Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • 2023 میں وزیراعظم پاکستان کون ہو گا؟ . تحریر : بابر شہزاد

    2023 میں وزیراعظم پاکستان کون ہو گا؟ . تحریر : بابر شہزاد

    2018 میں تحریک انصاف کی حکومت آنے سے پہلے اس جماعت نے بہت بلند و بالا دعوے کر رکھے تھے۔ 2013 الیکشن کمپین کے مطابق یہ جماعت پوری تیاری کے ساتھ حکومت سنبھالنے آ رہی تھی اور ان کے دعووں کے مطابق ان کے پاس معاشی ٹیم پہلے سے موجود ہے جن کے سربراہ کے طور پر اسد عمر کا نام الیکشن جیتنے سے پہلے ہی لوگوں کو بتا دیا گیا تھا۔
    قصہ مختصر کہ 2013 میں تحریک انصاف سب سے ذیادہ سیٹیں جیتنے والی جماعت بن کر سامنے آئی لیکن اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ اکیلے اپنی حکومت بنا سکے لہزا چیچوں کا مربہ اکٹھا کر کے عمران خان پاکستان کا بائیسواں وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو گیا.

    حکومت ملنے کے چند ماہ کے اندر ہی انہیں احساس ہو گیا کہ حالات تو بہت خراب ہیں کیونکہ ملک کی معیشت بلکل بیٹھ چکی تھی، زر مبادلہ کے ذخائر انتہائی نچلی سطح پر آ چکے تھے، قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے پیسے بھی نہیں تھے جس سے ملک میں مہنگائی کی لہر نے قمر کس لی اور ہر چیز کے نرخ بڑھنے لگے۔ جلد ہی معاشی ٹیم میں تبدیلی لائی گئی کہ حالات قابو سے باہر ہو رہے تھے۔ عمران خان آئی ایم ایف کا سخت ناقد تھا لیکن مجبوراً ان کے پاس بھی جانا پڑا۔ سعودی عرب سے 3 ارب کا قرضہ لیا گیا جس سے پرانے قرضوں کی قسطیں ادا کی گئیں۔ اس کے علاؤہ ان سے ادھار تیل لینے کا معاہدہ بھی کیا گیا کہ کسی طرح ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکے۔ روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ دیکھنے کو ملی اور ملکی تاریخ کے بلند ترین سطح پر ڈالر ایکسچینج ہوا جو کہ 160 روپے ہو گیا جس سے مہنگائی کا طوفان آیا تاہم اس سے پاکستان کی ایکسپورٹ انڈسٹری کو بہت فائدہ ہوا جس کا ثمر مالی سال 2020 کے اختتام میں دیکھنے کو ملا کہ ملکی تاریخ میں سب سے ذیادہ ایکسپورٹ اس سال میں ہوئی اور تقریباً 28 ارب ڈالر سے زیادہ کی ایکسپورٹ ہوئی۔

    ہماری معیشت کچھ بہتر ہوئی تھی کہ اسی دوران کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس سے پوری دنیا کی معیشت کو شدید نقصان ہوا تاہم پاکستان حکومت کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے پاکستان ان چند ممالک میں تھا جسے اس کا کم سے کم نقصان ہوا۔
    3 مشکل ترین سال دیکھنے کے بعد حکومت نے معیشت کو استقامت دی، ملکی خارجہ پالیسی کو بڑی اچھی طرح لے کے چلی یہ حکومت.
    60 کی دھائی کے بعد پہلی دفہ ملک میں بڑے ڈیم بنانے کا کام شروع ہوا اور دیامیر بھاشا ڈیم کے ساتھ داسو ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہوا جو کہ 2029 تک مکمل ہوں گے۔
    غرض یہ کہ حکومت نے مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور وہ لوگ جو اس حکومت سے متنفر ہونا شروع ہو گئے تھے پھر سے اس حکومت کے گن گانے لگے ہیں۔

    اب آ جاتے ہیں کہ 2023 میں پاکستان کی حکومت کونسی جماعت بنائے گی؟ میرے ناقص تجزیے کے مطابق 2023 میں تحریک انصاف ایک دفہ پھر سے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گی اور اس دفہ اسے بیساکھیوں کا سہارا نہیں لینا پڑے گا کیونکہ اس دفہ دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائیں گے۔ اس وقت سینیٹ میں بھی اکثریت تحریک انصاف کی ہے اور آئندہ سینیٹ انتخابات کے بعد جو کہ 2024 میں منعقد ہوں گے تو وہاں بھی تحریک انصاف 2 تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جس کا مطلب ہے کہ عمران خان اگلے 5 سال میں ملکی تاریخ کا مضبوط ترین وزیراعظم ہو گا۔
    دعا ہے کہ جو بھی ہو ملک کے لیے اچھا ہو. آمین۔

