Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا . تحریر : قاسم ظہیر

    یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا . تحریر : قاسم ظہیر

    امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے بعد جیسا کہ توقع کی جارہی تھی ویسا ہی ہوا. طالبان نے اس کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے قابل کا رخ کرلیا.اور دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان کے 85 فیصد حصے پر قبضہ کا اعلان کر دیا.افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور اب دکھائی دے رہا ہے کہ یہ بات اب زیادہ دور تک جانے والی نہیں.
    جو بات یہاں سب سے زیادہ قابل غور ہے وہ یہ افغان فوج بغیر کسی مزاحمت کے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال رہی ہے.جس پر ناقدین آپ کو بٹے ہوئے نظر آئیں گے کچھ کے نزدیک یہ کسی سازش کا پیش خیمہ ہے اور کچھ کے نزدیک یہ لوگوں کا طالبان پر بڑھتا ہوا اعتماد ہے.طالبان کے سامنے کسی مزاحمت کا مظاہرہ نہ کرنا امریکی تربیت یافتہ افغان فوج پر سوالیہ نشان ہے.
    کابل حکومت کی بے بسی دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب زیادہ دیر نہیں جب طالبان اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے. لیکن اس بات کو بھی اسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ بیرونی طاقتیں طالبان کو حکومت میں نہیں دیکھنا چاہتی.
    پڑوسی ہونے کے ناطے پاکستان کو یہی کوشش کرنی چاہیے کہ ہر صورت افغانستان میں امن برقرار رہے یہ نہ صرف افغانستان کی عوام بلکہ پاکستان کے حق میں مفید ہے لیکن کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا.

    @QasimZaheer3

  • ‏ہمارا نصب العین خوشحال اور پرامن پاکستان ہے . تحریر : غلام مجتبیٰ

    ‏ہمارا نصب العین خوشحال اور پرامن پاکستان ہے . تحریر : غلام مجتبیٰ

    آج سے کچھ سال پیچھے چلیں تو ملک عزیز پاکستان کے حالات بد سے بدتر تھے امن و امان کی صورت حال مکمل تباہ تھی، اے روز بم دھماکے، ڈاکہ زنی، قتل وغارت، بھتہ خوری میں اضافہ ہوا جا رہا تھا۔ دشمنان پاکستان کی ارض پاکستان کو تباہ کرنے، غیرمحفوظ ملک قرار دے کرایٹمی اثاثے قبضہ میں لینے کی حکمت عملی موثر طور پراثرانداز میں ہو رہی تھی ۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پر جا بجا حملے روز کا معمول تھا ۔

    ہوٹل، بازار، عام شہرائیں، اسکول، کالج ہرجگہ بم دھماکوں کا شورسنائی دیتا اورہر روز ہی کتنے معصوموں کے جنازے اٹھتے دیکھے ہیں ۔ دنیا بھر میں پاکستان کو ایک غیر محفوظ ملک قرار دلوا کر معاشی ، سیاسی ، ترقیاتی اور سیاحی طور پر کمزور کر دیا گیا

    دشمنان پاکستان را، سی آئی اے، موساد کی جامع حکمت عملی پاکستان کو کمزور سے کمزور تر کرتی جا رہی تھی لیکن وطن عزیز کی بہادر، نڈرعوام اور افواج نے حوصلے نا ہارے، دشمن کو خالی میدان نا دیا روزانہ کئی لاشیں اٹھانے کے باوجود ملک پاکستان کو سنسان نا ہونے دیا، اپنے عزم اورحوصلوں کو کبھی پست نا ہونے دینا، سانحہ آرمی پبلک اسکول میں سینکڑوں معصوم بچے شہید کردئے گئے ایسے سینکڑوں حملوں میں ستر ہزار سے زائد جانیں ضائع ہوئی، امن کے گہوارہ کو تباہ کرنے کی بھرپور کوشیش کی گئی لیکن دشمن پاکستان اس ارض چمن کو گرا نا سکا، امن کی دیوارکو گرانا اس بزدل دشمن کے بس میں ہی نہیں تھا جو ہمارے روپ میں چھپ کر حملہ آور ہو رہا تھا
    ضرب عضب جیسے کئی آپریشن سٹارٹ ہوے ، افواج پاکستان نے بہادری ،جرات ، اور قربانیوں کی ایک طویل داستان رقم کرتے ہوئے دشمنان پاکستان کا مقابلہ کیا ۔ انڈیا جیسا بزدل دشمن جو چھپ کر پاکستان میں حملہ آور تھا اسکا سامنا کیا ۔ دہشت گردوں کو انڈیا کی بے شمار مالی معاونت ، اسلحہ کی فراہمی اور ٹريننگ نے مظبوط بنایا لیکن پاکستان افواج نے دشمن کے خوابوں کو چکنا چور کرتے ہوے امن کے گہوارہ پاکستان کا تحفظ یقینی بنایا اور دشمنوں کو ہر جگہ شکست فاش دیتے ہوے انکے ٹھکانے تباہ کرنے شروع کئے ۔ شدید مزاحمت اور ہزاروں قربانیوں کے بعد ، سوات ، کے پی کے ، کراچی ، اور وزیرستان سمیت پورے پاکستان کا امن لٹایا گیا ۔ * اس امن کے لیے کئی ماوں کے لال ، بہنوں کے اکلوتے بھائی ، معصوم بچوں کے باپ نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر دئے ۔ * اور الحمد للہ آج پاکستان دنیا میں ایک پرامن ملک ہے. پاکستان نےہمیشہ دنیا میں امن کے لئے کردار ادا کیا. ہمیں دنیا کواس بات پرقائل کرنا ہو گا کہ ہم دنیامیں زیادہ دہشت گردی کا نشانہ بنے. اس وقت پاکستان امن کا گہوارہ بن چکا ہے یہ سب پاک فوج سیاسی قیادت اور عوام کی قربانیوں ثمر ہے.

