Baaghi TV

Author: Baaghi TV

  • بحثیت قوم .  تحریر: مدثر حسن

    بحثیت قوم . تحریر: مدثر حسن

    بحثیت قوم

    بحثیت قوم ہم ایک سست قوم ہیں ہم اپنی منزل کو پانے کے شارٹ کٹ طریقے ڈھونڈتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی مشقت نہ کرنی پڑے اور ہمارے کام ہو جائے ہم خود کو تبدیل نہیں کرنا آج جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کو دیکھ لیں ان کی عوام میں سستی نہیں وہ محنت کش لوگ ہیں شارٹ کٹ کے طریقے نہیں ڈھونڈتے اپنا کام پوری لگن سے کرتے ہیں ۔۔۔۔

    اور ہم بحیثیت قوم چور کرپٹ بھی ہیں بجلی چوری ہم کرتے ہیں رشوت ہم کھاتے ہیں ملاوٹ ہم کرتے ہیں سود خوری ہم کرتے ہیں کوئی ناگہانی آفت آجائے تو ذخیرہ اندوزی کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ہم تبدیلی چاہتے ہیں لیکن خود کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے ہم چاہتے ہیں ہم خود کو تبدیل کیے بغیر تبدیلی لے آئے حلانکہ تبدیلی ہمیشہ فرد سے شروع ہوتی ہے اور فرد سے تبدیلی کے اثرات بڑے پیمانے پر ہوتے ہیں

    ایک بندہ اگر تبدیلی کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پورے پاکستان میں تبدیلی لے آئے گا اکیلا ہاں البتہ وہ اپنے حصے کا کام کر جائے گا اگر یہ ہم سب اپنے اوپر فرض کر لیں کہ تبدیلی لانی ہے تو اس کے لیے سب کو اپنا اپنا کام کرنا ہوگا ایمانداری سے جس طرح قطرے قطرے سے سمندر بنتا ہے اسی فرد سے کارواں بنتا ہے ۔۔۔۔۔۔

    قرآن مجید میں واضح بتایا گیا ہے کہ

    اِنَّ اللّٰہَ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأنفُسِہِمْ الرعد، آیت 11

    ترجمہ: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے

    خود کو بدلے ان شاءاللہ وہی ہوگا جو آپ چاہیں گے بس شروعات اپنے سے کریں ۔۔۔۔۔

    تحریر: مدثر حسن
    @MudasirWrittes

  • نام نہاد لبرل طبقہ اور قربانی . تحریر: مجاید حسین

    نام نہاد لبرل طبقہ اور قربانی . تحریر: مجاید حسین

    جیسے جیسے قربانی کے دن قریب آتے ہیں نام نہاد لبرل اور دین سے بے زار طبقہ قربانی کی روح کو سمجھے بغیر اس کے خلاف کھلم کھلا میدان میں آ جاتے ہیں۔ آپ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پہ جا کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان امیر ذادوں اور امیر ذادیوں کو اللہ کی راہ میں سنت ابراہیمی اور سنے رسول اللہ ﷺ کے خلاف اور اسے قائم رکھنے والوں کے خلاف کتنی نفرت بھری ہوئی ہے۔ ان کا اصل مدعا یہ ہے کہ قربانی پہ مسلمان جانور "ذبح” کر کے بہت ظلم کرتے ہیں جو نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ان پیسوں سے کسی غریب کی مدد کر دینی چاہیئے۔

    لیکن اگر آپ مزید تحقیق کریں تو معلوم ہوگا کہ یہی لوگ میکڈانلڈ، برگر کنگ، کے ایف سی، سب وے اور پیزا ہٹ جیسے برانڈز کے نا صرف دلدادہ دلدادہ ہوتے ہیں بلکہ وہاں برگرز وغیرہ کھاتے ہوئے اپنی تصاویر شئیر کرنا قابل فخر سمجھتے ہیں۔ کیا نہیں معلوم نہیں کہ میکڈونلڈ میں ہر سال ایک ارب پاؤنڈ گائے کا گوشت پکایا جاتا ہے جس سے ان کے پسندید برگرز بنتے ہیں؟

    برگر کنگ ہر سال پچاس لاکھ پاؤنڈ صرف گوشت اپنے مشہور برگر "ووپر” میں استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح کے ایف سی ہر سال ایک ارب مرغیاں بھون کر لوگوں کو کھلا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف فوڈ چینز ہیں جن کا ذکر اس مضمون کو طویل کر دے گا۔
    سوال یہ ہے کہ کیا ان کے اندر جان نہیں ہوتی؟

