Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • میری زندگی  تحریر : عابد حسین رانا

    میری زندگی تحریر : عابد حسین رانا

    میرا نام عابد حسین رانا ہے میری
    پیدائش 06:09:1997 میں ہوئی میرا تعلق ضلع مظفر گڑھ تحصیل کوٹ ادو شہر دائرہ دین پناہ سے ہے
    میں نے مڈل تک تعلیم گورنمنٹ مڈل سکول دائرہ دین پناہ سے
    حاصل کی اور 2010 میں سیلاب کی وجہ سے ہمیں اپنا کاروبار گھر سب چھوڑ کر چوک منڈہ تحصیل کوٹ ادو جانا پڑا جس کے ساتھ میں نے نہم اور دہم جماعت گونمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول چوک منڈا سے کی میں پڑھائی میں اس وقت کمزور تھا مجھ پر میرے بہت قابل احترام استاد سجاد رندھاوا نے محنت کی اور مجھے اچھا اور قابل لڑکا بنایا
    نہم جماعت میں میں سکول کے بعد ریڑھی لگا کر چوک منڈا میں اپنی پڑھائی کا خرچہ پورا کیا کرتا تھا
    اور کچھ وقت گزرنے کے بعد 2011 میں میں روزانہ 1 گھنٹہ سفر کر کے تعلیم حاصل کرنے دائرہ دین پناہ سے چوک منڈا جایا کرتا تھا
    میرے میٹرک کے امتحان مکمل ہوتے ہیں کچھ ارسا بعد ہم گجرانوالہ کی تحصیل وزیرآباد کے شہر سوہدرہ میں اپنے ددیال شہر میں رہائش پزیر ہوئے
    سوہدرہ آمد پر ہم نے ایک مکان کرایا پر لیا اور وہاں رہائش رکھی کچھ وقت گزرا میں ایک دوکان پر برگر لگانے کے کام پر لگا اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ مجھے برانچ مینجر کے طور پر سوہدرہ ہی میں ٹیلی نار کے دفتر میں نوکری ملی
    جو کچھ ارصہ گرنے کے ساتھ ساتھ مجھے ایک انٹرنیشنل برانڈ گل احمد کے طرف سے جاب انٹرویو کے لیئے بلایا گیا جس کے کچھ دن بعد سلکٹ کر کےمجھے ڈیوٹی کے لیئے بلا لیا گیا
    اور ساتھ ساتھ مجھ جیسی ناچیز کو عنایت اللہ خان نیازی نے 2015 میں تحصیل ریپورٹر بنایا اور روز نیوز میں صحافت کے ساتھ نوکری بھی جاری رہی
    لمہات گزرتے گئے کامیابی ملتی گئی پھر اللہ پاک نے ہمت دی اور گھر خریدا اور اس دوران سیاسی لوگوں سے تعلق بنتا گیا اور مجھے کامیابیاں ملتی گئی
    پھر کچھ وقت کے بعد مجھے ایک نئی امید نظر آئی اور میں سیاست میں اتنا آگے بڑھا کے مجھے اب منسٹرز ترجمان اور دیگر لوگوں کے ساتھ ملاقات کرنے اور تعلق رکھنے کے موقہ ملتے گئے اور میرا تعلق اب عروج پر تھا اور ساتھ ہی مجھے غریبوں سے ہمداردی بھی تھی تو میں نے ایک تنظیم بنائی جسکا نام میں نے نیشنل ہیومینیٹی فورس رکھا اب مجھے فخر اس بات پے نہیں تھا کہ میں ایک تنظیم کا چیئرمین ہوں بلکے فخر اس بات پر تھا کے پہلے دن سے ہی کوئی 10 سے پندرہ بوتلیں خون کی میری ٹیم دونیٹ کرواتی تھی جس میں عدیل اور نعمان فیصل آباد سے میرے بازو تھے
    وقت گزرتا گیا اس کے ساتھ ساتھ میں ٹیم سرعام میں بطور صدر وزیرآباد سے منتخب ہوا اور اقرارلحسن صاحب نے مجھ پر بھروسہ کیا اور مجھے محبت سے نوازا اس دوران ٹیم سرعام میں شجر کاری کھانا کھلانا کپڑے تقسیم کرنا یہ اب میرا مشن تھا اور یہ مشن صحافت کے ساتھ ساتھ اور جاب کے ساتھ ساتھ جاری تھا اور پھر کچھ وقت گرزنے کے بعد مجھ ناچیز کو وزیراعلی پنجاب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا جس میں باہمی علاقائی
    صورتحال پر گپ شپ ہوئی اور وزیرآباد آمد کے لیئے مدعو کیا اسکے ساتھ ہی بتاتا چلو کے میں آج بھی محنت کرکے آپنی جاب بھی کر رہا ہوں اور صحافت بھی کر رہا ہوں اور ساتھ صدر سرعام ٹیم اور چیئرمین نیشنل ہیومینیٹی فورس بھی چلا رہا ہوں یقینن نیند اس وقت تک نہیں آتی جب تک تمام خدمت خلق کے کام مکمل نا ہوں
    اور اس دوران مجھے بہت سی مخالفت اٹھانی پڑی اور میں ابھی ان معملات کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوں مجھے کچھ اچھے دوست بھی ملے پی آر او ٹو سی ایم پنجاب رفی بھائی اور ڈیجیٹل میڈیا فوکل پرسن ٹو سی ایم پنجاب اظہر مشوانی جیسے اچھے دوست ملے مجھے اب فخر محسوس ہوتا ہے سوہدرہ میں رہ کر کے میں ناچیز خدمت خلق کے لیئے چنا گیا ہوں لوگوں کو اچھائی اور خدمت خلق کی طرف راغب کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں مجھے ایک فخر یہ بھی حاصل ہے کہ میں نے سرعام ٹیم اپنی ایڈمنسٹریشن اور پریس کلب وزیرآباد سے بہت سے سرٹیفیکیٹ حاصل کیئے اور ساتھ اختتام پر بتاتا چلوں کہ اس سب کامیابی کے پیچھے میرے دوستوں،بھائیوں،بہنوں،کے ساتھ ساتھ میری والدہ اور والد کا بہت بڑا کردار ہے اگر مشکل وقت میں اگر وہ میرا حوصلہ نا ہوتے تو اب تک میں ٹوٹ چکا ہوتا یقینن یہ میری کامیابی کا راز یہ ہی ہے کہ میں ماں باپ کی دعاؤں اور غریبوں کی دعاؤں کے نتیجے میں یہاں پہنچا ہوں اور میں شکر کرتا ہوں ہر حال میں اپنے رب کا کے مشکل وقت میں وہ مجھے گرنے نہیں دیتا
    آپکو یہ سب پڑھنے میں شاید کچھ منٹ لگے پر یہ میری زندگی کا خلاصہ ہے *

