Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پاکستانی سیاست، سیاست دانوں‌ کا رویہ . تحریر: حیدر زیدی

    پاکستانی سیاست، سیاست دانوں‌ کا رویہ . تحریر: حیدر زیدی

    آزادی پاکستان کے بعد سے اب تک پاکستان میں کئی دور ایسے گزرے جس میں عوامی حکومت رہی تو کبھی مارشل لاء ملک میں رائج رہا- لیکن ان چیزوں سے پاکستانی عوام کو کبھی کوئی فرق نہیں پڑا کہ ملک میں کون حکمران جماعت ہے کیوں کہ ان بے حس حکمرانوں نے عوام کو اتنا سوچنے کے لیے وقت ہی نہیں دیا وہ ہمیشہ اپنی روز مرہ ضروریات زندگی اور بنیادی سہولیات جیسا کہ صحت روزگار تعلیم اور بچوں کی پرورش میں ہی الجھا رہے- اسے آپ سابقہ حکمرانوں کی سازش کا حصہ بھی سمجھ سکتے ہیں حالانکہ کہ یہ سب سہولیات کسی بھی جمہوری حکومت کی ذمہداری ہوتی ہے کہ وہ صحت تعلیم روزگار جیسی بنیادی چیزیں عوام کی چوکھٹ تک پہنچائے پاکستان میں بہت سی ایسی سیاسی تنظیمیں ہیں جنہوں نے روٹی کپڑا اور مکان موٹر وے ڈیم ایٹم بم جیسی ریاستیں پراپرٹی کو بنانے کا سہرا اپنے سر پر چڑھنے کی کوشش کی ہر تقریب میں یہ سیاستدان بھیڑ بکریوں کی طرح ایک دوسرے پر سیاسی حملے کرتے ہے اور پس پردہ یہ آپس میں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں- ایسے نام نہاد سیاستدان جلسوں میں تقریری کرکے پاکستانی قوم کا خون گرما کر ان سے ووٹ بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب قوم ان سے ان کی چوری کا حساب مانگے تو یہ لوگ پاکستان سے باہر بھاگ جاتے ہیں اور اگر وہاں بھی پکڑے جائیں تو یہ یہ چور اور ملک سے بھاگے ہوئے نااہل اور خود ساختہ سیاستدان گالم گلوچ پر اتر آتے ہیں گذشتہ دن عابد شیر علی کا ایک پاکستانی شہری سے انگلینڈ میں سامنا ہوا پاکستانی شہری نے عابد شیر علی اور ان کے لیڈر کی چوری کے بارے میں ان سے جواب لینا چاہا لیکن عابد شیر علی گالیوں اور غلاظت بھرے الفاظ کا ذخیرہ جو انھیں ان کی لیڈرشپ کی طرف سے دیا گیا ہے سب کے سامنے اس شہری پر برساتے رہے بات یہ نہیں کہ ان دونوں کے بیچ کیا معاملہ تھا فکر کی بات یہ ہے کہ ان بے حس لوگوں نے سیاست کو اتنا گندا کر دیا ہے کہ ایک صاف ستھرا آدمی سیاست میں آنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے عابد شیر علی کو پاکستان میں ایک مخصوص طبقہ جمہوریت کا چیمپیئن اور نواز شریف کا ہیرو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے یہ پاکستانی قوم کا حق ہے کہ وہ سابقہ حکمرانوں کی چوری اور مکاری کا سوال ان کے منہ پر ہی کر سکے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے اگر یہ سب سوالات عابد شیر علی سے پاکستان میں کیے جاتے تو عزیز دوستو آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ یہ جاگیر دار وڈیرے اور چور حکمران اس کا اور اس کے خاندان کا کیا حشر کرتے- ایک قوم کے لئے یہ ایک باعث شرم بات ہے کہ ہمارے نوجوان عابد شیر علی کو اس کی بے ہودہ زبان استعمال کرنے پر اس کی داد رسی کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کی سپورٹ میں ایک سیاسی جماعت کی طرف سے ٹرینڈز چلائے جارہے ہیں جب سے پاکستان میں عمران خان نے احتساب کا عمل شروع کیا ہے یہ چور حکمران عمران خان کی نفرت میں اتنا گر چکے ہیں کہ یہ کوئی بھی بات کرنے سے پہلے مجھے اپنا اسٹیٹس بھی نہیں دیکھتے اور میرے خیال سے ان کا کوئی اسٹیٹس بھی نہیں ہے عمران خان پر پرسنل اٹیک کرنا موجودہ سیاست اور جمہوریت پر بدنما داغ ہے ہم سب کو سیاست سے بالاتر ہوکر پاکستان پاکستان کی ترقی اور سابقہ حکمرانوں سے وہ لوٹا ہوا پیسہ نکلوانا چاہیے جو انہوں نے پاکستان کی غریب عوام کو دھوکا دے کر اپنے محلات اور فیکٹریوں میں تبدیل کیا ہے اور جب ان سے اس چیز کا حساب مانگا جائے تو یہ لوگ بیماری کے بہانے بنا کر پاکستان ملک سے بھاگ جاتے ہیں- انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں ہیں جب عابد شیر علی جیسے لوگوں کو ان ہی کے سپوٹر اور پاکستان کی غریب عوام گریبانوں سے پکڑ کر رڈو پر گھسیٹیں گے اور اپنا حق مانگیں گی.

