Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • سانحہ 8 اکتوبر 2005 قیامت صغریٰ  تحریر۔ نعیم الزمان

    سانحہ 8 اکتوبر 2005 قیامت صغریٰ تحریر۔ نعیم الزمان

    8 اکتوبر 2005 کا دن ایک المناک دن تھا۔ تین رمضان المبارک بروز ہفتہ  کی  صبح 8 بج کر 52 منٹ پر  آزاد کشمیر سمت پاکستان کے مختلف علاقوں پر ہولناک زلزلہ آیا ۔ جس نے چند ہی منٹ میں بہت سارے شہروں اور دیہات کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔ یہ دن قیامت صغریٰ کا مناظر پیش کر رہا تھا۔ جس نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں تباہی مچائی ۔اس زلزلے کا مرکز پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بالاکوٹ کے قریب تھا۔جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.6 ریکارڈ کیا گیا۔

    اس ہولناک زلزلے میں لاکھوں کی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔اربوں روپوں کا املاک کو نقصان پہنچا۔ لاکھوں کی تعداد میں  بوڑھے، جوان ،بچے زخمی ہوئے۔اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ  معذور ہوئے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے۔ ہر امیر  اور غریب اس سانحے کا شکار ہوا۔ مال مویشی  گھر سکول کالج ہسپتال تمام سرکاری دفاتر مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے۔کھانے اور پینے کو کچھ نہیں مل رہا تھا۔ کچھ لمحے کے لیے پانی خشک ہو گے تھے۔اگر کہیں تھوڑی مقدار میں پانی موجود بھی ہوتا تو اس کو نکالنے اور پینے کے لیے برتن موجود نہیں تھا۔ ختہ کے لوگوں نے جوتوں میں پانی پیئا۔ نفسا نفسی کا عالم تھا۔ ہر کوئی اپنے عزیزواقارب کی تلاش میں لگا ہوا تھا۔ کوئی اپنے عزیزوں کی میتں نکالنے میں مصروف تھا ۔ اور کوئی اپنی مدد اپنے تحت ہزاروں من ملبے تلے دھبے  زخمیوں کو نکالنے میں مصروف تھے۔ والدین اپنے بچوں کو سکولز اور کالجز میں ڈھونڈ رہے تھے۔بچےکسی کو زخمی حالت میں ملتے اور کسی کو معذوری کی حالت میں اور کوئی بد قسمت والدین جو اپنے دل کے ٹکڑوں کی میت اٹھائے واپس آئے۔اور اتنا خوفناک منظر تھا کہ کسی کو دوبارہ زندگی کی بہتری کی کوئی امید نہیں تھی۔ کوئی پتہ نہیں تھا کب پھر خوفناک زلزلہ دوبارہ آئے اور سب کچھ ختم ہو جائے۔ زلزلے کے جٹکے وقفے وقفے سے جاری تھے۔ ہر طرف سے چیخو پکارا کی  کی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں۔ بچے بھوک سے نڈھال تھے زخمی درد کی شدت سے چیخ رہے تھے۔ کوئی امدادی کارروائیاں شروع نہیں ہوئی تھی۔ اوپر سے شام کے وقت انتہائی شدت سے بارش برسی۔ کسی کے پاس اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ مشکل سے میتوں اور زخمیوں کے اوپر کچھ پٹے پرانے کپڑے  جو گھروں سے باہر پڑے ہوئے تھے وہ گھاس اور لکڑیاں وغیرہ رکھ کر ان کو بھیگنے سے بچایا ۔ مشکلات سے پہلی رات گزاری۔ سردی کی انتہا تھی کیونکہ کے کپڑوں کی قلت تھی  کپڑے مکانون تلے دبے ہوئے تھے۔آگ جلانے کیلے لائیٹر ماچس تک نہیں تھے۔ دوسرے دن  سے امدادی کارروائیاں شروع ہوئی۔  میتوں کی اجتماعی تدفین  کی گئی۔زخمیوں کو امدادی سنٹر تک لایا گیا۔جو زیادہ زخمی تھے انہیں ہیلی کاپٹر تک پہنچایا گیا جو انہوں اسلام آباد اور مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر رہے تھے۔ دو سے تین دن تک ایک جیسی صورت حال کا سامنا رہا۔ اس کے بعد پاک فوج نے تقریباً ہر علاقے میں کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ متاثرین  کو  امداد فراہم کرنا شروع کر دی تھی۔ سڑکیں مکمل تباہ ہو چکی تھے اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرین تک امدادی سامان پہنچنا شروع ہو ا۔ متاثرین میں کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی گی۔متاثرین کے لیے اجتماعی کیمپ تیار کیے گئے۔  بعد ازاں بیرونی امداد پہنچنے پر ہر فیملی میں خیمے اور گرم کپڑے وغیرہ تقسیم کیے گئے۔ سردیوں کا آغاز ہو چکا تھا۔آئے دن متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا تھے۔لیکن افواج پاکستان، عالمی اداروں نے  جس میں سرفہرست ڈبلیو ایف پی، ریڈ کریسنٹ، اسلامک ریلیف، یو این ، یونیسیف اور بہت ساری  مختلف ممالک کی امدادی تنظیموں نے قلیل وقت میں ہر طرح کی امدادی کارروائیاں جاری رکھی۔ متاثرین کو ممکنہ ریلیف فراہم کی۔ مشکل کی اس گھڑی میں دنیا کے تمام ممالک نے امدادی فراہم کی۔آہستہ آہستہ تعمیر نو کا آغاز کیا گیا۔پہلے مرحلے میں شیلٹر ہوم اور گھریلو سامان اور کپڑے فراہم کیے گئے۔ دوسرے مرحلے میں حکومت کی جانب سے  مکانات کیلئے نقد  امدادی رقم فراہم کی گی۔ سکولز اور کالجز اور دیگر سرکاری عمارات کے لیے بھی شیلٹر ہوم فراہم کیے گئے۔ تقریباً چھے سات ماہ کے بعد حالات بہتری کی جانب گامزن ہوئے۔  بچوں نے دوبارہ سکولوں کا روخ کیا۔متاثرہ علاقوں کی از سر نو تعمیر کا آغاز ہوا۔جو بد قسمتی سے ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ ایرا اور بہت سارے سرکاری اداروں کے گپلے کی وجہ سے بہت ساری سرکاری عمارات ابھی تک تعمیر نہ ہو سکی۔  زندگی کو معمول پر آنے میں دو سے تین سال لگے۔زندگی ایک بار پھر مسکرائی۔ 8 اکتوبر 2005 کو  آج بھی ہر سال یاد کیا جاتا ہے۔لوگ اپنے پیاروں کو یاد کرتے ہیں۔ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کرواتے ہیں۔ قرآن خوانی  کرواتے ہیں۔ لوگ اپنے بچھڑے ہوؤں کو یاد کرتے ہیں۔ان کے زخم پھر سے ترو تازہ ہوتےہیں۔  میں آج بھی وہ لمحے یاد کرتا ہوں تو خوف زدہ ہو جاتا ہوں۔کیونکہ یہ سارے مناظراپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے ہیں۔ میں نے اور اس سانحے میں متاثرہ لوگوں نے قیامت سے پہلے ایک قیامت دیکھی ہے۔ اللہ پاک نے مجھے اس سانحے میں  نئی زندگی بخشی ہے۔میں اس بےبرحم زلزلے کی وجہ سے اپنے گھر کے نیچے کہیں گھنٹوں تک دھبا رہا۔ خوش قسمت رہا کہ کسی بڑی انجری سے بھی اللہ پاک نے محفوظ رکھا۔ الحمدللہ ہم گھر والے سارے محفوظ رہے۔  مگر ہماری فیملی میں تقریباً 40  افراد جن میں چھوٹے بڑے مرد  خواتین اور بچے شامل تھے ان کا جانی نقصان ہوا۔ وہ ہم سے جدا ہوئے ۔ ان کا خلا کبھی پورا نہیں ہو گاجو کبھی بھی نہیں بھلایا جاسکتا۔ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔

    اللہ کے حضور دعاگو ہیں کہ شہدائے زلزلہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے 

    اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کی مغفرت فرمائے جو اس سانحے میں شہید ہوئے۔ اللہ پاک ہم سب کو ایسی قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ ہم سب پر اپنا خصوصی فضل فرمائے۔ یقین جانیے وہ لمحے یاد کر کے دل آج بھی خون کے آنسوں روتا ہے۔ اللہ ہم سب کو اپن پناہ میں رکھے اور سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔

    @786Rajanaeem

  • پاکستان، سیاستدان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    پاکستان، سیاستدان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

