Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے تحریر:شمسہ بتول

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے تحریر:شمسہ بتول

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے💕

    10 اکتوبر 2021 کو ہم نے اس دیدہ ور اس قیمتی اور نایاب ہیرے کو کھو دیا جن کی خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں اور جن کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا: 

    "ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ۔۔۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا”

    آپ یکم اپریل 1936 کو بھوپال میں پیدا ہوے۔ آپ ایک بہت ہی سادہ اور انتہاٸی عاجز مزاج اور ایک مخلص انسان تھے۔آپ نے پاکستان کے لیے نا قابل فراموش اور گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ بھارت کے ایٹمی پروگرام کے بعد آپ نے پاکستان کو عالمی برادری میں مضبوط بنانے کے لیے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے 28مٸی 1998 کو بلوچستان میں چاغی کے مقام پہ ایٹمی دھماکہ کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت ہے لہذا ہماری ارضِ پاک کی طرف میلی نگاہ سے نہ دیکھنا ورنہ ہم جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ دنیا آپ کو A.Q.Khan کے نام سے بھی جانتی ہے اور عالمی دنیا میں آپ کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔

    ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جہاں علامہ اقبال رح اور قاٸداعظم رح کی خدمات ناقابل فراموش ہیں وہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بقاء کی خدمات قابلِ تحسین ہیں ۔ آپ نے شدید مخالفت اور دباٶ کے باوجود بھی اس ارضِ پاک کو ایک ایٹمی طاقت بنایا ۔

    پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا پوری دنیا کے لیے یہ پیغام تھا کہ اس اسلامی مملکتِ خداداد کو کوٸی شکست نہیں دے سکتا۔ آپ کے اس اقدام سے دنیا میں پاکستان ایک طاقتور مملکت بن کر اُبھرا۔ 

    آپ کو محسنِ پاکستان کے خطاب سے نوازا گیا ۔ اور سرکاری سطح پہ بہت سے اعزازات نشانِ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا مگر پھر بھی بحیثیت قوم ہم نے انہیں وہ عزت و مقام نہیں دیا جس کے وہ قابل تھے

    انہوں نے اس اسلامی ریاست کو ایٹمی طاقت بنا کہ عالمی دنیا کے ظلم سے بچا لیا شام ، فلسطین، اعراق، لبنان، یمن اور دیگر اسلامی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سرزمین پاکستان پہ قدرت کا ایک انمول تحفہ تھے جنہوں نے وطنِ عزیز کے دشمنوں پہ لرزا طاری کر دیا ۔

    آپ نے ایک اسلامی ریاست کی مضبوطی اور اس کی بقاء کے لیے جو کوششیں کیں اور جو کارہاۓ نمایاں انجام دیے اس کے بعد اگر آپ کو محسنِ  اُمت کہا جاۓ تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔

    آپ ایک سچے مسلمان اور عاشقِ رسول صلى الله عليه واله وسلم بھی تھے. آپ نے ایک نجی ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں کہا تھا :

    "کہ آپ کو اپنے بھوپالی ہونے پہ فخر ہے کیونکہ ایک تو وہ غدار نہیں ہوتے اور دوسرا ان میں کوٸی قادیانی پیدا نہیں ہوتا ”

    آپ صرف ایک شخصیت کا ہی نام نہیں تھے بلکہ ایک عہد کا نام بھی تھے جو تمام ہوا اور سب کو افسردہ کر گیا۔ پاکستان ایک مخلص ایماندار اور نڈر و  دلیر محبِ وطن اور ایک مضبوط قوت سے محروم ہو گیا😢

    ” ڈھونڈو گے اگر ہمیں ملکوں ملکوں ۔۔۔ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم” 

    ہر آنکھ اشک بار ہے انکے جانے پہ۔ انکا خلاء باقی رہے گا اور پاکستان اور پاکستانی انکی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ قوم ہمیشہ انکی خدمات کی مقروض رہے گی اور تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف میں لکھا جاۓ گا۔ ہمیں یہ افسوس ہمیشہ رہے گا کہ جیسے انکی قدر کرنے کا حق تھا ہم نے ویسی نہیں کی۔ 

    "عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن۔۔۔۔یہ الگ بات ہے دفناٸیں گے اعزاز کے ساتھ”

    اللّٰہ پاک ڈاکٹر صاحب کی بے حساب مغفرت فرماۓ اور ان کے درجات بلند فرماۓ آمین ❣️

    شمسہ بتول

    @sbwords7

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے تحریر:شمسہ بتول

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ صرف محسنِ ملت بلکہ محسنِ اُمت بھی تھے💕

    10 اکتوبر 2021 کو ہم نے اس دیدہ ور اس قیمتی اور نایاب ہیرے کو کھو دیا جن کی خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں اور جن کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا: 

    "ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ۔۔۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا”

    آپ یکم اپریل 1936 کو بھوپال میں پیدا ہوے۔ آپ ایک بہت ہی سادہ اور انتہاٸی عاجز مزاج اور ایک مخلص انسان تھے۔آپ نے پاکستان کے لیے نا قابل فراموش اور گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ بھارت کے ایٹمی پروگرام کے بعد آپ نے پاکستان کو عالمی برادری میں مضبوط بنانے کے لیے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے 28مٸی 1998 کو بلوچستان میں چاغی کے مقام پہ ایٹمی دھماکہ کیا اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان اب ایک ایٹمی طاقت ہے لہذا ہماری ارضِ پاک کی طرف میلی نگاہ سے نہ دیکھنا ورنہ ہم جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ دنیا آپ کو A.Q.Khan کے نام سے بھی جانتی ہے اور عالمی دنیا میں آپ کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔

    ایک اسلامی ریاست کے قیام کے لیے جہاں علامہ اقبال رح اور قاٸداعظم رح کی خدمات ناقابل فراموش ہیں وہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بقاء کی خدمات قابلِ تحسین ہیں ۔ آپ نے شدید مخالفت اور دباٶ کے باوجود بھی اس ارضِ پاک کو ایک ایٹمی طاقت بنایا ۔

    پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا پوری دنیا کے لیے یہ پیغام تھا کہ اس اسلامی مملکتِ خداداد کو کوٸی شکست نہیں دے سکتا۔ آپ کے اس اقدام سے دنیا میں پاکستان ایک طاقتور مملکت بن کر اُبھرا۔ 

    آپ کو محسنِ پاکستان کے خطاب سے نوازا گیا ۔ اور سرکاری سطح پہ بہت سے اعزازات نشانِ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا مگر پھر بھی بحیثیت قوم ہم نے انہیں وہ عزت و مقام نہیں دیا جس کے وہ قابل تھے

    انہوں نے اس اسلامی ریاست کو ایٹمی طاقت بنا کہ عالمی دنیا کے ظلم سے بچا لیا شام ، فلسطین، اعراق، لبنان، یمن اور دیگر اسلامی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سرزمین پاکستان پہ قدرت کا ایک انمول تحفہ تھے جنہوں نے وطنِ عزیز کے دشمنوں پہ لرزا طاری کر دیا ۔

    آپ نے ایک اسلامی ریاست کی مضبوطی اور اس کی بقاء کے لیے جو کوششیں کیں اور جو کارہاۓ نمایاں انجام دیے اس کے بعد اگر آپ کو محسنِ  اُمت کہا جاۓ تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا۔

    آپ ایک سچے مسلمان اور عاشقِ رسول صلى الله عليه واله وسلم بھی تھے. آپ نے ایک نجی ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں کہا تھا :

    "کہ آپ کو اپنے بھوپالی ہونے پہ فخر ہے کیونکہ ایک تو وہ غدار نہیں ہوتے اور دوسرا ان میں کوٸی قادیانی پیدا نہیں ہوتا ”

    آپ صرف ایک شخصیت کا ہی نام نہیں تھے بلکہ ایک عہد کا نام بھی تھے جو تمام ہوا اور سب کو افسردہ کر گیا۔ پاکستان ایک مخلص ایماندار اور نڈر و  دلیر محبِ وطن اور ایک مضبوط قوت سے محروم ہو گیا😢

    ” ڈھونڈو گے اگر ہمیں ملکوں ملکوں ۔۔۔ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم” 

    ہر آنکھ اشک بار ہے انکے جانے پہ۔ انکا خلاء باقی رہے گا اور پاکستان اور پاکستانی انکی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ قوم ہمیشہ انکی خدمات کی مقروض رہے گی اور تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف میں لکھا جاۓ گا۔ ہمیں یہ افسوس ہمیشہ رہے گا کہ جیسے انکی قدر کرنے کا حق تھا ہم نے ویسی نہیں کی۔ 

    "عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن۔۔۔۔یہ الگ بات ہے دفناٸیں گے اعزاز کے ساتھ”

    اللّٰہ پاک ڈاکٹر صاحب کی بے حساب مغفرت فرماۓ اور ان کے درجات بلند فرماۓ آمین ❣️

    شمسہ بتول

    @sbwords7

  • استحکام پاکستان کی بنیاد چل بسا  ازقلم محمد عبداللہ گِل 

    مملکت خداداد کا 14 اگست 1947ء کرہ ارض کے نقشے پر ظہور ہوا۔پاکستان کو سیکولرازم اور لبرلزم کہ بنیاد پر نہیں بنایا گیا بلکہ اس مملکت کا نظریہ اس کی بنیاد دین اسلام کو چنا گیا پھر اس کے لیے محنت کی گئی جس کا ثبوت مسلم لیگ کے اس نعرے سے ہوتا ھے جو کبھی بھوپال میں لگ رہا ہوتا تو کبھی بنگال میں کبھی دہلی میں کبھی بلوچستان میں 

    "مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ”

    اسلام کی بنیاد پر یہ وطن بنا دیا گیا مخلص اور اسلام پسند قیادت نے اس کے لیے قربانیاں دی۔لیکن ابھی مملکت کو بنے 24 سال ہی بیٹے تھے تو اس ملک کے خلاف سازش کو رچا گیا۔ان سازشوں کی وجہ سے ہمارا دشمن اور ازلی حریف بھارت کامیاب ہوا اور پاکستان دولخت ہوا اس وقت ایک شخصیت نے سربراہ مملکت خداداد پاکستان کو خط لکھا جس میں خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اسلام کو ایٹمی قوت کا تحفہ دینا چاہتے ہیں۔امت مسلمہ کے لئے اس قدر درد دل رکھنے والی شخصیت کا اسم گرامی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ھے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے امت مسلمہ اور پاکستان کو استحکام دیا۔لیکن آج 10 اکتوبر کو وہ شخصیت اس جہان فانی سے رخصت ہو گی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان حب الوطنی کے جذبہ سے مالا مال بلکہ محبت اسلام سے لبریز تھے۔کمال عجب کی شخصیت تھی کہ اتنا بڑا نام۔رکھنے والا شخص جس کو کئی لاکھ ڈالر تنخواہ پر نوکریاں دینے کو ملک تیار تھے لیکن اس نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کا فرض انجام دیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملک پاکستان کے نظر بندیوں کو بھی برداشت کر لیا اپنے بارے دشمن کی سازشوں کو بھی برداشت کر لیا۔بلکہ اندرونی و بیرونی دشمنوں کے آگے آہنی دیوار بن کر کھڑے ہو گے لیکن پاکستان پر آنچ تک کو نہ آنے دیا۔

    بلکہ یہ کہا ہو گا 

    "اے ستم گر ادھر آ ستم آزمائے 

    تو تیر آزما اور ہم ہنر آزمائے”