    @babarshahzad32

  • ‏پاکستانی سیاست   تحریر : عثمان غنی

    ‏پاکستانی سیاست تحریر : عثمان غنی

    سب سے بڑے بھٹو جنکو عرف عام میں ایوب کی اولاد کہا جاتا ہے۔ بہت ہی مہربان ہستی تھے کہنے کو تو سب لین تھے مگر بدترین ڈکٹیٹر سے بھی زیادہ برا تھا ان کا دور لاڑکانہ چلو ورنہ جیل چلو کے نعرے انہوں نے لگوائے۔ اپنے وقت کے بدترین عامر تھے 86 سیٹیں لے کر پورے ملک پر قبضہ کیا اور خود وفادار رہ کر مجیب الرحمن کو غدار قرار دے دیا..

    ویسے تو ان تینوں کے بارے میں اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ میں نے صرف تین ٹکڑوں نے پاکستان کو دو ٹکڑے کر دیا مگر خیر وہ ایک الگ معاملہ ہے. یہاں بات ہو رہی تھی بھٹو خاندان کی بھٹو نے پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کے بعد ناکارہ نوے ہزار فوجی لاکر خود کو کمال مہارت سے ہیرو ثابت کردیا اس کے بعد آتے ہیں ان کی بیٹی محترمہ کی طرف سابق صدر پاکستان ذلفقار لغاری نے اپنے آخری انٹرویو میں کہا تھا کہ ہیں بے نظیر جب دوسری بات بار پاکستان واپس آئیں تو میں ان کے ساتھ فرنٹ پر بیٹھا تھا بہت آبدیدہ ہو کر مجھ سے سوال کیا کہ میں نے اتنی کرپشن کی کیا عوام اب بھی میرا ساتھ دیں گے اور پاگل عوام نے ان کا ساتھ دیا انڈیا کی تھری وفادار تھی کے خالصتان بنانے والے سکھوں کی لسٹ ہے انڈیا کو خیر سگالی کے طور پر دی۔

    اس کے بعد آتی ہے ان کی تیسری نسل جو سرائیکی اور سندھ دیر کی دھمکی دیتی ہے
    روز کرپشن کرنے کے بعد پلی بارگیننگ کر لیتے ہیں جی ہم نے چوری کر لی اور ہم آدھا واپس کر دیں گے اور پاکستانی عوام کو یہ تک نہیں پتا کہ پلی بارگیننگ ہوتا کیا ہے خیر یہ کمال خاندان ہے کرنا میں بہت زیادہ ہے اور سارا ہی پاکستان مخالف ان کی نسل ابھی چل رہی ہے حکمرانی کے خواب دیکھ رہی ہیں لیکن اب عوام کا شعور بتاتا ہے کہاں گئے یہ کارنامہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے..

    @UsmanSay_

  • پردیسوں کی عید قربان  تحریر: راشد عباسی ریاض سعودی عرب

    پردیسوں کی عید قربان تحریر: راشد عباسی ریاض سعودی عرب

    بقول غلام فرید

    عیداں والے پئے عیداں کر دے
    اساں رو رو عید لنگائی
    غلام فریدا اس عید توں صدقے
    جس عید تےملسی ماہی

    کسی نے سچ کہا ہے

    کہ پردیس ماں کے شیر پتر ہی کاٹتے ہیں بزدل نہیں
    بزدل تو اپنے باپ کے پیسے پر عیاشی کرتے ہیں.

    اج چودیویں عیدِ قرباں ہے جو میں اپنے وطنِ عزیز اور اپنے پیاروں سے دور صحرا عرب کے ریگستانوں میں منا رہا ہوں اب تو بھول ہی گیا ہو کہ عید قرباں کیسے منائی جاتی ہے

    ان چودہ سال میں ایک مشاہدہ رہا ہے کہ سب پردیسوں کی عید والے دن تقریباً ایک ہی روٹین ھوتی ہے. عید پڑھ کر واپس رہائش پر آکر باری باری سب رشتہ داروں اور دوستوں کو عید مبارک باد کے پیغامات دینے کے بعد پھر لمبی تان کر سو جاناہے

    دوپہر کے وقت آٹھ کر یا تو کمپنی کے کیفے ٹیریا پر روایتی کھانے یا پھر چند دوستوں کے ساتھ مل کر مارکیٹ سے مہنیوں سے منجمد گوشت خرید کر حسب معمول طریقے سے سالن بنا کر عید منا لیتے ہیں. اور بعض بیچارے پہلے سے فریج میں موجود سالن پر گزارا کر لیتے ہیں اور بعض کمپنی کے رحم و کرم میں ھوتے ہیں مدیر (منیجر)کی مرضی ہے منیو میں دال رکھ لیں یا سبزی .