    ارضِ پاک کو وجود میں آۓ 74 سال کا عرصہ بیت چکا مگر ہم آج بھی ان ممالک سے ترقی کی رفتار میں بہت پیچھے ہیں جو ہمارے وطن عزیز کے بعد وجود میں آۓ۔ اس کی ذمہ دار صرف کوٸی ایک فرد یا سیاسی پارٹی نہیں بلکہ پوری قوم ہے۔ لاتعداد قربانیوں کے بعد جو وطن عزیز حاصل کیا گیا ہم آج تک ان کا حق ادا نہیں کر سکے ہمارے آباٶاجداد نے بے شمار قربانیاں دیں تاکہ ہم غلامی سے نجات حاصل کر کے ایک کھلی فضا میں سانس لیں سکیں ایک آزاد اسلامی ریاست تشکیل دی جاۓ تا کہ ہم اپنے مذہب کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں مگر افسوس کہ بظاہر تو ہم نے انگریز  کی غلامی سے آزادی تو حاصل کر لی مگر آج بھی ہم ذہنی غلام ہیں خواہشات کے ضرورتوں کے غلام ہیں ہم خود غرض قوم ہیں جسے وطن عزیز کی سالمیت یا اسکی فلاح سے کوٸی واسطہ نہیں رہا بلکہ صرف اپنے مفاد اپنی انا کی پڑی ہے۔ 

    پاکستان کے معرض وجود سے لے کر اب تک ہم میں سے کسی نے ایک دن بھی پاکستان کے بارے میں نہیں سوچا ہم نے اپنے آباٶاجداد کی قربانیوں کو علامہ اقبال اور قاٸداظم کے فرمان کو نظریہ پاکستان کو بھلا دیا ۔ آج ہم مساٸل کا رونا روتے ہیں مگر ان مساٸل کو پیدا کرنے والے اور انکی افزاٸش کرنے والے بھی ہم خود ہیں۔ ہمارے سامنے بحیثیت لیڈر محمد صلى الله عليه واله وسلم ، صحابہ کرامؓ اور تاریخ کے بڑے بڑے عظیم مسلمان حکمرانوں اور قاٸداعظم کی مثالیں موجود تھی مگر پھر بھی ہم نے ایک بار نہیں بلکہ بہت بار کرپٹ، بے ایمان حکمرانوں کو چنا۔ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں جتنی بار بھی ووٹ کاسٹ کیا صرف روٹی، کپڑے، مکان کے نا پہ کیا کبھی بھی پاکستان کے مستقبل یا اسکی فلاح کے لیے نہیں کیا۔ ہم نے یا تو جیالا بن کے یا ن لیگی بن کے یا کپتان کے ٹاٸیگرز بن کے ووٹ ڈالا ہم نے کبھی بھی بحیثیت پاکستانی بن کر ووٹ کاسٹ نہیں کیا کیونکہ ہم چند لوگوں کے ہاتھوں ذہنی غلام بن چکے ہیں ۔ 

     ہم نے آج تک کبھی نظریہ پاکستان کی بات نہیں کی ہم نے کبھی بھی اس نظریہ کو مدنظر رکھ کر ووٹ کاسٹ نہیں کیا جو علامہ اقبال اور قاٸداعظم نے ہمیں دیا تھا اور جس پہ پاکستان بنا تھا یہی وجہ ہے ہم ابھی تک ناکامیوں کا سامنا کر رہے ہم نے ذاتیات کی بنیاد پہ ووٹ ڈالا اور ڈاکو چوروں کو منتخب کر لیا ۔ غلطی تو ایک بار کی جاتی دوسری بار بھی وہی کرنا بے وقوفی کہلاتا یا جہالت

    ہم اگر پاکستانی بن کر سوچتے اور پاکستان کی خاطر اس کے نظریے کی خاطر ووٹ کاسٹ کرتے تو شاید آج اس موڑ پہ نہ کھڑے ہوتے۔ پانامہ کیس ، شوگر ملز کیس، منی لانڈرنگ ، فارن فنڈنگ کیس غرض ان تمام نام نہاد سیاسی جماعتوں پہ کرپشن کیسیز اور بدعنوانیوں کے کیسیز چل رہے لیکن اس کے بعد بھی ہم ان کا احتساب کرنے کی بجاۓ کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ کہاں جاتا رہا پوچھنے کی بجاۓ ہم پھر بھی انکے ساتھ کھڑے ہیں محض زات اور علاقے اور برادری کی وجہ سے کیا یہ سب وطن عزیز سے منافقت اور بے وفاٸی کے زمرے میں نہیں آتا؟ کیا اس وطن کو لوٹنے والے قرض میں ڈبونے والے اور غریب عوام کے ٹیکس کا پیسہ لوٹ کر اپنی جاٸیدادیں بنانے والے کیا اس قابل ہیں کہ ہم انہیں اس وطن عزیز پہ مسلط کر دیں۔

    سیاستدان باہر رہتے باہر جاٸیدادیں بناتے علاج کے لیے اور چھٹیاں منانے کے لیے باہر جاتے اور پھر آ کر کہتے کہ ہمیں منتخب کریں جس کا سب کچھ باہر ہو وہ پاکستان کے مساٸل کو کیسے سمجھ سکتا۔ ہمیں نچلے طبقے کو اوپر لانا ہو گا  جو غریب عوام کے مساٸل کو سمجھ سکے۔ جیسے ایک مثال ہے کہ اے سی میں بیٹھا شخص کبھی بھی سورج تلے شدید گرمی میں کھڑے شخص کی تکلیف محسوس نہیں کر سکتا اسی طرح باہر رہنے والے یا اونچے اونچے محلوں میں بنگلوں میں رہنے والے حکمران کبھی بھی جھونپڑی میں رہنے والی عوام کے مساٸل نہیں سمجھ سکتے۔ ووٹ ایک قوم کے پاس اس کے وطن کی امانت ہوتی مگر ہم نے ہمیشہ اس وطن عزیز کی امنت میں خیانت کی کبھی اپنے روٹی کپڑے کے نام پہ تو کبھی فیورٹیزم کے نام پہ تو کبھی برادری کے نام پہ ووٹ ڈال کے۔ اب ہمیں خود میں شعور اجاگر کرنا ہو گا بحیثیت قوم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا ۔ پاکستان کی بقاء اور سالمیت کے لیے انہیں چننا ہو گا جو واقع ہی وطن عزیز کے ساتھ مخلص ہوں۔ ذات پات ، برادری ، فرقہ پسندی وغیرہ کی رسومات کو توڑ کر نظریہ پاکستان کی خاطر اپنے ووٹ کو ڈالنا ہو گا۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جاۓ اب ہمیں ایک دوسرے میں شعور اجاگر کرنا ہے اور ایک پاکستانی بن کر حقیقی معنوں میں فقط پاکستان کے بارے میں سوچنا ہے🌟

    @sbwords7

  • نماز کی اہمیت  تحریر مدثر خورشید

    نماز کی اہمیت تحریر مدثر خورشید

    نماز اسلام کا اہم ترین رکن ہے، نماز کو دین کا ستون بھی کہا گیا، نماز مومن اور کافر کے درمیان فرق کرتی ہے، نماز کا قرآن میں سینکڑوں جگہ اور احادیث میں تو ہزاروں بار ذکر آیا ہے،

    چند آیات اور احادیث پیش خدمت ہیں،

    جو بے دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں ، اور نماز قائم کرتے ہیں ، اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے ( اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں ) خرچ کرتے ہیں، بقرہ 3

    نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو ، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو

    بقرہ 43

    اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو ۔ نماز بھاری ضرور معلوم ہوتی ہے ، مگر ان لوگوں کو نہیں جو خشوع ( یعنی دھیان اور عاجزی ) سے پڑھتے ہیں، بقرہ 45

    اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو ، اور ( یاد رکھو کہ ) جو بھلائی کا عمل بھی تم خود اپنے فائدے کے لیے آگے بھیج دو گے اس کو اللہ کے پاس پاؤ گے ۔ بیشک جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے ۔ بقرہ 110

    اور تم جہاں سے بھی ( سفر کے لیے ) نکلو ، اپنا منہ ( نماز کے وقت ) مسجد حرام کی طرف کرو ۔ اور یقینا یہی بات حق ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے آئی ہے ۔ ( ٩٨ ) اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے ۔ بقرہ 149

    اے ایمان والو ! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو ۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے بقرہ 153

    یہ تو چند آیات تھیں اس کے علاوہ بے شمار آیات ہیں اب چند مشہور احادیث ملاحظہ فرمائیں،