    وہ لبرلز جنہیں قربانی پر جانوز ذبح کرنے پہ اعتراض ہے جس کا ایک تہائی گوشت غریبوں کو بانٹا جاتا ہے تاکہ کم از کم سال میں کچھ دن وہ بھی گوشت کھا سکیں، اس بات کا کیا جواب دیں گے کہ برگر، پیزا اور ہاٹ ونگز کھاتے ہوئے ان کا ضمیر کہا سویا ہوتا ہے؟
    ہے کسی لبرل کے پاس اس کا جواب؟؟

    @Being_Faani

  • درود پاک کی فضیلت . تحریر : عادل ندیم

    درود پاک کی فضیلت . تحریر : عادل ندیم

    درود پاک صلی علیہ وآلہ وسلم پڑھنے کا حکم خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن پاک میں بڑے پیارے انداز میں دیا گیا ہے۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجو.
    ( الاحزاب56 )

    سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجتے ہیں( ترمذی)

    ذرا سوچئے کیا ھمارا شمار بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب لوگوں میں سے ھو گا.

    کیا ھم اپنے پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک پڑھتے ھیں ؟

    حضرت حذیفہؓ کا فرمان ہے کہ درود پاک پڑھنا، درود پاک پڑھنے والے کواور اس کی اولاد کو، اور اولاد کی اولاد کو رنگ دیتا ہے ۔

    کس خوبصورت طریقے سے درود پاک کی فضیلت بیان کی گئی ھے کہ درودِ پاک سے نہ صرف آپ کا نصیب بدل جاے گا بلکہ آپ کی آنے والی نسلوں کا بھی نصیب بدل جاتا ھے ۔
    ھمیں اپنی نمازکا یقین نہیں ھوتا کہ قبول ھوئی یا نہیں؟ ھمیں اپنی کی گئی نیکیوں کا پتہ نہیں ھوتا کہ قبول ھوئیں یا رد کردی گئیں لیکن
    درود پاک وہ واحد عبادت ھے جو کہ لازماً قبول ھوتی ھے.

    تو کیا یہ اللہ پاک کی طرف سے ایک خاص انعام نہیں ھے ؟

    درود پاک پڑھنے سے 10 نیکیوں میں اضافہ ھوتا ھے ، 10 گناہ مٹتے ھیں اور بندے کے 10 درجات بلند ھوتے ھیں.

    حضرت ابو ہریرہ رضی ا للہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا للہ نے ارشاد فرمایا: "جو بندہ مجھ پر ایک بار درود پڑھے اللہ جل شانہ اس پر 10بار درود بھیجتے ہیں۔” ( صحیح مسلم )

    آئیں اپنے اللہ کا حکم مانیں اور اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کو اپنی عادت بنائیں۔
    درود پاک سے اللہ پاک کو اتنی محبت ھے کہ درودِ پاک کو نماز کا حصہ بنا دیا گیا.

    چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اپنی زبان کو اللہ پاک کے ذکر اور درودِ پاک سے معطر رکھیں ، آپ کی زندگیوں میں وہ تبدیلیاں آنا شروع ھو جائیں گی کہ جن کا آپ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ھوگا.

    اللہ پاک ھم سب کو اپنے پیارے آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے کی اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کی توفیق عطا فرمائیں.

    آمین ثم آمین

  • عید قرباں اور ہم  تحریر : احسن وقار خان

    عید قرباں اور ہم تحریر : احسن وقار خان

    کبھی سوچا ہے عید قرباں کیا ہے؟
    اس کو عید قرباں کیوں کہتے ہیں ؟
    کیا صرف جانور قربان کرنا ہی عید قرباں کا مقصد ہے ؟
    عید قربان صرف جانور قربان کرنے کا نام نہیں ۔عید قرباں کا مقصد تقویٰ اطاعت و فرمانبرداری اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے ۔

    عید قربان صرف جانور قربان کرنا نہیں بلکہ خدا کی راہ میں استقامت دیکھانا ہے
    اللہ کو نا قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نا ان کا خون ۔ کچھ پہنچتا ہے تو وہ تقوی پہنچتا ہے اور خدا صرف متقی لوگوں کی قربانی قبول کرتا ہے ۔
    سوچنے کی بات ہے کے ہم قربانی تو کرتے ہیں لیکن کیا ہم سمجھتے ہیں کے عید قرباں کیا ہے ؟
    ہم بڑے بڑے جانور قربان تو ضرور کرتے ہیں لیکن کی کبھی کسی نے سوچا ہے کے ہم قربانی کا اصل مقصد پورا کر رہے ہیں یا نہیں ۔
    کہیں ایسا تو نہیں کے ہم کہیں ہم ریاکاری میں ا کر اپنا قربانی کا مقصد کھو تو نہیں دیتے ۔
    کہیں اتنا پیسہ خرچ کر کے بھی ریاکاری ہی وجہ سے ہماری نیکی کا اثر زایل تو نہیں ہو رہا ۔

