Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • پاکستان اور سایبر جنگ  کی تیاری  تحریر: شہزاد احمد

    پاکستان اور سایبر جنگ کی تیاری تحریر: شہزاد احمد

    ہم اپنے بڑوں سے سنتے تھے کہ مستقبل میں جنگ بغیر بندوقوں کی ہوگی ہم اس بات کو سن کر ہم حیران ہوا کرتے تھے کہ بندوق کے بغیر بھی کوئی جنگ ہوتی ہے بھلا- جیسے ہی ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے اور دنیا ایڈوانس اور ہورہی ہے ایسے ہی بڑوں کی باتیں سچ ہونے لگ گئی ہے-
    ان بغیر بندوق کے جنگ میں سے ایک جنگ کا نام ہے سائبر کرائم دنیا کے ممالک میلوں دور فاصلے پر اپنے ہی سرزمین اپنے ہی گھر سے ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ سکیں گے- اس جنگ میں نہ کسی بندوق کی ضرورت ہوگی نہ کسی جنگی جہاز کی ضرورت ہو گی اور نہ کسی ٹینک کا ضرورت ہوگا۔ بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے دوسرے کی سسٹم تباہ کر رہے ہوں گے- دنیا میں 2019 سے کرونا وائرس پھیلنے لگا ہے اور تب سے ہی اس جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہےـ
    دنیا کا تقریبا سارا نظام ہی انٹرنیٹ پر منحصر ہو چکا ہے- خواہ وہ کسی ملک کا الیکشن ہو تعلیمی نظام ہو معیشت ہو اکانومی ہو بزنس ہو تقریبا سب آن لائن ہو چکے ہیں-
    پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لگ ڈاؤن کے دوران ہزاروں سائبر اٹیکس ہوئے ہیں جن میں سے کچھ بزنس کے زوم سیشنز، پر تعلیم کے زوم سیشنز پر، گورنمنٹ ویب سائٹس، پر پرائیویٹ اداروں پر ہوئے ہیں-
    ان میں سے ایک یہ تھا جب پاکستان میں آن لائن تعلیم کا کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں تھا اور سٹوڈنٹس آن لائن امتحان لینے کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ کچھ انٹرنیٹ کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے تھے اسی اثنا میں (ایچ ای سی) ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کا ویب سائٹ ہیک ہو گیا-
    ہمارا پڑوسی ملک بھارت آئی ٹی کے دوڑ میں ہم سے بہت آگے ہیں اور ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ خدانخواستہ وہ کبھی بھی ہمارے ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں-
    خصوصا ہمارے خطے میں موجودہ صورتحال کی وجہ سے پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہے-
    کوئی ہمارا ساتھ چاہے گا تو کوئی ہمارا خلاف ہوگا، کسی کو ہماری ضرورت ہوگی، جبکہ کسی کو ہم چاہیں گے-
    جس طرح جنگ کے دوران پاکستان عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے کوئی امداد بھیج رہا ہوتا ہے تو کوئی اسلحہ لے کر باہر کی طرف جاتا ہے۔ اسی طرح پاکستانی عوام میں سائبر سیکیورٹی اور سائبر کرائم کے عوامل کا شعور ہونا چاہیے تاکہ مشکل وقت میں اپنی اور اپنے ملک کی دفاع کرسکیں۔
    پاکستان اندرونی اور بیرونی سائبر سیکیورٹی کے مسائل سے دوچار ہیں-
    پاکستانی حکومت کو غصہ، مذمت، جیل اور پھر رہائی جیسے فلسفوں سے نکل کر عملی اقدامات کرنے چاہیے۔
    موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق پاکستان سائبر کرائم کے قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے اس کو مزید سخت اور فعال کرنا چاہیے
    بدقسمتی سے پاکستان میں حکومتی سطح پر کوئی بھی سائبر سکیورٹی اویرنس پروگرام یا کمپین نہیں چلایا جا رہا ہے جو کہ بعد میں ہمارے لیے بہت خطرہ بن سکتا ہے جس طرح کوئی سیاسی جماعت یا حکومت اپنی الیکشن کمپین مقامی زبانوں، محلوں اور گھروں میں جاکر کرتا ہے اسی طرح سے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر مقامی زبانوں میں سائبر سیکیورٹی اویرنس پروگرام چلانے چاہیے تاکہ پاکستانی عوام سائبر کرائم کے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور اپنے ملک کی دفاع کے لئے مکمل تیار ہو۔ پاکستان زندہ باد
    (@imshehzadahmad)