    پاکستان امن پسند قوم ہے اور یہ صرف سیکیورٹی فورسز کی مخلصانہ کاوشوں اور شہریوں اور پاک فوج کی عظیم قربانیوں سے ممکن ہوا ہے۔
    پرامن پاکستان افواج پاکستان اور اس عظیم قوم کی ہزاروں قربانیوں کا ثمر ہے جسکو قائم رکھنا ہر پاکستانی کی اولین ترجیع ہونی چاہیے ۔
    سرزمین پاکستان امن کا گہوارہ ہے جسکے بہت زیادہ قربانیاں دی گئی.
    خدارا نسلی ،لسانی ،مذہبی تعصب سے اسکے امن کو برباد مت کریں پاکستان کے وه تمام دشمن بشمول بی ایل اے ،پی ٹی ایم ، اور نام نہاد این جی اوز جو اس وطن کو پھر سے انتشار کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں انکو ہر جگہ پر بھرپور جواب دیں ۔ یہ وطن ہمارا ہے اسکا تحفظ ہر پاکستانی نصب العين ہونا چاہے.

    آئیے ہم سے خود سے ایک حلف اٹھائیں کہ ہم اپنی مادر وطن کو اپنے لئے ، دوسروں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک محفوظ جنت بنائیں۔

    @mujtabamalik119

  • یہ عوام کی پارلیمنٹ ہے ۔ تحریر: ملک حسن وزیر

    یہ عوام کی پارلیمنٹ ہے ۔ تحریر: ملک حسن وزیر

    جی جناب! یہ وہ مقدس پارلیمنٹ ہے جہاں آپ کے بھیجے ہوئے نمائندے جاگیردار، بزنس مین، وڈیرے، سیاستدان جن کو آپ اپنے حقوق کے لئے اس ایوان میں نعرے مار کر کرسیاں لگا کر، نہ آپ سردی دیکھتے ہے، نہ آپ گرمی دیکھتے ہے، نہ آپ بزرگ دیکھتے ہے، نہ آپ کوئی پڑھا لکھا نوجوان ان لوگوں کے پیچھے سب کی تزلیل کر کے آپ اپنے پسند کے سرمایہ دار کو اس ایوان میں بھیجتے ہیں شاید کہ وہ آپ کے حقوق کی جنگ لڑے۔

    پھر کچھ یوں ہوتا ہے کہ وہ اس ایوان میں بیٹھ کر سودے بازی کرتے ہیں آپ لوگوں کے نام پر اپنی جائیدادیں بناتے ہیں تسلی سے اپنے اور اپنی اولاد کا بنک بیلنس بڑھاتے ہیں۔ لیکن آپ لوگ صرف ایک چمچے بن کران کی غلامی کرتے رہتے ہیں۔ آپ کو وہ اس ایوان میں جانے کے بعد منہ تک نہیں لگاتے۔

    جب وہ بھول کے اپنے علاقے میں کبھی واپس آ بھی جائیں تو آپ لوگ ہاتھ جوڑ کرسائیں کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ یہ لوگ آپ کو اچھے سے جانتے ہیں کہ کوئی ایک آدھا تھانے کا کام کروا دیا اور آپ لوگ ایک اچھی سی سیلفی لے کے پوسٹ کر دیتے ہے۔ اندر سے آپ بھی انہیں گندی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں پر آپ ڈھیٹ بن کر ساتھ ہوتے ہیں۔ آپ کو آپ کی اوقات پتہ ہوتی ہے جب یہ ایوان اقتدار میں چلے جائے آپ کی اوقات ان کے سامنے ایک جوتی پالش کرنے والے نوکر کی ہوتی ہے. آپ دنیا کے سامنے اپنے ناک کو بچانے کی خاطر مطمئن ڈھیٹ بن کے نعرےمارتے رہتے ہیں اور ان کی ذاتی تشہیر کرتے رہتے ہیں۔ بس کیا کریں جب تک مطمئن غلام زندہ ہیں وہ اس ایوان میں جا کر اپنی اولادوں کی جائیدادیں بنا رہے ہیں۔ آپ اپنی اولادوں کو ان کی اولاد کی غلامی کے لئے تیار کریں۔