    قربانی صرف جانور کی قربانی نہیں یہ ہر اس چیز کی قربانی ہے جو آپ کو خدا سے دور کر رہی ہے ۔قربانی سے مراد ہماری آنا کی قربانی ہے ۔
    ہمارے اندر چھپی نفرتوں کی قربانی ہے ۔
    ہماری نفسیاتی خواہشات کی قربانی ہے ۔
    اس عید قرباں کچھ کر سکتے ہیں تو اپنی آنا
    اپنے دلوں میں پوشیدہ نفرتیں اور اپنی نفسیاتی خواہشات قربان کر کے دیکھیں سکون ملے گا ۔
    کوشش کریں کے سب کام خدا کی رضا کے لیے کریں ۔
    ریاکاری ، نفرتیں اپنی میں کو ختم کریں

    آئیے قربان کریں اپنی ذات کے ایک بت کو اِس سال صرف اس رب کے لیے جس نے قربان کرنے کا حکم دیا کیوں کہ ہماری اپنی ذات کا خول ہی ہمارے لیے سب سے عزیز ترین ہوتا ہے اور اسی خول کو توڑنا ہی دَر حقیقت ایک عبادت ہے ۔
    معاف کریں ، اپنے دلوں کو صاف کریں ، اپنے اور اپنوں کے لیے زندگیوں میں گنجائش پیدا کریں ، خوش رہیں اور خوش رکھیں۔