  • عنوان : عیدالاضحٰی اور سنت ابراہیمی تحریر : تہران الحسن خان

    عنوان : عیدالاضحٰی اور سنت ابراہیمی تحریر : تہران الحسن خان

    عید الاضحٰی ایک ایسا مذہبی تہوار ہے جو اپنے ساتھ بہت سی خوشیاں اور یادیں لے کر آتا ہے۔ اور اس خاص دن کے موقع پر دنیا بھر کے مسلمان سنت ابراہیمی کی ادائیگی پورے مذہبی جوش و خروش کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ یہ تہوار ایک ایسی قربانی کی یاد دلاتا ہے جس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں ملے گی۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا اور اس خواب میں حکم ملتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ اےابراہیم اپنی سب سے زیادہ پیاری چیز میری راہ میں قربان کرو۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کےحکم کے مطابق اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنی زوجہ حضرت حاجرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ اسماعیل علیہ السلام کو تیار کر دیں کسی دوست کے ہاں دعوت پر میں اس کو ساتھ لے جاناچاہتا ہوں۔
    اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت دعاؤں کے بعد عمر کے پچھلے حصے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شکل میں اولاد عطا فرمائی اور اللہ کے حکم کی تکمیل کیلئےحضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کو اپنے ہاتھوں قربان کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے گھر سے اس مقام (منی) کی طرف نکلے جہاں اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا تھا۔
    منزل کی طرف جاتے ہوئے شیطان نے راستہ روکا اور ورغلانے کی کوشش کی کہ ایک خواب کیلئے تم اپنے بیٹے کو ذبح کرنے جارہے ہو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پتھر اٹھا کر شیطان کو مارا اور فرمایا ہٹ جاؤ میرے پاس ایک اسماعیل ہے اگر ہزار بھی ہوتے تواللہ کی راہ میں قربان کر دیتا۔سبحان اللہ
    اپنے تیرہ سالہ بیٹے حضرت اسماعیل کو ساتھ لیااور راستے میں اپنے خواب کا تذکرہ کیا اپنے بیٹے سے اس کی رائے پوچھی۔
    اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا۔
    ابو ذبح کیا کرناہے جو کرنا ہے کیجیے اور ایسا تو ممکن نہیں کہ گلے پر چھری چلے اور میں تڑپوں نہیں لیکن میں آپ کو صبر بھی کر کے دکھاوں گا۔

    باپ نے بیٹے کو لٹایا اور رسیوں سے بدن جکڑ لیا۔ ہاتھ میں چھری پکڑ لی۔
    اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد محترم سے فرمایا کہ یہ رسیاں کھول دیجیے مورخ لکھے گا کہ باپ ذبح کرنا چاہتا تھا بیٹا ہونا نہیں چاہتا تھا۔ سبحان اللہ۔
    باپ نے بیٹے کی ریشم جیسی گردن پر چھری رکھ دی اور پورے زور سے دبائی لیکن ایک بال بھی نہ کٹا چھری کو پتھر پر تیز کیا اور واپس گردن پر رکھ کر زور سے دبائی اور گردن کٹ گئی خون بہنے لگا خوش ہو گئے کہ اللہ کے حکم کی تعمیل کر دی۔بارگاہ رب ذوالجلال میں سرخرو ہو گیا جلدی جلدی آنکھوں سے پٹی اتاری اور دیکھتے ہیں کہ ذبح ہونے والا ان کا گوشہ جگر اسماعیل نہیں بلکہ ایک دنبہ تھا اور حضرت اسماعیل پاس کھڑے مسکرا رہے تھے۔

    اللہ پاک نے چھری کو اپنے حکم سے روک دیا کہ ایک بال بھی نہ کاٹے اور ساتھ ہی دنبہ حضرت اسماعیل کی جگہ رکھ دیا اور پچھلوں کیلئے سنت کر دیا۔
    عید الضحی اس عظیم قربانی کی یاد ہے جو ہر سال ذوالحج کے مہینے میں تازہ کی جاتی ہے۔
    اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور کئی ایسی عید کی خوشیاں نصیب فرمائے۔
    آمین۔
    شکریہ۔


    Freelance Content Writer, Blogger, Social Media Activist
    To find more about him check 

     

  • ڈیرہ غازی خان اور اس کے مسائل تحریر: ندرت حامد

    ڈیرہ غازی خان اور اس کے مسائل تحریر: ندرت حامد

    ڈیرہ غازی خان شہر کی تاریخ 400 سال پرانی ہے۔ پندرھویں صدی کے وسط میں حاجی خان میرانی نے اپنے بیٹے غازی خان میرانی بلوچ کے نام پر اس شہر کی بنیاد رکھی ۔ ڈیرہ غازی خان چاروں صوبوں کو آپس میں ملاتا ہے یعنی پاکستان کے بالکل درمیان میں ہے ۔ خوبصورتی میں بھی مالامال ہے جس کے مغربی حصے میں بلند و بالا کو سلمان اور مشرقی حصے میں پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ پایا جاتا ہے ۔ ڈیرہ غازی خان سیاسی اعتبار سے بھی کافی اہم راہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک کوئی نہ کوئی اہم شخصیت کابینہ میں شامل رہی ۔
    بلخ شیر مزاری نون نون لیگ کی حکومت ختم ہوتے نگران وزیر اعظم بنے ان کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ نومبر 1993 میں فاروق احمد خان لغاری جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالا جو کہ دسمبر 1997 تک قائم رہا۔ اسی طرح سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ بھی گورنر پنجاب رہے اور ان کے بیٹے دوست محمد خان کھوسہ وزیر اعلی پنجاب رہے جو کہ نون لیگی کارکن ہیں ۔
    موجودہ حکومت میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا تعلق بھی اسی شہر محکمہ موسمیات کی وزیر زرتاج گل اور مشیر وزیر صحت جناب حنیف خان پتافی کا تعلق بھی ڈیرہ غازی خان سے ہی ہے ۔
    سیاسی لحاظ سے بہت اہم شخصیت رکھنے والے شہر میں ترقی نہ ہونے کے برابر ہوئی۔ حال ہی میں تونسہ روڈ پر ہونے والا حادثہ جس میں تیس لوگوں نے جان کی بازی ہاری۔۔۔۔ یہ حادثہ نہیں بلکہ 70 سال سے ہونے والی نااہلی کا نتیجہ ہے ۔اسی روڈ پر ہر سال سینکڑوں جانیں چلی جاتی ہیں ۔ سڑکیں ہونے کی وجہ سے حادثات ہونا عام سی بات ہے ۔ چاروں صوبوں کو ملانے والا شہر میں سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے ۔ اربوں روپے کی لاگت سے ایک روڈ تعمیر ہوتا ہے اور چھ ماہ بعد اس کی حالت بدترین ہو جاتی ہے ۔ یہ حال صرف تونسہ روڈ کا ہی نہیں بلکہ اندرون اور بیرون شہر کی تمام تمام سڑکوں کا یہی حال ہے ۔