    ایک پردیسی کے لئے تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہیں جب گھر والوں کی طرف سے پاکستان سے عید کے مختلف جانوروں کی تصاویر اور وڈیوز بھیجی جاتی ہیں حالانکہ اس جانور کے پیسے ان پردیسیوں کی جیب سے ہی گۓ ہوتے ہیں.اور پھر وطن عزیز سے دوستوں اور رشتے داروں کے منہ سے قربانی کے جانور کی بڑھا چڑھا کر خوبیاں اور خصوصیات بعد میں اسکے ذبح کرنے کے واقعات اور گوشت کا لذیذ ہونے کے تبصرے (گائے کے گوشت کو ہرن کا گوشت ثابت کرتے ہیں)اور پھر اس پر مزید چٹخارے دار کھانوں بار بی کیو کے تذکروں سے پردیسوں کے دلوں پر مزید نشتر چلائے جاتے ہیں.
    لیکن ھم پردیسی اپنے پیاروں کی چہروں پر وہ خوشیاں دیکھ کر اپنے سب دردبھول جاتیں ہیں.
    واقعی پردیس کاٹنا کافی کٹھن ھوتا لیکن ہر لمحہ جب اپنے پیاروں کی خوشیاں جو ھماری قربانی کی وجہ سے میسر ھوتی ہیں اس سے ایک عجیب راحت محسوس ھوتی ہے ۔
    دعا ہے اللہ تعالیٰ ھم سب کا رزق اپنے وطن میں لکھ آمین ثم آمین