    بلکہ کیسا ہنر آزمایا کہ ملک پاکستان کو اپنے اردگرد موجود چیل بھیڑوں سے بچا لیا۔آج بھی ہم سے دس گنا بڑا حریف ہم سے کاپنتا ھے۔اس کی وجہ ہماری فوج کا جوہری طور پر مضبوط ہونا ھے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ نظریاتی لوگوں کے لیے سرحدوں کی قید نہیں ہوتی کیونکہ ڈاکٹر صاحب بھوپال سے چلے ہنری سے تعلیم کو حاصل کیا پھر پاکستان آئے انڈیا کے ایٹمی حملوں کے مد مقابل 1998 میں چاغی کے پہاڑوں میں نعرہ تکبیر کو بلند کر دیا اور یہ بھی پیغام دے دیا کہ آج استحکام پاکستان مکمل ہو چکا ھے۔وہ پاکستان کی ناو جس پر 1971 پر نظریاتی حملہ ہوا آج وہ مستحکم ہو چکی ھے۔جس کی وجہ سے قوم ان کو سلام پیش کرتی ھے۔میرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں جو ان کے کارناموں کو بیان کر سکے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے ایٹمی قوت پاکستان کو بنایا جس کی وجہ سے آج افغان امن معاہدہ میں پاکستان کی اہمیت ھے اگر فوجی اتحاد ھے تو پاکستان چیف ھے۔ملکوں کی فوجیں ہمارے پاس جنگی مشقیں کرنے آتی ہیں بلکہ امریکہ،اسرائیل بھارت اور یہ یہود و نصاری کے ملک ہم سے گھبراتے ہیں۔انھیں پتہ ھے کہ ان کے پاس نظریہ جہاد تو پہلے ہی ھے لیکن اب ان کے پاس جنگی گھوڑیں بھی ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے اس کارنامہ کی وجہ سے امت مسلمہ ان کی مقروض ھے اور ان سے عقیدت رکھتی ھے۔جس کا منہ بولتا ثبوت آج ان کی وفات کے بعد سوشل میڈیا اور مسلم ممالک کے چینلز کی طرف سے ان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی وفات پر غم و رنج کا اظہار کیا گیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب جیسے باہنر شخص کو بدقسمتی سے ملک پاکستان کے حکمرانوں نے اس طرح بروئے کار نہیں لایا جس طرح حق تھا بیرونی پریشر پر ان کو پابند سلاسل کر دیا جاتا تھا۔جو اس ملک کے نظریاتی غدار ہیں ان کی جمع پونجی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی اور محسن پاکستان کے پاس لباس کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔میری حکومت وقت سے گزارش ھے کہ خدارا ایسے نظریاتی محافظوں کو تلاش کر کے ان کا خیال رکھو ان کو قید و بند کی صعوبتوں سے نہ گزرارو۔

    اللہ تبارک و تعالی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے

    @ABGILL_1 

  • برطانیہ کتنا طاقتور ہے:-تحریر اصغر علی

    برطانیہ کتنا طاقتور ہے:-تحریر اصغر علی

             

    کبھی برطانیہ کا دعوی تھا کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی پر اس کا قبضہ ہے دنیا کے 150 ملکوں پر برطانوی راج قائم تھا اور برطانوی سلطنت  میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور آج حال یہ ہے کہ برطانیہ کا رقبہ پاکستان کے صوبہ پنجاب سے کچھ زیادہ ہے کیا ان سب چیزوں نے برطانیہ کی طاقت کو کم کر دیا ہے تو اس کا جواب ہے ہاں برطانیہ کا سوپر پاور اسٹیٹس تو ختم ہوگیا ہے لیکن آج بھی امریکہ میں سکیورٹی کونسل کا مستقبل ممبر ہونے کی وجہ سے سے برطانیہ کسی بھی مسئلے کو ویٹو کر کر اس مسئلہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے ہے برطانیہ کے پاس ویٹو کرنے کا اختیار موجود ہے برطانیہ کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ نے کسی جگہ پر فوج بھیجنی ہو یا کسی بھی مسئلہ کے اوپر کوئی ڈبیٹ کرنی ہو تو وہ برطانیہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا بھلے ہی برطانیہ رقبہ کے لحاظ سے سے پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تھوڑا سا بڑا ہے لیکن اس کا دفاعی بجٹ اور فوجی بجٹ کتنا ہوتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ برطانیہ کا فوجی بجٹ 61 ارب ڈالر ہوتا ہے یعنی پاکستان کے فوجی بجٹ سے چھ گناہ زیادہ برطانوی ایئر فورس کے پاس دو سو سے زیادہ طیارے ہیں اور برطانوی بحریہ کے پاس کسی بھی طیارے کو منٹوں میں تباہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن اس کا سب سے خطرناک ہتھیار ایٹمی آبدوزیں ہیں یہ آبدوزیں ہر وقت برطانیہ کے ارد گرد چکر لگاتی رہتی ہیں اور اس کا دفاع کرتی رہتی ہیں دوسری طرف طرف اگر غور کریں تو اسلحہ تیار کرنے میں برطانیہ کا دنیا میں چھٹا نمبر ہے برطانوی معیشت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے اور جی سیون کا اہم رکن بھی ہے کچھ سال پہلے برطانیہ نے یونان اور آئرلینڈ کو دیوالیہ ہونے سے بھی بچایا تھا برطانیہ کی جغرافیائی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے کہ امریکہ ایشیا اور افریقہ کے درمیان میں واقع ہے جس کا اس کو یہ فائدہ ہے کہ دنیا کے ان تین براعظموں میں ہونے والی کسی بھی قسم کی کوئی تجارت برطانیہ کے بنا نہیں ہو سکتی ایک امریکی جریدے کے مطابق اگر امریکہ دنیا کی سپرپاور ہے تو برطانیہ دنیا کی سپر سافٹ پاور ہے کیونکہ برطانیہ اپنی تمام تر طاقت کے باوجود یہ میسج لکھنے میں آج تک برقرار ہے کہ وہ امریکہ سے بہتر ہے مختصر بات کریں تو برطانیہ اتنی بڑی فوجی طاقت تو نہیں ہے کہ وہ دنیا کے کسی ملک پر تن تنہا حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لے لیکن برطانیہ اتنی بڑی طاقت ضرور ہے کہ دنیا میں ہونے والے کسی بھی ملک میں کسی بھی فیصلے پہ وہ اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اتنی بڑی فوجی طاقت ضرور ہے کہ کوئی بھی ملک اس پر حملہ کرنے کی سوچ نہیں سکتا یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ برطانیہ کی طاقت اس کی فوجی اور معاشی قوت میں چھپی ہوئی نہیں بلکہ برطانیہ کی طاقت جدید  یونیورسٹیاں یا سائنسی مہارت اور دنیا کے تمام ملکوں سے اچھے تعلقات ہیں