  • حُسنِ اخلاق اور ہمارا معاشرہ   تحریر : ایم ابراہیم

    حُسنِ اخلاق اور ہمارا معاشرہ تحریر : ایم ابراہیم

    اعلان نبوت سے پہلے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اخلاق کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا یہی وجہ تھی کہ دشمنان اسلام بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گرویدہ ہوگئے اور آپ کو صادق و امین کے القابات سے پکارنے لگے. بعثت سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اخلاق کی تبلیغ کی. آدابِ گفتگو، لوگوں سے اچھا رویہ، عہد وفا کرنے اور سچ بولنے کی تربیت فرمائی. اور اسی اخلاق ہی کا نتیجہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب اعلان نبوت کیا تو لوگوں نے دعوت حق کو تسلیم کرنا شروع کیا. آپ اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز تھے اور ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں. حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے”.
    لیکن بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں حسن اخلاق کا بحران نظر آتا ہے. ہم اپنی اخلاقی اقدار اور اسلامی تعلیمات کو بھول گئے. ہمارے معاشرے میں عدم برداشت، جھوٹ، وعدہ خلافی، گالم گلوچ اور بہتان بازی جیسے عناصر سرایت کر گئے ہیں. نوجوان نسل سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے بے راہ روی کا شکار ہے. خواتین کی عزت و عصمت غیر محفوظ اور بے حیائی کا بازار گرم ہے. ہم نے اپنے خود احتسابی کے بجائے دوسروں پر انگلیاں اٹھانا شروع کر دیں گالم گلوچ کا کلچر اور دوسروں پر کیچڑ اچھالنا معمول بن گیا. مذہبی یا سیاسی اختلافات کی بنیاد پر پر ہم نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا حالانکہ اپنی بات صبر و تحمل اور منطق و دلیل سے بھی سمجھائی جا سکتی ہے. جمہوریت میں بے شک آپ کو تنقید کا حق ہے لیکن اخلاق کے دائرے میں رہ کر آپ تنقید برائے اصلاح کریں نا کہ اگر آپ کو کوئی حکومتی پالیسی یا فیصلہ اچھا نہیں لگتا تو گالم گلوچ شروع کر دیں.
    زندگی گزارنا سب کا آئینی و اسلامی حق ہے، ان کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی یا مذہبی مکتب فکر سے منسلک ہوں. ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ وہ کیا کھاتے ہیں یا کیا پہنتے ہیں، یہ ان کے ذاتی معاملات ہیں اور انہوں نے خود ہی فیصلہ کرنا ہے. بغیر حقائق جانے ہم نے دوسروں کی ذاتی زندگی پر بھی تبصرہ کرنے شروع کر دئے جو کہ نا صرف ناانصافی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے. یہ سب چیزیں کبھی بھی اسلامی معاشرے کو زیب نہیں دیتیں.
    ہمیں اپنی کھوئی ہوئی اخلاقی اقدار کو واپس لانے کی ضرورت ہے. ہمیں اُس عصرِ مصطفیٰ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے جس کی دشمن بھی تعریف کیا کرتے تھے. ایک سچا مسلمان، اسلامی ریاست کا زمہ دار شہری اور اسلامی معاشرے کا فرد ہونے کی حیثیت سے ہم پہ فرض ہے کہ ہم حُسنِ اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں. منظم، با ادب اور تہذیب و ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے ہم اخلاق کو اپنانا ہو گا جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سکھائے ہیں.