    Twitter account
    KhanKh23151672

  • "لبرل ازم اور اسلام”   تحریر :فیضان قمر

    "لبرل ازم اور اسلام” تحریر :فیضان قمر

    "لبرل ازم” کو جہاں تک میں نے سنا، پڑھا اور جانا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ لبرل ازم یہودیت سے پیدا شدہ فضلات میں سے ایک ہے اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلام کا یہودیت سے ایسا سخت ترین معرکہ ہے جو صبح قیامت ہی کو ختم ہو سکتا ہے اس سے پہلے اس کا تصور ممکن نہیں ہے. مطلب اسلام کے کسی نام لیوا کے لئے "لبرل ازم” کے تصور کا بھی حق نہیں ہے چہ جائے کہ وہ اس کا حامی ہو. اور اجازت ہو بھی کیسے؟ کیونکہ یہ "لبرل ازم” زبردستی کی "حریت” اور آزادی کا قائل ہے، جبکہ اسلام ایک ایسا مکمل نظام حیات ہے جس نے انسانیت کی زندگی کے ہر شعبے، ہر موڑ اور ہر مصیبت میں دستگیری کی ہے. زندگی کا ایک حصہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں مذہب اسلام اپنے ماننے والوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا نظر آیا ہو. اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام ایک پاکیزہ، صاف و شفاف نظام حیات ہے جس میں کسی طرح کی عریانیت، عیاری، مکاری، زنا کاری، سود خوری اور دیگر صفات رذیلہ کا کوئی مقام نہیں ہے. جبکہ "لبرل ازم” لوگوں کو ایسی "حریت” کا حامی بناتا ہے جس میں عریانیت اور لادینیت کو بنیادی مقام حاصل ہے.
    اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اسلام نے قرآن کریم کے ذریعے واضح الفاظ میں خواتین کو حجاب (پردے) کا پابند بنایا ہے. جبکہ "لبرل ازم” کے بنیادی ارکان میں سے” حریت” کا مقصد یہ ہے کہ” ہر انسان کو اپنی زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہے اور اس زندگی کے طریقہ کار اور نہج کا بھی خود مختار ہے کسی کے قواعد و قوانین اس کے لئے ذرہ بے مقدار کی حیثیت رکھتے ہیں. چاہے وہ کسی سے اپنے تعلقات استوار کرے یا کسی سے بالکل بھی تعلق نا رکھے وغیرہ وغیرہ. بس اپنے اندر ودیعت کی ہوئی صفات و کمالات کو قوم کے سامنے اجاگر کرنا یہ مقصد اصلی ہے جس سے سرمایہ داری میں روز بروز اضافہ ہو اور زندگی گزارنے کے لئے تمام تر وسائل و اسباب مہیا ہوں”.
    یعنی لبرل ازم کے اندر حریت کے ذریعے مکمل آزادی کا مطالبہ ہے. جبکہ اسلام نے بھی ہر انسان کو آزاد رہنے کا مکلف بنایا ہے مگر اس آزادی کو چند امور پر مشروط کیا گیا ہے جن کی بجا آوری ضروری ہے، اور یہ شرائط بھی قیود کے طور پر نہیں ہیں بلکہ ان کے ذریعے بھی انسانیت کی دستگیری ہی مقصود ہے. مثلاً خواتین کو مکمل آزادی ہے مگر اس کے لئے پردے کا اہتمام کرنا ضروری ہے. تو اب لبرلز یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ اسلام کے اندر عورتوں کو قید کر کے رکھا جاتا ہے تا آں کہ اسے اپنا چہرہ بھی دکھانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ مرد کو اس طرح کی کسی پابندی کا مکلف نہیں بنایا گیا. تو ان لوگوں کے لئے جواب یہ ہے کہ کہ آپ لوگوں نے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے صرف ایک ہی جہت پر محنت کی ہے جبکہ اس کی ایک جہت اور بھی ہے کہ اسلام نے عورتوں کو پردے کا پابند بنایا ہے اس کے ساتھ ساتھ مردوں کو "غض بصر” (نگاہیں نیچی رکھنے) کا حکم بھی دیا ہے.
    اسلام کے اس نظام سے مساوات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح اسلام نے اس حکم کے ذریعے عریانیت اور ننگے پن کا سد باب کیا ہے جس کی وجہ سے ہر ایک شخص دوسرے کا مکمل احترام کرتا ہے. اس کے بر عکس مغربی تہذیب کا جائزہ لیا جائے تو ان کے یہاں کسی بھی طرح کی ترقی کا عریانیت کے بغیر تصور محال ہے. آپ کسی بھی شعبے (ڈپارٹمنٹ) کی جانب نظر کریں تو معلوم ہوگا کہ وہاں عریانیت کا بازار گرم ہے حتیٰ کہ امور خانہ داری میں بھی اس عریانیت کو فیشن کا نام دیکر اچھی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے زنا کاری عام سے عام تر ہوتی جا رہی ہے.
    خلاصہ یہ ہے کہ جس پردے کو اسلام نے مصلحت کے طور پر رکھا ہے اس کے فوائد کثرت سے معاشرے میں نمایاں نظر آتے ہیں. اور لبرلز کے یہاں سب سے اہم چیز "سرمایہ کاری” ہے چاہے اس کے لئے عریانیت کے لباس کو زیب تن کرنا پڑے. اور اس کے سب سے زیادہ تباہ کن اثرات خاندان پر مرتب ہوتے ہیں جہاں ماں باپ اولاد کی تربیت سے زیادہ سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ خود غرضی، لالچ، حرص اور حسد کا سیلاب پورے معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے. عورتیں گھروں سے نکل کر بازاروں کی زینت بن جاتی ہیں اور عصمت و عفت کی چادریں چاک ہوجاتی ہیں. زنا اتنا عام ہو جاتا ہے کہ نکاح ایک نا معقول فعل نظر آتا ہے جیسا کہ ابھی چند دن قبل ایک نام نہاد بین الاقوامی شہرت یافتہ مسلم لبرل خاتون نے یہ زہر نکالا تھا کہ "معاشرے میں نکاح کی ضرورت ہی کیا ہے جب سارا نظام ایسے ہی چل رہا ہے”. حرامی بچوں کی تعداد کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے جیسا کہ امریکہ، سویڈن اور فرانس میں ہو چکا ہے. جہاں حالیہ سرویز کے مطابق زنا سے پیدا شدہ بچوں کی تعداد جائز اولاد سے کہیں زیادہ ہے. اور اس وقت یہ رجحانات مغرب تک ہی محدود نہیں ہیں. دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں غیر ثابت النسب بچوں کی تعداد دو ہزار ایک کے مقابلے میں 367 فی صد زیادہ ہے.اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مغربی تہذیب کتنی غلیظ ترین تہذیب ہے.ایک طرف اسلام ہے کہ اس نے مرد و عورت دونوں کو پردے کا مکلف بنایا ہے اور دوسری طرف یہ نام نہاد صاف و شفاف تہذیب جس میں زنا کاری کو جائز ہی نہیں قرار دیا مزید برآں اس کے لئے مظاہرے کئے جاتے ہیں اور باقاعدہ یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ "ہر انسان خود مختار ہے، جس کے ساتھ چاہے جسمانی تعلقات استوار کر سکتا ہے”.
    خلاصہ یہ ہے کہ کسی مسلمان کو "لبرل ازم” کے تصور کا بھی حق نہیں ہے چہ جائے کہ وہ اس کا حامی ہو. یہ مغربی قوم روئے زمین کی غلیظ ترین قوم ہے کوئی اسلام کا نام لیوا اس سے متاثر نہ ہو بلکہ صحیح اسلامی عقائد اور اسلامی تعلیمات سے آراستہ و پیراستہ ہو تاکہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں اسلام سے دامن نا چھڑائے بلکہ ان تمام غلیظ تہذیبوں سے اپنے آپ کو بچا لے.