    @iamhaiderzaidi

  • عنوان:میرا عشق وی توں تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    عنوان:میرا عشق وی توں تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    یار کو ہم نے جابجا دیکھا

    کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا

    کہیں وہ بادشاہ تخت نشیں

    کہیں کاسہ لیے گدا دیکھا

    عشق کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اس کے وجود کو واضح کیا گیا

    عشق حقیقی
    عشق مجازی
    عشق حقیقی :اپنی زات کے اندر پاۓ جانے والی ہستی سے دل لگا لینا۔ اس عشق کے لیے ظاہری جسم کا ہونا ضروری نہیں ہے
    اسی لیے اس عشق کی پاکیزگی اس کے نام سے عیاں ہے۔
    یہ عشق اپنی زات سے آگے کی نشان دہی کرتا ہے
    اسی عشق کو صوفیاء کرام نے اپنا محور بنایا اور اپنی زات کی نفی کی۔
    اور یہی وہ عشق ہے جس میں موسی علیہ السلام کے دور میں ایک گڈریے کو مبتلا پایا کہ جس کو یہ بھی خبر نہیں کہ کپڑے کے ساتھ اپنے جسم کو بھی سی رہا ہے۔
    اسی عشق میں رابعہ بصری، بابا بلھے شاہ، بابا فرید گنج شکر جیسی شخصیات نے محو ہو کر خود کو فنا فی اللہ کے سپرد کیا
    اور یہاں اگر حضرت جنید بغدادی ، علی ہجویری کا نام نہ لیا جاۓ تو عشق حقیقی سے زیادتی ہو گی کہ جنھوں نے شریعت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر رب کل کائنات کی اطاعت میں خود کو اس ذات باری تعالٰی کے سپرد کر دیا اور تاریخ میں خود کو امر کر دیا۔
    عشق مجازی: جسے عمومی طور پر انسانی جسم کے میلان کو کہتے ہیں
    یہ خالص انسانی جذبہ ہے جو کسی مادی شے سے مغلوب ہو کر اس کے حسن کے حصار میں آ جاتا ہے۔ عشق مجازی میں لفظ مجاز عربی زبان سے ماخوذ ہے جس کے معانی جاہز ہیں