    اگر تعلیمی لحاظ سے شہر کی ترقی کا جائزہ لے کر 70 سال میں صرف ایک ہی یونیورسٹی بن پائی ۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے بھی میدان نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

    شہریوں کے لیے پینے کا صاف پانی تک نہیں ۔ پائپ لائن جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی سیوریج کا پانی بھی پینے کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے ۔
    اور انتظامیہ کی طرف سے اس بات کا کوئی خاص خیال نہیں رکھا جاتا۔

    الغرض ہر شہر طرح کے مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔ موجودہ حکومت میں بزدار کی زیر نگرانی سات ارب کے ارب روپے کی لاگت سے ابھی تک صرف مختلف جگہوں (چوک) پر مجسمہ لگائے گئے ہیں اور مزید ترقیاتی کام جاری ہے-

    @N_Hkhan

  • غفلت کی نیند اور زندگی کی بربادی تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    غفلت کی نیند اور زندگی کی بربادی تحریر : حلیمہ اعجاز ملک

    کسی نادان شخص کی طرح ہم بھی اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو رضائے الٰہی کے حصول میں گزارنے کے بجائے غفلت یا گناہوں میں گزار دیتے ہیں اگر کبھی ضائع ہونے والے ان قیمتی لمحات کا حساب لگانا چاہیں تو شاید ہمارے لیے ممکن نہ ہو

    البتہ کوشش ضرور کرتے رہنا چاہیے اس لیے کہ وقت ایسی نعمت ہے جو سب جو یکساں ملتی ہے

    یہ نہیں کہا جا سکتا کہ غریب کے لیے دن رات میں 24 گھنٹے ہیں تو امیر کے لیے 27۔ بلکہ اللّٰه نے ہم میں سے ہر ایک کو دن رات کی صورت میں 24 گھنٹوں میں 1440 منٹ یا 86400 سیکنڈ عطا فرمائے ہیں- اب یہ ہم پر ہے کہ کون ان اوقات کی قدر کرتا ہے اور کون برباد کیونکہ ایک نہ ایک روز اس زندگی کا اختتام ہونے والا ہے

    حضرت حسن بصری ؒ فرماتے تھے کہ :

    "اے ابنِ آدم! تو مختلف مرحلوں کا مجموعہ ہے جب بھی تیرے پاس سے دن یا رات گزرتے ہیں تو تیرا ایک مرحلہ ختم ہو جاتا ہے اور جب تیرے تمام مراحل ختم یو جائیں گے تو تو اپنی منزل یعنی جنت یا جہنم تک پہنچ جائے گا”

    خود کے ساتھ انصاف کیجیے اور غفلت کی نیند سے جاگ کر اپنی زندگی کا قیمتی وقت رائیگاں ہونے سے بچائیں کامیابی آپ کا مقدر ٹھہرے گی۔