    Twitter id:    @Ali_AJKPTI
    https://twitter.com/Ali_AJKPTI?s=09

  • "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان   صوفیہ صدیقی

    "یہ الگ بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان صوفیہ صدیقی

    دس اکتوبر 2021کی صبح, سوا نو بجے کے قریب ایک مخصوص ایس ایم ایس ٹون کے بعد میں نے موبائل اٹھایا۔ ساتھ ہی ایک افسوسناک خبر میری آنکھوں کے سامنے تھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہم میں نہیں رہے۔
    معذرت کے ساتھ گزشتہ تین چار سالوں میں یہ مذاق اتنی بار سن چکے تھے کہ دکانوں کو ایسے لگا کہ جیسے ایک بار پھر دھوکا دیا جارہا ہے ایس ایم ایس کرنے والے سے سوال بھیجا کیا واقعی؟؟
    جواب ملا! بدقسمتی سے اس بار یہ خبر درست ہے ۔افسوس صد افسوس ہم نے ایک عظیم سائنسدان اور ایک عظیم انسان کو کھو دیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کو یقینا پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے اور رشک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے اسلام آباد میں شاہرہ ِ فیصل کو ان کی جنازہ سے قبل و بعد کئی گھنٹوں تک مکمل طور پر بند دیکھا۔ بے وقت کی بارش اور گھٹاؤں نے عظیم سائنسدان کو رخصت کیا۔ گویا آسمان بھی رویا اس بے قدری پہ جس کا اس قوم کو سامنا ہے۔

    اے کیو خان کو تمام تر سرکاری اور عسکری اعزازات کے ساتھ قومی ہیرو کے طور پر سپرد خاک کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں لاکھوں عام افراد کے علاؤہ سیاسی قائدین، مذہبی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ نمایاں بات یہ تھی کہ صدر مملکت یا وزیر اعظم کے جنازے میں آنے سے عام لوگوں کی مشکلات میں اضافے ہونے کا احتمال تھا سو وہ شریک نہ ہوئے۔

    ہماری لاش گلستاں میں دفن کر صیاد

    چمن سے دور کوئی نوحہ خواں رہے نہ رہے

    تعزیت کرنے والے انبار اور بہت سے نقطوں پر مشتمل بحث دیکھتے دیکھتے، پاکستان کے بھارت میں تعینات سابق سفیر عبداللہ باسط کی ایک تحریر آنکھوں سے گزری۔ درج تھا ” دفنائیں گے قومی اعزاز کے ساتھ”. ایسے لگا یہ الفاظ ڈاکٹر عبد القدیر کے تھے۔ آج سچ ثابت ہو گئے تھے۔ پھر لگا کہ نہیں پاکستان کے ہر محسن کی آواز ہے جو لٹ پٹ کہ پاکستان آیا اپنا سب کچھ اس کو دیا اور پھر غدار ہوا پھر جاتے جاتے اعزازات سے نواز دیا گیا کیوں کہ زبان بند ہوگئی تھی۔

    خیرسوشل میڈیا پہ تلاش کیا تو ان کے یوٹیوب چینل پہ ایک وڈیو ملی جس میں سابق سفارتکار 25 مئی 2018 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گھر میں ہونے والی اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ پاکستان کی حکومتوں سے نالاں تھے۔ مگر ریاستی پالیسیوں سے باغی نہیں تھے۔ عام لوگوں کی طرح بلا وجہ میں واویلا بھی نہیں مچاتے تھے۔
    عبد الباسط کہتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا ” اب پاکستان سے تو کچھ مقدم نہیں ہے ۔ یہ ریاست ہے تو ہم ہے نہیں ہیں۔ نہیں تو ہم نہیں ہیں” ایک اور جگہ کہا کہ میں قید میں ہوں لیکن سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کرینگے۔

    ان چند جملوں سے ایسے لگتا ہے کہ اے کیو خان کم ظرف نہیں تھے۔ یقینا نہیں تھے۔ انھوں نے پاکستان کے لیے بہت کچھ کیا۔ لکھا۔ بنایا بتایا۔ اپنی تحریروں سے بہت سے مشکلات کو حل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
    محسن پاکستان کے جانے سے پاکستان ایک ایسے اثاثہ سے محروم ہوا ہے۔ جس کا ازالہ ممکن ہی نہیں۔
    قومی سلامتی کا ایک اہم باب رقم کرنے والا اے کیو خان دنیا سے تمام سرکاری اعزازات کے ساتھ رخصت ہوا ۔ اپنا باب بند کرتے کرتے ایک نیا باب کھول گیا ہے ہم کب تک اپنے ہیروز ایسے غداری کے الزامات میں نظر بند رکھیں گے اور پھر سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن!!