    @The_salaar_786

  • معاشرے میں صفائی کی اہمیت تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    معاشرے میں صفائی کی اہمیت تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    صفائی اور حفظان صحت کی اہمیت کو کسی بھی معاشرے سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہر عقیدہ اور تہذیب صفائی کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ تاریخی اعتبار سے ، کسی تہذیب یا معاشرے کی ترقی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے صفائی کو ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔ اسلام جسمانی اور روحانی طور پر ، صفائی اور پاکیزگی پر بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ اسلام میں ، روحانی پاکیزگی جسمانی صفائی اور پاکیزگی سے منسلک ہے۔

    مزید اہم بات یہ ہے کہ صفائی ستھرائی کو ایک ناگزیر کہا جاتا ہے تاہم ، ہمارے عقیدے کا یہ بنیادی اور طاقتور اصول ، بدقسمتی سے ، ہمارے معاشرے میں عملی طور پر اس کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ اسلام کے اس قیمتی اصول کو ہماری زندگی کا حصہ بنانے کے لئے ہمارے فرد کے ساتھ ساتھ اجتماعی طریقوں پر بھی سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔

    اسلام نے صفائی کی اہمیت پر اسے ایمان کا حصہ بنایا ہے لہذا ، لوگوں کو صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لئے شعوری کوششیں کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ، متعدد سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے عقیدے کی اس قیمتی قیمت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں

    قرآن پاک میں ایسی بہت سی آیات ہیں جو صفائی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

    ارشاد ربانیﷻ ہے: اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ التَّوَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ.

    "بے شک اﷲ بہت توبہ کرنیوالوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے”(البقرة،2: 222)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا حَتّٰی يَطْهُرْنَ ج فَاِذَا تَطَهَّرْنَ

    جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں اور جب وہ خوب پاک ہوجائیں (البقرة، 2: 222)

    ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: وَ ثِيَابَکَ فَطَهِّرْ

    اور اپنے (ظاہر و باطن کے) لباس (پہلے کی طرح ہمیشہ) پاک رکھیں (المدثر: 4)

    نگاہ نبوتﷺ میں صفاٸی کے وسیع المعنی لفظ ہے۔
    اس لئے رسول ﷺ نے طہارت کو نصف ایمان قرار دیا ہے

    فرمان رسول ﷺ ہے کہ الطهور شطر الايمان.

    "صفائی نصف ایمان ہے” صحيح مسلم
    قرآن مجید و حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے جسم و ماحول کی صفائی کے بغیر ، کوئی شخص روحانی طور پر اللہ کی قربت حاصل نہیں کرسکتا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ صفائی اور پاکیزگی کی عدم موجودگی میں ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔

    قارئين اکرام! ہمارے معاشرے میں صفائی کے بارے میں بیان بازی سے بہت کچھ کہا جاتا ہے لیکن عملی طور پر اس کا اطلاق غائب ہے۔ ایک تیز مشاہدے سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ صفائی اور حفظان صحت کے حوالے سے ہم نے کتنی بے حس ثقافت تیار کی ہے۔

    توجہ فرماٸیں!!

    ہمارے معاشرے میں گلیوں ، سڑکوں یا پارکوں میں کچرا پھینکنا ایک عام سی بات بن چکی ہے

    اگر دیکھا جاٸے عوامی مقامات پر ڈسٹ بِن شاذ و نادر ہی پائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر ڈسٹ بنس انسٹال ہوجائے تو ، لوگ ان کا صحیح استعمال نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ ، وہ باہر کوڑا کرکٹ پھینکنا پسند کرتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنے گھروں اور دکانوں کو صاف کرتے ہیں اور کچرے کو اس کے مضمرات پر غور کیے بغیر سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ایلیٹ اسکولوں کے طلباء بھی کوڑے دانوں کی موجودگی میں ہی کچرا زمین پر پھینک دیتے ہیں۔ اس سے صفائی اور حفظان صحت کے بارے میں ہمارا رویہ ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح راہ چلتے ہوٸے لوگ دیواروں پہ پان تھوک دیتے ہیں ، جو نہایت ہی معیوب عمل ہے

    ایک اور شعبہ جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ ہے عوامی بیت الخلاء کی خوفناک حالت۔ عوامی بیت الخلاء کی کمی ایک بہت بڑا چیلنج ہے ، لہذا لوگ فطرت کی آواز کا جواب دینے کے لئے کھلی جگہیں استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ جو بیت الخلاء موجود ہیں وہ انتہائی قابل رحم حالت میں ہیں کہ کوئی ان کو استعمال نہیں کرسکتا۔