  • مہاجروں کی بدقسمتی  تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    مہاجروں کی بدقسمتی تحریر : پیرزادہ عبدالاحد خان

    صوبہ سندھ پاکستان کا واحد صوبہ جہاں کوٹہ سسٹم کا ناسور کا نفاذ کیا گیا ، اس کا مقصد صرف اور صرف اردو اسپیکرز کو نقصان پہچانا تھا ، جو کہ 10 سال کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور بدقسمتی سے ابھی تک جاری و ساری ہے ، مہاجروں کو کبھی بھی لیڈر اچھا نہیں ملا جو بھی آیا اس نے اپنے مفادات کو پہلے ترجیح دی ، کوٹہ سسٹم کے لیے پہلے تو ایم کیو ایم میدان میں آئی جن کا مہاجروں نے بھرپور ساتھ دیا پر افسوس وہ بھی مہاجروں کا سودا ہی کرتی رہی حالانکہ ایم کیو ایم مہاجروں کی واحد اسٹیک ہولڈر تھی اور الطاف حسین نے اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مہاجروں کو استعمال کرتے رہے اور اپنا پیسا سمیٹتے رہے اور اسی آڑ میں فسادات بھی ہوتے رہے اور اپنا اپنا حصہ سایڈ میں کرتے گئے اور معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیاء ہوتا رہا اور انہیں بس خود کے استعمال کے لیے لندن میں بیٹھا شخص استعمال کرتا رہا، اب ایم کیو ایم کے بعد مہاجروں نے پاکستان تحریک انصاف پر بھروسہ کیا ہے کیونکہ عمران خان صاحب نے الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ میں مہاجروں کو تنہا نہیں چھوڑونگا اب وقت ہے آگیا ہے کہ وعدہ وفا کیا جائے اور جو 49 سالوں سے مہاجروں کی محرومیاں ہیں ان کا آزالہ کیا جائے حالانکہ اب تک کوٹہ سسٹم پر نا ہی پارلیمینٹ میں کوئی بل پیش کیا گیا ہے نا ہی قومی اسمبلی میں کوئی بحث ہوئی ہے پھر بھی مہاجروں کی تمام تر نظریں عمران خان اور ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی طرف مکروز ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ کوٹہ سسٹم کب اور کیسے ختم کیا جانا ہے! کوٹہ سسٹم ایک ایسا ناسور ہے جس سے مہاجر نوجوانوں کی نوکریوں پر پہرا بٹھا دیا گیا جو کہ سب کو دکھتا بھی ہے ، سمجھتے بھی سب ہیں پر آواز اٹھانے کو کوئی تیار نہیں، حالانکہ حال ہی میں سندھ گورنمنٹ نے سندھ کمیشن کے ایک ہی گاؤں سے 100 آدمیوں کو بھرتی کیا ہے جو کہ اس بات کا آج بھی کھلا سبوت ہے کہ کیسے مہاجروں کا استحصال کیا جارہا ہے۔

    "کوٹہ سسٹم ایک ناسور ایک گالی”