  • عورت کے حقوق اور ہمارا معاشرہ  تحریر : امبر صباء

    عورت کے حقوق اور ہمارا معاشرہ تحریر : امبر صباء

    Twitter 👇
    @MrsHamdani1
    جب ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی طرف سے دین اسلام لے کر آئے تو دنیا بھر کی ستائی ہوئی عورتوں کی قسمت چمک اٹھی اور اسلام کی بدولت ظالم مردوں کے ظلم و ستم سے کچلی و روندی ہوئی عورتوں کا درجہ اس قدر بلند ہو گیا کہ عبادات اور معاملات بلکہ زندگی و موت کے ہر مرحلے اور موڑ پر عورتیں مردوں کے دوش بدوش کھڑی ہو گئیں.
    مردوں کی طرح عورتوں کے بھی حقوق مقرر کیے گئے اور قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر عورتوں کی مختلف حیثیتوں میں ان کے حقوق و فرائض کی وضاحت ملتی ہے عورتوں کو کسبِ معاش کا حق دیا گیا انہیں وراثت میں حصہ دار ٹھہرایا گیا ماں کی اطاعت کے نتیجے میں جنت کی خوشخبری سنائی گئی ماں گھر میں ایک ایسی قوت ہے جو تربیت اور ایثار کے ہتھیار سے اپنی اولاد کو منشاء خداوندی کے مطابق ڈھالتی ہے
    دین اسلام نے واضح طورپر بتا دیا ہے کہ مرد اور عورت کی تخلیقی بنیاد ایک ہی ہے.
    سورۃ النحل میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ترجمہ: ” جو نیک کام کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اسے دنیا میں پاکیزہ زندگی دیں اور ان کے اچھے کاموں کا جو وہ کرتے ہیں اجر دیں گے” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی کی حیثیت کے ضمن میں فرمایا ”اس (بیٹی) کے ساتھ رحمت و شفقت کا برتاؤ کرو” اور بیٹی کی اچھی تربیت اور اس کے ساتھ شفقت کو آگ سے نجات کا ذریعہ قراردیا. اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا ”عورت جب بیوی بنتی ہے تو اپنے شوہر کا آدھا دین مکمل کرتی ہے.
    دور نو میں پھر سے عورت پر مختلف قسموں کے ظلم ڈھائے جا رہے ہیں آزادی نسواں کے پرفریب نعروں سے عورتوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے اور ان عورتوں کو سرعام ننگا کیا جا رہا ہے ہر کوئی عورت ذات کو ہوس کا نشانہ بنا رہا ہے اور آزادی نسواں کے نام پر عورت کو بیٹی، بیوی، بہن اور ماں بننے سے روکا جا رہا ہے عورتوں کو کلیوں و محفلوں کی زینت بنایا جا رہا ہے ان کی عزت و ناموس کو ہر گلی کوچے میں لوٹا جا رہا ہے الغرض عورت کو ذلیل و رسوا کیا جا رہا ہے کیا یہی ہمارا دین ہے؟ عیاش پسند لوگ قرآنی احکامات میں تاویلیں کر رہے ہیں علماء حق کو قدامت پسند کے القابات دیئے جا رہے ہیں
    خدارا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں دین اسلام کے احکامات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے،آزادی نسواں کے پرفریب نعروں کی ذد میں آکر ہم کہیں دینی اسلام کے احکامات کو بھول تو نہیں بیٹھے تو آئیے اپنی اصلاح کریں عورتوں کو ان کے حقوق دیں وہ حقوق جو کہ عورتوں کو دین اسلام نے دیئے ہیں آئیے اپنی اصلاح کیجئے اور ایک عزت دار مسلمان ہونے کا ثبوت دیجیے.
    ” سنو عورت کو کھلونا سمجھنے والو
    جس کے نام سے ہےرونق
    وہ ہے عورت
    تو جس کا بیٹا ہے
    وہ ہے عورت
    خدا نے جس کے قدموں تلے رکھی ہے جنت
    وہ ہے عورت
    جو کل تیرا نصیب ہے
    وہ ہے عورت
    جس کا تو باپ بنے گا
    وہ ہے عورت
    جس کا بھائی ہے تو
    وہ ہے عورت
    سنو! عورت کی عزت کرنا ایک عزت دار مرد کی نشانی ہے.

  • سوچ ہی حیات زندگی بدل دیتی ہے تحریر: حضوربخش کنول اعوان

    سوچ ہی حیات زندگی بدل دیتی ہے تحریر: حضوربخش کنول اعوان

    اس دنیا میں بسنے والا ہر ذی روح اس دنیا کا باسی ہے ۔
    انسان اس وقت تک معاشرے کا کارآمد شخص نہیں بن سکتا جب تک اس کی سوچ مثبت نہ ہو کیونکہ انسان کی سوچ ہی اس کو مثبت یا منفی بناتی ہے ۔
    آپ کی جیسی سوچ ہوگی ویسے کام ہونگے اور اگر سوچ اچھی ہے تو نتاٸج اچھے نکلیں گے اگر بری ہے تو برے ۔
    اسی چیز کو اللہ پاک نے قرآن میں واضع بھی کیا ہے ۔

    ‏اللّٰہ ﷻ کا ارشاد ہے :

    وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹)

    ” اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی“۔

    ایک انسان اپنے لفظوں سے نہیں اپنے عمل سے مثالی بنتا ہے انسان کو پستیوں سے نکال کر بلندیوں پر لے جانے والی شے اُس کا عمل ہے۔

    جب انسان پیدا ہوتا ہے،اس وقت وہ سب جیسا ہوتا ہے لیکن اپنے مقصدِ حیات کا تعین کر لینے اور اس کی تکمیل کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کے بعد وہ مثالی اور کامیاب لوگوں کا ہم سفر بن جاتا ہے۔وہ لوگوں کے لیے مثال بن جاتا ہے۔اسے منزلوں کے سلام آنے لگتے ہیں۔

    مثبت سوچ تحریکی انسان کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔انسان کو جب سمجھ آ جائے کوئی اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتا جب تک وہ خود اپنے لیے کچھ نہ کرے۔

    جب انسان میں یقین پیدا ہو جائے میں کر سکتا ہوں اور جب وہ اپنی رائے سے نہیں اپنے عمل سے دنیا کو دکھادے کہ وہ زندگی کے سفر میں جیتا ہے پھر وہ مثال بنتا ہے۔عزم صمیم اور جہدِ مسلسل کی زندہ داستان،جو صدیوں لوگوں کے دلوں کو اپنے حصار میں لیے رہتی ہے۔ 

     ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عملی نمونہ پیش کیا۔اللّٰہ کے ہر حکم پر عمل کر کے دکھایا۔انسانوں سے پیار کر کے انسانیت کے دلوں میں گھر کیا حضور کریم خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی سیرت طیبہ ہمارے لیۓ مشعل راہ ہے ۔
    اس دنیا میں حقیقی مشعل راہ حضور کی ذات اقدس ہے ۔
    آپ کا ہر قول فعل زندگی گزارنے کے رہنما اصولوں پہ مبنی ہے ۔
    حضور کریم کی ذات طیبہ تاقیامت مسلمانوں اور روۓ زمین پہ بسنے والے ہر ذی شعور کیلۓ ایک مثال ہے ۔
    حضور کریم کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جاۓ تو زندگی گزارنے عبادات و انصاف اور زندگی کے ہر پہلو کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے ۔