    Twitter id
    @rashidabbasy

  • پانی پینے کے فوائد   تحریر: علی حيدر

    پانی پینے کے فوائد تحریر: علی حيدر

    اگر آپ صرف پانی پیئے تو پھر کیا ہوگا؟
    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آخرکار کیا ہوگا؟
    آپ کا وزن تیزی سے کم ہوجائے گا(1)
    اگر آپ سخت خوراک پر اپنا وزن کم کرنے کی کوشش سے تنگ آچکے ہیں تو صرف مائع غذا کی جگہ صرف پانی کا استعمال دراصل آپ کو خود ہی وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا
    آپ اپنی تحول کو فروغ دیں گے (2)
    مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ صبح صرف 17 فلڈ اونس پانی پینے سے تحول کو 24 فیصد بڑھا سکتا ہے اگر آپ کسی خاص وقت پر ہر دن پانی پینا بھول جاتے ہیں تو اپنے موبائل یا اپنے کیلنڈر میں یاد دہانی شامل کریں۔ اس سے پہلے کہ آپ اپنی توانائی کی سطح اور جسمانی وزن دونوں میں فرق محسوس کرسکیں اس میں زیادہ وقت نہیں لگے گا
    (3) آپ کا دماغ بہتر کام کرے گا
    آپ شاید پہلے ہی جانتے ہو کہ ہمارے دماغ میں 75 فیصد پانی موجود ہے؟ اس طرح ، پانی پینے سے آپ کے دماغ کی افعال کو بڑھاوا ملتا ہے پانی پینا دراصل آپ کو بہتر توجہ مرکوز کرنے اور دماغی کاموں اور توانائی کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے
    یہ آپ کو زیادہ کھانے کا کم خطرہ بناتا ہے (4)
    اگر آپ کثرت سے اپنی پسند سے بھوک مبتلا کرنے کی بجائے خود سے زیادہ پیوند لگاتے ہو جیسے گولیوں کی طرح قدرتی چیز جو آپ کر سکتے ہیں وہ ہے پانی پینا۔ پانی ایک قدرتی بھوک کو دبانے والا ہے اور یہ سگنل بھیجتا ہے کہ آپ مکمل ہیں لہذا آپ کو ضرورت سے زیادہ کھانے اور کیلوری کو ڈھیر نہیں کرنا پڑتا ہے۔
    (5) یہ آپ کے جسم کو سم ربائی میں مدد کرتا ہے
    روزانہ کی بنیاد پر خوراک اور ماحول سے ہونے والے زہریلےمادے ہمارے سسٹم میں گزرتے ہیں اگر آپ اپنے سسٹم کو سم ربائی کے عمل میں مدد کے ل عوامل نہیں دیتے ہیں تو زہریلا آسانی سے ہر طرح کی صحت کی پریشانیوں کا باعث بن سکتا ہے اور ایسی وجہ سے زہریلے پانی کو تیزی سے نکالنے میں مدد ملے گی۔ اگر آپ یہ کام کرنا چاہتے ہیں تو ذيادہ پانی کا استعمال کرئے
    آپ کو کچھ بیماریوں کے بڑھنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے (6)
    ہائی بلڈ پریشر
    دل کے مسائل
    جگر کی بیماری
    ذیابیطس
    اور دیگر صحت سے متعلق مسائل کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جب آپ ذيادہ پانی نہیں پیتے ہیں لہذا ان کی روک تھام میں مدد کے لئے ذيادہ پانی پیئے۔
    (7) آپ کی جلد زیادہ واضح اور ہموار ہوجائے گی
    بعض اوقات ہمیں اپنی ظاہری شکل کے حقیقی نتائج کو دیکھنے کے لئے اندر سے چیزوں کو آزمانے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ پانی جلد سے ہونے والی جلد کی خرابی کو نمیش کرنے اور صاف کرنے میں مدد ملے گی لہذا آپ کو جلد کی دیکھ بھال کرنے والی مصنوعات پر ڈھیر لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔
    (8) پانی کھانے کو ہضم کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے
    ہمارے نمکین میں موجود پانی جو ہمارے کھانے کو ہضم کرنے اور منہ ، ناک اور آنکھوں کو نم رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ پانی پینے سے بھی منہ صاف رہتا ہے۔
    (9) پانی ہمارے دانتوں اور ہڈیوں کی حفاظت کرتا ہے
    پانی ہمارے دانتوں اور ہڈیوں کو بوسے ہونے سے بچاتا ہےوہ ہڈیوں اور دانتوں میں کیلشیئم رکھنے میں مدد کرتے ہیں
    (10) یہ دماغ ، ریڑھ کی ہڈی ، اور دیگر حساس ٹشو آرام دیتا ہے
    پانی کی کمی آپ کے دماغی ڈھانچے اور کام کو متاثر کرسکتی ہے یہ ہارمونز اور نیورو ٹرانسمیٹر کی تیاری میں بھی شامل ہے۔ طویل عرصے سے ڈائی ہائیڈریشن سوچنے اور استدلال کے ساتھ مسائل پیدا کرسکتی ہے