    @Aahadpirzada

  • جدت کی زندگی   تحریر: مزمل مسعود دیو

    جدت کی زندگی تحریر: مزمل مسعود دیو

    جیسے جیسے دنیا میں آبادی بڑھتی گئی ویسے ویسے اللہ تعالی نے انسانوں کے ذہن میں نئی نئی چیزوں کی ایجاد کی سوچ ڈالی تاکہ انسان بہتر طریقے سے اپنی زندگی بسر کریں۔ دیکھا جائے تو بہت سی چیزوں کی ایجاد نے دنیا میں اک انقلاب برپا کیا جیسے بجلی، الیکٹرونکس، موٹر انڈسٹری اور پٹرولیم۔ ان شعبوں میں مزید ترقی آئی اور انسان روز روز نئی چیزیں ایجاد کرنے لگے۔
    دیکھا جائے تو بجلی سے پہلے کیسی زندگی ہوگی کہ ہر طرف شام ہوتے ہی اندھیرا پھیل جاتا تھا اور زندگی رک سی جاتی تھی اور صبح ہونے کا انتظار کیا جاتا تھا۔ موٹر انڈسٹری نے فاصلے کم کردئیے۔ مہینوں کے فاصلے گھنٹوں میں ہونے لگے اور ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر گھنٹوں میں طے پانے لگا۔ الیکٹرونکس کی ایجاد میں بہت کچھ ایجاد ہوا لیکن ایک حیران کن چیز ایجاد کی گئی جس کو موبائل فون کا نام دیاگیا۔
    کہتے ہیں کہ پہلا موبائل فون 1973 میں ایجاد کیا گیا اور اسکے موجد کا نام مارٹن کوپر ہے جس نے موٹرولا کمپنی کے اشتراک سے پہلا فون بنایا۔
    موبائل فون میں اصل جدت 1990 کے بعد آئی جب بہت سی کمپنیوں نے اس کاروبار کو وسیع کیا اور نت نئے ماڈل متعارف کروائے جس سے لوگوں میں اسکی خریداری کا رجحان بڑھتا گیا۔ آجکل تو سمارٹ فون کھانا کھانے سے زیادہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔ موبائل فون کی آمد سی پہلے زمانہ بہت حسین تھا بے شک وسائل کم تھے لیکن لوگوں میں محبت بہت زیادہ تھی۔ کسی رشتے دار یا دوست کی خیریت معلوم کرنے کے لیے اس کے پاس جانا پڑتا تھا تو وہ ملاقات آپس میں محبت اور زیادہ بڑھا دیتی اور موبائل نے یہ کام قریبا ختم کردیا۔
    ہر چیز کے فوائد کے ساتھ نقصانات بھی ہوتے ہیں دیکھا جائے تو جہاں موبائل فون کے فوائد ہیں جیسے آسان اور تیز رابطہ، دنیا کے حالات سے آگاہی۔، تعلیمی میدان میں معاونت وغیرہ وہیں نقصانات بھی ہیں۔
    رابطہ تو بہت تیز ہے لیکن اس میں محبت ختم ہوگئی، گھریلو اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا کیونکہ ہر فرد کو موبائل چاہئیے۔ بچوں میں اکیلا رہنے کی عادت زیادہ ہو گئی جس سے بڑوں کا احترام کم ہوتا جارہا ہے، انسانی جسم پر اسکے بہت منفی اثررات ہو رہے ہیں جیسے نظر کا کمزور ہونا، دماغی کمزوری وغیرہ۔ انٹرنیٹ کے استعمال سے فحش چیزوں کو دیکھنے سے معاشرے میں بے حیائی بھی بڑھ رہی ہے۔
    موبائل فون کے مثبت استعمال کو فروغ دیا جائے اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ اسکے استعمال سے بچایا جائے لیکن یہ ناممکن ہی نظر آتا ہے۔ موبائل فون کو معاشرے کی بہتری کے لیے زیادہ استعمال میں لائیں نہ کہ بس فضول گیمز اور فلمیں دیکھنے کے لیے۔ اسلامی تعلیمات کو عام کریں تاکہ معاشرے کی اصلاح میں کردار ادا کیا جائے۔
    جدت انسان کو دو راستے دکھاتی ہے ایک جو بہت مہنگا ہے اور دوسرا وہی پرانے سٹائل طرز زندگی اب یہ ہماری مرضی کہ اپنے وسائل کے مطابق کونسا راستہ اختیار کریں۔

    ‏@warrior1pak

  • علماء اور علم کا مقام   تحریر : محمد بلال اسلم ۔

    علماء اور علم کا مقام تحریر : محمد بلال اسلم ۔

    علماء کا معاشرے میں بہت اہم کردار ہوتا ہے اگر ہمارے معاشرے کے علماء اللہ سے ڈریں اور اپنے علم کے مطابق عمل کریں تو معاشرہ ایک بہترین سمت پر چل سکتا ہے اور اگر علماء اپنے علم سے ہٹ جائیں اور دل کی خواہش کے مطابق عمل شروع کردیں تو یہ ہی علماء معاشرے کو غلط راستے پر لیجانے کا سبب بن سکتے ہیں۔۔۔حقیقی علماء کا مقام بہت بلند ہے ۔قران ,احادیث اور صحابہ کے اقوال کی روشنی میں علماء کا مقام آپکے سامنے رکھنے کی کوشش کرتا ہوں