    قائداعظم نے اقبال کے خواب کو عمل اور تعبیر کی چادر میں لپیٹ کر پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک مثالی مملکت بنا دیا ۔
    قاٸداعظم نے ایک ایسے ملک کیلۓ جدوجہد کی جس میں مسلمان اپنی عبادات تسلی سے ادا کر سکیں ۔
    پاکستان کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ پہ رکھی گٸ ہے اس وقت برصغیر کے مسلمانوں کی زبان پہ ایک ہی نعرہ تھا الله أكبر ۔

    دو ایسے بھائی جنہیں پرندوں کی طرح اڑنے کا جنون تھا پھر ایک دن انہوں نہ اپنے عمل سے اس جنون کو حقیقت کر دکھایا۔ انہوں نےثابت کر دیا کہ کامیابی اور نام عمل والوں کا مقدر ہے۔
    آج دنیا بھر میں تیز ترین سفر ہواٸ جہازوں پہ ہو رہا ہے ۔

    انسانیت کے علمبردار عبد الستار ایدھی اپنے عمل سے مثال بنے ،لوگوں کا درد محسوس کرنے والے ہمدرد کی زندہ و جاوید مثال۔ جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔
    آپ نے اپنی سوچ عمل اور اللہ پہ کامل یقین کی بنا پہ دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس بنا دی ایدھی پناہ گاہیں لنگر خانے بنا لیۓ جو پوری آب و تاب سے اب بھی چل رہے ہیں ۔

    ہر انسان عملِ پیہم سے دنیا کے لیے مثال رقم کرسکتا ہے۔ اپنے جنون اور عمل کی روشنی سے دنیا کو منور کر  کے اس کی تاریکیوں کو اجالوں میں بدل سکتا ہے۔

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    ‎@Gumnam_HBK

  • ایک سگریٹ بھی قاتل ہے تحریر: زبیر احمد

    ایک سگریٹ بھی قاتل ہے تحریر: زبیر احمد


    ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے لیکن کبھی سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اس کو ایک المیہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ تمباکو نوشی سماجی برائیوں کی جڑ یے اس سے نہ صرف صحت بلکہ اخلاقیات کا جنازہ بھی نکل جاتا یے۔ ہمارے گھروں میں بڑا بھائی یا والد صاحب اگر سگریٹ نوشی کرتے ہوں تو اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی یا کسی بچے کو دوکان سے سگریٹ خریدنے کے لئے بھیج دیتے ہیں اور اس کو بلکل معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے جبکہ قانونی طور پہ 18 سال سے کم عمر کو سگریٹ فروخت کرنے پہ پابندی ہونے کے باوجود دوکاندار سرعام  بچوں کو سگریٹ فروخت کررہے ہوتے ہیں۔ اکثر کل کو یہی بچے خود اس لعنت کا شکار ہوجاتے ہیں جبکہ نوجوان نسل سگریٹ نوشی کو فیشن یا سٹیس کو کی علامت سمجھا جاتا ہے۔  بدقسمتی سے پاکستان میں بائیس کروڑ کی آبادی میں سے تین کروڑ کے قریب سگریٹ نوش ہیں۔

    سگریٹ نوشی اس حد تک نقصان دہ ہے کہ اگر دن میں روازنہ ایک سگریٹ بھی پیا جائے تو اس سے بھی ہارٹ اٹیک یا فالج کے 50 فیصد چانسز ہے ہیں اگر کوئی روازنہ 20 کے بجائے ایک سگریٹ پیتا ہے تو یہی سمجھتا ہے سٹروک یا ہارٹ اٹیک کا خطرہ پانچ فیصد رہ جاتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ خطرہ کم سے کم 50 فیصد تک رہتا ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے یہی سمجھتے ہیں ک سگریٹ سے پھیپھڑوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے جب کہ حقیقت میں پھیپھڑوں سے لے کر دل دماغ اور جگر کے لئے تمباکو نوشی یکساں نقصان دہ ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والے اس بات پہ یقین نہ کریں کہ ایک دن میں چند سگریٹ یا صرف ایک سگریٹ سے تھوڑا نقصان ہوتا ہے اور کم سگریٹ نوشی طویل مدتی نقصان نہیں پہنچاتی یہ ایک غلط سوچ ہے تحقیق کے مطابق جس طرح بندوق کی ایک گولی سے نقصان ہوسکتا ہے ایسے ہی دن میں روازنہ ایک سگریٹ پینا بھی نقصان دہ یے۔ تمباکو نوشی کم کرنے یا مکمل طور پہ ختم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ مہلک بیماریوں سے  ان کو اور ان کے اردگرد والوں کو محفوظ کیا جاسکے۔ تمباکو نوشی سے دنیا میں ہرسال 70 لاکھ افراد لقمہ اجل بنتے ہیں اور ان میں سے 20 لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث دل کی بیماریوں، فالج اور ہارٹ اٹیک سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ طویل مدت تک تمباکو نوشی زندگی  12 سے 15 سال تک زندگی کو کم کردیتی ہے۔ یہ عام غلط فہمی ہے کہ طویل عرصہ تک سگریٹ نوشی کے بعد اس کو ترک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا حالانکہ جیسے ہی آپ سگریٹ نوشی ترک کرتے ہیں اس سے پھیپھڑوں کی شدید بیماریاں اور کینسر ہونے کے امکانات کم ہوتےجاتے ہیں، تمباکو نوشی کے باعث ہارٹ اٹیک اور فالج کے ساتھ پھیپھڑوں کی بیماریاں اور کینسر بھی اموات کی بڑی وجوہات ہیں۔ پاکستان میں تقریبا 3 کروڑ افراد تمباکو نوش ہیں جن میں اکثر سگریٹ نوش ہیں۔ ملک میں لاکھوں دکانیں ایسی ہیں جہاں سگریٹ آسانی سے دستیاب ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تمباکو نوشی کی لت لگنا وہ بیماری ہے جس سے صحت اور دولت دونوں سے ہاتھ دھونے پہ مجبور کردیتی ہے۔ بیشتر تمباکو نوش کوشش کے باوجود بھی اس کو ترک نہیں کرپاتے اور خود کو بیماریوں کے حوالے کردیتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرکاری و غیر سرکاری سطح پر اس عادت سے جان چھڑانے کی کوششیں کی جاتی ہیں مگر آج تک پاکستان سمیت کوئی ایک بھی ترقی پذیر ملک ایسا نظر نہیں آتا جس نے اس لت کا مکمل طور نہیں تو ساٹھ ستر فیصد خاتمہ کیا ہو۔ پاکستان میں اس وقت مختلف اندازوں کے مطابق ڈھائی کروڑ سے تین کروڑ کے درمیان افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں، بائیس کروڑ آبادی والے ملک میں جب تین کروڑ افراد تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہوں تو صورت حال کی سنگینی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ تمباکو نوشی سے اجتناب کریں  سلگانے سے پہلے سوچ لیں بجائے اس کے کہ سوچنے کے قابل نہ رہیں