    آپ نے فرمایا کہ عصر کی نماز جلدی پڑھ لو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا نیک عمل ضائع ہو گیا۔ صحیح بخاری 553

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، آدمی اور شرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز چھوڑنا ہے ، مسلم 247

    سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:  میرا یہ ارادہ ہے کہ میں جوانوں کو جلنے والی لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پیچھے چلا جاؤں اور ان سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اللہ کی قسم! اگر ان میں سے کسی کو یہ پتہ چل جائے کہ اسے نماز میں حاضر ہونے پر گوشت والی اچھی سی ہڈی یا دو کھر ملیں گے تو وہ ضرور آئے گا، اور اگر ان کو پتہ چل جائے کہ اس نماز میں کتنا اجر وثواب ہے تو یہ ضرور حاضر ہوں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے،

    مسند احمد 2468

    تمام آیات اور احادیث کو لکھنا ناممکن ہے لیکن آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنی سخت وعید ہے نماز چھوڑنے پہ لہذا ہمیں کسی بھی حالت میں نماز نہیں چھوڑنی چاہیئے، یہ سب شیطان کا بہکاوے ہیں کہ کل سے شروع کروں گا لیکن کل کل کرتے سالوں بیت جاتے ہیں،

    اگر ہم بستر سے اٹھ کر نماز کے لیئے مسجد نہیں جا سکتے تو ہم کیسے امید لگا سکتے ہیں کہ ہم مر کے سیدھے جنت میں جائیں گے؟ تمام بہن بھائیوں سے گزارش ہے کہ کل نہیں بلکہ آج اور ابھی سے نماز شروع کریں اور اس کا آسان حل مجھے یہ نظر آیا آپ بھی آزمائیں ان شاء اللہ آپ بھی نمازی بن جائیں گے میرا آزمودہ عمل ہے کہ جب بھی اذان کی آواز سنیں اسی وقت سب کام چھوڑ کر صرف وضو کر لیں، جب آپ کی یہ عادت بن جائے گی تو یقین کیجیئے نماز آسان ہو جائے گی لیکن کرنا یہ ہے کہ اذان سنتے ہی موبائل فون رکھ دیں سارے کام چھوڑ دیں اور وضو بنا لیں بس

    کیپ ٹاؤن ساوتھ افریقہ

    @Mudasir_SA 

  • محنت,کامیابی کی ضامن تحریر: ارم سنبل

    زندگی بھی گونج کے اصول پر چلتی ہے. جو آگے پہنچاتے ہیں ، وہی واپس آتا ہے۔ آپ جو کاشت کریں گے وہی کاٹیں گے۔ آپ جو سرمایہ لگاتے ہیں، وہ آپ کو ملتا ہے۔ 

    آپ دوسروں میں جو دیکھتے ہیں وہ آپ اپنی ذات میں پائیں گے۔ عام طور پر دنیا میں دو اقسام کے لوگ رہتے  ہیں۔ زیادہ تر لوگ پہلی قسم کے ہیں جو دستیاب مواقع سے فائدہ لینے کے قائل ہیں۔ ان کے پاس جو ہوتا وہ اسی کو اپنی منزل سمجھ لیتے ہیں اور یوں وہ آگے نہیں بڑھتے. 

    جبکہ دوسری قسم کے لوگ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے طویل مدت کوششوں کو جاری رکھتے ہیں۔ وہ اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لیےاور  ہر رکاوٹ کو عبور کرکے آگے بڑھنے کے لیے کافی محنت کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کامیاب لوگ اپنے خیالات اور مواقعوں کو استعمال کرتے ہیں۔

      ایسے لوگ خیالات ، امکانات اور مواقع سے بھرے ہوتے ہیں۔ ان کا کام ان پر عملدرآمد کرنا ہے۔ خیالات اور مواقع خود ہی پورا نہیں ہوسکتے۔ انہیں پورا کرنے کے کیے ایک محنتی انسان کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

    اگر آپ انہیں اپنی محنت سے طاقت دیں گے تو آپ کو نتیجہ بھی بڑا اور شاندار ملے گا۔ اپنی سوچ پر عمل کریں ، اپنی محنت سے, اپنے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق گزاریں۔ 

    بعض اوقات آپ بغیر کسی کوشش کے کامیابی حاصل کرتے ہیں ، لیکن بعض اوقات آپ مختلف وجوہات کی بنا پر ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ عقل مند یا باصلاحیت نہیں تھے۔

     اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر آپ ذہین ہوتے تو آپ کو محنت کی ضرورت نہ ہوتی۔ محنت آپ کو ذہین یا باصلاحیت بناتی ہے۔ اگرچہ ناکامی تکلیف دہ  ہوتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کم عقل ہیں۔ ناکامی کا سامنا کریں ، اس سے نمٹنیں اور سیکھنے کے بعد اسے ماضی میں چھوڑ دیں۔ 

    اگر آپ محنت کرنے کی ذہنیت کو اپنائیں گے تو آپ کامیاب ہوں گے۔ یہ صرف اپنے آپ پر یقین کرنے کی بات نہیں ہے۔ بلکہ ، یہ ان چیزوں میں بہت زیادہ کوشش کرنے کی بات ہے جو یا تو قدرتی طور پر آپ کے پاس نہیں آتی ہیں یا جن میں آپ اچھے نہیں ہیں۔ 

    لہذا اپنے آپ کو اس میں نہ الجھا کے رکھیں، کہ اس بارے میں دوسرے لوگ کیا کہتے ہیں۔ کچھ منفرد سوچیں. محنت کرنا آپ کا فرض ہے۔ آپ کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی پوری صلاحیت کا استعمال کرنا چاہیے۔ کیونکہ آپ کی زندگی میں جو کچھ بھی آپ کو ملتا ہے وہ براہ راست آپ کے ان پٹ کے مطابق ہوتا ہے۔ 

    یہ کہاوت تو سنی ہوگی کہ جتنا گڑ ڈالیں گے,اتنا میٹھا ہوگا. لہذا جتنی محنت کریں گے, اتنا کامیاب ہونگے. کیونکہ محنت کامیابی کی بنیاد ہے. سو ایک کامیاب انسان بننے کے لیے محنت کریں۔

    @Chem_786

  • زمین کانپ جاتی ہے! تحریر: کائنات فاروق

    زمین کانپ جاتی ہے! تحریر: کائنات فاروق

    گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے ڈسٹرکٹ ہرنائی میں زلزلے کے خوفناک جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے نتیجے میں پندرہ سے زائد افراد جاں بحق اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے۔ 

    دیکھا جائے تو پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں اکثر شدید یہ کم زلزلے آتے ہیں۔ زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک بھی ہے۔

    پاکستان کا دو تہائی حصہ فالٹ لائنز پر موجود ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صرف بالائی سندھ اور وسطی پنجاب کے علاقے فالٹ لائن پر موجود نہیں، اسی لیے یہ علاقے زلزلے کے خطرے سے محفوظ تصور کیے جاتے ہیں البتہ ان علاقوں کے علاوہ تمام علاقے کسی نہ کسی طرح فالٹ لائن پر موجود ہیں۔

    اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم اور چکوال جیسے بڑے شہروں کا شمار زون تھری میں ہوتا ہے، جبکہ کوئٹہ، چمن، لورالائی اور مستونگ کے شہر زیر زمین انڈین پلیٹ کے مغربی کنارے پر واقع ہیں، اس لیے یہ بھی ہائی رسک زون یہ زون فور کہلاتا ہے۔

    ساحلی علاقوں کی بات کریں تو کراچی سمیت سندھ کے بعض ساحلی علاقے خطرناک فالٹ لائن زون کی پٹی پر موجود ہیں۔ یہ ساحلی علاقہ تین پلیٹس کے جنکشن پر واقع ہے جس سے زلزلے اور سونامی کا خطرہ موجود ہے۔

    زلزلوں کا آنا ان ہی علاقوں میں زیادہ ریکارڈ کیا گیا جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔

    پاکستان کے تمام شہر کراچی سے لےکر اسلام آباد تک زلزلے سے محفوظ نہیں، البتہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کو حساس ترین شمار کیا جاتا ہے۔

    اب بات کرتے ہیں دنیا کے مختلف مذاہب کے زلزلے سے متعلق منفرد اور دلچسپ عقائد اور روایات کی۔