    *قرآن کریم کی روشنی میں* ( 1 ) اِنَّمَا يَخْشَی اﷲَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا۔۔ترجمہ ۔بے شک ﷲ کے بندوں میں سے اس سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔( 2 ) قُلْ هَلْ يَسْتَوِی الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۔۔ترجمہ ۔فرما دیجیے: کیا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو لوگ علم نہیں رکھتے (سب) برابر ہوسکتے ہیں ( مطلب یہ ہے علم رکھنے والے اور علم نا رکھنے والے ہرگز برابر نھیں ہو سکتے
    ( 3)قُلْ اٰمِنُواْ بِهِ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا ط اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ اِذَا يُتْلٰی عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِـلْاَذْقَانِ سُجَّدًاo ترجمہ ۔فرما دیجئے: تم اس پر ایمان لاؤ یا ایمان نہ لاؤ، بیشک جن لوگوں کو اس سے قبل علمِ (کتاب) عطا کیا گیا تھا جب یہ (قرآن) انہیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔( یعنی کے جنکو علم دیا جاتا ہے وہ آسانی کے ساتھ اللہ تعالی کی کتاب اور احکام کو سمجھ سکتے ہیں

    *احادیث کی روشنی میں*
    ( 1 ) قَالَ رَسُوْلُ ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم وَمَنْ سَلَکَ طَرِيْقًا يَلْتَمِسُ فِيْهِ عِلْمًا سَهَلَ اﷲُ لَهُ طَرِيْقًا إِلَی الْجَنَّةِ. ۔ترجمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص علم کی تلاش میں نکلتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔( مسلم شریف )
    ( 2 ) قَالَ رَسُوْلُ ﷲ صلی الله عليه وآله وسلم: مَنْ خَرَجَ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ، کَانَ فِي سَبِيْلِ اﷲِ حَتّٰی يَرْجِعَ.۔ترجمہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حصولِ علم کے لئے نکلا وہ اس وقت تک ﷲ کی راہ میں ہے جب تک کہ واپس نہیں لوٹ آتا۔ ترمذی

    *صحابہ کے اقوال روشنی میں* ۔عرب کے معروف عالم دین صالح احمد شامی نے ملفوظاتِ صحابہ کرامؓ کا ایک مجموعہ ’’مواعظ الصحابۃؓ‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس مجموعے میں سے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے منتخب ملفوظات ترجمہ وتشریح کے ساتھ پیش خدمت ہیں، جن کا براہِ راست تعلق طلباء اور علماء کرام سے ہے۔
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب نوجوانوں کو طلبِ علم میں مشغول دیکھتے تو خوش ہو کر فرماتے:
    ’’مرحباً بینابیع الحکمۃ، ومصابیح الظلم، خلقان الثیاب، جدد القلوب، حبس البیوت، ریحان کل قبیلۃ۔‘‘’اے حکمت ودانش کے چشمو! جہالت کے اندھیروں میں علم کے روشن چراغو! حصولِ علم کی کوششیں تمہیں مبارک ہوں۔ تمہارا لباس بوسیدہ، لیکن دل تروتازہ رہتا ہے۔ بے مقصد گھومنے پھرنے کے بجائے اپنی اقامت گاہوں تک محدود رہتے ہو، تم ہر قبیلے کے پھول ہو۔۔۔مزید فرماتے ہیں کہ علیکم بالعلم قبل أن یرفع، ورفعہ موت رواتہ، فو الذي نفسي بیدہٖ! لیؤدن رجال قتلوا في سبیل اللّٰہ شھداء أن یبعثھم اللّٰہ علماء لما یرون من کرامتھم، فإن أحدا لم یولد عالما، وإنما العلم بالتعلم۔‘‘
    ’’علم کو اس کے اُٹھ جانے سے قبل ہی حاصل کر لو، اہلِ علم کا فوت ہو جانا ہی علم کا اُٹھ جانا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، قیامت کے دن اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہوئے شہید ہوجانے والے لوگ جب اپنی آنکھوں سے علماء کی قدرومنزلت کا مشاہدہ کریں گے تو حسرت کریں گے کہ کاش! اللہ تعالیٰ انہیں بھی علماء کی صف میں اُٹھاتا، کوئی شخص بھی عالم بن کر پیدا نہیں ہوتا اور علم‘ علم حاصل کرنے سے آتا ہے
    مزید فرمایا لا یزال الفقیہ یصلي‘‘ ۔۔۔ ’’فقیہ ہمیشہ نماز میں ہوتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: کیسے؟ آپ نے فرمایا: ’’ذکر اللّٰہ تعالٰی علٰی قلبہٖ ولسانہٖ‘‘ ۔۔۔’’ اس کا دل اور اس کی زبان ذکرِ الٰہی سے معطر رہتے ہیں۔ ‘