    @H___Malik

  • ‏توڑ دیتے ہیں لوگ کیوں چھوڑ دیتے ہیں  تحریر: ماہ رخ اعظم

    ‏توڑ دیتے ہیں لوگ کیوں چھوڑ دیتے ہیں تحریر: ماہ رخ اعظم

    برے وقت کی ایک خاصیت ہے، کہ آپ کو وہ لوگ بھی صلاح دینے لگ جاتے ہیں جو خود کسی قابل نہیں ہوتے،زندگی میں بہت دور جانا پڑتا ہے یہ جاننے کے لیے کہ آپ کے نزدیک کون ہے ؟؟ جھوٹی باتوں پر جو لوگ واہ واہ کریں گے ،وہی ایک دن آپ کو تباہ کریں گے ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے :میں پسند تو ہو بہت لوگوں کی ،لیکن تب تک جب یہ میری ضرورت ہوتی ہے، پریشانی میں کسی کا مذاق مت اڑاو ،اور خوشی میں کسی کو طعنہ نہ دو، اس سے رشتوں میں موجود پیار کا ختم ہو جاتا ہے ،اپنی انگلیوں کا استعمال ہمیشہ اپنے گناہوں کو گننے کے لیے کرو ، دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کے لئے نہیں یہ کڑوا سچ ہے، کہ جب تک خود پر نہ بیتے ،تب تک دوسروں کے درد کا احساس ہی نہیں ہوتا ، زندگی میں اگر کوئی کمی رہ جائے، تو اداس مت ہونا کیوں کہ ادھوری خواہشیں ہی جینے کا مزہ دیتی ہے، کچھ لوگ پگھل موم کی طرح رشتے نبھاتے ہیں ، اور کچھ لوگ آگ بن کر ایسے جلاتے ہی رہتے ہیں، تالے سے سیکھنا ساتھ نبھانے کا ہنر وہ ٹوٹ تو جاتا ہے، پر چابی نہیں بدلتا دل سے اترے ہوئے، لوگ اگر سامنے آ بھی جائیں تو نظر ہی نہیں آتے، ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا لفظ انسان کے غلام ہوتے ہیں ،مگر بولنے سے پہلے بولنے کے بعد انسان اپنے الفاظ کا غلام بن جاتا ہے، کبھی کسی کہ ساتھ اتنی امیدیں نہ رکھنا ،کہ امید کے ساتھ تم بھی ٹوٹ جاؤ
    ٹوٹ جاتے ہیں وہ رشتے اکثر جن کو نبھانے کی کوشش اکیلے ہی کی جاتی ہے ،وہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا جن میں نبھانے کی چاہ دونوں طرف سے ہوں کامیاب رشتے کا یہ اصول ہے بھول جائے وہ بات جو فضول ہے ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا کہ انسان کو دکھ نہیں توڑتا ،دکھوں میں اپنوں کا رویہ اسے توڑ دیتا ہے ،ذرا سی رنجش پر نہ چھوڑنا اپنوں کا دامن زندگی بیت جاتی ہے اپنوں کو اپنا بنانے میں ۔جب انسان ہی نہیں رہے گا، تو اس کی غلطیوں کو کیا کریں گے، کسی سے روٹھو گے کسے مناؤ گے ؟کسے معاف کرو گے کسے سزا دو گے ؟اس لئے جو پاس ہے اس کی قدر کرنا، سیکھو کچھ ہنس کر بول دیا کرو، کچھ ہنس کر ٹال دیا کرو ، یوں تو بہت پریشانیاں ہیں تم کو بھی مجھ کو بھی پر کچھ فیصلے وقت پر ٹال دیا کرو!!