    Twitter account @MH__586

  • ‏حالات حاضرہ میں مسلمانوں کی پستی کا واحد علاج . تحریر : محمد صابر مسعود

    ‏حالات حاضرہ میں مسلمانوں کی پستی کا واحد علاج . تحریر : محمد صابر مسعود

    ایک وقت تھا کہ چہار دانگ عالم میں اسلام کی گونج تھی، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواؤں کا ڈنکا تھا، یہود و ہنود انکے سامنے بندر، بندریوں کی طرح ایک ہی حکم کے منتظر ہوتے تھے لیکن آج وہی مسلمان سوائے معدود چند کے ہر طرف ظلم و ستم کی چکی میں پستا ہوا نظر آ رہا ہے خواہ وہ ہندوستان کے مظلوم مسلمان ہوں یا فلسطین و شام و سیریا کے بے کس و بے بس مسلمان، کبھی تو انکو سرپسند تنظیموں کے ہاتھوں مآب لنچنگ کے ذریعہ شہید کیا جا رہا ہے تو کبھی ان پر بمباری کرکے ملبے کے ڈھیروں تلے دفن کیا جا رہا ہے۔ الغرض آج مسلمان ہرطرف ظلم و زیادتی اور نفرت بھری نگاہوں کا شکار ہیں تو اسکی کیا وجہ ہے؟ اور ہمیں اسکے لئے کیا لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے ؟

    اسکا سادا سا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عالم ناسور میں حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرما کر خلافت ارضی انکو عطا فرمائ اور انکی ذریت میں کم و بیش سوا لاکھ انبیاء کرام مبعوث فرمائے جن سے اس عالم فانی میں خیر کے سلسلے مسلسل جاری و ساری ہیں لیکن اسکے برخلاف لعین و مردود شیطان کو پیدا فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا ہے کہ میں تیرے بندوں کو جہنم کا ایندھن بناؤنگا اور اسکی ذریت میں بہت سے خلفاء فرعون، ہامان، شداد، نمرود، بخت نصر، بلعم باعورا، مسیلمہ کذاب، ابو جہل، عبداللہ بن ابی اور غلام قادیانی جیسے بے شمار جن و انس ہیں خصوصاً یہود و ہنود جو ہمہ وقت اسلام کو نقصان پہنچانے کی تاک میں ہیں اور شیطان مردود کے اللہ تعالیٰ سے کئے گئے وعدے کو پورا کرنے کے لئے رات دن ایک کئے ہوئے ہیں کہ کیسے امت مسلمہ کو دوزخ کی طرف دھکیل کر، شیطان لعین کے کئے گئے وعدے کو پورا کرکے اپنے جھوٹے معبودوں کی خوشی تلاش کی جائے تو ایسے وقت میں ہمیں یہود و ہنود کے شرور و فتن سے اور آپسی اختلافات سے بچنے کے لئے قرآن و سنت پر کاربند ہونا ہوگا اور اپنے ان اکابرین کی قیادت کرنا ہوگی جنکا ایک بھی عمل قرآن و سنت کے خلاف نہیں جاتا کیونکہ قرآن کریم کا ارشاد پاک ہے ” وَلَا تَهِنُوا۟ وَلَا تَحۡزَنُوا۟ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِینَ ” تمھیں غمگین و افسردہ ہونے کی ضرورت ہے اور نا ہی مایوس ہونے کی اگر تم ایمان پر مکمل طور پر کار بند رہو۔ لہذا معلوم ہوا کہ ہمارے اوپر جو مصائب و پریشانیاں آ رہی ہیں انکی اصل وجہ ہماری بزدلی، کمزوری، رات دن کے گناہ اور یہود و ہنود کی پیروی ہے اسلئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس مسلم نسل نو کو ایمانی حلاوت سے محظوظ فرمائے آمین یا ربّ العالمین.

    رہی بات یہ کہ ہم مختلف فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کو کچوکے لگانے میں مصروف ہیں اور ابھی تک اس بات کو نہیں سمجھ پائے کہ کونسا مسلک و مشرب راہ راست پر ہے تو ایسے وقت میں ہم کس مسلک و مشرب کو اختیار کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہوں تو اسکا صاف جواب یہ ہے کہ جو بھی مسلک آپ کو ” ما انا علیه و اصحابی ” کی روشنی میں چلتا ہوا نظر آئے اندھ بھکتی سے بچتے ہوئے اسی کو اختیار کرلیں ان شاءاللہ کامیابی و کامرانی ہمارے قدم چومے گی۔۔۔ اللہ تعالیٰ مجھے لکھنے سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین یا رب العالمین.