    اور عشق کے معانی پھٹ جانے کے ہیں
    سو جب انسان کسی مادی شے کے لیے اپنے دل میں اتنی شدید خواہش رکھتا ہے کہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے بناء وہ زندہ نہیں رہے گا تو اسی کو عشق مجازی کہتے ہیں۔ لیکن عرف عام میں کسی مرد کا کسی عورت یا کسی عورت کا کسی مرد پر فریفتہ ہونے کو عشق مجازی تسلیم کیا جاتا ہے۔
    ہمارے یہاں ایسے بہت سے قصے کہانیاں اور شاید کچھ حقیقی واقعات بھی مشہور ہیں جن سے عشق مجازی کو منسوب کیا جاتا ہے
    لیلیٰ مجنوں جو موجودہ سعودیہ اور یمن کے متعلق منسوب قصہ ہے۔
    جس کی انتہا موت پر ہوئی
    پھر سوہنی مہینوال اور دیگر ایسی بہت سی کہانیاں اس عشق کی داستان بیان کرتی ہیں
    لیکن اس عشق کا مطمح نظر یا تکمیل اس جسم کا حاصل کرنا ہی تھا۔
    کچھ احباب کا خیال ہے کہ ایسے عشق میں شہوت کا عنصر بھی ہوتا ہے
    لیکن آج کے دور میں ہر دو عشق ناپید ہو گۓ
    عشق حقیقی تو شاید کہیں گم ہی ہو کر رہ گیا
    لیکن عشق مجازی فلموں ، ڈراموں سوشل میڈیا اور ہاتھ میں تھامے موبائل نے اپنے ہاتھ میں لے کر احباب کے خیال کو تقویت دی
    اہم ترین پہلو یہ ہے کہ عشق مجازی کا دین حق میں کوئی وجود نہیں
    البتہ عشق حقیقی دین میں تسلیم کیا جاتا ہے
    متفق ہونا ضروری نہیں

  • ریاست مدینہ اور ہم . تحریر: معین وجاہت

    ریاست مدینہ اور ہم . تحریر: معین وجاہت

    پاکستان دنیا کی پہلی ریاست ہے جو ریاست مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی۔ پاکستان کے قیام کے بعد جب کسی نے بانی پاکستان سے سوال کیا کہ پاکستان کن قوانین کو فالو کرے گا تو قائد نے جواب دیا کہ پاکستان کی قانون سازی آج سے 14 سو سال قبل ہو چکی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ بانی پاکستان کی رحلت کے بعد ہم نے ریاست مدینہ کے تصور کو بھلا دیا، گزشتہ سات دھائیوں میں بہت دفعہ آئین کو تبدیل کیا گیا لیکن کسی نے بھی ریاست مدینہ کا ذکر نہیں کیا۔ اگست 2018 میں جب عمران خان وزیراعظم بنے تو انہوں نے پاکستان میں ریاست مدینہ کے اصولوں کو اپنانے کی بات کی لیکن ھمارے ملک میں ایک خاص طبقہ ایسا بھی ھے جسے یورپ کی برہنہ منڈیوں سے اتنی محبت ھے کہ انھیں خان صاحب پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں کو اپنانے پر شدید تکلیف ھوئی لیکن اس سب سے پہلے کیا ھم خود بطور پاکستانی اس قابل ھیں کہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنا سکیں۔۔۔

    ہمارے پیارے نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم دین اسلام میں انسانیت کا پیغام لے کر آئے اور ایک طویل و صبر آزماء جدوجھد کے بعد اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جس کا منشور محبت، اخوت، انصاف اور مساوات کے ان چار سنہری اصولوں پر منحصر تھا جس پر حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلفاء راشدین نے من و عن عمل کر کے ریاست مدینہ کو استحکام بخشا۔

    جب وزیراعظم پاکستان ریاست مدینہ کا نام لیتے ہیں تو سب سے پہلے ھمیں بطور معاشرہ سوچنا ہو گا کہ کیا ہمارے اعمال اس قابل ہیں کہ ہم خود کو ریاست مدینہ کا ذمہ دار بنا سکتے ہیں۔

    ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں، ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی تاریخ پیدائش کو چھپایا جاتا ہے اسکا اندراج کوئی 3 سے 5 سال بعد کروایا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں نوکری کے لیے عمر کا مسئلہ نا بنے لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ جب ہم بچے کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھ رہے ہیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم بہترین انداز میں انسان سازی کر رہے ہیں۔