    مثلاً بعض اقوام سمجھتی تھیں کہ مافوق الفطرت قوت رکھنے والے درندے زمین کے اندر رہتے ہیں اور وہی زلزلے پیدا کیا کرتے ہیں۔ قدیم جاپانیوں کا عقیدہ تھا کہ ایک طویل القامت چھپکلی زمین کو اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے ہے اور اس کے ہلنے سے زلزلے آتے ہیں۔ اس سے کچھ ملتا جلتا عقیدہ ریڈ انڈینز کا بھی تھا کہ زمین ایک بھی بڑے کچھوے کی پیٹ پر ٹکی ہے اور اس کے حرکت کرنے سے زلزلے آتے ہیں۔ ہندوئوں کا عقیدہ ہے کہ زمین ایک گائے کے سینگوں پر رکھی ہوئی ہے، جب وہ سینگ تبدیل کرتی ہے تو زلزلے آتے ہیں۔ جب کہ عیسائیوں کا خیال تھا کہ زلزلے خدا کے باغی اور گنہگار انسانوں کے لیے اجتماعی سزا ہوتی ہے۔

    مذاہب کے عقائد سے ہٹ کر اگر فلسفیوں کی بات کریں تو قدیم یونانی فلسفی اور ریاضی داں فیثا غورث کا خیال تھا کہ جب زمین کے اندر مُردے آپس میں لڑتے ہیں تو زلزلے آتے ہیں۔ اس کے برعکس ارسطو کا خیال کچھ منطقی تھا، اس کا کہنا ہے کہ جب زمین کے اندر گرم ہوا باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے تو زلزلے پیدا ہوتے ہیں۔ افلاطون کا نظریہ بھی کچھ اسی قسم کا تھا کہ زیرِ زمین تیز و تند ہوائیں زلزلوں کو جنم دیتی ہیں۔ تقریباً 70 سال پہلے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ زمین ٹھنڈی ہورہی ہے اور اس عمل کے نتیجے میں اس کا غلاف کہیں کہیں چٹخ جاتا ہے، جس سے زلزلے آتے ہیں۔ کچھ دوسرے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ زمین کے اندرونی حصّے میں آگ کا جہنم دہک رہا ہے اور اس بے پناہ حرارت کی وجہ سے زمین غبارے کی طرح پھیلتی ہے۔ لیکن آج کا سب سے مقبول نظریہ”پلیٹ ٹیکٹونکس”کا ہے جس کی معقولیت کو دنیا بھر کے جیولوجی اور سیسمولوجی کے ماہرین نے تسلیم کرلیا ہے۔

    ہم نے اب تک زلزلوں سے متعلق سائنسی، فلسفی، اور دنیا کے مختلف عقائد کا جائزہ لیا ہے، اب بات کرتے ہیں پاکستان کے سرکاری مہذب اسلام کی۔ مختصر جائزہ لیتے ہیں کہ زلزلے سے متعلق قرآن کریم کیا کہتا ہے۔

    قرآن کریم میں قوم شعیب پر عذاب آنے کا تذکرہ ہے اور اُس کی وجہ قرآن نے ناپ تول میں کمی بیشی بتائی ہے کہ ان کی عادت بن گئی تھی کہ لینے کا وقت آتا تو زیادہ لیتے اور دینے کا وقت آتا تو کمی کردیتے تھے، مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ ناپ تول میں کمی صرف محسوسات میں نہیں ہوتی ہے؛ بلکہ معنوی چیزوں میں بھی ہوسکتی ہے مثلا لوگوں کے حقوق کی پامالی، ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ میں اپنا پورا حق سمیٹ لوں اور جب دینے کا وقت آئے تو مجھے پورا نہ دینا پڑے۔ اگر قوم شعیب پر ناپ تول میں کمی کی وجہ سے عذاب اور زلزلہ آسکتا ہے تو آج حقوق اللہاور حقوق العباد میں کمی بیشی کی وجہ سے زلزلہ آگیا تو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔فَأَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُواْ فِیْ دَارِہِمْ جَاثِمِیْن(الاعراف:۹۱)اسی طرح حضرت موسی کی قوم پر عذاب آیا، حیلے حوالے اور کٹ حجتی کی وجہ سے فَلَمَّا أخذتہم الرجفةُ (پس جب ان کو زلزلے نے آدبوچا اللہ نے ان کو وہیں ہلاک کردیا) (الاعراف:۱۵۵)قارون جو مالداری میں ضرب المثل تھا۔ جب اُس سے کہا گیا کہ ان خزانوں پر ا للہ کا شکر ادا کرو تو کہنے لگا، یہ سب میرے زورِ بازو کا کرشمہ ہے؛ چناں چہ اللہ نے اسے اِس ناشکری کی وجہ سے خزانہ سمیت زمین میں دھنسا دیا۔فَخَسَفْنَا بِہِ وَبِدَارِہِ الْأَرْض (القصص: ۸۱)آج اپنے معاشرے کا جائزہ لیجیے کتنے شرعی احکام میں قیل وقال کرنے والے ملیں گے اور کتنے ہی ایسے ملیں گے جن کے احساسات وجذبات قارون کی طرح ہیں۔

    یہاں سنن ترمذی کیایک حدیث نقل کی جارہی ہے جس سے زلزلہ کے اسباب کا سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (جب مندرجہ ذیل باتیں دنیا میں پائی جانے لگیں) تو اس زمانہ میں سرخ آندھیوں اور زلزلوں کا انتظار کرو، زمین میں دھنس جانے اور صورتیں مسخ ہوجانے اور آسمان سے پتھر برسنے کے بھی منتظر رہو اور ان عذابوں کے ساتھ دوسری ان نشانیوں کا بھی انتظار کرو جو پے در پے اس طرح ظاہر ہوں گی۔ جیسے کسی لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور لگاتار اس کے دانے گرنے لگیں (وہ باتیں یہ ہیں )۱- جب مالِ غنیمت کو گھر کی دولت سمجھا جانے لگے۔ ۲- امانت دبالی جائے۔۳- زکاة کو تاوان اور بوجھ سمجھا جانے لگے۔۴- علم دین دنیا کے لیے حاصل کیا جائے۔۵- انسان اپنی بیوی کی اطاعت کرے اور ماں کی نافرمانی کرے۔۶-دوست کو قریب کرے اور اپنے باپ کو دور کرے۔ ۷- مسجدوں میں شور وغل ہونے لگے۔۸- قوم کی قیادت، فاسق وفاجر کرنے لگیں۔ ۹- انسان کی عزت اِس لیے کی جائے؛ تاکہ وہ شرارت نہ کرے۔۱۰-گانے بجانے کے سامان کی کثرت ہوجائے۔۱۱- شباب وشراب کی مستیاں لوٹی جانے لگیں۔۱۲-بعد میں پیدا ہونے والے،امت کے پچھلے لوگوں پر لعنت کرنے لگیں۔ (سنن الترمذی، رقم: ۲۱۱، ما جاء فی علامة حلول المسخ)انصاف کے ساتھ موجودہ ماحول کا جائزہ لیجیے، مذکورہ باتوں میں سے کون سی بات ہے، جو اب تک نہیں پائی گئی ہے، مذکورہ ساری پیشین گوئیاں حرف بہ حرف پوری ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہی تمام وجوہات ہوں جن کی وجہ سے "زمین کانپ جاتی ہے، لیکن ہمارے ضمیر نہیں کانپتے”.

    @KainatFarooq_

  • زلزلہ اور  دو آنکھیں  تحریر:یاسرشہزاد مانسہرہ۔

    زلزلہ اور  دو آنکھیں تحریر:یاسرشہزاد مانسہرہ۔

    اپنے دوست رجب علی سے آج بالاکوٹ 2005 زلزلہ کی سولہویں برسی کی کوریج کے موقع پر ایک نشست ہوئی۔جس میں کافی باتیں ہوئی اور کچھ جب اُن سے یہ حال پوچھا کیا قیامت گزری تو جب رجب نے ہمیں بتایا تو قسم سے ہم پر اُس کی کہانی اُس کی زبانی سن کر قیامت گزری۔رجب علی نے کہا کہ

    آٹھ اکتوبر وہ دن جب میرے بڑے بھائی ،بہن اور والدہ ہمیں روتا بلکتا چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے

    اس دن زلزلہ بالاکوٹ میں نہیں،،شاید میری شخصیت پہ آیا تھا جسکا ملبہ آج بھی میری روح پہ پڑا ہے

    وہ دن جب سکول کو نکلنے لگا حسب عادت وہ دروازے میں کھڑی مجھے روانہ ہوتے دیکھتی رہیں۔۔میں نے کئی بار پیچھے مڑ کے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہ جانے کتنی دیر ۔۔۔

    ۔۔انکی آنکھوں کی مقناطیسیت اس دن میرے قدم بوجھل کر رہی تھی۔۔ پھر پردہ ہلا اور وہ کالے سیاہ پردے کے پیچھے چلی گئیں