    ‎@sabirmasood_

  • ‏کیا یہی قائد کا پاکستان ہے ؟   تحریر: ملک منیب محمود

    ‏کیا یہی قائد کا پاکستان ہے ؟ تحریر: ملک منیب محمود

    آج بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو ہم سے بچھڑے 73 سال ہو گئے ہیں لیکن انھوں نے قیام پاکستان کے لیے جیسا مقدمہ لڑا ویسا دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی نے نہ لڑا۔ 11اگست 1947 کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا کہ ’’آپ کا تعلق کسی مذہب سے ہوسکتا ہے۔کسی بھی نسل اور کسی بھی عقیدہ کے ساتھ ہوسکتا ہے،یہ صرف اور صرف آپ کا ذاتی معاملہ ہے۔ ریاستِ پاکستان کا ان معاملات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔
    یقین جانیے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے درمیان تمام تفریقات کا خاتمہ ہو جائے گا، اکثریت اوراقلیت کی تقسیم بے معنی ہو جائے گی۔ میرے خیال میں عقیدے ،رنگ و نسل کی بنیاد پر کی جانے والی تفریق بھارت کی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو ہم کب کے آزاد ہوچکے ہوتے۔ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔
    آپ آزاد ہیں ،آپ آزاد ہیں ، آپ پاکستانی ریاست کے آزاد شہری ہیں۔آپ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔آپ کو اپنے مندروں میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔آپ کو اپنی مساجد میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔پاکستانی ریاست کے تمام شہریوں کو ان کے مذاہب اور عقیدوں کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔میں ایسا مذہبی بنیادوں پر نہیں کہہ رہا ہوں۔کیونکہ مذہب تو ہر شخص کا انفرادی معاملہ ہے۔لیکن ہم سب لوگوں کے درمیان سیاسی طور پر مذہب اور عقائد کا فرق ختم ہو جانا چاہیے۔‘‘
    قائد اعظم کا کہنا تھا کہ ’’ نئی ریاست ایک جدید جمہوری ریاست ہوگی جس میں اختیارات کا سرچشمہ عوام ہوںگے ۔نئی ریاست کے ہر شہری مذہب ،ذات یا عقیدے کی بنا کسی امتیاز کے یکساں حقوق ہوں گے۔‘‘ان تقاریر کا ایک ایک لفظ پڑھ یا سن لیں اور سوچیں کہ ہم کس قدر ’’بے وفا ‘‘نکلے، ہم تو اس متن کے ایک جملے پر بھی پورا نہ اُتر سکے۔ خیر ہمیں کم از کم یہ تو علم ہونا چاہیے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نہ صرف ایک روشن خیال سیاستدان تھے جو جمہوری اقدار، آئین اور قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتے تھے بلکہ وہ آزادی اظہار اور پریس کی آزادی کے زبر دست حامی تھے۔لیکن ابھی تو انتقال کو ایک سال نہیں گزرا تھا کہ ان کی مذکورہ بالاتقریر(11اگست 1947کو آئین ساز اسمبلی کی تقریر )کو متنازع بنا دیا گیا۔
    بہت سی سازشیں ہوئیں، ایک سازش کے نتیجے میں قائد کے دست راست اور پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کو لیاقت باغ (نام بعد میں رکھا گیا) راولپنڈی میں جلسے کے دوران شہید کردیا گیا۔ انھیں شہید کرنا والا افغان باشندہ تھا۔یہ سازش آج تک بے نقاب نہیں ہو سکی کیونکہ بات اندر تک پہنچ گئی تھی لہٰذا کیس دبا دیا گیا۔ بعد میں جس طرح خواجہ ناظم الدین کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور پھر وہی ہوا جس کا شاید تصور بھی قائد کے پاکستان میں نہیں تھا، یعنی مارشل لاء۔ پھر دوسرا اور پھر تیسرا مارشل لاء لگ گیا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سیاستدانوں کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو گئی جنھیں آمر نے پیدا کیا ہوا۔
    خیر یہ تو سیاسی باتیں تھیں، پاکستان میں سیاست اور کرکٹ دونوںکے مستقبل کے بارے میں بڑے سے بڑا تجزیہ کار بھی غلط ثابت ہوتا آیا ہے۔ مگر یہ کیا؟ ہم نے اپنے قومی پرچم جس میں سفید سبز رنگ ہے کی بے حرمتی کر دی!بلکہ کر رہے ہیں، قائد اعظم نے 11اگست والی تقریر کے بعد ہونے والے اجلاس ہی میں جس قومی پرچم کی منظور ی دی تھی اور کہا تھا کہ سفید رنگ اقلیتوں کی آزادی کی علامت ہے۔ لگتا ہے آج ہم نے اس خیال کو ہی غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ اس لیے اگر اقلیتوں کے حوالے دیکھا جائے تو قائداعظم کے پاکستان اور آج کے پاکستان میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔
    الغرض قائد نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا آج سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ آپ ؒ پاکستان کے قیام کے بعد محض 13ماہ زندہ رہے۔ ان کی زندگی میں تو ’’پاکستان‘‘ تمام گروہوں کو شامل کرکے چلنے کی پالیسی پر گامزن رہا، مگر آج ہم کیا کررہے ہیں، کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ ملک میں تین دفعہ مارشل لاء لگا۔ مگر دھڑلے سے لگایا گیا اور آج بھی ویسے ہی حالات پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
    پھر آپ یہ دیکھیں کہ قائد کے پاکستان میں چائے بسکٹ کا خرچ بھی وزراء جیب سے ادا کرتے تھے، مگر آج وزراء ہاؤسز، گورنر ہاؤسز، صدارتی محل اور بیشتر کیمپ آفسز کا سالانہ خرچ ہی اربوں روپے بنتا ہے۔ قائد کے پاکستان میں پروٹوکول کے نام پر عوام کو تنگ کرنا ،عوام کی تضحیک سمجھا جاتا تھا جیسے ایک مرتبہ گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لیے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا، آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا ’’اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا، تو پھر کون کرے گا؟‘‘ قائد کے پاکستان میں سفارشی کلچر نہیں تھا ، زیارت ہی میں ایک نرس نے تبادلے کی سفارش کی مگر آپ نے اداس لہجے میں جواب دیا ’’سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں‘‘۔قائد کے پاکستان میں اداروں کا احترام بھی کیا جاتا تھا، ایک واقعہ میں آپ نے وزارتِ خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا۔پھر آپ یہ دیکھیں کہ قائد کے پاکستان میں چائے بسکٹ کا خرچ بھی وزراء جیب سے ادا کرتے تھے، مگر آج وزراء ہاؤسز، گورنر ہاؤسز، صدارتی محل اور بیشتر کیمپ آفسز کا سالانہ خرچ ہی اربوں روپے بنتا ہے۔ قائد کے پاکستان میں پروٹوکول کے نام پر عوام کو تنگ کرنا ،عوام کی تضحیک سمجھا جاتا تھا جیسے ایک مرتبہ گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کے لیے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا تھا، آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، پھاٹک بند کرانے کا حکم دیا اور فرمایا ’’اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا، تو پھر کون کرے گا؟‘‘ قائد کے پاکستان میں سفارشی کلچر نہیں تھا ، زیارت ہی میں ایک نرس نے تبادلے کی سفارش کی مگر آپ نے اداس لہجے میں جواب دیا ’’سوری بیٹی! یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں‘‘۔قائد کے پاکستان میں اداروں کا احترام بھی کیا جاتا تھا، ایک واقعہ میں آپ نے وزارتِ خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا۔
    الغرض قائد کے 13ماہ ہمارے 73سالوں پر غالب نظر آتے ہیں، آج ہم سب Look Busy Do Nothing کے محاورے پر چل رہے ہیں ، ہم مذہبی طور پر خود کو سب سے زیادہ مذہبی کہتے ہیں مگر مذہبی ہیں نہیں، ہم قانون کی پاسداری کی بات کرتے ہیں، لیکن یہ محض ایک دکھاوا ہے۔ ہم ہیومن رائٹس کی بات کرتے ہیں لیکن کسی کو اُس کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ، ہم بات بات پر کہتے ہیں کہ ملاوٹ نہ کرو، اس حوالے سے قرآن و حدیث کی باتیں کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں۔ اب صرف نوٹ والا قائد باقی ہے اور وہ اگر گندا ہو جائے تو دکان دار بھی نہیں لیتا اور خریدار بھی نہیں۔
    سفر لمبا ہے کم سے کم ابتدا اس سے کر لیجیے کہ آج جب قوم اور ملک ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے تو ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ قائد اعظم کے پیش نظر پاکستان کے قیام کا مقصد کیا تھااور ان کے تصورات کے مطابق پاکستان کا نظام اور پاکستان کی قومی زندگی کی اہمیت کیا ہونی چاہیے تھی؟ہم سب کو اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کی تعمیر وترقی اور استحکام کے لیے اپنی صلاحیتوں کو صرف کرنا ہوگا۔
    ‎@MMuneebPTI