    @alihaiderrr5

  • اسلام میں عورت کا مقام۔۔  ‏تحریر : انوشہ امتیاز

    اسلام میں عورت کا مقام۔۔ ‏تحریر : انوشہ امتیاز


    الحمدللہ بفضلہ تعالیٰ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والی بچیاں ہیں اور ہمارا مذہب اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو پوری انسانی زندگی کے مسائل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یہ وہ الہامی مذہب ہے جس نے عورت کو ماں، بہن اور بیٹی کی حثیت سے شرف بخشا ہے۔۔
    ہمارے مذہب سے پہلے عورتوں کو کم تر مخلوق تصور کیا جاتا تھا اور ان کے وجود سے انکار کیا جاتا رہا اور انکے ساتھ جانوروں سے بھی بد تر سلوک روا رکھا گیا۔۔
    تاریخ شاہد ہے کہ عورتوں کے ساتھ بہیمانہ رویہ رکھا گیا، ظلم و شقاوت کے پہاڑ ان پہ ڈھائے گئے۔ قبل از اسلام عورت کو پلید اور نجس سمجھنے کے ساتھ ساتھ خاندان بھر کے لیئے رسوائی سمجھا جاتا رہا،اور اگر کسی کے گھر بیٹی پیدا ہو جاتی تو اس کو زندہ درگور کرنے سے بھی گریز نہ کیا جاتا۔۔ باپ اس کی پیدائش ہے لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا اور ماں لوگوں کے طعنوں اور خاوند کے خوف سے سہمی رہتی۔۔
    صد افسوس کہ اکثر آج بھی بیٹی کی پیدائش پہ سسرال والوں کے منہ لٹک جاتے ہیں اور اگر کسی عورت کے گھر بیٹیاں ہی پیدا ہوں تو اس کا جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے۔
    جبکہ بیٹے کی پیدائش پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔۔
    حالانکہ اسلام نے تو لڑکی/بیٹی کو رحمت قرار دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا ارشاد ہے کہ
    ” جس گھر میں بیٹی نہ ہو وہ گھر خدا کی رحمت و برکت سے خالی ہوتا ہے۔”
    جب اسلام کا سورج طلوع ہوا تو اس نے مروجہ نظریات کے بر عکس عورت جو بلند مقام عطا کیا۔ اسلام نے اگر عورت کو مرد کے برابر رتبہ نہ دیا تو وہ مرد سے کم بھی نہیں ۔۔
    اس کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے ، خاندان میں عورت کو ماں، بہن، بیٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔
    عورت اگر ماں کے روپ میں ہے تو جنت اسکے پیروں کے نیچے رکھی گئی ہے،
    اگر شریک حیات ہے تو اسکی رضا اور حق مہر کی نے اس کی برتری پر مہر لگا دی ہے، اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا، اس جو معاشرتی اور قانونی طور پر تحفظ دیا ہے ۔۔اسلام نے یونان اور مغرب کے ان نظریات کو رد کر دیا ہے جس میں عورت کی حیثیت ایک باندی اور تسکین حاصل کرنے کے ذریعے سے زیادہ نہیں تھی۔۔
    یہ فخر صرف اور صرف مذہب اسلام کو ہے اس نے عورت کو اس کے اصل مقام سے نوازا ہے اور ہمارے سامنے کئی عظیم عورتوں کی زندہ مثالیں ہیں جن میں خاتون جنت فاطمتہ الزہرا ہیں جو خواتین عالم کے لئیے عملی نمونہ ہیں۔ جو بہترین بیٹی، بہترین بیوی ، اور بہترین ماں ہیں ۔۔۔
    ہمارے سامنے حضرت زینب کی روشن مثال ہے ، جنہوں نے یزید جیسے ظالم کے آگے کلمہ حق بلند کیا، باطل کو جھٹلایا اور حق کو زندہ رکھا۔۔
    اسلام میں اگر عورت پیغمبر نہیں ہیں تو پیغمبروں کو جنم دیتی رہی ہیں ، عورتوں کو نسل انسانی کے فروغ کا ذریعہ بنا کے ہمیشہ کے لئیے عزت وتکریم بخش دی گئی۔۔
    انسانی معاشرے کی تکمیل میں عورت کا اہم رول ہے اس لئے تو نپولین نے کہا تھا ،
    تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمہیں اچھا معاشرہ دوں گا ۔۔
    آج ہم عورتوں کو مل کر اپنا محاسبہ کرنا ہو گا اور دیکھنا ہو گا کہ ہم اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہیں یا کھوکھلے ماڈرن ازم کا شکار ہیں، اگر ہیں تو کیوں۔۔؟؟
    سلامت رہے تو سے مادر پاکباز
    تیرا عزم محکم ترا سوز و ساز
    تو ہی مشکلوں میں رہی کارساز
    بجا تم پہ ہے اہل ملت کو ناز۔۔۔