    >

  • گالی دینا کتنا بڑا سنگین جرم ہے  تحریر: یاسمین راشد

    گالی دینا کتنا بڑا سنگین جرم ہے تحریر: یاسمین راشد

    • اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ میرے پیارے پاکستانیو جس طرح ہمارے معاشرے میں گالم گلوچ کی جاتی ہے آج اس پر میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں میرے بھائیو اور بہنو سوشل میڈیا پر مجھے اگست میں ایک سال مکمل ہو جائے گا میں نے سوشل میڈیا سے بہت کچھ سیکھا بہت سے لوگوں سے میری دعا سلام ہوئی اس معاشرے میں بہت اچھے لوگ بھی ہیں اور برے بھی ہیں ہاتھ کی پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں جیسے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ویسے ہی سب انسان برابر نہیں ہوتے الحمدللہ ہم مسلمان ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پیدا ہوئے اور اللہ پاک نے الحمدللہ ایمان جیسی نعمت سے ہم کو نوازا ہم اللہ پاک کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے ابھی میں بات کرتی ہوں ایسے لوگوں کی جس میں میل اور فیمیل بھی شامل ہیں اسلام میں گالیاں دینا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے اسلام بالکل اجازت نہیں دیتا کسی کو گالیاں دینے کی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو دن رات سوشل میڈیا پر بے ہودہ گالیاں بکتے ہیں ان میں مرد بھی شامل ہے اور عورتیں بھی شامل ہیں ایسی گالیاں دیتے ہیں کے پڑھنے والے کو بھی شرم آتی ہے ہم جن سیاستدانوں کو سپورٹ کرتے ہیں ان کی خاطر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں اور ایسی بیہودہ گالیاں ہوتی ہیں نہ کسی کی ماں کا احترام ہوتا ہے نہ کسی کی بہن کا احترام ہوتا ہے نہ کسی کی بیوی کا احترام ہوتا ہے جو منہ میں آتا ہے بک دیتے ہیں میرے بھائیو میری بہنوں کچھ اللہ کا خوف کرو جن سیاستدانوں کے لئے آپ گالیاں دیتے ہو میں گرنٹی سے کہتی ہوں آج آپ لوگ ان کے پاس چلے جائیں آپ لوگوں کو سلام بھی نہیں کریں گے تو پھر ایک دوسرے کو گالیاں دے کے کیوں اپنے لئے بہت دردناک عذاب تیار کرتے ہو آپ لوگوں کو شاید پتہ نہیں ہوتا جس کو گالیاں دیتے ہو کیا پتا اس کی ماں زندہ نہ ہو کیا پتا اس کی بہن زندہ نہ ہو کیا پتا اس کی بیوی زندہ نہ ہو تو سوچو جو انسان اس دنیا میں نہیں ہے ان کو آپ گالیاں دے رہے ہو تو کتنا بڑا گناہ ہوگا قرآن مجید میں اللہ پاک نے اہل ایمان کو یہاں تک حکم دیا ہے کہ غیر مسلموں کے جھوٹے معبودوں کو اور ان کے بتوں کو بھی گالیاں نہ دو. ارشاد ہوتا ہے : وَلاَ تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ فَيَسُبُّوا اﷲََ عَدْوًام بِغَيْرِ عِلْمٍ.ترجمہ : اور (اے مسلمانو!) تم ان (جھوٹے معبودوں) کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر وہ لوگ (بھی جواباً) جہالت کے باعث ظلم کرتے ہوئے اللہ کی شان میں غستاخی کرنے لگیں گے.‘‘(الأنعام، 6: 108) میرے بھائیو بہنوں سوچو جب اللہ پاک نے قرآن مجید میں نے منع کر دیا گالی دینے سے پھر اپنی جانوں کے ساتھ کیوں ظلم کرتے ہو ایک اور حدیث میں بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت میں نبی اکرم ﷺ نے گالی گلوچ کرنے کو منافق کی نشانی قرار دیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا منافق کی چار نشانیاں ہیں۔جب بولے جھوٹ بولے،وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے،امین بنایا جائے توخیانت کرے اور جب جھگڑا ہوجائے توگالی گلوچ پر اتر آئے یہی چار نشانیاں آج منافق لوگوں میں پائی جاتی ہے جب ان کے ساتھ دلیل سے بات کرو تو وہ گالیاں دینا شروع کر دیتے ہیں گالی دینا کسی مسئلہ کا حل نہیں کسی کی خاطر کسی کو گالی نہ دو آپ لوگ اپنے سیاستدانوں کو سپورٹ کرتے ہو ان کو سپورٹ کریں لیکن ایک دوسرے کو گالیاں نہ دیں دلیل کے ساتھ بات کریں اگر دوسرا دلیل کے ساتھ آپ سے بات نہیں کرتا تو سوشل میڈیا نے ہم کو بہت سی آسانیاں فراہم کی اگر آپ کو کوئی ہراسمنٹ کر رہا ہے تو سائبر کرائم کو رپورٹ کریں اگر سائبر کرائم کو رپورٹ بھی نہیں کرتے تو آپ کے پاس بلاک کرنے کا آپشن موجود ہے ایسے لوگوں کو سیدھا بلاک کردیں گالی کا جواب گالی دینا ایک مسلمان کا کام نہیں ہمیں تعلیمات محمدی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے محبت،اخوت،بھائی چارے کا درس دینا چاہیئے اور علمی گفتگو کا جواب علمی اندازمیں دینا چاہیئےاور گالی گلوچ سے بچنا چاہیئے اللہ تبارک وتعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے آمین

    • @IamYasminArshad

  • دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں تحریر: کاوش لطیف

    دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں تحریر: کاوش لطیف

    ایک ناکام شخص نے کامیاب شخص سے پوچھا کہ کامیاب کیسے بنا جاتا ہے کامیاب شخص نے کیا ہی کمال کا جواب دیا اس نے کہا کہ کیا تمہاری زندگی میں پرابلمز ہے ناکام شخص نے کہا کہ بہت ہے تو کامیاب شخص نے کہا ان کو حل کرلو تم کامیاب بن جاؤ گے

    لوگوں کو زیادہ تر پرابلمز ہوتی ہے کہ پیسہ نہیں ہے اگر نہیں ہے تو یہ پرابلم ہے اور اس کا حل ہے کہ کمانا سیکھو ۔لوگوں کو پرابلم ہے کامیاب کیسے ہو اور سلوشن ہے کہ محنت کرکے ثابت قدم رہ کر پرابلم یہ ہے کہ ہم سولوشن سے زیادہ پروبلم پر فوکس بنا لیتے ہیں

    یاد رکھیں انسان کا فوکس جس چیز پر ہوگا اسے وہی ملے گا اگر پروبلم پر فوکس ہے تو پروبلم ہی ملے گی اگر سلیوشن پر فوکس ہے تو سلوشن ہی ملے گا میں پچھلے دنوں کالج اکیڈمی کا کام کر کر کے تھک گیا تھا میں نے فنی مووی دیکھنے کا پلان بنایا جس کا نام دھمال تھا بہت ہی اچھی مووی تھی اس مووی میں ایک سین آیا جس نے مجھے بہت بڑا سبق دیا سین یہ تھا کہ چار دوست جنگل میں پیدل جا رہے تھے کہیں سے شیر کی دھاڑ سنائی دی چاروں سہم گئے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے یار ڈراؤ مت مجھے پتا ہے تم میں سے ایک ایسی آوازیں نکال رہا ہے

    شیر نے پھر سے زور دار دھاڑ لگائی چاروں کو پتہ چل گیا کہ یہاں کوئی شیڑ ہے تبھی ان میں سے ایک اپنے جوتے کے تسمے باندھنے لگ پڑا ایک دوست بولا اس سے کیا ہوگا تم کیا شیر سے آگے نکل جاؤ گے پہلے دوست نے جواب دیا کہ شیڑ سے تو پتہ نہیں لیکن میں تم تینوں سے آگے ضرور نکل جاؤں گا

