تحریر : محمد محسن خان

    ‎حالیہ رپورٹس کے مطابق سعودیہ عرب نے اپنی معیشت کو تنوع بخش بنانے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، صنعتی سہولیات کی مقامی پیداواراورمعیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اپنا جوہری توانائی پروگرام قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ سعودی توانائی کی منتقلی تیل کی قیمتوں کے حالیہ بحران کے بعد سے ، تیل کی گھریلو طلب میں اضافے، وبائی امراض کی وجہ سے مارکیٹ میں ہنگامہ آرائی کے بعد تیل کی آمدنی پربادشاہی کے انحصارکو کم کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ہم سعودی وژن 2030 میں ترقی پانے والی ریاض کی توانائی کی منتقلی اورعلاقائی اور بین الاقوامی جیو پولیٹیکل بساط پر اس کے ممکنہ اثرات کو دیکھتے ہیں کہ ایٹمی توانائی سعودی خارجہ پالیسی کی تائید کیسے کرسکتی ہے کیونکہ بین الاقوامی طاقتیں روس اورچین سعودی حکومت کے قریب آرہے ہیں سعودیہ عرب روایتی طورپرامریکہ کے زیراثررہا ہے۔ اس کے علاوہ خیال کیا جا رہا ہے کہ سعودی جوہری توانائی پروگرام کے ضمن میں امکان ہے کہ ریاض جوہری ہتھیاروں کی قومی پیداوارکو آگے بڑھانے کے لئے اپنی جوہری سہولیات کا استعمال کرے گا۔

    ‎بدلتے حالات میں سعودی بادشاہت کو اپنی توانائی کی پیداوارکو متنوع بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ تیل کی قیمت اوربحران کے بعد سے تیل کی پیداوار اوربرآمدات پر بھاری انحصاراس کی کمزوری ظاہرکرتا ہے۔ لہذا سعودی ویژن 2030 کی ترجمانی ریاض کے قومی سماجی و اقتصادی مسائل پر ردعمل اور ملک کو ایک جدید لاجسٹک مرکز میں تبدیل کرنے کے مواقع کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ جزوی طورپردرست ہے کیونکہ سعودی وژن 2030 حکمت عملی ہے جس میں بادشاہت کی توانائی اورمعاشی منتقلی اور تیل کی گھریلو مانگ کو روکنے کی کوشش کی حمایت کی جانی چاہئے، جو سعودی تیل کی برآمدات کو زبردست حد تک محدود کردے گی۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ تیل کی قومی طلب سعودی آمدنی کو کم کردے گی ، وژن 2030 ریاض کی ملکی معیشت کو ترقی دینے اور اب بھی ملکی ترقی کی حمایت کرنے کی حکمت عملی ہے۔ توانائی کی منتقلی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری خاص طورپرایٹمی شعبے میں۔ جیسا کہ پہلے ذکرکیا گیا ہے ریاض کو ایٹمی بجلی گھروں اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہئے تاکہ جوہری ایندھن کے پورے سائیکل کی مدد کی جاسکے۔ تیل کے حالیہ بحران اور وبائی امراض نے سعودی معیشت کو بے حد متاثر کیا ہے ، اور یہ خطرہ ہے کہ ریاض اپنے توانائی کی منتقلی کے پروگرام اور سعودی ویژن 2030 کے اہداف کو برداشت نہیں کر سکے گا۔ بین الاقوامی میدان اپنے جیو پولیٹیکل مضمرات کی وجہ سے سعودی جوہری ریس کی مستقل نگرانی کر رہا ہے۔امریکہ کا خیال ہے کہ چین ، روس ، اور پاکستان (اور جنوبی کوریا) ریاض کے جوہری پروگرام میں براہ راست مددگار ہو سکتے ہیں کیوں کہ وہ جانکاری ، نئی ٹیکنالوجیز اور سرمایہ کاری مہیا کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل، ایران، امریکہ اپنے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو قائم کرنے اورملک کو دیگر جوہری طاقتوں کی سطح تک پہنچانے کی سعودی کوشش پر متعدد قیاس آرائوں کی وجہ سے ریاض کے جوہری پروگرام کے بارے میں تشویش میں ہیں۔ نیز ، ریاض کو جوہری فراہمی میں پاکستان کے کردار اورکشمیر کے بارے میں اسلام آباد نئی دہلی کے محاذ آرائی پرغور کرنے پر ہندوستان بھی سعودی جوہری پروگرام پر مضطرب ہے۔ ایک طرف سعودی عرب توانائی کی منتقلی کی حمایت کام کے نئے مواقع پیدا کرنے سعودی صنعتی پیداوارکو مقامی بنانے اور تیل کی آمدنی پر سعودی انحصار کم کرنے کے لئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیرمیں فروغ اور سرمایہ کاری کررہا ہے۔ دوسری طرف ، کیا سعودی عرب قومی جوہری پروگرام کو مکمل کرنے کے اپنے مشن کو پورا کرے گا ، علاقائی جغرافیائی سیاسی توازن میں تغیر پذیر ہوگا۔چونکہ حالیہ سعودی امریکہ تعلقات میں خاشوگی کے معاملے سے کشیدگی ہوئی ہے ، لہذا واشنگٹن ریاض پر اپنی گرفت کھو سکتا ہے اور وہ سعودی جوہری پروگرام پر قابو پانے / اس کے برعکس کرنے سے قاصر ہے۔ اسی کے ساتھ ہی دوسرے جغرافیائی سیاسی طاقتیں (چین، روس) سعودی عرب کے قریب آ رہے ہیں اور توانائی کے شعبے میں ان کا تعاون مارکیٹ اوربین الاقوامی میدان کو بہت زیادہ متاثر کرسکتا ہے۔ سعودی وژن 2030 ریاض کی معاشی ترقی کو بہتر بنانے کی کوشش ہے اور جغرافیائی سیاسی فائدہ اٹھانے کے ل کہ سعودی عرب کو امریکی کنٹرول پر کم انحصار کرنا اور ایک بااثر کلیدی علاقائی اور بین الاقوامی طاقت بننا ہے توانائی کے شعبے میں ان کے تعاون سے مارکیٹ اور بین الاقوامی میدان میں بہت زیادہ اثر پڑ سکتا ہے۔ سعودی وژن 2030 ریاض کی معاشی ترقی کو بہتر بنانے اور سعودی عرب کو امریکی کنٹرول پر کم انحصار کرنے اور ایک بااثر کلیدی علاقائی اور بین الاقوامی اداکار بننے کی جغرافیائی سیاسی فائدہ اٹھانے کی ایک کوشش ہے.