    Twitter account
    @e_m_ee_

  • بچپن کی یادیں تحریر : منیب انجم علوی

    بچپن کی یادیں تحریر : منیب انجم علوی

    عید کی چھٹیوں میں مجھے کچھ فرصت کے لمحات میسر آئے تو اُن لمحات میں مجھے میری سوچ میرے بچپن میں لے گئی جب امی جان ہمیں صبح فجر کی اذان کے ساتھ اٹھاتی نماز پڑھنے کے لئے اور وہ خود اُس وقت تک تحجد کے نوافل ادا کر چکی ہوتی ہم اُٹھ کر مسجد کی طرف چل پڑتے اور وہ گھر میں میری بہنوں کے ساتھ نماز کا اہتمام کرتی۔
    ہم جب نماز ادا کر لیتے تو اُس کے بعد مسجد محلے کے بچوں سے کھچاکھچ بھر جاتی جن کو قاری صاحب بغیر کسی معاوضے کے قرآن پڑھاتے تھے ہم بھی انہیں بچوں کے ساتھ مسجد میں قرآن پڑھتے پھر واپس گھر کی راہ لیتے ہمارے گھر پہنچنے سے پہلے والدہ نے آٹا گھوند کر چولہا جلایا ہوتا۔ والد صاحب صبح فجر کے فورا بعد کام کی طرف روانہ ہو جاتے اور ہم جب مسجد سے گھر پہنچتے وہ جا چکے ہوتے لیکن جانے سے پہلے وہ والدہ کو ہمارے سکول کا جیب خرچ دے کر جاتے تھے پھر ہم بھی سکول کے لئے تیار ہوتے اور سب بہن بھائی اکھٹے بیٹھ کر ناشتہ کرتے والدہ چولہے سے روٹیاں اتارتی جاتی اور ہم سب کھاتے جاتے اُس کھانے میں جو برکت تھی وہ شائد اب نہیں رہی کیونکہ اب نا تو ہمارے پاس وقت ہے اکھٹے بیٹھنے کا اور نہ ہی وہ خلوص باقی ہے اب جب اپنے بچپن کے وہ دن یاد کرتا ہوں تو سوچتا ہوں کاش ہم بڑے ہی نہ ہوتے کاش وہ دن دوبارہ واپس آجائیں جب رشتوں میں محبت تھی وسائل کم تھے اور برکت ذیادہ( لیکن اب وسائل ذیادہ ہیں اور برکت کم) لیکن افسوس اب نہ تو وہ دن واپس آسکتے ہیں اور نہ ہم دوبارہ بچے بن سکتے ہیں لیکن ایک کام ہے جو ہم اب بھی کر سکتے ہیں اور وہ ہے رشتوں کا احساس ہم آج اپنے قریبی رشتوں کے لئے وقت نکالیں تو بہت سے مسائل خودبخود حل ہو سکتے ہیں
    اگر آپکو تحریر اچھی لگے تو اپنی قیمتی رائے سے اگاہ ضرور کیجیے

  • خود اعتمادی  تحریر : عمر خان

    خود اعتمادی تحریر : عمر خان

    خدا کی قدرت ہے کہ اُس نے ایک بہت بڑی دنیا بنائی۔ اس دنیا میں ہر رنگ اور نسل کی مخلوق تخلیق کی۔ سبحان اللّٰہ اسکی قدرت پر کہ ایک واحد ذات کی تخلیق ہونے کے باوجود انسان نہ صرف رنگ کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہے بلکہ انسان کی انفرادی خصوصیات بھی ایک دوسرے سے بلکل مختلف ہیں۔
    پھر میں سوچتا ہوں کہ ہم میں یہ تنازعات کیوں پائے جاتے ہیں؟کیوں ہمارے دل و دماغ خود کو دوسروں سے مختلف اور بہترین تصور کرنے سے قاصر ہیں؟
    اسکی سب سے بڑی وجہ خود اعتمادی کی کمی ہے۔ جیسے انسان کے اندر لمحیات کی کمی اسے لاغر کر دیتی ہے بلکل ویسے ہی خود اعتمادی کی کمی انسان کے دماغ کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیتی ہے۔
    کیوں انسانی عقل اشرف المخلوقات کا لقب بھول جاتی ہے؟کیوں ہم ہمیشہ دوسروں کی پیروری اور دوسروں کو کاپی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں؟
    صرف اور صرف ہمیں اعتماد نہیں اپنی آپ پر۔ سنو: جو اُس شخص نے کیا وہ ہم بھی کر سکتے ہیں۔ جو کامیابیاں اُس کو میسر ہیں وہ ہمیں بھی میسر ہو سکتیں ہیں بلکہ ہم اس سے بہتر پا سکتے ہیں کیونکہ ہم اس کے قابل ہیں۔ لیکن اس قابلیت کو پہچاننے میں جو رکاوٹ ہے وہ خود اعتمادی کی کمی ہے۔
    کچھ کرنے سے پہلے ہی ہار مان جانا کہاں کی عقل مندی ہے؟
    منزل کا راستہ تلاش کرنے سے پہلے ہی سواری کی تلاش کرو گے تو کامیابی کا راستہ کٹھن ترین ہو گا۔ خود اعتماد شخص ہمیشہ خود کی صلاحیتوں پر انحصار کرتا ہے.
    بے اعتماد شخص کی مثال اس پرندے کی سی ہے جو کسی کی قید میں رہنے کو خود کی آزادی سمجھتا ہے۔ اور اسی پنجرے کو آسمان میں لے اُڑنے کے خواب دیکھتا ہے۔
    جب انسان خود کی صلاحیتوں کو پہچاننا اور خود کو تراش کر ایک بہترین انسان بنانے کی طرف متوجہ ہو گا تو مجھے اُمید کہ آنے والی نسلیں اتنی خود اعتماد ہوں گی کہ وہ اپنی منزلیں خود بنا سکیں گیں.
    (ان شاءاللّٰہ )
    مجھے فخر ہے کہ میرے اندر خود اعتمادی کی صلاحیت موجود ہے۔ میں پُر اعتماد شخص ہوں خود کو پہچانتا ہوں اپنی کامیابیوں کا امیدوار ہوں۔ غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنے والا شخص ہوں۔
    کیا آپ ایک پُر اعتماد شخص ہیں؟؟خود کا تجزیہ کریں سوال کریں اپنے نفس سے اور خود کو آنے والی نسلوں کے لئیے مثال بنائیں.