    تاجر کو ملاوٹ سے پاک مناسب قیمت پر اشیاء فروخت کرنا ہوں گی, رشوت کا جو بازار گرم ہے اسکو بند کرنا پڑے گا، کفرانہ سودی نظام سے جان چھڑانا ہو گی، طاقتور اور کمزور دونوں طبقہ کیلئے یکسان نظام انصاف لاگو کرنا ہو گا، جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی تو سب سے پہلے انصاف کا بول بالا ہوا۔ انصاف سب پر لاگو کیا گیا۔ انصار و مہاجرین، مسلمان و یہود سب کیلئے یکساں نظام انصاف اپنایا گیا، قاضی کو پابند کیا گیا کہ انصاف اس کا شیوہ ھو گا کیونکہ ریاست کے مکمل ڈھانچے کا سانچہ قاضی کے قلم سے ھو کر گزرے گا۔

    جب ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی گئی تو طاقتور نے طاقت کا غلط استعمال نھیں کیا، اقربہ پروری کو نھیں اپنایا، پسند و نہ پسند کو کوسوں دور چھوڑا گیا، غلطی مسلمان نے بھی کی تو سزا پائی اور انصاف کا دروازہ یہودی نے بھی کھٹکایا تو جزاء پائی۔ ہمیں بھی اپنے معاشرے میں انصاف کے نظام کو یکساں کرنا ہو گا تاکہ کسی غریب کا حق نا کوئی مار سکے،

    اسلام سے پہلے بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا پھر ہمارے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمة للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اور اس زندہ دفن کرنے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی وملی زندگی میں عورتوں کی کیا اہمیت ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں سونپیں، ریاست مدینہ نے جو حقوق دیے وہی حقوق دینا ہوں گے جسکی وہ اپنی پیدائش سے حقدار ھے، بیٹی کو اپنی جائیداد میں حصہ دار بنانا ہو گا،

    ہمسایے کے حقوق، والدین و بزرگوں کے حقوق پر عمل کرنا ہو گا، اسی طرح ہمیں معاشرے میں ہزاروں ایسی برائیوں کا قلع قمع کرنا ھو گا جو کسی بھی معاشرے کو ناسور بنا دیتی ھیں اور یہ سب تبھی ممکن ہے جب ہم خود کو ٹھیک کریں گے کیونکہ کسی بھی برائی یا خرابی کو ختم کرنے کے عمل کی ابتداء سب سے پہلے اپنی ذات سے کی جاتی ھے۔

    ہم سب کو ریاست مدینہ تو چاہیے لیکن ہم میں سے کوئی ایک فرد بھی اپنے آپکو تبدیل کرنے کو تیار نھیں۔ علامہ اقبال نے یہ الفاظ شاید ہماری ہی حالت زار پر لکھے تھے کہ۔۔۔۔۔

    خدا نے اج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
    نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا

  • بھاشاڈیم کی افیسرکالونی معمولی سیلاب کےزد میں  تحریر: محمد عرفات بدر

    بھاشاڈیم کی افیسرکالونی معمولی سیلاب کےزد میں تحریر: محمد عرفات بدر

    اس بوسیدہ نظام میں عوام کو پیسہ ملے حلال حرام سے کوئی تعلق نہیں اور افیسر کو کرپشن کا موقع ، پھر ملکی املاک وجائداد جاے باڑ میں ، زیرنظر تصویر افیسرکالونی بھاشا ڈیم کی ہے اس کالونی کی لوکیشن ایسی جگہ پہ ہے جہاں ہر وقت سیلابی ریلے کا خطرہ لاحق رہتا ہے ، یہ کالونی تھور نالے کے اس پاس تعمیر کی گئی ہے جہاں بارش کے موسم میں سیلاب کا گزرنا معمول کا حصہ ہے ، مستقبل میں مورخ لکھنے پہ مجبور ہو گا کہ اس کالونی کی جگہ کا انتخاب انتہائی آحمقانہ اور بےوقوفانہ عمل تھا زیرتعمیر بھاشا ڈیم کے افیسرز اس کالونی میں رہائشپزیر نہیں کیونکہ ڈیم زیرتعمیر ہے اور وابڈا افیسرزکی تعیناتی ابھی تو مکمل طور پہ شروع نہیں ہوئی وقت انے افیسرز بھی تعینات ہونگے لیکن کوئی افیسریہاں رہنے کو تیار نہیں ہوگاکیونکہ یہ کالونی موت کے کنویں سے کم نہیں ، یہاں رہائش پزیر لوگ ہر وقت سیلابی ریلے کے خوف کی زندگی گزاے گے، افیسر کالونی کے لئے اس پاس کئ اچھے جگے موجود تھی ، لیکن اس جگہ کا انتخاب کیوں کیا گیا سمجھ سے بالاتر ہے، یہاں پانی کےعلاوہ کوئی خاطرخواہ وجہ نظر نہیں آرہی، کیا مستقبل میں یہی کالونی سے کام لیاجاے گا؟ اگر لیاجاتاہے تو سیلاب سے کیسے بچایا جاےگا؟ اگرمتبادل جگہ فرہم کی جاتی ہے تو اس پہ ہونے والاحکومتی نقصان کا زمہ دارکون؟