    MMKUK1

  • نیا پاکستان محض نعرہ یا حقیقت تحریر: فیضان علی

    نیا پاکستان محض نعرہ یا حقیقت تحریر: فیضان علی

    سیاسی پارٹیاں عموماً عوام کی توجہ مبذول کرنے لیے سیاسی نعرے کا سہارا لیتی ہیں اور سیاسی نعرے کی بات کی جائے تو پیپلز پارٹی کا تذکرہ عمومی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کا وجود ہی غریبوں کی پارٹی کا چورن بیچتے ہوئے آیا جنہوں نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ بلند تو کیا مگر ماضی شاہد ہے اور حقیقت واضح ہے کہ یہ نعرہ صرف نعرہ ہی رہا نہ تو غریب کو کھانے کو روٹی ملی نہ سر ڈھانپنے کو کپڑا اور نہ رہنے کو گھر کی چھت بلکہ آج بھی سندھ کے لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہے جہاں پیپلز پارٹی 13 سال سے حکومت میں ہے اب اس کا موازنہ وفاق سے تو نہیں کیا جا سکتا پر اگر اسکا پنجاب حکومت سے کیا جائے جہاں تحریک انصاف کو آئے محض 3 برس ہی ہوئے وہاں نہ صرف وفاق کو فالو کرتے ہو غریبوں اور راہ گیروں کے لیے پناہ گاہیں قائم کی بلکہ خیبر پختون خواہ کے صحت انصاف کارڈ کے سٹرکچر کو فالو کرتے ہوئے پنجاب میں صحت کارڈ متعارف کیا جس سے غریب کسی بھی اسپتال چاہے پرائیویٹ ہو یا سرکاری مفت علاج کروا سکے گا اور یہ اب صرف خیبر پختون خواہ یا پنجاب تک محدود نہیں بلکہ اب بلوچستان، گلگت بلتستان میں بھی یہ منصوبہ شروع ہوچکا، یہی تک نہیں بلکہ اب حکومت آسان اقساط پہ قرضے بھی دے رہی ہے تاکہ ہر غریب آدمی کا اپنا گھر ہونے کا خواب ادھورا نہ رہے. نعرہ صرف ایک نعرہ نہیں ہوتا بلکہ امید کی کرن ہوتی ہے جس سے لوگوں کے جذبات جڑ جاتے ہیں اور اگر ان سے کیے گئے وعدے پورے نہ ہوں تو وہ امید ٹوٹ جاتی ہے عمران خان نے پاکستان کی عوام کو مایوس نہیں کیا اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آزاد کشمیر کے الیکشن میں عوام آزمائے ہوؤں کو آزماتی ہے یا کشمیر کے حقیقی سفیر کو.