    tweets ‎@KharnalZ

  • علم ہی آخری دلیل! تحریر: فہد احمد خان

    علم ہی آخری دلیل! تحریر: فہد احمد خان

    جب ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو اس کا پہلا لفظ "اقرائ” تھا، یعنی "پڑھ”۔ اس بات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پڑھنے یعنی علم سیکھنے کے کیا فوائد ہیں، کیوں کہ جب ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ پڑھ لیا، تو اللہ تعالی نے پورا قرآن شریف آپ کے دل میں اتار دیا۔ اس ایک لفظ اقراءیعنی پڑھنے کے لفظ کی اہمیت افادیت کو اچھی طرح جان سکتے ہیں اور ہم سمجھ سکتے ہیں کہ علم کے بغیر کوئی بھی کام اور عمل بے معنی ہے، یعنی علم ایک ایسی شے ہے، جو ہم سے کوئی بھی نہیں چھین سکتا اور ہم اس کو جتنا پھیلائیں گے، یہ اتنا ہی بڑھتا چلا جائے گا، مگر افسوس آج ہم علم کی اہمیت و افادیت کو بھول چکے ہیں۔ یہ علم ہی ہے جو ہمیں اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا ہے اور ہمیں یہ پہچاننے میں مدد دیتا ہے کہ کیا حق ہے اور کیا باطل ہے۔ آج پاکستان کی عوام بہت سے مسائل سے گزر رہی ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم علم سے بہت دور ہو چکے ہیں اور جس کی وجہ سے ہم اپنا اچھا اور برا سوچنے سے قاصر ہیں۔

    دورِ حاضر بلکہ کسی بھی دور میں کوئی بھی تعلیم کی حقیقت اور اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا، جو معاشرہ تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جاتا ہے، وہ ہر میدان میں پستی اور زوال کا شکار رہتا ہے۔ علم کی افادیت اپنی جگہ ایک کثیر خزانہ سمیٹے ہوئے ہے، ہمیں علم کے بارے میں کئی احادیث اور اقوال ملتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ "علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر کی آغوش تک” اسی طرح حضرت علی کا فرمان ہے کہ "علم مال سے بہتر ہے، کیوں کہ تمھیں مال کی حفاظت کرنی پڑتی ہے، جب کہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے۔”

    مندرجہ بالا حدیث شریف اور قول سے تو آپ کو علم کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ ہو ہی گیا ہوگا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہم علم کے میدان میں بہت پیچھے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے بہت سے علاقوں میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں عوام کو تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے، اس خوف اس کے کہیں وہ علم کی دولت سے آشنا ہوکر ظالم لوگوں سے اعلان بغاوت نہ کر دیں۔

    جب انسان دنیا میں آتا ہے، بڑا ہوتا ہے، ہوش سنبھالتا ہے۔ گھر والے کچھ ہی بڑے ہونے کے بعد اسے سکھا دیتے ہیں کہ اسے کیا بننا ہے، فوجی، ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل وغیرہ۔ پھر وہ اس کی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے اور وہ زندگی بھر تعلیم حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے مگر 98 فی صد متوسط طبقے کی تعلیم حاصل کرنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے اور اس کا خواب کبھی شرمندہ ¿ تعبیر نہیں نہیں ہو پاتا اور وہ ناخواندہ ہی رہ جاتا ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا بنیادی جزو ہے، دنیا بھر کی ترقی یافتہ قومیں تعلیم کی وجہ سے دوسری قوموں پر سبقت حاصل کرتی ہیں۔ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی کا تصور ہی نہیں کر سکتی، مگر جب پاکستان کی بات ہو تو قیام پاکستان سے لے کر آج تک حکومت نے تعلیم پر خاص توجہ نہ دی اور نہ اس کی اہمیت کو سمجھا۔

    شاید حکمرانوں کا کردار ایسا رہا ہی نہیں کہ وہ تعلیم کی اہمیت کو سمجھ سکتے کبھی اسمبلیوں میں منتخب کردہ نمائندگان کی جعلی ڈگریاں نکل آتی ہیں، تو کبھی نظام ہی میں تبدیلی لاکر تعلیم کی شرط کو کم کر دیا جاتا ہے۔