    @U4_Umer_

  • ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں: تحریر فاطمہ بلوچ

    ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں: تحریر فاطمہ بلوچ

    ‏اللہ کی راہ میں صدقہ صرف یہ نہیں کہ صرف مانگنے والے فقیروں کی مدد کر دی جائے. بہت سے ایسے سفید پوش ضرورت مند لوگ ہیں جو مانگ نہیں سکتے. جن کو کوئی ادھار بھی اس لیے نہیں دیتا کہ واپس کہاں سے کریں گے. ایسے لوگ بہت زیادہ محتاج ہوتے ہیں مگر عزت دار ہونے کی وجہ سے کھُل کر کسی کے آگے اپنی محتاجی بیان نہیں کر سکتے. جب مہینہ ختم ہو رہا ہو گھر میں راشن بھی ختم ہو ابھی تنخواہ آنے میں دس دن رہتے ہوں اوپر سے بجلی کا بل آ جائے. جو اگر نہ دیا گیا تو میٹر کٹ جائے گا.
    ‏اگر کوئی اس وجہ سے ادھار مانگنے آئے کہ دوائیاں لینے جانا ہے، بجلی کا بل دینا ہے. بچے کی فیس دینی ہے. فوتگی پہ جانا ہے. گھر کا راشن لینا ہے. وائف کا آپریشن ہے. بیٹی کی شادی ہے. دو مہینے سے تنخواہ نہیں ملی دودھ اور کریانہ والے کے پیسے دینے ہیں. عید پہ بچوں کے کپڑے لینے ہیں. کوئی اچانک بیمار ہو گیا اسے ہاسپیٹل لے کر جانا ہے. ایسے لوگوں کو کبھی یہ سوچ کر انکار نہ کیا کرو کہ یہ تو واپس ہی نہیں دیتا یا یہ کہاں سے واپس کرے گا. بلکہ جتنا زیادہ ہو سکے انھیں دی دیا کریں کیونکہ وہ اس وقت بہت مجبور ہوتا ہے. اور یہ سوچ لیا کرو کہ یہ اگر واپس نہ بھی کرے تو میری طرف سے صدقہ ہو گیا. یقین کرو اللہ بندے کی ایسی نیکی کو کبھی ضائع نہیں جانے دیتا اور کئی گناہ بڑھا کر بندے کو لوٹاتا ہے.
    ‏ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں. ہم مسجد کے مینار کے لیے بڑے فخر سے پچاس ہزار دے دیتے ہیں مگر 10 غریب خاندانوں کو پانچ ، پانچ ہزار نہیں دیں گے. ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کس کا اجر زیادہ ہے. کہاں اس کا فائدہ زیادہ لوگوں کو پہنچے گا. ہم یہ دیکھتے ہیں کہاں خرچ کروں کہ لوگوں میں میرا نام اونچا ہو. جبکہ اللہ بندے کی نیت دیکھ رہا ہوتا ہے کہ یہ چاہتا کیا ہے.

    @FLSARM

  • خدمتِ خلق . تحریر: اسد ملک

    خدمتِ خلق . تحریر: اسد ملک

    قوموں کی ترقی کا انحصار ان کی عوام پر ہوتا ہے۔اگر یہ عوام دھوکے باز ہو بڑے افسروں سے لیکر چوکیداروں تک سب کے سب بےایمان ہوں تو قومیں ترقی نہیں کرتیں۔ جن قوموں کی نوجوان نسل ٹک ٹاک تک محدود ہو جاۓ جس قوم کی نوجوان نسل چارسو کی خاطر اپنا ایمان تک بیچ دیں ایسی قومیں ترقی نہیں کرتی۔ آج ملک میں لوگ عارضی دنیاوی دولت کی خاطر اشرف المخلوقات کو کتوں کا گوشت کھلا رہے ہیں۔ آج ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی عدم توجہئ کی وجہ سے سیکنڑوں مریض مر رہے ہیں۔