    @ArafatBadr6

  • صفائی نصف ایمان ہے . تحریر: نعمان خان

    صفائی نصف ایمان ہے . تحریر: نعمان خان

    اللہ پاک نے دین اسلام کو کتنا آسان کر دیا کہ آدھا ایمان صرف صفائی کو قرار دے دیا۔
    لیکن کیا ہم پاکستانی اس پر عمل کرتے ہیں؟
    جواب اکثریت کا نہیں میں ہو گا کیونکہ ہم اپنی ذمےداری سے بھاگتے ہیں۔ہر کام حکومت کے ذمے نہیں ڈالا جا سکتا۔بحثیت شہری ہماری بھی ذمےداری ہے کہ جس طرح ہم اپنے گھر کو صاف رکھتے ہیں بلکل اسی طرح اپنے محلے اور شہر کو صاف رکھیں۔
    ہر جگہ کچرا پھینکنے سے گریز کریں۔جہاں حکومت نے جگہ بنائی ہے کسی کاغز کے بڑے تھیلے میں اس جگہ ہی رکھیں تاکہ گند تمام جگہ نا پھیلے۔

    کیا ہم پان سگریٹ اپنے گھر میں ہر جگہ پھینک دیتے ہیں؟
    کوئی ایسا نہیں کرتا کیونکہ ہم گھر میں صفائی پسند ہیں لیکن باہر جا کر ہم ایسا نہیں کرتے کہ یہ حکومت کی ذمےداری ہے جبکہ ایسا بلکل نہیں۔غلط جگہ کچرا پھینکنے پر جرمانہ ہے۔
    یہ تمام غلطیاں کہیں نا کہیں مجھ سے بھی ہوتی ہیں۔
    آئیں مل کر کوشش کریں کہ ایسی غلطیاں نہیں کریں گے اور اللہ کے حکم کو دل سے مانیں گے اور اپنے محلے اور شہر کو صاف رکھیں گے۔ساتھ حکومت کی یہ ذمےداری ہے کہ جس جگہ کچرا پھینکنے کی جگہ بنائی گئی ہے اسے روز کی بنیاد پر صاف رکھے تاکہ بہت ذیادہ کچرا جمع نا ہو۔

    Twitter ID:@dtnoorkhan

  • ‏نوجوان اور گمراہ کن تحریکیں  تحریر  ہادیہ سرور

    ‏نوجوان اور گمراہ کن تحریکیں تحریر ہادیہ سرور

    نوجوان کی مثال ایک ایسے برتن کی مانند ہے جو بالکل خالی ہو اور پھر اس میں جو چیز بھی ڈالی جاۓبرتن اس سے بھر جاتا ہے۔ اسی طرح نوجوان کا ذہن بھی جوانی کی دہلیز پر پہنچنے تک بالکل خالی ہوتا ہے،اس میں جس طرح کے بھی خیالات ڈالے جاتے ہیں، ذہن انہیں قبول کر لیتا ہے اور پھر وہی اچھے یا برے خیالات اس کے دین، اخلاق و کردار اور معاشرتی ادب و آداب کی بہتری یا برائی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔اور وہ لوگ جو دینی گمراہیوں،شیطانی قوتوں اور فحاشی و عریانیت کے فروغ کی لیے کام کرتے ہیں، وہ ایسے نوجوانوں کو اپنا خصوصی ہدف بناتے ہیں اور ان کے سامنے دنیا کی رنگینیوں اور عیاشیوں کی ایسی دلکش اور خوشنما تصویر پیش کرتے ہیں کہ نوجوان بغیر سوچے سمجھے اور اپنے اُخروی انجام سے بےپرواہ ہو کر مقناطیسی کشش کی مانند ان کے پیچھے چلنا شروع کر دیتے ہیں۔
    لیکن اس حوالے سے اگر نوجوان اپنی فطری صلاحیتوں کا صحیح استعمال کریں، گمراہ کرنے والے لوگوں کی گمراہ کن باتوں سے اپنا دامن بچا کر رکھیں،ان سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لیں اور خالصتًا قرآن و حدیث سے اپنا دامن وابستہ کر لیں تو کچھ بعید نہیں کہ یہ ساری گمراہ کن تحریکیں اپنی موت آپ مر جائیں گی۔
    @iitx_Hadii

  • انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت؟؟ . تحریر:- فرمان اللہ

    انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت؟؟ . تحریر:- فرمان اللہ

    دنیا میں سب سے بڑے جمہوریت کے دعویدار ھندوستان کس منہ سے دنیا کی سب سے بڑے جمہوریت کا دعوی کررہا ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہم اکیلئے نہیں بلکہ کوئی بھی ملک جو دل میں توڑا سا بھی انسانی ہمدردری رکھتا ہو ان کی بغرتیاں ظلم اور جبر کو کبھی بھول پائنگے اور نہ کبھی ان کی یہ بھونگیاں تسلیم کرینگے کیونکہ بظاہر ھندوستان جہاں ایک طرف اپنی اپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلا جارہا ہے تودوسری طرف تقریبان ایک سال سے کشمیر میں نظام زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے کشمیریوں پر نماز جمعہ تک ادا کرنے کی پابندی ہیں کشمیری مسلمانوں سے جینے کا حق چھین لیا ہے انکو انسان ماننے کو تیار نہیں نہیں دوسرے طرف اپنے ملک میں مقیم مسلمانوں کو چن چن کر مارہے ہیں مسلم فسادات کروارہے ہیں مسلمان طبقہ کو ملک بدر کرنے کی باتیں چل رہی ہیں۔

    اقلیت کو انکے حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے اقلیتوں کیلئے غنڈی بن گئے ہیں ھندوں نے ایک راج قائم کیا ہے پورے ھندوستان میں اقلیتوں پر زمین تنگ کردیا ہے دوسرے طرف کشمیری نوجوانوں کا قتل عام جاری ہیں انکے انکھوں کی روشنی چھینی جارہی ہیں پلیٹ گن کا استعمال کثرت سے جاری ہیں عزتیں پامال ہورہے ہیں ماوں بہنوں کو جیلوں میں ڈال رہے ہیں وہی مکروہ چہرہ جو ھندوستان کی غنڈہ گرد حکومت کی ہیں وہ اس نقاب سے چھپانا چاہتی ہیں کہ وہ 26 جنوری کو بطور جمہوریت کہ ھندوستان دنیا کے سب سے بڑے جمہوریت ہے مناتے ہیں خالانکہ ھندوستان دنیا کے سب سے بڑے جمہوریت نہیں دہشتگرد ملک ہیں دنیا میں فسادات راء کے اوارا کتے ار ایس ایس بجرنگ بلی اور شیوسینا جیسے لوگ کررہے ہیں لیکن اخرکار یہ دنیا کو کیوں نظر نہیں اتی یہ اقوام عالم کو نظر کیوں نہیں اتی ھندوستان لاکھ بار جمہوریت منائے لیکن وہ دہشتگرد تھا ہے اور رہیگا لاکھوں مسلمانوں کا قاتل ھندوستان نہ دنیا کا بڑے جمہوریت ہوسکتا ہے اور نہ تھا اگر ھندوستان سب بڑا جمہوریت ہے تو کشمیری مسلمانوں کو حق خود اردیت کیوں نہیں دیا جارہا مسلمان اقلیت کو اپنا حقوق کیوں نہیں دیا جارہے کشمیری مسلمانوں کو حق خود ارادیت دیا جائے مسلمان اور باقی اقلیتوں کو حق خود کو انکے حقوق دیا جائے تب جاکر یہ دہشتگرد جمہوریت منائے۔