    @BilalAslam_2

  • دنیا کی نظر میں گیم چینجرعلاقوں کی عوام پانی کی بوند کو ترس گئے . تحریر: زاہد کبدانی

    دنیا کی نظر میں گیم چینجرعلاقوں کی عوام پانی کی بوند کو ترس گئے . تحریر: زاہد کبدانی

    1 گوادر (گوادر پورٹ ، سی پیک)
    2_نوکنڈی ۔چاغی (سیندک،ریکوڈک)
    3_خاران (راسکوہ ایٹمی تجربہ گاہ)

    اس وقت پوری دنیا کی نظریں بلوچستان کے تین ڈسٹرکٹ میں لگے ہوئے ہیں،گوادر جس کو خطے میں ایک گیم چینجر علاقے کی اہمیت حاصل ہے،دنیا کے تمام طاقتور ملکوں کی نظریں گوادر میں سرمایہ کاری کے لیے لگے ہوئے ہیں،اسی طرح دنیا میں عالمی سطح پر سونے اور تانبے کے زیادہ زخائر رکھنے والے علاقے نوکنڈی چاغی جہاں پر سیندک اور ریکو ڈک جیسی قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ اور خاران میں راسکوہ جہاں پر ایٹمی تجربہ کر کے پاکستان ناقابل تسخیر ملک بن گیا،لیکن دنیا کے سامنے یہی گیم چینجر علاقے زندگی کی بنیادی ضرورت پینے کی صاف پانی سے محروم ہیں،گوادر میں آئے روز نلکوں سے مختلف رنگوں کے پانی نکلتا ہے، کھبی نیلا،کھبی پیلا کھبی سیاہ آئے روز مختلف رنگ کے پانی سے وہاں کے عوام سراپا احتجاج ہیں،اسی طرح دنیا میں سونے اور تانبے کے زیادہ زخائر رکھنے والے علاقے نوکنڈی چاغی جہاں کے لوگ ایک گیلن پانی کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کرتے ہیں،پاکستان کے بالا ایوان سینٹ کے چئرمین کی کرسی بھی گزشتہ پانچ سالوں سے نوکنڈی کی پانی کی قلت کا مسلہ حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے،اسی طرح خاران میں بھی کل تک مختلف علاقوں کے مکینوں نے پانی کی قلت کے خلاف محکمہ پبلک ہیلتھ کے دفتر کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے حکمرانوں کے تمام دعوے صرف باتوں تک محدود ہیں،عملی طور پر لوگوں کی زندگی قرون وسطی کی دور سے بھی بد تر ہے،صرف مین اسٹریم میڈیا میں خوبصورت اشتہارات کے ذریعے دنیا کے سرمایہ کاروں کو بےوقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن بلوچستان کے عوام کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا ہے.

    @Z_Kubdani

  • عمران ریاض خان . تحریر : کاشف علی

    عمران ریاض خان . تحریر : کاشف علی

    عمران ریاض خان صحیح معنوں میں صحافت کی حق ادا کر رہا ہے اور غیر جانبدارانہ صحافی ہے کھل کر اپنا موقف دیتا ہے جو بھی غلط کر رہا ہوں سب کی مخالفت کرتا ہے محب وطن ہے اپنے وطن پاکستان سے محبت رکھتا ہے.

    صحافت کے عظیم پیشہ سے وابستہ ہزاروں صحافی ہیں لیکن عمران خان نے صحافت کا عملی نمونہ پیش کیا، پاکستان کو مثبت انداز میں پیش کیا، ہمیشہ سے بنا خوف کے صحیح خبر بیان کرتا ہے قوم کا درد رکھتا ہے، پاک فوج سے بھرپور محبت رکھتا ہے، ٹھوس دلیل کے ساتھ ساتھ بات کرتا ہے ٹھیک کو ٹھیک غلط کو غلط کہتا ہے چاہے سامنے کوئی بھی ہوں صحافت کے نام پر جو صحافی پارٹیوں سے وفاداری نبھاتے ہیں ان پر بھی کھل کر تنقید کرتا ہے میڈیا کی منافقت پر بھی کھل کر بے خوف بات کرتا ہے.

    کچھ عرصہ پہلے جب مولانا طارق جمیل صاحب نے کہا تھا کہ میڈیا پر زیادہ جھوٹ پھیلایا جاتا ہے اس پر میڈیا کو آگ لگی تھی لیکن عمران ریاض خان نے مولانا طارق جمیل صاحب کی حمایت کی تھی جس پر کچھ میڈیا چینلز نے عمران ریاض خان کو اپنا موقف دینے سے بھی روکا تھا.