    @FMAliPTI

  • میری کہانی  میری زبانی . تحریر اسامہ خان

    میری کہانی میری زبانی . تحریر اسامہ خان

    میرا نام اسامہ جہاں زیب خان ہے لیکن سب اسامہ خان کے نام سے جانتے ہیں میرا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے میں 2000 ملتان میں پیدا ہوا، اپنی پیدائش کے بعد تقریبا ایک سال ملتان رہا اپنے والدین کے پاس اس کے بعد میں جھنگ اپنے ماموں کے پاس آ گیا یہاں میں نے پرائمری تعلیم الحمد ماڈل سکول سے مکمل کی اس کے بعد مڈل اور میٹرک میں نے گورنمنٹ ایم بی ہائی سکول ریل بازار جھنگ سے 2016 میں مکمل کی اس کے بعد میں نے گورنمنٹ ڈگری کالج ادھی وال جھنگ میں داخلہ لیا۔ یہ وقت زندگی کا بہت مشکل وقت تھا جب میں نے 11th کلاس کے پیپر داہے تو اس دوران ایک ہوٹل پرویٹربن کر 2 ماہ کام کیا اور اپنے اخراجات پورے کیے اور جب کالج دوبارہ کھل گے تو 12th کلاس میں اللہ کی طرف سے ہمارے انگلش کے استاد تبدیل ہوئے اور انہو نے ہم میں خدمات خلق کا جذبہ اجاگر کیا اس دوران میرا روجہان خدمت خلق وسیاسی کاموں کی طرف گیا تو خدمت خلق کے لئے 2018 میں ٹیم سرعام جھنگ میں بطور صدر شمولیت اختیارکرلی اورخدمت خلق کرنا شروع کردی جس میں نے بطور صدراپنے خون کا عطیہ دے کر اپنی ٹیم کا جذبہ ابھارا اور ایسے ہی ہم آج بھی جہاں خون کی ضرورت ہوتی ہے ہمارے جانباز خون کا عطیہ دینے وہاں پہنچ جاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم نے بہت سے اسکولوں کالجز اور اکیڈمیز میں آگاہی کیمپ لگائے تاکہ لوگوں میں خدمت خلق کا جذبہ پیدا کر سکیں مجھے آج فخر ہے کیا اللہ پاک نے مجھے اپنے بندوں کی خدمت کرنے کا موقع دیا اور ساتھ ہی ساتھ میں نے سیاست میں بھی شمولیت اختیار کرلی وقت گزرتا گیا سیاسی و سماجی کام چلتے رہے 2019 میں میری کارکردگی دیکھتے ہوئے مجھے محترمہ غلام بی بی بھروانہ ایم این اے جھنگ کا فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا بنا دیا گیا اس دوران جھنگ کے تمام ہونے والے ترقیاتی کاموں اور جھوٹی افواہ او سے عوام کو آگاہ کیے رکھا کیونکہ ہمارے سیاسی مخالفین جو کہ جھنگ میں 15 سال حکومت کرتے رہے لیکن سوائے اپنے کاروبار اورمفاد کے علاوہ کبھی بھی جھنگ کے لیے انہوں نے نہیں سوچا.