    زندگی میں مشکلات اور مصیبتیں بھی اچانک سے ہی شیر کی طرح ٹپک پڑتی ہے اگر ہم دوڑنے کے لیے تیار ہوں اور دوڑ پڑے تو ان لوگوں کو زندگی کے مسائل کا نوالہ بننے کے لیے پیچھے چھوڑ دیں گے جن کے دل میں کبھی دوڑنے تک کا خیال نہیں آتا

    اور کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ زندگی میں دو طرح کے لوگ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں ایک وہ جو سوچتے ہیں مگر کرتے کچھ نہیں اور دوسرے وہ جو کرتے ہیں مگر سوچتے کچھ نہیں

    ‎@k__Latif

  • سرداری غلامی تحریر،،محمد ابراہیم

    سرداری غلامی تحریر،،محمد ابراہیم

    اور سرداروں کے راتب خوروں کی نشانیاں۔
    الیکشن میں انھوں نے اپنے اپنے سردار کو فرشتہ ثابت کرنا ہوتا ہے اور انکی صاف دامنی کی قسمیں کھاتے ہیں اپنے آپ سے بھی بڑا حاجی نمازی ثابت کرتے ہیں۔

    الیکشن جیتنے کے بعد جس پارٹی میں سردار شامل ہوگا وہ جماعت انکی ماں باپ بن جاتی ہے اس جماعت کو وہ پاکستان کی سب سے اچھی جماعت ثابت کرینگے چاہے الیکشن سے پہلے اس جماعت کو جتنی بھی گالیاں دیتے تھے وہ سب بھول جاییگے۔

    حکومت کے پہلے تین سال اسکے خوب گن گاتے رہینگے لیکن آخری دو سال حکومت کو گالیاں دیتے ہیں تاکہ آئیندہ الیکشن میں اگر سردار(لوٹا) اس پارٹی کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے تو لوگ کارکردگی کا سوال نہ کریں اگر کریں بھی تو انکو یہی جواب دیا جایئگا کہ دیکھا نہیں ہم کہتے تھے یہ حکومت ٹھیک نہیں ہے تبھی تو سردار نے اس پارٹی کو چھوڑ دیا۔

    سردار کے ہر برے کام کا دفاع کرنا سردار کی ہر برائی کو اچھائی بتانا سرداری نظام کو اسلامی نظام کے بالکل قریب بتانا یہ انکا فن ہے۔

    مجھے یاد نہیں کہ ہمارے منتخب شدہ ان سردار نمائندوں نے کبھی اسمبلی میں اپنے وسیب کیلے آواز بلند کی ان سرداروں نے ہمارے بچوں کو قلم ،دینے کی بجائے کلاشنکوف انکے ہاتھ میں تھمائی کیوںکہ انکو پتہ ہے آگر نوجوانوں کو تعلیم جیسی سہولیات دی گئی سکول کالج انکو بنا کر دیے گئے تو کل کو یہ ہماری غلامی کرنے کے بجائے ہمارے خلاف کھڑے ہوسکتے ہیں،

    یہ جتنی بھی ڈیرہ غازی خان میں گینگز بنی اگر ان پر ریسرچ کی جائے تو انکے تانے بانے ہر بار ان سرداروں سے ہی کیوں جاکر ملتے ہیں ،
    چلو پچھلی گینگز کو چھوڑیں لادی گینگ جسنے ہمارے علاقے وسیب میں ظلم کا بازار سرگرم کیے رکھا اس گینگ کو 2008 میں سردار محسن عطا کی سرپرستی میں بنایا گیا سیمنٹ فیکٹری سے بھتہ لینے کی خاطر

    یہ گینگ ان سرداروں کی سرپرستی میں پروان چڑھا اور آخر میں اس گینگ نے ظلم کی وہ تاریخ رقم کی جسکی مثال نہیں ملتی ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے وزیراعظم عمران خان نے اس گینگ کے خلاف نوٹس لیا بالاآخر کچھ دن پہلے سیکورٹی فورسز کی جانب سے اس گینگ کے کمانڈر سمیت کچھ لوگوں کو مارا گیا اور کچھ نے گرفتاری دی ،

    سوال یہ ہے یہ گینگز آج ختم ہوگئی لیکن اسکے بنانے والے آج بھی موجود ہیں انکے خلاف بھی کارروائی کی جائے نہیں تو کل کو یہ سردار پھر کوئی دوسرا گینگ بنا لیں گے اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے ،
    آخر میں بات پھر وہی آتی ہے کہ اگر ہمیں سرداروں غلامی کی زندگی سے نکلنا ہے تو ان سرداروں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگا نہیں تو ہمیں ہمارے آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی ،

    ان سرداروں نے ہماری سوچ کی گلی سولنگ اور نالی پکی تک محدود کر کے رکھ دیا ہے ہم انگریز کی غلامی سے تو نکل گئے لیکن آج بھی ہم انگریز کے اس چھوڑے ہوئے نظام سرداروں کی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں

    یہ صرف میرا محمد ابراہیم کا کوئی ذاتی معاملہ نہیں بلکہ وسیب کے ہر نوجوان اور باشعور انسان کو اس سرداری غلامی کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے ،پھر جاکر ہمیں آزادی حاصل ہوگی نہیں تو یہ غلامی کی زنجیریں آپکا مقدر ہونگی ،

    Twitter , @IbrahimDgk1

    .