     ۔۔میں جب سکول سے واپس آیا تو ہمیشہ  کیطرح،، بلا کی پردہ دار ،وہ پھر بھی پردے میں ہی تھیں پر اس دفعہ پردے کا رنگ "سفید "تھا۔۔۔۔سر سے پائوں تک۔۔۔جیسے فرشتوں کی نظر بھی پڑنے سے کترا رہی ہوں

    ۔اتنی پردے کی شوقین کے اس سفید پردے پر بھی قرار نہیں آیا اور ایک اور خاکی رنگ پردے کو پہنا اور اچانک سے  بالکل ہی اوجھل ہو گئیں۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔میں آج بھی اپنی والدہ کی قبر پہ کھڑا ہو کے انکی” پردہ داری” کا گلہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔

    پر وہ گلی میں جھانکتی آنکھیں آج بھی میرا پیچھا کرتی ہیں ۔میں چاہ کر بھی غلط کاری میں غرق نہ ہو سکا میں چاہ کر بھی ایک خاص حد سے آگے نہ جا سکا ،بس وہ دو چمکتی آنکھیں ہمیشہ مجھ پہ نظر رکھے ہوئے ہیں،مجھے ڈانٹی ہیں،مجھے بہلاتی ہیں ،،روٹھو تو منا بھی لیتی ہیں

    ذرا بھی منزل سے بھٹکتا ہوں میری والدہ کی وہ چُبتی نظریں میرا راستہ روک لیتی ہیں

    وہ میری راہبر بھی ہیں میری پیمبر بھی

    میری سب سے بڑی بدقسمتی میرا "اچھا حافظہ ” ہے جو میرا سب سے بڑا دشمن ہے  مجھے وہ تلخ ترین یادیں بھولنے نہیں دیتا،امی اور بابا جانی کی کہی ہوئی ایک ایک بات مجھے آج بھی لفظ بہ لفظ یاد ہے

    دو رمضان عشاء کے بعد جب بھائیوں نے میرے برے ٹیسٹ کا بتایا تو  مجھے نمناک آنکھوں سے دیکھتی چلی گئیں۔۔عجیب تھیں وہ ڈانٹا ،،نہیں مارا نہیں۔۔۔بس مجھ سے منہ ہی پھیر لیا۔۔۔۔۔پھر رات نہ جانے کتنی دیر میں انکے پائوں سے لگا روتا رہا۔۔۔میرے آنسوئوں کی پائوں پہ دستک سے بیدار ہوئیں مجھے ایسے گلے لگایا جیسے مجھے روح میں اتار دیں گی۔۔۔۔امی جی مان جائیں نہ ۔۔۔۔۔وہ ایک ننھا وجود بلبلایا تھا۔آپ کیسے خوش ہونگی مجھے بتائیں دنیا آپکے قدموں میں لا رکھوںگا

    خوش۔۔۔۔۔مجھے اصل خوشی تب ہو گی جب تم "بڑے آدمی بن جائو گے”۔۔۔۔۔۔میں سر ہلاتا انکے پائوں چومتا باہر نکل آیا تھا

    بڑا آدمی؟؟؟؟ مجھے تو آج تک اسکی تعریف کا بھی علم نہیں ہو سکا  کہ یہ "بڑا آدمی” ہوتا کیا ؟ بننا تو دور کی بات ہے

     آج تک اپنی امی سے کیا وعدہ نبھانے کی کوشش میں ہوں،،،مگر میری نالائقی میری خامیاں میرے رستے کی سب سے بڑی دیوار ہیں۔

    وہ آنکھیں مجھے راہ دکھاتی ہیں میں منزل سمجھ کر پاگل دیوانوں کیطرح ادھر دوڑ پڑتا ہوں ننگے پیروں سے انگاروں بھرے اس راستے پہ چلتا ہوں اور جب منزل مجھے حاصل ہوجاتی  ہے وہ آنکھیں پھر ایک نئی منزل کا کا راہ دکھا دیتی ہیں۔۔۔رمضان المبارک کے مہینہ ہے سب بھائی دعا ضرور کیجیئے گا”  کہ مرنے سے پہلے یہ نالائق،یہ سرپھرا شخص اپنی امی سے کیا وعدہ ضرور نبھائے،،،اور ،کردار کا بہت چھوٹا یہ شخص "بڑا آدمی ” ہو جائے

    ورنہ وہ دو آنکھیں مجھے شاید قبر میں بھی چین سے سونے نہ دیں

    اے شوق سفر اتنا ،مدت سے یاسر ہم نے

    منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا۔

    https://twitter.com/YST_007?s=09

  • انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ  حصہ دوم۔

    انتہائی پسماندہ سے ترقی پذیر کا سفر: عمران افضل راجہ حصہ دوم۔

    ویت نام ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔ یہ اقتصادی ترقی میں چین کا حریف
    ثابت ہوا۔ اس کی برآمدات اس کے جی ڈیپی کی کل قیمت کے برابر ہیں۔ نائکی اسپورٹس
     ویئر سے لے کر سام سنگ اسمارٹ فون تک کوئی بھی چیز اس آسیان قوم میں تیار کی
    جاتی ہے۔

    جاپانی اور کورین الیکٹرونکس کمپنیاں جیسے سام سنگ ، ایل جی ، اولمپس، پاینیر
    اور ان گنت یورپی اور امریکی ملبوسات بنانے والوںنے یہاں اپنی مارکیٹ بنائی۔
    فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں ویت نام خطے میں کپڑوں کا سب سے بڑا
    اور الیکٹرانکسکا دوسرا بڑا برآمد کنندہ تھا۔ چوتھا صنعتی انقلاب جنوب مشرقی
    ایشیا کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ 2010 کے بعد سے ، ویتنام کی جی ڈی پی نمو
    ہر سال کم از کم 5 فیصد رہی ہے ، اور 2017 میں یہ 6.8 فیصد پر پہنچ گئی۔ اور یہ
     غریب ترین ممالک سے ایکدرمیانی آمدنی والے ملک کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ جبکہ
     1985 میں اس کی فی کس جی ڈی پی بمشکل $ 230 تھی ، یہ 2017 میں ($ 2،343) سے دس
     گنا زیادہ تھی۔

    ترقی کے عمل کو زیادہ جامع اور پائیدار بنانے میں  خواتین نے بھی بہترین
    کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔  ویتنام میں ابتداء سے ہی خواتینکے کام کرنے کی حوصلہ
    افزائی کی گئی اور ان کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا گیا۔ ترقی یافتہ قوموں کی
    تاریخ نکال کر دیکھیں تو یہ باتواضح ہوتی ہے کہ جب خواتین مردوں کے شانہ بشانہ
    کام کرتی ہیں تو ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں۔ چین اور جاپانکے
    بعد ویت نام اس کی نمایاں مثال ہے۔

    ابتداء میں توجہ کا مرکز زیادہ تر تعلیم تھی۔ لیکن 1992 میں صحت کے شعبے پر بھی
     توجہ دی گئی۔ ہیلتھ انشورنس کا نظام متعارف کرایاگیا۔ ابتداء میں ملازمین اور
    ورکرز کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کی گئی۔  ویت نام کی 73 فیصد آبادی کو
    صحت کی ضروریسہولیات تک رسائی حاصل ہے۔ 2017 میں ہیلتھ انشورنس کوریج 86.4 فیصد
     تھی۔صاف پانی تک رسائی حاصل کرنے والےگھرانوں کی تعداد 78.1 فیصد ہے جس میں ہر
     سال اضافہ ہو رہا ہے۔

    پچھلے 30 سالوں میں ویت نام ، ایک غریب ، جنگ زدہ ملک سے، دنیا کی ایک تیزی سے
    متحرک معیشت کے ساتھ ایک نئے صنعتی”شیر” میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔

    ملک کی مسلسل معاشی ترقی مختلف عوامل پر منحصر ہے ، بشمول بیرونی براہ راست
    سرمایہ کاری، سیاسی استحکام ، بنیادی ڈھانچے کیترقی ، اور بدعنوانی سے پاک
    ریگولیٹری نظام۔ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی کو بڑھانا حکومت کے
    بنیادی مقاصد ہیں۔

    ویت نام کا غربت سے نکلنا اور اس کی معاشی ترقی امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات کو
     پگھلانے اور اس کے نتیجے میں تجارتی اورسرمایہ کاری کے روابط کو بہتر بنانے کے
     لیے ایک اچھا سودا ہے۔ امریکہ ویت نام کا چین کے بعد دوسرا بڑا تجارتی شراکت
    دار ہے۔