    محترمہ غلام بی بی بھروانہ وہ واحد لیڈر ہیں جنہوں نے جھنگ کے لیے بلاتفریق ترقیاتی کام شروع کروائے، میری جدوجہد دیکھتے ہوئے 2021 میں مجھے پاکستان تحریک انصاف سوشل میڈیا ٹیم ڈسٹرکٹ جھنگ کا ہیڈ بنا دیا گیا میری جدوجہد چلتی رہی اور میرے سیاسی تعلقات بڑھتے گئے میں نے سیاسی تعلقات کو ہمیشہ کوشش کیا کہ خدمت خلق میں اور مظلوموں کو انصاف دلانے میں استعمال کرو، سیاست میں مجھے بھائیوں جیسے اچھے دوست ملے جیسے کہ وزیر آباد سے کوڈینیٹر سی ایم پنجاب رانا عابد، فوکل پرسن سی ایم پنجاب اظہر مشوانی، اور یہاں اگر میں اپنے چاچو کا ذکر نہ کرو تو زیادتی ہوگی عمران شیخ جو کہ ایم این اے جھنگ اور سابقہ ایم پی اے جھنگ شیخ یعقوب و راشدہ یعقوب سابقہ ایم پی اے جھنگ کے سیکرٹری ہیں اور مجھے ہمیشہ بڑا بھائی بن کر راہ دکھایا آج میں اپنی تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے سافٹ ویئرانجینئرنگ کررہا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ اینڈرائڈ ڈویلپمنٹ میں فری لانسنگ کر رہا ہوں اور آج مجھے فخر محسوس ہوتا ہے جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں یہ جدوجہد ابھی جاری ہے اور ان شاء اللہ آگے بھی ایسے ہی محنت اور لگن سے جاری رہے گی یہ تھا آج تک میری زندگی کا خلاصہ۔ انشاءاللہ آنے والے بلاگز میں آپ کو فری لانسنگ کے بارے میں آگاہ کرؤں گا کہ آپ فری لانسنگ کرتے ہوئے کیسے خود مختار ہو سکتے ہیں اور بعد میں آپ اسی کاروبار کو کیسے ایک حتمی کاروبار کی شکل دے سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو یہ بھی آگاہ کروں گا کہ آپ کیسے اپنی سکیل کو تلاش کر سکتے ہیں اور اپنے ہنر کو بھیجتے ہوئے آپ کیسے آن لائن کام کر سکتے ہیں.

    @usamajahnzaib

  • پاکستان ایٹمی طاقت کیسے بنا . تحریر : محمّد جاوید

    پاکستان ایٹمی طاقت کیسے بنا . تحریر : محمّد جاوید

    پاکستان کا اٹم بم اس وقت دنیا اکثر ممالک کو کھٹک رہا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے اس وقت تمام مسلم ممالک میں پاکستان واحد ملک ہے جو کسی کے بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے۔ اٹم بم بنانا کوئی آسان کام نہیں پاکستان کو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بہت سارے نشیب وفراز دیکھنے کو ملے پھر جاکر پاکستان اٹمی طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

    یہ سفر اتنا آسان نہیں تھا ہر طریقے سے پاکستان کے اوپر پریشر ڈالنے کی کوشش کی گئی کبھی معاشی پابندیوں کی صورت میں تو کبھی سیاسی دباؤ ڈال کر مگر پاکستان نے کبھی ہمت نہیں ہارا البتہ تاخیر ضرور ہوئی مگر اخیر کار 28 مئی 1998 کو پانچ دھماکے کرکے دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن گیا۔ اور پاکستان دنیا کے ان چند ممالک کے صف میں شامل ہوا جن کے پاس اٹمی قوت ہے ۔ پاکستان کو اس مقام پہ پہنچنے کے لئے جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا آج میں اپنے کالم میں روشنی ڈالنے کی کوشش کرونگا کیونکہ اس ناقدری قوم میں بہت ساروں کو معلوم ہی نہیں کہ اٹمی طاقت حاصل کرنے میں کتنی محنت لگی تھی۔
    پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے کہ آزادی کے بعد پاکستان نے ایٹمی ہتھیار بنانے کا عندیہ دیا اور سنہ 1953 میں امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ پہ دستخط کیا کہ امریکہ صنعتی اور پُرامن مقاصد کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کے استعمال اور ری ایکٹر کی تعمیر میں پاکستان کی مدد کرے گا۔

    اس کے بعد پاکستان نے اٹامک انرجی کمیشن کا بنیاد رکھا۔ اب پاکستان کے سامنے یورینیم کو حاصل کرنا تھا۔ 1963میں باقاعدہ طور پر کمیشن بنا کر یورينيم کی تلاش شروع کی پس قدرت بھی پاکستان پہ مہربان ہوئی اور پاکستان نے اخیر کار ڈیرہ غازی خان کے مقام پہ یورینیم کے ذخائر دریافت کیے اور پھر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے اس کو نکالنا شروع کیا۔ 