  • تعیلم ترقی پذیر ملک کی ضامن ہے!! تحریر جہانتاب احمد صدیقی

    تعیلم ترقی پذیر ملک کی ضامن ہے!! تحریر جہانتاب احمد صدیقی

    تعلیم ہر شعبے زندگی میں ترقی پذیر ملک میں بہت بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعیلم ایک ملک کی ترقی میں ایک مثالی کردار کی طرح ادا کرتا ہے اگر کسی ملک کے عوام تعلیم یافتہ ہوں تو وہ باآسانی سے ترقی کی راہ میں گامزن ہوسکتی ہے۔

    تعلیم قومی ترقی کی محرک قوت ہے اور کیسی بھی ملک کی معیشت تعلیم پر بہت مضبوطی سے منحصر ہے اور یہ دونوں ایک ملک کی ترقی میں بہت بڑا کردار ادا کررہے ہیں۔. تعلیم کے ذریعہ قومیں تعمیر کی جاتی ہیں معیشت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ، اگر کسی ملک کے عوام تعلیم یافتہ ہوں تو وہ آسانی سے قومی معیشت کو ترقی دے سکتے ہیں کیونکہ تب وہ معاشی اصولوں اور قواعد کو بہتر طور پر جان سکتے ہیں اور اگر وہ تعلیم یافتہ ہیں تو ان کے بارے میں آسانی سے سوچ سکتے ہیں۔.

    تعلیم لوگوں کو وہ مہارت فراہم کرتی ہے جن کی انہیں غربت سے نکالنے یا دوسرے لفظوں میں خوشحالی میں مدد کرنے کی ضرورت ہے۔. اگر کسی نے تعلیم حاصل کی ہے تو وہ بہتر ملازمت کے قابل ہے تو پھر مزدوری کا کام۔. وہ سرکاری ملازمت یا کوئی اور نجی کام کرنے کا اہل ہے اور وہ اپنی صلاحیتیں دکھا سکتا ہے جو کسی ملک کی ترقی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔. ایک تعلیم یافتہ اور ان پڑھ شخص کے مابین بہت فرق ہے ، ایک ان پڑھ اپنے خیالات اور صلاحیتوں کو کسی تعلیم یافتہ شخص سے بہتر نہیں دکھا سکتا۔. وہ ہمیشہ تعلیم یافتہ سے آگے ہوتا ہے۔. لہذا یہ وہ تعلیم ہے جو کسی شخص کو غربت سے خوشحالی کی طرف لے جاسکتی ہے۔.