    ویت نام نے طویل تھکا دینے والی جنگ کے بعد ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے
    جو کوششیں کیں وہ بین الاقوامی رینکنگ میںنظر انداز نہیں ہوئیں۔ ورلڈ اکنامک
    فورم کی عالمی مسابقتی رپورٹ میں ، ویت نام 2006 میں 77 ویں نمبر سے بڑھ کر
     2017 میں 55 ویں نمبر پر آگیا۔ اس دوران ویت نام نے معاہدوں کو نافذ کرنے ،
    کریڈٹ اور بجلی تک رسائی بڑھانے ، ٹیکس ادا کرنے اورسرحدپار تجارت کرنے سے لے
    کر ہر چیز میں پیش رفت کی۔ آخر میں ، ویت نام نے اپنی افرادی قوت کو بڑھانے اور
     بنیادی ڈھانچےمیں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی۔

    ویت نام کا معاشی مستقبل روشن نظر آرہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ویت نام آنے
    والی دہائیوں میں تیزی سے ترقی کرتا رہے گااور 2050 تک دنیا کی 20 ویں بڑی
    معیشت بن جائے گا۔

    ویتنام نے جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد نا مساعد حالات میں دنیا میں اپنا مقام
    بنانے کے لیے جو جدوجہد کی ہے وہ ان تمام ممالککے ایک مثال ہے جو بہتر حالات
    میسر آنے کے باوجود ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔ تعلیم تک سب کی رسائی، غریب
    اور وہ لوگجو سکول نہیں جا سکتے ان کو تعلیم دینا، تعلیمی نظام کو جدید ضروریات
     سے ہم آہنگ کرنا ویتنام کے Doi Moi ماڈل کی اولین ترجیحتھی۔ اس کے بعد بجلی کی
     پیداوار اور صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ان کی ترجیحات میں شامل تھی۔
    ترقی پذیر ممالک کو اناصولوں کو سامنے رکھ کر اپنی ترجیحات طے کرنی چاہئیں۔
    پہلے نمبر پر تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہے۔ جو کامیاب
    شہری بن کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اس کے بعد ملکی پیداوار میں
    اضافے کے لیے توانائی کی بلاتعطل فراہمی بہتضروری ہے۔ مہنگائی پر قابو پانا اور
     مزدوروں کو ان کی محنت کے مطابق اجرت دی جائے تو شہری دلجمعی کے ساتھ ملکی
    ترقی میںاپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر بنیادی ضروریات بھی پوری نہ ہو
    رہی ہوں تو ترقی اور پیداوار کا عمل سست روی کا شکار ہو جاتاہے۔ عام طور پر
    دیکھا گیا ہے کہ حکومتیں ذاتی مفادات، جھگڑوں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے
    میں وقت گذار دیتی ہیں۔ اورملکی مفادات کہیں پس پشت رکھ دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ
    ہے کہ جن ممالک میں سیاسی عدم استحکام ہو، تعلیمی نظام فرسودہ ہو اورصنعتی شعبے
     پر توجہ نہ دی جائے تو وہ ملک کبھی بھی ترقی اور خود انحصاری کی راہ پر گامزن
    نہیں ہوتے۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • سیاسی منظرنامہ;  تحریر فرازرؤف

    سیاسی منظرنامہ;  تحریر فرازرؤف

    پاکستان میں سیاسی منظر نامہ جاننے کے لیے ہوا کے رخ کو سمجھنا ایک حکمت ہے۔ کچھ لوگ اس ہوا کو اسٹیبلشمنٹ کا نام دیتے ہیں اور کچھ مبصرین سمجھتے ہیں کہ پرندے جس طرف اڑنا شروع کر دیں تو سمجھ جائیں کہ ہوا کا رخ بھی اسی طرف ہے۔

    اگر ہم مختلف ادوار کے الیکشنوں کا پوسٹ مارٹم کریں تو ہمیں آسانی سے پتہ چل سکتا ہے کے وہ کیا عوامل ہیں کہ الیکشن آنے سے پہلے کچھ پرندے پھڑ پھڑانے لگتے ہیں۔ ان پرندوں کو کیسے معلوم ہو جاتا ہے کے آنے والے الیکشن میں ہوا کا رخ کس طرف ہوگا۔ آسان لفظوں میں ان پرندوں کو الیکٹیبلز بھی کہا جاتا ہے جو الیکشن لڑنے کی سائنس کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور نسل در نسل ان حلقوں سے مسلسل جیتے آ رہے ہیں۔

    یہ الیکٹیبلز جیت کی ضمانت ہوتے ہیں جو اپنے حلقے میں ہر ممکن اعتبار سے الیکشن جیتنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے ہر پارٹی نے ٹکٹ دیتے ہوئے الیکٹیبلز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ جس پارٹی میں شمولیت اختیار کریں سمجھ جائیں کہ آنے والے الیکشن میں وہی پارٹی حکومت بنائے گی۔ الیکٹیبلز کا یہ دھندہ اس ملک کے لیے ناسور بن چکا ہے۔

    یہ الیکٹیبلز سسٹم کے ساتھ ایسے جڑے ہوتے ہیں جیسے مکھیاں اپنے چھتے کے ساتھ، اور یہ اسے مضبوط سے مضبوط تر بناتے جاتے ہیں تاکہ کوئی بھی آنے والا اس سٹیٹس کو کو بدل نہ سکے اور وہ آسانی سے کرپشن کے اس دھندے کو جاری رکھ سکیں جو وہ پچھلی حکومتوں میں کرتے آئے۔

    تحریک انصاف کی حکومت 2018 کے الیکشن میں سب سے زیادہ سیٹیں لینے والی جماعت بن کر ابھری الیکشن ہونے سے پہلے تحریک انصاف نے بھی وہی غلطی کی جو پچھلی حکومتوں یا حکمرانوں نے کی، انہیں سٹیٹس کو کے حامیوں کو پارٹی ٹکٹ دیا جنہیں ہم الیکٹیبلز کہتے ہیں، جو لیکشن جیتنے کی پوری صلاحیت رکھتے تھے یہ انہیں حلقوں سے نسل در نسل الیکشن جیت رہے ہیں اور یہ با آسانی سے ہر الیکشن کو منو پلیٹ کرکے جیت جاتے ہیں. الیکشن 2018 کا رزلٹ بھی کچھ اسی طرح کا تھا جس کی توقع کی جارہی تھی۔

    آپ تھوڑی نظر الیکشن سے پہلے کے ماحول پر ڈال لیتے ہیں، اگر آپ کو یاد ہو الیکشن 2018 سے پہلے ہوا کا رخ بدل گیا بہت سارے الیکٹیبلز مسلم لیگ نون کو چھوڑ کرتحریک انصاف میں شامل ہونا شروع ہوگئے توقع کی جا رہی تھی کہ تحریک انصاف ان الیکٹیبلز کے بل بوتے پر ان الیکشن میں مجارٹی سیٹیں لے جائے گی اور ملک میں پہلی بار حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی اور ایسا ہی ہوا۔

    تحریک انصاف الیکشن تو جیت گئی لیکن ہوا وہی جس کا ڈر تھا ان الیکٹیبلز کے بل بوتے پر آپ الیکشن تو جیت سکتے ہیں لیکن ملک میں حقیقی تبدیلی نہیں لا سکتے کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جو اسٹیٹس کو کو چمٹے رہتے ہیں۔ آج بھی ملک میں وہی تھانہ کچہری کی سیاست چل رہی ہے اپنی مرضی کے ایس ایچ او ڈی پی او لگوائے جاتے ہیں تاکہ حلقے کو اپنی گرفت میں رکھ سکیں۔ 

    الیکشن میں آنے سے پہلے تحریک انصاف کے منشور میں اصلاحات پر بہت زور دیا گیا; اس میں بیروکریسی اور پولیس ریفامز سرفہرست تھے۔

    تحریک انصاف کی حکومت کو سوا تین سال ہونے کو ہیں ابھی تک اداروں میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں کی جاسکی جن اداروں میں اصلاحات کی گئی ہیں وہاں یا تو امپلیمنٹیشن کا مسئلہ چل رہا ہے یا پھر ان اداروں میں بیٹھے بابو صاحبان ان ریفارمز میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ابھی حال ہی میں تحریک انصاف کی حکومت نے صاف شفاف الیکشن کروانے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ کا منصوبہ بنایا جس کو الیکشن کمیشن سمیت اسٹیٹس کو کی تمام جماعتوں نے مشترکہ طور پر ریجکٹ کردیا ہے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ اگر صاف شفاف الیکشن ہو گئے تو ان تمام الیکٹیبلز کی دکانیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں گی۔ 