    بھارت کے اٹمی پروگرام کا علم پاکستانی اداروں کو 1965 میں ہی ہوا تھا پھر پاکستان نے اپنی بقا کے لئے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش تیز کر دی۔پھر جب پاکستان نے انڈین مداخلت اور "ادھر ہم ادھر تم” والے نعرہ کی وجہ سے 1971 میں جب مشرقی حصہ کھو دیا تب اداروں کو یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ اگر بھارت کا مقابلہ کرنا ہے تو ہر صورت اٹم بم بنانا ہوگا چاغی کے پہاڑں کے دامن میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے وابستہ سائنسدانوں کے گروپ نے یہ نعرہ بلند کیا تھا۔”گھاس کھائیں گے، ایٹم بم بنائیں گے”
    بعد میں اس نعرے کو کسی سیاسی لیڈر کے ساتھ منسلق کیا گیا۔ پھر بھٹو نے بھی گھاس کھائنگے والا نعرے کا ساتھ دے دیا اور اس طرح تیزی سے پاکستان نے کوشش شروع کی۔

    پاکستان نے اپنا پہلا نیو کلیر ريكٹر کینیڈا کی مدد سے 1972 میں لگایا تھا ۔ 1974 میں کسی پریشر کی وجہ سے کینڈا نے مدد کرنے سے انکار کیا اور 1974 میں ہی انڈیا نے ايٹمی تجربہ کیا تو پاکستان کے لے اب ایٹمی طاقت حاصل کرنا ناگزیر ہوگیا تھا ۔ پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ذمداری سونپی گئی پھر ہوا یوں سنہ 1979 امریکہ نے پاکستان کی امداد معطل کر دی اور موقف اپنایا کہ اب پاکستان کا ايٹمی پروگرام پرامن نہیں رہا۔

    پھر جب روس نے افغانستان کے اوپر حملہ کیا تو امریکہ کو پاکستان کی ضرورت محسوس ہوئی اور پاکستان کی امداد کو پھر سے بحال کیا اور ساری پابندیاں ہٹا دی پھر سویت یونین کو شکست ملی اور امریکہ سپر پاور بنا تو ایک بار پھر پاکستان کے اوپر پابندیاں لگا دی۔ پاکستان نے ان پابندیوں کے باوجود ايٹمی پروگرام جاری رکھا اور جب
    بھارت نے سنہ 1996 میں ایٹمی وار ہیڈ لے جانے والے پرتھوی میزائل کا تجربہ کیا۔ پھر 1998 کو جب بھارت نے یکے بعد ديگر دو دھماکے کئے پہلا 11 میں اور دوسرا 13مئی کو تب انڈیا کا لہجہ تبدیل ہوگیا اور پاکستان کو دھمکانا شروع کیا تب پاکستان کے اندر سے تمام حلقوں کی جانب سے آوازیں انی شروع ہوئی کہ بھارت کو جواب دینا چاے۔

    اس وقت پاکستان نازک صورتحال سے گزر رہا تھا پاکستان کے اوپر بیرونی دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس وقت کی وزیر اعظم نواز شریف دھماکے کرنے کے حق میں نہیں تھے مگر فوجی قیادت نے ٹھان لی تھی کہ بھارت کو ہر صورت جواب دینا ہے اب یہ جواب ناگزیر ہوچکا ہے۔
    تب چاغی کے پہاڑوں کو دھماکے کے لیے چنا گیا اور اخیر کار 28 مئی 1998 کو پاکستان نے ایک ساتھ سات دھماکے کر کے دنیا کو یہ بتا دیا کہ اب پاکستان ایک ايٹمی پاور بن گیا ہے اور پاکستان کا دفاع اب بہت مضبوط ہاتھوں میں ہے اب کوئی پاکستان کو میلی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا اور اسطرح پاکستان نہ صرف ساتویں بڑی ایٹمی قوت بنا بلکہ پہلا اسلامی ملک بھی بن گیا جیس کے پاس ايٹمی پاور ہے۔
    ہر سال پاکستان میں 28 مئی کو "یوم تکبیر” کے طور پر منایا جاتا ہے۔
    اور اسی طرح 1953 سے شروع ہونے والی یہ اٹم بم کی داستان بلا اخیر 28 مئی 1998 کو کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔
    ہمیں ان تمام لوگوں پہ فخر ہے جن کی انتھک محنت کی وجہ سے آج ہم دشمن اور دنیا کے سامنے اپنا سر فخر سے اٹھاتے ہیں ۔
    پاکستان زندہ آباد♥