    پاکستان کی 70 فی صد آبادی آج تک ناخواندہ ہے۔ اگر ہم پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوش حال وباوقار ملک بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں پورے عزم کے ساتھ اپنے تمام تر وسائل استعمال کرتے ہوئے تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ اس عمل کے لیے پاکستان میں دُہرے تعلیمی نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے اور کم سے کم عرصے میں ہنگامی بنیادوں پر پورے ملک میں ناخواندگی کے خلاف کام کیا جائے ناخواندگی ختم کرنا نا ممکن نہیں، لیکن مشکل ضرور ہے۔ ملک میں صرف ایک فی صد لوگ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں اور پھر یونیورسٹیوں پر نظر ڈالی جائے، تو نجی یونیورسٹیوں میں غریب بچے کے لیے تعلیم حاصل کرنا ناممکن سی بات لگتی ہے۔ یہ پاکستان کے نظام تعلیم سے ایک مذاق ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اچھی تعلیم حکمرانوں جاگیرداروں وڈیروں کے لیے دوسرے درجے کا معیار تعلیم ہے اور اس لیے بھی انتظام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بہترین تعلیمی نظام کے لیے کوریا، جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں حکومت کو چاہیے کہ دُہرے تعلیمی نظام مکمل طور پر خاتمہ کرے اور پاکستان کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں اسکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا زیادہ سے زیادہ قیام عمل میں لایا جائے اور وہاں یک ساں تعلیمی نظام رائج کیا جائے۔

    ٭٭٭

    ٹیوئٹر : ‎@fahadpremier

  • کیا آپ چاہتے ہیں ؟ تحریر:صابر حسین

    کیا آپ چاہتے ہیں ؟ تحریر:صابر حسین

    اگر آپ باشعور اور حساس والدین ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ کسی کا محتاج نہ ہو ، وہ خود اعتماد ہو، زندگی میں کسی پر بوجھ نہ بنے ، زندگی کے چیلنجز کو قبول کرتے ہوئے انہیں حل کرنے کی ہمت کر سکتا ہو ، وہ دوسروں سے گھل مل سکتا ہو ، نہ صرف اسکول کی تعلیمی سرگرمیوں میں بلکہ روز مرہ سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قابل ہو ۔ وہ آپ کیلئے سرمایہ افتخار بن سکے آپ کا فرماں بردار ہو لوگ اس سے ملیں تو اس سے خوش ہوں اس کے پاس دولت، شہرت، طاقت اور آزادی وغیرہ سب کچھ ہو ۔

    یقیناً یہ وہ خواہشات ہیں جو تمام ہی والدین رکھتے ہیں ۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ اپنے ساتھ ان کا بھی نام روشن کرے لیکن کیا سب والدین کی یہ خواہش پوری ہوتی ہے ؟

    عموماً آدمی پچاس سے ساٹھ سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے لیکن چند لوگ ایسے ہیں جن کا نام ان کی موت کے بعد بھی ہزاروں سال تک یاد رکھا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ عام لوگوں اور ان لوگوں کے درمیان کیا فرق ہے ؟ کیا اسباب ہیں جن کی وجہ سے دنیا انہیں یاد کرتی ہے ؟ کیوں لوگ ان کی تعریف کرتے ہیں ؟ یہ لوگ ایسا کیا کر گئے کہ دنیا کے مؤثر ترین لوگوں میں شامل ہو گئے یہ مؤثر اور معروف لوگ بھی کبھی نہ کبھی بچے تھے بلکل عام بچوں کی طرح انہوں نے زندگی گزاری تھی لیکن غور کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ کچھ خاص عوامل ان افراد کے پچپن میں ایسے ہیں جو ان کے مستقبل کو دیگر افراد کے مستقبل سے مختلف کرتے ہیں 

    سوال یہ ہے کہ بعض بچے بڑے ہو کر "ہیرو” کیوں بن جاتے ہیں اور کچھ "زیرو” کیوں رہ جاتے ہیں ؟

    ہمارے پاس عموماً دوسروں کی کامیابی اور اپنی ناکامی کی ایک ہی وجہ ہوتی ہے "مقدر” لیکن جب آپ صرف ایک وجہ کو حتمی مان لیتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کبھی بھی حقیقت شناس نہیں ہو پاتے ، یہ ممکن بھی کیسے ہے کہ "سیب” اور "کیلے” پر لیکچر سن کر اس موضوع پر کتاب پڑھ کر آپ سیب اور کیلے کے ذائقے سے آشنا ہو جائیں سیب اور کیلے پر چار پانچ گھنٹے کا لیکچر سنیں ، چار پانچ گھنٹے بحث کرنے اور تین سو صفحات پر مشتمل کتاب پڑھنے سے بہتر ہے کہ آپ سیب اور کیلا چکھ لیں آپ کو حقیقت کا علم خود ہو جائے گا ہر چیز کی وجہ قسمت نہیں ہوتی کچھ معاملات اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ میں بھی رکھے ہیں قسمت یا مقدر پر الزام لگا کر ہم اپنی زمہ داری سے آنکھیں چرانا چاہتے ہیں لیکن نتیجہ تو صرف حقیقت کا عمل ہی آتا ہے آپ کا یہ طریقہ آپ کو اطمینان سے ایک جگہ بٹھا تو سکتا ہے لیکن آپ کے نتائج کو بدل نہیں سکتا اولاد کی تعلیم و تربیت اور شخصیت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے آپ اپنی اولاد کیلئے جتنے بڑے خواب دیکھیں اور نیک خواہشات دل میں رکھیں آپ ان خوابوں کی تعبیر اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک آپ ان کیلئے عملی اور حقیقت پر مبنی تدابیر نہیں کریں گے ۔

    یاد رکھیئے ! دولت مندی نتیجہ ہے ، غربت نتیجہ ہے ، صحت نتیجہ ہے ، بیماری نتیجہ ہے ، نیک نامی نتیجہ ہے ، بدنامی نتیجہ ہے ، کامیابی نتیجہ ہے ، ناکامی نتیجہ ہے  اختیار اور بے اختیاری بھی نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق ایک منظم نظام کے تحت کی ہے جس میں مختلف قوانین کام کر رہے ہیں ایک قانون یہ بتاتا ہے کہ ہر نتیجے کا ایک سبب ہوتا ہے نتیجہ خواہ دولت کی شکل میں ہو یا غربت کی صورت میں ، کامیابی کی شکل میں ہو یا ناکامی کی صورت میں ، غور کریں تو ہر ایک کے پس منظر میں کوئی سبب ، کوئی وجہ ملے گی ۔ اسی طرح آپ کے بچے کا جو مزاج اور مستقبل ہے اس کا سبب اس کی پچپن کی تربیت ہے

    Sabir Hussain

    ‎@SabirHussain43