    Femikhan_01@

  • عید_قرباں کے کچھ اصول . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    عید_قرباں کے کچھ اصول . تحریر : اعجازاحمد پاکستانی

    عید قرباں کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ قربانی کی عید ہے۔اس دن مسلمان اپنے پسندیدہ اور بے عیب مویشیوں کو قربان کرتے ہیں جو کہ سنتِ ابراھیمیؑ ہے۔ اسکو سنتِ ابراھیمیؑ اسلئے کہتے ہیں کہ ابراہیمؑ جواللہﷻ کے جلیل القدر پیغمبر ہےجنکو خلیل اللہ کالقب بھی حاصل ہے یہ انکا سنت ہے۔ کیونکہ ابراہیمؑ کو ایک دفعہ اللہﷻ نے خواب میں حکم دیاکہ اپنے محبوب بیٹے اسماعیلؑ کومیرے راستے میں قربان کردو۔ چنانچہ ابراہیمؑ نے صبح اسماعیلؑ کواس معاملے سے آگاہ کیااور اس کوعملی جامعہ پہنانے کیلیئے اسماعیلؑ کوذبح کرنا چاہااوراس مشکل امتحان میں کامیاب ہوئے۔

    قربانی ہم سنتِ ابراہیمیؑ کوپورا کرنے کیلئے کرتے ہیں لیکن قربانی کےوقت ہم قربانی کے اصولوں کوبھول جاتے ہیں بس یہی کوشش ہوتی ہے کہ گوشت کااچھاحصہ اپنے لئے بچائے۔
    دوسرا یہ کہ ہم قربانی توکرلیتے ہیں لیکن نیت یہ ہوتی ہے کہ گوشت آجائیگا جب کہ اس طرح کی نیت رکھنے سے گوشت تومل جاتی ہے لیکن قربانی ضائع ہوجاتی ہے۔ تیسرایہ کہ ہم قربانی کرکے اسکے باقیات کووہی چھوڑدیتے ہیں جوبعدمیں ماحولیاتی آلودگی اورہوائی جہازوں کے حادثات کا سبب بنتاہے جس میں اکثر ناقابلِ تلافی نقصانات ہوجاتے ہیں۔ میں چاہیے کہ باقیات کووہاں تک پہنچائے جہاں وہ کسی نقصان اورگندگی کی باعث نہ بنے۔ بحیثیتِ قوم ہمیں ان چیزوں پرغور کرناچاہئے اورذمہ دارشہری ہونے کاثبوت دیناچاہیے۔