    @I_MJawed

  • جنگلات ہمارا مستقبل . تحریر : محسن ریاض

    جنگلات ہمارا مستقبل . تحریر : محسن ریاض

    جنگلات اس وقت ہماری اہم ترین ضرورت بن چکا ہے کیونکہ موسم میں اتنی تیزی سے اور ڈرامائی انداز میں تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا اس کی ایک مثال بے موسمی اور اوسط سے زیادہ بارشوں کا ہونا ہے اس کی ایک تازہ مثال اس وقت چین میں موجود ہے جہاں گزشتہ دنوں اتنی شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا کہ اس نے سیلاب کو صورتحال اختیار کر لی جس کی وجہ سے مالی نقصان کا تخمینہ لگانا تو اس وقت بہت مشکل ہے لیکن 33 کے قریب انسانی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے اس کے علاوہ اور بہت سارے جزائر جن کے ساحل پانی میں اضافے کی وجہ سے ڈوب رہے ہیں -درختوں کے کٹاؤ کے حوالے سے کوئی واضح قانون بھی نہیں جس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں درختوں کو لکڑی کے حصول کی غرض سے یا پھر ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کے چکر میں کاٹ دیا جاتا ہے جس کا نقصان پورے ملک کو بھگتنا پڑتا ہے گزشتہ دنوں ملتان میں ڈی ایچ ائے سوسائٹی کے نئے فیز کے لیے لاکھوں آم کے درختوں کا قتل عام کیا گیا اور آم کا درخت کئی عشروں کے بعد جا کر پروان چڑھتا ہے مگر کاٹنے میں چند گھنٹوں کا وقت درکار ہوتا ہے اسکے علاوہ ایسی زمینوں پر بھی سوسائٹیاں بنائی جا رہی ہیں جہاں پر کاشتکاری کی جاتی ہے مگر کسانوں کو مناسب دام نے ملنے پر دلبرداشتہ ہو کر مافیا کو زمینیں بیچنے پر مجبور ہیں -اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہیے کہ ایسی زمین جہاں پر باغات ہیں یا پھر زراعت کے لیے استعمال ہو رہی ہے وہاں پر کسی صورت بھی سوسائٹی یا کنسٹرکشن کی اجازت نہیں ہونی چاہیے-

    اس کے علاوہ اس وقت ٹیکنالوجی اور ریسرچ میں بہت ترقی ہو چکی ہے میواکی کے ذریعے بہت کم وقت میں گھنے جنگل اگائے جا سکتے ہیں اس طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے آپ پہلے ایسے ردخت لگاتے ہیں جو انتہائی تیز رفتاری سے بڑھتے ہیں اس کے بعد دیگر اقسام کے درخت لگائے جاتے ہیں اس طرح چند سالوں میں گھنا جنگل تیار ہو جاتا ہے اس طریقے پر عمل کرتے ہوئے لاہور اور کراچی میں چند چھوٹے چھوٹے جنگل لگائے جا چکے ہیں موجودہ حکومت اس بارے میں کافی حد تک سنجیدہ ہے اس حوالے سے شجر کاری مہم کا آغاز بھی کیا گیا ہے زیتون کے جنگلات لگائے جا رہے ہیں اور پہلے سے موجود درختوں کو پیوند کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ زرمبالہ بھی کمایا جا سکے -اور اہم وجہ جس کی وجہ سے جنگلات میں کمی واقع ہو رہی ہے وہ ہے فاریسٹ آفیسرز کی عدم توجہ اور ملی بھگت جس کی وجہ سی جنگلات سے قیمتی لکڑی چوری کی جاتی ہے-اس حوالے سے حکومت کو چاہئیے کہ ریکارڈ ترتیب دیا جائے جس کی بنا پر چیکنگ کی جائے تاکہ اس کی روک تھام کی جا سکے-درختوں کے موسم پر ہونے والے اثرات کے حوالے سے آنکھوں دیکھا حال آپ کو بتاتا چلوں کہ جس وقت آپ شہر لاہور میں پھرتے پھراتے جامعہ پنجاب میں داخل ہوتے ہیں تو درجہ حرارت ہیں کافی حد تک کمی دیکھنےکو ملتی ہے یہ صرف اس وجہ سے کہ وہاں درختوں کی بہتات ہے اس وقت بحثیت قوم یہ ہماری زمہ داری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور دوسروں کو بھی اس طرف مائل کرئیں تاکہ ہم آنے والی نسلوں کو زندگی گزارنے کے لیے ایک بہتر ماحول فراہم کر سکیں-اس کے علاوہ گلیشئرز کے پگھلنے میں بھی گزشتہ کئی سالوں میں تیزی دیکنھے میں آئی ہے جس کی بنیادی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے سیلاب کے خطرات موجود رہتے ہیں اس لیے ہم سب کو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیےاور گلشن کو سنوارنے میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئیے۔