    یہیں وجہ تھی کہ کچھ وقت پہلے عمران ریاض خان نے اپنی یوٹیوب چینل بنائی اور مولانا طارق جمیل صاحب کی حمایت میں اپنی پہلی ویڈیو بنائی جس پر لوگوں نے عمران ریاض خان کو بہت سراہا

    پھر یہ سلسلہ چلتا رہا اور اب بہت کم عرصے میں عمران ریاض خان کے یوٹیوب چینل پر تقریباً دو ملین سبسکرائبر مکمل ہونے کو ہے جو کہ بہت بڑی بات ہے بہت سارے نام نہاد صحافی کو کئی سال گزرنے کے باوجود عمران ریاض خان کی طرح کامیابی نہیں ملی وجہ یہی ہے کہ عمران خان اپنا پورا حق ادا کر رہا ہے اور لوگ اسے دیکھنا سننا پسند کرتے ہے.

    بہت ساری باتیں جو عمران ریاض میڈیا پر کھل کر نہیں کہہ سکتے اپنے چینل کے زریعے لوگوں کو بے خوف ہو کر سارا حقیقت کھل کر بتاتا ہے.

    اللہ تعالیٰ انہیں سلامت رکھیں اور مزید استقامت دے.

    @DirojayKhan1

  • "ملک کا روشن خیال بننا خواب سا لگتا ہے تحریر: سیدہ زہرا نقوی

    "ملک کا روشن خیال بننا خواب سا لگتا ہے تحریر: سیدہ زہرا نقوی

    برقع کیا تمبو بھی پہنا دو تو ہراسائی اور زبردستی کم نہیں ہوگی۔
    اس معاشرے میں اپنے بچوں، بیٹوں بھائیوں اور دوست مردوں کو عورت کی ماں بہن بیٹی کے بجائے انسان کی حیثیت سے پہچان کراو۔
    کچھ وقت پہلے ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک عورت برقع میں تھی لیکن ایک مرد نے اُسے بھی نہ چھوڑا۔اگر جنسی ہراسائی اور ریپ کا تعلق پردے سے ہوتا تو ایک با حجاب لڑکی کو ادھیڑ عمر آدم بھی ایسے ہراساں نہ کرتے۔
    ان سب کا تعلق پدرشاہی کے بیمار نظام اور سوچ سے ہے جس میں عورت کو جنسی تسکین اور بچے پیدا کرنے کے علاوہ کچھ سمجھا ہی نہیں جاتا۔
    اور کس کس کو برقع پہنائیں گے۔ یہاں تو 3 سال کی بچی اپنے محلے میں، 8 سال کا بچہ مدرسے میں، ہندو لڑکی اپنے ہاسٹل میں اور بہت سے اپنے گھر میں محفوظ نہیں۔اب صرف یہی دیکھ لیں کہ
    پاکستان بچوں سے زیادتی جیسے جرائم میں دنیا بھر میں سرفہرست ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر روز دس بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔۔۔۔
    جبکہ دوسری طرف اس معاملے کو اجاگر کرنے کے لئیے کچھ وقت پہلے سرمدکھوسٹ نے بچوں سے زیادتی کے موضوع پر ایک فلم بنائی، جس پر سرمد نے اپنی تمام آمدنی لگا کر اس کو دو سالوں میں مکمل کیا اور جب ریلیز کا وقت آیا تو پابندی لگا دی۔
    ریاست اگر ان چند مولوی زادوں سے خوف کا شکار ہوکر ایسے پابندیاں لگاتی رہی تو اس ملک کا روشن خیال بننا ایک خواب ہے اس کی ترقی محض ڈھونگ ہی رہے گی۔
    اس ملک اس عوام اس نوجوان نسل کو سوچنے بولنے لکھنے کی آزادی دیں اگر اس ملک کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔

  • اسلام دین انسانیت . تحریر :‌ زوہا علی

    اسلام دین انسانیت . تحریر :‌ زوہا علی

    انسان اسلام کا جتنے غور سے مطالعہ کرے تو یہ بات انسان پر واضح ہوتی ہے کہ اسلام صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے۔اگر ہم یوں کہ دیں تو غلط نہیں ہوگا کہ اسلام انسانیت کا مذہب ہے اور اسلام کے ہر حکم میں انسانیت کا ہی فائدہ ہے۔

    اسلام اور انسانیت لازم و ملزوم ہیں جہاں اسلام ہوگا وہاں انسانیت ہوگی اگر کوئی انسان مسلمان ہونے کے باوجود بھی انسانیت کے خلاف جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام میں خرابی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان اسلام کا مجرم ہے