    دوسری ایک بڑی وجہ ان الیکٹیبلز کے حلقے کی عوام آج بھی پسماندہ ہے نا سکول ہیں نہ ہسپتال اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، اگر ان حلقوں میں آزاد شفاف الیکشن ہو جائیں تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں یہ تمام الیکٹیبلز انہی حلقوں سے بری طرح ہار جائیں گے۔ معروف سیاسی رہنما اور مایاناز وکیل جناب اعتزاز احسن نے ایک ٹی وی پروگرام میں انشکاف کیا تھا کے ہر حلقے میں بیس سے تیس ہزار ایسے جیلی ووٹ موجود ہیں جسے یہ الیکٹیبلز استعمال کرکے ہر دفعہ الیکشن جیت جاتے ہیں۔

    حالیہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے تمام جماعتوں سے زیادہ سیٹیں لی اور الیکشن 2021 جیت کے آزاد کشمیر میں حکومت بنا لی۔ اگر آپ ایک گہری نظر ان تمام اسمبلی ممبران پر ڈالیں تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ تمام ممبران اس سے پہلے پچھلی جماعتوں میں موجود تھے یا پھر پچھلی حکومت کا حصہ تھے۔

    الیکٹیبلز کی اس گندی سیاست کو ختم کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو آگے بڑھ کر تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ ایک جامع مذاکرات کرنے ہوں گے تاکہ آئندہ آنے والے الیکشن میں صاف شفاف الیکشن ہو سکیں اور اسمبلی میں اصل عوامی نمائندے پہنچیں جو عوام کی مشکلات کا ازالہ کر سکیں انہیں وہ سہولیات دے سکیں جس کے وہ حقدار ہیں اور آئین پاکستان میں درج ہے۔

    Author: Faraz Rauf 

    Twitter ID: @farazrajpootpti

    Facebook Page: @farazrajpootpti

    Website: www.farazrauf.com

  • عفو و درگذر  تحریر   محمد آصف شفیق

    عفو و درگذر تحریر   محمد آصف شفیق

    عفوودرگزر اللہ رب العالمین کی پسندیدہ بندوں کی صفتوں میں  سے ایک صفت  ہے ,اللہ رب العالمین قرآن کریم میں  فرماتے ہیں

    وَ مَنْ اَحْسَنُ  قَوْلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ  اِلَی اللہِ وَ عَمِلَ  صَالِحًا وَّ قَالَ  اِنَّنِیۡ مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ ﴿۳۳﴾   وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ  وَلَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدْفَعْ  بِالَّتِیۡ  ہِیَ  اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَبَیۡنَہٗ  عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ  وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴﴾   وَمَا یُلَقّٰہَاۤ  اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا ۚ وَمَا یُلَقّٰہَاۤ  اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِیۡمٍ ﴿۳۵﴾ وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ ؕ اِنَّہٗ  ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۳۶﴾      حٰم اسجدہ(34۔36)

    نیکی اور بدی  یکساں نہیں ہیں۔  تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو، تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ تمہارا جگری دوست بن گیاہے۔   یہ صفت نصیب نہیں ہوتی  مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں ، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بٹرے نصیبے والے  ہیں۔   اور اگر تمہیں شیطان کی جانب سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ بےشک وہ سنتا  اورجانتا ہے .   

     

    پر امن زندگی ہر معاشرہ کی اولین ضرورت ہے، اس کے لئےقانون بنائے جاتے ہیں، پھر ان قوانین کے نفاذ کے لئے محکمے بنائے جاتے ہیں، لیکن آج کےجدید اور اپنے آپ کو مہذب کہلانے والے معاشروں میں قانون تو نظر آتا ہے لیکن سکون نظر نہیں آتا۔ اس سکون کی تلاش میں افراد  ادویات اور اس سے بڑھ کر منشیات کے عادی بن جاتے ہیں،دنیا کے اجمالی حالات پر نظر ڈالیں تو  یہ دنیا  ایک مہذب دنیا کا نہیں بلکہ ایک جنگل کا  نقشہ نظر آیا جس میں طاقت کےزور پر کمزور کو اپنا غلام بنانے، ان کے وسائل پر قبضہ کرنے، ان کو انتشار کا شکار کرنے کی منصوبہ بندی ایسے خوبصورت طریقہ سے کی جا رہی ہے کہ ان ممالک میں بسنے والے انسانوں کو سمجھ میں نہیں ہوتا کہ ان کے ملک میں کیا ڈراما ہو رہا ہے۔ اس سب کے منفی اثرات عام لوگوں کی زندگیوں پر  پڑ رہے ہیں،  انسان اپنی بنیادی ضرورت ” امن ” سے محروم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس انسانی اخلاق کی ترقی کے سارے ادارے ٹوٹ چھوٹ کاشکار ہو رہے ہیں۔ ان اداروں کو بچانے اور اس امن کے حصول کے لئے ہمیں  دین کی تعلیمات کی طرف رجوح کرنا ہوگا۔  تاکہ ہم اپنے اندر وہ اخلاق پروان چڑھا سکیں جو اس دنیا کو رہنے کے قابل بن سکے۔

    موجودہ  تہذیب نے ہمارے اوقات پر قبضہ کر لیا ہے۔  ملٹی میڈیا  کی شکل میں آج انسانی اوقات کا بڑا حصہ  ٹی وی کے سامنے بیٹھے گذر جاتا ہے۔ یا وہ افراد جن کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے وہ  بڑےاوقات ونڈو بروزنگ میں گذار دیتے ہیں۔ دینِی علوم کا حصول کہیں بھی ترجہح اول  نہیں  ۔  اس طرح اصل علم  پر ایمان رکھنے کے باوجود اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    قرآن پاک اورنبی رحمتﷺ کی تعلیمات کو سامنے رکھتے ہوئے آج اس سکون کو حاصل کرنے کے طریقوں پر غور کریں گے۔ 

    عفو کے معنی  اللہ کی خوشنودی کی خاطر، انتقام لینے کی قدرت کے باوجود، درگذر سے کام لیناہے۔ اس کو حاصل کرنے کے لئے  جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ "صبر” ہے۔

    حضرت ابوہریرۃؓنے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا۔

    میرے رب نے مجھے نو باتوں کا حکم دیا ہے ،کھلے اور چھپے ہر حال میں اللہ سے ڈرتا رہوں،کسی سے خوش ہوں یا کسی سے غصہ میں دونوں حالتوں میں انصاف کی بات کہوں،خواہ تنگ دستی ہو یا خوش حالی دونوں حالتوں میں راستی اور اعتدال پر قائم رہوں، اور مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں،جو مجھے محروم کرے میں اسے دوں،

    اور جو مجھ پر زیادتی کرے میں اسے معاف کر دوں،اور یہ کہ میری خاموشی غور و فکر کی خاموشی ہو،

    اور میری گفتگو ذکر الہٰی کی گفتگو ہو،اور میری نگاہ عبرت کی نگاہ ہو۔اس کے بعد نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں نیکی کا حکم دوں اور برائی سے روکوں  (مشکواۃ شریف)

     

    اگر کوئی اہم پیغام جس کو  ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہوتی تو اس کو  اُس جگہ لکھ لیا جاتا ہے جو ہمیشہ سامنے رہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ نبی اکرمﷺ کی تلوار پر یہ کلمات لکھے ہوئے تھے:

    جو ظلم کرے تو اسے معاف کر دے،جو تجھ سے رشتہ توڑتے تُو اُسے جوڑ دے،جو تجھ سے بدی کرئے تُو اُس سے نیکی کر،ہمیشہ  سچی بات کہہ  خواہ  تیرے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو

    ایک دوسری حدیث میں  جس کی راوی  حضرت ابوذرغفاری ہیں، نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا    

    تو جہاں کہیں بھی ہو خدا سے خوف کر، بدی کے بدلے نیکی اور احسان کر، کیونکہ نیکی برائی کو مٹا دیتی ہے،  لوگوں سے نیک سلوک کر اور اُن سے حن اخلاق سے پیش آ۔

    قرآن مجید میں معاف کر دینے، برائی کو نیکی سے تبدیل کرنے اور صبر کرنے کے سلسلہ میں بہت سی آیات آئی ہیں، جن میں سے چند ایک کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ  مِّنۡ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ۙ  الَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالْکٰظِمِیۡنَ الْغَیۡظَ وَالْعَافِیۡنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۱۳۴﴾ۚ   آل عمران (133۔134  )

    دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ ان خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے۔   جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں، خواہ بدحال ہوں یا خوشحال،  اور جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔  اور اللہ ایسےہی  نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