    وہ ممالک جو تعلیم کی اہمیت کو جانتے ہیں ، لہذا وہ پہلے تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔. نیز کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جن میں تمام طلبا یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔. لہذا وہ کسی ایسے شخص کو اسکالرشپ دیتے ہیں جو باصلاحیت ہے اور انہوں نے بلا معاوضہ تعلیم حاصل کی۔. وہ ممالک پہلے تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو تعلیم سے زیادہ کسی ملک کی ترقی میں مدد فراہم کرے۔.

    لہذا تعلیم ایک ملک میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔. وہ زندگی کے ہر شعبے میں مدد کرتے ہیں۔. اس کے بعد ہمارے کنٹرول میں ہے کہ ہم اس چیز کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اس کے بعد یہ ہمیں ہر چیز کے بارے میں آگاہ کرتا ہے۔. ہم ان کو مثبت یا منفی استعمال کرسکتے ہیں۔. اگر ہم کسی ملک کی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے مثبت استعمال کرنا چاہئے۔.

    تعلیم ہمیں یہ چاہتی ہے کہ ملک میں کیا اور کیسے اور کتنی ایک چیز تیار ہوتی ہے۔. یہ اس چیز کے بارے میں تمام فوائد اور نقصانات کو ظاہر کرتا ہے۔. تعلیم ہمیں پہلے ایک چیز سکھانے میں مدد کرتی ہے اور پھر ہم اسے کسی ملک کی ترقی میں استعمال کرسکتے ہیں۔.

    لہذا تعلیم ایک ملک کی ترقی میں بہت بڑا اور بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔. اس کی وجہ سے ڈائیجینس کیریٹیوس کا کہنا ہے کہ "ہر ریاست کی بنیاد اس کے نوجوانوں کی تعلیم ہے”۔.

    ‎@JahantabSiddiqi

  • کبھی سوچا؟ . تحریر : محمد احمد

    کبھی سوچا؟ . تحریر : محمد احمد

    اگر کوئی ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے تو ہم بدلے میں اسکی عزت کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ ہم سے سب سے زیادہ بہترین سلوک کرنے والے کون ہیں؟
    جی ہاں!! سب سے پہلے مہربان اور احسان کرنے والے اللہ تعالیٰ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہاتھ،پاؤں، ناک، کان، زبان وغیرہ دیئے پینے کیلئے پانی،سانس لینے کیلئے ہوا، کھانے کیلئے بےشمار نعمتیں۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اس قدر ہیں کہ نہ ہم شمارکرسکتے ہیں اور نہ ہی انکے حق کے مطابق انکا شکر ادا کرسکتے ہیں ہمیں چاہیے کہ اپنے پیدا کرنے والے اور اتنی ساری نعمتیں عطا کرنے والے رب کے احکامات کو دل سے مانیں صرف اسی کی عبادت کریں یوں رب تعالٰی کی مزید خوشنودی عطا ہوگی جس سے وہ ہمیں مزید انعامات سے نوازیں گے۔

    اللہ رب العزت کی ذاتِ مبارکہ کے بعد ہم سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے اور احسان کرنے والے ہمارے ماں باپ ہیں وہ والدین جنہوں نے ہمیں پال پوس کر بڑا کیا ہماری دیکھ بھال کی خاطر خود ہر تکلیف برداشت کرکے ہمیں آرام پہنچاتے ہیں ہماری خاطر اپنے آرام و سکون کی پرواہ نہیں کرتے خود بھوکے بھی رہتے ہوں مگر ہمیں بہترین غذا کھلاتے ہیں ہمیں انکی قدر انکا احترام کرنا چاہیے ان کے سامنے اُف بھی نہ کہیں سوائے اس بات کے جو اللہ اور اس کے رسول اللہﷺ کے حکم کی نافرمانی ہو باقی ہر حکم مانیں والدین کو جھڑکنا گناہ کبیرہ میں سے ہے جسکی رب تعالٰی کے حضور معافی بھی نہیں۔۔ لہٰذا ان سے نرمی سے بات کریں ان پر اپنا پیسہ خرچ کریں بڑھاپے میں والدین کی یونہی خدمت کریں جیسے وہ ہماری بچپن میں کیا کرتے تھے رسول اللہﷺ کا فرمان مبارک ہے؛
    "جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے”

    جس نے ماں باپ کو راضی کرلیا اللہ ان سے راضی اور جن سے ماں باپ ناراض ہوئے ان سے اللہ بھی ناراض ہوگا۔۔ ماں باپ بوڑھے ہوں انکی خدمت اور خیال والا کوئی نہ ہو تو جہاد میں شرکت سے زیادہ انکی خدمت ضروری ہے اولاد تاعمر ماں باپ کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتی خواہ کتنی ہی خدمت کرلے۔۔ عرض یہ کہ اللہ اور رسول اللہﷺ کی فرماں برداری کے بعد جنکی عزت اور احترام کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ ماں باپ ہیں انکی جتنی قدر کریں کم ہے!!