    mohsenwrites@

  • ‏سندھ میں بڑی تبدیلی کا امکان . تحریر : نادرعلی ڈنگراچ

    ‏سندھ میں بڑی تبدیلی کا امکان . تحریر : نادرعلی ڈنگراچ

    پاکستان کے صوبے سندھ میں اس وقت پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے پاکستان پیپلزپارٹی مشرف کا دور ختم ہونے کے بعد سے اب تک لگاتار تیسری بار سندھ میں اور ایک بار وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ہے مگر ان تینوں جنرل الیکشن میں کوئی ایسی جماعت سندھ میں نہیں تھی جو پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرسکے مگر اس بار صورتحال کافی مختلف ہے پہلی بار وفاق اور دو صوبوں پنجاب اور خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں اتحادی حکومت بنانے والی پاکستان تحریک انصاف 2023 میں پھر سے وفاق اور پہلی بار سندھ میں حکومت بنانے کی بھرپور تیاری کر رہی ہے.

    سندھ کے بڑے بڑے سیاسی نام جن میں شامل حروں کے روحانی پیشوا اور پاکستان مسلم لیگ (ف) کی سیاسی جماعت کے صدر پیر صاحب پاگارا, نوشہرو فیروز کے جتوئی خاندان جن شامل مسلم لیگ (ن) کے دور میں انڈسٹریل وزیر اور 1990 کی نگران حکومت میں وزیراعظم رہنے والے غلام مصطفی جتوئی کے بیٹے غلام مرتضیٰ جتوئی انکے بیٹے راضی خان جتوئی سابقہ صوبائی اسمبلی کے ممبرعاقب خان جتوئی اور گھوٹکی کے موجودہ صوبائی اسمبلی کے ممبراورسابقہ وزیراعلیٰ سندھ علی محمد خان مہرکے بھائی علی گوہر مہر سمیت کئی جی ڈی اے رہنماؤں کو باقاعدہ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دے دی گئی ہے. یے کام گورنر سندھ عمران اسماعیل, سندھ اسمبلی میں موجود اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ اور کچھ دن پہلے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے اور پرویز مشرف کے دور میں وزیراعلیٰ سندھ رہنے والے ڈاکٹر غلام ارباب رحیم کو دیا گیا ہے.

    پاکستان تحریک انصاف اس مقصد میں کامیاب ہوتی ہے یاں نہیں وہ تو وقت بتائے گا مگر اس بار سندھ کی عوام بھی تبدیلی کے منتظر ہیں پیپلزپارٹی پچھلے 13 سال میں سندھ کی عوام کے لئے وہ کام نہیں کر سکی جن سے عوام مطمئن ہو عوام کو تعلیم جیسے زیور اور روزگار بھی میسر نہیں کچے کے علاقوں میں بچے غذائی قلت کی وجہ سے مر رہے ہیں ہسپتالوں میں ان کو مناسب علاج کی سہولت میسر نہیں ان چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے امکان یہی ہے کہ 2023 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف عمران خان پاکستان کے باقی صوبوں کے ساتھ ساتھ سندھ میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں.