    اس کے علاوہ بھی بہت سی مثالیں ہیں جو ہمارے معاشرے میں صفائی اور حفظان صحت کی قابل رحم حالت کی نشاندہی کرنے کے لئے پیش کی جاسکتی ہیں۔ لہذا ، اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے شعوری کوششوں کی ضرورت ہے۔

    ہمارے عقیدے کی روشنی میں لوگوں کو صفائی کی اہمیت کے بارے میں آگاہی اور حساس کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں معاشرتی ادارے جیسے تعلیمی ادارے ، میڈیا اور مذہبی ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں

    پاکستان ، نظام تعلیم کو اپنے طریقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ صفائی اور حفظان صحت سے متعلق درس و تدریسی مواد کو نصاب اور درسی کتب میں شامل کیا جانا چاہئے۔ میڈیا عوام کو صفائی کی اہمیت اور غیر صحت پسندانہ زندگی کے نقصانات کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے اور اس کا احساس دلانے کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہےمساجد اور مدرسے جیسے مذہبی ادارے بھی لوگوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صفائی کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ معاشرے میں صفائی اور حفظان صحت کو برقرار رکھنے میں حکومت کے کردار اور عزم کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    صفائی کی اہمیت کو فرد کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی میں بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک طرف تو یہ انسانی صحت اور روحانی ترقی کے لئے ایک اہم عنصر ہے۔ دوسری طرف یہ ماحولیاتی ترقی کے لئے ضروری ہے۔

    صاف ستھرا اور حفظان صحت سے متعلق طرز زندگی اپنانے سے ، جہاں صحت کے امور کا تعلق ہے وہاں ایک قیمتی رقم بھی بچائی جاسکتی ہے۔ ایک صاف ستھری اور صحتمند زندگی معاشرے کی ثقافت کو بہتر بنانے میں معاون ہے اور زندگی کے ہر پہلو جیسا کہ آرٹ ، فن تعمیر ، کھانا ، موسیقی وغیرہ کی عکاسی کرتی ہے۔ آخر کار ، یہ تہذیب کی ایک اعلی سطح کی طرف جاتا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہےکہ سماجی و فلاحی تنظیمیں مسلمانوں میں صفائی ونفاست اور خوش سلیقگی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کریں اور قرآن اور حدیثﷺ کے نہج پر ایک مثالی مسلم معاشرے کی تشکیل کو ممکن بنائیں

    اللہ ﷻآپکا حامی و ناصر ہو آمین!

    ‎@HamxaSiddiqi

  • کشمیر     تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    کشمیر تحریر : محمد حنظلہ شاہد

    لفظ کشمیر سنتے ہی زہن میں غلامی کا تصّور نمایاں ہو جاتا ہے۔وادی کشمیر جو کے بہت عرصے سے غلامی کی زنجیر میں بندھی پڑی ہے۔اگر خوبصورتی کی بات کی جائے تو کہتے ہیں اگر زمین پر کوئی جنت ہے تو وہ ہے”کشمیر”مگر اس زمین کی جنت میں لوگوں کے ساتھ جہنم بھی زیادہ بدتر سلوک کیا جاتا ہے ۔کشمیر ایک متنا زعہ علاقہ ہے اس کا ایک حصہ پاکستان اور دوسرا حصہ بھارت کے قبضہ میں ہے اور باقی کچھ حصہ پاکستان نے ایک معاہدے کے تحت چینیوں کو حفاظت کے لیے دیا گیا ہے اور تھوڑا سا علاقہ گلگت بلتستان کے نام سے جانا جاتا ہے ۔تقاضا اور وقت کے فیصلے بهی کتنے انمول ہوتے ہیں نا!
    روایات اور تقاضہ اف!
    یُوں بھی کہہ سکتے ہیں کے کشمیریوں نے اپنی پوری زندگی ہی غلامی کی نظر کی ہے۔
    کبھی کبھی سکھوں کی غلامی، کبھی پٹھانوں کی غلامی،کبھی مہاجروں کی غلامی، بہرحال اس غلامی کے رواں دواں میں انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انسان مشکلات کا سامنا کر لیتا ہے مگر عزتوں کی پامالی جب کی جائے تو اس کا کفارا کوئی عمر بھر بھی نہیں پورا کر سکتا ۔خیر غلامی سے نکلنے کے لیے آزادی ضروری ہے اور آزادی کے لیے خود لڑنا پڑتا ہے،خود اٹھنا پڑتا ہے اور خود سے خود کو فتح کرنا پڑتا ہے۔
    "آزاد پنچھیو سے کوئی تو پوچھے
    آسمان پر اڑنے کا مزا کیسا ہے
    فقط اتنا ہی کہیں گے
    ایک آزاد اڑان عمر بھر کے سکون کے لیے کافی ہے۔”