    @MohhammadAhmad

  • نکاح میں برکت تحریر:  فریال نیازی

    نکاح میں برکت تحریر: فریال نیازی

    مغرب میں اوپن relationships، گرل فرینڈ، بوائے فرینڈ وغیرہ انتہائی عام ہونے کے باوجود وہاں کی عورت آج بھی شادی کے بندھن سے کس قدر جذباتی لگاؤ رکھتی ہے، اسے سمجھنے کے لیے آپ marriage proposal reaction پر بننے والی لاتعداد ویڈیوز دیکھ لیں

    مغربی عورت کے لیے، آج بھی کسی لڑکے کی گرل فرینڈ بننے سے کہیں زیادہ خوبصورت احساس اسکی بیوی بننے میں ہے

    ایسے ری ایکشنز متعدد ہالی وڈ موویز میں بھی فلمائے جاتے ہیں جو یقیناً اپنی سوسائٹی سے انسپائر ہوکر ڈائریکٹ کیے جاتے ہیں

    افسوس کے ہم مشرق میں اب اس خوبصورت اور باوقار بندھن سے بیزاری کے اظہار کو ماڈرنزم سمجھنے لگیں ہیں

    ہمارے احساس کمتری کے مارے کچھ لوگ جب پہلی بار مغرب کی چکاچوند دیکھتے ہیں تو وہ الٹا اپنے کلچر پر شرمسار ہوکر اسے بوجھ گردانتے ہیں

    حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بہت کم جانتے ہیں…

    @Missfaryalniazi

  • ‏زمین کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ، خطرے کی گھنٹی تحریر : مدثر حسین

    ‏زمین کے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ، خطرے کی گھنٹی تحریر : مدثر حسین

    ناظرین ہر سال زمین کے درجہ حرارت میں خطرناک شرح سے بڑھتا ہوا اضافہ دیکھا جا رہا ہے. کرہ ارض پہ انسانی سرگرمیوں بالخصوص کاربن گیسوں سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے. کاربن اور میتھین گیسیں ماحول میں درجہ حرارت کے بڑھنے کی سب سے اہم وجوہات میں سے ایک ہیں. کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس فیکٹریوں اور ایندھن کے جلنے سے پیدا ہونے والے دھوییں سے پیدا ہوتی ہے جبکہ میتھین گیس کا اخراج انسانی سرگرمیوں اور جانوروں سے بتایا جاتا ہے. ایک سائینسی رپورٹ میں کہا گیا کہ بڑے جانوروں کی موجودگی بھی میتھین گیس میں اضافے کا سبب بن رہی ہے.
    سائنسدانوں کے مطابق میتھین گیس 9 سال کے عرصے میں زمین کے گرد لپٹے غلاف (کرہ ہوائی) کی حدود سے باہر نکل جاتی ہے لیکن کاربن ڈایی آکسائیڈ تقریباً ایک صدی جتنا وقت لگاتی ہے کرہ ہوائی سے باہر نکلنے میں، اور وہ اتنے وقت تک کرہ ہوائی کے اندر رہ کر درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بنتی رہتی ہے. ان گیسوں کو گرین ہاوس گیسین کہا جاتا ہے یہ گیسین جب اتنے لمبے وقت کرہ ہوائی مین ٹھہر جاتی ہین تو یہ ہماری زمین کے کرہ ہوائی میں ایک ایسا غلاف پیدا کرتی ہین جس سے سورج کی تپش ان سے گزر کر سطح زمین پہ ٹکراتی ہے لیکن وہ اس غلاف سے باہر نہیں نکل پاتی اور نتیجتاً فضا کا درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے. اور درجہ حرارت کے مسلسل اضافے سے زمین کے ماحول پہ فطرتی نطام کے برعکس اثر پڑنے لگتا ہے، ماحول میں گرمی سے برف پگھلنے لگتی ہے اور دریاؤں میں سیلاب کی سی روانی آ جاتی ہے، گرمی کی تپش خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے. جو انسانوں اور جانوروں دونوں کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے.
    ‎@MudassirAdlaka

  • سانحہ  ، بائی پاس  ڈی جی خان  تحریر:  محمد ابراہیم

    سانحہ ، بائی پاس ڈی جی خان تحریر: محمد ابراہیم

    اکرم نے اسلم سےکہا کہ بھائی ماں کے لیےاس عید پر دو سوٹ لیتے ہیں۔ امجد نے بھی ان سے اتفاق کیا۔ لیکن تینوں تھوڑی دیر تک خاموش ہو گئے۔ پھر اسلم نے کہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ ابو جان کے لیے بھی دو سوٹ لیتے ہیں۔ سب نے اتفاق کیا۔ تھوڑے توقف کے بعد امجد بولا ، اپنی تین بہنیں کیا سوچیں گی؟ ان کے لیے بھی دو دو سوٹ لیتے ہیں۔