  • وقت کی قدروقیمت تحریر: محمد اشرف

    وقت کی قدروقیمت تحریر: محمد اشرف

    اے شیخ کیا ڈھونڈے ہےشب قدر کا نِشاں
    ہر شب ہے شب قدر ،اگر تو ہو قدرداں!
    زندگی کا ہر لمحہ وقت ہے ۔ایک لمحہ اس وقت قیمتی ہوتاہے جب اسے قمیتی سمجھا جائے لیکن اگر اسکی قدر نہ کی جائے تو سال مہینے بھی بےکار اور بے معنی ہوجاتےہیں
    لوگ وقت کی قدروقیمت نہیں پہچانتے۔انہیں اندازہ ہی نہیں کہ انسان کے ہاتھ میں اصل دولت وقت ہی ہے۔ جس نے وقت کو ضائع کر دیا اس نے سب کچھ ضائع کر دیا ۔وقت گزرتے ہوئے واقعات کا دریا ہے ۔اسکا بہاؤ تیز اور زبر دست ہے ۔ یہ زد میں آنے والی ہر چیز کو بہا لے جاتا ہے ۔ یہ ایسا تیز رفتار گھوڑا ہے جسے روکا جاسکتا ہے اور نہ واپس لایا جا سکتا ہے.
    کسی کام کو تعین وقت پر انجام دینا’ پابندی وقت’ کہلاتا ہے ۔وقت کی پابندی انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے ۔دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو وقت کی قدر کرتی ہیں ۔جو قومیں وقت کی قدر نہیں کرتی وہ ناکام و نامراد رہتی ہیں ۔
    اگر کائنات کے نظام پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ھے کہ کیسے کائنات کا نظام بھی وقت کی پابندی میں جکڑا ہوا ہے ۔
    کائنات کے اس منظم نظام میں انسان کے لئے یہ سبق پو شیدہ ہے کہ وقت کی قدر کرے اور خود کو نظام کائنات سے ہم آہنگ کر کے فطرت کے مقاصد کی تکمیل کرے۔
    تاریخ ،وقت کا نا قابل تردید ریکارڈ ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں سر بلند قوموں نے کن اصولوں پر عمل کیا ۔دیگر ا صولوں سے قطع نظر وقت کی پابندی ترقی یا فتہ قوموں کی عظمت کا سب سے بڑا ذریعہ بنی۔
    تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی قوموں نے وقت کو اپنی جانوں سے بھی عزیز رکھا۔اُن کے اس طرز عمل کا نتیجہ نکلا کہ وہ دنیا پر حکومت کرنے لگیں ۔
    وقت انسان کا دوست بھی ہے اور دشمن بھی ۔ جو اسکی قدر کرتا هے ۔یہ اُسے فتح و کامرانی عطا کرتا ہے اور جو سرسری لیتا ہے،اُسے ناکامی کے گڑھے میں پھینک دیتا ہے ۔ جو شخص وقت کا دامن تھام لیتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جو خواب غفلت میں پڑا رہتا ہے ،وہ ناکام و نامراد ہو جاتا ہے ۔
    یوں وقت کی پابندی تمام تر افراد پر لازم ہے لیکن
    طلبہ کو بطور خاص اس کی قدر کرنی چاہیے ۔طلباء قوم کا قمیتی سرمایہ ہوتے ہیں ۔قوم کی ترقی اور خوشحالی کا انحصار انہی پر ہوتا ہے ۔ لہذا ہم سب پر ضروری ہے کہ وقت کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کا ایک ایک لمحہ درست طریقے سے بسر کریں

    @M_Ashraf26

  • ‘پاکستان کی ایٹمی طاقت بننے میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی خدمات’ تحریر سید محمد مدنی

    ‘پاکستان کی ایٹمی طاقت بننے میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی خدمات’ تحریر سید محمد مدنی

    وہ شخصیت جسے ہم محسن پاکستان کہتے ہیں اس کا نام ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان

    جی ہاں یہ وہ آدمی تھا جس نے ہالینڈ کی امریکی ڈالروں والی نوکری چھوڑی اور پاکستان میں کم پیسوں والی نوکری کی تاکہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا جا سکے جب ڈاکٹر صاحب پاکستان آنے لگے تو انھیں کچھ نقشے اور ایٹمی سینٹری فیوجز کی معلومات تصاویر درکار تھیں اس کو حاصل کر نے کے لئے ہالینڈ سے وہ معلومات اکٹھی کرنا بے حد ضروری تھا اس زمانے میں ہالینڈ جسے نیدرلینڈ بھی کہا جاتا ہے وہاں ایٹمی معلومات موجود تھیں اب باری تھی کہ ان کو حاصل کیسے کیا جائے اس کے لئے ڈاکٹر صاحب نے اپنی اہلیہ محترمہ کے زمے کام لگایا وہ وہیں کی شہریت رکھتی تھیں انھوں نے بغیر کسی انکار کے وہ سب معلومات حاصل کیں اور جب ہالینڈ سے پاکستان جانے کا وقت آیا تو ڈاکٹر صاحب نے اہلیہ سے پوچھا کیا تم میرے ساتھ چلو گی یا یہیں رہو گی ان کی اہلیہ نے کہا نہیں میں آپ کے ساتھ جاؤں گی اب مرحلہ آتا ہے کہ یہ معلومات رکھی کہاں جائیں اس کے لئے ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ نے وہ معلومات بجائے سوٹ کیس یا بیگ میں رکھنے کے خاص جگاہوں پر چھپائیں جہاں کوئی نا محرم چیکنگ نہیں کرسکتا تھا اس زمانے میں اتنی ٹیکنالوجی نہیں آئی تھی کہ اتنی گہرائی میں اسکیننگ ہوسکے اس کے بعد ان کی اہلیہ نے وہ معلومات رکھیں اور دونوں پاکستان روانہ ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ جب تک جہاز پاکستانی سر زمین پر لینڈ نہیں کر گیا سارے راستے ٹینشن میں رہے کچھ معلومات یہ بھی آئیں تھیں کہ ہالینڈ کی حکومت کو علم ہو چکا تھا کہ کچھ معلومات یہاں سے حاصل کی گئیں ہیں لیکن جب تک دونوں پاکستان بخیریت پہنچ چکے تھے یہ ہے ان دونوں کا احسان ہمارے اوپر

    اب مرحلہ آیا کہ پاکستان میں سینٹری فیوجز اور ایٹمی معاملے سے متعلق چیزیں کس طرح پاکستان امپورٹ کی جائیں کیونکہ یہ معاملہ اتنا آسان نہ تھا اس کے لئے اس وقت کے مشہور تاجر سیٹھ عابد کو ایپروچ کیا گیا جن کا تعلق بڑی بڑی بین الاقوامی کمپنیوں سے بزنس تھا
    سیٹھ عابد سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان خود ملے اور یہ معاملہ پھر باقاعدہ ریاستی اور حکومتی ہو چکا تھا ڈاکٹر صاحب نے سیٹھ عابد سے کہا کہ مجھے کچھ مال چاہیے کیا آپ منگوا سکیں گے جس پر سیٹھ صاحب نے کہا کہ آپ حکم کریں پاکستان کے لئے جان بھی حاضر جس پر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ مجھے فلاں فلاں چیز چاہیے اب یہ آپ کیسے لائیں گے منگوائیں گے مجھے پریشانی ہے اس پر سیٹھ صاحب نے کہا کہ آپ پریشان نا ہوں بس یہ حکم کریں کہ کیا چیز کس وقت اور کہاں چاہیے پہنچ جائے گی اور پھر کچھ مال اسکریپ کے زریعے کراچی امپورٹ ہؤا اور وہاں اس کو جان بوجھ کر اسکریپ میں ہی پڑا رہنے دیا گیا تاکہ اس وقت کی بین الاقوامی طاقتوں خاص کر امریکہ کو علم نا ہو اسی طرح آہستہ آہستہ یہ سب معاملات حل ہوتے چلے گئے ایٹمی سرنگیں تو کافی پہلے ہی کھودنا شروع کی چکی تھیں لیکن امریکہ ہمیشہ جاسوسی کرنے میں لگا رہتا تھا اور اسے شک بھی ہؤا تھا جس پر مختلف دور حکومت میں ایسے کمال کے اور گھما پھرا دینے والے بیانات آئے کہ امریکہ کو بہت دیر سے جا کے علم ہؤا کہ پاکستان نے ایٹمی ہتھیار پر کام مکل کرلیا ہے بس اب تو صرف ٹیسٹ کرنے کی دیر ہے ایک دور میں امریکہ کو شک ہؤا لیکن پاکستان نے بڑی ہی خوبصورت لہجے میں یہ کہا کہ جناب ہمارے پاس ایٹمی طاقت کہاں ہے ہم تو غریب سے ملک کے لوگ ہیں لیکن جب ﷲ کومنظور ہوتا ہے تو سب کچھ ہو جاتا ہے اور پاکستان ایٹمی طاقت کی صلاحیت سے ہمکنار ہؤا

    یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ اگر اس پر لکھا جائے تو کتابوں کے اوراق ہاتھ اور قلم سب ختم ہو جائیں مگر اس سے متعلق باتیں ختم نا ہوں
    ﷲ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے آمین پاکستان آج ایٹمی طاقت ہے اور اس نے یہ ہتھیار کم سے کم ڈیٹرینس کے لئے بنا کررکھے ہیں ورنہ یقین کریں آج اگر پاکستان ایٹمی صلاحیت سے محروم ہوتا (ﷲ نا کرے)
    تو صورتحال بلکل مختلف ہوتی جس کا ہم اندازہ نہیں لگا سکتے

    آخری اور اہم نوٹ
    اس کالم میں کچھ ایسی معلومات بھی ہیں جو مجھے اپنے آباؤ اجداد سے ملی ہیں اگر کوئی اعتراض کرنا چاہے تو بلکل کرسکتا ہے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ جو میں نے سنا ہو وہ من و عن درست ہو

    اسی کے ساتھ یہ کالم اب اپنے اختتام کو پہنچتا ہے

    @M1Pak Twitter id