  • درخت – زندگی کی ضرروت تحریر : مصعب طارق

    درخت – زندگی کی ضرروت تحریر : مصعب طارق

    گرمی کے موسم کا آغاز ہوچکا ہے، اور ہم تیز دھوپ کے نیچے کچھ دیر قیام نہیں کرسکتے ہیں۔ درجہ حرارت برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ لیکن آپ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا! آسانی سے سانس لیں اور اے سی کے درجہ حرارت کو 26 میں ایڈجسٹ کریں۔ دیہی علاقوں میں درجہ حرارت شہروں کے مقابلہ میں کم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہروں میں موجودہ ٹریفک کا بہاؤ دیہی علاقوں سے مختلف ہے۔ ہمارے ملک میں ٹریفک کے شور اور ٹریفک کے دھواں کسی گنتی میں شمار نہیں کیے جاتے ہیں، اور وہ ہر سال ہزاروں جانوں کے جانے کا باعث بن رہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے نئے رہائشی منصوبوں کے لئے زرعی اراضی پر رہائشی علاقوں کی تعمیر کے کاروبار میں اسے تبدیل کردیا ہے۔ ہمارے ملک میں کوئی قانون یا ضابطہ اخلاق موجود نہیں ہے۔اگر سبز اراضی کو رہائشی علاقے میں تبدیل کردیا جاتا ہے تو اس علاقے میں جیتا سبزہ کاٹا گیا ہے اس کے برابر اتنا ہی سبزہ کسی دوسرے علاقے میں لگایا جاۓ۔
    آپ دوسروں کی بات کیوں کہنا چاہتے ہیں، پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ لیکن اس کی زراعت صرف کاغذی کام تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ اس پر یقین نہیں رکھتے ہیں تو، جب آپ اپنے شہر سے کسی دوسرے شہر کا سفر کرتے ہو تو راستے میں سڑک کے کنارے ایک پھل دار درخت یا کوئ سایہ دار درخت نظر آ جاۓ یہ نامکمن ہے۔ ہمارے رہائشی علاقے میں درخت غائب ہوگئے ہیں۔ اور جو موجود بھی ہیں وہ صرف سجاوٹ کے لیے جس کا نہ کوئ سایہ نا کوئ پھل۔ اس صورت میں، کون اب خالی جگہوں پر سبز رنگ کی نمائش کی توقع کرسکتا ہے؟ پاکستان میں درجہ حرارت کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ملک میں جنگلات کی کمی، درخت نہ لگانے کے رجحان اور ذاتی غیر ذمہ داری ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہم شدید گرمی کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔آئندہ آنے سالوں میں، شدید گرمی سے ہماری نسلیں تشدد کا نشانہ بنیں گی۔ کوئی اسے روک نہیں سکتا۔آپ زیادہ سے زیادہ ٹاک شوز میں بیٹھ کر باتیں کر سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم، آپ اور پورے ملک، ہم سب ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ہمیں اپنی بے حسی کے عروج پر فخر ہے۔ کوئی بھی ہمیں پیاس سے مرتے رہنے سے نہیں روک سکتا۔ بھارت نے ہمارے پانیوں میں ڈیم بنا کر ہمارے ملک کو صحرا کی راہ پر گامزن کردیا ہے۔
    آج، ہمیں یہ سمجھنے کے لئے سخت محنت کرنی ہوگی کہ درخت ہمارے اور ماحول کے لئے بہت اہم ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ وزارت زراعت، جنگلات و آبپاشی کی وزارت مشترکہ منصوبہ تجویز کرے گی جسے حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے نافذ کرسکتی ہے۔ یہ توقع نہیں کی جانی چاہئے کہ کوئی بھی حکمران اس مسئلے کے ہل کا سوچھ سکتا ہے، اور صوبائی سطح پر سڑکوں کے کنارے درخت اور پودے لگانے کی کوشش کرے۔ کیونکہ وہ صرف اپنے کمرے کے درجہ حرارت کو کم رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    لہذا،اب لوگوں کو اپنی مدد آپ اپنے گھر کے چاروں طرف درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ سڑک کے کنارے بسنے والے ہی اس ملک کو جل کر مرنے سے بچانے کے لئے سڑک کے کنارے درخت اور گھاس لگاسکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی کو بچانے کے لیے سب سے بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔
    @mussab_tariq