     

    اللہ نے جن لوگوں کو اپنا بندہ کہا ہے، سورۃ فرقان میں ان کی پہلی نشان یہ بیان فرمائی ہے۔

    وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَاماً Oالفرقان ۶۳

    رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں، اور جاہل منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں تم کو سلام۔      

     

    وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ           شوریٰ (42۔43)

    اور جو صبر کرے اور قصور معاف کردے تو یہ ہمت کے کام ہیں

     

    وَلَا يَأْتَلِ أُوْلُوا الْفَضْلِ مِنكُمْ وَالسَّعَةِ أَن يُؤْتُوا أُوْلِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ        نور(22۔23)

    اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے۔ ان کو چاہیئے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تم کو بخش دے؟ اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے

    خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ  وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ O

    اے نبیﷺ!  نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرؤ ،  اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو  اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے، تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو ،  وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اعراف(199۔200)

    قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَآ أَذًى وَاللّهُ غَنِيٌّ حَلِيم۲۔۲۶۳ٌ بقرہ

    جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بے ادبی سے) درگزر کرنا بہتر ہے اور اللہ بےپروا اور بردبار ہے

    وَجَزَاء سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ

    اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور (معاملے کو) درست کردے تو اس کا بدلہ اللہ کے ذمے ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ،   شوری(۴۲،۴۰)

    حضرت یوسف کا بھائیوں کو معاف کر دینا اور  نبی اکرمﷺ کا  فتح مکہ کے دن عام معافی کا اعلان کرنا عفو درگزر کی عظیم مثالیں ہیں  جسکا ذکر قرآن کریم میں   اس طرح آیا ہے کہ 

    قَالَ لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ        سورۃ یوسف (٩٢)

    کہا کہ آج کے دن سے تم پر  کوئی گرفت نہیں ہے۔  اللہ تم کو معاف کرے۔ اور وہ بہت رحم فرمانے والا ہے

    عفو و درگزرکے ثمرات

    ماحول پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، اخلاقی طو رپر ذمہ داران کو برتری مل جاتی ہے، ایک اچھی مثال قائم ہوتی ہے،مستقبل میں مسائل کو حل کرنے میں معاونت ملتی ہے۔دوسرے کے اخلاقی بنک میں ایک بہت بڑا DEPOSITEداخل کیا جا سکتا ہے۔

    عفو و درگزرکے راہ میں رکاوٹیں

    غصہ:  مندرجہ ذیل اسباب غصہ کا سبب بنتے ہیں:

    غرور و تکبر,مذاق  اڑانا، مسخرہ پن عیب جوئی، طعنہ ذنی، ملامت ,اقتدار، مال و دولت اور شان و شوکت  کی حرص  وغیرہ

    عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ مغرور اور متکبر لوگ بہت جلد غصہ میں آجاتے ہیں، کیونکہ ان کے ذہین میں ان کا  اپنامقام بہت بلند ہوتا ہے، اگر ان کو  اس مقام میں ذرہ بھی کمی ہوتی محسوس ہو تو یہ ان کی برداشت سے باہر ہوتی ہے۔ ان کے لئے  اس دنیا  میں مقام اور عزت ہی سب کچھ ہوتا ہے، جس کو وہ ہر طریقہ سے  حاصل کرنا اور برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

    اسی طرح  مذاق میں کبھی  کبھی ایسی بات کہی دی جاتی ہے  جو سخت ناراضگی کا سبب بن جاتی ہے۔ اور انسان یہ اندازہ کرنے سے قاصر ہوتا ہے کہ اس کی بات نے دوسرے پر کتنا بُرا اثر ڈالا ہے۔

    اسی طرح  غیبت، عیب جوئی، چغلی اوربہتان میں نفرت اور غصہ چھپا ہے۔ اللہ رب العالمین ہمیں ان سب برائیوں سے بچائیں  ،آمین یا رب العالمین

    @mmasief

     

  • حنا کی شہزادی تحریر  اویس گیلانی

    حنا کی شہزادی تحریر اویس گیلانی

    اچھے برانڈڈ کپڑے پہننا اور اپنے چاہنے والوں سے اپنی تعریف لینا ایک فطری عمل ہے۔ آج کی اس ماڈرن فیشن کی دنیا میں اچھے لباس زیب تن کیے ہوئے ہمیں بہت سے چمکتے چہرے میڈیا، اخبارات، فیشن شو میں روز نظر آتے ہیں اور انکے مداح انکی جھلک دیکھنے اور انکے سٹائل کو کاپی کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

    مگر اس بنائو سنگھار کا عوامی نمائندے اور ایک حاکم سے کیا لینا دینا؟ دنیا میں کئ لیڈر آئے اور گئے مگر کیا دنیا کسی لیڈر، وقت کے حاکم کو محض اس لیے یاد کرتی ہے کہ وہ سٹائل کی دنیا کا بے تاج بادشاہ یا شہزادی تھی۔

    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو کیا دنیا آج اس لیے یاد کرتی ہے کہ وہ اچھے برانڈڈ سوٹ پہنتے تھے؟ ہرگز نہیں دنیا آج انہیں انکی سیاسی سوچ اور مسلمان قوم کے لیے ایک الگ ملک کی بنیاد پر انکی قربانیوں کی وجہ سے ہی یاد کرتی ہے۔ اب انہی کے ہی مدمقابل بھارت کے بانی لیڈر مہاتما گاندھی جی کو کیا دنیا انکے سٹائل کی وجہ سے یاد کرتی ہے؟ حالنکہ وہ تو قمیض بھی نہیں پہنتے تھے صرف دھوتی پہنتے تھے۔ مگر دنیا آج بھی انکی سیاسی سوچ اور ملک کے لیے خدمات کی وجہ سے انہیں یاد رکھتی ہے۔  بھارتی وزیراعظم کے حالیہ امریکہ دورے پر امریکی صدر بائیڈن نے بھی مودی کو گاندھی جی کی عدم تشدد فلسفہ پر لیچر دیا۔

    حال ہی میں جرمنی کی چانسلر انجلیا مرکل نے 16 سال اقتدار کے بعد پاور کو خیر بعد کہا۔ مگر اپنے اس طویل اقتدار میں رہنے کے باوجود انہوں نے اپنےکسی رشتے دار کو کسی بڑے عہدوں پر نہیں لگایا نا اپنے لیے مال و دولت سمیٹی۔ ان سے ایک بار پوچھا گیا کہ وہ برسوں سے وہی کپڑے کیوں استعمال کرتی رہتی ہے تو جواب دیا کہ "میں یہاں جرمنی کے لوگوں کی خدمت کے لیے ہوں اور کسی فیشن شو میں شرکت کے لیے نہیں” یہاں تک کہ انکا کہنا تھا کہ میرے گھر میں کوئ نوکر، نوکرانی نہیں۔ میں اور میرے شوہر ملکر گھر کے کام کرتے ہیں۔

    کیا بینظیر بھٹو اپنے برانڈڈ  سٹائلش سوٹ، برانڈڈ پرس، برانڈڈ جوتے پہننے کی وجہ سے وزیراعظم بنی اور طویل عرصے تک پاکستانی سیاست میں اپنی مقام بحال کیے رکھا؟ کیا آج عمران خان اپنے سٹائلش سوٹ یا بنائو سنگھار کی وجی سے وزیراعظم بنے؟ کیا دنیا آج انکی تقاریر محض اس لیے سنتی ہے کہ وہ اچھا لباس زیب تن کیے ہوتےہیں؟

    اگر ایسا نہیں ہے تو کوئ ہماری حنا بٹ صاحبہ کو بھی تو سمجھائے جو لمز سے پڑھ کر بھی شائد زہنی پسماندگی کا شکار ہو گئ ہیں یا اپنی ریزرو سیٹ کو بچانے کے لیے اپنی لیڈر کی روز روز سٹائلش سوٹ کے ساتھ "شہزادی” "شہزادی” کہتی تصاویر لگاتی نہیں تھکتیں۔ چلیں ایک لمحے کے لیے انکی لیڈر کو شہزادی مان بھی لیا جائے تو کیا وہ اس ملک کی وزیراعظم بن جائیں گی؟  انہیں چاہیے کہ وہ عوام کو مریم نواز کی سیاسی مصروفیات، اپنی پارٹی میں انکا رول اور مستقبل کے لاہے عمل پر انکی سوچ بتائیں نا کہ شہزادی، شہزادی کا راگ آلاپ کر اپنا اور اپنی لیڈر کا مزاق بنوائیں۔ 

                            
    Twitter: @GillaniAwais