    @Nadir0fficial

  • امریکہ افغانستان جنگ . تحریر : علیہ ملک

    امریکہ افغانستان جنگ . تحریر : علیہ ملک

    افغانستان سے امریکی فوج کے خلاء کے بعد طالبان کی پیش قدمی تیز ترہوگئی طالبان کے کمانڈر کے مطابق افغانستان کے 85فیصد حصے میں طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے اسی پیش قدمی کو جاری رکھتے ہوئے افغان طالبان نے افغان فورسسز سے دو ماہ کیلئے مشروط جنگ بندی کی آفر بھی کردی اور اس میں سب سے پہلی شرط چھ سو سے زائد طالبان کی رہائی اور دوسری اہم شرط طالبان کو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے نکالنا شامل ہے۔

    افغان فورسسز اور افغان حکومت اس وقت صوبائی عمارتوں تک محدود ہو کے رہ گئی ہے۔ ایک ایجنسی کی خبر کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ کو روک دیں ترکی کے صدر کے اس بیان کو پاکستان کی عوام نے اچھا نہیں جانا کیونکہ پاکستان میں اکثریتی عوام اسلامی نظام کا نفاظ چاہتی ہے یہ سمجھتی ہے کہ افغان طالبان کی جنگ نفاظ اسلام کی جنگ ہے۔
    اس جنگ میں امریکہ کا کودنا اور پھر کم و پیش بیس سال کے لگ بگ افغانستان میں طالبان سے جنگ جاری رکھنا اور پھر شکست کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی فوج واپس لے جانا عالم اسلام بالخصوص افغان طالبان اس کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں لیکن امریکہ کا ایک یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ ہماری جنگ کا مقصد طالبان کو شکست دینا نہیں تھا بلکہ ہمارے اپنے کچھ مقاصد تھے جو حاصل کر لئے گئے ہیں
    اس لئے امریکی فوج کی واپسی ہوئی۔ اب امریکہ کے اس بیان میں کتنی صداقت ہے اور کیا واقعی وہ ایک مذموم مقاصد حاصل کرنے کیلئے جنگ کر رہا تھا ؟ یہ جاننے کیلئے مناسب وقت کا انتظار باقی ہے۔

    @KHT_786

  • اخلاقی دیوالیہ پن . تحریر : آصف گوہر

    اخلاقی دیوالیہ پن . تحریر : آصف گوہر

    بچے کسی بھی قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں آج کے بچے کل کے جوان اور قوم کے افراد بنتے ہیں ہمارا معاشرہ ایک تسلسل کے ساتھ انحطاط کا شکارہے ایسے جرائم بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں جن کا دنیا کے دیگر ممالک میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اگر ہم اپنے معاشرے کے بچوں کے احوال پر نظر ڈالیں تو بچے ہماری سوسائٹی میں غیر محفوظ نظر آتے ہیں۔

    یہاں پرکم سن بچوں کے ساتھ جنسی درندگی کے واقعات عام ہیں جنسی زیادتی بعد پھولوں کو موت کی نیند سلادیا جاتاہے ۔ بچوں پر تشدد اور جنسی درندگی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اضافہ کا سبب بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والوں کو پکڑا ہی نہیں جاتا بہت سارے کیسز تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے مقامی طور پر ملزم کو صلح صفائی کے نام پر دوبارہ سفاکیت کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔اور جو کیسز میدیا اور سوشل ایکٹیویزم کے باعث رپورٹ ہوجاتے ہیں ان میں بھی بہت سارے کمزور عدالتی نظام اور پراسیکیوشن کی وجہ سے ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔

    اس ضمن میں زینب الرٹ بل ایک اچھا اقدام ہے ۔لیکن اس سے ایک قدم آگے بڑھنے کی ضرورت ہے بچوں پر تشدد اور جنسی جرائم کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں اور ان خصوصی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے حق کو ختم کیا جائےاور مجرموں کو معاشرے میں نشانہ عبرت بنانے کے لئے مجرم کی شناخت نہ چھپائی جائے اورایسے درندوں کی تصاویر قومی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر دیکھائی جائیں تاکہ یہ شرم سے ڈوب مریں اور اپنی فیملی برادری میں بھی منہ دیکھانے کے قابل نہ ہوں ایسے افراد کے شناختی کارڈزپر چائیلڈ ابیوزر لکھ دیا جائے۔

    اگر ہم نے بچوں کو آج محفوظ معاشرے نہ مہیا کیا تو ایسے دلخراش واقعات میں اضافہ ہوتا رہے گا ۔ اگر آج بچوں کے خلاف یہ درندگی کو نہ روکا گیا تو اس استحصالی سلوک کا شکار ہونے والے بچے کل کو خود معاشرے سے انتقام لیں گے اور خود چائیلڈ ابیوزر بن جائیں گے لہذا خیال کیجئے کہیں بہت دیر نہ ہوجائے۔

    @EducarePak