  • ڈپریشن کا آپریشن تحریر:حُسنِ قدرت

    ڈپریشن کا آپریشن تحریر:حُسنِ قدرت

    جو لوگ مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں انہیں لگتا ہے کہ میں ایک پر باش اور زندگی سے بھرپور لڑکی ہوں مجھ سے کل سہیلی نے یہ سوال کیا کہ کیا آپ اُداس ہوتی ہیں ،مجھےیہ سوال عجیب سا لگا میں نے کہا کہ میں بھی اداس ہوتی ہوں کیونکہ میں بھی انسان ہوں
    پھر اس نے پوچھا کہ آپ کیا کرتی ہیں اپنی پریشانی ختم کرنے کےلیے
    میں نے بتایا کہ میں اس ڈپریشن کا آپریشن کرتی ہوں
    اسکے لیے چند اسٹیپس ہیں جن پہ عمل کرکے آپ سب بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں
    1۔پریشانی کی وجہ دیکھتی ہوں کہ اسکی وجہ کیا ہے
    2۔جب وجہ جان لیتی ہوں اگر تو ہے وہ خدشہ یا بدگمانی تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی ہوں اور توبہ کرتی ہوں تاکہ اللّٰہ تعالیٰ آئندہ مجھے اس سے محفوظ رکھے
    3۔اگر واقعی وہ کوئی سیریس مسئلہ ہے تو اسکی وجہ ڈھونڈتی ہوں اور اسکے بعد حل کی طرف توجہ دیتی ہوں ،وجہ ختم مسئلہ حل عمومآ ایسا ہوتا ہے لیکن کچھ مسائل کو ہمیں گہرائی میں جاکر دیکھ کے صبر سے حل کرنا پڑتا ہے
    4۔اگر وہ کوئی ایسا مسئلہ ہے جو میں حل نہیں کر سکتی تو 2 نفل قضائے حاجات کے پڑھ کر اُسے اللّٰہ کے حوالے کر دیتی ہوں

    میں ان پوائنٹس پہ عمل کر کے اپنی ڈپریشن کا آپریشن کرتی ہوں
    کیا آپ لوگ بھی ان پوائنٹس کو اپنا کر اپنی ڈپریشن کا آپریشن کرکے اسے جڑ سے ختم کرنے کے لیے تیار ہیں؟

    Twitter: @HusnHere

  • اگر ہم امت محمدیہ نہ ہوتے تو کب کے تباہ ہوچکے ہوتے   تحریر: میمونہ سحر

    اگر ہم امت محمدیہ نہ ہوتے تو کب کے تباہ ہوچکے ہوتے تحریر: میمونہ سحر

    پچھلی قوموں کے واقعات پڑھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کسی قوم پر عذاب برے فعل کی وجہ سے آیا ، کسی پر ناپ تول میں کمی کی وجہ سے ، کسی پر رب کے احکامات کی نافرمانی کی وجہ سے ۔ کسی ایک برے کام کی وجہ سے پوری کی پوری قوم تباہ و برباد ہوجاتی تھی

    آج ہماری امت ، امت مسلمہ کس برائی میں ملوث نہیں ؟
    "قوم لوط کا عمل ہم میں موجود ہے”
    "قوم شعیب کی ناپ تول میں کمی والی عادت ہم میں موجود ہے”
    "قوم نوح کی اللہ کے احکامات کو نہ ماننے والی عادت ہم میں موجود ہے”
    "قوم موسیٰ کی ناشکری والی عادت ہم میں پائی جاتی ہے ”
    "قوم عیسی علیہ السلام والی بنا تحقیق کے دوسروں پر الزامات لگانے والی عادت ہم میں موجود ہے”

    کوئی ایسی برائی نہیں جو ہم نہ پائی جاتی ہو ۔ لیکن اس کے باوجود ہم ابھی تک تباہ کیوں نہیں ہوئے ؟ کیوں یک لخت اللہ تعالیٰ کا عذاب ہم پہ نازل نہیں ہوا

    اس کی وجہ صرف اور صرف میرے پیارے نبی ﷺ کی دعائے مبارکہ ہے جو انہوں نے اپنی امت کیلئے کی

    کہ یارب! میری امت کو ایک ہی دفع عذاب سے تباہ نہ کرنا
    صرف اپنے نبی محمد ﷺ کی دعائے مبارکہ کی وجہ سے ہم بچے ہوئے ہیں ۔ ورنہ جیسے ہمارے اعمال ہیں ہم پر تو خدا کا غضب نازل ہوتا

    تو جس نبی کو اتنی فکر تھی ہماری آج ہم انکی سنت پر چلنے سے گریزاں کیوں ہیں ؟
    اللہ ہم سب کو حقیقی معنوں میں امت محمدیہ کا پیروکار بنائے تاکہ قیامت کے دن ہم اپنے نبی کے سامنے شرمندہ نہ ہوں
    آمین