    یوں تو اس کرہٗ ارض پر اللّہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ بے شمار مخلوقات ہیں اور اس زمین پر حاکم ومحکوم ہیں۔اگر انسانوں میں سے اخلاقیات کی بنیاد یعنی انسانیت کو نکال دیا جائے تو انسان کسی حیوان سے کم نہیں ہے۔

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو کہ زندگانی اور انسانیت کے تمام تر تقاضوں پر پورا اُترتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اللّہ اور اسکے رسول ﷺ نے جو بھی احکامات اور ہدایات دی وہ محض انسانیت سکھاتے ہیں اور انسانوں سے اچھے تعلقات رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔

    کچھ عرصہ پہلے مجھے شوق ہوا کہ میں قرآن و حدیث کا مطالعه کروں جیسے جیسے میں پڑھتی گئی تو معلوم ہوتا گیا کہ بحیثیت سائنس کی طالبہ،جو چیز آج سائنس ثابت کر رہی ہے کہ اس چیز میں انسان کا نقصان ہے وہ اسلام ہمیں چودہ سو سال پہلے منع ہونے کا حکم دے کہ بتا چکا ہے۔دینِ اسلام میں ایسا کوئی حکم نہیں جس میں انسان کا نقصان ہو۔اسی طرح اسلام اپنے پیروکاروں کو بھی انسانیت کا ہی درس دیتاہے۔

    اسلام مىں کوئی بھی ایسی دلیل نہیں کی اسلام نے اپنے پیروکاروں کو دوسروں پر ظلم کرنے کا حکم دیا ہو،یا کسی مقام پر غیر انسانی فعل کرنے کا حکم دیا ہو۔حتیٰ کی اسلام انتقام لینے کا حکم بھی صرف اس وقت دیتا ہے جب ظلم حد سے بڑھ جائے۔بلکہ اسلام تو انتقام لینے کی بھی غیر محدود اجازت نہیں دیتا بلکہ یہ شرائط عائد کرتا ہے کہ انتقام ظلم کے مماثل ہو، اس سے متجاوز نا ہو۔

    ٓآج کل جن حقوق کو ہم نے عالمی انسانی حقوق تسلیم کیا ہے اس سے بہتر انداز میں ہمارے پاس وہ حقوق میثاقِ مدینہ، خطبہ حجۃ الوداع اور دیگر اسلامی تعلیمات میں ملتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم مسلمان ان تعلیمات کو نہیں پڑھتے اور اگر پڑھ بھی لیں تو عمل نہیں کرتے اور یوں ہم اپنی پسند کے راستے پر چل کر غلطی کرلیتے ہیں بووجہ یہ تمام اُمتِ مسلمہ پر انگلی اٹھانے کا موقع دوسرے مذاہب کو مل جاتا ہے اور نتیجتاً بے سکونی غالب آجاتی ہے۔

    اگر ہم مسلمان ہم خود اسلامی تعلیمات پر عمل شروع کریں اور اسلام کے امن پسند اور انسانیت دوست نظریے کو آگے بڑھائیں تو میرے نقطہء نظر سے یہ دنیا خوشحال ہوجائے گی۔

    @ZoHaAli_15

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتیں تحریر: روبینہ سرور

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتیں تحریر: روبینہ سرور

    1* اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
    *صحیح بخاری، ۸*
    2* ‏ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں مر گئی ہے، وہ حج نہیں کر سکی تھی، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں؟
    آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

    ”ہاں ، تو اس کی طرف سے حج کر لے“۔

    *جامع ترمذی، ۹۲۹*
    3* جب تم میں سے كوئی شخص قربانی كرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی قربانی سے کھائے۔

    *مسند احمد،۸۷۱۷*
    4* اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف ( بھلائی ) کا حکم دو اور منکر ( برائی ) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے۔

    *جامع ترمذی، ۲۱۶۹*
    5* دو کلمے جو اللہ کومحبوب ہیں،زبان پر ہلکے ہیں، میزان پر بھاری ہیں –

    سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ،سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ

    *بخاری،٧٥٦٣*
    6* آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۔

    *سنن ابی داؤد، ۴۸۳۳*
    7* جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔

    *ابوداؤد ،۱۵۳۱*
    8* جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھتا ہے اس کے لئے دونوں جمعوں کے درمیان ایک نور
    روشن کر دیا جاتا ہے ۔

    *مستدرک حاکم، حدیث 3392*
    9* جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے ۔ اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے پڑوسی کا احترام کرے ۔ اور جو آدمی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ، وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔

    *صحیح مسلم،۱۷۳*
    10* جو شخص مر گیا اور وہ (یقین کے ساتھ) جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ جنت میں داخل ہو گا

    *صحیح مسلم ،کتاب الایمان، ١٣٦*