    سب نے اتفاق کیا۔ ماں اور بہنوں کے لیے چوڑیاں بھی خریدنی ہیں۔ سب نے اتفاق کیا۔ جوتے بھی خریدے گئے۔ لیکن جب حساب ہونے لگا تو قربانی اورکرائے کا خرچہ نکال کر ان کے پاس اپنے سوٹوں کی رقم نا ہونے کے برابر تھی۔ تینوں نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے لیے لنڈے کے دو دو سوٹ لے لیتے ہیں۔ اس کو صحیح دھلوا کر استری کر لیں گے اور یوں ہم اپنوں کے لیے سب چیزیں اچھی والی خرید سکیں گے۔ تینوں بھائیوں نے اتفاق کیا۔ عید سے دو دن پہلے یہ سب چیزیں شاپنگز کر کے ایک بیگ میں رکھ لی گئی۔ ان میں سے ایک کی شادی بھی ہونے والی تھی۔ گھر میں ان تینوں بھائیوں کا بڑی بے صبری سے انتظارہو رہا تھا۔ تینوں بہنوں کی بے چینی انتہاء پر تھی کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ ان کے تین ویر 6 ماہ بعد گھر آ رہے ہیں تو ان کے لیے بہت کچھ لائیں گے۔ ابو نے ان تینوں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ

    سیالکوٹ سے راجن پور براستہ ڈیرہ غازی خان بس آ رہی ہے ہم کل بیٹھ جائیں گے۔ پھر اگلے دن وہ روانہ ہوئے۔ تینوں بہنیں ہر گھنٹہ بعد اپنے ابو سے کہتیں کہ رابطہ کریں کہ وہ کہاں پہنچ گئے ہیں۔ رات بارہ بجے تک انھوں نے رابطہ رکھا۔ پھر کچھ دیر کے لیے نیند آ گئی۔ صبح کی نماز کے وقت جلدی بیدار ہوئیں۔ ابو سے کہا کہ رابطہ کریں۔ پتہ چلا کہ پل قمبر کراس کر لی ہے۔ انتظار بڑھتا جا رہا تھا۔ کوئی ایک گھنٹے بعد ابو کا موبائل بجنے لگا، تو تینوں بہنیں چہک کر والد کے پاس آ بیٹھیں کہ شاید ان کے بھائی قریب پہنچ گئے ہیں۔ لیکن والد صاحب بس سن رہے تھے ، کوئی جواب نہیں دے رہے تھے۔ باپ کے چہرے پر سنجیدگی بہت گہری ہوئی۔ تو تینوں بہنوں نے اپنے ابو سے کہا کہ کیا ہوا ابو، کیا ہوا ابو۔ ابو سے اور کچھ نا بولا گیا، بس یہی کہا "میں بوڑھا ہو گیا ہوں دعا کرو اللہ پاک اس امتحان میں کامیاب کرے”۔ پھر چند لمحہ بعد مزید کالز آتی رہیں۔ ایک کالز پر ابا جی گر پڑے۔ بہنوں کو معلوم ہوا کہ بس کو حادثہ ہو گیا ہے۔ ماں صدمہ سے نڈھال ہوئی۔ بہنوں نے رو رو کر اپنا حال برا کیا۔

    چند گھنٹوں بعد ایمبولینس کی آواز آئی۔ سب رشتہ دار آ چکے تھے۔ تھوڑی دیر میں ان تینوں شہزادوں کی لاشوں کو الگ الگ چار پائی پر لایا گیا۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ در و دیوار رو رہے تھے۔ آسمان غم میں تھا۔ ماں باپ اور بہنیں ہوش میں نا تھیں۔ وہ شاپنگ بیگ جس میں چھ ماہ کی مزدوری تھی۔ کھولا گیا تو کیا شاندار کپڑے، جوتے اور چوڑیاں تھیں۔ اپنے لیے لنڈے کے وہ سوٹ لائے تھے لیکن ماں باپ اور بہنوں کے لیے بہترین کوالٹی کی چیزیں۔ اللہ اکبر۔

    یہ کہانی میرے وسیب کے بیرون شہر و ملک رہنے والے مزدور شہزادوں کی ہے۔ جو اسلام آباد،راولپنڈی سے اپنا خون پسینہ ایک کر کے پتہ نہیں کس طرح اپنوں کو خوش کرتے ہیں۔ خود کڑی دھوپ اور گرمیوں میں کام کرتے ہیں لیکن اپنوں کو ہر سکون دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ خود لنڈے کے کپڑے پہن کر دنیا کو اچھا دکھاتے ہیں لیکن اپنوں کے لیے اصلی کپڑے اور جوتے لاتے ہیں۔

    اس سانحہ عظیم پر بھی حکومت وقت نا جاگی تو کب جاگے گی؟؟ یہ قاتل انڈس ہائی وے تونسہ روڈ کب ڈبل کرے گی؟ یہ تیز رفتاری کو کب چیک کرے گی؟ یہ رشوت دے کر لائسنس بنانے اور بنوانے والوں کو کب سخت سے سخت سزا دے گی؟ ہم کب تک اپنے وسیب کے گھروں کو اجڑتا دیکھتے رہیں گے؟
    اللہ پاک شہداء سانحہ بائی پاس ڈیرہ غازی خان کے تمام افراد کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ امین

    نوٹ: یہ میری تحریر سانحہ بائی پاس ڈیرہ غازی خان کے حوالے سے تخیلاتی ہے جس میں ایک گھر کے حقیقی درد کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور حکومت وقت سے چند سخت سوالات پوچھنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں فرضی نام ڈالے گئے ہیں۔.