    مطلب ہمارے ملک میں ہر وہ کام ہو رہا ہے جس سے غریب غریب تر ہوتا جا رہا اور امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ایک بندے کا کام نہیں ہے چاہے وہ وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو۔جب تک ملک میں وہ ڈاکیا(جو سڑکوں پر مارا مارا پھرتا ہے کہ کوئ خطوط کو ان کے مالک تک پہنچا سے تا کہ میرا سو روپیہ پٹرول کا بچ جاۓ گا) ٹھیک نہیں ہو گا۔

    آج ہمیں ایسے لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیراس بے حس قوم کو خواب غفلت سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں ایسے لوگ بھی ہماری طرح انسان ہی ہیں بس فرق یہی ہے کہ وہ انسان بھی ہیں اور ان کے اندر انسانیت بھی موجود ہے۔ کیونکہ انسان اور انسانیت میں بڑا فرق ہے بظاہر تو لگتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں لیکن ان کے اندر زمین و آسمان کا فرق ہے۔انسانیت آج کی اس دنیا میں بہت کم پائی جاتی ہے۔

    عبدالستارایدھی کی طرح آج بھی ایسے بہت لوگ اُن کی طرح موجود ہیں جو بغیر کسی معاوضے و کانچ کے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں تو ہمیں بھی چاہیے کہ ایسے لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہمارا تعلق چاہے کسی بھی علاقے سے ہو ہمیں ان کا حصہ بننا چاہیے اور انسانیت کی خدمت کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے نزدیکی مستحق لوگوں کی مدد کرنی چاہیے ایسے لوگ ہی جب بڑے بن جاتے ہیں تو پھر کوئی عبدالستارایدھی تو کوئی قاسم علی شاہ بن جاتا ہے تو کوئی طارق عزیز بن جاتا ہے۔
    پاکستان زندہ باد🇵🇰

    @ asad_malik333

  • درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو . تحریر : عمر عطاء

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو . تحریر : عمر عطاء

    چند سال پہلے میرے بابا کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا واقعہ پرموجود کچھ بے شرم لوگوں نے مدد کرنے کی بجاۓ جیب سے نقدی خالی کرلی بھلا ہو وہاں پرموجود ان لوگوں کا جوبابا کو اچھی طرح جانتے تھے انہوں نے وہ نقدی ان بے شرموں سے واپس لے کر بعد میں ہمارے حوالے کی۔
    کیا ہمارے اندررتی برابربھی انسانیت کا احساس نہیں ہے۔

    ایسے بہت سارے واقعات منظرعام پر آۓ ہیں کہ روڈ ایکسیڈنٹس متاثرین سے زیورات، نقدی اورموبائل فونز ہتھیا لیے جاتے ہیں۔ علی پور روڈ جو کہ قاتل روڈ کے نام سے مشہور ہے۔ آۓ روز یہاں پر حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں اورسینکڑوں جانیں ضائع ہوئ ہیں لیکن یہاں کے سیاستدانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ میرے ایک رشتہ دار جو کہ پٹرولنگ پولیس میں ہوتے ہیں بتا رہے تھے کہ کچھ سال قبل روہیلانوالی میں ایک بس کو حادثہ پیش آیا تھا اور اس میں تمام لوگ جان کی بازی ہار گئے تھے جن میں اکثریت خواتین کی تھی۔ اس سنگل روڈ پر حادثات تو روز کا معمول ہیں لیکن دل دہلا دینے والی بات یہ کہ وہ بولتے ہیں جب ہم لوگ ان تک پہنچنے تو خواتین کے کانوں سے بالیاں تک اتار لی گئیں تھیں۔ میں سوچ رہا تھا اللّٰہ تعالیٰ نے اس وجہ سے ہی قیامت کا دن رکھا ہے تاکہ مظلوموں کی شنوائی ہو سکے۔

    وہاں پرصرف مظلوم کی حمایت کی جائے گی اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا ملے گی۔ انسان کو اشرف المخلوقات بھی صرف اس وجہ سے بنایا گیا ہے کہ وہ انسانیت سے محبت سے پیش آۓ۔

    بقول شاعر
    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں!

    انسان جب نیکی پر اترتا ہے تو وہ فرشتوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتا ہے لیکن یہی انسان جب گرنے پر آتا ہے تو شیطان سے بھی بد تر ہو جاتاہے۔ بات صرف احساسات کی ہے.

    Momi_70