    @IjazPakistani

  • پاکستان اورافسرشاہی . تحریر :‌ وقاص رضوی جٹ

    پاکستان اورافسرشاہی . تحریر :‌ وقاص رضوی جٹ

    پاکستان کی تاریخ بہت درد ناک ہے۔بانیانِ پاکستان نےیہ خطہِ ارض اسلام اور نظامِ انصاف کے قیام کیلیے حاصل کیا۔ مگر بدقسمتی یہ تھی کہ قیامِ پاکستان کے چند سال بعد ہی پاکستان حقیقی اورمخلص قیادت سےمحروم ہوگیا۔ قاٸداعظم کی اچانک وفات اوربعد ازلیاقت علی کی قتل پاکستان کی درِ و دیوار ہلاگیا۔اس کے بعد ملک کی باگ ڈورایسےلوگوں کے ہاتھوں میں چلی گٸ۔ اس میں بیوروکریسی اور فوجی قیادت کابڑاکردار رہا۔سیاستدان چونکہ اتنےتعلیم یافتہ نہیں تھے اور مختلف شعبہ ہاۓزندگی سےتعلق رکھنے والےماہرین کابھی فقدان تھا تو اس خلا کو بیوروکریسی نے بھردیا۔ اسی وجہ سےبیوروکریسی شروع سے نظام پرمکمل طور پر قابض ہے۔ مختلف حکومتوں نےبیوروکریسی کے ملک کےنظام پرغیرمعمولی کنٹرول کےخاتمےکیلیےکوششیں کیں مگر سیاسی عدم استحکام کیوجہ سےبیوروکریسی نے یہ کوششیں ناکام بنادیں۔ بیوروکریسی برطانوی سامراج کی پیداوار ہے۔ برطانوی سامراجی دور میں بیوروکریٹس عوام کیساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح سلوک کرتےتھے۔ سامراجیت کی باقیات آج بھی پاکستانی بیوروکریسی میں پاٸی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ Public Service Delivery پاکستان کاسب سےبڑا مسٸلہ ہے۔ جس سے نظام بہت سست روی کاشکارہے۔ کٸ کٸ مہینے فاٸیلیں ایک دفترسےدوسرےدفترمنتقل ہوتی رہتی ہیں۔ مالی سال 2019-20میں سابقہ فاٹاکےاضلاع کیلیے 100 ارب سے زیادہ مالیت کےترقیاتی فنڈز مختص کیےگۓ مگر بیوروکریسی کی سست روی کی وجہ سےسال کےاختتام پر صرف چند ارب ہی خرچ ہوپاۓ۔ اس جیسی بہت سی رپورٹس آۓدن پڑھنےکوملتی ہیں۔عوامی مساٸل کی کوٸی شنویدنہیں ہوتی۔ کٸ کٸ گھنٹوں تک شہریوں کو انتظار کروایاجاتاہے۔ میرٹ پرکام کروانےکیلیےبھی شہریوں کی تذلیل کی جاتی ہےاورشہریوں کےذہنوں میں بات بٹھادی گٸ ہے کہ کوٸی کام بغیررشوت یاسفارش کےکرواناممکن نہیں ۔ Red Tapism بہت ہے۔ ایک چھوٹےسےکام کیلیےکٸ مہینےلگ جاتےہیں۔

    @WaqasRizviJutt

  • پردیس کی عید . تحریر : محمد اصغر

    پردیس کی عید . تحریر : محمد اصغر

    پردیس کی عید پردیسی بھائیوں کے لئے کسی اذیت سے کم نہیں ہوتا جب بھی پردیس عید میں گزرتا ہے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کی ساری مشکلات ٹینشن آج ہی ایک ہی دفعہ آئی ہو پردیس میں عید گزارنا انتہائی مشکل ہی نہیں بلکہ ناگوار ہے پردیسی بھائی عید نماز پڑھنے کے بعد کھانا کھاتے ہیں اور بعض تو گھر کی یاد میں کھانا بھی نہیں کھاتے سو جاتے ہیں اور شام کو اٹھتے ہیں یہ لمحہ یہ عید کا دن کسی بھی پردیسی بھائی کے لیے کسی تکلیف سے کم نہیں گھر کی یاد ماں باپ کی یاد بیوی بچوں کی یاد بھائیوں بہنوں کی یاد عید کا سارا دن سونے اور ٹینشن میں گزر جاتی ہے عید پر گھر پر بات تو ہوجاتی ہے لیکن دل کو اطمینان نہیں ہوتا وہ خوشی وہ پیار جو عید کے دن دیس میں رہنے والوں کو ملتی ہے یہاں پردیس وہ دن یاد آتے ہیں یقینا یہ بات کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ کسی بھی پردیسی کے لیے عید کا دن کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا اگر آپ پردیسی ہیں تو یقینا آپکو میری تمام باتیں دل میں چھب رہی ہونگی.

    پردیس کی عید پہلے دن سوتے گزر جاتی ہے دوسرے دن مارکیٹ شہر بازار کا چکر لگا لیتے ہیں پھر بھی وہاں کوئی جاننے پہنچاننے والا کوئی نہیں ہوتا شام کو پھر دوستوں کی دعوت پھر لوگ دوسرے یا تیسرے دن اپنے اپنے جاب پر چلے جاتے ہیں
    پردیس کی عید پردیسی بھائیوں کے لئے ٹینشن کا دن ہوتا ہے اور یہ بات وہی سمجھ سکتا ہے جو خود پردیسی ہو یا اس نے کچھ عرصہ پردیس میں گزارا ہوا ہماری دعا ہے اللہ عزوجل تمام پردیسی بھائیوں کی مشکلات آسان فرمائے. آمین.

    Twitter Handle @ZiDDiBlochPTI